تباہی ہے ڈنڈی مارنے والوں کے لیے۔ 1

جن کا حال یہ ہے کہ جب لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں،

اور جب ان کو ناپ کو یا تول کر دیتے ہیں تو انہیں گھاٹا دیتے ہیں۔ 2

کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ 3 یہ اُٹھا کر لائے جانے والے ہیں؟

ایک بڑے دن

اُس دن جبکہ سب لوگ ربّ العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔

ہر گز نہیں، 4 یقیناً بدکاروں کا نامہٴ اعمال قیدخانے کے دفتر میں ہے۔ 5

اور تمہیں کیا معلوم کہ وہ قید خانے کا دفتر کیا ہے؟

ایک کتاب ہے لکھی ہوئی۔

تباہی ہے اُس روز جھُٹلانے والوں کے لیے

جو روزِ جزا کو جھُٹلاتے ہیں۔

اور اُسے نہیں جھُٹلاتا مگر ہر وہ شخص جو حد سے گزر جانے والا بدعمل ہے۔

اُسے جب ہماری آیات سُنائی جاتی ہیں 6 تو کہتا ہے یہ تو اگلے وقتوں کی کہانیاں ہیں۔

ہر گز نہیں، بلکہ دراصل اِن لوگوں کے دلوں پر اِن کے بُرے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔ 7

ہر گز نہیں، بالیقین اُس روز یہ اپنے ربّ کی دید سے محروم رکھے جائیں گے، 8

پھر یہ جہنّم میں جا پڑیں گے،

پھر اِن سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جسے تم جھُٹلایا کرتے تھے۔

ہر گز نہیں، 9 بے شک نیک آدمیوں کا نامہٴ اعمال بلند پایہ لوگوں کے دفتر میں ہے۔

اور تمہیں کیا خبر کہ کیا ہے وہ بلند پایہ لوگوں کا دفتر؟

ایک لکھی ہوئی کتاب ہے

جس کی نگہداشت مقرب فرشتے کرتے ہیں۔

بے شک نیک لوگ بڑے مزے میں ہوں گے،

اُونچی مسندوں پر بیٹھے نظارے کر رہے ہوں گے،

ان کے چہروں پر تم خوشحالی کی رونق محسوس کرو گے۔

ان کو نفیس ترین سر بند شراب پلائی جائے گی

جس پر مُشک کی مُہر لگی ہوگی۔10 جو لوگ دُوسروں پر بازی لے جانا چاہتے ہوں وہ اِس چیز کو حاصل کرنے میں بازی لے جانے کی کوشش کریں۔

اُس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی، 11

یہ ایک چشمہ ہے جس کے پانی کے ساتھ مقَرَّب لوگ شراب پئیں گے۔

مجرم لوگ دنیا میں ایمان لانے والوں کا مذاق اُڑاتے تھے،

جب اُن کے پاس سے گزرتے تو آنکھیں مار مار کر اُن کی طرف اشارے کرتے تھے،

اپنے گھروں کی طرف پلٹتے تو مزے لیتے ہوئے پلٹتے تھے، 12

اور جب انہیں دیکھتے تو کہتے تھے کہ یہ بہکے ہوئے لوگ ہیں، 13

حالانکہ وہ اُن پر نگراں بنا کر نہیں بھیجے گئے تھے۔ 14

آج ایمان لانے والے کُفّار پر ہنس رہے ہیں ،

مسندوں پر بیٹھے ہوئے ان کا حال دیکھ رہے ہیں،

مِل گیا نا کافروں کو اُن حرکتوں کا ثواب جو وہ کیا کرتے تھے۔ 15 ؏۱