کیا انسان پر لامتناہی زمانے کا ایک وقت ایسا بھی گزرا ہے جب وہ کوئی قابلِ ذکر چیز نہ تھا؟ 1
ہم نے انسان کو ایک مخلُوط نُطفے سے پیدا کیا 2 تاکہ اس کا امتحان لیں 3 اور اِس غرض کے لیے ہم نے اسے سُننے اور دیکھنے والا بنایا۔ 4
ہم نے اُسے راستہ دکھایا ، خواہ شُکر کرنے والا بنے یا کُفر کرنے والا۔ 5
کُفر کرنے والوں کے ہم نے زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ مہیّا کر رکھی ہے۔
نیک لوگ 6 (جنّت میں )شراب کے ایسے ساغر پئیں گے جن میں آبِ کافور کی آمیزش ہوگی،
یہ ایک بہتا چشمہ ہوگا 7 جس کے پانی کے ساتھ اللہ کے بندے 8 شراب پئیں گے اور جہاں چاہیں گے بسہُولت اس کی شاخیں نکال لیں گے۔ 9
یہ وہ لوگ ہونگے جو (دُنیا میں)نذر پُوری کرتے ہیں، 10 اور اُس دن سے ڈرتے ہیں جس کی آفت ہر طرف پھیلی ہوئی ہو گی،
اور اللہ کی محبت 11 میں مسکین اور یتیم اور قیدی 12 کو کھانا کھلاتے ہیں 13
(اور اُن سے کہتے ہیں کہ)ہم تمہیں صرف اللہ کی خاطر کِھلا رہے ہیں، ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ، 14
ہمیں تو اپنے ربّ سے اُس دن کے عذاب کا خوف لاحق ہے جو سخت مصیبت کا انتہائی طویل دن ہو گا ۔
پس اللہ تعالیٰ انہیں اُس دن کے شر سے بچالے گا اور انہیں تازگی اور سُرور بخشے گا 15
اور اُن کے صبر کے بدلے میں 16 اُنہیں جنّت اور ریشمی لباس عطا کرے گا۔
وہاں وہ اُونچی مسندوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے۔ نہ اُنہیں دُھوپ کی گرمی ستائے گی نہ جاڑے کی ٹھِر۔
جنّت کی چھاوٴں ان پر جھکی ہوئی سایہ کر رہی ہوگی، اور اُس کے پھل ہر وقت ان کے بس میں ہوں گے (کہ جس طرح چاہیں اُنہیں توڑ لیں)۔
اُن کے آگے چاندی کے برتن 17 اور شیشے کے پیالے گردش کرائے جارہے ہوں گے،
شیشے بھی وہ جو چاندی کی قِسم کے ہونگے، 18 اور ان کو( منتظمینِ جنّت نے)ٹھیک اندازے کے مطابق بھرا ہوگا۔ 19
ان کو وہاں ایسی شراب کے جام پلائیں جائیں گے جس میں سُونٹھ کی آمیزش ہوگی ،
یہ جنّت کا ایک چشمہ ہوگا جسے سلسبیل کہا جاتا ہے۔ 20
ان کے خدمت کے لیے ایسے لڑکے دوڑتے پھر رہے ہوں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے۔ تم انہیں دیکھو تو سمجھو کہ موتی ہیں جو بکھیر دیے گئے ہیں۔ 21
وہاں جِدھر بھی تم نگاہ ڈالو گے نعمتیں ہی نعمتیں اور ایک بڑی سلطنت کا سروسامان تمہیں نظر آئے گا۔ 22
اُن کے اوپر باریک ریشم کےسبز لباس اور اطلس و دیبا کے کپڑے ہوں گے،23 ان کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے، 24 اور ان کا ربّ ان کو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا۔ 25
یہ ہے تمہاری جزا اور تمہاری کارگزاری قابلِ قدر ٹھہری ہے۔ 26 ؏۱
اے نبی ؐ ، ہم نے ہی تم پر یہ قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے، 27
لہٰذا تم اپنے ربّ کے حکم پر صبر کرو، 28 اور اِن میں سے کسی بد عمل یا منکرِ حق کی بات نہ مانو۔ 29
اپنے ربّ کا نام صبح و شام یاد کرو،
رات کو بھی اس کے حضور سجدہ ریز ہو، اور رات کے طویل اوقات میں اُس کی تسبیح کرتے رہو۔ 30
یہ لوگ تو جلدی حاصل ہونے والی چیز (دُنیا)سے محبت رکھتے ہیں اور آگے جو بھاری دن آنے والا ہے اسے نظر انداز کر دیتے ہیں۔ 31
ہم نے ہی اِن کو پیدا کیا ہے اور ان کے جوڑ بند مضبوط کیے ہیں، اور ہم جب چاہیں اِن کی شکلوں کو بدل کر رکھ دیں۔ 32
یہ ایک نصیحت ہے ، اب جس کا جی چاہے اپنے ربّ کی طرف جانے کا راستہ اختیار کر لے۔
اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک کہ اللہ نہ چاہے۔ 33 یقیناً اللہ بڑا علیم و حکیم ہے،
اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے داخل کرتا ہے، اور ظالموں کے لیے اس نے دردناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔ 34 ؏۲