1-10 شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

ا،ل،م،ص۔

یہ ایک کتاب ہے جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے،1 پس اے محمد صلی اللہ علیہ وسلم ، تمہارے دل میں اس سے کوءی جھجک نہ ہو۔2 اس کے اُتارنے کی غرض یہ ہے کہ تم اس کے ذریعہ (منکرین کو) ڈراؤ اور ایمان لانے والے لوگوں کو یاد دہانی ہو۔3

لوگو، جو کچھ تمہارے ربّ کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اُس کی پیروی کرو اور اپنے ربّ کو چھوڑ کر دوسرے سرپرستوں کی پیروی نہ کرو۔۔۔4 مگر تم نصیحت کم ہی مانتے ہو۔

کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کر دیا۔ اُن پر ہمارا عذاب اچانک رات کے وقت ٹوٹ پڑا، یا دن دہاڑے ایسے وقت آیا جب کہ وہ آرام کر رہے تھے۔

اور جب ہمارا عذاب اُن پر آگیا تو ان کی زبان پر اِس کے سوا کوئی صدا نہ تھی کہ واقعی ہم ظالم تھے۔ 5

پس یہ ضرور ہو کر رہنا ہے کہ ہم اُن لوگوں سے باز پرس کریں، 6جن کی طرف ہم نے پیغمبر بھیجے ہیں اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں( کہ اُنہوں نے پیغام رسانی کا فرض کہاں تک انجام دیا اور انہیں اس کا کیا جواب ملا) 7

پھر ہم خود پورے علم کے ساتھ ساری سرگزشت ان کے آگے پیش کر دیں گے ، آخر ہم کہیں غائب تو نہیں تھے۔

اور وزن اس روز عین حق 8ہوگا۔ جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پائیں گے

اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے وہی اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کرنے والے ہوں گے9 کیونکہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ظالمانہ برتاوٴ کرتے رہے تھے۔

ہم نے تمھیں زمین میں اختیارات کے ساتھ بسایا اور تمہارے لیے یہاں سامانِ زیست فراہم کیا، مگر تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو۔ ؏ ۱

11-25

ہم نے تمہاری تخلیق کی ابتدا کی، پھر تمہاری صورت بنائی، پھر فرشتوں سے کہا آدم کو سجدہ کرو،10 اس پر سب نے سجدہ کیا مگر ابلیس سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا۔

پوچھا تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا جب کہ میں نے تجھ کو حکم دیا تھا ؟“بولا ”میں اُس سے بہتر ہوں ، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اُسے مٹی سے“۔

فرمایا ، ”اچھا، تو یہاں سے نیچے اُتر۔ تجھے حق نہیں ہے کہ یہاں بڑائی کا گھمنڈ کرے۔ نکل جا کہ درحقیقت تُو اُن لوگوں میں سے ہے جو اپنی ذلّت چاہتے ہیں۔“11

بولا، ”مجھے اُ س دن تک مہلت دے جب کہ یہ سب دوبارہ اُٹھائے جائیں گے۔“

فرمایا، ”تجھے مہلت ہے۔“

بولا،”اچھا تو جس طرح تُو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا ہے میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر اِن انسانوں کی گھات میں لگا رہوں گا،

آگے اور پیچھے، دائیں اور بائیں، ہر طرف سے اِن کو گھیروں گا اور تو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔“12

فرمایا، ”نِکل جا یہاں سے ذلیل اور ٹھکرایا ہوا۔ یقین رکھ کہ اِن میں سے جو تیری پیروی کریں گے، تُجھ سمیت ان سب سے جہنم کو بھر دوں گا۔

اور اے آدم، تُو اور تیری بیوی، دونوں اس جنت میں رہو، جہاں جس چیز کو تمہارا جی چاہے کھاوٴ، مگر اس درخت کے پاس نہ پھٹکنا ورنہ ظالموں میں سے ہو جاوٴ گے۔“

پھر شیطان نے اُن کو بہکایا تاکہ ان کی شرمگاہیں جو ایک دُوسرے سے چھپائی گئی تھیں ان کے سامنے کھول دے۔ اس نے ان سے کہا ”تمہارے ربّ نے تمہیں جو اس درخت سے روکا ہے اس کی وجہ اِس کے سِوا کچھ نہیں ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جاوٴ، یا تمہیں ہمیشگی کی زندگی حاصل نہ ہو جائے۔“

اور اس نے قسم کھا کر ان سے کہا کہ میں تمہارا سچا خیر خواہ ہوں۔

اس طرح دھوکا دے کر وہ ان دونوں کو رفتہ رفتہ اپنے ڈھب پر لے آیا۔ آخرِ کار جب انہوں نے اس درخت کا مزا چکھا تو ان کے ستر ایک دوسرے کے سامنے کھُل گئے اور وہ اپنے جسموں کو جنّت کے پتّوں سے ڈھانکنے لگے۔ تب ان کے ربّ نے انہیں پکارا ”کیا میں نے تمہیں اس درخت سے نہ روکا تھا اور نہ کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھُلا دشمن ہے؟“

دونوں بول اُٹھے ”اے ربّ! ہم نے اپنے اوپر ستم کیا، اب اگر تُو نے ہم سے درگزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقیناً ہم تباہ ہو جائیں گے۔“ 13

فرمایا، ”اُتر جاوٴ14، تم ایک دُوسرے کے دشمن ہو، اور تمہارے لیے ایک خاص مدّت تک زمین ہی میں جائے قرار اور سامانِ زیست ہے۔“

اور فرمایا، ”وہیں تم کو جینا اور وہیں مرنا ہے اور اسی میں سے تم کو آخرِ کار نکالا جائے گا۔“ ؏ ۲

26-31

اے اولادِآدم15، ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابلِ شرم حصّوں کو ڈھانکے اور تمہارے لیے جسم کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو، اور بہترین لباس تقوٰی کا لباس ہے ۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے، شاید کہ لوگ اِس سے سبق لیں۔

اے بنی آدم، ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں پھر اُسی طرح فتنے میں مبتلا کر دے جس طرح اُس نے تمہارے والدین کو جنّت سے نکلوایا تھا اور اُن کے لباس اُن پر سے اُتروا دیے تھے تاکہ اُن کی شرمگاہیں ایک دوسرے کے سامنے کھولے۔ وہ اور اُس کے ساتھی تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم اُنھیں نہیں دیکھ سکتے۔ اِن شیاطین کو ہم نے اُن لوگوں کا سرپرست بنا دیا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔16

یہ لوگ جب کو ئی شرمناک کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے اپنے باپ دادا کواِسی طریقہ پر پایا ہے اور اللہ ہی نے ہمیں ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔17 اِن سے کہو اللہ بے حیائی کا حکم کبھی نہیں دیا کرتا۔18 کیا تم اللہ کا نام لے کر وہ باتیں کہتے ہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہیں؟

اے محمدؐ ، اِن سے کہو، میرے ربّ نے تو راستی اور انصاف کا حکم دیا ہے، اور اُس کا حکم تو یہ ہے کہ ہر عبادت میں اپنا رُخ ٹھیک رکھو اور اُسی کو پکارو اپنے دین کو اس کے لیے خالص رکھ کر، جس طرح اُس نے تمہیں اب پیدا کیا ہے اسی طرح تم پھر پیدا کیے جاوٴ گے۔19

اور ایک گروہ کو تو اُس نے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے، مگر دوسرے گروہ پر گمراہی چِسپاں ہو کر رہ گئی ہے، کیونکہ اُنھوں نے خدا کے بجائے شیاطین کو اپنا سرپرست بنا لیا ہے اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم سیدھی راہ پر ہیں۔

اے بنی آدم، ہر عبادت کے موقع پر اپنی زینت سے آراستہ رہو20 اور کھاوٴ پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔21 ؏ ۳

32-39

اے محمد ؐ ، اِن سے کہو کس نے اللہ کی اُس زینت کو حرام کر دیا ہے جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے نکالا تھا اور کس نے خدا کی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کر دیں؟22 کہو، یہ ساری چیزیں دنیا کی زندگی میں بھی ایمان لانے والوں کے لیے ہیں، اور قیامت کے روز تو خالصتًہ انہی کے لیے ہوں گی۔23 اِس طرح ہم اپنی باتیں صاف صاف بیان کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھنے والے ہیں۔

اے محمد ؐ ، اِن سے کہو کہ میرے ربّ نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں: بے شرمی کے کام ۔۔۔۔ خواہ کھُلے ہوں یا چھُپے 24۔۔۔۔ اور گُناہ 25اور حق کے خلاف زیادتی 26اور یہ کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک کرو جس کے لیے اُس نے کوئی سند نازل نہیں کی اور یہ کہ اللہ کے نام پر کوئی ایسی بات کہو جس کے متعلق تمہیں علم نہ ہو کہ وہ حقیقت میں اُسی نے فرمائی ہے۔

ہر قوم کے لیے مہلت کی ایک مدّت مقرر ہے، پھر جب کسی قوم کی مدّت آن پوری ہوتی ہے تو ایک گھڑی بھر کی تاخیر و تقدیم نہیں ہوتی۔27

(اور یہ بات اللہ نے آغازِ تخلیق ہی میں صاف فرما دی تھی کہ)اے بنی آدم، یاد رکھو، اگر تمہارے پاس خود تم ہی میں سے ایسے رسول آئیں جو تمہیں میری آیات سُنا رہے ہوں ، تو جو کوئی نافرمانی سے بچے گا اور اپنے رویّہ کی اصلاح کر لے گا اس کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے ،

اور جو لوگ ہماری آیات کو جھُٹلائیں گے اور ان کے مقابلہ میں سرکشی برتیں گے وہی اہلِ دوزخ ہوں گے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔28

ظاہر ہے کہ اُس سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جو بالکل جھوٹی باتیں گھڑ کر اللہ کی طرف منسُوب کرے یا اللہ کی سچی آیات کو جھُٹلائے۔ ایسے لوگ اپنے نوشتہٴِ تقدیر کے مطابق اپنا حصّہ پاتے رہیں گے،29 یہاں تک کہ وہ گھڑی آجائے گی جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے ان کی روحیں قبض کرنے کے لیے پہنچیں گے۔ اُس وقت وہ اُن سے پوچھیں گے کہ بتاوٴ، اب کہاں ہیں تمہارے وہ معبود جن کو تم خدا کے بجائے پُکارتے تھے؟ وہ کہیں گے کہ ”سب ہم سے گُم ہو گئے“۔ اور وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ ہم واقعی منکرِ حق تھے۔

اللہ فرمائے گا جاوٴ، تم بھی اُسی جہنم میں چلے جاوٴ جس میں تم سے پہلے گُزرے ہوئے گروہِ جِن و انس جاچکے ہیں۔ ہر گروہ جب جہنم میں داخل ہوگا تو اپنے پیش رو گروہ پر لعنت کرتا ہوا داخل ہوگا، حتٰی کہ سب وہاں جمع ہو جائیں گے تو ہر بعد والا گروہ پہلے گروہ کے حق میں کہے گا کہ اے ربّ، یہ لوگ تھے جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا لہٰذا اِنہیں آگ کا دوہرا عذاب دے۔ جواب میں اِرشاد ہوگا، ہر ایک کے لیے دوہرا ہی عذاب ہے مگر تم جانتے نہیں ہو۔30

اور پہلا گروہ دوسرے گروہ سے کہے گا(اگر ہم قابلِ الزام تھے) تو تمہی کو ہم پر کون سی فضیلت حاصل تھی، اب اپنی کمائی کے نتیجہ میں عذاب کا مزا چکھو۔ 31؏ ۴

40-47

یقین جانو، جن لوگوں نے ہماری آیات کو جُھٹلایا ہے اور ان کے مقابلے میں سرکشی کی ہے ان کے لیے آسمان کے دروازے ہرگز نہ کھولے جائیں گے۔ اُن کا جنّت میں جانا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا سُوئی کے ناکے سے اُونٹ کا گزرنا۔ مجرموں کو ہمارے ہاں ایسا ہی بدلہ ملا کرتا ہے۔

ان کے لیے جہنم کا بچھونا ہوگا اور جہنم ہی کا اوڑھنا۔ یہ ہے وہ جزا جو ہم ظالموں کو دیا کرتے ہیں۔

بخلاف اس کے جن لوگوں نے ہماری آیات کو مان لیا ہے اور اچھے کام کیے ہیں ۔۔۔ اور اس باب میں ہم ہر ایک کو اس کی استظاعت ہی کے مطابق ذمہ دار ٹھیراتے ہیں ۔۔۔ وہ اہلِ جنّت ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

ان کے دلوں میں ایک دُوسرے کے خلاف جو کچھ کدورت ہوگی اسے ہم نکال دیں گے۔32 اُن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور وہ کہیں گے کہ ”تعریف خدا ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں راستہ دکھایا، ہم خود راہ نہ پاسکتے تھے اگر خدا ہماری رہنمائی نہ کرتا، ہمارے ربّ کے بھیجے ہوئے رسول واقعی حق ہی لے کر آئے تھے“۔ اُس وقت نِدا آئے گی کہ ”یہ جنّت جس کے تم وارث بنائے گئے ہو تمہیں اُن کے اعمال کے بدلے میں ملی ہے جو تم کرتے رہے تھے“۔33

پھر جنّت کے لوگ دوزخ والوں سے پکار کر کہیں گے، ”ہم نے اُن سارے وعدوں کو ٹھیک پالیا جو ہمارے ربّ نے ہم سے کیے تھے، کیا تم نے بھی ان وعدوں کو ٹھیک پایا جو تمہارے ربّ نے کیے تھے؟“ وہ جواب دیں گے ”ہاں۔“ تب ایک پکارنے والا ان کے درمیان پکارے گا کہ ”خدا کی لعنت اُن ظالموں پر

جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکتے اور اسے ٹیڑھا کرنا چاہتے تھے اور آخرت کے منکر تھے“۔

ان دونوں گروہوں کے درمیان ایک اوٹ حائل ہوگی جس کی بلندیوں (اَعراف)پر کچھ اور لوگ ہوں گے۔ یہ ہر ایک کو اس کے قیافہ سے پہچانیں گے اور جنّت والوں سے پکار کر کہیں گے کہ ”سلامتی ہو تم پر“ یہ لوگ جنّت میں داخل تو نہیں ہوئے مگر اس کے امیدوار ہوں گے۔34

اور جب ان کی نگاہیں دوزخ والوں کی طرف پھریں گی تو کہیں گے، ”اے رب !ہمیں اِن ظالموں میں شامل نہ کیجیو“۔ ؏ ۵

48-53

پھر یہ اَعراف کے لوگ دوزخ کی چند بڑی بڑی شخصیتوں کو اُن کی علامتوں سے پہچان کر پکاریں گے کہ ”دیکھ لیا تم نے، آج نہ تمہارے جتھے تمہارے کسی کام آئے اور نہ وہ ساز و سامان جن کو تم بڑی چیز سمجھتے تھے۔

اور کیا یہ اہلِ جنّت وہی لوگ نہیں ہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ اِن کو تو خدا اپنی رحمت میں سے کچھ بھی نہ دے گا؟ آج انہی سے کہا گیا کہ داخل ہو جاوٴ جنّت میں، تمہارے لیے نہ خوف ہے نہ رنج۔“

اور دوزخ کے لوگ جنّت والوں کو پکاریں گے کہ کچھ تھوڑا سا پانی ہم پر ڈال دو یا جو رزق اللہ نے تمہیں دیا ہے اُس میں سے کچھ پھینک دو۔ وہ جواب دیں گے ”اللہ نے یہ دونوں چیزیں اُن منکرین ِ حق پر حرام کر دی ہیں

جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تفریح بنا لیا تھا اور جنہیں دنیا کی زندگی نے فریب میں مبتلا کر رکھا تھا۔ اللہ فرماتا ہے کہ آج ہم بھی انہیں اسی طرح بُھلا دیں گے جس طرح وہ اِس دن کی ملاقات بھُولے رہے اور ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے۔“35

ہم اِن لوگوں کے پاس ایک ایسی کتاب لے آئے ہیں جس کو ہم نے علم کی بنا پر مفصّل بنایا ہے36 اور جو ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے۔37

اب کیا یہ لوگ اِس کے سوا کسی اور بات کے منتظر ہیں کہ وہ انجام سامنے آجائے جس کی یہ کتاب خبر دے رہی ہے؟38 جس روز وہ انجام سامنے آگیا تو وہی لوگ جنہوں نے پہلے اسے نظر انداز کر دیا تھا کہیں گے ”واقعی ہمارے ربّ کے رسول حق لے کر آئے تھے، پھر کیا اب ہمیں کچھ سفارشی ملیں گے جو ہمارے حق میں سفارش کریں؟ یا ہمیں دوبارہ واپس ہی بھیج دیا جائے تاکہ جو کچھ ہم پہلے کرتے تھے اس کے بجائے اب دوسرے طریقے پر کام کر کے دکھائیں“39۔۔۔۔۔ انہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈال دیا اور وہ سارے جھوٹ جو انہوں نے تصنیف کر رکھے تھے آج ان سے گم ہوگئے۔ ؏ ۶

54-58

درحقیقت تمہارا ربّ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا 40، پھر اپنے تختِ سلطنت پر جلوہ فرما ہوا۔41 جو رات کو دن پر ڈھانک دیتا ہے اور پھر دن رات کے پیچھے دوڑا چلا آتا ہے۔ جس نے سُورج اور چاند اور تارے پیدا کیے۔ سب اس کے فرمان کے تابع ہیں۔ خبردار رہو! اُسی کی خلق ہے اور اسی کا امر ہے42۔ بڑا برکت ہے اللہ43، سارے جہانوں کا مالک و پروردگار ۔

اپنے ربّ کو پکارو گِڑ گِڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے، یقینا وہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

زمین میں فساد برپا نہ کرو جبکہ اس کی اصلاح ہو چکی ہے44 اور خدا ہی کو پکارو خوف کے ساتھ اور طمع کے ساتھ،45 یقیناً اللہ کی رحمت نیک کردار لوگوں سے قریب ہے۔

اور وہ اللہ ہی ہے جو ہواوٴں کو اپنی رحمت کے آگے آگے خوشخبری لیے ہوئے بھیجتا ہے، پھر جب وہ پانی سے لدے ہوئے بادل اُٹھالیتی ہیں تو انہیں کسی مُردہ سر زمین کی طرف حرکت دیتا ہے اور وہاں مینہ برسا کر (اُسی مری ہوئی زمین سے) طرح طرح کے پھل نکال لاتا ہے۔ دیکھو، اس طرح ہم مُردوں کو حالتِ موت سے نکالتے ہیں، شاید کہ تم اس مشاہدے سے سبق لو۔

جو زمین اچھی ہوتی ہے وہ اپنے ربّ کے حکم سے خوب پھل پھول لاتی ہے اور جو زمین خراب ہوتی ہے اس سے ناقص پیداوار کے سوا کچھ نہیں نکلتا۔ 46اس طرح ہم نشانیوں کو بار بار پیش کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو شکر گزار ہونے والے ہیں۔ ؏ ۷

59-64

ہم نے نوح ؑ کو اُس کی قوم کی طرف بھیجا۔47 اس نے کہا ”اے برادرانِ قوم، اللہ کی بندگی کرو، اُسکے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے۔48 میں تمہارے حق میں ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔“

اس کی قوم کے سرداروں نے جواب دیا ”ہم کو تو یہ نظر آتا ہے کہ تم صریح گمراہی میں مبتلا ہو۔“

نوح ؑ نے کہا ”اے برادرانِ قوم، میں کسی گمراہی میں نہیں پڑا ہوں بلکہ میں ربّ العالمین کا رسول ہوں،

تمہیں اپنے ربّ کے پیغامات پہنچاتا ہوں، تمہارا خیر خواہ ہوں اور مجھے اللہ کی طرف سے وہ کچھ معلوم ہے جو تمہیں معلوم نہیں ہے۔

کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعہ سے تمہارے ربّ کی یاددہانی آئی تاکہ تمہیں خبر دار کرے اور تم غلط روی سے بچ جاوٴ اور تم پر رحم کیا جائے؟“49

مگر انہوں نے اس کو جُھٹلا دیا۔ آخرِ کار ہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو ایک کشتی میں نجات دی اور اُن لوگوں کو ڈبو دیا جنہوں نے ہماری آیات کو جُھٹلایا تھا، 50یقیناً وہ اندھے لوگ ہیں۔ ؏ ۸

65-72

اور عاد 51کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہود ؑ کو بھیجا۔ اس نے کہا ”اے برادرانِ قوم، اللہ کی بندگی کرو، اُس کے سِوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے۔ پھر کیا تم غلط روی سے پرہیز نہ کرو گے؟“

اس کی قوم کے سرداروں نے، جو اس کی بات ماننے سے انکار کر رہے تھے، جواب میں کہا ”ہم تو تمہیں بے عقلی میں مبتلا سمجھتے ہیں اور ہمیں گمان ہے کہ تم جھوٹے ہو۔“

اس نے کہا ”اے برادرانِ قوم، میں بے عقلی میں مبتلا نہیں ہوں بلکہ میں ربّ العالمین کا رسول ہوں،

تم کو اپنے ربّ کے پیغامات پہنچاتا ہوں، اور تمہارا ایسا خیر خواہ ہوں جس پر بھروسہ کیا جاسکتا ہے۔

کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعہ سے تمہارے ربّ کی یاد دہانی آئی تاکہ وہ تمہیں خبردار کرے؟ بھُول نہ جاوٴ کہ تمہارے ربّ نے نوح ؑ کی قوم کے بعد تم کو اُس کا جانشین بنایا اور تمہیں خوب تنومند کیا، پس اللہ کی قدرت کے کرشموں کو یاد رکھو،52اُمید ہے کہ فلاح پاوٴ گے۔“

انہوں نے جواب دیا ”کیا تُو ہمارے پاس اِس لیے آیا ہے کہ ہم اکیلے اللہ ہی کی عبادت کریں اور اُنہیں چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں؟53اچھا تو لے آ وہ عذاب جس کی تُو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تُو سچا ہے۔“

اس نے کہا ”تمہارے ربّ کی پھٹکار تم پر پڑ گئی اور اس کا غضب ٹُوٹ پڑا۔ کیا تم مجھ سے اُن ناموں پر جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لیے ہیں54، جن کے لیے اللہ نے کوئی سند نازل نہیں کی ہے55؟ اچھا تو تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔“

آخرِکار ہم نے اپنی مہربانی سے ہود ؑ اور اس کے ساتھیوں کو بچا لیا اور اُن لوگوں کی جڑ کاٹ دی جو ہماری آیات کو جُھٹلا چکے تھے اور ایمان لانے والے نہ تھے۔ 56؏ ۹

73-84

اور ثمود57 کی طرف ہم نے اُن کے بھائی صالح کو بھیجا۔ اس نے کہا ” اے برادرانِ قوم، اللہ کی بندگی کرو، اس کے سِوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے۔ تمہارے پاس تمہارے ربّ کی کُھلی دلیل آگئی ہے۔ یہ اللہ کی اُونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی کے طور پر ہے 58، لہٰذا اِسے چھوڑو کہ خدا کی زمین میں چرتی پھرے۔ اس کو کسی بُرے ارادے سے ہاتھ نہ لگانا ورنہ ایک دردناک عذاب تمہیں آلے گا۔

یاد کرو وہ وقت جب اللہ نے قومِ عاد کے بعد تمہیں اس کا جانشین بنایا اور تم کو زمین میں یہ منزلت بخشی کہ آج تم اُس کے ہموار میدانوں میں عالی شان محل بناتے اور اس کے پہاڑوں کو مکانات کی شکل میں تراشتے ہو۔59 پس اس کی قدرت کے کرشموں سے غافل نہ ہوجاوٴ اور زمین میں فساد برپا نہ کرو۔“60

اُس کی قوم کے سرداروں نے جو بڑے بنے ہوئے تھے، کمزور طبقہ کے اُن لوگوں سے جو ایمان لے آئے تھے، کہا ”کیا تم واقعی یہ جانتے ہو کہ صالح ؑ اپنے ربّ کا پیغمبر ہے؟“ اُنھوں نے جواب دیا ”بے شک جس پیغام کے ساتھ وہ بھیجا گیا ہے اُسے ہم مانتے ہیں۔“

اُن بڑائی کے مدعیوں نے کہا ”جس چیز کو تم نے مانا ہے ہم اس کے منکر ہیں۔“

پھر انہوں نے اس اُونٹنی کو مار ڈالا 61 اور پُورے تمّرد کے ساتھ اپنے ربّ کے حکم کی خلاف ورزی کر گزرے، اور صالح سے کہہ دیا کہ ”لے آ وہ عذاب جس کی تُو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تُو واقعی پیغمبروں میں سے ہے۔“

آخرِ کار ایک دہلا دینے والی آفت62 نے اُنہیں آلیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے۔

اور صالح ؑ یہ کہتا ہوا ان کی بستیوں سے نکل گیا کہ ”اے میری قوم ، میں نے اپنے ربّ کا پیغام تجھے پہنچا دیا اور میں نے تیری بہت خیر خواہی کی ، مگر میں کیا کروں کہ تجھے اپنے خیر خواہ پسند ہی نہیں ہیں۔“

اور لوطؑ کو ہم نے پیغمبر بنا کر بھیجا، پھر یاد کرو جب اُس نے اپنی قوم سے کہا63 ”کیا تم ایسے بے حیا ہوگئے ہو کہ وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا؟

تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرتے ہو64، حقیقت یہ ہے کہ تم بالکل ہی حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔“

مگر اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ”نکالو اِن لوگوں کو اپنی بستیوں سے ، بڑے پاکباز بنتے ہیں یہ۔“65

آخرِکار ہم نے لوط ؑ اور اس کے گھر والوں کو ۔۔۔۔ بجز اس کی بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی 66۔۔۔۔ بچا کر نکال دیا

اور اس قوم پر برسائی ایک بارش67، پھر دیکھو کہ اُن مجرموں کا کیا انجام ہوا۔68؏ ۱۰

85-93

اور مَدیَن 69والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب ؑ کو بھیجا۔ اس نے کہا ” اے برادرانِ قوم، اللہ کی بندگی کرو، اُس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے۔ تمہارے پاس تمہارے ربّ کی صاف رہنمائی آگئی ہے، لہٰذا وزن اور پیمانے پُورے کرو، لوگوں کو اُن کی چیزوں میں گھاٹا نہ دو70، اور زمین میں فساد برپا نہ کرو جب کہ اس کی اصلاح ہوچکی ہے71، اسی میں تمہاری بھلائی ہے اگر تم واقعی مومن ہو72۔

اور زندگی کے ہر راستے پر رہزن بن کر نہ بیٹھ جاوٴ کہ لوگوں کو خوف زدہ کرنے اور ایمان لانے والوں کو خدا کے راستے سے روکنے لگو اور سیدھی راہ کو ٹیڑھا کرنے کے درپے ہوجاوٴ۔ یاد کرو وہ زمانہ جبکہ تم تھوڑے تھے پھر اللہ نے تمہیں بہت کر دیا، اور آنکھیں کھول کر دیکھو کہ دنیا میں مفسدوں کا کیا انجام ہوا ہے۔

اگر تم میں سے ایک گروہ اس تعلیم پر جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں، ایمان لاتا ہے اور دوسرا ایمان نہیں لاتا، تو صبر کے ساتھ دیکھتے رہو یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کر دے، اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔“

[الجزء ۹]اس کی قوم کے سرداروں نے، جو اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا تھے، اس سے کہا کہ ”اے شعیب ؑ ، ہم تجھے اور اُن لوگوں کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے ورنہ تم لوگوں کو ہماری مِلّت میں واپس آنا ہوگا۔“ شعیب ؑ نے جواب دیا، ”کیا زبردستی ہمیں پھیرا جائے گا خواہ ہم راضی نہ ہوں؟

ہم اللہ پر جھوٹ گھڑنے والے ہوں گے اگر تمہاری مِلّت میں پلٹ آئیں جبکہ اللہ ہمیں اس سے نجات دے چکا ہے۔ ہمارے لیے تو اس کی طرف پلٹنا اب کسی طرح ممکن نہیں اِلّا یہ کہ خدا ہمارا ربّ ہی ایسا چاہے 73، ہمارے ربّ کا علم ہر چیز پر حاوی ہے، اُسی پر ہم نے اعتماد کر لیا، اے ربّ! ہمارےاور ہماری قوم کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کر دے اور تُو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ “

اس کی قوم کے سرداروں نے، جو اس کی بات ماننے سے انکار کر چکے تھے، آپس میں کہا ”اگر تم نے شعیب ؑ کی پیروی قبول کرلی تو برباد ہو جاوٴ گے۔“74

مگر ہُوا یہ کہ ایک دہلا دینے والی آفت نے اُن کو آلیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے کے اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے۔

جن لوگوں نے شعیب ؑ کو جُھٹلایا وہ ایسے مِٹے کہ گویا کبھی ان گھروں میں بسے ہی نہ تھے۔ شعیب ؑ کے جُھٹلانے والے ہی آخرِکار برباد ہو کر رہے۔75

اور شعیبؑ یہ کہہ کر ان کی بستیوں سے نِکل گیا کہ ”اے برادرانِ قوم، میں نے اپنے ربّ کے پیغامات تمہیں پہنچا دیے اور تمہاری خیر خواہی کا حق ادا کر دیا۔ اب میں اُس قوم پر کیسے افسوس کروں جو قبولِ حق سے انکار کرتی ہے۔76“ ؏ ۱۱

94-99

کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے کسی بستی میں نبی بھیجا ہو اور اُس بستی کے لوگوں کو پہلے تنگی اور سختی میں مبتلا نہ کیا ہو، اس خیال سے کہ شاید وہ عاجزی پر اُتر آئیں۔

پھر ہم نے اُن کی بدحالی کو خوشحالی سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ خُوب پھلے پھُولے اور کہنے لگے کہ ”ہمارے اسلاف پر بھی اچھے اور بُرے دن آتے ہی رہے ہیں۔“ آخرِ کار ہم نے اُنہیں اچانک پکڑ لیا اور اُنہیں خبر تک نہ ہوئی۔77

اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقوٰی کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے، مگر اُنہوں نے تو جُھٹلایا، لہٰذا ہم نے اُس بُری کمائی کے حساب میں انہیں پکڑ لیا جو وہ سمیٹ رہے تھے۔

پھر کیا بستیوں کے لوگ اب اس سے بے خوف ہوگئے ہیں کہ ہماری گرفت کبھی اچانک اُن پر رات کے وقت نہ آجائے گی جب کہ وہ سوتے پڑے ہوں؟

یا انہیں اطمینان ہوگیا ہے کہ ہمارا مضبوط ہاتھ کبھی یکایک ان پر دن کے وقت نہ پڑے گا جب کہ وہ کھیل رہے ہوں؟

کیا یہ لوگ اللہ کی چال سے بے خوف ہیں؟78 حالانکہ اللہ کی چال سے وہی قوم بے خوف ہوتی ہے جو تباہ ہونے والی ہو۔ ؏ ۱۲

100-108

اور کیا اُن لوگوں کو جو سابق اہلِ زمین کے بعد زمین کے وارث ہوتے ہیں، اِس امر ِواقعی نے کچھ سبق نہیں دیا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے قصوروں پر انہیں پکڑ سکتے ہیں؟79 (مگر وہ سبق آموز حقائق سے تغافل برتتے رہے) اور ہم ان کے دِلوں پر مُہر لگا دیتے ہیں، پھر وہ کچھ نہیں سُنتے۔80

یہ قومیں جن کے قصے ہم تمہیں سُنا رہے ہیں (تمہارے سامنے مثال میں موجود ہیں) ان کے رسُول ان کے پاس کھُلی کھُلی نشانیاں لے کر آئے، مگر جس چیز کو وہ ایک دفعہ جھُٹلا چکے تھے پھر اُسے وہ ماننے والے نہ تھے۔ دیکھو اس طرح ہم منکرینِ حق کے دلوں پر مُہر لگا دیتے ہیں۔81

ہم نے ان میں سے اکثر میں کوئی پاس ِ عہد نہ پایا بلکہ اکثر کو فاسق ہی پایا۔82

پھر اُن قوموں کے بعد (جن کا ذکر اُوپر کیا گیا)ہم نے موسیٰ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کے پاس بھیجا 83مگر انہوں نے بھی ہماری نشانیوں کے ساتھ ظلم کیا،84 پس دیکھو کہ ان مفسدوں کا کیا انجام ہوا۔

موسیٰ نے کہا ”اے فرعون85، میں کائنات کے مالک کی طرف سے بھیجا گیا ہوں،

میرا منصب یہی ہے کہ اللہ کا نام لے کر کوئی بات حق کے سوا نہ کہوں، میں تم لوگوں کے پاس تمہارے ربّ کی طرف سے صریح دلیلِ ماموریّت لے کر آیا ہوں، لہٰذا تُو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے۔“ 86

فرعون نے کہا ”اگر تُو کوئی نشانی لایا ہے اور اپنے دعوے میں سچا ہے تو اسے پیش کر۔“

موسیٰ نے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ ایک جیتا جاگتا اژدھا تھا۔

اس نے اپنی جیب سے ہاتھ نکالا اور سب دیکھنے والوں کے سامنے وہ چمک رہا تھا۔87 ؏ ۱۳

109-126

اس پر فرعون کی قوم کے سرداروں نے آپس میں کہا ”یقیناً یہ شخص بڑا ماہر جادوگر ہے،

تمہیں تمہاری زمین سے بے دخل کرنا چاہتا ہے88، اب کہو کیا کہتے ہو؟“

پھر اُن سب نے فرعون کو مشورہ دیا کہ اسے اور اس کے بھائی کو انتظار میں رکھیے اور تمام شہروں میں ہرکارے بھیج دیجیے

کہ ہر ماہرِ فن جادوگر کو آپ کے پاس لے آئیں۔89

چنانچہ جادوگر فرعون کے پاس آگئے۔ اُنہوں نے کہا ”اگر ہم غالب رہے تو ہمیں اس کا صلہ تو ضرور ملے گا؟“

فرعون نے جواب دیا ”ہاں! اور تم مقربِ بارگاہ ہو گے۔ “

پھر اُنہوں نے موسیٰ سے کہا ”تم پھینکتے ہو یا ہم پھینکیں؟“

موسیٰ نے جواب دیا ”تم ہی پھینکو۔“ انہوں نے جو اپنے آنچھر پھینکے تو نگاہوں کو مسحُور اور دلوں کو خوف زدہ کر دیا اور بڑا ہی زبردست جادُو بنا لائے۔

ہم نے موسیٰ کو اشارہ کیا کہ پھینک اپنا عصا۔ اس کا پھینکنا تھا کہ آن کی آن میں وہ ان کے اس جھُوٹے طلسم کو نگلتا چلا گیا۔90

اس طرح جو حق تھا وہ حق ثابت ہوا اور جو کچھ اُنہوں نے بنا رکھا تھا وہ باطل ہو کر رہ گیا۔

فرعون اور اُس کے ساتھی میدانِ مقابلہ میں مغلوب ہوئے اور (فتح مند ہونے کے بجائے) اُلٹے ذلیل ہوگئے۔

اور جادوگروں کا حال یہ ہوا کہ گویا کسی چیز نے اندر سے اُنہیں سجدے میں گرادیا۔

کہنے لگے ”ہم نے مان لیا ربّ العالمین کو،

اُس ربّ کو جسے موسیٰ اور ہارون مانتے ہیں۔“91

فرعون نے کہا ”تم اس پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں؟ یقیناً یہ کوئی خفیہ سازش تھی جو تم لوگوں نے اِس دار السّلطنت میں کی تاکہ اس کے مالکوں کو اقتدار سے بے دخل کر دو۔ اچھا تو اس کا نتیجہ اب تمہیں معلوم ہوا جاتا ہے۔

میں تمہارے ہاتھ پاوٴں مخالف سمتوں سے کٹوا دوں گا اور اس کے بعد تم سب کو سُولی پر چڑھاوٴں گا۔“

انہوں نے جواب دیا ”بہرحال ہمیں پلٹنا اپنے ربّ ہی کی طرف ہے۔

تُو جس بات پر ہم سے انتقام لینا چاہتا ہے وہ اِس کے سوا کچھ نہیں کہ ہمارے ربّ کی نشانیاں جب ہمارے سامنے آگئیں تو ہم نے انہیں مان لیا۔ اے ربّ ، ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اُٹھا اِس حال میں کہ ہم تیرے فرمانبردار ہوں۔92“ ؏ ۱۴

127-129

فرعون سے اُس کی قوم کے سرداروں نے کہا ”کیا تُو موسیٰ اور اس کی قوم کو یونہی چھوڑ دے گا کہ ملک میں فساد پھیلائیں اور وہ تیری اور تیرے معبُودوں کی بندگی چھوڑ بیٹھے؟“ فرعون نے جواب دیا ”میں اُن کے بیٹوں کو قتل کراوٴں گا اور اُن کی عورتوں کو جیتا رہنے دوں 93گا۔ ہمارے اقتدار کی گرفت ان پر مضبوط ہے۔“

موسیٰ نے اپنی قوم سے کہا ”اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو، زمین اللہ کی ہے، اپنے بندوں میں سے جس کو وہ چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے، اور آخری کامیابی انہی کے لیے ہے جو اُس سے ڈرتے ہوئے کام کریں۔“

اس کی قوم کے لوگوں نے کہا ”تیرے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے جاتے تھے اور اب تیرے آنے پر بھی ستائے جارہے ہیں۔“ اس نے جواب دیا ”قریب ہے وہ وقت کہ تمہارا ربّ تمہارے دشمن کو ہلاک کر دے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنائے، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو؟“ ؏ ۱۵

130-141

ہم نے فرعون کے لوگوں کو کئی سال تک قحط اور پیداوار کی کمی میں مبتلا رکھا کہ شاید ان کو ہوش آئے۔

مگر اُن کا حال یہ تھا کہ جب اچھا زمانہ آتا تو کہتے کہ ہم اِسی کے مستحق ہیں، اور جب بُرا زمانہ آتا تو موسیٰ اور اس کے ساتھیوں کو اپنے لیے فالِ بد ٹھہراتے، حالانکہ درحقیقت ان کی فالِ بد تو اللہ کے پاس تھی، مگر ان میں سے اکثر بے علم تھے۔

انہوں نے موسیٰ سے کہا ”تُو ہمیں مسحور کرنے کے لیے خواہ کوئی نشانی لے آئے، ہم تو تیری بات ماننے والے نہیں ہیں۔“94

آخرِ کارہم نے ان پر طوفان بھیجا95، ٹِڈی دل چھوڑے، سُرسُریاں پھیلائیں96، مینڈک نکالے، اور خون برسایا، یہ سب نشانیاں الگ الگ کر کے دکھائیں، مگر وہ سرکشی کیے چلے گئے اور بڑے ہی مجرم لوگ تھے۔

جب کبھی اُن پر بلا نازل ہو جاتی تو کہتے ”اے موسیٰ، تجھے اپنے ربّ کی طرف سے جو منصب حاصل ہے اس کی بنا پر ہمارے حق میں دعا کر، اگر اب کے تُو ہم پر سے یہ بلا ٹلوا دے تو ہم تیری بات مان لیں گے اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ بھیج دیں گے۔“

مگر جب ہم ان پر سے اپنا عذاب ایک وقتِ مقرر تک کے لیے، جس کو وہ بہرحال پہنچنے والے تھے، ہٹا لیتے تو وہ یک لخت اپنے عہد سے پھر جاتے۔

تب ہم نے اُن سے انتقام لیا اور اُنہیں سمندر میں غرق کر دیا کیونکہ اُنہوں نے ہماری نشانیوں کو جُھٹلایا تھا اور اُن سے بے پروا ہوگئے تھے۔

اور اُن کی جگہ ہم نے اُن لوگوں کو جو کمزور بنا کر رکھے گئے تھے، اُس سرزمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنا دیا جسے ہم نے برکتوں سے مالامال کیا تھا۔97 اس طرح بنی اسرائیل کے حق میں تیرے ربّ کا وعدہٴِ خیر پورا ہوا کیونکہ اُنہوں نے صبر سے کام لیا تھا اور فرعون اور اُس کی قوم کا وہ سب کچھ برباد کر دیا گیا جو وہ بناتے اور چڑھاتے تھے۔

بنی اسرائیل کو ہم نے سمندر سے گزار دیا، پھر وہ چلے اور راستے میں ایک ایسی قوم پر اُن کا گزر ہوا جو اپنے چند بُتوں کی گرویدہ بنی ہوئی تھی۔ کہنے لگے، ”اے موسیٰ، ہمارے لیے بھی کوئی ایسا معبود بنا دے جیسے اِن لوگوں کے معبود ہیں۔“98 موسیٰ نے کہا ”تم لوگ بڑی نادانی کی باتیں کرتے ہو۔

یہ لوگ جس طریقہ کی پیروی کر رہے ہیں وہ تو برباد ہونے والا ہے اور جو عمل وہ کر رہے ہیں وہ سراسر باطل ہے۔“

پھر موسیٰ نے کہا ”کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود تمہارے لیے تلاش کروں؟ حالانکہ وہ اللہ ہی جس نے تمہیں دنیا بھر کی قوموں پر فضیلت بخشی ہے۔

اور (اللہ فرماتا ہے) وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرعون والوں سے تمہیں نجات دی جن کا حال یہ تھا کہ تمہیں سخت عذاب میں مبتلا رکھتے تھے، تمہارے بیٹوں کو قتل کرتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے ربّ کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی۔“ ؏ ۱۶

142-147

ہم نے موسیٰ کو تیس شب و روز کے لیے (کوہِ سینا پر) طلب کیا اور بعد میں دس(۱۰)دن کا اور اضافہ کر دیا، اِس طرح اُس کے ربّ کی مقرر کردہ مُدّت پُورے چالیس (۴۰)دن ہوگئی۔99 موسیٰ نے چلتے ہوئے اپنے بھائی سے کہا کہ ”میرے پیچھے تم میرے قوم میں میری جانشینی کرنا اور ٹھیک کام کرتے رہنا اور بگاڑ پیدا کرنے والوں کے طریقے پر نہ چلنا۔“100

جب وہ ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر پہنچا اور اس کے ربّ نے اس سے کلام کیا تو اس نے التجا کی کہ ”اے ربّ، مجھے یارائے نظر دے کہ میں تجھے دیکھوں۔“ فرمایا ”تُو مجھے نہیں دیکھ سکتا۔ ہاں ذرا سامنے کے پہاڑ کی طرف دیکھ، اگر وہ اپنی جگہ قائم رہ جائے تو البتہ تُو مجھے دیکھ سکے گا۔“ چنانچہ اُس کے ربّ نے جب پہاڑ پر تجلّی کی تو اُسے ریزہ ریزہ کر دیا اور موسیٰ غش کھا کر گِر پڑا۔ جب ہوش آیا تو بولا ”پاک ہے تیری ذات، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور سب سے پہلا ایمان لانے والا میں ہوں۔“

فرمایا ”اے موسیٰ، میں نے تمام لوگوں پر ترجیح دے کر تجھے منتخب کیا کہ میری پیغمبری کرے اور مجھ سے ہم کلام ہو، پس جو کچھ میں تجھے دُوں اُسے لے اور شکر بجا لا۔“

اس کے بعد ہم نے موسیٰ کو ہر شعبہٴ زندگی کے متعلق نصیحت اور ہر پہلو کے متعلق واضح ہدایت تختیوں پر لکھ کر دے دی101 اور اس سے کہا ”اِن ہدایات کو مضبوط ہاتھوں سے سنبھال اور اپنی قوم کو حکم دے کہ ان کے بہتر مفہوم کی پیروی کریں۔ 102عنقریب میں تمہیں فاسقوں کے گھر دکھاوٴں گا۔103

میں اپنی نشانیوں سے اُن لوگوں کی نگاہیں پھیر دوں گا جو بغیر کِسی حق کے زمین میں بڑے بنتے ہیں 104، وہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں کبھی اس پر ایمان نہ لائیں گے، اگر سیدھا راستہ اُن کے سامنے آئے تو اسے اختیار نہ کریں گے اور اگر ٹیڑھا راستہ نظر آئے تو اس پر چل پڑیں گے، اس لیے کہ اُنہوں نے ہماری نشانیوں کو جھُٹلایا اور ان سے بے پروائی کرتے رہے۔

ہماری نشانیوں کو جس کسی نے جھُٹلایا اور آخرت کی پیشی کا اِنکار کیا اُس کے سارے اعمال ضائع ہوگئے۔105 کیا لوگ اِس کے سِوا کچھ اور جزا پا سکتے ہیں کہ جیسا کریں ویسا بھریں؟“ ؏ ۱۷

148-151

موسیٰ کے پیچھے 106اس کی قوم کے لوگوں نے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑے کا پُتلا بنایا جس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ کیا اُنہیں نظر نہ آتا تھا کہ وہ نہ ان سے بولتا ہے نہ کسی معاملہ میں ان کی رہنمائی کرتا ہے؟ مگر پھر بھی اُنہوں نے اسے معبود بنا لیا اور وہ سخت ظالم تھے۔107

پھر جب ان کی فریب خوردگی کا طلِسم ٹوٹ گیا اور اُنہوں نے دیکھ لیا کہ درحقیقت وہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے کہ ”اگر ہمارے ربّ نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہم سے درگزر نہ کیا تو ہم برباد ہوجائیں گے۔“

اُدھر سے موسیٰ غصّے اور رنج میں بھرا ہوا اپنی قوم کی طرف پلٹا۔ آتے ہی اس نے کہا ”بہت بُری جانشینی کی تم لوگوں نے میرے بعد! کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوا کہ اپنے ربّ کے حکم کا انتظار کر لیتے؟“ اور تختیاں پھینک دیں اور اپنے بھائی (ہارون) کے سر کے بال پکڑ کر اسے کھینچا۔ ہارون نے کہا ”اے میری ماں کے بیٹے، اِن لوگوں نے مجھے دبا لیا اور قریب تھا کہ مجھے مار ڈالتے، پس تُو دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دے اور اس ظالم گروہ کے ساتھ مجھے نہ شامل کر۔“108

تب موسیٰ نے کہا ”اے ربّ، مجھے اور میرے بھائی کو معاف کر اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما، تُو سب سے بڑھ کر رحیم ہے۔“ ؏ ۱۸

152-157

(جواب میں ارشاد ہوا کہ) ”جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنایا وہ ضرور اپنے رب کے غضب میں گرفتار ہو کر رہیں گے اور دنیا کی زندگی میں ذلیل ہوں گے۔ جُھوٹ گھٹرنے والوں کو ہم ایسی ہی سزا دیتے ہیں۔

اور جو لوگ بُرے عمل کریں پھر توبہ کرلیں اور ایمان لے آئیں تو یقیناً اِس توبہ و ایمان کے بعد تیرا رب درگزر اور رحم فرمانے والا ہے“۔

پھر جب موسٰی کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو اس نے وہ تختیاں اُٹھا لیں جن کی تحریر میں ہدایت اور رحمت تھی اُن لوگوں کے لیے جو اپنے رب سے ڈرتے ہیں،

اور اُس نے اپنی قوم کے ستّر آدمیوں کو منتخب کیا تاکہ وہ (اُس کے ساتھ) ہمارے مقرر کیے ہوئے وقت پر حاضر ہوں109۔ جب اِن لوگوں کو ایک سخت زلزلے نے آپکڑا تو موسٰی نے عرض کیا ”اے میرے سرکار، آپ چاہتے تو پہلے ہی اِن کو اور مجھے ہلاک کر سکتے تھے۔ کیا آپ اُس قصور میں جو ہم میں سے چند نادانوں نے کیا تھا ہم سب کو ہلاک کر دیں گے؟ یہ تو آپ کی ڈالی ہوئی ایک آزمائش تھی جس کے ذریعہ سے آپ جسے چاہتے ہیں گمراہی میں مبتلا کر دیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں ہدایت بخش دیتے ہیں۔110 ہمارے سرپرست تو آپ ہی ہیں۔ پس ہمیں معاف کر دیجیے اور ہم پر رحم فرمائیے، آپ سب سے بڑھ کر معاف فرمانے والے ہیں۔

اور ہمارے لیے اس دنیا کی بھلائی بھی لکھ دیجیے اور آخرت کی بھی، ہم نے آپ کی طرف رجوع کر لیا۔“ جواب میں ارشاد ہوا ”سزا تو میں جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں، مگر میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے111، اور اُسے میں اُن لوگوں کے حق میں لکھوں گا جو نافرمانی سے پرہیز کریں گے، زکوٰة دیں گے اور میری آیات پر ایمان لائیں گے۔“

(پس آج یہ رحمت اُن لوگوں کا حِصہ ہے)جو اِس پیغمبر نبی اُمّی کی پیروی اختیار کریں 112جس کا ذکر اُنہیں اپنے ہاں تورات اور انجیل میں لکھا ہوا ملتا ہے۔113 وہ انہیں نیکی کا حکم دیتا ہے، بدی سے روکتا ہے، ان کے لیے پاک چیزیں حلال اور ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے114، اور ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو اُن پر لدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔115لہٰذا جو لوگ اس پر ایمان لائیں اور اس کی حمایت اور نصرت کریں اور اُس روشنی کی پیروی اختیار کریں جو اس کے ساتھ نازل کی گئی ہے، وہی فلاح پانے والے ہیں۔ ؏ ۱۹

158-162

اے محمد ؐ، کہو کہ ”اے انسانو، میں تم سب کی طرف اُس خدا کا پیغمبر ہوں جو زمیں اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے، اُس کے سِوا کوئی خدا نہیں ہے، وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، پس ایمان لاؤ اللہ پر اور اس کے بھیجے ہوئے نبی اُمّی پر جو اللہ اور اس کے ارشادات کو مانتا ہے، اور پیروی اختیار کرو اُس کی ، اُمید ہے کہ تم راہِ راست پالو گے۔“

116موسٰی کی قوم میں ایک گروہ ایسا بھی تھا جو حق کے مطابق ہدایت کرتا اور حق ہی کے مطابق انصاف کرتا تھا۔117

اور ہم نے اس قوم کو بارہ گھرانوں میں تقسیم کرکے انہیں مستقل گرہوں کی شکل دے دی تھی۔118 اور جب موسٰی سے اس کی قوم نے پانی مانگا تو ہم نے اس کو اشارہ کیا کہ فلاح چٹان پر اپنی لاٹھی مارو۔ چناچہ اس چٹان سے یکایک بارہ چشمے پُھوٹ نِکلے اور ہر گروہ نے اپنے پانی لینے کی جگہ متعیّن کرلی، ہم نے اُن پر بادل کا سایہ کیا اور اُن پر من و سلوٰی اُتارا۔119 کھاؤ وہ پاک چیزیں جو ہم نے تم کو بخشی ہیں۔ مگر اس کے بعد انہوں نے جو کچھ کیا تو ہم پر ظلم نہیں کیا بلکہ آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرتے رہے۔

120یاد کرو وہ وقت جب ان سے کہا گیا تھا کہ اِس بستی میں جاکر بس جاؤ اور اس کی پیداوار سے اپنے حسبِ منشا روزی حاصل کرو اور حِطَّةُٗ حِطَّةُٗ کہتے جاؤ اور شہر کے دروازے میں سجدہ ریز ہوتے ہوئے داخل ہو، ہم تمہاری خطائیں معاف کریں گے اور نیک رویہ رکھنے والوں مزید فضل سے نوازیں گے۔“

مگر جو لوگ اُن میں ظالم تھے اُنھوں نے اُس بات کو جو اُن سے کہی گئی تھی بدل ڈالا، اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے اُن کے ظلم کی پاداش میں اُن پر آسمان سے عذاب بھیج دیا۔121 ؏ ۲۰

163-171

اور ذرا اِن سے اُس بستی کا حال بھی پوچھو جو سمندر کے کنارے واقع تھی 122۔ اِنہیں یاد دلاؤ وہ واقعہ کہ وہاں کے لوگ سَبْت(ہفتہ) کے دن احکامِ الٰہی کی خلاف ورزی کرتے تھے اور یہ کہ مچھلیاں سبت ہی کے دن اُبھر اُبھر کر سطح پر اُن کے سامنے آتی تھیں 123اور سَبْت کے سوا باقی دنوں میں نہیں آتی تھیں ۔ یہ اس لیے ہوتا تھا کہ ہم ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان کو آزمائش میں ڈال رہے 124تھے۔

اور انہیں یہ بھی یاد دلاؤ کہ جب اُن میں سے ایک گروہ نے دوسرے گروہ سے کہا تھا کہ ”تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت سزا دینے والا ہے“ تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ ”ہم یہ سب کچھ تمہارے رب کے حضور اپنی معذرت پیش کرنے کے لیے کرتے ہیں اور اس اُمید پر کرتے ہیں کہ شاید یہ لوگ اس کی نافرمانی سے پرہیز کرنے لگیں۔“

آخر کار جب وہ اُن ہدایات کو بالکل ہی فراموش کر گئے جو انہیں یاد کرائی گئی تھیں تو ہم نے اُن لوگوں کو بچا لیا جو بُرائی سے روکتے تھے اور باقی سب لوگوں کو جو ظالم تھے ان کی نافرمانیوں پر سخت عذاب میں پکڑ لیا۔125

پھر جب وہ پوری سرکشی کے ساتھ وہی کام کیے چلے گئے جس سے انہیں روکا گیا تھا، تو ہم نے کہا کہ بندر ہوجاؤ ذلیل اور خوار۔126

اور یاد کرو جبکہ تمہارے رب نے اعلان کردیا127 کہ ”وہ قیامت تک برابر ایسے لوگ بنی اسرائیل پر مسلّط کرتا رہے گا جو ان کو بدترین عذاب دیں گے،“128 یقیناً تمہارا رب سزا دینے میں تیز دست ہے اور یقیناً وہ درگزر اور رحم سے بھی کام لینے والا ہے۔

ہم نے ان کو زمین میں ٹکڑے ٹکڑے کرکے بہت سی قوموں میں تقسیم کر دیا۔ کچھ لوگ ان میں نیک تھے اور کچھ اس سے مختلف۔ اور ہم ان کو اچھے اور بُرے حالات سے آزمائش میں مبتلا کرتے رہے کہ شاید یہ پلٹ آئیں۔

پھر اگلی نسلوں کے بعد ایسے ناخلف لوگ ان کے جانشین ہوئے جو کتاب الٰہی کے وارث ہو کر اسی دنیائے دَنی کے فائدے سمیٹتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ توقع ہے ہمیں معاف کر دیا جائے گا، اور اگر وہی متاعِ دنیا پھر سامنے آتی ہے تو پھر لپک کر اُسے لے لیتے ہیں۔129 کیا ان سے کتاب کا عہد نہیں لیا جاچکا ہے کہ اللہ کے نام پر وہی بات کہیں جو حق ہو؟ اور یہ خود پڑھ چکے ہیں جو کتاب میں لکھا ہے۔130 آخرت کی قیام گاہ تو خدا ترس لوگوں کے لیے ہی بہتر ہے131، کیا تم اتنی سی بات نہیں سمجھتے؟

جو لوگ کتاب کی پابندی کرتے ہیں اور جنہوں نے نماز قائم رکھی ہے، یقیناً ایسے نیک کردار لوگوں کا اجر ہم ضائع نہیں کریں گے۔

انہیں وہ وقت بھی کچھ یاد ہے جبکہ ہم نے پہاڑ کو ہلا کر اُن پر اس طرح چھا دیا تھا کہ گویا وہ چھتری ہے اور یہ گمان کر رہے تھے کہ وہ ان پر آپڑے گا اور اُس وقت ہم نے اُن سے کہا تھا کہ جو کتاب ہم تمہیں دے رہے ہیں اسے مضبوطی کے ساتھ تھامو اور جو کچھ اس میں لکھا ہے اسے یاد رکھو، توقع ہے کہ تم غلط روی سے بچے رہو گے۔ 132؏ ۲۱

172-181

133اور اے نبی، لوگوں کو یاد دلاؤ وہ وقت جبکہ تمہارے رب نے بنی آدم کی پُشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا تھا ”کیا میں تمارا رب نہیں ہوں؟“ انہوں نے کہا ”ضرور آپ ہی ہمارے رب ہیں، ہم اس پر گواہی دیتے ہیں“134۔ یہ ہم نے اس لیے کیا کہ کہیں تم قیامت کے روز یہ نہ کہہ دو کہ ”ہم اس بات سے بے خبر تھے“،

یا یہ نہ کہنے لگو کہ ”شرک کی ابتدا تو ہمارے باپ دادا نے ہم سے پہلے کی تھی اور ہم بعد کو ان کی نسل سے پیدا ہوئے، پھر کیا آپ ہمیں اُس قصُور میں پکڑتے ہیں جو غلط کار لوگوں نے کیا تھا۔“135

دیکھو، اِس طرح ہم نشانیاں واضح طور پر پیش کرتے ہیں۔136 اور اس لیے کرتے ہیں کہ یہ لوگ پلٹ آئیں۔137

اور اے محمد ؐ ، اِن کے سامنے اُس شخص کا حال بیان کرو جس کو نے اپنی آیات کا علم عطا کیا تھا138 مگر وہ ان کی پابندی سے نِکل بھاگا۔ آخر کار شیطان اس کے پیچھے پڑگیا یہاں تک کہ وہ بھٹکنے والوں میں شامل ہو کر رہا۔

اگر ہم چاہتے اسے اُن آیتوں کے ذریعہ سے بلندی عطا کرتے، مگر وہ تو زمین کی طرف جھک کر رہ گیا اور اپنی خواہش نفس ہی کے پیچھے پڑا رہا، لہٰذا اس کی حالت کتّے کی سی ہو گئی کہ تم اس پر حملہ کرو تب بھی زبان لٹکائے رہے اور اسے چھوڑ دو تب بھی زبان لٹکائے رہے۔139 یہی مثال ہے اُن لوگوں کی جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ تم یہ حکایات اِن کو سناتے رہو، شاید کہ یہ کچھ غور و فکر کریں۔

بڑی ہی بُری مثال ہے ایسے لوگوں کی جنہوں نے ہماری آیات کو جھُٹلایا، اور وہ آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرتے رہے ہیں۔

جسے اللہ ہدایت بخشے بس وہی راہِ راست پاتا ہے اور جس کو اللہ اپنی رہنمائی سے محروم کر دے وہی ناکام و نامراد ہو کر رہتا ہے۔

اور یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جِن اور انسان ایسے ہیں جن کو ہم نے جہنم ہی کے لیے پیدا کیا ہے۔140، ان کے پاس دل ہیں مگر وہ ان سے سوچتے نہیں۔ ان کے پاس آنکھیں ہیں مگر وہ ان سے دیکھتے نہیں۔ ان کے پاس کان تو ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں۔ وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے، یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھوئے گئے ہیں۔

141اللہ اچھے ناموں کا مستحق ہے، اس کو اچھے ہی ناموں سے پکارو اور اُن لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے نام رکھنے میں راستی سے منحرف ہو جاتے ہیں۔ جو کچھ وہ کرتے رہے ہیں اس کا بدلہ وہ پاکر رہیں گے۔142

ہماری مخلوق میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق ہدایت اور حق ہی کے مطابق انصاف کرتا ہے۔ ؏۲۲

182-188

رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو جھُٹلا دیا ہے، تو انہیں ہم بتدریج ایسے طریقہ سے تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ انہیں خبر تک نہ ہوگی۔

میں ان کو ڈھیل دے رہا ہوں، میری چال کا کوئی توڑ نہیں ہے۔

اور کیا اِن لوگوں نے کبھی سوچا نہیں؟ اِن کے رفیق پر جُنون کا کوئی اثر نہیں ہے۔ وہ تو ایک خبردار ہے جو (بُرا انجام سامنے آنے سے پہلے) صاف صاف متنبہ کر رہا ہے۔

کیا ان لوگوں نے آسمان و زمین کے انتظام پر کبھی غور نہیں کیا اور کسی چیز کو بھی جو خدا نے پیدا کی ہے آنکھیں کھول کر نہیں دیکھا؟ 143اور کیا یہ بھی انہوں نے نہیں سوچا کہ شاید ان کی مہلتِ زندگی پوری ہونے کا وقت قریب آلگا ہو؟144 پھر آخر پیغمبر ؐ کی اِس تنبیہ کے بعد اور کون سی بات ایسی ہو سکتی ہے۔ جس پر یہ ایمان لائیں؟

جس کو اللہ رہنمائی سے محروم کر دے اُس کے لیے پھر کوئی رہنما نہیں ہے، اور اللہ انہیں ان کی سرکشی ہی میں بھٹکتا ہوا چھوڑے دیتا ہے۔

یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ آخر وہ قیامت کی گھڑی کب نازل ہوگی؟ کہو ”اِس کا علم میرے ربّ ہی کے پاس ہے اُسے اپنے وقت پر وہی ظاہر کرے گا۔ آسمانوں اور زمین میں وہ بڑا سخت وقت ہو گا۔ وہ تم پر اچانک آجائے گا۔“ یہ لوگ اِس کے متعلق تم سے اِس طرح پوچھتے ہیں گویا کہ تم اس کی کھوج میں لگے ہوئے ہو۔ کہو ”اِس کا علم تو صرف اللہ کو ہے مگر اکثر لوگ اِس حقیقت سے ناواقف ہیں۔“

اے محمدؐ، ان سے کہو کہ ”میں اپنی ذات کے لیے کسی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتا، اللہ ہی جو کچھ چاہتا ہے وہی ہوتا ہے۔ اور اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں بہت سے فائدے اپنے لیے حاصل کر لیتا اور مجھے کبھی کوئی نقصان نہ پہنچتا۔ میں 145تو محض ایک خبردار کرنے والا اور خوشخبری سُنانے والا ہوں اُن لوگوں کے لیے جو میری بات مانیں۔“ ؏ ۲۳

189-206

وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تاکہ اس کے پاس سکون حاصل کرے۔ پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف سا حمل رہ گیا جس لیے لیے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ، اپنے ربّ سے دعا کی کہ اگر تُو نے ہمیں اچھا سا بچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزار ہوں گے۔

مگر جب اللہ نے ان کو ایک صحیح و سالم بچہ دے دیا تو وہ اُس کی اِس بخشش و عنایت میں دوسروں کو اِس کا شریک ٹھہرانے لگے۔ اللہ بہت بلند و برتر ہے اِن مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔146

کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ اُن کو خدا کا شرک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو بھی پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں،

جو نہ ان کی مدد کر سکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں۔

اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کی دعوت دو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آئیں، تم خواہ انہیں پکارو یا خاموش رہو، دونوں صورتوں میں تمہارے لیے یکساں ہی رہے۔147

تم لوگ خدا کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو۔ ان سے دعائیں مانگ دیکھو، یہ تمہاری دعاوٴں کا جواب دیں اگر ان کے بارے میں تمہارے خیالات صحیح ہیں۔

کیا یہ پاوٴں رکھتے ہیں کہ ان سے چلیں؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ ان سے پکڑیں؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ ان سے دیکھیں؟ کیا یہ کان رکھتے ہیں کہ ان سے سُنیں؟ 148اے محمدؐ ، ان سے کہہ دو کہ ”بُلا لو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مِل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہرگز مہلت نہ دو،

میرا حامی و ناصر وہ خدا ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے،149

بخلاف اس کے تم جنہیں خُدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مدد ہی کرنے کے قابل ہیں،

بلکہ اگر تم اُنہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سُن بھی نہیں سکتے۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے۔“

اے نبی ؐ ، نرمی و درگزر کا طریقہ اختیار کرو، معروف کی تلقین کیے جاوٴ، اور جاہلوں سے نہ اُلجھو۔

اگر کبھی شیطان تمہیں اُکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو، وہ سب کچھ سُننے اور جاننے والا ہے۔

حقیقت میں جو لوگ متقی ہیں اُن کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ کبھی شیطان کے اثر سے کوئی بُرا خیال انہیں چھُو بھی جاتا ہے تو وہ فوراً چوکنے ہوجاتے ہیں اور پھر اُنہیں صاف نظر آنے لگتا ہے کہ اُن کے لیے صحیح طریقِ کار کیا ہے۔

رہے ان کے (یعنی شیاطین کے) بھائی بند تو وہ اُنہیں ان کی کج روی میں کھینچے لیے چلے جاتے ہیں اور انہیں بھٹکانے میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھتے۔150

اے نبی، جب تم ان لوگوں کے سامنے کوئی نشانی (یعنی معجزہ) پیش نہیں کرتے تو یہ کہتے ہیں کہ تم نے اپنے لیے کوئی نشانی کیوں نہ انتخاب کر لی؟151اِن سے کہو ”میں تو صرف اُس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے ربّ نے میری طرف بھیجی ہے۔ یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں تمہارے ربّ کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت ہے اُن لوگوں کے لیے جو اسے قبول کریں۔152

جب قرآن تمہارے سامنے پڑھا جائے تو اسے توجہ سے سُنو اور خاموش رہو، شاید کہ تم پر بھی رحمت ہوجائے۔“153

اے نبیؐ ، اپنے ربّ کو صبح و شام یاد کیا کرو دل ہی دل میں زاری اور خوف کے ساتھ اور زبان سے بھی ہلکی آواز کے ساتھ۔ تم اُن لوگوں میں نہ ہو جاوٴ جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔154

جو فرشتے تمہارے ربّ کے حضور تقرب کا مقام رکھتے ہیں وہ کبھی اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں آکر اُس کی عبادت سے منہ نہیں موڑتے ،155اور اُس کی تسبیح کرتے ہیں،156اور اُس کے آگے جُھکتے رہتے ہیں۔ 157؏۲۴ السجدة ۱