اللہ کی تسبیح کی ہے ہراُس چیز نے جو آسمانوں اور زمین میں ہے، اور وہ غالب اور حکیم ہے۔ 1

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم کیوں وہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو؟

اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسندیدہ حرکت ہے کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں۔ 2

اللہ کو تو پسند وہ لوگ ہیں جو اُس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا کہ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔ 3

اور یاد کرو موسٰیؑ کی وہ بات جو اس نے اپنی قوم سے کہی تھی کہ”اے میری قوم کے لوگو ،تم کیوں مجھے اذیّت دیتے ہو حالانکہ تم خوب جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں؟“ 4 پھر جب انہوں نے ٹیڑھ اختیار کی تو اللہ نے ان کے دل ٹیڑھے کر دیے ، اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ 5

6 اور یاد کرو عیسٰیؑ ابن مریمؑ کی وہ بات جو اس نے کہی تھی کہ ”اے بنی اسرائیل ، میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں، تصدیق کرنے والا ہوں اُس توراة کی جو مجھ سے پہلے آئی ہوئی موجود ہے، 7 اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمد ہوگا۔8
مگر جب وہ اُن کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آیا تو انہوں نے کہا یہ تو صریح دھوکا ہے۔ 9

اب بھلا اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جُھوٹے بہتان باندھے 10 حالانکہ اسے اسلام (اللہ کے آگے سرِ اطاعت جھکا دینے) کی دعوت دی جا رہی ہو؟ 11 ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا ۔

یہ لوگ اپنے مُنہ کی پُھونکوں سے اللہ کے نُور کو بجھانا چاہتے ہیں، اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نُور کو پُورا پھیلا کر رہے گا خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ 12

وہی تو ہے جس نے اپنے رسول کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا ہے تا کہ اسے پُورے کے پُورے دین پر غالب کر دے خواہ مشرکین کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔ 13 ؏۱

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، میں بتاؤں تم کو وہ تجارت 14 جو تمہیں عذابِ الیم سے بچا دے؟

ایمان لاؤ اللہ اور اُس کے رسُول پر، 15 اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے۔ یہی تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔ 16

اللہ تمہارے گناہ معاف کردے گا، اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرےگا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور ابدی قیام کی جنّتوں میں بہترین گھر تمہیں عطا فرمائے گا۔ یہ ہے بڑی کامیابی۔ 17

اور وہ دُوسری چیز جو تم چاہتے ہو وہ بھی تمہیں دے گا، اللہ کی طرف سے نُصرت اور قریب ہی میں حاصل ہو جانے والی فتح۔ 18 اے نبیؐ ، اہل ایمان کو اِس کی بشارت دے دو۔

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کے مددگار بنو، جس طرح عیسٰیؑ ابنِ مریمؑ نے حواریوں 19 کو خطاب کرکے کہا تھا: ”کون ہے اللہ کی طرف (بلانے) میں میرا مددگار“؟ اور حواریوں نے جواب دیا تھا:”ہم ہیں اللہ کے مددگار“ 20۔ اُس وقت بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لایا اور دُوسرے گروہ نے انکار کیا۔ پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی اُن کے دُشمنوں کےمقابلے میں تائید کی اور وہی غالب ہو کر رہے۔21 ؏۲