1-10 شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے زمین اور آسمان بنائے، روشنی اور تاریکیاں پیدا کیں۔ پھر بھی وہ لوگ جنہوں نے دعوتِ حق کو ماننے سے انکار کردیا ہے دُوسروں کو اپنے ربّ کا ہمسر ٹھیرا رہے ہیں۔1

وہی ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا،2 پھر تمہارے لیے زندگی کی ایک مدّت مقرر کردی، اور ایک دُوسری مدّت اور بھی جو اس کے ہاں طے شدہ ہے۔3 مگر تم لوگ ہو کہ شک میں پڑے ہوئے ہو۔

وہی ایک خدا آسمانوں میں بھی ہے اور زمین میں بھی، تمہارے کُھلے اور چُھپے سب حال جانتا ہے اور جو برائی یا بَھلائی تم کماتے ہو اس سے خوب واقف ہے۔

لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کے ربّ کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ایسی نہیں جو ان کے سامنے آئی ہو اور انہوں نے اس سے منہ نہ موڑ لیا ہو۔

چنانچہ اب جو حق ان کے پاس آیا تو اسے بھی انہوں نے جھٹلا دیا۔ اچھا، جس چیز کا وہ اب تک مذاق اُڑاتے رہے ہیں عنقریب اس کے متعلق کچھ خبریں انہیں پہنچیں گی۔4

کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ایسی قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں جن کا اپنے اپنے زمانہ میں دَور دَورہ رہا ہے؟ اُن کو ہم نے زمین میں وہ اقتدار بخشا تھا جو تمہیں نہیں بخشا ہے، ان پر ہم نے آسمان سے خوب بارشیں برسائیں اور ان کے نیچے نہریں بہا دیں،(مگر جب انھوں نے کفرانِ نعمت کیا تو) آخر کار ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں انہیں تباہ کردیا اور ان کی جگہ دُوسرے دَور کی قوموں کو اُٹھایا۔

اے پیغمبر ؐ ، اگر ہم تمہارے اوپر کوئی کاغذ میں لکھی لکھائی کتاب بھی اتار دیتے اور لوگ اسے اپنے ہاتھوں سے چُھوکر بھی دیکھ لیتے تب بھی جنھوں نے حق کا انکار کیا ہے وہ یہی کہتے کہ یہ تو صریح جادُو ہے۔

کہتے ہیں کہ اس نبی پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اُتارا گیا۔ 5اگر کہیں ہم نے فرشتہ اُتار دیا ہوتا تو اب تک کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا، پھر انہیں کوئی مُہلت نہ دی جاتی۔6

اور اگر ہم فرشتے کو اُتارتے تب بھی اسے انسانی شکل ہی میں اُتارتے اور اس طرح انہیں اُسی شبہ میں مُبتلا کر دیتے جس میں اب یہ مبتلا ہیں۔7

اے محمدؐ، تم سے پہلے بھی بہت سے رسُولوں کا مذاق اُڑایا جاچکا ہے، مگر ان مذاق اُڑانے والوں پر آخر کار وہی حقیقت مسلّط ہو کر رہی جس کا وہ مذاق اُڑاتے تھے۔ ؏۱

11-20

اِن سے کہو، ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ہے۔8

ان سے پوچھو، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کا ہے؟ ۔۔۔۔ کہو سب کچھ اللہ ہی کا ہے،9 اس نے رحم و کرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کرلیا ہے (اسی لیے وہ نافرمانیوں اور سرکشیوں پر تمہیں جلدی سے نہیں پکڑ لیتا) قیامت کے روز وہ تم سب کو ضرور جمع کرے گا، یہ بالکل ایک غیر مشتبہ حقیقت ہے، مگر جن لوگوں نے اپنے آپ کو خود تباہی کے خطرے میں مُبتلا کرلیا ہے وہ اسے نہیں مانتے۔

رات کے اندھیرے اور دن کے اُجالے میں جو کچھ ٹھیرا ہُوا ہے، سب اللہ کا ہے اور وہ سب کچھ سُنتا اور جانتا ہے،

کہو، اللہ کو چھوڑ کر کیا میں کسی اور کو اپنا سرپرست بنالوں؟ اُس خدا کو چھوڑ کر جو زمین و آسمان کا خالق ہے اور جو روزی دیتا ہے روزی لیتا نہیں ہے؟10کہو مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں اُس کے آگے سرِ تسلیم خم کروں (اور تاکید کی گئی ہے کہ کوئی شرک کرتا ہے تو کرے) تُو بہرحال مشرکوں میں شامل نہ ہو۔

کہو، اگر میں اپنے ربّ کی نافرمانی کروں تو ڈرتا ہوں کہ ایک بڑے (خوفناک) دن مجھے سزا بھگتنی پڑے گی۔

اُس دن جو سزا سے بچ گیا اس پر اللہ نے بڑا ہی رحم کیا اور یہی نمایاں کامیابی ہے۔

اگر اللہ تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو تمہیں اس نقصان سے بچاسکے، اور اگر وہ تمہیں کسی بھلائی سے بہرہ مند کرے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

وہ اپنے بندوں پر کامل اختیارات رکھتا ہے اور دانا اور باخبر ہے۔

ان سے پوچھو، کس کی گواہی سب سے بڑھ کر ہے؟ ۔۔۔۔ کہو، میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے،11 اور یہ قرآن میری طرف بذریعہ وحی بھیجا گیا ہے تاکہ تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے، سب کو متنبّہ کردُوں۔ کیا واقعی تم لوگ یہ شہادت دے سکتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دُوسرے خدا بھی ہیں؟12 کہو، میں تو اس کی شہادت ہرگز نہیں دے سکتا۔13 کہو، خدا تو وہی ایک ہے اور میں اُس شرک سے قطعی بیزار ہوں جس میں تم مبتلا ہو ۔

جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس بات کو اس طرح غیر مشتبہ طور پر پہچانتے ہیں جیسے ان کو اپنے بیٹوں کے پہچاننے میں کوئی اشتباہ پیش نہیں آتا۔14 مگر جنہوں نے اپنے آپ کو خود خسارے میں ڈال دیا ہے وہ اِسے نہیں مانتے۔ ؏۲

21-30

اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان لگائے،15 یا اللہ کی نشانیوں کو جھٹلائے؟16 یقیناً ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پاسکتے۔

جس روز ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے اور مشرکوں سے پوچھیں گے کہ اب وہ تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریک کہاں ہیں جن کو تم اپنا خدا سمجھتے تھے

تو وہ اِس کے سوا کوئی فتنہ نہ اُٹھا سکیں گے کہ (یہ جھوٹا بیان دیں کہ) اے ہمارے آقا! تیری قسم ہم ہرگز مشرک نہ تھے۔

دیکھو، اُس وقت یہ کس طرح اپنے اوپر آپ جھوٹ گھڑیں گے، اور وہاں اُن کے سارے بناوٹی معبود گم ہوجائیں گے۔

ان میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو کان لگا کر تمہاری بات سُنتے ہیں مگر حال یہ ہے کہ ہم نے اُن کے دلوں پر پردے ڈال رکھے ہیں جن کی وجہ سے وہ اس کو کچھ نہیں سمجھتے اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دی ہے (کہ سب کچھ سننے پر بھی کچھ نہیں سنتے)17۔ وہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں، اس پر ایمان لاکر نہ دیں گے۔ حد یہ ہے کہ جب وہ تمہارے پاس آکر تم سے جھگڑتے ہیں تو ان میں سے جن لوگوں نے انکار کا فیصلہ کرلیا ہے وہ(ساری باتیں سننے کے بعد) یہی کہتے ہیں کہ یہ ایک داستانِ پارینہ کے سوا کچھ نہیں۔18

وہ اس امر حق کو قبول کرنے سے لوگوں کو روکتے ہیں اور خود بھی اس سے دُور بھاگتے ہیں۔ (وہ سمجھتے ہیں کہ اس حرکت سے وہ تمہارا کچھ بگاڑ رہے ہیں) حالانکہ دراصل وہ خود اپنی ہی تباہی کا سامان کر رہے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔

کاش تم اس وقت کی حالت دیکھ سکتے جب وہ دوزخ کے کنارے کھڑے کیے جائیں گے۔ اس وقت وہ کہیں گے کہ کاش کوئی صُورت ایسی ہو کہ ہم دنیا میں پھر واپس بھیجے جائیں اور اپنے ربّ کی نشانیوں کو نہ جھٹلائیں اور ایمان لانے والوں میں شامل ہوں۔

درحقیقت یہ بات وہ محض اس وجہ سے کہیں گے کہ جس حقیقت پر انہوں نے پردہ ڈال رکھا تھا وہ اس وقت بے نقاب ہو کر ان کے سامنے آچکی ہوگی،19 ورنہ اگر انہیں سابق زندگی کی طرف واپس بھیجا جائے تو پھر وہی سب کچھ کریں جس سے انہیں منع کیا گیا ہے،وہ تو ہیں ہی جھوٹے (اس لیے اپنی اس خواہش کے اظہار میں بھی جھوٹ ہی سے کام لیں گے)۔

آج یہ لوگ کہتے ہیں کہ زندگی جو کچھ بھی ہے بس یہی دنیا کی زندگی ہے اور ہم مرنے کے بعد ہرگز دوبارہ نہ اٹھائے جائیں گے۔

کاش وہ منظر تم دیکھ سکو جب یہ اپنے ربّ کے سامنے کھڑے کیے جائیں گے۔ اس وقت ان کا ربّ ان سے پوچھے گا ”کیا یہ حقیقت نہیں ہے؟“ یہ کہیں گے ”ہاں اے ہمارے ربّ!یہ حقیقت ہی ہے“۔ وہ فرمائے گا ”اچھا! تو اب اپنے انکارِ حقیقت کی پاداش میں عذاب کا مزا چکھو “۔ ؏۳

31-41

نقصان میں پڑگئے وہ لوگ جنہوں نے اللہ سے اپنی ملاقات کی اطلاع کو جُھوٹ قرار دیا۔ جب اچانک وہ گھڑی آجائے گی تو یہی لوگ کہیں گے ”افسوس! ہم سے اس معاملہ میں کیسی تقصیر ہُوئی“۔ اور اِن کا حال یہ ہوگا کہ اپنی پیٹھوں پر اپنے گناہوں کا بوجھ لادے ہوئے ہوں گے۔ دیکھو! کیسا بُرا بوجھ ہے جو یہ اُٹھارہے ہیں۔

دُنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور ایک تماشا ہے،20 حقیقت میں آخرت ہی کا مقام اُن لوگوں کے لیے بہتر ہے جو زیاں کاری سے بچنا چاہتے ہیں، پھر کیا تم لوگ عقل سے کام نہ لو گے؟

اے محمدؐ ! ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان سے تمہیں رنج ہوتا ہے، لیکن یہ لوگ تمہیں نہیں جھٹلاتے بلکہ یہ ظالم دراصل اللہ کی آیات کا انکار کر رہے ہیں۔21

تم سے پہلے بھی بہت سے رسُول جھٹلائے جاچکے ہیں، مگر اس تکذیب پر اور اُن اذیّتوں پر جو انہیں پہنچائی گئیں، انہوں نے صبر کیا، یہاں تک کہ انہیں ہماری مدد پہنچ گئی۔ اللہ کی باتوں کو بدلنے کی طاقت کسی میں نہیں ہے،22 اور پچھلے رسُولوں کے ساتھ جو کچھ پیش آیا اس کی خبریں تمہیں پہنچ ہی چکی ہیں۔

تاہم اگر ان لوگوں کی بے رخی تم سے برداشت نہیں ہوتی تو اگر تم میں کچھ زور ہے تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈو یا آسمان میں سیڑھی لگاوٴ اور ان کے پاس کوئی نشانی لانے کی کوشش کرو۔23اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کرسکتا تھا، لہٰذا نادان مت بنو۔24

دعوتِ حق پر لبیک وہی لوگ کہتے ہیں جو سُننے والے ہیں، رہے مُردے،25 تو انہیں تو اللہ بس قبروں ہی سے اُٹھائے گا اور پھر وہ (اس کی عدالت میں پیش ہونے کے لیے) واپس لائے جائیں گے۔

یہ لوگ کہتے ہیں کہ اِس نبی پر اس کے ربّ کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہیں اُتری؟ کہو، اللہ نشانی اتارنے کی پُوری قدرت رکھتا ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ نادانی میں مُبتلا ہیں۔26

زمین میں چلنے والے کسی جانور اور ہوا میں پروں سے اُڑنے والے کسی پرندے کو دیکھ لو، یہ سب تمہاری ہی طرح کی انواع ہیں، ہم نے ان کی تقدیر کے نوشتے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے، پھر یہ سب اپنے ربّ کی طرف سمیٹے جاتے ہیں۔

مگر جو لوگ ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں وہ بہرے اور گونگے ہیں، تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہیں۔27 اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھے رستے پر لگا دیتا ہے۔28

ان سے کہو، ذرا غور کرکے بتاوٴ، اگر کبھی تم پر اللہ کی طرف سے کوئی بڑی مصیبت آجاتی ہے یا آخری گھڑی آپہنچتی ہے تو کیا اس وقت تم اللہ کے سوا کسی اور کو پُکارتے ہو؟ بولو اگر تم سچّے ہو۔

اس وقت تم اللہ ہی کو پُکارتے ہو، پھر اگر وہ چاہتا ہے تو اس مصیبت کو تم پر سے ٹال دیتا ہے۔ ایسے موقعوں پر تم اپنے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کو بُھول جاتے ہو۔29 ؏۴

42-50

تم سے پہلے بہت سی قوموں کی طرف ہم نے رسُول بھیجے اور اُن قوموں کو مصائب و آلام میں مبتلا کیا تاکہ وہ عاجزی کے ساتھ ہمارے سامنے جُھک جائیں۔

پس جب ہماری طرف سے ان پر سختی آئی تو کیوں نہ انہوں نے عاجزی اختیار کی؟ مگر ان کے دل تو اَور سخت ہوگئے اور شیطان نے ان کو اطمینان دلایا کہ جو کچھ تم کر رہے ہو خوب کر رہے ہو۔

پھر جب انہوں نے اس نصیحت کو، جو انہیں کی گئی تھی، بُھلا دیا تو ہم نے ہر طرح کی خوشحالیوں کے دروازے ان کے لیے کھول دیے، یہاں تک کہ جب وہ اُن بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں خوب مگن ہوگئے تو اچانک ہم نے انہیں پکڑ لیا اور اب حال یہ تھا کہ وہ ہر خیر سے مایوس تھے۔

اس طرح ان لوگوں کی جڑ کاٹ کر رکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا اور تعریف ہے اللہ ربّ العالمین کے لیے (کہ اس نے ان کی جڑ کاٹ دی)۔

اے محمد ؐ ! ان سے کہو، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر اللہ تمہاری بینائی اور سماعت تم سے چھین لے اور تمہارے دلوں پر مُہر کردے 30 تو اللہ کے سوا اور کونسا خدا ہے جو یہ قوتیں تمہیں واپس دلاسکتا ہو؟ دیکھو، کس طرح ہم بار بار اپنی نشانیاں ان کے سامنے پیش کرتے ہیں اور پھر یہ کس طرح ان سے نظر چُرا جاتے ہیں۔

کہو، کبھی تم نے سوچا کہ اگر اللہ کی طرف سے اچانک یا اعلانیہ تم پر عذاب آجائے تو کیا ظالم لوگوں کے سوا کوئی اور ہلاک ہوگا؟

ہم جو رسُول بھیجتے ہیں اسی لیے تو بھیجتے ہیں کہ وہ نیک کردار لوگوں کے لیے خوشخبری دینے والے اور بد کرداروں کے لیے ڈرانے والے ہوں۔ پھر جو لوگ ان کی بات مان لیں اور اپنے طرزِ عمل کی اصلاح کرلیں ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے۔

اور جو ہماری آیات کو جھٹلائیں وہ اپنی نافرمانیوں کی پاداش میں سزا بھگت کر رہیں گے۔

اے محمد ؐ ! ان سے کہو، ”میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں۔ نہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں، اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف اُس وحی کی پیروی کرتا ہو جو مجھ پر نازل کی جاتی ہے“۔31 پھر ان سے پوچھو کیا اندھا اور آنکھوں والا دونوں برابر ہو سکتے ہیں؟32کیا تم غور نہیں کرتے؟ ؏۵

51-55

اے محمدؐ! تم اِس (علم وحی) کے ذریعہ سے اُن لوگوں کو نصیحت کرو جو اس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ اپنے ربّ کے سامنے کبھی اس حال میں پیش کیے جائیں گے کہ اُس کے سوا وہاں کوئی (ایسا ذی اقتدار) نہ ہوگا جو ان کا حامی و مددگار ہو، یا ان کی سفارش کرے، شاید کہ (اس نصیحت سے متنبّہ ہو کر)وہ خداترسی کی روش اختیار کرلیں۔ 33

اور جو لوگ اپنے ربّ کو رات دن پکارتے رہتے ہیں اور اس کی خوشنودی کی طلب میں لگے ہوئے ہیں انہیں اپنے سے دُور نہ پھینکو۔ 34اُن کے حساب میں سے کسی چیز کا بار تم پر نہیں ہے اور تمہارے حساب میں سے کسی چیز کا بار اُن پر نہیں۔ اس پر بھی اگر تم انہیں دُور پھینکو گے تو ظالموں میں شمار ہو گے۔35

دراصل ہم نے اس طرح ان لوگوں میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ سے آزمائش میں ڈالا ہے36تاکہ وہ انہیں دیکھ کر کہیں ”کیا یہ ہیں وہ لوگ جن پر ہمارے درمیان اللہ کا فضل و کرم ہوا ہے“؟ ۔۔۔۔ ہاں! کیا خدا اپنے شکر گزار بندوں کو اِن سے زیادہ نہیں جانتا ہے ؟

جب تمہارے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہو ”تم پر سلامتی ہے۔ تمہارے رب نے رحم و کرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کرلیا ہے۔ یہ اس کا رحم و کرم ہی ہے کہ اگر تم میں سے کوئی نادانی کے ساتھ کسی بُرائی کا ارتکاب کر بیٹھا ہو پھر اس کے بعد توبہ کرے اور اصلاح کرلے تو وہ اُسے معاف کردیتا ہے اور نرمی سے کام لیتا ہے“37

اور اس طرح ہم اپنی نشانیاں کھول کھول کر پیش کرتے ہیں تاکہ مجرموں کی راہ بالکل نمایاں ہوجائے۔38؏۶

56-60

اے محمد ؐ ، اِن سے کہو کہ تم لوگ اللہ کے سِوا جن دُوسروں کو پکارتے ہو اُن کی بندگی کرنے سے مجھے منع کیا گیا ہے۔ کہو، میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کروں گا، اگر میں نے ایسا کیا تو گمراہ ہو گیا، راہِ راست پانے والوں میں سے نہ رہا۔

کہو، میں اپنے رب کی طرف سے ایک دلیل روشن پر قائم ہوں اور تم نے اسے جھٹلا دیا ہے، اب میرے اختیار میں وہ چیز ہے نہیں جس کے لیے تم جلدی مچارہے ہو،39فیصلہ کا سارا اختیار اللہ کو ہے، وہی امرِ حق بیان کرتا ہے اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔

کہو، اگر کہیں وہ چیز میرے اختیار میں ہوتی جس کی تم جلدی مچارہے ہو تو میرے اور تمہارے درمیان کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا۔ مگر اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ ظالموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جانا چاہیے۔

اُسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ بحر و بر میں جو کچھ ہے سب سے وہ واقف ہے۔ درخت سے گرنے والا کوئی پتہ ایسا نہیں جس کا اسے علم نہ ہو۔ زمین کے تاریک پردوں میں کوئی دانہ ایسا نہیں جس سے وہ باخبر نہ ہو۔ خشک و تر سب کچھ ایک کھلی کتاب میں لکھا ہوٴا ہے۔

وہی ہے جو رات کو تمہاری رُوحیں قبض کرتا ہے اور دن کو جو کچھ تم کرتے ہو اسے جانتا ہے، پھر دُوسرے روز وہ تمہیں اِسی کاروبار کے عالم میں واپس بھیج دیتا ہے تاکہ زندگی کی مقرر مدّت پوری ہو۔ آخرکار اسی کی طرف تمہاری واپسی ہے، پھر وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔ ؏۷

61-70

اپنے بندوں پر وہ پُوری قدرت رکھتا ہے اور تم پر نگرانی کرنے والے مقرر کرکے بھیجتا ہے،40 یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی مَوت کا وقت آجاتا ہے تو اس کے بھیجے ہوئے فرشتے اس کی جان نکال لیتے ہیں اور اپنا فرض انجام دینے میں ذرا کوتاہی نہیں کرتے۔

پھر سب کے سب اللہ، اپنے حقیقی آقا کی طرف واپس لائے جاتے ہیں۔ خبردار ہوجاوٴ، فیصلہ کے سارے اختیارات اسی کو حاصِل ہیں اور وہ حساب لینے میں بہت تیز ہے۔

اے محمد ؐ ! اِن سے پوچھو، صَحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں کون تمہیں خطرات سے بچاتا ہے؟ کون ہے جس سے تم (مصیبت کے وقت) گِڑ گِڑا گِڑ گِڑا کر اور چُپکے چُپکے دُعائیں مانگتے ہو؟ کس سے کہتے ہو کہ اگر اس بلا سے تُو نے ہم کو بچالیا تو ہم ضرور شکر گزار ہوں گے؟

۔۔۔۔ کہو، اللہ تمہیں اُس سے اور ہر تکلیف سے نجات دیتا ہے پھر تم دُوسروں کو اُس کا شریک ٹھیراتے ہو۔41

کہو، وہ اِس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اُوپر سے نازل کردے، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپا کردے، یا تمہیں گروہوں میں تقسیم کرکے ایک گروہ کو دُوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوا دے۔ دیکھو، ہم کس طرح بار بار مختلف طریقوں سے اپنی نشانیاں ان کے سامنے پیش کر رہے ہیں شاید کہ یہ حقیقت کو سمجھ لیں۔42

تمہاری قوم اُس کا انکار کر رہی ہے حالانکہ وہ حقیقت ہے۔ اِن سے کہہ دو کہ میں تم پر حوالہ دار نہیں بنایا گیا ہوں،43

ہر خبر کے ظہور میں آنے کا ایک وقت مقرر ہے، عنقریب تم کو خود انجام معلوم ہوجائے گا۔

اور اے محمد ؐ ، جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری آیات پر نکتہ چینیاں کر رہے ہیں تو ان کے پاس سے ہٹ جاوٴ یہاں تک کہ وہ اس گفتگو کو چھوڑ کر دُوسری باتوں میں لگ جائیں۔ اور اگر کبھی شیطان تمہیں بھُلاوے میں ڈال دے44 تو جس وقت تمہیں اس غلطی کا احساس ہوجائے اس کے بعد پھر ایسے ظالم لوگوں کے پاس نہ بیٹھو۔

اُن کے حساب میں سے کسی چیز کی ذمّہ داری پرہیز گار لوگوں پر نہیں ہے، البتّہ نصیحت کرنا اُن کا فرض ہے شاید کہ وہ غلط روی سے بچ جائیں۔45

چھوڑو اُن لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنا رکھا ہے اور جنہیں دنیا کی زندگی فریب میں مبتلا کیے ہوئے ہے۔ ہاں مگر یہ قرآن سُناکر نصیحت اور تنبیہ کرتے رہو کہ کہیں کوئی شخص اپنے کیے کرتُوتوں کے وبال میں گرفتار نہ ہو جائے، اور گرفتار بھی اِس حال میں ہو کہ اللہ سے بچانے والا کوئی حامی و مددگار اور کوئی سفارشی اس کے لیے نہ ہو، اور اگر وہ ہر ممکن چیز فدیہ میں دے کر چھُوٹنا چاہے تو وہ بھی اس سے قبول نہ کی جائے، کیونکہ ایسے لوگ تو خود اپنی کمائی کے نتیجہ میں پکڑے جائیں گے، ان کو تو اپنے انکار حق کے معاوضہ میں کھولتا ہوا پانی پینے کو اور دردناک عذاب بھگتنے کو ملے گا۔ ؏۸

71-82

اے محمد ؐ! اِن سے پُوچھو کیا ہم اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پُکاریں جو نہ ہمیں نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان؟ اور جبکہ اللہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا چکا ہے تو کیا اب ہم اُلٹے پاوٴں پھر جائیں؟ کیا ہم اپنا حال اُس شخص کا سا کرلیں جسے شیطانوں نے صحرا میں بھٹکا دیا ہو اور وہ حیران و سر گردان پھر رہا ہو دراں حالیکہ اس کے ساتھی اسے پکار رہے ہوں کہ اِدھر آ یہ سیدھی راہ موجود ہے؟ کہو، حقیقت میں صحیح رہنمائی تو صرف اللہ ہی کی رہنمائی ہے اور اس کی طرف سے ہمیں یہ حکم ملا ہے کہ مالک کائنات کے آگے سرِ اطاعت خم کردو،

نماز قائم کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو، اسی کی طرف تم سمیٹے جاوٴ گے۔

وہی ہے جس نے آسمان و زمین کو برحق پیدا کیا ہے۔46 اور جس دن وہ کہے گا کہ حشر ہوجائے اسی دن وہ ہوجائے گا۔ اس کا ارشاد عین حق ہے۔ اور جس روز صُور پھونکا جائیگا47 اس روز پادشاہی اُسی کی ہوگی،48 وہ غیب اور شہادت49 ہر چیز کا عالم ہے اور دانا اور باخبر ہے۔

ابراہیمؑ کاواقعہ یاد کرو جبکہ اُس نے اپنے باپ آزر سے کہا تھا ”کیا تُو بتوں کو خدا بناتا ہے؟50میں تو تجھے اور تیری قوم کو کُھلی گمراہی میں پاتا ہوں“۔

ابراہیمؑ کو ہم اِسی طرح زمین اور آسمانوں کا نظامِ سلطنت دکھاتے تھے51 اور اس لیے دکھاتے تھے کہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے۔52

چنانچہ جب رات اس پر طاری ہوئی تو اُس نے ایک تارا دیکھا۔ کہا یہ میرا رب ہے۔ مگر جب وہ ڈوب گیا تو بولا ڈوب جانے والوں کا تو میں گرویدہ نہیں ہوں۔

پھر جب چاند چمکتا نظر آیا تو کہا یہ ہے میرا رب۔ مگر جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہا اگر میرے رب نے میری رہنمائی نہ کی ہوتی تو میں بھی گمراہ لوگوں میں شامل ہوگیا ہوتا۔

پھر جب سورج کو روشن دیکھا تو کہا یہ ہے میرا رب، یہ سب سے بڑا ہے۔ مگر جب وہ بھی ڈوبا تو ابراہیم ؑ پکار اُٹھا ”اے برادران ِقوم ! میں اُن سب سے بیزار ہوں جنہیں تم خدا کا شریک ٹھیراتے ہو ۔53

میں نے تو یکسُو ہو کر اپنا رُخ اُس ہستی کی طرف کرلیا جس نے زمین اور آسمانون کو پیدا کیا ہے اور میں ہرگز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔“

اس کی قوم اس سے جھگڑنے لگی تو اس نے قوم سے کہا ”کیا تم لوگ اللہ کے معاملے میں مجھ سے جھگڑتے ہو؟ حالانکہ اس نے مجھے راہِ راست دکھادی ہے۔ اور میں تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں سے نہیں ڈرتا، ہاں اگر میرا رب کچھ چاہے تو وہ ضرور ہوسکتا ہے۔ میرے رب کا عِلم ہر چیز پر چھایا ہوٴا ہے، پھر کیا تم ہوش میں نہ آوٴ گے؟54

اور آخر میں تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں سے کیسے ڈروں جبکہ تم اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو خدائی میں شریک بناتے ہوئے نہیں ڈرتے جن کے لیے اس نے تم پر کوئی سند نازل نہیں کی ہے؟ ہم دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بے خوفی و اطمینان کا مستحق ہے؟ بتاوٴ اگر تم کچھ علم رکھتے ہو۔

حقیقت میں تو امن انہی کے لیے ہے اور راہِ راست پر وہی ہیں جو ایمان لائے اور جنھوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ آلودہ نہیں کیا “۔55 ؏۹

83-90

یہ تھی ہماری وہ حجّت جو ہم نے ابراہیم ؑ کو اس کی قوم کے مقابلہ میں عطا کی۔ ہم جسے چاہتے ہیں بلند مرتبے عطا کرتے ہیں۔ حق یہ ہے کہ تمہارا رب نہایت دانا اور علیم ہے۔

پھر ہم نے ابراہیمؑ کو اسحاقؑ اور یعقوبؑ جیسی اولاد دی اور ہر ایک کو راہِ راست دکھائی۔ (وہی راہِ راست جو) اس سے پہلے نوح ؑ کو دکھائی تھی۔ اور اُسی کی نسل سے ہم نے داوٴدؑ ، سلیمانؑ ، ایّوبؑ ، یوسفؑ ، موسیؑ اور ہارونؑ کو (ہدایت بخشی)۔ اِس طرح ہم نیکو کاروں کو ان کی نیکی کا بدلہ دیتے ہیں۔

(اُسی کی اولاد سے) زکریاؑ ، یحیٰی ؑ ، عیسٰی ؑ اور الیاسؑ کو (راہ یاب کیا)۔ ہر ایک ان میں سے صالح تھا۔

(اسی کے خاندان سے) اسماعیلؑ ، الیسعؑ ، اور یونسؑ اور لوطؑ کو (راستہ دکھایا)۔ اِن میں سے ہر ایک کو ہم نے تمام دُنیا والوں پر فضیلت عطا کی۔

نیز ان کے آباو اجداد اور ان کی اولاد اور ان کے بھائی بندوں میں سے بہتوں کو ہم نے نوازا، انہیں اپنی خدمت کے لیے چُن لیا اور سیدھے راستے کی طرف ان کی رہنمائی کی۔

یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے۔ لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا کرایا غارت ہوجاتا۔56

وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تھی۔ 57اب اگر یہ لوگ اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو (پروا نہیں) ہم نے کچھ اور لوگوں کو یہ نعمت سونپ دی ہے جو اس سے منکر نہیں ہیں۔58

اے محمد ؐ ! وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے، انہی کے راستہ پر تم چلو، اور کہہ دو کہ میں (اس تبلیغ و ہدایت کے) کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، یہ تو ایک عام نصیحت ہے تمام دنیا والوں کے لیے۔ ؏۱۰

91-94

ان لوگوں نے اللہ کا بہت غلط اندازہ لگایا جب کہا کہ اللہ نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا ہے۔59ان سے پوچھو، پھر وہ کتاب جسے موسیٰؑ لایا تھا ، جو تمام انسانوں کے لیے روشنی اور ہدایت تھی، جسے تم پارہ پارہ کرکے رکھتے ہو، کچھ دکھاتے ہو اور بہت کچھ چُھپا جاتے ہو ، اور جس کے ذریعہ سے تم کو وہ علم دیا گیا جو نہ تمہیں حاصل تھا اور نہ تمہارے باپ دادا کو، آخر اُس کا نازل کرنے والا کون تھا؟ ۔۔۔۔60بس اتنا کہہ دو کہ اللہ، پھر اُنہیں اپنی دلیل بازیوں سے کھیلنے کے لیے چھوڑدو۔

(اُسی کتاب کی طرح) یہ ایک کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیا ہے۔ بڑی خیر و برکت والی ہے۔ اُس چیز کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے آئی تھی۔ اور اس لیے نازل کی گئی ہے کہ اس کے ذریعہ سے تم بستیوں کے اس مرکز (یعنی مکّہ) اور اس کے اطراف میں رہنے والوں کو متنبہ کرو۔ جو لوگ آخرت کو مانتے ہیں وہ اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں۔61

اور اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جُھوٹا بہتان گھڑے، یا کہے کہ مجھ پر وحی آئی ہے درآں حالے کہ اس پر کوئی وحی نازل نہ کی گئی ہو، یا جو اللہ کی نازل کردہ چیز کے مقابلہ میں کہے کہ میں بھی ایسی چیز نازل کرکے دکھادوں گا ؟ کاش تم ظالموں کو اس حالت میں دیکھ سکو جب کہ وہ سکراتِ موت میں ڈبکیاں کھا رہے ہوتے ہیں اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ”لاوٴ، نِکالو اپنی جان، آج تمہیں اُن باتون کی پاداش میں ذِلّت کا عذاب دیا جائے گا جو تم اللہ پر تہمت رکھ کر ناحق بکا کرتے تھے اور اُس کی آیات کے مقابلہ میں سرکشی دکھاتے تھے“۔

(اور اللہ فرمائے گا) لو اب تم ویسے ہی تنِ تنہا ہمارے سامنے حاضر ہوگئے جیسا ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ اکیلا پیدا کیا تھا، جو کچھ ہم نے تمہیں دُنیا میں دی تھا وہ سب تم پیچھے چھوڑ آئے ہو، اور اب ہم تمہارے ساتھ تمہارے اُن سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کے متعلق تم سمجھتے تھے کہ تمہارے کام بنانے میں ان کا بھی کچھ حصّہ ہے، تمہارے آپس کے سب رابطے ٹوٹ گئے اور وہ سب تم سے گم ہوگئے جن کا تم زعم رکھتے تھے۔ ؏۱۱

95-100

دانے اور گھٹلی کو پھاڑنے والا اللہ ہے۔62 وہی زندہ کو مُردہ سے نکالتا ہے اور وہی مُردہ کو زندہ سے خارج کرتا ہے۔63یہ سارے کام تو کرنے والا اللہ ہے، پھر تم کدھر بہکے چلے جا رہے ہو؟

پردہٴ شب کو چاک کرکے وہی صبح نکالتا ہے۔ اُسی نے رات کو سکون کا وقت بنایا ہے اُسی نے چاند اور سُورج کے طلوُع و غروب کا حساب مقرّر کیا ہے۔ یہ سب اُسی زبردست قدرت اور علم رکھنے والے کے ٹھیرائے ہوئے اندازے ہیں۔

اور وہی ہے جس نے تمہارے لیے تاروں کو صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں راستہ معلوم کرنے کا ذریعہ بنایا۔ دیکھو ہم نے نشانیاں کھول کر بیان کر دی ہیں اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔64

اور وہی ہے جس نے ایک مُتنفّس سے تم کو پیدا کیا 65پھر ہر ایک کے لیے ایک جائے قرار ہے اور ایک اس کے سونپے جانے کی جگہ۔ یہ نشانیاں ہم نے واضح کردی ہیں اُن لوگوں کے لیے جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔66

اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کے ذریعہ سے ہر قسم کی نباتات اُگائی، پھر اس سے ہرے ہرے کھیت اور درخت پیدا کیے، پھر ان سے تہ بر تہ چڑھے ہوئے دانے نکالے اور کھجور کے شگوفوں سے پھلوں کے گچھے کے گچھے پیدا کیے جو بوجھ کے مارے جُھکے پڑتے ہیں، اور انگور، زیتون اور انار کے باغ لگائے جن کے پھل ایک دُوسرے سے ملتے جُلتے بھی ہیں اور پھر ہر ایک کی خصُوصیات جُدا جُدا بھی ہیں۔ یہ درخت جب پھلتے ہیں تو ان میں پَھل آنے اور پھر اُن کے پکنے کی کیفیت ذرا غور کی نظر سے دیکھو، اِن چیزوں میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔

اِس پر بھی لوگوں نے جنوں کو اللہ کا شریک ٹھیرا دیا،67حالانکہ وہ اُن کا خالق ہے، اور بے جانے بوجھے اس کے لیے بیٹے اور بیٹیاں تصنیف کر دیں،68حالانکہ وہ پاک اور بالاتر ہے اُن باتوں سے جو یہ لوگ کہتے ہیں۔ ؏۱۲

101-110

وہ تو آسمانوں اور زمین کا موجد ہے۔ اس کا کوئی بیٹا کیسے ہوسکتا ہے جبکہ کوئی اس کی شریک زندگی ہی نہیں ہے۔ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا ہے اور وہ ہر چیز کا عِلم رکھتا ہے۔

یہ ہے اللہ تمہارا رب، کوئی خدا اس کے سوا نہیں ہے، ہر چیز کا خالق، لہذا تم اسی کی بندگی کرو اور وہ ہر چیز کا کفیل ہے۔

نگاہیں اس کو نہیں پاسکتیں اور وہ نگاہوں کو پالیتا ہے، وہ نہایت باریک بیں اور باخبر ہے۔

دیکھو، تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے بصیرت کی روشنیاں آگئی ہیں، اب جو بینائی سے کام لے گا اپنا ہی بھلا کرے گا اور جو اندھا بنے گا خود نقصان اُٹھائے گا، میں تم پر کوئی پاسبان نہیں ہوں۔69

اِس طرح ہم اپنی آیات کو بار بار مختلف طریقوں سے بیان کرتے ہیں اور اس لیے کرتے ہیں کہ یہ لوگ کہیں تم کسی سے پڑھ آئے ہو، اور جو لوگ علم رکھتے ہیں ان پر ہم حقیقت کو روشن کردیں۔ 70

اے محمد ؐ! اُس وحی کی پیروی کیے جاوٴ جو تم پر تمہارے رب کی طرف سے نازل ہوئی ہے کیونکہ اُس ایک رب کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے۔ اور ان مشرکین کے پیچھے نہ پڑو۔

اگر اللہ کی مشیّت ہوتی تو (وہ خود ایسا بندوبست کرسکتا تھا کہ) یہ لوگ شرک نہ کرتے۔ تم کو ہم نے ان پر پاسبان مقرر نہیں کیا ہے اور نہ تم ان پر حوالہ دار ہو۔71

اور (اے ایمان لانے والو !) یہ لوگ اللہ کے سوا جن کو پکارتے ہیں انہیں گالیاں نہ دو، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بنا پر اللہ کو گالیاں دینے لگیں۔ 72 ہم نے تو اسی طرح ہر گروہ کے لیے اس کے عمل کو خوشنما بنادیا ہے،73 پھر انہیں اپنے رب ہی کی طرف پلٹ کر آنا ہے، اُس وقت وہ اُنہیں بتادے گا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں۔

یہ لوگ کڑی کڑی قسمیں کھا کھا کر کہتے ہیں کہ اگر کوئی نشانی 74ہمارے سامنے آجائے تو ہم اس پر ایمان لے آئیں گے۔ اے محمد ؐ ! ان سے کہو کہ ”نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں“۔75 اور تمہیں کیسے سمجھایا جائے کہ اگر نشانیاں آبھی جائیں تو یہ ایمان لانے والے نہیں۔76

ہم اُسی طرح ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیر رہے ہیں جس طرح یہ پہلی مرتبہ اس پر ایمان نہیں لائے تھے۔77ہم انہیں ان کی سرکشی ہی میں بھٹکنے کے لیے چھوڑے دیتے ہیں۔ ؏۱۳

111-121

[الجزء ۸]اگر ہم فرشتے بھی ان پر نازل کردیتے اور مُردے ان سے باتیں کرتے اور دنیا بھر کی چیزوں کو ہم ان کی آنکھوں کے سامنے جمع کردیتے تب بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے، اِلّا یہ کہ مشیَّتِ الٰہی یہی ہو کہ وہ ایمان لائیں،78 مگر اکثر لوگ نادانی کی باتیں کرتے ہیں۔

اور ہم نے تو اسی طرح ہمیشہ شیطان انسانون اور شیطان جِنوں کو ہر نبی کا دُشمن بنایا ہے جو ایک دُوسرے پر خوش آیند باتیں دھوکے اور فریب کے طور پر القا کرتے رہے ہیں۔79 اگر تمہارے رب کی مشیَّت یہ ہوتی کہ وہ ایسا نہ کریں تو وہ کبھی نہ کرتے۔ 80پس تم اُنہیں ان کے حال پر چھوڑ دو کہ اپنی افتراپردازیاں کرتے رہیں۔

(یہ سب کچھ ہم انہیں اسی لیے کرنے دے رہے ہیں کہ) جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اُن کے دل اِس (خوشنما دھوکے) کی طرف مائل ہوں اور وہ اس سے راضی ہوجائیں اور اُن بُرائیوں کا اِکتساب کریں جن کا اِکتساب وہ کرنا چاہتے ہیں

۔۔۔۔ پھر جب حال یہ ہے تو کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا تلاش کروں، حالانکہ اس نے پوری تفصیل کے ساتھ تمہاری طرف کتاب نازل کردی ہے؟81 اور جن لوگوں کو ہم نے (تم سے پہلے) کتاب دی تھی وہ جانتے ہیں کہ یہ کتاب تمہارے رب ہی کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے لہٰذا تم شک کرنے والوں میں شامل نہ ہو۔82

تمہارے رب کی بات سچائی اور انصاف کے اعتبار سے کامل ہے، کوئی اس کے فرامین کو تبدیل کرنے والا نہیں ہے اور وہ سب کچھ سُنتا اور جانتا ہے۔

اور اے محمد ؐ ! اگر تم اُن لوگوں کی اکثریّت کے کہنے پر چلو جو زمین میں بستے ہیں تو وہ تمہیں اللہ کے راستہ سے بھٹکا دیں گے۔ وہ تو محض گمان پر چلتے اور قیاس آرا ئیاں کرتے ہیں۔83

درحقیقت تمہارا رب زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کون اُس کے راستے سے ہٹا ہوٴا ہے اور کون سیدھی راہ پر ہے۔

پھر اگر تم لوگ اللہ کی آیات پر ایمان رکھتے ہو تو جس جانور پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اُس کا گوشت کھاوٴ۔84

آخر کیا وجہ ہے کہ تم وہ چیز نہ کھاوٴ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو، حالانکہ جن چیزوں کا استعمال حالتِ اضطرار کے سوا دُوسری تمام حالتوں میں اللہ نے حرام کردیا ہے اُن کی تفصیل وہ تمہیں بتا چکا ہے۔85بکثرت لوگوں کا حال یہ ہے کہ علم کے بغیر محض اپنی خواہشات کی بنا پر گمراہ کُن باتیں کرتے ہیں، ان حد سے گزرنے والوں کو تمہارا رب خوب جانتا ہے۔

تم کھلے گناہوں سے بھی بچو اور چُھپے گناہوں سے بھی، جو لوگ گناہ کا اکتساب کرتے ہیں وہ اپنی اس کمائی کا بدلہ پاکر رہیں گے۔

اور جس جانور کو اللہ کا نام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو اس کا گوشت نہ کھاوٴ، ایسا کرنا فسق ہے۔ شیاطین اپنے ساتھیوں کے دِلوں میں شکوک و اعتراضات القا کرتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا کریں۔ 86لیکن اگر تم نے اُن کی اطاعت قبول کرلی تو یقیناً تم مشرک ہو۔87 ؏۱۴

122-129

کیا وہ شخص جو پہلے مُردہ تھا پھر ہم نے اسے زندگی بخشی 88اور اس کو وہ روشنی عطا کی جس کے اُجالے میں وہ لوگوں کے درمیان زندگی کی راہ طے کرتا ہے اُس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہوا ہو اور کسی طرح اُن سے نہ نکلتا ہو؟89 کافروں کے لیے تو اسی طرح ان کے اعمال خوشنما بنادیے گئے ہیں،90

اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں اس کے بڑے بڑے مجرموں کو لگا دیا ہے کہ وہاں اپنے مکر و فریب کا جال پھیلائیں۔ دراصل وہ اپنے فریب کے جال میں آپ پھنستے ہیں، مگر اُنہیں اس کا شعور نہیں ہے۔

جب ان کے سامنے کوئی آیت آتی ہے تو وہ کہتے ہیں ”ہم نہ مانیں گے جب تک کہ وہ چیز خود ہم کو نہ دی جائے جو اللہ کے رسُولوں کو دی گئی ہے“۔91 اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ اپنی پیغامبری کا کام کس سے لے اور کس طرح لے۔ قریب ہے وہ وقت جب یہ مجرم اپنی مکّاریوں کی پاداش میں اللہ کے ہاں ذلّت اور سخت عذاب سے دوچار ہوں گے۔

پس (یہ حقیقت ہے کہ) جسے اللہ ہدایت بخشنے کا ارادہ کرتا ہے اُس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے92اور جسے گمراہی میں ڈالنے کا ارادہ کرتا ہے اُس کے سینے کو تنگ کردیتا ہے اور ایسا بھینچتا ہے کہ (اسلام کا تصوّر کرتے ہی) اُسے یوں معلوم ہونے لگتا ہے کہ گویا اس کی رُوح آسمان کی طرف پرواز کررہی ہے۔ اس طرح اللہ (حق سے فرار اور نفرت کی) ناپاکی اُن لوگوں پر مسلّط کردیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے،

حالانکہ یہ راستہ تمہارے رب کا سیدھا راستہ ہے اور اس کے نشانات اُن لوگوں کے لیے واضح کردیے گئے ہیں جو نصیحت قبول کرتے ہیں۔

اُن کے لیے اُن کے رب کے پاس سلامتی کا گھر ہے93اور وہ ان کا سرپرست ہے اُس صحیح طرزِ عمل کی وجہ سے جو انہوں نے اختیار کیا۔

جس روز اللہ ان سب لوگوں کو گھیر کر جمع کرے گا، اس روز وہ جِنوں 94سے خطاب کرکے فرمائے گا کہ ”اے گروہِ جِن! تم نے تو نوعِ انسانی پر خوب ہاتھ صاف کیا“۔ انسانوں میں سے جو اُن کے رفیق تھے وہ عرض کریں گے ”پروردگار ! ہم میں سے ہر ایک نے دُوسرے کو خوب استعمال کیا ہے،95 اور اب ہم اُس وقت پر آپہنچے ہیں جو تُو نے ہمارے لیے مقرر کردیا تھا“۔ اللہ فرمائے گا ”اچھا اب آگ تمہارا ٹھکانا ہے، اس میں تم ہمیشہ رہو گے“۔ اُس سے بچیں گے صرف وہی جنہیں اللہ بچانا چاہے گا، بیشک تمہارا رب دانا اور علیم ہے۔96

دیکھو، اس طرح ہم (آخرت میں) ظالموں کو ایک دُوسرے کا ساتھی بنائیں گے اُس کمائی کی وجہ سے جو وہ (دُنیا میں ایک دُوسرے کے ساتھ مِل کر) کرتے تھے۔ 97؏ ۱۵

130-140

(اس موقع پر اللہ ان سے یہ بھی پوچھے گا کہ) ”اے گروہِ جِن و انس ! کیا تمہارے پاس خود تم ہی میں سے وہ پیغمبر نہیں آئے تھے جو تم کو میری آیات سناتے اور اِس دن کے انجام سے ڈراتے تھے“؟ وہ کہیں گے ”ہاں ! ہم اپنے خلاف خود گواہی دیتے ہیں“۔98 آج دُنیا کی زندگی نے ان لوگوں کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے، مگر اُس وقت وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے۔ 99

(یہ شہادت اُن سے اس لیے لی جائے گی کہ یہ ثابت ہوجائے کہ) تمہارا رب بستیوں کو ظلم کے ساتھ تباہ کرنے والا نہ تھا جبکہ ان کے باشندے حقیقت سے ناواقف ہوں۔ 100

ہر شخص کا درجہ اُس کے عمل کے لحاظ سے ہے اور تمہارا رب لوگوں کے اعمال سے بےخبر نہیں ہے۔

تمہارا رب بے نیاز ہے اور مہربانی اس کا شیوہ ہے۔101 اگر وہ چاہے تو تم لوگوں کو لے جائے اور تمہاری جگہ دُوسرے جن لوگوں کو چاہے لے آئے جس طرح اُس نے تمہیں کچھ اور لوگوں کی نسل سے اُٹھایا ہے۔

تم سے جس چیز کا وعدہ کیا جارہا ہے وہ یقیناً آنے والی ہے102 اور تم خدا کو عاجز کردینے کی طاقت نہیں رکھتے۔

اے محمد ؐ !کہہ دو کہ لوگو !تم اپنی جگہ عمل کرتے رہو اور میں بھی اپنی جگہ عمل کررہا ہوں،103 عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ انجام کار کس کے حق میں بہتر ہوتا ہے، بہرحال یہ حقیقت ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاسکتے۔

ان لوگوں104 نے اللہ کے لیے خود اُسی کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور مویشیوں میں سے ایک حصّہ مقرر کیا ہے اور کہتے ہیں یہ اللہ کے لیے ہے، بزعمِ خود، اور یہ ہمارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں کے لیے۔105پھر جو حصّہ ان کے ٹھیرائے ہوے شریکوں کے لیے ہے وہ تو اللہ کو نہیں پہنچتا مگر جو اللہ کے لیے ہے وہ ان کے شریکوں کو پہنچ جاتا ہے۔106 کیسے بُرے فیصلے کرتے ہیں یہ لوگ !۔

اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لیے ان کے شریکوں نے اپنی اولاد کے قتل کو خوشنما بنادیا ہے107 تاکہ ان کو ہلاکت میں مُبتلا کریں108 اور ان پر ان کے دین کو مشتبہ بنادیں۔109 اگر اللہ چاہتا تو یہ ایسا نہ کرتے، لہٰذا انہیں چھوڑ دو کہ اپنی افتراپردازیوں میں لگے رہیں۔110

کہتے ہیں یہ جانور اور یہ کھیت محفوظ ہیں، انہیں صرف وہی لوگ کھاسکتے ہیں جنہیں ہم کھلانا چاہیں، حالانکہ یہ پابندی ان کی خود ساختہ ہے۔111 پھر کچھ جانور ہیں جن پر سواری اور بار برداری حرام کردی گئی ہے اور کچھ جانور ہیں جن پر اللہ کا نام نہیں لیتے112، اور یہ سب کچھ انہوں نے اللہ پر افترا کیا ہے،113 عنقریب اللہ انہیں ان افتراپردازیوں کا بدلہ دے گا۔

اور کہتے ہیں کہ جو کچھ ان جانوروں کے پیٹ میں ہے یہ ہمارے مردوں کے لیے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام، لیکن اگر وہ مُردہ ہو تو دونوں اس کے کھانے میں شریک ہوسکتے ہیں۔114یہ باتیں جو انہوں نے گھڑ لی ہیں ان کا بدلہ اللہ انہیں دے کر رہے گا۔ یقیناً وہ حکیم ہے اور سب باتوں کی اسے خبر ہے۔

یقیناً خسارے میں پڑگئے وہ لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو جہالت و نادانی کی بنا پر قتل کیا اور اللہ کے دیے ہوئے رزق کو اللہ پر افترا پردازی کرکے حرام ٹھیرالیا۔ یقیناً وہ بھٹک گئے اور ہرگز وہ راہِ راست پانے والوں میں سے نہ تھے۔ 115؏ ۱۶

141-144

وہ اللہ ہی ہے جس نے طرح طرح کے باغ اور تاکستان116اور نخلستان پیدا کیے، کھیتیاں اُگائیں جن سے قسم قسم کے ماکولات حاصل ہوتے ہیں، زیتون اور انار کے درخت پیدا کیے جن کے پھل صُورت میں مشابہ اور مزے میں مختلف ہوتے ہیں۔ کھاوٴ ان کی پیداوار جب کہ یہ پھلیں، اور اللہ کا حق ادا کرو جب ان کی فصل کاٹو، اور حد سے نہ گزرو کہ اللہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

پھر وہی ہے جس نے مویشیوں میں سے وہ جانور بھی پیدا کیے جن سے سواری و بار برداری کا کام لیا جاتا ہے اور وہ بھی جو کھانے اور بچھانے کے کام آتے ہیں۔117 کھاوٴ اُن چیزوں میں سے جو اللہ نے تمہیں بخشی ہیں اور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہارا کُھلا دشمن ہے۔118

یہ آٹھ نر و مادہ ہیں، دو بھیڑ کی قسم سے اور دو بکری کی قسم سے، اے محمد ؐ ! ان سے پُوچھو کہ اللہ نے اُن کے نر حرام کیے ہیں یا مادہ، یا وہ بچّے جو بھیڑوں اور بکریوں کے پیٹ میں ہوں؟ ٹھیک ٹھیک علم کے ساتھ مجھے بتاؤ اگر تم سچے ہو۔119

اور اسی طرح دو اُونٹ کی قسم سے ہیں اور دو گائے کی قسم سے۔ پوچھو، اِن کے نر اللہ نے حرام کیے ہیں یا مادہ، یا وہ بچّے جو اُونٹنی اور گائے کے پیٹ میں ہوں؟120کیا تم اُس وقت حاضر تھے جب اللہ نے ان کے حرام ہونے کا حکم تمہیں دیا تھا؟ پھر اُس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ کی طرف منسُوب کرکے جُھوٹی بات کہے تاکہ عِلم کے بغیر لوگوں کی غلط راہ نمائی کرے۔ یقیناً اللہ ایسے ظالموں کو راہِ راست نہیں دکھاتا۔ ؏ ۱۷

145-150

اے محمد ؐ ! ان سے کہو کہ جو وحی میرے پاس آئی ہے اس میں تو میں کوئی چیز ایسی نہیں پاتا جو کسی کھانے والے پر حرام ہو، اِلّا یہ کہ وہ مردار ہو، یا بہایا ہوا خون ہو، یا سُور کا گوشت ہو کہ وہ ناپاک ہے، یا فسق ہو کہ اللہ کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو۔121 پھر جو شخص مجبُوری کی حالت میں (کوئی چیز ان میں سے کھالے) بغیر اس کے کہ وہ نافرمانی کا ارادہ رکھتا ہو اور بغیر اس کے کہ وہ حدِ ضرورت سے تجاوز کرے، تو یقیناً تمہارا رب درگذر سے کام لینے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

اور جن لوگوں نے یہودیّت اختیار کی ان پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کردیے تھے، اور گائے اور بکری کی چربی بھی بجز اُس کے جو اُن کی پیٹھ یا اُن کی آنتوں سے لگی ہوئی ہو یا ہڈّی سے لگی رہ جائے۔ یہ ہم نے ان کی سرکشی کی سزا اُنہیں دی تھی122 اور یہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں بالکل سچ کہہ رہے ہیں۔

اب اگر وہ تمہیں جھٹلائیں تو ان سے کہہ دو کہ تمہارے رب کا دامن ِ رحمت وسیع ہے اور مجرموں سے اس کے عذاب کو پھیرا نہیں جاسکتا۔123

یہ مشرک لوگ (تمہاری ان باتوں کے جواب میں) ضرور کہیں گے کہ ”اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا، اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھیراتے“۔124 ایسی ہی باتیں بنا بنا کر اِن سے پہلے کے لوگوں نے بھی حق کو جھٹلایا تھا یہاں تک کہ آخر کار ہمارے عذاب کا مزا انہوں نے چکھ لیا۔ ان سے کہو ”کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے جسے ہمارے سامنے پیش کرسکو؟ تم تو محض گمان پر چل رہے ہو اور نری قیاس آرائیاں کرتے ہو“۔

پھر کہو (تمہاری اس حجّت کے مقابلہ میں) حقیقت رس حجت تو اللہ کے پاس ہے، بے شک اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا ۔125

ان سے کہو کہ ”لاوٴ اپنے وہ گواہ جو اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ ہی نے اِن چیزوں کو حرام کیا ہے“۔ پھر اگر وہ شہادت دے دیں تو تم ان کے ساتھ شہادت نہ دینا،126اور ہرگز اُن لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلنا جنھوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے، اور جو آخرت کے منکر ہیں، اور جو دُوسروں کو اپنے رب کا ہمسر بناتے ہیں۔ ؏۱۸

151-154

اے محمد ؐ! ان سے کہو کہ آوٴ میں تمہیں سُناوٴں تمہارے رب نے تم پر کیا پابندیاں عائد کی ہیں: 127
(۱) یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو،128
(۲) اور والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو،129
(۳) اور اپنی اولاد کو مُفلسی کے ڈر سے قتل نہ کرو، ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اور ان کو بھی دیں گے۔
(۴) اور بے شرمی کی باتوں کے قریب بھی نہ جاو130ٴ خواہ وہ کُھلی ہوں یا چُھپی۔
(۵) اور کسی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھیرایا ہے ہلاک نہ کرو مگر حق کے ساتھ۔131
یہ باتیں ہیں جن کی ہدایت اس نے تمہیں کی ہے، شاید کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو۔

(۶) اور یہ کہ یتیم کے مال کے قریب نہ جاوٴ مگر ایسے طریقہ سے جو بہترین ہو132 یہاں تک کہ وہ اپنے سنِ رُشد کو پہنچ جائے،
(۷) اور ناپ تول میں پورا انصاف کرو، ہم ہر شخص پر ذمہ داری کا اُتنا ہی بار رکھتے ہیں جتنا اس کے امکان میں ہے،133
(۸) اور جب بات کہو انصاف کی کہو خواہ معاملہ اپنے رشتہ دار ہی کا کیوں نہ ہو،
(۹) اور اللہ کے عہد کو پُورا کرو۔134
ان باتوں کی ہدایت اللہ نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم نصیحت قبول کرو۔

(۱۰) نیز اس کی ہدایت یہ ہے کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے لہٰذا تم اِسی پر چلو اور دُوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اُس کے راستے سے ہٹا کر تمہیں پراگندہ کردیں گے۔135یہ ہے وہ ہدایت جو تمہارے رب نے تمہیں کی ہے، شاید کہ تم کَج روی سے بچو۔

پھر ہم نے موسیٰؑ کو کتاب عطا کی تھی جو بھلائی کی روش اختیار کرنے والے انسان پر نعمت کی تکمیل اور ہر ضروری چیز کی تفصیل اور سراسر ہدایت و رحمت تھی (اور اس لیے بنی اسرائیل کو دی گئی تھی کہ) شاید لوگ اپنے رب کی ملاقات پر ایمان لائیں۔136 ؏۱۹

155-165

اور اسی طرح یہ کتاب ہم نے نازل کی ہے، ایک برکت والی کتاب۔ پس تم اِس کی پیروی کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو، بعید نہیں کہ تم پر رحم کیا جائے۔

اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کتاب تو ہم سے پہلے کے دو گروہوں کو دی گئی تھی،137اور ہم کو کچھ خبر نہ تھی کہ وہ کیا پڑھتے پڑھاتے تھے۔

اور اب تم یہ بہانہ بھی نہیں کرسکتے کہ اگر ہم پر کتاب نازل کی گئی ہوتی تو ہم ان سے زیادہ راست رو ثابت ہوتے۔ تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے ایک دلیلِ روشن اور ہدایت اور رحمت آگئی ہے، اب اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ کی آیات کو جھٹلائے اور ان سے منہ موڑے۔138جو لوگ ہماری آیات سے منہ موڑتے ہیں انہیں اس رُوگردانی کی پاداش میں ہم بدترین سزا دے کر رہیں گے۔

کیا اب لوگ اس کے منتظر ہیں کہ ان کے سامنے فرشتے آکھڑے ہوں، یا تمہارا رب خود آجائے، یا تمہارے رب کی بعض صریح نشانیاں نمودار ہوجائیں؟ جس روز تمہارے رب کی بعض مخصوص نشانیاں139 نمودار ہوجائیں گی پھر کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان کچھ فائدہ نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لایا ہو یا جس نے اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہ کمائی ہو۔140 اے محمد ؐ ! ان سے کہہ دو کہ اچھا، تم انتظار کرو، ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔

جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور گروہ گروہ بن گئے یقیناً ان سے تمہارا کچھ واسطہ نہیں،141 ان کا معاملہ تو اللہ کے سپرد ہے، وہی ان کو بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے۔

جو اللہ کے حضور نیکی لے کر آئے گا اس کے لیے دس۱۰ گنا اجر ہے، اور جو بدی لے کر آئے گا اس کو اتنا ہی بدلہ دیا جائے گا جتنا اس نے قصُور کیا ہے، اور کسی پر ظلم نہ کیا جائے گا۔

اے محمد ؐ ! کہو میرے رب نے بالیقین مجھے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے، بالکل ٹھیک دین جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں، ابراہیم ؑ کا طریقہ142 جسے یکسُو ہو کر اُس نے اختیار کیا تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔

کہو، میری نماز، میرے تمام مراسِم عبودیت،143 میرا جینا اور میرا مرنا، سب کچھ اللہ رب العالمین کے لیے ہے

جس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے سرِ اطاعت جھکانے والا میں ہوں۔

کہو، کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور رب تلاش کروں حالانکہ وہی ہر چیز کا رب ہے؟144ہر شخص جو کچھ کماتا ہے اس کا ذمہ دار وہ خود ہے، کوئی بوجھ اُٹھانے والا دُوسرے کا بوجھ نہیں اُٹھاتا،145 پھر تم سب کو اپنے رب کی طرف پلٹنا ہے، اُس وقت وہ تمہارے اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا۔

وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا، اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلہ میں زیادہ بلند درجے دیے، تاکہ جو کچھ تم کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے۔146بے شک تمہارا رب سزا دینے میں بھی بہت تیز ہے اور بہت درگزر کرنے اور رحم فرمانے والا بھی ہے۔ ؏۲۰