اے لوگو جو ایمان لائے ہو، بندشوں کی پُوری پابندی کرو۔ 1تمہارے لیے مویشی کی قسم کے سب جانور حلال کیے گئے،2 سوائے اُن کے جو آگے چل کر تم کو بتائے جائیں گے۔ لیکن احرام کی حالت میں شکار کو اپنے لیے حلال نہ کرلو،3 بے شک اللہ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے۔4
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، خدا پرستی کی نشانیوں کو بے حُرمت نہ کرو 5۔۔۔۔ نہ حرام مہینوں میں سے کسی کو حلال کرلو، نہ قربانی کے جانوروں پر دست درازی کرو، نہ اُن جانوروں پر ہاتھ ڈالو جن کی گردنوں میں نذرِ خداوندی کی علامت کے طور پر پٹے پڑے ہوئے ہوں، نہ اُن لوگوں کو چھیڑو جو اپنے رب کے فضل اور اس کی خوشنودی کی تلاش میں مکانِ محترم (کعبہ) کی طرف جارہے ہوں۔6 ہاں جب احرام کی حالت ختم ہوجائے تو شکار تم کرسکتے ہو7 ۔۔۔۔ اور دیکھو، ایک گروہ نے جو تمہارے لیے مسجدِ حرام کا راستہ بند کردیا ہے تو اس پر تمہارا غصّہ تمہیں اتنا مشتعل نہ کردے کہ تم بھی ان کے مقابلہ میں ناروا زیادتیاں کرنے لگو۔ 8 نہیں ! جو کام نیکی اور خدا ترسی کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو اور جو گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو۔ اللہ سے ڈرو، اس کی سزا بہت سخت ہے۔
تم پر حرام کیا گیا مُردار،9 خُون، سُور کا گوشت، وہ جانور جو خدا کے سوا کسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو،10 وہ جو گلا گُھٹ کر، یا چوٹ کھا کر، یا بلندی سے گِر کر، یا ٹکر کھاکر مرا ہو، یا جسے کسی درندے نے پھاڑا ہو ۔۔۔۔ سوائے اس کے جسے تم نے زندہ پاکر ذبح کرلیا ۔۔۔۔ اور11 وہ جو کسی آستانے12 پر ذبح کیا گیا ہو۔13 نیز یہ بھی تمہارے لیے ناجائز ہے کہ پانْسوں کے ذریعہ سے اپنی قسمت معلوم کرو۔14 یہ سب افعال فسق ہیں۔ آج کافروں کو تمہارے دین کی طرف سے پُوری مایوسی ہوچکی ہے لہٰذا تم اُن سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو۔15 آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لیے مکمل کردیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی ہے اور تمہارے لیے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کرلیا ہے (لہٰذا حرام و حلال کی جو قیُود تم پر عائد کردی گئی ہیں اُن کی پابندی کرو) 16 ۔ البَتّہ جو شخص بُھوک سے مجبُور ہوکر اُن میں سے کوئی چیز کھالے، بغیر اس کے کہ گناہ کی طرف اس کا میلان ہو تو بیشک اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔17
لوگ پُوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کیا حلال کیا گیا ہے، کہو تمہارے لیے ساری پاک چیزیں حلال کردی گئی ہیں۔18اور جن شکاری جانوروں کو تم نے سَدھایا ہو ۔۔۔۔ جن کو خدا کے دیے ہوئے علم کی بنا پر تم شکار کی تعلیم دیا کرتے ہو ۔۔۔۔ وہ جس جانور کو تمہارے لیے پکڑ رکھیں اس کو بھی تم کھاسکتے ہو،19 البتہ اس پر اللہ کا نام لے لو 20اور اللہ کا قانون توڑنے سے ڈرو، اللہ کو حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی۔
آج تمہارے لیے ساری پاک چیزیں حلال کردی گئی ہیں۔ اہلِ کتاب کا کھانا تمہارے لیے حلال ہے اور تمہارا کھانا اُن کے لیے۔21 اور محفوظ عورتیں بھی تمہارے لیے حلال ہیں خواہ وہ اہلِ ایمان کے گروہ سے ہوں یا اُن قوموں میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی،22بشرطیکہ تم اُن کے مہر ادا کرکے نکاح میں اُن کے محافظ بنو، نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو یا چوری چُھپے آشنائیاں کرو۔ اور جو کسی نے ایمان کی روش پر چلنے سے انکار کیا تو اس کا سارا کا سارا کارنامہٴ زندگی ضائع ہوجائے گا اور وہ آخرت میں دیوالیہ ہوگا۔23 ؏۱
6-11اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم نماز کے لیے اُٹھو تو چاہیے کہ اپنے مُنّہ اور ہاتھ کہنیوں تک دھو لو، سروں پر ہاتھ پھیر لو اور پاوٴں ٹخنوں تک دھو لیا کرو۔24 اگر جَنابت کی حالت میں ہو تو نہا کر پاک ہوجاوٴ۔ 25اگر بیمار ہو یا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئی شخص رفع حاجت کرکے آئے یا تم نے عورتوں کو ہاتھ لگایا ہو، اور پانی نہ ملے، تو پاک مٹی سے کام لو، بس اُس پر ہاتھ مار کر اپنے مُنّہ اور ہاتھوں پر پھیر لیا کرو۔26 اللہ تم پر زندگی کو تنگ نہیں کرنا چاہتا، مگر وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمت تم پر تمام کردے،27 شاید کہ تم شکر گزار بنو۔
اللہ نے تم کو جو نعمت عطا کی ہے28 اس کا خیال رکھو اور اُس پختہ عہد و پیمان کو نہ بُھولو جو اُس نے تم سے لیا ہے، یعنی تمہارا یہ قول کہ ”ہم نے سُنا اور اطاعت قبول کی“۔ اللہ سے ڈرو، اللہ دلوں کے راز تک جانتا ہے۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے بنو۔ 29 کسی گروہ کی دُشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کردے کہ انصاف سے پھر جاوٴ۔ عدل کرو، یہ خدا ترسی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُس سے پُوری طرح باخبر ہے۔
جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں، اللہ نے ان سے وعدہ کیا ہے کہ ان کی خطاوٴں سے درگزر کیا جائے گا اور انہیں بڑا اجر ملے گا۔
رہے وہ لوگ جو کفر کریں اور اللہ کی آیات کو جُھٹلائیں، تو وہ دوزخ میں جانے والے ہیں۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ کے اُس احسان کو یاد کرو جو اُس نے (ابھی حال میں)تم پر کیا ہے، جبکہ ایک گروہ نے تم پر دست درازی کا ارادہ کرلیا تھا مگر اللہ نے اُن کے ہاتھ تم پر اُٹھنے سے روک دیے۔30 اللہ سے ڈرکر کام کرتے رہو، ایمان رکھنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرنا چاہیے۔ ؏۲
12-19اللہ نے بنی اسرائیل سے پُختہ عہد لیا تھا اور ان میں بارہ نقیب31 مقرر کیے تھے اور ان سے کہا تھا کہ ”میں تمہارے ساتھ ہوں، اگر تم نے نماز قائم رکھی اور زکوٰة دی اور میرے رسولوں کو مانا اور ان کی مدد کی32 اور اپنے خدا کو اچھا قرض دیتے رہے 33تو یقین رکھو کہ میں تمہاری بُرائیاں تم سے زائل کردوں گا34اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، مگر اس کے بعد جس نے تم میں سے کفر کی روش اختیار کی تو درحقیقت اُس نے سواء السبیل35 گم کردی۔“
پھر یہ اُن کا اپنے عہد کو توڑ ڈالنا تھا جس کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دُور پھینک دیا اور ان کے دل سخت کردیے۔ اب ان کا حال یہ ہے کہ الفاظ کا اُلٹ پھیر کرکے بات کو کہیں سے کہیں لے جاتے ہیں، جو تعلیم انہیں دی گئی تھی اُس کا بڑا حصّہ بُھول چکے ہیں، اور آئے دن تمہیں ان کی کسی نہ کسی خیانت کا پتہ چلتا رہتا ہے۔ ان میں سے بہت کم لوگ اس عیب سے بچے ہوئے ہیں۔ (پس جب یہ اس حال کو پہنچ چکے ہیں تو جو شرارتیں بھی یہ کریں وہ ان سے عین متوقع ہیں)لہٰذا انہیں معاف کرو اور ان کی حرکات سے چشم پوشی کرتے رہو، اللہ اُن لوگوں کو پسند کرتا ہے جو احسان کی روش رکھتے ہیں۔
اِسی طرح ہم نے اُن لوگوں سے بھی پُختہ عہد لیا تھا جنہوں نے کہا تھا کہ ہم ”نصارٰی“ ہیں،36 مگر ان کو بھی جو سبق یاد کرایا گیا تھا اس کا ایک بڑا حصّہ اُنہوں نے فراموش کردیا، آخر کار ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے دُشمنی اور آپس کے بُغض و عناد کا بیج بو دیا، اور ضرور ایک وقت آئے گا جب اللہ انہیں بتائے گا کہ وہ دنیا میں کیا بناتے رہے ہیں۔
اے اہلِ کتاب ! ہمارا رسول تمہارے پاس آگیا ہے جو کتابِ الٰہی کی بہت سی اُن باتوں کو تمہارے سامنے کھول رہا ہے جن پر تم پردہ ڈالا کرتے تھے، اور بہت سی باتوں سے درگزر بھی کر جاتا ہے۔37 تمہارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی آگئی ہے اور ایک ایسی حق نما کتاب
جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ اُن لوگوں کو جو اس کی رضا کے طالب ہیں سلامتی کے طریقے بتاتا ہے38 اور اپنے اذن سے اُن کو اندھیروں سے نکال کر اُجالے کی طرف لاتا ہے اور راہِ راست کی طرف ان کی رہنمائی ہے۔
یقیناً کفر کیا اُن لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ مسیح ؑ ابنِ مریم ہی خدا ہے۔39 اے محمد ؐ ! ان سے کہو کہ اگر خدا مسیح ابنِ مریم کو اور اس کی ماں اور تمام زمین والوں کو ہلاک کردینا چاہے تو کس کی مجال ہے کہ اُس کو اِس ارادے سے باز رکھ سکے؟ اللہ تو زمین اور آسمانوں کا اور اُن سب چیزوں کا مالک ہے جو زمین اور آسمانوں کے درمیان پائی جاتی ہیں، جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے40 اور اس کی قدرت ہر چیز پر حاوی ہے۔
یہود اور نصارٰی کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں۔ ان سے پوچھو، پھر وہ تمہارے گناہوں پر تمہیں سزا کیوں دیتا ہے؟ درحقیقت تم بھی ویسے ہی انسان ہو جیسے اور انسان خدا نے پیدا کیے ہیں۔ وہ جسے چاہتا ہے معاف کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے۔ زمین اور آسمان اور ان کی ساری موجودات اس کی مِلک ہیں، اور اسی کی طرف سب کو جانا ہے۔
اے اہلِ کتاب ! ہمارا یہ رسُول ایسے وقت تمہارے پاس آیا ہے اور دین کی واضح تعلیم تمہیں دے رہا ہے جبکہ رسولوں کی آمد کا سلسلہ ایک مدّت سے بند تھا، تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو کہ ہمارے پاس کوئی بشارت دینے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا۔ سو دیکھو ! اب وہ بشارت دینے اور ڈرانے والا آگیا ۔۔۔۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔41 ؏۳
20-26یاد کرو جب موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ ”اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی اُس نعمت کا خیال کرو جو اس نے تمہیں عطا کی تھی۔ اُس نے تم میں نبی پیدا کیے، تم کو فرماںروا بنایا، اور تم کو وہ کچھ دیا جو دُنیا میں کسی کو نہ دیا تھا۔42
اے برادران قوم ! اس مقدّس سرزمین میں داخل ہوجاوٴ جو اللہ نے تمہارے لیے لکھ دی ہے،43 پیچھے نہ ہٹو ورنہ ناکام و نامراد پلٹو گے“۔44
انہوں نے جواب دیا ”اے موسیٰ ؑ ! وہاں تو بڑے زبردست لوگ رہتے ہیں، ہم وہاں ہرگز نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں۔ ہاں اگر وہ نکل گئے تو ہم داخل ہونے کے لیے تیار ہیں۔“
اُن ڈرنے والوں میں دو شخص ایسے بھی تھے45 جن کو اللہ نے اپنی نعمت سے نوازا تھا۔ انہوں نے کہا کہ ”اِن جبّاروں کے مقابلہ میں دروازے کے اندر گُھس جاوٴ، جب تم اندر پہنچ جاوٴ گے تو تم ہی غالب رہو گے۔ اللہ پر بھروسہ رکھو اگر تم مومن ہو“۔
لیکن اُنہوں نے پھر یہی کہا کہ ”اے موسیٰ ؑ ! ہم تو وہاں کبھی نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں موجود ہیں۔ بس تم اور تمہارا رب، دونوں جاوٴ اور لڑو، ہم یہاں بیٹھے ہیں“۔
اس پر موسیٰؑ نے کہا ”اے میرے رب، میرے اختیار میں کوئی نہیں مگر یا میری اپنی ذات یا میرا بھائی، پس تُو ہمیں اِن نافرمان لوگوں سے الگ کردے“۔
اللہ نے جواب دیا ”اچھا تو وہ مُلک چالیس (۴۰)سال تک ان پر حرام ہے، یہ زمین میں مارے مارے پھریں گے، 46 ان نافرمانوں کی حالت پر ہرگز ترس نہ کھاوٴ“۔47؏۴
27-34اور ذرا انہیں آدم کے دو بیٹوں کا قصّہ بھی بے کم و کاست سُنادو۔ جب اُن دونوں نے قربانی کی تو ان میں سے ایک کی قربانی قبول کی گئی اور دوسرے کی نہ کی گئی۔ اُس نے کہا ”میں تجھے مار ڈالوں گا“۔ اس نے جواب دیا ”اللہ تو متقیوں ہی کی نذریں قبول کرتا ہے۔48
اگر تُو مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ اُٹھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ نہ اُٹھاوٴں گا،49 میں اللہ ربّ العالمین سے ڈرتا ہوں۔
میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ تُو ہی سمیٹ لے50 اور دوزخی بن کر رہے۔ ظالموں کے ظلم کا یہی ٹھیک بدلہ ہے“۔
آخر کار اس کے نفس نے اپنے بھائی کا قتل اس کے لیے آسان کردیا اور وہ اسے مار کر اُن لوگوں میں شامل ہوگیا جو نقصان اُٹھانے والے ہیں۔
پھر اللہ نے ایک کوّا بھیجا جو زمین کھودنے لگا تاکہ اُسے بتائے کہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چُھپائے۔ یہ دیکھ کر وہ بولا افسوس مجھ پر ! میں اس کوّے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش چُھپانے کی تدبیر نکال لیتا۔51 اس کے بعد وہ اپنے کیے پر بہت پچھتایا۔52
اسی وجہ سے بنی اسرائیل پر ہم نے یہ فرمان لکھ دیا تھا 53کہ ”جس نے کسی انسان کو خُون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانون کو قتل کردیا اور جس نے کسی کی جان بچائی اُس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی“۔54 مگر اُن کا حال یہ ہے کہ ہمارے رسُول پے درپے ان کے پاس کُھلی کُھلی ہدایات لے کر آئے پھر بھی ان میں بکثرت لوگ زمین میں زیادتیاں کرنے والے ہیں۔
جو لوگ اللہ اور اس کے رسُول سے لڑتے ہیں اور زمین میں اس لیے تگ و دو کرتے پھرتے ہیں کہ فساد برپا کریں 55اُن کی سزا یہ ہے کہ قتل کیے جائیں، یا سُولی پر چڑھائے جائیں، یا اُن کے ہاتھ اور پاوٴں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں، یا وہ جلا وطن کردیے جائیں۔56 یہ ذلّت و رسوائی تو اُن کے لیے دُنیا میں ہے اور آخرت میں اُن کے لیے اس سے بڑی سزا ہے۔
مگر جو لوگ توبہ کرلیں قبل اس کے کہ تم ان پر قابو پاوٴ ۔۔۔۔ تمہیں معلوم ہونا چاہیے کہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔57 ؏۵
35-43اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو اور اُس کی جناب میں باریابی کا ذریعہ تلاش کرو 58 اور اس کی راہ میں جدوجہد کرو،59 شاید کہ تمہیں کامیابی نصیب ہوجائے۔
خُوب جان لوکہ جن لوگوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا ہے، اگر اُن کے قبضہ میں ساری زمین کی دولت ہو اور اتنی ہی اور اس کے ساتھ، اور وہ چاہیں کہ اسے فدیہ میں دے کر روزِ قیامت کے عذاب سے بج جائیں، تب بھی وہ ان سے قبول نہ کی جائے گی اور انہیں درد ناک سزا مِل کررہے گی۔
وہ چاہیں گے کہ دوزخ کی آگ سے نِکل بھاگیں مگر نہ نکل سکیں گے اور انہیں قائم رہنے والا عذاب دیا جائے گا۔
اور چور، خواہ عورت ہو یا مرد، دونوں کے ہاتھ کاٹ دو،60 یہ اُن کی کمائی کا بدلہ ہے اور اللہ کی طرف سے عبرت ناک سزا۔ اللہ کی قدرت سب پر غالب ہے اور وہ دانا و بینا ہے۔
پھر جو ظلم کرنے کے بعد توبہ کرے اور اپنی اصلاح کرلے تو اللہ کی نظرِ عنایت پھر اس پر مائل ہوجائے گی،61 اللہ بہت درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔
کیا تم جانتے نہیں ہو کہ اللہ زمین اور آسمانوں کی سلطنت کا مالک ہے؟ جسے چاہے سزادے اور جسے چاہے معاف کردے، وہ ہر چیز کا اختیار رکھتا ہے۔
اے پیغمبرؐ ! تمہارے لیے باعث رنج نہ ہوں وہ لوگ جو کفر کی راہ میں بڑی تیزگامی دکھا رہے ہیں۔62خواہ وہ اُن میں سے ہوں جو منّہ سے کہتے ہیں، ہم ایمان لائے مگر دل اُن کے ایمان نہیں لائے، یا اُن میں سے ہوں جو یہودی بن گئے ہیں، جن کا حال یہ ہے کہ جُھوٹ کے لیے کان لگاتے ہیں،63اور دُوسرے لوگوں کی خاطر، جو تمہارے پاس کبھی نہیں آئے، سُن گُن لیتے پھرتے ہیں،64کتاب اللہ کے الفاظ کو اُن کا صحیح محل متعیّن ہونے کے باوجود اصل معنی سے پھیرتے ہیں،65اور لوگوں سے کہتے ہیں کہ اگر تمہیں یہ حکم دیا جائے تو مانو، نہیں تو نہ مانو۔66 جسے اللہ ہی نے فتنہ میں ڈالنے کا ارادہ کرلیا ہو اس کو اللہ کی گرفت سے بچانے کے لیے تم کچھ نہیں کرسکتے،67 یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے پاک کرنا نہ چاہا،68 ان کے لیے دُنیا میں رُسوائی ہے اور آخرت میں سخت سزا۔
یہ جُھوٹ سُننے والے اور حرام کے مال کھانے والے ہیں،69 لہٰذا اگر یہ تمہارے پاس (اپنے مقدمات لے کر) آئیں تو تمہیں اختیار دیا جاتا ہے کہ چاہو ان کا فیصلہ کرو ورنہ انکار کردو۔ انکار کردو تو یہ تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے، اور فیصلہ کرو تو پھر ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے 70۔۔۔۔
اور یہ تمہیں کیسے حَکم بناتے ہیں جبکہ ان کے پاس توراة موجود ہے جس میں اللہ کا حکم لکھا ہوٴا ہے اور پھر یہ اس سے منہ موڑ رہے ہیں؟71اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے۔ ؏۶
44-50ہم نے توراة نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی۔ سارے نبی، جو مُسلِم تھے، اُسی کے مطابق ان یہودی بن جانے والوں کے معاملات72 کا فیصلہ کرتے تھے، اور اِسی طرح ربّانی اور اَحبار بھی 73(اسی پر فیصلہ کا مدار رکھتے تھے)کیونکہ انہیں کتاب اللہ کی حفاظت کا ذمہ دار بنایا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ تھے۔ پس (اے گروہِ یہود !)تم لوگوں سے نہ ڈرو بلکہ مجھ سے ڈرو اور میری آیات کو ذرا ذرا سے معاوضے لے کر بیچنا چھوڑ دو۔ جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں۔
توراة میں ہم نے یہودیوں پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان، آنکھ کے بدلے آنکھ، ناک کے بدلے ناک، کان کے بدلے کان، دانت کے بدلے دانت، اور تمام زخموں کے لیے برابر کا بدلہ۔74 پھر جو قصاص کا صدقہ کردے تو وہ اس کے لیے کَفّارہ ہے،75 اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی ظالم ہیں۔
پھر ہم نے ان پیغمبروں کے بعد مریم ؑ کے بیٹے عیسٰی ؑ کو بھیجا۔ توراة میں سے جو کچھ اس کے سامنے موجود تھا وہ اس کی تصدیق کرنے والا تھا۔ اور ہم نے اس کو انجیل عطا کی جس میں رہنمائی اور روشنی تھی اور وہ بھی توراة میں سے جو کچھ اُس وقت موجود تھا اُس کی تصدیق کرنے والی تھی76 اور خداترس لوگوں کے لیے سراسر ہدایت اور نصیحت تھی۔
ہمارا حکم تھا کہ اہلِ انجیل اس قانون کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی فاسق ہیں۔77
پھر اے محمد ؐ ! ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب بھیجی جو حق لے کر آئی ہے اور الکتاب میں سے جو کچھ اس کے آگے موجود ہے اُس کی تصدیق کرنے والی 78اور اس کی محافظ و نگہبَان ہے۔79 لہٰذا تم خدا کے نازل کردہ قانون کے مطابق لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور جو حق تمہارے پاس آیا ہے اُس سے مُنّہ موڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو ۔۔۔۔ 80ہم نے تم میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک راہِ عمل مقرر کی۔ اگرچہ تمہارا خدا چاہتا تو تم سب کو ایک اُمّت بھی بناسکتا تھا، لیکن اُس نے یہ اِس لیے کیا کہ جو کچھ اُس نے تم لوگوں کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے۔ لہٰذا بھلائیوں میں ایک دُوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔ آخر کار تم سب کو خدا کی طرف پلٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمہیں اصل حقیقت بتادے گا جس میں تم اختلاف کرتے رہے ہو81 ۔۔۔۔
82پس اے محمدؐ ! تم اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق ان لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔ ہوشیار رہو کہ یہ لوگ تم کو فتنہ میں ڈال کر اُس ہدایت سے ذرہ برابر منحرف نہ کرنے پائیں جو خدا نے تمہاری طرف نازل کی ہے پھر اگر یہ اس سے منہ موڑیں تو جان لو کہ اللہ نے ان کے بعض گناہوں کی پاداش میں ان کو مبتلائے مصیبت کرنے کا ارادہ ہی کرلیا ہے، اور یہ حقیقت ہے کہ اِن لوگوں میں سے اکثر فاسق ہیں۔
(اگر یہ خدا کے قانون سے مُنّہ موڑتے ہیں)تو کیا پھر جاہلیّت83 کا فیصلہ چاہتے ہیں؟ حالانکہ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں ان کے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والا کوئی نہیں ہے۔ ؏۷
51-56اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بناوٴ، یہ آپس ہی میں ایک دُوسرے کے رفیق ہیں۔ اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی پھر انہی میں ہے، یقیناً اللہ ظالموں کو اپنی رہنمائی سے محروم کردیتا ہے۔
تم دیکھتے ہو کہ جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے وہ اُنہی میں دَوڑ دُھوپ کرتے پھرتے ہیں۔ کہتے ہیں ”ہمیں ڈر لگتا ہے کہ کہیں ہم کسی مصیبت کے چکّر میں نہ پھنس جائیں“۔84 مگر بعید نہیں کہ اللہ جب تمہیں فیصلہ کُن فتح بخشے گا یا اپنی طرف سے کوئی اور بات ظاہر کرے گا 85تو یہ لوگ اپنے اِس نفاق پر جسے یہ دلوں میں چُھپائے ہوئے ہیں نادم ہوں گے۔
اور اُس وقت اہل ایمان کہیں گے ”کیا یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھاکر یقین دلاتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں“؟ ۔۔۔۔ ان کے سب اعمال ضائع ہوگئے اور آخر کار یہ ناکام و نامراد ہوکر رہے۔86
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے (تو پھر جائے) اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کردے گا جو اللہ کو محبُوب ہوں گے اور اللہ اُن کو محبُوب ہوگا، جو مومنوں پر نرم اور کفّار پر سخت ہوں گے،87 جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنے والے کی ملامت سے نہ ڈریں گے۔88 یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ اللہ وسیع ذرائع کا مالک ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔
تمہارے رفیق تو حقیقت میں صرف اللہ اور اللہ کا رسول اور وہ اہلِ ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰة دیتے ہیں اور اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں۔
اور جو اللہ اور اس کے رسُول اور اہلِ ایمان کو اپنا رفیق بنالے اُسے معلوم ہوکہ اللہ کی جماعت ہی غالب رہنے والی ہے۔ ؏۸
57-66اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہارے پیش رَو اہلِ کتاب میں سے جن لوگوں نے تمہارے دین کو مذاق اور تفریح کا سامان بنالیا ہے، اُنہیں اور دُوسرے کافروں کو اپنا دوست اور رفیق نہ بناوٴ۔ اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو۔
جب تم نماز کے لیے منادی کرتے ہو تو وہ اس کا مذاق اُڑاتے اور اس سے کھیلتے ہیں۔89 اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عقل نہیں رکھتے۔90
اِن سے کہو، ”اے اہلِ کتاب ! تم جس بات پر ہم سے بگڑے ہو وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ ہم اللہ پر اور دین کی اُس تعلیم پر ایمان لے آئے ہیں جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور ہم سے پہلے بھی نازل ہوئی تھی، اور تم میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں ؟“
پھر کہو ”کیا میں اُن لوگوں کی نشاندہی کروں جن کا انجام خدا کے ہاں فاسقوں کے انجام سے بھی بدتر ہے؟ وہ جن پر خدا نے لعنت کی، جن پر اُس کا غضب ٹوٹا، جن میں سے بندر اور سُور بنائے گئے، جنہوں نے طاغوت کی بندگی کی۔ ان کا درجہ اور بھی زیادہ بُرا ہے اور وہ سَوَاءُ السّبیل سے بہت زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں“۔91
جب یہ تم لوگوں کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے، حالانکہ کفر لیے ہوئے آئے تھے اور کفر ہی لیے ہوئے واپس گئے اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں چُھپائے ہوئے ہیں۔
تم دیکھتے ہو کہ ان میں سے بکثرت لوگ گناہ اور ظلم و زیادتی کے کاموں میں دَوڑ دُھوپ کرتے پھرتے ہیں اور حرام کے مال کھاتے ہیں۔ بہت بُری حرکات ہیں جو یہ کررہے ہیں۔
کیوں اِن کے عُلماء اور مشائخ انہیں گناہ پر زبان کھولنے اور حرام کھانے سے نہیں روکتے؟ یقیناً بہت ہی بُرا کارنامہ زندگی ہے جو وہ تیار کررہے ہیں۔
یہُودی کہتے ہیں اللہ کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں ۔۔۔۔92 باندھے گئے ان کے ہاتھ،93 اور لعنت پڑی اِن پر اُس بکواس کی بدولت جو یہ کرتے ہیں ۔۔۔۔94 اللہ کے ہاتھ تو کشادہ ہیں، جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو کلام تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل ہوا ہے وہ ان میں سے اکثر لوگوں کی سرکشی و باطل پرستی میں اُلٹے اضافہ کا موجب بن گیا ہے،95 اور (اس کی پاداش میں)ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے عداوت اور دُشمنی ڈال دی ہے۔ جب کبھی یہ جنگ کی آگ بھڑکاتے ہیں اللہ اُس کو ٹھنڈا کردیتا ہے۔ یہ زمین میں فساد پَھیلانے کی سعی کررہے ہیں مگر اللہ فساد برپا کرنے والوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا۔
اگر (اِس سرکشی کے بجائے)یہ اہلِ کتاب ایمان لے آتے اور خدا ترسی کی رَوَش اختیار کرتے تو ہم اِن کی بُرائیاں اِن سے دُور کردیتے اور ان کو نعمت بھری جنتوں میں پہنچاتے۔
کاش انہوں نے توراة اور انجیل اور اُن دوسری کتابوں کو قائم کیا ہوتا جو اِن کے رب کی طرف سے اِن کے پاس بھیجی گئی تھیں۔ ایسا کرتے تو اِن کے لیے اُوپر سے رزق برستا اور نیچے سے اُبلتا۔96 اگرچہ ان میں کچھ لوگ راست رَو بھی ہیں لیکن ان کی اکثریت سخت بد عمل ہے۔ ؏۹
67-77اے پیغمبر ؐ ! جو کچھ تمہارے رب کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچادو۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا۔ اللہ تم کو لوگوں کے شر سے بچانے والا ہے۔ یقین رکھو کہ وہ کافروں کو (تمہارے مقابلہ میں) کامیابی کی راہ ہرگز نہ دکھائے گا۔
صاف کہہ دو کہ ”اے اہلِ کتاب ! تم ہرگز کسی اصل پر نہیں ہو جب تک کہ توراة اور انجیل اور اُن دُوسری کتابوں کو قائم نہ کرو جو تمہارے رب کی طرف سے نازل کی گئی ہیں“۔97 ضرور ہے کہ یہ فرمان جو تم پر نازل کیا گیا ہے ان میں سے اکثر کی سرکشی اور انکار کو اور زیادہ بڑھادے گا۔ 98مگر انکار کرنے والوں کے حال پر کچھ افسوس نہ کرو۔
(یقین جانو کہ یہاں اجارہ کسی کا بھی نہیں ہے) مسلمان ہوں یا یہودی، صابی ہوں یا عیسائی، جو بھی اللہ اور روزِ آخر پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا بے شک اس کے لیے نہ کسی خوف کا مقام ہے نہ رنج کا۔99
ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور اُن کی طرف بہت سے رسُول بھیجے، مگر جب کبھی ان کے پاس کوئی رسُول اُن کی خواہشاتِ نفس کے خلاف کچھ لے کر آیا تو کسی کو اُنہوں نے جُھٹلایا اور کسی کو قتل کردیا،
اور اپنے نزدیک یہ سمجھے کہ کوئی فتنہ رُونما نہ ہوگا، اس لیے اندھے اور بہرے بن گئے۔ پھر اللہ نے اُنہیں معاف کیا تو اُن میں سے اکثر لوگ اور زیادہ اندھے اور بہرے بنتے چلے گئے۔ اللہ اُن کی یہ سب حرکات دیکھتا رہا ہے۔
یقیناً کفر کیا اُن لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ مسیح ابنِ مریم ہی ہے۔ حالانکہ مسیح ؑ نے کہا تھا کہ ”اے بنی اسرائیل ! اللہ کی بندگی کرو جو میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی“۔ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرایا اُس پر اللہ نے جنّت حرام کردی اور اُس کا ٹھکانا جہنّم ہے اور ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔
یقیناً کفر کیا اُن لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا ایک ہے، حالانکہ ایک خدا کے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔ اگر یہ لوگ اپنی ان باتون سے باز نہ آئے تو ان میں سے جس جس نے کفر کیا ہے اُس کو درد ناک سزا دی جائے گی۔
پھر کیا یہ اللہ سے توبہ نہ کریں گے اور اس سے معافی نہ مانگیں گے؟ اللہ بہت درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے۔
مسیح ؑ ابنِ مریم ؑ اِس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسُول تھا، اُس سے پہلے اور بھی بہت سے رسُول گزر چکے تھے، اس کی ماں ایک راستباز عورت تھی، اور وہ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ دیکھو ہم کس طرح ان کے سامنے حقیقت کی نشانیاں واضح کرتے ہیں، پھر دیکھو یہ کدھر اُلٹے پھرے جاتے ہیں۔100
اِن سے کہو، کیا تم اللہ کو چھوڑ کر اُس کی پرستش کرتے ہو جو نہ تمہارے لیے نقصان کا اختیار رکھتا ہے نہ نفع کا؟ حالانکہ سب کی سُننے والا اور سب کچھ جاننے والا تو اللہ ہی ہے۔
کہو، اے اہلِ کتاب ! اپنے دین میں ناحق غلُو نہ کرو اور اُن لوگوں کے تخیّلات کی پیروی نہ کرو جو تم سے پہلے خود گمراہ ہوئے اور بہتوں کو گمراہ کیا اور ”سَوَاءُالسّبیل“ سے بھٹک گئے۔101 ؏۱۰
78-86بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی اُن پر داوٴد ؑ اور عیسٰی ؑ ابنِ مریم ؑ کی زبان سے لعنت کی گئی کیونکہ وہ سرکش ہوگئے تھے اور زیادتیاں کرنے لگے تھے،
انہوں نے ایک دُوسرے کو بُرے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑ دیا تھا، 102بُرا طرز عمل تھا جو اُنہوں نے اختیار کیا۔
آج تم اُن میں بکثرت ایسے لوگ دیکھتے ہو جو (اہلِ ایمان کے مقابلہ میں)کفّار کی حمایت و رفاقت کرتے ہیں۔ یقیناً بہت بُرا انجام ہے جس کی تیاری اُن کے نفسوں نے اُن کے لیے کی ہے، اللہ اُن پر غضب ناک ہو گیا ہے اور وہ دائمی عذاب میں مُبتلا ہونے والے ہیں۔
اگر فی الواقع یہ لوگ اللہ اور پیغمبر ؐ اور اُس چیز کے ماننے والے ہوتے جو پیغمبر ؐ پر نازل ہوئی تھی تو کبھی (اہلِ ایمان کے مقابلہ میں)کافروں کو اپنا رفیق نہ بناتے۔ 103مگر ان میں سے تو بیشتر لوگ خدا کی اطاعت سے نکِل چکے ہیں۔
تم اہلِ ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہُود اور مشرکین کو پاوٴ گے، اور ایمان لانے والوں کے لیے دوستی میں قریب تر اُن لوگوں کو پاوٴ گے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاریٰ ہیں۔ یہ اس وجہ سے کہ ان میں عبادت گزار عالِم اور تارک الدُّنیا فقیر پائے جاتے ہیں اور اُن میں غرورِ نفس نہیں ہے۔
[الجزء ۷] جب وہ اس کلام کو سُنتے ہیں جو رسُول پر اُترا ہے تو تم دیکھتے ہو کہ حق شناسی کے اثر سے اُن کی آنکھیں آنسووٴں سے تر ہو جاتی ہیں۔ وہ بول اُٹھتے ہیں کہ ”پروردگار ! ہم ایمان لائے، ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے“۔
اور وہ کہتے ہیں کہ ”آخر کیوں نہ ہم اللہ پر ایمان لائیں اور جو حق ہمارے پاس آیا ہے اُسے کیوں نہ مان لیں جبکہ ہم اِس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارا رب ہمیں صالح لوگوں میں شامل کرے“؟
اُن کے اس قول کی وجہ سے اللہ نے اُن کو ایسی جنتیں عطا کیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔ یہ جزاء ہے نیک رویّہ اختیار کرنے والوں کے لیے۔
رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کیا اور انہیں جھٹلایا، تو وہ جہنّم کے مستحق ہیں۔ ؏۱۱
87-93اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جو پاک چیزیں اللہ نے تمہارے لیے حلال کی ہیں انہیں حرام نہ کرلو104 اور حد سے تجاوز نہ کرو، 105اللہ کو زیادتی کرنے والے سخت ناپسند ہیں۔
جو کچھ حلال و طیّب رزق اللہ نے تم کو دیا ہے اُسے کھاوٴ پیو اور اُس خدا کی نافرمانی سے بچتے رہو جس پر تم ایمان لائے ہو۔
تم لوگ جو مُہمل قسمیں کھالیتے ہو اُن پر اللہ گرفت نہیں کرتا، مگر جو قسمیں تم جان بُوجھ کر کھاتے ہو اُن پر وہ ضرور تم سے مواخذہ کرے گا۔ (ایسی قسم توڑنے کا) کفّارہ یہ ہے کہ دس (١۰)مسکینوں کو وہ اَوسط درجہ کا کھانا کھلاوٴ جو تم اپنے بال بچّوں کو کھلاتے ہو، یا انہیں کپڑے پہناوٴ، یا ایک غلام آزاد کرو، اور جو اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ تین دن کے روزے رکھے۔ یہ تمہاری قسموں کا کفّارہ ہے جبکہ تم قسم کھا کر توڑدو۔ 106اپنی قسموں کی حفاظت کیا کرو۔ 107اس طرح اللہ اپنے احکام تمہارے لیے واضح کرتا ہے شاید کہ تم شکر ادا کرو۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، یہ شراب اور جُوا اور یہ آستانے اور پانسے، 108یہ سب گندے شیطانی کام ہیں، ان سے پرہیز کرو، اُمیّد ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی۔109
شیطان تو یہ چاہتا ہے کہ شراب اور جُوئے کے ذریعہ سے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمہیں خدا کی یاد سے اور نماز سے روک دے۔ پھر کیا تم ان چیزوں سے باز رہو گے؟
اللہ اور اُس کے رسول ؐ کی بات مانو اور باز آجاوٴ، لیکن اگر تم نے حکم عدُولی کی تو جان لو کہ ہمارے رسُول ؐ پر بس صاف صاف حکم پہنچا دینے کی ذمّہ داری تھی۔
جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک عمل کرنے لگے انہوں نے پہلے جو کچھ کھایا پیا تھا اس پر کوئی گرفت نہ ہوگی بشرطیکہ وہ آئندہ اُن چیزوں سے بچے رہیں جو حرام کی گئی ہیں اور ایمان پر ثابت قدم رہیں اور اچھے کام کریں، پھر جس جس چیز سے روکا جائے اس سے رُکیں اور جو فرمانِ الٰہی ہو اُسے مانیں۔ پھر خدا ترسی کے ساتھ نیک رویّہ رکھیں۔ اللہ نیک کردار لوگوں کو پسند کرتا ہے۔ ؏۱۲
94-100اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اللہ تمہیں اُس شکار کے ذریعہ سے سخت آزمائش میں ڈالے گا جو بالکل تمہارے ہاتھوں اور نیزوں کی زد میں ہوگا، یہ دیکھنے کے لیے کہ تم میں سے کون اس سے غائبانہ ڈرتا ہے، پھر جس نے اس تنبیہ کے بعد اللہ کی مقرر کی ہوئی حد سے تجاوز کیا اُس کے لیے درد ناک سزا ہے۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اِحرام کی حالت میں شکار نہ مارو،110 اور اگر تم میں سے کوئی جان بوجھ کر ایسا کر گزرے تو جو جانور اس نے مارا ہو اُسی کے ہم پلّہ ایک جانور اُسے مویشیوں میں سے نذر دینا ہوگا جس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل آدمی کریں گے، اور یہ نذرانہ کعبہ پہنچایا جائے گا، یا نہیں تو اس گناہ کے کفارہ میں چند مسکینوں کو کھانا کھلانا ہوگا، یا اس کے بقدر روزے رکھنے ہوں گے،111 تاکہ وہ اپنے کیے کا مزہ چکھے۔ پہلے جو کچھ ہوچکا اُسے اللہ نے معاف کردیا، لیکن اب اگر کسی نے اس حرکت کا اعادہ کیا تو اس سے اللہ بدلہ لے گا، اللہ سب پر غالب ہے اور بدلہ لینے کی طاقت رکھتا ہے۔
تمہارے لیے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کردیا گیا، 112جہاں تم ٹھیرو وہاں بھی اُسے کھاسکتے ہو اور قافلے کے لیے زادِراہ بھی بناسکتے ہو۔ البتّہ خشکی کا شکار جب تک تم اِحرام کی حالت میں ہو، تم پر حرام کیا گیا ہے۔ پس بچو اُس خدا کی نافرمانی سے جس کی پیشی میں تم سب کو گھیر کر حاضر کیا جائے گا۔
اللہ نے مکانِ مُحترم، کعبہ کو لوگوں کے لیے (اجتماعی زندگی کے) قیام کا ذریعہ بنایا اور ماہِ حرام اور قربانی کے جانوروں اور قَلادوں کو بھی (اِس کام میں معاون بنادیا) 113 تاکہ تمہیں معلوم ہو جائے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کے سب حالات سے باخبر ہے اور اُسے ہر چیز کا علم ہے۔ 114
خبردار ہوجاوٴ ! اللہ سزا دینے میں بھی سخت ہے اور اس کے ساتھ بہت درگزر اور رحم بھی کرنے والا ہے۔
رسُول پر تو صرف پیغام پہنچا دینے کی ذمّہداری ہے، آگے تمہارے کُھلے اور چُھپے سب حالات کا جاننے والا اللہ ہے۔
اے پیغمبر ؐ ! اِن سے کہہ دو کہ پاک اور ناپاک بہرحال یکساں نہیں ہیں خواہ ناپاک کی بہتات تمہیں کتنا ہی فریفتہ کرنے والی ہو،115 پس اے لوگو جو عقل رکھتے ہو ! اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو، اُمّید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی۔ ؏۱۳
101-108اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ایسی باتیں نہ پوچھا کرو جو تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں،116لیکن اگر تم انہیں ایسے وقت پُوچھو گے جب کہ قرآن نازل ہورہا ہو تو وہ تم پر کھول دی جائیں گی۔ اب تک جو کچھ تم نے کیا اُسے اللہ نے معاف کردیا، وہ درگزر کرنے والا اور بُردبار ہے۔
تم سے پہلے ایک گروہ نے اِسی قسم کے سوالات کیے تھے، پھر وہ لوگ انہی باتوں کی وجہ سے کفر میں مُبتلا ہوگئے۔117
اللہ نے نہ کوئی بَحِیرہ مقرر کیا ہے نہ سائبَہ اور نہ وَصیْلہ اور نہ حام۔118 مگر یہ کافر اللہ پر جُھوٹی تہمت لگاتے ہیں اور ان میں سے اکثر بے عقل ہیں (کہ ایسے وہمیّات کو مان رہے ہیں)۔
اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آوٴ اُس قانون کی طرف جو اللہ نے نازل کیا ہے اور آوٴ پیغمبر ؐ کی طرف تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہمارے لیے تو بس وہی طریقہ کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ کیا یہ باپ دادا ہی کی تقلید کیے چلے جائیں گے خواہ وہ کچھ نہ جانتے ہوں اور صحیح راستہ کی انہیں خبر ہی نہ ہو؟
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اپنی فکر کرو، کسی دُوسرے کی گمراہی سے تمہارا کُچھ نہیں بگڑتا اگر تم خود راہِ راست پر ہو،119 اللہ کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے، پھر وہ تمہیں بتادے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے اور وہ وصیّت کررہا ہو تو اس کے لیے شہادت کا نصاب یہ ہے کہ تمہاری جماعت میں سے دو صاحبِ عدل آدمی120 گواہ بنائے جائیں، یا اگر تم سفر کی حالت میں ہو اور وہاں موت کی مصیبت پیش آجائے تو غیرمسلموں ہی میں سے دو گواہ لے لیے جائیں۔121 پھر اگر کوئی شک پڑجائے تو نماز کے بعد دونوں گواہوں کو مسجد میں روک لیا جائے اور وہ خدا کی قسم کھا کر کہیں کہ ”ہم کسی ذاتی فائدے کے عوض شہادت بیچنے والے نہیں ہیں، اور خواہ کوئی ہمارا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو (ہم اس کی رعایت کرنے والے نہیں)، اور نہ خدا واسطے کی گواہی کو ہم چھپانے والے ہیں، اگر ہم نے ایسا کیا تو گناہ گاروں میں شمار ہوں گے“۔
لیکن اگر پتہ چل جائے کہ ان دونوں نے اپنے آپ کو گناہ میں مُبتلا کیا ہے تو پھر ان کی جگہ دو اور شخص جو ان کی بہ نسبت شہادت دینے کے لیے اہل تر ہوں ان لوگوں میں سے کھڑے ہوں جن کی حق تلفی ہوئی ہو، اور وہ خدا کی قسم کھا کر کہیں کہ ”ہماری شہادت اُن کی شہادت سے زیادہ برحق ہے اور ہم نے اپنی گواہی میں کوئی زیادتی نہیں کی ہے، اگر ہم ایسا کریں تو ظالموں میں سے ہوں گے“۔
اس طریقہ سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ ٹھیک ٹھیک شہادت دیں گے، یا کم از کم اس بات ہی کا خوف کریں گے کہ ان کی قسموں کے بعد دُوسری قسموں سے کہیں ان کی تردید نہ ہوجائے۔ اللہ سے ڈرو اور سنو، اللہ نافرمانی کرنے والوں کو اپنی رہنمائی سے محروم کردیتا ہے۔ ؏۱۴
109-115جس روز122 اللہ سب رسولوں کو جمع کرکے پُوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب دیا گیا، 123تو وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ علم نہیں،124 آپ ہی تمام پوشیدہ حقیقتوں کو جانتے ہیں۔
پھر تصوّر کرو اس موقع کا جب اللہ فرمائے گا125 کہ ”اے مریم کے بیٹے عیسٰی ؑ! یاد کر میری اس نعمت کو جو میں نے تجھے اور تیری ماں کو عطا کی تھی، میں نے رُوح پاک سے تیری مدد کی، تُو گہوارے میں بھی لوگوں سے بات کرتا تھا اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی، میں نے تجھ کو کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل کی تعلیم دی، تُو میرے حکم سے مٹی کا پُتلا پرندے کی شکل کا بناتا اور اس میں پُھونکتا تھا، اور وہ میرے حکم سے پرندہ بن جاتا تھا ، تُو مادر زاد اندھے کو کوڑھی کو میرے حکم سے اچھا کرتا تھا، تُو مُردوں کو میرے حکم سے نکالتا تھا، 126پھر جب تُو بنی اسرائیل کے پاس صریح نشانیاں لے کر پہنچا اور جو لوگ ان میں سے منکرِ حق تھے انہوں نے کہا کہ یہ نشانیاں جادوگری کے سوا اور کچھ نہیں ہیں تو میں نے ہی تجھے اُن سے بچایا ،
اور جب میں نے حواریوں کو اشارہ کیا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لاوٴ تب اُنہوں نے کہا کہ ہم ایمان لائے اور گواہ رہو کہ ہم مسلم ہیں“127۔۔۔۔
128(حواریوں کے سلسلہ میں)یہ واقعہ بھی یاد رہے کہ جب حواریوں نے کہا کہ اے عیسٰی ؑ ابنِ مریم ؑ ! کیا آپ کا رب ہم پر آسمان سے کھانے کا ایک خوان اتار سکتا ہے؟ تو عیسٰی ؑ نے کہا اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو۔
اُنہوں نے کہا ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ اس خوان سے کھانا کھائیں اور ہمارے دل مطمئن ہوں اور ہمیں معلوم ہوجائے کہ آپ نے جو کچھ ہم سے کہا ہے وہ سچ ہے اور ہم اس پر گواہ ہوں۔
اس پر عیسٰی ؑ ابن مریم ؑ نے دُعا کی ”خدایا !ہمارے ربّ ! ہم پر آسمان سے ایک خوان نازل کر جو ہمارے لیے اور ہمارے اگلوں پچھلوں کے لیے خوشی کا موقع قرار پائے اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو، ہم کو رزق دے اور تُو بہترین رازق ہے“۔
اللہ نے جواب دیا ”میں اُس کو تم پر نازل کرنے والا ہوں،129 مگر اس کے بعد جو تم میں سے کفر کرے گا اسے میں ایسی سزا دوں گا جو دُنیا میں کسی کو نہ دی ہوگی“۔ ؏۱۵
116-120غرض جب (یہ احسانات یاد دلاکر) اللہ فرمائے گا کہ ”اے عیسٰی ؑ بن مریم ؑ ! کیا تُو نے لوگوں سے کہا تھا کہ خدا کے سوا مجھے اور میری ماں کو بھی خدا بنالو؟“ 130 تو وہ جواب میں عرض کرے گا ”سبحان اللہ! میرا یہ کام نہ تھا کہ وہ بات کہتا جس کے کہنے کا مجھے حق نہ تھا، اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی تو آپ کو ضرور علم ہوتا، آپ جانتے ہیں جو کچھ میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو کچھ آپ کے دل میں ہے، آپ تو ساری پوشیدہ حقیقتوں کے عالم ہیں۔
میں نے اُن سے اُس کے سوا کچھ نہیں کہا جس کا آپ نے حکم دیا تھا، یہ کہ اللہ کی بندگی کرو جو میرا ربّ بھی ہے اور تمہارا ربّ بھی۔ میں اُسی وقت تک ان کا نگراں تھا جب تک کہ میں ان کے درمیان تھا۔ جب آپ نے مجھے واپس بلالیا تو آپ ان پر نگراں تھے اور آپ تو ساری ہی چیزوں پر نگراں ہیں۔
اب اگر آپ انہیں سزا دیں تو وہ آپ کے بندے ہیں اور اگر معاف کردیں تو آپ غالب اور دانا ہیں“۔
تب اللہ فرمائے گا ”یہ وہ دن ہے جس میں سچّوں کو ان کی سچّائی نفع دیتی ہے، اُن کے لیے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، یہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے، یہی بڑی کامیابی ہے“۔
زمین اور آسمانوں اور تمام موجودات کی پادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ ؏۱۶