جن لوگوں نے کفر کیا1 اور اللہ کے راستے سے روکا،2 اللہ نے ان کے اعمال کو رائیگاں کردیا۔3

اور جو لوگ ایما ن لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور اس چیز کو مان لیا جو محمد ؐ پر نازل ہوئی ہے۔۔۔۔اور4 ہے وہ سراسر حق ان کے رب کی طرف سے۔۔۔۔اللہ نے ان کی برائیاں ان سے دور کر دیں 5اور ان کا حال درست کر دیا۔6

یہ اس لیے کہ کفر کرنے والوں نے باطل کی پیروی کی اور ایمان لانے والوں نے اس حق کی پیروی کی جو ان کے رب کی طرف سے آیا ہے۔ اس طرح اللہ لوگوں کو ان کی ٹھیک ٹھیک حیثیت بتائے دیتا ہے۔7

پس جب ان کافروں سے تمہاری مُڈ بھیڑ ہو تو پہلا کام گردنیں مارنا ہے، یہاں تک کہ جب تم ان کو اچھی طرح کچل دو تب قیدیوں کو مضبوط باندھو، اس کے بعد(تمہیں اختیار ہے) احسان کر ویا فدیے کا معاملہ کر لو، تا آنکہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے۔8
یہ ہے تمہارے کرنے کا کام۔ اللہ چاہتا تو خود ہی ان سے نمٹ لیتا، مگر( یہ طریقہ اس نے اس لیے اختیار کیا ہے)تا کہ تم لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعہ سے آزمائے۔ 9اور جو لوگ اللہ راہ میں مارے جائیں گے اللہ ان کےاعمال کو ہر گز ضائع نہ کرے گا۔ 10

وہ ان کی رہنمائی فرمائے گا، ان کا حال درست کردے گا ،

اور ان کو اُس جنت میں داخل کرے گا جس سے وہ ان کو واقف کرا چکا ہے۔11

اے لوگوں جو ایمان لائے ہو، اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا12 اور تمہارے قدم مظبوط جمادے گا۔

رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے، تو ان کے لیے ہلاکت ہے13 اور اللہ نے ان کے اعمال کو بھٹکا دیا ہے۔

کیونکہ انہوں نے اس چیز کو نا پسند کیا جسے اللہ نے نازل کیا ہے،14 لہٰذا اللہ نے ان کے اعمال ضائع کر دیے ۔

کیا وہ زمین میں چلنے پھر ے نہ تھےکہ ان لوگوں کا انجام دیکھتے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں؟ اللہ نے کا سب کچھ ان پر الٹ دیا، اور ایسے ہی نتائج ان کافروں کے لیے مقدر ہیں۔15

یہ اس لیے کہ ایمان لانے والوں کا حامی و ناصر اللہ ہے اور کافروں

ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو اللہ ان جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں، اور کفر کرنے والے بس دنیا کی چند روزہ زندگی کے مزے لوٹ رہے ہیں، جانوروں کی طرح کھا پی رہے ہیں،17 اور ان کا آخری ٹھکانہ جہنم ہے۔

اے نبیؐ، کتنی ہی بستیاں ایسی گزر چکی ہیں جو تمہاری اس بستی سے بہت زیادہ زور آور تھیں جس نے تمہیں نکال دیا ہے ۔ انہیں ہم نے اس طرح ہلاک کر دیا کہ کوئی ان کا بچانے والا نہ تھا ۔18

بھلا کہیں ایسا ہو سکتا ہے کہ جو اپنے رب کی طرف سے ایک صاف و صریح ہدایت پر ہو، وہ ان لوگوں کی طرح ہو جا ئے جن کے لیے ان کا برا عمل خوشنما بنا دیا گیا ہے اور وہ اپنی خواہشات کے پیروبن گئے ہیں؟19

پرہیز گاروں کے لیے جس جنت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان تو یہ ہے کہ اس میں نہریں بہ رہی ہوں گی نِتھرے ہوئے پانی کی ،20 نہریں بہ رہی ہوں گی ایسے دودھ کی جس کے مزے میں ذرا فرق نہ آیا ہوگا،21 نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسی شراب کی جو پینے والوں کے لیے لذیز ہو گی ،22 نہریں بہ رہی ہوں گی صاف شفاف شہد کی۔23 اس میں ان کے لیے ہر طرح کے پھل ہوں گے اور ان کے رب کی طرف سے بخشش۔24 (کیا وہ شخص جس کے حصہ میں یہ جنت آنے والی ہے)ان لوگوں کی طرح ہو سکتا ہے جو جہنم میں ہمیشہ رہیں گے اور جنہیں ایسا گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتیں تک کاٹ دے گا؟

ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو کان لگا کر تمہاری بات سنتے ہیں اور پھر جب تمہارے پاس سے نکلتے ہیں تو ان لوگوں سے جنہیں علم کی نعمت بخشی گئی ہے پوچھتے ہیں کہ ابھی ابھی انہوں نے کیا کہا تھا ؟25 یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے ٹھپّہ لگا دیا ہے اور یہ اپنی خواہشات کے پیرو بنے ہوئے ہیں۔26

رہے وہ لوگ جنہوں نے ہدایت پائی ہے، اللہ ان کو اور زیادہ ہدایت دیتا ہے27 اور انہیں ان کے حصے کا تقوٰی عطا فرماتا ہے۔28

اب کیا یہ لوگ بس قیامت ہی کے منتظر ہیں کہ وہ اچانک ان پر آجائے؟29 اس کی علامات تو آچکی ہیں۔30 جب وہ خود آجائے گی تو ان کے لیے نصیحت قبول کرنے کا کونسا موقع باقی رہ جائے گا؟

پس اے نبیؐ، خوب جان لو کہ اللہ کےسوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے، اور معافی مانگو اپنے قصور کے لیے بھی اور مومن مردوں اور عورتوں کے لیے بھی۔31 اللہ تمہاری سرگرمیوں کو بھی جانتا ہے اور تمہارے ٹھکانے سے بھی واقف ہے۔ ؏۲

جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ کہہ رہے تھے کہ کوئی سورت کیوں نہیں نازل کی جاتی( جس میں جنگ کو حکم دیا جائے)۔ مگر جب ایک محکم سورت نازل کر دی گئی جس میں جنگ کا ذکر تھا تو تم نے دیکھا کہ جن کے دلوں میں بیماری تھی وہ تمہاری طرف اس طرح دیکھ رہے ہیں جیسے کسی پر موت چھاگئ ہو۔32 افسوس ان کے حال پر۔

(ان کی زبان پر ہے) اطاعت کا اقرار اور اچھی اچھی باتیں ۔ مگر جب قطعی حکم دے دیا گیا اس وقت وہ اللہ سے اپنے عہد میں سے سچے نکلتے تو انہی کے لیے اچھا تھا۔

اب کیا تم لوگوں سے اس کے سوا کچھ اور توقع کی جا سکتی ہے کہ اگر تم الٹے منہ پھر گئے33 تو زمین میں پھر فساد بر پا کرو گے اور آپس میں ایک دوسرے کے گلے کاٹو گے؟34

یہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان کو اندھا اور بہرا بنا دیا۔

کیا ان لوگوں نے قرآن پر غور نہیں کیا، یا دلوں پر ان کے قفل چڑھے ہوئے ہیں؟35

حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہدایت واضح ہو جانے کے بعد اس سے پھر گئے ان کے لیے شیطان نے اس روش کو سہل بنا دیا ہے اور جھوٹی توقعات کا سلسلہ ان کے لیے دراز کر رکھا ہے۔

اسی لیے انہوں نے اللہ کے نازل کردہ دین کو ناپسند کرنے والوں سے کہہ دیا کہ بعض معاملات میں ہم تمہاری مانیں گے۔36 اللہ ان کی یہ خفیہ باتیں خوب جانتا ہے۔

پھر اس وقت کیا حال ہو گا جب فرشتے ان کی روحیں قبض کریں گے اور ان کے منہ اور پیٹھوں پر مارتے ہوئے انھیں لے جائیں گے؟37

یہ اسی لیے تو ہوگا کہ انہوں نے اس طریقے کی پیروی کی جو اللہ کو ناراض کرنے والا ہے اور کی رضا کا راستہ اختیار کرنا پسند نہ کیا۔ اسی بنا پر اس نے ان کے سب اعمال ضائع کر دیے۔38 ؏۳

کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ اللہ ان کے دلوں کے کھوٹ ظاہر نہیں کرے گا؟

ہم چاہیں تو انہیں تم کو آنکھوں سے دکھائیں اور ان کے چہروں سے تم ان کو پہچان لو۔ مگر ان کے اندازِ کلام سے تو تم ان کو جان ہی لو گے۔ اللہ تم سب کے اعمال سے خوب واقف ہے۔

ہم ضرور تم لوگوں کو آزمائش میں ڈالیں گے تا کہ تمہارے حالات کی جانچ کریں اور دیکھ لیں کہ تم میں مجاہداور ثابت قدم کون ہیں۔

جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا اور رسول سے جھگڑا کیا جبکہ ان پر راہ راست واضح ہو چکی تھی، درحقیقت وہ اللہ کا کوئی نقصان بھی نہیں کر سکتے ، بلکہ اللہ ہی ان کا سب کیا کرایا غارت کر دے گا۔39

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تم اللہ کی اطاعت کرو اوررسول کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو بر باد نہ کر لو۔40

کفر کرنے والوں اور راہِ خدا سے روکنے والوں اور مرتے دم تک کفر پر جمے رہنے والوں کو تو اللہ ہرگز معاف نہ کرے گا۔

پس تم بودے نہ بنو اور صلح کی درخواست نہ کرو۔41 تم ہی غالب رہنے والے ہو۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے اور تمہارے اعمال کو وہ ہر گز ضائع نہ کریگا۔

یہ دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور تماشا ہے۔42 اگر تم ایمان رکھو اور تقوٰی کی روش پر چلتے رہو تو اللہ تمہارے اجر تم کو دے گا اور وہ تمہارے مال تم سے نہ مانگے گا۔43

اگر کہیں وہ تمہارے مال تم سے مانگ لے اور سب کے سب تم سے طلب کر لے تو تم بخل کرو گے اور وہ تمہارے کھوٹ اُبھار لائے گا۔44

دیکھو، تم لوگوں کو دعوت دی جا رہی ہے کہ اللہ راہ میں مال خرچ کرو۔ اس پر تم میں سے کچھ لوگ ہیں جو بخل کر رہے ہیں، حالانکہ جو بخل کرتا ہے وہ درحقیقت اپنے آپ ہی سے بخل کر رہا ہے۔ اللہ تو غنی ہے، تم ہی اس کے محتاج ہو۔ اگر تم منہ موڑو گے تو اللہ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا اور وہ تم جیسے نہ ہوں گے۔ ؏۴