ح۔م۔
اِس کتاب کا نزُول اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست ہے ،
سب کچھ جاننے والا ہے ، گناہ معاف کرنے والا اور توبہ قبول کرنے والا ہے، سخت سزا دینے والا اور بڑا صاحبِ فضل ہے۔ کوئی معبُود اس کے سوا نہیں، اُسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے۔ 1
اللہ کی آیات میں جھگڑے 2 نہیں کرتے مگر صرف وہ لوگ جنہوں نے کُفر کیا ہے۔ 3 اِس کے بعد دنیا کے ملکوں میں اُن کی چَلَت پھِرَت تمہیں کسی دھوکے میں نہ ڈالے۔ 4
اِن سے پہلے نوحؑ کی قوم بھی جھُٹلا چکی ہے، اور اُس کے بعد بہت سے دُوسرے جتّھوں نے بھی یہ کام کیا ہے۔ ہر قوم اپنے رسُول پر جھپٹی تاکہ اُسے گرفتار کرے۔ اُن سب نے باطل کے ہتھیاروں سے حق کو نیچا دکھانے کی کوشش کی۔ مگر آخر کار میں نے ان کو پکڑ لیا، پھر دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی۔
اِسی طرح تیرے ربّ کا یہ فیصلہ بھی اُن سب لوگوں پر چسپاں ہو چکا ہے جو کُفر کے مرتکب ہوئے ہیں کہ وہ واصلِ جہنّم ہونے والے ہیں۔ 5
عرشِ الہٰی کے حامل فرشتے ، اور وہ جو عرش کے گردو پیش حاضر رہتے ہیں، سب اپنے ربّ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کر رہے ہیں۔ وہ اس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان لانے والوں کے حق میں دُعائے مغفرت کرتے ہیں۔ 6 وہ کہتے ہیں”اے ہمارے ربّ ، تُو اپنی رحمت اور اپنے علم کے ساتھ ہر چیز پر چھایا ہوا ہے، 7 پس معاف کردے اور عذابِ دوزخ سے بچالے 8 اُن لوگوں کو جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرا راستہ اختیار کر لیا ہے۔ 9
اے ہمارے ربّ، اور داخل کر اُن کو ہمیشہ رہنے والی اُن جنّتوں میں جن کا تُو نے اُن سے وعدہ کیا ہے 10 ، اور اُن کے والدین اور بیویوں اور اولاد میں سے جو صالح ہوں ( اُن کو بھی وہاں اُن کے ساتھ ہی پہنچا دے 11 )۔ تُو بلاشبہ قادرِ مطلق اور حکیم ہے۔
اور بچا دے اُن کو برائیوں سے 12 ۔ جس کو تُو نے قیامت کے دن بُرائیوں سے 13 بچا دیا اُس پر تُو نے بڑا رحم کیا ، یہی بڑی کامیابی ہے۔“ ؏١
جن لوگوں نے کُفر کیا ہے ، قیامت کے روز اُن کو پکار کر کہا جائے گا” آج تمہیں جتنا شدید غصّہ اپنے اُوپر آرہا ہے، اللہ تم پر اُس سے زیادہ غضب ناک اُس وقت ہوتا تھا جب تمہیں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھا اور تم کُفر کرتے تھے۔“ 14
وہ کہیں گے” اے ہمارے ربّ ، تُو نے واقعی ہمیں دو دفعہ موت اور دو دفعہ زندگی دے دی، 15 اب ہم اپنے قصُوروں کا اعتراف کرتے ہیں، 16 کیا اب یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی سبیل ہے؟“ 17
(جواب ملے گا)”یہ حالت جس میں تم مبتلا ہو، اس وجہ سے ہے کہ جب اکیلے اللہ کی طرف بُلایا جاتا تھا تو تم ماننے سے انکار کر دیتے تھے اور جب اُس کے ساتھ دُوسروں کو مِلایا جاتا تو تُم مان لیتے تھے۔ اب فیصلہ اللہ بزرگ و برتر کے ہاتھ ہے۔ 18
وہی ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے 19 اور آسمان سے تمہارےلیے رزق نازل کرتا ہے، 20 مگر (اِن نشانیوں کے مشاہدے سے)سبق صرف وہی شخص لیتا ہے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔ 21
(پس اے رجوع کرنے والو)اللہ ہی کو پکارو اپنے دین کو اُس کے لیے خالص کر کے، 22 خواہ تمہارا یہ فعل کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔
وہ بلند درجوں والا، 23 مالکِ عرش ہے۔ 24 اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے رُوح نازل کردیتا ہے 25 تاکہ وہ ملاقات کے دن 26 سے خبردار کر دے۔
وہ دن جبکہ سب لوگ بے پردہ ہوں گے، اللہ سے ان کی کوئی بات بھی چھُپی ہوئی نہ ہوگی۔ (اُس روز پکار کر پُوچھا جائے گا)آج بادشاہی کس کی ہے؟ 27 (سارا عالم پکار اُٹھے گا)اللہ واحد قہّار کی۔
(کہا جائے گا)آج ہر متنفّس کو اُس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے گا جو اس نے کی تھی۔ آج کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔ 28 اور اللہ حساب لینے میں بہت تیز ہے۔ 29
اے نبیؐ ، ڈرا دو اِن لوگوں کو اُس دن سے جو قریب آلگا ہے۔ 30 جب کلیجے مُنہ کو آرہے ہوں گے اور لوگ چُپ چاپ غم کے گھُونٹ پیے کھڑے ہوں گے۔ ظالموں کا نہ کوئی مشفق دوست ہوگا 31 اور نہ کوئی شفیع جس کی بات مانی جائے۔ 32
اللہ نگاہوں کی چوری تک سے واقف ہے اور وہ راز تک جانتا ہے جو سینوں نے چھُپا رکھے ہیں۔
اور اللہ ٹھیک ٹھیک بےلاگ فیصلہ کرے گا۔ رہے وہ جن کو (یہ مشرکین)اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہیں ، وہ کسی چیز کا بھی فیصلہ کرنے والے نہیں ہیں ۔ بلاشبہ اللہ ہی سب کچھ سُننے اور دیکھنے والا ہے۔ 33 ؏۲
کیا یہ لوگ کبھی زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ انہیں اُن لوگوں کا انجام نظر آتا جو اِن سے پہلے گزر چکے ہیں؟ وہ اِن سے زیادہ طاقت ور تھے اور ان سے زیادہ زبردست آثار زمین میں چھوڑ گئے ہیں۔ مگر اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑ لیا اور اُن کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہ تھا۔
یہ ان کا انجام اس لیے ہوا کہ ان کے پاس اُن کے رسُول بیّنات 34 لے کر آئے اور انہوں نے ماننے سے انکار کر دیا۔ آخر کار اللہ نے ان کو پکڑ لیا، یقیناً وہ بڑی قوّت والا اور سزا دینے میں بہت سخت ہے۔
ہم نے موسیٰؑ 35 کو اپنی نشانیوں اور نمایاں سَنَدِ ماموریت 37 کے ساتھ بھیجا،
فرعون اور ہامان 36 اور قارُون کی طرف مگر انہوں کہا” ساحر ہے، کذّاب ہے۔“
پھر جب وہ ہماری طرف سے حق ان کے سامنے لے آیا 38 تو انہوں نے کہا” جو لوگ ایمان لا کر اس کے ساتھ شامل ہوئے ہیں ان سب کے لڑکوں کو قتل کرو اور لڑکیوں کو جیتا چھوڑ دو۔“ 39 مگر کافروں کی چال اکارت گئی۔ 40
41 ایک روز فرعون نے اپنے درباریوں سے کہا” چھوڑو مجھے، میں اِس موسیٰؑ کو قتل کیے دیتا ہوں، 42 اور پکار دیکھے یہ اپنے ربّ کو۔ مجھے اندیشہ ہے کہ یہ تمہارا دین بدل ڈالے گا، یا ملک میں فساد برپا کرے گا۔“ 43
موسیٰؑ نے کہا”میں نے تو ہر اُس متکبّر کے مقابلے میں جو یوم الحساب پر ایمان نہیں رکھتا اپنے ربّ اور تمہارے ربّ کی پناہ لے لی ہے۔“ 44 ؏۳
اس موقع پر آلِ فرعون میں سے ایک مومن شخص، جو اپنا ایمان چھُپائے ہوئے تھا، بول اُٹھا” کیا تم ایک شخص کو صرف اِس بنا پر قتل کر دو گے کہ وہ کہتا ہے میرا ربّ اللہ ہے؟ حالانکہ وہ تمہارے ربّ کی طرف سے تمہارے پاس بیّنات لے 45 آیا۔ اگر وہ جھُوٹا ہے تو اس کا جھُوٹ خود اسی پرپلٹ پڑے گا۔ 46 لیکن اگر وہ سچا ہے تو جن ہولناک تنائج کا وہ تم کو خوف دلاتا ہے ان میں سے کچھ تو تم پر ضرور ہی آجائیں گے۔ اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزر جانے والا اور کذّاب ہو۔ 47
اے میری قوم کے لوگو! آج تمہیں بادشاہی حاصل ہے اور زمین میں تم غالب ہو، لیکن اگر خدا کا عذاب ہم پر آگیا تو پھر کون ہے جو ہماری مدد کر سکے گا۔“ 48 فرعون نے کہا”میں تو تم لوگوں کو وہی رائے دے رہا ہوں جو مجھے مناسب نظر آتی ہے ۔ اور میں اُسی راستے کی طرف تمہاری رہنمائی کرتا ہوں جو ٹھیک ہے۔“ 49
وہ شخص جو ایمان لایاتھا اُس نے کہا” اے میری قوم کے لوگو، مجھے خوف ہے کہ کہیں تم پر بھی وہ دن نہ آجائے جو اس سے پہلے بہت سے جتّھوں پر آچکا ہے،
جیسا دن قومِ نوحؑ ، اور عاد اور ثمود اور ان کے بعد والی قوموں پر آیا تھا۔ اور یہ حقیقت ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا۔ 50
اے قوم، مجھے ڈر ہے کہ کہیں تم پر فریاد و فغاں کا دن نہ آجائے
جب تم ایک دُوسرے کو پکارو گے اور بھاگے بھاگے پھرو گے، مگر اُس وقت اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔ سچ یہ ہے کہ جسے اللہ بھٹکا دے اُسے پھر کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہوتا۔
اس سے پہلے یوسُفؑ تمہارے پاس بیّنات لے کر آئے تھے مگر تم اُن کی لائی ہوئی تعلیم کی طرف سے شک میں پڑے رہے۔ پھر جب اُن کا انتقال ہوگیا تو تم نے کہا اب اُن کے بعد اللہ کوئی رسُول ہر گز نہ بھیجے گا 51 “۔۔۔۔ 52 اِسی طرح اللہ اُن سب لوگوں کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے جو حد سے گزرنے والے اور شکّی ہوتے ہیں
اور اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی سَنَد یا دلیل آئی ہو۔ 53 یہ رویّہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے نزدیک سخت مبغوض ہے۔ اِسی طرح اللہ ہر متکبّر و جبّار کے دل پر ٹھپّہ لگا دیتا ہے۔ 54
فرعون نے کہا”اے ہامان، میرے لیے ایک بلند عمارت بنا تاکہ میں راستوں تک پہنچ سکوں ،
آسمانوں کے راستوں تک ، اور موسیٰؑ کے خدا کو جھانک کر دیکھوں۔ مجھے تو یہ موسیٰؑ جھُوٹا ہی معلوم ہوتا ہے۔“ 55 ۔۔۔۔ اس طرح فرعون کے لیے اس کی بدعملی خوشنما بنادی گئی اور وہ راہِ راست سے روک دیا گیا۔ فرعون کی ساری چال بازی (اُس کی اپنی)تباہی کے راستہ ہی میں صَرف ہوئی ۔ ؏۴
وہ شخص جو ایمان لایا تھا ،بولا”اے میری قوم کے لوگو، میری بات مانو، میں تمہیں صحیح راستہ بتاتا ہوں۔
اے قوم، یہ دُنیا کی زندگی تو چند روزہ ہے، 56 ہمیشہ کے قیام کی جگہ آخرت ہی ہے۔
جو بُرائی کرے گا اُس کو اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنی اُس نے برائی کی ہوگی۔ اور جو نیک عمل کرے گا ، خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ ہو وہ مومن، ایسے سب لوگ جنّت میں داخل ہوں گے جہاں اُن کو بے حساب رزق دیا جائے گا۔
اے قوم، آخر یہ کیا ماجرا ہے کہ میں تو تم لوگوں کو نجات کی طرف بُلاتا ہوں اور تم لوگ مجھے آگ کی طرف دعوت دیتے ہو!
تم مجھے اس بات کی دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ سے کفر کروں اور اس کے ساتھ اُن ہستیوں کو شریک ٹھہراوٴں جنہیں میں نہیں جانتا 57 ، حالانکہ میں تمہیں اُس زبردست مغفرت کرنے والے خدا کی طرف بُلا رہا ہوں ۔
نہیں، حق یہ ہے اور اِس کے خلاف نہیں ہو سکتا کہ جن کی طرف تم مجھے بُلا رہے ہو اُن کے لیے نہ دنیا میں کوئی دعوت ہے اور نہ آخرت میں 58 ، اور ہم سب کو پلٹنا اللہ ہی کی طرف ہے ، اور حد سے گزرنے والے 59 آگ میں جانے والے ہیں۔
آج جو کچھ میں کہہ رہا ہوں، عنقریب وہ وقت آئے گا جب تم اُسے یاد کرو گے۔ اور اپنا معاملہ میں اللہ کے سپرد کرتا ہوں، وہ اپنے بندوں کا نگہبان ہے۔“ 60
آخر کار اُن لوگوں نے جو بُری سے بُری چالیں اُس مومن کے خلاف چلیں، اللہ نے اُن سب سے اُس کو بچا لیا 61 ، اور فرعون کے ساتھی خود بدترین عذاب کے پھیر میں آگئے۔ 62
دوزخ کی آگ ہے جس کے سامنے صبح و شام وہ پیش کیے جاتے ہیں، اور جب قیامت کی گھڑی آجائے گی تو حکم ہوگا کہ آلِ فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کرو۔ 63
پھر ذرا خیال کرو اُس وقت کا جب یہ لوگ دوزخ میں ایک دُوسرے سے جھگڑ رہے ہوں گے۔ دنیا میں جو لوگ کمزور تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے کہ ” ہم تمہارے تابع تھے، اب کیا یہاں تم نارِ جہنّم کی تکلیف کے کچھ حصّے سے ہم کو بچا لو گے؟“ 64
وہ بڑے بننے والے جواب دیں گے”ہم سب یہاں ایک حال میں ہیں، اور اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کر چکا ہے۔“ 65
پھر یہ دوزخ میں پڑے ہوئے لوگ جہنّم کے اہل کاروں سے کہیں گے”اپنے ربّ سے دعا کرو کہ ہمارے عذاب میں بس ایک دن کی تخفیف کر دے۔“
وہ پوچھیں گے” کیا تمہارے پاس تمہارے رسُول بیّنات لے کر نہیں آتے رہے تھے؟“وہ کہیں گے”ہاں۔“ جہنّم کے اہل کار بولیں گے”پھر تو تم ہی دُعا کرو ، اور کافروں کی دُعا اکارت ہی جانے والی ہے۔“ 66 ؏۵
یقین جانو کہ ہم اپنے رسولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد اِس دُنیا کی زندگی میں بھی لازماً کرتے ہیں،67 اور اُس روز بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے،68
جب ظالموں کو ان کی معذرت کچھ بھی فائدہ نہ دے گی اور اُن پر لعنت پڑے گی اور بدترین ٹھکانا اُن کے حصّے میں آئے گا۔
آخر دیکھ لو کہ موسیٰؑ کی ہم نے رہنمائی کی 69اور بنی اسرائیل کو اس کتاب کا وارث بنا دیا
جو عقل و دانش رکھنے والوں کے لیے ہدایت و نصیحت تھی۔70
پس اے نبیؐ ، صبر کرو،71 اللہ وعدہ بر حق ہے72 ، اپنے قصُور کی معافی چاہو،73 اور صبح و شام اپنے ربّ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو۔74
حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ کسی سَنَد و حجّت کے بغیر جو اُن کے پاس آئی ہو، اللہ کی آیات میں جھگڑے کر رہے ہیں اُن کے دلوں میں کِبر بھرا ہوا ہے75، مگر وہ اُس بڑائی کو پہنچنے والے نہیں ہیں جس کا وہ گھمنڈ رکھتے ہیں۔76 بس اللہ کی پناہ مانگ لو،77 وہ سب کچھ دیکھتا اور سُنتا ہے۔
78آسمانوں اور زمین کا پیدا کرنا انسانوں کو پیدا کرنے کی بہ نسبت یقیناً زیادہ بڑا کام ہے ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔79
اور یہ نہیں ہو سکتا کہ اندھا اور بینا یکساں ہو جائے اور ایماندار و صالح اور بدکار برابر ٹھہریں۔ مگر تم لوگ کم ہی کچھ سمجھتے ہو۔80
یقیناً قیامت کی گھڑی آنے والی ہے ، اس کے آنے میں کوئی شک نہیں، مگر اکثر لوگ نہیں مانتے۔81
82تمہارا ربّ کہتا ہے”مجھے پُکارو، میں تمہاری دُعائیں قبول کروں گا،83 جو لوگ گھمنڈ میں آکر میری عبادت سے مُنہ موڑتے ہیں، ضرور وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنّم میں داخل ہوں گے۔“84 ؏۶
وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی تاکہ تم اس میں سکون حاصل کرو، اور دن کو روشن کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے مگر اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔ 85
وہی اللہ (جس نے تمہارے لیے یہ کچھ کیا ہے)تمہارا ربّ ہے ۔ ہر چیز کا خالق۔ اس کے سوا کوئی معبُود نہیں ہے۔ 86پھر تم کدھر سے بہکائے جارہے ہو؟87
اِسی طرح وہ سب لوگ بہکائے جاتے رہے ہیں جو اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے۔88
وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کو جائے قرار بنایا، 89اور اُوپر آسمان کا گُنبد بنا دیا۔90 جس نے تمہاری صُورت بنائی اور بڑی ہی عمدہ بنائی ۔ جس نے تمہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا۔91 وہی اللہ ( جس کے یہ کام ہیں)تمہارا ربّ ہے۔ بے حساب برکتوں والا ہے وہ کائنات کا ربّ۔
وہی زندہ ہے۔92 اُس کے سوا کوئی معبُود نہیں۔ اُسی کو تم پکارو اپنے دین کو اس کے لیے خالص 93کر کے۔ ساری تعریف اللہ ربّ العالمین ہے کے لیے ہے۔94
اے نبیؐ، اِن لوگوں سے کہہ دو کہ مجھے تو اُن ہستیوں کی عبادت سے منع کر دیا گیا ہے جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو۔95 (میں یہ کام کیسے کر سکتا ہوں)جبکہ میرے پاس میرے ربّ کی طرف سے بیّنات آچکی ہیں۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ربّ العالمین کے آگے سرِ تسلیم خم کر دوں۔
وہی تو ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا،پھر نطفے سے، پھر خون کے لوتھڑے سے، پھر وہ تمہیں بچے کی شکل میں نکالتا ہے، پھر تمہیں بڑھاتا ہے تاکہ تم اپنی پوری طاقت کو پہنچ جاوٴ، پھر اور بڑھاتا ہے تاکہ تم بُڑھاپے کو پہنچو۔ اور تم میں سے کوئی پہلے ہی واپس بُلا لیا جاتا ہے۔96 یہ سب کچھ اس لیے کیا جاتا ہے تاکہ تم اپنے مقرر وقت تک پہنچ جاوٴ،97 اور اس لیے تم حقیقت کو سمجھو۔ 98
وہی ہے زندگی دینے والا، اور وہی موت دینے والا ہے۔ وہ جس بات کا بھی فیصلہ کرتا ہے، بس ایک حکم دیتا ہے کہ وہ ہو جائے اور وہ ہو جاتی ہے۔ ؏۷
تم نے دیکھا اُن لوگوں کو جو اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں، کہاں سے وہ پھرائے جا رہے ہیں؟99
یہ لوگ جو اِس کتاب کو اور اُن ساری کتابوں کو جھُٹلاتے ہیں جو ہم نے اپنے رسُولوں کے ساتھ بھیجی تھیں؟100 عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا
جب طوق ان کی گردنوں میں ہوں گے، اور زنجیریں، جن سے پکڑ کر وہ کھینچے جائیں گے
کھولتے ہوئے پانی کی طرف اور پھر دوزخ کی آگ میں جھونک دیے جائیں گے۔101
پھر اُن سے پوچھا جائے گا کہ اب کہاں ہیں وہ دوسرے خدا جن کو تم شریک کرتے تھے؟102
اللہ کے سوا، وہ جواب دیں گے”کھوئے گئے وہ ہم سے، بلکہ ہم اس سے پہلے کسی چیز کو نہ پکارتے تھے۔“103 اِس طرح اللہ کافروں کا گمراہ ہونا متحقق کر دے گا۔
اُن سے کہا جائے گا”یہ تمہارا انجام اِس لیے ہوا ہے کہ تم زمین میں غیر حق پر مگن تھے اور پھر اُس پر اِتراتے تھے۔ 104
اب جاوٴ ، جہنّم کے دروازوں میں داخل ہو جاوٴ، ہمیشہ تم کو وہیں رہنا ہے، بہت ہی بُرا ٹھکانا ہے متکبّرین کا۔“
پس اے نبیؐ ، صبر کرو، 105اللہ کا وعدہ بر حق ہے۔ اب خواہ ہم تمہارے سامنے ہی اِن کو اُن بُرے نتائج کا کوئی حصّہ دکھا دیں جن سے ہم اِنہیں ڈرا رہے ہیں، یا (اُس سے پہلے)تمہیں دنیا سے اُٹھا لیں ، پلٹ کر آنا تو اِنہیں ہماری ہی طرف ہے۔106
107اے نبیؐ ، تم سے پہلے ہم بہت سے رسُول بھیج چکے ہیں جن میں سے بعض کے حالات ہم نے تم کو بتائے ہیں اور بعض کے نہیں بتائے ۔ کسی رسُول کی بھی یہ طاقت نہ تھی کہ اللہ اِذن کے بغیر خود کوئی نشانی لے آتا۔108 پھر جب اللہ کا حکم آگیا تو حق کے مطابق فیصلہ کر دیا گیا اور اُس وقت غلط کار لوگ خسارے میں پڑ گئے۔109 ؏۸
اللہ ہی نے تمہارے لیے یہ مویشی جانور بنائے ہیں تاکہ ان میں سے کسی پر تم سوار ہو اور کسی کا گوشت کھاوٴ۔
ان کے اندر تمہارے لیے اور بھی بہت سے منافع ہیں۔ وہ اس کام بھی آتے ہیں کہ تمہارے دلوں میں جہاں جانے کی حاجت ہو وہاں تم اُن پر پہنچ سکو۔ اُن پر بھی اور کشتیوں پر بھی تم سوار کیے جاتے ہو۔
اللہ اپنی یہ نشانیاں تمہیں دکھا رہا ہے ، آخر تم اُس کی کِن کِن نشانیوں کا انکار کرو گے۔110
پھر کیا 111یہ زمین مین چلے پھرے نہیں ہیں کہ اِن کو اُن لوگوں کا انجام نظر آتا جو اِن سے پہلے گزر چکے ہیں ؟ وہ اِن سے تعداد میں زیادہ تھے، اِن سے بڑھ کر طاقتور تھے، اور زمین میں اِن سے زیادہ شاندار آثار چھوڑ گئے ہیں۔ جو کچھ کمائی اُنہوں نے کی تھی، آخر وہ اُن کے کس کام آئی؟
جب ان کے رسُول ان کے پاس بیّنات لے کر آئے تو وہ اُسی علم میں مگن رہے جو ان کے اپنے پاس تھا، 112اور پھر اُسی چیز کے پھیر میں آگئے جس کا وہ مذاق اُڑاتے تھے۔
جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو پکار اُٹھے کہ ہم نے مان لیا اللہ وحدہٗ لاشریک کو اور ہم انکار کرتے ہیں اُن سب معبوُدوں کا جنہیں ہم شریک ٹھہراتے تھے۔
مگر ہمارا عذاب دیکھ لینے کے بعد ان کا ایمان اُن کے لیے کچھ بھی نافع نہ ہو سکتا تھا، کیونکہ یہی اللہ کا مقرر ضابطہ ہے جو ہمیشہ اس کے بندوں میں جاری رہا ہے،113 اورا س وقت کافر خسارے میں پڑ گئے۔ ؏۹