1-10

شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

لوگو ! اپنے رب سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد و عورت دُنیا میں پھیلا دیے۔1 اُس خدا سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دُوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو، اور رشتہ و قرابت کے تعلّقات کو بگاڑنے سے پرہیز کرو۔ یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کررہا ہے۔

یتیموں کے مال اُن کو واپس دو،2 اچھے مال کو بُرے مال سے نہ بدل لو،3 اور اُن کے مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھا جاوٴ، یہ بہت بڑا گناہ ہے۔

اور اگر تم یتیموں کے ساتھ بے انصافی کرنے سے ڈرتے ہو تو جو عورتیں تم کو پسند آئیں اُن میں سے دو دو، تین تین، چار چار سے نکاح کرلو۔ 4لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ اُن کے ساتھ عدل نہ کرسکو گے تو پھر ایک ہی بیوی کرو 5یا اُن عورتوں کو زوجیّت میں لاوٴ جو تمہارے قبضہ میں آئی ہیں،6 بے انصافی سے بچنے کے لیے یہ زیادہ قرین ِصواب ہے۔

اور عورتوں کے مہر خوش دلی کے ساتھ (فرض جانتے ہوئے)ادا کرو، البتہ اگر وہ خود اپنی خوشی سے مہر کا کوئی حصّہ تمہیں معاف کردیں تو اُسے تم مزے سے کھاسکتے ہو۔7

اور اپنے وہ مال جنہیں اللہ نے تمہارے لیے قیامِ زندگی کا ذریعہ بنایا ہے، نادان لوگوں کے حوالہ نہ کرو، البتہ انہیں کھانے اور پہننے کے لیے دو اور انہیں نیک ہدایت کرو۔ 8

اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کے قابل عمر کو پہنچ جائیں۔9 پھر اگر تم اُن کے اندر اہلیت پاوٴ تو اُن کے مال اُن کے حوالے کردو۔10 ایسا کبھی نہ کرنا کہ حدِّ انصاف سے تجاوز کرکے اِس خوف سے اُن کے مال جلدی جلدی کھا جاوٴ کہ وہ بڑے ہو کر اپنے حق کا مطالبہ کریں گے۔ یتیم کا جو سر پرست مال دار ہو وہ پرہیز گاری سے کام لے اور جو غریب ہو وہ معروف طریقہ سے کھائے۔ 11پھر جب اُن کے مال اُن کے حوالے کرنے لگو تو لوگوں کو اس پر گواہ بنالو، اور حساب لینے کے لیے اللہ کافی ہے۔

مردوں کے لیے اُس مال میں حصّہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، اور عورتوں کے لیے بھی  اُس مال میں حصّہ ہے جو ماں باپ اور رشتہ داروں نے چھوڑا ہو، خواہ تھوڑا ہو یا بہت،12 اور یہ حصّہ(اللہ کی طرف سے)مقرر ہے۔

اور جب تقسیم کے موقع پر کنبہ کے لوگ اور یتیم اور مسکین آئیں تو اس مال میں سے ان کو بھی کچھ دو اور اُن کے ساتھ بھلے مانسوں کی سی بات کرو۔ 13

لوگوں کو اس بات کا خیال کرکے ڈرنا چاہیے کہ اگر وہ خود اپنے پیچھے بے بس اولاد چھوڑتے تو مرتے وقت انہیں اپنے بچّوں کے حق میں کیسے کچھ اندیشے لاحق ہوتے۔ پس چاہیے کہ وہ خدا کا خوف کریں اور راستی کی بات کریں۔

جو لوگ ظلم کے ساتھ یتیموں کے مال کھاتے ہیں درحقیقت وہ اپنے پیٹ آگ سے بھرتے ہیں اور وہ ضرور جہنّم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائیں گے۔ 14؏۱

11-14

تمہاری اولاد کے بارے میں اللہ تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ  :
مرد کا حصّہ دو عورتوں کے برابر ہے،اگر 15

(میّت کی وارث)دو سے زائد لڑکیاں ہو ں تو انہیں ترکے کا دو تہائی دیا جائے۔16
اور اگر ایک ہی لڑکی وارث ہو تو آدھا ترکہ اس کا ہے۔
اگر میّت صاحبِ اولاد ہو تو اس کے والدین میں سے ہر ایک کو ترکے کا چھٹا حصّہ مِلنا چاہیے۔17
اور اگر وہ صاحبِ اولاد نہ ہو اور والدین ہی اس کے وارث ہوں تو ماں کو تیسرا حصّہ دیا جائے۔18
اور اگر میّت کے بھائی بہن بھی ہوں تو ماں چھٹے حصّہ کی حق دار ہوگی۔19
(یہ سب حصّے اُس وقت نکالے جائیں گے)جبکہ وصیّت جو میّت نے کی ہو پُوری کردی جائے اور قرض جو اُس پر ہو ادا کردیا جائے۔20
تم نہیں جانتے کہ تمہارے ماں باپ اور تمہاری اولاد میں سے کون بلحاظ نفع تم سے قریب تر ہے۔ یہ حصّے اللہ نے مقرر کردیے ہیں، اور اللہ یقیناً سب حقیقتوں سے واقف اور ساری مصلحتوں کا جاننے والا ہے۔21
اور تمہاری بیویوں نے جو کچھ چھوڑا ہو اس کا آدھا حصّہ تمہیں ملے گا اگر وہ بے اولاد ہوں، ورنہ اولاد ہونے کی صُورت میں ترکہ کا ایک چوتھائی حصّہ تمہارا ہے جبکہ وصیّت جو انہوں نے کی ہو پوری کردی جائے، اور قرض جو اُنہوں نے چھوڑا ہو ادا کردیا جائے۔ اور وہ تمہارے ترکہ میں سے چوتھائی کی حق دار ہوں گی اگر تم بے اولاد ہو، ورنہ صاحبِ اولاد ہونے کی صُورت میں اُن کا حصّہ آٹھواں ہوگا،22 بعد اس کے کہ جو وصیّت تم نے کی ہو وہ پُوری کردی جائے اور جو قرض تم نے چھوڑا ہو وہ ادا کردیا جائے۔
اور اگر وہ مرد یا عورت (جس کی میراث تقسیم طلب ہے)بے اولاد بھی ہو اور اس کے ماں باپ بھی زندہ نہ ہوں، مگر اس کا ایک بھائی یا ایک بہن موجود ہوتو بھائی اور بہن ہر ایک کو چھٹا حصّہ ملے گا، اور بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو کُل ترکہ کے ایک تہائی میں وہ سب شریک ہوں گے،23 جبکہ وصیّت جو کی گئی ہو پوری کردی جائے، اور قرض جو میّت نے چھوڑا ہو ادا کردیا جائے، بشرطیکہ وہ ضرر رساں نہ ہو۔24 یہ حکم ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ دانا و بینا اور نرم خُو ہے۔25

یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں۔ جو اللہ اور اُس کے رسُولؐ  کی اطاعت کرے گا اُسے اللہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہے گا اور یہی بڑی کامیابی ہے۔ اور جو اللہ اور اُس کے رسُول ؐ  کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز کر جائے گا اُسے اللہ آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے رسوا کُن سزا ہے۔25a  ؏۲

15-22

تمہاری عورتوں میں سے جو بدکاری کی مرتکب ہوں اُن پر اپنے میں سے چار آدمیوں کی گواہی لو، اور اگر چار آدمی گواہی دے دیں تو ان کو گھروں میں بند رکھو یہاں تک کہ انہیں موت آجائے یا اللہ اُن کے لیے کوئی راستہ نکال دے۔ اور تم میں سے جو اس فعل کا ارتکاب کریں اُن دونوں کو تکلیف دو، پھر اگر وہ توبہ کریں اور اپنی اصلاح کرلیں تو انہیں چھوڑ دو کہ اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ 26
ہاں یہ جان لو کہ اللہ پر توبہ کی قبولیّت کا حق اُنہی لوگوں کے لیے ہے جو نادانی کی وجہ سے کوئی بُرا فعل کر گزرتے ہیں اور اس کے بعد جلدی ہی توبہ کر لیتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر اللہ اپنی نظرِ عنایت سے پھر متوجّہ ہو جاتا ہے اور اللہ ساری باتوں کی خبر رکھنے والا اور حکیم و دانا ہے۔ مگر توبہ اُن لوگوں کے لیے نہیں ہے جو بُرے کام کیے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت کا وقت آ جاتا ہے اُس وقت وہ کہتا ہے کہ اب میں نے توبہ کی۔ اور اسی طرح توبہ اُن کے لیے بھی نہیں ہے جو مرتے دم تک کافر رہیں۔ ایسے لوگوں کے لیے تو ہم نے درد ناک سزا تیار کر رکھی ہے۔27

 اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہارے لیے یہ حلال نہیں ہے کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو۔28 اور نہ یہ حلال ہے کہ انہیں تنگ کرکے اُس مَہر کا کچھ حصّہ اُڑا لینے کی کوشش کرو جو تم انہیں دے چکے ہو۔ ہاں اگر وہ کسی صریح بدچلنی کی مرتکب ہوں (تو ضرور تمہیں تنگ کرنے کا حق ہے)۔29 ان کے ساتھ بھلے طریقے سے زندگی بسر کرو۔ اگر وہ تمہیں ناپسند ہوں تو ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند نہ ہو مگر اللہ نے اُسی میں بہت کچھ بَھلائی رکھ دی ہو۔30 اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دُوسری بیوی لے آنے کا ارادہ ہی کرلو تو خواہ تم نے اُسے ڈھیر سا مال ہی کیوں نہ دیا ہو، اس میں سے کچھ واپس نہ لینا۔ کیا تم اُسے بہتان لگا کر اور صریح ظلم کرکے واپس لوگے؟ اور آخر تم اُسے کس طرح لے لوگے جب کہ تم ایک دُوسرے سے لُطف اندوز ہو چکے ہو اور وہ تم سے پختہ عہد لے چکی ہیں؟31

اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کر چکے ہوں اُن سے ہرگز نکاح نہ کرو، مگر جو پہلے ہوچکا سو ہوچکا۔32 درحقیقت یہ ایک بے حیائی کا فعل ہے، ناپسندیدہ ہے اور بُرا چلن ہے۔33  ؏۳

23-25

تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں،34 بیٹیاں،35 بہنیں،36 پُھوپھیاں، خالائیں، بھتیجیاں، بھانجیاں،37 اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دُودھ پلایا ہو، اور تمہاری دُودھ شریک بہنیں،38 اور تمہاری بیویوں کی مائیں،39 اور تمہاری بیویوں کی لڑکیاں جنہوں نے تمہاری گودوں میں پرورش پائی ہے۔۔۔۔ 40اُن بیویوں کی لڑکیاں جن سے تمہارا تعلّقِ زن و شو ہوچکا ہو۔ورنہ اگر (صرف نکاح ہوا ہو اور)تعلقِ زن و شو نہ ہوٴا ہو تو (انہیں چھوڑ کر ان کی لڑکیوں سے نکاح کر لینے میں)تم  پرکوئی مواخذہ نہیں ہے ۔۔۔۔ اور تمہارے اُن بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری صُلب سے ہوں۔41 اور یہ بھی تم پر حرام کیا گیا ہے کہ ایک نکاح میں دو بہنوں کو جمع کرو،42 مگر جو پہلے ہو گیا سو ہو گیا، اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔43 اور وہ عورتیں بھی تم پر حرام ہیں جو کسی دُوسرے کے نکاح میں ہوں (مُحْصَنَات)البتہ ایسی عورتیں اس سے مستثنٰی ہیں جو (جنگ میں)تمہارے ہاتھ آئیں۔44 یہ اللہ کا قانون ہے جس کی پابندی تم پر لازم کردی گئی ہے۔

اِن کے ما سوا جتنی عورتیں ہیں انہیں اپنے اموال کے ذریعہ سے حاصل کرنا تمہارے لیے حلال کردیا گیا ہے، بشرطیکہ حصارِ نکاح میں اُن کو محفوظ کرو، نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو۔ پھر جو ازدواجی زندگی کا لُطف تم ان سے اُٹھاوٴ اس کے بدلے اُن کے مَہر بطور فرض کے ادا کرو، البتّہ مَہر کی قرار داد ہو جانے کے بعد آپس کی رضامندی سے تمہارے درمیان اگر کوئی سمجھوتہ ہوجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں، اللہ علیم اور دانا ہے۔ اور جو شخص تم میں سے اتنی مقدرت نہ رکھتا ہو کہ خاندانی مسلمان عورتوں (مُحْصَنَات)سے نکاح کرسکے اسے چاہیے کہ تمہاری اُن لونڈیوں میں سے کسی کے ساتھ نکاح کرلے جو تمہارے قبضہ میں ہوں اور مومنہ ہوں۔ اللہ تمہارے ایمانوں کا حال خُوب جانتا ہے، تم سب ایک ہی گروہ کے لوگ ہو،45 لہٰذا اُن کے سرپرستوں کی اجازت سے اُن کے ساتھ نکاح کرلو اور معرُوف طریقہ سے اُن کے مہر ادا کردو، تاکہ وہ حصارِ نکاح میں محفوظ (مُحْصَنَات)ہو کر رہیں، آزاد شہوت رانی نہ کرتی پھریں اور نہ چوری چھُپے آشنائیاں کریں۔ پھر جب وہ حصارِ نکاح میں محفوظ ہوجائیں اور اس کے بعد کسی بد  چلنی کی مرتکب ہوں تو ان پر اس سزا کی بنسبت آد ھی سزا ہے۔ جو خاندانی عورتوں (مُحصنَات)کے لیے مقرر ہے۔46 یہ سہولت47 تم میں سے اُن لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے جن کو شادی نہ کرنے سے بندِ تقویٰ کے ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہو۔ لیکن اگر تم صبر کرو تو یہ تمہارے لیے بہتر ہے، اور اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔   ؏۴

26-33

اللہ چاہتا ہے کہ تم پر اُن طریقوں کو واضح کرے اور اُنہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صلحاء کرتے تھے۔ وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجّہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے، اور وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی۔48 ہاں، اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجّہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشاتِ نفس کی پیروی کررہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہِ راست سے ہٹ کر دُور نکل جاوٴ۔49 اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے۔

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، آپس میں ایک دُوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھاوٴ، لین دین ہونا چاہیے آپس کی رضا مندی سے۔ 50اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ 51 یقین مانو کہ اللہ تمہارے اُوپر مہربان ہے۔52 جو شخص ظلم و زیادتی کے ساتھ ایسا کرے گا اُس کو ہم ضرور آگ میں جھونکیں گے اور یہ اللہ کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ اگر تم اُن بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے رہو جن سے تمہیں منع کیا جارہا ہے تو تمہاری چھوٹی موٹی بُرائیوں کو ہم تمہارے حساب سے ساقط کردیں گے53 اور تم کو عزّت کی جگہ داخل کریں گے۔

اور جو کچھ اللہ نے تم میں سے کسی کو دُوسروں کے مقابلے میں زیادہ دیا ہے اس کی تمنّا نہ کرو۔ جو کچھ مَردوں نے کمایا ہے اُس کے مطابق ان کا حصّہ ہے اور جو کچھ عورتوں  نے کمایا ہے اس کے مطابق اُن کا حصّہ۔ ہاں اللہ سے اس کے فضل کی دُعا مانگتے رہو، یقیناً اللہ ہر چیز کا عِلم رکھتا ہے۔54

اور ہم نے ہر اُس ترکے کے حق دار مقرر کردیے ہیں جو والدین اور رشتہ دار چھوڑیں۔ اب رہے وہ لوگ جن سے تمہارے عہدو پیمان ہوں تو ان کا حصّہ انہیں دو، یقیناً اللہ ہر چیز پر نگراں ہے۔55 ؏۵

34-42

مرد عورتوں پر قوّام ہیں،56 اس بنا پر کہ اللہ نے اُن میں سے ایک کو دُوسرے پر فضیلت دی ہے،57 اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔ پس جو صالح عورتیں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں اور مردوں کے پیچھے اللہ کی حفاظت و نگرانی میں اُن کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں۔58 اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہو انہیں سمجھاوٴ، خواب گاہوں میں اُن سے علیحدہ رہو اور مارو،59 پھر اگر وہ تمہاری مطیع ہو جائیں تو خواہ مخواہ ان پر دست درازی کے لیے بہانے تلاش نہ کرو، یقین رکھو کہ اُوپر اللہ موجود ہے جو بڑا اور بالاتر ہے۔ اور اگر تم لوگوں کو کہیں میاں اور بیوی کے تعلّقات بگڑجانے کا اندیشہ ہو تو ایک حَکَم مرد کے رشتہ داروں میں سے اور ایک عورت کے رشتہ داروں میں سے مقرر کرو، وہ دونوں60 اصلاح کرنا چاہیں گے تو اللہ اُن کے درمیان موافقت کی صُورت نکال دے گا، اللہ سب کچھ جانتا ہے اور باخبر ہے۔61

اور تم سب اللہ کی بندگی کرو، اُس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بناوٴ، ماں باپ کے ساتھ نیک برتاوٴ کرو، قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حُسنِ سلوک سے پیش آوٴ، اور پڑوسی رشتہ دار سے، اجنبی ہمسایہ سے، پہلو کے ساتھی62 اور مسافر سے، اور اُن لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضہ میں ہوں، احسان کا معاملہ رکھو، یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کرے۔ اور ایسے لوگ بھی اللہ کو پسند نہیں ہیں جو کنجوسی کرتے ہیں اور دُوسروں کو بھی کنجوسی کی ہدایت کرتے ہیں اور جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے اُسے چُھپاتے ہیں۔63 ایسے کافِر نعمت لوگوں کے لیے ہم نے رسوا کُن عذاب مہیّا کر رکھا ہے۔ اور وہ لوگ بھی اللہ کو ناپسند ہیں جو اپنے مال محض لوگوں کو دکھانے کےلیے خرچ کرتے ہیں اور درحقیقت نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ روزِِ آخر پر۔ سچ ہے کہ شیطان جس کا رفیق ہوٴا اُسے بہت ہی بُری رفاقت میسّر آئی۔ آخر اِن لوگوں پر کیا آفت آجاتی اگر یہ اللہ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتے اور جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے۔ اگر یہ ایسا کرتے تو اللہ سے ان کی نیکی کا حال چُھپا  نہ رہ جاتا۔ اللہ کسی پر ذرّہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا۔ اگر کوئی ایک نیکی کرے تو اللہ اُسے دو چند کرتا ہے اور پھر اپنی طرف سے بڑا اجر عطا فرماتا ہے۔ پھر سوچو کہ اُس وقت یہ کیا کریں گے جب ہم ہر اُمّت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور ان لوگوں پر تمہیں (یعنی محمد صلی اللہ علیہ وسلم کو)گواہ کی حیثیت سے کھڑا کریں گے۔ 64اُس وقت وہ سب لوگ جنہوں نے رسُول ؐ کی بات نہ مانی اور اس کی نافرمانی کرتے رہے، تمنا کریں گے کہ کاش زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سما جائیں۔ وہاں یہ اپنی کوئی بات اللہ سے نہ چُھپا سکیں گے۔  ؏۶

43-50

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جب تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب نہ جاوٴ۔65 نماز اُس وقت پڑھنی چاہیے جب تم جانو کہ کیا کہہ رہے ہو۔66 اور اسی طرح جَنابت کی حالت67 میں بھی نماز کے قریب نہ جاوٴ جب تک کہ غسل نہ کرلو، اِلّا یہ کہ راستہ سے گزرتے ہو۔68 اور اگر کبھی ایسا ہو کہ تم بیمار ہو، یا سفر میں ہو، یا تم میں سے کوئی شخص رفع حاجت کرکے آئے، یا تم نے عورتوں سے لَمس کیا ہو،69 اور پھر پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے کام لو اور اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کرلو،70 بے شک اللہ نرمی سے کام لینے والا اور بخشش فرمانے والا ہے۔
تم نے اُن لوگوں کو بھی دیکھا جنہیں کتاب کے علم کا کچھ حصّہ دیا گیا ہے؟71 وہ خود ضلالت کے خریدار بنے ہوئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راہ گم کردو۔ اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے اور تمہاری حمایت و مدد گاری کے لیے اللہ ہی کافی ہے۔ جو لوگ یہودی بن گئے ہیں72 اُن میں کچھ لوگ ہیں جو الفاظ کو اُن کے محل سے پھیردیتے ہیں،73 اور دینِ حق کے خلاف نیش زنی کرنے کے لیے اپنی زبانوں کو توڑ موڑ کر کہتے ہیں سَمِعْنَا وَ عَصَیْنَا 74اور اِسمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ75 اور رَاعِنَا76 ۔ حالانکہ اگر وہ کہتے سَمِعْنَا وَ اَطَعْنَا، اور اِسمَعْ اور اُنْظُرْنَا  تو یہ انہی کے لیے بہتر تھا اور زیادہ راستبازی کا طریقہ تھا۔ مگر ان پر تو ان کی باطل پرستی کی بدولت اللہ کی پِھٹکار پڑی  ہوئی ہے اس لیے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں۔
اے وہ لوگو جنہیں کتاب دی گئی تھی! مان لو اُس کتاب کو جو ہم نے اب نازل کی ہے اور جو اُس کتاب کی تصدیق و تائید کرتی ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود تھی۔77 اس پر ایمان لے آوٴ قبل اس کے کہ ہم چہرے بگاڑ کر پیچھے پھیر دیں یا ان کو اسی طرح لعنت زدہ کردیں جس طرح سبت والوں کے ساتھ ہم نے کیا تھا،78 اور یاد رکھو کہ اللہ کا حکم نافذ ہو کر رہتا ہے۔ اللہ بس شرک ہی کو معاف نہیں کرتا،79 اِس کے ماسوا دُوسرے جس قدر گناہ ہیں وہ جس کے لیے چاہتا ہے معاف کردیتا ہے۔80 اللہ کے ساتھ جس نے کسی اور کو شریک ٹھیرایا اُس نے تو بہت ہی بڑا جُھوٹ تصنیف کیا اور بڑے سخت گناہ کی بات کی۔
تم نے اُن لوگوں کو بھی دیکھا جو بہت اپنی پاکیزگیِ نفس کا دم بھرتے ہیں؟ حالانکہ پاکیزگی تو اللہ ہی جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے، اور (انہیں جو پاکیزگی نہیں ملتی تو درحقیقت)ان پر ذرّہ برابر بھی ظلم نہیں کیا جاتا۔ دیکھو تو سہی، یہ اللہ پر بھی جُھوٹے افترا گھڑنے سے نہیں چُوکتے اور ان کے صریحاً گناہ گار ہونے کے لیے یہی ایک گناہ کافی ہے۔ ؏۷

51-59

کیا تم نے اُن لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کے عِلم میں سے کچھ حصّہ دیا گیا ہے اور اُن کا حال یہ ہے کہ جِبْت81 اور طاغوت82 کو مانتے ہیں اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں سے تو یہی زیادہ صحیح راستے پر ہیں۔83 ایسے ہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس پر اللہ لعنت کردے پھر تم اُس کا کوئی مددگار نہیں پاوٴگے۔ کیا حکومت میں اُن کا کوئی حصّہ ہے؟ اگر ایسا ہوتا تو یہ دُوسروں کو ایک پُھوٹی کوڑی تک نہ دیتے۔84 پھر یا یہ دُوسروں سے اس لیے حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے نواز دیا؟85 اگر یہ بات  ہے تو انہیں معلوم ہوکہ ہم نے تو ابراہیم ؑ کی اولاد کو کتاب اور حکمت عطا کی اور ملکِ عظیم  بخش دیا،86 مگر ان میں سے کوئی اس پر ایمان لایا اور کوئی اس سے منہ موڑگیا، 87اور منہ موڑنے والوں کے لیے تو بس جہنّم کی بھڑکتی ہوئی آگ  ہی کافی ہے۔ جن لوگوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کر دیا  اُنہیں با یقین ہم آگ میں جھونکیں گے اور جب ان کے بدن کی کھال گل جائے گی تو اس کی جگہ دُوسری کھال پیدا کردیں گے تاکہ وہ خوب عذاب کا مزا چکھیں، اللہ بڑی قدرت رکھتا ہے اور اپنے فیصلوں کو عمل میں لانے کی حکمت خوب جانتا ہے۔  اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو مان لیا اور نیک عمل کیے اُن کو ہم ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور اُن کو پاکیزہ بیویاں ملیں گی اور انہیں ہم گھنی چھاوٴں میں رکھیں گے۔
مسلمانو ! اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہلِ امانت کے سپرد کرو، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو، 88اللہ تم کو نہایت عمدہ نصیحت کرتا ہے اور یقیناً اللہ سب کچھ سُنتا اور دیکھتا ہے۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اطاعت کرہ اللہ کی اور اطاعت کرو رسول کی اور اُن لوگوں کی جو تم میں سے صاحبِ امر ہوں، پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہوجائے تو اسے اللہ اور رسُول کی طرف پھیردو89 اگر تم واقعی اللہ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتے ہو۔ یہی ایک صحیح طریقِ کار ہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے۔90  ؏۸

60-70

اے نبی ! تم نے دیکھا نہیں اُن لوگوں کو جو دعوٰی تو کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اُس کتاب پر جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور ان کتابوں پر جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں مگر چاہتے یہ ہیں کہ اپنے معاملات کا فیصلہ کرانے کے لیے طاغوت کی طرف رُجوع کریں، حالانکہ انہیں طاغوت سے کفر کرنے کا حکم دیا گیا تھا۔۔91 ۔۔شیطان انہیں بھٹکا کر راہِ راست سے بہت دُور لے جانا چاہتا ہے۔ اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آوٴ اُس چیز کی طرف جو اللہ نے نازل کی ہے اور آوٴ   رسولؐ  کی طرف تو ان منافقوں کو تم دیکھتے ہو کہ یہ تمہاری طرف آنے سے کتراتے ہیں۔92 پھر اس وقت کیا ہوتا ہے جب اِن کے اپنے ہاتھوں کی لائی ہوئی مصیبت ان پر آ پڑتی ہے؟ اُس وقت یہ تمہارے پاس قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں93 اور کہتے ہیں کہ خدا کی قسم ہم تو صرف بَھلائی چاہتے تھے اور ہماری نیت تو یہ تھی کہ فریقین میں کسی طرح موافقت ہوجائے ۔۔۔۔اللہ جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے، ان سے تعرّض مت کرو، انہیں سمجھاوٴ اور ایسی نصیحت کرو جو ان کے دلوں میں اُتر جائے۔ (انہیں بتاوٴ کہ)ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اسی لیے بھیجا ہے کہ اذنِ خداوندی کی بنا پر اس کی اطاعت کی جائے۔94 اگر انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیا ہوتا کہ جب یہ اپنے نفس پر ظلم کر بیٹھے تھے تو تمہارے پاس آجاتے اور اللہ سے معافی مانگتے، اور رسول بھی ان کے لیے معافی کی درخواست کرتا، تو یقیناً اللہ کو بخشنے والا اور رحم کرنے والا پاتے۔ نہیں، اے محمد ؐ !تمہارے رب کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اِختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسُوس کریں، بلکہ سربسر تسلیم کرلیں۔ 95 اگر ہم نے انہیں حکم دیا ہوتا کہ اپنے آپ کو ہلاک کردو یا اپنے گھروں سے نکل جاوٴ تو ان میں سے کم ہی آدمی اس پر عمل کرتے۔ 96حالانکہ جو نصیحت انہیں کی جاتی ہے اگر یہ اس پر عمل کرتے تو یہ ان کے لیے زیادہ بہتری اور زیادہ ثابت قدمی کا موجب ہوتا97 اور جب یہ ایسا کرتے تو ہم ا نہیں اپنی طرف سے بہت بڑا اجر دیتے اور انہیں سیدھا راستہ دکھادیتے۔ 98جو اللہ اور رسُول کی اطاعت کرے گا وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوگا جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیاء اور صدّیقین اور شہداء اور صالحین۔99 کیسے اچّھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسّر آئیں۔100 یہ حقیقی فضل ہے جو اللہ کی طرف سے ملتا ہے اور حقیقت جاننے کے لیے بس اللہ ہی کا علم کافی ہے۔ ؏۹

71-76

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، مقابلہ کے لیے ہر وقت تیار رہو،101 پھر جیسا موقع ہو الگ الگ دستوں کی شکل میں نکلویا اکٹھے ہوکر۔ ہاں، تم میں کوئی کوئی آدمی ایسا بھی ہےجو لڑائی سے جی چُراتا ہے،102 اگر تم پر کوئی مصیبت آئے تو کہتا ہے اللہ نے مجھ  پربڑا فضل کیا کہ میں اِن لوگوں کے ساتھ نہ گیا، اور اگر اللہ کی طرف سے تم پر فضل ہو تو کہتا ہے ۔۔۔۔اور اس طرح کہتا ہے کہ گویا تمہارے اور اس کے درمیان محبّت کا تو کوئی تعلق تھا ہی نہیں۔۔۔۔کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو بڑا کام بن جاتا۔ (ایسے لوگوں کو معلوم ہوکہ)اللہ کی راہ میں لڑنا چاہیے اُن لوگوں کو جو آخرت کے بدلے دُنیا کی زندگی کو فروخت کردیں،103 پھر جو اللہ کی راہ میں لڑے گا اور مارا جائے گا یا غالب رہے گا اُسے ضرور ہم اجرِ عظیم عطا کریں گے۔ آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں اُن بے بس مردوں، عورتوں اور بچّوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پاکر دبالیے گئے ہیں اور فریاد کررہے ہیں کہ خدا یا ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں، اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مددگار پیدا کردے۔104 جن لوگوں نے ایمان کا راستہ اختیار کیا ہے، وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں جنہوں نے کفر کا راستہ اختیار کیا ہے، وہ طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں،105 پس شیطان کے ساتھیوں سے لڑو اور یقین جانو کہ شیطان کی چالیں حقیقت میں نہایت کمزور ہیں۔106  ؏۱۰

77-87

تم نے اُن لوگوں کو بھی دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھو اور نماز قائم  کرو اور زکوٰة دو؟ اب جو انہیں لڑائی کا حکم دیا گیا تو ان میں سے ایک فریق کا حال یہ ہے کہ لوگوں سے ایسا ڈر رہے ہیں جیسا خدا سے ڈرنا چاہیے یا کچھ اس سے بھی بڑھ کر۔107 کہتے ہیں خدایا! یہ ہم پر لڑائی کا حکم کیوں لکھ دیا؟ کیوں نہ ہمیں ابھی کچھ اور مُہلت دی؟ ان سے کہو، دنیا کا سرمایہ زندگی تھوڑا ہے، اور آخرت ایک خدا ترس انسان کے لیے زیادہ بہتر ہے، اور تم پر ظلم ایک شمّہ برابر بھی نہ کیا جائے گا۔ 108رہی موت، تو جہاں بھی تم ہو وہ بہرحال تمہیں آکر رہے گی خواہ تم کیسی ہی مضبُوط عمارتوں میں ہو۔
اگر انہیں کوئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں یہ اللہ کی طرف سے ہے، اور اگر کوئی نقصان پہنچتا ہے تو کہتے ہیں یہ تمہاری بدولت ہے۔109 کہو، سب کچھ اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ آخر ان لوگوں کو کیا ہو گیا ہے کہ کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔
اے انسان ! تجھے جو بھلائی بھی حاصل ہوتی ہے اللہ کی عنایت سے ہوتی ہے، اور جو مصیبت تجھ پر آتی ہے وہ تیرے اپنے کسب و عمل کی بدولت ہے۔
اے محمدؐ ! ہم نے تم کو لوگوں کے لیے رسُول بناکر بھیجا ہے اور اس پر خدا کی گواہی کافی ہے۔ جس نے رسول کی اطاعت کی اس نے دراصل خدا کی اطاعت کی۔ اور جو مُنہ موڑ گیا، تو بہرحال ہم نے تمہیں ان لوگوں پر پاسبان بناکر تو نہیں بھیجا ہے۔110
وہ منہ پر کہتے ہیں کہ ہم مطیعِ فرمان ہیں۔ مگر جب تمہارے پاس سے نکلتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ راتوں کو جمع ہوکر تمہاری باتوں کے خلاف مشورے کرتا ہے۔ اللہ ان کی یہ ساری سرگوشیاں لکھ رہا ہے۔ تم ان کی پروا نہ کرو اور اللہ پر بھرہسہ رکھو، وہی بھروسہ کے لیے کافی ہے۔ کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے؟ اگر یہ اللہ کے سوا کسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت کچھ اختلاف بیانی پائی جاتی۔111
یہ لوگ جہاں  کوئی ا طمینان بخش یا خوفناک خبر سن پاتے ہیں اسے لے کر پھیلا دیتے ہیں، حالانکہ اگر یہ اسے رسُول  اور اپنی جماعت کے ذمہ دار اصحاب تک پہنچائیں تو وہ ایسے لوگوں کے علم میں آجائے جو ان کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اس سے صحیح نتیجہ اخذ کر سکیں۔112 تم لوگوں پر اللہ کی مہربانی اور رحمت نہ ہوتی تو (تمہاری کمزور یاں ایسی تھیں کہ )معدودے چند کے سوا تم سب شیطان  کے پیچھے لگ گئے ہوتے ۔
پس اے نبی!تم اللہ کی راہ میں لڑو، تم اپنی ذات کے سوا کسی اور کے لیے ذمہ دار نہیں ہو۔ البتہ اہل ایمان کو لڑنے  کے لیے اُکساؤ، بعید نہیں کہ اللہ  کافروں کا زور توڑ دے ، اللہ کا زور سب سے زیادہ زبر دست اور اس کی سزا سب سے زیادہ سخت ہے۔ جو بھلائی کی سفارش کریگا وہ اس میں سے حصّہ پائے گا اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصّہ پائے گا، 113 اوراللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے۔
 اور جب کوئی احترام کے ساتھ تمہیں سلام کرے تو اس کو اس سے بہتر طریقہ کے ساتھ جواب دو یا کم از کم اسی طرح ،114 اللہ ہر چیز  کا حساب لینے والا ہے۔ اللہ وہ ہے جس کےسوا کوئی خدا نہیں ہے، وہ تم سب کو اس قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شبہہ نہیں، اور اللہ کی بات سے بڑھ کر سچی بات اور کس کی ہو سکتی ہے۔115  ؏۱۱

88-91

پھر یہ تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ منافقین  کے بارے میں تمہارے درمیان دورائیں پائی جاتی ہیں،116 حالانکہ جو برائیاں  انہوں نے کمائی ہیں ان کی بدولت اللہ انہیں الٹا پھیر چکا ہے۔117 کیا تم چاہتے ہو کہ جسے اللہ نے ہدایت  نہیں بخشی اسے تم ہدایت بخش دو؟ حالانکہ جس کو اللہ نے راستہ سے ہٹا دیا اس کے لیے تم کوئی راستہ نہیں پا سکتے۔ وہ تو یہ چاہتے  ہیں کہ جس طرح وہ خود  کافر ہیں اسی طرح تم بھی کافر ہو جاؤ تاکہ  تم اور وہ سب  یکساں ہو جائیں۔ لہٰذا  ان میں سے کسی کو اپنا دوست نہ بناؤ جب تک کہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرکے نہ آجائیں، اور اگر وہ ہجرت سے باز رہیں تو جہاں پاؤ انہیں پکڑو اور قتل کرو118 اور ان میں سے کسی کو اپنا دوست اور مدد گار نہ بناؤ۔ البتہ وہ منافق اس حکم سے مستشنٰی ہیں جو کسی ایسی قوم سے جا ملیں جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ ہے۔119 اسی طرح وہ منافق بھی مستشنٰی ہیں جو تمہارے پاس آتے ہیں اور لڑائی سے دل برداشتہ ہیں، نہ تم سے لڑنا چاہتے ہیں نہ اپنی قوم سے۔ اللہ چاہتا تو ان کو تم پر مسلّط کر دیتا اور وہ بھی تم سے لڑتے۔ لہٰذا اگر وہ  تم سے کنارہ کش ہو جائیں اور لڑنے سے باز رہیں اور تمہاری طرف صلح و آشتی کا ہاتھ بڑھائیں تو اللہ نے تمہارے لیے ان پر دست درازی کی کوئی سبیل نہیں رکھی ہے۔ ایک اور قسم کے منافق تمہیں ایسے ملیں گے جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی، مگر جب کبھی فتنہ  کا موقع پائیں گے اس میں کُود پڑیں گے۔ ایسے لوگ اگر تمہارے  مقابلہ سے باز نہ رہیں اور صلح و سلامتی  تمہارے آگے پیش نہ کریں اور اپنے ہاتھ نہ روکیں تو جہاں وہ ملیں انہیں پکڑو اور مارو،  ان پر ہاتھ اٹھانے کے لیے ہم نے تمہیں کُھلی حجّت  دے دی ہے۔  ؏۱۲

92-96

کسی مومن کا یہ کا م نہیں ہے کہ دوسرے مومن کو قتل  کرے، اِلّا یہ کہ اس سے چُوک ہو جائے۔120 اور جو شخص کسی مومن کو غلطی سے قتل کر دے تو اس کا کفّارہ یہ ہے کہ  ایک مومن کو غلامی سے آزاد کرے121 اور مقتول کے وارثوں کو خون بہا دے،122 اِلّا یہ کہ وہ خون بہا معاف کردیں۔ لیکن اگر وہ مسلمان  مقتول کسی ایسی قوم سے تھا جس سے تمہاری دشمنی ہو تو اس کا کفّارہ ایک مومن غلام آزاد کرنا ہے۔ اور اگر وہ کسی ایسی غیر مسلم قوم کا فرد تھا جس سے تمہارا معاہدہ ہو تو اس کے وارثوں کو خوں بہا دیا جائے گا اور ایک مومن غلام کو آزاد کرنا ہوگا۔123 پھر جو غلام نہ پائے  وہ پے در پے دو مہینے کے روزے رکھے ۔124 یہ اس گناہ پر اللہ سے توبہ کرنے کا طریقہ ہے125 اور اللہ علیم و دانا ہے۔رہا وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اس کی جزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا۔ اس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے سخت عذاب مہیا کر رکھا ہے۔
اے لوگوں جو ایمان لائے ہو، جب تم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلو تو دوست دشمن میں تمیز کرو اور جو تمہاری طرف سلام سے تقدیم کرے اسے فوراً  نہ کہدو کہ تُو مومن نہیں ہے۔126 اگر تم دُنیوی فائدہ چاہتے ہو تو اللہ کے پاس تمہارے لیے بہت سے اموال غنیمت ہیں۔ آخر اسی حالت میں تم خود بھی تو اس سے پہلے مبتلا رہ چکے ہو، پھر اللہ نے تم پر احسان کیا ،127 لہٰذا تحقیق سے کام لو ، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔
 مسلمانوں میں سے وہ لوگ جو کسی معذوری جے بغیر گھر بیٹھے رہتے ہیں اور وہ جو اللہ کی راہ میں جان ومال سے جہاد کرتے ہیں، دونوں کی حیثیت یکساں نہیں ہے۔ اللہ نے بیٹھنے والوں کی بہ نسبت جان و مال سے جہاد کرنے والوں کا درجہ بڑا رکھا ہے۔ اگرچہ ہر ایک کے لیے اللہ نے بھلائی ہی کا وعدہ فرمایا ہے، مگر  اس کے ہاں مجاہدوں کی خدمات کا معاوضہ بیٹھنے والوں سےبہت زیادہ ہے،128 ان کے لیے اللہ کی طرف سے بڑے درجے ہیں اور مغفرت اور رحمت ہے، اور اللہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والاہے۔   ؏۱۳

97-100

جو لوگ اپنے نفس پر ظلم کر رہے تھے129 اُن کی رُوحیں جب فرشتوں نے قبض کیں تو ان سے پوچھا کہ یہ تم کس حال میں مُبتلا تھے؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم زمین میں کمزور و مجبور تھے۔ فرشتوں نے کہا، کیا خدا کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے؟ 130یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنّم ہے اور وہ بڑا ہی بُرا ٹھکانا ہے۔ ہاں جو مرد، عورتیں اور بچّے واقعی بے بس ہیں اور نکلنے کا کوئی راستہ اور ذریعہ نہیں پاتے، بعید نہیں کہ اللہ انہیں معاف کردے، اللہ بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے۔ جو کوئی اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں پناہ لینے کے لیے بہت جگہ اور بسر اوقات کے لیے بڑی گنجائش پائے گا، اور جو اپنے گھر سے اللہ اور رسُول کی طرف ہجرت کے لیے نکلے، پھر راستہ ہی میں اُسے موت آجائے اُس کا اجر اللہ کے ذمّے واجب ہوگیا، اللہ بہت بخشش فرمانے والا اور رحیم ہے۔131  ؏۱۴

101-104

اور جب تم لوگ سفر کے لیے نکلو تو کوئی مضائقہ نہیں اگر نماز میں اختصار کردو132(خصوصاً)جبکہ تمہیں اندیشہ ہو کہ کافر تمہیں ستائیں گے133 کیونکہ وہ کُھلم کُھلّا تمہاری دُشمنی پر تُلے ہوئے ہیں۔
اور اے نبی ! جب تم مسلمانوں کے درمیان ہو اور (حالتِ جنگ میں)انہیں نماز پڑھانے کھڑے ہو 134تو چاہیے کہ ان میں135 سے ایک گروہ تمہارے ساتھ کھڑا ہو اور اسلحہ لیے رہے، پھر جب وہ سجدہ کرلے تو پیچھے چلا جائے اور دُوسرا گروہ جس نے ابھی نماز نہیں پڑھی ہے آکر تمہارے ساتھ پڑھے اور وہ بھی چوکنّا رہےاور اپنے اسلحہ لیے رہے،136 کیوں کہ کفّار اِس تاک میں ہیں کہ تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے سامان کی طرف سے ذرا غافل ہو تو وہ تم پر یک بارگی ٹوٹ پڑیں۔ البتہ اگر تم بارش کی وجہ سے تکلیف محسوس کرو یا بیمار ہو تو اسلحہ رکھ دینے میں مضائقہ نہیں، مگر پھر بھی چوکنّے رہو، یقین رکھو کہ اللہ نے کافروں کے لیے رُسوا کُن عذاب مہیّا کررکھا ہے۔137 پھر جب نماز سے فارغ ہوجاوٴ تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے، ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے رہو۔ اور جب اطمینان نصیب ہوجائے تو پُوری نماز پڑہو۔ نماز درحقیقت ایسا فرض ہے جو پابندیِ وقت کے ساتھ اہلِ ایمان پر لازم کیا گیا ہے۔

 اِس گروہ 138کے تعاقب میں کمزوری نہ دکھاوٴ۔ اگر تم تکلیف اُٹھارہے ہو تو تمہاری طرح وہ بھی تکلیف اُٹھارہے ہیں۔ اور تم اللہ سے اُس چیز کے اُمّیدوار ہو جس کے وہ اُمّیدوار نہیں ہیں۔139 اللہ سب کچھ جانتا ہے اور وہ حکیم و دانا ہے۔ ؏۱۵

105-112

اے نبیؐ !140 ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ جو راہِ راست اللہ نے تمہیں دکھائی ہے اس کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو۔ تم بد دیانت لوگوں کی طرف سے جھگڑنے والے نہ بنو، اور اللہ سے درگزر کی درخواست کرو، وہ بڑا درگزر فرمانے والا اور رحیم ہے۔ جو لوگ اپنے نفس سے خیانت کرتے ہیں141 تم اُن کی حمایت نہ کرو۔ اللہ کو ایسا شخص پسند نہیں ہے جو خیانت کار اور معصیت پیشہ ہو۔ یہ لوگ انسانوں سے اپنی حرکات چُھپاسکتے ہیںمگر خدا سے نہیں چُھپاسکتے۔ وہ تو اُس وقت بھی اُن کے ساتھ ہوتا ہے جب یہ راتوں کو چُھپ کر اُس کی مرضی کے خلاف مشورے کرتے ہیں۔ اِن کے سارے اعمال پر اللہ محیط ہے۔ ہاں ! تم لوگوں نے اِن مجرموں کی طرف سے دنیا کی زندگی میں تو جھگڑا کرلیا، مگر قیامت کے روز ان کی طرف سے کون جھگڑا کرے گا؟ آخر وہاں کون اِن کا وکیل ہوگا؟ اگر کوئی شخص بُرا فعل کر گزرے یا اپنے نفس پر ظلم کر جائے اور اس کے بعد اللہ سے درگزر کی درخواست کرے تو اللہ کو درگزر کرنے والا اور رحیم پائے گا۔ مگر جو بُرائی کمالے تو اس کی یہ کمائی اُسی کے لیے وبال ہوگی، اللہ کو سب باتوں کی خبر ہے اور وہ حکیم و دانا ہے۔پھر جس نے کوئی خطا یا گناہ کرکے اس کا الزام کسی بے گناہ پر تھوپ دیا اس نے تو بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بار سمیٹ     لیا۔  ؏۱۶

113-115

اے نبی ؐ! اگر اللہ کا فضل تم پر نہ ہوتا اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی تو ان میں سے ایک گروہ نے تو تمہیں غلط فہمی میں مبتلا کرنے کا فیصلہ کر ہی لیا تھا، حالانکہ درحقیقت وہ خود اپنے سوا کسی کو غلط فہمی میں مبتلا نہیں کر رہے تھے۔ اور تمہارا کوئی نقصان نہ کر سکتے تھے۔ 142اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت نازل کی ہے اور تم کو وہ کچھ بتایا ہے جو تمہیں معلوم نہ تھا، اور اس کا فضل  تم پر بہت ہے۔

لوگوں کی خفیہ سرگوشیوں میں اکثر و بیشتر کوئی بھلائی نہیں ہوتی۔ ہاں اگر کوئی پوشیدہ طور پر صدقہ و خیرات کی تلقین کرے یا کسی نیک کا م کے لیے یا لوگوں کے معاملات میں اصلاح کرنے کے لیے کسی سے کچھ کہے تو یہ البتہ بھلی بات ہے، اور جو کوئی اللہ کی رضا جوئی کے لیے ایسا کرے گا اسے ہم بڑا اجر  عطا کریں گے۔ مگر  جو شخص رسول  کی مخالفت پر کمر بستہ ہو اور اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلے، درآں حالیکہ اس پر راہ راست واضح ہو چکی ہو ، تو اس کو ہم اسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا 143اور اسے جہنم میں جھونکیں گے جو بدترین جائے قرار ہے۔؏ ۱۷

116-126

اللہ کے ہاں144 بس شرک ہی کی بخشش نہیں ہے، اس کے سوا اور سب کچھ معاف ہو سکتاہے جسے وہ معاف کر نا چاہے۔ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا وہ تو گمراہی میں بہت دور نکل گیا۔ وہ اللہ کو چھوڑ کر دیویوں کو معبود بناتے ہیں۔ وہ اس باغی شیطان کو معبود بناتے ہیں145 جس کو اللہ نے لعنت زدہ کیا ہے۔(وہ اس شیطان کی اطاعت کر رہے ہیں) جس نے اللہ سے کہا تھا کہ” میں تیرے بندوں سے ایک مقرر حصہ  لے  کر رہوں گا،146 میں انہیں بہکاؤں گا، میں انہیں آرزوؤں میں اُلجھادوں گا، میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے جانوروں کے کان پھاڑیں گے147 اور میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے  حکم سے خدائی ساخت میں ردوبدل کریں گے۔“ 148اس شیطان کو جس نے اللہ کے بجائے اپنا ولی و سر پرست بنالیا وہ صریح نقصان میں پڑگیا۔ وہ ان لوگوں سے وعدے کرتا ہے اور انہیں اُمیدیں دلاتا ہے،149 مگر شیطان کے سارے وعدے بجز فریب کے اور کچھ نہیں ہیں۔ ان لوگوں کا ٹھکانا  جہنم ہے جس سے خلاصی کی کوئی صورت یہ نہ پائیں گے۔ رہے وہ لوگ جو ایمان لے آئیں اور  نیک عمل کریں، تو انہیں  ہم ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کا سچا وعدہ ہے اور اللہ سے بڑھ کر کو ن اپنی بات میں سچا ہو گا۔
انجامِ کار نہ تمہاری آرزوؤں پر موقوف ہے نہ اہل کتاب کی آرزوؤں پر۔ جو بھی بُرائی کرے گا اس کا پھل پائے گا اور اللہ کے مقابلہ میں اپنے لیے کوئی حامی و مدد گار نہ پاسکے گا۔ اور جو نیک عمل کرے گا، خواہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ ہو وہ مومن، تو ایسے ہی لوگ جنّت میں داخل ہو ں گے اور ان کی ذرّہ برابر حق تلفی نہ ہونے پائے گی۔ اس شخص سے بہتر اور کس کا طریق زندگی ہو سکتا ہے جس نے اللہ کے آگے سرِِ تسلیم خم کردیا اور اپنا رویّہ  نیک رکھا اور یکسو ہوکر ابراہیمؑ  کے طریقے کی پیروی کی ،  اس ابراہیمؑ  کے طریقے کی جسے اللہ نے اپنا دوست بنالیا تھا۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ کا ہے150 اور اللہ ہر چیز پر محیط ہے۔151؏ ۱۸

127-134

لوگ تم سے عورتوں کے معاملہ میں فتویٰ  پوچھتے ہیں۔152 کہو اللہ تمہیں ان کے معاملہ میں فتویٰ دیتا ہے، اور ساتھ ہی وہ  احکام بھی یاد دلاتا ہے جو پہلے سے تم اس کتاب میں سنائے جارہے ہیں۔153 یعنی وہ احکام جو ان یتیم لڑکیوں کے متعلق ہیں جن کے حق تم ادا  نہیں کرتے154 اور جن کے نکاح کرنے سے  تم باز رہتے ہو(یا لالچ کی بنا ء پر تم خود ان سے  نکاح کر لینا چاہتے ہو)،155 اور وہ احکام جو ان بچّوں کے متعلق ہیں جو بیچارے کوئی زور نہیں رکھتے۔156 اللہ تمہیں ہدایت کرتا ہے  کہ یتیموں کے ساتھ انصاف پر قائم رہو، جو بھلائی تم کرو گے وہ اللہ کے علم سے چھپی نہ رہ جائے گی۔
جب157 کسی عورت کو اپنے شوہر سے بدسلوکی یا بے رُخی کا خطرہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں اگر میاں اور بیوی( کچھ حقوق کی کمی بیشی پر)آپس میں صلح کرلیں۔ صلح بہرحال بہتر ہے۔158 نفس تنگ دلی کی طرف جلدی مائل ہو جاتے ہیں،159 لیکن اگر تم لوگ احسان سے پیش آؤ اور خدا ترسی سے کام لو تو یقین رکھو کہ اللہ تمہارے اس طرز عمل سے بے خبر نہ ہوگا۔160 بیویوں کے درمیان  پورا پورا عدل کرنا تمہارے بس میں نہیں ہے۔ تم چاہو بھی تو اس پر قادر نہیں ہو سکتے۔ لہذا(قانونِ الہی کا منشا پورا کرنے کے لیے یہ کافی ہے کہ )ایک بیوی کی طرف اس طرح نہ جھک جاؤ کہ دوسری کو ادھر لٹکتا چھوڑ دو۔161 اگر تم اپنا طرزِ عمل درست رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو اللہ چشم پوشی  کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔162 لیکن اگر زوجین ایک دوسرے سے الگ  ہی ہو جائیں تو اللہ اپنی وسیع قدرت سے ہر ایک کو دوسرےکی محتاجی سے بے نیاز کردے گا۔ اللہ کا دامن بہت کشادہ ہے اور وہ دانا و بینا ہے۔ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے۔ تم سے پہلے جن کو ہم نے کتاب دی تھی انہیں بھی یہی ہدایت کی تھی اور اب تم کو بھی یہی ہدایت کرتے ہیں کہ خدا سے ڈرتے  ہوئے کام کرو۔ لیکن اگر تم نہیں مانتے تو نہ مانو، آسمانوں اور زمین کو ساری چیزوں کا مالک اللہ ہی ہے اور وہ بے نیاز ہے، ہر تعریف کا مستحق۔ ہاں اللہ ہی مالک ہے ان سب چیزوں  کا جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور کارسازی کے لیے بس وہی کافی ہے ۔  اگر وہ چاہے تو تم  لوگوں کو ہٹا کر تمہاری جگہ دوسروں کو لے آئے، اور وہ اس کی پوری قدرت رکھتا ہے۔ جو شخص محض ثوابِ دُنیا کو طالب ہو  اسے معلوم ہو نا چاہیے کہ اللہ کےپاس ثوابِ دُنیا بھی ہے اور ثوابِ آخرت بھی ، اور اللہ سمیع و بصیر ہے۔163؏ ۱۹

135-141

اے لوگو جو ایمان لائےہو ، انصاف کے علمبردار 164 اور خدا واسطے کے گواہ بنو165 اگرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو۔ فریقِ معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب ، اللہ تم سے زیادہ ان کا خیر خواہ ہے۔ لہٰذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو۔ اور اگر تم نے لگی پٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے۔
 اے لوگو جو ایمان لائے ہو، ایمان لاؤ166 اللہ پر اور اس کے رسول پر اور اس کتاب پر جو اللہ نے اپنے رسول پر نازل کی ہے اور ہر اس کتاب پر جو اس سے پہلے وہ نازل کر چکا ہے۔ جس نے اللہ اور اس کے ملائکہ اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں اور روزِ آخرت سے کفر کیا 167 وہ گمراہی میں بھٹک کر بہت دور نکل گیا۔ رہے و ہ لوگ جو ایمان لائے، پھر کفر کیا، پھرایمان لائے، پھر کفر کیا، پھر اپنے کفر میں بڑھتے چلے گئے،168 تو اللہ ہرگز ان کو معاف نہ کرے گا اور نہ کبھی ان کو راہ راست دکھائے گا۔ اور جو منافق اہل ایمان کو چھوڑ کر  کافروں کو اپنا رفیق بنا تے ہیں انہیں یہ مژدہ سنا دو کہ ان کے لیے درد ناک سزا تیار ہے۔ کیا یہ عزت کی طلب میں ان کے پاس جاتے ہیں؟169 حالانکہ عزت تو ساری کی ساری  اللہ ہی  کے لیے ہے۔ اللہ اس کتاب میں تم کو پہلے ہی حکم  دے چکا ہے کہ جہاں تم سنو کہ اللہ کی آیات کے خلاف کفر بکا جارہاہے اور ان اکا مذاق اڑایا جا رہا ہے وہاں نہ بیٹھو جب تک کہ لوگ کسی دوسری بات میں نہ لگ جائیں۔ اب اگر تم ایسا کرتے ہو  توتم بھی انہی کی طرح ہو۔170 یقین جانو کہ اللہ منافقوں اور کافروں کو جہنم میں ایک جگہ جمع کرنے والا ہے۔ یہ منافق تمہارے  معاملہ میں انتظار کر رہے ہیں (کہ اونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے)۔ اگر اللہ کی طرف سے فتح تمہاری ہوئی  تو آکر کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ اگر کافروں کا پلّہ بھاری  رہا تو ان سے کہیں گے کہ کیا  ہم تمہارے خلاف لڑنے پر  قادر نہ تھے اور پھر بھی ہم نے تم کو مسلمانوں سے بچایا؟171 بس اللہ ہی تمہارے اور ان کے معاملہ کا فیصلہ قیامت کے روز کرے گا اور (اس فیصلہ میں)اللہ نے کافروں کے لیے مسلمانوں پر غالب آنے کی ہرگز کوئی سبیل نہیں رکھی ہے۔؏ ۲۰

142-152

یہ منافق اللہ کے ساتھ  دھوکہ بازی کر رہے ہیں حالانکہ درحقیقت اللہ ہی نے انہیں دھوکہ میں ڈال رکھا ہے۔ جب یہ نماز کے لیے اٹھتے ہیں تو کسمساتے ہوئے محض لوگوں کود کھانے کی خاطر اٹھتے ہیں اور خدا کو کم ہی یا د کرتے ہیں۔172 کفر و ایمان کے درمیان ڈانوا ڈول ہیں۔ نہ پورے اس طرف ہیں نہ پورے اُس طرف ۔ جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو اس کے لیے تم کوئی راستہ نہیں پا سکتے۔173
اے لوگوں جو ایمان لائے ہو، مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفیق نہ بناؤ۔ کیا تم چاہتے ہو  کہ اللہ کو اپنے خلاف صریح حجّت  دے دو؟ یقین جانو کہ منافق جہنم کے سب سے نیچے طبقے میں جائیں گے اور تم کسی کو ان کا مدد گار نہ پاؤ گے۔ البتہ جو ان میں سے تائب ہو جا ئیں اور اپنے طرزِ عمل کی اصلاح کر لیں اور اللہ کا دامن تھام لیں اور اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کر دیں،174 ایسے لوگ مومنوں کے ساتھ ہیں اور اللہ مومنوں  کو ضرور اجرِ عظیم عطا فرمائے گا۔  آخر اللہ کو کیا پڑی ہے کہ تمہیں خواہ مخواہ سزا دے اگر تم شکر گزار بندے بنے رہو175 اور ایمان کی روش پر چلو۔ اللہ بڑا قدر دان ہے176 اور سب کے حال سے واقف ہے۔
اللہ اس کو پسند نہیں کرتا کہ آدمی بد گوئی پر زبان کھولے، اِلّا یہ کہ کسی پر ظلم کیا گیا ہو، اور اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔(مظلوم ہونے کی صورت میں اگر چہ  تم کو بد گوئی کا حق ہے )لیکن اگر تم ظاہر  و باطن میں بھلائی ہی کیے جاؤ، یا کم از کم بُرائی  سے درگزر کرو، تو اللہ کی صفت بھی یہی ہے کہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے حالانکہ سزا دینے پر پوری قدرت رکھتا ہے۔177

جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں سے کفر کرتے ہیں ، اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کریں، اور کہتے ہیں کہ ہم کسی کو مانیں گے اور کسی کو نہ مانیں گے، اور کفر وایمان کے بیچ میں ایک راہ نکالنے کا ارادہ رکھتے ہیں، وہ سب پکے کافر ہیں178 اور ایسے کافروں کے لیے ہم نے وہ سزا مہیّا کر رکھی ہے جو انہیں ذلیل و خوار کر دینے والی ہو گی۔۔۔۔ بخلاف اس کے جو لوگ اللہ اور اس کے تمام رسولوں کو مانیں، اور ان کے درمیان تفریق نہ کریں، ان کو ہم ضرور ان کے اجر  عطا کریں گے ،179 اور اللہ بڑا درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے۔180؏ ۲۱

153-162

یہ اہل کتاب اگر آج تم سے مطالبہ کر رہے ہیں کہ تم  آسمان سے کوئی تحریر اُن پر نازل کراؤ181 تو اس سے بڑھ چڑھ کر مجرمانہ مطالبے یہ پہلے موسیٰؑ سے کر چکے ہیں۔ اس سے تو انہوں نے کہا تھا کہ ہمیں خدا کو علانیہ دکھا دو اور اسی سر کشی کی وجہ سے یکایک ان پر بجلی ٹوٹ پڑی تھی۔ 182پھر  انہوں نے بچھڑے کو اپنا معبود بنالیا،حالانکہ یہ کھلی کھلی نشانیاں دیکھ چکے تھے۔ 183اس پر بھی ہم نے ان سے درگزر کیا۔ ہم نے موسیٰؑ   کو صریح فرمان عطا کیا اور ان لوگوں پر طور کو اٹھا  کر ان سے ( اس فرمان کی اطاعت کا) عہد لیا۔184 ہم نے ان کو حکم دیا کہ دروازہ میں سجدہ ریز ہوتے ہوئے داخل ہو ۔185 ہم  نے ان سے کہا کہ سَبت کا قانون نہ توڑو اور اس پر اِن سےپختہ عہد لیا۔186 آخر کار ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ، اور اس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جُھٹلایا، اور متعدد پیغمبروں کو نا حق قتل کیا، اور یہاں تک کہا کہ ہمارے دل غلافوں میں محفوظ ہیں ۔۔۔۔187 حالانکہ 188 درحقیقت ان کی باطل پرستی کے سبب سے اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپّہ لگا دیا ہے اور اسی وجہ سے یہ بہت کم ایمان لاتے ہیں۔۔۔۔ پھر189 اپنے کفر میں اتنے بڑھے کہ مریم پر سخت بہتان لگایا،اور190 خود کہا کہ ہم نے  مسیح، عیسٰی ابن ِ مریم، رسول اللہ کو قتل کر دیا ہے۔۔۔۔191 حالانکہ192 فی الواقع انہوں نے نہ اس کو قتل کیا نہ صلیب پر چڑھایا بلکہ معاملہ  ان کے لیے مشتبہ  کر دیا گیا۔193 اور جن لوگوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا ہے وہ بھی دراصل شک میں مبتلا ہیں ، ان کے پاس اس معاملہ میں کوئی علم نہیں ہے، محض گمان ہی کی پیروی ہے۔194 انہوں نے مسیح کو یقین کے ساتھ قتل نہیں کیا  بلکہ اللہ نے اس کو اپنی طرف اٹھا لیا،195 اللہ زبردست طاقت رکھنے والا اور حکیم ہے۔ اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسا نہ ہوگا جو اس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لے آئے گا196 اور قیامت کے روز وہ ان پر گواہی دے گا،197 غرض198 ان یہودی بن جا نے والوں کے اسی ظالمانہ رویّہ کی بنا پر، اور اس بنا پر کہ یہ بکثرت اللہ کے راستے سے روکتے ہیں،199 اور سُود  لیتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا،200 اور لوگوں کےمال ناجائز طریقوں سے کھا تے ہیں، ہم نے بہت سی وہ پاک چیزیں ان پر حرام کر دیں جو پہلے ان کے لیے حلال تھیں، 201اور جو لوگ ان میں سے کافر ہیں ان کے لیے ہم نے درد ناک عذاب تیار کر رکھا ہے۔202 مگر ان میں جو لوگ پختہ علم رکھنے والے ہیں اور ایماندار ہیں وہ سب اس تعلیم پر ایمان لاتے ہیں جو تمہاری طرف نازل  کی گئی ہے اور جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھی۔ 203اس طرح کے ایمان لانے والے اور نماز و زکوٰة کی پابندی کرنے والے اور اللہ اور روز آخرت پر سچّا عقیدہ رکھنے والے لوگوں کو ہم ضرور اجر عظیم عطا کریں گے۔ ؏۲۲

163-171

 اے محمد ؐ! ہم نے تمہاری طرف اسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح ؑ اور اس کے بعد کے پیغمبروں کی طرف بھیجی تھی۔204 ہم نے ابراہیم ؑ ، اسماعیل ؑ ، اسحاق ؑ ، یعقوب ؑ  اور اولاد یعقوب ؑ ، عیسٰی ؑ ، ایوب ؑ ، یونس ؑ ، ہارون ؑ  اور سلیمان ؑ کی طرف وحی بھیجی۔ ہم نے داؤد ؑ کو زبور دی ۔205 ہم نے ان رسولوں پر بھی وحی نازل کی جن کا ذکر  ہم اس سے پہلے تم سے کر چکے ہیں اور ان رسولوں پر بھی جن کا ذکر تم سے نہیں کیا۔  ہم نے موسیٰ ؑ  سے اس طرح گفتگو کی جس طرح گفتگو کی جاتی ہے۔206 یہ سارے رسول خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے بنا کر بھیجے گئے تھے207 تاکہ ان کو مبعوث کر دینے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلہ میں کوئی حجّت نہ  رہے208 اور اللہ بہر حال غالب رہنے والا  اور حکیم و دانا ہے۔ (لوگ نہیں مانتے تو نہ مانیں) مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ جو کچھ اس نے تم پر نازل کیا ہے اپنے علم سے نازل کیا ہے، اور اس پر ملائکہ بھی گواہ ہیں اگر چہ اللہ کا گواہ ہو نا بالکل کفایت کرتا ہے۔ جو لوگ اس کو ماننے سے خود انکار کرتے ہیں اور دوسروں کو خدا کے راستے سے روکتے ہیں وہ یقیناً  گمراہی میں حق سے بہت دور نکل گئے ہیں۔ اس طرح جن لوگوں نے کفر وبغاوت کا طریقہ اختیار کیا اور ظلم وستم  پر اُتر آئے اللہ ان کو ہرگز معاف نہ کرے گا اور انہیں کوئی راستہ بجز جہنم کے راستہ کےنہ دکھائے گاجس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔  
لوگو! یہ رسول تمہارے پاس تمہارے رب کی طرف سے حق لے کر آگیا ہے، ایمان لے آؤ، تمہارے ہی لیے بہتر ہے ، اور اگر انکا ر کرتے ہو تو جان لو کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ کا ہے209 اور اللہ علیم بھی ہے اور حکیم بھی۔210
 اے اہل کتاب ! اپنے دین میں  غلو نہ کرو211 اور اللہ کی طرف حق کے سوا کوئی بات منسُوب نہ کرو۔ مسیح عیسٰی ؑ ابنِ مریم ؑ اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ اللہ کا ایک رسول تھا اور ایک فرمان تھا212 جو اللہ نے مریم ؑ کی طرف بھیجا اور ایک رُوح تھی اللہ کی طرف سے213 (جس نے مریم کے رِحم میں بچّہ کی شکل اختیار کی)پس تم اللہ اور اُس کے رسُولوں پر ایمان لاوٴ214 اور نہ کہو کہ ”تین“ ہیں۔215 باز آجاوٴ، یہ تمہارے ہی لیے بہتر ہے۔ اللہ تو بس ایک ہی خدا ہے۔ وہ بالا تر ہے اس سے کہ کوئی اس کا بیٹا ہو۔216 زمین اور آسمانوں کی ساری چیزیں اس کی مِلک ہیں،217 اور ان کی کفالت و خبر گیری کے لیے بس وہی کافی ہے۔218  ؏۲۳

172-176

مسیح نے کبھی اس بات کو عار نہیں سمجھا کہ وہ اللہ کا ایک بندہ ہو، اور نہ مقرب ترین فرشتے اِس کو اپنے لیے عار سمجھتے ہیں۔ اگر کوئی اللہ کی بندگی کو اپنے لیے عار سمجھتا ہے اور تکبر کرتا ہے تو ایک وقت آئے گا جب اللہ سب کو گھیر کر اپنے سامنے حاضر کرے گا۔ اُس وقت وہ لوگ جنہوں نے ایمان لاکر نیک طرزِ عمل اختیار کیا ہے اپنے اجر پُورے پُورے پائیں گے اور اللہ اپنے فضل سے ان کو مزید اجر عطا فرمائے گا، اور جِن لوگوں نے بندگی کو عار سمجھا اور تکبر کیا ہے اُن کو اللہ درد ناک سزا دے گا اور اللہ کے سوا جن جن کی سرپرستی و مدد گاری پر وہ بھروسہ رکھتے ہیں ان میں سے کسی کو بھی وہ وہاں نہ پائیں گے۔
لوگو ! تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس دلیلِ روشن آگئی ہے اور ہم نے تمہاری طرف ایسی روشنی بھیج دی ہے جو تمہیں صاف صاف راستہ دکھانے والی ہے۔ اب جو لوگ اللہ کی بات مان لیں گے اور اس کی پناہ ڈھونڈیں گے ان کو اللہ اپنی رحمت اور اپنے فضل و کرم کے دامن میں لے لے گا اور اپنی طرف آنے کا سیدھا راستہ ان کو دکھادے گا۔
لوگ219 تم سے کلالہ220 کے معاملہ میں فتویٰ پُوچھتے ہیں۔ کہو اللہ تمہیں فتویٰ دیتا ہے۔ اگر کوئی شخص بے اولاد مرجائے اور اس کی ایک بہن ہو221 تو وہ اس کے ترکہ میں سے نصف پائے گی، اور اگر بہن بے اولاد مرے تو بھائی اُس کا وارث ہوگا۔222 اگر میّت کی وارث دو بہنیں ہوں تو وہ ترکے میں سے دو تہائی کی حقدار ہوں گی،223 اور اگر کئی بھائی  بہنیں ہوں تو عورتوں کا اکہرا اور مردوں کا دوہرا حصّہ ہوگا۔ اللہ تمہارے لیے احکام کی توضیح کرتا ہے تاکہ تم بھٹکتے نہ پھرو اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ ؏۲۴