1 اے نبیؐ!اللہ اے ڈرو اور کفّار اور منافقین کی اطاعت نہ کرو، حقیقت میں علیم اور حکیم تو اللہ ہی ہے۔ 2

پیروی کرو اس بات کی جس کا اشارہ تمہارے ربّ کی طرف سے تمہیں کیا جارہا ہے، اللہ ہر اُس بات سے باخبر ہے جو تم لوگ کرتے ہو۔ 3

اللہ پر توکّل کرو، اور اللہ ہی وکیل ہونے کے لیے کافی ہے۔4

اللہ نے کسی شخص کے دھڑ میں دو دل نہیں رکھے ہیں 5 ، نہ اس نے تم لوگوں کی اُن بیوں کو جن سے تم ظہار کرتے ہو تمہاری ماں بنادیا ہے 6 ، اور نہ اس نے تمہارے منہ بولے بیٹوں کو تمہار حقیقی بیٹا بنایا ہے۔ 7 یہ تو وہ باتیں ہیں جو تم لوگ اپنے منہ سے نکال دیتے ہو،مگر اللہ وہ بات کہتا ہے جو مبنی بر حقیقت ہے، اور وہی صحیح طریقے کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔

منہ بولے بیٹوں کو ان کے باپوں کی نسبت سے پکارو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ بات ہے۔ 8 اور اگے تمہیں معلوم نہ ہو کہ ان کے باپ کون ہے تو وہ تمہارے دینی بھائی اور رفیق ہیں۔ 9 نادانستہ جو بات تم کہو اس کے لیے تم پر کوئی گرفت نہیں ہے،لیکن اس بات پر ضرور گرفت ہے جس کا تم دل سے ارادہ کرو۔ 10 اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔ 11

بلاشبہ نبی تو اہلِ ایمان کے لیے اُن کی اپنی ذات پر مقّدم ہے 12 ، اور نبی کی بیویاں اُن کی مائیں ہیں 13 ، مگر کتاب اللہ کی رو عام مومنین و مہاجرین کی بہ بسبت رشتہ دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں، البتہ اپنے رفیقوں کے ساتھ تم کوئی بھلائی (کرنا چاہو تو) کرسکتے ہو۔ 14 یہ حکم کتابِ الٰہی میں لکھا ہوا ہے۔

اور (اے نؐبی)یاد رکھو اُس عہد وپیمان کو جو ہم نے سب پیغمبروں سے لیا ہے، تم سے بھی اور اور نوحؑ اور ابراھیمؑ اور موسیٰؑ اور عیسیٰؑ ابن مریم سے بھی۔ سب سے ہم پختہ عہد لے چکے ہیں۔ 15

تاکہ سچّے لوگوں سے (ان کا ربّ)ان کی سچّائی کے بارے میں سوال کرے 16 ، اور کافروں کے لیے تو اُس نے درد ناک عذاب مہیّا کر ہی رکھا ہے۔17 ؏١

18 اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، یاد کرو اللہ کے احسان کو جو (ابھی ابھی ) اُس نے تم کیا ہے ۔ جب لشکر تم پر چڑھ آئے تو ہم نے ان پر ایک سخت آندھی بھیج دی اور ایسی فوجیں روانہ کیں جو تم کو نظر نہ آتی تھیں۔19 اللہ وہ سب کچھ دیکھ رہا تھا جو تم لوگ اُس وقت کررہے تھے۔

جب وہ اُوپر سے اور نیچے سے تم پر چڑھ آئے۔20 جب خوف کے مارے آنکھیں پتھراگئیں، کلیجے مُنہ کو آگئے، اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے۔

اُس وقت ایمان لانے والےخوب آزمائے گئے اور بُری طرح ہلا مارے گئے۔21

یاد کرو وہ وقت جب منافقین اور وہ سب لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا صاف صاف کہہ رہے تھے کہ اللہ اور اُس کے رسولؐ نے جو وعدے ہم سے کیے تھے22 وہ فریب کے سِوا کچھ نہ تھے ۔

جب اُن میں سے ایک گروہ نے کہا کہ ”اے یثرب کے لوگو، تمہارے لیے اب ٹھیرنے کا کوئی موقع نہیں ہے، پلٹ چلو۔23 “جب ان کا ایک فریق یہ کہہ کر نبیؐ سے رخصت طلب کررہا تھا کہ ”ہمارے گھر خطرے میں ہیں24 ،“حالانکہ وہ خطرے میں نہ تھے25 ، دراصل وہ (محاذِجنگ سے ) بھاگنا چاہتے تھے۔

اگر شہر کے اطراف سے دشمن گھُس آئے ہوتے اور اُس وقت اِنہیں فتنے کی طرف دعوت دی جاتی26 تو یہ اس میں جا پڑتے اور مشکل ہی سے انہیں شریکِ فتنہ ہونے میں کوئی تامّل ہوتا۔

ان لوگوں نے اس سے پہلے اللہ سے عہد کیا تھا کہ یہ پیٹھ نہ پھیریں گے، اور اور اللہ سے کیے ہوئے عہد کی باز پُرس تو ہونی ہی تھی۔27

اے نبیؐ ! ان سے کہو، اگر تم موت یا قتل سے بھاگو تو یہ بھاگنا تمہارے لیے کچھ بھی نفع بخش نہ ہوگا۔ اس کے بعد زندگی کے مزے لُوٹنے کا تھوڑا ہی موقع مل سکے گا۔ 28

اِن سے کہو ، کون ہے جو تمہیں اللہ سے بچا سکتا ہواگر وہ تمہیں نقصان پہنچانا چاہے؟ اور کون اس کی رحمت کو روک سکتا ہے اگروہ تم پر مہربانی کرنا چاہے؟ اللہ کے مقابلے میں تو یہ لوگ کوئی حامی ومددگار نہیں پاسکتے ہیں۔

اللہ تم میں سے اُن لوگوں کو خوب جانتا ہے جو (جنگ کے کام میں)رُکاوٹیں ڈالنے والے ہیں، جو اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ ”آوٴ ہماری طرف29 “جو لڑائی میں حصہ لیتے بھی ہیں تو بس نام گنانے کو،

جو تمہارا ساتھ دینے میں سخت بخیل ہیں۔30 خطرے کا وقت آجائے تو اسطرح دِیدے پھراپھرا کر تمہاری طرف دیکھتے ہیں جیسے کسی مرنے والے پر غشی طاری ہورہی ہو، مگر جب خطرہ گزر جاتا ہے تو یہی لوگ فائدوں کے حریص بن کر قینچی کی طرح چلتی ہوئی زبانیں لیے تمہارے استقبال کو آجاتے ہیں۔31 یہ لوگ ہرگز ایمان نہیں لائے ،اسی لیے اللہ نے ان کے سارے اعمال ضائع کردیے۔ 32 اور ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔33

یہ سمجھ رہے ہیں کہ حملہ آور گروہ ابھی گئے نہیں ہیں۔ اور اگر وہ پھر حملہ آور ہوجائیں تو ان کا جی چاہتا ہے کہ اُس موقع پر یہ کہیں صحرا میں بدوّوں کے درمیان جابیٹھیں اور وہیں سے تمہار ے حالات پوچتے رہیں۔تاہم اگر یہ تمہارے درمیان رہے بھی تو لڑائی میں کم ہی حصہ لیں گے۔ ؏۲

درحقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسولؐ میں ایک بہترین نمونہ تھا34 ، ہر اُس شخص کے لیے جو اللہ اور یومِ آخر کا اُمید وار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے۔ 35

اور سچّے مومنوں (کا حال اُس وقت یہ تھا کہ 36 )جب تم نے حملہ آور لشکروں کو دیکھا تو پُکار اٹھے کہ”یہ وہی چیز ہے جس کا اللہ اور اُس کے رسولؐ نے ہم سے وعدہ کیا تھا، اللہ اور اُس کے رسولؐ کی بات بالکل سچّی تھی۔“37 اِس واقعہ نے اُن کے ایمان اور ان کی سپُردگی کو اور زیادہ بڑھا دیا۔ 38

ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجود ہیں جنہوں نے اللہ سے کیے ہوئے عہد کو سچّا کر دکھایا ہے۔ ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کر چکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے۔39 انہوں نے اپنے رویے میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔

(یہ سب کچھ اس لیے ہوا )تاکہ اللہ سچّوں کو اُن کی سچّائی کی جزا دے اور منافقوں کو چاہے توسزا دے اور چاہے تو ان کی توبہ قبول کرلے، بے شک اللہ غفور ورحیم ہے۔

اللہ نے کفار کا منہ پھیر دیا ، وہ کوئی فائدہ حاصل کیے بغیر اپنے دل کی جلن لیے یُونہی پلٹ گئے، اور مومنین کی طرف سے اللہ ہی لڑنے کے لیے کافی ہوگیا، اللہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے۔ پھر

اہلِ کتاب میں سے جن لوگوں نے ان حملہ آوروں کا ساتھ دیا تھا40 ، اللہ اُن کی گڑھیوں سے انہیں اُتار لایا اور ان کے دلوں میں اُس نے ایسا رُعب ڈال دیا کہ آج ان میں سے ایک گروہ کو تم قتل کر رہے ہو اور دوسرے گروہ کو قید کررہے ہو۔

اس نے تم کو ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے اموال کا وارث بنا دیا اور وہ علاقہ تمہیں دیا جسے تم نے کبھی پامال نہ کیا تھا۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ؏۳

41 اے نبیؐ! اپنی بیویوں سے کہو ، اگر تم دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آؤ، میں تمہیں کچھ دے دلا کر بھلے طریقے سے رخصت کر دوں۔

اور اگر تم اللہ اور اس کے رسولؐ اور دارِ آخرت کی طالب ہو تو جان لو کہ تم میں سے جو نیکوکار ہیں اللہ نے ان کے لیے بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے ۔42

نبیؐ کی بیویو، تم میں سے جو کسی صریح فحش حرکت کا ارتکاب کرے گی اسے دوہرا عذاب دیا جائے گا 43 ، اللہ کے لیے یہ بہت آسان کام ہے44 ۔

اور تم میں سے جو اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کرے گی اور نیک عمل کرے گی اس کو ہم دوہرا اجر دیں گے45 اور ہم نے اس کے لیے رزقِ کریم مہیا کر رکھا ہے۔

نبیؐ کی بیویو، تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔46 اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہو تو دبی زبان سے بات نہ کیا کرو کہ دل کی خرابی کا مُبتلا کوئی شخص لالچ میں پڑ جائے، بلکہ صاف سیدھی بات کرو‘‘۔ 47

اپنے گھروں میں ٹِک کر رہو۔48 اور سابق دَورِ جاہلیت کی سی سج دھج نہ دکھاتی پھرو۔ 49 نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ اور اُس کے رسولؐ کی اطاعت کرو۔
اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ اہل بیت نبیؐ سے گندگی کو دور کرے اور تمہیں پوری طرح پاک کر دے ۔50

یاد رکھو اللہ کی آیات اور حکمت کی باتوں کو جو تمہارے گھروں میں سنائی جاتی ہیں۔51 بے شک اللہ لطیف52 اور باخبر ہے۔ ؏۴

بالیقین 53 جو مرد اور جو عورتیں مسلم ہیں 54 ، مومن ہیں 55 ، مطیع فرمان ہیں 56 ، راست باز ہیں 57 ، صابر ہیں 58 ، اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں 59 صدقہ دینے والے ہیں 60 ، روزہ رکھنے والے ہیں 61 ، اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں 62 ، اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے ہیں 63 ، اور اللہ نے ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر مہیا کر رکھا ہے۔ 64

65 کسی مومن مرد اور کسی مومن عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اور اس کا رسولؐ کسی معاملے کا فیصلہ کر دے تو پھر اسے اپنے اس معاملے میں خود فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل رہے۔ اور جو کوئی اللہ اور اس کے رسولؐ کی نافرمانی کرے تو وہ صریح گمراہی میں پڑ گیا۔ 66

67 اے نبیؐ، یاد کرو وہ موقع جب تم اس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے اور تم نے احسان کیا تھا 68 کہ ’’اپنی بیوی کو نہ چھوڑ اور اللہ سے ڈر‘‘۔ 69 اُس وقت تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ کھولنا چاہتا تھا، تم لوگوں سے ڈر رہے تھے ، حالانکہ اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ تم اس سے ڈرو 70 پھر جب زیدؓ اس سے اپنی حاجت پوری کر چکا۔ 71 تو ہم نے اس (مطلقہ خاتون) کا تم سے نکاح کر دیا 72 تاکہ مومنوں پر اپنے منہ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملہ میں کوئی تنگی نہ رہے جبکہ وہ ان سے اپنی حاجت پوری کر چکے ہوں 73 اور اللہ کا حکم تو عمل میں آنا ہی چاہئے تھا۔

نبی پر کسی ایسے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے جو اللہ نے اس کے لیے مقرر کر دیا ہو 74 یہی اللہ کی سنت ان سب انبیاء کے معاملہ میں رہی ہے جو پہلے گزر چکے ہیں اور اللہ کا حکم ایک قطعی طے شدہ فیصلہ ہوتا ہے 75

(یہ اللہ کی سنت ہے ان لوگوں کے لیے ) جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اُسی سے ڈرتے ہیں اور ایک خدا کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے ، اور محاسبہ کے لیے بس اللہ ہی کافی ہے۔ 76

(لوگو) محمدؐ تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں ، مگر وہ اللہ کے رسول اور خاتم النبین ہیں، اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے 77 ؏۵

اے لوگو! جو ایمان لائے ہو، اللہ کو کثرت سے یاد کرو

اور صبح و شام اس کی تسبیح کرتے رہو ۔78

وہی ہے جو تم پر رحمت فرماتا ہے اور اس کے ملائکہ تمہارے لے دُعائے رحمت کرتے ہیں تاکہ وہ تمہیں تاریکیوں سے روشنی میں نکال لائے، وہ مومنوں پر بہت مہربان ہے 79

جس روز وہ اس سے ملیں گے اُن کا استقبال سلام سے ہوگا 80 اور اُن کے لیے اللہ نے بڑا با عزت اجر فراہم کر رکھا ہے۔

اے نبیؐ، 81 ہم نے تمہیں بھیجا ہے گواہ بنا کر 82 ، بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر،83

اللہ کی اجازت سے اس کی طرف دعوت دینے 84 والا بنا کر اور روشن چراغ بناکر۔

بشارت دے دو اُن لوگوں کو جو (تم پر)ایمان لائے ہیں کہ ان کے لیے اللہ کی طرف سے بڑا فضل ہے۔

اور ہر گز نہ دبو کفار و منافقین سے ، کوئی پرواہ نہ کرو ان کی اذیت رسانی کی اور بھروسہ کر لو اللہ پر، اللہ ہی اس کے لیے کافی ہے کہ آدمی اپنے معاملات اُس کے سپرد کر دے۔

اَے لوگوں جو ایمان لائے ہو، جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو اور پھر انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو 85 تو تمہاری طرف سے ان پر کوئی عدت لازم نہیں ہے جس کے پورے ہونے کا تم مطالبہ کر سکو۔ لہذا انہیں کچھ مال دو اور بھلے طریقے سے رخصت کر دو۔ 86

اے نبیؐ، ہم نے تمہارے لیے حلال کر دیں تمہاری وہ بیویاں جن کے مہر تم نے ادا کیے ہیں 87 ، اور وہ عورتیں جو اللہ کی عطا کردہ لونڈیوں میں سے تمہاری ملکیت میں آئیں ، اور تمہاری وہ چچازاد اور پھوپھی زاد اور ماموں زاد اور خالہ زاد بہنیں جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی ہے ، اور وہ مومن عورت جس نے اپنے آپ کو نبیؐ کے لیے ہبہ کیا ہو اگر نؐبی اسے نکاح میں لینا چاہے 88۔ یہ رعایت خالصتاً تمہارے لیے ہے ، دوسرے مومنوں کے لیے نہیں ہے 89 ہم کو معلوم ہے کہ عام مومنوں پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں ہم نے کیا حدود عائد کیے ہیں۔ (تمہیں ان حدود سے ہم نے اس لیے مستثنیٰ کیا ہے )تاکہ تمہارے اوپر کوئی تنگی نہ رہے 90 ، اور اللہ غفور و رحیم ہے۔

تم کو اختیار دیا جاتا ہے کہ اپنی بیویوں میں سے جس کو چاہو اپنے سے الگ رکھو، جسے چاہو اپنے ساتھ رکھو اور جسے چاہو الگ رکھنے کے بعد اپنے پاس بلا لو۔ اس معاملے میں تم پر کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اس طرح زیادہ متوقع ہے کہ ان کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی اور وہ رنجیدہ نہ ہوں گی، اور جو کچھ بھی تم ان کو دو گے اس پر وہ سب راضی رہیں گی 91 اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگوں کے دلوں میں ہے ، اور اللہ علیم و حلیم ہے 92

اس کے بعد تمہارے لیے دوسری عورتیں حلال نہیں ہیں ، اور نہ اس کی اجازت ہے کہ ان کی جگہ اور بیویوں لے آؤ خواہ ان کا حسن تمہیں کتنا ہی پسند ہو، 93 البتہ لونڈیوں کی تمہیں اجازت ہے 94 اللہ ہر چیز پر نگران ہے۔ ؏۶

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، نبیؐ کے گھروں میں بلا اجازت نہ چلے آیا کرو 95 نہ کھانے کا وقت تاکتے رہو۔ ہاں اگر تمہیں کھانے پر بلایا جائے تو ضرور آؤ 96 مگر جب کھانا کھالو تو منتشر ہو جاؤ۔ باتیں کرنے میں نہ لگے رہو 97 تمہاری یہ حرکتیں نبی کو تکلیف دیتی ہیں ، مگر وہ شرم کی وجہ سے کچھ نہیں کہتے۔اور اللہ حق بات کہنے میں نہیں شرماتا۔ نبیؐ کی بیویوں سے اگر تمہیں کچھ مانگنا ہو تو پردے کے پیچھے سے مانگو کرو، یہ تمہارے اور ان کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے زیادہ مناسب طریقہ ہے 98 تمہارے لیے یہ ہرگز جائز نہیں کہ اللہ کے رسولؐ کو تکلیف دو 99 ، اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد ان کی بیویوں سے نکاح کرو 100 ، یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑا گناہ ہے۔

تم خواہ کوئی بات ظاہر کرو یا چھپاؤ، اللہ کو ہر بات کا علم ہے۔ 101

ازواجِ نبیؐ کے لیے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ ان کے باپ، ان کے بیٹے ، ان کے بھائی ، ان کے بھتیجے ، ان کے بھانجے 102 ، ان کے میل جول کی عورتیں 103 اور ان کے مملوک 104 گھروں میں آئیں۔ (اے عورتو!) تمہیں اللہ کی نافرمانی سے پرہیز کرنا چاہئے۔ اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے۔ 105

اللہ اور اس کے ملائکہ نبیؐ پر درود بھیجتے ہیں 106 ، اے لوگو جو ایمان لائے ہو تم بھی ان پر درود و سلام بھیجو 107

جو لوگ اللہ اور اس کے رسولؐ کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور ان کے لیے رسوا کن عذاب مہیا کر دیا ہے۔ 108

اور جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بے قصور اذیت دیتے ہیں اُنہوں نے ایک بڑے بہتان 109 اور صریح گناہ کا وبال اپنے سر لے لیا ہے۔ ؏۷

اے نبیؐ! اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہلِ ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اوپر اپنی چادروں کے پلو لٹکالیا کریں 110 یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تاکہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں 111 اللہ تعالیٰ غفور و رحیم ہے 112

اگر منافقین ، اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خرابی ہے 113 ، اور وہ جو مدینہ میں ہیجان انگیز افواہیں پھیلانے والے ہیں 114، اپنی حرکتوں سے باز نہ آئے تو ہم ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے تمہیں اُٹھا کھڑا کریں گے ، پھر وہ اس شہر میں مشکل ہی سے تمہارے ساتھ رہ سکیں گے۔

ان پر ہر طرف سے لعنت کی بوچھاڑ ہو گی، جہاں کہیں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور بُری طرح مارے جائیں گے۔

یہ اللہ کی سنت ہے جو ایسے لوگوں کے معاملے میں پہلے سے چلی آ رہی ہے ، اور تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پاؤ گے۔ 115

لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کی گھڑی کب آئے گی 116 کہو، اس کا علم تو للہ ہی کو ہے۔ تمہیں کیا خبر، شاید کہ وہ قریب ہی آ لگی ہو۔

بہر حال یہ یقینی امر ہے کہ اللہ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر دی ہے

جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ، کوئی حامی و مددگار نہ پا سکیں گے۔

جس روز ان کے چہرے آگ پر اُلٹ پلٹ کیے جائیں گے اُس وقت وہ کہیں گے کہ ’’کاش ہم نے اللہ اور رسولؐ کی اطاعت کی ہوتی‘‘۔

اور کہیں گے ’’اے رب ہمارے ، ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہمیں راہِ راست سے بے راہ کر دیا۔

اے رب، ان کو دوہرا عذاب دے اور ان پر سخت لعنت کر‘‘ 117 ؏۸

اے لوگو جو ایمان لائے ہو 118 ، ان لوگوں کی طرح نہ بن جاؤ جنہوں نے موسیٰؑ کو اذیتیں دی تھیں ، پھر اللہ نے ان کی بنائی ہوئی باتوں سے اس کی برأت فرمائی اور وہ اللہ کے نزدیک با عزت تھا 119

اے ایمان لانے والو، اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کیا کرو۔

اللہ تمہارے اعمال درست کر دے گا اور تمہارے قصوروں سے درگذر فرمائے گا۔ جو شخص اللہ اور اس کے رسولؐ کی اطاعت کرے اُس نے بڑی کامیابی حاصل کی۔

ہم نے اس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو وہ اسے اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوئے اور اس سے ڈر گئے ، مگر انسان نے اسے اٹھا لیا، بے شک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے 120

اس بار امانت کو اٹھانے کا لازمی نتیجہ یہ ہے کہ اللہ منافق مردوں اور عورتوں ، اور مشرک مردوں اور عورتوں کو سزا دے اور مومن مَردوں کی توبہ قبول کرے، اللہ درگزر فرمانے والا اور رحیم ہے۔ ؏۹