1-9 شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے۔

ا، ل ، م۔

اللہ، وہ زندہ جاوید ہستی ، جو نظامِ کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے، حقیقت میں اُس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔ 1

اُس نے تم پر یہ کتاب نازل کی ، جو حق لے کر آئی ہے اور اُن کتابوں کی تصدیق کر رہی ہے جو پہلے سے آئی ہوئی تھیں۔

اس سے پہلے وہ انسانوں کی ہدایت کے لیے تو رات اور انجیل نازل کر چکا ہے،2     اور اس نے وہ کسوٹی اتاری ہے (جو حق اور باطل کا فرق دکھانے والی ہے)۔ اب جو لوگ اللہ کے فرامین کو قبول کرنے سے انکار کریں، ان کو یقیناً سخت سزا ملے گی۔ اللہ بے پناہ طاقت کا مالک ہے اور بُرائی کا بدلہ دینے والا ہے۔

زمین اور آسمان کی کوئی چیز اللہ سے پوشیدہ نہیں۔3

وہی تو ہے جو تمہاری ماؤں کے پیٹ میں تمہاری صورتیں، جیسی چاہتا ہے، بناتا ہے۔4 اُس زبر دست حکمت والے کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے۔

وہی خدا ہے، جس نے یہ کتاب تم پر  نازل کی ہے۔ اس کتاب میں دو طرح کی آیات ہیں: ایک محکمات، جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں5 اور دُوسری متشابہات6۔ جن لوگوں کو دلوں میں ٹیڑھ ہے، وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور اُن کو معنی پہنانے کی کو شش کیا کرتے ہیں، حالانکہ ان کا حقیقی مفہوم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا۔ بخلا ف اِ س کے جو لوگ علم میں پختہ کار ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ”ہمارا  اُن پر  ایمان ہے، یہ سب ہمارے رب ہی کی طرف سے ہیں۔7“ اور سچ یہ ہے کہ کسی چیز سے صحیح سبق صرف  دانشمند لوگ ہی حاصل کرتے ہیں ۔

وہ اللہ  سے دعا کرتے رہتے ہیں کہ ”پروردگار !  جب تُو ہمیں سیدھے رستہ پر لگا چکا ہے، تو پھر کہیں ہمارے دلوں کو کجی میں مُبتلا نہ کر دیجیو۔ ہمیں اپنے خزانہٴ  فیض سے رحمت عطا کر کہ تُو ہی فیاضِ  حقیقی ہے۔

پروردگار! تُو یقیناً سب لوگوں کو ایک روز جمع  کرنے والا ہے، جس کے آنے میں کوئی شبہہ نہیں ۔ تُو ہرگز اپنے وعدے سے ٹلنے والا نہیں ہے “۔؏

10-20

جن لوگو ں نے کفر کا رویّہ اختیار کیا ہے،8 انہیں اللہ کے مقابلے میں نہ اُن کا مال کچھ کام دے گا، نہ اولاد۔ وہ دوزخ کا ایندھن بن کر رہیں گے۔

 اُن کا انجام ویسا ہی ہوگا،  جیسا فرعون کے ساتھیوں اور اُن سے پہلے کے نافر مانوں کا ہو چکا ہے کہ انہوں نے آیاتِ الٰہی کو جھٹلایا، نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑ لیا  اور حق یہ ہے کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔

پس اے محمدؐ! جن لوگوں نے تمہاری دعوت کو قبول  کرنے سے انکار کر دیا ہے، اُن سے کہہ دو  کہ قریب ہے وہ وقت، جب تم مغلوب ہو جاؤ گے اور جہنم  کی طرف  ہانکے جاؤ گے اور جہنم بڑا ہی بُرا ٹھکانا ہے۔

تمہارے لیے اُن دو گروہوں میں ایک نشان عبرت تھا، جو ( بدر میں)ایک دوسرے سے نبرد آزما ہو ئے۔ ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑ رہا تھا اور دُوسرا گروہ کافر تھا۔ دیکھنے والے بچشمِ سر دیکھ رہے تھے کہ کافر گروہ مومن گروہ سے دو چند ہے۔9 مگر (نتیجے نے   ثابت کردیا کہ)اللہ اپنی فتح و نصرت سے جس کی چاہتا ہے، مدد کر دیتا ہے۔ دیدۂ بینا رکھنے والوں کے لیے اس میں بڑا سبق پوشیدہ ہے۔10

لوگوں کے لیے مرغوباتِ نفس۔۔۔۔عورتیں، اولاد، سونے چاندی کے ڈھیر، چیدہ گھوڑے،مویشی اور زرعی زمینیں۔۔۔۔ بڑی خوش آئند بنا دی گئی ہیں، مگر یہ سب دنیا کی چند روزہ زندگی کے سامان ہیں ۔حقیقت  میں جو بہتر ٹھکانا ہے، وہ تو اللہ کے پاس ہے۔

کہو: میں تمھیں بتاؤں  کہ ان سے زیادہ اچھی چیز کیا ہے؟ جو لوگ تقویٰ  کی روش اختیار کریں، اُن کے لیے ان کے رب کے پاس باغ ہیں، جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہاں انہیں  ہمیشگی کی زندگی حاصل ہو گی، پاکیزہ بیویاں ان کی رفیق ہوں گی 11اور اللہ کی رضا سے وہ سرفراز ہوں گے۔ اللہ اپنے  بندوں کے رویّے پر گہری نظر رکھتا ہے۔12

یہ وہ لوگ ہیں ، جو کہتے ہیں  کہ” مالک! ہم ایمان لائے ، ہماری خطاؤں  سے در گزر فرما اور ہمیں آتشِ دوزخ  سے بچا لے “

یہ لوگ صبر کرنے والے ہیں،13 راستباز ہیں، فرمانبردار اور فیاض ہیں اور رات کی آخری گھڑیوں میں اللہ سے مغفرت کی دعائیں مانگا کرتے ہیں۔

اللہ نے خود اس بات کی شہادت دی ہے کہ اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے14 اور (یہی شہادت) فرشتوں اور سب اہلِ علم نے بھی دی ہے۔15 وہ انصاف پر قائم ہے۔ اُس زبر دست حکیم کے سوا  فی الواقع کوئی خدا نہیں ہے۔

اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔16 اس دین سے ہٹ کر جو مختلف طریقے  اُن لوگوں  نے اختیار کیے، جنہیں کتاب دی گئی تھی، اُن کے اِس  طرز عمل  کی کوئی  وجہ اس کے سوا نہ تھی کہ انہوں نے علم آ جانے کے بعد آپس میں ایک دُوسرے پر زیادتی کرنے کے لیے ایسا  کیا 17اور جو کو ئی  اللہ کے احکام و ہدایات کی اطاعت سے انکار کر دے، اللہ کو اس سے حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی۔

اب اگر یہ لوگ تم سے جھگڑا کریں، تو ان سے کہو : ” میں نے اور میرے پیرووں نے تو اللہ کے آگے  سرتسلیم خم کر دیا ہے۔“ پھر اہل کتاب  اور غیر اہلِ کتاب دونوں سے پوچھو: ” کیا تم نے بھی اس کی اطاعت و بندگی قبول کی؟“18 اگر کی تو وہ راہ ِ راست پاگئے ، اور اگر اس سے منہ موڑا تو تم پر صرف پیغام پہنچا دینے کی ذمہ داری تھی۔ آگے اللہ خود اپنے بندوں کے معاملات دیکھنے والا ہے۔ ؏۲

21-30

جو لوگ اللہ کے احکام و ہدایت کو ماننے سے انکار کرتے ہیں  اور اس کے پیغمبروں کو نا حق قتل کرتے ہیں اور  ایسے لوگو ں کی جان کے درپے ہو جا تے ہیں، جو خلقِ خدا میں سے عدل و راستی کا حکم دینے کے لیے اُٹھیں، ان کو درد ناک سزا کی خوشخبری سُنا دو۔19

یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دُنیا اور آخرت دونوں  میں ضائع ہو گئے،20 اور ان کا مددگار کوئی نہیں ہے۔21

تم نے دیکھا نہیں کہ جن لوگوں کو کتاب کے علم میں سے کچھ حصّہ ملا ہے، اُن کا حال کیا ہے؟ اُنہیں  جب  کتابِ الٰہی کی طرف بُلایا جاتا ہے تاکہ وہ اُن کے درمیان فیصلہ کرے،22 تو ان میں سے ایک فریق اس سے پہلو تہی کرتا ہے اور اس فیصلے کی طرف آنے سے منہ پھیر جاتا ہے۔

ان کا یہ طرز عمل اس وجہ سے ہے کہ وہ کہتے ہیں ”آتش ِ دوزخ تو ہمیں مَس تک نہ کرے گی اور اگر دوزخ کی سزا ہم کو ملے گی بھی تو بس چند روز“۔23 اُن کے خود ساختہ عقیدوں نے اُن کو اپنے دین کے معاملے میں بڑی غلط فہمیوں میں ڈال رکھا ہے۔

مگر کیا بنے گی اُن پر جب ہم انہیں اُس روز جمع کریں گے جس کا آنا یقینی ہے؟ اس روز ہر شخص کو اس کی کمائی کا بدلہ پوراپورا دیدیا جائیگا اورکسی پر ظلم نہ ہو گا۔

کہو! خدایا! مُلک کے مالک! تُو جسے چاہے، حکومت دے اور جس سے چاہے، چھین لے۔ جسے چاہے، عزّ ت بخشے اور جس کو چاہے، ذلیل کردے ۔ بھلائی تیرے اختیار میں ہے۔ بیشک تو ہر چیز پر قادر ہے۔

رات کو دن میں پِروتا ہوالے آتا ہے اور دن کو رات میں۔ جاندار میں سے بے جان کو نکالتا ہے اور بے جان میں سے جاندار کو۔ اور جسے چاہتا ہے، بے حساب رزق دیتا ہے۔24

مومنین اہل ایمان کو چھوڑکر کافروں کو اپنا رفیق اور دوست ہرگز نہ بنائیں۔ جو ایسا کرے گا اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں ۔ ہاں یہ معاف ہے کہ تم ان کے ظلم سے بچنے کے لیے بظاہر ایسا طرزِ عمل اختیار کر جاؤ۔25 مگر اللہ تمہیں  اپنے آپ سے ڈراتا ہے اور تمہیں اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔26

اے نبی! لوگوں کو خبر دار کر دو کہ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے، اُسے خواہ تم چھپا ؤ  یا ظاہر کرو، اللہ بہر حال اسے جانتا ہے، زمین وآسمان کی کوئی  چیز اس کے علم سے باہر نہیں ہے اور اس کا اقتدار ہر چیز  پر حاوی ہے۔

وہ دن آنے والا ہے، جب ہر نفس اپنے کیے کا پھل حاضر پائے گا خواہ اُس نے بھلائی کی ہو یا بُرائی۔ اس روز آدمی یہ تمنا کرے گا کہ کاش ابھی یہ دن اس سے بہت دُور ہوتا! اللہ تمہیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے اور وہ اپنے بندوں کا نہایت خیر خواہ ہے۔ ؏۳ 27 31-41

اے نبی ! لوگوں سے کہ دو کہ ”اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو، تو میری پیروی اختیار کرو، اللہ تم سے محبت  کرے گا اور تمہاری خطاؤں کو در گزر فرمائے گا۔ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے“۔

اُن سے کہو کہ ”اللہ اور  رسُول کی اطاعت قبول کر لو“ پھر  اگر وہ تمہاری یہ دعوت قبول نہ کریں، تو یقیناً یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ ایسے لوگوں سے محبت کرے، جو اس کی اور اس کے رسُول کی اطاعت سے انکار کرتے ہوں۔28

اللہ29 نے آدم ؑ  اور نوح ؑ  اور آلِ ابراھیم   ؑ  اور آلِ عمران30  کو تمام دُنیا والوں پر ترجیح دے کر (اپنی رسالت کے لیے) منتخب کیا تھا ۔

یہ ایک سلسلے کے لوگ تھے، جو ایک دوسرے کی نسل سے پیدا ہوئے تھے۔ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔31

(وہ اس وقت سُن رہا تھا) جب عمران کی عورت32 کہہ رہی تھی کہ ”میرے پر ور دگار! میں اس بچے کو جو میرے پیٹ میں ہے تیری نذر  کرتی ہوں ، وہ تیرے ہی کام کے لیے وقف ہوگا۔ میری اس پیشکش کو قبو ل فرما۔ تُو  سننے اور جاننے والاہے“۔33

پھر جب وہ بچی اس کے ہاں پیدا ہوئی تو اس نے کہا ”مالک! میرے ہاں تو لڑکی پیدا ہو گئی ہے۔۔۔۔حالانکہ  جو کچھ اس نے جنا تھا، اللہ کو اس کی خبر تھی۔۔۔۔اور لڑکا لڑکی کی طرح  نہیں ہوتا۔34 خیر ، میں نے اس کا نام مریم  رکھ دیا ہے اور میں اسے اور اس کی آئندہ نسل کوشیطانِ مردود کے فتنے سے تیری پناہ میں دیتی ہوں“۔

آخر کار اس کے رب نے اس لڑکی کو بخوشی قبول فرما لیا۔ اُسے بڑی اچھی لڑکی بناکر اُٹھایا۔ اور زکریّا کو اس کا سرپرست بنادیا۔  زکریا35 جب کبھی اس کے پاس محراب36 میں جاتا تو اس کے پاس کچھ نہ کچھ کھانے پینے کا سامان پاتا۔ پوچھتا مریم ! یہ تیرے پاس کہا ں سے آیا؟  وہ جواب دیتی اللہ کے پاس سے آیا ہے۔ اللہ جسے چاہتاہے بے حساب  دیتا ہے۔

یہ حال دیکھ کر زکریا نے اپنے رب کو پکارا”پروردگار! اپنی قدرت سے مجھے نیک اولاد عطا کر۔ تُو ہی دُعا سننے والا ہے“۔37

جواب میں فرشتوں نے آواز دی ، جب کہ وہ محراب میں کھڑا نماز پڑھ رہاتھا، کہ”اللہ تجھے یحی38یٰ کی خوشخبری دیتا ہے۔ وہ اللہ کی طرف سے ایک فرمان39 کی تصدیق کرنے والا بن کر آئے گا۔ اس میں سرداری  و بزرگی کی شان ہو گی۔ کمال   درجہ کا ضابط ہو گا۔ نبّوت سے سرفراز ہو گا  اور صالحین میں شمار کیا جائے گا۔

زکریّا  نے کہا” پروردگار!میرے ہاں لڑکا کہاں سے ہو گا، میں تو بہت بوڑھا ہو چکا ہوں اور میری  بیوی بانجھ  ہے“۔ جواب ملا”ایسا ہی ہوگا،40 اللہ جو چاہتا ہےکرتا ہے“۔

عرض کیا مالک! پھر کوئی نشانی میرے لیے مقرر فرما دے۔کہا” 41 نشانی  یہ ہے کہ تم تین دن تک  لوگوں سے اشارہ کے سوا کوئی بات چیت نہ کرو گے(یا نہ کر سکو گے)۔ اِس دوران میں اپنے رب کو بہت یاد کرنا اور صبح وشام اس کی تسبیح کرتے رہنا“۔42  ؏۴

42-54

پھر وہ وقت آیا جب مریم سے فرشتوں نے آکر کہا ”اے مریم ! اللہ نے تجھے برگزیدہ کیا اور پاکیزگی عطاکی اور تمام دُنیا کی عورتوں پر تجھ کو تر جیح دے کر  اپنی خدمت کے لیے  چُن لیا۔

اے مریم ! اپنے  رب کی تابع فرمان بن کر رہ،  اس کے آگے سر بسجود  ہو، اور جو بندے اس کے حضور جھکنے  والے ہیں ان کے ساتھ  تو بھی  جھک جا“۔

اے محمد ؐ ! یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تم کو وحی کے ذریعہ سے بتا رہے ہیں، ورنہ تم اُس وقت وہاں موجو د نہ تھے جب ہیکل کے خادم یہ فیصلہ کرنے کے لیے کہ مریم کا سر پرست کون ہو اپنے اپنے قلم پھینک رہے تھے،43 اور نہ تم اس وقت حاضر تھے جب اُن کے درمیان  جھگڑا  برپا تھا۔

اور جب فرشتوں نے کہا”اے مریم ! اللہ تجھے اپنے ایک فرمان کی خوش خبری دیتا ہے۔ اس کا نام مسیح عیسٰی ابن مریم ہو گا، دنیا  اور آخرت میں  معزّز ہو گا ، اللہ کے مقرب بندوں میں شمار کیا جائے گا،

لوگوں سے گہوار ے میں بھی کلام کرے گا اور بڑی  عمر کو پہنچ کر بھی ، اور وہ ایک مرد صالح ہو گا“۔

یہ سُن کر مریم بولی”پروردگار!میرے ہا ں  بچہ کہاں سے ہوگا، مجھے تو کسی شخص نے ہاتھ تک نہیں لگایا“۔ جواب ملا”ایسا ہی ہوگا،44 اللہ جو چاھتا ہے  پیدا کر تا ہے۔ وہ جب کسی کا م کے کرنے کا فیصلہ فرماتا ہے تو بس کہتا ہے کہ ہو جا اور وہ ہو جا تا ہے“۔

(فرشتوں نے پھر اپنے سلسلئہ کلام میں کہا)”اور اللہ اُسے کتاب اور حکمت کی تعلیم دے گا، تورات اور انجیل کا علم سکھائے گا

اور بنی اسرئیل کی طرف اپنا رسول مقرر کرے گا“۔ (اور جب وہ بحیثیت  رسول بنی اسرائیل کے پاس آیا تو اس نے کہا)”میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس نشانی لے کر آیا ہوں۔ میں تمہارے سامنے مٹی سے پرندے کی صورت کا ایک مجسمہ بناتا ہوں اور اس میں پھونک مارتا ہوں، وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے۔ میں اللہ کے حکم سے مادر زاد اندھے  اور کوڑھی کو اچھا کرتا ہوں اور مُردے کو زندہ کرتا ہوں ۔ میں تمہیں بتاتا ہوں کہ تم کیا کھاتے ہو اور کیا اپنے گھروں میں ذخیرہ کرکے رکھتے ہو۔ اس میں تمہارے لیے کافی نشانی ہے اگر تم ایمان لانے والے ہو ۔45

اور میں اُس تعلیم و ہدایت کی تصدیق کرنے والا بن کر آیا ہوں  جو تو رات میں سے اِس وقت میرے زمانہ میں موجود ہے۔46 اور اس لیے آیا ہوں کہ تمہارے لیے بعض اُن چیزوں کو حلال کر دوں جو تم پر حرام کر دی گئی ہیں۔47 دیکھو ، میں تمہارے رب کی طرف سے تمہارے پاس نشانی لے کر آیا ہوں ، لہٰذا اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔

اللہ میرا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی ، لہٰذا تم  اُسی کی بندگی اختیار کرو، یہی سیدھا راستہ ہے“۔48

جب عیسٰی  نے محسوس کیا کہ بنی اسرئیل کفر و انکار پر آمادہ ہیں تو اس نے کہا ”کون اللہ کی راہ میں میرا مددگار ہو تا ہے“؟ حواریوں49 نے جواب دیا”ہم اللہ کے مدد گار ہیں ،50 ہم اللہ پر ایمان لائے، گواہ رہو کہ ہم مسلم(اللہ کے آگے سرِ اطاعت جھکادینے والے ) ہیں ۔

مالک! جو فرمان تُو نے نازل کیا ہے ہم نے اسے مان لیا اور رسول کی پیروی قبول کی، ہمارانام گواہی دینے والوں میں لکھ لے“۔

پھر بنی اسرئیل(مسیح کے خلاف) خفیہ تد بیریں کرنے لگے۔ جواب میں اللہ نے بھی اپنی خفیہ تدبیر کی  اور ایسی تدبیر وں میں اللہ سب سے بڑھ کر ہے۔ ؏۵ 55-63

(وہ اللہ کی خفیہ تدبیر  ہی تھی)جب اس نے کہا کہ ”اے عیسٰی !اب میں تجھے واپس لے لوں گا 51 اور تجھ کو اپنی طرف اٹھا لوں گا اور جنھوں نے تیرا انکار کیا ہے ان سے (یعنی ان کی معیت سے اور ان کے گندے ماحول میں ان کے ساتھ رہنے سے) تجھے پاک کر دوں گا اور تیری پیروی کرنے والوں کو قیامت تک ان لوگوں پر بالا دست رکھوں گا جنھوں نے تیرا انکار کیاہے۔ 52  پھر تم سب کو آخر کار میرے پاس آنا ہے، اس وقت میں ان باتوں کا فیصلہ کر دوں گا جن میں تمہارے درمیان اختلاف ہوا ہے۔

جن لوگوں نے کفر و انکار کی روش اختیار کی ہے انہیں دنیا  اور آخرت دونوں میں سخت سزا دوں گا اور وہ کوئی  مدد گار نہ پائیں گے ،

اورجنھوں نے ایمان اور نیک عملی کا رویہّ اختیار کیا ہے انہیں ان کے اجر پورے پورے دے دیے جائیں گے۔ اور خوب جان لے کہ ظالموں سے اللہ ہر گز محبت نہیں کرتا“۔

یہ آیات اور حکمت سے لبریز تذکرے ہیں جو ہم تمہیں سنا رہے ہیں۔

اللہ کے نزدیک عیسٰی  کی مثال  آدم کی سی ہے کہ اللہ نے اسے مٹی سے پیدا کیا اور حکم دیا کہ ہوجا اور وہ ہوگیا۔53

یہ اصل حقیقت ہے جو تمہارے رب کی طرف سے بتائی جا رہی ہے اور تم ان لوگوں میں شامل نہ ہو جو اس میں شک کرتے ہیں۔54

یہ علم آجانے کے بعد اب جو کوئی اس معاملہ میں تم سے جھگڑا کرے تو اے محمد ؐ!اس سے کہو کہ” آؤ ہم اور تم خود بھی  آجا ئیں  اور اپنے اپنے بال بچوں کو بھی لے آئیں اور خدا سے دعا کریں کہ جو جھوٹا ہو اس پر خدا کی  لعنت ہو“ ۔55

یہ بالکل صحیح واقعات ہیں،  اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی  خدا وند نہیں  ہے ، اور وہ اللہ ہی کی ہستی ہے جس کی طاقت سب سے بالا اور جس کی حکمت نظام ِ  عالم  میں کار فرما ہے۔

پس اگر  یہ لوگ(اس  شرط پر مقابلہ میں آنے سے ) منہ موڑیں تو(ان کا مفسد ہونا صاف کھل جائے گا)اور اللہ تو مفسدوں کے حال سے واقف ہی ہے۔ ؏٦ 64-71

کہو، 56”اے اہل کتاب! آؤ ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں ہے۔57 یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی  نہ کریں، اسکے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں، اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رب نہ بنا لے“۔۔۔۔ اس دعوت کو قبول کرنے سے اگر وہ منہ موڑیں تو صاف  کہہ دو کہ گواہ رہو۔ ہم تو مسلم (صرف خدا کی بندگی  و اطاعت کرنے والے ) ہیں۔

اے اہل کتاب! تم ابراہیم ؑ کے بارے میں ہم سے کیوں جھگڑا کرتے ہو؟  تورات اور انجیل  تو ابراہیم کے بعد ہی نازل ہوئی ہیں۔پھر کیا تم  اتنی بات بھی نہیں سمجھتے۔

تم58 لوگ  جن چیزوں کا علم  رکھتے ہو ان میں تو خوب بحثیں کر چکے، اب ان معاملات میں کیوں بحث کرےچلے ہو جن کا تمہارے پاس کچھ بھی علم نہیں۔ اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے۔

ابراہیم نہ یہودی تھا نہ عیسائی ، بلکہ وہ تو ایک مسلم ِ یکسُو تھا59 اور وہ ہر گز مشرکوں میں سے نہ تھا“۔

ابراہیمؑ  سے نسبت رکھنے کا سب سے زیادہ حق اگر کسی کو پہنچتا ہے تو ان لوگوں کو پہنچتا ہے جنھوں نے اس کی پیروی کی اور اب یہ نبی اور اس کے ماننے والے اِس  نسبت کے زیادہ حق دار ہیں۔ اللہ صرف اُنہی کا حامی و مدد گا ر ہے جو ایمان رکھتے ہوں۔

(اے ایما ن  لانے والو)اہل کتاب میں سے ایک  گروہ  چاہتا ہے کہ کسی طرح تمہیں راہ راست سے ہٹادے، حالانکہ  درحقیقت وہ اپنے سوا کسی کو گمراہی میں نہیں ڈال رہے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔

اے اہل کتاب! کیوں اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہو حالانکہ  تم خود  ان کا مشاہدہ کر رہے ہو؟60

اے اہل کتاب !کیوں حق کو باطل کا رنگ چڑھا کر مشتبہ  بناتے ہو؟ کیوں جانتے بُوجھتے حق کو چھپاتے ہو؟ ؏۷ 72-80

اہل کتاب میں سے ایک گروہ کہتا ہےکہ اس کےنبی کے ماننے والوں پر جو کچھ نازل ہوا ہے اس پر صحیح ایمان لاؤ اور شام کو اس سے انکار کردو،  شاید اس ترکیب سے یہ لوگ اپنے ایمان سے پھر جائیں۔61

نیز یہ لوگ آپس میں کہتے ہیں کہ اپنے مذہب والے کے سوا کسی کی بات نہ مانو۔ اے نبی! ان سے کہہ دو کہ”اصل میں ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے اور یہ اُسی  کی دین ہے کہ کسی کو وہی کچھ دے دیا جائے جو کبھی تم کو دیا گیا تھا، یا یہ کہ دوسروں کو تمہارے رب کے حضور پیش کرنے کے لیے تمہارے خلاف قوی حجّت مل جائے“۔ اے نبیؐ ! ان سے کہو کہ ”فضل و شرف اللہ کے اختیار میں ہے ، جسے چاہے عطا فرمائے۔ وہ وسیع النظر ہے62 اور سب کچھ جانتا ہے،63

اپنی  رحمت  کے لیے جس کو چاہتا ہے مخصوص کر لیتا ہے اور اس کا فضل بہت بڑا ہے“۔

اہل کتاب میں کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اس کے اعتماد پر مال و دولت کا ایک ڈھیربھی دے دو تو وہ تمہارا مال تمہیں ادا کردے گا، اور کسی کا حال یہ ہے کہ اگر تم ایک دینار کے معاملہ میں بھی اس پر بھروسہ کرو تو وہ ادا نہ کرے گا اِلّا یہ کہ تم اس کے سر پر سوار ہو جاؤ۔ ان کی اس اخلاقی حالت کا سبب یہ ہے کہ وہ کہتےہیں  ” اُمّیوں (غیر یہودی لوگوں)کے معاملہ میں ہم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے“۔64 اور یہ بات وہ محض جھوٹ گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں، حالانکہ انہیں معلوم ہے کہ اللہ نے ایسی کوئی بات نہیں فرمائی ہے،

آخر کیوں ان سے باز پرس نہ ہو گی؟ جو بھی اپنے عہد کو پورا کرے گا اور برائی سے بچ کر رہے گا وہ اللہ کا محبوب  بنےگا، کیونکہ پر ہیز گار لوگ اللہ کو پسند ہیں۔

رہے  وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی  قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں، تو ان کے لیے آخرت میں کوئی  حصّہ نہیں، اللہ قیامت کے روز نہ ان سے بات کرے گا نہ ان کی طرف دیکھے گا اور نہ انھیں پاک کرے گا،65 بلکہ ان کےلیے تو سخت درد ناک سزا ہے۔

ان میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو کتاب پڑھتے ہوئے اس طرح زبان  کا اُلٹ پھیر  کرتے ہیں کہ تم سمجھو جو کچھ وہ پڑھ رہے ہیں وہ کتاب ہی کی عبارت ہے، حالانکہ وہ کتاب کی عبارت نہیں ہوتی،66 وہ کہتے ہیں کہ یہ جو کچھ ہم پڑھ رہے ہیں یہ خدا کی طرف سے ہے، حالانکہ وہ خدا کی طرف سے نہیں ہوتا، وہ جا ن بوجھ کر  جھوٹ بات اللہ کی طرف منسوب کر دیتے ہیں۔

کسی انسان کا یہ کام نہیں ہے  کہ اللہ تو اس کو کتاب اور حکم  اور نبوت عطا فرما ئے اور وہ لوگوں سے کہے کہ اللہ کے بجائے تم میرے بندے بن جاؤ۔ وہ تو یہی کہے گاکہ سچّےربّانی بنو67 جیسا کہ اس کتاب کی تعلیم کا تقا ضا ہے جسے تم پڑھتے اور پڑھا تےہو۔

وہ تم سے ہرگز یہ نہ کہے گا کہ فرشتوں کو یا پیغمبروں کواپنا رب بنا لو، کیا یہ ممکن ہے کہ ایک نبی تمہیں کفر کا حکم دے جب کہ تم  مسلم ہو؟68  ؏۸

81-91

یاد کرو ، اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا تھا کہ” آج ہم نے تمہیں کتاب اور  حکمت و دانش سے نوازا ہے، کل اگر  کوئی  دوسرا رسول تمہارے پاس اسی تعلیم کی تصدیق کر تا ہو ا آئےجو  پہلے سے تمہارے پاس موجود ہے، تو تم کو اس پر ایمان لانا ہو گا اور اس کی  مدد کرنی ہو گی“۔69 یہ ارشاد فرما کر اللہ نے پوچھا” کیا تم اس کا اقرا ر کرتے ہو  اور اس پر میری  طرف سے عہد کی بھاری ذمّہ داری اٹھاتے ہو؟“ انہوں نے کہا ہاں ہم اقرار کرتے ہیں ۔ اللہ نے فرمایا ”اچھا تو گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ  ہوں،

اس کے بعد جو اپنے عہد سے پھر جائے وہی فاسق ہے۔70

اب کیا یہ لوگ اللہ کی اطا عت  کے طریقہ (دینُُ اللہ)کوچھوڑ کر  کوئی  اور طریقہ  چاہتے ہیں؟ حالانکہ آسمان و زمین کی ساری چیزیں چارو ناچاراللہ ہی کے تابع فرمان(مسلم) ہیں71 اور اسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے؟

اے نبی ؐ!کہو کہ اللہ کو مانتے ہیں، اس تعلیم کو مانتے ہیں جو ہم پر نازل کی گئی ہے، ان تعلیمات کو بھی مانتے ہیں جو ابراھیم ؑ،اسماعیل  ؑ، اسحاق ؑ، یعقوب   ؑ اور اولاد یعقوب ؑ پر نازل ہوئی تھیں، اور ان ہدایات پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو موسیٰؑ اور عیسٰیؑ اور دوسرے پیغمبروں کو ان  کے رب کی طرف سے دی گئیں۔ ہم ان کے درمیان فرق نہیں  کرتے 72اور ہم اللہ کے تابع فرمان (مسلم) ہیں۔

اس فرماں برداری (اسلام)کے سوا جو شخص  کوئی  اور طریقہ اختیار کرے گا وہ   ہرگز  قبول نہ کیا جا ئے گا اور آخرت میں وہ ناکام و نامراد گا۔

کیسے ہو سکتا ہے کہ اللہ اُن لوگوں کو ہدایت بخشے جنہوں نے نعمتِ ایمان پا لینے  کے بعد پھر کفر اختیار کیا حالانکہ  وہ خود اس بات پر گواہی دے چکے ہیں کہ یہ رسول حق پر ہے اور ان کے پاس روشن نشانیاں بھی  آچکی ہیں۔73 اللہ ظالموں کو تو ہدایت  نہیں دیا کرتا۔

ان کے ظلم کا صحیح بدلہ یہی ہے کہ ان پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی پھٹکار ہے ،

اسی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے، نہ ا ن کی سزا میں تخفیف ہو گی اور نہ  انھیں مہلت دی جائے گی۔

البتہ وہ لوگ بچ جائیں گے جو اس کے بعد توبہ کر کے اپنے طرزِ عمل کی اصلاح  کر لیں، اللہ بخشنے  والا اور رحم فرمانے والا ہے۔

مگر جن لوگوں نے ایمان لانے کے بعد کفر  اختیار کیا، پھر اپنے کفر میں بڑھتے چلے گئے74 ان کی توبہ بھی قبو ل نہ ہو گی، ایسے لوگ تو پکّے گمراہ ہیں۔

یقین رکھو، جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور کفر ہی کی حالت میں جان دی  ان میں سے کوئی اگر اپنے آپ کو سزا سے بچانے کے لیے رُوئے زمین بھر کر بھی سونا فدیہ میں دے تو اُسے قبول نہ کیا جائے گا۔ ایسے لوگوں کے لیے درد ناک سزا تیار ہے اور وہ اپنا کوئی مددگا ر نہ پائیں گے۔  ؏۹

92-101

تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے  جب تک کہ اپنی وہ چیزیں (خدا کی راہ میں) خرچ نہ کر دو جنہیں تم عزیز  رکھتے ہو،75  اور جو کچھ تم خرچ کرو گے اللہ اس سے بے خبر نہ ہوگا-

کھانے کی یہ ساری چیزیں (جو شریعتِ محمد ؐ ی میں حلال ہیں) بنی اسرئیل کے لیے بھی حلال تھیں،76 البتہ بعض چیزیں ایسی تھیں جنھیں تورات  کے نازل کیے جانے سے پہلے اسرائیل77 نے خود اپنے اوپر حرام کر لیا تھا۔ ان سے کہو، اگر تم (اپنے اعتراض میں) سچّے ہو تو لاؤ تورات  اور پیش کرو اس کی کوئی عبارت۔

اس کے بعد بھی جو لوگ اپنی جھوٹی گھڑی ہوئی باتیں اللہ کی طرف منسوب کرتے رہیں وہی درحقیقت ظالم ہیں۔

کہو، اللہ نے جو کچھ فرمایا ہے سچ فرمایا ہے،تم کو یکسُو  ہو کر ابراہیم ؑ کے طریقہ کی پیروی  کرنی چاہیے، اور ابراہیم ؑ  شرک کرنے والوں میں سے نہ تھا۔78

بے شک سب سے پہلی عبادت گا ہ جو انسانوں کے لیے تعمیر ہوئی وہ وہی  ہے جو مکّہ میں  واقع ہے۔ اس کو خیر و برکت دی گئی تھی اور تمام جہان والوں کے لیے مرکزِ ہدایت بنایا گیا تھا۔ 79

اس میں کھلی ہوئی  نشانیاں ہیں،80 ابراہیم ؑ  کا مقام عبادت ہے، اور اس کا حال یہ ہے کہ جو اس میں داخل ہوا مامون 81ہوگیا۔ لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے، اور جو کوئی اس حکم کی پیر وی سے انکار کرے تو اسے معلوم ہو جا نا چاہیے کہ اللہ تما م دنیا والوں سے بے نیاز ہے۔

کہو، اے اہل کتاب! تم کیوں اللہ کی باتیں ماننے سے انکار کرتے ہو؟ جو حرکتیں تم کر رہے ہو اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے۔

کہو ، اے اہل کتاب! یہ تمہاری کیا روش ہے کہ جو اللہ کی بات مانتا ہے اسے بھی تم اللہ کے راستہ سے روکتے ہو اور چاہتے ہو کہ وہ ٹیڑھی راہ چلے، حالانکہ تم خود (اس کے راہ راست ہونے پر )گواہ ہو۔ تمہاری حرکتوں سے اللہ غافل نہیں ہے۔

اے لوگوجو ایمان لائے ہو،  اگر تم نے ان اہل کتاب میں سے ایک گروہ کی بات مانی تو یہ تمہیں ایمان سے پھر کفر کی طرف  پھیرلے جائیں گے۔

تمہارے لیے کفر کی طرف جانے کا اب کیا موقع باقی ہے جب کہ تم کو اللہ کی آیا ت  سنائی جا رہی ہیں اور تمہارے درمیان اس کا رسول ؐ موجود ہے؟ جو اللہ کا دامن مضبوطی کے ساتھ تھامے گا وہ ضرور راہِ راست پالےگا۔ ؏١۰

102-109

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اللہ سے ڈرو جیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ تم کو موت  نہ آئے مگر  اس حال میں  کہ تم مسلم ہو۔82

سب مل کر اللہ کی رسی 83کو مضبوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو۔ اللہ کے اس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے۔ تم ایک دوسرے کے دشمن تھے،  اس نے تمہارے دل جوڑ دیے اور اس  کے فضل و کرم سے تم بھائی بھائی بن گئے۔ تم آگ سے بھرے ہوئے ایک گڑھے کے کنارے کھڑے تھے،اللہ نے تم کو اس سے بچالیا۔84 اس طرح  اللہ اپنی نشانیاں تمہارےسامنے روشن کرتا ہے شاید کہ ان علامتوں سے تمہیں اپنی فلاح کا سیدھا راستہ نظر آجائے۔85

تم میں کچھ لوگ ایسے ضرو رہی رہنے چاہییں جو نیکی کی طرف بلائیں ، بھلائی کا حکم دیں، اور برائیوں سے روکتے رہیں۔ جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پائیں گے۔

کہیں تم ان لوگوں کی طرح  نہ ہو جانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور کھلی کھلی واضح ہدایا ت پانے کے بعد پھر اختلافات میں مبتلا ہوئے۔86 جنھوں نے یہ روش اختیار کی وہ اس روز سخت سزا پائیں  گے

جبکہ کچھ لوگ سرخرُو ہوں گے اور کچھ لوگوں کا منہ کالا ہو گا، جن کا منہ کالا ہوگا(ان سے کہا جا ئے گا کہ )نعمتِ ایمان  پانے کے بعد بھی تم نے کافرانہ رویّہ اختیار  کیا؟ اچھا تو اب اس  کفرانِ نعمت کے صلہ میں عذاب کا مزہ چکھو۔

رہے وہ لوگ جن کے چہرے روشن ہوں گے تو ان کو اللہ کے دامن ِ رحمت  میں  جگہ ملے گی اور ہمیشہ وہ اسی حا لت میں رہیں گے۔

یہ اللہ کے ارشادات ہیں  جو ہم تمہیں ٹھیک ٹھیک سنا رہے ہیں کیو نکہ اللہ دنیا والوں پر ظلم  کرنے کا کوئی  ارادہ  نہیں رکھتا۔87

زمین و آسمان کی ساری چیزوں کا مالک اللہ ہے اور سارے معاملات اللہ ہی کے حضُور پیش ہوتے ہیں۔  ؏١١

110-120

اب دنیا  میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔88 تم نیکی کا حکم دیتے ہو، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ اہل کتاب ایمان لاتے تو انہی کے حق میں بہتر تھا۔89 اگرچہ ان میں کچھ لوگ ایمان دار بھی پائے جاتے ہیں مگر ان کے بیشتر افراد نافرمان ہیں۔

یہ تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے، زیادہ سے زیادہ بس کچھ ستا سکتےہیں۔ اگر یہ تم سے لڑیں گے تو مقابلہ  میں پیٹھ دکھا ئیں گے، پھر ایسے بے بس ہوں گے کہ کہیں سے ان کو مدد نہ ملے گی۔

یہ جہاں بھی پائے گئے ان پر ذلت  کی مار ہی پڑی ، کہیں اللہ کے ذمّہ  یا انسانوں کے ذمّہ  میں پناہ  مل گئی تو یہ اور بات ہے،90 یہ اللہ کے غضب میں گھر چکے ہیں، ان پر محتاجی و مغلوبی  مسلط کر دی گئی ہے، اور یہ  سب کچھ صرف اس وجہ سے ہوا ہے کہ یہ اللہ کی آیات سے کفر کرتے رہے اور انہوں نے پیغمبروں کو نا حق قتل کیا۔ یہ ان کی نا فرمانیوں اور زیادتیوں کا انجام ہے۔

مگر سارے اہل کتاب یکسا ں نہیں  ہیں۔ ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو راہ راست پر قائم ہیں، راتوں کو اللہ کی آیات پڑھتے ہیں اور اس کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں،

اللہ اور روز آخرت پر  ایمان رکھتے ہیں، نیکی کا حکم دیتے ہیں، برائیوں سے روکتے ہیں اور بھلائی کے کاموں  میں سر گرم رہتے ہیں۔ یہ صالح لوگ ہیں

اور جو نیکی بھی یہ کریں گے اس کی ناقدری نہ کی جائے گی ، اللہ پرہیز گار لوگوں کو خوب جانتا ہے۔

رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کا رویّہ اختیار کیا تو اللہ کے مقا بلہ میں ان کو نہ ان کا مال کچھ کام دے گا نہ اولاد، وہ تو آگ میں جانے والے لوگ ہیں اورآگ ہی میں ہمیشہ  رہیں  گے۔

جو کچھ وہ اپنی اس دنیا کی زندگی میں خرچ کر رہے ہیں اس کی مثال اس ہوا کی سی ہے جس میں پالا ہو اور وہ ان لوگوں کی کھیتی پر چلے جنھوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا ہے اور اسے برباد کر کے رکھ دے۔91 اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا درحقیقت یہ خود اپنےاوپر ظلم کر رہے ہیں۔

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اپنی جماعت کے لوگوں کے سوا دوسروں کو اپنا راز دار نہ بناؤ۔ وہ تمہاری خرابی  کے کسی موقع سے فائدہ  اٹھا نے میں   نہیں چُوکتے۔92 تمہیں جس چیز سے نقصان پہنچے وہی ان کو محبوب ہے۔ ان کے دل کا بغض ان کے منہ سے نکلا پڑتا ہے اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپائےہوئے ہیں وہ اس سے شدید ترہے ۔  ہم نے تمہیں صاف  صاف  ہدایات دے دی ہیں، اگر تم عقل رکھتےہو (تو ان سے تعلق رکھنے میں احتیاط برتو گے)۔

تم ان سے محبت رکھتے ہو مگر وہ تم سے محبت نہیں رکھتے  حالانکہ تم تمام کتب ِ آسمانی کو مانتے ہو ۔93  جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے بھی (تمہارے رسول اور تمہاری کتاب کو )مان لیا ہے ،  مگر جب جدا ہوتے ہیں تو تمہارے خلاف غیظ و غضب کا یہ حال ہو تا ہےکہ اپنی انگلیا ں چبانے لگتے ہیں۔۔۔۔ان سے کہہ دو کہ اپنے غصّہ میں  آپ جل مرو، اللہ دلوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے۔

تمہارا بھلا ہوتا ہے تو ان کو برا معلوم ہوتا ہے،  اور تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یہ خوش ہوتے ہیں ۔ مگر ان کی کوئی تدبیر تمہارے خلاف کارگر نہیں ہو سکتی بشرطیکہ تم صبر سے کام لو  اور اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو۔جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اس پر حاوی ہے۔ ؏١۲

121-129

94(اے پیغمبر ؐ! مسلمانوں کے سامنے اس موقع کا ذکر  کر و )جب تم صبح سویرے اپنے گھر سے نکلے تھے اور(اُحد کے میدان میں)مسلمانوں کو جنگ کے لیے جا بجا مامور کر رہے تھے۔اللہ ساری باتیں سنتا ہےاور وہ نہات باخبر ہے۔

یاد کرو  جب تم میں سے دو گروہ بُزدلی دکھانے پر  آمادہ ہو گئے تھے ،95 حالانکہ اللہ ان کی مدد پر موجود تھا اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔

آخر اس سے پہلے جنگ بدر میں اللہ تمہاری مدد کر چکا تھا  حالانکہ اس وقت تم بہت کمزور تھے۔ لہٰذا تم کو چاہیے  کہ اللہ کی ناشکری سے بچو، اُمید  ہے کہ اب تم شکر گزار بنو گے۔

یاد کرو جب تم مومنوں سے کہہ رہے تھے”کیا تمہارے  لیے یہ بات کافی نہیں کہ اللہ تین ہزار  فرزشتے اتار کر تمہاری مدد کرے“؟96

بے شک  ، اگر تم  صبر کرو اور خدا سے ڈرتے ہوئے کام  کرو تو جس آن دشمن تمہارے اوپر  چڑھ کر آئیں  گے اُسی آن  تمہارا رب(تین ھزار نہیں) پانچ ہزار صاحب  نشان  فرشتوں سے تمہاری  مدد کرے گا۔

یہ بات  اللہ نے تمہیں اس لیے بتا دی ہے کہ تم خوش ہو جاؤ اور تمہارے دل مطمئن ہو جا ئیں۔ فتح و نصرت جو کچھ بھی ہے اللہ کی طرف سے ہےجو بڑی قوت والااور داناوبینا ہے۔

(اور یہ مدد وپ تمہیں اس لیے دے گا ) تاکہ کفر کی راہ چلنے والوں کا ایک بازو کاٹ دے، یا ان کو ایسی ذلہل شکست دے کہ وہ نا مرادی کے ساتھ پسپا ہو جائیں۔

(اے پیغمبر ؐ!) فیصلہ کے اختیارات میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ، اللہ کو اختیا ر ہے چاہے انھیں معاف کرے، چاہے سزا دے کیونکہ وہ ظالم ہیں۔

زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے اس کا مالک اللہ ہے، جس کو چاہے بخش دے اور جس کو چاہے عذاب دے، وہ معاف کرنے والا اور رحیم ہے۔97 ؏١۳

130-143

اے لوگو جو ایما ن لائے ہو ، یہ بڑھتا اور چڑھتا سُود کھانا چھوڑ دو98 اور اللہ سے ڈرو، امید ہے کہ فلاح پاؤ گے۔

اس آگ سے بچو جو کافروں کے لیے مہیا کی گئی ہے

اور اللہ اور رسول  کا حکم مان لو ، توقع ہے کہ تم پر  رحم کیا جائے گا۔

دوڑ کر چلو اس راہ پر جو تمہارے رب کی بخشش اور اُس جنت کی طرف جاتی ہے جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے، اور وہ ان خدا ترس لوگوں کے لیے مہیا کی گئی ہے

جو ہر حال میں  اپنے مال  خرچ کر تے ہیں خواہ بدحال ہوں یا خوش حال، جو غصے کو پی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کر دیتے ہیں۔ ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں۔99

اور جن کا حال یہ ہے کہ اگر کبھی کوئی فحش کام ان سے سرزد ہو جا تا ہے یا کسی گناہ کا ارتکاب کر کے وہ اپنے اوپر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو معاً اللہ انھیں یاد آجاتا ہے اور اس سے وہ اپنے قصوروں کہ معافی چاہتے ہیں۔ کیونکہ اللہ کے سوا اور کون ہے جو گناہ معاف کر سکتا ہو۔اور وہ دیدہ ود انستہ اپنے کیے پر اصرار نہیں کرتے۔

ایسے لوگوں کی جزاء ان کے رب کے پاس یہ ہے کہ وہ ان کو معاف کر دے گا اور ایسے باغوں میں انھیں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہونگی اور وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ کیسا اچھا بدلہ ہے نیک عمل کرنے والوں کے لیے۔

تم سے پہلے بہت سے دور گزر چکے ہیں، زمین  میں چل پھر کر  دیکھ لو کہ ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جنھوں نے(اللہ کے احکام و ہدایت کو ) جھٹلایا۔

یہ لوگوں کےلیے ایک صاف اور صریح تنبیہہ ہے اور جو اللہ سے ڈرتے ہو ں ان کے لیے ہدایت اور نصیحت۔

دل شکستہ نہ ہو، تم ہی غالب رہو گے اگر تم مومن ہو۔

اس وقت اگر تمہیں چوٹ لگی ہےتو اس سے پہلے ایسی ہی چوٹ تمہارے مخالف فریق کو بھی لگ چکی ہے۔100  یہ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں جنھیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں  ۔ تم پر یہ وقت اس لیے لایا گیا کہ اللہ دیکھنا  چاہتا تھا کہ تم میں سچے مومن کو ن ہیں، اور ان لوگوں  کو چھانٹ لینا چاہتا تھا جو واقعی(راستی کے)گواہ ہوں۔101  کیونکہ ظالم لوگ اللہ کو پسند نہیں ہیں۔

اور وہ آزمائش کے ذریعہ سے مومنوں کو الگ چھانٹ کر کا فروں  کی سر کوبی کر دینا چا ہتا تھا۔

کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی جنت  میں چلے جاؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا ہی نہیں کہ تم میں کون وہ لوگ ہیں جو اس کی راہ میں جانیں لڑانے والے اور اس کی خاطر صبر کرنے والے ہیں۔

تم تو موت کی تمنائیں کر رہے تھے! مگر یہ اس وقت کی بات تھی جب موت سامنے نہ آئی تھی ، لو اب وہ تمہارے سامنے  آگئی اور تم نے اسے آنکھوں دیکھ لیا۔102 ؏١۴

144-148

محمد ؐ  اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول ہیں، ان سے پہلے اور رسول  بھی گزر چکے ہیں ، پھر کیا اگر وہ مر جائیں یا قتل کردیے جائیں تو تم لوگ الٹے پاؤں پھر جاؤ گے ؟103  یا د رکھو! جو الٹا پھرے گا  وہ اللہ کا کچھ نقصان  نہ کرے گا، البتہ جو اللہ کے شکر گزار بندے بن کر رہیں گے انھیں وہ اس کی جز ا دے گا۔

کوئی ذی رُوح اللہ کے اذن کے بغیر نہیں مر سکتا۔ موت کا وقت تو لکھا  ہوا ہے ۔104 جو شخص ثواب دنیا کے ارادہ سے کا م کر ے گا اس کو ہم  دنیا ہی میں سے دیں گے، اور جو ثواب آخرت105 کے ارادہ سے کام کرے گا وہ آخرت کا ثواب پائے گا اور شکر کرنے  والوں106 کو ہم ان کی جزا ضرور عطا  کریں گے۔

اس سے پہلے کتنے  ہی نبی ایسے گز ر چکے ہیں جن کے ساتھ مل کر بہت سے خدا پرستوں نے جنگ کی۔ اللہ کی راہ میں جو مصیبتیں ان پر پڑیں ان سے وہ دل شکستہ نہیں ہوئے، انہوں نے کمزوری نہیں دکھائی ، وہ (باطل  کے آگے ) سرنگوں نہیں ہوئے۔107 ایسے ہی صابروں کو اللہ پسند کرتا ہے۔

ان کی دعا بس یہ تھی کہ”اے ہمارے رب! ہماری غلطیوں اور کوتاہیوں  سے درگزر فرما، ہمارے کام میں تیرے حدود سے جو کچھ تجاوز ہو گیا ہو اسے معاف کردے، ہمارے قدم جمادے اور کافروں کے مقابلہ میں ہماری مدد کر“

آخر  کا ر اللہ نے ان کو دنیا کا ثواب بھی دیا او ر اس سے بہتر ثوابِ آخرت بھی عطا کیا۔ اللہ کو ایسے ہی نیک عمل لوگ پسند ہیں ۔  ؏١۵

149-155

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، اگر تم ان لوگوں کے اشاروں پر چلو گے جنھوں نے کفر کی راہ اختیار  کی ہے تو وہ تم کو  الٹا  پھیر  لے جائیں گے108 اور تم نامراد ہو جا ؤ گے۔

(ان کی باتیں  غلط ہیں) حقیقت یہ ہےکہ  اللہ تمہارا  حامی  و مدد گا رہے اور وہ بہترین مدد کرنے والا ہے۔

عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب ہم منکرین  حق کے دلوں  میں رعب بٹھا دیں گے، اس لیے کہ انہوں  نے اللہ کے ساتھ ان کو خدائی  میں شریک ٹھہرایا ہے جن کے شریک ہونے پر اللہ نے کوئی  سند نازل نہیں کی۔ ان کا آخری ٹھکانا جہنم ہے اور بہت ہی بری ہے وہ قیام گاہ جو ان ظالموں کو نصیب ہو گی۔

اللہ نے (تائید ونصرت کا) جو وعدہ تم سے کیا تھا وہ تو اس نے پورا کر دیا ۔ ابتدا میں اس کے حکم  سے تم ہی ان کو قتل  کر رہےتھے۔ مگر جب تم نے کمزوری دکھائی اور اپنے کام میں باہم اختلاف کیا، اور جونہی کہ وہ چیز اللہ نے تمہیں دکھائی جس کی محبت  میں تم گرفتار تھے( یعنی مالِ غنیمت) تم اپنے  سردار کے حکم کی خلاف ورزی کر بیٹھے۔اس لیے کہ تم میں سے کچھ لوگ دنیا کے طالب تھے  اور کچھ آخرت کی خواہش رکھتے تھے۔ تب اللہ نے تمہیں کافروں کے مقابلہ  میں پسپا کردیا تاکہ تمہاری آزمائش کرے۔ اور حق یہ ہے کہ  اللہ نے پھر بھی تمہیں معاف ہی کر دیا109 کیونکہ  مومنوں پر اللہ بڑی نظر عنایت رکھتا ہے۔

یاد کرو جب تم بھاگے چلے جارہے تھے، کسی کی طرف پلٹ کر دیکھنے تک کا ہوش  تمہیں نہ تھا ، اور رسول ؐ تمہارے پیچھے تم کو پکار رہاتھا۔ 110اس وقت تمہاری اس روش کا بدلہ اللہ نے تمہیں یہ دیا کہ تم  کو رنج پر رنج دیے111 تاکہ آئندہ کے لیے تمہیں یہ سبق ملے کہ جو کچھ تمہارے ہاتھ سے جائے یا جو مصیبت تم پر نازل  ہو اس پر ملول نہ ہو ۔ اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے۔

اس غم کے بعد پھر اللہ نے تم میں  سے کچھ  لوگوں پر ایسی اطمینان  کی سی حالت طاری کردی کہ وہ اونگھنے لگے۔112 مگر  ایک دوسرا گروہ  ، جس کے لیے ساری اہمیت بس اپنے مفادہی کی تھی، اللہ کے متعلق طرح طرح کے جاہلانہ گمان کرنے  لگا جو سراسر خلافِ حق تھے، یہ لوگ اب کہتےہیں کہ”اس کام  کے چلانے میں ہمارا بھی کوئی  حصہ ہے؟“  ان سے کہو” (کسی کا کوئی حصہ نہیں)اس کام کے سارے اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں“۔ دراصل  یہ لوگ اپنے دلوں  میں جو بات چھپاتےہوئے ہیں اسے تم پر ظاہر  نہیں کرتے، ان کا  اصل مطلب یہ ہے کہ ” اگر(قیادت کے)اختیارات میں  ہمارا کچھ حصہ ہوتا تو  یہاں  ہم نہ مارے جاتے ۔“ ان سے کہہ دو کہ”اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن لوگوں  کی موت لکھی ہوئی  تھی وہ خود اپنی  قتل  گاہوں کی طرف نکل آتے“۔  اور یہ معاملہ جو پیش آیا ، یہ تو اس لیے تھا کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں پوشیدہ ہے اللہ اسے آزمالے اور جو کھوٹ تمارے دلوں میں ہے اسےچھانٹ دے، اللہ دلوں کا حال خوب جانتا ہے۔

تم میں سے جو لوگ مقابلہ  کے دن پیٹھ پھیر  گئے تھے ان کی اس لغزش کا سبب یہ تھا کہ ان کی بعض کمزوریوں  کی وجہ سے شیطان  نے ان کے قدم ڈگمگا دیے تھے۔ اللہ نے انہیں معاف کردیا، اللہ بہت درگزر کرنے والا اور برد بار ہے۔ ؏١٦ 156-171

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، کافروں کی سی باتیں نہ کرو جن کے عزیز و اقارب اگر کبھی  سفر پر جاتے ہیں یا جنگ  میں شریک ہوتے ہیں(اور وہاں کسی حادثہ سے دو چار ہو جاتے ہیں)تو وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مارے جاتے اور نہ قتل  ہوتے۔ اللہ اس قوم کی باتوں  کو ان کے دلوں میں حسرت  واندوہ کا سبب بنا دیتا  ہے ،113 ورنہ  دراصل  مارنے  اور جِلانے والا تو اللہ ہی ہے اور تمہاری تمام حرکات پر وہی نگراں ہے۔

اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جاؤ  یا مر جاؤ تو اللہ کی جو رحمت اور بخشش تمہارے حصہ  میں آئے گی وہ ان ساری چیزوں  سے زیادہ بہتر ہے جنھیں یہ لوگ جمع کرتے ہیں۔

اور  خوا ہ تم  مرو یا مارے جاؤ بہر حال تم سب کو سمٹ کر جا نا  اللہ ہی کی طرف ہے۔

(اے پیغمبر ؐ )یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو ۔ ورنہ  اگر کہیں تم  تُند خواور سنگ دل ہوتے تو یہ سب  تمہارے گردوپیش سے چھٹ جاتے، ان کے قصور معاف کر دو، ان کے حق میں دعائے مغفرت کرو، اور دین کے کام میں  ان کو بھی شریکِ مشورہ رکھو، پھر  جب تمہارا عزم کسی رائے پر مستحکم ہو جائے تو اللہ پر بھروسہ کرو، اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اسی کے بھروسے پر کام کرتے ہیں۔

اللہ تمہاری مدد پر ہو تو کوئی طاقت تم پر غالب  آنے والی نہیں ، اور وہ تمہیں چھوڑ دے ، تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرسکتا ہوِ؟ پس جو سچے مومن ہیں ان کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔

کسی نبی کا یہ کام  نہیں ہو سکتا کہ وہ خیانت کر جائے۔114 اور جو کوئی خیانت کرے تو وہ اپنی  خیانت سمیت قیامت کے روز حاضر ہو جائے گا، پھر ہر متنفس کو اس کی کمائی  کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور کسی پر کچھ ظلم  نہ ہو گا۔

بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ جو شخص ہمیشہ اللہ کی رضا پر چلنے والا ہو وہ اس شخص کے سے کام کرے جو اللہ کے  غضب میں گھر گیا ہو اور جس کا آخری ٹھکانا جہنم ہو جو بد ترین ٹھکانہ ہے؟

اللہ کے نزدیک دونوں قسم کے آدمیوں میں بدرجہا فرق ہے اور اللہ سب کے اعمال پر نظر رکھتا ہے۔

درحقیقت اہل ایمان پر تو اللہ نےیہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان خود انہی  میں سے ایک ایسا  پیغمبر اٹھایا جو اس کی آیات  انھیں سناتا ہے، ان کی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور ان کو  کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے، حالانکہ  اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے۔

اور یہ تمہارا کیا حال ہے کہ جب تم پر مصیبت  آپڑی  تو تم کہنے لگے یہ کہاں سے آئی؟115 حالانکہ(جنگ بدر میں) اس سے دوگنی مصیبت تمہارے ہاتھوں(فریق مخالف  پر ) پڑ چکی ہے۔116 اے نبی ؐ! ان سے کہو، یہ مصیبت تمہاری اپنی لائی ہوئی ہے،117 اللہ ہر چیز پر   قادر ہے۔118

جو نقصان  لڑائی کے دن تمہیں پہنچا وہ اللہ کے اذن سے تھا اور اس لیے تھا کہ اللہ دیکھ لے تم میں سے مومن کون ہیں

اور منافق کون۔ وہ منافق کہ جب ان سے کہا گیا  آؤ اللہ کی راہ میں جنگ کرو یا کم ازکم(اپنے شہر کی)مدافعت ہی کرو، تو کہنے لگے اگر ہمیں علم ہوتا کہ آج جنگ ہو گی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ چلتے۔ 119یہ بات جب وہ کہہ رہے تھے اس وقت وہ ایمان کی بہ نسبت کفر سے زیادہ  قریب تھے۔ وہ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ان کے دلوں میں نہیں ہوتیں، اور جو کچھ وہ دلوں میں چھپاتے ہیں اللہ اسےخوب جانتا ہے۔

یہ وہی لوگ ہیں جو خود بیٹھے رہےاور ان  کے جو بھائی  بند لڑنے گئے اور مارے گئے ان کے متعلق انہوں نےکہہ دیا کہ اگر وہ ہماری  بات مان لیتے تو نہ  مارے جاتے، ان سے کہو اگر تم اپنے قول میں سچے ہو تو خود تمہاری موت جب آئے اسے ٹال کر دکھادینا۔

جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں انھیں مُردہ نہ سمجھو، وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں،120 اپنے رب کے پاس  رزق پا رہے ہیں،

جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انھیں  دیا ہے اُس پر خوش وخُرم  ہیں ،121 اور مطمئن ہیں کہ جو اہل ِ ایمان ان کے پیچھے دنیا میں رہ گئے ہیں اور ابھی وہاں نہیں پہنچے ہیں ان کے لیے بھی کسی خوف اور رنج  کاموقع  نہیں ہے۔

وہ اللہ کے انعام اور اس کے فضل  پر شاداں و فرحاں  ہیں اور ان کو معلوم ہو چکا ہے کہ اللہ مومنوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔ ؏١۷

172-180

جن لوگوں نے زخم کھانے کے بعد بھی  اللہ اور رسول  کی پکار پر لبیک کہا 122 ان میں جو  اشخاص نیکو کار اور پرہیز گار ہیں ان کے لیے بڑا اجر ہے۔

اور وہ جن 123سے لوگوں نے کہاکہ”تمہارے  خلاف  بڑی فوج جمع ہوئی ہیں، ان سے ڈرو“  تو یہ سن کر ان کا ایمان اور بڑھ گیا اور انہوں نے جواب دیا کہ  ہمارے لیے اللہ کافی ہے او ر وہی بہترین کارساز ہے۔

آخر کار وہ اللہ تعالیٰ  کی نعمت اور فضل  کے ساتھ پلٹ آئے، ان کو کسی قسم کاضرر بھی نہ پہنچا اور اللہ کی رضا پر چلنے کا شرف بھی انھیں حاصل ہو گیا، اللہ بڑا فضل فرمانے والاہے۔

اب تمہیں معلوم ہو گیا کہ وہ دراصل شیطان  تھا جو اپنے دوستوں سے خواہ مخواہ ڈرارہاتھا۔ لہٰذا آئندہ تم انسانوں  سے نہ ڈرنا، مجھ سےڈرنا اگر تم حقیقت میں صاحب ِ ایمان ہو۔124

(اے پیغمبر ؐ ) جو لوگ  آج  کفر کی راہ میں بڑی دوڑ دھوپ کررہے ہیں ان کی سرگرمیاں تمہیں آزردہ نہ کریں، یہ اللہ کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں گے۔ اللہ  کا ارادہ  یہ ہے کہ  ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہ رکھے، اور بالآخر ان کو سخت سزا ملنے والی ہے۔

جو لوگ ایمان کو چھوڑ کر کفر کے خریدار بنے ہیں وہ یقیناً اللہ کا کوئی  نقصان نہیں  کر رہے ہیں ، ان کے لیے درد ناک عذاب تیار ہے،

یہ ڈھیل جو ہم انھیں دیے جاتے ہیں  اس کو یہ کافر اپنے حق میں بہتری نہ سمجھیں، ہم تو انھیں اس لیے ڈھیل دے رہے ہیں کہ یہ خوب بارِ گناہ سمیٹ لیں، پھر ان کےلیے سخت ذلیل کرنے والی سزا ہے۔

اللہ مومنوں کو اس حالت میں ہرگز نہ رہنے دے گا جس میں تم اس وقت پائے جاتے ہو ۔125 وہ پاک  لوگوں کو ناپاک لوگوں  سے الگ  کرکے رہے گا۔ مگر  اللہ کا یہ طریقہ  نہیں ہے کہ تم کو  غیب پر مطلع کردے۔126 غیب کی باتیں بتانے کے لیے تووہ  اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے منتخب کر لیتا ہے، لہٰذا( اُمورِ غیب کے بارے میں)اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھو۔ اگر تم ایمان اور خدا ترسی  کی روش پر چلو گے تو تم کو بڑا اجر ملے گا۔

جن لوگوں کو اللہ نے  اپنے فضل سے نوازا ہے اور پھر  وہ بخل  سے کام لیتےہیں وہ اس خیال  میں نہ رہیں کہ یہ بخیلی ا ن کےلیے اچھی ہے۔ نہیں، یہ ان کے حق میں نہایت بری ہے۔ جو کچھ وہ اپنی کنجوسی سے جمع  کررہے ہیں وہی قیامت  کے روز ان کے گلے کا طوق بن جائے گا۔ زمین اور آسمانوں کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے127 اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔  ؏١۸

181-189

اللہ نےان لوگوں کاقول سنا جو کہتے ہیں کہ اللہ فقیرہے اور ہم غنی ہیں۔128 ان کی یہ باتیں بھی ہم لکھ لیں گے ، اور اس سے پہلے جو وہ پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں وہ بھی ان کے نامہٴ اعمال میں ثبت ہے۔ ( جب  فیصلہ کا وقت آئےگا اس وقت)ہم ان سے کہیں گے کہ لو، اب عذاب جہنم کا مزا چکھو،

یہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے ، اللہ اپنے بندوں کے لیے ظالم نہیں ہے۔

جو لوگ کہتے ہیں”اللہ نےہم کو ہدایت کر دی ہے کہ ہم کسی کو رسول تسلیم نہ کریں جب تک  وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی نہ کرے  جسے(غیب سے آکر)آگ کھا لے“، ان سے کہو ”تمہارے پاس مجھ سے پہلے بہت رسول  آچکے ہیں جو بہت سی روشن نشانیاں لائے تھے اور وہ نشانی بھی لائے تھے جس کا تم ذکر کرتےہو ، پھر اگر (ایمان  لانے کے لیے یہ شرط پیش کرنے میں)تم سچے ہو تو ان رسولوں کو تم نے کیوں قتل کیا؟“129

اب اے محمد ؐ! اگر یہ لوگ تمہیں جھٹلاتے ہیں تو بہت سے رسول تم سے پہلے جھٹلائے  جا چکے ہیں  جو کھلی کھلی نشانیاں اور صحیفے اور روشنی بخشنے والی کتابیں لائے تھے۔

آخر کار ہر شخص کو مرنا ہے اور تم  سب اپنے اپنے پورے اجر قیامت کےروز پانے والے ہو۔ کامیاب دراصل وہ ہےجو وہاں آتشِ دوزخ سے بچ جائے اور جنت میں داخل کر دیا جائے۔ رہی یہ دنیا، تو یہ محض ایک ظاہر فریب چیز ہے۔ 130

مسلمانو! تمہیں مال و جان دونوں کی آزمائشیں پیش آکر رہیں گی، اور تم اہل کتاب اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دِہ باتیں سنو گے۔ اگر ان سب حالات میں تم صبر اور خدا ترسی  کی روش پر قائم رہو131 تو یہ بڑے حوصلہ کا کام ہے۔

ان اہل کتاب کو وہ عہد بھی  یاد دلاؤ جو اللہ نے  ان سےلیا تھا کہ تمہیں کتاب کی تعلیمات کو لوگوں میں پھیلانا ہوگا، انھیں پوشیدہ رکھنا نہیں132 ہوگا۔ مگر انہوں نےکتاب کو پسِ پشت ڈال دیا اور تھوڑی قیمت پر اسے بیچ ڈالا۔ کتنا بُرا کاروبار ہے جو یہ  کر رہے ہیں۔

تم ان لوگوں کو عذاب سے محفوظ نہ سمجھو جو اپنے کرتُوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ  ایسے کاموں کی تعریف  انھیں حاصل ہو جوفی الواقع انہوں نےنہیں کیے ہیں۔133 حقیقت میں ان کے لیے درد ناک سزا تیار ہے۔

زمین اور آسمان کا مالک اللہ ہے اور اس کی قدرت سب پر حاوی ہے۔ ؏١۹

190-200

زمین134 اور آسمانوں کی پیدائش میں اور رات اور دن کے باری باری  سے آنے میں ان ہوشمند لوگوں کےلیے بہت نشانیا ں ہیں

جو اٹھتے، بیٹھتے اور لیٹتے، ہر حال میں خدا کو یاد کرتے ہیں اور آسمان و زمین کی ساخت  میں غورو فکر  کرتے ہیں۔135 ( وہ بے اختیار  بول اٹھتے ہیں)”پروردگار! یہ سب کچھ تُو نے فضول  اور بے مقصد نہیں بنایا ہے، تُو  پاک ہے اس سے کہ عبث کا م کرے۔ پس  اے رب! ہمیں  دوزخ کے عذاب سے بچالے ،136

تُو نے جسے دوزخ میں ڈالا اسےدرحقیقت  بڑی ذلت و رسوائی میں ڈال دیا، اور پھر ایسے ظالموں کا کوئی مدد گار نہ ہو گا۔

مالک! ہم نے ایک پکار نے والے کو سنا جو ایمان کی طرف بلاتا تھا اور کہتا تھا کہ اپنے رب کو مانو۔ ہم نے اس کی دعوت قبول کر لی،137 پس اے ہمارے آقا!جو قُصور  ہم سے ہوئے ہیں ان سے درگزر فرما، جو برائیاں ہم میں ہیں  انھیں دور کردے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر۔

خدا وند! جو وعدے تُو نے اپنے رسولوں  کے ذریعہ سے کیے ہیں ان کو ہمارے ساتھ پورا کر اور قیامت کےدن ہمیں رسوائی میں نہ ڈال ، بے شک  تُو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں ہے۔“138

جواب  میں ان کے رب نے فرمایا ”میں تم میں سے  کسی کا عمل ضائع کرنے والا  نہیں ہو ں۔ خواہ مرد ہو یا  عورت، تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس ہو۔139 لہٰذا جن لوگوں نے میری خاطر اپنے وطن چھوڑے اور جو میری راہ میں  اپنے گھروں سے نکالے گئے اور ستائے گئے اور میرے لیے لڑے اور  مارے گئے ان کے سب قصور میں معاف کردوں گا اور انھیں ایسے باغوں میں داخل کر دوں گا جن  کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ  ان کی جزا ہے اللہ کے ہاں اور بہتر ین جزا اللہ ہی کے پاس ہے“۔ 140

اے نبی ؐ ! دنیاکے ملکوں میں خدا کے نافرمان لوگوں کی چلت پھرت تمہیں  کسی دھوکے میں نہ ڈالے۔

یہ محض چند روزہ زندگی کا تھوڑا  سا لطف ہے، پھر یہ سب جہنم میں جائیں گے جو بدترین جائے قرار ہے۔

بر عکس اس کے جو لوگ اپنے رب سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے ہیں ان کےلیے ایسے باغ ہیں جن  کے نیچے نہریں بہتی ہیں، ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے، اللہ کی طرف سے یہ سامانِ ضیافت ہے ان کے لیے ، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے نیک لوگوں کے لیے وہی سب سے بہتر ہے۔

اہل کتاب میں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کو مانتے ہیں، اس کتاب پر ایمان لاتے ہیں جو تمہاری طرف بھیجی گئی ہے اور اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو  اس سے پہلے خود  ان کی طرف  بھیجی  گئی تھی، اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہیں، اور اللہ کی آیات کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ  نہیں دیتے، ان کا اجر  ان کے رب کے پاس ہے اور  اللہ حساب چکانے  میں دیر نہیں لگاتا۔

اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، صبر سے کام لو، باطل پرستوں کے مقابلہ میں پامردی دکھاؤ،141 حق کی خدمت کے لیے کمر بستہ رہو،  اور  اللہ  سے  ڈرتے  رہو ،  امید ہے  کہ  فلاح  پاؤ گے۔ ؏۲۰