ط۔س۔م۔
یہ کتابِ مبین کی آیات ہیں۔ 1
اے محمدؐ ، شاید تم اس غم میں اپنی جان کھو دو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے۔ 2
ہم چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل کر سکتے ہیں کہ اِن کی گردنیں اس کے آگے جُھک جائیں۔ 3
اِن لوگوں کے پاس رحمٰن کی طرف سے جو نئی نصیحت بھی آتی ہے یہ اس سے منہ موڑ لیتے ہیں۔
اب کہ یہ جھُٹلا چکے ہیں، عنقریب اِن کو اس چیز کی حقیقت (مختلف طریقوں سے )معلوم ہو جائے گی جس کا یہ مذاق اُڑاتے رہے ہیں۔ 4
اور کیا انہوں نے کبھی زمین پر نگاہ نہیں ڈالی کہ ہم نے کتنی کثیر مقدار میں ہر طرح کی عمدہ نباتات اس میں پیدا کی ہیں؟
یقیناً اس میں ایک نشانی ہے 5 ، مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں۔
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا ربّ زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔ 6 ؏۱
اِنہیں اُس وقت کا قصہ سُناوٴ جب کہ تمہارے ربّ نے موسیٰؑ کو پکارا 7 ”ظالم قوم کے پاس جا
۔۔۔۔ فرعون کی قوم کے پاس 8 ۔۔۔۔ کیا وہ نہیں ڈرتے؟“ 9
اُس نے عرض کیا ”اے میرے ربّ، مجھے خوف ہے کہ وہ مجھ کو جھُٹلا دیں گے۔
میرا سینہ گھُٹتا ہے اور میری زبان نہیں چلتی۔ آپ ہارونؑ کی طرف رسالت بھیجیں۔ 10
اور مجھ پر اُن کے ہاں ایک جُرم کا الزام بھی ہے، اس لیے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کر دیں گے۔“ 11
فرمایا ”ہر گز نہیں، تم دونوں جاوٴ ہماری نشانیاں لے کر 12 ، ہم تمہارے ساتھ سب کچھ سُنتے رہیں گے۔
فرعون کے پاس جاوٴ اور اس سے کہو، ہم کو ربّ العٰلمین نے بھیجا ہے
اس لیے کہ تُو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے۔“ 13
فرعون نے کہا ”کیا ہم نے تجھ کو اپنے ہاں بچہ سا نہیں پالا تھا؟ 14 تُو نے اپنی عمر کے کئی سال ہمارے ہاں گزارے،
اور اس کے بعد کر گیا جو کچھ کہ کر گیا 15 ، تُو بڑا احسان فراموش آدمی ہے۔“
موسیٰؑ نے جواب دیا” اُس وقت وہ کام میں نے نا دانستگی میں کر دیا تھا۔ 16
پھر میں تمہارے خوف سے بھاگ گیا۔ اس کے بعد میرے ربّ نے مجھ کو حکم عطا کیا 17 اور مجھے رسُولوں میں شامل فرما لیا۔
رہا تیرا احسان جو تُو نے مجھ پر جتایا ہے تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ تُو نے بنی اسرائیل کو غلام بنا لیا تھا۔“ 18
فرعون نے کہا 19 ”اور یہ ربّ العالمین کیا ہوتا ہے؟“ 20
موسیٰؑ نے جواب دیا ”آسمانوں اور زمین کا ربّ، اور اُن سب چیزوں کا ربّ جو آسمان و زمین کے درمیان ہیں، اگر تم یقین لانے والے ہو۔“ 21
فرعون نے اپنے گِردوپیش کے لوگوں سے کہا ”سُنتے ہو؟“
موسیٰؑ نے کہا ”تمہارا ربّ بھی اور تمہارے اُن آباوٴ اجداد کا ربّ بھی جو گزر چکے ہیں۔“ 22
فرعون نے (حاضرین سے)کہا ”تمہارے یہ رسُول صاحب جو تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں ، بالکل ہی پاگل معلوم ہوتے ہیں۔“
موسیٰؑ نے کہا ”مشرق و مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان میں ہے سب کا ربّ، اگر آپ لوگ کچھ عقل رکھتے ہیں۔“ 23
فرعون نے کہا ”اگر تُو نے میرے سوا کسی اور کو معبُود مانا تو تجھے بھی اُن لوگوں میں شامل کر دوں گا جو قید خانوں میں پڑے سڑ رہے ہیں۔“ 24
موسیٰؑ نے کہا ”اگرچہ میں لے آوٴں تیرے سامنے ایک صریح چیز بھی؟“ 25
فرعون نے کہا ”اچھا تو لے آ اگر تُو سچا ہے۔ 26 “
(اس کی زبان سے یہ بات نکلتے ہی) موسیٰؑ نے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ ایک صریح اژدہا تھا۔ 27
پھر اُس نے اپنا ہاتھ (بغل سے )کھینچا اور وہ سب دیکھنے والوں کے سامنے چمک رہا تھا۔ 28 ؏۲
فرعون اپنے گردوپیش کے سرداروں سے بولا ”یہ شخص یقیناً ایک ماہر جادُوگر ہے۔
چاہتا ہے کہ اپنے جادُو کے زور سے تم کو تمہارے ملک سے نکال دے۔ 29 اب بتاوٴ تم کیا حکم دیتے ہو؟“ 30
انہوں نے کہا ”اسے اور اس کے بھائی کو روک لیجیے اور شہروں میں ہرکارے بھیج دیجیے
کہ ہر سیانے جادُوگر کو آپ کے پاس لے آئیں۔“
چنانچہ ایک روز مقرر وقت 31 پر جادُو گر اکٹھے کر لیے گئے
اور لوگوں سے کہا گیا ”تم اجتماع میں چلو گے؟ 32
شاید کہ ہم جادُوگروں کے دین ہی پر رہ جائیں اگر وہ غالب رہے۔“ 33
جب جادُو گر میدان میں آئے تو انہوں نے فرعون سے کہا ”ہمیں انعام تو ملے گا اگر ہم غالب رہے؟“ 34
اس نے کہا ”ہاں، اور تم تو اس وقت مقربّین میں شامل ہو جاوٴ گے۔“ 35
موسیٰؑ نے کہا ”پھینکو جو تمہیں پھینکنا ہے۔“
انہوں نے فوراً اپنی رسّیاں اور لاٹھیاں پھینک دیں اور بولے ”فرعون کے اقبال سے ہم ہی غالب رہیں گے۔“ 36
پھر موسیٰؑ نے اپنا عصا پھینکا تو یکایک وہ ان کے جھُوٹے کرشموں کو پڑپ کر تا چلا جا رہا تھا۔
اس پر سارے جادُوگر بے اختیار سجدے میں گر پڑے
اور بول اُٹھے کہ ”مان گئے ہم ربّ العالمین کو
۔۔۔۔ موسیٰؑ اور ہارونؑ کے ربّ کو۔“ 37
فرعون نے کہا ”تم موسیٰؑ کی بات مان گئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دیتا! ضرور یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادُو سکھایا ہے۔ 38 اچھا، ابھی تمہیں معلوم ہوا جاتا ہے، میں تمہارے ہاتھ پاوٴں مخالف سمتوں سے کٹواوٴں گا اور تم سب کو سُولی پر چڑھادوں گا۔“ 39
انہوں نے جواب دیا ”کچھ پروا نہیں، ہم اپنے ربّ کے حضور پہنچ جائیں گے۔
اور ہمیں توقع ہے کہ ہمارا ربّ ہمارے گناہ معاف کر دے گا کیونکہ سب سے پہلے ہم ایمان لائے ہیں۔“ 40 ؏۳
41 ہم نے موسیٰؑ کو وحی بھیجی کہ ”راتوں رات میرے بندوں کو لے کر نکل جاوٴ، تمہارا پیچھا کیا جائے گا۔“ 42
اس پر فرعون نے (فوجیں جمع کرنے کے لیے)شہروں میں نقیب بھیج دیے
(اور کہلا بھیجا)کہ ”یہ کچھ مُٹھی پھر لوگ ہیں،
اور انہوں نے ہم کو بہت ناراض کیا ہے،
اور ہم ایک ایسی جماعت ہیں جس کا شیوہ ہر وقت چوکنّا رہنا ہے۔“ 43
اِس طرح ہم انہیں نکال لائے ان کے باغوں اور چشموں
اور خزانوں اور ان کی بہترین قیام گاہوں سے۔ 44
یہ تو ہوا اُن کے ساتھ، اور (دُوسری طرف)بنی اسرائیل کو ہم نے ان سب چیزوں کا وارث کر دیا۔ 45
صبح ہوتے یہ لوگ اُن کے تعاقب میں چل پڑے۔
جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہوا تو موسیٰؑ کے ساتھی چیخ اُٹھے کہ ”ہم تو پکڑے گئے۔“
موسیٰؑ نے کہا ”ہر گز نہیں۔ میرے ساتھ میرا ربّ ہے۔ وہ ضرور میری رہنمائی فرمائے گا۔“ 46
ہم نے موسیٰؑ کو وحی کے ذریعہ سے حکم دیا کہ ”مار اپنا عصا سمندر پر۔“ یکایک سمندر پھٹ گیا اور اس کا ہر ٹکڑا ایک عظیم الشان پہاڑ کی طرح ہو گیا۔ 47
اُسی جگہ ہم دُوسرے گروہ کو بھی قریب لے آئے۔ 48
موسیٰؑ اور اُن سب لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے، ہم نے بچا لیا ،
اور دُوسروں کو غرق کر دیا۔
اس واقعہ میں ایک نشانی ہے 49 ،مگر اِن لوگوں میں سے اکثر ماننے والے نہیں ہیں۔
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا ربّ زبر دست بھی ہے اور رحیم بھی۔ ؏۴
اور اِنہیں ابراہیمؑ کا قصہ سُناوٴ 50
جبکہ اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پُوچھا تھا کہ ”یہ کیا چیزیں ہیں جن کو تم پُوجتے ہو؟“ 51
انہوں نے جواب دیا ”کچھ بُت ہیں جن کی ہم پُوجا کرتے ہیں اور انہی کی سیوا میں ہم لگے رہتے ہیں۔“ 52
اس نے پوچھا ”کیا یہ تمہاری سُنتے ہیں جب تم انہیں پکارتے ہو؟
یا یہ تمہیں کچھ نفع یا نقصان پہنچاتے ہیں؟“
انہوں نے جواب دیا ”نہیں، بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے پایا ہے۔“ 53
اس پر ابراہیمؑ نے کہا ”کبھی تم نے (آنکھیں کھول کر)اُن چیزوں کو دیکھا بھی جن کی بندگی بجا لاتے رہے؟
تم اور تمہارے پچھلے باپ دادا 54
میرے تو یہ سب دشمن ہیں 55 ، بجز ایک ربّ العالمین 56 کے،
جس نے مجھے پیدا کیا 57 ، پھر وہی میری رہنمائی فرماتا ہے۔
جو مجھے کھلاتا اور پِلاتا ہے
اور جب بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی مجھے شفا دیتا ہے۔ 58
جو مجھے موت دے گا اور پھر دوبارہ مجھ کو زندگی بخشے گا۔
اور جس سے میں اُمید رکھتا ہوں کہ روزِ جزا میں وہ میری خطا معاف فرما دے گا۔“ 59
(اِس کے بعد ابراہیمؑ نے دُعا کی) ”اے میرے ربّ، مجھے حکم عطا کر۔ 60 اور مجھ کو صالحوں کے ساتھ مِلا۔ 61
اور بعد کے آنے والوں میں مجھ کو سچی ناموری عطا کر۔ 62
اور مجھے جنّتِ نعیم کے وارثوں میں شامل فرما۔
اور میرے باپ کو معاف کر دے کہ بے شک وہ گمراہ لوگوں میں سے ہے 63
اور مجھے اُس دن رُسوا نہ کر جبکہ سب لوگ زندہ کر کے اُٹھائے جائیں گے 64
جبکہ نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاد،
بجز اس کے کہ کوئی شخص قلبِ سلیم لیے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو۔“ 65
۔۔۔۔(اُس روز 66 )جنّت پرہیز گاروں کے قریب لے آئی جائے گی۔
اور دوزخ بہکے ہوئے لوگوں کے سامنے کھول دی جائے گی 67
اور ان سے پوچھا جائے گا کہ ”اب کہاں ہیں وہ جن کی تم عبادت کرتے تھے؟
خدا کو چھوڑ کر، کیا وہ تمہاری کچھ مدد کر رہے ہیں یا خود اپنا بچاوٴ کر سکتے ہیں؟“
پھر وہ معبُود اور یہ بہکے ہوئے لوگ اس میں اُوپر تلے دھکیل دیے جائیں گے۔،
اور ابلیس کے لشکر سب کے سب 68
وہاں یہ سب آپس میں جھگڑیں گے اور یہ بہکے ہوئے لوگ (اپنے معبُودوں سے)کہیں گے
کہ ”خدا کی قسم، ہم تو صریح گمراہی میں مبتلا تھے
جبکہ تم کو ربّ العالمین کی برابری کا درجہ دے رہے تھے ۔
اور وہ مجرم لوگ ہی تھے جنہوں نے ہم کو اس گمراہی میں ڈالا۔ 69
اب نہ ہمارا کوئی سفارشی ہے 70
اور نہ کوئی جگری دوست۔ 71
کاش ہمیں ایک دفعہ پھر پلٹنے کا موقع مل جائے تو ہم مومن ہوں۔“ 72
یقیناً اس میں ایک بڑی نشانی ہے 73 ، مگر ان میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں ۔
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا ربّ زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔ ؏ ۵
74 قومِ نوحؑ نے رسُولوں کو جھُٹلایا۔ 75
یاد کرو جبکہ اُن کے بھائی نوحؑ نے ان سے کہا تھا ”کیا تم ڈرتے نہیں ہو؟ 76
میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسُول ہوں 77 ،
لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ 78
میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں۔ میرا اجر تو ربّ العالمین کے ذمّہ ہے۔ 79
پس تم اللہ سے ڈرو اور (بے کھٹکے)میری اطاعت کرو۔“ 80
انہوں نے جواب دیا ”کیا ہم تجھے مان لیں حالانکہ تیری پیروی رذیل ترین لوگوں نے اختیار کی ہے؟“ 81
نُوحؑ نے کہا ”میں کیا جانوں کہ ان کے عمل کیسے ہیں،
ان کا حساب تو میرے ربّ کے ذمّہ ہے، کاش تم کچھ شعور سے کام لو۔ 82
میرا یہ کام نہیں ہے کہ جو ایمان لائیں ان کو میں دھتکار دوں۔
میں تو بس ایک صاف صاف متنبّہ کر دینے والا آدمی ہوں۔“ 83
انہوں نے کہا ”اے نُوحؑ ، اگر تُو باز نہ آیا تو پھِٹکارے ہوئے لوگوں میں شامل ہو کر رہے گا۔“ 84
نُوحؑ نے دُعا کی ”اے میرے ربّ، میری قوم نے مجھے جھُٹلا دیا۔ 85
اب میرے اور ان کے درمیان دو ٹوک فیصلہ کر دے اور مجھے اور جو مومن میرے ساتھ ہیں ان کو نجات دے۔“ 86
آخر کار ہم نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو ایک بھری ہوئی کشتی میں بچا لیا۔ 87
اور اس کے بعد باقی لوگوں کو غرق کر دیا۔
یقیناً اس میں ایک نشانی ہے ، مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں۔
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا ربّ زبر دست بھی ہے اور رحیم بھی۔ ؏۶
عاد نے رسُولوں کو جھُٹلایا۔ 88
یاد کرو جبکہ ان کے بھائی ہُودؑ نے اُن سے کہا تھا ” 89 کیا تم ڈرتے نہیں؟
میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسُول ہوں۔
لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں۔ میرا اجر تو ربّ العالمین کے ذمّہ ہے۔
یہ تمہارا کیا حال ہے کہ ہر اُونچے مقام پر لاحاصل ایک یادگار عمارت بنا ڈالتے ہو 90 ،
اور بڑے بڑے قصر تعمیر کرتے ہو گویا تمہیں ہمیشہ رہنا ہے۔ 91
اور جب کسی پر ہاتھ ڈالتے ہو جبّار بن کر ڈالتے ہو۔ 92
پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
ڈرو اُس سے جس نے وہ کچھ تمہیں دیا ہے جو تم جانتے ہو۔
تمہیں جانور دیے، اولادیں دیں،
باغ دیے اور چشمے دیے۔
مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے دن کے عذاب کا ڈر ہے۔“
انہوں نے جواب دیا ”تُو نصیحت کر یا نہ کر، ہمارے لیے سب یکساں ہے۔
یہ باتیں تو یونہی ہوتی چلی آئی ہیں۔ 93
اور ہم عذاب میں مبتلا ہونے والے نہیں ہیں۔“
آخر کار انہوں نے اُسے جھُٹلا دیا اور ہم نے ان کو ہلاک کر دیا۔ 94، یقیناً اس میں ایک نشانی ہے، مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں ہیں۔
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا ربّ زبر دست بھی ہے اور رحیم بھی۔ ؏۷
ثمود نے رسُولوں کو جھُٹلایا۔ 95
یاد کرو جبکہ ان کے بھائی صالحؑ نے ان سے کہا ”کیا تم ڈرتے نہیں؟
میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسُول ہوں۔ 96
لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، میرا اجر تو ربّ العالمین کے ذمّہ ہے۔
کیا تم اُن سب چیزوں کے درمیان ، جو یہاں ہیں ، بس یوں ہی اطمینان سے رہنے دیے جاوٴ گے؟ 97
ان باغوں اور چشموں میں؟
اِن کھیتوں اور نخلستانوں میں جن کے خوشے رس بھرے ہیں؟ 98
تم پہاڑ کھود کھود کر فخریہ اُن میں عمارتیں بناتے ہو۔ 99
اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
اُن بے لگام لوگوں کی اطاعت نہ کرو
جو زمین میں فساد برپا کرتے ہیں اور کوئی اصلاح نہیں کرتے۔“ 100
اُنہوں نے جواب دیا ”تُو محض ایک سحر زدہ آدمی ہے۔ 101
تُو ہم جیسے ایک انسان کے سوا اور کیا ہے۔ لا کوئی نشانی اگر تُو سچا ہے۔“ 102
صالح نے کہا ”یہ اُونٹنی ہے۔ 103 ایک دن اس کے پینے کا ہے اور ایک دن تم سب کے پانی لینے کا۔ 104
اس کو ہرگز نہ چھیڑنا ورنہ ایک بڑے دن کا عذاب تم کو آلے گا۔“
مگر انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ دیں 105 اور آخر کار پچھتاتے رہ گئے۔
عذاب نے انہیں آلیا۔ 106 یقیناً اس میں ایک نشانی ہے ، مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں۔
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا ربّ زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔ ؏۸
لُوطؑ کی قوم نے رسُولوں کو جھُٹلایا۔ 107
یاد کرو جبکہ ان کے بھائی لُوطؑ نے ان سے کہا تھا ”کیا تم ڈرتے نہیں؟
میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسُول ہوں۔
لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، میرا اجر تو ربّ العالمین کے ذمّہ ہے۔
کیا تم دنیا کی مخلوق میں سے مردوں کے پاس جاتے ہو 108
اور تمہاری بیویوں میں تمہارے ربّ نے تمہارے لیے جو کچھ پیدا کیا ہے اسے چھوڑ دیتے ہو؟ 109 بلکہ تم لوگ تو حد سے ہی گزر گئے ہو۔“ 110
انہوں نے کہا ”اے لُوطؑ ، اگر تُو اِن باتوں سے باز نہ آیا تو جو لوگ ہماری بستیوں سے نکالے گئے ہیں اُن میں تُو بھی شامل ہو کر رہے گا۔“ 111
اس نے کہا ”تمہارے کرتُوتوں پر جو لوگ کُڑھ رہے ہیں میں اُن میں شامل ہوں۔
اے پروردگار، مجھے اور میرے اہل و عیال کو ان کی بد کرداریوں سے نجات دے۔“ 112
آخر کار ہم نے اسے اور اس کے سب اہل و عیال کو بچا لیا،
بجز ایک بُڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی۔ 113
پھر باقی ماندہ لوگوں کو ہم نے تباہ کر دیا
اور ان پر برسائی ایک برسات، بڑی ہی بُری بارش تھی جو اُن ڈرائے جانے والوں پر نازل ہوئی۔ 114
یقیناً اس میں ایک نشانی ہے ، مگر اِن میں سے اکثر ماننے والے نہیں۔
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا ربّ زبر دست بھی ہے اور رحیم بھی۔ ؏۹
اصحابُ الایکہ نے رسُولوں کو جھُٹلایا۔ 115
یاد کرو جبکہ شعیبؑ نے ان سے کہا تھا ”کیا تم ڈرتے نہیں؟
میں تمہارے لیے ایک امانت دار رسُول ہوں۔
لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔
میں اس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں۔ میرا اجر تو ربّ العالمین کے ذمّہ ہے ۔
پیمانے ٹھیک بھرو اور کسی کو گھاٹا نہ دو۔
صحیح ترازو سے تولو
اور لوگوں کو ان کی چیزیں کم نہ دو۔ زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو
اور اُس ذات کا خوف کرو جس نے تمہیں اور گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا ہے۔“
انہوں نے کہا ”تُو محض ایک سحر زدہ آدمی ہے،
اور تُو کچھ نہیں ہے مگر ایک انسان ہم ہی جیسا ، اور ہم تو تجھے بالکل جھُوٹا سمجھتے ہیں۔
اگر تُو سچا ہے تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دے۔“
شعیبؑ نے کہا ”میرا ربّ جانتا ہے جو کچھ تم کر رہے ہو۔“ 116
انہوں نے اُسے جھُٹلا دیا، آخر کار چھتری والے دن کا عذاب ان پر آگیا 117 ، اور وہ بڑے ہی خوفناک دن کا عذاب تھا۔
یقیناً اس میں ایک نشانی ہے ، مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں۔
اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا ربّ زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔ ؏۱۰
118 یہ ربّ العالمین کی نازل کردہ چیز ہے۔ 119
اسے لے کر امانت دار رُوح 120 اُتری ہے
تیرے دل پر، تاکہ تُو اُن لوگوں میں شامل ہو جو (خدا کی طرف سے خلقِ خدا کو)متنبّہ کرنے والے ہیں،
صاف صاف عربی زبان میں۔ 121
اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے۔ 122
کیا اِن (اہلِ مکّہ) کے لیے یہ کوئی نشانی نہیں ہے کہ اِسے علماءِ بنی اسرائیل جانتے ہیں؟ 123
(لیکن اِن کی ہٹ دھرمی کا حال تو یہ ہے کہ)اگر ہم اسے کسی عجمی پر بھی نازل کر دیتے
اور یہ (فصیح عربی کلام)وہ ان کو پڑھ کر سُناتا تب بھی یہ مان کر نہ دیتے۔ 124
اِسی طرح ہم نے اس (ذکر)کو مجرموں کے دلوں میں گزارا ہے۔ 125
وہ اس پر ایمان نہیں لاتے جب تک کہ عذاب الِیم نہ دیکھ لیں۔ 126
پھر جب وہ بے خبری میں ان پر آپڑتا ہے
اُس وقت وہ کہتے ہیں کہ ”کیا اب ہمیں کچھ مہلت مِل سکتی ہے؟“ 127
تو کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں؟
تم نے کچھ غور کیا ، اگر ہم انہیں برسوں تک عیش کرنے کی مہلت بھی دے دیں
اور پھر وہی چیز ان پر آجائے جس سے انہیں ڈرایا جا رہا ہے
تو وہ سامانِ زیست جو ان کو ملا ہوا ہے اِن کے کس کام آئے گا؟ 128
(دیکھو)ہم نے کبھی کسی بستی کو اِس کے بغیر ہلاک نہیں کیا کہ اُس کے لیے خبردار کرنے والے موجود تھے۔
حقِّ نصیحت ادا کرنے کو اور ہم ظالم نہ تھے۔ 129
اِس (کتابِ مبین)کو شیاطین لے کر نہیں اُترے ہیں، 130
نہ یہ کام ان کو سجتا ہے 131 ، اور نہ وہ ایسا کر ہی سکتے ہیں۔ 132
وہ تو اس کی سماعت تک سے دُور رکھے گئے ہیں۔ 133
پس اے محمدؐ ، اللہ کے ساتھ کسی دُوسرے معبُود کو نہ پکارو، ورنہ تم بھی سزا پانے والوں میں شامل ہو جاوٴ گے۔ 134
اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو ڈراوٴ، 135
اور ایمان لانے والوں میں سے جو لوگ تمہاری پیروی اختیار کریں ان کے ساتھ تواضع سے پیش آوٴ،
لیکن اگر وہ تمہاری نافرمانی کریں تو ان سے کہہ دو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اس سے میں بری الذّمّہ ہوں۔ 136
اور اُس زبر دست اور رحیم پر توکّل کرو 137
جو تمہیں اُس وقت دیکھ رہا ہوتا ہے جب تم اُٹھتے ہو 138 ،
اور سجدہ گزار لوگوں میں تمہاری نقل و حرکت پر نگاہ رکھتا ہے۔ 139
وہ سب کچھ سُننے اور جاننے والا ہے۔
لوگو، کیا میں تمہیں بتاوٴں کہ شیاطین کس پر اُترا کرتے ہیں؟
وہ ہر جعل ساز بدکار پر اُترا کرتے ہیں۔ 140
سُنی سُنائی باتیں کانوں میں پھُونکتے ہیں اور ان میں سے اکثر جھُوٹے ہوتے ہیں۔ 141
رہے شعراء، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلا کرتے ہیں۔ 142
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے ہیں 143
اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں ہیں 144
۔۔۔۔ بجز اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا، اور جب ان پر ظلم کیا گیا تو صرف بدلہ لے لیا 145 ۔۔۔۔ اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہو جائے گا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔ 146 ؏۱۱