نہایت متبرک ہے 1 وہ جس نے یہ فرقان 2 اپنے بندے پر نازل کیا 3 تاکہ سارے جہان والوں کے لیے نذیر ہو 4
۔۔۔۔ وہ جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے 5 جس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا ہے 6 ، جس کے ساتھ بادشاہی میں کوئی شریک نہیں ہے 7 ، جس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کی ایک تقدیر مقرر کی۔ 8
لوگوں نے اُسے چھوڑ کر ایسے معبُود بنا لیے جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے بلکہ خود پیدا کیے جاتے ہیں 9 ، جو خود اپنے لیے بھی کسی نفع یا نقصان کا اختیار نہیں رکھتے، جو نہ مار سکتے ہیں نہ جِلا سکتے ہیں، نہ مَرے ہوئے کو پھر اُٹھا سکتے ہیں۔ 10
جِن لوگوں نے نبی کی بات ماننے سے انکار کر دیا ہے وہ کہتے ہیں کہ یہ فرقان ایک من گھڑت چیز ہے جسے اِس شخص نے آپ ہی گھڑ لیا ہے اور کچھ دُوسرے لوگوں نے اِس کام میں اس کی مدد کی ہے۔ بڑا ظلم 11 اور سخت جھُوٹ ہے جس پر یہ لوگ اُتر آئے ہیں۔
کہتے ہیں یہ پُرانے لوگوں کی لکھی ہوئی چیزیں ہیں جنہیں یہ شخص نقل کراتا ہے اور وہ اِسے صبح و شام سُنائی جاتی ہیں۔
اے محمدؐ ، ان سے کہو کہ ”اِسے نازل کیا ہے اُس نے جو زمین اور آسمانوں کا بھید جانتا ہے۔“ 12 حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا غفور و رحیم ہے۔ 13
کہتے ہیں ”یہ کیسا رسُول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے؟ 14 کیوں نہ اس کے پاس کوئی فرشتہ بھیجا گیا جو اس کے ساتھ رہتا اور (نہ ماننے والوں کو)دھمکاتا؟ 15
یا اور کچھ نہیں تو اِس کے لیے کوئی خزانہ ہی اتار دیا جاتا، یااس کے پاس کوئی باغ ہی ہوتا جس سے یہ (اطمینان کی )روزی حاصل کرتا۔ 16 “ اور ظالم کہتے ہیں” تم لوگ تو ایک سحر زدہ آدمی 17 کے پیچھے لگ گئے ہو۔“
دیکھو، کیسی کیسی عجیب حجتیں یہ لوگ تمہارے آگے پیش کر رہے ہیں، ایسے بہکے ہیں کہ کوئی ٹھکانے کی بات اِن کو نہیں سُوجھتی۔ 18 ؏۱
10-20بڑا بابرکت ہے 19 وہ جو اگر چاہے تو ان کی تجویز کر دہ چیزوں سے بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر تم کو دے سکتا ہے ، (ایک نہیں)بہت سے باغ جن کے نیچے سے نہریں بہتی ہوں ، اور بڑے بڑے محل۔
اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ ”اُس گھڑی“ 20 کو جھُٹلا چکے ہیں 21 ۔۔۔۔ اور جو اُس گھڑی کو جھُٹلائے اس کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ مہیّا کر رکھی ہے۔
وہ جب دُور سے اِن کو دیکھے گی 22 تو یہ اُس کے غضب اور جوش کی آوازیں سُن لیں گے۔
اور جب یہ دست و پا بستہ اُس میں ایک تنگ جگہ ٹھونسے جائیں گے تو اپنی موت کو پکارنے لگیں گے۔
(اُس وقت ان سے کہا جائے گا کہ)آج ایک موت کو نہیں بہت سی مَوتوں کو پکارو۔
اِن سے پوچھو، یہ انجام اچھا ہے یا وہ اَبدی جنّت جس کا وعدہ خدا ترس پرہیزگاروں سے کیا گیا ہے؟ جو اُن کے عمل کی جزا اور اُن کے سفر کی آخری منزل ہوگی،
جس میں اُن کی ہر خواہش پُوری ہوگی، جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ، جس کا عطا کرنا تمہارے ربّ کے ذمّے ایک واجب الادا وعدہ ہے۔ 23
اور وہی دن ہوگا جب کہ (تمہارا ربّ)اِن لوگوں کو بھی گھیر لائے گا اور ان کے اُن معبُودوں 24 کو بھی بُلالے گا جنہیں آج یہ اللہ کو چھوڑ کر پُوج رہے ہیں، پھر وہ اُن سے پُوچھے گا ”کیا تم نے میرے اِن بندوں کو گمراہ کیا تھا؟ یا یہ خود راہِ راست سے بھٹک گئے تھے؟“ 25
وہ عرض کریں گے” پاک ہے آپ کی ذات، ہماری تو یہ بھی مجال نہ تھی کہ آپ کے سوا کسی کو اپنا مولیٰ بنائیں۔ مگر آپ نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو خوب سامانِ زندگی دیا حتٰی کہ یہ سبق بھُول گئے اور شامت زدہ ہو کر رہے۔“ 26
یُوں جھُٹلا دیں گے وہ (تمہارے معبُود)تمہاری اُن باتوں کو جو آج تم کہہ رہے ہو 27 ، پھر تم نہ اپنی شامت کو ٹال سکو گے نہ کہیں سے مدد پا سکو گے اور جو بھی تم میں سے ظلم کرے 28 اُسے ہم سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔
اے محمدؐ ، تم سے پہلے جو رسُول بھی ہم نے بھیجے تھے وہ سب بھی کھانا کھانے والے اور بازاروں میں چلنے پھرنے والے لوگ ہی تھے۔ 29 دراصل ہم نے تم لوگوں کو ایک دُوسرے کے لیے آزمائش کا ذریعہ بنا دیا ہے۔ 30 کیا تم صبر کرتے ہو؟ 31 تمہارا ربّ سب کچھ دیکھتا ہے۔ 32 ؏ ۲
21-34جو لوگ ہمارے حضور پیش ہونے کا اندیشہ نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں ”کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں؟ 33 یا پھر ہم اپنے رب کو دیکھیں۔“ 34 بڑا گھمنڈ لے بیٹھے یہ اپنے نفس میں 35 اور حد سے گزر گئے یہ اپنی سر کشی میں۔
جس روز یہ فرشتوں کو دیکھیں گے وہ مجرموں کے لیے کسی بشارت کا دن نہ ہو گا 36 ، چیخ اُٹھیں گے کہ پناہ بخدا،
اور جو کچھ بھی ان کا کیا دھرا ہے اُسے لے کر ہم غبار کی طرح اُڑا دیں گے۔ 37
بس وہی لوگ جو جنّت کے مستحق ہیں اُس دن اچھی جگہ ٹھہریں گے اور دوپہر گزارنے کو عمدہ مقام پائیں گے۔ 38
آسمان کو چیرتا ہوا ایک بادل اُس روز نمودار ہوگا اور فرشتوں کے پرے کے پرے اُتار دیے جائیں گے۔
اُس روز حقیقی بادشاہی صرف رحمٰن کی ہوگی۔ 39 اور وہ منکرین کے لیے بڑا سخت دن ہوگا۔
ظالم انسان اپنا ہاتھ چبائے گا اور کہے گا” کاش میں نے رسُولؐ کا ساتھ دیا ہوتا۔
ہائے میرے کم بختی، کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا۔
اُس کے بہکائے میں آکر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس آئی تھی، شیطان انسان کے حق میں بڑا ہی بے وفا نِکلا۔“ 40
اور رسُولؐ کہے گا کہ ”اے میرے ربّ، میری قوم کے لوگوں نے اس قرآن کو نشانہٴ تضحیک 41 بنا لیا تھا۔“
اے محمدؐ، ہم نے تو اِسی طرح مجرموں کو ہر نبی کا دشمن بنایا ہے 42 اور تمہارے لیے تمہارا ربّ ہی رہنمائی اور مدد کو کافی ہے۔ 43
منکرین کہتے ہیں” اِس شخص پر سارا قرآن ایک ہی وقت میں کیوں نہ اُتار دیا گیا؟“ 44 ۔۔۔۔ ہاں، ایسا اس لیے کیا گیا ہے کہ اس کو اچھی طرح ہم تمہارے ذہن نشین کرتے رہیں 45 اور (اسی غرض کے لیے )ہم نے اس کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ الگ الگ اجزاء کی شکل دی ہے۔
اور (اس میں یہ مصلحت بھی ہے)کہ جب کبھی وہ تمہارے سامنے کوئی نرالی بات (یا عجیب سوال)لے کر آئے، اُس کا ٹھیک جواب بر وقت ہم نے تمہیں دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کھول دی 46
۔۔۔۔ جو لوگ اوندھے منہ جہنّم کی طرف دھکیلے جانے والے ہیں ان کا موقف بہت بُرا اور ان کی راہ حد درجہ غلط ہے۔ 47 ؏ ۳
35-44ہم نے موسیٰؑ کو کتاب 48 دی اور اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارونؑ کو مددگار کے طور پر لگایا
اور اُن سے کہا کہ جاوٴ اُس قوم کی طرف جس نے ہماری آیات کو جھُٹلا دیا 49 ہے۔ آخر کار اُن لوگوں کو ہم نے تباہ کر کے رکھ دیا۔
یہی حال قومِ نوحؑ کا ہوا جب انہوں نے رسُولوں کی تکذیب 50 کی۔ ہم نے اُن کو غرق کر دیا اور دنیا بھر کے لوگوں کے لیے ایک نشانِ عبرت بنا دیا اور ان ظالموں کے لیے ایک دردناک عذاب ہم نے مہیّا کر رکھا 51 ہے۔
اِسی طرح عاد اور ثمود اور اصحابُ الرس 52 اور بیچ کی صدیوں کے بہت سے لوگ تباہ کیے گئے۔
ان میں سے ہر ایک کو ہم نے (پہلے تباہ ہونے والوں کی)مثالیں دے دے کر سمجھایا اور آخر کار ہر ایک کو غارت کر دیا۔
اور اُس بستی پر تو اِن کا گزر ہو چکا ہے جس پر بد ترین بارش برسائی گئی 53 تھی۔ کیا اِنہوں نے اس کا حال دیکھا نہ ہوگا؟ مگر یہ موت کے بعد دوسری زندگی کی توقع ہی نہیں رکھتے۔ 54
یہ لوگ جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق بنا لیتے ہیں۔ (کہتے ہیں) ”کیا یہ شخص ہے جسے خدا نے رسُول بنا کر بھیجا ہے؟
اِس نے تو ہمیں گمراہ کر کے اپنے معبُودوں سے برگشتہ ہی کر دیا ہوتا اگر ہم اُن کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے 55 ۔“ اچھا، وہ وقت دُور نہیں ہے جب عذاب دیکھ کر اِنہیں خود معلوم ہو جائے گا کہ کون گمراہی میں دُور نکل گیا تھا۔
کبھی تم نے اُس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش ِ نفس کو اپنا خدا بنا لیا ہو؟ 56 کیا تم ایسے شخص کو راہِ راست پر لانے کا ذمّہ لے سکتے ہو؟
کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سُنتے اور سمجھتے ہیں؟ یہ تو جانوروں کی طرح ہیں، بلکہ اُن سے بھی گئے گُزرے۔ 57 ؏۴
45-60تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارا ربّ کس طرح سایہ پھیلا دیتا ہے؟ اگر وہ چاہتا تو اسے دائمی سایہ بنا دیتا۔ ہم نے سُورج کو اُس پر دلیل 58 بنایا،
پھر (جیسے جیسے سُورج اُٹھتا جاتا ہے)ہم اس سائے کو رفتہ رفتہ اپنی طرف سمیٹتے چلے جاتے ہیں۔ 59
اور وہ اللہ ہی ہے جس نے رات کو تمہارے لیے لباس 60 ، اور نیند کو سکونِ موت، اور دن کو جی اُٹھنے کا وقت بنایا۔ 61
اور وہی ہے جو اپنی رحمت کے آگے آگے ہواوٴں کو بشارت بنا کر بھیجتا ہے۔ پھر آسمان سے پاک 62 پانی نازل کرتا ہے
تاکہ ایک مُردہ علاقے کو اس کے ذریعے زندگی بخشے اور اپنی مخلوق میں سے بہت سے جانوروں اور انسانوں کو سیراب کرے۔ 63
اس کرشمے کو ہم بار بار ان کے سامنے لاتے ہیں 64 تاکہ وہ کچھ سبق لیں، مگر اکثر لوگ کُفر اور ناشکری کے سوا کوئی دُوسرا رویّہ اختیار کرنے سے انکار کر دیتے ہیں۔ 65
اگر ہم چاہتے تو ایک ایک بستی میں ایک ایک نذیر اُٹھا کھڑا کرتے 66 ۔
پس اے نبیؐ ، کافروں کی بات ہر گز نہ مانو اور اس قرآن کو لے کر ان کے ساتھ جہاد کبیر 67 کرو۔
اور وہی ہے جس نے دوسمندروں کو ملا رکھا ہے۔ ایک لذیذ و شیریں، دُوسرا تلخ و شور۔ اور دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے۔ ایک رکاوٹ ہے جو انہیں گڈ مڈ ہونے سے روکے ہوئے ہے۔ 68
اور وہی ہے جس نے پانی سے ایک بشر پیدا کیا، پھر اس نے نسب اور سُسرال کے دو الگ سلسلے چلائے۔ 69 تیرا ربّ بڑا ہی قدرت والا ہے۔
اس خدا کو چھوڑ کر لوگ اُن کو پُوج رہے ہیں جو نہ ان کو نفع پہنچا سکتے ہیں نہ نقصان ، اور اوپر سے مزید یہ کہ کافر اپنے ربّ کے مقابلے میں ہر باغی کا مددگار بنا ہوا ہے۔ 70
اے محمدؐ، تم کو تو ہم نے بس ایک مبشِّر اور نذیر بنا کر بھیجا 71 ہے۔
ان سے کہہ دو کہ ”میں اس کام پر تم سے کوئی اُجرت نہیں مانگتا، میری اُجرت بس یہی ہے کہ جس کا جی چاہے وہ اپنے ربّ کا راستہ اختیار کر لے۔“ 71الف
اے محمدؐ، اُس خدا پر بھروسہ رکھو جو زندہ ہے اور کبھی مرنے والا نہیں۔ اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو۔ اپنے بندوں کے گناہوں سے بس اُسی کا باخبر ہونا کافی ہے۔
وہ جس نے چھ دنوں میں زمین اور آسمانوں کو اور اُن ساری چیزوں کو بنا کر رکھ دیا جو آسمان و زمین کے درمیان ہیں، پھر آپ ہی (کائنات کے تختِ سلطنت)”عرش“ پر جلوہ فرما 72 ہوا۔ رحمٰن، اس کی شان بس کسی جاننے والے سے پوچھو۔
اِن لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ اس رحمٰن کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں ”رحمٰن کیا ہوتا ہے؟ کیا بس جسے تُو کہہ دے اسی کو سجدہ کرتے پھریں؟“ 73 یہ دعوت ان کی نفرت میں اُلٹا اور اضافہ کر دیتی ہے۔ 74 ؏۵ السجدة
61-77بڑا متبرّک ہے وہ جس نے آسمان میں بُرج بنائے 75 اور اس میں ایک چراغ 76 اور ایک چمکتا چاند روشن کیا۔
وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دُوسرے کا جانشین بنایا، ہر اس شخص کے لیے جو سبق لینا چاہے، یا شکر گزار ہونا چاہے۔ 77
رحمٰن کے (اصلی )بندے 78 وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے ہیں 79 اور جاہل ان کے مُنہ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام۔ 80
جو اپنے ربّ کے حضور سجدے اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں۔ 81
جو دُعائیں کرتے ہیں کہ”اے ہمارے ربّ، جہنّم کے عذاب سے ہم کو بچا لے ، اُس کا عذاب تو جان کا لاگو ہے،
وہ تو بڑا ہی بُرا مستقر اور مقام ہے۔ 82
“ جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضُول خرچی کرتے ہیں نہ بُخل، بلکہ اُن کا خرچ دونوں انتہاوٴں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا 83 ہے۔
جو اللہ کے سوا کسی اور معبُود کو نہیں پُکارتے ، اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے، اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں 84 ۔۔۔۔ یہ کام جو کوئی کرے وہ اپنے گناہ کا بدلہ پائے گا،
قیامت کے روز اُس کو مکرّرعذاب دیا جائے 85 گا اور اسی میں وہ ہمیشہ ذلّت کے ساتھ پڑا رہے گا۔
اِلّا یہ کہ کوئی (ان گناہوں کے بعد)توبہ کر چکا ہو اور ایمان لا کر عملِ صالح کرنے لگا 86 ہو۔ ایسے لوگوں کی بُرائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل دے 87 گا اور وہ بڑا غفور و رحیم ہے۔
جو شخص توبہ کر کے نیک عملی اختیار کرتا ہے وہ تو اللہ کی طرف پلٹ آتا ہے جیسا کہ پلٹنے کا حق ہے 88
۔۔۔۔(اور رحمٰن کے بندے وہ ہیں)جو جھُوٹ کے گواہ نہیں بنتے 89 اور کسی لغو چیز پر اُن کا گزر ہو جائے تو شریف آدمیوں کی طرح گُزر جاتے 90 ہیں۔
جنہیں اگر اُن کے ربّ کی آیات سُنا کر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اس پر اندھے اور بہرے بن کر نہیں رہ 91 جاتے۔
جو دُعائیں مانگا کرتے ہیں کہ ”اے ہمارے ربّ، ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک 92 دے اور ہم کو پرہیزگاروں کا امام 93 بنا“۔۔۔۔
یہ ہیں وہ لوگ جو اپنے صبر 94 کا پھل منزلِ بلند کی شکل 95 میں پائیں گے۔ آداب و تسلیمات سے اُن کا استقبال ہوگا۔
وہ ہمیشہ ہمیشہ وہاں رہیں گے ۔ کیا ہی اچھا ہے وہ مستقر اور وہ مقام۔
اے محمدؐ ، لوگوں سے کہو ”میرے ربّ کو تمہاری کیا حاجت پڑی ہے اگر تم اُس کو نہ پکارو۔ 96 اب کہ تم نے جھُٹلا دیا ہے، عنقریب وہ سزا پاوٴ گے کہ جان چھُڑانی محال ہو گی۔“ ؏۶