قریب آگیا ہے لوگوں کے حساب کا وقت، 1 اور وہ ہیں کہ غفلت میں منہ موڑے ہوئے ہیں۔ 2
ان کے پاس جو تازہ نصیحت ہی ان کے ربّ کی طرف سے آتی ہے 3 اُس کو بے تکلف سُنتے ہیں اور کھیل میں پڑے رہتے ہیں، 4
دل اُن کے ( دوسری ہی فکروں میں)منہمک ہیں۔ اور ظالم آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں کہ ”یہ شخص آخر تم جیسا ایک بشر ہی تو ہے، پھر کیا تم آنکھوں دیکھتے جادُو کے پھندے میں پھنس جاوٴ گے؟“ 5
رسُولؐ نے کہا ، میرا ربّ ہر اُس بات کو جانتا ہے جو آسمان اور زمین میں کی جائے، وہ سمیع اور علیم ہے۔ 6
وہ کہتے ہیں ”بلکہ یہ پراگندہ خواب ہیں ، بلکہ یہ اِس کی من گھڑت ہے، بلکہ یہ شخص شاعر ہے۔ 7 ورنہ یہ لائے کوئی نشانی جس طرح پرانے زمانے کے رسُول نشانیوں کے ساتھ بھیجے گئے تھے۔“
حالانکہ ان سے پہلے کوئی بستی بھی جسے ہم نے ہلاک کیا، ایمان نہ لائی۔ اب کیا یہ ایمان لائیں گے؟ 8
اور اے محمدؐ ، تم سے پہلے بھی ہم نے انسانوں ہی کو رسُول بنا کر بھیجا تھا جن پر ہم وحی کیا کرتے تھے۔ 9 تم لوگ اگر علم نہیں رکھتے تو اہلِ کتاب سے پوچھ لو۔ 10
اُن رسُولوں کو ہم نے کوئی ایسا جسم نہیں دیا تھا کہ وہ کھاتے نہ ہوں، اور نہ وہ سدا جینے والے تھے۔
پھر دیکھ لو کہ آخر کار ہم نے اُن کے ساتھ اپنے وعدے پُورے کیے، اور اُنہیں اور جس جس کو ہم نے چاہا بچا لیا، اور حد سے گزر جانے والوں کو ہلاک کر دیا۔ 11
لوگو، ہم نے تمہاری طرف ایک ایسی کتاب بھیجی ہے جس میں تمہارا ہی ذکر ہے ، کیا تم سمجھتے نہیں ہو؟ 12 ؏۱
11-29کتنی ہی ظالم بستیاں ہیں جن کو ہم نے پِیس کر رکھ دیا اور اُن کے بعد دوسری کسی قوم کو اُٹھایا۔
جب اُن کو ہمارا عذاب محسوس ہوا 13 تو لگے وہاں سے بھاگنے ۔
(کہا گیا)”بھاگو نہیں، جاوٴ اپنے اُنہی گھروں اور عیش کے سامانوں میں جن کے اندر تم چین کر رہے تھے، شاید کہ تم سے پوچھا جائے ۔“ 14
کہنے لگے ”ہائے ہماری کم بختی، بے شک ہم خطاوار تھے۔“
اور وہ یہی پکارتے رہے یہاں تک کہ ہم نے اُن کو کھلیان کر دیا، زندگی کا ایک شرارہ تک اُن میں نہ رہا۔
ہم نے اِس آسمان اور زمین کو اور جو کچھ بھی ان میں ہے کچھ کھیل کے طور پر نہیں بنایا ہے۔ 15
اگر ہم کوئی کھلونا بنانا چاہتے اور بس یہی کچھ ہمیں کرنا ہوتا تو اپنے ہی پاس سے کر لیتے۔ 16
مگر ہم تو باطل پر حق کی چوٹ لگاتے ہیں جو اس کا سر توڑ دیتی ہے اور وہ دیکھتے دیکھتے مِٹ جاتا ہے اور تمہارے لیے تباہی ہے اُن باتوں کی وجہ سے جو تم بناتے ہو۔ 17
زمین اور آسمانوں میں جو مخلوق بھی ہے اللہ کی ہے۔ 18 اور جو (فرشتے)اُس کے پاس ہیں 19 وہ نہ اپنے آپ کو بڑا سمجھ کر اُس کی بندگی سے سرتابی کرتے ہیں اور نہ ملُول ہوتے ہیں۔ 20
شب و روز اُس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں، دَم نہیں لیتے۔
کیا اِن لوگوں کے بنائے ہوئے ارضی خدا ایسے ہیں کہ ( بے جان کو جان بخش کر)اُٹھا کھڑا کرتے ہوں؟ 21
اگر آسمان و زمین میں ایک اللہ کے سوا دوسرے خدا بھی ہوتے تو ( زمین اور آسمان)دونوں کا نظام بگڑ جاتا۔ 22 پس پاک ہے اللہ ربّ العرش 23 اُن باتوں سے جو یہ لوگ بنا رہے ہیں۔
وہ اپنے کاموں کے لیے ( کسی کے آگے)جواب دہ نہیں ہے اور سب جواب دہ ہیں۔
کیا اُسے چھوڑ کر انہوں نے دوسرے خدا بنا لیے ہیں؟ اے محمد ؐ ، ان سے کہو کہ ”لاوٴ اپنی دلیل، یہ کتاب بھی موجود ہے جس میں میرے دور کے لوگوں کے لیے نصیحت ہے اور وہ کتابیں بھی موجود ہیں جن میں مجھ سے پہلے لوگوں کے لیے نصیحت تھی ۔“ 24 مگر ان میں سے اکثر لوگ حقیقت سے بے خبر ہیں، اس لیے منہ موڑے ہوئے ہیں۔ 25
ہم نے تم سے پہلے جو رسُول بھی بھیجا ہے اُس کو یہی وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی خدا نہیں ہے، پس تم لوگ میری ہی بندگی کرو۔
یہ کہتے ہیں ”رحمٰن اولاد رکھتا ہے۔“26 سُبحان اللہ، وہ تو بندے ہیں جنہیں عزت دی گئی ہے۔
اُس کے حضور بڑھ کر نہیں بولتے اور بس اُس کے حکم پر عمل کرتے ہیں
جو کچھ اُن کے سامنے ہے اُسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اُن سے اوجھل ہے اُس سے بھی وہ باخبر ہے۔ وہ کسی کی سفارش نہیں کرتے بجز اس کے جس کے حق میں سفارش سُننے پر اللہ راضی ہو، اور وہ اُس کے خوف سے ڈرے رہتے ہیں۔ 27
اور جو اُن میں سے کوئی کہہ دے کہ اللہ کے سوا میں بھی ایک خدا ہوں، تو اُسے ہم جہنّم کی سزا دیں، ہمارے ہاں ظالموں کا یہی بدلہ ہے۔ ؏ ۲
30-41کیا وہ لوگ جنہوں نے ( نبی کی بات ماننے سے)انکار کر دیا ہے غور نہیں کرتے کہ یہ سب آسمان اور زمین باہم ملے ہوئے تھے، پھر ہم نے انہیں جدا کیا، 28 اور پانی سے ہر زندہ چیز پیدا کی۔ 29 کیا وہ ( ہماری اِس خلاقی کو )نہیں مانتے؟
اور ہم نے زمین میں پہاڑ جما دیے تاکہ وہ اِنہیں لے کر ڈھلک نہ جائے، 30 اور اس میں کشادہ راہیں بنا دیں، 31 شاید کہ یہ لوگ اپنا راستہ معلوم کرلیں۔ 32
اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنا دیا، 33 مگر یہ ہیں کہ اس کی نشانیوں کی طرف 34 توجہ ہی نہیں کرتے۔
اور وہ اللہ ہی ہے جس نے رات اور دن بنائے اور سُورج اور چاند کو پیدا کیا ۔ سب ایک ایک فلک میں تَیر رہے ہیں۔ 35
36 اور اے محمدؐ ، ہمیشگی تو ہم نے تم سے پہلے بھی کسی انسان کے لیے نہیں رکھی ہے۔ اگر تم مر گئے تو کیا یہ لوگ ہمیشہ جیتے رہیں گے؟
ہر جاندار کو موت کا مزّہ چکھنا ہے، 37 اور ہم اچھے اور بُرے حالات میں ڈال کر تم سب کی آزمائش کر رہے ہیں۔ 38 آخر کار تمہیں ہماری ہی طرف پلٹنا ہے۔
یہ منکرینِ حق جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق بنا لیتے ہیں۔ کہتے ہیں ”کیا یہ ہے وہ شخص جو تمہارے خداوٴں کا ذکر کیا کرتا ہے؟“ 39 اور ان کا اپنا حال یہ ہے کہ رحمٰن کے ذکر سے منکر ہیں۔ 40
انسان جلد باز مخلوق ہے۔ 41 ابھی میں تم کو اپنی نشانیاں دکھائے دیتا ہوں، جلدی نہ مچاوٴ 42
۔۔۔۔ یہ لوگ کہتے ہیں”آخر یہ دھمکی پُوری کب ہوگی اگر تم سچے ہو؟“
کاش اِن کافروں کو اُس وقت کا کچھ علم ہوتا جب کہ یہ نہ اپنے منہ آگ سے بچا سکیں گے نہ اپنی پیٹھیں، اور نہ ان کو کہیں سے مدد پہنچے گی۔
وہ بلا اچانک آئے گی اور انہیں اس طرح یک لخت دبوچ لے گی کہ یہ نہ اُس کو دفع کر سکیں گے اور نہ ان کو لمحہ بھر مہلت ہی مل سکے گی۔
مذاق تم سے پہلے بھی رسُولوں کا اُڑایا جا چکا ہے مگر اُن کا مذاق اُڑانے والے اُسی چیز کے پھیر میں آکر رہے جس کا وہ مذاق اُڑاتے تھے۔ ؏۳
42-50اے محمدؐ ، ان سے کہو ” کون ہے جو رات کو یا دن کو تمہیں رحمٰن سے بچا سکتا ہو؟“ 43 مگر یہ اپنے ربّ کی نصیحت سے منہ موڑ رہے ہیں۔
کیا یہ کچھ ایسے خدا رکھتے ہیں جو ہمارے مقابلے میں ان کے حمایت کریں؟ وہ تو نہ خود اپنی مدد کر سکتے ہیں اور نہ ہماری ہی تائید ان کو حاصل ہے۔
اصل بات یہ ہے کہ ان لوگوں کو اور ان کے آبا و اجداد کو ہم زندگی کا سروسامان دیے چلے گئے یہاں تک کہ ان کو دن لگ گئے۔ 44 مگر کیا انہیں نظر نہیں آتا کہ ہم زمین کو مختلف سمتوں سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں؟ 45 پھر کیا یہ غالب آجائیں گے؟ 46
ان سے کہہ دو کہ ”میں تو وحی کی بنا پر تمہیں متنبہ کر رہا ہوں“۔۔۔۔مگر بہرے پُکار کو نہیں سُنا کرتے جب کہ انہیں خبر دار کیا جائے۔
اور اگر تیرے ربّ کا عذاب ذرا سا انہیں چھُو جائے 47تو ابھی چیخ اُٹھیں کہ ہائے ہماری کم بختی، بے شک ہم خطاوار تھے۔
قیامت کے روز ہم ٹھیک ٹھیک تولنے والے ترازو رکھ دیں گے، پھر کسی شخص پر ذرا برابر ظلم نہ ہوگا۔ جس کا رائی کے دانے برابر بھی کچھ کیا دھرا ہوگا ہو ہم سامنے لے آئیں گے۔ اور حساب لگانے کے لیے ہم کافی ہیں۔ 48
49 پہلے ہم موسیٰؑ اور ہارونؑ کو فرقان اور روشنی اور ”ذکر“ 50 عطا کر چکے ہیں اُن متقی لوگوں کی بھلائی کے لیے 51
جو بے دیکھے اپنے ربّ سے ڈریں اور جن کو ( حساب کی )اُس گھڑی 52 کا کھٹکا لگا ہوا ہو۔
اور اب یہ بابرکت (ذکر)ہم نے (تمہارے لیے)نازل کیا ہے۔ پھر کیا تم اس کو قبول کرنے سے انکاری ہو؟ ؏ ۴
51-75اُس سے بھی پہلے ہم نے ابراہیمؑ کو اُس کی ہوشمندی بخشی تھی اور ہم اُس کو خوب جانتے تھے۔ 53
54 یاد کرو وہ موقع جب کہ اُس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ ”یہ مورتیں کیسی ہیں جن کے تم لوگ گرویدہ ہو رہے ہو؟“
انہوں نے جواب دیا ”ہم نے اپنے باپ دادا کو ان کی عبادت کرتے پایا ہے۔“
اس نے کہا ”تم بھی گمراہ ہو اور تمہارے باپ دادا بھی صریح گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔“
انہوں نے کہا ”کیا تُو ہمارے سامنے اپنے اصلی خیالات پیش کر رہا ہے یا مذاق کرتا ہے؟“ 55
اُس نے جواب دیا ”نہیں، بلکہ فی الواقع تمہارا ربّ وہی ہے جو زمین اور آسمانوں کا ربّ اور اُن کا پیدا کرنے والا ہے۔ اِس پر میں تمہارے سامنے گواہی دیتا ہوں۔
اور خدا کی قسم میں تمہاری غیر موجودگی میں ضرور تمہارے بُتوں کی خبر لوں گا۔“56
چنانچہ اس نے اُن کو ٹکڑے ٹکڑے کر دیا 57 اور صرف ان کے بڑے کو چھوڑ دیا تاکہ شاید وہ اس کی طرف رُجوع کریں۔58
(اُنہوں نے آکر بُتوں کا یہ حال دیکھا تو)کہنے لگے” ہمارے خداوٴں کا یہ حال کس نے کر دیا؟ بڑا ہی کوئی ظالم تھا وہ۔“
(بعض لوگ)بولے” ہم نے ایک نوجوان کو ان کا ذکر کرتے سُنا تھا جس کا نام ابراہیمؑ ہے۔“
اُنہوں نے کہا ”تو پکڑ لاوٴ اُسے سب کے سامنے تاکہ لوگ دیکھ لیں( اُس کی کیسی خبر لی جاتی ہے)۔“ 59
(ابراہیمؑ کے آنے پر)اُنہوں نے پوچھا ”کیوں ابراہیمؑ، تُو نے ہمارے خداوٴں کے ساتھ یہ حرکت کی ہے؟“
اُس نے جواب دیا” بلکہ یہ سب کچھ اِن کے اس سردار نے کیا ہے، اِن ہی سے پُوچھ لو اگر یہ بولتے ہیں۔“60
یہ سُن کر وہ لوگ اپنے ضمیر کی طرف پلٹے اور (اپنے دِلوں میں)کہنے لگے” واقعی تم خود ہی ظالم ہو۔“
مگر پھر اُن کی مت پلٹ گئی 61اور بولے ”تُو جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں۔“
ابراہیمؑ نے کہا ”پھر کیا تم اللہ کو چھوڑ کر اُن چیزوں کو پُوج رہے ہو جو نہ تمہیں نفع پہنچانے پر قادر ہیں نہ نقصان۔
تُف ہے تم پر اور تمہارے اِن معبودوں پر جن کو تم اللہ کو چھوڑ کر پُوجا کر رہے ہو۔ کیا تم کچھ بھی عقل نہیں رکھتے؟“
اُنہوں نے کہا ”جلا ڈالو اِس کو اور حمایت کرو اپنے خداوٴں کی اگر تمہیں کچھ کرنا ہے۔“
ہم نے کہا ”اے آگ، ٹھنڈی ہو جا اور سلامتی بن جا ابراہیمؑ پر۔“ 62
وہ چاہتے تھے کہ ابراہیمؑ کے ساتھ بُرائی کریں۔ مگر ہم نے اُن کو بُری طرح ناکام کر دیا۔
اور ہم اُسے اور لوطؑ 63 کو بچا کر اُس سر زمین کی طرف نکال لے گئے جس میں ہم نے دنیا والوں کے لیے برکتیں رکھی ہیں۔ 64
اور ہم نے اسے اسحاقؑ عطا کیا اور یعقوبؑ اس پر مزید، 65 اور ہر ایک کو صالح بنایا۔
اور ہم نے اُن کو امام بنا دیا جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے۔ اور ہم نے اُنہیں وحی کے ذریعہ نیک کاموں کی اور نماز قائم کرنے اور زکوٰة دینے کی ہدایت کی، اور وہ ہمارے عبادت گزار تھے۔ 66
اور لُوطؑ کو ہم نے حکم اور علم بخشا 67 اور اُسے اُس بستی سے بچا کر نکال دیا جو بدکاریاں کرتی تھی ۔۔۔۔ درحقیقت وہ بڑی ہی بُری، فاسق قوم تھی ۔۔۔۔
اور لُوطؑ کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا، وہ صالح لوگوں میں سے تھا۔ ؏ ۵
76-93اور یہی نعمت ہم نے نُوحؑ کو دی۔ یاد کرو جبکہ اِن سب سے پہلے اُس نے ہمیں پکارا 68تھا۔ ہم نے اس کی دُعا قبول کی اور اسے اور اس کے گھر والوں کو کَربِ عظیم 69 سے نجات دی
اور اُس قوم کے مقابلے میں اُس کی مدد کی جس نے ہماری آیات کو جُھٹلا دیا تھا۔ وہ بڑے بُرے لوگ تھے ، پس ہم نے ان سب کو غرق کر دیا۔
اور اسی نعمت سے ہم نے داوٴدؑ و سلیمانؑ کو سرفراز کیا۔ یاد کرو وہ موقع جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے مقدمے میں فیصلہ کر رہے تھے جس میں رات کے وقت دُوسرے لوگوں کی بکریاں پھیل گئی تھیں، اور ہم اُن کی عدالت خود دیکھ رہے تھے۔
اُس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمان کو سمجھا دیا، حالانکہ حکم اور علم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا۔70 داوٴدؑ کے ساتھ ہم نے پہاڑوں اور پرندوں کو مسخر کر دیا تھا جو تسبیح کرتے تھے، 71 اِس فعل کے کرنے والے ہم ہی تھے۔
اور ہم نے اُس کو تمہارے فائدے کے لیے زرہ بنانے کی صنعت سکھا دی تھی، تاکہ تم کو ایک دُوسرے کی مار سے بچائے، 72 پھر کیا تم شکر گزار ہو؟ 73
اور سلیمانؑ کے لیے ہم نے تیز ہوا کو مسخّر کر دیا تھا جو اس کے حکم سے اُس سرزمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکتیں رکھی ہیں، 74 ہم ہر چیز کا علم رکھنے والے تھے۔
اور شیاطین میں سے ہم نے ایسے بہت سوں کو اس کا تابع بنا دیا تھا جو اس کے لیے غوطے لگاتے اور اس کے سوا دُوسرے کام کرتے تھے۔ ان سب کے نگراں ہم ہی تھے۔ 75
اور یہی (ہوشمندی اور حکم و علم کی نعمت)ہم نے ایوبؑ 76 کو دی تھی۔ یاد کرو، جبکہ اس نے اپنے ربّ کو پکارا کہ ” مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تُو ارحم الراحمین ہے۔“ 77
ہم نے اس کی دُعا قبول کی اور جو تکلیف اُسے تھی اس کو دُور کر دیا، 78 اور صرف اس کے اہل و عیال ہی اس کو نہیں دیے بلکہ ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی دیے، اپنی خاص رحمت کے طور پر، اور اس لیے کہ یہ ایک سبق ہو عبادت گزاروں کے لیے۔ 79
اور یہی نعمت اسماعیلؑ اور ادریسؑ 80 اور ذوالکفلؑ 81 کو دی کہ یہ سب صابر لوگ تھے۔
اور ان کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا کہ وہ صالحوں میں سے تھے۔
اور مچھلی والے کو بھی ہم نے نوازا۔ 82 یاد کرو جبکہ وہ بگڑ کر چلا گیا تھا 83 اور سمجھا تھا کہ ہم اس پر گرفت نہ کریں گے۔ 84 آخر کو اُس نے تاریکیوں میں سے پکارا” 85 نہیں ہے کوئی خدا مگر تُو، پاک ہے تیری ذات، بے شک میں نے قُصور کیا۔“
تب ہم نے اس کی دُعا قبول کی اور غم سے اس کو نجات بخشی، اور اِسی طرح ہم مومنوں کو بچا لیا کرتے ہیں۔
اور زکریاؑ کو ، جبکہ اس نے اپنے ربّ کو پکارا کہ” اے پروردگار ، مجھے اکیلا نہ چھوڑ، اور بہترین وارث تو تُو ہی ہے۔“
پس ہم نے اس کی دُعا قبول کی اور اسے یحییٰ عطا کیا اور اس کی بیوی کو اس کے لیے درست کر دیا۔ 86 یہ لوگ نیکی کے کاموں میں دوڑ دُھوپ کرتے تھے اور ہمیں رغبت اور خوف کے ساتھ پکارتے تھے، اور ہمارے آگے جُھکے ہوئے تھے۔ 87
اور وہ خاتون جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی تھی۔ 88 ہم نے اُس کے اندر اپنی رُوح سے پھُونکا 89 اور اُسے اور اُس کے بیٹے کو دُنیا بھر کے لیے نشانی بنا دیا۔ 90
یہ تمہاری اُمّت حقیقت میں ایک ہی اُمّت ہے اور میں تمہارا ربّ ہوں، پس تم میری عبادت کرو۔
مگر (یہ لوگوں کی کارستانی ہے کہ )انہوں نے آپس میں اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا 91 ۔۔۔۔ سب کو ہماری طرف پلٹنا ہے۔ ؏ ٦
94-112پھر جو نیک عمل کرے گا، اِس حال میں کہ وہ مومن ہو، تو اس کے کام کی ناقدری نہ ہوگی، اور اُسے ہم لکھ رہے ہیں۔
اور ممکن نہیں ہے کہ جس بستی کو ہم نے ہلاک کر دیا ہو وہ پلٹ سکے۔ 92
یہاں تک کہ جب یاجُوج و ماجُوج کھول دیے جائیں گے اور ہر بلندی سے وہ نکل پڑیں گے
اور وعدہٴِ بر حق کے پُورا ہونے کا وقت قریب آلگے گا 93 تو یکایک اُن لوگوں کے دیدے پھٹے کے پھٹے رہ جائیں گے جنہوں نے کُفر کیا تھا۔ کہیں گے ”ہائے ہماری کم بختی، ہم اِس چیز کی طرف سے غفلت میں پڑے ہوئے تھے، بلکہ ہم خطا کار تھے۔“ 94
بے شک تم اور تمہارے وہ معبُود جنہیں تم پُوجتے ہو، جہنّم کا ایندھن ہیں، وہیں تم کو جانا ہے۔ 95
اگر یہ واقعی خدا ہوتے تو وہاں نہ جاتے۔ اب سب کو ہمیشہ اسی میں رہنا ہے۔
وہاں وہ پھُنکارے ماریں گے 96 اور حال یہ ہوگا کہ اس میں کان پڑی آواز نہ سُنائی دے گی۔
رہے وہ لوگ جن کے لیے ہماری طرف سے بھلائی کا پہلے ہی فیصلہ ہو چکا ہو گا، تو وہ یقیناً اُس سے دُور رکھے جائیں گے، 97
اُس کی سرسراہٹ تک نہ سُنیں گے۔ اور وہ ہمیشہ ہمیشہ اپنی من بھاتی چیزوں کے درمیان رہیں گے۔
وہ انتہائی گھبراہٹ کا وقت اُن کو ذرا پریشان نہ کرے گا، 98 اور ملائکہ بڑھ کر اُن کو ہاتھوں ہاتھ لیں گے کہ ”یہ تمہارا وہی دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا۔“
وہ دن جبکہ آسمان کو ہم یوں لپیٹ کر رکھ دیں گے جیسے طومار میں اوراق لپیٹ دیے جاتے ہیں۔ جس طرح پہلے ہم نے تخلیق کی ابتدا کی تھی اُسی طرح ہم پھر اُس کا اعادہ کریں گے۔ یہ ایک وعدہ ہے ہمارے ذِمّے، اور یہ کام ہمیں بہرحال کرنا ہے۔
اور زَبُور میں ہم نصیحت کے بعد یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔
اِس میں ایک بڑی خبر ہے عبادت گزار لوگوں کے لیے۔ 99
اے محمدؐ ، ہم نے جو تم کو بھیجا ہے تو یہ دراصل دنیا والوں کے حق میں ہماری رحمت ہے۔ 100
اِن سے کہو ”میرے پاس جو وحی آتی ہے وہ یہ ہے کہ تمہارا صرف ایک خدا ہے، پھر کیا تم سرِ اطاعت جُھکاتے ہو؟“
اگر ہو منہ پھیریں تو کہہ دو کہ ”میں نے علی الاعلان تم کو خبردار کر دیا ہے۔ اب یہ میں نہیں جانتا کہ وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے 101 قریب ہے یا دُور۔
اللہ وہ باتیں بھی جانتا ہے جو بآوازِ بلند کہی جاتی ہیں اور وہ بھی جو تم چھُپا کر کرتے ہو۔ 102
میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ شاید یہ (دیر)تمہارے لیے ایک فتنہ ہے 103 اور تمہیں ایک وقتِ خاص تک کے لیے مزے کرنے کا موقع دیا جارہا ہے۔“
(آخر کار)رسُولؐ نے کہا کہ ”اے میرے ربّ، حق کے ساتھ فیصلہ کر دے، اور لوگو، تم جو باتیں بناتے ہو اُن کے مقابلے میں ہمارا ربِّ رحمٰن ہی ہمارے لیے مدد کا سہارا ہے۔“ ؏ ۷