1-24 شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

طٰہٰ،

ہم نے یہ قرآن تم پر اِس لیے نازل نہیں کیا ہے کہ تم مصیبت میں پڑ جاوٴ۔

یہ تو ایک یاد دہانی ہے ہر اُس شخص کے لیے جو ڈرے۔ 1

نازل کیا گیا اُس ذات کی طرف سے جس نے پیدا کیا ہے زمین کو اور بلند آسمانوں کو۔

وہ رحمٰن( کائنات کے)تختِ سلطنت پر جلوہ فرما ہے۔ 2

مالک ہے اُن سب چیزوں کا جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور جو زمین و آسمان کے درمیان ہیں اور جو مٹی کے نیچے ہیں۔

تم چاہے اپنی بات پُکار کر کہو ، وہ تو چُپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اس سے مخفی بات بھی جانتا ہے۔ 3

وہ اللہ ہے، اس کے سوا کوئی خدانہیں، اس کے لیے بہترین نام ہیں۔ 4

اور تمہیں کچھ موسیٰؑ کی خبر بھی پہنچی ہے؟

جب کہ اُس نے ایک آگ دیکھی 5 اور اپنے گھر والوں سے کہا کہ ”ذرا ٹھہرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے۔ شاید کہ تمہارے لیے ایک آدھ انگارا لے آوٴں، یا اس آگ پر مجھے(راستے کے متعلق)کوئی رہنمائی مِل جائے۔“ 6

وہاں پہنچا تو پکارا گیا”اے موسیٰؑ،

میں ہی تیرا ربّ ہوں، جُوتیاں اُتار دے۔ 7 تُو وادیِ مقدس طُویٰ میں ہے۔ 8

اور میں نے تُجھ کو چُن لیا ہے، سُن جو کچھ وحی کیا جاتا ہے۔

میں ہی اللہ ہوں، میرے سوا کوئی خدا نہیں، پس تُو میری بندگی کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔ 9

قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے۔ میں اُس کا وقت مخفی رکھنا چاہتا ہوں، تاک ہر متنفّس اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے۔ 10

پس کوئی ایسا شخص جو اُس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہشِ نفس کا بندہ بن گیا ہے تُجھ کو اُس گھڑی کی فکر سے نہ روک دے ، ورنہ تُو ہلاکت میں پڑ جائے گا

۔۔۔۔ اور اے موسیٰؑ ، یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے؟“ 11

موسیٰؑ نے جواب دیا”یہ میری لاٹھی ہے، اِس پر ٹیک لگا کر چلتا ہوں، اِس سے اپنی بکریوں کے لیے پتّے جھاڑتا ہوں، اور بھی بہت سے کام ہیں جو اِس سے لیتا ہوں۔“ 12

فرمایا”پھینک دے اِس کو موسیٰؑ ۔“

اس نے پھینک دیا اور یکایک وہ ایک سانپ تھی جو دوڑ رہا تھا۔

فرمایا ”پکڑ لے اِس کو اور ڈر نہیں، ہم اسے پھر ویسا ہی کر دیں گے جیسی یہ تھی۔

اور ذرا اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دبا، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے۔ 13 یہ دُوسری نشانی ہے۔

اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی نشانیاں دکھانے والے ہیں۔

اب تُو فرعون کے پاس جا، وہ سرکش ہو گیا ہے۔“ ؏۱

25-54

موسیٰؑ نے عرض کیا”پروردگار، میرا سینہ کھول دے، 14

اور میرے کام کو میرے لیے آسان کر دے

اور میری زبان کی گرہ سُلجھا دے

تاکہ لوگ میری بات سمجھ سکیں، 15

اور میرے لیے میرے اپنے کنبے سے ایک وزیر مقرر کر دے۔

ہارون ، جو میرا بھائی ہے۔ 16

اُس کے ذریعہ سے میرا ہاتھ مضبُوط کر

اور اس کو میرے کام میں شریک کر دے،

تاکہ ہم خُوب تیری پاکی بیان کریں

اور خُوب تیرا چرچا کریں۔

تُو ہمیشہ میرے حال پر نگران رہا ہے۔“

فرمایا ”دیا گیا جو تُو نے مانگا اے موسیٰؑ ،

ہم نے پھر ایک مرتبہ تجھ پر احسان کیا۔ 17

یاد کر وہ وقت جبکہ ہم نے تیری ماں کو اشارہ کیا، ایسا اشارہ جو وحی کے ذریعہ سے ہی کیا جاتا ہے

کہ اِس بچے کو صندوق میں رکھ دے اور صندوق کو دریا میں چھوڑ دے۔ دریا اسے ساحل پر پھینک دے گا اور اسے میرا دشمن اور اس بچے کا دشمن اُٹھا لے گا۔ میں نے اپنی طرف سے تُجھ پر محبت طاری کر دی اور ایسا انتظام کیا کہ تُو میری نگرانی میں پالا جائے۔

یاد کر جب کہ تیری بہن چل رہی تھی، پھر جا کر کہتی ہے، ”میں تمہیں اُس کا پتہ دُوں جو اِس بچے کی پرورش اچھی طرح کرے؟“ اِس طرح ہم نے تجھے پھر تیری ماں کے پاس پہنچا دیا تاکہ اُس کی آنکھ ٹھنڈی رہے اور وہ رنجیدہ نہ ہو۔ اور (یہ بھی یاد کر کہ)تُو نے ایک شخص کو قتل کر دیا تھا ، ہم نے تُجھے اس پھندے سے نکالا اور تجھے مختلف آزمائشوں سے گزارا اور تُو مَدیَن کے لوگوں میں کئی سال ٹھہرا رہا۔ پھر اب ٹھیک اپنے وقت پر تُو آگیا ہے اے موسیٰؑ ۔

میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنا لیا ہے۔

جا، تُو اور تیرا بھائی میری نشانیوں کے ساتھ۔ اور دیکھو، تم میری یاد میں تقصیر نہ کرنا۔

جاوٴ تم دونوں فرعون کے پاس کہ وہ سرکش ہو گیا ہے۔

اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا، شاید کے وہ نصیحت قبول کرے یا ڈر جائے۔“ 18

دونوں الف18 نے عرض کیا ”پروردگار، ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا یا پِل پڑے گا۔“

فرمایا ”ڈرو مت، میں تمہارے ساتھ ہوں، سب کچھ سُن رہا ہوں اور دیکھ رہا ہوں۔

جاوٴ اُس کے پاس اور کہو کہ ہم تیرے ربّ کے فرستادے ہیں، بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کے لیے چھوڑ دے اور ان کو تکلیف نہ دے۔ ہم تیرے پاس تیرے ربّ کی نشانی لے کر آئے ہیں اور سلامتی ہے اُس کے لیے جو راہِ راست کی پیروی کرے۔

ہم کو وحی سے بتایا گیا ہے کہ عذاب ہے اُس کے لیے جو جُھٹلائے اور منہ موڑے۔“ 19

فرعون 20 نے کہا ”اچھا، تو پھر تم دونوں کا ربّ کو ن ہے اے موسیٰ؟“ 21

موسیٰؑ نے جواب دیا” ہمارا ربّ وہ 22 ہے جس نے ہر چیز کو اُس کی ساخت بخشی، پھر اس کو راستہ بتایا۔“ 23

فرعون بولا ”اور پہلے جو نسلیں گزر چکیں ہیں ان کی پھر کیا حالت تھی؟“ 24

موسیٰؑ نے کہا” اُس کا علم میرے ربّ کے پاس ایک نوشتے میں محفوظ ہے۔ میرا ربّ نہ چُوکتا ہے نہ بھُولتا ہے۔“ 25

۔۔۔۔ 26 وہی جس نے تمہارے لیے زمین کا فرش بچھایا، اور اُس میں تمہارے چلنے کو راستے بنائے، اور اوپر سے پانی برسایا، پھر اُس کے ذریعہ سے مختلف اقسام کی پیداوار نکالی۔

کھاوٴ اور اپنے جانوروں کو بھی چراوٴ۔ یقیناً اِس میں بہت سی نشانیاں ہیں عقل رکھنے والوں کے لیے۔ 27 ؏ ۲

55-76

اِس زمین سے ہم نے تم کو پیدا کیا ہے ، اِسی میں ہم تمہیں واپس لے جائیں گے اور اسی سے تم کو دوبارہ نکالیں گے۔ 28

ہم نے فرعون کو اپنی سب ہی نشانیاں 29 دکھائیں مگر وہ جھٹلائے چلا گیا اور نہ مانا۔

کہنے لگا ”اے موسیٰؑ ، کیا تُو ہمارے پاس اِس لیے آیا ہے کہ اپنے جادُو کے زور سے ہم کو ہمارے ملک سے نکال باہر کرے؟ 30

اچھا، ہم بھی تیرے مقابلے میں ویسا ہی جادُو لاتے ہیں ۔ طے کر لیے کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے۔ نہ ہم اِس قرارداد سے پھریں گے نہ تُو پِھریو۔ کُھلے میدان میں سامنے آجا۔“

موسیٰؑ نے کہا ”جشن کا دن طے ہوا، اور دن چڑھے لوگ جمع ہوں۔“ 31

فرعون نے پلٹ کر اپنے سارے ہتھکنڈے جمع کیے اور مقابلے میں آگیا۔ 32

موسیٰؑ نے (عین موقع پر گروہِ مقابل کو مخاطب کر کے )33 کہا” شامت کے مارو، نہ جھُوٹی تہمتیں باندھو اللہ پر، 34 ورنہ وہ ایک سخت عذاب سے تمہارا ستیاناس کر دے گا۔ جُھوٹ جس نے بھی گھڑا وہ نامراد ہوا۔“

یہ سُن کر اُن کے درمیان اختلافِ رائے ہوگیا اور وہ چُپکے چُپکے باہم مشورہ کرنے لگے۔ 35

آخر کار کچھ لوگوں نے کہا کہ 36 ”یہ دونوں تو محض جادُو گر ہیں۔ اِن کا مقصد یہ ہے کہ اپنے جادُو کے زور سے تم کو تمہاری زمین سے بے دخل کر دیں اور تمہارے مثالی طریقِ زندگی کا خاتمہ کر دیں۔ 37

اپنی ساری تدبیریں آج اکٹھی کر لو اور ایکا کر کے میدان میں آوٴ۔ 38 بس یہ سمجھ لو کہ آج جو غالب رہا وہی جیت گیا۔“

جادُو گر 39 بولے ”موسیٰؑ ، تم پھینکتے ہو یا پہلے ہم پھینکیں؟“

موسیٰؑ نے کہا” نہیں، تم ہی پھینکو۔“ یکایک اُن کی رسّیاں اور اُن کی لاٹھیاں اُن کے جادُو کے زور سے موسیٰؑ کو دوڑتی ہوئی محسوس ہونے لگیں، 40

اور موسیٰؑ اپنے دل میں ڈر گیا۔ 41

ہم نے کہا” مت ڈر، تُو ہی غالب رہے گا۔

پھینک جو کچھ تیرے ہاتھ میں ہے، ابھی اِن کی ساری بناوٹی چیزوں کو نِگلے جاتا ہے۔ 42 یہ جو کچھ بنا کر لائے ہیں یہ تو جادُو گر کا فریب ہے، اور جادُوگر کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا، خواہ کسی شان سے وہ آئے۔“

آخر کو یہی ہوا کہ سارے جادُو گر سجدے میں گِرا دیے گئے 43 اور پُکار اُٹھے” مان لیا ہم نے ہارونؑ اور موسیٰؑ کے ربّ کو۔“ 44

فرعون نے کہا” تم ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اس کی اجازت دیتا؟ معلوم ہوگیا کہ یہ تمہارا گُرو ہے جس نے تمہیں جادُوگری سکھائی تھی۔ 45 اچھا، اب میں تمہارے ہاتھ پاوٴں مخالف سمتوں سے کٹواتا ہوں 46 اور کھجور کے تنوں پر تم کو سُولی دیتا ہوں۔ 47 پھر تمہیں پتہ چل جائے گا کہ ہم دونوں میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیرپا ہے“ 48 (یعنی میں تمہیں زیادہ سخت سزا دے سکتا ہوں یا موسیٰؑ )۔

جادُوگروں نے جواب دیا”قسم ہے اُس ذات کی جس نے ہمیں پیدا کیا ہے ، یہ ہرگز نہیں ہو سکتا کہ ہم روشن نشانیاں سامنے آجانے کے بعد بھی (صداقت پر)تجھے ترجیح دیں۔ 49 تُو جو کچھ کرنا چاہے کرلے۔ تُو زیادہ سے زیادہ بس اِسی دنیا کی زندگی کا فیصلہ کر سکتا ہے۔

ہم تو اپنے ربّ پر ایمان لے آئے، تاکہ وہ ہماری خطائیں معاف کر دے اور اِس جادُوگری سے جس پر تُو نے ہمیں مجبور کیا تھا، درگزر فرمائے۔ اللہ ہی اچھا ہے اوروہی باقی رہنے والا ہے“

۔۔۔۔ حقیقت 50 یہ ہے کہ جو مجرم بن کر اپنے ربّ کے حضور حاضر ہوگا اُس کے لیے جہنّم ہے جس میں وہ نہ جیے گا نہ مرے گا۔ 51

اور جو اس کے حضور مومن کی حیثیت سے حاضر ہوگا، جس نے نیک عمل کیے ہوں گے، ایسے سب لوگوں کے لیے بلند درجے ہیں،

سدا بہار باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ جزا ہے اُس شخص کی جو پاکیزگی اختیار کرے۔ ؏ ۳

77-89

52 ہم نے موسیٰؑ پر وحی کی کہ اب راتوں رات میرے بندوں کو لے کر چل پڑ، اور اُن کے لیے سمندر میں سے سُوکھی سڑک بنالے 53 ، تجھے کسی کے تعاقب کا ذرا خوف نہ ہو اور نہ (سمندر کے بیچ سے گزرتے ہوئے)ڈر لگے۔

پیچھے سے فرعون اپنے لشکر لے کر پہنچا، اور پھر سمندر اُن پر چھا گیا جیسا کہ چھا جانے کا حق تھا۔ 54

فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ ہی کیا تھا، کوئی صحیح رہنمائی نہیں کی تھی۔ 55

56 اے بنی اسرائیل، ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی، اور طور کے دائیں جانب 57 تمہاری حاضری کے لیے وقت مقرر کیا 58 اور تم پر من و سلویٰ اُتارا 59

۔۔۔۔ کھاوٴ ہمارا دیا ہوا پاک رزق اور اسے کھا کر سرکشی نہ کرو، ورنہ تم پر میرا غضب ٹوٹ پڑے گا۔ اور جس پر میرا غضب ٹُوٹا وہ پھر گر کر ہی رہا۔

البتہ جو توبہ کر لےاور ایمان لائے اور نیک عمل کرے، پھر سیدھا چلتا رہے، اُس کے لیے میں بہت درگزر کرنے والا ہوں۔ 60

61 اور کیا چیز تمہیں اپنی قوم سے پہلے لے آئی موسیٰؑ ؟ 62

اُس نے عرض کیا ”وہ بس میرے پیچھے آہی رہے ہیں۔ میں جلدی کر کے تیرے حضور آگیا ہوں اے میرے ربّ، تاکہ تُو مجھ سے خوش ہو جائے۔“

فرمایا ”اچھا، تو سُنو، ہم نے تمہارے پیچھے تمہاری قوم کو آزمائش میں دال دیا اور سامری 63 نے اُنہیں گمراہ کر ڈالا۔“

موسیٰؑ سخت غصے اور رنج کی حالت میں اپنی قوم کی طرف پلٹا۔ جا کر اُس نے کہا ”اے میری قوم کے لوگو، کیا تمہارے ربّ نے تم سے اچھے وعدے نہیں کیے تھے؟ 64 کیا تمہیں دن لگ گئے ہیں؟ 65 یا تم اپنے ربّ کا غضب ہی اپنے اوپر لانا چاہتے تھے کہ تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی؟“ 66

انہوں نے جواب دیا ”ہم نے آپ سے وعدہ خلافی کچھ اپنے اختیار سے نہیں کی، معاملہ یہ ہوا کہ لوگوں کے زیورات کے بوجھ سے ہم لَد گئے تھے اور ہم نے بس اُن کو پھینک دیا تھا“ 67 ۔۔۔۔ 68 پھر اِسی طرح سامری نے بھی کچھ ڈالا

اور ان کے لیے ایک بچھڑے کی مُورت بنا کر لایا جس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ لوگ پکار اُٹھے”یہی ہے تمہارا خدا اور موسیٰؑ اِسے بھُول گیا۔“

کیا وہ دیکھتے نہ تھے کہ نہ وہ اُن کی بات کا جواب دیتا ہے اور نہ ان کے نفع و نقصان کا کچھ اختیار رکھتا ہے؟ ؏ ۴

90-104

ہارونؑ (موسیٰؑ کے آنے سے)پہلے ہی ان سے کہہ چکا تھا کہ ”لوگو، تم اِس کی وجہ سے فتنے میں پڑ گئے ہو، تمہارا ربّ تو رحمٰن ہے، پس تم میرے پیروی کرو اور میری بات مانو۔“

مگر اُنہوں نے اُس سے کہہ دیا کہ ”ہم تو اسی کی پرستش کرتے رہیں گے جب تک کہ موسیٰؑ واپس نہ آجائے۔“ 69

موسیٰؑ (قوم کو ڈانٹنے کے بعد ہارونؑ کی طرف پلٹا اور )بولا” ہارونؑ ، تم نے جب دیکھا تھا کہ یہ گمراہ ہو رہے ہیں تو کس چیز نے تمہارا ہاتھ پکڑا تھا

کہ میرے طریقے پر عمل نہ کرو؟ کیا تم نے میرے حکم کی خلاف ورزی کی؟“ 70

ہارونؑ نے جواب دیا ”اے میری ماں کے بیٹے، میری ڈاڑھی نہ پکڑ، نہ میرے سر کے بال کھینچ، 71 مجھے اِس بات کا ڈر تھا کہ تُو آکر کہے گا تم نے بنی اسرائیل میں پھُوٹ ڈال دی اور میری بات کا پاس نہ کیا۔“ 72

موسیٰؑ نے کہا” اور سامری، تیرا کیا معاملہ ہے؟“

اس نے جواب دیا ”میں نے وہ چیز دیکھی جو اِن لوگوں کو نظر نہ آئی، پس میں نے رسُول کے نقشِ قدم سے ایک مٹھی اُٹھا لی اور اُس کو ڈال دیا۔ میرے نفس نے مجھے کچھ ایسا ہی سُجھایا۔“ 73

موسیٰؑ نے کہا ”اچھا تو جا، اب زندگی بھر تجھے یہی پُکارتے رہنا ہے کہ مجھے نہ چھُونا۔ 74 اور تیرے لیے باز پُرس کا ایک وقت مقرر ہے جو تجھ سے ہر گز نہ ٹلے گا۔ اور دیکھ اپنے اِس خدا کو جس پر تُو ریجھا ہوا تھا، اب ہم اسے جلا ڈالیں گے اور ریزہ ریزہ کر کے دریا میں بہا دیں گے۔

لوگو، تمہارا خدا تو بس ایک ہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی اور خدا نہیں ہے، ہر چیز پر اُس کا علم حاوی ہے۔“

اے محمدؐ، 75 اس طرح ہم پچھلے گزرے ہوئے حالات کی خبریں تم کو سُناتے ہیں، اور ہم نے خاص اپنے ہاں سے تم کو ایک”ذِکر“ (درسِ نصیحت)عطا کیا ہے۔ 76

جو کوئی اِس سے منہ موڑے گا وہ قیامت کے روز سخت بارِ گناہ اُٹھائے گا،

اور ایسے سب لوگ ہمیشہ اس کے وبال میں گرفتار رہیں گے، اور قیامت کے دن اُن کےلیے (اِس جرم کی ذمّہ داری کا بوجھ)بڑا تکلیف دہ بوجھ ہوگا، 77

اُس دن جبکہ صُور پھُونکا جائے گا 78 اور ہم مجرموں کو اِس حال میں گھیر لائیں گے کہ ان کی آنکھیں (دہشت کے مارے)پتھرائی ہوئی ہوں گی، 79

آپس میں چُپکے چُپکے کہیں گے کہ دُنیا میں مشکل ہی سے تم نے کوئی دس دن گزارے ہوں گے 80

۔۔۔۔ 81 ہمیں خوب معلوم ہے کہ وہ باتیں کر رہے ہوں گے (ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ)اُس وقت ان میں سے جو زیادہ سے زیادہ محتاط اندازہ لگانے والا ہوگا وہ کہے گا کہ نہیں، تمہاری دنیا کی زندگی بس ایک دن کی زندگی تھی ۔ ؏ ۵

105-115

82 یہ لوگ تم سے پُوچھتے ہیں کہ آخر اُس دن یہ پہاڑ کہاں چلے جائیں گے؟ کہو کہ میرا ربّ ان کو دُھول بنا کر اُڑا دے گا

اور زمین کو ایسا ہموار چٹیل میدان بنا دے گا

کہ اس میں تم کوئی بَل اور سَلوَٹ نہ دیکھو گے 83

۔۔۔۔ اُس روز سب لوگ منادی کی پکار پر سیدھے چلے آئیں گے، کوئی ذرا اکڑ نہ دکھا سکے گا۔ اور آوازیں رحمٰن کے آگے دب جائیں گی، ایک سرسراہٹ 84 کے سوا تم کچھ نہ سُنو گے۔

اُس روز شفاعت کار گر نہ ہوگی اِلّا یہ کہ کسی کو رحمٰن اس کی اجازت دے اور اس کی بات سُننا پسند کرے 85

۔۔۔۔ وہ لوگوں کا اگلا پچھلا سب حال جانتا ہے اور دُوسروں کو اس کا پورا علم نہیں ہے 86

۔۔۔۔ لوگوں کے سر اُس حیّ و قیّوم کے آگے جُھک جائیں گے۔ نامراد ہوگا جو اُس وقت کسی ظلم کا بارِ گناہ اُٹھائے ہوئے ہو۔

اور کسی ظلم یا حق تلفی کا خطرہ نہ ہوگا اُس شخص کو جو نیک عمل کرے اور اِس کے ساتھ وہ مومن بھی ہو۔ 87

اور اے محمدؐ ، اِسی طرح ہم نے اِسے قرآنِ عربی بنا کر نازل کیا ہے 88 اور اس میں طرح طرح سے تنبیہات کی ہیں شاید کہ یہ لوگ کج روی سے بچیں یا ان میں کچھ ہو کے آثار اِس کی بدولت پیدا ہوں۔ 89

پس بالا و برتر ہے اللہ ، پادشاہِ حقیقی۔ 90 اور دیکھو، قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کیا کرو جب تک کہ تمہاری طرف اُس کی وحی تکمیل کو نہ پہنچ جائے، اور دُعا کرو کہ اے پروردگار مجھے مزید علم عطا کر۔ 91

92 ہم نے اِس سے پہلے آدمؑ کو ایک حکم دیا تھا، 93 مگر وہ بھُول گیا اور ہم نے اُس میں عزم نہ پایا۔ 94 ؏ ٦

116-128

یاد کرو وہ وقت جبکہ ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدم کو سجدہ کرو۔ وہ سب تو سجدہ کر گئے، مگر ایک ابلیس تھا کہ انکار کر بیٹھا۔

اس پر ہم نے آدمؑ 95 سے کہا کہ ”دیکھو، یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن ہے 96 ، ایسا نہ ہو کہ یہ تمہیں جنّت سے نکلوا دے 97 اور تم مصیبت میں پڑ جاوٴ۔

یہاں تو تمہیں یہ آسائشیں حاصل ہیں کہ نہ بھُوکے ننگے رہتے ہو،

نہ پیاس اور دُھوپ تمہیں ستاتی ہے۔“ 98

لیکن شیطان نے اس کو پھُسلایا ۔ 99 کہنے لگا ”آدم، بتاوٴں تمہیں وہ درخت جس سے ابدی زندگی اور لازوال سلطنت حاصل ہوتی ہے؟“ 100

آخر کار دونوں(میاں بیوی)اُس درخت کا پھل کھا گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ فوراً ہی اُن کے ستر ایک دوسرے کے آگے کھُل گئے اور لگے دونوں اپنے آپ کو جنّت کے پتّوں سے ڈھانکنے۔ 101 آدمؑ نے اپنے ربّ کی نافرمانی کی اور راہِ راست سے بھٹک گیا۔ 102

پھر اُس کے ربّ نے اُسے برگزیدہ کیا 103 اور اس کی توبہ قبول کر لی اور اسے ہدایت بخشی۔ 104

اور فرمایا ”تم دونوں (فریق ، یعنی انسان اور شیطان)یہاں سے اُتر جاوٴ۔ تم ایک دُوسرے کے دُشمن رہو گے۔ اب اگر میری طرف سے تمہیں کوئی ہدایت پہنچے تو جو کوئی میری اُس ہدایت کی پیروی کرے گا وہ نہ بھٹکے گا نہ بد بختی میں مُبتلا ہوگا۔

اور جو میرے ”ذکر“(درسِ نصیحت)سے منہ موڑے گا اُس کے لیے دُنیا میں تنگ زندگی ہوگی 105 اور قیامت کے روز ہم اسے اندھا اُٹھائیں گے۔“ 106

۔۔۔۔ وہ کہے گا” پروردگار، دُنیا میں تو میں آنکھوں والا تھا، یہاں مجھے اندھا کیوں اُٹھایا؟“

اللہ تعالیٰ فرمائے گا ”ہاں، اِسی طرح تو ہماری آیات کو ، جبکہ وہ تیرے پاس آئی تھیں ، تُو نے بُھلا دیا تھا۔ اُسی طرح آج تُو بھلایا جا رہا ہے۔ “ 107 ۔۔۔۔

اِس طرح ہم حد سے گزرنے والے اور اپنے ربّ کی آیات نہ ماننے والے کو (دُنیا میں)بدلہ دیتے ہیں ، 108 اور آخرت کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ دیرپا ہے۔

پھر کیا اِن لوگوں کو 109 (تاریخ کے اِس سبق سے)کوئی ہدایت نہ ملی کہ اِن سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں جن کی ( بربادشدہ)بستیوں میں آج یہ چلتے پھرتے ہیں؟ درحقیقت اِس میں 110 بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کےلیےجو عقلِ سلیم رکھنے والے ہیں۔ ؏۷

129-135

اگر تیرے ربّ کی طرف سے پہلے ایک بات طے نہ کر دی گئی ہوتی اور مہلت کی ایک مدّت مقرر نہ کی جا چکی ہوتی تو ضرور اِن کا بھی فیصلہ چکا دیا جاتا۔

پس اے محمدؐ ، جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں اُن پر صبر کرو، اور اپنےربّ کی حمد و ثنا کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو سُورج نکلنے سے پہلے اور غرُوب ہونے سے پہلے، اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح کرو اور دن کے کناروں پر بھی، 111 شاید کہ تم راضی ہو جاوٴ۔ 112

اور نگاہ اُٹھا کر بھی نہ دیکھو دُنیوی زندگی کی اُس شان و شوکت کو جو ہم نے اِن میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے۔ وہ تو ہم نے اُنہیں آزمائش میں ڈالنے کے لیے دی ہے، اور تیرے ربّ کا دیا ہوا رزقِ حلال 113 ہی بہتر اور پائندہ تر ہے۔

اپنے اہل و عیال کو نماز کی تلقین کرو 114 اور خود بھی اُس کے پابند رہو۔ ہم تم سے کوئی رزق نہیں چاہتے، رزق تو ہم ہی تمہیں دے رہے ہیں۔ اور انجام کی بھلائی تقویٰ ہی کے لیے ہے۔ 115

وہ کہتے ہیں کہ یہ شخص اپنے ربّ کی طرف سے کوئی نشانی (معجزہ)کیوں نہیں لاتا؟ اور کیا ان کے پاس اگلے صحیفوں کی تمام تعلیمات کا بیانِ واضح نہیں آگیا؟116

اگر ہم اس کے آنے سے پہلے ان کو کسی عذاب سے ہلاک کر دیتے تو پھر یہی لوگ کہتے کہ اے ہمارے پروردگار، تُو نے ہمارے پاس کوئی رسُول کیوں نہ بھیجا کہ ذلیل و رُسوا ہونے سے پہلے ہی ہم تیری آیات کی پیروی اختیار کر لیتے۔

اے محمدؐ ، اِن سے کہو، ہر ایک انجامِ کار کے انتظار میں ہے، 117 پس اب منتظر رہو، عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کون سیدھی راہ چلنے والے ہیں اور کون ہدایت یافتہ ہیں۔ ؏ ۸