الف،لام،میم1 ۔
یہ اللہ کی کتاب ہے ،اس میں کوئی شک نہیں2 ہے۔ہدایت ہے اُن پرہیزگاروں کے3 لئے
جو غیب پر ایمان لاتے4 ہیں،نماز قائم کرتے ہیں5،جو رزق ہم نے اُن کو دیا ہے ،اس میں سے خرچ کرتے ہیں6،
جو کتاب تم پر نازل کی گئی ہے (یعنی قرآن) اور جو کتابیں تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں ان سب پر ایمان لاتےہیں7، اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں8،
ایسے لوگ اپنے رب کی طرف سے راہ راست پر ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں۔
جن لوگوں نے (ان باتوں کو تسلیم کرنے سے) انکار کر دیا،9اُن کے لئے یکساں ہے،خواہ تم انہیں خبردار کرویا نہ کرو،بہر حال وہ ماننے والےنہیں۔
اللہ نے اُن کے دلوں اور ان کے کانوں پر مُہرلگادی ہے10 اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑگیاہے۔وہ سخت سزا کے مستحق ہیں ۔ ؏۱
8-20بعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ہیں،حالانکہ درحقیقت وہ مومن نہیں ہیں ۔
وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کررہے ہیں،مگر دراصل وہ خود اپنے آپ ہی کو دھوکے میں ڈال رہے ہیں اور انہیں اس کا شعُورنہیں ہے11۔
ان کے دلوں میں ایک بیماری ہےجسے اللہ نے اور زیادہ بڑھا12دیا،اور جو جھوٹ وہ بولتے ہیں،اس کی پاداش میں ان کے لئے درد ناک سزا ہے۔
جب کبھی ان سے کہا گیا کہ زمین میں فساد برپا نہ کرو، تو اُنہوں نے یہی کہا کہ ہم تو اصلاح کرنے والے ہیں۔
خبردار!حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر انہیں شعُور نہیں ہے۔
اور جب ان سے کہا گیا کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں اُسی طرح تم بھی ایمان 13لاوٴ تو انہوں نے یہی جواب دیا کیا ہم بیوقوفوں کی طرح ایمان 14لائیں؟ خبردار ! حقیقت میں تو یہ خود بیوقوف ہیں،مگر یہ جانتے نہیں ہیں۔
جب یہ اہلِ ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں، اور جب علیٰحدگی میں اپنے شیطانوں15 سے ملتے ہیں،تو کہتے ہیں کہ اصل میں تو ہم تمھارے ساتھ ہیں اور اُن لوگوں سے محض مذاق کررہے ہیں۔
اللہ ان سے مذاق کررہا ہے ،وہ ان کی رسّی دراز کیے جاتا ہے، اور یہ اپنی سرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جاتے ہیں۔
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بد لے گمراہی خریدلی ہے، مگر یہ سودا ان کے لئے نفع بخش نہیں ہے اور یہ ہر گز صحیح راستے پر نہیں ہیں۔
ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ روشن کی اور جب اُس نے سارے ماحول کو روشن کردیا تو اللہ نے ان کا نورِبصارت سلب کرلیااور انہیں اس حال میں چھوڑ دیا کہ تاریکیوں میں انہیں کچھ نظر نہیں آتا۔ 16
یہ بہرے ہیں،گونگے ہیں،اندھے17 ہیں، یہ اب نہ پلٹیں گے۔
یا پھر ان کی مثال یوںسمجھو کہ آسمان سے زور کی بارش ہورہی ہے اور اس کے ساتھ اندھیری گھٹا اور کڑک اور چمک بھی ہے، یہ بجلی کے کڑاکے سُن کر اپنی جانوں کے خوف سے کانوں میں اُنگلیاں ٹھونسے لیتے ہیں اور اللہ ان منکرین حق کو ہر طرف سے گھیرے میں لیے ہوئے ہے۔18
چمک سے ان کی حالت یہ ہو رہی ہے کہ گویا عنقریب بجلی اِن کی بصارت اُچک لے جائے گی۔جب ذرا کچھ روشنی انہیں محسُوس ہوتی ہے تو اس میں کچھ دُور چل لیتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے تو کھڑے ہو جاتے ہیں۔19 اللہ چاہتا تو ان کی سماعت اور بصارت بالکل ہی سَلب کر لیتا، 20یقینًا وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ ؏۲
21-29لوگو،21 بندگی اختیار کرو اپنے اُس ربّ کی جو تمھارا اور تم سے پہلے جو لوگ ہو گزرے ہیں اُن سب کا خالِق ہے، تمھارے بچنے کی توقع اِسی22 صورت سے ہو سکتی ہے۔
وُہی تو ہے جس نے تمھارے لیے زمین کا فرش بچھایا، آسمان کی چھت بنائی ،اُوپر سے پانی برسایا اور اس کے ذریعے سے ہر طرح کی پیداوار نکال کر تمھارے لیے رزق بہم پہنچایا۔ پس جب تم یہ جانتے ہو تو دُوسروں کو اللہ کا مدِّمقابِل نہ ٹھراوٴ۔23
اور اگر تمھیں اس امرمیں شک ہےکہ یہ کتاب جو ہم نے اپنے بندے پر اتاری ہے ،یہ ہماری ہے یا نہیں،تو اس کے مانند ایک ہی سورت بنا لاوٴ،اپنے سارے ہم نواوٴں کو بُلالو، ایک اللہ کو چھوڑ کر باقی جس جس کی چاہو، مدد لےلو،اگر تم سچے ہو تو یہ کام کرکے دکھاوٴ۔24
لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا ،اور یقینًا کبھی نہیں کر سکتے ،تو ڈرو اس آگ سے جس کا ایندھن بنیں گے انسان اور پتھر25 ،جومہیّاکی گئی ہےمنکرینِ حق کے لیے۔
اور اے پیغمبر،جو لوگ اس کتاب پر ایمان لے آئیں اور (اس کے مطابق) اپنے عمل درست کر لیں،انہیں خوشخبری دے دو کہ اُن کے لیے ایسے باغ ہیں،جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ان باغوں کے پھل صورت میں دُنیا کے پھلوں سے مِلتے جُلتے ہونگے۔ جب کوئی پھل انہیں کھانے کو دیا جائےگا، تو وہ کہیں گے کہ ایسے ہی پھل اس سے پہلے دُنیا میں ہم کو دیے جاتے تھے۔26 ان کے لیے وہاں پاکیزہ بیویاں ہونگی۔27 اور وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے۔
ہاں ، اللہ اس سے ہر گز نہیں شرماتا کہ مچھّر یا اس سے بھی حقیر تر کسی چیز کی تمثیلیں دے۔28جو لوگ حق بات کو قبو ل کرنے والے ہیں،وہ انہی تمثیلوں کو دیکھ کرجان لیتے ہیں کہ یہ حق ہے جو ان کے ربّ ہی کی طرف سے آیا ہے ،اور جو ماننے والے نہیں ہے ، وہ انہیں سُن کر کہنے لگتے ہیں کہ ایسی تمثیلوں سے اللہ کو کیا سروکار؟اس طرح اللہ ایک ہی بات سے بہتوں کو گمراہی میں مبتلا کر دیتا ہے اور بہتوں کو راہِ راست دکھا دیتا ہے۔29 اور گمراہی میں وہ انہی کو مبتلا کر تا ہے، جو فاسق ہیں30،
اللہ کے عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑ دیتے ہیں،31اللہ نے جسے جوڑنے کا حکم دیا ہےاُسے کاٹتے ہیں،32اور زمین میں فساد بر پا کرتے ہیں ۔33حقیقت میں یہی لوگ نقصان اُٹھانے والے ہیں۔
تم اللہ کے ساتھ کفر کا رویّہ کیسے اختیار کرتے ہو،حالانکہ تم بے جان تھے ،اُس نے تم کو زندگی عطا کی،پھر وہی تمھاری جان سَلب کرےگا ،پھر وہی تمہیں دوبارہ زندگی عطا کرےگا،پھر اسی کی طرف تمہیں پلٹ کر جاناہے۔
وہی تو ہے جس نے تمھارے لیے زمین کی ساری چیزیں پیدا کیں،پھر اُوپر کی طرف توجّہ فرمائی اور سات آسمان34 استوار کیے ۔اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔ 35 ؏۳
30-3936پھر ذرا اس وقت کا تصوّر کرو جب تمہارے ربّ نے فرشتوں37 سے کہا تھاکہ”میں زمین میں ایک خلیفہ38 بنانے والا ہوں“ انہوں نے عرض کیا ” کیا آپ زمین میں کسی ایسے کو مقرر کرنے والے ہیں، جو اس کے انتظام کو بگاڑ دے گا اور خونریزیاں کرےگا؟ 39آپ کی حمد و ثناء کے ساتھ تسبیح اور آپ کےلیے تقدیس تو ہم کر ہی رہے ہیں40“ فرمایا ” میں جانتا ہوں،جو کچھ تم نہیں جانتے41“
اس کے بعد اللہ نے آدم کو ساری چیزوں کے نام سکھائے42 ، پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا ” اگر تمہارا خیال صحیح ہے (کہ کسی خلیفہ کے تقرر سےانتظام بگڑ جائے گا)تو ذرا ان چیزوں کے نام بتاوٴ۔“
انہوں نے عرض کیا ”نقص سے پاک تو آپ ہی کی ذات ہے ،ہم تو بس اتنا ہی علم رکھتے ہیں ، جتنا آپ نے ہم کو دے دیا ہے ۔43 حقیقت میں سب کچھ جاننے والا اور سمجھنے والا آپ کے سوا کوئی نہیں۔“
پھر اللہ نے آدم سے کہا ”تم اِنہیں اِن چیزوں کے نام بتاوٴ۔“ جب اُس نے ان کو اُن سب کے نام بتادیے 44،تو اللہ نے فرمایا ”میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی وہ ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں،جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو ، وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو کچھ تم چھُپاتے ہو، اُسے بھی میں جانتا ہوں۔“
پھر جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدم کے آگے جُھک جاوٴ، تو سب45 جُھک گئے، مگر ابلیس46 نے انکار کیا وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں پڑگیا اور نافرمانوں میں شامل ہوگیا۔47
پھر ہم نے آدم سے کہا کہ”تم اور تمہاری بیوی، دونوں جنت میں رہو اور یہاں بفراغت جو چاہو کھاوٴ، مگر اس درخت کا رُخ نہ کرنا48 ،ورنہ ظالموں49 میں شمارہوگے۔“
آخر کار شیطان نے ان دونوں کو اس درخت کی تر غیب دیکر ہمارے حکم کی پیروی سے ہٹایا اور انہیں اس حالت سے نکلواکر چھوڑا، جس میں وہ تھے ۔ہم نے حکم دیا کہ ”اب تم سب یہاں سے اُتر جاوٴ،تم ایک دوسرے کے دُشمن50 ہو اور تمہیں ایک خاص وقت تک زمین میں ٹھیرنا اور وہیں گزر بسر کرنا ہے ۔“
اس وقت آدم نے اپنے ربّ سے چند کلمات سیکھ کر توبہ کی51 ،جس کو اس کے ربّ نے قبول کرلیا ،کیونکہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔52
ہم نے کہا کہ”تم سب یہاں سے اُتر جاوٴ۔53 پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے ، تو جو لوگ میری اس ہدایت کی پیر وی کریں گے ،ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہ ہوگا ،
اور جو اس کو قبو ل کرنے سے انکار کریں گے اور ہماری آیات کو جھٹلائیں گے54، وہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں،جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔“55 ؏۴
40-46اے بنی اسرائیل56! ذرا خیال کرو اس نعمت کا جو میں نے تم کو عطا کی تھی ، میرے ساتھ تمہارا جو عہد تھا اُسے تم پورا کرو، تو میرا جو عہد تمہارے ساتھ تھا اُسے میں پورا کروں اور مجھ ہی سے تم ڈرو۔
اور میں نے جو کتاب بھیجی ہے اس پر ایمان لاوٴ۔یہ اس کتاب کی تائید میں ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود تھی، لہٰذا سب سے پہلے تم ہی اس کے منکر نہ بن جاوٴ۔تھوڑی قیمت پر میری آیات کو نہ بیچ ڈالو57 اور میرے غضب سے بچو۔
باطل کا رنگ چڑھاکر حق کو مشتبہ نہ بناوٴاور نہ جانتے بوجھتےحق کو چھپانے کی کوشش کرو۔58
نماز قائم کرو ، زکوٰة دو59، اور جو لوگ میرے آگے جُھک رہے ہیں اُن کے ساتھ تم بھی جُھک جاوٴ۔
تم دُوسروں کو تو نیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لیے کہتے ہو، مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟ حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو ۔کیا تم عقل سے بالکل ہی کام نہیں لیتے ؟
صبر اور نماز سے60 مدد لو، بیشک نماز ایک سخت مشکل کام ہے ،مگر ان فرمانبردار بندوں کے لیے مشکل نہیں ہے
جو سمجھتے ہیں کہ آخر کار انہیں اپنے ربّ سے ملنا اور اسی کی طرف پلٹ کرجانا ہے۔61 ؏۵
47-59اے بنی اسرائیل ! یاد کرو میری اُس نعمت کو ، جس سے میں نے تمہیں نوازا تھا اور اس بات کو کہ میں نے تمہیں دنیا کی ساری قوموں پر فضیلت عطا کی تھی62 ۔
اور ڈرو اس دن سے جب کوئی کسی کے ذرا کام نہ آئے گا ، نہ کسی کی طرف سے سفارش قبول ہوگی ، نہ کسی کو فدیہ لے کر چھوڑا جائے گا، اور نہ مجرموں کو کہیں سے مدد مِل سکے گی۔63
64یاد کرو وہ وقت، جب ہم نے تم کو فرعونیوں65 کی غلامی سے نجات بخشی ۔اُنہوں نے تمہیں سخت عذاب میں مبتلا کر رکھا تھا،تمہارے لڑکوں کو ذبح کرتے تھے تمہاری لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس حالت میں تمہارے ربّ کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی66 ۔
یاد کرو وہ وقت ، جب ہم نے سمندر پھاڑ کر تمہارے لیے راستہ بنایا ،پھر اُس میں سے تمہیں بخیریت گزروادیا ، پھر وہیں تمہاری آنکھوں کے سامنے فرعونیوں کو غرقاب کیا۔
یاد کرو ، جب ہم نے موسیٰ ؑ کو چالیس شبانہ روز کی قرارداد پر بُلایا، 67تو اس کے پیچھے تم بچھڑے کو اپنا معبُود بنا بیٹھے ۔68اُس وقت تم نے بڑی زیادتی کی تھی ،
مگر اس پر بھی ہم نے تمہیں معاف کردیا کہ شاید اب تم شکر گزار بنو۔
یاد کرو (ٹھیک اُس وقت جب تم یہ ظلم کررہے تھے)ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب اور فرقان69 عطا کی تاکہ تم اس کے ذریعے سے سیدھا راستہ پاسکو۔
یاد کرو جب موسیٰ ؑ (یہ نعمت لیے ہوئے پلٹا، تو اُس )نے اپنی قوم سے کہا کہ ”لوگو، تم نے بچھڑے کو معبُود بناکر اپنے اُوپر سخت ظلم کیا ہے ،لہٰذا تم لوگ اپنے خالق کے حضو ر توبہ کرو اور اپنی جانوں کو ہلاک کرو70 ، اسی میں تمہارے خالِق کے نزدیک تمہاری بہتری ہے۔“ اُس وقت تمہارے خالِق نے تمہاری توبہ قبول کر لی کہ وہ بڑا معاف کرنے والا ہے اور رحم فرمانے والا ہے۔
یاد کرو جب تم نے موسیٰ ؑ سے کہا تھا کہ ہم تمہارے کہنے کا ہرگز یقین نہ کریں گے ،جب تک کہ اپنی آنکھوں سے علاینہ خدا کو (تم سے کلام کرتے )نہ دیکھ لیں۔اس وقت تمہارے دیکھتے دیکھتے ایک زبردست صاعقے نے تم کو آلیا۔
تم بے جان ہوکر گر چکے تھے ،مگر پھر ہم نے تم کو جِلا اُٹھایا ، شاید کہ اس احسان کے بعد تم شکر گزار بن جاوٴ71۔
ہم نے تم پر ابر کا سایہ کیا72 ، من وسلویٰ کی غذا تمہارے لیے فراہم کی73 اور تم سے کہا کہ جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں بخشی ہیں، اُنھیں کھاوٴ، مگر تمہارے اسلاف نے جو کچھ کیا ،وہ ہم پر ظلم نہ تھا، بلکہ انہوں نے آپ اپنے ہی اُوپر ظلم کیا۔
پھر یاد کرو جب ہم نے کہا تھا کہ ”یہ بستی 74جو تمہارے سامنے ہےاس میں داخل ہو جاوٴاس کی پیداوار جس طرح چاہومزے سے کھاوٴمگر بستی کے دروازے میں سجدہ ریز ہوتے ہوےٴداخل ہونااور کہتے جانا حِطَّةٌ ، حِطَّةٌ،75 ہم تمہاری خطاوٴں سے درگزر کریں گے اور نیکو کاروں کو مزید فضل و کرم سے نوازیں گے۔“
مگر جو بات کہی گئی تھی ، ظالموں نے اُسے بدل کرکچھ اور کر دیا۔آخر کار ہم نے ظلم کرنے والوں پرآسمان سے عذاب نازل کیا ۔یہ سزا تھی اُن نافرمانیوں کی،جو وہ کر رہے تھے۔ ؏۶
60-61یاد کرو ، جب موسیٰ نے اپنی قوم کے لیے پانی کی دعا کی تو ہم نے کہاکہ فلاں چٹان پر اپنا عصا مارو۔چنانچہ اُس سے بارہ چشمے پھوٹ76 نکلےاور ہر قبیلے نے جان لیاکہ کون سی جگہ اُس کے پانی لینے کی ہے۔اُس وقت یہ ہدایت کر دی گئی تھی کہ اللہ کا دیا ہُوا رزق کھاوٴ پیو،اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو ۔
یاد کرو ، جب تم نے کہا تھا کہ”اے موسیٰ، ہم ایک ہی طرح کے کھانے پر صبر نہیں کر سکتے۔ اپنے ربّ سے دُعا کرو کہ ہمارے لیے زمین کی پیداوار ساگ،ترکاری،گیہوں،لہسن،پیاز،دال وغیرہ پیدا کریں۔“ تو موسیٰ نے کہا”کیا ایک بہتر چیز کے بجائےتم ادنیٰ درجے کی چیزیں لینا چاہتے ہو؟اچھا77 ،کسی شہری آبادی میں جا رہو جو کچھ تم مانگتے ہووہاں مل جائے گا۔ “ آخر کار نوبت یہاں تک پہنچی کہ ذلّت و خواری اور پستی و بدحالی اُن پر مسلط ہو گئی اور وہ اللہ کے غضب میں گھِر گئے۔ یہ نتیجہ تھا اس کا کہ وہ اللہ کی آیات 78سےکفر کرنے لگے اور پیغمبروں کو ناحق قتل کرنے لگے۔79 یہ نتیجہ تھا اُن کی نافرمانیوں کا اور اس بات کا کہ وہ حدودِ شرع سےنکل نکل جاتے تھے۔ ؏۷
62-71یقین جانو کہ نبی عربی کو ماننے والے ہوں یا یہودی، عیسائی ہوں یا صابی،جو بھی اللہ اور روزِ آخر پر ایمان لائے گااور نیک عمل کرے گا، اُس کا اجر اُس کے ربّ کے پاس ہے اور اُس کے لئے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے۔80
یاد کرو وہ وقت، جب ہم نے طور کو تم پر اُٹھاکرتم سے پُختہ عہد لیاتھا اور کہا81 تھاکہ ”جو کتاب ہم تمہیں دے رہے ہیں اُسے مضبوطی کے ساتھ تھامنااور جو احکام و ہدایات اس میں درج ہیں اُنہیں یاد رکھنا ۔ اسی ذریعے سےتوقع کی جاسکتی ہےکہ تم تقوٰی کی روش پر چل سکو گے“۔
مگر اُس کے بعد تم اپنے عہد سے پھر گئے۔اُس پر بھی اللہ کے فضل اور اُس کی رحمت نے تمہارا ساتھ نہ چھوڑا، ورنہ تم کبھی کے تباہ ہو چکے ہوتے۔
پھر تمہیں اپنی قوم کے اُن لوگوں کا قصّہ تو معلوم ہی ہےجنہوں نےسَبت82 کا قانون توڑا تھا۔ہم نے اُنہیں کہ دیا کہ بندر بن جاوٴ اور اس حالت میں رہو کہ ہر طرف سے تم پر دھتکار پھٹکار پڑے۔ 83
اس طرح ہم نے اُن کے انجام کو اُس زمانے کے لوگوں اور بعد کی آنے والی نسلوں کے لئے عبرت اور ڈرنے والوں کے لئے نصیحت بنا کر چھوڑا۔
پھر وہ واقعہ یاد کرو جب موسیٰؑ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے۔کہنے لگے کیا تم ہم سے مزاق کرتے ہو ؟ موسیٰؑ نے کہا : میں اس سے خدا کی پناہ مانگتا ہوں کہ جاہلوں کی سی باتیں کرو ۔
بولے اچھا ،اپنے ربّ سے درخواست کرو کہ وہ ہمیں اس گائے کی کچھ تفصیل بتائے۔ موسیٰؑ نے کہا اللہ کا ارشاد ہے کہ وہ ایسی گائے ہونی چاہئے جو نہ بوڑھی ہو نہ بچھیا، بلکہ اوسط عمر کی ہو۔ لہٰذاجو حکم دیا جاتا ہےاُس کی تعمیل کرو۔
پھر کہنے لگے اپنے ربّ سے یہ اور پوچھ دو کہ اُس کا رنگ کیسا ہو۔ موسیٰؑ نے کہا وہ فرماتا ہے زرد رنگ کی گائے ہونی چاہئے، جس کا رنگ ایسا شوخ ہو کہ دیکھنے والوں کا جی خوش ہو جائے۔
پھر بولے اپنے ربّ سے صاف صاف پوچھ کر بتاوٴ کیسی گائے مطلوب ہے، ہمیں اُس کی تعیین میں اشتباہ ہو گیا ۔ اللہ نے چاہا تو ہم اس کا پتہ پالینگے۔
موسیٰؑ نے جواب دیا: اللہ کہتا ہے کہ وہ ایسی گائے ہےجس سے خدمت نہیں لی جاتی ، نہ زمین جوتتی ہے نہ پانی کھینچتی ہے، صحیح سالم اور بے داغ ہو ۔اس پر وہ پکار اُٹھے کہ ہاں، اب تم نے ٹھیک پتہ بتایا ہے۔ پھر اُنہوں نے اُسے ذبح کیا ، ورنہ وہ ایسا کرتے معلوم نہ ہوتے تھے۔84 ؏۸
72-82اور تمھیں یاد ہےوہ واقعہ جب تم نےایک شخص کی جان لی تھی، پھر اُس کے بارے میں جھگڑنے اور ایک دوسرے پر قتل کا الزام تھوپنے لگے تھےاور اللہ نے فیصلہ کر لیا تھا کی جو کچھ تم چھُپاتے ہو ، اسے کھول کر رکھ دیگا۔
اُس وقت ہم نے حکم دیا کہ مقتو ل کی لاش کو اس کے ایک حصّے سے ضرب لگاوٴ۔ دیکھو، اسطرح اللہ مُردوں کو زندگی بخشتا ہے اور تمھیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تا کہ تم سمجھو85۔
مگر ایسی نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی آخر کار تمھارے دل سخت ہو گئے، پتھروں کی طرح سخت ، بلکہ سختی میں کچھ ان سے بھی بڑھے ہوئے، کیونکہ پتھروں میں سےتو کوئی ایسا بھی ہوتا ہےجس میں سے چشمےپھوٹ بہتے ہیں ، کوئی پھٹتا ہے اور اس میں سے پانی نِکل آتا ہے، اور کوئی خدا کے خوف سے لرز کر گر بھی پڑتا ہے۔ اللہ تمھارے کرتُوتوں سے بے خبر نہیں ہے۔
اے مسلمانو!اب کیا ان لوگوں سے تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ تمھاری دعوت پر ایمان لے آئیں گے86 ؟حالانکہ ان میں سے ایک گروہ کا شیوہ یہ رہا ہےکہ اللہ کا کلام سنا اور پھر خُوب سمجھ بُوجھ کر دانستہ اس میں تحریف کی۔87
(محمد رسول اللہ پر ) ایمان لانے والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی انھیں مانتے ہیں ،اور جب آپس میں ایک دوسرے سے تخلیے کی بات چیت ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ بے وقُوف ہو گئے ہو ؟ان لوگوں کو وہ باتیں بتاتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں تاکہ تمھارے رب کے پاس تمھارے مقابلے میں انھیں حُجّت میں پیش کریں؟88
اور کیا یہ جانتے نہیں ہیں کہ جو کچھ یہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں ، اللہ کو سب باتوں کی خبر ہے ؟۔
ان میں ایک دوسرا گروہ امیّوں کا ہے، جو کتاب کا علم رکھتے نہیں ، بس اپنی بے بنیاد امیدوں اور آرزووٴں کو لیے بیٹھے ہیں اور محض وہم وگمان پر چلے جا رہے ہیں۔89
پس ہلاکت اور تباہی ہے اُن لوگوں کیلے جو اپنے ہاتھوں سے شرع کا نوشتہ لکھتے ہیں پھر لوگوں سے کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس سے آیا ہوا ہے تاکہ اس کے معاوضے میں تھوڑا سا فائدہ حاصل کر لیں90 ۔ اُن کے ہاتھوں کا یہ لکھا بھی ان کے لیے تباہی کا سامان ہے اور ان کی یہ کمائی بھی ان کے لیے موجبِ ہلاکت ۔
وہ کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں ہرگزچُھونے والی نہیں اِلّا یہ کہ چند روز کی سزا مِل جائے تو مِل جائے91 ۔ اِن سے پوچھو ، کیا تم نے اللہ سے کوئی عہد لے لیا ہے ، جس کی خلاف ورزی وہ نہیں کر سکتا؟ یا بات یہ ہے کہ تم اللہ کے ذمّے ڈال کر ایسی باتیں کہ دیتے ہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ اُس نے ان کا ذمہ لیا ہے؟
آخر تمہیں دوزخ کی آگ کیوں نہ چُھوئے گی؟ جو بھی بدی کمائے گا اور اپنی خطا کاری کے چکّر میں پڑا رہے گا،وہ دوزخی ہے اور دوزخ ہی میں وہ ہمیشہ رہے گا۔
اور جو لوگ ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے وُہی جنتی ہیں اور جنت میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ ؏۹
83-86یاد کرو، اسرائیل کی اولاد سے ہم نے پختہ عہد لیا تھا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا، ماں باپ کے ساتھ، رشتے داروں کے ساتھ ، یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ نیک سلوک کرنا، لوگوں سے بھلی بات کہنا ، نماز قائم کرنا اور زکوٰة دینا، مگر تھوڑے آدمیوں کے سوا تم سب اس عہد سے پھر گئے اور اب تک پھرے ہوئے ہو۔
پھر ذرا یا د کرو، ہم نے تم سے مضبُوط عہد لیاتھا کہ آپس میں ایک دُوسرے کا خون نہ بہانہ اور نہ ایک دُوسرے کو گھر سے بے گھر کرنا۔ تم نے اس کا اقرار کیا تھا ، تم خود اس پر گواہ ہو۔
مگر آج وہی تم ہو کہ اپنےبھائی بندوں کو قتل کرتے ہو، اپنی برادری کے کچھ لوگوں کو بے خانماں کر دیتے ہو، ظلم وزیادتی کے ساتھ ان کے خلاف جتھے بندیاں کرتے ہو، اور جب وہ لڑائی میں پِٹے ہوئے تمہارے پاس آتے ہیں ، تو ان کی رہائی کے لیے فدیہ کالیں دین کرتے ہو، حالانکہ انہیں ان کے گھروں سے نکالنا ہی سرے سے تم پر حرام تھا، تو کیا تم کتاب کےایک حصّے پر ایمان لاتے ہو اوردُوسرے حصّے کے ساتھ کفر کرتے ہو؟92 پھر تم میں سے جو لوگ ایسا کریں ، ان کی سزا اس کے سوا اور کیا ہےکہ دنیا کی زندگی میں ذلیل و خوار ہو کر رہیں اور آخرت میں شدید ترین عذاب کی طرف پھیر دیے جائیں ؟ اللہ ان حرکات سے بے خبر نہیں ہے، جو تم کر رہے ہو۔
یہ وہ لوگ ہیں ، جنہوں نےآخرت بیچ کر دُنیا کی زندگی خرید لی ہے،لہٰذا نہ اِن کی سزا میں کوئی تخفیف ہوگی اور نہ انہیں کو ئی مدد پہنچ سکے گی۔ ؏۱۰
87-96ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب دی، اس کے بعد پے در پے رسُول بھیجے، آخر کار عیسٰی ابنِ مر یم کو روشن نشانیاں دے کر بھیجا اور رُوحِ پاک سے اس کی مدد کی۔93 پھر یہ تمہارا کیا ڈھنگ ہے کہ جب بھی کوئی رسُول تمہاری خواہشات نفس کے خلاف کوئی چیز لے کر تمہارے پاس آیا، تو تم نے اس کے مقابلے میں سر کشی ہی کی، کسی کو جھٹلایا اور کسی کو قتل کر ڈالا!
وُہ کہتے ہیں، تمارے دل محفوظ ہیں ۔نہیں94 ، اصل بات یہ ہے کہ ان کے کفر کی وجہ سے ان پر اللہ کی پھٹکار پڑی ہے، اس لیے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں ۔
اور اب جوایک کتاب اللہ کی طرف سے ان کے پاس آئی ہے، اس کے ساتھ ان کا کیا برتاؤ ہے؟ باوجودیکہ وہ اس کتاب کی تصدیق کرتی ہے جو ان کے پاس پہلے سے موجود تھی ، باوجودیکہ اس کی آمد سے پہلے وہ خود کفار کے مقابلے میں فتح و نصرت کی دعائیں مانگا کرتے تھے، مگر جب وہ چیز آگئی جسے وہ پہچان بھی گئے، تو انھوں نے اسے ماننے سے انکار کر دیا۔95 خدا کی لعنت ان منکرین پر ،
کیسا بُرا ذریعہ ہے جس سے یہ اپنے نفس کی تسلی حاصل کرتے ہیں96 کہ جو ہدایت اللہ نے نازل کی ہے، اس کو قبول کرنے سے صرف اس ضد کی بنا پر انکار کر رہے ہیں کہ اللہ نے اپنے فضل ( وحی و رسالت) سے اپنے جس بندے کو خود چاہا، نواز دیا!97 لہٰذا اب یہ غضب با لا ئے غضب کے مستحق ہو گئے ہیں اور ایسے کافروں کیلئےسخت ذلت آمیز سزا مقرر ہے۔
جب ان سے کہا جاتا ہےکہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہےاس پر ایمان لاؤ، تو وہ کہتے ہیں ”ہم تو صرف اس چیز پر ایمان لاتےہیں ، جو ہمارے ہاں (یعنی نسل ِ اسرائیل میں )اُتری ہے۔“اس دائرے کے باہر جو کچھ آیا ہے ، اسے ماننے سے وہ انکار کرتے ہیں ، حالانکہ وہ حق ہے اور اس تعلیم کی تصدیق و تائید کر رہا ہےجو ان کے ہاں پہلے سے موجود تھی۔ اچھا،ان سے کہو : اگر تم اس تعلیم ہی پر ایمان رکھنے والے ہوجو تمہارے ہاں آئی تھی، تو اس سے پہلے اللہ کےان پیغمروں کو (جو خود بنی اسرئیل میں پیدا ہوئے تھے) کیوں قتل کرتے رہے؟
تمہارے پاس موسیٰؑ کیسی کیسی روشن نشانیوں کے ساتھ آیا۔پھر بھی تم ایسے ظالم تھے کہ اس کے پیٹھ موڑتے ہی بچھڑے کو معبُود بنا بیٹھے۔
پھر ذرا اُس میثاق کو یاد کرو، جو طور کو تمھارے اُوپر اٹھاکر ہم نے تم سے لیا تھا۔ ہم نے تاکید کی تھی کہ جو ہدایات ہم دے رہے ہیں، ان کی سختی کے ساتھ پابندی کرو اور کان لگاکر سنو۔ تمہارے اسلاف نے کہا کہ ہم نے سُن لیا، مگر مانیں گے نہیں۔ اور ان کی باطل پرستی کا یہ حال تھا کہ دلوں میں ان کے بچھڑا ہی بسا ہوٴا تھا۔ کہو : اگر تم مومن ہو ، تو یہ عجیب ایمان ہے ، جو ایسی بُری حرکات کا تمہیں حکم دیتا ہے۔
اِن سے کہو اگر واقعی اللہ کے نزدیک آخرت کا گھر تمام انسانوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے ہی لیے مخصُوص ہے ،تب تو تمہیں چاہیے کہ موت کی تمنّا کرو 98، اگر تم اس خیال میں سچےّ ہو۔
یقین جانو کہ یہ کبھی اس کی تمنّا نہ کریں گے، اس لیے کہ اپنے ہاتھوں جو کچھ کماکر انھوں نے وہاں بھیجا ہے،اس کا اقتضایہی ہے (کہ وہاں جانے کی تمنّا نہ کریں) اللہ ان ظالموں کے حال سے خوب واقف ہے۔
تم انہیں سب سے بڑھ کر جینے کا حریص99 پاوٴ گے حتّٰی کہ یہ اس معاملے میں مشرکوں سے بھی بڑھے ہوئے ہیں۔ ان میں سے ایک ایک شخص یہ چاہتا ہے کہ کسی طرح ہزار برس جیے ، حالانکہ لمبی عمر بہر حال اُسے عذاب سے تودُور نہیں پھینک سکتی ۔ جیسے کچھ اعمال یہ کر رہے ہیں، اللہ تو انہیں دیکھ ہی رہا ہے ۔ ؏۱۱
97-103ان سے کہو کہ جو کوئی جبریل سے عداوت رکھتا ہو 100، اسے معلوم ہو نا چاہیے کہ جبریل نے اللہ ہی کے اذن سے یہ قرآن تمہارے قلب پر نازل کیا ہے101، جو پہلے آئی ہوئی کتابوں کی تصدیق و تائید کرتا ہے102اور ایمان لانے والوں کے لیےہدایت اور کامیابی کی بشارت بن کر آیا ہے۔103
(اگر جبریل سے ان کی عداوت کا سبب یہی ہے، تو کہہ دو کہ)جو اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوں اور جبریل اور میکائیل کے دشمن ہیں ، اللہ ان کافروں کا دشمن ہے۔
ہم نے تمہاری طرف ایسی آیات نازل کی ہیں جو صاف صاف حق کا اظہار کرنے والی ہیں ۔ اور ان کی پیروی سے صرف وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو فاسق ہیں ۔
کیا ہمیشہ ایسا ہی نہیں ہوتا رہا ہے کہ جب انہوں نے کوئی عہد کیا تو ان میں سے ایک نہ ایک گروہ نے اسے ضرور ہی بالائے طاق رکھ دیا؟ بلکہ ان میں سے اکثر ایسے ہی ہیں جو سچے دل سے ایمان نہیں لاتے ۔
اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے کو ئی رسول اس کتاب کی تصدیق و تائید کرتا ہوا آیا جو ان کے ہاں پہلے سے موجو د تھی ، تو ان اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے کتاب اللہ کو اس طرح پس ِ پشت ڈالا ، گویا کہ وہ کچھ جانتے ہی نہیں ۔
اور لگے ان چیزوں کی پیروی کرنے ، جو شیاطین سلیمان ؑ کی سلطنت کا نام لے کر پیش کیا کرتے تھے104، حالانکہ سلیمان ؑ نے کبھی کفر نہیں کیا ، کفر کے مرتکب تو وہ شیا طین تھے جو لوگو ں کو جادوگری کی تعلیم دیتے تھے۔ اور پیچھے پڑے اس چیز کے جو بابل میں دو فرشتوں ، ھاروت و ماروت پر نازل کی گئی تھی ، حالانکہ وہ (فرشتے)جب بھی کسی کو اس کی تعلیم دیتے تھے ، تو پہلے صاف طور پر متنبہّ کر دیا کرتے تھے کہ ”دیکھ ، ہم محض ایک آزمائش ہیں ، تُوکفر میں مبتلا نہ ہو105 “ پھر بھی یہ لوگ ان سے وہ چیز سیکھتے تھے جس سے شوہر اور بیوی میں جُدائی ڈال دیں106 ۔ ظاہر تھا کہ اذن ِ الٰہی کہ بغیر وہ اس ذریعے سے کسی کو بھی ضرر نہ پہنچا سکتے تھے ، مگر اس کے با وجو د وہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو خود ان کے لیے نفع بخش نہیں ، بلکہ نقصان دہ تھی اور انھیں خوب معلوم تھا کہ جو اس چیز کا خریدار بنا ، اس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔ کتنی بُری متاع تھی جس کے بدلہ انھوں نے اپنی جا نوں کو بیچ ڈالا، کاش انھیں معلوم ہو تا!
اگر وہ ایمان اور تقوٰی اختیار کرتے تو اللہ کے ہاں اس کا جو بدلہ ملتا ، وہ ان کے لیے زیادہ بہتر تھا کاش انہیں کو ئی خبر ہوتی !؏ ۱۲
104-112اے لوگو جو ایمان لائے ہو107 ؛ رَاعِنَا نہ کہا کرو ، بلکہ اُنظُرنَا کہو اور توجّہ سے بات کو سنو108، یہ کافر تو عذابِ الیم کے مستحق ہیں ۔
یہ لوگ جنہوں نے دعوت حق کو قبول کرنے سے انکا ر کر دیا ہے، خواہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرک ہوں ، ہرگز یہ پسند نہیں کرتے کہ تمہارے رب کی طرف سے تم پر کوئی بھلائی نازل ہو، مگر اللہ جس کو چاہتا ہے اپنی رحمت کے لیے چن لیتا ہے اور وہ بڑا فضل فرما نے والا ہے۔
ہم اپنی جس آیت کو منسوخ کر دیتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں ، اس کی جگہ اس سے بہتر لاتے ہیں یا کم از کم ویسی ہی109 ۔ کیا تم جا نتے نہیں ہو کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے؟
کیا تمہیں خبر نہیں ہے کہ زمین اور آسمان کی فرماں روائی اللہ ہی کے لیے ہے اور اس کے سوا کوئی تمہاری خبر گیری کرنے اور تمہاری مدد کرنے والا نہیں ہے؟
پھر کیا تم اپنے رسو ل سے اس قسم کے سوالات اور مطالبے کرنا چاہتے ہو، جیسے اس سے پہلے موسیٰ ؑ سے کیے جا چکے ہیں؟110 حالانکہ جس شخص نے ایمان کی روش کو کفر کی روش سے بدل لیا ، وہ راہ راست سے بھٹک گیا۔
اہل کتاب میں سے اکثر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح تمہیں ایمان سے پھیر کر پھر کفر کی طرف پلٹا لے جائیں ۔ اگرچہ حق ان پر ظاہر ہو چکا ہے مگر اپنے نفس کے حسد کی بنا پر تمہارے لیے ان کی یہ خواہش ہے۔ اس کے جواب میں تم عفو و درگزر سے کام لو 111یہاں تک کہ اللہ خود ہی اپنا فیصلہ نافذ کر دے۔ مطمئن رہو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔
نماز قائم کرو اور زکوٰة دو ۔ تم اپنی عا قبت کےلیے جو بھلائی کما کر آگے بھیجو گے ، اللہ کے ہاں اسے موجود پاؤ گے۔ جو کچھ تم کرتے ہو، وہ سب اللہ کی نظر میں ہے۔
ان کا کہنا ہے کہ کوئی شخص جنت میں نہ جائے گا جب تک کہ وہ یہودی نہ ہو یا ( عیسائیوں کے خیال کے مطابق )عیسائی نہ ہو ۔ یہ ان کی تمنائیں ہیں112 ۔ ان سے کہو ، اپنی دلیل پیش کرو، اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔
در اصل نہ تمہاری کچھ خصوصیت ہے ، نہ کسی اور کی ۔ حق یہ ہے کہ جو اپنی ہستی کو اللہ کی اطاعت میں سونپ دے اور عملاً نیک روش پر چلے ، اس کے لیے اس کے رب کے پاس اس کا اجر ہے اور ایسے لوگوں کےلیے کسی خوف یا رنج کا کوئی موقع نہیں ۔ ؏۱۳
113-121یہودی کہتے ہیں : عیسائیوں کے پاس کچھ نہیں۔ عیسا ئی کہتے ہیں : یہودیوں کے پاس کچھ نہیں حالانکہ دونوں ہی کتاب پڑھتے ہیں ۔ اور اسی قسم کے دعوے ان لوگو ں کے بھی ہیں جن کے پاس کتاب کا علم نہیں ہے113۔ یہ اختلافات جن میں یہ لوگ مبتلا ہیں ان کا فیصلہ اللہ قیامت کے روز کر دے گا۔
اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم کو ن ہو گا جو اللہ کے معبدوں میں اس کے نام کی یاد سے روکے اور ان کی ویرانی کے در پے ہو؟ ایسے لوگ اس قابل ہیں کہ ان عبادت گاہوں میں قدم نہ رکھیں اور اگر وہاں جائیں بھی تو ڈرتے ہوئے جائیں114 ۔ ان کے لیے تو دنیا میں رسوائی ہےاور آخرت میں عذاب عظیم ۔
مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں ۔ جس طرف بھی تم رُخ کرو گے ، اسی طرف اللہ کا رُخ ہے115اللہ بڑی وسعت والا ہے اور سب کچھ جاننے والا ہے۔116
ان کا قول ہے کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔ اللہ پاک ہے ان باتوں سے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ زمین اور آسمانوں کی تمام موجودات اس کی ملک ہیں۔ سب کے سب اس کے مطیع فرمان ہیں ،
وہ آسمانوں اور زمین کا موجد ہے، اور جس بات کا وہ فیصلہ کرتا ہے، اس کے لیے بس یہ حکم دیتا ہے کہ”ہو جا “ اور وہ ہو جاتی ہے۔
نادان کہتے ہیں کہ اللہ خود ہم سے بات کیوں نہیں کرتایا کوئی نشانی ہمارے پاس کیوں نہیں آتی؟ 117 ایسی ہی باتیں ان سے پہلے لوگ بھی کیا کرتے تھے ۔ ان سب (اگلے پچھلے گمراہوں )کی ذہنیتیں ایک جیسی ہیں ۔118 یقین لانے والو ں کے لیے تو ہم نشانیاں صاف صاف نمایاں کر چکے ہیں ۔119
(اس سے بڑھ کر نشانی کیا ہو گی کہ ) ہم نے تم کو علمِ حق کے ساتھ خوشخبری دینے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا۔120 اب جو لوگ جہنم سے رشتہ جوڑ چکے ہیں ، ان کی طرف سے تم ذمہ دار و جواب دہ نہیں ہو ۔
یہودی اور عیسائی تم سے ہر گز راضی نہ ہو نگے ، جب تک تم ان کے طریقے پر نہ چلنے لگو۔ 121 صاف کہہ دو کہ راستہ بس وہی ہے جو اللہ نے بتایا ہے۔ ورنہ اگر اس علم کے بعد جو تمہارے پس آچکا ہے، تم نے اُن کی خواہشات کی پیروی کی ، تو اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی دوست اور مددگار تمہارے لیے نہیں ہے۔
جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اُسے اس طرح پڑھتے ہیں جیسا کہ پڑھنےکا حق ہے۔ وہ اس پر سچّے دل سے ایمان لاتے ہیں۔122 اور جو اس کے ساتھ کفر کا رویہّ اختیار کریں، وہی اصل میں نقصان اُٹھانے والے ہیں۔ ؏۱۴
122-129123اے بنی اسرائیل!یاد کرو میری وہ نعمت، جس سے میں نے تمہیں نوازا تھا، اور یہ کہ میں نے تمہیں دنیا کی تمام قوموں پر فضیلت دی تھی ۔
اور ڈرو اس دن سے، جب کوئی کسی کے ذرا کام نہ آئے گا، نہ کسی سے فدیہ قبول کیا جائے گا، نہ کوئی سفارش ہی آدمی کو فائدہ دے گی، اور نہ مجرموں کو کہیں سے کوئی مدد پہنچ سکے گی۔
یاد کرو کہ جب ابرہیم ؑ کو اس کے رب نے چند باتوں میں آزمایا124 اور وہ اُن سب میں پورا اتر گیا، تو اس نے کہا : ”میں تجھے سب لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں“۔ ابرہیم ؑنے عرض کیا : ”اور کیا میری اولاد سے بھی یہی وعدہ ہے“؟ اس نے جواب دیا:”میرا وعدہ ظالموں سے متعلق نہیں ہے“125۔
اور یہ کہ ہم نے اس گھر (کعبے)کو لوگوں کے لیے مرکز اور امن کی جگہ قرار دیاتھا اور لوگوں کو حکم دیا تھا کہ ابراہیمؑ جہاں عبادت کے لیے کھڑا ہو تا ہے اس مقام کو مستقل جائے نماز بنالو، اور ابرہیم ؑاور اسماعیل ؑ کو تاکید کی تھی کہ میرے اس گھر کو طواف اور اعتکاف اور رکوع اورسجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو۔126
اور یہ کہ ابراھیم ؑ نے دعا کی : ”اے میرے رب ، اس شہر کو امن کا شہر بنا دے اور اس کے باشندو ں میں سے جو اللہ اور آخرت کو مانیں ، انھیں ہر قسم کے پھلوں کا رزق دے ۔“ جو اب میں اس کے رب نے فرمایا ”اور جو نہ مانیں گا ، دنیا کی چند روزہ زندگی کا سامان تو میں اسے بھی دوں گا، 127مگر آخر کار اسے عذاب جہنم کی طرف گھسیٹوں گا، اور وہ بد ترین ٹھکانا ہے۔“
اور یا د کرو ابراھیم ؑ اور اسماعیل ؑ جب اس گھر کی دیواریں اٹھا رہے تھے ، تو دعا کرتے جاتے تھے، ”اے ہمارے رب ، ہم سےیہ خدمت قبول فرما لے، تُو سب کی سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے۔
اے رب، ہم دونوں کو اپنا مسلم (مطیع فرمان)بنا ، ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا، جو تیری مسلم ہو ، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا ، اور ہماری کوتاہیو ں سے در گزر فرما، تو بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔
اور اے رب ، ان لوگوں میں خود انھیں کی قوم سے ایک ایسا رسول اٹھائیو ، جو انھیں تیری آیات سنائے ، ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے128۔ تُو بڑا مقتدر اور حکیم ہے۔“129 ؏۱۵
130-141اب کو ن ہے ، جو ابراھیمؑ کے طریقے سے نفرت کرے ؟ جس نے خود اپنے آپ کو حماقت و جہالت میں مبتلا کر لیا ہو ، اس کے سوا کو ن یہ حرکت کر سکتا ہے؟ ابراھیمؑ تو وہ شخص ہے، جس کو ہم نے دنیا میں اپنے کا م کےلیے چن لیا تھااور آخرت میں اس کا شمار صالحین میں ہو گا۔
اس کا حال یہ تھاکہ جب اس کے رب نے اس سے کہا، ”مسلم ہوجا 130، “ تو اس نے فوراً کہا ”میں مالک کائنات کا ”مسلم “ہو گیا۔“
اسی طریقے پر چلنے کی ہدایت اس نے اپنی اولاد کو کی تھی اور اسی کی وصیت یعقوب ؑ 131اپنی اولاد کو کر گیا۔ اس نے کہا تھا کہ ”میرے بچو، اللہ نے تمھارے لیے یہی دین پسند کیا ہے۔132 لہٰذا مرتے دم تک تم مسلم ہی رہنا۔“
پھر کیا تم اس وقت موجو د تھے جب یعقوبؑ اس دنیا سے رخصت ہو رہا تھا؟ اس نے مر تے وقت اپنے بیٹوں سے پوچھا ”بچو!میرے بعد تم کس کی بندگی کرو گے ؟ “ ان سب نے جواب دیا ”ہم اسی ایک خدا کی بندگی کریں گے ، جسے آپ نے اور آپ کے بزرگوں ابراھیمؑ ، اسماعیلؑ اور اسحاقؑ نے خدا مانا ہےاور ہم اسی کے مسلم ہیں ۔133“
وہ کچھ لوگ تھے ، جو گزر گئے ۔ جو کچھ انھوں نے کمایا ۔ وہ ان کے لیے ہے اور جو کچھ تم کماؤ گے ،وہ تمہارے لیے ہے۔ تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے۔134
یہودی کہتے ہیں: یہودی ہو تو راہ راست پاؤ گے۔ عیسا ئی کہتے ہیں : عیسائی ہو ، تو ہدایت ملے گی ۔ ان سے کہو: ”نہیں ، بلکہ سب کو چھوڑکر ابراھیمؑ کا طریقہ ۔ اور ابراھیمؑ مشرکوں میں سے نہ تھا۔135“
مسلمانو! کہو کہ ”ہم ایمان لائے او راس ہدایت پر جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور جو ابراھیمؑ ، اسماعیلؑ ، اسحاقؑ ، یعقوبؑ اور اولاد یعقوبؑ کی طرف نازل ہوئی تھی اور جو موسیٰؑ اور عیسیٰؑ اور دوسرے تمام پیغمبروں کو ان کے رب کی طرف سے دی گئی تھی ۔ ہم ان کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتےاور ہم اللہ کے مسلم ہیں 136۔“
پھر اگر وہ اسی طرح ایمان لائیں ، جس طرح تم لائے ہو ، تو ہدایت پر ہیں ، اور اگر اس سے منہ پھیریں ، تو کھلی بات ہے کہ وہ ہٹ دھرمی میں پڑگئے ہیں ۔ لہٰذا اطمینان رکھو کہ ان کے مقابلے میں اللہ تمہاری حمایت کے لیے کافی ہے۔ وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔
کہو:”اللہ کا رنگ اختیار کرو۔137 اس کے رنگ سے اچھا اور کس کا رنگ ہو گا؟ اور ہم اسی کی بندگی کرنے والے لوگ ہیں ۔“
اے نبی! ان سے کہو: ”کیا تم اللہ کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو ؟ حالانکہ وہی ہمارا رب بھی ہے اور تمہارا رب بھی۔138 ہمارے اعمال ہمارے لیے تمہارے اعمال تمہارے لیے، اور ہم اللہ ہی کے لیے اپنی بندگی کو خالص کر چکے ہیں ۔139
یا پھر کیا تمہارا کہنا یہ ہے کہ ابراھیم ؑ ، اسماعیل ؑ ، اسحاق ؑ ، یعقوب ؑ اور اولاد یعقو ب ؑ سب کے سب یہودی تھے یا نصرانی تھے؟ کہو ”تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ ؟140 اس شخص سے بڑا ظالم اور کو ن ہو گا، جس کے ذمے اللہ کی طرف سے ایک گواہی ہو اور وہ اسے چھپائے ؟ تمہاری حرکات سے اللہ غافل تو نہیں ہے ۔141
وہ کچھ لوگ تھے ، جو گزر چکے۔ ان کی کمائی ان کےلیے تھی اور تمہاری کمائی تمہارے لیے۔ تم سے ان کے اعمال کے متعلق سوال نہیں ہو گا۔ “ ؏۱۶
142-147نادان لوگ ضرور کہیں گے :اِنہیں کیا ہوا کہ پہلے یہ جس قبلے کی طرف رُخ کرکے نماز پڑھتے تھے ، اس سے یکایک پھر گئے142 ؟ اے نبیؐ ، ان سے کہو : ”مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں۔ اللہ جسے چاہتا ہے ،سیدھی راہ دکھا دیتا ہے۔143
اور اِسی طرح تو ہم نے تمہیں ایک ”اُمّتِ وَسَط “بنایا ہے تاکہ تم دُنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رُسول تم پر گواہ ہو۔144 پہلے جس طرف تم رُخ کرتے تھے ، اس کو تو ہم نے صرف یہ دیکھنے کے لیے مقرر کیا تھا کہ کون رُسول کی پیروی کرتا ہے اور کو ن اُلٹا پھر جاتا ہے ۔145 یہ معاملہ تھا تو بڑا سخت ، مگر اُن لوگوں کے لیے کچھ بھی سخت نہ ثابت ہوا ، جو اللہ کی ہدایت سے فیض یاب تھے ، اللہ تمہارے اس ایمان کو ہر گز ضائع نہ کرے گا، یقین جانو کہ وہ لوگوں کے حق میں نہایت شفیق و رحیم ہے۔
یہ تمہارے منہ کا بار بار آسمان کی طرف اُٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں۔ لو، ہم اُسی قبلے کی طرف تمہیں پھیرے دیتے ہیں، جسے تم پسند کرتے ہو۔ مسجدِ حرام کی طرف رُخ پھیردو۔ اب جہاں کہیں تم ہو ، اُسی کی طرف منہ کرکے نماز پڑھاکرو۔146یہ لوگ جنہیں کتاب دی گئی تھی ، خُوب جانتے ہیں کہ(تحویلِ قبلہ کا ) یہ حکم ان کے ربّ ہی کی طرف سے ہے اور بر حق ہے، مگر اس کے باوجود جو کچھ یہ کر رہے ہیں،اللہ اس سے غافل نہیں ہے۔
تم ان اہلِ کتاب کے پاس خواہ کوئی نشانی لے آوٴ ، ممکن نہیں کہ یہ تمہارے قبلے کی پیروی کرنے لگیں، اور نہ تمہارے لیے یہ ممکن ہے کہ ان کے قبلے کی پیروی کرو، اور ان میں سے کوئی گروہ بھی دُوسرے کے قبلے کی پیروی کے لیے تیار نہیں، اور اگر تم نے اس علم کے بعد ، جو تمہارے پاس آچکا ہے ، ان کی خواہشات کی پیروی کی ، تو یقیناً تمہارا شمار ظالموں میں ہوگا۔147
جِن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے ، وہ اس مقام کو(جسے قبلہ بنایا گیا ہے)ایسا پہچانتے ہیں، جیسا اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں،148 مگر ان میں سے ایک گروہ جانتے بوجھتے حق کو چھپا رہا ہے۔
یہ قطعیِ ایک امرِ حق ہےتمہارے ربّ کی طرف سے ، لہٰذا اس کے متعلق تم ہر گز کسی شک میں نہ پڑو۔ ؏۱۷
148-152ہر ایک کے لیے ایک رُخ ہے ، جس کی طرف وہ مڑتا ہے ۔ پس تم بھلائیوں کی طرف سبقت کرو۔149 جہاں بھی تم ہو گے ، اللہ تمہیں پا لے گا۔ اُس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں۔
تمہارا گزر جس مقام سے بھی ہو ، وہیں سے اپنا رُخ(نماز کے وقت)مسجدِ حرام کی طرف پھیر دو، کیونکہ یہ تمہارے رب کا بالکل بر حق فیصلہ ہے اور اللہ تم لوگوں کے اعمال سے بے خبر نہیں ہے ۔
اور جہاں سے بھی تمہارا گزر ہو ، اپنا رُخ مسجدِ حرام ہی کی طرف پھیراکرو ، اور جہاں بھی تم ہو، اُسی کی طرف منہ کرکے نماز پڑھو تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجّت نہ ملے ۔150 ہاں جو ظالم ہیں ، اُن کی زبان کسی حال میں بند نہ ہوگی۔ تو اُن سے تم نہ ڈرو ، بلکہ مجھ سے ڈرو۔ اور اس لیے کہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کردوں151 اور اس توقع پر 152کہ میرے اس حکم کی پیروی سے تم اسی طرح فلاح کا راستہ پاوٴ گے
جس طرح (تمہیں اس چیز سے فلاح نصیب ہوئی کہ )میں نے تمہارے درمیان خود تم میں سے ایک رسول بھیجا ، جو تمہیں میری آیات سناتا ہے ، تمہارے زندگیوں کو سنوارتا ہے، تمہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے ، اور تمہیں وہ باتیں سکھاتا ہے ، جو تم نہ جانتے تھے ۔
لہٰذا تم مجھے یاد رکھو ، میں تمہیں یاد رکھوں گا، اور میرا شکر ادا کرو ، کفرانِ نعمت نہ کرو۔ ؏۱۸
153-163153اے لوگو جو ایمان لائے ہو صبر اور نماز سے مدد لو ۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔154
اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں ، انہیں مُردہ نہ کہو ، ایسے لوگ تو حقیقت میں زندہ ہیں ، مگر تمہیں ان کی زندگی کا شعور نہیں ہوتا 155۔
اور ہم ضرور تمہیں خوف وخطر ، فاقہ کشی ، جان و مال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کرکے تمہاری آزمائش کریں گے۔
ان حالات میں جو لوگ صبر کریں اور جب کوئی مصیبت پڑے ، تو کہیں کہ ”ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف پلٹ کر جا نا ہے156،“ انھیں خوشخبری دے دو ۔
ان پر ان کے ر ب کی طرف سے بڑی عنایات ہوں گی، اس کی رحمت ان پر سایہ کرے گی اور ایسے ہی لوگ راست رو ہیں۔
یقیناً صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں ۔ لہٰذا جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے157، اس کے لیے کوئی گناہ کی بات نہیں کہ وہ ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان سعی کر لے158اور جو برضا و رغبت کوئی بھلائی کا کام کرے گا اللہ کو اس کا علم ہے اوروہ اس کی قدر کرنے والا ہے۔159
جو لوگ ہماری نازل کی ہوئی روشن تعلیمات اور ہدایات کو چھپاتے ہیں در آں حال یہ کہ ہم انھیں سب انسانوں کی رہنمائی کے لیے اپنی کتاب میں بیان کر چکے ہیں ، یقین جانو کہ اللہ بھی ان پر لعنت کرتا ہےاور تمام لعنت کرنے والے بھی ان پر لعنت بھیجتے ہیں ۔160
البتہ جو اس روش سے باز آجائیں اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کر لیں اور جو کچھ چھپاتے تھے اسے بیان کرنے لگیں ، ان کو میں معا ف کر دوں گا اور میں بڑا در گزر کرنے والا اور رحم کرنے والا ہوں۔
جن لوگوں نے کفر کا رویہ161 اختیار کیا اور کفر کی حالت ہی میں جان دی، ان پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔
اسی لعنت زدگی کی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے ، نہ ان کی سزا میں تخفیف ہو گی اور نہ انھیں پھر کوئی دوسری مہلت دی جا ئے گی ۔
تمہارا خدا ایک ہی خدا ہےاس رحمٰن اور رحیم کے سوا کوئی اور خدا نہیں ۔ ؏۱۹
164-167(اس حقیقت کوپہچاننے کے لیے اگر کوئی نشانی اور علامت درکار ہے تو ) جو لوگ عقل سے کا م لیتے ہیں ان کے لیے آسمانوں اور زمین کی ساخت میں ، رات اور دن کےپیہم ایک دوسرے کے بعد آنے میں ، ان کشتیوں میں جو انسان کے نفع کی چیزیں لیے ہوئے دریاؤں اور سمندروں میں چلتی پھرتی ہیں ، بارش کے اس پانی میں جسے اللہ اوپر سے برساتا ہے پھر اس کے ذریعے سے زمین کو زندگی بخشتا ہےاور اپنے اسی انتظام کی بدولت زمین میں ہر قسم کی جاندار مخلوق کو پھیلاتا ہے، ہواؤں کی گردش میں ، اور ان بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان تابع فرمان بنا کر رکھے گئے ہیں ، بے شمار نشانیاں ہیں ۔162
(مگر وحدتِ خدا وندی پر دلالت کرنے والے ان کھلے کھلے آثار کے ہوتے ہوئے بھی )کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا ہمسر اور مد مقابل بناتے ہیں 163اور ان کے ایسے گرویدہ ہیں جیسی اللہ کے ساتھ گرویدگی ہونی چاہیے۔ حالانکہ ایمان رکھنے والے لوگ سب سے بڑھ کر اللہ کو محبوب رکھتے ہیں ۔164 کاش ، جو کچھ عذاب کو سامنے دیکھ کر انھیں سوجھنے والاہےوہ آج ہی ان ظالموں کو سوجھ جائے کہ ساری طاقتیں اور سارے اختیارات اللہ ہی کےقبضے میں ہیں اور یہ کہ اللہ سزا دینے میں بھی بہت سخت ہے۔
جب وہ سزا دے گا اس وقت کیفیت یہ ہو گی کہ وہی پیشوا اور رہنما، جن کی دنیا میں پیروی کی گئی تھی، اپنےپیروؤں سے بے تعلقی ظاہر کریں گے ، مگر سز ا پا کر رہیں گے اور ان کے سارے اسباب و وسائل کا سلسلہ کٹ جائے گا۔
اور وہ لوگ جو دنیا میں ان کی پیروی کرتے تھے ، کہیں گے کہ کاش ہم کو پھر ایک موقع دیا جاتا تو جس طرح آج یہ ہم سے بے زاری ظاہر کر رہے ہیں ، ہم ان سے بے زار ہو کر دکھا دیتے ۔165 یوں اللہ ان لوگو ں کے وہ اعمال ، جو یہ دنیا میں کر رہے ہیں ،ان کے سامنے اس طرح لائے گا کہ یہ حسرتوں اور پشیمانیوں کے ساتھ ہاتھ ملتے رہیں گے مگر آگ سے نکلنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے ۔ ؏۲۰
168-176لوگو! زمین میں جو حلال اور پاک چیزیں ہیں انھیں کھاؤ اور شیطان کے بتائے ہوئے راستوں پر نہ چلو۔166 وہ تمہارا کھلا دشمن ہے،
تمہیں بدی اور فحش کا حکم دیتا ہے اور سکھاتا ہےکہ تم اللہ کے نام پر وہ باتیں کہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ وہ اللہ نے فرمائی ہیں۔167
ان سے جب کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو احکام نازل کیےہیں ان کی پیروی کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اسی طریقے کی پیروی کریں گےجس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔168 اچھا اگر ان کے باپ دادا نے عقل سے کچھ بھی کام نہ لیا ہو اور راہ راست نہ پائی ہو تو کیا پھر بھی یہ انہیں کی پیروی کیے چلے جائیں گے؟
یہ لوگ جنھوں نے خدا کے بتائے ہوئے طریقے پر چلنے سے انکار کردیا ہے ان کی حالت بالکل ایسی ہے جیسے چرواہا جانوروں کو پکارتا ہے اور وہ ہانک پکار کی صدا کے سواکچھ نہیں سنتے۔169 یہ بہرے ہیں ، گونگے ہیں، اندھے ہیں، اس لیے کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، اگر تم حقیقت میں اللہ ہی کی بندگی کرنے والے ہو تو جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں بخشی ہیں انہیں بےتکلف کھاؤ اور اللہ کا شکر ادا کرو۔170
اللہ کی طرف سے اگر کوئی پابندی تم پر ہے تو وہ یہ ہے، کہ مردار نہ کھاؤ، خون سے اور سُور کے گوشت سے پرہیز کرو، اور کوئی ایسی چیز نہ کھاؤ جس پر اللہ کے سِوا کسی اور کا نام لیا گیاہو۔171 ہاں جو شخص مجبوری کی حالت میں ہواور وہ ان میں سے کوئی چیز کھا لے بغیر اس کے کہ وہ قانون شکنی کا ارادہ رکھتا ہو یا ضرورت کی حد سے تجاوز کرے، تو اس پر کچھ گناہ نہیں ، اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے۔172
حق یہ ہے کہ جو لوگ ان احکام کو چھپاتےہیں جو اللہ نے اپنی کتاب میں نازل کیے ہیں اور تھوڑے سے دنیوی فائدوں پر انہیں بھینٹ چڑھاتےہیں ، وہ دراصل اپنے پیٹ آگ سے بھر رہے ہیں173۔قیامت کے روز اللہ ہرگزان سے بات نہ کرے گا، نہ انھیں پاکیزہ ٹھیرائے گا، 174اور ان کے لیے دردناک سزا ہے۔
یہ لوگ ہیں جنھوں نے ہدایت کے بدلے ضلالت خریدی اور مغفرت کے بدلےعذاب مول لے لیا۔ کیسا عجیب ہے ان کا حوصلہ کہ جہنم کا عذاب بر داشت کرنے کے لیے تیارہیں!
یہ سب کچھ اس وجہ سے ہؤاکہ اللہ نے تو ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق کتاب نازل کی تھی مگر جن لوگوں نے کتاب میں اختلافات نکالے وہ اپنے جھگڑوں میں حق سے بہت دور نکل گئے۔ ؏۲١
177-182نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کر لیے یا مغرب کی طرف ،175 بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یومِ آخر اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتے داروں اور یتیموں پر ، مسکینوں اور مسا فروں پر، مدد کے لیے ہاتھ پھیلانے والوں پر اور غلاموں کی رہائی پر خرچ کرے، نماز قائم کرے اور زکوٰة دے۔ اور نیک وہ لوگ ہیں کہ جب عہد کریں تو اسے وفا کریں، اور تنگدستی و مصیبت کے وقت میں اور حق و باطل کی جنگ میں صبر کریں۔ یہ ہیں راستباز لوگ اور یہی لوگ متقی ہیں۔
اے لوگو جو ایمان لائے ہو، تمہارےلیے قتل کے مقدموں میں قصاص176 کا حکم لکھ دیا گیا ہے۔ آزاد آدمی نےقتل کیا ہو تو آزاد ہی سے بدلہ لیا جائے ، غلام قاتل ہو تو غلام ہی قتل کیا جائے،اور عورت اس جرم کی مرتکب ہو تو اس عورت ہی سے قصاص177 لیا جائے۔ ہاں اگر کسی قاتل کے ساتھ اس کا بھائی کچھ نرمی کرنے کے لیے تیار ہو،178 تو معروف طریقے179 کے مطابق خوں بہا کا تصفیہ ہو نا چاہیے اور قاتل کو لازم ہے کہ راستی کے ساتھ خوں بہا ادا کرے۔ یہ تمہارے رب کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے۔ اس پر بھی جو زیادتی کرے،180 اس کے لیےدرد ناک سزاہے۔
عقل و خردر کھنے والو!تمہارے لیے قصاص میں زندگی ہے۔181 امید ہے کہ تم اس قانون کی خلاف ورزی سے پرہیز کرو گے۔
تم پر فرض کیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آئے اور وہ اپنے پیچھے مال چھوڑ رہا ہو، تو والدین اور رشتہ داروں کے لیے معروف طریقے سے وصیت کرے۔ یہ حق ہے متقی لوگوں پر۔182
پھر جنھوں نے وصیت سنی اور بعد میں اسے بدل ڈالا، تو اس کا گناہ ان بدلنے والوں پر ہو گا۔ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔
البتہ جس کو یہ اندیشہ ہو کہ وصیت کرنے والے نے نادانستہ یا قصداً حق تلفی کی ہے، اور پھر معاملے سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان وہ اصلاح کرے، تو اس پر کچھ گناہ نہیں ہے، اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ ؏۲۲
183-188اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، تم پر روزے فرض کر دیے گئے ، جس طرح تم سے پہلے انبیا کے پیرووں پر فرض کیے گئے تھے ۔ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی۔183
چند مقرر دنوں کے روزے ہیں۔ اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو ، یا سفر پر ہو تو دُوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کر لے۔ اور جو لوگ روزہ رکھنے کی قدرت رکھتے ہوں(پھر نہ رکھیں)تو وہ فدیہ دیں۔ ایک روزے کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے اور جو اپنی خوشی سے زیادہ بھلائی کرے184 ، تو یہ اسی کے لیے بہتر ہے۔ لیکن اگر تم سمجھو ، تو تمہارے حق میں اچھا یہی ہے کہ تم روزہ رکھو۔ 185
رمضان وہ مہینہ ہے ، جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے ، جو راہِ راست دکھانے والی اور حق و باطل کا فرق کھول کر رکھ دینے والی ہے۔ لہٰذا اب سے جو شخص اس مہینے کو پائے ، اُس پر لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے۔ اور جو کوئی مریض ہویا سفر پر ہو ، تو وہ دُوسرے دنوں میں تعداد پوری کرے ۔186 اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے ، سختی کرنا نہیں چاہتا۔ اس لیے یہ طریقہ تمہیں بتایا جارہا ہے تاکہ تم روزوں کی تعداد پوری کرسکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے ، اُس پر اللہ کی کبریائی کا اظہار واعتراف کرو اور شکر گزار بنو۔187
اور اے نبیؐ ، میرے بندے اگر تم سے میرے متعلق پوچھیں، تو اُ نھیں بتا دو کہ میں اُن سے قریب ہی ہوں۔پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے ، میں اُس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں۔ لہٰذا انھیں چاہیے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں 188یہ بات تم اُنھیں سُنادو شاید کہ وہ راہِ راست پالیں۔189
تمہارے لیے روزوں کے زمانے میں راتوں کو اپنی بیویوں کے پاس جانا حلال کردیا گیا ہے۔ وہ تمہارے لیے لباس ہیں اور تم اُن کے لیے۔190 اللہ کو معلوم ہوگیا کہ تم لوگ چُپکے چُپکے اپنے آپ سے خیانت کر رہے تھے ، مگر اُس نے تمہارا قصُور معاف کر دیا اور تم سے درگزر فرمایا۔ اب تم اپنی بیویوں کے ساتھ شب باشی کرو اور جو لُطف اللہ نے تمہارے لیے جائز کردیا ہے ، اُسے حاصل کرو۔191 نیز راتوں کو کھاوٴ پیو192 یہاں تک کہ تم کو سیاہیِ شب کی دھاری سے سپیدہ ٴ صبح کی دھاری نمایا ں نظر آجائے۔193 تب یہ سب کام چھوڑ کر رات تک اپنا روزہ پُورا کرو ۔194 اور جب تم مسجدوں میں معتکف ہو ، تو بیویوں سے مباشرت نہ کرو ۔195 یہ اللہ کی باندھی ہوئی حدیں ہیں، ان کے قریب نہ پھٹکنا۔196 اس طرح اللہ اپنے احکام لوگوں کے لیے بصراحت بیان کرتا ہے ، توقع ہے کہ وہ غلط رویےّ سے بچیں گے۔
اور تم لوگ نہ تو آپس میں ایک دُوسرے کے مال ناروا طریقہ سے کھاوٴ اور نہ حاکموں کے آگے ان کو اس غرض کے لیے پیش کرو کہ تمہیں دُوسروں کے مال کا کوئی حصہّ قصداً ظالمانہ طریقے سے کھانے کا موقع مل جائے ۔197 ؏۲۳
189-196لوگ تم سے چاند کی گھٹتی بڑھتی صورتوں کے متعلق پوچھتے ہیں۔ کہو : یہ لوگوں کے لیے تاریخوں کی تعیین کی اور حج کی علامتیں ہیں۔198 نیز ان سےکہو : یہ کوئی نیکی کا کام نہیں ہے کہ تم اپنے گھروں میں پیچھے کی طرف سے داخل ہوتے ہو۔نیکی تو اصل میں یہ ہے کہ آدمی اللہ کی ناراضی سے بچے۔ لہٰذا تم اپنے گھروں میں دروازےہی سے آیا کرو۔ البتہ اللہ سے ڈرتے رہو۔ شاید کہ تمھیں فلاح نصیب ہو جائے۔199
اور تم اللہ کی راہ میں ان لوگوں سے لڑو، جو تم سے لڑتے ہیں200 ، مگر زیادتی نہ کرو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا 201۔
ان سے لڑو جہاں بھی تمہارا ان سے مقابلہ پیش آئے اور انھیں نکالو جہاں سے انھوں نے تم کو نکالا ہے، اس لیے کہ قتل اگرچہ بُرا ہے، مگر فتنہ اس سے زیادہ بُرا ہے۔202 اور مسجد حرام کے قریب جب تک وہ تم سے نہ لڑیں ، تم بھی نہ لڑو، مگر جب وہ وہاں لڑنے سے نہ چوکیں، تو تم بھی بے تکلف انھیں مارو کہ ایسے کافروں کی یہی سزا ہے۔
پھر اگر وہ باز آجائیں، تو جان لو کہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والاہے۔203
تم ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لیے ہو جائے۔204 پھر اگر وہ باز آجائیں ، تو سمجھ لو کہ ظالموں کے سوا اور کسی پر دست درازی روا نہیں ۔205
ماہِ حرام کا بدلہ ماہِ حرام ہی ہے اور تمام حرمتوں کا لحاظ برابری کے ساتھ ہوگا۔206 لہٰذا جو تم پر دست درازی کرے، تم بھی اسی طرح اس پر دست درازی کرو ۔ البتہ اللہ سے ڈرتے رہو اور یہ جان رکھو کہ اللہ انھیں لوگوں کے ساتھ ہے، جو اس کی حدود توڑنے سے پرہیز کرتے ہیں ۔
اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔207 احسان کا طریقہ اختیا ر کرو کہ اللہ محسنوں کو پسند کرتا ہے۔208
اللہ کی خوشنودی کے لیے جب حج اور عمرے کی نیت کر و، تو اسے پورا کرو، اور اگر کہیں گر جاؤ تو جو قربانی میسر آئے، اللہ کی جناب میں پیش کرو209 اور اپنےسر نہ مونڈو جب تک کہ قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے۔210مگر جو شخص مریض ہو یا جس کے سر میں کوئی تکلیف ہو اس بناء پر اپنا سر منڈوالے، تو اسے چاہیے کہ فدیہ کے طور پر روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے۔211 پھر اگر تمہیں امن نصیب ہو جا ئے212(اور تم حج سے پہلے مکہ پہنچ جاؤ )، تو جو شخص تم میں سے حج کا زمانہ آنے تک عمرے کا فائدہ اٹھائے ، وہ حسب مقدور قربانی دے، اور اگر قربانی میسر نہ ہو ، تو تین روزے حج کے زمانے میں اور سات گھر پہنچ کر ، اس طرح پورے دس روزے رکھ لے۔ یہ رعایت ان لوگو ں کے لیے ہے ، جن کے گھر بار مسجد حرام کے قریب نہ ہوں ۔213 اور اللہ کے ان احکام کی خلاف ورزی سے بچو اور خوب جان لو کہ اللہ سخت سزا دینے والا ہے۔ ؏۲۴
197-210حج کے مہینے سب کو معلوم ہیں۔ جو شخص ان مقرر مہینوں میں حج کی نیّت کرے، اُسے خبردار رہنا چاہیے کہ حج کے دوران میں اس سے کوئی شہوانی فعل214 ، کوئی بدعملی،215کوئی لڑائی جھگڑے کی بات216 سرزد نہ ہو ۔ اور جو نیک کام تم کرو گے ، وہ اللہ کے علم میں ہوگا۔ سفرِحج کے لیے زادِ راہ ساتھ لے جاوٴ۔ اور سب سے بہتر زادِراہ پرہیزگاری ہے ۔ پس اے ہوشمندو ! میری نافرمانی سے پرہیزکرو۔217
اور اگر حج کے ساتھ ساتھ تم اپنے ربّ کا فضل بھی تلاش کرتے جاوٴ ۔ تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔218 پھر جب عرفات سے چلو، تو مشعرِ حرام (مزدلفہ)کے پاس ٹھیر کر اللہ کو یاد کرو اور اُس طرح یاد کرو ۔ جس کی ہدایت اس نے تمہیں دی ہے، ورنہ اس سے پہلے تم لوگ بھٹکے ہوئے تھے ۔219
پھر جہاں سے اور سب لوگ پلٹتے ہیں وہیں سے تم بھی پلٹو اور اللہ سے معافی چاہو،220 یقیناً وہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔
پھر جب اپنے حج کے ارکان ادا کر چکو، تو جس طرح پہلے اپنے آبا واجداد کا ذکر کرتے تھے ، اُسی طرح اب اللہ کا ذکر و، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ۔221 (مگر اللہ کو یاد کرنے والے لوگوں میں بھی بہت فرق ہے )اُن میں سے کوئی تو ایسا ہے ، جو کہتا ہے کہ اے ہمارے ربّ ، ہمیں دنیا ہی میں سب کچھ دے دے۔ ایسے شخص کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔
اور کوئی کہتا ہے کہ اے ہمارے رب ! ہمیں دنیا میں بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی، اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔
ایسےلوگ اپنی کمائی کے مطابق (دونوں جگہ )حصہ پائیں گےاور اللہ کو حساب چکاتے کچھ دیر نہیں لگتی۔
یہ گنتی کے چندروز ہیں ، جو تمہیں اللہ کے یاد میں بسر کرنے چاہئیں۔ پھر جو کوئی جلدی کرکےدو ہی دن میں واپس ہو گیا تو کوئی حرج نہیں، اور جو کچھ دیر زیادہ ٹھیر کرپلٹا تو بھی کوئی حرج نہیں۔222 بشرطیکہ یہ دن اس نے تقوٰی کے ساتھ بسر کیے ہوں۔۔۔۔ اللہ کی نافرمانی سے بچو اور خوب جان رکھو کہ ایک روز اس کے حضور میں تمہاری پیشی ہونے والی ہے ۔
انسانوں میں کوئی تو ایسا ہے، جس کی باتیں دنیا کی زندگی میں تمہیں بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں، اور اپنی نیک نیتی پر وہ بار بار خدا کو گواہ ٹھیراتا ہے223، مگر حقیقت میں وہ بد ترین دشمن ِ حق ہوتا ہے۔224
جب اسے اقتدار حاصل ہو جاتا ہے225، تو زمین میں اس کی ساری دوڑ دھوپ اس لیے ہو تی ہےکہ فساد پھیلائے، کھیتوں کو غارت کرے اور نسل ِ انسانی کو تباہ کرے۔حالانکہ اللہ (جسے وہ گواہ بنا رہاتھا)فساد کو ہر گز پسند نہیں کرتا۔
اور جب اس سے کہا جا تا ہے کہ اللہ سے ڈر ، تو اپنے وقار کا خیال اس کو گناہ پر جما دیتا ہے ۔ ایسے شخص کے لیے تو بس جہنم ہی کافی ہے اور وہ بہت برا ٹھکانہ ہے۔
دوسری طرف انسانوں ہی میں کوئی ایسا بھی ہے، جو رضا ئے الٰہی کی طلب میں اپنی جان کھپا دیتا ہےاو ر ایسے بندوں پر اللہ بہت مہر بان ہے۔
اے ایمان لانے والو! تم پورے کے پورے اسلام میں آجاؤ226 اور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔
جو صاف صاف ہدایات تمہارے پاس آچکی ہیں، اگر ان کو پا لینے کے بعد پھر تم نے لغزش کھائی، تو خوب جان رکھو کہ اللہ سب پر غالب اور حکیم و دانا ہے۔227
(ان ساری نصیحتو ں اور ہدایتوں کے بعد بھی لوگ سیدھے نہ ہو ں ، تو ) کیا اب وہ اس کے منتظر ہیں کہ اللہ بادلوں کا چتر لگائے فرشتوں کے پرے ساتھ لیے خود سامنے آ موجود ہو اور فیصلہ ہی کر ڈالاجائے؟228۔آخر کار سارے معاملات پیش تو اللہ ہی کے حضور ہونے والے ہیں ۔؏۲۵
211-216بنی اسرئیل سے پوچھو: کیسی کھلی کھلی نشانیاں ہم نے انھیں دکھائی ہیں(اور پھر یہ بھی انہیں سے پوچھ لو کہ ) اللہ کی نعمت پانے کے بعد جو قوم اس کو شقاوت سے بدلتی ہے اسے اللہ کیسی سخت سزا دیتا ہے۔229
جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے، ان کے لیے دنیا کی زندگی بڑی محبوب و دل پسند بنادی گئی ہے۔ ایسے لوگ ایمان کی راہ اختیار کرنے والوں کا مذاق اڑاتے ہیں، مگر قیامت کے روز پرہیز گار لوگ ہی ان کے مقابلے میں عالی مقام ہوں گے۔ رَہا دنیا کا رزق ، تو اللہ کو اختیار ہے ، جسے چاہے بے حساب دے۔
ابتداء میں سب لوگ ایک ہی طریقے پر تھے۔ (پھر یہ حالت باقی نہ رہی اور اختلافات رونما ہوئے) تب اللہ نے نبی بھیجے جو راست روی پر بشارت دینے والے اور کج ر وی کے نتائج سےڈرانے والے تھے، اور ان کے ساتھ کتاب ِبر حق نازل کی تا کہ حق کے بارے میں لوگوں کے درمیان جو اختلافات رونما ہو گئے تھے، ان کا فیصلہ کرے۔ (اور ان اختلافات کے رونما ہونے کی وجہ یہ نہ تھی کہ ابتداء میں لوگوں کو حق بتایا نہیں گیا تھا۔ نہیں،) اختلاف ان لوگوں نے کیا ، جنہیں حق کا علم دیا چکاتھا۔ انھوں نے روشن ہدایات پا لینے کے بعد محض اس لیے حق کو چھوڑ کر مختلف طریقے نکالےکہ وہ آپس میں زیادتی کرنا چاہتے تھے230۔۔۔۔ پس جو لوگ انبیاؑ پر ایمان لے آئے، انہیں اللہ نے اپنے اذن سے اس حق کا راستہ دکھادیا، جس میں لوگوں نے اختلاف کیا تھا۔ اللہ جسے چاہتا ہے ، راہِ راست دکھا دیتا ہے۔
پھر کیا231 تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یوُ نہی جنت کا داخلہ تمہیں مِل جائے گا، حالانکہ ابھی تم پر وہ سب کچھ نہیں گزرا ہے، جو تم سے پہلے ایمان لانے والوں پر گزر چکا ہے؟ ان پر سختیاں گزر یں، مصیبتیں آئیں، ہلا مارے گئے، حتٰی کہ وقت کا رسول اور اس کےساتھی اہل ایمان چیخ اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی۔۔۔۔ اس وقت انھیں تسلّی دی گئی کہ ہاں اللہ کی مدد قریب ہے۔
لوگ پوچھتے ہیں ہم کیا خرچ کریں؟ جواب دو کہ جو مال بھی تم خرچ کرو اپنے والدین پر ، رشتے داروں پر، یتیموں او ر مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرو۔ اور جو بھلائی بھی تم کرو گے، اللہ اس سے باخبر ہو گا۔
تمہیں جنگ کا حکم دیا گیا ہے اور وہ تمہیں ناگوار ہے۔۔۔۔ ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں ناگوار ہو اور وہی تمہارے لیے بہتر ہو۔ اور ہو سکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند ہو اور وہی تمہارے لیے بری ہو۔ اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے۔؏۲۶
217-221لوگ پوچھتے ہیں ماہِ حرام میں لڑنا کیسا ہے؟ کہو: اس میں لڑنا بہت برا ہے ، مگرراہِ خُدا سے لوگوں کو روکنا اور اللہ سے کفر کرنا اور مسجدِحرام کا راستہ خُدا پرستوں پر بند کرنا اور حرم کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کےنزدیک اس سے بھی زیادہ برا ہے اور فتنہ خونریزی سے شدیدتر ہے۔232 وہ تو تم سے لڑے ہی جائیں گےحتٰی کہ اگر ان کا بس چلے، تو تمہیں اس دین سے پھیر لے جائیں۔ (اور یہ خوب سمجھ لو کہ )تم میں سے جو کوئی اس دین سے پھرے گا اور کفر کی حالت میں جان دے گا، اس کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں ضائع ہو جائیں گے۔ ایسے سب لوگ جہنمی ہیں اور ہمیشہ جہنم ہی میں رہیں گے ۔233
بخلاف اس کے جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنھوں نے خدا کی راہ میں اپنا گھر بار چھوڑا اور جہاد کیا ہے234، وہ رحمت ِ الٰہی کے جائز امید وار ہیں اور اللہ ان کی لغزشوں کو معاف کرنے والا اور اپنی رحمت سے انھیں نوازنے والا ہے۔
پوچھتے ہیں : شراب اور جوئے کا کیا حکم ہے؟ : ان دونوں چیزوں میں بڑی خرابی ہے۔ اگرچہ ان میں لوگوں کے لیے کچھ منافع بھی ہیں ، مگر ان کا گناہ ان کے فائدے سے بہت زیادہ ہے۔235 پوچھتے ہیں : ہم راہ خدا میں کیا خرچ کریں ؟ کہو : جو کچھ تمہاری ضرورت سے زیادہ ہو۔ اس طرح اللہ تمہارے لیےصاف صاف احکام بیان کرتا ہے،شاید کہ تم دنیا اور آخرت دونوں کی فکر کرو۔
پوچھتے ہیں: یتیموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے؟ کہو : جس طرز عمل میں ان کے لیے بھلائی ہو ، وہی اختیار کرنا بہتر ہے۔236 اگر تم اپنا اور ان کا خرچ اور رہنا سہنا مشترک رکھو، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔ آخر وہ تمہارے بھائی بند ہی تو ہیں ۔ برائی کرنے والے اور بھلائی کرنے والے، دونوں کا حال اللہ پر روشن ہے۔اللہ چاہتا تو اس معاملہ میں تم پر سختی کرتا مگر وہ صاحب اختیار ہونے کے ساتھ صاحب حکمت بھی ہے۔
تم مشرک عورتوں سے ہرگز نکاح نہ کرنا ، جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں ۔ ایک مومن لونڈی مشرک شریف زادی سے بہتر ہے ، اگرچہ وہ تمہیں بہت پسند ہو ۔ اور اپنی عورتوں کے نکاح مشرک مردوں سے کبھی نہ کرنا، جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں۔ ایک مومن غلام مشرک شریف سے بہتر ہے اگرچہ وہ تمہیں بہت پسند ہو۔ یہ لوگ تمہیں آگ کر طرف بلاتے ہیں237 اور اللہ اپنے اذن سے تم کو جنت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے، اور وہ اپنے احکام واضح طور پر لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے، توقع ہے کہ وہ سبق لیں گے اور نصیحت قبول کریں گے۔؏۲۷
222-228پوچھتے ہیں: حیض کا کیا حکم ہے؟ کہو: وہ ایک گندگی کی حالت ہے۔238 اس میں عورتوں سے الگ رہو اور ان کے قریب نہ جاؤ، جب تک کہ وہ پاک صاف نہ ہو جائیں239۔پھر جب وہ پاک ہو جائیں، تو ان کے پاس جاؤ اس طرح جیسا کہ اللہ نے تم کو حکم دیا ہے۔240 اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے، جو بدی سے باز رہیں اور پاکیزگی اختیار کریں۔
تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں۔ تمہیں اختیار ہے، جس طرح چاہو، اپنی کھیتی میں جاؤ241، مگر اپنے مستقبل کی فکر کرو242 اور اللہ کی ناراضی سے بچو۔ خوب جان لو کہ تمہیں ایک دن اس سے ملنا ہے۔ اور اے نبیؐ ! جو تمہاری ہدایت کو مان لیں انہیں فلاح وسعادت کا مژدہ سنادو۔
اللہ کے نام کو ایسی قسمیں کھانے کے لیے استعمال نہ کرو، جن سے مقصود نیکی اور تقوٰی اور بندگان خدا کی بھلائی کے کاموں سے باز رہنا ہو۔243 اللہ تمہاری باتین سن رہا ہے اور سب کچھ جانتا ہے ۔
جو بے معنی قسمیں تم بلا ارادہ کھا لیا کرتے ہو، ان پر اللہ گرفت نہیں کرتا،244مگر جو قسمیں تم سچے دل سے کھاتے ہو، ان کی باز پرس وہ ضرور کرے گا۔ اللہ بہت درگزر کرنے والا اور بردبار ہے۔
جو لوگ اپنی عورتوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھا بیٹھتے ہیں، ان کے لیے چار مہینے کی مہلت ہے245۔ اگر انھوں نے رجوع کرلیا، تو اللہ معاف کرنے والا اور رحیم ہے۔246
اور اگر انہوں نے طلاق ہی کی ٹھان لی 247ہو تو جانے رہیں کہ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔248
جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو ، وہ تین مرتبہ ایّام ِ ماہواری آنے تک اپنے آپ کو روکے رکھیں اور ان کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ اللہ نے ان کے رحم میں جو کچھ خَلق فرمایا ہو، اسے چھپائیں۔ انھیں ہرگز ایسا نہ کرنا چاہیے، اگر وہ اللہ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتی ہیں۔ ان کے شوہر تعلقات درست کر لینے پر آمادہ ہوں، تو وہ اس عدّت کے دوران میں انھیں پھر اپنی زوجیّت میں واپس لے لینے کے حق دار ہیں۔249 عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں، جیسے مَردوں کے حقوق ان پر ہیں۔ البتہ مردوں کو ان پر ایک درجہ حاصل ہے۔ اور سب پر اللہ غالب اقتدار رکھنے والا اور حکیم ودانا موجود ہے۔؏۲۸
229-231طلاق دو بار ہے ۔ پھر یا تو سیدھی طرح عورت کو روک لیا جائے یا بھلے طریقے سے اس کو رخصت کر دیا جائے۔250 اور رخصت کرتے ہوئے ایسا کرنا تمہارے لیے جائز نہیں ہے کہ جو کچھ تم انہیں دے چکے ہو ، اس میں سے کچھ واپس لے لو۔251البتہ یہ صورت مستشنٰی ہےکہ زوجین کو اللہ کے حدود پر قائم نہ رہ سکنے کا اندیشہ ہو۔ ایسی صورت میں اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں حدود الٰہی پر قائم نہ رہیں گے، تو ان دونوں کے درمیان یہ معاملہ ہو جانے میں مضائقہ نہیں کہ عورت اپنے شوہر کو معاوضہ دے کر علیحدگی حاصل کرلے۔252 یہ اللہ کے مقرر کردہ حدود ہیں، ان سے تجاوز نہ کرو۔ اور جو لوگ حدود الٰہی سے تجاوز کریں، وہی ظالم ہیں۔
پھر اگر (دوبار طلاق دینے کے بعد شوہر نے عورت کو تیسری بار) طلاق دے دی، تو وہ عورت پھر اس کے لیے حلال نہ ہو گی، اِلّا یہ کہ اس کا نکاح کسی دوسرے شخص سے ہو اور وہ اسے طلاق دیدے۔253 تب اگر پہلا شوہر اوریہ عورت دونوں یہ خیال کریں کہ حدودِ الٰہی پر قائم رہیں گے،تو ان کے لیے ایک دوسرےکی طرف رجوع کر لینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں، جنھیں وہ ان لوگوں کی ہدایت کے لیے واضح کر رہا ہے، جو (اس کی حدوں کو توڑنے کا انجام ) جانتے ہیں۔
اور جب تم عورتوں کو طلاق دیدو اور ان کی عدّت پوری ہونے کو آجائے، تو یا بھلے طریقے سے انہیں روک لو یا بھلے طریقے سے رخصت کردو۔ محض ستانے کی خاطر انہیں نہ روکے رکھنا کہ یہ زیادتی ہو گی اور جو ایسا کرے گا، وہ درحقیقت آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرے گا۔ 254اللہ کی آیات کا کھیل نہ بناؤ۔ بھول نہ جاؤ کہ اللہ نے کس نعمت عظمٰی سے تمہیں سرفراز کیا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہےکہ جو کتاب اور حکمت اس نے تم پر نازل کی ہے، اس کا احترام ملحوظ رکھو۔ 255اللہ سے ڈرو اور خوب جان لو کہ اللہ کو ہر بات کی خبر ہے۔ ؏۲۹
232-235جب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے چکو اور وہ عدّت پوری کر لیں، تو پھر اس میں مانع نہ ہو کہ وہ اپنے زیرِ تجویز شوہروں سے نکاح کر لیں، جب کہ وہ معروف طریقے سے با ہم مناکحت پر راضی ہوں۔ 256تمہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ ایسی حرکت ہرگز نہ کرنا، اگر تم اللہ اور روزِ آخر پر ایمان لانے والے ہو۔ تمہارے لیے شائستہ اور پاکیزہ طریقہ یہی ہے کہ اس سے باز رہو۔ اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔
جو باپ چاہتے ہوں کہ ان کی اولاد پوری مدّت رضاعت تک دودھ پیے، تو مائیں اپنے بچّوں کو کامل دو سال دودھ پلائیں۔257 اس صورت میں بچّے کے باپ کو معروف طریقے سے انہیں کھانا کپڑا دینا ہو گا۔ مگر کسی پر اس کی وسعت سے بڑھ کر با ر نہ ڈالنا چاہیے، نہ تو ماں کو اس وجہ سے تکلیف میں ڈالا جائے کہ بچّہ اس کا ہے، اور نہ باپ ہی کو اس وجہ سے تنگ کیا جائے کہ بچّہ اس کا ہے۔ دودھ پلانے والی کا یہ حق جیسا بچّے کے باپ پر ہے، ویسا ہی اس کے وارث پربھی ہے258۔ لیکن اگر فریقین باہمی رضا مندی اور مشورے سے دودھ چھڑانا چاہیں، تو ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اور اگر تمہارا خیال اپنی اولاد کو کسی غیر عورت سے دودھ پلوانے کا ہو، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں بشرطیکہ اس کا جو کچھ معاوضہ طے کرو، وہ معروف طریقے پر ادا کردو۔ اللہ سے ڈرو اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو ، سب اللہ کی نظر میں ہے۔
تم میں سے جو لوگ مر جائیں ، ان کے پیچھے اگر ان کی بیویاں زندہ ہوں، تو وہ اپنے آپ کو چار مہینے ، دس دن روکے رکھیں۔ 259پھر جب ان کی عدّت پوری ہو جائے، تو انہیں اختیار ہے، اپنی ذات کے معاملے میں معروف طریقے سے جو چاہیں، کریں ۔ تم پر اس کی کوئی ذمّے داری نہیں۔ اللہ تم سب کے اعمال سے باخبر ہے۔
زمانہٴ عدّت میں خواہ تم ان بیوہ عورتوں کےساتھ منگنی کا ارادہ اشارے کنا یے میں ظاہر کردو، خواہ دل میں چھپائے رکھو، دونوں صورتوں میں کوئی مضائقہ نہیں۔ اللہ جانتا ہے کہ ان کا خیال تو تمہارےدل میں آئے گا ہی۔ مگر دیکھو! خفیہ عہد وپیمان نہ کرنا۔ اگر کوئی بات کرنی ہے، تومعروف طریقے سے کرو۔ اور عقدِ نکاح باندھنے کا فیصلہ اس وقت تک نہ کرو، جب تک کہ عدّت پوری نہ ہو جائے، خوب سمجھ لو کہ اللہ تمہارے دلوں کا حال تک جانتا ہے۔ لہٰذا اس سے ڈرو اور یہ بھی جان لو کہ اللہ بُرد بار ہے، چھوٹی چھوٹی باتوں سے درگزر فرماتا ہے۔؏۳۰
236-242تم پر کچھ گناہ نہیں، اگر اپنی عورتوں کو طلاق دے دو قبل اس کے کہ ہاتھ لگانے کی نوبت آئے یا مہر مقرر ہو۔ اس صورت میں انھیں کچھ نہ کچھ دینا ضرور چاہیے۔260 خوش حال آدمی اپنی مقدرت کے مطابق اور غریب اپنی مقدرت کے مطابق معروف طریقہ سے دے۔ یہ حق ہے نیک آدمیوں پر۔
اور اگر تم نے ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی ہو ، لیکن مہرمقرر کیا جاچکا ہو، جس کے اختیار میں عقدِ نکاح ہے، نرمی سے کام لے( اور پورا مہر دیدے)، اور تم (یعنی مرد) نرمی سے کام لو، تو یہ تقوٰی سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ آپس کے معاملات میں فیّاضی کو نہ بھولو۔ تمہارے اعمال کو اللہ دیکھ رہاہے۔261
اپنی نمازوں کی نگہداشت262 رکھو، خصوصاً ایسی نماز کی جو محاسِن صلوٰة کی جامع ہو۔263 اللہ کے آگے اس طرح کھڑے ہو، جیسے فرماں بردار غلام کھڑے ہوتےہیں۔
بدامنی کی حالت ہو تو خواہ پیدل ہو، خواہ سوار، جس طرح ممکن ہو ، نماز پڑھو۔ اور جب امن میسّر آجائے، تو اللہ کو اس طریقے سے یاد کرو، جو اس نے تمہیں سکھادیا ہے، جس سے تم پہلے ناواقف تھے۔
تم میں264 سے جو لوگ وفات پائیں اور پیچھے بیویاں چھوڑرہےہوں، ان کو چاہیے کہ اپنی بیویوں کے حق میں یہ وصیّت کر جائیں کہ ایک سال تک ان کو نان و نفقہ دیا جائے اور وہ گھر سے نہ نکالی جائیں۔پھر اگر وہ خود نکل جائیں، تو اپنی ذات کے معاملے میں معروف طریقے سے وہ جو کچھ بھی کریں، اس کی کوئی ذمّہ داری تم پر نہیں ہے، اللہ سب پر غالب اقتدار رکھنے والا اور حکیم و دانا ہے۔
اسی طرح جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو، انھیں بھی مناسب طور پر کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کیا جائے۔ یہ حق ہے متقی لوگوں پر۔
اس طرح اللہ اپنے احکام تمہیں صاف صاف بتاتا ہے۔ امید ہے کہ تم سمجھ بوجھ کر کام کرو گے۔؏۳١
243-248265تم نے ان لوگوں کے حال پر بھی کچھ غور کیا، جو موت کے ڈر سے اپنے گھر بار چھوڑکر نکلے تھے اور ہزاروں کی تعداد میں تھے؟ اللہ نے ان سے فرمایا: مر جاؤ۔ پھر اس نےا ن کو دوبارہ زندگی بخشی۔266 حقیقت یہ ہے کہ اللہ انسان پر بڑا فضل فرمانے والا ہے، مگر اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔
مسلمانو! اللہ کی راہ میں جنگ کرو اور خوب جان رکھو کہ اللہ سننے والا اور جاننے والا ہے۔
تم میں کون ہے جو اللہ کو قرض ِ حَسَن دے267 تاکہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا چڑھا کر واپس کرے؟ گھٹانا بھی اللہ کے اختیار میں ہے اور بڑھا نا بھی، اور اسی کی طرف تمہیں پلٹ کر جانا ہے۔
پھر تم نے اس معاملے پر بھی غور کیا، جو موسیٰ ؑ کے بعد سردار ان بنی اسرائیل کو پیش آیا تھا؟ انہوں نے اپنے نبی سے کہا: ہمارے لیے ایک بادشاہ مقرر کر دو تاکہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ کریں۔268 نبی نے پوچھا: کہیں ایسا تو نہ ہو گا کہ تم کو لڑائی کا حکم دیا جائے اور پھر تم نہ لڑو۔ وہ کہنےلگے: بھلا یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ہم راہ ِ خدا میں نہ لڑیں، جبکہ ہمیں اپنے گھروں سے نکال دیاگیا اور ہمارے بال بچے ہم سے جُدا کر دیے گئے ہیں مگر جب ان کو جنگ کا حکم دیا گیا ، تو ایک قلیل تعداد کے سوا وہ سب پیٹھ موڑ گئے، اور اللہ ان میں سے ایک ایک ظالم کو جانتا ہے۔
ان کے نبی نے ان سے کہا کہ اللہ نے طالوت269 کو تمہارے لیے بادشاہ مقرر کیا ہے۔ یہ سن کر وہ بولے: ”ہم پر بادشاہ بننےکا وہ کیسے حقدار ہو گیا؟ اس کے مقابلے میں بادشاہی کے ہم زیادہ مستحق ہیں ۔ وہ تو کوئی بڑا مالدار آدمی نہیں ہے“۔ نبی نے جواب دیا:”اللہ نے تمہارے مقابلے میں اسی کو منتخب کیا ہے اور اس کو دماغ و جسمانی دونوں قسم کی اہلیتیں فراوانی کے ساتھ عطا فرمائی ہیں اور اللہ کو اختیار ہے کہ اپنا ملک جسے چاہے دے، اللہ بڑی وسعت رکھتا ہے او ر سب کچھ اس کےعلم میں ہے۔“
اس کے ساتھ ان کے نبی نے ان کو یہ بھی بتایا کہ”خدا کی طرف سے اس کے بادشاہ مقرر ہونے کی علامت یہ ہے کہ اس کے عہد میں وہ صندوق تمہیں واپس مل جائے گا، جس میں آلِ موسیٰ ؑ اور آلِ ہارونؑ کے چھوڑے ہوئے تبّرکات ہیں، اور جس کو اس وقت فرشتے سنبھالے ہوئے ہیں۔270 اگر تم مومن ہو، تو یہ تمہارے لیے بہت بڑی نشانی ہے۔؏۳۲
249-253پھرجب طالوت لشکر لے کر چلا، تو اس نے کہا:”ایک دریا پر اللہ کی طرف سے تمہاری آزمائش ہونے والی ہے ۔ جو اس کا پانی پیے گا، وہ میرا ساتھی نہیں۔ میرا ساتھی صرف وہ ہےجو اس سے پیاس نہ بجھائے ، ہاں ایک آدھ چُلّو کوئی پی لے“مگر ایک گروہ قلیل کے سوا وہ سب اس دریا سے سیراب ہوئے۔ 271 پھر جب طالوت اور اس کے ساتھی مسلمان دریا پار کرکے آگے بڑھے، تو انہوں نے طالوت سے کہہ دیا کہ آج ہم میں جالوت اور اس کےلشکر وں کا مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے۔272 لیکن جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ انھیں ایک دن اللہ سےملنا ہے، انھوں نے کہا: ”بار ہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیا ہے۔ اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھی ہے۔“
اور جب وہ جالوت اور اس کے لشکروں کے مقابلہ پر نکلے، تو انہوں نے دعا کی: ”اے ہمارے رب ! ہم پر صبر کا فیضان کر ، ہمارے قدم جمادے اور اس کافر گروہ پر ہمیں فتح نصیب کر“۔
آ خر کا ر اللہ کےاذن سے انھوں نے کافروں کومار بھگایا اور داوٴد ؑ 273 نے جالوت کو قتل کردیا اور اللہ نے اسے سلطنت اور حکمت سے نوازا اور جِن جِن چیزوں کا چاہا، اس کو علم دیا۔ اگر اس طرح اللہ انسانوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ذریعے سے ہٹاتا نہ رہتا، تو زمین کا نظام بگڑ جاتا،274 لیکن دنیا کے لوگوں پر اللہ کا بڑا فضل ہے(کہ وہ اس طرح دفع فساد کا انتظام کرتا رہتا ہے)۔
یہ اللہ کی آیات ہیں، جو ہم ٹھیک ٹھیک تم کو سُنا رہے ہیں اور تم یقیناً ان لوگوں میں سے ہو، جو رسول بنا کر بھیجے گئے ہیں۔
یہ رسول (جو ہماری طرف سے انسانوں کی ہدایت پر مامور ہوئے) ہم نے ان کو ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر مرتبے عطا کیے۔ ان میں کوئی ایسا تھا جس سے خدا خود ہمکلام ہوا، کسی کو اس نے دوسری حیثیتوں سے بلند درجے دیے، اور آخر میں عیسٰی ؑ ابن مریم کو روشن نشانیاں عطا کیں اور روحِ پاک سے اس کی مدد کی۔ اگر اللہ چاہتا ، تو ممکن نہ تھا کہ ان رسولوں کے بعد جو لوگ روشن نشانیاں دیکھ چکے تھے، وہ آپس میں لڑتے۔ مگر(اللہ کی مشیّت یہ نہ تھی کہ وہ لوگوں کو جبّراً اختلاف سے روکے، اس وجہ سے) انہوں نے باہم اختلاف کیا، پھر کوئی ایمان لایا اور کسی نےکفر کی راہ اختیار کی۔ ہاں اللہ چاہتا، تو وہ ہرگز نہ لڑتے، مگر اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے۔275 ؏۳۳
254-257اے لوگوں جو ایمان لائے ہو، جو کچھ مال متاع ہم نے تم کو بخشا ہے، اس میں سے خرچ کرو 276قبل اس کے کہ وہ دن آئے، جس میں نہ خرید و فروخت ہو گی، نہ دوستی کام آئے گی اور نہ سفارش چلے گی۔ اور ظالم اصل میں وہی ہیں، جو کفر کی روش اختیار کرتے ہیں۔ 277
اللہ، وہ زندہ جاوید ہستی ، جو تمام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے، اس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے۔278نہ وہ سوتا ہے ، اور نہ اسے اونگھ لگتی ہے۔279 زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے، اسی کا ہے۔280، کون ہے جو اس کی جناب میں اس کی اجازت کے بغیر سفارش کر سکے؟281 جو کچھ بندوں کے سامنے ہے اسے بھی وہ جانتا ہے او ر جو کچھ ان سے اوجھل ہے، اس سے بھی وہ واقف ہے اور اس کی معلومات میں سے کوئی چیز ان کی گرفت ادراک میں نہیں آسکتی اِلّا یہ کہ کسی چیز کا علم وہ خود ہی ان کو دینا چاہے۔282 اس کی حکومت283 آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے اور ان کی نگہبانی اس کے لیے کوئی تھکا دینے والا کام نہیں ہے۔ بس وہی ایک بزرگ و برتر ذات ہے۔284
دین کے معاملے میں کوئی زورزبردستی نہیں ہے۔285 صحیح بات غلط خیالات سے الگ چھانٹ کر رکھ دی گئی ہے۔ اب جو کوئی طاغوت286 کا انکار کر کے اللہ پر ایمان لے آیا، اس نے ایک ایسا مضبوط سہارا تھام لیا، جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں، اور اللہ (جس کا سہارا اس نے لیا ہے) سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے ۔
جو لوگ ایمان لاتے ہیں، ان کا حامی و مدد گار اللہ ہے اور وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی میں نکال لاتا ہے۔287 اور جو لوگ کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں، ان کےحامی ومدد گار طاغوت288 ہیں اور وہ انھیں روشنی سے تاریکیوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں۔ یہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں، جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے۔؏۳۴
258-260289کیا تم نے اس شخص کے حال پر غور نہیں کیا ، جس نے ابراہیم ؑ سے جھگڑا کیا تھا؟ 290جھگڑا اس بات پر کہ ابراہیمؑ کا رب کون ہے، اور اس بنا پر کہ اس شخص کو اللہ نے حکومت دے رکھی تھی۔291 جب ابراہیم ؑ نے کہا کہ”میرا رب وہ ہے، جس کے اختیار میں زندگی اور موت ہے،” تو اس نے جواب دیا:”زندگی اور موت میرے اختیار میں ہے۔“ ابراہیم ؑ نےکہا :” اچھا، اللہ سورج کو مشرق سے نکالتا ہے، تو ذرا اسے مغرب سے نکال لا۔“ یہ سن کر وہ منکر ِ حق ششدر رہ گیا،292 مگراللہ ظالموں کو راہ راست نہیں دکھایا کرتا۔
یا پھر مثال کے طور پر اس شخص کو د یکھو، جس کا گزر ایک ایسی بستی پر ہوا، جو اپنی چھتیوں پر اوندھی گری پڑی تھی۔293 اس نے کہا:”یہ آبادی، جو ہلاک ہو چکی ہے، اسےاللہ کس طرح دو بارہ زندگی بخشے گا؟“294اس پر اللہ نےاس کی رُوح قبض کر لی اور وہ سو برس تک مردہ پڑا رہا۔ پھر اللہ نے اسے دوبارہ زندگی بخشی اور اس سے پوچھا:”بتاؤ ، کتنی مدّت پڑے رہے ہو؟“ اس نے کہا:”ایک دن یا چند گھنٹے رہاہوں گا۔“ فرمایا:”تم پر سو برس اسی حالت میں گزر چکے ہیں۔ اب ذرا اپنے کھانے اور پانی کو دیکھو کہ اس میں ذرا تغیّر نہیں آیا ہے۔ دوسری طرف ذرا اپنے گدھے کو بھی دیکھو(کہ اسکا پنجر تک بوسیدہ ہورہا ہے )۔ اور یہ ہم نے اس لیے کیا ہے کہ ہم تمہیں لوگوں کےلیے ایک نشانی بنا دینا چاہتے ہیں295 ۔پھر دیکھو کے ہڈیوں کے اس پنجر کو ہم کس طرح اٹھا کر گوشت پوست اس پر چڑھاتے ہیں۔“ اس طرح جب حقیقت اس کے سامنے بالکل نمایا ں ہو گئی ، تو اس نے کہا”میں جانتا ہو ں کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔“
اور وہ واقعہ بھی پیش نظر رہے، جب ابراہیم ؑ نے کہا تھا کہ” میرے مالک ! مجھے دکھا دے تُو مردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے۔ فرمایا: ”کیا تو ایمان نہیں رکھتا؟“ اس نے عرض کیا” ایمان تو رکھتاہوں ، مگر دل کا اطمینان درکار ہے۔“296 فرمایا:” اچھا ، تو چار پرندے لے اورا ن کو اپنے سے مانوس کر لے۔ پھر ان کا ایک ایک جز ایک ایک پہاڑ پر رکھ دے۔ پھر ان کو پکار ، وہ تیرے پاس دوڑے چلے آئیں گے۔ خوب جان لو کہ اللہ نہایت بااقتدار اور حکیم ہے۔“297 ؏۳۵
261-266298جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں صرف کرتے ہیں 299، ان کے خرچ کی مثال ایسی ہے، جیسے ایک دانا بویا جائے اور اس کے سات بالیں نکلیں اور ہر بال میں سو دانے ہوں۔ اسی طرح اللہ جس کے عمل کو چاہتا ہے، افزونی عطا فرماتا ہے۔ وہ فراخ دست بھی ہے اور علیم بھی۔300
جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور خرچ کرکے پھر احسان نہیں جتاتے، نہ دکھ دیتے ہیں ، ان کا اجر ان کے رب کے پاس ہے اور ان کے لیے کسی رنج اور خوف کا موقع نہیں۔301
ایک میٹھا بول اور کسی ناگوار بات پر ذرا سی چشم پوشی اس خیرات سے بہتر ہے، جس کے پیچھےدکھ ہو ۔ اللہ بے نیاز ہے اور برد باری اس کی صفت302 ہے۔
اے ایمان لانے والو!اپنے صدقات کو احسان جتاکر اور دکھ دے کر اس شخص کی طرح خاک میں نہ ملا دو ، جو اپنا مال محض لوگوں کے دکھانے کو خرچ کرتا ہےاور نہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے، نہ آخرت303 پر ۔ اس کے خرچ کی مثال ایسی ہے، جیسے ایک چٹان تھی، جس پر مٹی کی تہہ جمی ہوئی تھی ۔ اس پر جب زور کا مینہ برسا، تو ساری مٹی بہہ گئ اور صاف چٹان کی چٹان رہ گئی۔304 ایسے لوگ اپنے نزدیک خیرات کرکے جو نیکی کماتے ہیں، اس سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہیں آتا، اور کافروں کو سیدھی راہ دکھا نا اللہ کا دستور نہیں ہے305 ۔
بخلاف اس کے جو لوگ اپنے مال محض اللہ کی رضا جوئی کے لیے دل کے پورے ثبات و قرار کے ساتھ خرچ کرتے ہیں، ان کےخرچ کی مثال ایسی ہے، جیسے کسی سطح مرتفع پر ایک باغ ہو۔ اگر زور کی بارش ہو جائے تو دوگنا پھل لائے، اور اگر زور کی بارش نہ بھی ہو تو ایک ہلکی پھوارہی اس کے لیے کافی ہو جائے۔306 تم جو کچھ کرتے ہو ، سب اللہ کی نظر میں ہے۔
کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس ایک ہرا بھرا باغ ہو، نہروں سے سیراب، کھجوروں اور انگوروں اور ہر قسم کے پھلوں سے لدا ہوا ہو، اور وہ عین اس وقت ایک تیز بھگولے کی زد میں آکر جھلس جائے، جبکہ وہ خود بوڑھا ہو اور اس کے کمسن بچے ابھی کسی لائق نہ ہوں؟307 اس طرح اللہ اپنی باتیں تمہارے سامنے بیان کرتا ہے، شاید کہ تم غور وفکر کرو۔؏۳۶
267-273اے لوگو جو ایمان لائے ہو، جو مال تم نے کمائے ہیں اور جو کچھ ہم نے زمین سے تمہارے لیے نکالا ہے، اس میں سے بہتر حصہ راہ خدا میں خرچ کرو۔ ایسا نہ ہو کہ اس کی راہ میں دینے کےلیے بری سے بری چیز چھانٹنے کی کوشسش کرنے لگو، حالانکہ وہی چیز اگر کوئی تمہیں دے ، تو تم ہرگز اسے لینا گوارا نہ کرو گےاِلّا یہ کہ اس کو قبول کرنے میں تم اغماض برت جاؤ۔تمہیں جان لینا چاہیے کہ اللہ بے نیاز ہے اور بہترین صفات سے متصف ہے308 ۔
شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور شرمناک طرزِ عمل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے ، مگر اللہ تمہیں اپنی بخشش اور فضل کی اُمید دلاتا ہے۔ اللہ بڑا فراخ دست اور دانا ہے ۔
جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے، اور جس کو حکمت ملی ، اُسے حقیقت میں بڑی دولت مل گئی۔309 اِن باتوں سے صرف وہی لوگ سبق لیتے ہیں ،جو دانشمند ہیں۔
تم نے جو کچھ بھی خرچ کیا ہو اور جو نظر بھی مانی ہو ، اللہ کو اُس کا علم ہے، اور ظالموں کا کوئی مدد گار نہیں۔310
اگر اپنے صدقات اعلانیہ دو، تو یہ بھی اچھا ہے، لیکن اگر چھپا کر حاجت مندوں کودو، تو یہ تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے۔311 تمہاری بہت سی بُرائیاں اِس طرزِ عمل سے محوہوجاتی ہیں۔312 اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو بہر حال اُس کی خبر ہے۔
لوگوں کو ہدایت بخش دینے کی ذمّےداری تم پر نہیں ہے۔ ہدایت تو اللہ ہی جسے چاہتا ہے بخشتا ہے ۔ اور خیرات میں جو مال تم خرچ کرتے ہو وہ تمہارے اپنے لیے بھلاہے۔ آخر تم اسی لیے تو خرچ کرتے ہو کہ اللہ کی رضا حاصل ہو۔ تو جو کچھ مال تم خیرات کروگے، اس کا پُورا پُورا اجر تمہیں دیا جائے گا اور تمہاری حق تلفی ہرگز نہ ہوگی۔ 313
خاص طور پر مدد کے مستحق وہ تنگ دست لوگ ہیں جو اللہ کے کام میں ایسے گھِر گئے ہیں کہ اپنی ذاتی کسبِ معاش کے لیے زمین میں کوئی دَوڑ دھوپ نہیں کر سکتے۔ان کی خودداری دیکھ کرنا واقف آدمی گمان کرتا ہے کہ یہ خوش حال ہیں۔ تم ان کے چہروں سے ان کی اندرونی حالت پہچان سکتے ہو۔ مگر وہ ایسے لوگ نہیں ہیں کہ لوگوں کے پیچھے پڑکر کچھ مانگیں۔ اُن کی اعانت میں جو کچھ مال تم خرچ کروگےوہ اللہ سے پوشیدہ نہ رہےگا۔ 314؏۳۷
274-281جو لوگ اپنے مال شب وروز کھُلے اور چھُپے خرچ کرتے ہیں ان کا اجر ان کے ربّ کے پاس ہے اور اُن کےلیے کسی خوف اور رنج کا مقام نہیں۔
مگر جو لوگ سُود کھاتے ہیں315 ، اُن کا حال اُس شخص کاسا ہوتا ہے، جسے شیطان نے چُھوکر باوٴلا کر دیا ہو۔ 316اور اس حالت میں اُن کے مبتلا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں:”تجارت بھی تو آخر سُود ہی جیسی ہے317“، حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سُود کو حرام۔318 لہٰذا جس شخص کو اس کے ربّ کی طرف سے یہ نصیحت پہنچے اور آئندہ کے لیے وہ سُود خوری سے باز آجائے، تو جو کچھ وہ پہلے کھا چکا ، اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔ 319اور جو اس حکم کے بعد پھر اسی حرکت کا اعادہ کرے، وہ جہنمی ہے، جہاں وہ ہمیشہ رہے گا۔
اللہ سُود کا مَٹھ ماردیتا ہے اور صدقات کو نشونما دیتا ہے۔ 320اور اللہ کِسی ناشکرے بد عمل انسان کو پسند نہیں کرتا 321۔
ہاں، جو لوگ ایمان لے آئیں اور نیک عمل کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰة دیں، اُن کا اجر بے شک ان کے ربّ کے پاس ہے اور ان کےلیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں۔ 322
اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، خُدا سے ڈرو اور جو کچھ تمہارا سُود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے، اسے چھوڑ دو، اگر واقعی تم ایمان لائے ہو۔
لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا ، تو آگاہ ہو جاوٴ کہ اللہ اور اُس کے رسول ؐ کی طرف سے تمہارے خلاف اعلانِ جنگ 323ہے۔ اب بھی توبہ کرلو (اور سُود چھوڑ دو) تو اپنا اصل سرمایہ لینے کے تم حق دار ہو۔ نہ تم ظلم کرو ، نہ تم پر ظلم کیا جائے۔
تمہارا قرض دار تنگ دست ہو تو ہاتھ کھُلنے تک اُسے مہلت دو، اور جو صد قہ کردو ، تو یہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے، اگر تم سمجھو324 ۔
اس دن کی رسوائی و مصیبت سے بچو، جبکہ تم اللہ کی طرف واپس ہوگے، وہاں ہر شخص کو اس کی کمائی ہوئی نیکی یا بدی کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور کسی پر ظلم ہر گز نہ ہوگا۔؏۳۸
282-283اے لوگو جو ایمان لائےہو، جب کسی مقرّر مدت کےلیے تم آپس میں لین دین325 کرو ، تو اُسے لکھ لیا کرو۔فریقین326 کے درمیان انصاف کے ساتھ ایک شخص دستاویز تحریر کرے ۔ جسے اللہ نے لکھنے پڑھنے کی قابلیت بخشی ہو، اُسے لکھنے سے انکار نہ کرنا چاہیے ۔وہ لکھے اور املا وہ شخص کرائےجس پر حق آتا ہے(یعنی قرض لینے والا)، اور اُسے اللہ ،اپنے ربّ سے ڈرنا چاہیےکہ جو معاملہ طے ہوا ہو اس میں کوئی کمی بیشی نہ کرے۔ لیکن اگر قرض لینے والا خود نادان یا ضعیف ہو ، یا املا نہ کراسکتا ہو، تو اس کا ولی انصاف کے ساتھ املا کرائے۔ پھر اپنے مردوں میں327 سے دو آدمیوں کی اس پر گواہی کرالو۔ اور اگر دو مرد نہ ہوں تو ایک مرد اور دو عورتیں ہوں تاکہ ایک بھول جائے، تو دوسری اُسے یاد دلائے۔ یہ گواہ ایسے لوگوں میں سے ہونے چاہییں، جن کی گواہی تمہارے درمیان مقبول ہو۔328 گواہوں کو جب گواہ بننے کے لیے کہا جائے ، تو انہیں انکار نہ کرنا چاہیے۔ معاملہ خواہ چھوٹا ہو یا بڑا ، میعاد کی تعیین کے ساتھ اس کی دستاویز لکھوا لینے میں تسا ہل نہ کرو۔ اللہ کے نزدیک یہ طریقہ تمہارے لیے زیادہ مبنی بر انصاف ہے، اس سے شہادت قائم ہونے میں زیادہ سہولت ہوتی ہے۔ اور تمہارے شکوک وشبہات میں مبتلا ہونے کا امکان کم رہ جاتا ہے۔ ہاں جو تجارتی لین دین دست بدست تم لوگ آپس میں کرتے ہو، اس کو نہ لکھا جائے تو کوئی حرج نہیں329، مگر تجارتی معاملے طے کرتے وقت گواہ کر لیا کرو۔ کاتب اور گواہ کو ستایا نہ جائے330 ۔ ایسا کروگے ، تو گناہ کا ارتکاب کرو گے ۔ اللہ کے غضب سے بچو ۔ وہ تم کو صحیح طریقِ عمل کی تعلیم دیتا ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے۔
اگر تم سفر کی حالت میں ہو اور دستاویز لکھنے کےلیے کوئی کاتب نہ ملے ، رہن بالقبض پر معاملہ کرو۔331 اگر تم میں سے کوئی شخص دُوسرے پر بھروسہ کرکے اس کے ساتھ کوئی معاملہ کرے، تو جس پر بھروسہ کیا گیا ہے ، اسے چاہیے کہ امانت ادا کرے اور اللہ ، اپنے ربّ سے ڈرے۔ اور شہادت ہرگز نہ چھپاوٴ۔332 جو شہادت چھپاتاہے ، اس کا دل گناہ میں آلودہ ہے ۔ اور اللہ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں ہے۔؏۳۹
284-286333آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے ، سب اللہ کاہے۔334 تم اپنے دل کی باتیں خواہ ظاہر کرو یا چُھپاوٴ اللہ بہرحال ان کا حساب تم سے لے لے گا۔ 335پھر اسے اختیار ہے جسے چاہے ، معاف کردے اور جسے چاہے، سزا دے۔ وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔336
رسُول اُس ہدایت پر ایمان لایا ہے جو اس کے ربّ کی طرف سے اس پر نازل ہوئی ہے۔ اور جو لوگ اِس رسُول کے ماننے والے ہیں، انہوں نے بھی اس ہدایت کو دل سے تسلیم کر لیا ہے۔ یہ سب اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو مانتے ہیں اور ان کا قول یہ ہے کہ ”ہم اللہ کے رسولوں کو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے ، ہم نے حکم سُنا اور اطاعت قبول کی ۔ مالک !ہم تجھ سے خطابخشی کے طالب ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف پلٹنا ہے۔337“
اللہ کسی متنفّس پر اُس کی مقدرت سے بڑھ کر ذمّہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا۔338 ہر شخص نے جو نیکی کمائی ہے، اس کا پھل اسی کے لیے ہے اور جو بدی سمیٹی ہے، اس کا وبال اسی پر ہے۔339 (ایمان لانے والو! تم یوں دُعا کرو) اے ہمارے ربّ ! ہم سے بھول چُوک میں جو قصور ہو جائیں،ان پر گرفت نہ کرنا۔ مالک ! ہم پر وہ بوجھ نہ ڈال ، جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پر ڈالے تھے۔340 پروردگار !جس بار کو اُٹھانے کی ہم میں طاقت نہیں ہے ، وہ ہم پر نہ رکھ۔341 ہمارے ساتھ نرمی کر ، ہم سے درگزر فرما، ہم پر رحم کر، تُو ہمارا مولیٰ ہے، کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر۔342؏۴۰