1-10 شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دُور کی اُس مسجد تک جس کے ماحول کو اس نے برکت دی ہے، تاکہ اسے اپنی کچھ نشانیوں کا مشاہدہ کرائے۔حقیقت1 میں وہی ہے سب کچھ سُننے اور دیکھنے والا۔

ہم نے اِس سے پہلے موسیٰ کو کتاب دی تھی اور اُسے بنی اسرائیل کے لیے ذریعہٴ ہدایت بنایا تھا،2 اِس تاکید کے ساتھ کہ میرے سوا کسی کو اپنا وکیل نہ بنانا۔3

تم اُن لوگوں کی اولاد ہو جنہیں ہم نے نُوحؑ کے ساتھ کشتی پر سوار کیا تھا،4 اور نوحؑ ایک شکر گزار بندہ تھا،

پھر ہم نے اپنی کتاب 5میں بنی اسرائیل کو اِس بات پر بھی متنبہ کر دیا تھا کہ تم دو مرتبہ زمین میں فسادِ عظیم برپا کرو گے اور بڑی سرکشی دکھاوٴ گے۔6

آخرِ کار جب اُن میں سے پہلی سرکشی کا موقع پیش آیا، تو اے بنی اسرائیل، ہم نے تمہارے مقابلے پر اپنے ایسے بندے اُٹھائے جو نہایت زور آور تھے اور وہ تمہارے ملک میں گھُس کر ہر طرف پھیل گئے۔ یہ ایک وعدہ تھا جسے پُورا ہو کر ہی رہنا تھا۔7

اِس کے بعد ہم نے تمہیں اُن پر غلبے کا موقع دے دیا اور تمہیں مال اور اولاد سے مدد دی اور تمہاری تعداد پہلے سے بڑھا دی۔8

دیکھو! تم نے بھلائی کی تو وہ تمہارے اپنے ہی لیے بھلائی تھی، اور بُرائی کی تو وہ تمہاری اپنی ذات کے لیے بُرائی ثابت ہوئی۔ پھر جب دُوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے دُوسرے دشمنوں کو تم پر مسلّط کیا تاکہ وہ تمہارے چہرے بگاڑ دیں اور مسجد (بیت المَقدِس)میں اُسی طرح گھُس جائیں جس طرح پہلے دُشمن گھُسے تھے اور جس چیز پر ان کا ہاتھ پڑے اُسے تباہ کر کے رکھ دیں9

۔۔۔۔ ہوسکتا ہے کہ اب تمہارا ربّ تم پر رحم کرے، لیکن اگر تم نے پھر اپنی سابق روش کا اعادہ کیا تو ہم بھی پھر اپنی سزا کا اعادہ کریں گے، اور کافرِ نعمت لوگوں کے لیے ہم ے جہنّم کو قید خانہ بنا رکھا ہے۔10

حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے۔ جو لوگ اسے مان کر بھلے کام کرنے لگیں انہیں یہ بشارت دیتا ہے کہ ان کے لیے بڑا اجر ہے،

اور جولوگ آخرت کو نہ مانیں انہیں یہ خبر دیتا ہے کہ ان کے لیے ہم نے دردناک عذاب مہیّا کر رکھا ہے۔11 ؏ ۱

11-22

انسان شر اُس طرح مانگتا ہے جس طرح خیر مانگنی چاہیے۔ انسان بڑا ہی جلد باز واقع ہوا ہے۔12

دیکھو، ہم نے رات اور دن کو دو نشانیاں بنایا ہے۔ رات کی نشانی کو ہم نے بے نُور بنایا، اور دن کی نشانی کو روشن کر دیا تاکہ تم اپنے ربّ کا فضل تلاش کر سکو اور ماہ و سال کا حساب معلوم کر سکو۔ اِسی طرح ہم نے ہر چیز کو الگ الگ ممیَّز کر کے رکھا ہے۔13

ہر انسان کا شگون ہم نے اُس کے اپنے گلے میں لٹکا رکھا ہے،14 اور قیامت کے روز ہم ایک نوشتہ اُس کے لیے نکالیں گے جسے وہ کھُلی کتاب کی طرح پائے گا۔

۔۔۔ پڑھ اپنا نامہٴ اعمال، آج اپنا حساب لگانے کے لیے تُو خود ہی کافی ہے۔

جو کوئی راہِ راست اختیار کرے اس کی راست روی اُس کے اپنے ہی لیے مفید ہے، اور جو گُمراہ ہو اُس کی گمراہی کا وبال اُسی پر ہے۔15 کوئی بوجھ اُٹھانے والا دُوسرے کا بوجھ نہ اُٹھائے گا۔16 اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ (لوگوں کو حق و باطل کا فرق سمجھانے کے لیے)ایک پیغام بر نہ بھیج دیں۔17

جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کا ارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں اور وہ اس میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں، تب عذاب کا فیصلہ اس بستی پر چسپاں ہو جاتا ہے اور ہم اسے برباد کر کے رکھ دیتے ہیں۔18

دیکھ لو، کتنی ہی نسلیں ہیں جو نُوحؑ کے بعد ہمارے حکم سے ہلاک ہوئیں۔ تیرا ربّ اپنے بندوں کے گناہوں سے پُوری طرح باخبر ہے اور سب کچھ دیکھ رہا ہے۔

جو کوئی عاجلہ 19کا خواہشمند ہو، اسے یہیں ہم دے دیتے ہیں جو کچھ بھی جسے دینا چاہیں، پھر اس کے مقسُوم میں جہنّم لکھ دیتے ہیں جسے وہ تاپے گا ملامت زدہ اور رحمت سے محرُوم ہو کر۔20

اور جو آخرت کا خواہشمند ہو اور اس کے لیے سعی کرے جیسی کہ اس کے لیے سعی کرنی چاہیے، اور ہو وہ مومن، تو ایسے ہر شخص کی سعی مشکور ہوگی۔21

اِن کو بھی اور اُن کو بھی ، دونوں فریقوں کو ہم (دُنیا میں)سامانِ زیست دیے جارہے ہیں، یہ تیرے ربّ کا عطیہ ہے، اور تیرے ربّ کی عطا کو روکنے والا کوئی نہیں ہے۔22

مگر دیکھ لو، دُنیا ہی میں ہم نے ایک گروہ کو دُوسرے پر کیسی فضیلت دے رکھی ہے، اور آخرت میں اُس کے درجے اور بھی زیادہ ہوں گے، اور اس کی فضیلت اور بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر ہوگی۔23

تُو اللہ کے ساتھ کوئی دُوسرا معبود نہ بنا24 ورنہ ملامت زدہ اور بے یار و مددگار بیٹھا رہ جائے گا۔ ؏ ۲

23-30

تیرے ربّ نے فیصلہ کر دیا ہے25 کہ:
(۱)تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو، مگر صرف اُس کی۔26
(۲) والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو۔ اگر تمہارے پاس اُن میں سے کوئی ایک یا دونوں بُوڑھے ہو کر رہیں تو انہیں اُف تک نہ کہو، نہ انہیں جِھڑک کر جواب دو، بلکہ ان سے احترام کے ساتھ بات کرو،

اور نرمی و رحم کے ساتھ ان کے سامنے جُھک کر رہو، اور دُعا کیا کرو کہ ”پروردگار، ان پر رحم فرما جس طرح اِنہوں نے رحمت و شفقت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالا تھا۔ “

تمہارا ربّ خُوب جانتا ہے کہ تمہارےدِلوں میں کیا ہے۔ اگر تم صالح بن کر رہو تو وہ ایسے سب لوگوں کے لیے درگزر کرنے والا ہے جو اپنے قصُور پر متنبِہّ ہو کر بندگی کے رویّے کی طرف پلٹ آئیں۔27

(۳)رشتہ دار کو اس کا حق دواور مسکین اور مسافر کو اس کا حق۔
(۴)فضُول خرچی نہ کرو۔

فضُول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں، اور شیطان اپنے ربّ کا ناشکرا ہے۔

(۵)اگر اُن سے (یعنی حاجت مند رشتہ داروں، مسکینوں اور مسافروں سے)تمہیں کترانا ہو، اس بنا پر کہ ابھی تم اللہ کی اُس رحمت کو جس کے تم اُمیدوار ہو تلاش کر رہے ہو، تو انہیں نرم جواب دے دو۔ 28

(۶)نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ رکھو اور نہ اسے بالکل ہی کُھلا چھوڑ دو کہ ملامت زدہ اور عاجز بن کر رہ جاوٴ۔29

تیرا ربّ جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کر دیتا ہے۔ وہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور انہیں دیکھ رہا ہے۔30 ؏ ۳

31-40

(۷)اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کرو۔ ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی۔ درحقیقت اُن کا قتل ایک بڑی خطا ہے۔31

(۸)زنا کے قریب نہ پھٹکو، وہ بہت بُرا فعل اور بڑا ہی بُرا راستہ۔32

(۹)قتلِ نفس کا ارتکاب نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے33 مگر حق کے ساتھ۔34 اور جو شخص مظلومانہ قتل کیا گیا ہو اس کے ولی کو ہم نے قصاص کے مطالبے کا حق عطا کیا ہے،35 پس چاہیے کے وہ قتل میں حد سے نہ گزرے،36 اُس کی مدد کی جائے گی37۔

(۱۰)مالِ یتیم کے پاس نہ پھٹکو مگر احسن طریقے سے، یہاں تک کہ وہ اپنے شباب کو پہنچ جائے۔38
(۱۱)عہد کی پابندی کرو، بے شک عہد کے بارے میں تم کو جواب دہی کرنی ہوگی۔39

(۱۲)پیمانے سے دو تو پُورا بھر کر دو، اور تولو تو ٹھیک ترازو سے تولو۔ 40یہ اچھا طریقہ ہے اور ہلحاظِ انجام بھی یہی بہتر ہے۔41

(۱۳)کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہ ہو، یقیناً آنکھ، کان اور دل سب ہی کی باز پرس ہونی ہے42۔

(۱۴)زمین میں اکڑ کر نہ چلو، تم نہ زمین کو پھاڑ سکتے ہو، نہ پہاڑوں کی بلندی کو پہنچ سکتے ہو۔ 43

اِن امور میں سے ہر ایک کا بُرا پہلو تیرے ربّ کے نزدیک ناپسندیدہ ہے۔44

یہ وہ حکمت کی باتیں ہیں جو تیرے ربّ نے تجھ پر وحی کی ہیں۔ اور دیکھ! اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنا بیٹھ ورنہ تُو جہنّم میں ڈال دیا جائے گا ملامت زدہ اور ہر بھلائی سے محروم ہو کر 45

۔۔۔۔ کیسی عجیب بات ہے کہ تمہارے ربّ نے تمہیں تو بیٹوں سے نوازا اور خود اپنے لیے ملائکہ کو بیٹیاں بنا لیا؟46 بڑی جھوٹی بات ہے جو تم لوگ زبانوں سے نکالتے ہو۔ ؏ ۴

41-52

ہم نے اِس قرآن میں طرح طرح سے لوگوں کو سمجھایا کہ ہوش میں آئیں، مگر وہ حق سے اور زیادہ دُور بھاگے جا رہے ہیں۔

اے محمدؐ ، ان سے کہو کہ اگر اللہ کے ساتھ دوسرے خدا بھی ہوتے، جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں، تو وہ مالکِ عرش کے مقام پر پہنچنے کی ضرور کوشش کرتے۔ 47

پاک ہے وہ اور بہت بالا و برتر ہے اُن باتوں سے جو یہ لوگ کہہ رہے ہیں۔

اُس کی پاکی تو ساتوں آسمان اور زمین اور وہ ساری چیزیں بیان کر رہی ہیں جو آسمان و زمین میں ہیں۔48 کوئی چیز ایسی نہیں جو اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کر رہی ہو49، مگر تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں ہو۔ حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ہی بُردبار اور درگزر کرنے والا ہے۔50

جب تم قرآن پڑھتے ہو تو ہم تمہارے اور آخرت پر ایمان نہ لانے والوں کے درمیان ایک پردہ حائل کر دیتے ہیں،

اور ان کے دلوں پر ایسا غلاف چڑھا دیتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں سمجھتے، اور ان کے کانوں میں گرانی پیدا کر دیتے ہیں۔51 اور جب تم قرآن میں اپنے ایک ہی ربّ کا ذکر کرتے ہو تو وہ نفرت سے منہ موڑ لیتے ہیں۔52

ہمیں معلوم ہے کہ جب وہ کان لگا کر تمہاری بات سُنتے ہیں تو دراصل کیا سُنتے ہیں، اور جب بیٹھ کر باہم سرگوشیاں کرتے ہیں تو کیا کہتے ہیں۔ یہ ظالم آپس میں کہتے ہیں کہ یہ تو ایک سحر زدہ آدمی ہے جس کے پیچھے تم لوگ جارہے ہو53

۔۔۔۔ دیکھو، کیسی باتیں ہیں جو یہ لوگ تم پر چھانٹتے ہیں۔ یہ بھٹک گئے ہیں۔ اِنہیں راستہ نہیں ملتا۔54

وہ کہتے ہیں” جب ہم صرف ہڈیاں اور خاک ہو کر رہ جائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کر کے اُٹھائے جائیں گے؟“

۔۔۔۔ اِن سے کہو ”تم پتھر یا لوہا بھی ہو جاو،

یا اس سے بھی زیادہ سخت کوئی چیز جو تمہارے ذہن میں قبولِ حیات سے بعید تر ہو“(پھر بھی تم اُٹھ کر رہو گے)۔ وہ ضرور پوچھیں گے ”کون ہے وہ جو ہمیں پھر زندگی کی طرف پلٹا کر لائے گا؟“ جواب میں کہو ”وہی جس نے پہلی بار تم کو پیدا کیا۔“ وہ سر ہِلا ہِلا کر پوچھیں 55گے ”اچھا، تو یہ ہوگا کب؟“ تم کہو” کیا عجب، وہ وقت قریب ہی آلگا ہو۔

جس روز وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی حمد کرتے ہوئے اس کی پکار کے جواب میں نکل آوٴ گے اور تمہارا گمان اُس وقت یہ ہوگا کہ ہم بس تھوڑی دیر ہی اِس حالت میں پڑے رہے ہیں۔“56 ؏ ۵

53-60

اور اے محمدؐ ، میرے بندوں57 سے کہہ دو کہ زبان سے وہ بات نکالا کریں جو بہترین ہو۔58 دراصل یہ شیطان ہے جو انسانوں کے درمیان فساد ڈلوانے کی کوشش کرتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ شیطان انسان کا کُھلا دشمن ہے۔59

تمہارا ربّ تمہارے حال سے زیادہ واقف ہے، وہ چاہے تو تم پر رحم کرے اور چاہے تو تمہیں عذاب دے دے۔60 اور اے نبیؐ، ہم نے تم کو لوگوں پر حوالہ دار بنا کر نہیں بھیجا ہے۔61

تیرا ربّ زمین اور آسمانوں کی مخلوقات کو زیادہ جانتا ہے۔ ہم نے بعض پیغمبروں کو بعض سے بڑھ کر مرتبے دیے62، اور ہم نے ہی داوٴدؑ کو زَبور دی تھی۔63

اِن سے کہو، پکار دیکھو اُن معبودوں کو جن کو تم خدا کے سوا ( اپنا کارساز)سمجھتے ہو، وہ کسی تکلیف کو تم سے نہ ہٹا سکتے ہیں نہ بدل سکتے ہیں۔64

جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ تو خود اپنے ربّ کے حضور رسائی حاصل کرنے کا وسیلہ تلاش کر رہے ہیں کہ کون اُس سے قریب تر ہو جائے اور وہ اُس کی رحمت کے اُمیدوار اور اُس کے عذاب سے خائف ہیں۔65 حقیقت یہ ہے کہ تیرے ربّ کا عذاب ہے ہی ڈرنے کے لائق۔

اور کوئی بستی ایسی نہیں ہے جسے ہم قیامت سے پہلے ہلاک نہ کریں یا سخت عذاب نہ دیں۔66 یہ نوشتہء الٰہی میں لکھا ہوا ہے۔

اور ہم کو نشانیاں67 بھیجنے سے نہیں روکا مگر اس بات نے کہ اِن سے پہلے کے لوگ اُن کو جُھٹلا چکے ہیں۔ (چنانچہ دیکھ لو)ثمود کو ہم علانیہ اُونٹنی لا کر دی اور اُنہوں نے اُس پر ظلم کیا۔ 68ہم نشانیاں اسی لیے تو بھیجتے ہیں کہ لوگ انہیں دیکھ کر ڈریں۔69

یاد کرو اے محمد ؐ ، ہم نے تم سے کہہ دیا تھا کہ تیرے ربّ نے اِن لوگوں کو گھیر رکھا ہے۔70 اور یہ جو کچھ ابھی ہم نے تمہیں دکھایا ہے71، اِس کو اور اُس درخت کو جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے،72 ہم نے اِن لوگوں کے لیے بس ایک فتنہ بنا کر رکھ دیا۔73 ہم اِنہیں تنبیہ پر تنبیہ کیے جا رہے ہیں، مگر ہر تنبیہ اِن کی سرکشی ہی میں اضافہ کیے جاتی ہے۔ ؏ ۶

61-70

اور یاد کرو جبکہ ہم نے ملائکہ سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو، تو سب نے سجدہ کیا، مگر ابلیس نے نہ کیا۔ 74اس نے کہا” کیا میں اُس کو سجدہ کروں جسے تُو نے مٹی سے بنایا ہے؟“

پھر وہ بولا ”دیکھ تو سہی، کیا یہ اس قابل تھا کہ تُو نے اِسے مجھ پر فضیلت دی؟ اگر تُو مجھے قیامت کے دن تک مہلت دے تو میں اس کی پُوری نسل کی بیخ کَنی کر ڈالوں،75 بس تھوڑے ہی لوگ مجھ سے بچ سکیں گے۔“

اللہ تعالیٰ نے فرمایا،” اچھا تو جا، ان میں سے جو بھی تیری پیروی کریں، تجھ سمیت اُں سب کے لیے جہنّم ہی بھرپور جزا ہے۔

تُو جس جس کو اپنی دعوت سے پھِسلا سکتا ہے پِھسلا لے76، ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھا لا،77 مال اور اولاد میں ان کے ساتھ ساجھا لگا،78 اور ان کو وعدوں کے جال میں پھانس79 ۔۔۔۔ اور شیطان کے وعدے ایک دھوکے کے سوا اور کچھ بھی نہیں

۔۔۔۔ یقیناً میرے بندوں پر تجھے کوئی اقتدار حاصل نہ ہوگا،80 اور توکّل کے لیے تیرا ربّ کافی ہے۔“81

تمہارا (حقیقی)ربّ تو وہ ہے جو سمندر میں تمہاری کشتی چلاتا ہے82 تا کہ تم اس کا فضل تلاش کرو۔83 حقیقت یہ ہے کہ وہ تمہارے حال پر نہایت مہربان ہے ۔

جب سمندر میں تم پر مصیبت آتی ہے تو اُس ایک کے سوا دُوسرے جن جن کو تم پکارا کرتے ہو وہ سب گُم ہوجاتے ہیں84، مگر جب وہ تم کو بچا کر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو تم اُس سے منہ موڑ جاتے ہو۔ انسان واقعی بڑا ناشکرا ہے۔

اچھا، تو کیا تم اِس بات سے بالکل بے خوف ہو کہ خدا کبھی خشکی پر ہی تم کو زمین میں دھنسا دے، یا تم پر پتھراوٴ کرنے والی آندھی بھیج دے اور تم اس سے بچانے والا کوئی حمایتی نہ پاوٴ؟

اور کیا تمہیں اِس کا کوئی اندیشہ نہیں کہ خدا پھر کسی وقت سمندر میں تم کو لے جائے اور تمہاری ناشکری کے بدلے تم پر سخت طوفانی ہوا بھیج کر تمہیں غرق کر دے اور تم کو ایسا کوئی نہ ملے جو اُس سے تمہارے اِس انجام کی پُوچھ گچھ کر سکے؟

۔۔۔۔ یہ تو ہماری عنایت ہے کہ ہم نے بنی آدم کو بزرگی دی اور انہیں خشکی و تری میں سواریاں عطا کیں اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیااور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایاں فوقیت بخشی۔85 ؏ ۷

71-77

پھر خیال کرو اس دن کا جب کہ ہم ہر انسانی گروہ کو اس کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے۔ اُس وقت جن لوگوں کو ان کا نامہٴ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیا گیا وہ اپنا کارنامہ پڑھیں گے86 اور ان پر ذرّہ برابر ظلم نہ ہوگا۔

اور جو اِس دُنیا میں اندھا بن کر رہا وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا بلکہ راستہ پانے میں اندھے سے بھی زیادہ ناکام۔

اے محمد ؐ ، ان لوگوں نے اِس کوشش میں کوئی کسر اُٹھا نہیں رکھی کہ تمہیں فتنے میں ڈال کر اُس وحی سے پھیر دیں جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے تاکہ تم ہمارے نام پر اپنی طرف سے کوئی بات گھڑو۔ 87اگر تم ایسا کرتے تو وہ ضرور تمہیں اپنا دوست بنالیتے۔

اور بعید نہ تھا کہ اگر ہم تمیں مضبوط نہ رکھتے تو تم ان کی طرف کچھ نہ کچھ جُھک جاتے،

لیکن اگر تم ایسا کرتے تو ہم تمہیں دُنیا میں بھی دوہرے عذاب کا مزّہ چکھاتے اور آخرت میں بھی دوہرے عذاب کا، پھر ہمارے مقابلے میں تم کوئی مددگار نہ پاتے۔88

اور یہ لوگ اس بات پر بھی تُلے رہے ہیں کہ تمہارے قدم اِس سرزمین سے اُکھاڑ دیں اور تمہیں یہاں سے نکال باہر کریں۔ لیکن اگر یہ ایسا کریں گے تو تمہارے بعد یہ خود یہاں کچھ زیادہ دیر نہ ٹھہر سکیں گے۔89

یہ ہمارا مستقل طریقِ کار ہے جو اُن سب رسُولوں کے معاملے میں ہم نے برتا ہے جنہیں تم سے پہلے ہم نے بھیجا90 تھا،اور ہمارے طریقِ کار میں تم کوئی تغیّر نہ پاوٴ گے۔ ؏ ۸

78-84

نماز قائم کرو91 زوالِ آفتاب92 سے لے کر رات کے اندھیرے93 تک اور فجر کے قرآن کا بھی التزام کرو94 کیونکہ قرآنِ فجر مشہُود ہوتا ہے۔95

اور رات کو تہجّد پڑھو،96 یہ تمہارے لیے نفل ہے97، بعید نہیں کہ تمہارا ربّ تمہیں مقامِ محمُود98 پر فائز کر دے۔

اور دُعا کرو کہ پروردگار ، مجھ کو جہاں بھی تُو لے جا سچائی کے ساتھ لے جا اور جہاں سے بھی نکال سچائی کے ساتھ نکال،99 اور اپنی طرف سے ایک اقتدار کو میرا مددگار بنادے۔100

اور اعلان کر دو کہ ”حق آگیا اور باطل مٹ گیا، باطل تو مٹنے ہی والا ہے۔“101

ہم اِس قرآن کے سلسلہٴ تنزیل میں وہ کچھ نازل کر رہے ہیں جو ماننے والوں کے لیے تو شفا اور رحمت ہے، مگر ظالموں کےلیے خسارے کے سوا اور کسی چیز میں اضافہ نہیں کرتا۔ 102

انسان کا حال یہ ہے کہ جب ہم اس کو نعمت عطا کرتے ہیں تو وہ اینٹھتا اور پیٹھ موڑ لیتا ہے، اور جب ذرا مصیبت سے دوچار ہوتا ہے تو مایوس ہونے لگتا ہے۔

اے نبیؐ، ان لوگوں سے کہہ دو کہ ”ہر ایک اپنے طریقے پر عمل کر رہا ہے، اب یہ تمہارا ربّ ہی بہتر جانتا ہے کہ سیدھی راہ پر کون ہے۔“ ؏ ۹

85-93

یہ لوگ تم سے رُوح کے متعلق پُوچھتے ہیں۔ کہو ”یہ رُوح میرے ربّ کے حکم سے آتی ہے، مگر تم لوگوں نے علم سے کم ہی بہرہ پایا ہے۔“103

اور اے محمدؐ ، ہم چاہیں تو وہ سب کچھ تم سے چھین لیں جو ہم نے وحی کے ذریعہ سے تم کو عطا کیا ہے، پھر تم ہمارے مقابلے میں کوئی حمایتی نہ پاوٴ گے جو اسے واپس دلا سکے۔

یہ تو جو کچھ تمہیں ملا ہے تمہارے ربّ کی رحمت سے مِلا ہے، حقیقت یہ ہے کہ اس کا فضل تم پر بہت بڑا ہے۔104

کہہ دو کہ اگر انسان اور جِن سب کے سب مل کر اِس قرآن جیسی کوئی چیز لانے کی کوشش کریں تو نہ لا سکیں گے، چاہے وہ سب ایک دوسرے کے مددگار ہی کیوں نہ ہوں۔105

ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا مگر اکثر لوگ انکار ہی پر جمے رہے۔

اور انہوں نے کہا ”ہم تیری بات نہ مانیں گے جب تک کہ تُو ہمارے لیے زمین کو پھاڑ کر ایک چشمہ جاری نہ کر دے۔

یا تیرے لیے کھُجوروں اور انگوروں کا ایک باغ پیدا ہو اور تُو اس میں نہریں رواں کر دے۔

یا تُو آسمان کو ٹکڑے ٹکڑے کر کے ہمارے اُوپر گرا دے جیسا کہ تیرا دعویٰ ہے۔ یا خدا اور فرشتوں کو رُو در رُو ہمارے سامنے لے آئے۔

یا تیرے لیے سونے کا ایک گھر بن جائے۔ یا تُو آسمان پر چڑھ جائے، اور تیرے چڑھنے کا بھی ہم یقین نہ کریں گے جب تک کہ تُو ہمارے اُوپر ایک ایسی تحریر نہ اُتار لائے جسے ہم پڑھیں“ ۔۔۔۔ اے محمدؐ، اِن سے کہو ”پاک ہے میرا پروردگار ! کیا میں ایک پیغام لانے والے انسان کے سوا اور بھی کچھ ہوں؟“106 ؏ ۱۰

94-100

لوگوں کے سامنے جب کبھی ہدایت آئی تو اس پر ایمان لانے سے اُن کو کسی چیز نے نہیں روکا مگر اُن کے اِسی قول نے کہ ”کیا اللہ نے بشر کو پیغمبر بنا کر بھیج دیا؟“107

اِن سے کہو اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو ہم ضرور آسمان سے کسی فرشتے ہی کو اُن کے لیے پیغمبر بنا کر بھیجتے۔108

اے محمدؐ، ان سے کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان بس ایک اللہ کی گواہی کافی ہے۔ وہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور سب کچھ دیکھ رہا ہے۔109

جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے، اور جسے وہ گمراہی میں ڈال دے تو اس کے بعد ایسے لوگوں کے لیے تُو کوئی حامی و ناصر نہیں پاسکتا۔110 ان لوگوں کو ہم قیامت کے روز اوندھے منہ کھینچ لائیں گے، اندھے، گُونگے اور بہرے۔111 اُن کا ٹھکانا جہنّم ہے ۔ جب کبھی اس کی آگ دھیمی ہونے لگے گی ہم اسے اور بھڑکا دیں گے۔

یہ بدلہ ہے ان کی اس حرکت کا کہ انہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا”کیا جب ہم صرف ہڈیاں اور خاک ہو کر رہ جائیں گے تو نئے سرے سے ہم کو پیدا کر کے اُٹھا کھڑا کیا جائے گا؟“

کیا ان کو یہ نہ سُوجھا کہ جس خدا نے زمین اورآسمانوں کو پیدا کیا ہے، وہ اِن جیسوں کو پیدا کرنے کی ضرور قدرت رکھتا ہے؟ اس نے اِن کے حشر کے لیے ایک وقت مقرر کر رکھا ہے جس کا آنا یقینی ہے، مگر ظالموں کو اصرار ہے کہ وہ اس کا انکار ہی کریں گے۔

اے محمدؐ، اِن سے کہو، اگر کہیں میرے ربّ کی رحمت کے خزانے تمہارے قبضے میں ہوتے تو تم خرچ ہو جانے کے اندیشے سے ضرور ان کو روک رکھتے۔ واقعی انسان بڑا تنگ دل واقع ہوا ہے۔112 ؏ ۱۱

101-111

ہم نے موسیٰؑ کو نو نشانیاں عطا کی تھیں جو صریح طور پر دکھائی دے رہی تھیں۔113 اب یہ تم خود بنی اسرائیل سے پُوچھ لو کہ جب وہ سامنے آئیں تو فرعون نے یہی کہا تھا نہ کہ ”اے موسیٰ، میں سمجھتا ہوں کہ تُو ضرور ایک سحر زدہ آدمی ہے۔“114

موسیٰؑ نے اس کے جواب میں کہا ”تُو خوب جانتا ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں ربّ السّماوات و الارض کے سوا کسی نے نازل نہیں کی ہیں115، اور میرا خیال یہ ہے کہ اے فرعون ، تُو ضرور ایک شامت زدہ آدمی ہے۔“116

آخرِ کار فرعون نے ارادہ کیا کہ موسیٰؑ اور بنی اسرائیل کو زمین سے اُکھاڑ پھینکے، مگر ہم نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو اکٹھا غرق کر دیا

اور اس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ اب تم زمین میں بسو117، پھر جب آخرت کے وعدے کا وقت آن پُورا ہوگا تو ہم تم سب کو ایک ساتھ لاحاضر کریں گے۔

اس قرآن کو ہم نے حق کے ساتھ نازل کیا ہے اور حق ہی کے ساتھ یہ نازل ہوا ہے، اور اے محمدؐ، تمہیں ہم نے اِس کے سوا اور کسی کام کے لیے نہیں بھیجا کہ (جو مان لے اسے)بشارت دے دو اور(جو نہ مانے اُسے)متنبّہ کر دو۔118

اور اس قرآن کو ہم نے تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے تاکہ تم ٹھہر ٹھہر کر اسے لوگوں کو سُناوٴ، اور اسے ہم نے( موقع موقع سے)بتدریج اُتارا ہے۔119

اے محمدؐ، اِن لوگوں سے کہہ دو کہ تم اسے مانویا نہ مانو، جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا ہے120 انہیں جب یہ سُنایا جاتا ہے تو وہ منہ کے بل سجدے میں گر جاتے ہیں

اور پکار اُٹھتے ہیں ”پاک ہے ہمارا ربّ، اُس کا وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا۔“121

اور وہ منہ کے بل روتے ہوئے گِر جاتے ہیں اور اسے سُن کو اُن کا خشوع اور بڑھ جاتا ہے۔122 السجدة ۴

اے نبیؐ ، اِن سے کہو، اللہ کہہ کر پُکارو یا رحمان کہہ کر، جس نام سے بھی پُکارو اُس کے لیے سب اچھے نام ہیں۔123 اور اپنی نماز نہ بہت زیادہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ بہت پست آواز سے، ان دونوں کے درمیان اوسط درجے کا لہجہ اختیار کرو۔124

اور کہو ”تعریف ہے اُس خدا کے لیے جس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا، نہ کوئی بادشاہی میں اُس کا شریک ہے، اور نہ وہ عاجز ہے کہ کوئی اس کا پشتیبان ہو۔“125 اور اُس کی بڑائی بیان کرو، کمال درجے کی بڑائی۔ ؏ ۱۲