1-10 شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

ا ل ر، یہ اُس کتاب کی آیات ہیں جو حکمت و دانش سے لبریز ہے۔1

کیا لوگوں کے لیے یہ ایک عجیب بات ہو گئی کہ ہم نے خود اُنہی میں سے ایک آدمی کو اشارہ کیا کہ (غفلت میں پڑے ہوئے) لوگوں کو چونکا دے اور جو مان لیں ان کو خوشخبری دیدے کہ ان کے لیے اُن کے ربّ کے پاس سچی عزت و سرفرازی ہے؟2 (کیا یہی وہ بات ہے جس پر )منکرینِ نے کہا کہ یہ شخص تو کھُلا جادوگر ہے؟3

حقیقت یہ ہے کہ تمہارا ربّ وہی خدا ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھر تختِ حکومت پر جلوہ گر ہوا اور کائنات کا انتظام چلا رہا ہے۔4 کوئی شفاعت (سفارش)کرنے والا نہیں ہے اِلّا یہ کہ اس کی اجازت کے بعد شفاعت کرے۔5 یہی اللہ تمہارا ربّ ہے لہٰذا تم اُسی کی عبادت کرو۔6 پھر کیا تم ہوش میں نہ آوٴ گے؟7

اسی کی طرف تم سب کو پلٹ کا جانا ہے،8 یہ اللہ کا پکا وعدہ ہے۔ بے شک پیدائش کی ابتداء وہی کرتا ہے، پھر وہی دوبارہ پیدا کرے گا،9 تاکہ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے ان کو پورے انصاف کے ساتھ جزا دے، اور جنہوں نے کُفر کا طریقہ اختیار کیا وہ کھولتا ہوا پانی پئیں اور دردناک سزا بُھگتیں اُس انکارِحق کی پاداش میں جو وہ کرتے رہے۔10

وہی ہے جس نے سُورج کو اُجیالا بنایا اور چاند کو چمک دی اور چاند کے گھَٹنے بھڑھنے کی منزلیں ٹھیک ٹھیک مقرر کر دیں تاکہ تم اُس سے برسوں اور تاریخوں کے حساب معلوم کرو۔ اللہ نے یہ سب کچھ (کھیل کے طور پر نہیں بلکہ)با مقصد ہی بنایا ہے۔ وہ اپنی نشانیوں کو کھول کھول کر پیش کر رہا ہے اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔

یقیناً رات اور دن کے اُلٹ پھیر میں اور ہر اُس چیز میں جو اللہ نے زمین اور آسمانوں میں پیدا کی ہے، نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو (غلط بینی و غلط روی سے)بچنا چاہتے ہیں۔11

حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اور دُنیا کی زندگی ہی پر راضی اور مطمئن ہوگئے ہیں ، اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں،

اُن کا آخری ٹھکانہ جہنم ہو گا اُن برائیوں کی پاداش میں جن کا اکتساب وہ (اپنے اُس غلط عقیدے اور غلط طرزِ عمل کی وجہ سے) کرتے رہے۔12

اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جو لوگ ایمان لائے (یعنی جنہوں نے اُن صداقتوں کو قبول کر لیا جو اس کتاب میں پیش کی گئی ہیں)اور نیک اعمال کرتے رہے اُنہیں اُن کا ربّ اُن کے ایمان کی وجہ سے سیدھی راہ چلائے گا، نعمت بھری جنتّوں میں اُن کے نیچے نہریں بہیں گی،13

وہاں اُن کی صدا یہ ہوگی کہ ”پاک ہے تُو اے خدا“، اُن کی یہ دُعا ہوگی کہ ”سلامتی ہو“ اور اُن کی ہر بات کا خاتمہ اِس پر ہو گا کہ ”ساری تعریف اللہ ربّ العالمین ہی کے لیے ہے۔“ ؏ ۱

11-20

اگر کہیں 15اللہ لوگوں کے ساتھ بُرا معاملہ کرنے میں بھی اتنی ہی جلدی کرتا جتنی وہ دُنیا کی بھلائی مانگنے میں جلدی کرتے ہیں تو ان کے مہلت ِعمل کبھی کی ختم کر دی گئی ہوتی۔ (مگر ہمارا یہ طریقہ نہیں ہے) اِس لیے ہم اُن لوگوں کو جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اُن کی سرکشی میں بھٹکنے کے لیے چھُوٹ دے دیتے ہیں ۔

انسان کا یہ حال ہے کہ جب اُس پر کوئی سخت وقت آتا ہے تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہم کو پُکارتا ہے، مگر جب ہم اُس کی مصیبت ٹال دیتے ہیں تو ایسا چل نکلتا ہے کہ گویا اُس نے کبھی اپنے کسی بُرے وقت پر ہم کو پُکارا ہی نہ تھا۔ اِس طرح حد سے گزر جانے والوں کے لیے ان کے کرتُوت خوشنما بنا دیے گئے ہیں۔

لوگو، تم سے پہلے کی قوموں کو 16(جو اپنے اپنے زمانہ میں برسرِ عرُوج تھیں)ہم نے ہلاک کر دیا جب انہوں نے ظلم کی روِش17 اختیار کی اور اُن کے رسول اُن کے پاس کھُلی کھُلی نشانیاں لے کر آئے اور انہوں نے ایمان لاکر ہی نہ دیا۔ اِس طرح ہم مجرموں کو اُن کے جرائم کا بدلہ دیا کرتے ہیں۔

اب اُن کے بعد ہم نے تم کو زمین میں ان کی جگہ دی ہے ، تاکہ دیکھیں تم کیسے عمل کرتے ہو۔18

جب انہیں ہماری صاف صاف باتیں سُنائی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے، کہتے ہیں کہ ”اِس کے بجائے کوئی اور قرآن لاوٴ یا اس میں کچھ ترمیم کرو“۔19 اے محمد ؐ ، ان سے کہو ”میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اِس میں کوئی تغیّر و تبدّل کر لوں، میں تو بس اُس وحی کا پیرو ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے۔ اگر میں اپنے ربّ کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا ڈر ہے۔“20

اور کہو ”اگر اللہ کی مشیّت یہی ہوتی تو میں یہ قرآن تمہیں کبھی نہ سُناتا اور اللہ تمہیں اس کی خبر تک نہ دیتا ۔ آخر اس سے پہلے میں ایک عمر تمہارے درمیان گُزار چُکا ہوں، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے؟ 21

پھر اُس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو ایک جھوٹی بات گھڑ کر اللہ کی طرف منسُوب کرے یا اللہ کی واقعی آیات کو جھوٹا قرار دے۔22 یقیناً مجرم کبھی فلاح نہیں پا سکتے۔“23

یہ لوگ اللہ کے سوا اُن کی پرستش کر رہے ہیں جو ان کو نہ نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ نفع اور کہتے یہ ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں۔ اے محمد ؐ ، ان سے کہو ”کیا تم اللہ کو اُس بات کی خبر دیتے ہو جسے نہ وہ آسمانوں میں جانتا ہے نہ زمین میں؟“24 پاک ہے وہ اور بالا و برتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔

ابتداً سارے انسان ایک ہی اُمّت تھے ، بعد میں انہوں نے مختلف عقیدے اور مسلک بنا لیے25، اور اگر تیرے ربّ کی طرف سے پہلے ہی ایک بات طے نہ کر لی گئی ہوتی تو جس چیز میں وہ باہم اختلاف کر رہے ہیں اس کا فیصلہ کر دیا جاتا۔26

اور یہ جو وہ کہتے ہیں کہ اِس نبی ؐ پر اِ س کے ربّ کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اُتاری گئی،27 تو اِن سے کہو ” غیب کا مالک و مختار تو اللہ ہی ہے، اچھا، انتظار کرو ، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔“28 ؏ ۲

21-30

لوگوں کا حال یہ ہے کہ مصیبت کے بعد جب اُنہیں رحمت کا مزا چکھاتے ہیں تو فوراً ہی وہ ہماری نشانیوں کے معاملے میں چال بازیاں شروع کر دیتے ہیں۔29 ان سے کہو ”اللہ اپنی چال میں تم سے زیادہ تیز ہے، اُس کے فرشتے تمہاری سب مکّاریوں کو قلمبند کر رہے ہیں۔“30

وہ اللہ ہی ہے جو تم کو خشکی اور تری میں چلاتا ہے۔ چنانچہ جب تم کشتیوں میں سوار ہو کر بادِ موافق پر فرحاں و شاداں سفر کر رہے ہوتے ہو اور پھر یکایک بادِ مخالف کا زور ہوتا ہے اور ہر طرف سے موجوں کے تھپیڑے لگتے ہیں اور مسافر سمجھ لیتے ہیں کہ گھِر گئے، اُس وقت سب اپنے دین کو اللہ ہی کے لیے خالص کر کے اُس سے دعائیں مانگتے ہیں کہ ”اگر تُو نے ہم کو اِس بلا سے نجات دے دی تو ہم شُکر گزار بندے بنیں گے ۔“31

مگر جب وہ اُن کو بچا لیتا ہے تو پھر وہی لوگ حق سے مُنحرف ہو کر زمین میں بغاوت کرنے لگتے ہیں ۔ لوگو، تمہاری یہ بغاوت اُلٹی تمہارے ہی خلاف پڑ رہی ہے۔ دُنیا کے چند روزہ مزے ہیں (لُوٹ لو)، پھر ہمارے طرف تمہیں پلٹ کر آنا ہے ، اُس وقت ہم تمہیں بتا دیں گے کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔

دنیا کی یہ زندگی (جس کے نشے میں مست ہو کر ہماری نشانیوں سے غفلت برت رہے ہو) اس کے مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے ہم نے پانی برسایا تو زمین کی پیداوار جسے آدمی اور جانور سب کھاتے ہیں ، خُوب گھنی ہوگئی پھر عین اُس وقت جب کہ زمین اپنی بہار پر تھی اور کھیتیاں بنی سنوری کھڑی تھیں اور اُن کے مالک سمجھ رہے تھے کہ اب ہم ان سے فائدہ اُٹھانے پر قادر ہیں، یکایک رات کو یا دن کو ہمارا حکم آگیا اور ہم نے اسے ایسا غارت کر کے رکھ دیا کہ گویا کل وہاں کُچھ تھا ہی نہیں۔ اس طرح ہم نشانیاں کھول کھول کر پیش کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو سوچنے سمجھنے والے ہیں۔

(تم اس ناپائیدار زندگی کے فریب میں مبتلا ہو رہے ہو)اور اللہ تمہیں دارالسلام کی طرف دعوت دے رہا ہے۔32 (ہدایت اُس کے اختیار میں ہے) جس کو وہ چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے ۔

جن لوگوں نے بھلائی کا طریقہ اختیار کیا اُن کے لیے بھلائی ہے اور مزید فضل۔33 ان کے چہروں پر رُو سیاہی اور ذلّت نہ چھائے گی ۔ وہ جنّت کے مستحق ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

اور جن لوگوں نے بُرائیاں کمائیں ان کی برائی جیسی ہے ویسا ہی وہ بدلہ پائیں گے،34 ذلّت ان پر مسلّط ہوگی ، کوئی اللہ سے ان کو بچانے والا نہ ہوگا ، ان کے چہروں پر ایسی تاریکی چھائی ہوئی ہو گی35 جیسے رات کے سیاہ پردے ان پر پڑے ہوئے ہوں، وہ دوزخ کے مستحق ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔

جس روز ہم ان سب کو ایک ساتھ (اپنی عدالت میں)اکٹھا کریں گے، پھر ان لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا ہے کہیں گے کہ ٹھہر جاوٴ تم بھی اور تمہارے بنائے ہوئے شریک بھی ، پھر ہم ان کے درمیان سے اجنبیت کا پردہ ہٹا دیں گے36اور ان کے شریک کہیں گے کہ ”تم ہماری عبادت تو نہیں کرتے تھے

ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی گواہی کافی ہے کہ (تم اگر ہماری عبادت کرتے بھی تھے تو)ہم تمہاری اس عبادت سے بالکل بے خبر تھے۔“ 37

اُس وقت ہر شخص اپنے کیے کا مزا چکھ لے گا، سب اپنے حقیقی مالک کی طرف پھیر دیے جائیں گے اور وہ سارے جھوٹ جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے گُم ہو جائیں گے۔ ؏ ۳

31-40

اِن سے پوچھو ، کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے ؟ یہ سماعت اور بینائی کی قوتیں کس کے اختیار میں ہیں؟ کون بے جان میں سے جاندار کو اور جاندار میں سے بے جان کو نکالتا ہے؟ کون اِس نظمِ عالم کی تدبیر کر رہا ہے؟ وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ ۔ کہو، پھر تم (حقیقت کے خلاف چلنے سے) پرہیز نہیں کرتے؟

تب تو یہی اللہ تمہارا حقیقی ربّ ہے۔38 پھر حق کے بعد گمراہی کے سوا اور کیا باقی رہ گیا؟ آخر یہ تم کدھر پھرائے جار ہے ہو؟39

(اے نبی ؐ ، دیکھو)اس طرح نافرمانی اختیار کرنے والوں پر تمہارے ربّ کی بات صادق آگئی کہ وہ مان کر نہ دیں گے۔40

اِن سے پوچھو، تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ہے جو تخلیق کی ابتداء بھی کرتا ہو اور پھر اس کا اعادہ بھی کرے؟ ۔۔۔۔ کہو وہ صرف اللہ ہے جو تخلیق کی ابتداء بھی کرتا ہے اور اس کا اعادہ بھی،41 پھر تم یہ کس اُلٹی راہ پر چلائے جا رہے ہو ؟42

اِن سے پوچھو تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہو؟43۔۔۔۔ کہو وہ صرف اللہ ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے ۔ پھر بھلا بتاوٴ جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے وہ اِس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یا وہ جو خود راہ نہیں پاتا اِلّا یہ کہ اس کی رہنمائی کی جائے؟ آخر تمہیں ہو کیا گیا ہے، کیسے اُلٹے فیصلے کرتے ہو؟

حقیقت یہ ہے کہ اِن میں سے اکثر لوگ محض قیاس و گمان کے پیچھے چلے جارہے ہیں 44، حالانکہ گمان حق کی ضرورت کو کچھ بھی پُورا نہیں کرتا۔ جو کچھ یہ کر رہے ہیں اللہ اُس کو خوب جانتا ہے۔

اور یہ قرآن وہ چیز نہیں ہے جو اللہ وحی و تعلیم کے بغیر تصنیف کر لیا جائے۔ بلکہ یہ تو جو کچھ پہلے آچکا تھا اس کی تصدیق اور الکتاب کی تفصیل ہے۔45 اِس میں کوئی شک نہیں کہ یہ فرمانروائے کائنات کی طرف سے ہے۔

کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر ؐ نے اسے خود تصنیف کر لیا ہے؟ کہو، ”اگر تم اپنے اس الزام میں سچے ہو تو ایک سُورة اس جیسی تصنیف کر لاوٴ اور ایک خدا کو چھوڑ کر جس جس کو بُلا سکتے ہو مدد کے لیے بلا لو۔“46

اصل بات یہ ہے کہ جو چیز اِن کے علم کی گرفت میں نہیں آئی اور جس کا مآل بھی ان کے سامنے نہیں آیا اُس کو اِنہوں نے (خواہ مخواہ اٹکل پِچّو)جھُٹلا دیا۔47 اِسی طرح تو ان سے پہلے کے لوگ بھی جھُٹلا چکے ہیں پھر دیکھ لو اُن ظالموں کا کیا انجام ہُوا۔

اِن میں سے کچھ لوگ ایمان لائیں گے اور کچھ نہیں لائیں گے اور تیرا ربّ اُن مفسدوں کو خوب جانتا ہے۔48 ؏ ۴

41-53

اگر یہ تجھے جھُٹلاتے ہیں تو کہہ دے کہ ”میرا عمل میرے لیے ہے اور تمہارا عمل تمہارے لیے، جو کچھ میں کرتا ہوں اس کی ذمہ داری سے تم بَری ہو اور جو کچھ تم کر رہے ہو اُس کی ذمہ داری سے میں بَری ہوں۔“49

ان میں بہت سے لوگ ہیں جو تیری باتیں سُنتے ہیں ، مگر کیا تُو بہروں کو سُنائے گا خواہ وہ کچھ نہ سمجھتے ہوں؟50

اِن میں سے بہت سے لوگ ہیں جو تجھے دیکھتے ہیں ، مگر کیا تُو اندھوں کو راہ بتائے گا خواہ انہیں کچھ نہ سُوجھتا ہو؟51

حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پر ظلم نہیں کرتا، لوگ خود ہی اپنے اُوپر ظلم کرتے ہیں۔52

(آج یہ دُنیا کی زندگی میں مست ہیں)اور جس روز اللہ اِن کو اکٹھا کرے گا تو (یہی دُنیا کی زندگی اِنہیں ایسی محسُوس ہوگی)گویا یہ محض ایک گھڑی بھر آپس میں جان پہچان کرنے کو ٹھہرے تھے۔53 (اُس وقت تحقیق ہو جائے گا کہ) فی الواقع سخت گھاٹے میں رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی ملاقات کو جھُٹلایا54 اور ہر گز وہ راہِ راست پر نہ تھے ۔

جِن بُرے نتائج سے ہم انہیں ڈرا رہے ہیں ان کا کوئی حصہ ہم تیرے جیتے جی دکھا دیں یا اس سے پہلے ہی تجھے اُٹھالیں، بہرحال اِنہیں آنا ہماری ہی طرف ہے اور جو کچھ یہ کر رہے ہیں اس پر اللہ گواہ ہے۔

ہر اُمّت کے لیے ایک رسُول ہے55، پھر جب کسی اُمّت کے پاس اُس کا رسُول آجاتا ہے تو اس کا فیصلہ پُورے انصاف کے ساتھ چُکا دیا جاتا ہے اور اس پر ذرہ برابر ظلم نہیں کیا جاتا۔56

کہتے ہیں اگر تمہاری یہ دھمکی سچی ہے تو آخر یہ کب پُوری ہوگی؟

کہو ”میرے اختیار میں خُود اپنا نفع و ضرر بھی نہیں، سب کچھ اللہ کی مشیّت پر موقوف ہے۔57 ہر اُمّت کے لیے مہلت کی ایک مدّت ہے، جب یہ مدّت پُوری ہو جاتی ہے تو گھڑی بھر کی تقدیم و تاخیر بھی نہیں ہوتی۔“58

اِن سے کہو ، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر اللہ کا عذاب اچانک رات کو یا دن کو آجائے(تو تم کیا کر سکتے ہو؟)۔ آخِر یہ ایسی کون سی چیز ہے جس کے لیے مجرم جلدی مچائیں؟

کیا جب وہ تم پر آپڑے اسی وقت تم اسے مانو گے؟ ۔۔۔۔ اب بچنا چاہتے ہو؟ حالانکہ تم خود ہی اس کے جلدی آنے کا تقاضا کر رہے تھے !

پھر ظالموں سے کہا جائے گا کہ اب ہمیشہ کا عذاب چکھو، جو کچھ تم کماتے رہے ہو اس کی پاداش کے سوا اور کیا بدلہ تم کو دیا جا سکتا ہے؟

پھر پُوچھتے ہیں کیا واقعی یہ سچ ہے جو تم کہہ رہے ہوِ کہو ”میرے ربّ کی قسم، یہ بالکل سچ ہے اور تم اتنا بل بُوتا نہیں رکھتے کہ اسے ظہُور میں آنے سے روک دو۔“ ؏ ۵

54-60

اگر ہر اُس شخص کے پاس جس نے ظلم کیا ہے، رُوئے زمین کی دولت بھی ہو تو اُس عذاب سے بچنے کے لیے وہ اُسے فدیہ میں دینے پر آمادہ ہو جائے گا۔ جب یہ لوگ اس عذاب کو دیکھ لیں گے تو دل ہی دل میں پچھتائیں گے۔59 مگر ان کے درمیان پورے انصاف سے فیصلہ کیا جائے گا، کوئی ظلم ان پر نہ ہو گا۔

سُنو! آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ کا ہے۔ سُن رکھو ! اللہ کا وعدہ سچا ہے مگر اکثر انسان جانتے نہیں ہیں۔

وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے اور اسی کی طرف تم سب کو پلٹنا ہو گا۔

لوگو، تمہارے پاس تمہارے ربّ کی طرف سے نصیحت آگئی ہے۔ یہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کی شفا ہے اور جو اسے قبول کر لیں ان کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے۔

اے نبی ؐ ، کہو کہ ”یہ اللہ کا فضل اور اُس کی مہربانی ہے کہ یہ چیز اُس نے بھیجی، اس پر تو لوگوں کو خوشی منانی چاہیے، یہ اُن سب چیزوں سے بہتر ہے جنہیں لوگ سمیٹ رہے ہیں۔“

اے نبی ؐ ، ان سے کہو ”تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق60 اللہ نے تمہارے لیے اُتارا تھا اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حرام اور کسی کو حلال ٹھہرا لیا“61اِن سے پوچھو، اللہ نے تم کو اس کی اجازت دی تھی؟ یا تم اللہ پر افترا کر رہے ہو؟62

جو لوگ اللہ پر یہ جھوٹا افترا باندھتے ہیں ان کا کیا گمان ہے کہ قیامت کے روز ان سے کیا معاملہ ہوگا؟ اللہ تو لوگوں پر مہربانی کی نظر رکھتا ہے مگر اکثر انسان ایسے ہیں جو شکر نہیںکرتے۔63؏ ۶

61-70

اے نبی ؐ ، تم جس حال میں بھی ہوتے ہو اور قرآن میں سے جو کچھ بھی سُناتے ہو، اور لوگو، تم بھی جو کچھ کرتے ہو اس سب کے دوران میں ہم تم کو دیکھتے رہتے ہیں۔ کوئی ذرہ برابر چیز آسمان اور زمین میں ایسی نہیں ہے، نہ چھوٹی نہ بڑی، جو تیرے ربّ کی نظر سے پوشیدہ ہو اور ایک صاف دفتر میں درج نہ ہو۔64

سُنو! جو اللہ کے دوست ہیں، ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں،

جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقوٰی کا رویّہ اختیار کیا ہے۔

دُنیا اور آخرت دونوں زندگیوں میں ان کے لیے بشارت ہی بشارت ہے۔ اللہ کی باتیں بدل نہیں سکتیں۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔

اے نبی ؐ، جو باتیں یہ لوگ تجھ پر بناتے ہیں وہ تجھے رنجیدہ نہ کریں، عزّت ساری کی ساری خدا کے اختیار میں ہے، اور سب کچھ سُنتا اور جانتا ہے۔

آگاہ رہو! آسمان کے بسنے والے ہوں یا زمین کے، سب کے سب اللہ کے مملوک ہیں۔ اور جو لوگ اللہ کے سوا (اپنے خود ساختہ) شریکوں کو پکار رہے ہیں وہ نِرے وہم و گمان کے پیرو ہیں اور محض قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔

وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لیے رات بنائی کہ اس میں سکون حاصل کرو اور دن کو روشن بنایا۔ اس میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو (کُھلے کانوں سے پیغمبر کی دعوت کو) سُنتے ہیں۔65

لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے66، سُبحان اللہ!67وہ تو بے نیاز ہے، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اُس کی مِلک ہے۔68 تمہارے پاس اِس قول کے لیے آخر دلیل کیا ہے؟ کیا تم اللہ کے متعلق وہ باتیں کہتے ہو جو تمہارے علم میں نہیں ہیں؟

اے محمد ؐ ، کہہ دو کہ جو لوگ اللہ پر جھوٹے افترا باندھتے ہیں وہ ہر گز فلاح نہیں پا سکتے۔

دُنیا کی چند روزہ زندگی میں مزے کر لیں، پھر ہماری طرف اُن کو پلٹنا ہے، پھر ہم اُس کُفر کے بدلے میں جس کا وہ ارتکاب کرتے رہے ہیں ان کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔ ؏ ۷

71-82

اِن کو نوحؑ 69کا قصہ سُناوٴ، اُس وقت کا قصہ جب اُس نے اپنی قوم سے کہا تھا ”اے برادرانِ قوم، اگر میرا تمہارے درمیان رہنا اور اللہ کی آیات سُنا سُنا کر تمہیں غفلت سے بیدار کرنا تمہارے لیے ناقابلِ برداشت ہوگیا ہے تو میرا بھروسہ اللہ پر ہے، تم اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو ساتھ لے کر ایک متفقہ فیصلہ کر لو اور جو منصُوبہ تمہارے پیشِ نظر ہو اس کے خوب سوچ سمجھ لو تاکہ اس کا کوئی پہلو تمہاری نگاہ سے پوشیدہ نہ رہے، پھر میرے خلاف اس کو عمل میں لے آوٴ اور مجھے ہر گز مہلت نہ دو ۔70

تم نے میری نصیحت سے منہ موڑا (تو میرا کیا نقصان کیا) میں تم سے کسی اجر کا طلب گار نہ تھا، میرا اجر تو اللہ کے ذمّہ ہے۔ اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ (خواہ کوئی مانے یا نہ مانے) میں خود مسلم بن کر رہوں۔“

انہوں نے اُسے جھُٹلایا اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے اُسے اور اُن لوگوں کو جو اُس کے ساتھ کشتی میں تھے، بچا لیا اور اُنہی کو زمین میں جانشین بنایا اور اُن سب لوگوں کو غرق کر دیا جنہوں نے ہماری آیات کو جُھٹلایا تھا۔ پس دیکھ لو کہ جنہیں متنبّہ کیا گیا تھا (اور پھر بھی اُنہوں نے مان کر نہ دیا)اُن کا کیا انجام ہوا۔

پھر نوح ؑ کے بعد ہم نے مختلف پیغمبروں کو اُن کی قوموں کی طرف بھیجا اور وہ اُن کے پاس کھُلی کھُلی نشانیاں لے کر آئے، مگر جس چیز کو اُنہوں نے پہلے جُھٹلا دیا تھا اسے پھر مان کر نہ دیا۔ اِس طرح ہم حد سے گزر جانے والوں کے دلوں پر ٹَھپّہ لگا دیتے ہیں۔71

72پھر ان کے بعد ہم نے موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا، مگر انہوں نے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا73اور وہ مجرم لوگ تھے ۔

پس جب ہمارے پاس سے حق اُن کے سامنے آیا تو اُنہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو کُھلا جادُو ہے۔74

موسیٰ ؑ نے کہا: ”تم حق کو یہ کہتے ہو جب کہ وہ تمہارے سامنے آگیا؟ کیا یہ جادُو ہے؟ حالانکہ جادُو گر فلاح نہیں پایا کرتے۔“75

اُنہوں نے جواب دیا ”کیا تُو اِس لیے آیا ہے کہ ہمیں اُس طریقے سے پھیر دے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور زمین میں بڑائی تُم دونوں کی قائم ہو جائے؟76 تمہاری بات تو ہم ماننے والے نہیں ہیں۔“

اور فرعون نے (اپنے آدمیوں سے)کہاکہ ”ہر ماہرِ فن جادوگر کو میرے پاس حاضر کرو۔“

۔۔۔۔ جب جادوگر آگئے تو موسیٰ ؑ نے اُن سے کہا ”جو کچھ تمہیں پھینکنا ہے پھینکو۔“

پھر جب اُنہوں نے اپنے اَنچھر پھینک دیے تو موسیٰ ؑ نے کہا ”یہ جو کچھ تم نے پھینکا ہے یہ جادُو ہے77، اللہ ابھی اسے باطل کیے دیتا ہے، مفسدوں کے کام کو اللہ سُدھرنے نہیں دیتا،

اور اللہ اپنے فرمانوں سے حق کو حق کر دکھاتا ہے ، خواہ مجرموں کو وہ کتنا ہی ناگوار ہو۔“ ؏ ۸

83-92

(پھر دیکھو کہ) موسیٰ ؑ کو اِس قوم میں سے چند نوجوانوں78 کے سوا کسی نے نہ مانا79 ، فرعون کے ڈر سے اور خود اپنی قوم کے سربرآوردہ لوگوں کے ڈر سے (جنہیں خوف تھا کہ) فرعون اُن کو عذاب میں مبتلا کرے گا۔ اور واقعہ یہ ہے کہ فرعون زمین میں غلبہ رکھتا تھا اور وہ اُن لوگوں میں سے تھا جو کسی حد پر رُکتے نہیں ہیں۔80<

موسیٰؑ نے اپنی قوم سے کہا کہ ”لوگو، اگر تم واقعی اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اُس پر بھروسہ کرو اگر مسلمان ہو۔“81

اُنہوں نے جواب دیا82 ”ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا ، اے ہمارے ربّ، ہمیں ظالم لوگوں کے لیے فتنہ نہ بنا83

اور اپنی رحمت سے ہم کو کافروں سے نجات دے۔“

اور ہم نے موسیٰ ؑ اور اس کے بھائی کو اشارہ کیا کہ ”مصر میں چند مکان اپنی قوم کے لیے مہیّا کرو اور اپنے ان مکانوں کو قبلہ ٹھہرا لو اور نماز قائم کرو84 اور اہلِ ایمان کو بشارت دے دو۔“85

موسیٰؑ نے دعا 86کی” اے ہمارے ربّ ، تُو نے فرعون اور اُس کے سرداروں کو دُنیا کی زندگی میں زینت87 اور اموال88 سے نواز رکھا ہے ۔ اے ربّ ، کیا یہ اِس لیے ہے کہ وہ لوگوں کو تیری راہ سے بھٹکائیں؟ اے ربّ ، ان کے مال غارت کر دے اور ان کے دلوں پر ایسی مُہر کر دے کہ ایمان نہ لائیں جب تک دردناک عذاب نہ دیکھ لیں۔“89

اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا ”تم دونوں کی دعا قبول کی گئی ۔ ثابت قدم رہو اور ان لوگوں کے طریقے کی ہرگز پیروی نہ کرو جو علم نہیں رکھتے ۔“90

اور ہم بنی اسرائیل کو سمندر سے گُزار لے گئے۔ پھر فرعون اور اُس کے لشکر ظلم اور زیادتی کی غرض سے اُن کے پیچھے چلے ۔۔۔۔ حتٰی کہ جب فرعون ڈوبنے لگا تو بول اُٹھا ”میں نے مان لیا کہ خدا وند ِ حقیقی اُس کے سوا کوئی نہیں ہے جِس پر بنی اسرائیل ایمان لائے، اور میں بھی سرِاطاعت جھکا دینے والوں میں سے ہوں۔“ 91

(جواب دیا گیا) ”اب ایمان لاتا ہے !حالانکہ اس سے پہلے تک تُو نافرمانی کرتا رہااور فساد برپا کرنے والوں میں سے تھا۔

اب تو ہم صرف تیری لاش ہی کو بچائیں گے تاکہ تُو بعد کی نسلوں کے لیے نشانِ عبرت بنے92 اگرچہ بہت سے انسان ایسے ہیں جو ہماری نشانیوں سے غفلت برتتے ہیں۔“93 ؏ ۹

93-103

ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانہ دیا94 اور نہایت عمدہ وسائل ِ زندگی انہیں عطا کیے۔ پھر اُنہوں نے بہم اختلاف نہیں کیا مگر اُس وقت جب کہ علم اُن کے پاس آچکا تھا۔95 یقیناً تیرا ربّ قیامت کے روز اُن کے درمیان اُس چیز کا فیصلہ کر دے گا جس میں وہ اختلاف کر تے رہے ہیں۔

اب اگر تجھے اُس ہدایت کی طرف سے کچھ بھی شک ہو جو ہم نے تجھ پر نازل کی ہے تو اُن لوگوں سے پوچھ لے جو پہلے سے کتاب پڑھ رہے ہیں۔ فی الواقع یہ تیرے پاس حق ہی آیا ہے تیرے ربّ کی طرف سے لہٰذا تُو شک کرنے والوں میں سے نہ ہو

اور ان لوگوں میں شامل نہ ہو جنہوں نے اللہ کی آیات کو جُھٹلایا ہے، ورنہ تُو نقصان اُٹھانے والوں میں سے ہوگا۔96

حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں پر تیرے ربّ کا قول راست آگیا 97ہے اُن کے سامنے خواہ کوئی نشانی آجائے وہ بھی ایمان لا کر نہیں دیتے

جب تک کہ دردناک عذاب سامنے آتا نہ دیکھ لیں۔

پھر کیا ایسی کوئی مثال ہے کہ ایک بستی عذاب دیکھ کر ایمان لائی ہو اور اُس کا ایمان اس کے لیے نفع بخش ثابت ہوا ہو؟ یونسؑ کی قوم کے سوا98 (اِس کی کوئی نظیر نہیں)۔ وہ قوم جب ایمان لے آئی تھی تو البتہ ہم نے اُس پر سے دُنیا کی زندگی میں رُسوائی کا عذاب ٹال دیا تھا99 اور اُس کو ایک مدّت تک زندگی سے بہرہ مند ہونے کا موقع دے دیاتھا۔100

اگر تیرے ربّ کی مشیّت یہ ہوتی (کہ زمین میں سب مومن و فرمانبردار ہی ہوں) تو سارے اہلِ زمین ایمان لے آئے ہوتے۔ 101پھر کیا تُو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ مومن ہو جائیں؟102

کوئی متنفس اللہ کے اذن کے بغیر ایمان نہیں لاسکتا،103 اور اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے وہ ان پر گندگی ڈال دیتا ہے۔ 104

اِن سے کہو ”زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے اُسے آنکھیں کھول کر دیکھو۔“ اور جو لوگ ایمان لانا ہی نہیں چاہتے اُن کے لیے نشانیاں اور تنبیہیں آخر کیا مُفید ہو سکتی ہیں۔105

اب یہ لوگ اس کے سوا اور کس چیز کی منتظر ہیں کہ وہی بُرے دن دیکھیں جو اِن سے پہلے گُزرے ہوئے لوگ دیکھ چُکے ہیں؟ اِن سے کہو ”اچھا، انتظار کرو، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔“

پھر (جب ایسا وقت آتا ہے تو)ہم اپنے رسولوں کو اور اُن لوگوں کو بچا لیا کرتے ہیں جو ایمان لائے ہوں۔ ہمارا یہی طریقہ ہے۔ ہم پر یہ حق ہے کہ مومنوں کو بچا لیں۔ ؏ ١۰

104-109

اے نبیؐ !106کہہ دو کہ لوگو، ”اگر تم ابھی تک میرے دین کے متعلق کسی شک میں ہو تو سُن لو کہ تم اللہ کے سوا جن کی بندگی کرتے ہو میں اُن کی بندگی نہیں کرتا بلکہ صرف اُسی خدا کر بندگی کرتا ہوں جس کے قبضے میں تمہاری موت ہے۔107 مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ایمان لانے والوں میں سے ہوں۔

اور مجھ سے فرمایا گیا ہے کہ تُو یکسُو ہو کر اپنے آپ کو ٹھیک ٹھیک اس دین پر قائم کر دے108، اور ہرگز ہرگز مشرکوں میں سے نہ ہو۔109

اور اللہ کو چھوڑ کو کسی ایسی ہستی کو نہ پُکار جو تُجھے نہ فائدہ پہنچا سکتی ہے نہ نقصان۔ اگر تُو ایسا کرے گا تو ظالموں میں سے ہوگا۔

اگر اللہ تجھے کسی مصیبت میں ڈالے تو خود اُس کے سوا کوئی نہیں جو اُس مصیبت کو ٹال دے، اور اگر وہ تیرے حق میں کسی بھلائی کا ارادہ کرے تو اُس کے فضل کو پھیرنے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جن کو چاہتا ہے اپنے فضل سے نوازتا ہے اور وہ درگزر کر نے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔“

اے محمد ؐ ، کہہ دو کہ ”لوگو، تمہارے پاس تمہارے ربّ کی طرف سے حق آچکا ہے ۔ اب جو سیدھی راہ اختیار کرے اُس کی راست روی اُسی کے لیے مفید ہے ، اور جو گمراہ رہے اُس کی گمراہی اُسی کے لیے تباہ کُن ہے۔ اور میں تمہارے اُوپر کوئی حوالہ دار نہیں ہوں۔“

اور اے نبی ؐ ، تم اس ہدایت کی پیروی کیے جاوٴ جو تمہاری طرف بذریعہ وحی بھیجی جا رہی ہے، اور صبر کرو یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کر دے، اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے۔ ؏ ۱۱