کیا تمہیں اُس چھا جانے والی آفت کی خبر پہنچی ہے؟ 1
کچھ چہرے 2 اُس روز خوف زدہ ہوں گے،
سخت مشقت کر رہے ہوں گے،
تھکے جاتے ہوں گے،
شدید آگ میں جھُلس رہے ہوں گے،
کھولتے ہوئے چشمے کا پانی انہیں پینے کو دیا جائے گا،
خاردار سُوکھی گھاس کے سوا کوئی کھانا اُن کے لیے نہ ہوگا، 3
جو نہ موٹا کرے نہ بھُوک مٹائے ۔
کچھ چہرے اُس روز بارونق ہوں گے،
اپنی کار گزاری پر خوش ہوں گے، 4
عالی مقام جنّت میں ہوں گے،
کوئی بےہودہ بات وہاں نہ سُنیں گے، 5
اُس میں چشمے رواں ہوں گے،
اُس کے اندر اُونچی مسندیں ہوں گی،
ساغر رکھے ہوئے ہوں گے، 6 گاوٴ تکیوں کی قطاریں لگی ہوں گی
اور نفیس فرش بچھے ہوئے ہوں گے۔
(یہ لوگ نہیں مانتے)تو کیا یہ اُونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بنائے گئے؟
آسمان کو نہیں دیکھتے کہ کیسے اُٹھایا گیا؟
پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے جمائے گئے؟
اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بچھائی گئی؟ 7
اچھاتو (اے نبیؐ )نصیحت کیے جاوٴ، تم بس نصیحت ہی کرنے والے ہو،
کچھ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہو۔ 8
البتہ جو شخص منہ موڑے گا اور انکار کرے گا
تو اللہ اس کی بھاری سزا دے گا۔
اِن لوگوں کو پلٹنا ہماری طرف ہی ہے،
پھر اِن کا حساب لینا ہمارے ہی ذمّہ ہے۔ ؏۱