تُرش رُو ہوا اور بے رُخی برتی
اِس بات پر کہ وہ اندھا اُس کے پاس آگیا۔1
تمہیں کیا خبر، شاید وہ سُدھر جائے
یا نصیحت پر دھیان دے اور نصیحت کرنا اس کے لیے نافع ہو؟
جو شخص بے پروائی برتتا ہے
اس کی طرف تو تم توجہ کرتے ہو،
حالانکہ اگر وہ نہ سُدھرے تو تم پر اُس کی کیا ذمّہ داری ہے؟
اور جو خود تمہارے پاس دوڑا آتا ہے
اور وہ ڈر رہا ہوتا ہے،
اس سے تم بے رُخی برتتے ہو۔ 2
ہر گز نہیں، 3 یہ تو ایک نصیحت ہے، 4
جس کا جی چاہے اِسے قبول کرے۔
یہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو مکرَّم ہیں،
بلند مرتبہ ہیں، پاکیزہ ہیں، 5
(ایسے) کاتبوں 6 کے ہاتھوں میں رہتے ہیں۔ 7
(جو) معزّز اور نیک (ہیں)
لعنت ہو 8 انسان پر، 9 کیسا سخت مُنکرِ حق ہے یہ۔ 10
کس چیز سے اللہ نے اِسے پیدا کیا ہے؟
نُطفہ کی ایک بُوند سے۔ 11 اللہ نے اِسے پیدا کیا، پھر اِس کی تقدیر مقرر کی، 12
پھر اِس کے لیے زندگی کی راہ آسان کی، 13
پھر اِسے موت دی اور قبر میں پہنچایا۔ 14
پھر جب چاہے وہ اِسے دوبارہ اُٹھا کھڑا کرے۔ 15
ہر گز نہیں، اِس نے وہ فرض ادا نہیں کیا جس کا اللہ نے اِسے حکم دیا تھا۔ 16
پھر ذرا انسان اپنی خوراک کو دیکھے۔ 17
ہم نے خُوب پانی لُنڈھایا، 18
پھر زمین کو عجیب طرح پھاڑا، 19
پھر اُس کے اندر اُگائے غلّے
اور انگور اور ترکاریاں
اور زیتون اور کھجوریں
اور گھنے باغ
اور طرح طرح کے پھل
اور چارے تمہارے لیے اور تمہارے مویشیوں کے لیے سامانِ زیست کے طور پر۔ 20
آخر کار جب وہ کان بہرے کر دینے والی آواز بلند ہوگی 21 ۔۔۔۔
اُس روز آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا۔
اور اپنی ماں اور اپنے باپ
اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد (سے)22
ان میں سے ہر شخص پر اس دن ایسا وقت آپڑے گا کہ اسے اپنے سوا کسی کا ہوش نہ ہوگا۔ 23
کچھ چہرے اُس روز دَمَک رہے ہوں گے
ہشّاش بشّاش اور خوش و خرّم ہوں گے۔
اور کچھ چہروں پر اُس روز خاک اُڑ رہی ہوگی
اور کَلَونس چھائی ہوئی ہوگی۔
یہی کافرو فاجر لوگ ہیں ۔ ؏۱