اے اوڑھ لپیٹ کر سونے والے، 1

رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو مگر کم، 2

آدھی رات ، یا اس سے کچھ کم کر لو،

یا اس سے کچھ زیادہ بڑھا دو، 3 اور قرآن کو خوب ٹھہر ٹھہر کر پڑھو۔ 4

ہم تم پر ایک بھاری کلام نازل کرنے والے ہیں۔ 5

درحقیقت رات کا اُٹھنا 6 نفس پر قابو پانے کے لیے بہت کارگر 7 اور قرآن ٹھیک پڑھنے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔ 8

دن کے اوقات میں تو تمہارے لیے بہت مصروفیات ہیں۔

اپنے ربّ کے نام کا ذکر کیا کرو 9 اور سب سے کٹ کر اسی کے ہو رہو۔

وہ مشرق و مغرب کا مالک ہے، اُس کے سوا کوئی خدا نہیں ہے، لہٰذا اُسی کو اپنا وکیل بنا لو۔10

اور جو باتیں لوگ بنا رہے ہیں ان پر صبر کرو اور شرافت کے ساتھ اُن سے الگ ہو جاوٴ۔ 11

اِن جُھٹلانے والے خوشحال لوگوں سے نمٹنے کا کام تم مجھ پر چھوڑ دو 12 اور اِنہیں ذرا کچھ دیر اِسی حالت میں رہنے دو۔

ہمارے پاس (اِن کے لیے) بھاری بیڑیاں ہیں 13 اور بھڑکتی ہوئی آگ

اور حلق میں پھنسنے والا کھانا اور دردناک عذاب۔

یہ اُس دن ہو گا جب زمین اور پہاڑ لرز اُٹھیں گے اور پہاڑوں کا حال ایسا ہو جائے گا جیسے ریت کے ڈھیر جو بکھرے جا رہے ہیں۔ 14

15 تم لوگوں کے پاس ہم نے اُسی طرح ایک رسول تم پر گواہ بنا کر بھیجا16 ہے جس طرح ہم نے فرعون کی طرف ایک رسُول بھیجا تھا۔

(پھر دیکھ لو کہ جب) فرعون نے اُس رسُول کی بات نہ مانی تو ہم نے اس کو بڑی سختی کے ساتھ پکڑ لیا۔

اگر تم ماننے سے انکار کرو گے تو اُس دن کیسے بچ جاوٴ گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا 17

اور جس کی سختی سے آسمان پھٹا جا رہا ہو گا؟ اللہ کا وعدہ تو پُورا ہو کر ہی رہنا ہے۔

یہ ایک نصیحت ہے ، اب جس کا جی چاہے اپنے ربّ کی طرف جانے کا راستہ اختیار کر لے۔ ؏۱

18 اے نبیؐ ، تمہارا ربّ جانتا ہے کہ تم کبھی دو تہائی رات کے قریب اور کبھی آدھی رات اور کبھی ایک تہائی رات عبادت میں کھڑے رہتے ہو،19 اور تمہارے ساتھیوں میں سے بھی ایک گروہ یہ عمل کرتا ہے۔ 20 اللہ ہی رات اور دن کے اوقات کا حساب رکھتا ہے ، اُسے معلوم ہے کہ تم لوگ اوقات کا ٹھیک شمار نہیں کر سکتے، لہٰذا اس نے تم پر مہربانی فرمائی، اب جتنا قرآن آسانی سے پڑھ سکتے ہو پڑھ لیا کرو۔ 21 اُسے معلوم ہے کہ تم میں کچھ مریض ہوں گے، کچھ دُوسرے لوگ اللہ کے فضل کی تلاش میں سفر کرتے ہیں، 22 اور کچھ اور لوگ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں۔ 23 پس جتنا قرآن بآسانی پڑھا جاسکے پڑھ لیا کرو، نماز قائم کرو، زکوٰة 24 دو اور اللہ کو اچھا قرض دیتے رہو۔ 25 جو کچھ بھلائی تم اپنے لیے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں موجود پاوٴ گے، وہی زیادہ بہتر ہے اور اس کا اجر بہت بڑا ہے۔ 26 اللہ سے مغفرت مانگتے رہو، بے شک اللہ بڑا غفور و رحیم ہے۔ ؏۲