اللہ کی تسبیح کی ہے ہر اُس چیز نے جو زمین اور آسمانوں میں ہے، 1 اور وہی زبر دست دانا ہے۔ 2

زمین وآسمانوں کی سلطنت کا مالک وہی ہے، زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے، اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔

وہی اوّل بھی ہے اور آخر بھی ، اور ظاہر بھی ہے اور مخفی بھی، 3 اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔

وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور پھر عرش پر جلوہ فرما ہوا۔ 4 اُس کے علم میں ہے جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اُترتا ہے اور جو کچھ اُس میں چڑھتا ہے۔ 5 وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو۔ 6 جو کام بھی تم کرتے ہو اسے وہ دیکھ رہا ہے۔

وہی زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے اور تمام معاملات فیصلے کے لیے اُسی کی طرف رجوع کیے جاتے ہیں۔

وہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے، اور دلوں کے چُھپے ہوئے راز تک جانتا ہے۔

ایمان لاؤ اللہ اور اُس کے رسول پر 7 اور خرچ کرو 8 اُن چیزوں میں سے جن پر اُس نے تم کو خلیفہ بنایا ہے۔ 9 جو لوگ تم میں سے ایمان لائیں گے اور مال خرچ کریں گے 10 ان کے لیے بڑا اجر ہے۔

تمہیں کیا ہو گیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالانکہ رسول تمہیں اپنے رب پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہے 11 اور وہ تم سے عہد لے چکا ہے 12 اگر تم واقعی ماننے والے ہو۔

وہ اللہ ہی تو ہے جو اپنے بندے پر صاف صاف آیتیں نازل کر رہا ہے تاکہ تمہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تم پر نہایت شفیق اور مہربان ہے۔

آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالانکہ زمین اور آسمانوں کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے۔ 13 تم میں سے جو لوگ فتح کے بعد خرچ اور جہاد کریں گے وہ کبھی اُن لوگوں کے برابر نہیں ہو سکتے جنہوں نے فتح سے پہلے خرچ اور جہاد کیا ہے۔ اُن کا درجہ بعد میں خرچ اور جہاد کرنے والوں سے بڑھ کر ہے اگرچہ اللہ نے دونوں ہی سے اچھے وعدے فرمائے ہیں۔ 14 جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُس سے باخبر ہے۔ 15 ؏۱

کون ہے جو اللہ کو قرض دے؟ اچھا قرض، تاکہ اللہ اسے کئی گُنا بڑھا کر واپس دے، اور اُس کے لیے بہترین اجر ہے 16

اُس دن جبکہ تم مومن مردوں اور عورتوں کو دیکھو گے کہ ان کا نور اُن کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا۔ 17 (ان سے کہا جائے گاکہ ) ”آج بشارت ہے تمہارے لیے“۔ جنتیں ہونگی جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہونگی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے یہی ہے بڑی کامیابی۔

اُس روز منافق مردوں اور عورتوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ مومنوں سے کہیں گے ذرا ہماری طرف دیکھو تاکہ ہم تمہارے نُور سے کچھ فائدہ اُٹھائیں، 18 مگر ان سے کہا جائے گا پیچھے ہٹ جاؤ، اپنا نور کہیں اور تلاش کرو۔ پھر ان کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا۔ اُس دروازے کے اندر رحمت ہوگی اور باہر عذاب۔ 19

وہ مومنوں سے پکار پکار کر کہیں گے کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے؟ 20 مومن جواب دیں گے ہاں، مگر تم نے اپنے آپ کو خود فتنے میں ڈالا، 21 موقع پرستی کی، 22 شک میں پڑے رہے، 23 اور جُھوٹی توقعات تمہیں فریب دیتی رہیں، 24 یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آگیا، اور آخر وقت تک وہ بڑا دھوکے باز 25 تمہیں اللہ کے معاملہ میں دھوکا دیتا رہا۔

لہذا آج نہ تم سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ اُن لوگوں سے جنہوں نے کُھلا کُھلا کُفر کیا تھا۔ 26 تمہارا ٹھکانا جہنم ہے، وہی تمہاری خبر گیری کرنے والی ہے 27 اور یہ بدترین انجام ہے۔

کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اُن کے دل اللہ کے ذکر سے پگھلیں اور اُس کے نازل کردہ حق کے آگے جُھکیں 28 اور وہ اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں پہلے کتاب دی گئی تھی، پھر ایک لمبی مدّت اُن پر گزر گئی تو اُن کے دل سخت ہو گئے اور آج ان میں سے اکثر فاسق بنے ہوئے ہیں؟ 29

خوب جان لو کہ اللہ زمین کو اُس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے، ہم نے نشانیاں تم کو صاف صاف دکھا دی ہیں، شاید کہ تم عقل سے کام لو۔ 30

مَردوں اور عورتوں میں سے جو لوگ صدقات 31 دینے والے ہیں اور جنہوں نے اللہ کو قرضِ حَسَن دیا ہے، اُن کو یقیناً کئی گُنا بڑھا کر دیا جائے گا اور ان کے لیے بہترین اجر ہے۔

اور جو لوگ اللہ اور اُس کے رسُولوں پر ایمان لائے ہیں 32 وہی اپنے رب کے نزدیک صِدّیق 33 اور شہید 34 ہیں، اُن کے لیے اُن کا اجر اور اُن کا نُور ہے۔ 35 اور جن لوگوں نے کُفر کیا ہے اور ہماری آیات کو جُھٹلایا ہے وہ دوزخی ہیں۔ ؏۲

خُوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتانا اور مال و اولاد میں ایک دُوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش ہوگئی تو اس سے پیدا ہونے والی نباتات کو دیکھ کر کاشت کار خوش ہوگئے۔ پھر وہی کھیتی پک جاتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہوگئی ۔ پھر وہ بُھس بن کر رہ جاتی ہے۔ اِس کے برعکس آخرت وہ جگہ ہے جہاں سخت عذاب ہے اور اللہ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی ہے ۔ دنیا کی زندگی ایک دھوکے کی ٹٹّی کے سوا کچھ نہیں۔ 36

دَوڑو اور ایک دُوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو 37 اپنے رب کی مغفرت اور اُس جنّت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے، 38 جو مہیّا کی گئی ہے اُن لوگوں کے لیے جو اللہ اور اُس کے رسُولوں پر ایمان لائے ہوں۔ یہ اللہ کا فضل ہے، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے۔

کوئی مصیبت ایسی نہیں ہے جو زمین میں یا تمہارے اپنے نفس پر نازل ہوتی ہو اور ہم نے اس کو پیدا کرنے سے پہلے 39 ایک کتاب میں لکھ نہ رکھا ہو۔ 40 ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان کام ہے۔ 41

( یہ سب کچھ اس لیے ہے) تاکہ جو کچھ بھی نقصان تمہیں ہو اس پر تم دل شکستہ نہ ہو اور جو کچھ اللہ تمہیں عطا فرمائے اس پر پھول نہ جاؤ 42۔ اللہ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے ہیں اور فخر جتاتے ہیں،

جو خود بُخل کرتے ہیں اور دوسروں کو بُخل کرنے پر اُکساتے ہیں۔ 43 اب اگر کوئی رُوگردانی کرتا ہے تو اللہ بے نیاز اور ستودہ صفات ہے۔ 44

ہم نے اپنے رسُولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا، اور اُن کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تاکہ لوگ انصاف پر قائم ہوں، 45 اور لوہا اتارا جس میں بڑا زور ہے اور لوگوں کے لیے منافع ہیں۔ 46 یہ اس لیے کیا گیا ہے کہ اللہ کو معلوم ہو جائے کہ کون اُس کو دیکھے بغیر اُس کی اور اُس کے رسُولوں کی مدد کرتا ہے۔ یقیناً اللہ بڑی قوّت والا اور زبردست ہے۔ 47 ؏ ۳

48 ہم نے نوحؑ اور ابراہیمؑ کو بھیجا اور اُن دونوں کی نسل میں نبوّت اور کتاب رکھ دی۔ 49 پھر ان کی اولاد میں سے کسی نے ہدایت اختیار کی اور بہت سے فاسق ہوگئے۔ 50

اُن کے بعد ہم نے پے در پے اپنے رسُول بھیجے، اور ان سب کے بعد عیسٰیؑ ابن مریم کو مبعوث کیا اور اُس کو انجیل عطا کی، اور جن لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کی اُن کے دلوں میں ہم نے ترس اور رحم ڈال دیا۔ 51 اور رہبانیت 52 انہوں نے خود ایجاد کر لی، ہم نے اُسے اُن پر فرض نہیں کیا تھا، مگر اللہ کی خوشنودی کی طلب میں انہوں نے آپ ہی یہ بدعت نکالی 53 اور پھر اس کی پابندی کرنے کا جو حق تھا اسے ادا نہ کیا۔ 54 اُن میں سے جو لوگ ایمان لائے ہوئے تھے اُن کا اجر ہم نے عطا کیا، مگر ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں۔

اے لوگوں جو ایمان لائے ہو، اللہ سے ڈرو اور اس کے رسُول (محمد صلی اللہ علیہ وسلم) پر ایمان لاؤ، 55 اللہ تمہیں اپنی رحمت کا دوہرا حصّہ عطا فرمائے گا اور تمہیں وہ نور بخشے گا جس کی روشنی میں تم چلو گے، 56 اور تمہارے قصُور معاف کر دے گا، 57 اللہ بڑا معاف کرنے والا اور مہربان ہے۔

(تم کو یہ روش اختیار کرنی چاہیے) تاکہ اہلِ کتاب کو معلوم ہو جائے کہ اللہ کے فضل پر اُن کا کوئی اجارہ نہیں ہے، اور یہ کہ اللہ کا فضل اس کے اپنے ہی ہاتھ میں ہے، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور وہ بڑے فضل والا ہے۔ ؏۴