ح۔ م۔

اِس کتاب کا نزول اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست اور حکیم ہے۔1

حقیقت یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں بے شمار نشانیاں ہیں ایمان لانے والوں کے لیے ۔2

اور تمہاری اپنی پیدائش میں، اور اُن حیوانات میں جن کو اللہ (زمین میں)پھیلا رہا ہے، بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو یقین لانے والے ہیں۔3

اور شب و روز کے فرق و اختلاف میں ، 4 اور اُس رزق میں5 جسے اللہ آسمان سے نازل فرماتا ہے پھر اس کے ذریعہ سے مُردہ زمین کو جِلا اُٹھاتا ہے،6 اور ہواوٴں کی گردش میں 7 بہت نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔

یہ اللہ کی نشانیاں ہیں جنہیں ہم تمہارے سامنے ٹھیک ٹھیک بیان کر رہے ہیں۔ اب آخر اللہ اور اس کی آیات کے بعد اور کون سی بات ہے جس پر یہ لوگ ایمان لائیں گے۔8

تباہی ہے ہر اُس جھُوٹے اور بد اعمال شخص کے لیے

جس کے سامنے اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں ، اور وہ اُن کو سُنتا ہے، پھر پُورے اِستکبار کے ساتھ اپنے کُفر پر اِس طرح اَڑا رہتا ہے کہ گویا اُس نے اُن کو سُنا ہی نہیں۔9 ایسے شخص کو دردناک عذاب کا مُژدہ سُنا دو۔

ہماری آیات میں سے کوئی بات جب اس کے علم میں آتی ہے تو وہ اُن کا مذاق بنا لیتا ہے۔10 ایسے سب لوگوں کے لیے ذلّت کا عذاب ہے۔

اُن کے آگے جہنّم ہے۔11 جو کچھ بھی انہوں نے دنیا میں کمایا ہے اس میں سے کوئی چیز اُن کے کسی کام نہ آئے گی، نہ اُن کے وہ سرپرست ہی اُن کے لیے کچھ کر سکیں گے جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے اپنا ولی بنا رکھا ہے۔12 اُن کے لیے بڑا عذاب ہے۔

یہ قرآن سراسر ہدایت ہے، اور اُن لوگوں کے لیے بلا کا دردناک عذاب ہے جنہوں نے اپنے ربّ کی آیات کو ماننے سے انکار کر دیا۔ ؏۱

وہ اللہ ہے تو ہے جس نے تمہارے لیے سمندر کو مسخّر کیاتاکہ اس کے حکم سے کشتیاں اُس میں چلیں13 اور تم اس کا فضل تلاش کرو14 اور شکر گزار رہو۔

اس نے زمین اور آسمانوں کی ساری ہی چیزوں کو تمہارے لیے مسخّر کر دیا ہے،15 سب کچھ اپنے پاس سے۔۔۔۔16 اِس میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرنے والے ہیں۔17

اے نبیؐ، ایمان لانے والوں سے کہہ دو کہ جو لوگ اللہ کی طرف سے بُرے دن آنے کا کوئی اندیشہ نہیں رکھتے ،18 اُں کی حرکتوں پر درگزر سے کام لیں تاکہ اللہ خود ایک گروہ کو اس کی کمائی کا بدلہ دے۔19

جو کوئی نیک عمل کرے گا اپنے ہی لیے کرے گا، اور جو بُرائی کرے گا وہ آپ ہی اس کا خمیازہ بھگتے گا۔پھر جانا تو سب کو اپنے ربّ ہی کی طرف ہے۔

اِس سے پہلے بنی اسرائیل کو ہم نے کتاب اور حُکم20 اور نبوّت عطا کی تھی۔ اُن کو ہم نے عمدہ سامانِ زیست سے نوازا ، دنیا بھر کے لوگوں پر انہیں فضیلت عطا کی،21

اور دین کے معاملہ میں اُنہیں واضح ہدیایت دے دیں۔ پھر جو اختلاف اُن کے درمیان رُونما ہوا وہ (ناواقفیت کی وجہ سے نہیں بلکہ)عِلم آجانے کے بعد ہوا اور اس بنا پر ہوا کہ وہ آپس میں ایک دُوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے۔22 اللہ قیامت کے روز اُن معاملات کا فیصلہ فرما دے گا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔

اس کے بعد اب اے نبیؐ ، ہم نے تم کو دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ (شریعت)پر قائم کیا ہے۔23 لہٰذا تم اسی پر چلو اور اُن لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو جو علم نہیں رکھتے ۔

اللہ کے مقابلے میں وہ تمہارے کچھ بھی کام نہیں آسکتے۔24 ظالم لوگ ایک دُوسرے کے ساتھی ہیں ، اور متّقیوں کا ساتھی اللہ ہے۔

یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں سب لوگوں کے لیے اور ہدایت اور رحمت اُن لوگوں کے لیے جو یقین لائیں25

کیا26 وہ لوگ جنہوں نے بُرائیوں کا ارتکاب کیا ہے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم اُنہیں اور ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو ایک جیسا کر دیں گے کہ ان کا جینا اور مرنا یکساں ہو جائے؟ بہت بُرے حکم ہیں جو یہ لوگ لگاتے ہیں۔ 27 ؏۲

اللہ نے تو آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے28 اور اس لیے کیا ہے کہ ہر متنفّس کو اُس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے ۔ لوگوں پر ظلم ہر گز نہ کیا جائے گا۔29

پھر کیا تم نے کبھی اُس شخص کے حال پر بھی غور کیا جس نے اپنی خواہشِ نفس کو اپنا خدا بنا لیا 30 اور اللہ نے علم کے باوجود31 اُسے گمراہی میں پھینک دیا اور اُس کے دل اور کانوں پر مُہر لگا دی اور اُس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا؟32 اللہ کے بعد اب اور کون ہے جو اُسے ہدایت دے؟ کیا تم لوگ کوئی سبق نہیں لیتے؟33

یہ لوگ کہتے ہیں کہ ”زندگی بس یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے ، یہیں ہمارا مرنا اور جینا ہے اور گردشِ ایام کے سوا کوئی چیز نہیں جو ہمیں ہلاک کرتی ہو۔“ درحقیقت اِس معاملہ میں اِن کے پاس کوئی علم نہیں ہے۔ یہ محض گمان کی بنا پر یہ باتیں کرتے ہیں۔34

اور جب ہماری واضح آیات انہیں سُنائی جاتی ہیں35 تو اِن کے پاس کوئی حجّت اس کے سوا نہیں ہوتی کہ اُٹھا لاوٴ ہمارے باپ داد کو اگر تم سچے ہو۔36

اے نبیؐ، اِن سے کہو، اللہ ہی تمہیں زندگی بخشتا ہے، پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے،37 پھر وہی تم کو اُس قیامت کی دن جمع کر ے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں، 38مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔39 ؏۳

زمین اور آسمانوں کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے،40 اور جس روز قیامت کی گھڑی آکھڑی ہوگی اُس دن باطل پرست خسارے میں پڑ جائیں گے۔

اُس وقت تم ہر گروہ کو گھٹنوں کے بل گِرا دیکھو گے۔41 ہر گروہ کو پکارا جائے گا کہ آئے اور اپنا نامہٴ اعمال دیکھے۔ اُن سے کہا جائے گا” آج تم لوگوں کو اُن اعمال کا بدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے رہے تھے۔

یہ ہمارا تیار کرایا ہوا اعمال نامہ ہے جو تمہارے اُوپر ٹھیک ٹھیک شہادت دے رہا ہے ، جو کچھ بھی تم کرتے تھے اُسے ہم لکھواتے جا رہے تھے۔“42

پھر جو لوگ ایمان لائے تھے اور نیک عمل کرتے رہے تھے انہیں ان کا ربّ اپنی رحمت میں داخل کرے گا اور یہی صریح کامیابی ہے۔

اور جن لوگوں نے کُفر کیا تھا اُن سے کہا جائے گا” کیا میری آیات تم کو نہیں سُنائی جاتی تھیں؟43 مگر تم نے تکبّر کیا اور مجرم بن کر رہے۔

اور جب کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ بر حق ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں ، تو تم کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کیا ہوتی ہے، ہم تو بس ایک گمان سا رکھتے ہیں، یقین ہم کو نہیں ہے۔“44

اُس وقت اُن پر ان کے اعمال کی بُرائیاں کھُل جائیں گی 45اور وہ اُسی چیز کے پھیر میں آجائیں گے جِس کا وہ مذاق اُڑایا کرتے تھے۔

اور ان سے کہہ دیا جائے گا کہ” آج ہم بھی اُسی طرح تمہیں بھلائے دیتے ہیں جس طرح تم اِس دن کی ملاقات کو بھُول گئے تھے۔ تمہارا ٹھکانا اب دوزخ ہے اور کوئی تمہاری مدد کرنے والا نہیں ہے۔

یہ تمہارا انجام اس لیے ہوا ہے کہ تم نے اللہ کو آیات کا مذاق بنا لیا تھا اور تمہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا تھا۔ لہٰذا آج نہ یہ لوگ دوزخ سے نکالے جائیں گے اور نہ ان سے کہا جائے گا کہ معافی مانگ کر اپنے ربّ کو راضی کرو۔“46

پس تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو زمین اور آسمانوں کا مالک اور سارے جہان والوں کا پروردگار ہے ۔

زمین اور آسمانوں میں بڑا ئی اُسی کے لیے ہے اور وہی زبردست اور دانا ہے۔ ؏۴