ح۔م۔
قسم ہے اِس کتابِ مُبین کی
کہ ہم نے اِسے ایک بڑی خیر و برکت والی رات میں نازل کیا ہے، کیونکہ ہم لوگوں کو متنبّہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔1
یہ وہ رات تھی جس میں ہر معاملہ کا حکیمانہ فیصلہ 2صادر کیا جاتا ہے۔
ہمارے حکم سے 3 ہم ایک رسُول بھیجنے والے تھے،
تیرے ربّ کی رحمت کے طو ر پر ۔4 یقیناً وہی سب کچھ سُننے اور جاننے والا ہے،5
آسمانوں اور زمین کا ربّ اور ہر اُس چیز کا ربّ جو آسمان و زمین کے درمیان ہے اگر تم لوگ واقعی یقین رکھنے والے ہو۔6
کوئی معبُود اُس کے سوا نہیں ہے۔7 وہی زندگی عطا کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔8 تمہارا ربّ اور تمہارے اُن اسلاف کا ربّ جو پہلے گزر چکے ہیں۔9
(مگر فی الواقع اِن لوگوں کو یقین نہیں ہے)بلکہ یہ اپنے شک میں پڑے کھیل رہے ہیں۔10
اچھا، انتظار کرو اُس دن کا جب آسمان صریح دُھواں لیے ہوئے آئے گا
اور وہ لوگوں پر چھا جائے گا ، یہ ہے دردناک سزا۔
( اب کہتے ہیں کہ)” پروردگار، ہم پر سے یہ عذاب ٹال دے، ہم ایمان لاتے ہیں۔“
اِن کی غفلت کہاں دُور ہوتی ہے؟ اِن کا حال تو یہ ہے کہ اِن کے پاس رسُولِ مُبین آگیا11
پھر بھی یہ اُس کی طرف مُلتفت نہ ہوئے اور کہا کہ ”یہ تو سکھایا پڑھایا باولا ہے۔“12
ہم ذرا عذاب ہٹائے دیتے ہیں، تم لوگ پھر وہی کچھ کرو گے جو پہلے کر رہے تھے۔
جس روز ہم بڑی ضرب لگائیں گے وہ دن ہوگا جب ہم تم سے انتقام لیں گے۔13
ہم اِن سے پہلے فرعون کی قوم کو اِسی آزمائش میں ڈال چکے ہیں۔ اُن کے پاس ایک نہایت شریف رسُول14 آیا
اور اس نے کہا”15اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کرو،16 میں تمہارے لیے ایک امانتدار رسُول ہوں۔17
اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو۔ میں تمہارے سامنے (اپنی مامُوریّت کی )صریح سَنَد پیش کرتا ہوں۔18
اور میں اپنے ربّ اور تمہارے ربّ کی پناہ لے چکا ہوں اِس سے کہ تم مجھ پر حملہ آور ہو۔
اگر تم میری بات نہیں مانتے تو مجھ پر ہاتھ ڈالنے سے باز رہو۔“19
آخر کار اس نے اپنے رب کو پکارا کہ یہ لوگ مجرم ہیں۔20
(جواب دیا گیا )”اچھا تُو راتوں رات میرے بندوں کو لے کر چل پڑ۔21 تم لوگوں کا پیچھا کیا جائے گا۔ 22
سمندر کو اس حال پر کھلا چھوڑ دے ۔ یہ سارا لشکر غرق ہونے والا ہے۔“23
کتنے ہی باغ اور چشمے جو وہ چھوڑ گئے تھے۔
اور کھیت اور شاندار محل تھے
کتنے ہی عیش کے سروسامان، جن میں وہ مزے کر رہے تھے اُن کے پیچھے دھرے رہ گئے۔
یہ ہُوا اُن کا انجام، اور ہم نے دُوسروں کو اِن چیزوں کا وارث بنا دیا۔24
پھر نہ آسمان اُن پر رویا نہ زمین ،25 اور ذرا سی مہلت بھی اُن کو نہ دی گئی۔ ؏۱
اِس طرح بنی اسرائیل کو ہم نے نجات دی سخت ذلّت کے عذاب،26
فرعون سے جو حد سے گزر جانے والوں میں فی الواقع بڑے اُونچے درجے کا آدمی تھا،27
اور اُن کی حالت جانتے ہوئے اُن کو دنیا کی دُوسری قوموں پر ترجیح دی،28
اور اُنہیں ایسی نشانیاں دکھائیں جن میں صریح آزمائش تھی۔29
یہ لوگ کہتے ہیں
”ہماری پہلی موت کے سوا اور کچھ نہیں، اُس کے بعد ہم دوبارہ اُٹھائے جانے والے نہیں ہیں۔30
اگر تم سچے ہو تو اُٹھا لاوٴ ہمارے باپ دادا کو۔“31
یہ بہتر ہیں یا تُبع کی قوم32 اور اُس سے پہلے کے لوگ؟ ہم نے ان کو اِسی بنا پر تباہ کیا کہ وہ مُجرم ہوگئے تھے۔33
یہ آسمان و زمین اور اِن کے درمیان کی چیزیں ہم نے کچھ کھیل کے طور پر نہیں بنا دی ہیں۔
اِن کو ہم نے برحق پیدا کیا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔34
اِن سب کے اُٹھائے جانے کے لیے طے شدہ وقت فیصلے کا دن ہے،35
وہ دن جب کوئی عزیزِ قریب اپنے کسی عزیزِ قریب36 کے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور نہ کہیں سے انہیں کوئٰ مدد پہنچے گی
سوائے اِس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم کرے، وہ زبردست اور رحیم ہے۔37 ؏۲
زَقّوم کا درخت38
گناہ گار کا کھاجا ہوگا،
تیل کی تلچھٹ39 جیسا، پیٹ میں اِس طرح جوش کھائے گا
جیسے کھولتا ہوا پانی جوش کھاتا ہے۔
”پکڑواِسے اور رگیدتے ہوئے لے جاوٴ اِس کو جہنّم کے بیچوں بیچ
اور اُنڈیل دو اِس کے سر پر کھولتے پانی کا عذاب ۔
چکھ اس کا مزا، بڑا زبردست عزّت دار آدمی ہے تُو۔
یہ وہی چیز ہے جس کے آنے میں تم لوگ شک رکھتے تھے۔“
خدا ترس لوگ امن کی جگہ میں ہوں گے۔40
باغوں اور چشموں میں،
حریر و دیبا41 کے لباس پہنے، آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے۔
یہ ہوگی ان کی شان۔ اور ہم گوری گوری آہو چشم عورتیں42 ان سے بیاہ دیں گے۔
وہاں وہ اطمینان سے ہر طرح کی لذیذ چیزیں طلب کریں گے۔43
وہاں موت کا مزہ وہ کبھی نہ چکھیں گے، بس دنیا میں جو موت آچکی سو آچکی۔ اور ان کو جہنّم کے عذاب سے بچا دے گا،44
اللہ اپنے فضل سے، یہی بڑی کامیابی ہے۔
اے نبیؐ، ہم نے اِس کتاب کو تمہاری زبان میں سہل بنا دیا ہے تاکہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔
اب تم بھی انتظارکرو، یہ بھی منتظر ہیں۔45 ؏۳