ح۔م۔
قسم ہے اِس واضح کتاب کی
کہ ہم نے اِسے عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تاکہ تم لوگ اِسے سمجھو۔1
اور درحقیقت یہ اُمّ الکتاب میں ثبت ہے ،2 ہمارے ہاں بڑی بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز کتاب۔3
اب کیا ہم تم سے بےزار ہو کر یہ درسِ نصیحت تمہارے ہاں بھیجنا چھوڑ دیں صرف اِس لیے کہ تم حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو؟4
پہلے گزری ہوئی قوموں میں بھی بارہا ہم نے بنی بھیجے ہیں۔
کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی نبی اُن کے ہاں آیا ہو اور انہوں نے اُس کا مذاق نہ اُڑایا ہو۔5
پھر جو لوگ اِن سے بدرجہا زیادہ طاقتور تھے اُنہیں ہم نے ہلاک کر دیا، پچھلی قوموں کی مثالیں گزر چکی ہیں۔6
اگر تم اِن لوگوں سے پُوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے تو یہ خود کہیں گے کہ انہیں اُس زبردست علیم ہستی نے پیدا کیا ہے۔
وہی نا جس نے تمہارے لیے اس زمین کو گہوارہ بنایا7اور اس میں تمہاری خاطر راستے بنادیے8 تاکہ تم لوگ اپنی منزلِ مقصود کی راہ پا سکو۔9
جس نے ایک خاص مقدار میں آسمان سے پانی اُتارا10 اور اس کے ذریعہ سے مُردہ زمین کو جِلا اُٹھایا، اِسی طرح ایک روز تم زمین سے برآمد کیے جاوٴ گے۔11
وہی جس نے یہ تمام جوڑے پیدا کیے،12 اور جس نے تمہارے لیے کشتیوں اور جانوروں کو سواری بنایا
تاکہ تم اُن کی پُشت پر چڑھو اور جب اُن پر بیٹھو تو اپنے ربّ کا احسان یاد کرو اور کہو کہ ” پاک ہے وہ جس نے ہمارے لیے اِن چیزوں کر مسخّر کر دیا ورنہ ہم انہیں قابُو میں لانے کی طاقت نہ رکھتے تھے ،13
اور ایک روز ہمیں اپنے ربّ کی طرف پلٹنا ہے۔“14
(یہ سب کچھ جانتے اور مانتے ہوئے بھی)اِن لوگوں نے اُس کے بندوں میں سے بعض کو اس کا جُز بنا ڈالا،15 حقیقت یہ ہے کہ انسان کھُلا احسان فراموش ہے۔ ؏۱
کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لیے بیٹیاں انتخاب کیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا؟
اور حال یہ ہے کہ جس اولاد کو یہ لوگ اُس خدائے رحمٰن کی طرف منسُوب کرتے ہیں اُس کی ولادت کا مژدہ جب خود اِن میں سے کسی کو دیا جاتا ہے تو اُس کے مُنہ پر سیاہی چھا جاتی ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے۔16
کیا اللہ کے حصّے میں وہ اولاد آئی جو زیوروں میں پالی جاتی ہے اور بحث و حجّت میں اپنا مدّعا پُوری طرح واضح بھی نہیں کر سکتی؟17
انہوں نے فرشتوں کو، جو خدائے رحمٰن کے خاص بندے ہیں ،18 عورتیں قرار دے لیا۔ کیا اُن کے جسم کی ساخت اِنہوں نے دیکھی ہے ؟19 اِن کی گواہی لکھ لی جائے گی اور انہیں اس کی جواب دہی کرنا ہوگی۔
یہ کہتے ہیں”اگر خدائے رحمٰن چاہتا ( کہ ہم اُن کی عبادت نہ کریں)تو ہم کبھی اُن کو نہ پُوجتے۔“20 یہ اس معاملے کی حقیقت کو قطعی نہیں جانتے، محض تیر تُکّے لڑاتے ہیں۔
کیا ہم نے اِس سے پہلے کوئی کتاب اِن کو دی تھی جس کی سَنَد (اپنی ملائکہ پرستی کے لیے )یہ اپنے پاس رکھتے ہوں؟21
نہیں، بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم اُنہی کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں۔22
اِسی طرح تم سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی نذیر بھیجا، اُس کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پر پایا ہے اور ہم اُنہی کے نقشِ قدم کی پیروی کررہے ہیں۔23
ہر نبی نے ان سے پوچھا، کیا تم اُسی ڈگر پر چلے جاوٴ گے خواہ میں اُس راستے سے زیادہ صحیح راستہ تمہیں بتاوٴں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے؟ انہوں نے سارے رسُولوں کو یہی جواب دیا کہ جس دین کی طرف بُلانے کے لیے تم بھیجے گئے ہو ہم اُس کے کافر ہیں۔
آخر کار ہم نے اُن کی خبر لے ڈالی اور دیکھ لو کہ جھُٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔ ؏۲
یاد کرو وہ وقت جب ابراہیمؑ نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا24 کہ” تم جن کی بندگی کرتے ہو میرا اُن سے کوئی تعلق نہیں۔
میرا تعلق صرف اُس سے ہے جس نے مجھے پیدا کیا، وہی میری رہنمائی کرے گا۔“25
اور ابراہیمؑ یہی کلمہ26 اپنے پیچھے اپنی اولاد میں چھوڑ گیا تاکہ وہ اِس کی طرف رجوع کریں۔27
(اس کے باوجود جب یہ لوگ دوسروں کی بندگی کرنے لگے تو میں نے ان کو مٹا نہیں دیا)بلکہ میں اِنہیں اور اِن کو باپ دادا کو متاعِ حیات دیتا رہا یہاں تک کہ اِن کے پاس حق، اور کھول کھول کر بیان کرنے والا رسُول آگیا۔28
مگر جب وہ حق اِن کے پاس آیا تو اِنہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو جادُو ہے29 اور ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں۔
کہتے ہیں، یہ قرآن دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پر کیوں نازل نہ کیا گیا؟ 30
کیا تیرے ربّ کی رحمت یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں؟ دنیا کی زندگی میں اِن کی گزر بسر کے ذرائع تو ہم نے اِن کے درمیان تقسیم کیے ہیں، اور اِن میں سے کچھ لوگوں کو کچھ دُوسرے لوگوں پر ہم نے درجہا فوقیت دی ہے تاکہ یہ ایک دُوسرے سے خدمت لیں۔31 اور تیرے ربّ کی رحمت اُس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو (اِن کے رئیس)سمیٹ رہے ہیں۔32
اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ سارے لوگ ایک ہی طریقے کے ہوجائیں گے تو ہم خدائے رحمٰن سے کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتیں ، اور اُن کی سیڑھیاں جن سے وہ اپنے بالاخانوں پر چڑھتے ہیں، سب چاندی کے بنوا دیتے۔
اور اُن کے دروازے، اور ان کے تخت جن پر وہ تکیے لگا کر بیٹھتے ہیں،
اور سونے کے 33 یہ تو محض حیاتِ دنیا کی متاع ہے، اور آخرت تیرے ربّ کے ہاں صرف متّقین کے لیے ہے۔ ؏۳
جو شخص رحمٰن کے ذکر 34سے تغافل برتتا ہے ، ہم اس پر ایک شیطان مسلّط کر دیتے ہیں اور وہ اُس کا رفیق بن جاتا ہے۔
یہ شیاطین ایسے لوگوں کو راہِ راست پر آنے سے روکتے ہیں، اور وہ اپنی جگہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ٹھیک جارہے ہیں۔
آخر کار جب یہ شخص ہمارے ہاں پہنچے گا تو اپنے شیطان سے کہے گا ”کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کا بُعد ہوتا، تُو تو بدترین ساتھی نِکلا۔“
اُس وقت اِن لوگوں سے کہا جائے گا کہ جب تم ظلم کر چکے تو آج یہ بات تمہارے لیے کچھ بھی نافع نہیں ہے کہ تم اور تمہارے شیاطین عذاب میں مشترک ہیں۔35
اب کیا اے نبیؐ، تم بہروں کو سناوٴ گے؟ یا اندھوں اور صریح گمراہی میں پڑے ہوئے لوگوں کو راہ دکھاوٴ گے؟36
اب تو ہمیں اِن کو سزا دینی ہے خواہ تمہیں دنیا سے اُٹھا لیں،
یا تم کو آنکھوں سے اِن کا وہ انجام دکھا دیں جس کا ہم نے اِن سے وعدہ کیا ہے، ہمیں اِن پر پُوری قدرت حاصل ہے۔37
تم بہر حال اُس کتاب کو مضبوطی سے تھامے رہو جو وحی کے ذریعہ سے تمہارے پاس بھیجی گئی ہے، یقیناً تم سیدھے راستے پر ہو۔38
حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب تمہارے لیے اور تمہاری قوم کے لیے ایک بہت بڑا شرف ہے اور عنقریب تم لوگوں کو اس کی جواب دہی کرنی ہوگی۔39
تم سے پہلے ہم نے جتنے رسُول بھیجے تھے اُن سب سے پوچھ دیکھو، کیا ہم نے خدائے رحمٰن کے سوا کچھ دُوسرے معبُود بھی مقرر کیے تھے کہ اُن کی بندگی کی جائے؟40 ؏۴
41ہم نے موسیٰؑ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ42 فرعون اور اُس کے اعیانِ سلطنت کے پاس بھیجا، اور اس نے جاکر کہا کہ میں ربّ العالمین کا رسُول ہوں۔
پھر جب اُس نے ہماری نشانیاں ان کے سامنے پیش کیں تو وہ ٹھٹھے مارنے لگے۔
ہم ایک پر ایک ایسی نشانی اُن کو دکھاتے چلے گئے جو پہلی سے بڑھ چڑھ کر تھی، اور ہم نے اُن کو عذاب میں دھر لیا تاکہ وہ اپنی روش سے باز آئیں۔43
ہر عذاب کے موقع پر وہ کہتے، اے ساحر، اپنے ربّ کی طرف سے جو منصب تجھے حاصل ہے اُس کی بنا پر ہمارے لیے اُس سے دعا کر، ہم ضرور راہِ راست پر آجائیں گے۔
مگر جُوں ہی کہ ہم ان پر سے عذاب ہٹا دیتے وہ اپنی بات سے پھر جاتے تھے۔44
ایک روز فرعون نے اپنی قوم کی درمیان پُکار کر کہا”45 لوگو، کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے، اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں؟ کیا تم لوگوں کو نظر نہیں آتا ؟46
میں بہتر ہوں یا یہ شخص جو ذلیل و حقیر ہے47 اور اپنی بات بھی کھول کر بیان نہیں کر سکتا؟48
کیوں نہ اس پر سونے کے کنگن اُتارے گئے؟ یا فرشتوں کا ایک دستہ اس کی اردلی میں نہ آیا؟“49
اُس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انہوں نے اس کی اطاعت کی، درحقیقت وہ تھے ہی فاسق لوگ۔50
آخر کار جب انہوں نے ہمیں غضب ناک کر دیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان کو اکٹھا غرق کر دیا
اور بعد والوں کے لیے پیش رو اور نمونہٴ عبرت بنا کر رکھ دیا۔51 ؏۵
اور جُونہی کہ ابنِ مریمؑ کی مثال دی گئی، تمہاری قوم کے لوگوں نے اس پر غُل مچا دیا
اور لگے کہنے کہ ہمارے معبُود اچھے ہیں یا وہ؟52 یہ مثال وہ تمہارے سامنے محض کج بحثی کے لیے لائے ہیں، حقیقت یہ ہے کہ یہ ہیں ہی جھگڑالو لوگ۔
ابنِ مریمؑ اِس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ایک بندہ تھا جس پر ہم نے انعام کیا اور بنی اسرائیل کے لیے اپنی قدرت کا ایک نمونہ بنا دیا۔53
ہم چاہیں تو تم سے فرشتے پیدا کر دیں54 جو زمین میں تمہارے جانشین ہوں۔
اور وہ دراصل قیامت کی ایک نشانی ہے،55 پس تم اُس میں شک نہ کرو ، اور میری بات مان لو، یہی سیدھا راستہ ہے،
ایسا نہ ہو شیطان تم کو اُس سے روک دے56 کہ وہ تمہارا کھُلا دشمن ہے۔
اور جب عیسیٰؑ صریح نشانیاں لیے ہوئے آیا تھا تو اس نے کہا تھا کہ”میں تم لوگوں کے پاس حکمت لے کر آیا ہوں، اور اس لیے آیا ہوں کہ تم پر بعض اُن باتوں کی حقیقت کھول دُوں جن میں تم اختلاف کر رہے ہو، لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو ۔
حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی میرا ربّ بھی اور تمہارا ربّ بھی۔ اُسی کی تم عبادت کرو ، یہی سیدھا راستہ ہے۔“57
مگر( اُس کی اِس صاف تعلیم کے باوجود)گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا،58 پس تباہی ہے اُن لوگوں کے لیے جنہوں نے ظلم کیا ایک دردناک دن کے عذاب سے۔
کیا یہ لوگ اب بس اِسی چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک اِن پر قیامت آجائے اور اِنہیں خبر بھی نہ ہو؟
وہ دن جب آئے گا تو متّقین کو چھوڑ کر باقی سب دوست ایک دُوسرے کے دشمن ہو جائیں گے۔59 ؏۶
اُس روز کہا جائے گا کہ” اے میرے بندو، آج تمہارے لیے کوئی خوف نہیں اور نہ تمہیں کوئی غم لاحق ہوگا۔
اُن لوگوں سے جو ہماری آیات پر ایمان لائے تھے اور مطیعِ فرمان بن کر رہے تھے
داخل ہوجاوٴ جنّت میں تم اور تمہاری بیویاں 60، تمہیں خوش کر دیا جائے گا۔“
اُن کے آگے سونے کے تھال اور ساغر گردش کر ائے جائیں گے اور ہرمن بھاتی اور نگاہوں کو لذّت دینے والی چیز وہاں موجود ہوگی۔ ان سے کہا جائے گا” تم اب یہاں ہمیشہ رہو گے۔
تم اِس جنّت کے وارث اپنے اُن اعمال کی وجہ سے ہوئے ہو جو تم دنیا میں کرتے رہے۔
تمہارے لیے یہاں بکثرت فواکہ موجود ہیں جنہیں تم کھاوٴ گے۔“
رہے مجرمین ، تو وہ ہمیشہ جہنّم کے عذاب میں مُبتلا رہیں گے،
کبھی اُن کے عذاب میں کمی نہ ہوگی، اور وہ اس میں مایوس پڑے ہوں گے۔
ان پر ہم نے ظلم نہیں کیا بلکہ وہ خود ہی اپنے اُوپر ظلم کرتے رہے۔
وہ پکاریں گے” اے مالک،61 تیرا ربّ ہمارا کام ہی تمام کر دے تو اچھا ہے۔“ وہ جواب دے گا” تم یوں ہی پڑے رہو گے،
ہم تمہارے پاس حق لے کر آئے تھے مگر تم میں سے اکثر کو حق ہی ناگوار تھا۔“62
کیا اِن لوگوں نے کوئی اِقدام کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے؟63 اچھا تو ہم بھی پھر ایک فیصلہ کیے لیتے ہیں۔
کیا اِنہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم اِن کی راز کی باتیں اور اِن کی سرگوشیاں سُنتے نہیں ہیں؟ ہم سب کچھ سُن رہے ہیں اور ہمارے فرشتے اِن کے پاس ہی لکھ رہے ہیں۔
اِن سے کہو”اگر واقعی رحمٰن کی کوئی اولاد ہوتی تو سب سے پہلے عبادت کرنے والا میں ہوتا۔“64
پاک ہے آسمانوں اور زمین کا فرماں روا عرش کا مالک، اُن ساری باتوں سے جو یہ لوگ اُس کی طرف منسُوب کرتے ہیں۔
اچھا، اِنہیں اپنے باطل خیالات میں غرق اور اپنے کھیل میں منہمک رہنے دو، یہاں تک کہ یہ اپنا وہ دن دیکھ لیں جس کا اِنہیں خوف دلایا جا رہا ہے۔
وہی ایک آسمان میں بھی خدا ہے اور زمین میں بھی خدا، اور وہی حکیم و علیم ہے۔65
بہت بالا و برتر ہے وہ جس کے قبضے میں زمین اور آسمانوں اور ہر اُس چیز کی بادشاہی ہے جو زمین و آسمان کے درمیان پائی جاتی ہے۔66 اور وہی قیامت کی گھڑی کا علم رکھتا ہے، اور اسی کی طرف تم سب پلٹائے جانے والے ہو۔67
اُس کو چھوڑ کر یہ لوگ جنہیں پکارتے ہیں وہ کسی شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے، اِلّا یہ کہ کوئی علم کی بنا پر حق کی شہادت دے۔68
اور اگر تم اِن سے پوچھو کہ اِنہیں کس نے پیدا کیا ہے تو یہ خود کہیں گے کہ اللہ نے۔69 پھر کہاں سے یہ دھوکا کھا رہے ہیں،
قسم ہے رسُولؐ کے اِس قول کی کہ اے ربّ ، یہ وہ لوگ ہیں جو مان کر نہیں دیتے۔70
اچھا، اے نبیؐ، اِن سے درگزر کرو اور کہہ دو کہ سلام ہے تمہیں71 ، عنقریب اِنہیں معلوم ہو جائے گا۔ ؏۷