ص، 1 قسم ہے نصیحت بھرے 2 قرآن کی ،

بلکہ یہی لوگ، جنہوں نے ماننے سے انکار کیا ہے، سخت تکبُّر اور ضِد میں مبتلا ہیں۔ 3

اِن سے پہلے ہمہ ایسی کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں (اور جب اُن کی شامت آئی ہے)تو وہ چیخ اُٹھے ہیں، مگر وہ وقت بچنے کا نہیں ہوتا۔

اِن لوگوں کو اس بات پر بڑا تعجّب ہوا کہ ایک ڈرانے والا کود اِنہی میں سے آگیا۔ 4 منکرین کہنے لگے کہ ” یہ ساحِر ہے 5 ، سخت جھُوٹا ہے ،

کیااِس نے سارے خداوٴں کی جگہ بس ایک ہی خدا بنا ڈالا؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے۔“

اور سردارانِ قوم یہ کہتے ہوئے نِکل گئے 6 کہ ”چلو اور ڈٹے رہو اپنے معبُودوں کی عبادت پر۔ یہ بات 7 تو کسی اور ہی غرض سے کہی جارہی ہے۔ 8

یہ بات ہم نے زمانہٴ قریب کی مِلّت میں کسی سے نہیں سُنی۔ 9 یہ کچھ نہیں ہے مگر ایک من گھڑت بات۔

کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص رہ گیا تھا جس پر اللہ کا ذکر نازل کر دیا گیا؟“ اصل بات یہ ہے کہ یہ میرے ”ذِکر“ پر شک کر رہے ہیں، 10 اور یہ ساری باتیں اس لیے کر رہے ہیں کہ انہوں نے میرے عذاب کا مزا چکھّا نہیں ہے۔

کیا تیرے داتا اور غالب پروردگار کی رحمت کے خزانے اِن کے قبضے میں ہیں؟

کیا یہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزوں کے مالک ہیں؟ اچھا تو یہ عالمِ اسباب کی بلندیوں پر چڑھ کر دیکھیں! 11

یہ تو جتھوں میں سے ایک چھوٹا سا جتھا ہے جو اِسی جگہ شکست کھانے والا ہے۔ 12

اِن سے پہلے توحؑ کی قوم، اور عاد، اور میخوں والا فرعون جھُٹلا چکے ہیں۔ 13 ،

اور ثمود، اور قومِ لوطؑ ، اور اَیکہ والے جتّھے وہ تھے۔

ان میں سے ہر ایک نے رسُولوں کو جھُٹلایا اور میری عقوبت کا فیصلہ اس پر چسپاں ہو کر رہا۔ ؏۱

یہ لوگ بھی بس ایک دھماکے کے منتظر ہیں جس کے بعد کوئی دوسرا دھماکا نہ ہوگا۔ 14

اور یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے ربّ ، یوم الحساب سے پہلے ہی ہمارا حصّہ ہمیں جلدی سے دے دے۔ 15

اے نبیؐ ، صبر کرو اُن باتوں پر جو یہ لوگ بناتے ہیں، 16 اور اِن کے سامنے ہمارے بندے داوٴدؑ کا قصّہ بیان کرو 17 جو بڑی قوّتوں کا مالک تھا۔ 18 ہر معاملہ میں اللہ کی طرف رُجوع کرنے والا تھا۔

ہم نے پہاڑوں کو اس کے ساتھ مسخّر کر رکھا تھا کہ صبح و شام وہ اس کے ساتھ تسبیح کرتے تھے۔

پرندے سِمٹ آتے اور سب کے سب اُس کی تسبیح کی طرف متوجّہ ہو جاتے تھے۔ 19

ہم نے اس کی سلطنت مضبُوط کر دی تھی، اس کو حکمت عطا کی تھی اور فیصلہ کُن بات کہنے کی صلاحیت بخشی تھی۔ 20

پھر تمہیں کچھ خبر پہنچی ہے اُن مقدمے والوں کی جو دیوار چڑھ کر اُس کے بالاخانے میں گھُس آئے تھے؟ 21

جب وہ داوٴد ؑ کے پاس پہنچے تو وہ انہیں دیکھ کر گھبرا گیا۔ 22 انہوں نے کہا” ڈریے نہیں، ہم دو فریقِ مقدمہ ہیں جن میں سے ایک نے دُوسرے پر زیادتی کی ہے۔ آپ ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ کر دیجیے، بے انصافی نہ کیجیے اور ہمیں راہِ راست بتائیے۔

یہ میرا بھائی ہے، 23 اِس کے پاس ننّانوے دُنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہی دُنبی ہے۔ اِس نے مجھ سے کہا کہ یہ ایک دُنبی بھی میرے حوالے کردے اور اس نے گفتگو میں مجھے دبا لیا۔“ 24

داوٴدؑ نے جواب دیا” اِس شخص نے اپنی دُنبیوں کے ساتھ تیری دُنبی ملا لینے کا مطالبہ کر کے یقیناً تجھ پر ظلم کیا ، 25 اور واقعہ یہ ہے کہ مِل جُل کر ساتھ رہنے والے لوگ اکثر ایک دُوسرے پر زیادتیاں کرتے رہتے ہیں ، بس وہی لوگ اس سے بچے ہوئے ہیں جو ایمان رکھتے اور عملِ صالح کرتے ہیں، اور ایسے لوگ کم ہی ہیں۔“ (یہ بات کہتے کہتے)داوٴدؑ سمجھ گیا کہ یہ تو ہم نے دراصل اُس کی آزمائش کی ہے ، چنانچہ اس نے اپنے ربّ سے معافی مانگی اور سجدے میں گِر گیا اور رُجوع کر لیا۔ 26 السجدة ١۰

تب ہم نے اس کا وہ قصُور معاف کیا اور یقیناً ہمارے ہاں اس کے لیے تقرُّب کا مقام اور بہتر انجام ہے۔ 27

( ہم نے اس سے کہا)” اے داوٴدؑ ، ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے، لہٰذا تُو لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ حکومت کر اور خواہشِ نفس کی پیروی نہ کر کہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکا دے گی۔ جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹکتے ہیں یقیناً اُن کے لیے سخت سزا ہے کہ وہ یوم الحساب کو بھُول گئے ۔“ 28 ؏۲

ہم نے اس آسمان اور زمین کو اور اس دنیا کو جو ان کی درمیان ہے ، فضول پیدا نہیں کر دیا ہے۔ 29 یہ تو اُن لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کُفر کیا ہے، اور ایسے کافروں کے لیے بربادی ہے جہنّم کی آگ سے۔

کیا ہم اُن لوگوں کو جو ایمان لاتے اور نیک عمل کرتے ہیں اور اُن کو جو زمین میں فساد کرنے والے ہیں یکساں کر دیں؟ کیا متّقیوں کو ہم فاجروں جیسا کر دیں؟ 30

۔۔۔۔ یہ ایک بڑی برکت والی کتاب 31 ہے جو ( اے محمدؐ )ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ یہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں اور عقل و فکر رکھنے والے اس سے سبق لیں۔

اور داوٴدؑ کو ہم نے سلیمانؑ (جیسا بیٹا)عطا کیا، 32 بہترین بندہ، کثرت سے اپنے ربّ کی طرف رُجوع کرنے والا۔

قابلِ ذکر ہے وہ موقع جب شام کے وقت اس کے سامنے خوب سدھے ہوئے تیز رَو گھوڑے پیش کیے گئے 33

تو اس نے کہا” میں نے اس مال 34 کی محبّت اپنے ربّ کی یاد کی وجہ سے اختیار کی ہے۔“ یہاں تک کہ جب وہ گھوڑے نگاہ سے اوجھل ہوگئے

تو (اس نے حکم دیا کہ )انہیں میرے پاس واپس لاوٴ، پھر لگا ان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے۔ 35

اور (دیکھو کہ)سلیمانؑ کو بھی ہم نے آزمائش میں ڈالا اور اس کی کرسی پر ایک جسد لا کر ڈال دیا۔ پھر اس نے رُجوع کیا

اور کہا کہ” اے میرے ربّ ، مجھے معاف کر دے اور مجھے وہ بادشاہی دے جو میرے بعد کسی کے لیے سزاوار نہ ہو، بے شک تُو ہی اصل داتا ہے۔“ 36

تب ہم نے اُس کے لیے ہوا کو مسخّر کر دیا جو اس کے حکم سے نرمی کے ساتھ چلتی تھی جدھر وہ چاہتا تھا 37 ،

اور شیاطین کو مسخّر کر دیا، ہر طرح کے معمار اور غوطہ خور

اور دُوسرے جو پابندِ سلاسل تھے۔ 38

(ہم نے اُس سے کہا)” یہ ہماری بخشش ہے ، تجھے اختیار ہے جسے چاہے دے اور جس سے چاہے روک لے، کوئی حساب نہیں۔“ 39

یقیناً اُس کے لیے ہمارے ہاں تقرُّب کا مقام اور بہتر انجام ہے۔ 40 ؏۳

اور ہمارے بندے ایّوبؑ کا ذکر کرو، 41 جب اس نے اپنے ربّ کو پُکارا کہ شیطان نے مجھے سخت تکلیف اور عذاب میں ڈال دیا ہے۔ 42

(ہم نے اُسے حکم دیا)اپنا پاوٴں زمین پر مار، یہ ہے ٹھنڈا پانی نہانے کے لیے اور پینے کے لیے۔ 43

ہم نے اُسے اس کے اہل و عیال واپس دیے اور ان کے ساتھ اُتنے ہی اور 44 ، اپنی طرف سے رحمت کے طور پر ، اور عقل و فکر رکھنے والوں کے لیے درس کے طور پر۔ 45

(اور ہم نے اس سے کہا)تِنکوں کا ایک مُٹّھا لے اور اُس سے مار دے، اپنی قسم نہ توڑ۔ 46 ہم نے اُسے صابر پایا، بہترین بندہ، اپنے رب کی طرف بہت رُجوع کرنے والا۔ 47

اور ہمارے بندوں ، ابراہیمؑ اور اسحاقؑ اور یعقوبؑ کا ذکر کرو۔ بڑی قوّتِ عمل رکھنے والے اور دیدہ ور لوگ تھے۔ 48

ہم نے اُن کو ایک خالص صفت کی بنا پر برگزیدہ کیا تھا، اور وہ دارِ آخرت کی یاد تھی۔ 49

یقیناً ہمارے ہاں ان کا شمار چُنے ہوئے نیک اشخاص میں ہے۔

اور اسماعیلؑ اور اَلیَسیع 50 اور ذوالکِفل 51 کا ذکر کرو، یہ سب نیک لوگوں میں سے تھے۔

یہ ایک ذکر تھا۔ (اب سُنو کہ)متّقی لوگوں کے لیے یقیناً بہترین ٹھکانا ہے ،

ہمیشہ رہنے والی جنّتیں جن کے دروازے اُن کے لیے کھُلے ہوں گے۔ 52

ان میں وہ تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے، خوب خوب فواکہ اور مشرُوبات طلب کر رہے ہوں گے ،

اور ان کے پاس شرمیلی ہم سِن بیویاں 53 ہوں گی۔

یہ وہ چیزیں ہیں جنہیں حساب کے دِن عطا کرنے کا تم سے وعدہ کیا جا رہا ہے۔

یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔

یہ تو ہے مُتّقیوں کا انجام۔ اور سرکشوں کے لیے بدترین ٹھکانا ہے،

جہنّم جس میں وہ جھُلسے جائیں گے، بہت ہی بُری قیام گاہ ۔

یہ ہے اُن کے لیے ، پس وہ مزا چکھیں کھولتے ہوئے پانی ارو پیپ لہُو 54

اور اسی قسم کی دُوسری تلخیوں کا۔

(وہ جہنّم کی طرف اپنے پیرووں کے آتے دیکھ کر آپس میں کہیں گے)” یہ ایک لشکر تمہارے پاس گھُسا چلا آرہا ہے، کوئی خوش آمدید اِن کے لیے نہیں ہے، یہ آگ میں جھُلسنے والے ہیں۔“

وہ اُن کو جواب دیں گے” نہیں بلکہ تم ہی جھُلسے جا رہے ہو، کوئی خیر مقدم تمہارے لیے نہیں ۔ تم ہی تو یہ انجام ہمارے آگے لائے ہو ، کیسی بُری ہے یہ جائے قرار۔“

پھر وہ کہیں گے ”اے ہمارے ربّ، جس نے ہمیں اس انجام کو پہنچانے کا بندوبست کیا اُس کو دوزخ کا دوہرا عذاب دے۔“

اور وہ آپس میں کہیں گے ”کیابات ہے ، ہم اُن لوگوں کو کہیں نہیں دیکھتے جنہیں ہم دنیا میں بُرا سمجھتے تھے؟ 55

ہم نے یونہی ان کا مذاق بنا لیا تھا، یا وہ کہیں نظروں سے اوجھل ہیں؟“

بے شک یہ بات سچی ہے، اہلِ دوزخ میں یہی کچھ جھگڑے ہونے والے ہیں۔ ؏۴

56 (اے نبیؐ )اِن سے کہو” میں تو بس خبر دار کردینے والا ہوں۔ 57 کوئی حقیقی معبُود نہیں مگر اللہ ، جو یکتا ہے، سب پر غالب ،

آسمانوں اور زمین کا مالک اور اُن ساری چیزوں کا مالک جو ان کے درمیان ہیں، زبر دست اور درگزر درنے والا۔“

اِن سے کہو” یہ ایک بڑی خبر ہے

جس کو سُن کر تم منہ پھیرتے ہو۔“ 58

(اِن سے کہو)” مجھے اُس وقت کی کوئی خبر نہ تھی جب ملاء اعلیٰ میں جھگڑا ہو رہا تھا ۔

مجھ کو تو وحی کے ذریعہ سے یہ باتیں صرف اس لیے بتائی جاتی ہیں کہ میں کھُلا کھُلا خبردار کرنے والا ہوں۔ “

جب تیرے ربّ نے فرشتوں سے کہا” 59 میں مٹّی سے ایک بشر بنانے والا ہوں، 60

پھر جب میں اسے پُوری طرح بناد وں اور اس میں اپنی رُوح پھُونک دوں 61 تو تم اس کے آگے سجدے میں گِر جاوٴ۔“ 62

اس حکم کے مطابق فرشتے سب کے سب سجدے میں گر گئے،

مگر ابلیس نے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اور وہ کافروں میں سے ہوگیا۔ 63

ربّ نے فرمایا” اے ابلیس، تجھے کیا چیز اُس کو سجدہ کرنے سے مانع ہوئی جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے؟ 64 تُو بڑا بن رہا ہے یا تُو ہے ہی کچھ اُونچے درجے کی ہستیوں میں سے؟“

اُس نے جواب دیا” میں اُس سے بہتر ہوں، آپ نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور اِس کو مٹی سے۔“

فرمایا”اچھا تو یہاں سے نکل جا، 65 تُو مردُود ہے 66

اور تیرے اُوپر یوم الجزا ء تک میری لعنت ہے۔“ 67

وہ بولا” اے میرے ربّ، یہ بات ہے تو پھر مجھے اُس وقت تک کے لیے مہلت دے دے جب یہ لوگ دوبارہ اُٹھائے جائیں گے۔ “

فرمایا” اچھا، تجھے اُس روز تک کی مہلت ہے

جس کا وقت مجھے معلوم ہے۔“

اس نے کہا”تیری عزّت کی قسم، میں اِن سب لوگوں کو بہکا کر رہوں گا،

بجز تیرے اُن بندوں کے جنہیں تُونے خالص کر لیا ہے۔ 68

فرمایا” تو حق یہ ہے، اور میں حق ہی کہا کرتا ہوں،

کہ میں جہنّم کو تجھ سے 69 اور اُن سب لوگوں سے بھر دُوں گا جو اِن انسانوں میں سے تیری پیروی کریں گے۔“ 70

(اے نبیؐ )اِن سے کہہ دو کہ میں اس تبلیغ پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا، 71 اور نہ میں بناوٹی لوگوں میں سے ہوں۔ 72

یہ تو ایک نصیحت ہے تمام جہان والوں کے لیے۔

اور تھوڑی مدّت ہی گزرے گی کہ تمہیں اس کا حال خود معلوم ہو جائے گا۔ 73 ؏۵