یٰسٓ۔ 1
قسم ہے قرآنِ حکیم کی
کہ تم یقیناً رسُولوں میں سے ہو 2 ،
سیدھے راستے پر ہو،
(اور یہ قرآن)غالب اور رحیم ہستی کا نازل کردہ ہے 3
تاکہ تم خبردار کرو ایک ایسی قوم کو جس کے باپ دادا خبر دار نہ کیے گئے تھے اور اس وجہ سے وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔ 4
اِن میں سے اکثر لوگ فیصلہٴ عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں، اسی لیے وہ ایمان نہیں لاتے۔ 5
ہم نے اُن کی گردنوں میں طَوق ڈال دیے ہیں جن سے وہ ٹھوڑیوں تک جکڑے گئے ہیں، اس لیے وہ سر اُٹھا ئے کھڑے ہیں۔ 6
ہم نے ایک دیوار اُن کے آگے کھڑی کر دی ہے اور ایک دیوار اُن کے پیچھے ۔ ہم نے انہیں ڈھانک دیا ہے، انہیں اب کچھ نہیں سُوجھتا۔ 7
ان کے لیے یکساں ہے ، تم انہیں خبردار کرو یا نہ کرو ، یہ نہ مانیں گے۔ 8
تم تو اُسی شخص کو خبردار کر سکتے ہو جو نصیحت کی پیروی کرے اور بے دیکھے خدائے رحمٰن سے ڈرے۔ اُسے مغفرت اور اجرِ کریم کی بشارت دے دو۔
ہم یقیناً ایک روز مُردوں کو زندہ کرنے والے ہیں۔ جو کچھ افعال انہوں نے کیے ہیں وہ سب ہم لکھتے جا رہے ہیں ، اور جو کچھ آثار انہوں نے پیچھے چھوڑے ہیں وہ بھی ہم ثبت کر رہے ہیں۔ 9 ہر چیز کو ہم نے ایک کھُلی کتاب میں درج کر رکھا ہے۔ ؏ ۱
اِنہیں مثال کے طور پر اُس بستی والوں کا قصّہ سُناوٴ جبکہ اُس میں رسُول آئے تھے۔ 10
ہم نے ان کی طرف دو رسُول بھیجے اور انہوں نے دونوں کو جھُٹلادیا۔ پھر ہم نے تیسرا مدد کے لیے بھیجا اور ان سب نے کہا” ہم تمہاری طرف رسُول کی حیثیت سے بھیجے گئے ہیں۔“
بستی والوں نے کہا” تم کچھ نہیں ہو مگر ہم جیسے چند انسان 11 ، اور خدائے رحمٰن نے ہرگز کوئی چیز نازل نہیں کی ہے 12 ، تم محض جھُوٹ بولتے ہو۔“
رسُولوں نے کہا ہمارا ربّ جانتا ہے کہ ہم ضرور تمہاری طرف رسُول بنا کر بھیجے گئے ہیں ،
اور ہم پر صاف صاف پیغام پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمّہ داری نہیں ہے۔ 13
بستی والے کہنے لگے” ہم تو تمہیں اپنے لیے فالِ بد سمجھتے ہیں۔ 14 اگر تم باز نہ آئے تو ہم تم کو سنگسار کر دیں گے اور ہم سے تم بڑی دردناک سزا پاوٴگے۔“
رسُولوں نے جواب دیا” تمہاری فالِ بد تو تمہارے اپنے ساتھ لگی ہوئی ہے۔ 15 کیا یہ باتیں تم اِس لیے کرتے ہو کہ تمہیں نصیحت کی گئی؟ اصل بات یہ ہے کہ تم حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو۔“ 16
اِتنے میں شہر کے دُور دراز گوشے سے ایک شخص دوڑتا ہوا آیا اور بولا” اے میرے قوم کے لوگو! رسُولوں کی پیروی اختیار کر لو ۔
پیروی کرو اُن لوگوں کی جو تم سے کوئی اجر نہیں چاہتے اور ٹھیک راستے پر ہیں۔ 17
آخر کیوں نہ میں اُس ہستی کی بندگی کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور جس کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے؟ 18
کیا میں اُسے چھوڑ کر دُوسرے معبُود بنا لوں؟ حالانکہ اگر خدائے رحمٰن مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو نہ اُن کی شفاعت میرے کسی کام آسکتی ہے اور نہ وہ مجھے چھُڑا ہی سکتے ہیں۔ 19
اگر میں ایسا کروں 20 تو مین صریح گمراہی میں مُبتلا ہو جاوٴ گا۔
میں تو تمہارے ربّ پر ایمان لے آیا 21 ، تم بھی میری بات مان لو۔ “
(آخر کار ان لوگوں نے اسے قتل کر دیا اور)اس شخص سے کہہ دیا گیا کہ”داخل ہو جاوٴ جنّت میں۔“ 22 اُس نے کہا” کاش میری قوم کو معلوم ہوتا
کہ میرے ربّ نے کس چیز کی بدولت میری مغفرت فرمادی اور مجھے با عزّت لوگوں میں داخل فرمایا۔“ 23
اس کے بعد اُس کی قوم پر ہم نے آسمان سے کوئی لشکر نہیں اُتارا ۔ ہمیں لشکر بھیجنے کی کوئی حاجت نہ تھی۔
بس ایک دھماکا ہوا اور یکایک وہ سب بجھ کر رہ گئے۔ 24
افسوس بندوں کے حال پر، جو رسُول بھی ان کے پاس آیا اُس کا وہ مذاق ہی اُڑاتے رہے۔
کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کر چکے ہیں اور اس کے بعد وہ پھر کبھی ان کی طرف پلٹ کر نہ آئے؟ 25
ان سب کو ایک روز ہمارے سامنے حاضر کیا جانا ہے۔ ؏۲
26 اِن لوگوں کے لیے بے جان زمین ایک نشانی ہے 27 ۔ ہم نے اس کو زندگی بخشی اور اس سے غلّہ نکالا جسے یہ کھاتے ہیں۔
ہم نے اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کیے اور اس کے اندر سے چشمے پھوڑ نکا لے ،
تاکہ یہ اس کے پھل کھائیں۔ یہ سب کچھ ان کے اپنے ہاتھوں کا پیدا کیا ہوا نہیں ہے۔ 28 پھر کیا یہ شکر ادا نہیں کرتے؟ 29
پاک وہ ذات 30 جس نے جملہ اقسام کے جوڑے پیدا کیے خواہ وہ زمین کی نباتات میں سے ہوں یا خود اِن کی اپنی جنس (یعنی نوعِ انسانی)میں سے یا اُن اشیاء میں سے جن کو یہ جانتے تک نہیں ہیں۔ 31
اِن کے لیے ایک اور نشانی رات ہے، ہم اُس کے اُوپر سے دِن ہٹا دیتے ہیں تو اِن پر اندھیرا چھا جاتا ہے۔ 32
اور سُورج ، وہ اپنے ٹھکانے کی طرف چلا جا رہا ہے۔ 33 یہ زبر دست علیم ہستی کا باندھا ہوا حساب ہے۔
اور چاند، اُس کے لیے ہم نے منزلیں مقرر کر دی ہیں یہاں تک کہ ان سے گزرتا ہوا وہ پھر کھجور کی سُوکھی شاخ کے مانند رہ جاتا ہے۔ 34
نہ سُورج کے بس میں یہ ہے کہ وہ چاند کو جا پکڑے 35 اور نہ رات دن پر سبقت لے جا سکتی ہے۔ 36 سب ایک ایک فلک میں تیر رہے ہیں۔ 37
اِن کے لیے یہ بھی ایک نشانی ہے کہ ہم نے اِن کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کر دیا، 38
اور پھر اِن کے لیے ویسی ہی کشتیاں اور پیدا کیں جن پر یہ سوار ہوتے ہیں۔ 39
ہم چاہیں تو اِن کو غرق کر دیں، کوئی اِن کی فریاد سُننے والا نہ ہو اور کسی طرح یہ نہ بچائے جا سکیں۔
بس ہماری رحمت ہی ہے جو انہیں پار لگاتی اور ایک وقت ِ خاص تک زندگی سے متمتع ہونے کا موقع دیتی ہے۔ 40
اِن لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ بچو اُس انجام سے جو تمہارے آگے آرہا ہے اور تمہارے پیچھے گزر چکا ہے 41 ، شاید کہ تم پر رحم کیا جائے (تو یہ سُنی اَن سُنی کر جاتے ہیں)۔
اِن کے سامنے اِن کے رب کی آیات میں سے جو آیت بھی آتی ہے یہ اس کی طرف اِلتفات نہیں کرتے۔ 42
اور جب اِن سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو رزق تمہیں عطا کیا ہے اُس میں سے کچھ اللہ کی راہ میں خرچ کرو تو یہ لوگ جنہوں نے کُفر کیا ہے ایمان لانے والوں کو جواب دیتے ہیں ” کیا ہم اُن کو کھِلائیں جنہیں اگر اللہ چاہتا تو خود کھِلا دیتا؟ تم تو بالکل ہی بہک گئے ہو۔“ 43
44 یہ لوگ کہتے ہیں کہ” یہ قیامت کی دھمکی آخر کب پُوری ہوگی؟ بتاوٴ اگر تم سچے ہو۔“ 45
دراصل یہ جس چیز کی راہ تک رہے ہیں وہ بس ایک دھماکا ہے جو یکایک اِنہیں عین اُس حالت میں دھر لے گا جب یہ (اپنے دُنیوی معاملات میں)جھگڑ رہے ہوں گے،
اور اُس وقت یہ وصیّت تک نہ کر سکیں گے، نہ اپنے گھروں کو پلٹ سکیں گے۔ ؏۳
پھر ایک صُور پھونکا جائے گا اور یکایک یہ اپنے ربّ کے حضور پیش ہونے کے لیے اپنی قبروں سے نکل پڑیں گے۔ 47
گھبرا کر کہیں گے” ارے ، یہ کس نے ہمیں ہماری خواب گاہوں سے اُٹھا کھڑا کیا؟“ 48 ۔۔۔۔ ” یہ وہی چیز ہے جس کا خدائے رحمٰن نے وعدہ کیا تھا اور رسُولوں کی بات سچی تھی۔“ 49
ایک ہی زور کی آواز ہوگی اور سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کر دیے جائیں گے۔
50 آج کسی پر ذرّہ برابر ظلم نہ کیا جائے گا اور تمہیں ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسے عمل تم کرتے رہے تھے
۔۔۔۔ آج جنّتی لوگ مزے کرنے میں مشغول ہیں،51
وہ اور ان کی بیویاں گھنے سایوں میں ہیں مسندوں پر تکیے لگائے ہوئے ،
ہر قسم کی لذیذ چیزیں کھانے پینے کو ان کے لیے وہاں موجود ہیں ، جو کچھ وہ طلب کریں اُن کے لیے حاضر ہے ،
ربِّ رحیم کی طرف سے ان کو سلام کہا گیا ہے ۔۔۔۔
اور اے مجرمو، آج تم چھَٹ کر الگ ہو جاوٴ۔52
آدم کے بچو، کیا میں نے تم کو ہدایت نہ کی تھی کہ شیطان کی بندگی نہ کرو، وہ تمہارا کُھلا دشمن ہے،
اورمیری ہی بندگی کرو، یہ سیدھا راستہ ہے؟53
مگر اس کے باوجود اس نے تم میں سے ایک گروہ ِ کثیر کو گمراہ کر دیا۔ کیا تم عقل نہیں رکھتے تھے؟54
یہ وہی جہنّم ہے جس سے تم کو ڈرایا جا تا رہا تھا۔
جو کفر تم دنیا میں کرتے رہے ہو اُس کی پاداش میں اب اِس کا ایندھن بنو۔
آج ہم اِن کے منہ بند کیے دیتے ہیں ، اِن کے ہاتھ ہم سے بولیں گے اور ان کے پاوٴں گواہی دیں گے کہ یہ دنیا میں کیا کمائی کرتے رہے ہیں۔55
ہم چاہیں تو اِن کی آنکھیں مُوند دیں ، پھر یہ راستے کی طرف لپک کر دیکھیں، کہاں سے اِنہیں راستہ سُجہائی دے گا؟
ہم چاہیں تو اِنہیں اِن کی جگہ ہی پر اس طرح مسخ کر کے رکھ دیں کہ یہ نہ آگے چل سکیں نہ پیچھے پلٹ سکیں۔ ؏۴
جس شخص کو ہم لمبی عُمر دیتے ہیں اس کی ساخت کو ہم اُلٹ ہی دیتے ہیں57 ، کیا (یہ حالات دیکھ کر )انہیں عقل نہیں آتی؟
ہم نے اِس (نبیؐ )کو شعر نہیں سکھایا ہے اور نہ شاعری اس کو زیب ہی دیتی ہے۔58 یہ تو ایک نصیحت ہے اور صاف پڑھی جانے والی کتاب،
تاکہ وہ ہر اُس شخص کو خبردارکر دے جو زندہ ہو59 اور انکار کرنے والوں پر حجّت قائم ہو جائے۔
کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم نے اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں 60 میں سے اِن کے لیے مویشی پیدا کیے اور اب یہ ان کےمالک ہیں ۔
ہم نے اُنہیں اس طرح اِن کے بس میں کر دیا ہے کہ اُن میں سے کسی پر یہ سوار ہوتے ہیں، کسی کا یہ گوشت کھاتے ہیں،
اور اُن کے اندر اِن کے لیے طرح طرح کے فوائد اور مشروبات ہیں۔ پھر کیا یہ شکر گزار نہیں ہوتے؟ 61
یہ سب کچھ ہوتے ہوئے اِنہوں نے اللہ کے سوا دُوسرے خدا بنا لیے ہیں اور یہ اُمید رکھتے ہیں کہ اِن کی مدد کی جائے گی۔
وہ اِن کی کوئی مدد نہیں کر سکتے بلکہ یہ لوگ اُلٹے اُن کے لیے حاضر باش لشکر بنے ہوئے ہیں۔ 62
اچھا، جو باتیں یہ بنا رہے ہیں وہ تمہیں رنجیدہ نہ کریں، اِن کی چھُپی اور کھُلی سب باتوں کو ہم جانتے ہیں۔ 63
64 کیا انسان دیکھتا نہیں ہے کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا اور پھر وہ صریح جھگڑالُو بن کر کھڑا ہو گیا؟ 65
اب وہ ہم پر مثالیں چسپاں کرتا ہے 66 اور اپنی پیدائش کو بھُول جاتا ہے۔ 67 کہتا ہے ”کون اِن ہڈیوں کو زندہ کرے گا جبکہ یہ بوسیدہ ہو چکی ہوں؟“
اس سے کہو، اِنہیں وہی زندہ کرے گا جس نے پہلے انہیں پیدا کیا تھا ، اور وہ تخلیق کا ہر کام جانتا ہے۔
وہی جس نے تمہارے لیے ہرے بھرے درخت سے آگ پیدا کر دی اور تم اس سے اپنے چُولہے روشن کرتے ہو۔ 68
کیا وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اِس پر قادر نہیں ہے کہ اِن جیسوں کو پیدا کر سکے؟ کیوں نہیں، جبکہ وہ ماہر خلّاق ہے۔
وہ تو جب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا کام بس یہ ہے کہ اسے حکم دے کہ ہو جا اور وہ ہوجاتی ہے۔
پاک ہے وہ جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا مکمل اقتدار ہے، اور اسی کی طرف تم پلٹا ئے جانے والے ہو۔ ؏۵