ا۔ل۔م

رومی مغلوب ہو گئے ہیں،

قریب کی سر زمین میں اور اپنی اس مغلوبیت کے بعد وہ غالب ہو جائیں گے۔1

چند سال کے اندر، اللہ ہی کا اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی۔2 اور وہ دن وہ ہوگا جبکہ مسلمان خوشیاں منائیں گے۔3

اللہ کی بخشی ہوئی فتح پر، اللہ نصرت عطا فرماتا ہے جسے چاہتا ہے ، اور وہ زبر دست اور رحیم ہے ۔

یہ وعدہ اللہ نے کیا ہے، اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔

لوگ دنیا کی زندگی کا بس ظاہری پہلو جانتے ہیں اور آخرت سے وہ خود ہی غافل ہیں4

کیا انہوں نے کبھی اپنے آپ میں غور و فکر نہیں کیا؟5 اللہ نے زمین اور آسمانوں کو اور ان ساری چیزوں کو جو ان کے درمیان ہیں برحق اور ایک مقرر مدت ہی کے لیے پیدا کیا ہے۔6 مگر بہت سے لوگ اپنے رب کی ملاقات کے منکر ہیں۔7

اور کیا یہ لوگ کبھی زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ انہیں ان لوگوں کا انجام نظر آتا جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں؟8 وہ ان سے زیادہ طاقت رکھتے تھے، انہوں نے زمین کو خوب ادھیڑا تھا9 اور اسے اتنا آباد کیا تھا جتنا انہوں نے نہیں کیا ہے۔10 ان کے پاس ان کے رسول روشن نشانیاں لے کر آئے۔11 پھر اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا، مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کر رہے تھے۔12

آخر کار جن لوگوں نے برائیاں کی تھیں ان کا انجام بہت برا ہوا، اس لیے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا تھا اور وہ ان کا مزاق اڑاتے تھے۔ ؏۱

اللہ ہی خلق کی ابتدا کرتا ہے ، پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا،13 پھر اسی کی طرف تم پلٹائے جاؤ گے۔

اور جب وہ ساعت14 برپا ہو گی اس دن مجرم ہَک دَک رہ جائیں گے ،15

ان کے ٹھیر ائے ہوئے شریکوں میں کوئی ان کا سفارشی نہ ہو گا 16 اور وہ اپنے شریکوں کے منکر ہو جائیں گے ۔17

جس روز ساعت برپا ہوگی، اس دن (سب انسان)الگ گروہوں میں بٹ جائیں گے۔18

جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں وہ ایک باغ میں19 شاداں و فرحاں رکھے جائیں گے۔20

اور جنہوں نے کفر کیا ہے اور ہماری آیات کو اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا ہے21 وہ عذاب میں حاضررکھے جائیں گے۔

22 پس تسبیح کرو اللہ کی23 جبکہ تم شام کرتے ہو اور جب صبح کرتے ہو۔

آسمانوں اور زمین میں اسی کے لیے حمد ہے۔ اور (تسبیح کرو اس کی) تیسرے پہر اور جبکہ تم پر ظہر کا وقت آتا ہے۔24

وہ زندہ میں سے مردے کو نکالتا ہے اور مردے میں سے زندہ کو نکال لاتا ہے اور زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے۔25 اسی طرح تم لوگ بھی (حالتِ موت سے)نکال لیے جاؤ گے۔؏۲

26 اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ۔ پھر یکایک تم بشر ہو کہ (زمین میں)پھیلتے چلے جا رہے ہو۔27

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اس نے تمہارے لیے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں28 تاکہ تم ان کے پاس سکون حاصل کرو29 اور تمہارے درمیان محبّت اور رحمت پیدا کر دی۔30 یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو غور وفکر کرتے ہیں۔

اور اس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش،31 اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ہے۔32 یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں دانشمند لوگوں کے لیے۔

اور اس کی نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن کو سونا اور تمہارا اس کے فضل کو تلاش کرنا ہے۔33 یقیناًاس میں سے بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو (غور سے) سنتے ہیں۔

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ تمہیں بجلی کی چمک دکھاتا ہے خوف کے ساتھ بھی اور طمع کے ساتھ بھی۔34 اور آسمان سے پانی بر ساتا ہے، پھر اس کے ذریعہ سے زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے۔35 یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔

اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں۔36 پھر جونہی کہ اس نے تمہیں زمین سے پکارا، بس ایک ہی پکار میں اچانک تم نکل آؤ گے۔37

آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں اس کے بندے ہیں، سب کے سب اسی کے تابع فرمان ہیں۔

وہی ہے جو تخلیق کی ابتد کرتا ہے، پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا اور یہ اس کے لیے آسان تر ہے۔38 آسمانوں اور زمین میں اس کی صفت سب سے برتر ہے اور وہ زبر دست اور حکیم ہے۔ ؏۳

وہ تمہیں39 خود تمہاری اپنی ہی ذات سے ایک مثال دیتا ہے۔ کیا تمہارے اُن غلاموں میں سے جو تمہاری ملکیت میں ہیں کچھ غلام ایسے بھی ہیں جو ہمارے دیے ہوئے مال و دولت میں تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہوں اور تم ان سے اس طرح ڈرتے ہو جس طرح آپس میں اپنے ہمسروں سے ڈرتے ہو؟40 --۔۔۔۔ اس طرح ہم آیات کھول کر پیش کرتے ہیں ان لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔

مگر یہ ظالم بے سمجھے بوجھے اپنے تخیلات کے پیچھے چل پڑے ہیں۔ اب کون اس شخص کو راستہ دکھا سکتا ہے جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو۔41 ایسے لوگوں کا تو کوئی مددگار نہیں ہو سکتا۔

42پس (اے نبیؐ اور نبیؐ کے پیروو) یک سُو ہو کر اپنا رخ اس دین43 کی سمت میں جمادو،44 قائم ہو جاؤ اس فطرت پر جس پر اللہ تعالیٰ نےانسانوں کو پیدا کیا ہے،45 اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدلی نہیں جا سکتی،46 یہی بالکل راست اور درست دین ہے،47 مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔

(قائم ہو جاؤ اس بات پر)اللہ کی طرف رجوع کرتے ہوئے،48 اور ڈرو اس سے49 اور نماز قائم کرو،50 اور نہ ہو جاؤ ان مشرکین میں سے

جنہوں نے اپنا اپنا دین الگ بنا دیا ہے او گروہوں میں بٹ گئے ہیں، ہر ایک گروہ کے پاس جو کچھ ہے اسی میں وہ مگن ہے۔51

لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب انھیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رب کی طرف رجوع کر کے اسے پکارتے ہیں،52 پھر جب وہ کچھ اپنی رحمت کا ذائقہ انھیں چکھا دیتا ہے تو یکایک ان میں سے کچھ لوگ شرک کرنے لگتے ہیں53

تاکہ ہمارے کیے ہوئے احسان کی ناشکری کریں۔ اچھا، مزے کر لو، عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا ۔

کیا ہم نے کوئی سند اور دلیل ان پر نازل کی ہے جو شہادت دیتی ہو اس شرک کی صداقت پر جو یہ کر رہے ہیں؟54

جب ہم لوگوں کو رحمت کا ذائقہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر پھول جاتے ہیں اور جب ان کے اپنے کیے کرتوتوں سے ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یکایک وہ مایوس ہونے لگتے ہیں۔55

کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ اللہ ہی رزق کشادہ کرتا ہے جس کا چاہتا ہے اور تنگ کرتاہے(جس کا چاہتا ہے)۔ یقیناً اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔56

پس (اے مومن)رشتہ دار کو اس کا حق دے اور مسکین و مسافر کو (اس کا حق) 57۔ یہ طریقہ بہتر ہے ان لوگوں کے لیے جو اللہ کی خوشنودی چاہتے ہوں، اور وہی فلاح پانے والے ہیں۔58

جو سُود تم دیتے ہو تاکہ لوگوں کے اموال میں شامل ہو کر وہ بڑھ جائے ، اللہ کے نزدیک وہ نہیں بڑھتا،59 اور جو زکوٰة تم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے ارادے سے دیتے ہو، اسی کے دینے والے درحقیقت اپنے مال بڑھاتے ہیں۔60

61اللہ ہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا ، پھر تمہیں رزق دیا،62 پھر وہ تمہیں موت دیتا ہے، پھر وہ تمہیں زندہ کرے گا۔ کیا تمہارے ٹھیرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو ان میں سے کوئی کام بھی کرتا ہو؟63 پاک ہے وہ اور بہت بالا و بر تر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ ؏۴

خشکی اور تری میں فساد برپا ہو گیا ہے لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے تاکہ مزّہ چکھائے اُن کو اُن کے بعض اعمال کا، شاید کہ وہ باز آئیں۔64

(اے نبیؐ )ان سے کہو کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو پہلے گُزرے ہوئے لوگوں کا کیا انجام ہو چکا ہے، ان میں اکثر مشرک ہی تھے۔65

پس (اے نبیؐ )اپنا رُخ مضبوطی کے ساتھ جما دو اِس دینِ راست کی سمت میں قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس کے ٹل جانے کی کوئی صُورت اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔66 اُس دن لوگ پھٹ کر ایک دُوسرے سے الگ ہو جائیں گے۔

جس نے کُفر کیا ہے اُس کے کُفر کا وبال اُسی پر ہے۔67 اور جن لوگوں نے نیک عمل کیا ہے وہ اپنے ہی لیے فلاح کا راستہ صاف کر رہے ہیں

تاکہ اللہ ایمان لانے والوں اور عملِ صالح کرنے والوں کو اپنے فضل سے جزا دے۔ یقیناً وہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔

اُس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے بشارت دینے کے لیے68 اور تمہیں اپنی رحمت سے بہرہ مند کرنے کے لیے اور اِس غرض کے لیے کہ کشتیاں اُس کے حکم سے چلیں69 اور تم اُس کا فضل تلاش کرو70 اور اُس کے شکر گزار بنو۔اور

ہم نے تُم سے پہلے رسُولوں کو اُن کی قوم کی طرف بھیجا اور وہ اُن کے پاس روشن نشانیاں لے کر آئے،71 پھر جنہوں نے جُرم کیا72 اُن سے ہم نے انتقام لیا اور ہم پر یہ حق تھا کہ ہم مومنوں کی مدد کریں۔

اللہ ہی ہے جو ہواوٴں کو بھیجتا ہے اور وہ بادل اُٹھاتی ہیں ، پھر وہ ان بادلوں کو آسمان میں پھیلاتا ہے جس طرح چاہتا ہے اور اُنہیں ٹکڑیوں میں تقسیم کرتا ہے ، پھر تُو دیکھتا ہے کہ بارش کے قطرے بادل میں ٹپکے چلے آتے ہیں۔ یہ بارش جب وہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے برساتا ہے تو یکایک وہ خوش و خرم ہو جاتے ہیں

حالانکہ اس کے نزول سے پہلے وہ مایوس ہو رہے تھے۔

دیکھو اللہ کی رحمت کے اثرات کہ مُردہ پڑی ہوئی زمین کو وہ کس طرح جِلا اُٹھاتا ہے،73 یقیناً وہ مُردوں کو زندگی بخشنے والا ہے اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔

اور اگر ہم ایک ایسی ہوا بھیج دیں جس کے اثر سے وہ اپنی کھیتی کو زرد پائیں74 تو وہ کُفر کرتے رہ جاتے ہیں۔75

(اے نبیؐ )تم مُردوں کو نہیں سُنا سکتے،76 نہ اُن بہروں کو اپنی پُکار سُنا سکتے ہو جو پیٹھ پھیرے چلے جارہے ہوں77

اور نہ تم اندھوں کو ان کی گمراہی سے نکال کر راہِ راست دکھا سکتے ہو۔78 تم تو صرف اُنہی کو سُنا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے اور سرِ تسلیم خم کر دیتے ہیں۔ ؏۵

اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتدا کی ، پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوّت بخشی، پھر اس قوّت کے بعد تمہیں ضعیف اور بُوڑھا کر دیا۔ وہ جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔79 وہ سب کچھ جاننے والا ، ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔

اور جب وہ ساعت برپا ہوگی80 تو مجرم قسمیں کھاکھا کر کہیں گے کہ ہم ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں ٹھہرے ہیں،81 اسی طرح وہ دنیا کی زندگی میں دھوکا کھایا کرتے تھے۔82

مگر جو علم اور ایمان سے بہرہ مند کیے گئے تھے وہ کہیں گے کہ خدا کے نوشتے میں تو تم روزِ حشر تک پڑے رہے ہو، سو یہ وہی روزِ حشر ہے، لیکن تم جانتے نہ تھے۔

پس وہ دن ہوگا جس میں ظالموں کو ان کی معذرت کوئی نفع نہ دے گی اور نہ اُن سے معافی مانگنے کے لیے کہا جائے گا۔83

ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا ہے۔ تم خواہ کوئی نشانی لے آوٴ جن لوگوں نے ماننے سے انکار کر دیا ہے وہ یہی کہیں گے کہ تم باطل پر ہو۔

اِس طرح ٹھپّہ لگا دیتا ہے اللہ ان لوگوں کے دلوں پر جو بے علم ہیں۔

پس (اے نبیؐ )صبر کرو، یقیناً اللہ کا وعدہ سچا ہے،84 اور ہرگز ہلکا نہ پائیں تم کو وہ لوگ جو یقین نہیں لاتے۔85 ؏۶