الف۔ ل۔ م۔
کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اِتنا کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ”ہم ایمان لائے“ اور ان کو آزمایا نہ جائے گا؟1
حالانکہ ہم اُن سب لوگوں کی آزمائش کر چکے ہیں جو اِن سے پہلے گزرے ہیں۔2 اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہے3 کہ سچے کون ہیں اور جھُوٹے کون۔
اور کیا وہ لوگ جو بُری حرکتیں کر رہے ہیں4 یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ وہ ہم سے بازی لے جائیں گے؟5 بڑا غلط حکم ہے جو وہ لگا رہے ہیں۔
جو کوئی اللہ سے ملنے کی توقع رکھتا ہو (اُسے معلوم ہونا چاہیے کہ)اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت آنے ہی والا ہے،6 اور اللہ سب کچھ سُنتا اور جانتا ہے۔7
جو شخص بھی مجاہدہ کرے گا اپنے ہی بھلے کے لیے کرے گا،8 اللہ یقیناً دنیا جہان والوں سے بے نیاز ہے۔9
اور جو لوگ ایمان لائیں گے اور نیک اعمال کریں گے اُن کی برائیاں ہم ان سے دُور کر دیں گے اور انہیں اُن کے بہترین اعمال کی جزا دیں گے۔10
ہم نے انسان کو ہدایت کی ہے کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ لیکن اگر وہ تجھ پر زور ڈالیں کہ تُو میرے ساتھ کسی ایسے (معبُود)کو شریک ٹھہرا ئے جسے تُو (میرے شریک کی حیثیت سے )نہیں جانتا تو ان کی اطاعت نہ کر۔11 میری ہی طرف تم سب کو پلٹ کر آنا ہے، پھر میں تم کو بتا دوں گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔12
اور جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور جنہوں نے نیک اعمال کیے ہوں گے اُن کو ہم ضرور صالحین میں داخل کریں گے۔
لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو کہتا ہے کہ ہم ایمان لائے اللہ پر۔13 مگر جب وہ اللہ کے معاملہ میں ستایا گیا تو اس نے لوگوں کی ڈالی ہوئی آزمائش کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھ لیا۔14 اب اگر تیرے ربّ کی طرف سے فتح و نصرت آگئی تو یہی شخص کہے گا کہ” ہم تو تمہارے ساتھ تھے“15 کیا دنیا والوں کے دلوں کا حال اللہ کو بخوبی معلوم نہیں ہے؟
اور اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہی ہے کہ ایمان لانے والے کون ہیں اور منافق کون۔16
یہ کافر لوگ ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں کہ تم ہمارے طریقے کی پیروی کرو اور تمہاری خطاوٴں کو ہم اپنے اُوپر لے لیں گے۔17 حالانکہ اُن کی خطاوٴں میں سے کچھ بھی وہ اپنے اُوپر لینے والے نہیں ہیں،18 وہ قطعاً جھُوٹ کہتے ہیں۔
ہاں ضرور وہ اپنے بوجھ بھی اُٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ دوسرے بہت سے بوجھ بھی۔19 اور قیامت کے روز یقیناً ان سے اِن افترا پردازیوں کی باز پرس ہوگی جو وہ کرتے رہے ہیں۔20 ؏۱
ہم نے نُوحؑ کو اس کی قوم کی طرف بھیجا21 اور وہ پچاس کم ایک ہزار برس اُن کے درمیان رہا۔22 آخر کار اُن لوگوں کو طوفان نے آگھیرا اس حال میں کہ وہ ظالم تھے۔23
پھر نُوحؑ کو اور کشتی والوں24 کو ہم نے بچا لیا اور اُسے دنیا والوں کے لیے ایک نشانِ عبرت بنا کر رکھ دیا۔25
اور ابراہیمؑ کو بھیجا26 جبکہ اُس نے اپنی قوم سے کہا:”اللہ کی بندگی کرو اور اُس سے ڈرو۔27 یہ تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم جانو۔
تم اللہ کو چھوڑ کر جنہیں پُوج رہے ہو وہ تو محض بُت ہیں اور تم ایک جھُوٹ گھڑ رہے ہو۔28 درحقیقت اللہ کے سوا جن کی تم پرستش کرتے ہو وہ تمہیں کوئی رزق بھی دینے کا اختیار نہیں رکھتے۔ اللہ سے رزق مانگو اور اسی کی بندگی کرو اور اس کا شکر ادا کرو، اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو۔29
اور اگر تم جھُٹلاتے ہو تو تم سے پہلے بہت سی قومیں جھُٹلا چکی ہیں،30 اور رسُولؐ پر صاف صاف پیغام پہنچا دینے کے سوا کوئی ذمّہ داری نہیں ہے۔“
31کیا اِن لوگوں نے کبھی دیکھا ہی نہیں ہے کہ اللہ کس طرح خلق کی ابتدا کرتا ہے، پھر اُس کا اعادہ کرتا ہے؟ یقیناً یہ (اعادہ تو)اللہ کے لیے آسان تر ہے۔32
ان سے کہو کہ زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اُس نے کس طرح خلق کی ابتدا کی ہے ، پھر اللہ بار دیگر بھی زندگی بخشے گا۔ یقیناً اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔33
جسے چاہے سزا دے اور جس پر چاہے رحم فرمائے، اُسی کی طرف تم پھیرے جانے والے ہو۔
تم نہ زمین میں عاجز کرنے والے ہو نہ آسمان میں،34 اور اللہ سے بچانے والا کوئی سرپرست اور مددگار تمہارے لیے نہیں ہے۔35 ؏۲
جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا اور اس سے ملاقات کا انکار کیا ہے وہ میری رحمت سے مایوس ہو چکے ہیں36 اور ان کے لیے دردناک سزا ہے۔
37پھر اُس کی قوم کا جواب اِس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہوں نے کہا”قتل کردو اِسے یا جلا ڈالو اِس کو۔“38 آخر کار اللہ نے اُسے آگ سے بچا لیا،39 یقیناً اس میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لانے والے ہیں۔40
اور اُس نے کہا41 ”تم نے دنیا کی زندگی میں تو اللہ کو چھوڑ کر بُتوں کو اپنے درمیان محبّت کا ذریعہ بنالیا ہے42 مگر قیامت کے روز تم ایک دُوسرے کا انکار اور ایک دُوسرے پر لعنت کرو گے43 اور آگ تمہارا ٹھکانا ہوگی اور کوئی تمہارا مددگار نہ ہوگا۔“
اُس وقت لُوطؑ نے اُس کو مانا۔44 اور ابراہیمؑ نے کہا میں اپنے ربّ کی طرف ہجرت کرتا ہوں،45 وہ زبردست ہے اور حکیم ہے۔46
اور ہم نے اُسے اسحاقؑ اور یعقوبؑ (جیسی اولاد)عنایت فرمائی47 اور اُس کی نسل میں نبوّت اور کتاب رکھ دی،48 اور اسے دنیا میں اُس کا اجر عطا کیا اور آخرت میں وہ یقیناً صالحین میں سے ہوگا۔49
50اور ہم نے لُوطؑ کو بھیجا جبکہ اُس نے اپنی قوم سے کہا” تم تو وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا والوں میں سے کسی نے نہیں کیا ہے۔
کیا تمہارا حال یہ ہے کہ مَردوں کے پاس جاتے ہو،51 اور رہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں بُرے کام کرتے ہو؟“52 پھر کوئی جواب اُس کی قوم کے پاس اس کے سوا نہ تھا کہ انہوں نے کہا” لے آ اللہ کا عذاب اگر تُو سچا ہے۔“
لُوطؑ نے کہا” اے میرے ربّ، اِن مفسدوں کے مقابلے میں میری مدد فرما۔“ ؏۳
اور جب ہمارے فرستادے ابراہیمؑ کے پاس بشارت لے کر پہنچے53 تو انہوں نے اُس سے کہا” ہم اِس بستی کے لوگوں کو ہلاک کرنے والے ہیں،54 اس کے لوگ سخت ظالم ہو چکے ہیں۔“
ابراہیمؑ نے کہا” وہاں تو لُوطؑ موجود ہے۔“55 انہوں نے کہا” ہم خوب جانتے ہیں کہ وہاں کون کون ہے۔ ہم اُسے ، اور اُس کی بیوی کے سوا اس کے باقی گھر والوں کو بچا لیں گے۔“ اس کی بیوی پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی۔56
پھر جب ہمارے فرستادے لُوطؑ کے پاس پہنچے تو ان کی آمد پر وہ سخت پریشان اور دل تنگ ہوا۔57 اُنہوں نے کہا” نہ ڈرو اور نہ رنج کرو۔58 ہم تمہیں اور تمہارے گھر والوں کو بچا لیں گے ، سوائے تمہاری بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔
ہم اس بستی کے لوگوں پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں اُس فسق کی بدولت جو یہ کرتے رہے ہیں۔“
اور ہم نے اُس بستی کی ایک کھُلی نشانی چھوڑ دی ہے59 اُن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔60
اور مَدیَن کی طرف ہم نے اُن کے بھائی شعیبؑ کو بھیجا۔61 اُس نے کہا” اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو اور روزِ آخر کے اُمیدوار رہو62 اور زمین میں مفسد بن کر زیادتیاں نہ کرتے پھرو۔“
مگر انہوں نے اسے جھُٹلا دیا۔63 آخر کار ایک سخت زلزلے نے انہیں آلیا اور وہ اپنے گھروں میں64 پڑے کے پڑے رہ گئے۔
اور عاد و ثمود کو ہم نے ہلاک کیا، تم وہ مقامات دیکھ چکے ہو جہاں وہ رہتے تھے۔65 اُن کے اعمال کو شیطان نے اُن کے لیے خوشنما بنا دیا اور انہیں راہِ راست سے برگشتہ کر دیا حالانکہ وہ ہوش گوش رکھتے تھے۔66
اور قارون و فرعون و ہامان کو ہم نے ہلاک کیا۔ موسیٰؑ اُن کے پاس بیّنات لے کر آیا مگر انہوں نے زمین میں اپنی بڑائی کا زعم کیا حالانکہ وہ سبقت لے جانے والے نہ تھے۔67
آخر کار ہر ایک کو ہم نے اُس کے گناہ میں پکڑا، پھر اُن میں سے کسی پر ہم نے پتھراوٴ کرنے والی ہوا بھیجی،68 اور کسی کو ایک زبردست دھماکے نے آلیا،69 اور کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا،70 اور کسی کو غرق کر دیا۔71 اللہ ان پر ظلم کر نے والا نہ تھا، مگر وہ خود ہی اپنے اُوپر ظلم کر رہے تھے۔72
جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر دوسرے سرپرست بنا لیے ہیں اُن کی مثال مکڑی جیسی ہے جو اپنا ایک گھر بناتی ہے اور سب گھروں سے زیادہ کمزور گھر مکڑی کا گھر ہی ہوتا ہے۔ کاش یہ لوگ علم رکھتے۔73
یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جس چیز کو بھی پکارتے ہیں اللہ اُسے خوب جانتا ہے اور وہی زبردست اور حکیم ہے۔74
یہ مثالیں ہم لوگوں کی فہمائش کے لیے دیتے ہیں، مگر ان کو وہی لوگ سمجھتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں۔
اللہ نے آسمانوں اور زمین کو بر حق پیدا کیا ہے،75 در حقیقت اس میں ایک نشانی ہے اہلِ ایمان کے لیے ۔76 ؏۴
(اے نبیؐ) تلاوت کرو اس کتاب کی جو تمہاری طرف وحی کی ذریعے سے بھیجی گئی ہے۔ اور نماز قائم کرو،77 یقیناً نماز فحش اور بُرے کاموں سے روکتی ہے78 اور اللہ کا ذکر اس سے بھی زیادہ بڑی چیز ہے۔79 اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگ کرتے ہو۔
80 اور اہل کتاب سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقہ سے81 ۔۔۔۔ سوائے ان لوگوں کے جو ان میں سے ظالم ہوں82 --۔۔۔۔ اور ان سے کہو کہ”ہم ایمان لائے ہیں اس چیز پر بھی جو ہماری طرف بھیجی گئی ہے اور اس چیز پر بھی جو تمہاری طرف بھیجی گئی تھی، ہمارا خدا اور تمہارا خدا ایک ہی ہے اور ہم اسی کے مسلم(فرمابردار)ہیں۔“83
(اے نبیؐ) ہم نے اسی طرح تمہاری طرف کتاب نازل کی ہے،84 اس لیے وہ لوگ جن کو ہم نے پہلے کتاب دی تھی وہ اس پر ایمان لاتے ہیں،85 اور ان لوگوں میں سے بھی بہت سے اس پر ایمان لا رہے ہیں،86 اور ہماری آیات کا انکار صرف کافر ہی کرتے ہیں۔87
(اے نبیؐ )تم اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے، اگر ایسا ہوتا تو باطل پرست لوگ شک میں پڑ سکتے تھے۔88
دراصل یہ روشن نشانیاں ہیں ان لوگوں کے دلوں میں جنہیں علم بخشا گیا ہے،89 اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتے مگر وہ جو ظالم ہیں۔
یہ لوگ کہتے ہیں کہ ”کیوں نہ اُتاری گئیں اس شخص پر نشانیاں90 اس کے رب کی طرف سے“؟کہو،”نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں اور میں صرف خبردار کرنے والا ہوں کھول کھول کر “۔
اور کیا ان لوگوں کے لیے یہ (نشانی)کافی نہیں ہے کہ ہم نے تم پر کتاب نازل کی جو انھیں پڑھ کر سنائی جاتی ہے؟91 درحقیقت اس میں رحمت ہے اور نصیحت ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔92 ؏ ۵
(اے نبیؐ )کہو کہ”میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہی کے لیے کافی ہے۔ وہ آسمانوں اور زمین میں سب کچھ جانتا ہے۔ جو لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ سے کفر کرتے ہیں وہی خسارے میں رہنے والے ہیں۔“
یہ لوگ تم سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔93 اگر ایک وقت مقرر نہ کر دیا گیا ہوتا تو ان پر عذاب آچکا ہوتا۔ اور یقیناً(اپنے وقت پر )وہ آکر رہے گا اچانک ، اس حال میں کہ انہیں خبر بھی نہ ہو گی ۔
یہ تم سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں، حالانکہ جہنم ان کافروں کو گھیرے میں لے چکی ہے
(اور انہیں پتہ چلے گا)اس روز جبکہ عذاب انہیں اوپر سے بھی ڈھانک لے گا اور پاؤں کے نیچے سے بھی اور کہے گا کہ اب چکھو مزا ان کرتوتوں کا جو تم کرتے تھے۔
اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو، میری زمین وسیع ہے، پس تم میری ہی بندگی بجا لاؤ۔94
ہر متنفس کو موت کا مزا چکھنا ہے، پھر تم سب ہماری طرف ہی پلٹا کر لائے جاؤ گے۔95
جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں ان کو ہم جنت کی بلندو بالا عمارتوں میں رکھیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے، کیا ہی عمدہ اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے96
۔۔۔۔۔۔۔ ان لوگوں کے لیے جنہوں نے صبر کیا ہے97 اور جو اپنے رب پر بھروسہ کرتے ہیں۔98
کتنے ہی جانور ہیں جو اپنا رزق اُٹھائے نہیں پھرتے، اللہ ان کو رزق دیتا ہے اور تمہارا رازق بھی وہی ہے، وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔99
100اگر تم ان لوگوں سے پوچھوں کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے اور چاند اور سورج کو کس نے مسخر کر رکھا ہے تو ضرور کہیں گے کہ اللہ نے، پھر یہ کدھر سے دھوکا کھا رہے ہیں؟
اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں میں سے جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کرتا ہے، یقیناً اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے۔
اور اگر تم ان سے پوچھو کس نے آسمان سے پانی برسایا اور اس کے ذریعہ سے مردہ پڑی ہوئی زمین کو جِلا اُٹھایا تو وہ ضرور کہیں گے اللہ نے۔ کہو، الحمدللہ،101 مگر اکثر لوگ سمجھتے نہیں ہیں۔ ؏ ۶
اور یہ دنیا کی زندگی کچھ نہیں ہے مگر ایک کھیل اور دل کا بہلاوا۔102 اصل زندگی کا گھر تو دارِ آخرت ہے، کاش یہ لوگ جانتے۔103
جب یہ لوگ کشتی پر سوار ہوتے ہیں تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کرکے اس سے دعا مانگتے ہیں ، پھر جب وہ انہیں بچا کر خشکی پر لے آتا ہے تو یکایک یہ شرک کرنے لگتے ہیں
تاکہ اللہ کی دی ہوئی نجات پر اس کا کفران نعمت کریں اور(حیات دنیا کے) مزے لوٹیں۔104 اچھا، عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا ۔
کیا یہ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم نے ایک پُر امن حرم بنا دیا ہے حالانکہ ان کے گرد و پیش لوگ اُچک لیے جاتے ہیں؟105 کیا پھر بھی یہ لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا کفران کرتے ہیں؟
اس شخص سے بڑا ظالم کون ہو گا جو اللہ پر جھوٹ باندھے یا حق کو جھٹلائے جب کہ وہ اس کے سامنے آچکا ہو؟106 کیا ایسے کافروں کا ٹھکانہ جہنم ہی نہیں ہے؟
جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے،107 اور یقیناً اللہ نیکو کاروں ہی کے ساتھ ہے۔ ؏۷