ط۔س۔م۔

یہ کتاب مبین کی آیات ہیں۔

ہم موسیٰؑ اور فرعون کا کچھ حال ٹھیک ٹھیک تمہیں سُناتے ہیں،1 ایسے لوگوں کے فائدے کے لیے جو ایمان لائیں۔2

واقعہ یہ کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی 3اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کر دیا۔ 4 ان میں سے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا، اس کے لڑکوں کو قتل کر تا اور اس کی لڑکیوں کو جیتا رہنے دیتا تھا۔5 فی الواقع وہ مفسد لوگوں میں سے تھا۔

اور ہم یہ ارادہ رکھتے تھے کہ مہربانی کریں ان لوگوں پر جو زمین میں ذلیل کر کے رکھے گئے تھے اور انہیں پیشوا بنا دیں6 اور انہی کو وارث بنائیں7

اور زمین میں ان کو اقتدار بخشیں اور ان سے فرعون و ہامان8 اور ان کے لشکروں کو وہی کچھ دِکھلا دیں جس کا انہیں ڈر تھا۔

9ہم نے موسیٰؑ کی ماں کو اشارہ کیا کہ ” اِس کو دُودھ پلا، پھر جب تجھے اُس کی جان کا خطرہ ہو تو اسے دریا میں ڈال دے اور کچھ خوف اور غم نہ کر، ہم اسے تیرے ہی پاس واپس لے آئیں گے اور اس کو پیغمبروں میں شامل کریں گے۔“10

آخر کار فرعون کے گھر والوں نے اسے (دریا سے )نکال لیا تاکہ وہ ان کا دشمن اور ان کے لیے سببِ رنج بنے،11 واقعی فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر (اپنی تدبیر میں)بڑے غلط کار تھے۔

فرعون کی بیوی نے (اس سے)کہا”یہ میرے اور تیرے لیے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے، اسے قتل نہ کرو، کیا عجب کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو، یا ہم اسے بیٹا ہی بنا لیں۔“12 اور وہ (انجام سے)بے خبر تھے۔

اُدھر موسیٰؑ کی ماں کا دل اُڑا جا رہا تھا۔ وہ اس کا راز فاش کر بیٹھتی اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھا دیتے تاکہ وہ (ہمارے وعدے پر)ایمان لانے والوں میں سے ہو۔

اُس نے بچے کی بہن سے کہا اس کے پیچھے پیچھے جا۔ چنانچہ وہ الگ سے اس کو اس طرح دیکھتی رہی کہ (دشمنوں کو)اس کا پتہ نہ چلا۔13

اور ہم نے بچے پر پہلے ہی دُودھ پِلانے والیوں کی چھاتیاں حرام کر رکھی تھیں۔14 (یہ حالت دیکھ کر)اُس لڑکی نے اُن سے کہا” میں تمہیں ایسے گھر کا پتہ بتاوٴں جس کے لوگ اس کی پرورش کا ذمّہ لیں اور خیر خواہی کے ساتھ اسے رکھیں؟15

اس طرح ہم موسیٰؑ کو16 اس کی ماں کے پاس پلٹا لائے تاکہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غمگین نہ ہو اور جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا تھا،17 مگر اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے۔ “ ؏۱

جب موسیٰؑ اپنی پوری جوانی کو پہنچ گیا اور اُس کا نشوونما مکمل ہوگیا18 تو ہم نے اُسے حکم اور علم عطا کیا،19 ہم نے نیک لوگوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔

(ایک روز) وہ شہر میں ایسے وقت داخل ہوا جبکہ اہلِ شہر غفلت میں تھے۔20 وہاں اُس نے دیکھا کہ دو آدمی لڑ رہے ہیں۔ ایک اُس کی اپنی قوم کا تھا اور دُوسرا اُس کی دشمن قوم سے تعلق رکھتا تھا۔ اُس کی قوم کے آدمی نے دشمن قوم والے کے خلاف اُسے مدد کے لیے پکارا۔ موسیٰؑ نے اُس کو ایک گھونسا مارا21 اور اُس کا کام تمام کر دیا۔ (یہ حرکت سرزَد ہوتے ہی )موسیٰؑ نے کہا”یہ شیطان کی کار فرمائی ہے، وہ سخت دشمن اور کھُلا گمراہ کُن ہے۔“22

پھر وہ کہنے لگا”اے میرے ربّ، میں نے اپنے نفس پر ظلم کر ڈالا، میری مغفرت فرما دے۔“23 چنانچہ اللہ نے اُس کی مغفرت فرما دی، وہ غفورٌ رحیم ہے۔24

موسیٰؑ نے عہد کیا کہ ”اے میرے ربّ، یہ احسان جو تُو نے مجھ پر کیا ہے25 اِس کے بعد اب میں کبھی مجرموں کا مددگار نہ بنوں گا۔“26

دوسرے روز وہ صبح سویرے ڈرتا اور ہر طرف سے خطرہ بھانپتا ہوا شہر میں جا رہا تھا کہ یکایک کیا دیکھتا ہے کہ وہی شخص جس نے کل اُسے مدد کے لیے پکارا تھا آج پھر اُسے پکاررہا ہے۔ موسیٰؑ نے کہا”تُو تو بڑا ہی بہکا ہوا آدمی ہے۔“27

پھر جب موسیٰؑ نے ارادہ کیا کہ دشمن قوم کے آدمی پر حملہ کرے28 تو وہ پکار اُٹھا29 ”اے موسیٰؑ ، کیا آج تُو مجھے اُسی طرح قتل کرنے لگا ہے جس طرح کل ایک شخص کو قتل کر چکا ہے، تُو اس ملک میں جبّار بن کر رہنا چاہتا ہے، اصلاح کرنا نہیں چاہتا۔“

اس کے بعد ایک آدمی شہر کے پَرلے سِرے سے دوڑتا ہوا آیا30 اور بولا ”موسیٰؑ ، سرداروں میں تیرے قتل کے مشورے ہو رہے ہیں، یہاں سے نکل جا ، میں تیرا خیر خواہ ہوں۔“

یہ خبر سُنتے ہی موسیٰؑ ڈرتا اور سہمتا نکل کھڑا ہوا اور اُس نے دُعا کی کہ ”اے میرے ربّ، مجھے ظالموں سے بچا۔“ ؏۲

(مصر سے نکل کر)جب موسیٰؑ نے مَدیَن کا رُخ کیا31 تو اُس نے کہا”اُمید ہے کہ میرا ربّ مجھے ٹھیک راستے پر ڈال دے گا۔“32

اور جب وہ مَدیَن کے کنوئیں پر پہنچا33 تو اُس نے دیکھا کہ بہت سے لوگ اپنے جانوروں کو پانی پِلا رہے ہیں اور اُن سے الگ ایک طرف دو عورتیں اپنے جانوروں کو روک رہی ہیں۔ موسیٰؑ نے ان عورتوں سے پوچھا”تمہیں کیا پریشانی ہے؟“ اُنہوں نے کہا”ہم اپنے جانوروں کو پانی نہیں پِلا سکتیں جب تک یہ چرواہے اپنے جانور نہ نکال لے جائیں، اور ہمارے والد ایک بہت بُوڑھے آدمی ہیں۔“34

یہ سُن کر موسیٰؑ نے اُن کے جانوروں کو پانی پِلا دیا، پھر ایک سائے کی جگہ جا بیٹھا اور بولا”پروردگار، جو خیر بھی تُو مجھ پر نازل کر دے میں اس کا محتاج ہوں۔“

(کچھ دیر نہ گزری تھی کہ)اُن دونوں عورتوں میں سے ایک شرم و حیا کے ساتھ چلتی ہوئی اُس کے پاس آئی35 اور کہنے لگی”میرے والد آپ کو بُلا رہے ہیں تاکہ آپ نے ہمارے لیے جانوروں کو پانی جو پلایا ہے اس کا اجر آپ کو دیں۔“36 موسیٰؑ جب اُس کے پاس پہنچا اور اپنا سارا قصہ اُسے سُنایا تو اُس نے کہا ”کچھ خوف نہ کرو، اب تم ظالم لوگوں سے بچ نِکلے ہو۔“

ان دونوں عورتوں میں سے ایک نے اپنے باپ سے کہا”ابّا جان، اِس شخص کو نوکر رکھ لیجیے، بہترین آدمی جسے آپ ملازم رکھیں وہی ہو سکتا ہے جو مضبوط اور امانتدار ہو۔“37

اس کے باپ نے (موسیٰؑ سے)کہا”38 میں چاہتا ہوں کہ اپنی اِن دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تمہارے ساتھ کر دوں بشرطیکہ تم آٹھ سال تک میرے ہاں ملازمت کرو اور اگر دس سال تک پُورے کر دو تو یہ تمہاری مرضی ہے۔ میں تم پر سختی نہیں کرنا چاہتا۔ تم انشاءاللہ مجھے نیک آدمی پاوٴ گے۔“

موسیٰؑ نے جواب دیا”یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے ہوگئی۔ ان دونوں مدّتوں میں سے جو بھی میں پُوری کر دوں اُس کے بعد پھر کوئی زیادتی مجھ پر نہ ہو، اور جو کچھ قول قرار ہم کر رہے ہیں اللہ اُس پر نگہبان ہے۔“39 ؏ ۳

جب موسیٰؑ نے مدّت پوری کر دی40 اور اپنے اہل و عیال کو لے کر چلا تو طُور کی جانب اُس کو ایک آگ نظر آئی۔41 اُس نے اپنے گھر والوں سے کہا”ٹھہرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے ، شاید میں وہاں سے کوئی خبر لے آوٴں یا اُس آگ سے کوئی انگارا ہی اُٹھا لاوٴں جس سے تم تاپ سکو۔“

وہاں پہنچا تو وادی کے داہنے کنارے42 پر مبارک خطّے میں43 ایک درخت سے پُکارا گیا کہ”اے موسیٰؑ ، میں ہی اللہ ہوں، سارے جہاں والوں کا مالک۔“

اور (حکم دیا گیا کہ)پھینک دے اپنی لاٹھی۔ جونہی کہ موسیٰؑ نے دیکھا کہ وہ لاٹھی سانپ کی طرح بَل کھارہی ہے تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگا اور اُس نے مُڑ کر بھی نہ دیکھا۔ (اِرشاد ہوا)”موسیٰؑ ، پلٹ آ اور خوف نہ کر ، تُو بالکل محفوظ ہے۔

اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے۔44 اور خوف سے بچنے کے لیے اپنا بازُو بھینچ لے۔45 یہ دوروشن نشانیاں ہیں تیرے ربّ کی طرف سے فرعون اور اُس کے درباریوں کے سامنے پیش کر نے کے لیے ، وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں۔“46

موسیٰؑ نے عرض کیا”میرے آقا، میں تو اُن کا ایک آدمی قتل کر چکا ہوں، ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے مار ڈالیں گے۔47

اور میرا بھائی ہارون ؑ مجھ سے زیادہ زبان آور ہے، اُسے میرے ساتھ مددگار کے طور پر بھیج تاکہ وہ میری تائید کرے، مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ مجھے جھُٹلائیں گے۔“

فرمایا”ہم تیرے بھائی کے ذریعہ سے تیرا ہاتھ مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو ایسی سطوت بخشیں گے کہ وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ ہماری نشانیوں کے زور سے غلبہ تمہارا اور تمہارے پیرووں کا ہی ہوگا۔“48

پھر جب موسیٰؑ اُن لوگوں کے پاس ہماری کھُلی کھُلی نشانیاں لے کر پہنچا تو اُنہوں نے کہا کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر بناوٹی جادُو۔49 اور یہ باتیں تو ہم نے اپنے باپ دادا کے زمانے میں کبھی سُنی ہی نہیں۔50

موسیٰؑ نے جواب دیا”میرا ربّ اُس شخص کے حال سے خوب واقف ہے جو اُس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ آخری انجام کِس کا اچھا ہونا ہے، حق یہ ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے۔“51

اور فرعون نے کہا”اے اہلِ دربار، میں تو اپنے سوا تمہارے کسی خدا کو نہیں جانتا۔52ہامان، ذرا اینٹیں پکوا کر میرے لیے ایک اونچی عمارت تو بنوا، شاید کہ اُس پر چڑھ کر میں موسیٰؑ کے خدا کو دیکھ سکوں، میں تو اسے جھُوٹاسمجھتا ہوں۔“53

اُس نے اور اُس کے لشکروں نے زمین میں بغیر کسی حق کے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا54 اور سمجھے کہ اُنہیں کبھی ہماری طرف پلٹنا نہیں ہے۔55

آخر کار ہم نے اُسے اور اُس کے لشکروں کو پکڑا اور سمندر میں پھینک دیا۔56 اب دیکھ لو کہ اُن ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔

ہم نے اُنہیں جہنّم کی طرف دعوت دینے والے پیش رو بنا دیا57 اور قیامت کے روز وہ کہیں سے کوئی مدد نہ پا سکیں گے۔

ہم نے اِس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگا دی اور قیامت کے روز وہ بڑی قباحت میں مبتلا ہوں گے۔58 ؏۴

پچھلی نسلوں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰؑ کو کتاب عطا کی، لوگوں کے لیے بصیرتوں کا سامان بنا کر، ہدایت اور رحمت بنا کر، تاکہ شاید لوگ سبق حاصل کریں۔59

(اے محمدؐ )تم اُس وقت مغربی گوشے میں موجود نہ تھے60 جب ہم نے موسیٰؑ کو یہ فرمانِ شریعت عطا کیا، اور نہ تم شاہدین میں شامل تھے،61

بلکہ اُس کے بعد (تمہارے زمانے تک)ہم بہت سی نسلیں اُٹھا چکے ہیں اور اُن پر بہت زمانہ گُزر چکا ہے۔62 تم اہلِ مَدیِن کے درمیان بھی موجود نہ تھے کہ اُن کو ہماری آیات سُنا رہے ہوتے،63 مگر (اُس وقت کی یہ خبریں) بھیجنے والے ہم ہیں۔

اور تم طُور کے دامن میں بھی اُس وقت موجود نہ تھے جب ہم نے (موسیٰؑ کو پہلی مرتبہ)پکارا تھا، مگر یہ تمہارے ربّ کی رحمت ہے( کہ تم کو یہ معلومات دی جارہی ہیں) 64 تاکہ تم اُن لوگوں کو متنبّہ کرو جن کے پاس ان سے پہلے کوئی متنبّہ کرنے والا نہیں آیا،65 شاید کہ وہ ہوش میں آئیں۔

(اور یہ ہم نے اس لیے کیا کہ)کہیں ایسا نہ ہو کہ اُن کے اپنے کیے کرتُوتوں کی بدولت کوئی مصیبت جب اُن پر آئے تو وہ کہیں ”اے پروردگار، تُو نے کیوں نہ ہماری طرف کوئی رسُول بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہلِ ایمان میں سے ہوتے۔“66

مگر جب ہمارے ہاں سے حق اُن کے پاس آگیا تو وہ کہنے لگے”کیوں نہ دیا گیا اس کو وہی کچھ جو موسیٰؑ کو دیا گیا تھا؟“67 کیا یہ لوگ اس کا انکار نہیں کر چکے ہیں جو اس سے پہلے موسیٰؑ کو دیا گیا تھا؟68 اُنہوں نے کہا ”دونوں جادُو ہیں69 جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں۔“ اور کہا ”ہم کسی کو نہیں مانتے۔“

(اے نبیؐ)اِن سے کہو ”اچھا، تو لاوٴ اللہ کی طرف سے کوئی کتاب جو اِن دونوں سے زیادہ ہدایت بخشنے والی ہو اگر تم سچے ہو، میں اسی کی پیروی اختیار کروں گا۔“70

اب اگر وہ تمہارا یہ مطالبہ پُورا نہیں کرتے تو سمجھ لو کہ دراصل یہ اپنی خواہشات کے پیرو ہیں، اور اُس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو خدائی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہرگز ہدایت نہیں بخشتا۔ ؏۵

اور(نصیحت کی) بات پے در پے ہم انہیں پہنچا چکے ہیں تاکہ وہ غفلت سے بیدار ہوں۔71

جن لوگوں کو اِس سے پہلے ہم نے کتاب دی تھی وہ اِس (قرآن)پر ایمان لاتے ہیں۔72

اور جب یہ اُن کو سُنایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ”ہم اِس پر ایمان لائے، یہ واقعی حق ہے ہمارے ربّ کی طرف سے، ہم تو پہلے ہی سے مسلم ہیں۔“73

یہ وہ لوگ ہیں جنہیں ان کا اجر دو بار دیا جائے گا74 اُس ثابت قدمی کے بدلے جو انہوں نے دکھائی۔75 وہ بُرائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں76 اور جو کچھ رزق ہم نے انہیں دیا ہے اُس میں سے خرچ کرتے ہیں۔77

اور جب انہوں نے بیہودہ بات سُنی78 تو یہ کہہ کر اُس سے کنارہ کش ہوگئے کہ ”ہمارے اعمال ہمارے لیے اور تمہارے اعمال تمہارے لیے، تم کو سلام ہے، ہم جاہلوں کا سا طریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے۔“

اے نبیؐ ، تم جسے چاہو اُسے ہدایت نہیں دے سکتے، مگر اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ اُن لوگوں کو خُوب جانتا ہے جو ہدایت قبول کرنے والے ہیں۔79

وہ کہتے ہیں ”اگر ہم تمہارے ساتھ اِس ہدایت کی پیروی اختیار کر لیں تو اپنی زمین سے اُچک لیے جائیں گے۔“80 کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے ایک پُر امن حرم کو ان کے لیے جائے قیام بنا دیا جس کی طرف ہر طرح کے ثمرات کھچے چلے آتے ہیں، ہماری طرف سے رزق کے طور پر؟ مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔81

اور کتنی ہی ایسی بستیاں ہم تباہ کر چکے ہیں جن کے لوگ اپنی معیشت پر اِترا گئے تھے۔ سو دیکھ لو، وہ ان کے مسکن پڑے ہوئے ہیں جن میں ان کے بعد کم ہی کوئی بسا ہے، آخر کار ہم ہی وارث ہو کر رہے۔82

اور تیرا ربّ بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہ تھا جب تک کہ ان کے مرکز میں ایک رسُول نہ بھیج دیتا جو ان کو ہماری آیات سُناتا۔ اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے جب تک کہ ان کے رہنے والے ظالم نہ ہو جاتے۔83

تم لوگوں کو جو کچھ بھی دیا گیا ہے وہ محض دُنیا کی زندگی کا سامان اور اس کی زینت ہے ، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس سے بہتر اور باقی تر ہے۔ کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے؟ ؏۶

بھلا وہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہو اور وہ اسے پانے والا ہو کبھی اس شخص کی طرح ہو سکتا ہے جسے ہم نے صرفِ حیات دنیا کا سروسامان دے دیا ہو اور پھر وہ قیامت کے روز سزا کے لیے پیش کیا جانے والا ہو؟84

اور (بھُول نہ جائیں یہ لوگ) اُس دن کو جب کہ وہ اِن کو پکارے گا اور پُوچھے گا ”کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے؟“85

یہ قول جن پر چسپاں ہوگا86 وہ کہیں گے ”اے ہمارے ربّ، بے شک یہی لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا۔ اِنہیں ہم نے اُسی طرح گمراہ کیا جیسے ہم خود گمراہ ہوئے۔ ہم آپ کے سامنے براءت کا اظہار کرتے ہیں۔87 یہ ہماری تو بندگی نہیں کرتے تھے۔“88

پھر اِن سے کہا جائے گا کہ پکارو اب اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو۔89 یہ انہیں پکاریں گے مگر وہ اِن کو کوئی جواب نہ دیں گے۔ اور یہ لوگ عذاب دیکھ لیں گے۔ کاش یہ ہدایت اختیار کرنے والے ہوتے۔

اور (فراموش نہ کریں یہ لوگ)وہ دن جبکہ وہ اِن کو پکارے گا اور پُوچھے گا کہ ”جو رسُول بھیجے گئے تھے انہیں تم نے کیا جواب دیا تھا؟“

اُس وقت کوئی جواب اِن کو نہ سُوجھے گا اور نہ یہ آپس میں ایک دُوسرے سے پُوچھ ہی سکیں گے۔

البتہ جس نے آج توبہ کرلی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کیے وہی یہ توقع کرسکتا ہے کہ وہاں فلاح پانے والوں میں سے ہوگا۔

تیرا ربّ پیدا کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے اور(وہ خود ہی اپنے کام کے لیے جسے چاہتا ہے)منتخب کر لیتا ہے، یہ انتخاب اِن لوگوں کے کرنے کا کام نہیں ہے،90 اللہ پاک ہے اور بہت بالاتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔

تیرا ربّ جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ یہ ظاہر کرتے ہیں۔91

وہی ایک اللہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں۔ اسی کے لیے حمد ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، فرماں روائی اسی کی ہے اور اسی کی طرف تم سب پلٹائے جانے والے ہو۔

اے نبیؐ ، اِن سے کہو کبھی تم لوگوں نے غور کیا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کے لیے رات طاری کر دے تو اللہ کے سوا وہ کونسا معبود ہے جو تمہیں روشنی لادے؟ کیا تم سُنتے نہیں ہو؟

اِن سے پُوچھو، کبھی تم نے سوچا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کے لیے دن طاری کرد ے تو اللہ کے سوا وہ کونسا معبُود ہے جو تمہیں رات لادے تاکہ تم اس میں سکون حاصل کر سکو؟ کیا تم کو سُوجھتا نہیں؟

یہ اسی کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لیے رات اور دن بنائے تاکہ تم (رات میں) سکون حاصل کرو اور (دن کو) اپنے ربّ کا فضل تلاش کرو، شاید کہ تم شکر گزار بنو۔

(یاد رکھیں یہ لوگ)وہ دن جبکہ وہ انہیں پکارے گا پھر پُوچھے گا ”کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کو تم گمان رکھتے تھے؟“

اور ہم ہر اُمّت میں سے ایک گواہ نکال لائیں گے92 پھر کہیں گے کہ ”لاوٴ اب اپنی دلیل۔“93 اس وقت انہیں معلوم ہو جائے گا کہ حق اللہ کی طرف ہے، اور گم ہوجائیں گے ان کے وہ سارے جھُوٹ جو انہوں نے گھڑ رکھے تھے۔ ؏۷

یہ ایک واقعہ ہے94 کہ قارون موسیٰؑ کی قوم کا ایک شخص تھا، پھر وہ اپنی قوم کے خلاف سرکش ہوگیا۔95 اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دے رکھے تھے کہ ان کی کنجیاں طاقت ور آدمیوں کی ایک جماعت مشکل سے اُٹھا سکتی تھی۔96 ایک دفعہ جب اس کی قوم کے لوگوں نے اس سے کہا ”پھُول نہ جا، اللہ پھُولنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔

جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے اس سے آخرت کا گھر بنانے کی فکر کر اور دُنیا میں سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کر۔ احسان کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے اور زمین میں فساد برپا کرنے کی کوشش نہ کر، اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا۔“

تو اُس نے کہا ”یہ سب کچھ تو مجھے اُس علم کی بنا پر دیا گیا ہے جو مجھ کو حاصل ہے“97 ۔۔۔۔۔۔۔ کیا اس کو یہ علم نہ تھا کہ اللہ اس سے پہلے بہت سے ایسے لوگوں کو ہلاک کر چکا ہے جو اس سے زیادہ قوت اور جمعیت رکھتے تھے؟98 مجرموں سے تو ان کے گناہ نہیں پُوچھے جاتے۔99

ایک روز وہ اپنی قوم کے سامنے اپنے پُورے ٹھاٹھ میں نِکلا۔ جو لوگ حیاتِ دنیا کے طالب تھے وہ اسے دیکھ کر کہنے لگے ”کاش ہمیں بھی وہی کچھ ملتا جو قارون کو دیا گیا ہے، یہ تو بڑا نصیبے والا ہے۔“

مگر جو لوگ علم رکھنے والے تھے وہ کہنے لگے ”افسوس تمہارے حال پر، اللہ کا ثواب بہتر ہے اُس شخص کے لیے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے، اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صبر کرنے والوں کو۔“100

آخر کار ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دَھنسا دیا۔ پھر کوئی اس کے حامیوں کا گروہ نہ تھا جو اللہ کے مقابلہ میں اس کی مدد کو آتا اور نہ وہ خود اپنی مدد آپ کر سکا۔

اب وہی لوگ جو کل اس کی منزلت کی تمنا کر رہے تھے کہنے لگے ”افسوس، ہم بھُول گئے تھے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کا رزق چاہتا ہے کشادہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے نَپا تُلا دیتا ہے۔101 اگر اللہ نے ہم پر احسان نہ کیا ہوتا تو ہمیں بھی زمین میں دَھنسا دیتا۔ افسوس ہم کو یاد نہ رہا کہ کافر فلاح نہیں پایا کرتے۔“102؏۸

وہ آخرت کا گھر103 تو ہم اُن لوگوں کے لیے مخصُوص کر دیں گے جو زمین میں اپنی بڑائی نہیں چاہتے104 اور نہ فساد کرنا چاہتے ہیں۔105 اور انجام کی بھلائی متقین ہی کے لیے ہے۔106

جو کوئی بھلائی لے کر آئے گا اس کے لیے اس سے بہتر بھلائی ہے، اور جو بُرائی لے کر آئے تو برائیاں کرنے والوں کو ویسا ہی بدلہ ملے گا جیسے عمل وہ کرتے تھے۔

اے نبیؐ، یقین جانو کہ جس نے یہ قرآن تم پر فرض کیا ہے107 وہ تمہیں ایک بہترین انجام کو پہنچانے والا ہے۔108 اِن لوگوں سے کہہ دو کہ ”میرا ربّ خُوب جانتا ہے کہ ہدایت لے کر کون آیا ہے اور کھُلی گمراہی میں کون مُبتلا ہے۔“

تم اس بات کے ہرگز اُمیدوار نہ تھے کہ تم پر کتاب نازل کی جائے گی، یہ تو محض تمہارے ربّ کی مہربانی سے (تم پر نازل ہوئی ہے)،109 پس تم کافروں کے مددگار نہ بنو۔110

اور ایسا کبھی نہ ہونے پائے کہ اللہ کی آیات جب تم پر نازل ہوں تو کُفّار تمہیں اُن سے باز رکھیں۔111 اپنے ربّ کی طرف دعوت دو اور ہرگز مشرکوں میں شامل نہ ہو

اور اللہ کے سوا کسی دُوسرے معبُود کو نہ پکارو۔ اُس کے سوا کوئی معبُود نہیں ہے۔ ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اُس کی ذات کے۔ فرماں روائی اسی کی ہے112 اور اسی کی طرف تم سب پلٹائے جانے والے ہو۔ ؏۹