ط۔س۔ یہ آیات ہیں قرآن اور کتابِ مبین کی،1

ہدایت اور بشارت 2اُن ایمان لانے والوں کے لیے

جو نماز قائم کرتے اور زکوٰة دیتے ہیں3، اور پھر وہ ایسے لوگ ہیں جو آخرت پر پُورا یقین رکھتے ہیں4۔

حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے ان کے لیے ہم نے اُن کے کرتُوتوں کو خوشنما بنا دیا ہے،

اس لیے وہ بھٹکتے پھرتے ہیں5۔ یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے بُری سزا ہے6 اور آخرت میں یہی سب سے زیادہ خسارے میں رہنے والے ہیں۔

اور (اے محمدؐ )بلا شبہہ تم یہ قرآن ایک حکیم و علیم ہستی کی طرف سے پا رہے ہو۔7

(اِنہیں اُس وقت کا قصہ سُناوٴ)جب موسیٰؑ نے اپنے گھر والوں سے کہا کہ8”مجھے ایک آگ سی نظر آئی ہے، میں ابھی یا تو وہاں سے کوئی خبر لے کر آتا ہوں یا کوئی انگارا چُن لاتا ہوں تاکہ تم لوگ گرم ہو سکو9۔“

وہاں جو پہنچا تو ندا آئی 10کہ ”مبارک ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور جو اِس کے ماحول میں ہے۔ پاک ہے اللہ، سب جہان والوں کا پروردگار11۔

اے موسیٰؑ، یہ میں ہوں اللہ، زبردست اور دانا۔اور

پھینک تُو ذرا اپنی لاٹھی۔“ جُونہی کہ موسیٰؑ نے دیکھا لاٹھی سانپ کی طرح بل کھا رہی ہے12 تو پیٹھ پھیر کر بھاگا اور پیچھے مُڑ کر بھی نہ دیکھا۔ ”اے موسیٰؑ، ڈرو نہیں۔ میرے حضُور رسُول ڈرا نہیں کرتے13،

اِلّا یہ کہ کسی نے قصور کیا ہو14۔ پھر اگر بُرائی کے بعد اُس نے بھلائی سے (اپنے فعل کو)بدل لیا تو میں معاف کرنے والا مہربان ہوں15۔

اور ذرا اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں تو ڈالو۔ چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے۔ یہ (دونشانیاں)نو نشانیوں میں سے ہیں فرعون اور اُس کی قوم کی طرف (لے جانے کے لیے ) 16، وہ بڑے بدکردار لوگ ہیں۔“

مگر جب ہماری کھُلی کھُلی نشانیاں اُن لوگوں کے سامنے آئیں تو انہوں نے کہا کہ یہ تو کھُلا جادُو ہے۔

انہوں نے سراسر ظلم اور غرور کی راہ سے ان نشانیوں کا انکار کیا حالانکہ دل ان کے قائل ہو چکے تھے۔17 اب دیکھ لو کہ ان مفسدوں کا انجام کیسا ہوا۔ ؏۱

(دُوسری طرف)ہم نے داوٴدؑ و سلیمانؑ کو علم عطا کیا 18اور اُنہوں نے کہا کہ شکر ہے اُس خدا کا جس نے ہم کو اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطا کی۔19

اور داوٴدؑ کا وارث سلیمانؑ ہوا20۔ اور اس نے کہا ”لوگو، ہمیں پرندوں کی بولیاں سکھائی گئی ہیں21 اور ہمیں ہر طرح کی چیزیں دی گئی ہیں22، بے شک یہ (اللہ کا)نمایاں فضل ہے۔“

سلیمانؑ کے لیے جن اور انسانوں اور پرندوں کے لشکر جمع کیے گئے تھے23 اور وہ پُورے ضبط میں رکھے جاتے تھے۔

(ایک مرتبہ وہ ان کے ساتھ کُوچ کر رہا تھا)یہاں تک کہ جب یہ سب چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی نے کہا ”اے چیونٹیو، اپنے بلوں میں گھُس جاوٴ، کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمانؑ اور اس کے لشکر تمہیں کُچل ڈالیں اور انہیں خبر بھی نہ ہو۔“24

سلیمانؑ اس کی بات پر مُسکراتے ہوئے ہنس پڑا اور بولا۔۔۔۔ ”اے میرے ربّ، مجھے قابو میں رکھ25 کہ میں تیرے احسان کا شکر ادا کرتا رہوں جو تُو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا ہے اور ایسا عملِ صالح کروں جو تجھے پسند آئے اور اپنی رحمت سے مجھ کو اپنے صالح بندوں میں داخل کر۔“26

(ایک اور موقع پر)سلیمانؑ نے پرندوں کا جائزہ لیا27 اور کہا ”کیا بات ہے کہ میں فلاں ہُد ہُد کو نہیں دیکھ رہا ہوں۔ کیا وہ کہیں غائب ہو گیا ہے؟

میں اسے سخت سزا دوں گا، یا ذبح کر دوں گا، ورنہ اسے میرے سامنے معقول وجہ پیش کرنی ہوگی۔28

کچھ زیادہ دیر نہ گزری تھی کہ اُس نے آکر کہا ”میں نے وہ معلومات حاصل کی ہیں جو آپ کے عِلم میں نہیں ہیں۔ میں سَبا کے متعلق یقینی اطلاع لے کر آیا ہوں۔29

میں نے وہاں ایک عورت دیکھی جو اس قوم کی حکمراں ہے۔ اُس کو ہر طرح کا سرو سامان بخشا گیا ہے اور اُس کا تخت بڑا عظیم الشان ہے ۔

میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کے بجائے سُورج کے آگے سجدہ کرتی ہے30“ ۔۔۔۔ 31شیطان نے ان کے اعمال ان کے لیے خوشنما بنا دیے32 اور انہیں شاہراہ سے روک دیا، اس وجہ سے وہ یہ سیدھا راستہ نہیں پاتے

کہ اُس خدا کو سجدہ کریں جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزیں نکالتا ہے33 اور سب کچھ جانتا ہے جسے تم لوگ چھُپاتے ہو اور ظاہر کرتے ہو۔ 34

اللہ کہ جس کے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں، جو عرشِ عظیم کا مالک ہے۔35 السجدة

سلیمانؑ نے کہا ”ابھی ہم دیکھے لیتے ہیں کہ تُو نے سچ کہا ہے یا تُو جھُوٹ بولنے والوں میں سے ہے۔

میرا یہ خط لے جا اور اسے ان لوگوں کی طرف ڈال دے، پھر الگ ہٹ کر دیکھ کہ وہ کیا ردِ عمل ظاہر کرتے ہیں۔“36

ملکہ بولی ”اے اہلِ دربار، میری طرف ایک بڑا اہم خط پھینکا گیا ہے۔

وہ سلیمانؑ کی جانب سے ہے اور اللہ رحمٰن و رحیم کے نام سے شروع کیا گیا ہے۔

مضمون یہ ہے کہ ”میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور مسلم ہو کر میرے پاس حاضر ہو جاوٴ۔“37 ؏۲

(خط سُنا کر)ملکہ نے کہا ”اے سردارانِ قوم، میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو، میں کسی معاملہ کا فیصلہ تمہارے بغیر نہیں کرتی ہوں۔“38

اُنہوں نے جواب دیا” ہم طاقت ور اور لڑنے والے لوگ ہیں۔ آگے فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ خود دیکھ لیں کہ آپ کو کیا حکم دینا ہے۔“

ملکہ نے کہا کہ ”بادشاہ جب کسی ملک میں گھُس آتے ہیں تو اسے خراب اور اس کے عزت والوں کو ذلیل کردیتے ہیں39۔ یہی کچھ وہ کیا کرتے ہیں40۔

میں اِن لوگوں کی طرف ایک ہدیہ بھیجتی ہوں، پھر دیکھتی ہوں کہ میرے ایلچی کیا جواب لے کر پلٹتے ہیں۔“

جب وہ (ملکہ کا سفیر)سلیمانؑ کے ہاں پہنچا تو اس نے کہا ”کیا تم لوگ مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو؟ جو کچھ خدا نے مجھے دے رکھا ہے وہ اس سے بہت زیادہ ہے جو تمہیں دیا ہے۔41 تمہارا ہدیہ تمہی کو مبارک رہے۔

(اے سفیر) واپس جا اپنے بھیجنے والوں کی طرف ۔ ہم ان پر ایسے لشکر لے کر آئیں گے42 جن کا مقابلہ وہ نہ کر سکیں گے اور ہم انہیں ایسی ذلّت کے ساتھ وہاں سے نکالیں گے کہ وہ خوار ہو کر رہ جائیں گے۔“

43سلیمانؑ نے کہا ”اے اہلِ دربار، تم میں سے کون اس کا تخت میرے پاس لاتا ہے قبل اس کے کہ وہ لوگ مطیع ہو کر میرے پاس حاضر ہوں؟44

جِنوں میں سے ایک قوی ہیکل نے عرض کیا میں اسے حاضر کر دوں گا قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اُٹھیں۔45 میں اس کی طاقت رکھتا ہوں اور امانتدار ہوں۔“46

جس شخص کے پاس کتاب کا ایک علم تھا وہ بولا ”میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے اسے لائے دیتا ہوں۔47“ جُونہی کہ سلیمانؑ نے وہ تخت اپنے پاس رکھا ہوا دیکھا، وہ پکار اُٹھا ”یہ میرے ربّ کا فضل ہے تاکہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہوں یا کافرِ نعمت بن جاتا ہوں48۔ اور جو کوئی شکر کرتا ہے اس کا شکر اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے، ورنہ کوئی نا شکری کرے تو میرا ربّ بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ بزرگ ہے49۔“

50سلیمانؑ نے کہا ”انجان طریقے سے اس کا تخت اس کے سامنے رکھ دو، دیکھیں وہ صحیح بات تک پہنچتی ہے یا اُن لوگوں میں سے ہے جو راہِ راست نہیں پاتے۔“51

ملکہ جب حاضر ہوئی تو اس سے کہا گیا کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے؟ وہ کہنے لگی ”یہ تو گویا وہی ہے52۔ ہم تو پہلے ہی جان گئے تھے اور ہم نے سرِ اطاعت جُھکا دیا تھا۔ (یا ہم مسلم ہو چکے تھے)۔“53

اُس کو (ایمان لانے سے)جس چیز نے روک رکھا تھا وہ اُن معبُودوں کی عبادت تھی جنہیں وہ اللہ کے سوا پُوجتی تھی، کیونکہ وہ ایک کافر قوم سے تھی۔54

اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہو۔ اس نے جو دیکھا تو سمجھی کہ پانی کا حوض ہے اور اُترنے کے لیے اس نےاپنے پائینچے اُٹھا لیے۔ سلیمانؑ نے کہا یہ شیشے کا چکنا فرش ہے۔55 اس پروہ پکار اُٹھی ”اے میرے ربّ (آج تک)میں اپنے نفس پر بڑا ظلم کرتی رہی، اور اب میں نے سلیمانؑ کے ساتھ اللہ ربّ العالمین کی اطاعت قبول کر لی۔“56 ؏۳

57اور ثمُود کی طرف ہم نے اُن کے بھائی صالحؑ کو (یہ پیغام دے کر)بھیجا کہ اللہ کی بندگی کرو، تو یکایک وہ دو مُتَخاصِم فریق بن گئے۔58

صالحؑ نے کہا ”اے میری قوم کے لوگو، بھلائی سے پہلے بُرائی کے لیے کیوں جلدی مچاتے ہو؟59 کیوں نہیں اللہ سے مغفرت طلب کرتے ؟ شایک کہ تم پر رحم فرمایا جائے؟“

انہوں نے کہا ”ہم نے تو تم کو اور تمہارے ساتھیوں کو بدشگونی کا نشان پایا ہے۔“60 صالحؑ نے جواب دیا ”تمہارے نیک و بدشگون کا سرِشتہ تو اللہ کے پاس ہے ۔ اصل بات یہ ہے کہ تم لوگوں کی آزمائش ہو رہی ہے۔“61

اُس شہر میں نو جتھے دار تھے62 جو ملک میں فساد پھیلاتے اور کوئی اصلاح کا کام نہ کرتے تھے۔

انہوں نے آپس میں کہا ”خدا کی قسم کھا کر عہد کر لو کہ ہم صالحؑ اور اس کے گھر والوں پر شبخون ماریں گے اور پھر اس کے ولی سے کہہ دیں گے63 کہ ہم اس کے خاندان کی ہلاکت کے موقع پر موجود نہ تھے، ہم بالکل سچ کہتے ہیں۔“64

یہ چال تو وہ چلے اور پھر ایک چال ہم نے چلی جس کی انہیں خبر نہ تھی۔65

اب دیکھ لو کہ ان کی چال کا انجام کیا ہوا۔ ہم نے تباہ کر کے رکھ دیا اُن کو اور ان کی پوری قوم کو۔

وہ اُن کے گھر خالی پڑے ہیں اُس ظلم کی پاداش میں جو وہ کرتے تھے، اس میں ایک نشانِ عِبرت ہے اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔66

اور بچا لیا ہم نے اُن لوگوں کو جو ایمان لائے تھے اور نافرمانی سے پرہیز کرتے تھے۔

67اور لوطؑ کو ہم نے بھیجا۔ یاد کرو وہ وقت جب اس نے اپنی قوم سے کہا ”کیا تم آنکھوں دیکھتے بدکاری کرتے ہو؟68

کیا تمہارا یہی چلن ہے کہ عورتوں کو چھوڑ کر مردوں کے پاس شہوت رانی کے لیے جاتے ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ سخت جہالت کا کام کرتے ہو۔“69

مگر اُس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہوں نے کہا ”نکال دو لُوطؑ کے گھر والوں کو اپنی بستی سے، یہ بڑے پاکباز بنتے ہیں۔“

آخر کار ہم نے بچا لیا اُس کو اور اُس کے گھر والوں کو، بجز اُس کی بیوی کے جس کا پیچھے رہ جانا ہم نے طے کر دیا تھا،70

اور برسائی اُن لوگوں پر ایک برسات ، بہت ہی بُری برسات تھی وہ اُن لوگوں کے حق میں جو متنبّہ کیے جا چکے تھے۔ ؏۴

71(اے نبیؐ )کہو، حمد ہے اللہ کے لیے اور سلام اُس کے اُن بندوں پر جنہیں اس نے برگزیدہ کیا۔ (اِن سے پُوچھو)اللہ بہتر ہے یا وہ معبُود جنہیں یہ لوگ اس کا شریک بنا رہے ہیں؟

بھَلا وہ کون ہے جس نےآسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمہارے لیے آسمان سے پانی برسایا پھر اس کے ذریعہ سے وہ خوشنما باغ اُگائے جن کے درختوں کا اُگانا تمہارے بس میں نہ تھا؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دُوسرا خدا بھی (اِن کاموں میں شریک)ہے؟73 (نہیں)، بلکہ یہی لوگ راہِ راست سے ہٹ کر چلے جا رہے ہیں۔

اور وہ کون ہے جس نے زمین کو جائے قرار بنایا74 اور اس کے اندر دریا رواں کیے اور اس میں (پہاڑوں کی)میخیں گاڑ دیں اور پانی کے دو ذخیروں کے درمیان پردے حائل کر دیے؟75 کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی (ان کاموں میں شریک)ہے؟ نہیں، بلکہ ان میں سے اکثر لوگ نادان ہیں۔

کون ہے جو بے قرار کی دُعا سُنتا ہے جبکہ وہ اُسے پکارے اور کون اس کی تکلیف رفع کرتا ہے؟76 اور (کون ہے جو)تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے؟77 کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی (یہ کام کرنے والا)ہے؟ تم لوگ کم ہی سوچتے ہو۔

اور وہ کون ہے جو خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں تم کو راستہ دکھاتا ہے78 اور کون اپنی رحمت کے آگے ہواوٴں کو خوشخبری لے کر بھیجتا ہے؟79 کیا اللہ کے ساتھ کوئی دُوسرا خدا بھی (یہ کام کرتا)ہے؟ بہت بالا و برتر ہے اللہ اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔

اور وہ کون ہے جو خلق کی ابتدا کرتا ہے اور پھر اس کا اعادہ کرتا ہے؟80 اور کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے؟81 کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور خدا بھی (ان کاموں میں حصہ دار)ہے؟ کہو کہ لاوٴ اپنی دلیل اگر تم سچے ہو۔82

اِن سے کہو، اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی غیب کا عِلم نہیں رکھتا۔83 اور وہ نہیں جانتے کہ کب وہ اُٹھائے جائیں گے۔84

بلکہ آخرت کا تو علم ہی اِن لوگوں سے گُم ہو گیا ہے، بلکہ یہ اس کی طرف سے شک میں ہیں، بلکہ یہ اُس سے اندھے ہیں۔ 85 ؏۵

یہ منکرین کہتے ہیں”کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہوچکے ہوں گے تو ہمیں واقعی قبروں سے نکالا جائے گا؟

یہ خبریں ہم کو بھی بہت دی گئی ہیں اور پہلے ہمارے آبا و اجداد کو بھی دی جاتی رہی ہیں، مگر یہ بس افسانے ہی افسانے ہیں جو اگلے وقتوں سے سُنتے چلے آرہے ہیں ۔“

کہو ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو کہ مجرموں کا کیا انجام ہو چکا ہے۔86

اے نبیؐ ، اِن کے حال پر رنج نہ کرو، اور نہ اِن کی چالوں پر دِل تنگ ہو87

۔۔۔۔ وہ کہتے ہیں کہ ”یہ دھمکی کب پُوری ہوگی اگر تم سچے ہو؟“88

کہو کیا عجب کہ جس عذاب کے لیے تم جلدی مچا رہے ہو اس کا ایک حصہ تمہارے قریب ہی آلگا ہو۔89

حقیقت یہ ہے کہ تیرا ربّ تو لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔90

بلا شُبہ تیرا ربّ خُوب جانتا ہے جو کچھ ان کے سینے اپنے اندر چھُپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں۔91

آسمان و زمین کی کوئی پوشیدہ چیز ایسی نہیں ہے جو ایک واضح کتاب میں لکھی ہوئی موجود نہ ہو۔92

یہ واقعہ ہے کہ یہ قرآن بنی اسرائیل کو اکثراُن باتوں کی حقیقت بتاتا ہے جن میں وہ اختلاف رکھتے ہیں93

اور یہ ہدایت اور رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لیے۔94

یقیناً (اِسی طرح)تیرا ربّ اِن لوگوں کے درمیان95 بھی اپنے حکم سے فیصلہ کر دے گا اور وہ زبردست اور سب کچھ جاننے والا ہے۔96

پس اے بنیؐ، اللہ پر بھروسہ رکھو، یقیناً تم صریح حق پر ہو۔

تم مُردوں کو نہیں سُنا سکتے97، نہ اُن بہروں تک اپنی پکار پہنچا سکتے ہو جو پیٹھ پھیر کر بھاگے جا رہے ہوں98،

اور نہ اندھوں کو راستہ بتا کر بھٹکنے سے بچا سکتے ہو۔99 تم تو اپنی بات اُنہی لوگوں کو سُنا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور پھر فرماں بردار بن جاتے ہیں۔

اور جب ہماری بات پُوری ہونے کا وقت اُن پر آپہنچے گا100 تو ہم ان کے لیے ایک جانور زمین سے نکالیں گے جو ان سے کلام کرے گا کہ لوگ ہماری آیات پر یقین نہیں کرتے تھے۔101 ؏۶

اور ذرا تصوّر کرو اُس دن کا جب ہم ہر اُمّت میں سے ایک فوج کی فوج اُن لوگوں کی گھیر لائیں گے جو ہماری آیات کو جھُٹلایا کرتے تھے، پھر ان کو (ان کی اقسام کے لحاظ سے درجہ بدرجہ)مرتب کیا جائے گا۔

یہاں تک کہ جب سب آجائیں گے تو (ان کا ربّ ان سے)پوچھے گا کہ ”تم نے میری آیات کو جھُٹلا دیا حالانکہ تم نے ان کا عِلمی احاطہ نہ کیا تھا؟102 اگر یہ نہیں تو اور تم کیا کر رہے تھے؟103

اور ان کے ظلم کی وجہ سے عذاب کا وعدہ ان پر پورا ہو جائے گا، تب وہ کچھ بھی نہ بول سکیں گے۔

کیا ان کو سُجھائی نہ دیتا تھا کہ ہم نے رات ان کے لیے سکون حاصل کرنے کو بنائی تھی اور دن کو روشن کیا تھا؟104 اسی میں بہت نشانیاں تھیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے تھے۔105

اور کیا گُزرے گی اُس روز جب کہ صُور پھُونکا جائے گا اور ہَول کھا جائیں گے وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں106 ۔۔۔۔ سوائے اُن لوگوں کے جنہیں اللہ اس ہَول سے بچانا چاہے گا ۔۔۔۔ اور سب کان دبائے اس کے حضور حاضر ہو جائیں گے۔

آج تُو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خوب جمے ہوئے ہیں، مگر اُس وقت یہ بادلوں کی طرح اُڑ رہے ہوں گے، یہ اللہ کی قدرتت کا کرشمہ ہوگا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا ہے۔ وہ خوب جانتا ہے کہ تم لوگ کیا کرتے ہو۔107

جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اسے اُس سے زیادہ بہتر صلہ ملے گا108 اور ایسے لوگ اُس دن کے ہَول سے محفوظ ہوں گے۔109

اور جو بُرائی لیے ہوئے آئے گا ، ایسے سب لوگ اوندھے منہ آگ میں پھینکے جائیں گے ۔ کیا تم لوگ اس کے سوا کوئی اور جزا پا سکتے ہو کہ جیسا کرو ویسا بھرو؟الف 109

(اے محمدؐ ، اِن سے کہو) ”مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ اِس شہر کے ربّ کی بندگی کروں جس نے اِسے حرم بنایا ہے اور جو ہر چیز کا مالک ہے۔110 مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلم بن کر رہوں

اور یہ قرآن پڑھ کر سُناوٴں۔“ اب جو ہدایت اختیار کرے گا وہ اپنے ہی بھلے کے لیے ہدایت اختیار کرے گا۔ اور جو گمراہ ہو اُس سے کہہ دو کہ میں تو بس خبر دار کر دینے والا ہوں۔

ان سے کہو، تعریف اللہ ہی کے لیے ہے ، عنقریب وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھا دے گا اور تم انہیں پہچان لو گے، اور تیرا ربّ بے خبر نہیں ہے اُن اعمال سے جو تم لوگ کرتے ہو۔ ؏ ۷