یہ ایک سُورت ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے، اور اسے ہم نے فرض کیا ہے، اور اس میں ہم نے صاف صاف ہدایات نازل کی ہیں، 1 شایک کہ تم سبق لو۔
زانیہ عورت اور زانی مرد، دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو۔ 2 اور ان پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے معاملے میں تم کو دامنگیر نہ ہو اگر تم اللہ تعالیٰ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتے ہو۔ 3 اور ان کو سزا دیتے وقت اہلِ ایمان کا ایک گروہ موجود رہے۔ 4
زانی نکاح نہ کرے مگر زانیہ کے ساتھ یا مشرکہ کے ساتھ۔ اور زانیہ کے ساتھ نکاح نہ کرے مگر زانی یہ مشرک۔ اور یہ حرام کر دیا گیا ہے اہلِ ایمان پر۔ 5
اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پر تہمت لگائیں، پھر چار گواہ لے کر نہ آئیں، ان کو اَسّی کوڑے مارو اور ان کی شہادت کبھی قبول نہ کرو، اور وہ خود ہی فاسق ہیں،
سوائے اُن لوگوں کے جو اس حرکت کے بعد تائب ہو جائیں اور اصلاح کر لیں کہ اللہ ضرور (اُن کے حق میں)غفورو رحیم ہے۔ 6
اور جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگائیں اور ان کے پاس خود ان کے اپنے سوا دُوسرے کوئی گواہ نہ ہوں تو اُن میں سے ایک شخص کی شہادت (یہ ہے کہ وہ)چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر گواہی دے کہ وہ (اپنے الزام میں)سچا ہے
اور پانچویں بار کہے کہ اُس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ ( اپنے الزام میں)جھوٹا ہو۔
اور عورت سے سزا اس طرح ٹل سکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھا کر شہادت دے کہ یہ شخص (اپنے الزام میں)جھُوٹا ہے
اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اُس بندی پر اللہ کا غضب ٹوٹے اگر وہ (اپنے الزام میں)سچا ہو۔ 7
تم لوگوں پر اللہ کا فضل اور اس کا رحم نہ ہوتا اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بڑا التفات فرمانے والا اور حکیم ہے، تو (بیویوں پر الزام کا معاملہ تمہیں بڑی پیچیدگی میں ڈال دیتا)۔ ؏١
11-20جو لوگ یہ بہتان گھڑ لائے ہیں8 وہ تمہارے ہی اندر کا ایک ٹولہ ہیں۔ 9 اس واقعے کو اپنے حق میں شر نہ سمجھو بلکہ یہ بھی تمہارے لیے خیر ہی ہے۔ 10 جس نے اس میں جتنا حصہ لیا اس نے اتنا ہی گناہ سمیٹا، اور جس شخص نے اِس کی ذمہ داری کا بڑا حصہ اپنے سر لیا 11 اس کے لیے عذابِ عظیم ہے۔
جس وقت تم لوگوں نے اسے سُنا تھا اُسی وقت کیوں نہ مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے آپ سے نیک گمان کیا 12 اور کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ صریح بہتان ہے؟ 13
وہ لوگ (اپنے الزام کے ثبوت میں )چار گواہ کیوں نہ لائے؟ اب کہ وہ گواہ نہیں لائے ہیں، اللہ کے نزدیک وہی جھُوٹے ہیں۔ 14
اگر تم لوگوں پر دنیا اور آخرت میں اللہ کا فضل اور رحم و کرم نہ ہوتا تو جن باتوں میں تم پڑ گئے تھے ان کی پاداش میں بڑا عذاب تمہیں آلیتا۔
(ذرا غور تو کرو، اُس وقت تم کیسی سخت غلطی کر رہے تھے)جبکہ تمہاری ایک زبان سے دُوسری زبان اس جھوٹ کو لیتی چلی جا رہی تھی اور تم اپنے منہ سے وہ کچھ کہے جا رہے تھے جس کی متعلق تمہیں کوئی علم نہ تھا۔ تم اسے ایک معمولی بات سمجھ رہے تھے، حالانکہ اللہ کے نزدیک یہ بڑی بات تھی۔
کیوں نہ اُسے سُنتے ہی تم نے کہہ دیا کہ”ہمیں ایسی بات زبان سے نکالنا زیب نہیں دیتا، سُبحان اللہ، یہ تو ایک بہتانِ عظیم ہے۔“
اللہ تم کو نصیحت کرتا ہے کہ آئندہ کبھی ایسی حرکت نہ کرنا اگر تم مومن ہو۔
اللہ تمہیں صاف صاف ہدایات دیتا ہے اور رہ علیم و حکیم ہے۔ 15
جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں دردناک سزا کے مستحق ہیں، 16 اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے۔ 17
اگر اللہ کا فضل اور اس کا رحم و کرم تم پر نہ ہوتا اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بڑا شفیق و رحیم ہے ،(تو یہ چیز جو ابھی تمہارے اندر پھیلائی گئی تھی بدترین نتائج دکھا دیتی)۔ ؏ ۲
21-26اے لوگو جو ایمان لائےہو، شیطان کے نقشِ قدم پر نہ چلو۔ اس کی پیروی کوئی کرے گا تو وہ تو اسے فحش اور بدی ہی کا حکم دے گا۔ اگر اللہ کا فضل اور اس کا رحم و کرم تم پر نہ ہوتا تو تم میں سے کو ئی شخص پاک نہ ہو سکتا۔ 18 مگر اللہ ہی جسے چاہتا ہے پاک کر دیتا ہے ، اور اللہ سُننے والا اور جاننے والا ہے۔ 19
تم میں سے جو لوگ صاحبِ فضل اور صاحبِ مقدرت ہیں وہ اس بات کی قسم نہ کھا بیٹھیں کہ اپنے رشتہ دار، مسکین اور مہاجر فی سبیل اللہ لوگوں کی مدد نہ کریں گے۔ انھیں معاف کر دینا چاہیے اور درگزر کرنا چاہیے۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کرے؟ اور اللہ کی صفت یہ ہے کہ وہ غفور و رحیم ہے۔ 20
جو لوگ پاک دامن ، بے خبر، 21 مومن عورتوں پر تہمتیں لگاتے ہیں ان پر دُنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی اور ان کے لیے بڑا عذاب ہے۔
وہ اس دن کو بھُول نہ جائیں جبکہ ان کی اپنی زبانیں اور ان کے اپنے ہاتھ پاوٴں ان کے کرتُوتوں کی گواہی دیں گے۔ 21الف
اس دن اللہ وہ بدلہ انہیں بھر پور دے دیگا جس کے وہ مستحق ہیں اور انہیں معلوم ہو جائے گا کہ اللہ ہی حق ہے سچ کو سچ کر دکھانے والا۔
خبیث عورتیں خبیث مردوں کے لیے ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لیے۔ پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مرد پاکیزہ عورتوں کے لیے۔ ان کا دامن پاک ہے اُن باتوں سے جو بنانے والے بناتے ہیں، 22 ان کے لیے مغفرت ہے اور رزقِ کریم ۔ ؏ ۳
27-3423 اے لوگوجو ایمان لائے ہو، اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھر میں داخل نہ ہوا کرو جب تک کہ گھر والوں کی رضا نہ لے لو 24 اور گھر والوں پر سلام نہ بھیج لو، یہ طریقہ تمہارے لیے بہتر ہے۔ توقع ہے کہ تم اس کا خیال رکھو گے۔ 25
پھر اگر وہاں کسی کو نہ پاوٴ تو داخل نہ ہو جب تک کہ تم کو اجازت نہ دے دی جائے، 26 اور اگر تم سے کہا جائے کہ واپس چلے جاوٴ تو واپس ہو جاوٴ، یہ تمہارے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے ، 27 اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔
البتہ تمہارے لیے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ ایسے گھروں میں داخل ہو جاوٴ جو کسی کے رہنے کی جگہ نہ ہوں اور جن میں تمہارے فائدے (یا کام)کی کوئی چیز ہو، 28 تم جو کچھ ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ چھپاتے ہو سب کی اللہ کو خبر ہے۔
اے نبیؐ ، مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں 29 اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، 30 یہ اُن کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے، جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اُس سے باخبر رہتا ہے۔
اور اے نبیؐ ، مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں، 31 اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں، 32 اور 33 اپنا بناوٴ سنگھار نہ دکھائیں 34 بجز اُس کے جو خود ظاہر ہو جائے، 35 اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں۔ 36 وہ اپنا بناوٴ سنگھار نہ ظاہر کریں مگر اِن لوگوں کے سامنے 37 : شوہر، باپ، شوہروں کے باپ 38 ، اپنے بیٹے، شوہروں کے بیٹے 39 ، بھائی 40 ، بھائیوں کے بیٹے 41 ، بہنوں کے بیٹے 42 ، اپنے میل جول کی عورتیں 43 ، اپنے مملوک 44 ، وہ زیرِ دست مرد جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں 45 ، اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں۔ 46 وہ اپنے پاوٴں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ اپنی جو زینت انہوں نے چھپا رکھی ہو اس کا لوگوں کو علم ہو جائے۔ 47 اے مومنو، تم سب مِل کر اللہ سے توبہ کرو 48 ، توقع ہے کہ فلاح پاوٴ گے۔ 49
تم میں سے جو لوگ مجرد ہوں50 ، اور تمہارے لونڈی غلاموں میں سے جو صالح ہوں 51 ، ان کے نکاح کر دو۔ 52 اگر وہ غریب ہوں تو اللہ اپنے فضل سے اُن کو غنی کر دے گا 53 ، اللہ بڑی وسعت والا اور علیم ہے۔
اور جو نکاح کا موقع نہ پائیں انھیں چاہیے کہ عِفّت مآبی اختیار کریں، یہاں تک کہ اللہ اپنے فضل سے اُن کو غنی کر دے۔ 54 اور تمہارےمملوکوں میں سے جو مکاتبت کی درخواست کریں 55 ان سے مکاتبت کر لو 56 اگر تمہیں معلوم ہو کہ ان کے اندر بھلائی ہے 57 ، اور ان کو اُس مال میں سے دو جو اللہ نے تمہیں دیا ہے۔ 58 اور اپنی لونڈیوں کو اپنے دُنیوی فائدوں کی خاطر قحبہ گری پر مجبُور نہ کرو جبکہ وہ خود پاکدامن رہنا چاہتی ہوں 59 ، اور جو کوئی اُن کو مجبور کرے تو اِس جبر کے بعد اللہ اُن کے لیے غفور و رحیم ہے۔
ہم نے صاف صاف ہدایت دینے والی آیات تمہارے پاس بھیج دی ہیں، اور ان قوموں کی عبرتناک مثالیں بھی ہم تمہارے سامنے پیش کر چکے ہیں جو تم سے پہلے ہو گزری ہیں، اور وہ نصیحتیں ہم نے کر دی ہیں جو ڈرنے والوں کے لیے ہوتی ہیں۔ 60 ؏۴
35-4061 اللہ آسمانوں اور زمین کا نُور ہے۔ 62 (کائنات میں)اس کے نُور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق میں چراغ رکھا ہُوا ہو، چراغ ایک فانُوس میں ہو، فانُوس کا حال یہ ہو کہ جیسے موتی کی طرح چمکتا ہوا تارا، اور وہ چراغ زیتون کے ایک ایسے مبارک درخت 63 کے تیل سے روشن کیا جاتا ہو جو نہ شرقی ہو نہ غربی 64 ، جس کا تیل آپ ہی آپ بھڑکا پڑتا ہو چاہے آگ اس کو نہ لگے، (اِس طرح)روشنی پر روشنی (بڑھنے کے تمام اسباب جمع ہوگئے ہوں 65 )۔ اللہ اپنے نُور کی طرف جس کی چاہتا ہے رہنمائی فرماتا ہے 66 ، وہ لوگوں کو مثالوں سے بات سمجھاتا ہے ، وہ ہر چیز سے خُوب واقف ہے۔ 67
(اُس کے نُور کی طرف ہدایت پانے والے)اُن گھروں میں پائے جاتے ہیں جنہیں بلند کرنے کا، اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ نے اِذن دیا ہے۔ 68 اُن میں ایسے لوگ صبح و شام اُس کی تسبیح کرتے ہیں
جنہیں تجارت اور خرید و فروخت اللہ کی یاد سے اور اقامتِ نماز و ادائے زکوٰة سے غافل نہیں کر دیتی ۔ وہ اُس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں دل اُلٹنے اور دِیدے پتھرا جانے کی نوبت آجائے گی،
(اور وہ یہ سب کچھ اس لیے کرتے ہیں )تاکہ ان کے بہترین اعمال کی جزا اُن کو دے اور مزید اپنے فضل سے نوازے، اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب دیتا ہے۔ 69
(اسِ کے برعکس)جنہوں نے کُفر کیا 70 ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے دشتِ بے آب میں سراب کہ پیاسا اُس کو پانی سمجھے ہوئے تھا، مگر جب وہاں پہنچا تو کچھ نہ پایا، بلکہ وہاں اس نے اللہ کو موجود پایا، جس نے اس کا پورا پورا حساب چکا دیا، اور اللہ کو حساب لیتے دیر نہیں لگتی۔ 71
یا پھر اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرا، کہ اُوپر ایک موج چھائی ہوئی ہے، اُس پر ایک اور موج، اور اس کے اُوپر بادل، تاریکی مسلّط ہے، آدمی اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی نہ دیکھنے پائے۔ 72 جسے اللہ نُور نہ بخشے اُس کے لیے پھر کوئی نُور نہیں۔ 73 ؏ ۵
41-5074 کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کی تسبیح کر رہے ہیں وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ پرندے جو پر پھیلائے اُڑ رہے ہیں؟ ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتا ہے، اور یہ سب جو کچھ کرتے ہیں اللہ اس سے با خبر رہتا ہے۔
آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے اور اسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے۔
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ بادل کو آہستہ آہستہ چلاتا ہے، پھر اس کے ٹکڑوں کو باہم جوڑتا ہے ، پھر اسے سمیٹ کر ایک کثیف ابر بنا دیتا ہے، پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے خول میں سے بارش کے قطرے ٹپکتے چلے آتے ہیں۔ اور وہ آسمان سے ، اُن پہاڑوں کی بدولت جو اس میں بلند ہیں، 75 اولے برساتا ہے، پھر جسے چاہتا ہے ان کا نقصان پہنچاتا ہے اور جسے چاہتا ہے ان سے بچا لیتا ہے۔ اُس کی بجلی کی چمک نگاہوں کو خیرہ کیے دیتی ہے۔
رات اور دن کا اُلٹ پھیر وہی کر رہا ہے ۔ اِس میں ایک سبق ہے آنکھوں والوں کے لیے۔
اور اللہ نے ہر جاندار ایک طرح کے پانی سے پیدا کیا، کوئی پیٹ کے بل چل رہا ہے تو کوئی دو ٹانگوں پر اور کوئی چار ٹانگوں پر جو کچھ وہ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے، وہ ہر چیز پر قادر ہے۔
ہم نے صاف صاف حقیقت بتانے والی آیات نازل کر دی ہیں، آگے صراطِ مستقیم کی طرف ہدایت اللہ ہی جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔
یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ اور رسُولؐ پر اور ہم نے اطاعت قبول کی، مگر اس کے بعد ان میں سے ایک گروہ (اطاعت سے)منہ موڑ جاتا ہے۔ ایسے لوگ ہرگز مومن نہیں ہیں۔ 76
جب ان کو بُلایا جاتا ہے اللہ اور رسُول کی طرف، تاکہ رسُول ان کے آپس کے مقدمے کا فیصلہ کرے 77 تو ان میں سے ایک فریق کَترا جاتا ہے۔ 78
البتہ اگر حق ان کی موافقت میں ہو تو رسُول کے پاس بڑے اطاعت کیش بن کر آجاتے ہیں۔ 79
کیا اِن کے دلوں کو (منافقت کا )روگ لگا ہوا ہے؟ یا یہ شک میں پڑے ہوئے ہیں ؟ یا ان کو یہ خوف ہے کہ اللہ اور اس کا رسُول ان پر ظلم کرے گا؟ اصل بات یہ ہے کہ ظالم تو یہ لوگ خود ہیں۔ 80 ؏ ٦
51-57ایمان لانے والوں کا کام تو یہ ہے کہ جب وہ اللہ اور رسُول کی طرف بُلائے جائیں تاکہ رسُول ان کے مقدمے کا فیصلہ کرے تو وہ کہیں کہ ہم نے سُنا اور اطاعت کی۔ ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں،
اور کامیاب وہی ہیں جو اللہ اور رسُولؐ کی فرمانبرداری کریں اور اللہ سے ڈریں اور اس کی نافرمانی سے بچیں۔
یہ (منافق)اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ ” آپ حکم دیں تو ہم گھروں سے نِکل کھڑے ہوں۔“ اِن سے کہو” قسمیں نہ کھاوٴ، تمہاری اطاعت کا حال معلوم ہے 81 ، تمہارے کرتُوتوں سے اللہ بے خبر نہیں ہے۔“ 82
کہو” اللہ کے مطیع بنو اور رسُولؐ کے تابعِ فرمان بن کر رہو۔ لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو خوب سمجھ لو کہ رسُولؐ پر جس فرض کا بار رکھا گیا ہے اُس کا ذمّہ دار وہ ہے اور تم پر جس فرض کا بار ڈالا گیا ہے اُس کے ذمّہ دار تم۔ اُس کی اطاعت کرو گے تو خود ہی ہدایت پاوٴ گے۔ ورنہ رسُولؐ کی ذمّہ داری اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ صاف صاف حکم پہنچا دے۔“
اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے اُں لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو اُسی طرح زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح اُن سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بنا چکا ہے، اُن کے لیے اُن کے اُس دین کو مضبوط بُنیادوں پر قائم کر دے گا جسے اللہ تعالےٰ نے اُن کے حق میں پسند کیا ہے ، اور اُن کی (موجودہ )حالتِ خوف کو امن سے بدل دے گا، بس وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ کریں۔ 83 اور جو اس کے بعد کُفر کرے 84 تو ایسے ہی لوگ فاسق ہیں۔
نماز قائم کرو، زکوٰة دو، اور رسولؐ کی اطاعت کرو، اُمید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا۔
جو لوگ کُفر کر رہے ہیں ان کے متعلق اس غلط فہمی میں نہ رہو کہ وہ زمین میں اللہ کو عاجز کر دیں گے۔ ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بڑا ہی بُرا ٹھکانا ہے۔ ؏ ۷
58-6185 اے لوگو جو ایمان لائے ہو، لازم ہے کہ تمہارے مملوک 86 اور تمہارے وہ بچے جو ابھی عقل کی حد کو نہیں پہنچے ہیں 87 ، تین اوقات میں اجازت لے کر تمہارے پاس آیا کریں:صبح کی نماز سے پہلے، اور دوپہر کو جبکہ تم کپڑے اُتار کر رکھ دیتے ہو، اور عشاء کی نماز کے بعد۔ یہ تین وقت تمہارے لیے پردے کے وقت ہیں۔ 88 اِن کے بعد وہ بلا اجازت آئیں تو نہ تم پر کوئی گناہ ہے نہ اُن پر، 89 تمہیں ایک دُوسرے کے پاس بار بار آنا ہی ہوتا ہے۔ 90 اس طرح اللہ تمہارے لیے اپنے ارشادات کی توضیح کرتا ہے، اور وہ علیم و حکیم ہے۔
اور جب تمہارے بچے عقل کی حد کو پہنچ جائیں 91 تو چاہیے کہ اُسی طرح اجازت لیکر آیا کریں جس طرح اُن کے بڑے اجازت لیتے رہے ہیں۔ اِس طرح اللہ اپنی آیات تمہارے سامنے کھولتا ہے، اور وہ علیم و حکیم ہے۔
اور جو عورتیں جوانی سے گزری بیٹھی ہوں 92 ، نکاح کی اُمیدوار نہ ہوں، وہ اگر اپنی چادریں اُتار کر رکھ دیں 93 تو اُن پر کوئی گناہ نہیں، بشرطیکہ زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں۔ 94 تاہم وہ بھی حیاداری ہی برتیں تو اُن کے حق میں اچھا ہے، اور اللہ سب کچھ سُنتا اور جانتا ہے۔
کوئی حرج نہیں اگر کوئی اندھا ، یا لنگڑا، یا مریض(کسی کے گھر سے کھا لے)اور نہ تمہارے اُوپر اِس میں کوئی مضائقہ ہے کہ اپنے گھروں سے کھاوٴ یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے ، یا اپنی ماں نانی کے گھروں سے، یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے ، یا اپنی بہنوں کے گھروں سے، یا اپنے چچاوٴں کے گھروں سے، یا اپنی پھُوپھیوں کے گھروں سے ، یا اپنے مامووٴں کے گھروں سے، یا اپنی خالاوٴں کے گھروں سے، یا اُن گھروں سے جن کی کُنجیاں تمہاری سُپردگی میں ہوں، یا اپنے دوستوں کے گھروں سے۔ 95 اس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ تم لوگ مل کر کھاوٴ یا الگ الگ۔ 96 البتہ جب گھروں میں داخل ہوا کرو تو اپنے لوگوں کو سلام کیا کرو، دُعائے خیر، اللہ کی طرف سے مقرر فرمائی ہوئی، بڑی با برکت اور پاکیزہ۔ اِس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے آیات بیان کرتا ہے، توقع ہے کہ تم سمجھ بُوجھ سے کام لو گے۔ ؏ ۸
62-6497 مومن تو اصل میں وہی ہیں جو اللہ اور اُس کے رسُولؐ کو دل سے مانیں اور جب کسی اجتماعی کام کے موقع پر رسُولؐ کے ساتھ ہوں تو اُس سے اجازت لیے بغیر نہ جائیں۔ 98 جو لوگ تم سے اجازت مانگتے ہیں وہی اللہ اور رسُولؐ کے ماننے والے ہیں، پس جب وہ اپنے کسی کام سے اجازت مانگیں 99 تو جسے تم چاہو اجازت دے دیا کرو 100 اور ایسے لوگوں کے حق میں اللہ سے دُعائے مغفرت کیا کرو، 101 اللہ یقیناً غفور و رحیم ہے۔
مسلمانو، اپنے درمیان رسُولؐ کے بُلانے کو آپس میں ایک دُوسرے کا سا بُلانا نہ سمجھ بیٹھو۔ 102 اللہ اُن لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تم میں ایسے ہیں کہ ایک دُوسرے کی آڑ لیتے ہوئے چُپکے سے سَٹک جاتے ہیں۔ 103 رسُولؐ کے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈرنا چاہیے کہ وہ کسی فتنے میں گرفتار نہ ہو جائیں 104 یا ان پر دردناک عذاب نہ آجائے۔
خبردار رہو، آسمان و زمین جو کچھ ہے اللہ کا ہے۔ تم جس روِش پر بھی ہو اللہ اُس کو جانتا ہے ۔ جس روز تم اُس کی طرف پلٹو گے وہ تمہیں بتا دے گا کہ تم کیا کچھ کر کے آئے ہو۔ وہ ہر چیز کا عِلم رکھتا ہے۔ ؏ ۹