1-10 شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

لوگو، اپنے ربّ کے غضب سے بچو ، حقیقت یہ ہے کہ قیامت کا زلزلہ بڑی( ہولناک)چیز ہے۔ 1

جس روز تم اُسے دیکھو گے، حال یہ ہوگا کہ ہر دُودھ پلانے والی اپنے دُودھ پیتے بچے سے غافل ہو جائے گی، 2 ہر حاملہ کا حمل گِر جائے گا، اور لوگ تم کو مدہوش نظر آئیں گے، حالانکہ وہ نشے میں نہ ہوں گے، بلکہ اللہ کا عذاب ہی کچھ ایسا سخت ہوگا۔ 3

بعض لوگ ایسے ہیں جو عِلم کے بغیر اللہ کے بارے میں بحثیں کرتے ہیں 4 اور ہر شیطانِ سرکش کی پیروی کرنے لگتے ہیں،

حالانکہ اُس کے تو نصیب ہی میں یہ لکھا ہے کہ جو اس کو دوست بنائے گا اسے وہ گمراہ کر کے چھوڑے گا اور عذابِ جہنّم کا راستہ دکھائے گا۔

لوگو، اگر تمہیں زندگی بعدِ موت کے بارے میں کچھ شک ہے تو تمہیں معلوم ہو کہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ہے، پھر نطفے سے 5 ، پھر خون کے لوتھڑے سے، پھر گوشت کی بوٹی سے جو شکل والی بھی ہوتی ہے اور بے شکل بھی۔ 6 (یہ ہم اِس لیے بتا رہے ہیں)تاکہ تم پر حقیقت واضح کریں۔ ہم جس (نطفے)کو چاہتے ہیں ایک وقتِ خاص تک رحموں میں ٹھہرائے رکھتے ہیں، پھر تم کو ایک بچے کی صُورت میں نکال لاتے ہیں( پھر تمہیں پرورش کرتے ہیں)تاکہ تم اپنی پُوری جوانی کو پہنچو۔ اور تم میں سے کوئی پہلے ہی واپس بُلا لیا جاتا ہے اور کوئی بدترین عمر کی طرف پھیر دیا جاتا ہے تاکہ سب کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانے۔ 7 اور تم دیکھتے ہو کہ زمین سُوکھی پڑی ہے، پھر جہاں ہم نے اُس پر مینہ برسایا کہ یکایک وہ پَھبک اُٹھی اور پُھول گئی اور اس نے ہر قسم کی خوش منظر نباتات اُگلنی شروع کر دی۔

یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے، 8 اور وہ مُردوں کو زندہ کرتا ہے ، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے،

اور یہ ( اِس بات کی دلیل ہے )کہ قیامت کی گھڑی آکر رہے گی، اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں، اور اللہ ضرور اُن لوگوں کو اُٹھائے گا جو قبروں میں جاچکے ہیں۔ 9

بعض اور لوگ ایسے ہیں کہ کسی علم 10 اور ہدایت 11 اور روشنی بخشنے والی کتاب 12 کے بغیر، 13 خدا کے بارے میں جھگڑتے ہیں

گردن اکڑائے ہوئے، تاکہ لوگوں کو راہِ خدا سے بھٹکا دیں۔ 14 ایسے شخص کے لیے دنیا میں رُسوائی ہے اور قیامت کے روز اُس کو ہم آگ کے عذاب کا مزا چکھائیں گے

۔۔۔۔ یہ ہے تیرا وہ مستقبل جو تیرے اپنے ہاتھوں نے تیرے لیے تیار کیا ہے ورنہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔؏ ١

11-22

اور لوگوں میں کوئی ایسا ہے جو کنارے پر رہ کر اللہ بندگی کرتا ہے، 15 اگر فائدہ ہوا تو مطمئن ہو گیا اور جو کوئی مصیبت آگئی تو اُلٹا پھر گیا۔ 16 اُس کی دنیا بھی گئی اور آخرت بھی۔ یہ ہے صریح خسارہ۔ 17

پھر وہ اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پکارتا ہے جو نہ اُس کو نقصان پہنچا سکتے ہیں نہ فائدہ، یہ ہے گمراہی کی انتہا۔

وہ اُن کو پکارتا ہے جن کا نقصان اُن کے نفع سے قریب تر ہے، 18 بدترین ہے اُس کا مولیٰ اور بدترین ہے اُس کا رفیق۔ 19

(اِس کے برعکس)اللہ اُن لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے، 20 یقیناً ایسی جنتّوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ اللہ کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے۔ 21

جو شخص یہ گمان رکھتا ہو کہ اللہ دُنیا اور آخرت میں اُس کی کوئی مدد نہ کرے گا اُسے چاہیے کہ ایک رسّی کے ذریعے آسمان تک پہنچ کر شگاف لگائے، پھر دیکھ لے کہ آیا اُس کی تدبیر کسی ایسی چیز کو رد کر سکتی ہے جو اس کے ناگوار ہے 22

۔۔۔۔ ایسی ہی کھُلی کھُلی باتوں کے ساتھ ہم نے اس قرآن کو نازل کیا ہے، اور ہدایت اللہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔

جو لوگ ایمان لائے، 23 اور جو یہوُدی ہوئے، 24 اور صابئی، 25 اور نصاریٰ، 26 اور مجوس 27 ، اور جن لوگوں نے شرک کیا، 28 ان سب کے درمیان اللہ قیامت کے روز فیصلہ کر دے گا، ہر چیز اللہ کی نظر میں ہے۔

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کے آگے سر بسجُود ہیں 30 وہ سب جو آسمانوں میں ہیں 31 اور جو زمین میں ہیں؟ سُورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان 32 اور بہت سے وہ لوگ بھی جو عذاب کے مستحق ہو چکے ہیں۔ 33 اور جسے اللہ ذلیل و خوار کردے اُسے پھر کوئی عزّت دینے والا نہیں ہے 34 ، اللہ کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے۔ 35 ۵ السجدة

یہ دو فریق ہیں جن کے درمیان اپنے ربّ کے معاملے میں جھگڑا ہے۔ 36 اِن میں سے وہ لوگ جنہوں نے کُفر کیا اُن کے لیے آگ کے لباس کاٹے جا چکے ہیں، 37 اُن کے سروں پر کھَولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا

جس سے اُن کی کھالیں ہی نہیں پیٹ کے اندر کے حصّے تک گل جائیں گے،

اور اُن کو خبر لینے کے لیے لوہے کے گُرز ہوں گے۔

جب کبھی وہ گھبرا کر جہنّم سے نکلنے کی کوشش کریں گے پھر اُسی میں دھکیل دیے جائیں گے کہ چکھّو اب جلنے کی سزا کا مزہ۔ ؏ ۲

23-25

(دُوسری طرف)جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اُن کو اللہ ایسی جنتّوں میں داخل کرے گا جِن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی۔ وہاں وہ سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ کیے جائیں گے 38 اور ان کے لباس ریشم کے ہوں گے۔

ان کو پاکیزہ بات قبول کرنے کی ہدایت بخشی گئی 39 اور انھیں خدائے ستودہ صفات کا راتہ دکھایا گیا۔ 40

جن لوگوں نے کُفر کیا 41 اور جو (آج)اللہ کے راستے سے روک رہے ہیں اور اُس مسجدِ حرام کی زیارت میں مانع ہیں 42 جسے ہم نے سب لوگوں کے لیے بنایا ہے، جس میں مقامی باشندوں اور باہر سے آنے والوں کے حقوق برابر ہیں 43 (اُن کی روِش یقیناً سزا کی مستحق ہے)۔ اِس (مسجدِ حرام)میں جو بھی راستی سے ہٹ کر ظلم کا طریقہ اختیار کرے گا 44 اسے ہم دردناک عذاب کا مزا چکھائیں گے۔ ؏ ۳

26-33

یاد کرو وہ وقت جبکہ ہم نے ابراہیمؑ کے لیے اِس گھر (خانہ کعبہ)کی جگہ تجویز کی تھی اِس ہدایت کے ساتھ)کہ ”میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو، اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام و رکوع و سجود کرنے والوں کے لیے پاک رکھو، 45

اور لوگوں کو حج کے لیے اِذنِ عام دے دو کہ وہ تمہارے پاس ہر دُور دراز مقام سے پیدل اور اُونٹوں 46 پر سوار آئیں، 47

تاکہ وہ فائدے دیکھیں جو یہاں اُن کے لیے رکھے گئے ہیں، 48 اور چند مقرر دنوں میں اُن جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اُس نے انھیں بخشے ہیں، 49 خود بھی کھائیں اور تنگ دست محتاج کو بھی دیں، 50

پھر اپنا مَیل کچَیل دُور کریں 51 اور اپنی نذریں پُوری کریں، 52 اور اس قدیم گھر کا طواف کریں۔ 53

یہ تھا (تعمیرِ کعبہ کا مقصد)اور جو کوئی اللہ کی قائم کردہ حُرمتوں کا احترام کرے تو یہ اس کے ربّ کے نزدیک خود اسی کے لیے بہتر ہے۔ 54 اور تمہارے لیے مویشی جانور حلال کیے گئے، 55 ماسوا اُن چیزوں کے جو تمہیں بتائی جاچکی ہیں۔ 56 پس بُتوں کی گندگی سے بچو، 57 جھُوٹی باتوں سے پرہیز کرو، 58

یکسُو ہو کر اللہ کے بندے بنو، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔ اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے تو گویا وہ آسمان سے گِر گیا، اب یا تو اُسے پرندے اُچک لے جائیں گے یا ہوا اُس کو ایسی جگہ لے جاکر پھینک دے گی جہاں اُس کے چیتھڑے اُڑ جائیں گے۔ 59

یہ ہے اصل معاملہ( اِسے سمجھ لو)اور جو اللہ کے مقرر کردہ شعائر 60 کا احترام کرے تو یہ دِلوں کے تقویٰ سے ہے۔ 61

تمہیں ایک وقتِ مقرر تک اُن (ہدی کے جانوروں)سے فائدہ اُٹھانے کا حق ہے، 62 پھر اُن (کے قربان کرنے)کی جگہ اسی قدیم گھر کے پاس ہے۔ 63 ؏ ۴

34-38

ہر اُمّت کے لیے ہم نے قربانی کا ایک قاعدہ مقرر کر دیا ہے تاکہ (اُس اُمّت کے )لوگ اُن جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اُس نے ان کو بخشے ہیں۔ 64 (اِن مختلف طریقوں کے اندر مقصد ایک ہی ہے)پس تمہارا خدا ایک ہی خدا ہے اور اُسی کے تم مطیعِ فرمان بنو۔ اور اے نبیؐ ، بشارت دے دے عاجزانہ روِش اختیار کرنے والوں کو، 65

جن کا حال یہ ہے کہ اللہ کا ذکر سُنتے ہیں تو ان کے دل کانپ اُٹھتے ہیں، جو مصیبت بھی اُن پر آتی ہے اُس پر صبر کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، اور جو کچھ رزق ہم نے اُن کو دیا ہے اُس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ 66

اور (قربانی کے )اُونٹوں 67 کو ہم نے تمہارے لیے شعائر اللہ میں شامل کیا ہے ، تمہارے لیے اُن میں بھلائی ہے، 68 پس انھیں کھڑا کر کے 69 ان پر اللہ کا نام لو، 70 اور جب (قربانی کے بعد)ان کی پیٹھیں زمین پر ٹِک جائیں 71 تو اُن میں سے خود بھی کھاوٴ اور اُن کو بھی کھِلاوٴ جو قناعت کیے بیٹھے ہیں اور اُن کو بھی جو اپنی حاجت پیش کریں۔ اِن جانوروں کو ہم نے اِس طرح تمہارے لیے مسخّر کیا تاکہ تم شکریہ ادا کرو۔ 72

نہ اُن کے گوشت اللہ کو پہنچتے ہیں نہ خون، مگر اُسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے۔ 73 اُس نے ان کو تمہارے لیے اِس طرح مسخّر کیا ہے تاکہ اُس کی بخشی ہوئی ہدایت پر تم اُس کی تکبیر کرو۔ 74 اور اے نبیؐ ، بشارت دے دے نیکو کار لوگوں کو۔

75 یقیناً اللہ مدافعت کرتا ہے اُن لوگوں کی طرف سے جو ایمان لائے ہیں۔ 76 یقیناً اللہ کسی خائن کافرِ نعمت کو پسند نہیں کرتا۔ 77 ؏ ۵

39-48

اجازت دے دی گئی اُن لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جارہی ہے، کیونکہ وہ مظلوم ہیں ، 78 اور اللہ یقیناً ان کی مدد پر قادر ہے۔ 79

یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکال دیے گئے 80 صرف اِس قصُور پر کہ وہ کہتے تھے ”ہمارا ربّ اللہ ہے۔“ 81 اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعے دفع نہ کرتا رہے تو خانقاہیں اور گرجا اور معبد 82 اور مسجدیں، جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے، سب مِسمار کر ڈالی جائیں۔ 83 اللہ ضرور اُن لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے۔ 84 اللہ بڑا طاقتور اور زبر دست ہے۔

یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے، زکوٰة دیں گے، معرُوف کا حکم دیں گے اور مُنکَر سے منع کریں گے۔ 85 اور تمام معاملات کا انجامِ کار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ 86

اے نبیؐ ، اگر وہ تمہیں جھُٹلاتے ہیں 87 تو اُن سے پہلے جھُٹلا چکے ہیں قومِ نوحؐ اور عاد اور ثمود

اور قومِ ابراہیمؐ اور قومِ لوطؑ

اور اہلِ مَدیَن بھی، اور موسیٰؑ بھی جھٹلائے جا چکے ہیں۔ ان سب منکرینِ حق کو میں نے پہلے مہلت دی، پھر پکڑ لیا۔ 88 اب دیکھ لو کہ میری عقوبت کیسی تھی۔ 89

کتنی ہی خطا کار بستیاں ہیں جن کو ہم نے تباہ کیا ہے اور آج وہ اپنی چھتوں پر اُلٹی پڑی ہیں، کتنے ہی کنوئیں 90 بے کار اور کتنے ہی قصر کھنڈر بنے ہوئے ہیں۔

کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اِن کے دل سمجھنے والے اور اِن کے کان سُننے والے ہوتے؟ حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں مگر وہ دل اندھے ہو جاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔ 91

یہ لوگ عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں۔ 92 اللہ ہر گز اپنے وعدے کے خلاف نہ کرے گا، مگر تیرے ربّ کے ہاں کا ایک دن تمہارے شمار کے ہزار برس کے برابر ہوا کرتا ہے۔ 93

کتنی ہی بستیاں ہیں جو ظالم تھیں، میں نے ان کو پہلے مہلت دی، پھر پکڑ لیا۔ اور سب کو واپس تو میرے ہی پاس آنا ہے۔ ؏ ٦

49-57

اے محمدؐ ، کہہ دو کہ ”لوگو، میں تو تمہارے لیے صرف وہ شخص ہوں جو (بُرا وقت آنے سے پہلے)صاف صاف خبردار کر دینے والا ہو۔ 94

پھر جو ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے اُں کے لیے مغفرت ہے اور عزّت کی روزی۔ 95

اور جو ہماری آیات کو نیچا دکھانے کی کوشش کریں گے وہ دوزخ کے یار ہیں۔

اور اے محمدؐ ، تم سے پہلے ہم نے نہ کوئی رسُول ایسا بھیجا ہے نہ نبی 96 (جس کے ساتھ یہ معاملہ نہ پیش آیا ہو کہ)جب اُس نے تمنا کی 97 ، شیطان اس کی تمنّا میں خلل انداز ہوگیا۔ 98 اِس طرح جو کچھ بھی شیطان خلل اندازیاں کرتا ہے اللہ ان کو مٹا دیتا ہے اور اپنی آیات کو پختہ کر دیتا ہے، 99 اللہ علیم ہے اور حکیم۔ 100

(وہ اس لیے ایسا ہونے دیتا ہے )تاکہ شیطان کی ڈالی ہوئی خرابی کو فتنہ بنا دے اُن لوگوں کے لیے جن کے دلوں کو ( نفاق کا )روگ لگا ہوا ہے اور جن کے دل کھوٹے ہیں۔۔۔۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ظالم لوگ عناد میں بہت دُور نکل گئے ہیں

۔۔۔۔ اور علم سے بہرہ مند لوگ جان لیں کہ یہ حق ہے تیرے ربّ کی طرف سے اور وہ اس پر ایمان لے آئیں اور ان کے دل اس کے آگے جُھک جائیں، یقیناً اللہ ایمان لانے والوں کو ہمیشہ سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے۔ 101

انکار کرنے والے تو اس کی طرف سے شک ہی میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ یا تو اُن پر قیامت کی گھڑی اچانک آجائے، یا ایک منحوس دن 102 کا عذاب نازل ہوجائے۔

اُس روز بادشاہی اللہ کی ہوگی، اور وہ ان کے درمیان فیصلہ کر دے گا۔ جو ایمان رکھنے والے اور عملِ صالح کرنے والے ہوں گے وہ نعمت بھری جنتّوں میں جائیں گے،

اور جنہوں نے کُفر کیا ہوگا اور ہماری آیات کو جُھٹلایا ہوگا اُن کے لیے رُسوا کُن عذاب ہوگا۔ ؏ ۷

58-64

اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی، پھر قتل کر دیے گئے یا مر گئے، اللہ ان کو اچھا رزق دے گا۔ اور یقیناً اللہ ہی بہترین رازق ہے۔

وہ اُنہیں ایسی جگہ پہنچائے گا جس سے وہ خوش ہوجائیں گے۔ بے شک اللہ علیم اور حلیم ہے۔ 103

یہ تو ہے اُن کا حال، اور جو کوئی بدلہ لے، ویسا ہی جیسا اُس کے ساتھ کیا گیا، اور پھر اس پر زیادتی بھی کی گئی ہو، تو اللہ اس کی مدد ضرور کرے گا۔ 104 اللہ معاف کرنے والا اور درگزر کرنے والا ہے۔ 105

106یہ اس لیے کہ رات سے دن اور دن سے رات نکالنے والا اللہ ہی ہے 107 اور وہ سمیع و بصیر ہے۔ 108

یہ اِس لیے کہ اللہ ہی حق ہے اور سب باطل ہیں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں 109 اور اللہ ہی بالادست اور بزرگ ہے۔

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ آسمان سے پانی برساتا ہے اور اس کی بدولت زمین سرسبز ہو جاتی ہے؟ 110 حقیقت یہ ہے کہ وہ لطیف و خبیر ہے۔ 111

اُسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے۔ بے شک وہی غنی و حمید ہے۔ 112 ؏ ۸

65-72

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اُس نے وہ سب کچھ تمہارے لیے مسخّر کر رکھا ہے جو زمین میں ہے، اور اُسی نے کشتی کو قاعدے کا پابند بنایا ہے کہ وہ اُس کے حکم سے سمندر میں چلتی ہے، اور وہی آسمان کو اس طرح تھامے ہوئے ہے کہ اُس کے اِذن کے بغیر وہ زمین پر نہیں گِر سکتا؟ 113 واقعہ یہ ہے کہ اللہ لوگوں کے حق میں بڑا شفیق اور رحیم ہے۔

وہی ہے جس نے تمہیں زندگی بخشی ہے ، وہی تم کو موت دیتا ہے اور وہی پھر تم کو زندہ کرے گا۔ سچ یہ ہے کہ انسان بڑا ہی منکرِ حق ہے۔ 114

ہر اُمّت 115 کے لیے ہم نے ایک طریقِ عبادت 116 مقرر کیا ہے جس کی وہ پیروی کرتی ہے، پس اے محمدؐ ، وہ اِس معاملے میں تم سے جھگڑا نہ کریں۔ 117 تم اپنے ربّ کی طرف دعوت دو، یقیناً تم سیدھے راستے پر ہو۔ 118

اور اگر وہ تم سے جھگڑے تو کہہ دو کہ ”جو کچھ تم کر رہے ہو اللہ کو خوب معلوم ہے،

اللہ قیامت کے روز تمہارے درمیان اُن سب باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں تم اختلاف کرتے رہے ہو۔“

کیا تم نہیں جانتے کہ آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ کے علم میں ہے؟ سب کچھ ایک کتاب میں درج ہے۔ اللہ کے لیے یہ کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔ 119

یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر ان کی عبادت کر رہے ہیں جن کے لیے نہ تو اُس نے کوئی سَنَد نازل کی ہے اور نہ یہ خود اُن کے بارے میں کوئی علم رکھتے ہیں ۔ 120 اِن ظالموں کے لیے کوئی مددگار نہیں ہے۔ 121

اور جب اِن کو ہماری صاف صاف آیات سُنائی جاتیں ہیں تو تم دیکھتے ہو کہ منکرینِ حق کے چہرے بگڑنے لگتے ہیں، اور ایسا محسوس ہوتا ہے ، کہ ابھی وہ اُن لوگوں پر ٹُوٹ پڑیں گے جو انھیں ہماری آیات سُناتے ہیں۔ اِن سے کہو ”میں بتاوٴں تمہیں کہ اِس سے بد تر چیز کیا ہے؟ 122 آگ، اللہ نے اسی کا وعدہ ان لوگوں کے حق میں کر رکھا ہے، جو قبولِ حق سے انکار کریں، اور بہت ہی بُرا ٹھکانہ ہے۔“ ؏ ۹

73-78

لوگو، ایک مثال دی جاتی ہے، غور سے سُنو۔ جن معبودوں کو تم خدا کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہیں کر سکتے۔ بلکہ اگر مکھی ان سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اسے چھُڑا بھی نہیں سکتے۔ مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور۔ 123

اِن لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہ پہچانی جیسا کہ اس کے پہچاننے کا حق ہے۔ واقعہ یہ ہے کہ قوت اور عزّت والا تو اللہ ہی ہی ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ اللہ (اپنے فرامین کی ترسیل کے لیے )ملائکہ میں سے بھی پیغام رساں منتخب کرتا ہے، اور انسانوں میں سے بھی۔ 124 وہ سمیع اور بصیر ہے،

جو کچھ ان کے سامنے ہے اُسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ ان سے اوجھل ہے اُس سے بھی وہ واقف ہے 125 ، اور سارے معاملات اُسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔ 126

اے لوگو جو ایمان لائے ہو، رکوع اورسجدہ کرو، اپنے ربّ کی بندگی کرو، اور نیک کام کرو، شاید کہ تم کو فلاح نصیب ہو۔ 127

اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق ہے۔ 128 اُس نے تمہیں اپنے کام کے لیے چُن لیا ہے 129 اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔ 130 قائم ہو جاوٴ اپنے باپ ابراہیمؑ کی ملّت پر 131 ۔ اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام ”مسلم“ رکھا تھا اور اس (قرآن)میں بھی (تمہارا یہی نام ہے 132 )۔ تاکہ رسولؐ تم پر گواہ ہو اور تم لوگوں پر گواہ۔ 133 پس نماز قائم کرو ، زکوٰة دو، اور اللہ سے وابستہ ہو جاوٴ۔ 134 وہ ہے تمہارا مولیٰ، بہت ہی اچھا ہے وہ مولیٰ اور بہت ہی اچھا ہے وہ مددگار۔ ؏ ۱۰