1-15 شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

ک، ہ، ی، ع، ص۔

ذکر ہے 1 اُس رحمت کا جو تیرے ربّ نے اپنے بندے زکریا 2 پر کی تھی،

جبکہ اُس نے اپنے ربّ کو چُپکے چُپکے پُکارا۔

اُس نے عرض کیا ”اے پروردگار! میری ہڈیاں تک گھُل گئی ہیں اور سر بڑھاپے سے بھڑک اُٹھا ہے۔ اے پروردگار ، میں کبھی تجھ سے دُعا مانگ کر نامراد نہیں رہا۔

مجھے اپنے پیچھے اپنے بھائی بندوں کی برائیوں کا خوف ہے 3 ، اور میری بیوی بانجھ ہے۔ تو مجھے اپنے فضلِ خاص سے ایک وارث عطا کر دے

جو میرا وارث بھی ہو اور آلِ یعقوبؑ کی میراث بھی پائے، 4 اور اے پروردگار، اس کو ایک پسندیدہ انسان بنا۔“

(جواب دیا گیا)” اے زکریا، ہم تجھے ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہو گا۔ ہم نے اِس نام کا کوئی آدمی اس سے پہلے پیدا نہیں کیا۔“ 5

عرض کیا”پروردگار ، بھلا میرے ہاں کیسے بیٹا ہوگا جبکہ میری بیوی بانجھ ہےاور میں بوڑھا ہو کر سُوکھ چکاہوں؟“

جواب مِلا ”ایسا ہی ہوگا۔ تیرا ربّ فرماتا ہے کہ یہ تو میرے لیے ایک ذرا سی بات ہے، آخر اس سے پہلے میں تجھے پیدا کر چکا ہوں جب کہ تو کوئی چیز نہ تھا۔“ 6

زکریا نے کہا،”پروردگار ، میرے لیے کوئی نشانی مقرر کر دے۔“ فرمایا ”تیرے لیے نشانی یہ ہے کہ تُو پیہم تین دن لوگوں سے بات نہ کر سکے۔“

چنانچہ وہ محراب 7 سے نکل کر اپنی قوم کے سامنے آیا اور اس نے اشارے سے ان کو ہدایت کی کہ صبح و شام تسبیح کرو۔ 8

”اے یحییٰ، کتابِ الہٰی کو مضبُوط تھام لے۔“ 9 ہم نے اسے بچپن ہی میں”حکم“ 10 سے نوازا،

اور اپنی طرف سے اس کو نرم دلی 11 اور پاکیزہ عطا کی، اور وہ بڑا پرہیز گار

اور اپنے والدین کا حق شناس تھا۔ وہ جبّار نہ تھا اور نہ نافرمان۔

سلام اُس پر جس روز کہ وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ مرے اور جس روز وہ زندہ کر کے اُٹھا یا جائے۔ 12 ؏ ۱

16-40

اور اے محمدؐ ، اس کتاب میں مریم کا حال بیان کرو، 13 جبکہ وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر شرقی جانب گوشہ نشین ہو گئی تھی

اور پردہ ڈال کر اُن سے چھُپ بیٹھی تھی۔ 14 اس حالت میں ہم نے اس کے پاس اپنی رُوح کو (یعنی فرشتے کو)بھیجا اور وہ اس کے سامنے ایک پورے انسان کی شکل میں نمودار ہو گیا۔

مریم یکایک بول اُٹھی کہ ” اگر تُو کوئی خدا ترس آدمی ہے تو میں تجھ سے رحمٰن کی پناہ مانگتا ہوں۔“

اُس نے کہا”میں تو تیرے ربّ کا فرستادہ ہوں اور اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ تجھے ایک پاکیزہ لڑکا دُوں۔“

مریم نے کہا ”میرے ہاں کیسے لڑکا ہوگا جبکہ مجھے کسی بشر نے چھُوا تک نہیں ہے اور میں کوئی بدکار عورت نہیں ہوں۔“

فرشتے نے کہا ”ایسا ہی ہوگا، تیرا ربّ فرماتا ہے کہ ایسا کرنا میرے لیے بہت آسان ہے اور ہم یہ اس لیے کر یں گے کہ اُس لڑکے کو لوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں 15 اور اپنی طرف سے ایک رحمت اور یہ کام ہو کر رہنا ہے۔“

مریم کو اس بچے کاحمل رہ گیا اور وہ اس حمل کو لیے ہوئے ایک دُور کے مقام پر چلی گئی۔ 16

پھر زچگی کی تکلیف نے اُسے ایک کھجُور کے درخت کے نیچے پہنچا دیا۔ وہ کہنے لگی ”کاش میں اس سے پہلے ہی مر جاتی اور میرا نام و نشان نہ رہتا۔“ 17

فرشتے نے پائنتی سے اُس کو پکار کر کہا ”غم نہ کر، تیرے ربّ نے تیرے نیچے ایک چشمہ رواں کر دیا ہے۔

اور تُو ذرا اِس درخت کے تنے کو ہلا، تیرے اوپر تروتازہ کھجُوریں ٹپک پڑیں گی۔

پس تُو کھا اور پی اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر۔ پھر اگر کوئی تجھے نظر آئے تو اس سے کہہ دے کہ میں نے رحمان کے لیے روزے کی نذر مانی ہے، اس لیے آج میں کسی سے نہ بولوں گی۔“ 18

پھر وہ اس بچے کو لیے ہوئے اپنی قوم میں آئی۔ لوگ کہنے لگے” اے مریم! یہ تو تُو نے بڑا پاپ کر ڈالا۔

اے ہارون کی بہن، 19 نہ تیرا باپ کوئی آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی کوئی بدکار عورت تھی۔“ الف19

مریم نے بچے کی طرف اشارہ کر دیا۔ لوگوں نے کہا” ہم اِس سے کیا بات کریں گے جو گہوارے میں پڑا ہوا ایک بچہ ہے؟“ 20

بچہ بول اُٹھا”میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اُس نے مجھے کتاب دی، اور نبی بنایا،

اور بابرکت کیا جہاں بھی میں رہوں، اور نماز اور زکٰوة کی پابندی کا حکم دیا جب تک میں زندہ رہوں،

اور اپنی والدہ کا حق ادا کرنے والا بنایا، الف20 اور مجھ کو جبّار اور شقی نہیں بنایا۔

سلام ہے مجھ پر جبکہ میں پیدا ہوا اور جبکہ میں مروں اور جبکہ زندہ کر کےاُٹھایا جاوٴں۔“ 21

یہ ہے عیسیٰ ابنِ مریم اور یہ ہے اُس کے بارے میں وہ سچی بات جس میں لوگ شک کر رہے ہیں۔

اللہ کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے۔ وہ پاک ذات ہے۔ وہ جب کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے تو کہتا ہے کہ ہو جا، اور بس وہ ہو جاتی ہے۔ 22

(اور عیسیٰ ؑ نے کہا تھا کہ)” اللہ میرا ربّ بھی ہے اور تمہارا ربّ بھی ، پس تم اس کی بندگی کرو، یہی سیدھی راہ ہے۔“ 23

مگر پھر مختلف گروہ 24 باہم اختلاف کرنے لگے۔ سو جن لوگوں نے کُفر کیا ان کے لیے وہ وقت بڑی تباہی کا ہوگا جبکہ وہ ایک بڑا دن دیکھیں گے۔

جب وہ ہمارے سامنے حاضر ہوں گے اُس روز تو اُن کے کان بھی خوب سُن رہے ہوں گے اور ان کی آنکھیں بھی خوب دیکھتی ہوں گی مگر آج یہ ظالم کھُلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔

اے محمدؐ، اِس حالت میں جبکہ یہ لوگ غافل ہیں اور ایمان نہیں لارہے ہیں، اِنہیں اس دن سے ڈرا دو جبکہ فیصلہ کر دیا جائے گا اور پچھتاوے کے سوا کوئی چارہٴِ کار نہ ہوگا۔

آخر کار ہم ہی زمین اور اور اس کی ساری چیزوں کے وارث ہوں گے اور سب ہماری طرف ہی پلٹائے جائیں گے۔ 25 ؏ ۲

41-50

اور اس کتاب میں ابراہیمؑ کا قصہ بیان کرو ، 26 بے شک وہ ایک راست باز انسان اور ایک نبی تھا۔

(انہیں ذرا اُس موقع کی یاد دلاوٴ)جبکہ اُس نے اپنے باپ سے کہا”ابّا جان، آپ کیوں اُن چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ سُنتی ہیں نہ دیکھتی ہیں اور نہ آپ کا کوئی کام بنا سکتی ہیں؟

ابّا جان، میرے پاس ایک ایسا علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا، آپ میرے پیچھے چلیں، میں آپ کو سیدھا راستہ بتاوٴں گا۔

ابّا جان، آپ شیطان کی بندگی نہ کریں، 27 شیطان تو رحمٰن کا نافرمان ہے۔

ابّا جان، مجھے ڈر ہے کہ کہیں آپ رحمٰن کے عذاب میں مُبتلا نہ ہو جائیں اور شیطان کے ساتھی بن کر رہیں۔“

باپ نے کہا ”ابراہیمؑ، کیا تُو میرے معبودوں سے پھر گیا ہے؟ اگر تُو باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کر دوں گا۔ بس تُو ہمیشہ کے لیے مجھ سے الگ ہو جا۔“

ابراہیمؑ نے کہا”سلام ہے آپ کو۔ میں اپنے ربّ سے دُعا کروں گا کہ آپ کو معاف کردے، الف27 میرا ربّ مجھ پر بڑا مہربان ہے۔

میں آپ لوگوں کو بھی چھوڑتا ہوں اور اُن ہستیوں کو بھی جنہیں آپ لوگ خدا کو چھوڑ کر پکارا کرتے ہیں۔ میں تو اپنے ربّ ہی کو پکاروں گا، اُمید ہے کہ میں اپنے ربّ کو پکار کے نامراد نہ رہوں گا۔“

پس جب وہ اُن لوگوں سے اور اُن کے معبُودانِ غیراللہ سے جُدا ہوگیا تو ہم نے اُس کو اسحاقؑ اور یعقوبؑ جیسی اولاد دی اور ہر ایک کونبی بنایا

اور ان کو اپنی رحمت سے نوازا اور ان کو سچی نام وری عطا کی۔ 28 ؏ ۳

51-65

اور ذکر کرو اِس کتاب میں موسیٰؑ کا۔ وہ ایک چیدہ 29 شخص تھا اور رسُول نبی 30 تھا۔

ہم نے اُس کو طُور کے داہنی جانب سے پکارا 31 اور راز کی گفتگو سے اس کو تقرب عطا کیا، 32

اور اپنی مہربانی سے اس کے بھائی ہارونؑ کو نبی بنا کر اُسے (مددگار کے طور پر)دیا۔

اور اِس کتاب میں اسماعیلؑ کا ذکر کرو۔ وہ وعدے کا سچا تھا اور رسُول نبی تھا۔

وہ اپنے گھر والوں کو نماز اور زکوٰة کا حکم دیتا تھا اور اپنے ربّ کے نزدیک ایک پسندیدہ انسان تھا۔

اور اِس کتاب میں ادریسؑ 33 کا ذکر کرو۔ وہ ایک راستباز انسان اور ایک نبی تھا

اور اُسے ہم نے بلند مقام پر اُٹھایا تھا۔ 34

یہ وہ پیغمبر ہیں جن پر اللہ نے انعام فرمایا آدمؑ کی اولاد میں سے، اور اُن لوگوں کی نسل سے جنہیں ہم نے نوحؑ کے ساتھ کشتی پر سوار کیا تھا، اور ابراہیمؑ کی نسل سے اور اسرائیلؑ کی نسل سے۔ اور یہ ان لوگوں میں سے تھے جن کو ہم نے ہدایت بخشی اور برگزیدہ کیا۔ ان کا حال یہ تھا کہ جب رحمٰن کی آیات ان کو سُنائی جاتیں تو روتے ہوئے سجدے میں گر جاتے تھے۔ السجدۃ ۵

پھر ان کے بعد وہ ناخلف لوگ ان کے جانشین ہوئے جنہوں نے نماز کو ضائع کیا 35 اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کی، 36 پس قریب ہے کہ وہ گمراہی کے انجام سے دوچار ہوں۔

البتہ جو توبہ کر لیں اور ایمان لے آئیں اور نیک عملی اختیار کر لیں وہ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرہ برابر حق تلفی نہ ہو گی۔

ان کے لیے ہمیشہ رہنے والی جنّتیں ہیں جن کا رحمٰن نے اپنے بندوں سے درپردہ وعدہ کر رکھا ہے 37 اور یقیناً یہ وعدہ پُورا ہو کر رہنا ہے۔

وہاں وہ کوئی بےہُودہ بات نہ سُنیں گے،جو کچھ بھی سُنیں گے ٹھیک ہی سُنیں گے۔ 38 اور ان کا رزق انہیں پیہم صبح و شام ملتا رہے گا۔

یہ ہے وہ جنّت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اُس کو بنائیں گے جو پرہیز گار رہا ہے۔

اے محمدؐ، 39 ہم تمہارے ربّ کے حکم کے بغیر نہیں اُترا کرتے۔ جو کچھ ہمارے آگے ہے اور جو کچھ پیچھے ہے اور جو کچھ اس کے درمیان ہے ہر چیز کا مالک وہی ہے اور تمہارا ربّ بھُولنے والا نہیں ہے۔

وہ ربّ ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور اُن ساری چیزوں کا جو آسمان و زمین کے درمیان ہیں۔ پس تم اُس کی بندگی کرو اور اُسی کی بندگی پر ثابت قدم رہو۔ 40 کیا ہے کوئی ہستی تمہارے علم میں اُس کی ہم پایہ؟ 41 ؏۴

66-82

انسان کہتا ہے کیا واقعی جب میں مر چکوں گا تو پھر زندہ کر کے نکال لایا جاوٴں گا؟

کیا انسان کو یاد نہیں آتا کہ ہم پہلے اس کو پیدا کر چکے ہیں جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھا؟

تیرے ربّ کی قسم ، ہم ضرور اِن سب کو اور ان کے ساتھ شیاطین کو بھی 42 گھیر لائیں گے، پھر جہنّم کے گِرد لا کر انھیں گُھٹنوں کے بل گرا دیں گے

پھر ہر گروہ میں سے ہر اُس شخص کو چھانٹ لیں گے جو رحمٰن کے مقابلے میں زیادہ سرکش بنا ہوا تھا، 43

پھر یہ ہم جانتے ہیں کہ ان میں سے کون سب سے بڑھ کر جہنّم میں جھونکے جانے کا مستحق ہے۔

تم میں سے کوئی ایسا نہیں ہے جو جہنّم پر وارد نہ ہو، 44 یہ تو ایک طے شدہ بات ہے جسے پُورا کرنا تیرے ربّ کا ذِمّہ ہے۔

پھر ہم اُن لوگوں کو بچا لیں گے جو (دنیا میں)متقی تھے اور ظالموں کو اُسی میں گِرا ہُوا چھوڑ دیں گے۔

اِن لوگوں کو جب ہماری کھُلی کھُلی آیات سُنائی جاتی ہیں تو انکار کرنے والے ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں ”بتاوٴ ہم دونوں گروہوں میں کون بہتر حالت میں ہے اور کس کی مجلسیں زیادہ شاندار ہیں؟“ 45

حالانکہ اِن سے پہلے ہم کتنی ہی ایسی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں جو اِن سے زیادہ سروسامان رکھتی تھیں اور ظاہری شان و شوکت میں اِن سے بڑھی ہوئی تھیں۔

اِن سے کہو، جو شخص گمراہی میں مبتلا ہوتا ہے اُسے رحمٰن ڈھیل دیا کرتا ہے یہاں تک کہ جب ایسے لوگ وہ چیز دیکھ لیتے ہیں جس کا اُن سے وعدہ کیا گیا ہے ۔۔۔۔ خواہ وہ عذابِ الہٰی ہو یا قیامت کی گھڑی ۔۔۔۔ تب انہیں معلوم ہو جاتا ہے کہ کس کا حال خراب ہے اور کس کا جتھا کمزور!

اِس کے برعکس جو لوگ راہِ راست اختیار کرتے ہیں اللہ ان کو راست روی میں ترقی عطا فرماتا ہے 46 اور باقی رہ جانے والی نیکیاں ہی تیرے ربّ کے نزدیک جزا اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہیں۔

پھر تُو نے دیکھا اُس شخص کو جو ہماری آیات کو ماننے سے انکار کرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تو مال اور اولاد سے نوازا ہی جاتا رہوں گا؟ 47

کیا اسے غیب کا پتہ چل گیا ہے یا اس نے رحمٰن سے کوئی عہد لے رکھا ہے؟

۔۔۔۔ ہر گز نہیں، جو کچھ یہ بکتا ہے اسے ہم لکھ لیں گے 48 اور اس کے لیے سزا میں اور زیادہ اضافہ کریں گے۔

جس سروسامان اور لاوٴ لشکر کا یہ ذکر کر رہا ہے وہ سب ہمارے پاس رہ جائے گا اور یہ اکیلا ہمارے سامنے حاضر ہوگا۔

اِن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کر اپنے کچھ خدا بنا رکھے ہیں تاکہ وہ اِن کے پُشتیبان ہوں۔ 49

کوئی پُشتیبان نہ ہوگا۔ وہ سب ان کی عبادت کا انکار کریں گے 50 اور اُلٹے اِن کے مخالف بن جائیں گے۔ ؏۵

83-98

کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ ہم نے اِن منکرینِ حق پر شیاطین چھوڑ رکھے ہیں جو اِنہیں خُوب خُوب (مخالفتِ حق پر)اُکسا رہے ہیں؟

اچھا، تو اب اِن نُزوُلِ عذاب کے لیے بے تاب نہ ہو۔ ہم اِن کے دن گِن رہے ہیں۔ 51

وہ دن آنے والا ہے جب متقی لوگوں کو ہم مہمانوں کی طرح رحمٰن کے حضور پیش کریں گے،

اور مجرموں کو پیاسے جانوروں کی طرح جہنّم کی طرف ہانک لے جائیں گے۔

اُس وقت لوگ کوئی سفارش لانے پر قادر نہ ہوں گے بجز اُس کے جس نے رحمٰن کے حضور سے پروانہ حاصل کر لیا ہو۔ 52

وہ کہتے ہیں کہ رحمٰن نے کسی کو بیٹا بنایا ہے

۔۔۔۔ سخت بے ہُودہ بات ہے جو تم لوگ گھڑ لائے ہو۔

قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں، زمین شق ہو جائے اور پہاڑ گر جائیں،

اس بات پر کہ لوگوں نے رحمٰن کے لیے اولاد ہونے کا دعوٰی کیا!

رحمٰن کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے۔

زمین اور آسمانوں کے اندر جو بھی ہیں سب اس کے حضور بندوں کی حیثیت سے پیش ہونے والے ہیں۔

سب پر وہ محیط ہے اور اس نے اُن کو شمار کر رکھا ہے۔

سب قیامت کے روز فرداً فرداً اس کے سامنے حاضر ہوں گے۔

یقیناً جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور عملِ صالح کر رہے ہیں عنقریب رحمٰن اُن کے لیے دلوں میں محبت پیدا کر دے گا۔ 53

پس اے محمدؐ ، اِس کلام کو ہم نے آسان کر کے تمہاری زبان میں اسی لیے نازل کیا ہے کہ تم پرہیز گاروں کو خوشخبری دے دو اور ہٹ دھرم لوگوں کو ڈرا دو۔

اِن سے پہلے ہم کتنی ہی قوموں کو ہلاک کر چکے ہیں ، پھر آج لیں تم اُن کا نشان پاتے ہو یا اُن کی بِھنک بھی کہیں سُنائی دیتی ہے؟ ؏۶