1-12 شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے بندے پر یہ کتاب نازل کی اور اس میں کوئی ٹیڑھ نہ رکھی۔1

ٹھیک ٹھیک سیدھی بات کہنے والی کتاب، تاکہ وہ لوگوں کو خدا کے سخت عذاب سے خبردار کر دے، اور ایمان لا کر نیک عمل کرنے والوں کو خوشخبری دیدے کہ ان کے لیے اچھا اجر ہے

جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے،

اور اُن لوگوں کو ڈرا دے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔2

اِس بات کا نہ اُنھیں کوئی علم ہے اورنہ ان کے باپ دادا کو تھا۔3 بڑی بات ہے جو ان کےمُنہ سے نکلتی ہے۔ وہ محض جھوٹ بکتے ہیں۔

اچھا، تو اے محمدؐ ،شاید تم ان کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کھو دینے والے ہو اگر یہ اِس تعلیم پر ایمان نہ لائے۔4

واقعہ یہ ہے کہ یہ جو کچھ سرو سامان بھی زمین پر ہے اس کو ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ اِن لوگوں کو آزمائیں اِن میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔

آخرِ کار اِس سب کو ہم ایک چٹیل میدان بنا دینے والے ہیں۔5

کیا تم سمجھتے ہو کہ غار6 اور کتبے 7والے ہماری کوئی بڑی عجیب نشانیوں میں سے تھے؟8

جب وہ چند نوجوان غار میں پناہ گزیں ہوئے اور انہوں نے کہا کہ” اے پروردگار، ہم کو اپنی رحمتِ خاص سے نوازاور ہمارا معاملہ درُست کردے،“

تو ہم نے اُنھیں اُسی غار میں تھپک کر سالہا سال کے لیے گہری نیند سُلا دیا ،

پھر ہم نے اُنھیں اُٹھایا تاکہ دیکھیں اُن کے دو گروہوں میں سے کون اپنی مُدّتِ قیام کا ٹھیک شمار کرتا ہے۔ ؏ ۱

13-17

ہم اِن کا اصل قصہ تم کو سُناتے ہیں۔9 وہ چند نوجوان تھے جو اپنے ربّ پر ایمان لے آئے تھے اور ہم نے ان کو ہدایت میں ترقی بخشی تھی۔10

ہم نے ان کے دل اُس وقت مضبُوط کر دیے جب وہ اُٹھے اور انہوں نے اعلان کر دیا کہ ”ہمارا ربّ تو بس وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا ربّ ہے ۔ ہم اُسے چھوڑ کر کسی دُوسرے معبُود کو نہ پکاریں گے۔ اگر ہم ایسا کریں تو بالکل بیجا بات کریں گے۔“

(پھرانہوں نے آپس میں ایک دُوسرے سے کہا) ”یہ ہماری قوم تو ربِّ کائنات کو چھوڑ کر دُوسرے خدا بنا بیٹھی ہے۔ یہ لوگ ان کے معبُود، ہونے پر کوئی واضح دلیل کیوں نہیں لاتے؟ آخراُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہو سکتا ہے جو اللہ پر جھُوٹ باندھے؟

اب جبکہ تم ان سے اور ان کے معبُودانِ غیراللہ سے بے تعلق ہو چکے ہو تو چلو اب فلاں غار میں چل کر پناہ لو۔11 تمہارا ربّ تم پر اپنی رحمت کا دامن وسیع کرے گا اور تمہارے کام کے لیے سروسامان مہیّا کر دے گا۔“

تم انہیں غار میں دیکھتے12 تو تمہیں یُوں نظر آتا کہ سُورج جب نِکلتا ہے تو ان کے غار کو چھوڑ کر دائیں جانب چڑھ جاتا ہے اور جب غروب ہوتا ہے تو ان سے بچ کر بائیں جانب اُتر جاتا ہے اور وہ ہیں کہ غار کے اندر ایک وسیع جگہ میں پڑے ہیں۔13 یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے۔ جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے اللہ بھٹکا دے اس کے لیے تم کوئی ولیِّ مُرشد نہیں پاسکتے۔ ؏ ۲

18-22

تم انہیں دیکھ کر یہ سمجھتے کہ وہ جاگ رہے ہیں، حالانکہ وہ سو رہے تھے۔ ہم انہیں دائیں بائیں کروٹ دلواتے رہتے تھے۔14 اور ان کا کُتا غار کے دہانے پر ہاتھ پھیلائے بیٹھا تھا۔ اگر تم کہیں جھانک کر اُنہیں دیکھتے تو اُلٹے پاوٴں بھاگ کھڑے ہوتے اور تم پر ان کے نظارے سے دہشت بیٹھ جاتی۔15

اور اسی عجیب کرشمے سے ہم نے انہیں اُٹھا بٹھایا16 تاکہ ذرا آپس میں پوچھ گچھ کریں۔ ان میں سے ایک نے پوچھا”کہو، کتنی دیر اس حال میں رہے؟ “ دُوسروں نے کہا” شاید دن پھر یا اس سے کچھ کم رہے ہوں گے۔“پھروہ بولے”اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہمارا کتنا وقت اس حال میں گزرا۔ چلو، اب اپنے میں سے کسی کو چاندی کا یہ سِکّہ دے کر شہر بھیجیں اور وہ دیکھے کہ سب سے اچھا کھانا کہاں ملتا ہے۔ وہاں سے وہ کچھ کھانے کے لیے لائے۔ اور چاہیے کہ ذرا ہوشیاری سے کام کرے، ایسا نہ ہو کہ کسی کو ہمارے یہاں ہونے سے خبردار کر بیٹھے۔

اگر کہیں اُن لوگوں کا ہاتھ ہم پر پڑ گیا تو بس سنگسار ہی کر ڈالیں گے، یا پھر زبر دستی ہمیں اپنی مِلّت میں واپس لے جائیں گے، اور ایسا ہوا تو ہم کبھی فلاح نہ پاسکیں گے“

۔۔۔۔ اِس طرح ہم نے اہلِ شہر کو ان کے حال پر مطلع کیا 17تاکہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت کی گھڑی بے شک آکر رہے گی۔ 18(مگر ذرا خیال کرو کہ جب سوچنے کی اصل بات یہ تھی)اُس وقت وہ آپس میں اِس بات پر جھگڑ رہے تھے کہ اِن (اصحابِ کہف) کے ساتھ کیا کیا جائے۔ کچھ لوگوں نے کہا”اِن پر ایک دیوار چُن دو، اِن کا ربّ ہی اِن کے معاملہ کو بہتر جانتا ہے۔19“مگر جو لوگ اُن کے معاملات پر غالب تھے20 اُنہوں نے کہا”ہم تو اِن پر ایک عبادت گاہ بنائیں گے۔“21

کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا اُن کا کُتّا تھا۔ اور کچھ دُوسرے کہہ دیں گے کہ پانچ تھے اور چھٹا اُن کا کُتّا تھا۔ یہ سب بے تُکی ہانکتے ہیں۔ کچھ اور لوگ کہتے ہیں کہ سات تھے اور آٹھواں اُن کا کُتّا تھا۔22 کہو، میرا ربّ ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنے تھے۔ کم ہی لوگ ان کی صحیح تعداد جانتے ہیں۔ پس تم سرسری بات سے بڑھ کر ان کی تعداد کے معاملے میں لوگوں سے بحث نہ کرو، اور نہ ان کے متعلق کسی سے کچھ پُوچھو۔23 ؏ ۳

23-31

اور دیکھو،کسی چیز کے بارے میں کبھی یہ نہ کہا کرو کہ میں کل یہ کام کر دوں گا۔

(تم کچھ نہیں کر سکتے)اِلّا یہ کہ اللہ چاہے۔ اگر بھُولے سے ایسی بات زبان سے نکل جائے تو فوراً اپنے ربّ کو یاد کرو اور کہو” اُمید ہے کہ میرا ربّ اِس معاملے میں رُشد سے قریب تر بات کی طرف میری رہنمائی فرما دے 24گا۔“

۔۔۔۔ اور وہ اپنے غار میں تین سو سال رہے، اور (کچھ لوگ مدّت کے شمار میں)۹ سال اور بڑھ گئے ہیں۔25

تم کہو، اللہ ان کے قیام کی مدّت زیادہ جانتا ہے ، آسمانوں اور زمین کے سب پوشیدہ احوال اُسی کو معلوم ہیں ، کیا خوب ہے وہ دیکھنے والا اور سُننے والا! زمین و آسمان کی مخلوقات کا کوئی خبر گیر اُس کے سوا نہیں، اور وہ اپنی حکومت میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔

اے نبیؐ، 26 تمہارے ربّ کی کتاب میں سے جو کچھ تم پر وحی کیا گیا ہے اسے (جُوں کا تُوں)سُنا دو، کوئی اُس کے فرمودات کو بدل دینے کا مجاز نہیں ہے، (اور اگر تم کسی کی خاطر اس میں ردّو بدل کرو گے تو)اُس سے بچ کر بھاگنے کے لیے کوئی جائے پناہ نہ پاوٴ گے۔27

اور اپنے دل کو اُن لوگوں کی معیّت پر مطمئن کرو جو اپنے ربّ کی رضا کے طلب گار بن کر صبح و شام اُسے پکارتے ہیں، اور اُن سے ہر گز نگاہ نہ پھیرو۔ کیا تم دنیا کی زینت پسند کرتے ہو؟28 کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کرو 29جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کر دیا ہے اور جس نے اپنی خواہش ِ نفس کی پیروی اختیار کر لی ہے اور جس کا طریقِ کار افراط و تفریط پر مبنی ہے۔30

صاف کہہ دو کہ یہ حق ہے تمہارے ربّ کی طرف سے ، اب جس کا جی چاہے مان لے اور جس کا جی چاہے انکار کر دے۔31 ہم نے (انکار کرنے والے)ظالموں کے لیے ایک آگ تیار کر رکھی ہے جس کی لپٹیں انہیں گھیرے میں لے چکی ہیں۔ 32وہاں اگر وہ پانی مانگیں گے تو ایسے پانی سے ان کی تواضع کی جائے گی جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہوگا33 اور ان کا منہ بھُون ڈالے گا، بدترین پینے کی چیز اور بہت بُری آرام گاہ!

رہے وہ لوگ جو مان لیں اور نیک عمل کریں، تو یقیناً ہم نیکو کار لوگوں کا اجر ضائع نہیں کیا کرتے۔

ان کے لیے سدا بہار جنّتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی، وہاں وہ سونے کے کنگنوں سے آراستہ کیے جائیں گے،34 باریک ریشم اور اطلس و دیَبا کے سبز کپڑے پہنیں گے، اور اُونچی مسندوں 35 پر تکیے لگا کر بیٹھیں گے۔ بہترین اجر اور اعلیٰ درجے کی جائے قیام! ؏ ۴

32-44

اے محمدؐ ، اِن کے سامنے ایک مثال پیش کرو۔ 36 دو شخص تھے۔ ان میں سے ایک کو ہم نے انگور کے دو باغ دیے اور اُن کے گرد کھجُور کے درختوں کی باڑھ لگائی اور ان کے درمیان کاشت کی زمین رکھی۔

دونوں باغ خُوب پھلے پھُولے اور بار آور ہونے میں اُنہوں نے ذرا سی کسر بھی نہ چھوڑی۔ اُن باغوں کے اندر ہم نے ایک نہر جاری کر دی

اور اُسے خوب نفع حاصل ہوا۔ یہ کچھ پا کر ایک دن وہ اپنے ہمسائے سے بات کرتے ہوئے بولا”میں تجھ سے زیادہ مالدار ہوں اور تجھ سے زیادہ طاقتور نفری رکھتا ہوں۔“

پھر وہ اپنی جنّت میں داخل ہوا 37 اور اپنے نفس کے حق میں ظالم بن کر کہنے لگا”میں نہیں سمجھتا کہ یہ دولت کبھی فنا ہو جائے گی،

اور مجھے توقع نہیں کہ قیامت کی گھڑی کبھی آئے گی۔ تاہم اگر کبھی مجھے اپنے ربّ کے حضُور پلٹایا بھی گیا تو ضرور اِس سے بھی زیادہ شاندار جگہ پاوٴں گا۔“ 38

اُس کے ہمسائے نے گفتگو کرتے ہوئے اُس سے کہا”کیا تُو کُفر کرتا ہے اُس ذات سے جس نے تجھے مٹی سے اور پھر نطفے سے پیدا کیااور تجھے ایک پورا آدمی بنا کر کھڑا کیا؟ 39

رہا میں ، تو میرا ربّ تو وہی اللہ ہے اور میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔

اور جب تُو اپنی جنّت میں داخل ہو رہا تھا تو اس وقت تیری زبان سے یہ کیوں نہ نکلا کہ ماشاء اللہ، لاقوة اِلّا باللّٰہ؟ 40 اگر تُو مجھے مال اور اولاد میں اپنے سے کمتر پا رہا ہے

تو بعید نہیں کہ میرا ربّ مجھے تیری جنّت سے بہتر عطا فرما دے اور تیری جنّت پر آسمان سے کوئی آفت بھیج دے جس سے وہ صاف میدان بن کر رہ جائے،

یا اس کا پانی زمین میں اُتر جائے اور پھر تُو اسے کسی طرح نہ نکال سکے۔“

آخر کار ہوا یہ کہ اس کا سارا ثمرہ مارا گیا اور اپنے انگوروں کے باغ کو ٹٹیوں پر اُلٹا پڑا دیکھ کر اپنی لگائی ہوئی لاگت پر ہاتھ ملتا رہ گیا اور کہنے لگا کہ”کاش! میں نے اپنے ربّ کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہوتا“

۔۔۔۔ نہ ہوا اللہ کو چھوڑ کر اُس کے پاس کوئی جتھا کہ اُس کی مدد کرتا، اور نہ کر سکا وہ آپ ہی اس آفت کا مقابلہ ۔۔۔۔

اُس وقت معلوم ہوا کہ کارسازی کا اختیار خدائے برحق ہی کے لیے ہے، انعام وہی بہتر ہے جو وہ بخشے اور انجام وہی بخیر ہے جو وہ دکھائے۔؏۵

45-49

اور اے نبیؐ، اِنہیں حیاتِ دُنیا کی حقیقت اِس مثال سے سمجھاوٴ کہ آج ہم نے آسمان سے پانی برسا دیا تو زمین کی پَود خُوب گھنی ہو گئی، اور کل وہی نباتات بھُس بن کر رہ گئی جسے ہوائیں اُڑائے لیے پھرتی ہیں۔ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ 41

یہ مال اور یہ اولاد محض دُنیوی زندگی کی ایک ہنگامی آرائش ہے۔ اصل میں تو باقی رہ جانے والی نیکیاں ہی تیرے ربّ کے نزدیک نتیجے کے لحاظ سے بہتر ہیں اور انہی سے اچھی اُمیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں۔

فکر اُس دن کی ہونی چاہیے جب کہ ہم پہاڑوں کو چلائیں گے، 42 اور تم زمین کو بالکل برہنہ پاوٴ گے، 43 اور ہم تمام انسانوں کو اس طرح گھیر کر جمع کریں گے کہ (اگلوں پچھلوں میں سے)ایک بھی نہ چھُوٹے گا، 44

اور سب کے سب تمہارے ربّ کے حضُور صف در صف پیش کیے جائیں گے ۔۔۔۔ لو دیکھ لو، آگئے نا تم ہمارے پاس اُسی طرح جیسا ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا۔ 45 تم نے تو یہ سمجھا تھا کہ ہم نے تمہارے لیے کوئی وعدے کا وقت مقرر ہی نہیں کیا ہے ۔۔۔۔

اور نامہٴ اعمال سامنے رکھ دیا جائے گا۔ اُس وقت تم دیکھو گے کہ مجرم لوگ اپنی کتابِ زندگی کے اندراجات سے ڈر رہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ ہائے ہماری کم بختی، یہ کیسی کتاب ہے کہ ہماری کوئی چھوٹی بڑی حرکت ایسی نہیں رہی جو اس میں درج نہ کی گئی ہو۔ جو جو کچھ اُنہوں نے کیا تھا وہ سب اپنے سامنے حاضر پائیں گے اور تیرا ربّ کسی پر ذرا ظلم نہ کرے گا۔ 46 ؏ ۶

50-53

یاد کرو، جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم کو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا۔ 47 وہ جِنّوں میں سے تھا اس لیے اپنے ربّ کے حکم کی اطاعت سے نِکل گیا۔ 48 اب کیا تم مجھے چھوڑ کو اُس کو اور اُس کی ذُرّیّت کو اپنا سرپرست بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دُشمن ہیں؟ بڑا ہی بُرا بدل ہے جسے ظالم لوگ اختیار کر رہے ہیں۔

میں نے آسمان و زمین پیدا کرتے وقت اُن کو نہیں بُلایا تھا اور نہ خود اُن کی اپنی تخلیق میں انہیں شریک کیا تھا۔ 49 میرا یہ کام نہیں ہے کہ گمراہ کرنے والوں کو اپنا مدد گار بنایا کروں۔

پھر کیا کریں گے یہ لوگ اُس روز جبکہ اِن کا ربّ اِن سے کہے گا کہ پکارو اب اُن ہستیوں کو جنھیں تم میرا شریک سمجھ بیٹھے تھے۔ 50 یہ اُن کو پکاریں گے ، مگر وہ اِن کی مدد کو نہ آئیں گے اور ہم ان کے درمیان ایک ہی ہلاکت کا گڑھا مشترک کر دیں گے۔ 51

سارے مُجرم اُس روز آگ دیکھیں گے اور سمجھ لیں گے کہ اب انہیں اس میں گرنا ہے اور وہ اس سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ نہ پائیں گے۔ ؏ ۷

54-59

ہم نے اِس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا مگر انسان بڑا ہی جھگڑالو واقع ہوا ہے۔

اُن کے سامنے جب ہدایت آئی تو اسے ماننے اور اپنے ربّ کے حضور معافی چاہنے سے آخر اُن کو کس چیز نے روک دیا ؟ اِس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ منتظر ہیں کہ اُن کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو جو پچھلی قوموں کےساتھ ہو چکا ہے، یا یہ کہ وہ عذاب کو سامنے آتے دیکھ لیں! 52

رسُولوں کو ہم اس کا م کے سوا اور کسی غرض کے لیے نہیں بھیجتے کہ وہ بشارت اور تنبیہ کی خدمت انجام دیں گے۔ 53 مگر کافروں کا حال یہ ہےکہ وہ باطل کے ہتھیار لے کر حق کو نیچا دکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور اُنہوں نے میری آیات کو اور اُن تنبیہات کو جو انہیں کی گئیں مذاق بنا لیا ہے۔

اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہے جسے اُس کے ربّ کی آیات سُناکر نصیحت کی جائے اور وہ اُن سے منہ پھیرے اور اُس بُرے انجام کو بھول جائے جس کا سروسامان اُس نے اپنے لیے خود اپنے ہاتھوں کیا ہے؟(جن لوگوں نے یہ روش اختیار کی ہے)ان کے دلوں پر ہم نے غلاف چڑھا دیے ہیں جو انہیں قرآن کی بات نہیں سمجھنے دیتے، اور اُن کے کانوں میں ہم نے گرانی پیدا کر دی ہے۔ تم انھیں ہدایت کی طرف کتنا ہی بُلاوٴ، وہ اس حالت میں کبھی ہدایت نہ پائیں گے۔ 54

تیرا ربّ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔ وہ ان کے کرتُوتوں پر انھیں پکڑنا چاہتا تو جلدی ہی عذاب بھیج دیتا۔ مگر ان کے لیے وعدے کا ایک وقت مقرر ہے اور اس سے بچ کر بھاگ نکلنے کی یہ کوئی راہ نہ پائیں گے۔ 55

یہ عذاب رسیدہ بستیاں تمہارے سامنے موجود ہیں۔ 56 انہوں نے جب ظلم کیا تو ہم نے انھیں ہلاک کر دیا، اور ان میں سے ہر ایک کی ہلاکت کے لیے ہم نے وقت مقرر کر رکھا تھا۔ ؏ ۸

60-70

( ذرا ان کو وہ قصہ سُناوٴ جو موسیٰؑ کو پیش آیا تھا)جب کہ موسیٰؑ نے اپنے خادم سے کہا تھاکہ”میں اپنا سفر ختم نہ کروں گا جب تک کہ دونوں دریاوٴں کے سنگم پر نہ پہنچ جاوٴں، ورنہ میں ایک زمانۂ دراز تک چلتا ہی رہوں گا۔“ 57

پس جب وہ ان کے سنگم پر پہنچے تو اپنی مچھلی سے غافل ہوگئے اور وہ نِکل کر اس طرح دریامیں چلی گئی جیسے کہ کوئی سُرنگ لگی ہو۔

آگے جا کر موسیٰ ؑ نے اپنے خادم سے کہا”لاوٴ ہمارا ناشتہ، آج کے سفر میں تو ہم بُری طرح تھک گئے ہیں۔“

خادم نے کہا”آپ نے دیکھا! یہ کیا ہوا؟ جب ہم اُس چٹان کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے اُس وقت مجھے مچھلی کا خیال نہ رہا اور شیطان نے مجھ کو ایسا غافل کر دیا کہ میں اس کا ذکر (آپ سے کرنا)بھول گیا۔ مچھلی تو عجیب طریقے سے نکل کر دریا میں چلی گئی۔“

موسیٰؑ نے کہا ”اسی کی تو ہمیں تلاش تھی۔“ 58 چنانچہ وہ دونوں اپنے نقشِ قدم پر پھر واپس ہوئے

اور وہاں اُنہوں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم نے اپنی رحمت سے نوازا تھا اور اپنی طرف سے ایک خاص علم عطا کیا تھا۔ 59

موسیٰؑ نے اُس سے کہا”کیا میں آپ کی ساتھ رہ سکتا ہوں تاکہ آپ مجھے بھی اُس دانش کی تعلیم دیں جو آپ کو سکھائی گئی ہے؟“

اُس نے جواب دیا ”آپ میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے،

اور جس چیز کی آپ کو خبر نہ ہو آخر آپ اُس پر صبر کر بھی کیسے سکتے ہیں۔“

موسیٰؑ نے کہا ”اِنشاء اللّٰہ آپ مجھے صابر پائیں گے اور میں کسی معاملہ میں آپ کی نافرمانی نہ کروں گا۔“

اس نےکہا ”اچھا، اگر آپ میرے ساتھ چلتے ہیں تو مجھ سے کوئی بات نہ پوچھیں جب تک کہ میں خود اس کا آپ سے ذکر نہ کروں۔“ ؏ ۹

71-82

اب وہ دونوں روانہ ہوئے، یہاں تک کہ جب وہ ایک کشتی میں سوار ہوگئے تو اس شخص نے کشتی میں شگاف ڈال دیا۔ موسیٰؑ نے کہا” آپ نے اِس میں شگاف ڈال دیا تا کہ سب کشتی والوں کو ڈبو دیں؟ یہ تو آپ نے ایک سخت حرکت کر ڈالی۔“

اس نے کہا” میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے؟“

موسیٰؑ نے کہا” بھُول چُوک پر مجھےنہ پکڑیے۔ میرے معاملے میں آپ ذرا سختی سے کام نہ لیں۔“

پھر وہ دونوں چلے، یہاں تک کہ اُن کو ایک لڑکا ملا اور اُس شخص نے اُسے قتل کر ڈالا۔ موسیٰؑ نے کہا”آپ نے ایک بے گناہ کی جان لے لی حالانکہ اُس نے کسی کا خون نہ بہایا تھا؟ یہ کام تو آپ نے بہت ہی بُرا کیا۔“

اُس نے کہا”میں تم سے کہا نہ تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کر سکتے؟“

موسیٰؑ نے ” اس کے بعد اگر میں آپ سے کچھ پوچھوں تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں۔ لیجیے، اب تو میری طرف سے آپ کو عذر مل گیا۔“

پھر وہ آگے چلے یہاں تک کہ ایک بستی میں پہنچے اور وہاں کے لوگوں سے کھانا مانگا۔ مگر انہوں نے ان دونوں کی ضیافت سے انکار کر دیا۔ وہاں انہوں نے ایک دیوار دیکھی جو گِرا چاہتی تھی ۔ اُس شخص نے اس دیوار کو پھر قائم کر دیا۔ موسیٰؑ نے کہا” اگر آپ چاہتے تو اس کام کی اُجرت لے سکتے تھے۔“

اُس نے کہا ”بس میرا تمہارا ساتھ ختم ہوا۔ اب میں تمہیں ان باتوں کی حقیقت بتاتا ہوں جن پر تم صبر نہ کر سکے۔

اُس کشتی کا معاملہ یہ ہےکہ وہ چند غریب آدمیوں کی تھی جو دریا میں محنت مزدُوری کرتے تھے۔ میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کر دوں، کیونکہ آگے ایک ایسے بادشاہ کا علاقہ تھا جو ہر کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا۔

رہا وہ لڑکا، تو اس کے والدین مومن تھے،ہمیں اندیشہ ہو ا کہ یہ لڑکا اپنی سرکشی اور کُفر سے اِن کو تنگ کرے گا،

اس لیے ہم نے چاہا کہ ان کا ربّ اس کے بدلے ان کو ایسی اولاد دے جو اخلاق میں بھی اس سے بہتر ہو اور جس سے صلہٴ رحمی بھی زیادہ متوقع ہو۔

اور اس دیوار کا معاملہ یہ ہے کہ یہ دو یتیم لڑکوں کی ہے جو اس شہر میں رہتے ہیں۔ اِس دیوار کے نیچے اِن بچوں کے لیے ایک خزانہ مدفون ہے اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا۔ اس لیے تمہارے ربّ نے چاہا کہ یہ دونوں بچے بالغ ہوں اور اپنا خزانہ نکال لیں۔ یہ تمہارے ربّ کی رحمت کی بنا پر کیا گیا ہے ، میں نے کچھ اپنے اختیار سے نہیں کر دیا ہے۔ یہ ہے حقیقت اُن باتوں کی جن پر تم صبر نہ کر سکے۔“60 ؏ ۱۰

83-101

اور اے محمدؐ ، یہ لوگ تم سے ذُوالقرنین کے بارے میں پُوچھتے ہیں۔ 61 ان سے کہو، میں اس کا کچھ حال تم کو سُناتا ہوں۔ 62

ہم نے اس کو زمین میں اقتدار عطا کر رکھا تھا اور اسے ہر قسم کے اسباب و وسائل بخشے تھے۔

اس نے (پہلے مغرب کی طرف ایک مہم کا)سرو سامان کیا۔

حتیٰ کہ جب وہ غروبِ آفتاب کی حَد تک پہنچ گیا 63 تو اس نے سُورج کو ایک کالے پانی میں ڈوبتے دیکھا 64 اور وہاں اُسے ایک قوم ملی۔ ہم نے کہا” اے ذوالقرنین، تجھے یہ مقدرت بھی حاصل ہے کہ ان کو تکلیف پہنچائے اور یہ بھی کہ اِن کے ساتھ نیک رویّہ اختیار کرے۔“ 65

اس نے کہا، ”جو ان میں سے ظلم کرے گا ہم اس کو سزا دیں گے، پھر وہ اپنے ربّ کی طرف پلٹایا جائے گا اور وہ اسے اور زیادہ سخت عذاب دے گا۔

اور جو ان میں سے ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا اُس کے لیے اچھی جزا ہے اور ہم اس کو نرم احکام دیں گے۔“

پھر اُس نے (ایک دُوسری مہم کی)تیاری کی

یہاں تک کہ طلوعِ آفتاب کی حد تک جا پہنچا۔ وہاں اس نے دیکھا کہ سُورج ایک ایسی قوم پر طلوع ہو رہا ہے جس کےلیے دُھوپ سے بچنے کا کوئی سامان ہم نے نہیں کیا ہے۔ 66

یہ حال تھا اُن کا، اور ذوالقرنین کے پاس جو کچھ تھا اُسے ہم جانتے تھے۔

پھر اس نے ( ایک اور مہم کا)سامان کیا

یہاں تک کہ جب دو پہاڑوں کے درمیان پہنچا 67 تو اسے ان کے پاس ایک قوم ملی جو مشکل ہی سے کوئی بات سجھتی تھی۔ 68

اُن لوگوں نے کہا کہ ”اے ذوالقرنین، یاجوج اور ماجوج 69 اس سرزمین میں فساد پھیلاتے ہیں۔ تو کیا ہم تجھے کوئی ٹیکس اس کام لیے دیں کہ تُو ہمارے اور ان کے درمیان ایک بند تعمیر کر دے؟“

اُس نے کہا ”جو کچھ میرے ربّ نے مجھے دے رکھا ہے وہ بہت ہے۔ تم بس محنت سے میری مدد کرو، میں تمہارے اور ان کے درمیان بند بنائے دیتا ہوں۔ 70

مجھے لوہے کی چادریں لا کر دو۔“ آخر جب دونوں پہاڑوں کے درمیان خلا کو اس نے پاٹ دیا تو لوگوں سے کہا کہ اب آگ دہکاوٴ۔ حتیٰ کہ جب (یہ آہنی دیوار)بالکل آگ کی طرح سُرخ ہوگئی تو اس نے کہا” لاوٴ، اب میں اس پر پگھلا ہوا تانبا انڈیلوں گا۔“

(یہ بند ایسا تھا کہ)یاجوج و ماجوج اس پر چڑھ کر بھی نہ آسکتے تھے اور اس میں نقب لگانا ان کے لیے اور بھی مشکل تھا۔ذ

والقرنین نے کہا ”یہ میرے ربّ کی رحمت ہے ۔ مگر جب میرے ربّ کے وعدے کا وقت آئے گا تو وہ اس کو پیوندِ خاک کر دے گا، 71 اور میرے ربّ کا وعدہ برحق ہے۔“ 72

اور اُس روز 73 ہم لوگوں کو چھوڑ دیں گے کہ (سمندر کی موجوں کی طرح )ایک دُوسرے سے گتھم گتھا ہوں اور صُور پھُونکا جائے گا اور ہم سب انسانوں کو ایک ساتھ جمع کریں گے۔

اور وہ دن ہوگا جب ہم جہنّم کو کافروں کے سامنے لائیں گے ،

اُن کافروں کے سامنے جو میری نصیحت کی طرف سے اندھے بنے ہوئے تھے اور کچھ سُننے کے لیے تیار ہی نہ تھے۔ ؏ ۱۱

102-110

تو کیا 74 یہ لوگ جنہوں نے کُفر کیا ہے، یہ خیال رکھتے ہیں کہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوں کو اپنا کارساز بنالیں؟ 75 ہم نے ایسے کافروں کی ضیافت کے یے جہنّم تیار کر رکھی ہے۔

اے محمدؐ ، ان سے کہو، کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام و نامراد لوگ کون ہیں؟

وہ کہ دنیا کہ زندگی میں جن کی ساری سعی و جہد راہِ راست سے بھٹکی رہی 76 اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کر رہے ہیں۔

یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے ربّ کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اس کے حضور پیشی کا یقین نہ کیا۔ اس لیے اُن کے سارے اعمال ضائع ہو گئے، قیامت کے روز ہم انہیں کوئی وزن نہ دیں گے۔ 77

ان کی جزا جہنّم ہے اُس کُفر کے بدلے جو انہوں نے کیا اور اُس مذاق کی پاداش میں جو وہ میری آیات اور میرے رسُولوں کے ساتھ کرتے رہے۔

البتہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے، ان کی میزبانی کے لیے فردوس 78 کے باغ ہوں گے

جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور کبھی اُس جگہ سے نِکل کر کہیں جانے کو اُن کا جی نہ چاہے گا۔ 79

اے محمدؐ ، کہو کہ اگر سمندر میرے ربّ کی باتیں 80 لکھنے کے لیے روشنائی بن جائے تو وہ ختم ہو جائے مگر میرے ربّ کی باتیں ختم نہ ہوں، بلکہ اگر اتنی ہی روشنائی ہم اور لے آئیں تو وہ بھی کفایت نہ کرے۔

اے محمدؐ ، کہو کہ میں تو ایک انسان ہوں تم ہی جیسا، میرے طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے، پس جو کوئی اپنے ربّ کی ملاقات کا اُمیدوار ہواسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور بندگی میں اپنے ربّ کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے۔ ؏ ۱۲