1-9 شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

آگیا اللہ کا فیصلہ،1 اب اس کے لیے جلدی نہ مچاوٴ، پاک ہے وہ اور بالا و بر تر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔2

وہ اِس روح3 کو اپنے جس بندے پر چاہتا ہے اپنے حکم سے ملائکہ کے ذریعے نازل فرما دیتا ہے4(اِس ہدایت کے ساتھ کے لوگوں کو)” آگاہ کر دو، میرے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں ہے، لہٰذا تم مجھی سے ڈرو۔“5

اُس نے آسمان و زمین کو بر حق پیدا کیا ہے، وہ بہت بالا و برتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔6

اُس نے انسان کو ایک ذرا سی بُوند سے پیدا کیا اور دیکھتے دیکھتے صریحاً وہ ایک جھگڑالُو ہستی بن گیا۔7

اس نے جانور پیدا کیے جن میں تمہارے لیے پوشاک بھی ہے اور خوراک بھی ، اور طرح طرح کے دُوسرے فائدے بھی۔

اُن میں تمہارے لیے جمال ہے جبکہ صبح تم انہیں چَرنے کے لیے بھیجتے ہو اور جبکہ شام انہیں واپس لاتے ہو۔

وہ تمہارے لیے بوجھ ڈھو کر ایسے ایسے مقامات تک لے جاتے ہیں جہاں تم سخت جانفشانی کے بغیر نہیں پہنچ سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمہارا ربّ بڑا ہی شفیق اور مہربان ہے۔

اُس نے گھوڑے اور خچّر اور گدھے پیدا کیے تاکہ تم ان پر سوار ہو اور وہ تمہاری زندگی کی رونق بنیں۔ وہ اور بہت سی چیزیں(تمہارے فائدے کے لیے)پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم تک نہیں ہے۔8

اور اللہ ہی کے ذمّہ ہے سیدھا راستہ بتانا جب کہ راستے ٹیڑھے بھی موجود ہیں۔9 اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیت10 ؏ ۱

10-21

وہی ہے جس نے آسمان سے تمہارے لیے پانی برسایا جس سے تم خود بھی سیراب ہوتے ہو اور تمہارے جانوروں کے لیے بھی چارہ پیدا ہوتا ہے۔

وہ اس پانی کے ذریعہ سے کھیتیاں اُگاتا ہے اور زیتون اور کھجور اور انگور اور طرح طرح کے دُوسرے پھل پیدا کرتا ہے۔ اِس میں ایک بڑی نشانی ہے اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں۔

اُس نے تمہاری بھلائی کے لیے رات اور دن کو اور سُورج اور چاند کو مسخّر کر رکھا ہے اور سب تارے بھی اُسی کے حکم سے مسخّر ہیں۔ اِس میں بہت نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔

اور یہ جو بہت سی رنگ برنگ کی چیزیں اس نے تمہارے لیے زمین میں پیدا کر رکھی ہیں، اِن میں بھی ضرور نشانی ہے اُن لوگوں کے لیے جو سبق حاصل کرنے والے ہیں۔

وہی ہے جس نے تمہارے لیے سمندر کو مسخّر کر رکھا ہے تاکہ تم اس سے تر و تازہ گوشت لے کر کھاوٴ اور اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو۔ تم دیکھتے ہو کہ کشتی سمندر کا سینہ چیرتی ہوئی چلتی ہے۔ یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ تم اپنے ربّ کا فضل تلاش کرو11 اور اس کے شکر گزار بنو۔

اُس نے زمین میں پہاڑوں کی میخیں گاڑ دیں تاکہ زمین تم کو لے کر ڈُھلک نہ جائے۔12 اس نے دریا جاری کیے اور قدرتی راستے بنائے13 تاکہ تم ہدایت پاوٴ۔

اس نے زمین میں راستہ بتانے والی علامتیں رکھ دیں،14 اور تاروں سے بھی لوگ ہدایت پاتے ہیں۔15

پھر کیا وہ جو پیدا کرتا ہے اور وہ جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے ، دونوں یکساں ہیں؟16 کیا تم ہوش میں نہیں آتے؟

اگر تم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو گِن نہیں سکتے، حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ہی درگزر کرنے والا اور رحیم ہے،17

حالانکہ وہ تمہارے کھُلے سے بھی واقف ہے اور چھُپے سے بھی۔18

اور وہ دُوسری ہستیاں جنہیں اللہ کو چھوڑ کر لوگ پکارتے ہیں ، وہ کسی چیز کی بھی خالق نہیں ہیں بلکہ خود مخلوق ہیں۔

مُردہ ہیں نہ کہ زندہ۔ اور ان کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ انہیں کب(دوبارہ زندہ کر کے)اُٹھایا جائے گا۔19 ؏ ۲

22-25

تمہارا خدا بس ایک ہی خدا ہے ۔ مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے اُن کےدلوںمیں انکار بس کر رہ گیا ہے اور وہ گھمنڈ میں پڑ گئے ہیں۔20

اللہ یقیناً اِن کے سب کرتُوت جانتا ہے چھُپے ہوئے بھی اور کھُلے ہوئے بھی۔ وہ اُن لوگوں کو ہر گز پسند نہیں کرتا جو غرورِ نفس میں مبتلا ہوں۔

21اور جب کوئی ان سے پُوچھتا ہے کہ تمہارے ربّ نے یہ کیا چیز نازل کی ہے ، تو کہتے ہیں” اجی وہ تو اگلے وقتوں کی فرسُودہ کہانیاں ہیں۔“22

یہ باتیں وہ اس لیے کرتے ہیں کہ قیامت کے روز اپنے بوجھ بھی پُورے اُٹھائیں، اور ساتھ ساتھ کچھ اُن لوگوں کے بوجھ بھی سمیٹیں جنہیں یہ بر بنائے جہالت گمراہ کر رہے ہیں۔ دیکھو! کیسی سخت ذمہ داری ہے جو یہ اپنے سر لے رہے ہیں۔ ؏ ۳

26-34

اِن سے پہلے بھی بہت سے لوگ ( حق کو نیچا دِکھانے کے لیے) ایسی ہی مکّاریاں کر چکے ہیں، تو دیکھ لو کہ اللہ نے اُن کے مکر کی عمارت جڑ سے اُکھاڑ پھینکی اور اس کی چھت اُوپر سے ان کے سر پر آرہی اورایسے رُخ سے ان پر عذاب آیا جدھر سے اس کے آنے کا اُن کو گمان تک نہ تھا۔

پھر قیامت کے روز اللہ انہیں ذلیل و خوار کرے گا۔ وہ اُن سے کہے گا ”بتاوٴ اب کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کےلیے تم (اہلِ حق سے)جھگڑے کیا کرتے تھے؟“۔۔۔۔ 23جن لوگوں کو دنیا میں علم حاصل تھا وہ کہیں گے ”آج رُسوائی اور بدبختی ہے کافروں کے لیے ۔“ ہاں،24

اُنہی کافروں کے لیے جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہوئے جب ملائکہ کے ہاتھوں گرفتار ہوتے ہیں25 تو (سرکشی چھوڑ کر)فوراً ڈَگیں ڈال دیتے ہیں اور کہتے ہیں ”ہم تو کوئی قصُور نہیں کر رہے تھے۔“ ملائکہ جواب دیتے ہیں ”کر کیسے نہیں رہے تھے! اللہ تمہارے کرتُوتوں سے خوب واقف ہے۔

اب جاوٴ، جہنّم کے دروازوں میں گھُس جاوٴ۔ وہیں تم کو ہمیشہ رہنا ہے۔“26 پس حقیقت یہی ہے کہ بڑا ہی بُرا ٹھکانہ ہے متکبّروں کے لیے۔

دُوسری طرف جب خدا ترس لوگوں سے پوچھا جاتا ہے کہ یہ کیا چیز ہے جو تمہارے ربّ کی طرف سے نازل کی ہوئی ہے، تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ”بہترین چیز اُتری ہے۔“27 اِس طرح کے نیکوکار لوگوں کے لیے اِس دنیا میں بھی بھلائی ہے اور آخرت کا گھر تو ضرور ہی ان کے حق میں بہتر ہے۔ بڑا اچھا گھر ہے متقیوں کا،

دائمی قیام کی جنتیں ، جن میں وہ داخل ہوں گے، نیچے نہریں بہ رہی ہوں گی، اور سب کچھ وہاں عین اُن کی خواہش کے مطابق ہوگا۔28 یہ جزا دیتا ہے اللہ متّقیوں کو۔

اُن متّقیوں کو جن کی رُوحیں پاکیزگی کی حالت میں جب ملائکہ قبض کر رہے ہوتے ہیں تو کہتے ہیں ”سلام ہو تم پر، جاوٴ جنّت میں اپنے اعمال کے بدلے۔“

اے محمدؐ، اب جو یہ لوگ انتظار کر رہے ہیں تو اِس کے سوا اب اور کیا باقی رہ گیا ہے کہ ملائکہ ہی آپہنچیں، یا تیرے ربّ کا فیصلہ صادر ہو جائے؟29 اِس طرح ڈِھٹائی اِن سے پہلے بہت سے لوگ کر چکے ہیں۔ پھر جو کچھ اُن کے ساتھ ہوا وہ اُن پر اللہ کا ظلم نہ تھا بلکہ اُن کا اپنا ظلم تھا جو اُنہوں نے خود اپنے اُوپر کیا۔

اُن کے کرتُوتوں کی خرابیاں آخرِ کار اُن کی دامنگیر ہوگئیں اور وُہی چیز اُن پر مسلّط ہر کر رہی جس کا وہ مذاق اُڑایا کرتے تھے۔ ؏ ۴

35-40

یہ مشرکین کہتے ہیں ”اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم اور نہ ہمارے باپ دادا اُس کے سوا کسی اَور کی عبادت کرتے اور نہ اُس کے حکم کے بغیر کسی چیز کو حرام ٹھہراتے۔“30 ایسے ہی بہانے اِن سے پہلے کے لوگ بھی بناتے رہے ہیں۔31 تو کیا رسُولوں پر صاف صاف بات پہنچا دینے کے سوا اور بھی کوئی ذمّہ داری ہے؟

ہم نے ہر اُمّت میں ایک رسُول بھیج دیا، اور اُس کے ذریعہ سے سب کو خبر دار کر دیا کہ ” اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو۔“32 اس کے بعد ان میں سے کسی کو اللہ نے ہدایت بخشی اور کسی پر ضلالت مسلّط ہو گئی۔33 پھر ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھُٹلانے والوں کا کیا انجام ہو چکا ہے34 ۔۔۔۔

اَے محمدؐ، تم چاہے اِن کی ہدایت کے لیے کتنے ہی حریص ہو، مگر اللہ جس کو بھٹکا دیتا ہے پھر اسے ہدایت نہیں دیا کرتا اور اس طرح کے لوگوں کی مدد کوئی نہیں کر سکتا۔

یہ لوگ اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ ”اللہ کسی مرنے والے کو پھر سے زندہ کر کے نہ اُٹھائے گا“۔۔۔۔ اُٹھائے گا کیوں نہیں، یہ تو ایک وعدہ ہے جسے پُورا کرنا اُس نے اپنے اُوپر واجب کر لیا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔

اور ایسا ہونا اس لیے ضروری ہے کہ اللہ اِن کے سامنے اُس حقیقت کو کھول دے جس کے بارے میں یہ اختلاف کر رہے ہیں، اور منکرینِ حق کو معلوم ہو جائے کہ وہ جھُوٹے تھے۔ 35

(رہا اس کا امکان ، تو)ہمیں کسی چیز کو وجود میں لانے کے لیے اس سے زیادہ کچھ نہیں کرنا ہوتا کہ اسے حکم دیں ”ہو جا“ اور بس وہ ہو جاتی ہے۔36 ؏ ۵

41-50

جو لوگ ظلم سہنے کے بعد اللہ کی خاطر ہجرت کر گئے ہیں ان کو ہم دنیا ہی میں اچھا ٹھکانا دیں گے اور آخرت کا اجر تو بہت بڑا ہے۔37 کاش جان لیں مظلوم

وہ جنہوں نے صبر کیا ہے اور جو اپنے ربّ کے بھروسے پر کام کر رہے ہیں (کہ کیسا اچھا انجام اُن کا منتظر ہے)۔

اے محمدؐ، ہم نے تم سے پہلے بھی جب کبھی رسُول بھیجے ہیں آدمی ہی بھیجے ہیں جن کی طرف ہم اپنے پیغامات وحی کیا کرتے تھے ۔38 اہلِ ذکر 39سے پُوچھ لو اگر تم لوگ خود نہیں جانتے۔

پچھلے رسُولوں کو بھی ہم نے روشن نشانیاں اور کتابیں دے کر بھیجا تھا، اور اب یہ ذِکر تم پر نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کے سامنے اُس تعلیم کی تشریح و توضیح کرتے جاوٴ جو اُن کے لیے اُتاری گئی ہے40، اور تاکہ لوگ (خود بھی)غور و فکر کریں۔

پھر کیا وہ لوگ جو (دعوتِ پیغمبرؐ کے مخالف ہیں)بدتر سے بدتر چالیں چل رہے ہیں اِس بات سے بالکل ہی بے خوف ہو گئے ہیں کہ اللہ ان کو زمین میں دھنسا دے ، یا ایسے گوشے سے ان پر عذاب لے آئے جدھر سے اس کے آنے کا ان کو وہم و گمان تک نہ ہو،

یا اچانک چلتے پھرتے ان کو پکڑ لے، وہ جو کچھ بھی کرنا چاہے یہ لوگ اس کو عاجز کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔

یا ایسی حالت میں انہیں پکڑے جبکہ انہیں خود آنے والی مصیبت کا کھٹکا لگا ہُوا ہو اور وہ اس سے بچنے کی فکر میں چوکنّے ہوں؟ حقیقت یہ ہے کہ تمہارا ربّ بڑا ہی نرم خو اور رحیم ہے۔

اور کیا یہ لوگ اللہ کی پیدا کی ہوئی کسی چیز کو بھی نہیں دیکھتے کہ اس کا سایہ کس طرح اللہ کے حضُور سجدہ کرتے ہوئے دائیں اور بائیں گرتا ہے؟41 سب کے سب اِس طرح اظہارِ عجز کر رہے ہیں۔

زمین اور آسمانوں میں جس قدر جان دار مخلوقات ہیں اور جتنے ملائکہ ہیں سب اللہ کے آگے سر بسجُود ہیں۔42 وہ ہر گز سرکشی نہیں کرتے،

اپنے ربّ سے جو اُن کے اُوپر ہے، ڈرتے ہیں اور جو کچھ حکم دیا جاتا ہے اسی کے مطابق کام کرتے ہیں۔ ؏ ۶ ۳السجدة

51-60

اللہ کا فرمان ہے کہ ”دو خدا نہ بنا لو،43 خدا تو بس ایک ہی ہے، لہٰذا تم مجھی سے ڈرو،

اُسی کا ہے وہ سب کچھ جو آسمانوں میں ہے اور جو زمین میں ہے، اور خالصًا اُسی کا دین (ساری کائنات میں)چل رہا ہے۔44 پھر کیا للہ کو چھوڑ کر تم کسی اور سے تقوٰی کرو گے؟“45

تم کو جو نعمت بھی حاصل ہے اللہ ہی کی طرف سے ہے۔ پھر جب کوئی سخت وقت تم پر آتا ہے تو تم لوگ خود اپنی فریادیں لے کر اُسی کی طرف دوڑتے ہو۔46

مگر جب اللہ اُس وقت کو ٹال دیتا ہے تو یکایک تم میں سے ایک گروہ اپنے ربّ کے ساتھ دُوسروں کو( اس مہربانی کے شکریے میں)شریک کرنے لگتا ہے۔47

تاکہ اللہ کے احسان کی ناشکری کرے۔ اچھا، مزے کرلو، عنقریب تمہیں معلوم ہو جائے گا۔

یہ لوگ جن کی حقیقت سے واقف نہیں ہیں48 اُن کے حصے ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے مقرر کرتے ہیں۔۔۔۔49 خدا کی قسم، ضرور تم سے پوچھا جائے گا کہ یہ جھُوٹ تم نے کیسے گھڑ لیے تھے؟

یہ خدا کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں۔50 سُبحان اللہ! اور اِن کے لیے وہ جو یہ خود چاہیں؟51

جب اِن میں سے کسی کو بیٹی کے پیدا ہونے کی خوشخبری دی جاتی ہے تو اُس کے چہرے پر کلونس چھا جاتی ہے اور وہ بس خون کا سا گھونٹ پی کر رہ جاتا ہے۔

لوگوں سے چھُپتا پھرتا ہے کہ اِس بُری خبر کے بعد کیا کسی کو منہ دکھائے۔ سوچتا ہے کہ ذلّت کے ساتھ بیٹی کو لیے رہے یا مٹی میں دبا دے؟ ۔۔۔۔ دیکھو، کیسے بُرے حکم ہیں جو یہ خُدا کے بارے میں لگاتے ہیں ۔52

بُری صفات سے متّصف کیے جانے کے لائق تو وہ لوگ ہیں جو آخرت کا یقین نہیں رکھتے۔ رہا اللہ، تو اُس کے لیے سب سے برتر صفات ہیں، وہی تو سب پر غالب اورحکمت میں کامل ہے۔ ؏ ۷

61-65

اگر کہیں اللہ لوگوں کو اُن کی زیادتی پر فوراً ہی پکڑ لیا کرتا تو رُوئے زمین پر کسی متنفّس کو نہ چھوڑتا ۔ لیکن وہ سب کو ایک وقتِ مقرر تک مہلت دیتا ہے ، پھر جب وہ وقت آجاتا ہے تو اس سے کوئی ایک گھڑی بھر بھی آگے پیچھے نہیں ہوسکتا۔

آج یہ لوگ وہ چیزیں اللہ کے لیے تجویز کر رہے ہیں جو خود اپنے لیے اِنہیں ناپسند ہیں، اور جھُوٹ کہتی ہیں اِن کی زبانیں کہ اِن کے لیے بھلا ہی بھلا ہے۔ اِن کے لیے تو ایک ہی چیز ہے، اور وہ ہے دوزخ کی آگ۔ ضرور یہ سب سے پہلے اُس میں پہنچائے جائیں گے۔

خدا کی قسم، اے محمدؐ، تم سے پہلے بھی بہت سی قوموں میں ہم رسُول بھیج چکے ہیں (اور پہلے بھی یہی ہوتا رہا ہےکہ)شیطان نے اُن کے بُرے کرتُوت اُنہیں خوشنما بنا کر دکھائے (اور رسُولوں کی بات اُنہوں نے مان کر نہ دی)۔ وہی شیطان آج اِن لوگوں کا بھی سرپرست بنا ہُوا ہے اور یہ دردناک سزا کے مستحق بن رہے ہیں۔

ہم نے یہ کتاب تم پر اس لیے نازل کی ہے کہ تم اُن اختلافات کی حقیقت اِن پر کھول دو جن میں یہ پڑے ہوئے ہیں۔ یہ کتاب رہنمائی اور رحمت بن کر اُتری ہے اُن لوگوں کے لیے جو اِسے مان لیں۔53

(تم ہر برسات میں دیکھتے ہو کہ )اللہ نے آسمان سے پانی برسایا اور یکایک مُردہ پڑی ہوئی زمین میں اُس کی بدولت جان ڈال دی۔ یقیناً اس میں ایک نشانی ہے سُننے والوں کے لیے۔53 الف ؏ ۸

66-70

اور تمہارے لیے مویشیوں میں بھی ایک سبق موجود ہے ۔ اُن کے پیٹ سے گوبر اور خون کے درمیان ہم ایک چیز تمہیں پِلاتے ہیں، یعنی خالص دُودھ54، جو پینے والوں کے لیے نہایت خوشگوار ہے۔

(اسی طرح)کھجور کے درختوں اور انگُور کی بیلوں سے بھی ہم ایک چیز تمہیں پلاتے ہیں جسے تم نشہ آور بھی بنا لیتے ہو اور پاک رزق بھی۔ 55یقیناً اِس میں ایک نشانی ہے عقل سے کام لینے والوں کے لیے۔

اور دیکھو، تمہارے ربّ نے شہد کی مکھی پر یہ بات وحی کر دی56 کہ پہاڑوں میں، اور درختوں میں، اور ٹٹیوں پر چڑھائی ہوئی بیلوں میں، اپنے چھتّے بنا

اور ہر طرح کا رَس چُوس اور اپنے ربّ کی ہموار کی ہوئی راہوں پر چلتی رہ۔57 اِس مکھی کے اندر سے رنگ برنگ کا ایک شربت نکلتا ہے جس میں شفا ہے لوگوں کے لیے۔58یقیناً اس میں بھی ایک نشانی ہے اُن لوگوں کے لیے جو غور و فکر کرتے ہیں۔59

اور دیکھو، اللہ نے تم کو پیدا کیا، پھر وہ تم کو موت دیتا ہے،60 اور تم میں سے کوئی بدترین عمر کو پہنچا دیا جاتا ہے تاکہ سب کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانے۔61 حق یہ ہے کہ اللہ ہی علم میں بھی کامل ہے اور قدرت میں بھی۔ ؏ ۹

71-76

اور دیکھو، اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت عطا کی ہے، پھر جن لوگوں کو یہ فضیلت دی گئی ہے وہ ایسے نہیں ہیں کہ اپنا رزق اپنے غلاموں کی طرف پھیر دیا کرتے ہوں تاکہ دونوں اِس رزق میں برابر کے حصہ دار بن جائیں۔ تو کیا اللہ ہی کا اِحسان ماننے سے اِن لوگوں کو اِنکار ہے؟62

اور وہ اللہ ہی جس نے تمہارے لیے تمہاری ہم جنس بیویاں بنائیں اور اسی نے ان بیویوں سے تمہیں بیٹے پوتے عطا کیے اور اچھی اچھی چیزیں تمہیں کھانے کو دیں۔ پھر کیا یہ لوگ (یہ سب کچھ دیکھتے اور جانتے ہوئے بھی)باطل کو مانتے ہیں63 اور اللہ کے احسان کا انکار کرتے ہیں64

اور اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پُوجتے ہیں جن کے ہاتھ میں نہ آسمانوں سے انہیں کچھ بھی رزق دینا ہے نہ زمین سے اور نہ یہ کام وہ کر ہی سکتے ہیں؟

پس اللہ کے لیے مثالیں نہ گھڑو،65 اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے۔

اللہ ایک مثال دیتا ہے 66۔ ایک تو ہے غلام، جو دُوسرے کا مملوک ہے اور خود کوئی اختیار نہیں رکھتا۔ دُوسرا شخص ایسا ہے جسے ہم نے اپنی طرف سے اچھا رزق عطا کیا ہے اور وہ اس میں سے کھُلے اور چھُپے خوب خرچ کرتا ہے ۔بتاوٴ، کیا یہ دونوں برابر ہیں؟ ۔۔۔۔ الحمدُللہ 67 مگر اکثر لوگ (اس سیدھی بات کو)نہیں جانتے۔68

اللہ ایک اور مثال دیتا ہے۔ دو آدمی ہیں۔ ایک گونگا بہرا ہے، کوئی کام نہیں کرسکتا، اپنے آقا پر بوجھ بنا ہوا ہے، جدھر بھی وہ اسے بھیجے کوئی بھلا کام اُس سے بن نہ آئے۔ دُوسرا شخص ایسا ہے کہ انصاف کا حکم دیتا ہے اور خود راہِ راست پر قائم ہے۔ بتاوٴ کیا یہ دونوں یکساں ہیں؟69 ؏ ۱۰

77-83

اور زمین و آسمان کے پوشیدہ حقائق کا علم تو اللہ ہی کو ہے۔70 اور قیامت کے برپا ہونے کا معاملہ کچھ دیر نہ لے گا مگر بس اتنی کہ جس میں آدمی کی پلک جھپک جائے، بلکہ اس سے بھی کچھ 71کم۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ سب کچھ کر سکتا ہے۔

اللہ نے تم کو تمہاری ماوٴں کے پیٹوں سے نکالا اس حالت میں کہ تم کچھ نہ جانتے تھے۔ اُس نے تمہیں کان دیے ، آنکھیں دیں، اور سوچنےوالے دل دیے72، اس لیے کہ تم شکر گزار بنو۔73

کیا اِن لوگوں نے کبھی پرندوں کو نہیں دیکھا کہ فضائے آسمانی میں کس طرح مسخَّر ہیں؟ اللہ کے سوا کس نے اِن کو تھام رکھا ہے؟ اِس میں بہت نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔

>اللہ نے تمہارے لیے تمہارے گھروں کو جائے سکُون بنایا۔ اس نے جانوروں کی کھالوں سے تمہارے لیے ایسے مکان پیدا کیے74 جنہیں تم سفر اور قیام، دونوں حالتوں میں ہلکا پاتے ہو۔75 اُس نے جانوروں کے صوف اور اُون اور بالوں سے تمہارے لیے پہننے اور برتنے کی بہت سی چیزیں پیدا کر دیں جو زندگی کی مدّتِ مقررہ تک تمہارے کام آتی ہیں۔

اُس نے اپنی پیدا کی ہوئی بہت سی چیزوں سے تمہارے لیے سائے کا انتظام کیا، پہاڑوں پر تمہارے لیے پناہ گاہیں بنائیں، اور تمہیں ایسی پوشاکیں بخشیں جو تمہیں گرمی سے بچاتی ہیں76 اور کچھ دُوسری پوشاکیں جو آپس کی جنگ میں تمہاری حفاظت کرتی ہیں۔77 اس طرح وہ تم پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کرتا ہے78 شاید کہ تم فرمانبردار بنو۔

اب اگر یہ لوگ مُنہ موڑتے ہیں تو اے محمد ؐ ، تم پر صاف صاف پیغامِ حق پہنچا دینے کے سوا اور کوئی ذمّہ داری نہیں ہے۔

یہ اللہ کے احسان کے پہچانتے ہیں ، پھر اس کا انکار کرتے ہیں۔79 اور اِن میں بیش تر لوگ ایسے ہیں جو حق ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ ؏ ١١

84-89

(اِنہیں کچھ ہوش بھی ہے کہ اُس روز کی بنے گی)جب کہ ہم ہر اُمّت میں سے ایک گواہ80 کھڑا کریں گے، پھر کافروں کو نہ حُجتیں پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا81نہ ان سے توبہ و استغفار ہی کا مطالبہ کیا جائے گا۔82

ظالم لوگ جب ایک دفعہ عذاب دیکھ لیں گے تو اس کے بعد نہ اُن کے عذاب میں کوئی تخفیف کی جائے گی اور نہ انہیں ایک لمحہ بھر کی مہلت دی جائے گی۔

اور جب وہ لوگ جنہوں نے دنیا میں شرک کیا تھا اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے ” اے پروردگار، یہی ہیں ہمارے وہ شریک جنہیں ہم تجھے چھوڑ کر پُکارا کرتے تھے۔“ اس پر اُن کے وہ معبود انہیں صاف جواب دیں گے کہ ”تم جھُوٹے ہو۔“83

اُس وقت یہ سب اللہ کے آگے جُھک جائیں گے اور ان کو وہ ساری افترا پردازیاں رفو چکّر ہو جائیں گی جو یہ دنیا میں کرتے رہے تھے۔84

جن لوگوں نے خود کُفر کی راہ اختیار کی اور دُوسروں کو اللہ کی راہ سے روکا انہیں ہم عذاب پر عذاب دیں گے85 اُس فساد کے بدلے میں جو وہ دُنیا میں برپا کرتے رہے۔

(اے محمدؐ، اِنہیں اُس دن سے خبردار کر دو)جب کہ ہم ہر اُمّت میں خود اُسی کے اندر سے ایک گواہ اُٹھا کھڑا کریں گے جو اُس کے مقابلہ میں شہادت دے گا، اور اِن لوگوں کے مقابلے میں شہادت دینے کے لیے ہم تمہیں لائیں گے۔ اور (یہ اسی شہادت کی تیاری ہے کہ)ہم نے یہ کتاب تم پر نازل کر دی ہے جو ہر چیز کی صاف صاف وضاحت کرنے والی ہے86 اور ہدایت و رحمت اور بشارت ہے اُن لوگوں کے لیے جنہوں نے سرِ تسلیم خَم کر دیا ہے۔87 ؏ ١۲

90-100

اللہ عدل اور احسان اور صلہء رحمی کا حکم دیتا ہے88 اور بدی اور بے حیائی اور ظلم و زیادتی سے منع کرتا ہے ۔89 وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تاکہ تم سبق لو۔

اللہ کے عہد کو پُورا کرو جب کہ تم نے اُس سے کوئی عہد باندھا ہو، اور اپنی قسمیں پُختہ کرنے کے بعد توڑ نہ ڈالو جب کہ تم اللہ اپنے اُوپر گواہ بنا چکے ہو۔ اللہ تمہارے سب افعال سے با خبر ہے۔

تمہاری حالت اُس عورت کی سی نہ ہو جائے جس نے آپ ہی محنت سے سُوت کاتا اور پھر آپ ہی اُسے ٹکڑے ٹکڑے کر ڈالا۔90 تم اپنی قسموں کو آپس کے معاملات میں مکر و فریب کا ہتھیار بناتے ہو تاکہ ایک قوم دُوسری قوم سے بڑھ کر فائدے حاصل کرے حالانکہ اللہ اس عہد و پیمان کے ذریعے سے تم کو آزمائش میں ڈالتا ہے91، اور ضرور وہ قیامت کے روز تمہارے تمام اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا۔92

اگر اللہ کی مشیّت یہ ہوتی (کہ تم میں کوئی اختلاف نہ ہو)تو وہ تم سب کو ایک ہی اُمّت بنا دیتا،93 مگر وہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں ڈالتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہِ راست دکھا دیتا ہے،94 اور ضرور تم سے تمہارے اعمال کی باز پُرس ہو کر رہے گی۔

(اور اے مسلمانو)تم اپنی قسموں کو آپس میں ایک دوسرے کو دھوکہ دینے کا ذریعہ نہ بنا لینا، کہیں ایسا نہ ہو کے کوئی قدم جمنے کے بعد اُکھڑ جائے95 اور تم اِس جُرم کی پاداش میں کہ تم نے لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکا، بُرا نتیجہ دیکھو اور سخت سزا بُھگتو۔

اللہ کے عہد96 کو تھوڑے سے فائدے کے بدلے نہ بیچ ڈالو،97 جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ تمہارے لیے زیادہ بہتر ہے اگر تم جانو

جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ خرچ ہو جانے والا ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہی باقی رہنے والا ہے، اور ہم ضرور صبر سے کام لینے والوں98 کو اُن کے اجر اُن کے بہترین اعمال کے مطابق دیں گے۔

جو شخص بھی نیک عمل کرے گا خواہ وہ مرد ہو یا عورت، بشرطیکہ ہو وہ مومن، اُسے ہم دُنیا میں پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے99 اور (آخرت میں )ایسے لوگوں کو اُں کے اجر اُن کے بہترین اعمال کے مطابق بخشیں گے۔ 100

پھر جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان رجیم سے خدا کی پناہ مانگ لیا کرو۔101

اُسے اُن لوگوں پر تسلّط حاصل نہیں ہوتا جو ایمان لاتے اور اپنے ربّ پر بھروسہ کرتے ہیں۔

اُس کا زور تو اُنہی لوگوں پر چلتا ہے جو اُس کو اپنا سرپرست بناتے اور اُس کے بہکانے سے شرک کرتے ہیں۔ ؏ ١۳

101-110

جب ہم ایک آیت کی جگہ دُوسری آیت نازل کرتے ہیں۔۔۔۔ اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا نازل کرے ۔۔۔۔ تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ تم یہ قرآن خود گھڑتے ہو۔102 اصل بات یہ ہے کہ اِن میں سے اکثر لوگ حقیقت سے ناواقف ہیں۔

اِن سے کہو کہ اسے تو روُح القُدس نے ٹھیک ٹھیک میرے ربّ کی طرف سے بتدریج نازل کیا103 ہے تاکہ ایمان لانے والوں کے ایمان کو پختہ کرے104 اور فرماں برداروں کو زندگی کے معاملات میں سیدھی راہ بتائےاور105 انہیں فلاح و سعادت کی خوشخبری دے۔106

ہمیں معلوم ہے یہ لوگ تمہارے متعلق کہتے ہیں کہ اِس شخص کو ایک آدمی سِکھاتا پڑھاتا ہے۔107 حالانکہ اُن کا اشارہ جس آدمی کی طرف ہے اُس کی زبان عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے۔

حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی آیات کو نہیں مانتے اللہ کبھی اُن کو صحیح بات تک پہنچنے کی توفیق نہیں دیتا اور ایسے لوگوں کے لیے دردناک عذاب ہے۔

(جھوٹی باتیں نبی نہیں گھڑتا بلکہ)جھُوٹ وہ لوگ گھڑ رہے ہیں جو اللہ کی آیات کو نہیں مانتے،108 وہی حقیقت میں جھوٹے ہیں۔

جو شخص ایمان لانے کے بعد کُفر کرے (وہ اگر)مجبور کیا گیا ہو اور دل اُس کا ایمان پر مطمئن ہو (تب تو خیر)مگر جس نے دل کی رضا مندی سے کُفر کو قبول کر لیا اس پر اللہ کا غضب ہے اور ایسے سب لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے۔109

یہ اس لیے کہ اُنہوں نے آخرت کے مقابلہ میں دُنیا کی زندگی کو پسند کر لیا، اور اللہ کا قاعدہ ہے کہ وہ اُن لوگوں کو راہِ نجات نہیں دِکھاتا جو اُس کی نعمت کا کُفران کریں۔

یہ وہ لوگ ہیں جن کے دِلوں اور کانوں اور آنکھوں پر اللہ نے مُہر لگا دی ہے۔ یہ غفلت میں ڈُوب چکے ہیں۔

ضرور ہے کہ آخرت میں یہی خسارے میں رہیں۔110

بخلاف اس کے جِن لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب(ایمان لانے کی وجہ سے)وہ ستائے گئے تو اُنہوں نے گھر بار چھوڑ دیے، ہجرت کی، راہِ خدا میں سختیاں جھیلیں اور صبر سے کام لیا،111 اُن کےلیے یقیناً تیرا ربّ غفور و رحیم ہے۔ ؏ ١۴

111-119

(اِن سب کا فیصلہ اُس دن ہوگا)جب کہ ہر متنفّس اپنے ہی بچاوٴ کی فکر میں لگا ہوا ہوگا اور ہر ایک کو اُس کے کیے کا بدلہ پُورا پُورا دیا جائے گااور کسی پر ذرّہ برابر ظلم نہ ہونے پائے گا۔

اللہ ایک بستی کی مثال دیتا ہے۔ وہ امن و اطمینان کی زندگی بسر کر رہی تھی اور ہر طرف سے اُس کو بفراغت رزق پینچ رہا تھا کہ اُس نے اللہ کی نعمتوں کا کُفران شروع کر دیا۔ تب اللہ نے اُس کے باشندوں کو اُن کے کرتُوتوں کا یہ مزہ چکھایا کہ بھُوک اور خوف کی مصیبتیں اُن پر چھا گئیں۔

اُن کے پاس اُن کی اپنی قوم میں سے ایک رسُول آیا ۔ مگر اُنہوں نے اس کو جھُٹلادیا۔ آخرِ کار عذاب نے اُن کو آلیا جبکہ وہ ظالم ہو چکے تھے۔112

پس اے لوگو، اللہ نے جو کچھ حلال اور پاک رزق تم کو بخشا ہے اُسے کھاوٴ اور اللہ کے احسان کا شکر ادا کرو113 اگر تم واقعی اُسی کی بندگی کرنے والے ہو۔114

اللہ نے جو کچھ تم پر حرام کیا ہے وہ ہے مُردار اور خُون اور سُوٴر کا گوشت اور وہ جانور جس پر اللہ کے سوا کسی اور کا نام لیا گیا ہو۔ البتہ بھُوک سے مجبور ہو کر اگر کوئی اِن چیزوں کو کھالے، بغیر اس کے کہ وہ قانونِ الٰہی کی خلاف ورزی کا خواہش مند ہو، یا حدِّ ضرورت سے تجاوز کا مرتکب ہو ، تو یقیناً اللہ معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے۔115

اور یہ جو تمہاری زبانیں جھُوٹے احکام لگایا کرتی ہیں کہ یہ چیز حلال ہے اور وہ حرام، تو اس طرح کے حکم لگا کر اللہ پر جھُوٹ نہ باندھا کرو۔116 جو لوگ اللہ پر جھُوٹے افترا باندھتے ہیں وہ ہر گز فلاح نہیں پایا کرتے۔

دنیا کا عیش چند روزہ ہے۔ آخرِ کار اُن کے لیے دردناک سزا ہے۔

117وہ چیزیں ہم نے خاص طور پر یہودیوں کے لیے حرام کی تھیں جن کا ذکر ہم اس سے پہلے تم سے کرچکے ہیں۔118اور یہ اُن پر ہمارا ظلم نہ تھا بلکہ اُن کا اپنا ہی ظلم تھا جو وہ اپنے اُوپر کررہے تھے۔

البتہ جن لوگوں نے جہالت کی بنا پر بُرا عمل کیا اور پھر توبہ کرکے اپنے عمل کی اصلاح کر لی تو یقیناً توبہ و اصلاح کے بعد تیرا ربّ اُن کے لیے غفور اور رحیم ہے۔ ؏ ١۵

120-128

واقعہ یہ ہے کہ ابراہیمؑ اپنی ذات سے ایک پوری اُمّت تھا،119 اللہ کا مطیعِ فرمان اور یکسُو۔ وہ کبھی مشرک نہ تھا۔

اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والا تھا۔ اللہ نے اُس کو منتخب کر لیا اور سیدھا راستہ دکھایا۔

دنیا میں اس کو بھلائی دی اور آخرت میں وہ یقیناً صالحین میں سے ہوگا۔

پھر ہم نے تمہاری طرف یہ وحی بھیجی کہ یکسُو ہو کر ابراہیمؑ کے طریقے پر چلو اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا۔120

رہا سَبت، تو وہ ہم نے اُن لوگوں پر مسلّط کیا تھا جنہوں نے اس کے احکام میں اختلاف کیا،121 اور یقیناً تیرا ربّ قیامت کے روز ان سب باتوں کا فیصلہ کر دے گا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔

اے نبیؐ، اپنے ربّ کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ،122 اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقہ پر جو بہترین ہو۔123 تمہارا ربّ ہی زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کون اُس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور کون راہِ راست پر ہے۔

اور اگر تم لوگ بدلہ لو تو بس اسی قدر لے لو جس قدر تم پر زیادتی کی گئی ہو۔ لیکن اگر تم صبر کرو تو یقیناً یہ صبر کرنے والوں ہی کے حق میں بہتر ہے۔

اے محمدؐ، صبر سے کام کیے جاوٴ۔ ۔۔۔ اور تمہارا یہ صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے ۔۔۔۔ اِن لوگوں کی حرکات پر رنج نہ کرو اور نہ ان کی چال بازیوں پر دل تنگ ہو۔

اللہ اُن لوگوں کے ساتھ ہے جو تقوٰی سے کام لیتے ہیں اور احسان پر عمل کرتے ہیں۔124 ؏ ١٦