ا۔ل۔ر، اے محمد ؐ ، یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے تاکہ تم لوگوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لاوٴ، ان کے ربّ کی توفیق سے، اُس خدا کے راستے پر 1 جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمُود2 ہے
اور زمین اور آسمانوں کی ساری موجودات کا مالک ہے۔ اور سخت تباہ کُن سزا ہے قبولِ حق سے انکار کرنے والوں کے لیے
جو دُنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں،3 جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روک رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ راستہ (ان کی خواہشات کے مطابق)ٹیڑھا ہو جائے۔4 یہ لوگ گمراہی میں بہت دُور نکل گئے ہیں۔
ہم نے اپنا پیغام دینے کے لیے جب کبھی کوئی رسوُل بھیجا ہے، اُس نے اپنی قوم ہی کی زبان میں پیغام دیا ہے تاکہ وہ اُنہیں اچھی طرح کھول کر بات سمجھائے۔5 پھر اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے،6 وہ بالادست اور حکیم ہے۔ 7
ہم اِس سے پہلے موسیٰؑ کو بھی اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیج چکے ہیں۔ اُسے بھی ہم نے حکم دیا تھا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لا اور انہیں تاریخِ الٰہی8 کے سبق آموز واقعات سُنا کر نصیحت کر۔ اِن واقعات میں بڑی نشانیاں ہیں9 ہر اُس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو۔10
یاد کرو جب موسیٰؑ نے اپنی قوم سے کہا ”اللہ کے اُس احسان کو یاد رکھو جو اُس نے تم پر کیا ہے۔ اُس نے تم کو فرعون والوں سے چھُڑایا جو تم کو سخت تکلیفیں دیتے تھے، تمہارے لڑکوں کو قتل کر ڈالتے تھے اور تمہاری عورتوں کو زندہ بچا رکھتے تھے۔ اس میں تمہارے ربّ کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی۔ ؏ ١
7-12اور یاد رکھو، تمہارے ربّ نے خبردار کر دیا تھا کہ اگر شکر گزار بنو گے 11تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا اور اگر کُفرانِ نعمت کرو گے تو میری سزا بہت سخت ہے۔“12
اور موسیٰؑ ”اگر تم کُفر کرو اور زمین کے سارے رہنے والے بھی کافر ہو جائیں تو اللہ بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔“13
کیا تمہیں14 اُن قوموں کے حالات نہیں پہنچے جو تم سے پہلے گزر چکی ہیں؟ قومِ نوح ؑ ، عاد، ثمود اور ان کے بعد آنے والی بہت سی قومیں جن کا شمار اللہ ہی کو معلوم ہے؟ اُن کے رسول جب اُن کے پاس صاف صاف باتیں اور کھُلی کھُلی نشانیاں لیے ہوئے آئے تو انہوں نے اپنے منہ میں ہاتھ دبا لیے15 اور کہا کہ ”جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اُس کو نہیں مانتے اور جس چیز کی تم ہمیں دعوت دیتے ہو اُس کی طرف سے ہم سخت خلجان آمیز شک میں پڑے ہوئے ہیں۔“16
اُن کے رسوُلوں نے کہا ”کیا خُدا کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے؟17 وہ تمہیں بُلا رہا ہے تاکہ تمہارے قصور معاف کرے اور تم کو ایک مدُتِ مقرر تک مہلت دے۔ “18 انہوں نے جواب دیا ”تم کچھ نہیں ہو مگر ویسے ہی انسان جیسے ہم ہیں۔19 تم ہمیں اُن ہستیوں کی بندگی سے روکنا چاہتے ہو جن کی بندگی باپ دادا سے ہوتی چلی آرہی ہے۔ اچھا تو لاوٴ کوئی صریح سَنَد۔“20
ان کے رسولوں نے ان سے کہا”واقعی ہم کچھ نہیں ہیں مگر تم ہی جیسے انسان لیکن اللہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے نوازتا ہے۔21 اور یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے کہ تمہیں کوئی سَنَد لا دیں۔ سَنَد تو اللہ ہی کے اِذن سے آسکتی ہے اور اللہ ہی پر اہلِ ایمان کو بھروسہ کرنا چاہیے۔
اور ہم کیوں نہ اللہ پر بھروسہ کریں جب کہ ہماری زندگی کی راہوں میں اُس نے ہماری رہنمائی کی ہے؟ جو اذیّتیں تم لوگو ہمیں دے رہے ہو اُن پر ہم صبر کریں گے اور بھروسہ کرنے والوں کا بھروسہ اللہ ہی پر ہونا چاہیے۔“ ؏ ۲
13-21آخرِ کار منکرین نے اپنے رسُولوں سے کہہ دیا کہ ”یا تو تمہیں ہماری ملّت میں واپس آنا ہوگا22 ورنہ ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں گے۔“ تب اُن کے ربّ نے اُن پر وحی بھیجی کہ ”ہم اِن ظالموں کو ہلاک کر دیں گے
اور ان کے بعد تمہیں زمین میں آباد کریں گے۔23 یہ انعام ہے اس کا جو میرے حضُور جواب دہی کا خوف رکھتا ہو اور میری وعید سے ڈرتا ہو۔“
اُنہوں نے فیصلہ چاہا تھا (تو یُوں اُن کا فیصلہ ہوا)اور ہر جبّار دشمنِ حق نے منہ کی کھائی۔24
پھر اُس کے بعد آگے اُس کے لیے جہنّم ہے۔ وہاں اُسے کچ لہو کا سا پانی پینے کو دیا جائے گا
جسے وہ زبردستی حلق سے اُتارنے کی کوشش کرے گا اور مشکل ہی سے اُتار سکے گا ۔ موت ہر طرف سے اُس پر چھائی رہے گے مگر وہ مرنے نہ پائے گا اور آگے ایک سخت عذاب اُس کی جان کو لاگُو رہے گا۔
جن لوگوں نے اپنے ربّ سے کُفر کیا ہے اُن کے اعمال کی مثال اُس راکھ کی سی ہے جسے ایک طوفانی دن کی آندھی نے اُڑا دیا ہو ۔ وہ اپنے کیے کا کچھ بھی پھل نہ پا سکیں گے۔25 یہی پرلے درجے کی گُم گشتگی ہے۔
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے آسمان و زمین کی تخلیق کو حق پر قائم کیا ہے؟26 وہ چاہے تو تم لوگوں کو لے جائے اور ایک نئی خلقت تمہاری جگہ لے آئے۔
ایسا کرنا اُس پر کچھ بھی دُشوار نہیں ہے۔27
اور یہ لوگ جب اکٹھے اللہ کے سامنے بے نقاب ہوں گے28 تو اُس وقت ان میں جو دُنیا میں کمزور تھے وہ اُن لوگوں سے جو بڑے بنے ہوئے تھے ، کہیں گے ”د ُنیا میں ہم تمہارے تابع تھے، اب کیا تم اللہ کے عذاب سے ہم کو بچانے کے لیے بھی کچھ کر سکتے ہو؟“ وہ جواب دیں گے ”اگر اللہ نے ہمیں نجات کی کوئی راہ دکھائی ہوتی تو ہم ضرور تمہیں بھی دکھا دیتے۔ اب تو یکساں ہے خواہ ہم جزَع فزَع کریں یا صبر، بہرحال ہمارے بچنے کی کوئی صورت نہیں ۔“29 ؏ ۳
22-27اور جب فیصلہ چُکا دیا جائے گا تو شیطان کہے گا ”حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کیے تھے وہ سب سچے تھے اور میں نے جتنے وعدے کیے اُن میں سے کوئی بھی پُورا نہ کیا ،30 میرا تم پر کوئی زور تو تھا نہیں، میں نے اس کے سوا کچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تمہیں دعوت دی اور تم نے میری دعوت پر لبّیک کہا۔ 31اب مجھے ملامت نہ کرو، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو۔ یہاں نہ میں تمہاری فریاد رسی کر سکتا ہوں اور نہ تم میری۔ اس سے پہلے جو تم نے مجھے خدائی میں شریک بنا رکھا تھا32 میں اُس سے بری الذّمہ ہوں، ایسے ظالموں کے لیے تو دردناک سزا یقینی ہے۔“
بخلاف اس کے جو لوگ دُنیا میں ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کیے ہیں وہ ایسے باغوں میں داخل کیے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ وہاں وہ اپنے ربّ کے اِذن سے ہمیشہ رہیں گے، اور وہاں اُن کا استقبال سلامتی کی مبارکباد سے ہوگا۔33
کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کلمہٴ طیّبہ34 کو کس چیز سے مثال دی ہے؟ اِس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اچھی ذات کا درخت جس کی جڑ زمین میں گہری جمّی ہوئی ہے اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں35،
ہر آن وہ اپنے ربّ کے حکم سے اپنے پھل دے رہا ہے۔36 یہ مثالیں اللہ اِس لیے دیتا ہے کہ لوگ اِن سے سبق لیں۔
اور کلمہ خبیثہ37 کی مثال ایک بد ذات درخت کی سی ہے جو زمین کی سطح سے اُکھاڑ پھینکا جاتا ہے، اُس کے لیے کوئی استحکام نہیں ہے۔38
ایمان لانے والوں کو اللہ ایک قولِ ثابت کی بنیاد پر دُنیا اور آخرت دونوں میں ثبات عطا کرتا ہے،39 اور ظالموں کو اللہ بھٹکا دیتا ہے۔40 اللہ کو اختیار ہے جو چاہے کرے۔ ؏ ۴
28-34تم نے دیکھا اُن لوگوں کو جنہوں نے اللہ کی نعمت پائی اور اُسے کُفرانِ نعمت سے بدل ڈالا اور (اپنے ساتھ )اپنی قوم کو بھی ہلاکت کے گھر میں جھونک دیا۔۔۔۔
یعنی جہنّم ، جس میں وہ جھُلسے جائیں گے اور وہ بدترین جائے قرار ہے ۔۔۔۔
اور اللہ کے کچھ ہمسر تجویز کر لیے تاکہ وہ اُنہیں اللہ کے راستے سے بھٹکا دیں۔ اِن سے کہو ، اچھا مزے کر لو، آخر کار تمہیں پلٹ کر جانا دوزخ ہی میں ہے۔
اے نبی ؐ ، میرے جو بندے ایمان لائے ہیں اُن سے کہہ دو کہ نماز قائم کریں اور جو کچھ ہم نے انہیں دیا ہے اُس میں سے کھُلے اور چھُپے(راہِ خیر میں)خرچ کریں41 قبل اِس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خرید و فروخت ہو گی اور نہ دوست نوازی ہو سکے گی۔42
اللہ وہی تو ہے43 جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی برسایا، پھر اُس کے ذریعہ سے تمہاری رزق رسانی کے لیے طرح طرح کے پھل پیدا کیے۔ جس نے کشتی کو تمہارے لیے مسخّر کیا کہ سمندر میں اُس کے حکم سے چلے اور دریاوٴں کو تمہارے لیے مسخّر کیا،
جس نے سُورج اور چاند کو تمہارے لیے مسخّر کیا کہ لگاتار چلے جا رہے ہیں اور رات اور دن کو تمہارے لیے مسخّر کیا۔ 44
جس نے وہ سب کچھ تمہیں دیا جو تم نے مانگا۔45 اگر تم اللہ کی نعمتوں کا شمار کرنا چاہو تو کر نہیں سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی بے انصاف اور ناشکرا ہے۔ ؏ ۵
35-41یاد کرو وہ وقت جب ابراہیم ؑ نے دُعا کی تھی 46کہ ”پروردگار، اِس شہر47 کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بُت پرستی سے بچا۔
پروردگار ، اِن بُتوں نے بہتوں کو گُمراہی میں ڈالا ہے48( ممکن ہے کہ میری اولاد کو بھی یہ گُمراہ کر دیں، لہٰذا اُن میں سے )جو میرے طریقے پر چلے وہ میرا ہے اور جو میرے خلاف طریقہ اختیار کرے تو یقیناً تُو درگزر کرنے والا مہربان ہے۔49
پروردگار، میں نے ایک بے آب و گیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصے کو تیرے محترم گھر کے پاس لا بسایا ہے۔ پروردگار، یہ میں نے اِس لیے کیا ہے کہ لوگ یہاں نماز قائم کریں، لہٰذا تُو لوگوں کے دِلوں کو اِن کا مشتاق بنااور انہیں کھانے کو پھل دے 50، شاید کہ یہ شکر گزار بنیں۔
پروردگار، تُو جانتا ہے جو کچھ ہم چھُپاتے ہیں اور جو کچھ ہم ظاہر کرتے ہیں“51۔۔۔۔ اور52 واقعی اللہ سے کچھ بھی چھُپا ہوا نہیں ہے، نہ زمین میں نہ آسمانوں میں ۔۔۔۔
”شکر ہے اُس خدا کا جس نے مجھے اِس بڑھاپے میں اسماعیل اور اسحاق جیسے بیٹے دیے، حقیقت یہ کہ میرا ربّ ضرور دُعا سُنتا ہے۔
اے میرے پروردگار، مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد سے بھی (ایسے لوگ اُٹھا جو یہ کام کریں)۔ پروردگار، میری دُعا قبول کر۔
پروردگار ، مجھے اور میرے والدین کو اور سب ایمان لانے والوں کو اُس دن معاف کر دیجیو جب کہ حساب قائم ہوگا۔“53؏ ۶
42-52اب یہ ظالم لوگ جو کچھ کر رہے ہیں ، اللہ کو تم اُس سے غافل نہ سمجھو۔ اللہ تو انہیں ٹال رہا ہے اُس دن کے لیے جب حال یہ ہوگا کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ہیں،
سر اُٹھائے بھاگے چلے جارہے ہیں، نظریں اُوپر جمی ہیں54 اور دل اُڑے جاتے ہیں۔
اے محمد ؐ ، اُس دن سے تم انہیں ڈراوٴ جب کہ عذاب انہیں آلے گے۔ اُس وقت یہ ظالم کہیں گے کہ ”اے ہمارے ربّ، ہمیں تھوڑی سے مہلت اَور دیدے، ہم تیری دعوت کو لبّیک کہیں گے اور رسُولوں کی پیروی کریں گے۔“ (مگر اُنہیں صاف جواب دے دیا جائے گا)کہ کیا تم وہی لوگ نہیں ہو جو اِس سے پہلے قسمیں کھا کھا کر کہتے تھے کہ ہم پر تو کبھی زوال آنا ہی نہیں ہے؟
حالانکہ تم اُن قوموں کی بستیوں میں رہ بس چکے تھے جنہوں نے اپنے اُوپر آپ ظلم کیا تھا اور دیکھ چکے تھے کہ ہم نے اُن سے کیا سلوک کیا اور اُن کی مثالیں دے دے کر ہم تمہیں سمجھا بھی چکے تھے۔
اُنہوں نے اپنی ساری ہی چالیں چل دیکھیں، مگر اُن کی ہر چال کا توڑ اللہ کے پاس تھا اگرچہ اُن کی چالیں ایسی غضب کی تھیں کہ پہاڑ اُن سے ٹل جائیں۔55
پس اے نبی ؐ ، تم ہرگز یہ گمان نہ کرو کہ اللہ کبھی اپنے رسُولوں سے کیے ہوئے وعدے کے خلاف کرے گا۔56 اللہ زبردست ہے اور انتقام لینے والا ہے۔
ڈراوٴ انہیں اُس دن سے جب کہ زمین اور آسمان بدل کر کچھ سے کچھ کر دیے جائیں گے57 اور سب کے سب اللہ واحد قہّار کے سامنے بے نقاب حاضر ہو جائیں گے۔
اُس روز تم مجرموں کو دیکھو گے کہ زنجیروں میں ہاتھ پاوٴں جکڑے ہوں گے
تارکول58 کے لباس پہنے ہوئے ہوں گے اور آگ کے شعلے اُن کے چہروں پر چھائے جا رہے ہوں گے۔
یہ اِس لیے ہوگا کہ اللہ ہر متنفّس کو اُس کے کیے کا بدلہ دے گا۔ اللہ کو حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی۔
یہ ایک پیغام ہے سب انسانوں کے لیے، اور یہ بھیجا گیا ہے اِس لیے کہ ان کو اس کے ذریعہ سے خبردار کیا جائے اور وہ جان لیں کہ حقیقت میں خدا بس ایک ہی ہے اور جو عقل رکھتے ہیں وہ ہوش میں آجائیں۔ ؏ ۷