1-6 شروع اللہ کے نام سے جو بڑا مہربان اور نہایت رحم والا ہے

ا، ل، ر۔ یہ اُس کتاب کی آیات ہیں جو اپنا مدّعا صاف صاف بیان کرتی ہے۔

ہم نے اسے نازل کیا ہے قرآن1 بنا کر عربی زبان میں تاکہ تم (اہلِ عرب)اس کو اچھی طرح سمجھ سکو۔2

اے محمد ؐ ، ہم اس قرآن کو تمہاری طرف وحی کر کے بہترین پیرایہ میں واقعات اور حقائق تم سے بیان کر تے ہیں، ورنہ اس سے پہلے تو (ان چیزوں سے)تم بالکل ہی بے خبر تھے۔3

یہ اُس وقت کا ذکر ہے جب یوسف ؑ نے اپنے باپ سے کہا ”ابا جان، میں نے خواب دیکھا ہے کہ گیارہ ستارے ہیں اور سُورج اور چاند ہیں اور وہ مجھے سجدہ کر رہے ہیں۔“

جواب میں اس کے باپ نے کہا، ” بیٹا، اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ سُنانا ورنہ وہ تیرے درپے آزار ہو جائیں گے،4 حقیقت یہ ہے کہ شیطان آدمی کا کُھلا دشمن ہے،

اور ایسا ہی ہو گا(جیسا تُو نے خواب میں دیکھا ہے کہ)تیرا ربّ تجھے ( اپنے کام کے لیے)منتخب کرے گا5 اور تجھے باتوں کی تہ تک پہنچنا سکھائے گا6 اور تیرے اوپر اور آلِ یعقوب ؑ پر اپنی نعمت اسی طرح پوری کرے گا جس طرح اس سے پہلے وہ تیرے بزرگوں ، ابراہیم ؑ اور اسحاق ؑ پر کر چکا ہے، یقیناً تیرا ربّ علیم اور حکیم ہے۔“7 ؏ ١

7-20

حقیقت یہ ہے کہ یُوسُف ؑ اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں اِن پوچھنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔

یہ قصہ یوں شروع ہوتا ہے کہ اس کے بھائیوں نے آپس میں کہا ”یہ یوسف ؑ اور اس کا بھائی،8 دونوں ہمارے والد کو ہم سب سے زیادہ محبوب ہیں حالانکہ ہم ایک پورا جتھا ہیں، سچی بات یہ ہے کہ ہمارے ابا جان بالکل ہی بہک گئے ہیں۔9

چلو یُوسف ؑ کو قتل کر دو یا اسے کہیں پھینک دو تاکہ تمہارے والد کی توجہ صرف تمہاری ہی طرف ہو جائے۔ یہ کام کر لینے کے بعد پھر نیک بن رہنا۔“10

اس پر ان میں سے ایک بولا ”یُوسف ؑ کو قتل نہ کرو، اگر کچھ کرنا ہی ہے تو اُسے کسی اندھے کنویں میں ڈال دو، کوئی آتا جاتا قافلہ اسے نکال لے جائے گا۔“

اس قرارداد پر انہوں نے جا کر اپنے باپ سے کہا ”ابا جان، کیا بات ہے کہ آپ یُوسف کے معاملہ میں ہم پر بھروسہ نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے سچے خیر خواہ ہیں؟

کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجیے، کچھ چَر چُگ لے گااور کھیل کُود سے بھی دِل بہلائے گا۔ ہم اس کی حفاظت کو موجود ہیں۔“11

باپ نے کہا ”تمہارا اسے لے جانا مجھے شاق گزرتا ہے اور مجھ کو اندیشہ ہے کہ کہیں اسے بھیڑیا نہ پھاڑ کھائے جب کہ تم اس سے غافل ہو۔“

انہوں نے جواب دیا” اگر ہمارے ہوتے اسے بھیڑیے نے کھا لیا، جب کہ ہم ایک جتھا ہیں،تب تو ہم بڑے ہی نکمّے ہوں گے۔“

اِس طرح اسرار کر کے جب وہ اُسے لے گئے اور انہوں نے طے کر لیا کہ اسے ایک اندھے کنوئیں میں چھوڑ دیں، تو ہم نے یُوسف کو وحی کی کہ ”ایک وقت آئے گا جب تُو ان لوگوں کو ان کی یہ حرکت جتائے گا، یہ اپنے فعل کے نتائج سے بے خبر ہیں۔“12

شام کو وہ روتے پیٹتے اپنے باپ کے پاس آئے

اور کہا ”ابّا جان، ہم دوڑ کا مقابلہ کرنے میں لگ گئے تھے اور یُوسف کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا کہ اتنے میں بھیڑیا آکر اُسے کھا گیا۔ آپ ہماری بات کا یقین نہ کریں گے چاہے ہم سچے ہی ہوں۔“

اور وہ یُوسف کی قمیص پر جھُوٹ مُوٹ کا خون لگا کر لے آئے تھے۔ یہ سُن کر اُن کے باپ نے کہا ”بلکہ تمہارے نفس نے تمہارے لیے ایک بڑے کام کو آسان بنا دیا۔ اچھا، صبر کروں گااور بخوبی کروں گا،13 جو بات تم بنا رہے ہو اس پر اللہ ہی سے مدد مانگی جا سکتی ہے۔“14

اُدھر ایک قافلہ آیا اور اُس نے اپنے سقّے کو پانی لانے کے لیے بھیجا۔ سقّے نے جو کنویں میں ڈول ڈالا تو (یُوسُف کو دیکھ کر )پکار اُٹھا ”مبارک ہو، یہاں تو ایک لڑکا ہے۔“ ان لوگوں نے اُس کو مالِ تجارت سمجھ کر چھُپا لیا، حالانکہ جو کچھ وہ کر رہے تھے خدا اُس سے با خبر تھا۔

آخرِ کار انہوں نے اس کو تھوڑی سی قیمت پر چند درہموں کے عوض بیچ ڈالا15 اور وہ اس کی قیمت کے معاملہ میں کچھ زیادہ کے اُمیدوار نہ تھے۔ ؏ ۲

21-29

مصر میں جس شخص نے اسے خریدا16 اُس نے اپنی بیوی17 سے کہا ”اِس کو اچھی طرح رکھنا، بعید نہیں کہ یہ ہمارے لیے مفید ثابت ہو یا ہم اسے بیٹا بنا لیں۔ “18 اس طرح ہم نے یُوسف کے لیے اُس سرزمین میں قدم جمانے کی صُورت نکالی اور اُسے معاملہ فہمی کی تعلیم دینے کا انتظام کیا۔ 19اللہ اپنا کام کر کے رہتا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔

اور جب وہ اپنی پُوری جوانی کو پہنچا تو ہم نے اُسے قوتِ فیصلہ اور علم عطا کیا،20 اِس طرح ہم نیک لوگوں کو جزا دیتے ہیں۔<

جس عورت کے گھر میں وہ تھا وہ اُس پر ڈورے ڈالنے لگی اور ایک روز دروازے بند کر کے بولی ”آجا۔“ یُوسف نے کہا ”خدا کی پناہ، میرے ربّ نے تو مجھے اچھی منزلت بخشی(اور میں یہ کام کروں!)ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پایا کرتے۔“21

وہ اُس کی طرف بڑھی اور یُوسف بھی اُس کی طرف بڑھتا اگر اپنے ربّ کی بُرہان نہ دیکھ لیتا۔22 ایسا ہُوا، تاکہ ہم اُس سے بدی اور بے حیائی کو دُور کر دیں،23 در حقیقت وہ ہمارے چُنے ہوئے بندوں میں سے تھا۔

آخرِ کار یُوسُف اور وہ آگے پیچھے دروازے کی طرف بھاگے اور اُس نے پیچھے سے یُوسُف کا قمیص (کھینچ کر )پھاڑ دیا۔ دروازے پر دونوں نے اُس کے شوہر کو موجود پایا۔ اسے دیکھتے ہی عورت کہنے لگی ”کیا سزا اُس شخص کی جو تیری گھر والی پر نیّت خراب کرے؟ اس کے سوا اور کیا سزا ہو سکتی ہے کہ وہ قید کیا جائے یا اسے سخت عذاب دیا جائے؟“

یُوسُف ؑ نے کہا”یہی مجھے پھانسنے کی کوشش کر رہی تھی۔“ اس عورت کے اپنے کنبہ والوں میں سے ایک شخص نے (قرینے کی) شہادت پیش کی 24 کہ ”اگر یُوسُف ؑ کا قمیص آگے سے پھٹا ہو تو عورت سچی ہے اور یہ جھُوٹا،

اور اگر اِس کا قمیص پیچھے سے پھٹا ہو تو عورت جھُوٹی ہے اور یہ سچا۔“25

جب شوہر نے دیکھا کہ یُوسُف کا قمیص پیچھے سے پھٹا ہے تو اس نے کہا ”یہ تم عورتوں کی چالاکیاں ہیں، واقعی بڑے غضب کی ہوتی ہیں تمہاری چالیں۔

یُوسُف، اس معاملے سے درگزر کر، اور اے عورت، تُو اپنے قصُور کی معافی مانگ، تُو ہی اصل میں خطاکار تھی۔“25الف ؏ ۳

30-35

شہر کی عورتیں آپس میں چرچا کرنے لگیں کہ ”عزیز کی بیوی اپنے نوجوان غلام کے پیچھے پڑی ہوئی ہے، محبّت نے اسے بے قابو کر رکھا ہے، ہمارے نزدیک تووہ صریح غلطی کر رہی ہے۔“

اس نے جو اُن کی یہ مکّارانہ باتیں سُنیں تو اُن کو بُلاوا بھیج دیا اور ان کے لیے تکیہ دار مجلس آراستہ کی26 اور ضیافت میں ہر ایک کے آگے ایک ایک چھُری رکھ دی۔ (پھر عین اُس وقت جب کہ وہ پھل کاٹ کاٹ کر کھا رہی تھیں)اس نے یُوسُف کو اشارہ کیا کہ ان کے سامنے نکل آ۔ جب ان عورتوں کی نگاہ اُس پر پڑی تو وہ دنگ رہ گئیں اور اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں اور بے ساختہ پُکار اُٹھیں” حاشالِلّٰہ، یہ شخص انسان نہیں ہے، یہ تو کوئی بزرگ فرشتہ ہے۔“

عزیز کی بیوی نے کہا” دیکھ لیا! یہ ہے وہ شخص جس کے معاملہ میں تم مجھ پر باتیں بناتی تھیں۔ بےشک میں نے اِسے رجہانے کی کوشش کی تھی مگر یہ بچ نِکلا۔ اگر یہ میرا کہنا نہ مانے گا تو قید کیا جائے گا اور بہت ذلیل و خوار ہوگا۔“27

یُوسُف ؑ نے کہا ”اے میرے ربّ! قید مجھے منظور ہے بہ نسبت اس کے کہ میں وہ کام کروں جو یہ لوگ مجھ سے چاہتے ہیں۔ اور اگر تُو نے ان کی چالوں کو مجھ سے دفع نہ کیا تو میں ان کے دام میں پھنس جاوٴں گا اور جاہلوں میں شامل ہو رہوں 28گا“۔۔۔۔

اس کے ربّ نے اس کی دُعا قبول کی اور اُن عورتوں کی چالیں اس سے دفع کر دیں،29 بے شک وہی ہے جو سب کی سُنتااور سب کچھ جانتا ہے۔

پھر ان لوگوں کو یہ سُوجھی کہ ایک مُدّت کے لیے اسے قید کر دیں حالانکہ وہ (اس کی پاکدامنی اور خود اپنی عورتوں کے بُرے اطوار کی )صریح نشانیاں دیکھ چکے تھے۔30 ؏ ۴

36-42

قید خانہ میں31 دو غلام اور بھی اس کے ساتھ داخل ہوئے۔32 ایک روز اُن میں سے ایک نے اُس سے کہا  ”میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ میں شراب کشِید کر رہا ہوں۔“ دُوسرے نے کہا” میں نے دیکھا کہ میرے سر پر روٹیاں رکھی ہیں اور پرندے ان کو کھا رہے ہیں۔“ دونوں نے کہا ” ہمیں اس کی تعبیر بتائیے، ہم دیکھتے ہیں کہ آپ ایک نیک آدمی ہیں۔“33

یُوسُف ؑ نے کہا: ”یہاں جو کھانا تمہیں ملا کرتا ہے اس کے آنے سے پہلے میں تمہیں اِن خوابوں کی تعبیر بتا دوں گا۔ یہ علم اُن عُلوم میں سے ہے جو میرے ربّ نے مجھے عطا کیے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ میں نے اُن لوگوں کا طریقہ چھوڑ کر جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں،

اپنے بزرگوں ، ابراہیم ؑ ، اسحاق ؑ اور یعقوب ؑ کا طریقہ اختیار کیا ہے۔ ہمارا یہ کام نہیں ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائیں۔ در حقیقت یہ اللہ کا فضل ہے ہم پر اور تمام انسانوں پر (کہ اس نے اپنے سوا کسی کا بندہ ہمیں نہیں بنایا)مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔

اے زنداں کے ساتھیو، تم خود ہی سوچو کہ بہت سے متفرق ربّ بہتر ہیں یا وہ ایک اللہ جو سب پر غالب ہے؟

اُس کو چھوڑ کر تم جن کی بندگی کر رہے ہو وہ اس کے سوا کچھ نہیں ہیں کہ بس چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آباوٴ اجداد نے رکھ لیے ہیں، اللہ نے ان کے لیے کوئی سَنَد نازل نہیں کی ۔ فرماں روائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے۔ اس کا حکم ہے کہ خود اس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو۔ یہی ٹھیٹھ سیدھا طریقِ زندگی ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔

اے زنداں کے ساتھیو، تمہارے خواب کی تعبیر یہ ہے کہ تم میں سے ایک تو اپنے ربّ (شاہِ مصر)کو شراب پلائے گا، رہا دُوسرا تو اسے سُولی پر چڑھایا جائے گا اورپرندے اس کا سر نوچ نوچ کر کھائیں گے ۔ فیصلہ ہوگیا اُس بات کا جو تم پُوچھ رہے تھے۔“ 34

پھر اُن میں سے جس کے متعلق خیال تھاکہ وہ رہا ہو جائے گا اس سے یُوسُف ؑ نے کہا کہ ”اپنے ربّ (شاہِ مصر)سے میرا ذکر کرنا۔“ مگر شیطان نے اسے ایسا غفلت میں ڈالا کہ وہ اپنے ربّ (شاہِ مصر)سے اس کا ذکر کرنا بھُول گیا اور یُوسُف ؑ کئی سال قیدخانے میں پڑا رہا۔35 ؏ ۵

43-49

ایک روز36 بادشاہ نے کہا ”میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دُبلی گائیں کھا رہی ہیں،اور اناج کی سات بالیں ہری ہیں اور دُوسری سات سُوکھی۔ اے اہلِ دربار، مجھے اس خواب کی تعبیر بتاوٴ اگر تم خوابوں کا مطلب سمجھتے ہو۔“37

لوگوں نے کہا ”یہ تو پریشان خوابوں کی باتیں ہیں اور ہم اس طرح کے خوابوں کا مطلب نہیں جانتے۔“

اُن دو قیدیوں میں سے جو شخص بچ گیا تھا اور اُسے ایک مُدّتِ دراز کے بعد اب بات یاد آئی، اُس نے کہا ”میں آپ حضرات کو اس کی تاویل بتاتا ہوں، مجھے ذرا (قید خانے میں یُوسُف ؑ کے پاس)بھیج دیجیے۔38

اُس نے جا کر کہا ”یُوسُف ؑ، اے سراپا راستی،39 مجھے اس خواب کا مطلب بتا کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دُبلی گائیں کھا رہی ہیں اور سات بالیں ہری ہیں اور سات بالیں ہری ہیں اور سات سوکھی۔ شاید کہ میں اُن لوگوں کے پاس واپس جاوٴں اور شاید کہ وہ جان لیں۔“40

یُوسُف ؑ نے کہا ”سات برس تک لگاتار تم لوگ کھیتی باڑی کرتے رہو گے۔ اس دوران میں جو فصلیں تم کاٹو اُن میں سے بس تھوڑا سا حصہ، جو تمہاری خوراک کے کام آئے، نکالو اور باقی کو اس کی بالوں ہی میں رہنے دو۔

پھر سات برس بہت سخت آئیں گے۔ اُس زمانے میں وہ سب غلّہ کھا لیا جائے گا جو تم اُس وقت کے لیے جمع کرو گے۔ اگر کچھ بچے گا تو بس وہی جو تم نے محفوظ کر رکھا ہو۔

اس کے بعد پھر ایک سال ایسا آئے گا جس میں بارانِ رحمت سے لوگوں کو فریاد رسی کی جائے گی اور وہ رس نچوڑیں گے۔“ 41 ؏ ۶

50-57

بادشاہ نے کہا اسے میرے پاس لاوٴ۔ مگر جب شاہی فرستادہ یوُسف ؑ کے پاس پہنچا تو اس نے کہا42 ”اپنے ربّ کے پاس واپس جا اور اس سے پوچھ کہ اُن عورتوں کا یا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لیے تھے؟ میرا ربّ تو ان کی مکّاری سے واقف ہی ہے۔“43

اس پر بادشاہ نے ان عورتوں سے دریافت 44کیا ”تمہارا کیا تجربہ ہے اُس وقت کا جب تم نے یُوسُف ؑ کو رِجہانے کی کوشش کی تھی؟“ سب نے یک زبان ہو کر کہا ”حاشا لِلّٰہ، ہم نے تو اُس میں بدی کا شائبہ تک نہ پایا۔“ عزیز کی بیوی بول اُٹھی” اب حق کُھل چکا ہے، وہ میں ہی تھی جس نے اُس کو پُھسلانے کی کوشش کی تھی، بے شک وہ بالکل سچا ہے۔“45

(یُوسُف ؑ نے 46کہا)”اِس سے میری غرض یہ تھی کہ (عزیز)یہ جان لے کہ میں نے درپردہ اس کی خیانت نہیں کی تھی۔ اور یہ کہ جو خیانت کرتے ہیں ان کی چالوں کو اللہ کامیابی کی راہ پر نہیں لگاتا۔

میں کچھ اپنے نفس کی براءَت نہیں کر رہا ہوں، نفس تو بدی پر اُکساتا ہی ہے اِلّا یہ کہ کسی پر میرے ربّ کی رحمت ہو، بے شک میرا ربّ بڑا غفور و رحیم ہے۔“

بادشاہ نے کہا ”اُنہیں میرے پاس لاوٴ تاکہ میں ان کو اپنے لیے مخصُوص کر لوں۔“ جب یُوسُف ؑ نے اس سے گفتگو کی تو اس نے کہا ”اب آپ ہمارے ہاں قدر و منزلت رکھتے ہیں اور آپ کی امانت پر پورا بھروسا ہے۔“47

یُوسُف ؑ نے کہا ”ملک کے خزانے میرے سپُرد کیجیے، میں حفاظت کرنے والا بھی ہوں اور علم بھی رکھتا ہوں۔“47الف

اِس طرح ہم نے اُس سرزمین میں یُوسُف ؑ کے لیے اقتدار کی راہ ہموار کی۔ وہ مُختار تھا کہ اس میں جہاں چاہے اپنی جگہ بنائے۔48 ہم اپنی رحمت سے جس کو چاہتے ہیں نوازتے ہیں، نیک لوگوں کا اجر ہمارے ہاں مارا نہیں جاتا،

اور آخرت کا اجر اُن لوگوں کے لیے زیادہ بہتر ہے جو ایمان لائے اور خدا ترسی کے ساتھ کام کرتے رہے۔49 ؏۷

58-68

یُوسُف ؑ کے بھائی مصر آئے اور اس کے ہاں حاضر ہوئے۔50 اس نے انہیں پہچان لیا مگر وہ اس سے نا آشنا تھے۔51

پھر جب اس نے ان کا سامان تیار کروایا تو چلتے وقت ان سے کہا ”اپنے سوتیلے بھائی کو میرے پاس لانا۔ دیکھتے نہیں ہو کہ میں کس طرح پیمانہ بھر کر دیتا ہوں اور کیسا اچھا مہمان نواز ہوں۔

اگر تم اسے نہ لاوٴ گے تو میرے پاس تمہارے لیے کوئی غلّہ نہیں ہے بلکہ تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا۔“52

انہوں نے کہا ”ہم کوشش کریں گے کہ والد صاحب اسے بھیجنے پر راضی ہو جائیں، اور ہم ایسا ضرور کریں گے۔“

یُوسُف ؑ نے اپنے غلاموں کو اشارہ کیا کہ ”ان لوگوں نے غلّے کے عوض جو مال دیا ہے وہ چُپکے سے ان کے سامان ہی میں رکھ دو۔“ یہ یُوسُف ؑ نے اِس امید پر کیا کہ گھر پہنچ کر وہ اپنا واپس پایا ہُوا مال پہچان جائیں گے (یا اِس فیاضی پر احسان مند ہوں گے)اور عجب نہیں کہ پھر پلٹیں۔

جب وہ اپنے باپ کے پاس گئے تو کہا ”ابا جان، آئندہ ہم کو غلّہ دینے سے انکار کر دیا گیا ہے، لہٰذا آپ ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیجیے تاکہ ہم غلّہ لے کر آئیں۔ اور اس کی حفاظت کے ہم ذمہ دار ہیں۔“

باپ نے جواب دیا ”کیا میں اُس کے معاملے میں تم پر ویسا ہی بھروسہ کروں جیسا اس سے پہلے اس کے بھائی کے معاملہ میں کر چکا ہوں؟ اللہ ہی بہتر محافظ ہے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔“

پھر جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تو دیکھا کہ اُن کا مال بھی اُنہیں واپس کر دیا گیا ہے۔ یہ دیکھ کر وہ پُکار اُٹھے ”ابا جان! اور ہمیں کیا چاہیے، دیکھیے یہ ہمارا مال بھی ہمیں واپس دے دیا گیا ہے۔ بس اب ہم جائیں گے اور اپنے اہل و عیال کے لیے رَسَد لے آئیں گے، اپنے بھائی کی حفاظت بھی کریں گے اور ایک بارِ شتر اور زیادہ بھی لے آئیں گے، اتنے غلّہ کا اضافہ آسانی کے ساتھ ہو جائے گا۔“

ان کے باپ نے کہا ”میں اس کو ہر گز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک کہ تم اللہ کے نام سے مجھ کو پیمان نہ دے دو گے کہ اِسے میرے پاس ضرور واپس لے کر آوٴ گے اِلّا یہ کہ کہیں تم گھیر ہی لیے جاوٴ۔“ جب انہوں نےاس کو اپنے اپنے پیمان دے دیے تو اُس نے کہا ”دیکھو، ہمارے اس قول پر اللہ نگہبان ہے ۔“

پھر اُس نے کہا ”میرے بچو، مصر کے دارالسلطنت میں ایک دروازے سے داخل نہ ہونا بلکہ مختلف دروازوں سے جانا۔53 مگر میں اللہ کی مشیّت سے تم کو نہیں بچا سکتا، حکم اُس کے سوا کسی کا بھی نہیں چلتا، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور جس کو بھی بھروسہ کرنا ہو اُسی پر کرے۔“

اور واقعہ بھی یہ ہوا کہ جب وہ اپنے باپ کی ہدایت کے مطابق شہر میں (متفرق دروازوں سے)داخل ہوئے تو اُس کی یہ احتیاطی تدبیر اللہ کی مشیّت کے مقابلے میں کچھ بھی کام نہ آسکی۔ ہاں بس یعقوب ؑ کے دل میں جو ایک کھٹک تھی اسے دُور کرنے کے لیے اُس نے اپنی سی کوشش کر لی ۔ بے شک وہ ہماری دی ہوئی تعلیم سے صاحبِ علم تھا مگر اکثر لوگ معاملہ کی حقیقت کو جانتے نہیں ہیں۔54 ؏ ۸

69-79

یہ لوگ یُوسُف ؑ کے حضُور پہنچے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس الگ بلا لیا اور اسے بتا دیا کہ ”میں تیرا وہی بھائی ہوں (جو کھویا گیا تھا)۔ اب تُو اُن باتوں کا غم نہ کر جو یہ لوگ کرتے رہے ہیں۔“55

جب یُوسُف ؑ ان بھائیوں کا سامان لدوانے لگا تو اس نے اپنے بھائی کے سامان میں اپنا پیالہ رکھ دیا۔56 پھر ایک پُکارنے والے نے پُکار کر کہا ”اے قافلے والو، تم لوگ چور ہو۔“57

انہوں نے پلٹ کر پُوچھا ”تمہاری کیا چیز کھوئی گئی؟“

سرکاری ملازموں نے کہا ”بادشاہ کا پیمانہ ہم کو نہیں ملتا“ ( اور ان کے جمعدار نے کہا)”جو شخص لا کر دے گا اُس کے لیے ایک بارِ شتر انعام ہے، اس کا ذمّہ میں لیتا ہوں۔“

ان بھائیوں نے کہا ”خدا کی قسم، تم لوگ خُوب جانتے ہو کہ ہم اس ملک میں فساد کرنے نہیں آئے ہیں اور ہم چوریاں کرنے والے لوگ نہیں ہیں۔“

اُنہوں نے کہا ”اچھا، اگر تمہاری بات جُھوٹی نکلی تو چور کی کیا سزا ہے؟“

اُنہوں نے کہا ”اُس کی سزا؟ جس کے سامان میں سے یہ چیز نکلے وہ آپ ہی اپنی سزا میں رکھ لیا جائے، ہمارے ہاں تو ایسے ظالموں کو سزا دینے کا یہی طریقہ ہے۔“58

تب یُوسُف ؑ نے اپنے بھائی سے پہلے اُن کی خُرجیوں کی تلاشی لینی شروع کی، پھر اپنے بھائی کی خُرجی سے گم شدہ چیز بر آمد کر لی ۔۔۔۔ اِس طرح ہم نے یُوسُف ؑ کی تائید اپنی تدبیر سے کی۔59 اُس کا یہ کام نہ تھا کہ بادشاہ کے دین (یعنی مصر کے شاہی قانون) میں اپنے بھائی کو پکڑتا اِلّا یہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے۔60 ہم جس کے درجے چاہتے ہیں بلند کر دیتے ہیں، اور ایک علم رکھنے والا ایساہے جو ہر صاحبِ علم سے بالاتر ہے۔

ان بھائیوں نے کہا ”یہ چوری کرے تو کچھ تعجّب کی بات نہیں، اس سے پہلے اس کا بھائی (یُوسُف ؑ )بھی چوری کر چکا ہے۔“61 یُوسُف ؑ ان کی یہ بات سُن کر پی گیا، حقیقت ان پر نہ کھولی، بس (زیرِ لب)اتنا کہہ کر رہ گیا کہ ”بڑے ہی بُرے ہو تم لوگ،(میرے منہ در منہ مجھ پر)جو الزام تم لگا رہے ہو اس کی حقیقت خدا خوب جانتا ہے۔“

انہوں نے کہا ”اے سردار ذی اقتدار(عزیز) 62، اس کا باپ بہت بُوڑھا آدمی ہے، اس کی جگہ آپ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجیے، ہم آپ کو بڑا ہی نیک نفس انسان پاتے ہیں۔“

یُوسُف ؑ نے کہا ”پناہِ خدا، دُوسرے کسی شخص کو ہم کیسے رکھ سکتے ہیں، جس کے پاس ہم نے اپنا مال پایا ہے63 اُس کو چھوڑ کر دُوسرے کو رکھیں گے تو ہم ظالم ہوں گے۔“ ؏ ۹

80-93

جب وہ یُوسف ؑ سے مایوس ہو گئے تو ایک گوشے میں جا کر آپس میں مشورہ کرنے لگے۔ ان میں جو سب سے بڑا تھا وہ بولا”تم جانتے نہیں ہو کہ تمہارے والد تم سے خدا کے نام پر عہد و پیمان لے چکے ہیں ؟ اور اِس سے پہلے یُوسُف ؑ کے معاملہ میں جو زیادتی تم کر چکے ہو وہ بھی تم کو معلوم ہے۔ اب میں تو یہاں سے ہرگز نہ جاوٴں گا جب تک کہ میرے والد مجھے اجازت نہ دیں ، یا پھر اللہ ہی میرے حق میں کوئی فیصلہ فرما دے کہ وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے۔

تم جا کر اپنے والد سے کہو کہ” ابا جان، آپ کے صاحبزادے نے چوری کی ہے، ہم نے اُسے چوری کرتے ہوئے نہیں دیکھا، جو کچھ ہمیں معلوم ہوا ہے بس وہی ہم بیان کر رہے ہیں، اور غیب کی نگہبانی تو ہم نہ کر سکتے تھے۔

آپ اُس بستی کے لوگوں سے پُوچھ لیجیے جہاں ہم تھے۔ اُس قافلے سے دریافت کر لیجیے جس کے ساتھ ہم آئے ہیں۔ ہم اپنے بیان میں بالکل سچے ہیں۔“

باپ نے یہ داستان سُن کر کہا ”دراصل تمہارے نفس نے تمہارے لیے ایک اور بڑی بات کو سہل بنا دیا۔64 اچھا، اس پر بھی صبر کروں گا اور بخوبی کروں گا۔ کیا بعید ہے کہ اللہ ان سب کو مجھ سے لا ملائے، وہ سب کچھ جانتا ہے اور اُس کے سب کام حکمت پر مبنی ہیں۔“

پھر وہ اُن کی طرف سے منہ پھیر کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ ”ہائے یُوسُف !“۔۔۔۔ وہ دل ہی دل میں غم سے گھُٹا جا رہا تھا اور اُس کی آنکھیں سفید پڑ گئی تھیں ۔۔۔۔

بیٹوں نے کہا ”خدارا! آپ تو بس یُوسُف ہی کو یاد کیے جاتے ہیں۔ نوبت یہ آگئی ہے کہ اس کے غم میں اپنے آپ کو گھُلا دیں گے یا اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے۔“

اُس نے کہا ”میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ کے سوا کسی سے نہیں کرتا، اور اللہ سے جیسا میں واقف ہوں تم نہیں ہو۔

میرے بچو، جاکر یُوسُف اور اُس کے بھائی کی کچھ ٹوہ لگاوٴ، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو، اُس کی رحمت سے تو بس کافر ہی مایوس ہوا کرتے ہیں۔“

جب یہ لوگ مصر جا کر یُوسُف ؑ کی پیشی میں داخل ہوئے تو انہوں نے عرض کیا ”اے سردار با اقتدار، ہم اور ہمارے اہل و عیال سخت مصیبت میں مُبتلا ہیں، اور ہم کچھ حقیر سی پُونجی لے کر آئے ہیں، آپ ہمیں بھرپور غلّہ عنایت فرمائیں اور ہم کو خیرات دیں،65 اللہ خیرات کرنے والوں کو جزا دیتا ہے۔“

(یہ سُن کر یوسُف ؑ سے رہا نہ گیا)اُس نے کہا ”تمہیں کچھ یہ بھی معلوم ہے کہ تم نے یوُسف ؑ اور اُس کے بھائی کے ساتھ کیا کِیا تھا جب کہ تم نادان تھے؟“

وہ چونک کر بولے ”ہائیں! کیا تم یُوسُف ؑ ہو؟“ اُس نے کہا ”ہاں، میں یوسُف ہوں اور یہ میرا بھائی ہے۔ اللہ نے ہم پر احسان فرمایا۔ حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی تقوٰی اور صبر سے کام لے تو اللہ کے ہاں ایسے نیک لوگوں کا اجر مارا نہیں جاتا۔“

انہوں نے کہا ”بخدا کہ تم کو اللہ نے ہم پر فضیلت بخشی اور واقعی ہم خطا کار تھے۔“

اس نے جواب دیا ”آج تم پر کوئی گرفت نہیں، اللہ تمہیں معاف کرے، وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔

جاوٴ، میرا یہ قمیص لے جاوٴ اور میرے والد کے منہ پر ڈال دو، اُن کی بینائی پلٹ آئے گی، اور اپنے سب اہل و عیال کو میرے پاس لے آوٴ۔“ ؏ ١۰

94-104

جب یہ قافلہ (مصر سے)روانہ ہوا تو ان کے باپ نے (کنعان میں)کہا ”میں یُوسُف ؑ کی خوشبو محسُوس کر رہا ہوں،66 تم لوگ کہیں یہ نہ کہنے لگو کہ میں بڑھاپے میں سٹھیا گیا ہوں۔“

گھر کے لوگ بولے” خدا کی قسم آپ ابھی تک اپنے اسی پُرانے خبط میں پڑے ہوئے ہیں۔“67

پھر جب خوشخبری لانے والا آیا تو اس نے یُوسُف ؑ کا قمیص یعقوب ؑ کے منہ پر ڈال دیا اور یکایک اس کی بینائی عود کر آئی۔ تب اس نے کہا ”میں تم سے کہتا نہ تھا؟ میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے۔“

سب بول اُٹھے ”اب جان، آپ ہمارے گناہوں کی بخشش کے لیے دُعا کریں، واقعی ہم خطا کار تھے۔“

اُس نے کہا ”میں اپنے ربّ سے تمہارے لیے معافی کی درخواست کر دوں گا، وہ بڑا معاف فرمانے والا اور رحیم ہے۔“

پھر جب یہ لوگ یُوسُف ؑ کے پاس پہنچے68 تو اُس نے اپنے والدین کو اپنے ساتھ بٹھا لیا69 اور (اپنے سب کنبے والوں سے کہا) ”چلو، اب شہر میں چلو، اللہ نے چاہا تو امن چین سے رہو گے۔“

(شہر میں داخل ہونے کے بعد)اس نے اپنے والدین کو اُٹھا کر اپنے پاس تخت پر بٹھایا اور سب اس کے آگے بے اختیار سجدے میں جُھک گئے۔70 یُوسُف ؑ نے کہا ”ابا جان، یہ تعبیر ہے میرے اُس خواب کی جو میں نے پہلے دیکھا تھا، میرے ربّ نے اسے حقیقت بنا دیا۔ اس کا احسان ہے کہ اُس نے مجھے قید خانے سے نکالا، اور آپ لوگوں کو صحرا سے لاکر مجھ سے ملایا حالانکہ شیطان میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال چکا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ میرا ربّ غیر محسُوس تدبیروں سے اپنی مشیّت پُوری کرتا ہے، بے شک وہ علیم اور حکیم ہے۔

اے میرے ربّ، تُو نے مجھے حکومت بخشی اور مجھے باتوں کی تہہ تک پہنچنا سکھایا۔ زمین و آسمان کے بنانے والے، تُو ہی دُنیا اور آخرت میں میرا سرپرست ہے، میرا خاتمہ اسلام پر کر اور انجامِ کار مجھے صالحین کے ساتھ ملا۔“71

اے محمد ؐ ، یہ قصہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم تم پر وحی کر رہے ہیں ورنہ تم اُس وقت موجود نہ تھے جب یُوسُف ؑ کے بھائیوں نے آپس میں اتفاق کر کے سازش کی تھی۔

مگر تم خواہ کتنا ہی چاہو ان میں سے اکثر لوگ مان کر دینے والے نہیں ہیں۔72

حالانکہ تم اس خدمت پر ان سے کوئی اُجرت بھی نہیں مانگتے ہو۔ یہ تو ایک نصیحت ہے جو دنیا والوں کے لیے عام ہے۔73 ؏ ۱۱

105-111

زمین74 اور آسمانوں میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ لوگ گزرتے ہیں اور ذرا توجّہ نہیں کرتے۔ 75

ان میں سے اکثر اللہ کو مانتے ہیں مگر اس طرح کہ اُس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔76

کیا یہ مطمئن ہیں کہ خدا کے عذاب کی کوئی بلا انہیں دبوچ نہ لے گی یا بے خبری میں قیامت کی گھڑی اچانک ان پر نہ آجائے گی؟77

تم ان سے صاف کہہ دو کہ ”میرا رستہ تو یہ ہے، میں اللہ کی طرف بُلاتا ہوں، میں خود بھی پوری روشنی میں اپنا راستہ دیکھ رہا ہوں اور میرے ساتھی بھی، اور اللہ پاک ہے78 اور شرک کرنے والوں سے میرا کوئی واسطہ نہیں۔“

اے محمد ؐ ، تم سے پہلے ہم نے جو پیغمبر بھیجے تھے وہ سب بھی انسان ہی تھے، اور اِنہی بستیوں کے رہنے والوں میں تھے، اور اُنہی کی طرف ہم وحی بھیجتے رہے ہیں۔ پھر کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اُن قوموں کا انجام اِنہیں نظر نہ آیا جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں؟ یقیناً آخرت کا گھر اُن لوگوں کے لیے اَور زیادہ بہتر ہے جنہوں نے (پیغمبروں کی بات مان کر)تقوٰی کی روش اختیار کی۔ کیا اب بھی تم لوگ نہ سمجھو گے؟79

(پہلے پیغمبروں کے ساتھ بھی یہی ہوتا رہا ہے کہ وہ مُدّتوں نصیحت کرتے رہے اور لوگوں نے سُن کر نہ دیا)یہاں تک کہ جب پیغمبر لوگوں سے مایوس ہوگئے اور لوگوں نے بھی سمجھ لیا کہ اُن سے جُھوٹ بولا گیا تھا، تو یکایک ہماری مدد پیغمبروں کو پہنچ گئی۔ پھر جب ایسا موقع آجاتا ہے تو ہمارا قاعدہ یہ ہے کہ جسے ہم چاہتے ہیں بچا لیتے ہیں اور مجرموں پر سے تو ہمارا عذاب ٹالا ہی نہیں جاسکتا۔

اگلے لوگوں کے ان قصّوں میں عقل و ہوش رکھنے والوں کے لیے عبرت ہے۔ یہ جو کچھ قرآن میں بیان کیا جا رہا ہے یہ بناوٹی باتیں نہیں ہیں بلکہ جو کتابیں اس سے پہلے آئی ہوئی ہیں انہی کی تصدیق ہے اور ہر چیز کی تفصیل80 اور ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت۔ ؏ ۱۲