ا ل ر۔ فرمان ہے1 ، جس کی آیتیں پُختہ اور مفصّل ارشاد ہوئی ہیں2، ایک دانا اور باخبر ہستی کی طرف سے،
کہ تم نہ بندگی کرو مگر صرف اللہ کی۔ میں اُس کی طرف سے تم کو خبردار کرنے والا بھی ہوں اور بشارت دینے والا بھی۔
اور یہ کہ تم اپنے ربّ سے معافی چاہو اور اُس کی طرف پلٹ آوٴ تو وہ ایک مدّت ِ خاص تک تم کو اچھا سامانِ زندگی دے گا 3اور ہر صاحبِ فضل کو اس کا فضل عطا کرے گا۔4 لیکن اگر تم منہ پھیرتے ہو تو میں تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں۔
تم سب کو اللہ کی طرف پلٹنا ہے اور وہ سب کچھ کر سکتا ہے۔
دیکھو! یہ لوگ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں تاکہ اُس سے چھُپ جائیں۔5 خبردار! جب کہ کپڑوں سے اپنے آپ کو ڈھانپتے ہیں ، اللہ ان کے چھُپے کو بھی جانتا ہے اور کُھلے کو بھی ، وہ تو اُن بھیدوں سے بھی واقف ہے جو سینوں میں ہیں۔
زمین میں چلنے والا کوئی جاندار ایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمّے نہ ہو اور جس کے متعلق وہ نہ جانتا ہو کہ کہاں وہ رہتا ہےاور کہاں وہ سونپا جاتا ہے،6 سب کچھ ایک صاف دفتر میں درج ہے۔
اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا ۔۔۔۔ جبکہ اس سے پہلے اُس کا عرش پانی پر تھا7 ۔۔۔۔۔۔ تاکہ تم کو آزما کر دیکھے تم میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔8 اب اگر اے محمد ؐ ، تم کہتے ہو کہ لوگو، مرنے کے بعد تم دوبارہ اُٹھائے جاوٴ گے تو منکرین فوراً بول اُٹھتے ہیں کہ یہ تو صریح جادوگری ہے۔9
اور اگر ہم ایک خاص مُدّت تک ان کی سزا کو ٹالتے ہیں تو وہ کہنے لگتے ہیں کہ آخر کس چیز نے اُسے روک رکھا ہے؟ سُنو! جس روز اُس سزا کا وقت آگیا تو وہ کسی کے پھیرے نہ پھر سکے گا اور وہی چیز ان کو آگھیرے گی جس کا وہ مذاق اُڑا رہے ہیں۔ ؏۱
9-24اگر کبھی ہم انسان کو اپنی رحمت سے نوازنے کے بعد پھر اس سے محروم کر دیتے ہیں تو وہ مایوس ہوتا ہے اور ناشکری کرنے لگتا ہے۔
اور اگر اُس مصیبت کے بعد جو اُس پر آئی تھی ہم اُسے نعمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو کہتا ہے میرے تو سارے دِلَدّر پار ہو گئے، پھر وہ پھُولا نہیں سماتا اور اکڑنے لگتا ہے۔10
اس عیب سے پاک اگر کوئی ہیں تو بس وہ لوگ جو صبر کرنے والے11 اور نیکوکار ہیں اور وہی ہیں جن کے لیے درگزر بھی ہے اور بڑا اجر بھی۔ 12
تو اے پیغمبر ؐ ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم اُن چیزوں میں سے کسی چیز کو (بیان کرنے سے)چھوڑ دو جو تمہاری طرف وحی کی جا رہی ہیں۔ اور اس بات پر دل تنگ ہو کہ وہ کہیں گے ”اسِ شخص پر کوئی خزانہ کیوں نہ اُتارا گیا“ یا یہ کہ ” اِس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ آیا۔“ تم تو محض خبردار کرنے والے ہو، آگے ہر چیز کا حوالہ دار اللہ ہے۔ 13
کیا یہ کہتے ہیں کہ پیغمبر نے یہ کتاب خود گھڑ لی ہے؟ کہو ”اچھا یہ بات ہے تو اِس جیسی گھڑی ہوئی دس سُورتیں تم بنا لاوٴ اور اللہ کے سوا اور جو جو ( تمہارے معبود) ہیں اُن کو مدد کے لیے بُلا سکتے ہو تو بُلا لو اگر تم (اُنہیں معبود سمجھنے میں)سچے ہو۔
اب اگر وہ(تمہارے معبود)تمہاری مدد کو نہیں پہنچتے تو جان لو کہ یہ اللہ کے علم سے نازل ہوئی ہے اور یہ کہ اللہ کے سوا کوئی حقیقی معبود نہیں ہے۔ پھر کیا تم ( اِس امرِ حق کے آگے )سرِ تسلیم خم کرتے ہو؟ “14
جو لوگ بس اِسی دُنیا کی زندگی اور اس کی خوشنمائیوں کے طالب ہوتے ہیں15 اُن کی کار گزاری کا سارا پھل ہم یہیں اُن کو دے دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی۔
مگر آخرت میں ایسے لوگوں کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں ہے۔16 ( وہاں معلوم ہو جائے گا کہ)جو کچھ اِنہوں نے دُنیا میں بنایا وہ سب ملیا میٹ ہوگیا اور اب ان کا سارا کِیا دھرا محض باطل ہے۔
پھر بھلا وہ شخص جو اپنے ربّ کی طرف سے ایک صاف شہادت رکھتا تھا،17 اس کے بعد ایک گواہ بھی پروردگار کی طرف سے ( اِس شہادت کی تائید میں)آگیا، 18اور پہلے موسیٰ ؑ کی کتاب رہنما اور رحمت کے طور پر آئی ہوئی بھی موجود تھی (کیا وہ بھی دُنیا پرستوں کی طرح اس سے انکار کرسکتا ہے؟) ایسے لوگ تو اس پر ایمان ہی لائیں گے۔ 19 اور انسانی گروہوں میں سے جو کوئی اِس کا انکار کرے تو اس کے لیے جس جگہ کا وعدہ ہے وہ دوزخ ہے۔ پس اے پیغمبر ؐ ، تم اس چیز کی طرف سے کسی شک میں نہ پڑنا، یہ حق ہے تمہارے ربّ کی طرف سے مگر اکثر لوگ نہیں مانتے۔
اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ گھڑے۔20 ایسے لوگ اپنے ربّ کے حضُور پیش ہونگے اور گواہ شہادت دیں گے کہ یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے ربّ پر جھوٹ گھڑا تھا۔ سُنو! خُدا کی لعنت ہے ظالموں پر21
۔۔۔۔ اُن ظالموں پر22 جو خُدا کے راستے سے لوگوں کو روکتے ہیں، اُس کے راستے کو ٹیڑھا کرنا چاہتے ہیں23 اور آخرت کا انکار کرتے ہیں ۔۔۔۔24
وہ زمین میں اللہ کو بے بس کرنے والے نہ تھے اور نہ اللہ کے مقابلے میں کوئی اُن کا حامی تھا۔ اُنہیں اب دوہرا عذاب دیا جائے گا۔ 25وہ نہ کسی کی سُن ہی سکتے تھے اور نہ خود ہی اُنہیں کچھ سُوجھتا تھا ۔
یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خود گھاٹے میں ڈالا اور وہ سب کچھ اُن سے کھویا گیا جو اُنہوں نے گھڑ رکھا تھا۔26
ناگزیر ہے کہ وہی آخرت میں سب سے بڑھ کر گھاٹے میں رہیں۔
رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے اور اپنے ربّ ہی کے ہو کر رہے، تو یقیناً وہ جنتّی لوگ ہیں اور جنّت میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔27
اِن دونوں فریقوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک آدمی تو ہو اندھا بہرا اور دوسرا ہو دیکھنے اور سُننے والا، کیا یہ دونوں یکساں ہو سکتے ہیں؟28 کیا تم ( اِس مثال سے) کوئی سبق نہیں لیتے؟ ؏۲
25-35(اور ایسے ہی حالات تھے جب)ہم نے نوح ؑ کو اُس کی قوم کی طرف بھیجا تھا۔29 (اُس نے کہا)”میں تم لوگوں کو صاف صاف خبردار کرتا ہوں
کہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو ورنہ مجھے اندیشہ ہے کہ تم پر ایک روز دردناک عذاب آئے گا۔“30
جواب میں اُس کی قوم کے سردار، جنہوں نے اس کی بات ماننے سے انکار کیا تھا، بولے ”ہمارے نظر میں تو تم اس کے سوا کچھ نہیں ہو کہ بس ایک انسان ہو ہم جیسے۔31 اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہماری قوم میں سے بس اُن لوگوں نے جو ہمارے ہاں اراذل تھے بے سوچے سمجھے تمہاری پیروی اختیار کر لی ہے۔32 اور ہم کوئی چیز بھی ایسی نہیں پاتے جس میں تم لوگ ہم سے کچھ بڑھے ہوئے ہو33، بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں۔“
اس نے کہا ”اے برادرانِ قوم، ذرا سوچو تو سہی کہ اگر میں اپنے ربّ کی طرف سے ایک کھُلی شہادت پر قائم تھا اور پھر اس نے مجھ کو اپنی خاص رحمت سے بھی نوازدیا34 مگر وہ تم کو نظر نہ آئی تو آخر ہمارے پاس کیا ذریعہ ہے کہ تم ماننا نہ چاہو اور ہم زبردستی اس کو تمہارے سَر چپیک دیں؟
اور اے برادرانِ قوم ، میں اِس کام پر تم سے کوئی مال نہیں مانگتا، 35 میرا اجر تو اللہ کے ذمّہ ہے۔ اور میں اُن لوگوں کو دھکے دینے سے بھی رہا جنہوں نے میری بات مانی ہے، وہ آپ اپنے ربّ کے حضور جانے والے ہیں۔36 مگر میں دیکھتا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو۔
اور اے قوم، اگر میں اِن لوگوں کو دھتکار دوں تو خدا کی پکڑ سے کون مجھے بچائے گا؟ تم لوگوں کی سمجھ میں کیا اتنی بات بھی نہیں آتی؟
اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ، نہ یہ کہتا ہوں کہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں، نہ یہ میرا دعوٰی ہے کہ میں فرشتہ ہوں۔37 اور یہ بھی میں نہیں کہہ سکتا کہ جن لوگوں کو تمہاری آنکھیں حقارت سے دیکھتی ہیں انہیں اللہ نے کوئی بھلائی نہیں دی۔ ان کے نفس کا حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اگر میں ایسا کہوں تو ظالم ہوں گا۔“
آخرِ کار ان لوگوں نے کہا کہ ”اے نُوح ؑ ، تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت کر لیا۔ اب تو بس وہ عذاب لے آوٴ جس کی تم دھمکی دیتے ہو اگر سچے ہو۔“
نُوح ؑ نے جواب دیا ”وہ تو اللہ ہی لائے گا، اگر چاہے گا، اور تم اتنا بل بوتا نہیں رکھتے کہ اسے روک دو۔
اب اگر میں تمہاری کچھ خیر خواہی کرنا بھی چاہوں تو میری خیر خواہی تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی جب کہ اللہ ہی نے تمہیں بھٹکا دینے کا ارادہ کر لیا ہو،38 وہی تمہارا ربّ ہے اور اُسی کی طرف تمہیں پلٹنا ہے۔“
اے محمد ؐ ، کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اِس شخص نے یہ سب کچھ خود گھڑ لیا ہے؟ ان سے کہو ”اگر میں نے یہ خود گھڑا ہے تو مجھ پر اپنے جُرم کی ذمّہ داری ہے، اور جو جُرم تم کر رہے ہو اس کی ذمّہ داری سے میں بری ہوں۔“39؏ ۳
36-49نوح ؑ پر وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لاچکے بس وہ لاچکے، اب کوئی ماننے والا نہیں ہے۔ ان کے کرتُوتوں پر غم کھانا چھوڑو
اور ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنانی شروع کر دو۔ اور دیکھو، جن لوگوں نے ظلم کیا ہے اُن کے حق میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا، یہ سارے کے سارے اب ڈوبنے والے ہیں۔40
نُوح ؑ کشتی بنا رہا تھا اور اس کی قوم کے سرداروں میں سے جو کوئی اس کے پاس سے گزرتا تھا وہ اس کا مذاق اُڑاتا تھا۔ اس نے کہا ”اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ہم بھی تم پر ہنس رہے ہیں،
عنقریب تمہیں خود معلوم ہو جائے گا کہ کس پر وہ عذاب آتا ہے جو اُسے رُسوا کر دے گا اور کس پر وہ بلا ٹوٹ پڑتی ہے جو ٹالے نہ ٹلے گی۔“ 41
یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور وہ تنور اُبل پڑا42 تو ہم نے کہا ”ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو، اپنے گھر والوں کو بھی۔۔۔۔ سوائے اُن اشخاص کے جن کی نشان دہی پہلے کی جا چکی ہے43۔۔۔۔ اس میں سوار کرا دو اور ان لوگوں کو بھی بٹھا لو جو ایمان لائے ہیں۔“44 اور تھوڑے ہی لوگ تھے جو نوح ؑ کے ساتھ ایمان لائے تھے۔
نوح ؑ نے کہا ”سوار ہو جاوٴ اِس میں، اللہ ہی کے نام سے ہے اس کا چلنا بھی اور اس کا ٹھہرنا بھی، میرا ربّ بڑا غفور و رحیم ہے۔“45
کشتی ان لوگوں کو لیے چلی جا رہی تھی اور ایک ایک موج پہاڑ کی طرح اُٹھ رہی تھی۔ نوح ؑ کا بیٹا دُور فاصلے پر تھا۔ نوح ؑ نے پُکار کر کہا ”بیٹا، ہمارے ساتھ سوار ہو جاوٴ، کافروں کے ساتھ نہ رہ۔“
اُس نے پلٹ کر جواب دیا ” میں ابھی ایک پہاڑ پر چڑھا جاتا ہوں جو مجھے پانی سے بچا لے گا۔“ نوح ؑ نے کہا ”آج کوئی چیز اللہ کے حکم سے بچانے والی نہیں ہے سوائے اِس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم فرمائے۔“ اتنے میں ایک موج دونوں کے درمیان حائل ہو گئی اور وہ بھی ڈوبنے والوں میں شامل ہوگیا۔
حکم ہوا ”اے زمین، اپنا سارا پانی نِگل جا اور اے آسمان ، رُک جا۔“ چنانچہ پانی زمین میں بیٹھ گیا، فیصلہ چکا دیا گیا، کشتی جودی پر ٹِک46گئی، اور کہہ دیا گیا کہ دُور ہوئی ظالموں کی قوم!
نُوحؑ نے اپنے ربّ کو پکارا۔ کہا ”اے ربّ، میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا ہے47 اور تُو سب حاکموں سے بڑا اور بہتر حاکم ہے۔“48
جواب میں ارشاد ہوا” اے نُوح ؑ ، وہ تیرے گھر والوں میں سے نہیں ہے، وہ تو ایک بگڑا ہُوا کام ہے49، لہٰذا تُو اُس بات کی مجھ سے درخواست نہ کر جس کی حقیقت تُو نہیں جانتا ، میں تجھے نصیحت کرتا ہوں کہ اپنے آپ کو جاہلوں کی طرح نہ بنا لے۔“50
نُوح ؑ نے فوراً عرض کیا” اے میرے ربّ، میں تیری پناہ مانگتا ہوں اِس سے کہ وہ چیز تجھ سے مانگوں جس کا مجھے علم نہیں ۔ اگر تُو نے مجھے معاف نہ کیا اور رحم نہ فرمایا تو میں برباد ہو جاوٴں گا۔“51
حکم ہوا ”اے نوح ؑ اُتر جا،52ہماری طرف سے سلامتی اور برکتیں ہیں تُجھ پر اور ان گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں، اور کچھ گروہ ایسے بھی ہیں جن کو ہم کچھ مدّت سامانِ زندگی بخشیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا۔“
اے محمد ؐ ، یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کر رہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبر کرو، انجام کار متقیوں ہی کے حق میں ہے۔53 ؏ ۴
50-60اور عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہُودؑ کو بھیجا۔54 اُس نے کہا ”اے برادرانِ قوم، اللہ کی بندگی کرو ، تمہارا کوئی خدا اُس کے سوا نہیں ہے۔ تم نے محض جھُوٹ گھڑ رکھے ہیں۔55
اے برادرانِ قوم، اس کام پر میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا، میرا اجر تو اس کے ذمّہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے، کیا تم عقل سے ذرا کام نہیں لیتے؟56
اور اے میری قوم کے لوگو، اپنے ربّ سے معافی چاہو، پھر اس کی طرف پلٹو، وہ تم پر آسمان کے دہانے کھول دے گا اور تمہاری موجودہ قوت پر مزید قوت کا اضافہ کرے گا۔57 مجرموں کی طرح منہ نہ پھیرو۔“
انہوں نے جواب دیا ”اے ہُودؑ ، تُو ہمارے پاس کوئی صریح شہادت لے کر نہیں آیا ہے،58 اور تیرے کہنے سے ہم اپنے معبودوں کو نہیں چھوڑ سکتے، اور تُجھ پر ہم ایمان لانے والے نہیں ہیں۔
ہم تو یہ سمجھتے ہیں کہ تیرے اُوپر ہمارے معبودوں میں سے کسی کی مار پڑگئی ہے۔“59ہُود ؑ نے کہا ”میں اللہ کی شہادت پیش کرتا ہوں۔60 اور تم گواہ رہو کہ یہ جو دُوسروں کو تم نے خدائی میں شریک ٹھہرا رکھا ہے اس سے میں بیزار ہوں61
اللہ کے سوا۔ تم سب کے سب مل کر میرے خلاف اپنی کرنی میں کسر نہ اُٹھا رکھو اور مجھے مہلت نہ دو62،
میرا بھروسہ اللہ پر ہے جو میرا ربّ بھی ہے اور تمہارا ربّ بھی۔ کوئی جاندار ایسا نہیں جس کی چوٹی اس کے ہاتھ میں نہ ہو۔ بے شک میرا ربّ سیدھی راہ پر ہے۔63
اگر تم منہ پھیرتے ہو تو پھیر لو۔ جو پیغام دے کر میں تمہارے پاس بھیجا گیا تھا وہ میں تم کو پہنچا چکا ہوں۔ اب میرا ربّ تمہاری جگہ دُوسری قوم کو اُٹھائے گا اور تم اس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے۔64 یقیناً میرا ربّ ہر چیز پر نگراں ہے۔“
پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے اپنی رحمت سے ہُود ؑ کو اور اُن لوگوں کو جو اُس کے ساتھ ایمان لائے تھے نجات دے دی اور ایک سخت عذاب سے انہیں بچا لیا۔
>یہ ہیں عاد، اپنے ربّ کی آیات سے انہوں نے انکار کیا، اس کے رسُولوں کی بات نہ مانی،65 اور ہر جبّار دُشمنِ حق کی پیروی کرتے رہے۔
آخرِ کار اس دُنیا میں بھی ان پر پھِٹکار پڑی اور قیامت کے روز بھی۔ سُنو! عاد نے اپنے ربّ سے کُفر کیا، سُنو! دُور پھینک دیے گئے عاد، ہُود ؑ کی قوم کے لوگ۔ ؏ ۵
61-68اور ثمود کی طرف ہم نے اُن کے بھائی صالحؑ کو بھیجا۔66 اُس نے کہا ”اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو، اُس کے سوا تمہارا کوئی خُدا نہیں ہے۔ وہی ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا اور یہاں تم کو بسایا ہے۔67 لہٰذا تم اُس سے معافی چاہو68 اور اُس کی طرف پلٹ آوٴ، یقیناً میرا ربّ قریب ہے اور وہ دُعاوٴں کا جواب دینے والا ہے۔“69
اُنہوں نے کہا ”اے صالح ؑ ، اس سے پہلے تُو ہمارے درمیان ایسا شخص تھا جس سے بڑی توقعات وابستہ تھیں۔70 کیا تُو ہمیں اُن معبودوں کی پرستش سے روکنا چاہتا ہے جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے؟71 تُو جس طریقے کی طرف ہمیں بُلا رہا ہے اُس کے بارے میں ہم کو سخت شُبہ ہے جس نے ہمیں خلجان میں ڈال رکھا ہے۔“72
صالح ؑ نے کہا ”اے برادرانِ قوم، تم نے کچھ اس بات پر بھی غور کیا کہ اگر میں اپنے ربّ کی طرف سے ایک صاف شہادت رکھتا تھا، اور پھر اس نے اپنی رحمت سے بھی مجھ کو نواز دیا تو اِس کے بعد اللہ کی پکڑ سے مجھے کون بچائے گا اگر میں اُس کی نافرمانی کروں؟ تم میرے کس کام آسکتے ہو سوائے اس کے کہ مجھے اَور زیادہ خسارے میں ڈال دو۔73
اور اے میری قوم کے لوگو، دیکھو یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لیے ایک نشانی ہے۔ اِسے خدا کی زمین میں چَرنے کے لیے آزاد چھوڑ دو۔ اِس سے ذرا تعّرض نہ کرنا ورنہ کچھ زیادہ دیر نہ گزرے گی کہ تم پر خدا کا عذاب آجائے گا۔“
مگر انہوں نے اُونٹنی کو مار ڈالا۔ اس پر صالح ؑ نے اُن کو خبردار کر دیا کہ ”بس اب تین دن اپنے گھروں میں اور رہ بس لو۔ یہ ایسی معیاد ہے جو جھُوٹی نہ ثابت ہوگی۔“
آخرِ کار جب ہمارے فیصلے کا وقت آگیا تو ہم نے اپنی رحمت سے صالح ؑ کو اور اُن لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے بچا لیا اور اُس دن کی رُسوائی سے ان کو محفوظ رکھا74۔ بے شک تیرا ربّ ہی دراصل طاقتور اور بالادست ہے۔
رہے وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا تھا تو ایک سخت دھماکے نے ان کو دھر لیا اور وہ اپنی بستیوں میں اس طرح بے حِسّ و حرکت پڑے رہ گئے
کہ گویا وہ وہاں کبھی بسے ہی نہ تھے۔ سُنو! ثمود نے اپنے ربّ سے کُفر کیا ۔ سُنو! دُور پھینک دیے گئے ثمود! ؏ ۶
69-83اور دیکھو، ابراہیم ؑ کے پس ہمارے فرشتے خوشخبری لیے ہوئے پہنچے۔ کہا ، تم پر سلام ہو۔ ابراہیم ؑ نے جواب دیا ، تم پر بھی سلام ہو۔ پھر کچھ دیر نہ گزری کہ ابراہیم ؑ ایک بُھنا ہوا بچھڑا (ان کی ضیافت کے لیے)لے آیا۔75
مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے پر نہیں بڑھتے تو وہ ان سے مشتبہ ہو گیا اور دل میں ان سے خوف محسوس کرنے لگا۔ 76اُنہوں نے کہا ”ڈرو نہیں، ہم تو لُوط ؑ کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں۔“77
ابراہیم ؑ کی بیوی بھی کھڑی ہوئی تھی۔ وہ یہ سُن کر ہنس دی۔78 پھر ہم نے اُس کو اسحاق کی اور اسحاق کے بعد یعقوب ؑ کی خوشخبری دی۔
وہ بولی ”ہائے میری کم بختی!80 کیا اب میرے ہاں اولاد ہوگی جبکہ میں بڑھیا پُھونس ہو گئی اور یہ میرے میاں بھی بُوڑھے ہو چکے؟ 81یہ تو بڑے عجیب بات ہے۔“
فرشتوں نے کہا ”اللہ کے حکم پر تعجب کرتی ہو؟82 ابراہیم ؑ کے گھر والو، تم لوگوں پر تو اللہ کی رحمت اور اُس کی برکتیں ہیں، اور یقیناً اللہ نہایت قابلِ تعریف اور بڑی شان والا ہے۔“
پھر جب ابراہیم ؑ کی گھبراہٹ دُور ہوگئی اور (اولاد کی بشارت سے) اُس کا دل خوش ہوگیا تو اُس نے قومِ لُوط کے معاملہ میں ہم سے جھگڑا شروع کیا۔ 83
حقیقت میں ابراہیم ؑ بڑا حلیم اور نرم دل آدمی تھا اور ہر حال میں ہمارے طرف رجوع کرتا تھا۔
(آخرِ کار ہمارے فرشتوں نے اس سے کہا)”اے ابراہیم ؑ ، اس سے باز آجاوٴ، تمہارے ربّ کا حکم ہو چکا ہے اور اب ان لوگوں پر وہ عذاب آکر رہے گا جو کسی کے پھیرے نہیں پھر سکتا۔“84
اور جب ہمارے فرشتے لُوط کے پاس پہنچے85 تو اُن کی آمد سے وہ بہت گھبرایا اور دل تنگ ہوا اور کہنے لگا کہ ”آج بڑی مصیبت کا دن ہے۔“86
(ان مہمانوں کا آنا تھا کہ)اس کی قوم کے لوگ بے اختیار اس کے گھر کی طرف دَوڑ پڑے۔ پہلے سے وہ ایسی ہی بدکاریوں کے خوگر تھے۔ لُوط ؑ نے ان سے کہا” بھائیو، یہ میری بیٹیاں موجود ہیں، یہ تمہارے لیے پاکیزہ تر ہیں۔87 کچھ خدا کا خوف کرو اور میرے مہمانوں کے معاملہ میں مجھے ذلیل نہ کرو۔ کیا تم میں کوئی بھلا آدمی نہیں ؟“
انہوں نے جواب دیا”تجھے تو معلوم ہی ہے کہ تیری بیٹیوں میں ہمارا کوئی حصہ نہیں ہے88 اور تُو یہ بھی جانتا ہے کہ ہم چاہتے کیا ہیں۔“
لُوط ؑ نے کہا ”کاش میرے پاس اتنی طاقت ہوتی کہ تمہیں سیدھا کر دیتا، یا کوئی مضبوط سہارا ہی ہوتا کہ اس کی پناہ لیتا۔“
تب فرشتوں نے اس سے کہا کہ ”اے لُوط ؑ ، ہم تیرے ربّ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں، یہ لوگ تیرا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ بس تُو کچھ رات رہے اپنے اہل و عیال کو لے کر نِکل جا۔ اور دیکھو، تم میں سے کوئی شخص پیچھے پلٹ کر نہ دیکھے۔89 مگر تیری بیوی ( ساتھ نہیں جائے گی)کیونکہ اس پر بھی وہی کچھ گزرنے والا ہے جو اِن لوگوں پر گزرنا ہے۔90 ان کی تباہی کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے ۔۔۔۔ صبح ہوتے اب دیر ہی کتنی ہے!“
پھر جب ہمارے فیصلے کا وقت آپہنچا تو ہم نے اس بستی کو تل پٹ کر دیا اور اس پر پکی ہوئی مَٹی کے پتھر تابڑ توڑ برسائے91
جن میں سے ہر پتھر تیرے ربّ کے ہاں نشان زدہ تھا۔92 اور ظالموں سے یہ سزا کچھ دُور نہیں ہے93۔ ؏ ۷
84-95اور مَدیَن والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب ؑ کو بھیجا۔94 اُس نے کہا ”اے میری قوم کے لوگو، اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی خدا نہیں ہے۔ اور ناپ تول میں کمی نہ کرو۔ آج میں تم کو اچھے حال میں دیکھ رہا ہوں، مگر مجھے ڈر ہے کہ کل تم پر ایسا دن آئے گا جس کا عذاب سب کو گھیر لیے گا۔
اور اے برادرانِ قوم، ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ پُورا ناپو اور تولو اور لوگوں کو ان کی چیزوں میں گھاٹا نہ دیا کرو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔
اللہ کی دی ہوئی بچت تمہارے لیے بہتر ہے اگر تم مومن ہو۔ اور بہرحال میں تمہارے اوپر کوئی نگرانِ کار نہیں ہوں۔“95
انہوں نے جواب دیا ”اے شعیب ؑ ، کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی ہے96 کہ ہم اُن سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے؟ یا یہ کہ ہم کو اپنے مال میں اپنے منشا کے مطابق تصّرف کرنے کا اختیار نہ ہو؟97 بس تُو ہی تو ایک عالی ظرف اور راستباز آدمی رہ گیا ہے !“
شعیب ؑ نے کہا ”بھائیو، تم خود ہی سوچو کہ اگر میں اپنے ربّ کی طرف سے ایک کھُلی شہادت پر تھا اور پھر اس نے اپنے ہاں سے مجھ کو اچھا رزق بھی عطا کیا98(تو اس کے بعد میں تمہاری گمراہیوں اور حرام خوریوں میں تمہارا شریکِ حال کیسے ہوسکتا ہوں؟)۔ اور میں ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ جن باتوں سے میں تم کو روکتا ہوں ان کا خود ارتکاب کروں۔99 میں تو اصلاح کرنا چاہتا ہوں جہاں تک بھی میرا بس چلے۔ اور یہ جو کچھ میں کرنا چاہتا ہوں اس کا سارا انحصار اللہ کی توفیق پر ہے، اُسی پر میں نے بھروسہ کیا اور ہر معاملہ میں اسی کر طرف رُجوع کرتا ہوں۔
اور اے برادرانِ قوم، میرے خلاف تمہاری ہٹ دھرمی کہیں یہ نوبت نہ پہنچا دے کہ آخرِ کار تم پر بھی وہی عذاب آکر رہے جو نوح ؑ یا ہُود ؑ یا صالح ؑ کی قوم پر آیا تھا۔ اور ؑلُوط کی قوم تو تم سے کچھ زیادہ دُور بھی نہیں ہے۔100
دیکھو! اپنے ربّ سے معافی مانگو اور اس کی طرف پلٹ آوٴ، بے شک میرا ربّ رحیم ہے اور اپنی مخلوق سے محبت رکھتا ہے۔“101
انہوں نے جواب دیا ”اے شعیب ؑ ، تیری بہت سی باتیں تو ہماری سمجھ ہی میں نہیں آتیں۔102 اور ہم دیکھتے ہیں کہ تُو ہمارے درمیان ایک بے زور آدمی ہے، تیری برادری نہ ہوتی تو ہم کبھی کا تجھے سنگسار کر چکے ہوتے ، تیرا بل بوتا تو اتنا نہیں ہے کہ ہم پر بھاری ہو۔“103
شعیب ؑ نے کہا ”بھائیو، کیا میری برادری تم پر اللہ سے زیادہ بھاری ہے کہ تم نے (برادری کا تو خوف کیا اور )اللہ کو بالکل پسِ پُشت ڈال دیا؟ جان رکھو کہ جو کچھ تم کر رہے ہو وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے۔
اے میری قوم کے لوگو، تم اپنے طریقے پر کام کیے جاوٴ اور میں اپنے طریقے پر کرتا رہوں گا، جلدی ہی تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ کس پر ذلّت کا عذاب آتا ہے اور کون جھوٹا ہے ۔ تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ چشم براہ ہوں۔“
آخرِ کار جب ہمارے فیصلے کا وقت آگیا تو ہم نے اپنی رحمت سے شعیب ؑ اور اس کے ساتھی مومنوں کو بچا لیا اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو ایک سخت دھماکے نے ایسا پکڑا کہ وہ اپنی بستیوں میں بے حسّ و حرکت پڑے کے پڑے رہ گئے
گویا وہ کبھی وہاں رہے بسے ہی نہ تھے۔ سُنو ! مَدیَن والے بھی دُور پھینک دیے گئے جس طرح ثمود پھینکے گئے تھے۔ ؏ ۸
96-109اور موسیٰ ؑ کو ہم نے اپنی نشانیوں اور کھُلی کھُلی سَنَدِ ماموریّت کے ساتھ بھیجا،
فرعون اور اس کے اعیانِ سلطنت کی طرف مگر انہوں نے فرعون کے حکم کی پیروی کی حالانکہ فرعون کا حکم راستی پر نہ تھا۔
قیامت کے روز وہ اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور اپنی پیشوائی میں انہیں دوزخ کی طرف لے جائے گا۔104 کیسی بد تر جائے وُرُود ہے یہ جس پر کوئی پہنچے!
اور ان لوگوں پر دُنیا میں بھی لعنت پڑی اور قیامت کے روز بھی پڑے گی۔ کیسا بُرا صِلہ ہے یہ جو کسی کو ملے!
یہ چند بستیوں کی سرگزشت ہے جو ہم تمہیں سُنا رہے ہیں۔ ان میں سے بعض اب بھی کھڑی ہیں اور بعض کی فصل کٹ چکی ہے۔
ہم نے اُن پر ظلم نہیں کیا، انہوں نے آپ ہی اپنے اُوپر ستم ڈھایا۔ اور جب اللہ کا حکم آگیا تو ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پُکارا کرتے تھے ان کے کچھ کام نہ آسکے اور انہوں نے ہلاکت و بربادی کے سوا انہیں کچھ فائدہ نہ دیا۔
اور تیرا ربّ جب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو پھر اس کی پکڑ ایسی ہی ہُوا کرتی ہے، فی الواقع اس کی پکڑ بڑی سخت اور دردناک ہوتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ اس میں ایک نشانی ہے ہر اُس شخص کے لیے جو عذابِ آخرت کا خوف کرے۔105 وہ ایک دن ہوگا جس میں سب لوگ جمع ہوں گے اور پھر جو کچھ بھی اُس روز ہوگا سب کی آنکھوں کے سامنے ہوگا۔
ہم اس کے لانے میں کچھ بہت زیادہ تاخیر نہیں کر رہے ہیں، بس ایک گِنی چُنی مُدّت اس کے لیے مقرر ہے۔
جب وہ آئے گا تو کسی کو بات کرنے کی مجال نہ ہوگی، اِلّا یہ کہ خدا کی اجازت سے کچھ عرض کرے ۔106 پھر کچھ لوگ اس روز بد بخت ہوں گے اور کچھ نیک بخت۔
جو بد بخت ہوں گے وہ دوزخ میں جائیں گے (جہاں گرمی اور پیاس کی شدت سے) وہ ہانپیں گے اور پھُنکارے ماریں گے
اور اسی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے جب تک کہ زمین و آسمان قائم ہیں،107اِّلا یہ کہ تیرا ربّ کچھ اور چاہے۔ بے شک تیرا ربّ پُورا اختیار رکھتا ہے کہ جو چاہے کرے۔ 108
رہے وہ لوگ جو نیک بخت نکلیں گے، تو وہ جنّت میں جائیں گے اور وہاں ہمیشہ رہیں گے جب تک زمین و آسمان قائم ہیں، اِلّا یہ کہ تیرا ربّ کچھ اور چاہے۔109ایسی بخشش ان کو ملے گی جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا۔
پس اے نبی ؐ، تُو ان معبودوں کی طرف سے کسی شک میں نہ رہ جن کی یہ لوگ عبادت کر رہے ہیں۔ یہ تو (بس لکیر کے فقیر بنے ہوئے) اُسی طرح پُوجا پاٹ کیے جارہے ہیں جس طرح پہلے ان کے باپ دادا کرتے تھے،110 اور ہم ان کا حصہ انہیں بھر پور دیں گے بغیر اس کے کہ اس میں کچھ کاٹ کسر ہو۔ ؏ ۹
110-123ہم اِس سے پہلے موسیٰ ؑ کو بھی کتاب دے چکے ہیں اور اس کے بارے میں بھی اختلاف کیا گیا تھا( جس طرح آج اِس کتاب کے بارے میں کیا جا رہا ہے جو تمہیں دی گئی ہے)111۔ اگر تیرے ربّ کی طرف سے ایک بات پہلے ہی طے نہ کر دی گئی ہوتی تو اِن اختلاف کرنے والوں کے درمیان کبھی کا فیصلہ چُکا دیا گیا ہوتا۔112
یہ واقعہ ہے کہ یہ لوگ اِس کی طرف سے شک اور خلجان میں پڑے ہوئے ہیں اور یہ بھی واقعہ ہے کہ تیرا ربّ انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے کر رہے گا، یقیناً وہ ان کی سب حرکتوں سے باخبر ہے۔
پس اے محمد ؐ ، تم، اور تمہارے وہ ساتھی جو (کُفر و بغاوت سے ایمان و طاعت کی طرف) پلٹ آئے ہیں، ٹھیک ٹھیک راہِ راست پر ثابت قدم رہو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے۔ اور بندگی کی حد سے تجاوز نہ کرو۔ جو کچھ تم کر رہے ہو اس پر تمھارا رب نگاہ رکھتا ہے۔
ان ظالموں کی طرف زرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آجاوٴ گے اور تمھیں کوئی ایسا ولی اور سرپرست نہ ملے گا جو خدا سے تمھیں بچا سکے اور کہیں سے تم کو مدد نہ پہچ سکے گی۔
اور دیکھو، نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے پر۔113 در حقیقت نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں، یہ ایک یاد دہانی ہے ان لوگوں کے لئے جو خدا کو یاد رکھنے والے ہیں۔114
اور صبر کر، اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا۔
پھر کیوں نہ اُن قوموں میں جو تم سے پہلے گُزر چکی ہیں ایسے اہلِ خیر موجود رہے جو لوگوں کو زمین میں فساد برپا کرنے سے روکتے؟ ایسے لوگ نکلے بھی تو بہت کم، جن کو ہم نے ان قوموں میں سے بچا لیا ، ورنہ ظالم لوگ تو انہی مزوں کے پیچھے پڑے رہے جن کے سامان انہیں فراوانی کے ساتھ دیے گئے تھے اور وہ مجرم بن کر رہے۔
تیرا ربّ ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ناحق تباہ کر دے حالانکہ ان کے باشندے اصلاح کرنے والے ہوں۔115
بے شک تیرا ربّ اگر چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک گروہ بنا سکتا تھا، مگر اب تو وہ مختلف طریقوں ہی پر چلتے رہیں گے
اور بے راہ رویوں سے صرف وہ لوگ بچیں گے جن پر تیرے ربّ کی رحمت ہے۔ اِسی (آزادیِ انتخاب و اختیار)کے لیے ہی تو اس نے انہیں پیدا کیا تھا۔116 اور تیرے ربّ کی وہ بات پوری ہوگئی جو اس نے کہی تھی کہ میں جہنّم کو جِن اور انسانوں سے بھر دوں گا۔
اور اے محمد ؐ ، یہ پیغمبروں کے قصے جو ہم تمہیں سُناتے ہیں ، یہ وہ چیزیں ہیں جن کے ذریعہ سے ہم تمہارے دل کو مضبُوط کرتے ہیں۔ ان کے اندر تم کو حقیقت کا علم مِلا اور ایمان لانے والوں کو نصیحت اور بیداری نصیب ہوئی۔
رہے وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے، تو ان سے کہہ دو کہ تم اپنے طریقے پر کام کرتے رہو اور ہم اپنے طریقے پر کیے جاتے ہیں،
انجامِ کار کا تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی منتظر ہیں۔
آسمانوں اور زمین میں جو کچھ چھُپا ہوا ہے سب اللہ کے قبضہء قدرت میں ہے اور سارا معاملہ اسی کی طرف رُجوع کیا جاتا ہے۔ پس اے نبی ؐ ، تُو اُسی کی بندگی کر اور اُسی پر بھروسا رکھ، جو کچھ تم لوگ کر رہے ہو تیرا ربّ اس سے بے خبر نہیں ہے۔117 ؏ ۱۰