﻿<?xml version="1.0" encoding="UTF-8"?>

<body style="font-family: 'Jameel Noori Nastaleeq';text-align: justify;direction: rtl;font-size: 22px;">

<div id="1"><p>سورۃ الفاتحۃ </p>
<p> </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا[1] ہے۔ {۱}</p>
<p> تعریف اللہ ہی کے لیے ہے[2] جو تمام کائنات کا رب[3] ہے ،{۲}</p>
<p>نہایت مہربان اور رحم فرمانے والا[4] ہے،{۳}</p>
<p>روز جزا کا مالک[5] ہے ۔{۴} </p>
<p>ہم تیری ہی عبادت[6] کرتے ہیں اورتجھی سے مدد مانگتے ہیں۔[7]{۵}</p>
<p> ہمیں سیدھا راستہ دکھا[8] ،{۶}</p>
<p>اُن لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا،[9] جو معتوب نہیں ہوئے، جو بھٹکے ہوئے نہیں ہیں[10] ۔{۷}</p>

</div><div id="2"><p>سورۃ البقرۃ </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ </p>
<p>الف لام میم [1]{۱} </p>
<p>یہ اللہ کی کتاب ہے، اس میں کوئی شک نہیں [2]  ہدایت ہے اُن پرہیز گار لوگوں کے لیے[3]{۲} </p>
<p> جو غیب پر ایمان لاتے[4] ہیں، نماز قائم کرتے ہیں،[5] جو رزق ہم نے اُن کو دیا ہے، اُس میں سے خرچ کرتے ہیں[6] {۳} </p>
<p>جو کتاب تم پر نازل کی گئی ہے (یعنی قرآن) اور جو کتابیں تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں ان سب پر ایمان لاتے ہیں[7] اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔[8]{۴} </p>
<p>ایسے لوگ اپنے رَبّ کی طرف سے راہ راست پر ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں۔{۵} </p>
<p>جن لوگوں نے (اِن باتوں کو تسلیم کرنے سے ) انکار کردیا [9]، اُن کے لیے یکساں ہے ، خواہ تم اُنہیں خبردار کرویانہ کرو، بہر حال وہ ماننے والے نہیں ہیں ۔{۶} </p>
<p>اللہ نے اُن کے دلوں اور اُن کے کانوں پر مہر لگادی[10] ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑگیا ہے۔ وہ سخت سزا کے مستحق ہیں ۔{۷}</p>
<p>اوربعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ہیں ، حالانکہ درحقیقت وہ مومن نہیں ہیں۔{۸}</p>
<p> وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کررہے ہیں ، مگردراصل وہ خود اپنے آ پ ہی کودھوکے میں ڈال رہے ہیں اور اُنہیں اُس کا شعور نہیں[11] ہے۔ {۹}</p>
<p>ان کے دلوں میں ایک بیماریہے جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھادیا [12]اور جو جُھوٹ وہ بولتے ہیں ،اُس کی پاداش میں اُن کے لیے دردناک سزا ہے ۔{۱۰}</p>
<p> جب کبھی ان سے کہاگیا کہ زمین میں فساد برپانہ کرو، تو انہوں نے یہی کہا کہ ’’ ہم تو اِصلاح کرنے والے ہیں‘‘۔{۱۱}</p>
<p>خبردار !حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر اُنہیں شعور نہیں ہے۔{ ۱۲}</p>
<p> اور جب اُن سے کہا گیا کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں اُسی طرح تم بھی ایمان[13] لا ؤ تو اُنہوں نے یہی جواب دیا کہ ’’ کیا ہم بیوقوفوں کی طرح ایمان لائیں‘‘؟[14] خبردار ! حقیقت میں تو یہ خود بیوقوف ہیں ، مگر یہ جانتے نہیں ہیں۔ {۱۳}</p>
<p>جب یہ اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ’’ ہم ایمان لائے ہیں ‘‘ اور جب علیٰحد گی میں اپنے شیطانوں [15]سے ملتے ہیں ، تو کہتے ہیں کہ ’’اصل میں تو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور اِن لوگوں سے محض مذاق کررہے ہیں‘‘۔{ ۱۴}</p>
<p>اللہ اِن سے مذاق کررہاہے، وہ اِن کی رسی دراز کئے جاتا ہے ، اور یہ اپنی سَرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جاتے ہیں۔{۱۵}</p>
<p>یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے ، مگر یہ سودا ان کے لیے نفع بخش نہیں ہے اور یہ ہر گز صحیح راستے پر نہیں ہیں۔{۱۶}</p>
<p> ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ روشن کی اور جب اس نے سارے ماحول کو روشن کردیا تو اللہ نے ان کا نور بصارت سلب کرلیا اور اُنہیں اِس حال میں چھوڑ دیا کہ تاریکیوں میں اُنہیں کچھ نظر نہیں آتا [16]{۱۷}</p>
<p> یہ بہرے ہیں ، گو نگے ہیں، اندھے ہیں [17]، یہ اب نہ پلٹیں گے۔{۱۸}</p>
<p> یاپھر ان کی مثال یوں سمجھو کہ آسمان سے زور کی بارش ہورہی ہے اور اس کے ساتھ اندھیری گھٹا اور کڑک اور چمک بھی ہے ،یہ بجلی کے کڑا کے سن کر اپنی جانوں کے خوف سے کانوں میں اُنگلیاں ٹھونسے لیتے ہیں ،اور اللہ ان منکرین حق کو ہر طرف سے گھیرے میں لیے ہوئے ہے[18]{۱۹}</p>
<p> چمک سے ان کی حالت یہ ہورہی ہے کہ گویا عنقریب بجلی اِن کی بصارت اُچک لے جائے گی، جب ذراکچھ روشنی اِنہیں محسوس ہوتی ہے تو اُس میں کچھ دور چل لیتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا چھاجاتا ہے تو کھڑے ہوجاتے ہیں[19]۔ اللہ چاہتا تو ان کی سماعت اور بصارت بالکل ہی سلب کرلیتا [20]، یقینا اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔{۲۰}</p>
<p>لوگو! [21]بندگی اختیار کرو اپنے اُس رَبّ کی جو تمہارا اور تم سے پہلے جو لوگ ہو گزرے ہیں اُن سب کا خالق ہے، تمہارے بچنے کی توقع [22] اِسی صُورت سے ہوسکتی ہے۔ {۲۱}</p>
<p>وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کا فرش بچھایا، آسمان کی چھت بنائی ، اُوپر سے پانی برسایا اور اس کے ذریعے سے ہر طرح کی پیداوار نکال کر تمہارے لیے رزق بہم پہنچایا۔ پس جب تم یہ جانتے ہو تو دوسروں کو اللہ کا مدِ مقابل[23] نہ ٹھہرا ؤ ۔ {۲۲}</p>
<p> اور اگر تمہیں اِس امر میں شک ہے کہ یہ کتاب(قرآنِ مجید) جو ہم نے اپنے بندے (نبی  ؐ)پر اُتاری ہے ، (یہ ہماری ہے یا نہیں)، تو اِس کے مانند ایک ہی سُورت بنالا ؤ ، اپنے سارے ہم نوا ؤں کو بُلا لو ، ایک اللہ کو چھوڑ کر باقی جس جس کی چاہو ، مدد لے لو ، اگر تم سچے ہو تو یہ کام کرکے دکھاؤ۔[24] {۲۳}</p>
<p> لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا ، اور یقیناکبھی نہیں کرسکتے تو ڈرو اُس آگ سے ، جس کا ایندھن بنیں گے انسان اور پتھر،[25] جو مہیا کی گئی ہے منکرین ِحق کے لیے۔  { ۲۴}</p>
<p>اور( اے پیغمبر ؐ!) جو لوگ اس کتاب پر ایمان لے آئیں اور (اس کے مطابق ) اپنے عمل درست کرلیں، اُنہیں خوشخبری دے دو کہ اُن کے لیے ایسے باغ ہیں ،جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ اُن باغوں کے پھل صورت میں دنیا کے پھلوں سے ملتے جُلتے ہوں گے۔ جب کوئی پَھل اُنہیں کھانے کو دیا جائے گا تو وہ کہیں گے کہ ایسے ہی پَھل اِس سے پہلے دنیا میں ہم کو دیے جاتے تھے۔ [26] اُن کے لیے وہاں پاکیزہ بیویاں ہوں گی،[27] اور وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے۔ {۲۵}</p>
<p>ہاں، اللہ اِس سے ہر گز نہیں شرماتا کہ مچھر یا اس سے بھی حقیر ترکسی چیز کی تمثیلیں [28]دے۔جو لوگ حق بات کو قبول کرنے والے ہیں ، وہ اِنہی تمثیلوں کو دیکھ کر جان لیتے ہیں کہ یہ حق ہے جواُن کے رَبّ ہی کی طرف سے آیا ہے ،اور جو ماننے والے نہیں ہیں، وہ اِنہیں سُن کر کہنے لگتے ہیں کہ ایسی تمثیلوں سے اللہ کو کیا سروکار؟ اِس طرح اللہ ایک ہی بات سے بہتوں کو گمراہی میں مبتلا کردیتا ہے اور بہتوں کو راہِ راست دکھا دیتا ہے۔[29] اور اُس سے گمراہی میں وہ اُنہی کو مبتلا کرتا ہے جو فاسق[30] ہیں{۲۶}</p>
<p> اللہ کے عہد کو مضبُوط باندھ لینے کے بعد توڑ دیتے ہیں [31]،اللہ نے جسے جوڑ نے کا حکم دیا ہے اُسے کاٹتے ہیں[32]، ور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں۔[33] حقیقت میں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔ {۲۷}</p>
<p> تم اللہ کے ساتھ کُفر کا رَویہّ کیسے اختیار کرتے ہو ، حالانکہ تم بے جان تھے ، اُس نے تم کو زندگی عطا کی ، پھر وہی تمہاری جان سَلْب کرے گا، پھر وہی تمہیں دوبارہ زِندگی عطا کرے گا ، پھر اِسی کی طرف تمہیں پلٹ کر جانا ہے۔{۲۸}</p>
<p> وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کی ساری چیزیں پیداکیں ، پھر اُوپر کی طرف توجہّ فرمائی اور سات آسمان[34] استوار کیے۔ اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔[35]{۲۹}</p>
<p>پھر ذرا [36] اُس وقت کا تصّور کرو جب تمہارے رَبّ نے فرشتوں[37] سے کہا تھا کہ ’’ میں زمین میں ایک خلیفہ [38]بنانے والا ہوں‘‘۔ اُنہوں نے عرض کیا: ’’کیا آپ زمین میں کسی ایسے کو مقرر کرنے والے ہیں جو اُس کے اِنتظام کو بگاڑ دے گا اور خونریزیاں کرے [39]گا؟ آپ کی حمد وثنا کے ساتھ تسبیح اور آپ کی تقدیس تو ہم کرہی رہے [40]ہیں‘‘ فرمایا: ’’ میں جانتا ہوں، جو کچھ تم نہیں جانتے ‘‘ ۔[41]{۳۰}</p>
<p>اس کے بعد اللہ نے آدمؑ کو ساری چیزوں کے نام سکھائے ،[42]پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا: ’’ اگر تمہارا خیال صحیح ہے ( کہ کسی خلیفہ کے تقرّر سے اِنتظام بگڑ جائے گا)  ،تو ذرا مجھے اِن چیزوں کے نام بتا ؤ ‘‘ ۔{۳۱}</p>
<p> اُنہوں نے عرض کیا :’’ نقص سے پاک تو آپ ہی کی ذات ہے ، ہم تو بس اُتنا ہی علم رکھتے ہیں،جتنا آپ نے ہم کو دے دیا[43] ہے ۔ حقیقت میں سب کچھ جاننے اور سمجھنے والا آپ کے سوا کوئی نہیں ‘‘{۳۲}</p>
<p>پھر اللہ نے آدم ؑسے کہا: ’’ تم انہیں اِن چیزوں کے نام بتا ؤ۔ ‘‘ جب اس نے ان کو ان سب کے نام بتادیے ،[44] تو اللہ نے فرمایا:’’ میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی وہ ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں، جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو، وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو ، اسے بھی میں جانتا ہوں ‘‘۔ {۳۳}</p>
<p> پھر جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدمؑ کے آگے جھک جا ؤ، تو سب[45] جھک گئے، مگر اِبلیس [46]نے اِنکار کیا۔ وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں پڑگیا اور نافرمانوں میں شامل ہوگیا۔[47]{ ۳۴}</p>
<p> پھر ہم نے آدم ؑسے کہا کہ ’’ تم اور تمہاری بیوی ، دونوں جنّت میں رہو اور یہاں بفراغت جو چاہو کھا ؤ ، مگر اِس درخت کا رخ نہ کرنا ،[48]ورنہ ظالموں [49]میں شمار ہوگے‘‘۔{۳۵}</p>
<p> آخر کار شیطان نے ان دونوں کو اُس درخت کی ترغیب دے کر ہمارے حکم کی پیروی سے ہٹا دیا اور انہیں اُس حالت سے نکلو اکر چھوڑا جس میں وہ تھے۔ ہم نے حکم دیا کہ ’’اب تم سب یہاں سے اتر جا ؤ ، تم ایک دوسرے کے دشمن[50] ہو اور تمہیں ایک خاص وقت تک زمین میں ٹھہرنا اور وہیں گزر بسر کرنا ہے۔ ‘‘{۳۶}</p>
<p> اُس وقت آدم ؑنے اپنے رَبّ سے چند کلمات سیکھ کر توبہ کی ،[51] جس کو اُس کے رَبّ نے قبول کرلیا ، کیونکہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔[52]{۳۷}</p>
<p>ہم نے کہا کہ ’’تم سب یہاں سے اتر جا ؤ ۔[53] پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے تو جو لوگ میری اُس ہدایت کی پیروی کریں گے ، اُن کے لیے کسی خوف ورنج کا موقع نہ ہوگا،{۳۸}</p>
<p> اور جو اس کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ہماری آیات[54] کو جھٹلائیں گے ، وہ آگ میں جانے والے ہیں ، جہاں وہ ہمیشہ رہیں[55] گے ‘‘۔ {۳۹}</p>
<p>اے بنی اسرائیل! [56] ذرا خیال کرو میری اس نعمت کا جومیں نے تم کو عطا کی تھی ۔میرے ساتھ تمہارا جو عہد تھا اُسے تم پورا کرو تو میرا جو عہد تمہارے ساتھ تھا اُسے میں پورا کروں ، اور مجھ ہی سے تم ڈرو{ ۴۰}</p>
<p> اور میں نے جو کتاب بھیجی ہے اس پر ایمان لا ؤ ۔ یہ اُس کتاب کی تائید میں ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود تھی، لہٰذا سب سے پہلے تم ہی اُس کے منکرنہ بن جا ؤ ، تھوڑی قیمت پر میری آیات کو نہ بیچ [57]ڈالو ،اورمیرے غضب سے بچو۔{۴۱}</p>
<p> باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بنا ؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کوچھپانے کی کوشش کرو۔[58]{ ۲ ۴}</p>
<p>نماز قائم کرو ، زکوٰۃ دو[59]، اور جو لوگ میرے آگے جُھک رہے ہیں ان کے ساتھ تم بھی جھک جا ؤ۔ {۴۳}</p>
<p>تم دوسروں کو تونیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لیے کہتے ہو، مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟ حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو ۔ کیا تم عقل سے بالکل ہی کام نہیں لیتے؟{۴۴}</p>
<p> صبر اور نماز سے مدد[60] لو ، بیشک نماز ایک سخت مشکل کام ہے ، مگراُن فرماں بردار بندوں کے لیے مشکل نہیں ہے{۴۵}</p>
<p> جو سمجھتے ہیں کہ آخر کارانہیں اپنے رَبّ سے ملنا اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے ۔[61]{۴۶}</p>
<p>  اے بنی اسرائیل! یاد کرو میری اُس نعمت کو ، جس سے میں نے تمہیں نوازا تھا اور اس بات کو کہ میں نے تمہیں دنیا کی ساری قوموں پر فضیلت عطا کی تھی۔[62] {۴۷}</p>
<p> اور ڈرو اُس دن سے جب کوئی کسی کے ذرا کام نہ آئے گا ، نہ کسی کی طرف سے سفارش قبول ہوگی ، نہ کسی کو فدیہ لے کر چھوڑا جائے گا، اور نہ مجرموں کو کہیں سے مدد مِل سکے گی۔[63]{۴۸}</p>
<p>  یادکرو وہ [64]وقت،جب ہم نے تم کو فرعونیوں [65] کی غلامی سے نجات بخشی ۔ اُنہوں نے تمہیں سخت عذاب میں مبتلا کررکھا تھا ، تمہارے لڑکوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس حالت میں تمہارے رَبّ کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی۔ [66]{۴۹}</p>
<p> یاد کرو وہ وقت ، جب ہم نے سمندر پھاڑکر تمہارے لیے راستہ بنایا ، پھر اس میں سے تمہیں بخیریت گزروادیا ، پھر وہیں تمہاری آنکھوں کے سامنے فرعونیوں کو غرقاب کیا۔{۵۰}</p>
<p>یاد کرو ، جب ہم نے موسیٰ  ؑ کو چالیس شبانہ روز کی قرار داد پر بُلا یا ،[67] تو اس کے پیچھے تم بچھڑے کو اپنا معبُود بنا[68]بیٹھے۔ اس وقت تم نے بڑی زیادتی کی تھی، {۵۱}</p>
<p>مگر اس پر بھی ہم نے تمہیں معاف کردیا کہ شاید اب تم شکر گزار بنو۔{ ۵۲}</p>
<p>یاد کرو کہ (ٹھیک اُس وقت جب تم یہ ظلم کررہے تھے)  ہم نے موسیٰ  ؑکو کتاب اور فُرقان [69] عطا کی تا کہ تم اِس کے ذریعے سے سیدھا راستہ پاسکو۔ { ۵۳}</p>
<p>یاد کرو جب موسیٰ ؑ(یہ نعمت لیے ہوئے پلٹا ، تو اُس ) نے اپنی قوم سے کہا کہ ’’ لوگو! تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنے اُوپر سخت ظلم کیا ہے ، لہٰذا تم لوگ اپنے خالق کے حضور توبہ کرو اور اپنی جانوں کو ہلاک کرو[70]  اِسی میں تمہارے خالق کے نزدیک تمہاری بہتری ہے۔ ‘‘ اُس وقت تمہارے خالق نے تمہاری توبہ قبول کرلی کہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔{ ۵۴}</p>
<p>یاد کرو جب تم نے موسیٰؑ سے کہا تھا کہ ہم تمہارے کہنے کا ہر گز یقین نہ کریں گے ،جب تک کہ اپنی آنکھوں سے علانیہ اللہ کو ( تم سے کلام کرتے) نہ دیکھ لیں ۔ اس وقت تمہارے دیکھتے دیکھتے ایک زبردست کڑکے نے تم کو آلیا ۔{۵۵}</p>
<p> تم بے جان ہوکر گرچکے تھے ، مگر پھر ہم نے تم کو جِلا اُٹھایا،[71] شاید کہ اس احسان کے بعد تم شکر گزار بن جا ؤ۔{۵۶}</p>
<p>ہم نے تم پر ابرکا سایہ[76] کیا ، مَنْ وسلویٰ کی غذا تمہارے لیے فراہم کی [73]اور تم سے کہا کہ جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں بخشی ہیں ، اُنہیں کھا ؤ، (مگر تمہارے اسلاف نے جو کچھ کیا)وہ ہم پر اُن کا ظلم نہ تھا ، بلکہ اُنہوں نے آپ اپنے ہی اوپر ظلم کیا ۔{۵۷}</p>
<p>  پھر یاد کرو جب ہم نے کہا تھا کہ ’’ یہ بستی[74] ( جو تمہارے سامنے ہے )  اِس میں داخل ہوجا ؤ ، اِس کی پیداوار ، جس طرح چاہو، مزے سے کھا ؤ ، مگر بستی کے دروازے میں سجدہ ریز ہوتے ہوئے داخل ہونا اور کہتے جانا حِطَّۃٌ حِطَّۃ ٌ،[75] ہم تمہاری خطا ؤں سے درگزر کریں گے اور نیکو کاروں کو مزید فضل و کرم سے نوازیں گے‘‘ ۔{۵۸}</p>
<p> مگر جو بات اُن سے کہی گئی تھی ،ظالموں نے اسے بدل کر کچھ اور کردیا۔ آخر کا ر ہم نے ظلم کرنے والوں پر آسمان سے عذاب نازل کیا۔ یہ سزا تھی اُن نافرمانیوں کی ، جووہ کررہے تھے۔{۵۹}</p>
<p> یاد کرو ، جب موسیٰؑ نے اپنی قوم کے لیے پانی کی دعا کی تو ہم نے کہا کہ فلاں چٹان پر اپنا عصامارو ، چنانچہ اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے[76] اور ہر قبیلے نے جان لیا کہ کونسی جگہ اس کے پانی لینے کی ہے۔ ( اُس  وقت یہ ہدایت کردی گئی تھی کہ ) اللہ کا دیا ہوا رزق کھا ؤ پیو، اور زمین میں فسادنہ پھیلاتے پھرو۔{۶۰}</p>
<p>یاد کرو ، جب تم نے کہا تھا کہ ’’ اے موسیٰ  ؑ!ہم ایک ہی طرح کے کھانے پر صبر نہیں کرسکتے ۔ اپنے رَبّ سے دعا کرو کہ ہمارے لیے زمین کی پیداوار ، ساگ ، ترکاری ، کھیرا، ککڑی،گیہوں ، لہسن ، پیاز ، دال وغیرہ پیدا کرے‘‘۔تو موسیٰ  ؑ نے کہا: ’’کیا ایک بہتر چیز کے بجائے تم ادنیٰ درجے کی چیزیں لینا چاہتے [77]ہو؟ اچھا ، کسی شہری آبادی میں جارہو ۔ جو کچھ تم مانگتے ہو وہاں مل جائے گا ‘ ‘۔ آخر کار نوبت یہاں تک پہنچی کہ ذِلّت و خواری اور پستی و بَدحالی اُن پر مسلّط ہوگئی اور وہ اللہ کے غضب میں گِھرگئے ۔ یہ نتیجہ تھا اِس کا کہ وہ اللہ کی آیات سے کفر[78]کرنے لگے اور پیغمبروں کو ناحق قتل [79]کرنے لگے ۔ یہ نتیجہ تھا اُن کی نافرمانیوں کا اور اس بات کا کہ و ہ حدُودِ شرع سے نِکل نِکل جاتے تھے۔{۶۱}</p>
<p>  یقین جانو کہ نبی عربی ؐ  کو ماننے والے ہوں یا یہودی ، عیسائی ہوں یا صابی ، جو بھی اللہ اور روزِآخر پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا ، اُس کا اجراس کے رَبّ کے پاس ہے اور اُس کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے ۔[80]{ ۶۲}</p>
<p>یاد کرو وہ وقت ، جب ہم نے طُور کو تم پر اٹھا کرتم سے پختہ عہد لیا تھا اور کہا [81]تھا کہ ’’جو کتاب ہم تمہیں دے رہے ہیں اسے مضبوطی کے ساتھ تھا منا اور جو احکام وہدایات اس میں درج ہیں انہیں یاد رکھنا، اِسی ذریعے سے توقع کی جاسکتی ہے کہ تم تقویٰ کی رَوِش پر چل سکوگے ‘‘۔ {۶۳}</p>
<p>مگر اس کے بعد تم اپنے عہد سے پھر گئے۔ اِس پر بھی اللہ کے فضل اور اس کی رحمت نے تمہارا ساتھ نہ چھوڑا ، ورنہ تم کبھی کے تباہ ہوچکے ہوتے۔{ ۶۴}</p>
<p> پھر تمہیں اپنی قوم کے اُن لوگوں کا قِصّہ تو معلوم ہی ہے جنہوں نے سَبْت [82]کاقانون توڑا تھا۔ ہم نے انہیں کہہ دیا کہ بندربن جا ؤاور اس حال میں رہوکہ ہرطرف سے تم پر دُھتکار پھٹکار پڑے۔[83]{۶۵}</p>
<p> اس طرح ہم نے اُن کے انجام کو اس زمانے کے لوگوں اور بعد کی آنے والی نسلوں کے لیے  عبرت اور ڈرنے والوں کے لیے نصیحت بناکر چھوڑا۔{۶۶}</p>
<p>پھر وہ واقعہ یاد کرو ، جب موسیٰ  ؑ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے۔ کہنے لگے کیا تم ہم سے مذاق کرتے ہو؟ موسیٰ  ؑ ؑنے کہا میں اِس سے اللہ کی پناہ مانگتاہوں کہ جاہلوں کی سی باتیں کروں۔{۶۷}</p>
<p> بولے، اچھا اپنے رَبّ سے درخواست کرو کہ وہ ہمیں اس گائے کی کچھ تفصیل بتائے ۔ موسیٰ  ؑ نے کہا اللہ کا ارشاد ہے کہ وہ ایسی گائے ہونی چاہئے جو نہ بوڑھی ہو نہ بَچْھیا، بلکہ اوسط عمر کی ہو۔ لہٰذا جو حکم دیا جاتا ہے اس کی تعمیل کرو۔ {۶۸}</p>
<p> پھر کہنے لگے اپنے رَبّ سے یہ اور پوچھ دو کہ اس کا رنگ کیسا ہو۔ موسیٰ  ؑنے کہا وہ فرماتا ہے زرد رنگ کی گائے ہونی چاہیے، جس کا رنگ ایسا شوخ ہوکہ دیکھنے والوں کاجی خوش ہوجائے۔{۶۹}</p>
<p> پھر بولے اپنے رَبّ سے صاف صاف پوچھ کربتا ؤ کیسی گائے مطلوب ہے ، ہمیں اس کی تعیین میں اشتباہ ہوگیا ہے ۔ اللہ نے چاہا تو ہم اس کا پتہ پالیں گے۔{ ۷۰}</p>
<p> موسیٰ  ؑنے جواب دیا : اللہ کہتا ہے کہ وہ ایسی گائے ہے جس سے خدمت نہیں لی جاتی ، نہ زمین جوتتی ہے نہ پانی کھینچتی ہے ، صحیح سالم اور بے داغ ہے ۔ اس پر وہ پکاراُٹھے کہ ہاں ، اب تم نے ٹھیک پتہ بتایا ہے۔ پھر انہوں نے اسے ذبح کیا ، ورنہ وہ ایسا کرتے معلوم نہ ہوتے تھے ۔[84]{۷۱}</p>
<p>اور تمہیں یاد ہے وہ واقعہ جب تم نے ایک شخص کی جان لی تھی ، پھر اس کے بارے میں جھگڑنے اور ایک دوسرے پر قتل کا الزام تھوپنے لگے تھے اور اللہ نے فیصلہ کرلیا تھا کہ جو کچھ تم چھپاتے ہو ، اسے کھول کر رکھ دے گا۔ {۷۲}</p>
<p>اُس وقت ہم نے حکم دیا کہ مقتول کی لاش کو اُس کے ایک حصے سے ضرب لگا ؤ۔ دیکھو ، اِس طرح اللہ مُردوں کو زندگی بخشتا ہے اور تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تا کہ تم سمجھو۔[85]{ ۷۳}</p>
<p>مگر ایسی نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی آخر کار تمہارے دل سخت ہوگئے ، پتھروں کی طرح سخت ، بلکہ سختی میں کچھ ان سے بھی بڑھے ہوئے ، کیونکہ پتھروں میں سے تو کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جس میں سے چشمے پھوٹ بہتے ہیں ، کوئی پھٹتا ہے اور اس میں سے پانی نکل آتا ہے ، اور کوئی اللہ کے خوف سے لرز کر گر بھی پڑتا ہے ، اللہ تمہارے کرتوتوں سے بے خبرنہیں ہے ۔{ ۷۴}</p>
<p>( اے مسلمانو! ) اب کیا اِن لوگوں سے تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ تمہاری دعوت پر ایمان لے آئیں گے ؟ [86]حالانکہ اُن میں سے ایک گروہ کاشیوہ یہ رہا ہے کہ اللہ کا کلام سُنا اور پھر خوب سمجھ بوجھ کر دانستہ اس میں تحریف کی۔[87]{۷۵}</p>
<p> (محمد رسول اللہ  ؐ پر ) ایمان لانے والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی اُنہیں مانتے ہیں ، اور جب آپس میں ایک دوسرے سے تخلیے کی بات چیت ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ بیوقوف ہوگئے ہو؟ اِن لوگوں کو وہ باتیں بتاتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں تاکہ تمہارے رَبّ کے پاس تمہارے مقابلے میں اُنہیں حجت میں پیش کریں؟[88]{۷۶}</p>
<p>اور کیا یہ جانتے نہیں ہیں کہ جو کچھ یہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہرکرتے ہیں ، اللہ کو سب باتوں کی خبر  ہے ؟ {۷۷}</p>
<p> اِن میں ایک دوسرا گروہ اُمیّوں کا ہے، جو کتاب کا تو علم رکھتے نہیں ، بس اپنی بے بنیاد امیدوں اور آرزو ؤں کو لیے بیٹھے ہیں اور محض وہم وگمان پر چلے جارہے ہیں۔[89]{۷۸}</p>
<p>پس ہلاکت اور تباہی ہے اُن لوگوں کے لیے جو اپنے ہاتھوں سے شرع کا نوشتہ لکھتے ہیں پھر لوگوں سے کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس سے آیا ہوا ہے تا کہ اس کے معاوضے میں تھوڑا سافائدہ حاصل کرلیں۔[90] ان کے ہاتھوں کا یہ لکھا بھی ان کے لیے تباہی کا سامان ہے اور ان کی یہ کمائی بھی ان کے لیے موجب ہلاکت ہے ۔{۷۹}</p>
<p> وہ کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں ہر گز چھونے والی نہیں ا ِ لّایہ کہ چندروز کی سزامل جائے تومل جائے۔[91] ان سے پوچھو ، کیا تم نے اللہ سے کوئی عہدلے لیا ہے جس کی خلاف ورزی وہ نہیں کرسکتا ؟ یابات یہ ہے کہ تم اللہ کے ذمّے ڈال کر ایسی باتیں کہہ دیتے ہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ اس نے ان کا ذمّہ لیا  ہے ؟{۸۰}</p>
<p> آخر تمہیں دوزخ کی آگ کیوں نہ چھوئے گی ؟ جو بھی بدی کمائے گا اور اپنی خطا کاری کے چکّر میں پڑا رہے گا، وہ دوزخی ہے اور دوزخ ہی میں وہ ہمیشہ رہے گا ۔{۸۱}</p>
<p> اور جو لوگ ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے وہی جنتی ہیں اور جنّت میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ { ۸۲}</p>
<p>  یاد کرو ، اسرائیل کی اولاد سے ہم نے پختہ عہد لیا تھا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا ، ماں باپ کے ساتھ، رشتے داروں کے ساتھ ،یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ نیک سلوک کرنا ، لوگوں سے بھلی بات کہنا، نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا ، مگر تھوڑے آدمیوں کے سواتم سب اس عہد سے پھر گئے اور اب تک پھرے ہوئے ہو۔{ ۸۳}</p>
<p> پھر ذرا یاد کرو ، ہم نے تم سے مضبوط عہد لیا تھا کہ آپس میں ایک دوسرے کا خون نہ بہانا اور نہ ایک دوسرے کو گھر سے بے گھر کرنا ۔تم نے اِس کا اقرارکیا تھا، اورتم خود اس پر گواہ ہو۔{ ۸۴}</p>
<p> مگر آج وہی تم ہو کہ اپنے بھائی بندوں(قرابت داروں ) کو قتل کرتے ہو ، اپنی برادری کے کچھ لوگوں کو بے خانماں کردیتے ہو ، ظلم وزیادتی کے ساتھ ان کے خلاف جتھے بندیاں کرتے ہو، اور جب وہ لڑائی میں پکڑے ہوئے تمہارے پاس آتے ہیں ، تو ان کی رہائی کے لیے فِدیہ کالین دین کرتے ہو،حالاں کہ انہیں اِن کے گھروں سے نکالنا ہی سِرے سے تم پر حرام تھا۔ تو کیا تم کتاب کے ایک حصہ پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو؟ [92]پھرتم میں سے جو لوگ ایسا کریں ، اُن کی سزا اِس کے سوا اور کیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ذلیل وخوار ہوکر رہیں اور آخرت میں شدید ترین عذاب کی طرف پھیردیے جائیں ؟ اللہ اُن حرکات سے بے خبر نہیں ہے جو تم کررہے ہو۔{۸۵}</p>
<p> یہ وہ لوگ ہیں ، جنہوں نے آخرت بیچ کر دنیا کی زندگی خریدلی ہے، لہٰذا نہ ان کی سزامیں کوئی تخفیف ہوگی اور نہ انہیں کوئی مدد پہنچ سکے گی۔{۸۶}</p>
<p>  ہم نے موسیٰؑ کو کتاب دی ، اس کے بعد پے درپے رسول بھیجے، آخر کارعیسیٰؑ ابن مریم کو روشن نشانیاں دے کر بھیجا اور روح پاک سے اس کی مدد [93]کی۔ پھر یہ تمہارا کیا ڈھنگ ہے کہ جب بھی کوئی رسول تمہاری خواہشاتِ نفس کے خلاف کوئی چیز لے کر تمہارے پاس آیا، تو تم نے اس کے مقابلے میں سرکشی ہی کی ، کسی کو جھٹلایا اور کسی کو قتل کر ڈالا !{۸۷}</p>
<p>وہ کہتے ہیں، ہمارے دل محفوظ ہیں ۔[94] نہیں، اصل بات یہ ہے کہ ان کے کفر کی وجہ سے ان پر اللہ کی پھٹکار پڑی ہے ، اِس لیے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں۔{۸۸}</p>
<p>اور اب جو ایک کتاب اللہ کی طرف سے اُن کے پاس آئی ہے اُس کے ساتھ اُن کا کیا برتا ؤ ہے ؟ باوجود یکہ وہ اُس کتاب کی تصدیق کرتی ہے جو اُن کے پاس پہلے سے موجود تھی، باوجود یکہ اس کی آمد سے پہلے وہ خود کفار کے مقابلے میں فتح ونصرت کی دُعائیں مانگاکر تے تھے، مگر جب وہ چیز آگئی، جسے وہ پہچان بھی گئے ، تو انہوں نے اسے ماننے سے انکار کردیا۔[95] لہٰذا اللہ کی لعنت اِن منکرین پر{۸۹}</p>
<p>  کیسا براذریعہ ہے جس سے یہ اپنے نفس کی تسلی حاصل کرتے [96]ہیں کہ جو ہدایت اللہ نے نازل کی ہے اس کو قبول کرنے سے صرف اِس ضد کی بنا پر انکار کررہے ہیں کہ اللہ نے اپنے فضل (وحی ورسالت ) سے اپنے جس بندے کو خود چاہا، نواز دیا[97] لہٰذا اب یہ غضب بالائے غضب کے مستحق ہوگئے ہیں اور ایسے کافروں کے لیے سخت ذلت آمیز سزا مقرر ہے۔{۹۰}</p>
<p> جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے اُس پر ایمان لا ؤ ، تو وہ کہتے ہیں ’’ہم تو صرف اس چیزپر ایمان لاتے ہیں ، جو ہمارے ہاں ( یعنی بنی اسرائیل میں ) اُتری ہے‘‘ اُس دائر ے کے باہر جو کچھ آیا ہے ، اسے ماننے سے وہ انکار کرتے ہیں ، حالانکہ وہ حق ہے اور اُس تعلیم کی تصدیق وتائید کررہا ہے جو اُن کے ہاں پہلے سے موجود تھی۔ اچھا، اُن سے کہو : اگر تم اُس تعلیم ہی پر ایمان رکھنے والے ہو جو تمہار ے ہاں آئی تھی، تو اِس سے پہلے اللہ کے اُن پیغمبروں کو (جو خود بنی اسرائیل میں پیدا ہوئے تھے) کیوں قتل کرتے رہے؟ {۹۱}</p>
<p> تمہارے پاس موسی ؑکیسی کیسی رُوشن نشانیوں کے ساتھ آیا۔ پھر بھی تم ایسے ظالم تھے کہ اس کے پیٹھ موڑتے ہی بچھڑے کو معبود بنا بیٹھے { ۹۲}</p>
<p>پھرذرا اُس میثاق کو یاد کرو ، جو طُور کو تمہارے اُوپر اُٹھا کرہم نے تم سے لیا تھا ۔ ہم نے تاکید کی تھی کہ جو ہدایات ہم دے رہے ہیں ، اُن کی سختی کے ساتھ پابندی کرو اور کان لگا کر سنو۔ تمہارے اسلاف نے کہا کہ ہم نے سُن لیا ، مگر مانیں گے نہیں۔ اور ان کی باطل پرستی کا یہ حال تھا کہ دلوں میں اِن کے  بچھڑا ہی بسا ہوا تھا۔ کہو! اگر تم مومن ہو ، تو یہ عجیب ایمان ہے جو ایسی بُری حرکات کا تمہیں حکم دیتا ہے۔{ ۹۳}</p>
<p> اِن سے کہو کہ اگر واقعی اللہ کے نزدیک آخرت کا گھر تمام انسانوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے ہی لیے مخصوص ہے ، تب تو تمہیں چاہئے کہ موت کی تمنا [98]کرو ، اگر تم اپنے اِس خیال میں سچے ہو۔ { ۹۴}</p>
<p>یقین جانو کہ یہ کبھی اس کی تمنا نہ کریں گے ، اس لیے کہ اپنے ہاتھوں جو کچھ کماکر انہوں نے وہاں بھیجا ہے ، اس کا اقتضا یہی ہے ( کہ یہ وہاں جانے کی تمنا نہ کریں ) اللہ ان ظالموں کے حال سے خوب واقف ہے{۹۵}</p>
<p> تم انہیں سب سے بڑھ کر جینے کا حریص [99]پا ؤ گے،حتّٰی کہ یہ اس معاملے میں مشرکوں سے بھی بڑھے ہوئے ہیں۔ اِن میں سے ایک ایک شخص یہ چاہتا ہے کہ کسی طرح ہزار برس جیے، حالانکہ لمبی عمر بہرحال اُسے عذاب سے تو دور نہیں پھینک سکتی۔ جیسے کچھ اعمال یہ کررہے ہیں ، اللہ تو انہیں دیکھ ہی رہا ہے۔{۹۶}</p>
<p>ان سے کہو کہ جو کوئی جبریلؑ سے عداوت رکھتا ہو [100]، اُسے معلوم ہونا چاہئے کہ جبریلؑ نے اللہ ہی کے اِذْن سے یہ قرآن تمہارے قلب پر نازل کیا [101]ہے ، جو پہلے آئی ہوئی کتابوں کی تصدیق و تائید کرتا ہے[102] اور ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور کامیابی کی بشارت بن کرآیا ہے ۔[103]{۹۷}</p>
<p>(اگر جبریلؑ سے ان کی عدادت کا سبب یہی ہے ، تو کہہ دو کہ ) جو اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوںؑ اور جبریلؑ اور میکائیلؑ کے دشمن ہیں، اللہ ان کافروں کا دشمن ہے۔ {۹۸}</p>
<p>ہم نے تمہاری طرف ایسی آیات نازل کی ہیں جو صاف صاف حق کا اظہار کرنے والی ہیں۔ اور ان کی پیروی سے صرف وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو فاسق ہیں۔{۹۹}</p>
<p> کیا ہمیشہ ایسا ہی نہیں ہوتارہا ہے کہ جب اُنہوں نے کوئی عہد کیا ، تو اِن میں سے ایک نہ ایک گروہ نے اسے ضرورہی بالائے طاق رکھ دیا ؟ بلکہ ِان میں سے اکثر ایسے ہی ہیں جو سچے دل سے ایمان نہیں لاتے۔ {۱۰۰}</p>
<p>اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی رسُول اُس کتاب کی تصدیق و تائید کرتا ہوا آیا جو ان کے ہاں پہلے سے موجود تھی ، تو اِن اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے کتاب اللہ کو اِس طرح پس  پُشت ڈالا گویا کہ وہ کچھ جانتے ہی نہیں ۔{۱۰۱}</p>
<p>اور لگے اُن چیزوں کی پیروی کرنے جو شیا طین ، سلیمان ؑکی سلطنت کا نام لے کر پیش کیا کرتے تھے ،[104] حالانکہ سلیمان ؑنے کبھی کفر نہیں کیا ، کفر کے مرتکب تووہ شیاطین تھے جولوگوں کو جادوگری کی تعلیم دیتے تھے ۔ وہ پیچھے پڑے اُس چیز کے جو بابل میں دو فرشتوں ، ہاروت وماروت پر نازل کی گئی تھی ، حالانکہ وہ (فرشتے) جب بھی کسی کو اس کی تعلیم دیتے تھے ، تو پہلے صاف طور پر متنبہ کردیا کرتے تھے کہ ’’ دیکھ ، ہم محض ایک آزمائش ہیں ، تُو کفر میں مبتلانہ ہو[105] ‘‘  پھر بھی یہ لوگ اُن سے وہ چیز سیکھتے تھے جس سے شوہر اور بیوی میں جدائی ڈال دیں۔[106] ظاہر تھا کہ اِذْنِ الہٰی کے بغیر وہ اس ذریعے سے کسی کو بھی ضررنہ پہنچا سکتے تھے، مگر اس کے باوجود وہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو خود ان کے لیے نفع بخش نہیں ، بلکہ نقصان دہ تھی، اور اُنہیں خوب معلوم تھا کہ جو اس چیز کا خرید اربنا، اُس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔کتنی بُری متاع تھی جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا ، کاش انہیں معلوم ہوتا !{۱۰۲}</p>
<p> اگر وہ ایمان اور تقویٰ اختیار کرتے ، تو اللہ کے ہاں اس کا جوبدلہ ملتا ، وہ ان کے لیے زیادہ بہتر تھا ۔کاش انہیں خبر ہوتی!{۱۰۳}</p>
<p>  اے لوگو جو ایمان لائے ہو ،[107]  رَاعِنَا  نہ کہا کرو ، بلکہ اُنْظُرْنَا کہو اور توجہ سے بات کو سنو ،[108] یہ کافر تو عذاب ِالیم کے مستحق ہیں۔ { ۱۰۴}</p>
<p>یہ لوگ جنہوں نے دعوت حق کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے ، خواہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرک ہوں ،ہر گز یہ پسند نہیں کرتے کہ تمہارے رَبّ کی طرف سے تم پر کوئی بھلائی نازل ہو،مگر اللہ جس کو چاہتا ہے ،اپنی رحمت کے لیے چُن لیتا ہے اور اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے۔ {۱۰۵}</p>
<p> ہم اپنی جس آیت کو منسوخ کردیتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں، اس کی جگہ اس سے بہتر لاتے ہیں یا کم از کم ویسی ہی۔[109]  کیا تم جانتے نہیں ہو کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ؟{۱۰۶}</p>
<p> کیاتمہیں خبر نہیں ہے کہ زمین اور آسمانوں کی فرمانروائی اللہ ہی کے لیے ہے اور اس کے سوا کوئی تمہاری خبر گیری کرنے اور تمہاری مدد کرنے والا نہیں ہے؟{۱۰۷}</p>
<p> پھر کیا تم اپنے رسُول سے اُس قسم کے سوالات اور مطالبے کرنا چاہتے ہو ،جیسے اس سے پہلے موسیٰ  ؑ سے کئے جاچکے ہیں [110]؟حالانکہ جس شخص نے ایمان کی رَوِ ش کو کفر کی رَوِش سے بدل لیا، وہ راہِ راست سے بھٹک گیا۔{۱۰۸}</p>
<p>اہل کتاب میں سے اکثر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح تمہیں ایمان سے پھیر کر پھر کفر کی طرف پلٹالے جائیں، اگر چہ حق اِن پر ظاہر ہوچکا ہے، مگر اپنے نفس کے حسد کی بنا پر (تمہارے لیے اِن کی یہ خواہش ہے کہ تم کافربن جاؤ، مگراے مسلمانو! ان کے اس حسد کے جواب میں) تم عفوودَر گزر سے کام لو ،[111]یہاں تک کہ اللہ خود ہی اپنا فیصلہ نافذ کردے۔ مطمئن رہو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ {۱۰۹}</p>
<p>نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو ۔تم اپنی عاقبت کے لیے جو بھلائی کما کر آگے بھیجو گے ،اللہ کے ہاں اِسے موجود پا ؤگے۔ جو کچھ تم کرتے ہو، وہ سب اللہ کی نظر میں ہے۔ { ۱۱۰}</p>
<p>ان کا کہنا ہے کہ کوئی شخص جنّت میں نہ جائے گا جب تک کہ وہ یہودی نہ ہو یا (عیسائیوں کے خیال کے مطابق) عیسائی نہ ہو۔یہ اُن کی تمنائیں[112] ہیں۔ ان سے کہو ،اپنی دلیل پیش کرو، اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ {۱۱۱}</p>
<p> (دراصل نہ تمہاری کچھ خصوصیت ہے نہ کسی اور کی ) حق یہ ہے کہ جو بھی اپنی ہستی کو اللہ کی اطاعت میں سونپ دے اور عملاً نیک رَوِش پر چلے، اس کے لیے اُس کے رَبّ کے پاس اُس کااجر ہے اور ایسے لوگوں کے لیے کسی خوف یا رنج کا کوئی موقع نہیں۔{ ۱۱۲}</p>
<p>یہودی کہتے ہیں :عیسائیوں کے پاس کچھ نہیں۔ عیسائی کہتے ہیں: یہودیوں کے پاس کچھ نہیں۔ حالانکہ دونوں ہی کتاب پڑھتے ہیں ۔اور اسی قِسم کے دعوے اُن لوگوں کے بھی ہیں، جن کے پاس کتاب کا علم نہیں ہے۔[113] یہ اختلافات جن میں یہ لوگ مبتلا ہیں، اِن کا فیصلہ اللہ قیامت کے روز کردے گا۔{ ۱۱۳}</p>
<p>اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ کے معبَدوں (مساجد) میں اُس کے نام کی یاد سے روکے اور اُن کی وِیرانی کے در پے ہو؟ ایسے لوگ اس قابل ہیں کہ ان عبادت گاہوں میں قدم نہ رکھیں اور اگر وہاں جائیںبھی تو ڈرتے ہوئے جائیں۔[114] اُن کے لیے تو دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں عذابِ عظیم۔ { ۱۱۴}</p>
<p>مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں۔ جس طرف بھی تم رُخ کرو گے اُسی طرف اللہ کا رُخ ہے[115] اللہ بڑی وسعت والا ہے اور سب کچھ جاننے والا ہے ۔[116]{۱۱۵}</p>
<p>ان کا قول ہے کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔ اللہ پاک ہے اِن باتوں سے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ زمین اور آسمانوں کی تمام موجودات اُس کی مِلک ہیں ، سب کے سب اس کے مطیعِ فرمان ہیں،{۱۱۶}</p>
<p> وہ آسمانوں اور زمین کا موجِدہے،اور جس بات کا وہ فیصلہ کرتا ہے اِس کے لیے بس یہ حکم دیتا ہے کہ ’’ہوجا ‘‘ اور وہ ہوجاتی ہے۔ {۱۱۷}</p>
<p>نادان کہتے ہیں کہ اللہ خود ہم سے بات کیوں نہیں کرتا یا کوئی نشانی ہمارے پاس کیوں نہیں آتی؟[117] ایسی ہی باتیں اِن سے پہلے لوگ بھی کیا کرتے تھے۔ اِن سب ( اگلے پچھلے گمراہوں) کی ذہنیتیں ایک جیسی [118]ہیں۔ یقین لانے والوں کے لیے تو ہم نشانیاں صاف صاف نمایاں کر چکے ہیں۔ [119]{۱۱۸}</p>
<p>( اس سے بڑھ کر نشانی کیا ہوگی کہ ) ہم نے تم کو علمِ حق کے ساتھ خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بناکر بھیجا۔[120] اب جو لوگ جہنم سے رشتہ جوڑ چکے ہیں، ان کی طرف سے تم ذمّہ دار اور جواب دِہ  نہیں ہو۔{۱۱۹}</p>
<p>یہودی اور عیسائی تم سے ہر گزراضی نہ ہوں گے جب تک تم اُن کے طریقے پر نہ [121]چلنے لگو۔ صاف کہہ دو کہ راستہ بس وہی ہے جو اللہ نے بتایا ہے ۔ ورنہ اگراُس علم کے بعد ، جو تمہارے پاس آچکا ہے ، تم نے اُن کی خواہشات کی پیروی کی ، تو اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی دوست اور مد دگار تمہارے لیے نہیں ہے ۔{۱۲۰}</p>
<p>جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اُسے اُس طرح پڑھتے ہیں جیسا کہ پڑھنے کا حق ہے۔ وہ اِس (قرآن)پر سچے دل سے ایمان لے آتے ہیں۔[122]اور جو اِس کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کریں ، وہی اصل میں نقصان اٹھانے والے ہیں۔{۱۲۱}</p>
<p>  اے بنی اسرائیل[123] !  یاد کرو میری وہ نعمت ، جس سے میں نے تمہیں نوازاتھا، اور یہ کہ میں نے تمہیں دنیا کی تمام قوموں پر فضیلت دی تھی۔ { ۱۲۲}</p>
<p> اور ڈرو اُس دن سے جب کوئی کسی کے ذرا کام نہ آئے گا، نہ کسی سے فدیہ قبول کیا جائے گا، نہ کوئی سفارش ہی آدمی کو فائدہ دے گی، اور نہ مجرموں کو کہیں سے کوئی مدد پہنچ سکے گی۔ {۱۲۳}</p>
<p>یاد کرو کہ جب ابراہیمؑ کو اُس کے رَبّ نے چندباتوں میں آزمایا [124]اور وہ اُن سب میں پورا اُتر گیا ، تو اُس نے کہا: ’’ میں تجھے سب لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں۔ ابراہیم ؑ نے عرض کیا: ’’اورکیا میری اولاد سے بھی یہی وعدہ ہے‘‘؟ اس نے جواب دیا:’’ میرا وعدہ ظالموں سے متعلق نہیں ہے‘‘[125]{۱۲۴}</p>
<p>اور یہ کہ ہم نے اس گھر (کعبے) کو لوگوں کے لیے مرکز اور امن کی جگہ قرار دیا تھا اور لوگوں کو حکم دیا تھا کہ ابراہیم ؑجہاں عبادت کے لیے کھڑا ہوتا ہے اس مقام کو مستقل جائے نماز بنالو ، اور ابراہیم ؑا ور اسماعیل ؑ کو تاکید کی تھی کہ میرے اس گھرکو طواف اور اعتکاف اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو۔[126]{۱۲۵}</p>
<p> اور یہ کہ جب ابراہیم ؑ نے دعا کی : ’’اے میرے رَبّ! اِس شہر کو امن کا شہر بنادے ، اور اِس کے باشندوں میں سے جو اللہ اور آخرت کو مانیں ، انہیں ہر قِسم کے پھلوں کا رزق دے‘‘ ۔جواب میں اس کے رَبّ نے فرمایا: ’’اور جو نہ مانے گا دنیا کی چند روزہ زندگی کا سامان تو میں اُسے بھی دوں[127] گا ، مگر آخر کار اُسے عذاب ِجہنم کی طرف گھسیٹوں گا ،اور وہ بدترین ٹھکانا ہے ‘‘۔ {۱۲۶}</p>
<p>اور یاد کرو ، ابراہیم ؑاور اسماعیل ؑ جب اس گھر کی دیواریں اٹھار ہے تھے ، تو دُعا کرتے جاتے تھے :’’ اے ہمارے رَبّ!ہم سے یہ خدمت قبول فرمالے ، تُوسب کی سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے ۔{۱۲۷}</p>
<p> اے رَبّ ! ہم دونوں کو اپنا مسلم (مطیع فرمان ) بنا ، ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا ، جو تیری مسلم ہو ، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا ، اور ہماری کو تاہیوں سے درگزر فرما،تُو بڑا معاف کرنے والا رحم فرمانے والا  ہے۔ {۱۲۸}</p>
<p> اور اے رَبّ !اِن لوگوں میں خود اِنہی کی قوم سے ایک رسول اٹھائیو ، جو انہیں تیری آیات سنائے ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے ،[128]تو بڑا مُقتدِر اور حکیم ہے ‘‘۔[128]{۱۲۹}</p>
<p>اب کون ہے جو ابراہیم ؑکے طریقے سے نفرت کرے ؟ جس نے خود اپنے آپ کو حماقت اور جہالت میں مبتلا کرلیا ہو اس کے سِوا کون یہ حرکت کرسکتا ہے ؟ ابراہیم ؑتو وہ شخص ہے جس کوہم نے دنیا میں اپنے کام کے لیے چُن لیا تھا اور آخرت میں اُس کا شمار صالحین میں ہوگا۔ {۱۳۰}</p>
<p>اِس کا یہ حال تھا کہ جب اِس کے رَبّ نے اس سے کہا : ’’مُسلِم ہوجا  ‘‘[130] تو اُس نے فوراً کہا :’’ میں مالک ِکائنا ت کا ’’مُسلِم‘ ہوگیا‘‘۔{۱۳۱}</p>
<p> اِسی طریقے پر چلنے کی ہدایت اُس نے اپنی اولاد کو کی تھی اور اُسی کی وصیت یعقوبؑ [131]اپنی اولاد کو کرگیا تھا ۔ اُس نے کہا تھا کہ ’’میرے بچوّ ! اللہ نے تمہارے لیے یہی دین[132] پسند کیا ہے ۔ لہٰذا مرتے دم تک تم سب مُسلِم  ہی رہنا۔ ‘‘{۱۳۲}</p>
<p> پھر کیا تم اُس وقت موجود تھے جب یعقوبؑ اس دنیا سے رخصت ہورہا تھا؟ اُس نے مرتے وقت اپنے بیٹوں سے پوچھا ’’ بچو ّ !میرے بعد تم کس کی بندگی کروگے ؟ اُن سب نے جواب دیا ’’ہم اُسی ایک  اِلٰہ کی بندگی کریں گے ، جسے آپؑ اور آپؑ کے بزرگوں ابراہیم ؑ ، اسماعیل ؑاور اسحاق  ؑنے  اِلٰہ مانا ہے اور ہم اسی کے مُسلِم ہیں‘‘[133]{۱۳۳}</p>
<p>وہ کچھ لوگ تھے ،جو گزر گئے ۔جو کچھ انہوں نے کمایا ، وہ ان کے لیے ہے اور جو کچھ تم کما ؤ گے ، وہ تمہارے لئے ہے ۔ تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے۔[134]{ ۱۳۴}</p>
<p> یہودی کہتے ہیں : یہودی ہو،تو راہِ راست پا ؤ گے۔عیسائی کہتے ہیں : عیسائی ہو ،تو ہدایت ملے گی۔ ان سے کہو:’’ نہیں، بلکہ سب کو چھوڑ کر ابرہیم ؑ کا طریقہ۔ اور ابراہیم ؑمشرکوں میں سے نہ تھا‘‘۔[135]{۱۳۵}</p>
<p> مسلمانو! کہو کہ ’’ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس ہدایت پر جوہماری طرف نازل ہوئی ہے اور جو ابراہیم ؑ ، اسمٰعیل ؑ، اسحاقؑ، یعقوب ؑاور اولاد ِیعقوبؑ کی طرف نازل ہوئی تھی اور جو موسیٰ  ؑاور عیسیٰؑ اور دوسرے تمام پیغمبروں کو ان کے رَبّ کی طرف سے دی گئی تھی ۔ہم اُن کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے[136] اور ہم اللہ کے مُسلِم ہیں ‘‘ ۔{۱۳۶}</p>
<p>پھر اگر وہ اُسی طرح ایمان لائیں ، جس طرح تم ایمان لائے ہو ، تو ہدایت پر ہیں ، اور اگر اس سے منھ پھیریں ، توکھلی بات ہے کہ وہ ہٹ دھرمی میں پڑگئے ہیں ، لہٰذا اطمینان رکھو کہ ان کے مقابلے میں اللہ تمہاری حمایت کے لیے کافی ہے ، وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔{۱۳۷}</p>
<p>کہو: ’’ اللہ کا رنگ اختیار کرو[137]۔ اُس کے رنگ سے اچھا اور کس کا رنگ ہوگا ؟ اور ہم اسی کی بندگی کرنے والے لوگ ہیں۔‘‘ {۱۳۸}</p>
<p> اے نبی  ؐ! ان سے کہو : ’’ کیا تم اللہ کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو ؟ حالانکہ وہی ہمارا رَبّ بھی ہے اور تمہارا رَبّ بھی۔ [138]ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں ، تمہارے اعمال تمہارے لئے، اور ہم اللہ ہی کے لیے اپنی بندگی کو خالص کرچکے ہیں۔ [139]{۱۳۹}</p>
<p>یاپھر تمہارا کہنا یہ ہے کہ ابراہیمؑ،اسمٰعیل ؑ، اسحاق  ؑ، یعقوب ؑاور اولادِ یعقوبؑ سب کے سب یہودی تھے یانصرانی تھے ‘‘ ؟ کہو: ’’تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ ؟[140] اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوگا ، جس کے ذمے اللہ کی طرف سے ایک گواہی ہو اور وہ اُسے چُھپائے ؟ تمہاری حرکات سے اللہ غافل تو نہیں ہے۔[141] {۱۴۰}</p>
<p>وہ کچھ لوگ تھے جو گزر چکے۔ اُن کی کمائی اُن کے لیے تھی اور تمہاری کمائی تمہارے لئے۔ تم سے اُن کے اعمال کے متعلق سوال نہیں ہوگا۔‘‘ {۱۴۱}</p>
<p>نادان لوگ ضرور کہیں گے: انہیں کیا ہوا کہ پہلے یہ جس قبلے کی طرف رُخ کرکے نماز پڑھتے تھے اُس سے یکایک پھر گئے ؟ [142]  (اے نبی  ؐ!) ان سے کہو: ’’ مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں۔ اللہ جسے چاہتا ہے ، سیدھی راہ دکھا دیتا ہے ‘‘ [143] {۱۴۲}</p>
<p>اور اِسی طرح تو ہم نے تم مسلمانوں کو ایک ’’ اُمّتِ وَسَط‘‘ بنا یا ہے  تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسُول تم پرگواہ ہو۔ [144]پہلے جس طرف تم رُخ کرتے تھے اُس کو تو ہم نے صرف یہ دیکھنے کے لیے قبلہ مقرر کیا تھا کہ کون رسُول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹا پھر جاتا ہے ۔[145] یہ معاملہ تھا تو بڑا سخت ، مگراُن لوگوں کے لیے کچھ بھی سخت نہ ثابت ہوا جو اللہ کی ہدایت سے فیض یاب تھے۔ اللہ تمہارے اس ایمان کو ہر گز ضائع نہ کرے گا ۔ یقین جانو کہ وہ لوگوں کے حق میں نہایت شفیق ورحیم ہے ۔ { ۱۴۳}</p>
<p>(اے نبی  ؐ!)یہ  تمہارے منھ کا باربار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں۔ لو، ہم اُسی قبلے کی طرف تمہیں پھیرے دیتے ہیں جسے تم پسند کرتے ہو ،مسجد حرام کی طرف رخ پھیردو۔ اب جہاں کہیں تم ہو ،اُسی کی طرف منھ کرکے نماز پڑھا [146]کرو ۔ یہ لوگ جنہیں کتاب دی گئی تھی ، خوب جانتے ہیں کہ ( تحویل قبلہ کا ) یہ حکم ان کے رَبّ ہی کی طرف سے ہے اور برحق ہے ، مگر اس کے باوجود جو کچھ یہ کررہے ہیں ، اللہ اس سے غافل نہیں ہے ۔{۱۴۴}</p>
<p> تم ان اہلِ کتاب کے پاس خواہ کوئی نشانی لے آ ؤ ، ممکن نہیں کہ یہ تمہارے قبلے کی پیروی کرنے لگیں ، اور نہ تمہارے لئے یہ ممکن ہے کہ ان کے قبلے کی پیروی کرو اور ان میں سے کوئی گروہ بھی دوسرے کے قبلے کی پیروی کے لیے تیار نہیں ہے، اور اگر تم نے اُس علم کے بعد ، جو تمہارے پاس آچکا ہے ، اُن کی خواہشات کی پیروی کی ، تو یقینا تمہارا شمار ظالموں میں ہوگا[147]{۱۴۵}</p>
<p> جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے ، وہ اس مقام کو( جسے قبلہ بنایا گیاہے ) ایسا پہچانتے ہیں ، جیسا اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں،[148] مگر ان میں سے ایک گروہ جانتے بوجھتے حق کو چھپارہا ہے۔{۱۴۶}</p>
<p> یہ قطعی ایک امرِحق ہے تمہارے رَبّ کی طرف سے ،لہٰذا اِس کے متعلق تم ہر گز کسی شک میں نہ پڑو {۱۴۷}</p>
<p>ہر ایک کے لیے ایک رُخ ہے ،جس کی طرف وہ مُڑتا ہے ۔ پس تم بھلائیوں کی طرف سبقت کرو ۔[149]جہاں بھی تم ہوگے، اللہ تمہیں پالے گا ۔ اُس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں{۱۴۸}</p>
<p>تمہارا گزر جس مقام سے بھی ہو ، وہیں سے اپنا رُخ ( نماز کے وقت ) مسجد حرام کی طرف پھیردو ، کیونکہ یہ تمہارے رَبّ کا بالکل برحق فیصلہ ہے اور اللہ تم لوگوں کے اعمال سے بے خبر نہیں ہے۔{۱۴۹}</p>
<p> اور جہاں سے بھی تمہارا گزر ہو ، اپنا رُخ مسجد حرام ہی کی طرف پھیرا کرو ، اور جہاں بھی تم ہو ، اُسی کی طرف منھ کرکے نماز پڑھو تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجت [150]نہ ملے۔ ہاں اُن میں سے جو ظالم ہیں ، اُن کی زبان کسی حال میں بندنہ ہوگی۔ تو اُن سے تم نہ ڈرو ، بلکہ مجھ سے ڈرو ، اور اس لیے کہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کردوں[151] اور اس توقع[152] پر کہ میرے اس حکم کی پیروی سے تم فلاح کا راستہ پا ؤ گے۔{۱۵۰}</p>
<p> اُسی طرح جس طرح (تمہیں اس چیز سے فلاح نصیب ہوئی کہ ) ہم نے تمہارے درمیان خود تم میں سے ایک رسول ؐبھیجا ، جو تمہیں ہماری آیات سناتا ہے، تمہاری زندگیوں کو سنوارتا ہے ، تمہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے ، اور تمہیں وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہ جانتے تھے۔ {۱۵۱}</p>
<p> لہٰذا تم مجھے یاد رکھو ، میں تمہیں یاد رکھوں گا ، اور میرا شُکرادا کرو،کُفرانِ نعمت نہ کرو{ ۱۵۲}</p>
<p>اے لوگو[153] جو ایمان لائے ہو! صبر اور نماز سے مدد لو۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے[154]{ ۱۵۳}</p>
<p>اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، اُنہیں مُردہ نہ کہو ، ایسے لوگ توحقیقت میں زندہ ہیں ، مگر تمہیں اُن کی زِندگی کا شعور نہیں ہوتا۔[155]{ ۱۵۴}</p>
<p>اور ہم ضرورتمہیں خوف وخطر ، فاقہ کشی ، جان ومال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کرکے تمہاری آزمائش کریں گے ۔ ان حالات میں جو لوگ صبر کریں اُنہیں خوش خبری دے دو۔{۱۵۵}</p>
<p> (یہ وہ لوگ ہیں، ان پر)جب کوئی مصیبت پڑے ، تو کہیں کہ ’’ ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کرجانا ہے ۔‘‘ [156]{۱۵۶}</p>
<p> اُن پر ان کے رَبّ کی طرف سے بڑی عنایات ہوں گی،اُس کی رحمت اُن پر سایہ کرے گی اور ایسے ہی لوگ راست روہیں{۱۵۷}</p>
<p>یقینا  صفا  اور مروہ  اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ لہٰذا جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے،[157] اس کے لیے کوئی گناہ کی بات نہیں کہ وہ ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان سعی کرے[158] اور جو بر ضاور غبت کوئی بھلائی کاکام کرے[159] گا، اللہ کو اس کا علم ہے اور وہ اس کی قدر کرنے والا ہے۔{۱۵۸}</p>
<p> جو لوگ ہماری نازل کی ہوئی روشن تعلیمات اور ہدایات کو چھپاتے ہیں ، درآں حالیکہ ہم اُنہیں سب انسانوں کی رہنمائی کے لیے اپنی کتاب میں بیان کرچکے ہیں ، یقین جانو کہ اللہ بھی اُن پر لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے بھی اُن پر لعنت بھیجتے ہیں۔[160]{۱۵۹}</p>
<p> البتہ جو اِس روش سے بازآجائیں اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کرلیں اور جو کچھ چھپاتے تھے ، اُسے بیان کرنے لگیں ، ان کو میں معاف کردوں گا اور میں بڑا درگزر کرنے والا اور رحم کرنے والا ہوں۔{۱۶۰}</p>
<p> جن لوگوں نے کفر کارویہ[161] اختیار کیا اور کفر کی حالت ہی میں جان دی ، ان پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔{۱۶۱}</p>
<p> اسی لعنت زدگی کی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے، نہ اُن کی سزا میں تخفیف ہوگی اور نہ انہیں پھر کوئی دوسری مہلت دی جائے گی۔{ ۱۶۲}</p>
<p> تمہارا اِلٰہٰ تو بس ایک ہی اِلٰہ ہے ،اُس رحمان اور رحیم کے سوا کوئی اور اِلٰہٰ نہیں ہے۔ { ۱۶۳}</p>
<p>  ( اس حقیقت کو پہچاننے کے لیے اگر کوئی نشانی اور علامت درکار ہے تو ) جو لوگ عقل سے کام لیتے ہیں اُن کے لیے آسمانوں اور زمین کی ساخت میں ، رات اور دن کے پیہم ایک دوسرے کے بعد آنے میں ، اُن کشتیوں میں جو انسان کے نفع کی چیزیں لئے ہوئے دریا ؤں اور سمندروں میں چلتی پھرتی ہیں ، بارش کے اُس پانی میں جسے اللہ اُوپر سے برساتا ہے پھر اس کے ذریعے سے مُردہ زمین کو زندگی بخشتا ہے اور ( اپنے اسی انتظام کی بدولت)  زمین میں ہر قسم کی جاندار مخلوق کو پھیلاتا ہے ، ہوا ؤں کی گردش میں اور اُن بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان تابع فرمان بناکر رکھے گئے ہیں ، بے شمار نشانیاں ہیں۔[162] {۱۶۴}</p>
<p>  (مگروحدت الہٰی پر دلالت کرنیوالے ان کھلے کھلے آثار کے ہوتے ہوئے بھی )کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا ہمسر اور مد مقابل بناتے ہیں[163] اور ان کے ایسے گرویدہ ہیں جیسی اللہ کیساتھ گرویدگی ہونی چاہئے۔ حالانکہ ایمان رکھنے والے لوگ سب سے بڑھ کر اللہ کو محبوب رکھتے ہیں ۔[164] کاش ، جو کچھ عذاب کو سامنے دیکھ کر انہیں سوجھنے والا ہے ، وہ آج ہی اِن ظالموں کو سوجھ جائے کہ ساری طاقتیں اور سارے اختیارات اللہ ہی کے قبضے میں ہیں اور یہ کہ اللہ سزادینے میں بھی بہت سخت ہے۔ {۱۶۵}</p>
<p> جب وہ سزادے گا اس وقت کیفیت یہ ہوگی کہ وہی پیشوا اور رہنما جن کی دنیا میں پیروی کی گئی تھی ، اپنے پیرووں سے بے تعلقی ظاہر کریں گے ، مگر سزاپا کررہیں گے اور ان کے سارے اسباب و وسائل کا سلسلہ کٹ جائے گا۔{۱۶۶}</p>
<p> اور وہ لوگ جو دنیا میں اُن کی پیروی کرتے تھے، کہیں گے کہ کاش ہم کو پھر ایک موقع دیا جاتا تو جس طرح آج یہ ہم سے بیزاری ظاہر کررہے ہیں ، ہم ان سے بیزار ہو کر دکھا دیتے[165]۔ یوں اللہ ان لوگوں کے وہ اعمال ، جو یہ دنیا میں کررہے ہیں ،ان کے سامنے اس طرح لائے گا کہ یہ حسرتوں اور پشیمانیوں کے ساتھ ہاتھ ملتے رہیں گے مگر آگ سے نکلنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے۔{۱۶۷}</p>
<p>لوگو! زمین میں جو حلال اور پاک چیزیں ہیں انہیں کھا ؤ اور شیطان کے بتائے ہوئے راستوں پر نہ چلو ،[166] وہ تمہارا کھلادشمن ہے {۱۶۸}</p>
<p>تمہیں بدی اور فحش کا حکم دیتا ہے اور یہ سکھاتا ہے کہ تم اللہ کے نام پر وہ باتیں کہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ ( وہ اللہ نے فرمائی ہیں) [167]{۱۶۹}</p>
<p>ان سے جب کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو احکام نازل کیے ہیں اُن کی پیروی کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اُسی طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔[168] اچھا اگر ان کے باپ دادا نے عقل سے کچھ بھی کام نہ لیا ہو اور راہ راست نہ پائی ہو تو کیا پھر بھی یہ انہی کی پیروی کیے چلے جائیں گے ؟ {۱۷۰}</p>
<p> یہ لوگ جنہوں نے اللہ کے بتائے ہوئے طریقے پر چلنے سے انکار کردیا ہے ان کی حالت بالکل ایسی ہے جیسے چرواہا جانوروں کو پکارتا ہے اور وہ ہانک  پکار کی صدا کے سوا کچھ نہیں سنتے ۔[169]یہ بہرے ہیں ، گونگے ہیں، اندھے ہیں ، اس لیے کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی{۱۷۱}</p>
<p>  اے لوگو جو ایمان لائے ہو!اگر تم حقیقت میں اللہ ہی کی بندگی کرنے والے ہو تو جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں بخشی ہیں انہیں بے تکلف کھا ؤ اور اللہ کا شکرادا کرو۔[170]{ ۱۷۲}</p>
<p> اللہ کی طرف سے اگر کوئی پابندی تم پر ہے تو وہ یہ ہے کہ مُردارنہ کھا ؤ ، خون سے اور سورکے گوشت سے پر ہیز کرو ، اور کوئی ایسی چیز نہ کھا ؤ جس پر اللہ کے سواکسی اور کا نام لیا گیا ہو،[171] ہاں جو شخص مجبوری کی حالت میں ہو اور وہ ان میں سے کوئی چیز کھالے بغیر اس کے کہ وہ قانون شکنی کا ارادہ رکھتا ہو یا ضرورت کی حد سے تجاوز کرے ، تو اس پر کچھ گناہ نہیں ، اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔[172]{ ۱۷۳}</p>
<p>حق یہ ہے کہ جو لوگ اُن احکام کو چھپاتے ہیں جو اللہ نے اپنی کتاب میں نازل کئے ہیں اور تھوڑے سے دنیوی فائدوں پر انہیں بھینٹ چڑھاتے ہیں ، وہ دراصل اپنے پیٹ آگ سے بھر رہے ہیں ۔[173] قیامت کے روز اللہ ہر گزان سے بات نہ کرے گا، نہ انہیں پاکیزہ ٹھہرائے گا ،[174] اور ان کے لیے دردناک سزا ہے۔{۱۷۴}</p>
<p> یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے ضلالت خریدی اور مغفرت کے بدلے عذاب مول لے لیا۔ کیسا عجیب ہے اِن کا حوصلہ کہ جہنم کا عذاب برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں۔{۱۷۵}</p>
<p> یہ سب کچھ اس وجہ سے ہوا کہ اللہ نے تو ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق کتاب نازل کی تھی مگر جن لوگوں نے کتاب میں اختلافات نکالے وہ اپنے جھگڑوں میں حق سے بہت دُورنکل گئے ۔{۱۷۶}</p>
<p> نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کرلئے یا مغرب کی طرف [175]، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یوم آخر اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتے داروں اور یتیموں پر ، مسکینوں اور مسافروں پر ، مدد کے لیے ہاتھ پھیلانے والوں پر اور غلاموں کی رہائی پر خرچ کرے ، نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے ۔ اور نیک وہ لوگ ہیں کہ جب عہد کریں تو اُسے وفا کریں اور تنگی ومصیبت کے وقت میں اور حق وباطل کی جنگ میں صبرکریں ۔یہ ہیں راست باز لوگ اور یہی لوگ متقی ہیں۔{۱۷۷}</p>
<p> اے لوگو جو ایمان لائے ہو!تمہارے لئے قتل کے مقدموں میں قصاص[176] کا حکم لکھ دیا گیا ہے۔ آزاد آدمی نے قتل کیا ہو تو اُس آزاد ہی سے بدلہ لیا جائے ، غلام قاتل ہو تو وہ غلام ہی قتل کیا جائے ، اور عورت اس جرم کی مرتکب ہوتو اُس عورت ہی سے قصاص لیا [177]جائے۔ ہاں اگر کسی قاتل کے ساتھ اُس کا بھائی کچھ نرمی کرنے کے لیے تیار ہو ،[178] تو معروف طریقے[178] کے مطابق خُوں بہا کا تصفیہ ہونا چاہئے۔ اور قاتل کو لازم ہے کہ راستی کے ساتھ خُوں بہا ادا کرے یہ تمہارے رَبّ کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے۔ اس پر بھی جو زیادتی کرے[180]اس کے لیے درد ناک سزا ہے۔{۱۷۸}</p>
<p> عقل وخرد رکھنے والو !تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے[181]۔ امید ہے کہ تم اس قانون کی خلاف ورزی سے پرہیز کرو گے{۱۷۹}</p>
<p>تم پر فرض کیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آئے اور وہ اپنے پیچھے مال چھوڑرہا ہو ، تو والدین اور رشتہ داروں کے لیے  معروف طریقے سے وصیت کرے۔ یہ حق ہے متقی لوگوں پر۔[182]{۱۸۰}</p>
<p> پھر جنہوں نے وصیت سنی اور بعد میں اسے بدل ڈالا ، تو اس کا گناہ اُن بدلنے والوں پر ہوگا۔ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔{۱۸۱}</p>
<p>البتہ جس کو یہ اندیشہ ہو کہ وصیت کرنے والے نے نادانستہ یا قصداً حق تلفی کی ہے ، اور پھر معاملے سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان وہ اِصلاح کرے، تو اس پر کچھ گناہ نہیں ہے ، اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔{ ۱۸۲}</p>
<p>  اے لوگو جو ایمان لائے ہو !تم پر روزے فرض کردیئے گئے، جس طرح تم سے پہلے انبیاء ؑکے پیرووں پر فرض کئے گئے تھے۔ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی[183] { ۱۸۳}</p>
<p>چند مقرر دنوں کے روزے ہیں۔ اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو ، یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کرلے۔ اور جو لوگ روزہ رکھنے کی قدرت رکھتے ہوں (پھر نہ رکھیں) تو وہ فدیہ دیں۔ ایک روزے کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے، اور جو اپنی خوشی سے کچھ زیادہ بھلائی کرے ،[184] تو یہ اسی کے لیے بہتر ہے۔ لیکن اگر تم سمجھو ، تو تمہارے حق میں اچھا یہی ہے کہ روزہ رکھو[185] { ۱۸۴}</p>
<p>  رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جوراہ راست دکھانے والی اور حق وباطل کا فرق کھول کررکھ دینے والی ہیں۔ لہٰذا اب سے جو شخص اِس مہینے کو پائے ، اس کو لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے ۔ اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو ، تو وہ دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے۔[186] اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے سختی کرنا نہیں چاہتا۔ اس لیے یہ طریقہ تمہیں بتایا جارہا ہے تا کہ تم روزوں کی تعداد پوری کر سکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے اُس پر اللہ کی کبر یائی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکر گزار بنو[187] {۱۸۵}</p>
<p>اور (اے نبی  ؐ!) میرے بندے اگر تم سے میر ے متعلق پوچھیں ، تو انہیں بتادو کہ میں اُن سے قریب ہی ہوں۔ پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے ، میں اس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں ۔ لہٰذا انہیں چاہئے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں۔[188] ( یہ بات تم انہیں سنادو) شاید کہ وہ راہ راست پالیں۔ [189]{۱۸۶}</p>
<p> تمہارے لئے روزوں کے زمانے میں راتوں کو اپنی بیویوں کے پاس جانا حلال کردیا گیا ہے۔ وہ تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لیے[190] لباس ہو۔ اللہ کو معلوم ہوگیا کہ تم لوگ چپکے چپکے اپنے آپ سے خیانت کررہے تھے، مگر اس نے تمہارا قصور معاف کردیا اور تم سے درگزر فرمایا۔ اب تم اپنی بیویوں کے ساتھ شب باشی کرو اور جولطف اللہ نے تمہارے لئے جائز کردیا ہے ،اُسے حاصل کرو۔[191] نیز راتوں کو کھا ؤ پیو ، [192]یہاں تک کہ تم کو سیاہی شب کی دھاری سے سپیدۂ صبح کی دھاری نمایاں نظر آجائے ۔ [193]تب یہ سب کام چھوڑ کر رات تک اپنا روزہ پورا کر و۔[194]اور جب تم مسجدوں میں معتکف ہوتو  بیویوں سے مباشرت نہ کرو۔[195] یہ اللہ کی باندھی ہوئی حدیں ہیں، ان کے قریب نہ پھٹکنا ۔[196] اس طرح اللہ اپنے احکام لوگوں کے لیے بصراحت بیان کرتا ہے ، توقع ہے کہ وہ غلط رویّے سے بچیں گے۔{۱۸۷}</p>
<p> اور تم لوگ نہ تو آپس میں ایک دوسرے کے مال نارواطریقہ سے کھا ؤ اور نہ حاکموں کے آگے ان کو اس غرض کے لیے پیش کرو کہ تمہیں دوسروں کے مال کا کوئی حصہ قصداً ظالمانہ طریقہ سے کھانے کا موقع مل جائے۔[197] {۱۸۸}</p>
<p>  اے نبی  ؐ! لوگ تم سے چاند کی گھٹتی بڑھتی صورتوں کے متعلق پوچھتے ہیں ۔ کہو:یہ لوگوں کے لیے تاریخوں کے تعیین کی اور حج کی علامتیں ہیں۔[198]نیزان سے کہو: یہ کوئی نیکی کا کام نہیں ہے کہ تم اپنے گھروں میں پیچھے کی طرف سے داخل ہوتے ہو ۔ نیکی تو اصل میں یہ ہے کہ آدمی اللہ کی ناراضی سے بچے۔ لہٰذا تم اپنے گھروں میں دروازے ہی سے آیا کرو۔ البتہ اللہ سے ڈرتے رہو۔ شاید کہ تمہیں فلاح نصیب ہوجائے۔[199] {۱۸۹}</p>
<p>اور تم اللہ کی راہ میں اُن لوگوں سے لڑو جوتم سے لڑتے ہیں ،[200] مگر زیادتی نہ کرو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔[201]{۱۹۰}</p>
<p> اُن سے لڑوجہاں بھی تمہارا اُن سے مقابلہ پیش آئے اور انہیں نکالوجہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے ، اس لیے کہ قتل اگر چہ بُرا ہے ، مگر فتنہ اس سے بھی زیادہ برا ہے[202] اور مسجد حرام کے قریب جب تک وہ تم سے نہ لڑیں، تم بھی نہ لڑو ، مگر جب وہ وہاں لڑنے سے نہ چُوکیں ، تو تم بھی بے تکلف انہیں مارو کہ ایسے کافروں کی یہی سزا ہے۔ {۱۹۱}</p>
<p> پھر اگر وہ بازآجائیں ، تو جان لو کہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے[203]{ ۱۹۲}</p>
<p>تم ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لیے  ہوجائے ۔[204]پھر اگر وہ باز آجائیں ، تو سمجھ لو کہ ظالموں کے سوا  اور کسی پر دست درازی روا نہیں۔[205]{ ۱۹۳}</p>
<p> ماہ حرام کا بدلہ ماہ حرام ہی ہے اور تمام حُرمتوں کا لحاظ برابری کے ساتھ ہوگا۔[206] لہذا جو تم پر دست درازی کرے، تم بھی اُسی طرح اس پردست درازی کرو۔ البتہ اللہ سے ڈرتے رہو اور یہ جان رکھو کہ اللہ انہی لوگوں کے ساتھ ہے، جو اس کی حُدود توڑنے سے پرہیز کرتے ہیں۔{ ۱۹۴}</p>
<p>اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔[207] احسان کا طریقہ اختیار کرو کہ اللہ محسنوں کو پسند کرتا ہے۔[208]{۱۹۵}</p>
<p>اللہ کی خوشنودی کے لیے جب حج اور عمرے کی نیت کرو ، تو اُسے پورا کرو ، اور اگر کہیں گِھر جا ؤ تو جو قربانی میسر آئے ،اللہ کی جناب میں پیش کرو [209] اور اپنے سرنہ مونڈو جب تک کہ قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے۔[210] مگر جو شخص مریض ہویا جس کے سرمیں کوئی تکلیف ہو اور اس بنا پر اپنا سر منڈوالے ، تو اُسے چاہیے کہ فدیے کے طور پر روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے  ۔[211]پھر اگر تمہیں امن نصیب ہو جائے [212] (اور تم حج سے پہلے مکے پہنچ جا ؤ) تو جو شخص تم میں سے حج کا زمانہ آنے تک عُمرے کا فائدہ اٹھائے ، وہ حسب مقدور قربانی دے ، اور اگر قربانی میسر نہ ہو ، تو تین روزے حج کے زمانے میں اور سات گھر پہنچ کر، اِس طرح پورے دس روزے رکھ لے ۔ یہ رعایت اِن لوگوں کے لیے ہے ، جن کے گھر مسجد حرام کے قریب نہ ہوں۔[213] اللہ کے اِن احکام کی خلاف ورزی سے بچو اور خوب جان لو کہ اللہ سخت سزادینے والا ہے۔{۱۹۶}</p>
<p>  حج کے مہینے سب کو معلوم ہیں۔ جو شخص ان مقررہ مہینوں میں حج کی نیت کرے ، اُسے خبردار رہنا  چاہئے کہ حج کے دوران میں اُس سے کوئی شہوانی فعل[214] ،کوئی بدعملی،[215] کوئی لڑائی جھگڑے کی بات[216] سرزدنہ ہو، اور جو نیک کام تم کروگے ، وہ اللہ کے علم میں ہوگا ۔ سفر حج کے لیے زادِراہ ساتھ لے جا ؤ ، اور سب سے بہتر زادِ راہ پرہیزگاری ہے۔ پس اے ہو شمندو !میری نافرمانی سے پر ہیز کرو۔[217]{۱۹۷}</p>
<p>(اور اگر )حج کے ساتھ ساتھ تم اپنے رَبّ کا فضل بھی تلاش کرتے جا ؤ ، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔[218]  پھر جب عرفات سے چلو، تو مَشْعَرِ حَرام (مُزْدَلفہ) کے پاس ٹھیر کر اللہ کو یاد کرو اور اُس طرح یاد کرو جس کی ہدایت اس نے تمہیں کی ہے ، ورنہ اس سے پہلے تو تم لوگ بھٹکے ہوئے تھے ۔[219]{۱۹۸}</p>
<p>پھر جہاں سے اور سب لوگ پلٹتے ہیں وہیں سے تم بھی پلٹو اور اللہ سے معافی چاہو،[220]یقینا اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ {۱۹۹}</p>
<p>پھر جب اپنے حج کے ارکان ادا کر چکو ، تو جس طرح پہلے اپنے آباء و اجداد کا ذکر کرتے تھے، اس طرح اب اللہ کا ذکر کرو ، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ۔[221] ( مگر اللہ کو یاد کرنے والے لوگوں میں بھی بہت فرق ہے ) اُن میں سے کوئی تو ایسا ہے جو کہتا ہے کہ اے ہمارے رَبّ !ہمیں دنیا ہی میں سب کچھ دیدے ۔ایسے شخص کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ {۲۰۰}</p>
<p>اور کوئی کہتا ہے کہ اے ہمارے رَبّ ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت  میں بھی بھلائی ،اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔ {۲۰۱}</p>
<p> ایسے لوگ اپنی کمائی کے مطابق ( دونوں جگہ ) حصہ پائیں گے۔ اور اللہ کو حساب چُکاتے کچھ دیر نہیں لگتی۔ { ۲۰۲}</p>
<p> یہ گنتی کے چند روز ہیں جو تمہیں اللہ کی یاد میں بسر کرنے چاہئیں۔ پھر جو کوئی جلدی کرکے دوہی دن میں واپس ہوگیا تو کوئی حرج نہیں ، اور جو کچھ دیر زیادہ ٹھیر کر پلٹا تو بھی کوئی حرج نہیں[222] بشر طیکہ یہ دن اس نے تقویٰ کے ساتھ بسر کئے ہوں۔ اللہ کی نافرمانی سے بچو اور خوب جان رکھو کہ ایک روز اس کے حضور میں تمہاری پیشی ہونے والی ہے۔ {۲۰۳}</p>
<p>انسانوں میں کوئی تو ایسا ہے جس کی باتیں دنیا کی زندگی میں تمہیں بہت بھلی معلوم  ہوتی ہیں اور اپنی نیک نیتی پروہ بار بار اللہ کو گواہ ٹھیراتا ہے،[223] مگر حقیقت میں وہ بدترین دشمن حق ہوتا ہے۔[224] {۲۰۴}</p>
<p>جب اُسے اقتدار حاصل ہوجاتا ہے[225] تو زمین میں اس کی ساری دوڑ دھوپ اس لیے ہوتی ہے کہ فساد پھیلائے ، کھیتوں کو غارت کرے اور نسل۔ انسانی کو تباہ کرے ۔حالانکہ اللہ (جسے وہ گواہ بنارہا تھا ) فساد کو ہر گز پسند نہیں کرتا۔{۲۰۵}</p>
<p> اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر، تو اپنے وقار کا خیال اُس کو گنا ہ پر جمادیتا ہے۔ ایسے شخص کے لیے تو بس جہنم ہی کافی ہے اور وہ بہت بُرا ٹھکانا ہے۔{۲۰۶}</p>
<p> دوسری طرف انسانوں ہی میں کوئی ایسا بھی ہے جو رضائے الہٰی کی طلب میں اپنی جان کھپا دیتا ہے اور ایسے بندوں پر اللہ بہت مہربان ہے۔ {۲۰۷}</p>
<p> اے ایمان لانے والو!تم پورے کے پورے اسلام میں آجا ؤ [226]اور شیطان کی پیروی  نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔ {۲۰۸}</p>
<p> جو صاف صاف ہدایات تمہارے پاس آچکی ہیں ، اگر ان کو پالینے کے بعد پھر تم نے لغزش کھائی ، تو خوب جان رکھو کہ اللہ سب پر غالب اور حکیم و دانا ہے۔[227] {۲۰۹}</p>
<p>( ان ساری نصیحتوں اور ہدایتوں کے بعد بھی لوگ سیدھے نہ ہوں ، تو) کیا اب وہ اِس کے منتظر ہیں کہ اللہ بادلوں کا چتر لگائے فرشتوں کے پرے ساتھ لئے خود سامنے آموجود ہو اور فیصلہ ہی کر ڈالا جائے؟[228] آخر کار سارے معاملات پیش تو اللہ ہی کے حضور ہونے والے ہیں۔{۲۱۰}</p>
<p> بنی اسرائیل سے پوچھو: کیسی کھلی کھلی نشانیاں ہم نے انہیں دکھائی ہیں( اور پھر یہ بھی انہی سے پوچھ لو کہ) اللہ کی نعمت پانے کے بعد جو قوم اُس کو شقاوت سے بدلتی ہے اُسے اللہ کیسی سخت سزا دیتا ہے۔[229]{۲۱۱}</p>
<p>جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے ، ان کے لیے دنیا کی زندگی بڑی محبوب و دل پسند بنادی گئی ہے۔ ایسے لوگ ایمان کی راہ اختیار کرنے والوں کا مذاق اُڑاتے ہیں ، مگر قیامت کے روز پرہیز گار لوگ ہی اُن کے مقابلے میں عالی مقام ہوں گے، رہادُنیا کا رزق ، تو اللہ کو اختیار ہے ، جسے چاہے بے حساب دے۔ {۲۱۲}</p>
<p>ابتداء میں سب لوگ ایک ہی طریقے پر تھے ۔ ( پھر یہ حالت باقی نہ رہی اور اختلافات رونما ہوئے) تب اللہ نے نبی بھیجے جو راست روی پربشارت دینے والے اور کج روی کے نتائج سے ڈرانے والے تھے، اوراُن کے ساتھ کتاب بر حق نازل کی تا کہ حق کے بارے میں لوگوں کے درمیان جو اختلافات رونما ہوگئے تھے ، ان کا فیصلہ کرے۔ (اور ان اختلافات کے رونما ہونے کی وجہ یہ نہ تھی کہ ابتداء میں لوگوں کو حق بتایا نہیں گیا تھا۔ نہیں بلکہ ) اختلاف اُن لوگوں نے کیا ، جنہیں حق کا علم دیاجاچکا تھا۔ انہوں نے روشن ہدایات پالینے کے بعد محض اس لیے حق کو چھوڑ کر مختلف طریقے نکالے کہ وہ آپس میں زیادتی کرنا چاہتے تھے۔[230] پس جو لوگ انبیاء پر ایمان لے آئے ، انہیں اللہ نے اپنے اِذن سے اُس حق کا راستہ دکھادیا، جس میں لوگوں نے اختلاف کیا تھا ۔ اللہ جسے چاہتا ہے، راہ راست دکھادیتا ہے۔{۲۱۳}</p>
<p>پھر [231]کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یو نہی جنّت کا داخلہ تمہیں مل جائے گا ، حالانکہ ابھی تم پر وہ سب کچھ نہیں گزراہے ، جو تم سے پہلے ایمان لانے والوں پر گزرچکا ہے؟اُن پر سختیاں گزریں ، مصیبتیں آئیں ، ہلامارے گئے ، حتی کہ وقت کارسول اور اس کے ساتھی اہل ایمان چیخ اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟ (اُس وقت اُنہیں تسلی دی گئی کہ) ہاں اللہ کی مدد قریب ہے۔{۲۱۴}</p>
<p> (اے نبی  ؐ!) لوگ آپ سے پوچھتے ہیں ہم کیا خرچ کریں ؟ جواب دو کہ جو مال بھی تم خرچ کرو اپنے والدین پر ، رشتے داروں پر، یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرو۔ اور جو بھلائی بھی تم کرو گے، اللہ اس سے باخبر ہوگا۔{۲۱۵}</p>
<p>تمہیں جنگ کا حکم دیا گیا ہے اور وہ تمہیں ناگوار ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں ناگوار ہواوروہی تمہارے لئے بہتر ہو، اور ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند ہو اور وہی تمہارے لئے بُری ہو ۔اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے ۔{۲۱۶}</p>
<p>  (اے نبی  ؐ!) آپ سے لوگ پوچھتے ہیں : ماہ حرام میں لڑنا کیسا ہے ؟ کہو ! اُس میں لڑنا بہت بُراہے ، مگر اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکنا اور اللہ سے کفر کرنا اور مسجد حرام کا راستہ اللہ والوں پر بند کرنا اور حرم  کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اُس سے بھی زیادہ بُرا ہے اور فتنہ خونریزی سے شدید تر  ہے۔ [232]وہ تو تم سے لڑے ہی جائیں گے حتی کہ اگر اُن کا بس چلے تو تمہارے دین سے تم کو پھیرلے جائیں ۔ (اور یہ خوب سمجھ لو کہ )  تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر ے گا اور کفر کی حالت میں جان دے گا ، اس کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں ضائع ہوجائیں گے۔ ایسے سب لوگ جہنمی ہیں اور ہمیشہ جہنم ہی میں رہیں گے [233]{۲۱۷}</p>
<p> بخلاف اِس کے جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنا گھر بار چھوڑا اور جہاد کیا ہے۔[234] وہ رحمت الٰہی کے جائز امیدوار ہیں اور اللہ ان کی لغزشوں کو معاف کرنے والا اور اپنی رحمت سے انہیں نوازنے والا ہے{۲۱۸}</p>
<p> (اے نبی  ؐ!) آپ سے لوگ پوچھتے ہیں : شراب اور جوئے کا کیا حکم ہے ؟ کہو ! ان دونوں چیزوں میں بڑی خرابی ہے، اگر چہ ان میں لوگوں کے لیے کچھ منافع بھی ہیں، مگر اُن کا گناہ ان کے فائدے سے بہت زیادہ ہے ۔[235]اور لوگ آپ  ؐسے پوچھتے ہیں:ہم اللہ کی راہ میں کیا خرچ کریں ؟ کہو: جو کچھ تمہاری ضرورت سے زیادہ ہو۔ اس طرح اللہ تمہارے لئے صاف صاف احکام بیان کرتا ہے ، شاید کہ تم( دنیا اور آخرت دونوں کی) فکر کرو۔{۲۱۹}</p>
<p>دنیا اور آخرت دونوں میں (خیراورفلاح کی فکر کرتے ہوئے اللہ کے واضح احکامات کی روشنی میں دنیامیں زندگی بسرکرو) اور پوچھتے ہیں یتیموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے ؟ کہو! جس طرز عمل میں ان کے لیے بھلائی ہو وہی اختیار کرنا بہتر ہے ۔[236] اگر تم اپنا اوراُن کا خرچ اور رہنا سہنا مشترک رکھو، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ آخرو ہ تمہارے بھائی بندہی تو ہیں۔ برائی کرنے والے اور بھلائی کرنے والے ، دونوں کا حال اللہ پر روشن ہے۔ اللہ چاہتا تو اس معاملے میں تم پر سختی کرتا، مگر وہ صاحب اختیار ہونے کے ساتھ صاحب حکمت بھی ہے{۲۲۰}</p>
<p>تم مشرک عورتوں سے ہر گز نکاح نہ کرنا ،جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں ۔ ایک مومن لونڈی مشرک شریف زادی  سے بہتر ہے ، اگر چہ وہ تمہیں بہت پسند ہو۔اور اپنی عورتوں کے نکاح مشرک مردوں سے کبھی نہ کرنا ، جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں ۔ ایک مومن غلام مشرک شریف سے بہتر ہے ، اگر چہ وہ تمہیں بہت پسند ہو ۔ یہ لوگ تمہیں آگ کی طرف بُلاتے ہیں[237] اور اللہ اپنے اِذن سے تم کو جنّت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے ، اور وہ اپنے احکام واضح طور پر لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے ، توقع ہے کہ وہ سبق لیں گے اور نصیحت قبول کریں گے۔ {۲۲۱}</p>
<p> لوگ آپ  ؐ سے پوچھتے ہیں : حیض کا کیا حکم ہے ؟ کہو! وہ ایک گندگی کی حالت [238]ہے ۔ اس میں عورتوں سے الگ رہو اور ان کے قریب نہ  جا ؤ ، جب تک کہ وہ پاک صاف نہ ہو جائیں۔[239] پھر جب وہ پاک ہوجائیں ، تو اُن کے پاس جا ؤ اُس طرح جیسا کہ اللہ نے تم کو حکم دیا [240]ہے ۔ اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے ، جو بدی سے باز رہیں اور پاکیزگی اختیار کریں {۲۲۲}</p>
<p>تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں ۔ تمہیں اختیار ہے ، جس طرح چاہو ، اپنی کھیتی میں جا ؤ [241]،مگر اپنے مستقبل کی فکر کرو[242] اور اللہ کی ناراضی سے بچو ۔خوب جان لو کہ تمہیں ایک دن اس سے ملنا ہے۔ اور اے نبی  ؐجو (تمہاری ہدایات کو) مان لیں انہیں (فلاح و سعادت کی) خوشنجری دے دو۔ {۲۲۳}</p>
<p>اللہ کے نام کو ایسی قسمیں کھانے کے لیے استعمال نہ کرو جن سے مقصود نیکی اور تقویٰ اور اصلاح اورلوگوں کے درمیان صلح اوربھلائی کے کاموں سے بازرہنا ہو۔[243] اللہ تمہاری ساری باتیں سن رہا ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔{ ۲۲۴}</p>
<p>جو بے معنی قسمیں تم بلا ارادہ کھالیا کرتے ہو ، اُن پر اللہ گرفت نہیں کرتا ،[244] مگر جو قسمیں تم سچے دل سے کھاتے ہو ، اُن کی باز پرس وہ ضرور کرے گا ۔اللہ بہت درگزر کرنے والااوربردبار ہے۔ {۲۲۵}</p>
<p>جو لوگ اپنی عورتوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھا بیٹھتے ہیں ، ان کے لیے چار مہینوں کی مہلت ہے۔[245] اگر انہوں نے رجوع کرلیا،تو اللہ معاف کرنے والا اور رحیم ہے[246] {۲۲۶}</p>
<p>اور اگر انہوں نے طلاق ہی کی ٹھان لی[247] ہوتو جانے رہیں کہ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔[248]{۲۲۷}</p>
<p>جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو ، وہ تین مرتبہ ایام ماہواری آنے تک اپنے آپ کو روکے رکھیں ، اور اُن کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ اللہ نے اُن کے رحم میں جو کچھ خلق فرمایا ہو ، اُسے چھپائیں۔ اُنہیں ہر گزایسا نہ کرنا چاہئے اگر وہ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتی ہیں۔ اُن کے شوہر تعلقات درست کرلینے پر آمادہ ہوں ، تو وہ اس عدت کے دوران میں اُنہیں پھر اپنی زوجیت میں واپس لے لینے کے حق دار ہیں [249]عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں ، جیسے مردوں کے حقوق اُن پر ہیں ۔ البتہ مردوں کو اُن پر ایک درجہ حاصل ہے ۔ اور سب پر اللہ غالب اقتدار رکھنے والا اور حکیم ودانا موجود ہے۔{۲۲۸}</p>
<p> طلاق دو بار ہے ۔پھر یاتو سیدھی طرح عورت کو روک لیا جائے یا بھلے طریقے سے اس کو رخصت کردیا جائے۔[250] اور رخصت کرتے ہوئے ایسا کرنا تمہارے لئے جائز نہیں ہے کہ جو کچھ تم انہیں دے چکے ہو ، اس میں سے کچھ واپس لے لو۔ [251]البتہ یہ صورت مستثنیٰ ہے کہ زوجین کو اللہ کے حُدود پر قائم نہ رہ سکنے کا اندیشہ ہو ۔ ایسی صورت میں اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں حدود الٰہی پر قائم نہ رہیں گے ، تو اُن دونوں کے درمیان یہ معاملہ ہوجانے میں مضائقہ نہیں کہ عورت اپنے شوہر کو کچھ معاوضہ دے کر علیٰحدگی حاصل کرلے  ۔ [252]یہ اللہ کی مقرر کردہ حُدود ہیں، ان سے تجاوزنہ کرو۔ اور جو لوگ حُدود الٰہی سے تجاوزکریں ،وہی ظالم ہیں۔{۲۲۹}</p>
<p>پھر اگر  ( دوبار طلاق دینے کے بعد شوہر نے عورت کو تیسری بار ) طلاق دے دی[253] ، تو وہ عورت پھر اُس کے لیے حلال نہ ہوگی، اِلاّیہ کہ اس کا نکاح کسی دوسرے شخص سے ہو اور وہ اسے طلاق دیدے ۔تب اگر پہلا شوہر اور یہ عورت دونوں یہ خیال کریں کہ حدود الٰہی پر قائم رہیں گے ، تو ان کے لیے ایک دوسرے کی طرف رجوع کرلینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں۔ جنہیں وہ اُن لوگوں کی ہدایت  کے لیے واضح کررہا ہے۔ جو ( اس کی حدوں کو توڑنے کا انجام ) جانتے ہیں۔{۲۳۰}</p>
<p>اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہونے کو آجائے، تو یا بھلے طریقے سے انہیں روک لو یا بھلے طریقے سے رخصت کردو ۔ محض ستانے کی خاطر انہیں نہ روکے رکھنا کہ یہ زیادتی ہوگی اور جو ایسا کرے گا، وہ درحقیقت آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرے گا ۔[254] اللہ کی آیات کا کھیل نہ بنا ؤ ۔ بھول نہ جا ؤ کہ اللہ نے کس نعمت عظمیٰ سے تمہیں سرفراز کیا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ جو کتاب اور حکمت اس نے تم پر نازل کی ہے، اس کا حترام ملحوظ رکھو ۔[255]اللہ سے ڈرو اور خوب جان لو کہ اللہ کو ہر بات کی خبر ہے۔ {۲۳۱}</p>
<p> اورجب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے چکو اور وہ اپنی عدت پوری کرلیں، تو پھر اس میں مانع نہ ہو کہ وہ اپنے زیر تجویز شوہروں سے نکاح کرلیں، جب کہ وہ معروف طریقے سے باہم مناکحت پر راضی ہوں۔[256] تمہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ ایسی حرکت ہر گز نہ کرنا، اگر تم اللہ اور روز آخر پر ایمان لانے والے ہو۔ تمہارے لئے شائستہ اور پاکیزہ طریقہ یہی ہے کہ اِس سے باز رہو ۔ اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔ {۲۳۲}</p>
<p>جو باپ چاہتے ہوں کہ ان کی اولاد پوری مدت رضاعت تک دودھ پئے، تو مائیں اپنے بچوں کو کامل دوسال دُودھ پلائیں ۔ [257] اس صورت میں بچے کے باپ کو معروف طریقے سے اُنہیں کھانا کپڑا دینا ہوگا۔ مگر کسی پر اُس کی وسعت سے بڑھ کربار نہ ڈالنا  چاہئے۔ نہ تو ماں کو اِس وجہ سے تکلیف میں ڈالا جائے کہ بچہ اس کا ہے ، اور نہ باپ ہی کو اس وجہ سے تنگ کیا جائے کہ بچہ اُس کا ہے۔ دودھ پلانے والی کا یہ حق جیسا کہ بچے کے باپ پر ہے ، ویساہی اس کے وارث پر بھی ہے۔[258] لیکن اگر فریقین باہمی رضا مندی اور مشورے سے دُودھ چھڑانا چاہیں ، تو ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔اور اگر تمہارا خیال اپنی اولاد کو کسی غیرعورت سے دودھ پلوانے کا ہو ، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں بشر طیکہ اس کا جو کچھ معاوضہ طے کرو، وہ معروف طریقے پر ادا کرو ۔ اللہ سے ڈرو اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو، سب اللہ کی نظر میں ہے ۔ {۲۳۳}</p>
<p> تم میں سے جو لوگ مرجائیں ، ان کے پیچھے اگر اُن کی بیویاں زندہ ہوں ، تو وہ اپنے آپ کو چار مہینے ، دس دن روکے رکھیں[259] پھر جب ان کی عدت پوری ہوجائے ، تو انہیں اختیار ہے، اپنی ذات کے معاملے میں معروف طریقے سے جو چاہیں کریں۔ تم پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ اللہ تم سب کے اعمال سے باخبر ہے {۲۳۴}</p>
<p>زمانہ ٔعدّت میں خواہ تم ان بیوہ عورتوں کے ساتھ منگنی کا ارادہ اشارے کنایے میں ظاہر کردو ، خواہ دل میں چھپائے رکھو ، دونوں صورتوں میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ اللہ جانتا ہے کہ اُن کا خیال تو تمہارے دل میں آئے گاہی ۔ مگر دیکھو ، خفیہ عہدو پیمان نہ کرنا۔ اگر کوئی بات کرنی ہے، تو معروف طریقے سے کرو۔اور عقد نکاح باندھنے کا فیصلہ اس وقت تک نہ کرو جب تک کہ عدت پوری نہ ہوجائے۔ خوب سمجھ لو کہ اللہ تمہارے دلوں کا حال تک جانتا ہے۔ لہٰذا اس سے ڈرو اور یہ بھی جان لو کہ اللہ بردبار ہے (چھوٹی چھوٹی باتوں سے ) درگزر فرماتا ہے۔{۲۳۵}</p>
<p>تم پر کچھ گناہ نہیں ، اگر اپنی عورتوں کو طلاق دے دو قبل اِس کے کہ ہاتھ لگانے کی نوبت آئے یا مہر مقرر ہو ۔اس صورت میں اُنہیں کچھ نہ کچھ دینا ضرور چاہئے۔ [260]خوش حال آدمی اپنی مقدرت کے مطابق اور غریب اپنی مقدرت کے مطابق معروف طریقہ سے دے ۔ یہ حق ہے نیک آدمیوں پر۔{۲۳۶}</p>
<p> اور اگر تم نے ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی ہو ، لیکن مہر مقرر کیا  جاچکا ہو ، تو اِس صورت میں نصف مہر دینا ہوگا۔ یہ اور بات ہے کہ عورت نرمی برتے (اور مہرنہ لے )  یاوہ مرد ، جس کے اختیار میں عقد نکاح ہے ، نرمی سے کام لے ( اور پورا مہردیدے) اور تم ( یعنی مرد)  نرمی سے کام لو، تو یہ تقویٰ سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ آپس کے معاملات میں فیاضی کو نہ بھولو۔[261]تمہارے اعمال کو اللہ دیکھ رہا ہے۔{۲۳۷}</p>
<p>اپنی نمازوں کی نگہداشت رکھو [262]، خصوصاً ایسی نماز کی جو محاسن صلوٰۃ کی جامع ہو۔[263] اللہ کے آگے اس طرح کھڑے ہو، جیسے فرماں بردار غلام کھڑے ہوتے ہیں۔{۲۳۸}</p>
<p>بدامنی کی حالت ہو ، تو خواہ پیدل ہو ، خواہ سوار ، جس طرح ممکن ہو، نماز پڑھو ۔ اور جب امن میسر آجائے ، تو اللہ کو اُس طریقے سے یاد کرو ، جو اس نے تمہیں سکھادیا ہے ، جس سے تم پہلے ناواقف تھے۔{۲۳۹}</p>
<p>تم میں [264]سے جو لوگ وفات پائیں اور پیچھے بیویاں چھوڑرہے ہوں ، اُن کو چاہئے کہ اپنی بیویوں کے حق میں یہ وصیت کرجائیں کہ ایک سال تک ان کو نان ونفقہ دیا جائے اور وہ گھر سے نہ نکالی جائیں ۔ پھر اگر وہ خود نکل جائیں ، تو اپنی ذات کے معاملے میں معروف طریقے سے وہ جوکچھ بھی کریں، اس کی کوئی ذمہ داری تم پر نہیں ہے اللہ سب پر غالب اقتدار رکھنے والا اور حکیم ودانا ہے۔ {۲۴۰}</p>
<p> اسی طرح جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو ، انہیں بھی مناسب طور پر کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کیا جائے، یہ حق ہے متقی لوگوں پر۔ {۲۴۱}</p>
<p>اس طرح اللہ اپنے احکام تمہیں صاف صاف بتاتا ہے۔ امید ہے کہ تم سمجھ بوجھ کر کام کرو گے۔{۲۴۲}</p>
<p>  تم نے [265]اُن لوگوں کے حال پر بھی کچھ غور کیا ، جو موت کے ڈرسے اپنے گھر بار چھوڑ کر نکلے تھے اور ہزاروں کی تعداد میں تھے؟ اللہ نے اُن سے فرمایا : مرجا ؤ ،پھر اُس نے اُن کو دوبارہ زندگی بخشی۔[266]  حقیقت یہ ہے کہ اللہ انسان پر بڑافضل فرمانے والا ہے ، مگر اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔ {۲۴۳}</p>
<p> مسلمانو! اللہ کی راہ میں جنگ کرو اور خوب جان رکھو کہ اللہ سننے والا اورجاننے والا ہے۔ {۲۴۴}</p>
<p> تم میں کون ہے جو اللہ کو قرض حسن دے [267]تا کہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا چڑھا کرو اپس کرے؟ گھٹانا بھی اللہ کے اختیار میں ہے اور بڑھانا بھی۔ اور اسی کی طرف تمہیں پلٹ کرجانا ہے۔{۲۴۵}</p>
<p>پھر تم نے اُس معاملے پر بھی غور کیا جو موسیٰ  ؑ کے بعد سرداران بنی اسرائیل کو پیش آیا تھا ؟ انہوں نے اپنے نبی سے کہا :ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردوتا کہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ کریں ۔[268]نبی نے پوچھا : کہیں ایسا تو نہ ہوگا کہ تم کو لڑائی کا حکم دیا جائے اور پھر تم نہ لڑو؟ وہ کہنے لگے : بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم اللہ کی راہ میں نہ لڑیں، جبکہ ہمیں اپنے گھروں سے نکال دیا گیا ہے اور ہمارے بال بچے ہم سے جُدا کردیئے گئے ہیں۔ مگر جب ان کو جنگ کا حکم دیا گیا ، تو ایک قلیل تعداد کے سوا وہ سب پیٹھ موڑگئے، اور اللہ ان میں سے ایک ایک ظالم کو جانتا ہے۔{۲۴۶}</p>
<p> اُن کے نبی نے ان سے کہا کہ اللہ نے طالوت [269]کو تمہارے لئے بادشاہ مقرر کیا ہے ۔ یہ سُن کروہ بولے : ’’ہم پر بادشاہ بننے کا وہ کیسے حق دار ہوگیا؟ اس کے مقابلے میں  بادشاہی کے ہم زیادہ مستحق ہیں ۔ وہ تو کوئی بڑا مالدار آدمی نہیں ہے ‘‘۔ نبی نے جواب دیا: ’’اللہ نے تمہارے مقابلے میں اسی کو منتخب کیا ہے اور اس کو دماغی وجسمانی دونوں قسم کی اہلیتیں فراوانی کے ساتھ عطافرمائی ہیں اور اللہ کو اختیار ہے کہ اپنا ملک جسے چاہے دے ، اللہ بڑی وسعت رکھتا ہے اور سب کچھ اس کے علم میں ہے۔ ‘‘{۲۴۷}</p>
<p> اس کے ساتھ ان کے نبی نے ان کو یہ بھی بتایا کہ ’’ اللہ کی طرف سے اُس کے بادشاہ مقرر ہونے کی علامت یہ ہے کہ اس کے عہد میں وہ صندوق تمہیں واپس مل جائے گا جس میں تمہارے رَبّ کی طرف سے تمہارے لئے سکون قلب کا سامان ہے ، جس میں آلِ موسیٰ  ؑاور آلِ ہارونؑ کے چھوڑے ہوئے تبرکات ہیں ،اور جس کو اس وقت فرشتے سنبھالے ہوئے ہیں۔[270] اگر تم مومن ہو ، تو یہ تمہارے لئے بہت بڑی نشانی ہے۔{۲۴۸}</p>
<p>  پھر جب طالوت لشکر لے کر چلا تو اُس نے کہا : ’’ ایک دریا پر اللہ کی طرف سے تمہاری آزمائش ہونے والی ہے، جو اس کا پانی پئے گا ، وہ میرا ساتھی نہیں۔ میرا ساتھی صرف وہ ہے جو اس سے پیاس نہ بجھائے، ہاں ایک آدھ چُلّو کوئی پی لے ، تو پی لے ‘‘ مگر ایک گِروہ قلیل کے سوا وہ سب اس دریاسے سیراب ہوئے ۔[271] پھر جب طالو ت اور اس کے ساتھی مسلمان دریا پار کرکے آگے بڑھے ، تو انہوں نے طالوت سے کہہ دیا کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکروں سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے،[272]لیکن جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ انہیں ایک دن اللہ سے ملنا ہے ، انہوں نے کہا : ’’ بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اِذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیا ہے ۔اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھی ہے ‘‘ {۲۴۹}</p>
<p>اور جب وہ جالوت اور اسکے لشکروں کے مقابلہ پر نکلے ، تو انہوں نے دعا کی ’’ اے ہمارے رَبّ !ہم پر صبر کا فیضان کر، ہمارے قدم جمادے اور اس کافرگروہ پر ہمیں فتح نصیب کر‘‘ {۲۵۰}</p>
<p>آخر کار اللہ کے اِذن سے انہوں نے کا فروں کو ماربھگایا اور داؤد [273]نے جالوت کو قتل کردیا اور اللہ نے اُسے سلطنت اور حکمت سے نوازا اور جن جن چیزوں کا چاہا ، اس کو علم دیا ۔ اگر اس طرح اللہ انسانوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ذریعے سے ہٹا تا نہ رہتا تو زمین کا نظام بگڑ جاتا ،[274] لیکن دُنیا کے لوگوں پر اللہ کا بڑا فضل ہے ( کہ وہ اس طرح دفع فساد کا انتظام کرتا رہتا ہے ){۲۵۱}</p>
<p>یہ اللہ کی آیات ہیں ، جو ہم ٹھیک ٹھیک تم کو سُنار ہے ہیں اور اے نبی  ؐ!تم یقینا اُن لوگوں میں سے ہو جو رسول بناکر بھیجے گئے ہیں۔{۲۵۲}</p>
<p>یہ رُسول ( جو ہماری طرف سے انسانوں کی ہدایت پر مامور ہوئے )  ہم نے اِن کو ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر مرتبے عطا کئے۔ ان میں کوئی ایسا تھا جس سے اللہ خود ہم کلام ہوا ،کسی کو اُس نے دوسری حیثیتوں سے بلند درجے دیئے ، اور آخر میں عیسیٰ ؑ ابن مریم کو روشن نشانیاں عطا کیں اور رُوح پاک سے اُس کی مدد کی ۔ اگر اللہ چاہتا تو ممکن نہ تھا کہ ان رسولوں کے بعد جو لوگ روشن نشانیاں دیکھ چکے تھے وہ آپس میں لڑتے ۔ مگر( اللہ کی مشیت یہ نہ تھی کہ وہ لوگوں کو جبراً اختلاف سے روکے، اس وجہ سے )  اُنہوں نے باہم اختلاف کیا ، پھر کوئی ایمان لایا اور کسی نے کفر کی راہ اختیار کی ۔ ہاں ، اللہ چاہتا ، تو وہ ہر گز نہ لڑتے ، مگر اللہ جو چاہتاہے کرتا ہے[275]{ ۲۵۳}</p>
<p>اے لوگو جو ایمان لائے ہو !جو کچھ مال و متاع ہم نے تم کو بخشا ہے اس میں سے خرچ کرو[276] قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خرید و فروخت ہوگی ،نہ دوستی کام آئے گی اور نہ سفارش چلے گی۔ اور ظالم اصل میں وہی ہیں جو کفر کی روش اختیار کرتے ہیں[277]{۲۵۴}</p>
<p>اللہ ، وہ زندہ ٔجاوید ہستی ،جو تمام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے، اُس کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں ہے[278]۔ وہ نہ سوتا ہے اور نہ اُسے اُونگھ لگتی [279]ہے۔ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے ، اُسی کا ہے۔[280] کون ہے جواُسکی جناب میں اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرسکے ؟[281] جو کچھ بندوں کے سامنے ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جوکچھ اُن سے اوجھل ہے ، اس سے بھی وہ واقف ہے اور اس کی معلومات میں سے کوئی چیز اُن کی گرفتِ ادراک میں نہیں آسکتی اِلاّ یہ کہ کسی چیز کا علم وہ خودہی ان کو دینا چاہے۔[282] اُس کی حکومت[283]  آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے اوراُن کی نگہبانی اس کے لیے کوئی تھکا دینے والا کام نہیں ہے ۔ بس وہی ایک بزرگ وبرترذات ہے[284]{۲۵۵}</p>
<p>دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے۔ [285]صحیح بات غلط خیالات سے الگ چھانٹ کررکھ دی گئی ہے۔ اب جو کوئی طاغوت[286] کا انکار کرکے اللہ پر ایمان لے آیا ، اُس نے ایک ایسا مضبُوط سہارا تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں،اوراللہ (جس کا سہارا اس نے لیا ہے ) سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے{۲۵۶}</p>
<p>جو لوگ ایمان لاتے ہیں اُن کا حامی ومددگار اللہ ہے اور وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی میں نکال لاتا ہے[287] اور جو لوگ کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں ، اُن کے حامی ومدد گار طاغوت ہیں[288] اور وہ انہیں روشنی سے تاریکیوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں۔یہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں ، جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے۔ {۲۵۷}</p>
<p>  کیا[289] تم نے اُس شخص کے حال پر غور نہیں کیا جس نے ابراہیم ؑ سے جھگڑا کیاتھا[290] ؟  جھگڑا اس بات پر کہ ابراہیم ؑ کا رَبّ کون ہے ، اور اس بنا پر کہ اُس شخص کو اللہ نے حکومت دے رکھی تھی ۔[291] جب ابراہیم ؑ نے کہا کہ ’’میرا رَبّ وہ ہے جس کے اختیار میں زندگی اور موت ہے ، تو اُس نے جواب دیا : زندگی اور موت میرے اختیار میں ہے ‘‘ ابراہیم ؑ نے کہا : ’’ اچھا، اللہ سُورج کو مشرق سے نکالتا ہے ، توذرا اُسے مغرب سے نکال لا‘‘۔ یہ سُن کر وہ منکرِ حق ششدررہ گیا[292] ، مگر اللہ ظالموں کو راہ راست نہیں دکھایا کرتا۔ {۲۵۸}</p>
<p>  یاپھر مثال کے طور پر اُس شخص کو دیکھو، جس کا گزر ایک ایسی بستی پر ہوا ، جو اپنی چھتوں پر اَوندھی گِری پڑی تھی۔[293]اس نے کہا :’’ یہ آبادی جو ہلاک ہوچکی ہے ، اسے اللہ کس طرح دوبارہ زندگی بخشے گا‘‘؟[294] اس پر اللہ نے اُس کی روح قبض کرلی اور وہ سو(۱۰۰) برس تک مُردہ پڑارہا ۔ پھر اللہ نے اُسے دوبارہ زندگی بخشی اور اس سے پوچھا: ’’ بتا ؤ کتنی مدت پڑے رہے ہو‘‘ ؟ اس نے کہا : ’’ایک دن یا چند گھنٹے رہاہوں گا ‘‘۔ فرمایا’’تم پر سو(۱۰۰) برس اِسی حالت میں گزرچکے ہیں ۔ اب ذرا اپنے کھانے اور پانی کو دیکھو کہ اس میں ذرا تغیر نہیں آیا ہے، دوسری طرف ذرا اپنے گدھے کو بھی دیکھو ( کہ اس کا پنجرتک بوسیدہ ہورہا ہے) اور یہ ہم نے اس لیے کیا ہے کہ ہم تمہیں لوگوں کے لیے ایک نشانی بنادینا چاہتے ہیں ۔[295] پھر دیکھو کہ ہڈیوں کے اس پنجر کو ہم کس طرح اٹھا کر گوشت پوست اس پر چڑھاتے ہیں ‘‘۔ اُس طرح جب حقیقت اس کے سامنے بالکل نمایاں ہوگئی تو اُس نے کہا : ’’میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ ‘‘{۲۵۹}</p>
<p>اور وہ واقعہ بھی پیشِ نظر رہے ،جب ابراہیم ؑ نے کہا تھا کہ ’’ میرے مالک ، مجھے دکھا دے تو مُردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے ‘‘ فرمایا :’’ کیا تو ایمان نہیں رکھتا ‘‘؟ اُس نے عرض کیا ’’ ایمان تو رکھتا ہوں ، مگر دل کا اطمینان درکار ہے‘‘[296]فرمایا ’’ اچھا تو چار پرندے لے اور ان کو اپنے سے مانوس کرلے ۔ پھر ان کا ایک ایک ٹکڑا ایک ایک پہاڑ پر رکھ دے ۔پھر ان کو پکار ، وہ تیرے پاس دوڑے چلے آئیںگے ۔خوب جان لے کہ اللہ نہایت بااقتدار اور حکیم ہے۔‘‘[297]{۲۶۰}</p>
<p> جو[298] لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں صرف کرتے ہیں،[299] اُن کے خرچ کی مثال ایسی ہے،جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس سے سات’۷‘ بالیں نکلیں اور ہربال میں سو’۱۰۰‘ دانے ہوں۔ اسی طرح اللہ جس کے عمل کو چاہتا ہے افزونی عطا فرماتا ہے۔ وہ فراخ دست بھی ہے اور علیم بھی [300]{۲۶۱}</p>
<p> جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور خرچ کرکے پھر احسان نہیں جتاتے ، نہ دُکھ دیتے ہیں، ان کا اجراُن کے رَبّ کے پاس ہے اور اُن کے لیے کسی رنج اور خوف کا موقع نہیں۔[301]{ ۲۶۲}</p>
<p>ایک میٹھا بول اور کسی ناگوار بات پر ذراسی چشم پوشی اُس خیرات سے بہتر ہے جسکے پیچھے دکھ ہو۔ اللہ بے نیاز ہے اور بُردباری اس کی صفت ہے۔ [302]{۲۶۳}</p>
<p> اے ایمان لانے والو !اپنے صدقات کو احسان جتاکر اور دکھ دے کر اس شخص کی طرح خاک میں نہ ملادو جو اپنا مال محض لوگوں کے دکھانے کو خرچ کرتا ہے اور نہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے نہ آخرت پر۔[303] اس کے خرچ کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چٹان تھی ، جس پرمٹی کی تہہ جمی ہوئی تھی ۔ اس پر جب زور کا مینہ برساتو ساری مٹی بہہ گئی اور صاف چٹان کی چٹان رہ گئی ۔[304]ایسے لوگ اپنے نزدیک خیرات کرکے جو نیکی کماتے ہیں ، اس سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہیں آتا، اور کافروں کو سیدھی راہ دکھانا اللہ کا دستور نہیں ہے۔[305]{ ۲۶۴}</p>
<p> بخلاف اس کے جو لوگ اپنے مال محض اللہ کی رضا جوئی کے لیے دل کے پورے ثبات و قرار کے ساتھ خرچ کرتے ہیں، ان کے خرچ کی مثال ایسی ہے جیسے کسی سطحِ مرتُفع پر ایک باغ ہو۔ اگر زور کی بارش ہوجائے تو دوگنا پھل لائے ،اور اگر زور کی بارش نہ بھی ہو تو ایک ہلکی پُھوار ہی اُس کے لیے کافی ہوجائے[306] ۔ تم جو کچھ کرتے ہو سب اللہ کی نظر میں ہے۔{۲۶۵}</p>
<p> کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس ایک ہر ابھر ا باغ ہو ، نہروں  سے سیراب ، کھجوروں اور انگوروں اور ہر قسم کے پھلوں سے لدا ہوا ، اوروہ عین اُس وقت ایک تیز بگولے کی زد میں آکر جُھلس جائے جبکہ وہ خود بوڑھا ہو اور اس کے کمسن بچے ابھی کسی لائق نہ ہوں ؟[307] اس طرح اللہ اپنی باتیں تمہارے سامنے بیان کرتا ہے ، شاید کہ تم غور وفکر کرو ۔{۲۶۶}</p>
<p>اے لوگوجو ایمان لائے ہو! جومال تم نے کمائے ہیں اور جو کچھ ہم نے زمین سے تمہارے لئے نکالا ہے، اُس میں سے بہتر حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو ۔ ایسا نہ ہو کہ اس کی راہ میں دینے کے لیے بُری سے بُری چیز چھانٹنے کی کوشش کرنے لگو، حالانکہ وہی چیز اگر کوئی تمہیں دے ، تو تم ہر گز اُسے لینا گو ارانہ کروگے اِلاّیہ کہ اس کو قبول کرنے میں تم اِغماض برت جا ؤ ۔ تمہیں جان لینا چاہئے کہ اللہ بے نیاز ہے اور بہترین صفات سے متصف ہے۔[308] {۲۶۷}</p>
<p> شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور شرمناک طرز عمل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے ، مگر اللہ تمہیں اپنی بخشش اور فضل کی اُمیددِ لاتا ہے ۔ اللہ بڑا فراخ دست اور دانا ہے۔ {۲۶۸}</p>
<p> جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے ، اور جس کو حکمت ملی ، اُسے حقیقت میں بڑی دولت مل گئی ۔[309] ان باتوں سے صرف وہی لوگ سبق لیتے ہیں جو دانشمند ہیں۔{۲۶۹}</p>
<p>تم نے جو کچھ بھی خرچ کیا ہو اور جو نذر بھی مانی ہو ، اللہ کو اُس کا علم ہے، اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔[310] {۲۷۰}</p>
<p> اگر اپنے صدقات علانیہ دو ، تویہ بھی اچھا ہے ،لیکن اگر چُھپا کرحاجت مندوں کو دو ، تویہ تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے ۔ [311]تمہاری بہت سی بُرائیاں  اس طرزِ عمل سے محو ہو جاتی ہیں،[312] اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو بہر حال اُس کی خبر ہے۔ {۲۷۱}</p>
<p>(اے نبی  ؐ! )لوگوں کو ہدایت بخش دینے کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے۔ ہدایت تو اللہ ہی جسے چاہتا ہے بخشتا ہے۔ اور راہ خیر میں جومال تم لوگ خرچ کرتے ہووہ تمہارے اپنے لئے بھلا ہے۔ آخر تم اسی لئے تو خرچ کرتے ہوکہ اللہ کی رضا حاصل ہو۔ تو جو کچھ مال تم راہِ خیر میں خرچ کروگے ، اس کا پورا پورا اجر تمہیں دیا جائے گا اور تمہاری حق تلفی ہر گزنہ ہوگی۔ [313] {۲۷۲}</p>
<p>خاص طور پر مدد کے مستحق وہ تنگ دست لوگ ہیں جو اللہ کے کام میں ایسے گِھرگئے ہیں کہ اپنی ذاتی کسبِ معاش کے لیے زمین میں کوئی دوڑ دھوپ نہیں کرسکتے ۔ اُن کی خود داری دیکھ کر ناواقف آدمی گمان کرتا ہے کہ یہ خوش حال ہیں۔ تم اُن کے چہروں سے اُن کی اندرونی حالت پہچان سکتے ہو۔ مگر وہ ایسے لوگ نہیں ہیں کہ لوگوں کے پیچھے پڑکر کچھ مانگیں اُن کی اعانت میں جو کچھ مال تم خرچ کرو گے وہ اللہ سے پوشیدہ نہ رہے گا۔ [314]{ ۲۷۳}</p>
<p>  جو لوگ اپنے مال شب وروز کھلے اور چُھپے خرچ کرتے ہیں اُن کا اجراُن  کے رَبّ کے پاس ہے اور ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا مقام نہیں۔ { ۲۷۴}</p>
<p> مگر جو لوگ سود[315] کھاتے ہیں ،اُن کا حال اُس شخص کا سا ہوتا ہے جسے شیطان نے چُھوکربا ؤلا کردیا ہو۔ [316]اور اِس حالت میں اُن کے مبتلا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں‘ ’’تجارت بھی تو آخرسود ہی جیسی چیز ہے‘‘[317] حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام[318] ۔ لہٰذا جس شخص کو اس کے رَبّ کی طرف سے یہ نصیحت پہنچے اور آئندہ کے لیے وہ سُود خواری سے باز آجائے ،تو جو کچھ وہ پہلے کھا چکا ، سو کھا چکا ، اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔[319] اور جو اِس حکم کے بعد پھر اِسی حرکت کا اعادہ کرے، وہ جہنمی ہے ، جہاں وہ ہمیشہ رہے گا۔ {۲۷۵}</p>
<p>اللہ سُود کا مٹھ ماردیتا ہے اور صدقات کو نشوونما دیتا ہے ۔[320] اور اللہ کسی ناشکر ے  بد عمل انسان کو پسند نہیں کرتا ۔[321]{۲۷۶}</p>
<p> ہاں جو لوگ ایمان لے آئیں اور نیک عمل کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اُن کا اجربے شک اُن کے رَبّ کے پاس ہے اور اُن کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں۔[322] {۲۷۷}</p>
<p>اے لوگوجوایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرواور جو کچھ تمہارا سود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے اسے ،چھوڑدو ، اگر واقعی تم ایمان لائے ہو{۲۷۸}</p>
<p> لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا ، تو آگاہ ہوجا ؤ کہ اللہ اور اس کے رسول  ؐ  کی طرف سے تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے ۔[323] اب بھی توبہ کرلو ( اور سود چھوڑدو)  تو اپنا اصل سرمایہ لینے کے تم حق دار ہو ۔ نہ تم ظلم کرو ، نہ تم پر ظلم کیا جائے۔ {۲۷۹}</p>
<p>تمہارا قرض دار تنگدست ہو ، تو ہاتھ کُھلنے تک اسے مہلت دو ، اور جو صدقہ کردو ، تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے ، اگر تم سمجھو ۔[324]{۲۸۰}</p>
<p> اُس دن کی رسُوائی ومصیبت سے بچو ، جب کہ تم اللہ کی طرف واپس ہوگے  ، وہاں ہر شخص کو اس کی کمائی ہوئی نیکی یا بدی کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور کسی پر ظلم ہر گز نہ ہوگا ۔{۲۸۱}</p>
<p> اے لوگوجو ایمان لائے ہو! جب کسی مقررہ مدت کے لیے تم آپس میں قرض کالین دین کرو ،[325] تو اسے لکھ لیا کرو ۔[326] فریقین کے درمیان انصاف کے ساتھ ایک شخص دستاویز تحریر کرے۔ جسے اللہ نے لکھنے پڑھنے کی قابلیت بخشی ہو ، اُسے لکھنے سے انکار نہ کرنا چاہیے۔ وہ لکھے اور املا وہ شخص کرائے جس پر حق آتا ہے، (یعنی قرض لینے والا )، اور اُسے اللہ ، اپنے رَبّ سے ڈرنا چاہئے کہ جو معاملہ طے ہوا ہو اُس میں کوئی کمی بیشی نہ کرے۔ لیکن اگر قرض لینے والا خود نادان یا ضعیف ہو، یا املانہ کراسکتا ہو، تو اس کا ولی انصاف کے ساتھ املا کرائے۔ پھر اپنے مردوں[327] میں سے دوآمیوں کی اس پرگواہی کرالو ۔ اگر دو مرد نہ ہوں، تو ایک مرد اور دو عورتیں ہوں تا کہ ایک بُھول جائے تو دوسری اسے یاد دلادے ۔ یہ گواہ ایسے لوگوں میں سے ہونے چاہئیں، جن کی گواہی تمہارے درمیان مقبول ہو۔[328] گواہوں کو جب گواہ بننے کے لیے کہا جائے ، تو انہیں انکار نہ کرنا چاہیے ۔ معاملہ خواہ چھوٹا ہویا بڑا ،میعاد کی تعیین کے ساتھ اس کی دستاویز لکھو الینے میں تساہل نہ کرو۔ اللہ کے نزدیک یہ طریقہ تمہارے لئے زیادہ مبنی برانصاف ہے ، اس سے شہادت قائم ہونے میں زیادہ سہولت ہوتی ہے ، اور تمہارے شکوک وشبہات میں مبتلا ہونے کا امکان کم رہ جاتا ہے۔ ہاں جو تجارتی لین دین دست بدست تم لوگ آپس میں کرتے ہو ، اس کو نہ لکھا جائے تو کوئی حرج نہیں ،[329] مگر تجارتی معاملے طے کرتے وقت گواہ کرلیا کرو۔ کاتب اور گواہ کوستایا نہ جائے۔[330] ایسا کرو گے ، تو گناہ کا ارتکاب کرو گے۔ اللہ کے غضب سے بچو۔ وہ تم کو صحیح طریق عمل کی تعلیم دیتا ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے ۔{ ۲۸۲}</p>
<p>اور اگر تم سفر کی حالت میں ہو اور دستاویز لکھنے کے لیے کوئی کاتب نہ ملے، تورہن بالقبض پر معاملہ کرو  ۔[331] اگر تم میں سے کوئی شخص دوسرے پر بھروسہ کرکے اس کے ساتھ کوئی معاملہ کرے ، تو جس پر بھروسہ کیا گیا ہے ، اسے چاہئے کہ امانت ادا کرے اور اللہ، اپنے رَبّ سے ڈرے ۔ اور شہادت ہر گز نہ چھپا ؤ ۔[332] جوشہادت  چھپاتا ہے ، اس کا دل گناہ میں آلودہ ہے ۔ اور اللہ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں ہے۔{ ۲۸۳}</p>
<p>  آسمانوں[333] اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ کا ہے۔[334]تم  اپنے دل کی باتیں خواہ ظاہر کرو ، خواہ چھپا ؤ ، اللہ بہر حال ان کا حساب تم سے لے لے گا ۔[335] پھراسے اختیار ہے ، جسے چاہے، معاف کردے اور جسے چاہے، سزادے ۔وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔[336]{ ۲۸۴}</p>
<p>رسول  ؐاس ہدایت پر ایمان لایا ہے جو اُس کے رَبّ کی طرف سے اس پر نازل ہوئی ہے۔ اور جو لوگ اِس رسُول  ؐکے ماننے والے ہیں ، انہوں نے بھی اُس ہدایت کو دل سے تسلیم کرلیا ہے ۔ یہ سب اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو مانتے ہیں اور ان کا قول یہ ہے کہ ’’ ہم اللہ کے رسولوں ؑکو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے۔ ہم نے حکم سُنا اور اطاعت قبول کی۔ مالک !ہم تجھ سے خطابخشی کے طالب ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف پلٹنا ہے ‘‘[337] {۲۸۵}</p>
<p> اللہ کسی متنفس پر اُس کی مقدرت سے بڑھ کر ذمّہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا۔[338] ہر شخص نے جونیکی کمائی ہے اس کا پھل اسی کے لیے ہے اور جوبدی سمیٹی ہے، اُس کا وبال اُسی پر ہے ۔[339] (ایمان لانے والو، تم یوں دُعا کیا کرو )  اے ہمارے رَبّ!ہم سے بُھول چوک میں جو قصور ہوجائیں ، ان پر گرفت نہ کر ۔ مالک ہم پروہ بوجھ نہ ڈال، جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پرڈالے تھے ۔[340]پروردگار! جس بارکو اُٹھا نے کی طاقت ہم میں نہیں ہے، وہ ہم پرنہ رکھ ۔[341] ہمارے ساتھ نرمی کر ، ہم سے درگزر فرما ،ہم پر  رحم کر ، تو ہمارا مولیٰ ہے ، کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر ۔[342]{۲۸۶}</p>

</div><div id="3"><p>سورۃاٰل عمران </p>
<p>اللہ کے نام سے جوبے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p> ا، ل، م۔ {۱}</p>
<p> اللہ وہ زندۂ جاوید ہستی ،جو نظام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے ۔ حقیقت میں[1] اس کے سوا کوئی  اِلٰہ نہیں ہے۔ { ۲}</p>
<p>(اے نبی  ؐ) اُس نے تم پر یہ کتاب نازل کی ، جوحق لے کر آئی ہے اور اُن کتابوں کی تصدیق کررہی ہے،جو پہلے سے آئی ہوئی تھیں،اور وہ  تورات اور انجیل نازل کرچکا ہے ۔[2]{ ۳}</p>
<p>اس سے پہلے انسانوں کی ہدایت کے لیے اس نے وہ کسوٹی اتاری ہے (جو حق اور باطل کا فرق دکھانے والی ہے)۔  اب جو لوگ اللہ کے فرامین کو قبول کرنے سے انکار کریں ،ان کو یقینا سخت سزاملے گی ۔ اللہ بے پنا ہ طاقت کا مالک ہے اور برائی کا بدلہ دینے والا ہے۔{ ۴}</p>
<p>زمین اور آسمان کی کوئی چیز اللہ سے پوشیدہ نہیں۔[3] {۵}</p>
<p>وہی تو ہے جو تمہاری ما ؤں کے پیٹ میں تمہاری صُورتیں جیسی چاہتا ہے ، بناتا ہے ۔[4]اُس زبردست حکمت والے کے سوا کوئی اور اِلٰہ  نہیں ہے۔{۶}</p>
<p> (اے نبی  ؐ) وہی  اِلٰہ ہے جس نے یہ کتاب تم پر نازل کی ہے ۔ اس کتاب میں دو طرح کی آیات ہیں ۔ ایک محکما ت، جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں،[5] اور دوسری متشابہات۔[6] جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے ، وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور ان کومعنی پہنا نے کی کوشش کیا کرتے ہیں ،حالانکہ ان کا حقیقی مفہوم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ بخلاف اس کے جو لوگ علم میں پختہ کار ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ ’’ ہمارا ان پر ایمان ہے ، یہ سب ہمارے رَبّ ہی کی طرف سے ہیں‘‘،[7]اور سچ یہ ہے کہ کسی چیز سے صحیح سبق صرف دانشمند لوگ ہی حاصل کرتے ہیں۔ {۷}</p>
<p>وہ اللہ سے دعا کرتے رہتے ہیں کہ ’’ پروردگار! جب توہمیں سیدھے راستہ پرلگا چکا ہے ، تو پھر کہیں ہمارے دلوں کو کجی میں مبتلانہ کردیجیو۔ ہمیں اپنے خزانہ ٔفیض سے رحمت عطا کر کہ تو ہی فیاض حقیقی ہے۔{۸}</p>
<p> پرور دگار! تو یقینا سب لوگوں کو ایک روز جمع کرنے والا ہے، جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں ہے ۔ تو ہر گز اپنے وعدہ سے ٹلنے والا نہیں ہے ۔‘‘{۹}</p>
<p>جن لوگوں نے کفر کارویہ اختیار کیا ہے ،[8] انہیں اللہ کے مقابلے میں نہ اُن کا مال کچھ کام دے گا ، نہ اولاد۔ وہ دوزخ کا ایندھن بن کررہیں گے ۔{۱۰}</p>
<p> ان کا انجام ویساہی ہوگا، جیسا فرعون کے ساتھیوں اور ان سے پہلے کے نافرمانوں کا ہوچکا ہے کہ اُ نہوں نے آیات الہٰی کو جھٹلایا ، نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑ لیا اور حق یہ ہے کہ اللہ سخت سزادینے والا ہے ۔{۱۱}</p>
<p> پس( اے نبی  ؐ!)جن لوگوں نے تمہاری دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے، ان سے کہہ دو کہ قریب ہے وہ وقت، جب تم مغلوب ہوجا ؤ گے اور جہنم کی طرف ہانکے جا ؤ گے اور جہنم بڑا ہی بُرا ٹھکانا ہے{ ۱۲}</p>
<p> تمہارے لئے اُن دو گروہوں میں ایک نشان عبرت تھا ، جو (بدر میں) ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوئے۔ ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑرہا تھا اور دوسرا گروہ کا فر تھا ۔ دیکھنے والے بچشم سردیکھ رہے تھے کہ کافر گروہ مومن گروہ سے دوچند ہے ۔[9] مگر (نتیجے نے ثابت کردیا کہ ) اللہ اپنی فتح ونُصرت سے جس کو چاہتا ہے ، مدد دیتا ہے ، دیدۂ بینار کھنے والوں کے لیے اس میں بڑا سبق پوشیدہ ہے۔[10] {۱۳}</p>
<p>لوگوں کے لیے مرغوباتِ نفس یعنی عورتیں ، اولاد ، سونے چاندی کے ڈھیر ، چیدہ گھوڑے ، مویشی اور زرعی زمینیں بڑی خوش آئند بنادی گئی ہیں، مگر یہ سب دنیا کی چندروزہ زندگی کے سامان ہیں ۔ حقیقت میں جو بہتر ٹھکانا ہے وہ تو اللہ کے پاس ہے { ۱۴}</p>
<p>کہو : میں تمہیں بتا ؤں کہ اِن سے زیادہ اچھی چیز کیا ہے ؟ جو لوگ تقویٰ کی روش اختیار کریں ، اُن کے لیے ان کے رَبّ کے پاس باغ ہیں ، جن کے نیچے نہر یں بہتی ہوں گی ، وہاں انہیں ہمیشگی کی زندگی حاصل ہوگی ، پاکیزہ بیویاں ان کی رفیق ہوں گی[11] اور اللہ کی رضا سے وہ سرفراز ہوں گے ۔ اللہ اپنے بندوں کے رویے پر گہری نظر رکھتا ہے۔[12] { ۱۵}</p>
<p>یہ وہ لوگ ہیں،جوکہتے  ہیں کہ ’’ مالک ! ہم ایمان لائے ، ہماری خطا ؤں سے درگزر فرما اور ہمیں آتش دوزخ سے بچالے‘‘۔ {۱۶}</p>
<p>یہ لوگ صبر کرنے والے ہیں ،[13] راست باز ہیں ، فرماں بردار اور فیاض ہیں اور رات کی آخری گھڑیوں میں اللہ سے مغفرت کی دُعائیں مانگا کرتے ہیں ۔{۱۷}</p>
<p>اللہ نے خود اس بات کی شہادت دی ہے کہ اُس کے سوا کوئی  اِلٰہ نہیں ہے[14] اور فرشتے اور سب اہل علم بھی راستی اور انصاف کے ساتھ اس پرگواہ ہیں[15] کہ اُس زبردست حکیم کے سوا فی الواقع کوئی  اِلٰہ  نہیں ہے۔{۱۸}</p>
<p>اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔[16] اس دین سے ہٹ کر جو مختلف طریقے ان لوگوں نے اختیار کئے جنہیں کتاب دی گئی تھی ، اُن کے ِاس طرز عمل کی کوئی وجہ اِس کے سوانہ تھی کہ اُ نہوں نے علم آجانے کے بعد آپس میں ایک دوسرے پرزیاد تی کرنے کے لیے ایسا کیا[17] اور جو کوئی اللہ کے احکام وہدایات کی اطاعت سے انکار کردے ، اللہ کو اس سے حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی ۔{۱۹}</p>
<p> اب اگر( اے نبی  ؐ!)  یہ لوگ تم سے جھگڑا کریں ، توان سے کہو : ’’ میں نے اور میرے پیرووں نے تو اللہ کے آگے سر تسلیم خم کردیا ہے ‘‘ پھر اہل کتاب اور غیر اہل کتاب دونوں  سے پوچھو ’’ کیا تم نے بھی اُس کی اطاعت وبندگی قبول کی ؟ [18] ‘‘ اگر کی تو وہ راہ راست پاگئے ،اور اگر اس سے منھ موڑا تو تم پر صرف پیغام پہنچادینے کی ذمہّ داری تھی ۔ آگے اللہ خود اپنے بندوں کے معاملات دیکھنے والا ہے ۔{۲۰}</p>
<p> جو لوگ اللہ کے احکام وہدایات کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اس کے پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی جان کے درپے ہوجاتے ہیں جو انسانوں ہی میں سے عدل وراستی کا حکم دینے کے لیے اُٹھیں، ان کو درد ناک سزا کی خوشنجری سنادو ۔[19]{۲۱}</p>
<p> یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں ضائع [20]ہوگئے ،اور ان کا مددگار کوئی نہیں ہے ۔[21]{ ۲۲}</p>
<p>تم نے دیکھا نہیں کہ جن لوگوں کو کتاب کے علم میں سے کچھ حصہ ملا ہے ، ان کا حال کیا ہے ؟ اُنہیں جب کتابِ الہٰی کی طرف بُلا یا جاتا ہے تا کہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے [22]، تو ان میں سے ایک فریق اس سے پہلوتہی کرتا ہے اور اس فیصلے کی طرف آنے سے منھ پھیرجاتا ہے۔{ ۲۳}</p>
<p>ان کا یہ طرز عمل اس وجہ سے ہے کہ وہ کہتے ہیں ’’ آتش دوزخ توہمیں مس تک نہ کرے گی اور اگر دوزخ کی سزا ہم کو ملے گی بھی تو بس چند[23]روز ‘‘ ۔ ان کے خود ساختہ عقیدوں نے ان کو اپنے دین کے معاملے میں بڑی غلط فہمیوں میں ڈال رکھا ہے۔ { ۲۴}</p>
<p>مگر کیا بنے گی ان پر جب ہم انہیں اس روز جمع کریں گے جس کا آنا یقینی ہے ؟ اس روز ہر شخص کو اس کی کمائی کا بدلہ پورا پورا دے دیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا ۔{۲۵}</p>
<p>کہو :اے اللہ !ملک کے مالک! تو جسے چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے چھین لے۔ اور جسے چاہے عزت بخشے اور جس کو چاہے ذلیل کردے۔بھلائی تیرے اختیار میں ہے۔بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔ {۲۶}</p>
<p> رات کو دن میں پروتا ہوالے آتا ہے اور دن کو رات میں۔ بے جان میں سے جان دار کو نکا لتا ہے اور جان دار میں سے بے جان کو ۔اور جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔ [24]{۲۷}</p>
<p>مومنین اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفیق اور یارومددگار ہر گزنہ بنائیں جو ایسا کرے گا اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں ۔ہاں یہ معاف ہے کہ تم ان کے ظلم سے بچنے کے لیے بظاہر ایسا طرز عمل اختیار کر جا ؤ ۔  [25]مگر اللہ تمہیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے اور تمہیں اُسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔[26] {۲۸}</p>
<p> اے نبی  ؐ! لوگوں کو خبردار کردو کہ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے خواہ تم چھپا ؤ یا ظاہر کرو ، اللہ بہر حال اسے جانتا ہے ، زمین اور آسمانوں کی کوئی چیز اُس کے علم سے باہر نہیں ہے اور اس کا اقتدار ہر چیز پر حاوی ہے ۔ {۲۹}</p>
<p>وہ دن آنے والا ہے جب ہر نفس اپنے کئے کا پھل حاضر پائے گا خواہ اس نے بھلائی کی ہوایا برُائی ۔ اُس روز آدمی یہ تمنا کرے گا کہ کاش ابھی یہ دن اس سے بہت دور ہوتا! اللہ تمہیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے اور وہ اپنے بندوں کا نہایت خیر خواہ ہے ۔[27]{۳۰}</p>
<p> (اے نبی  ؐ! ) لوگوں سے کہہ دو کہ ’’ اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی اختیار کرو ، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خطاؤں سے در گزر فرمائے گا وہ بڑا معاف فرمانے والا اور رحیم ہے۔‘‘ {۳۱}</p>
<p>’’ ان سے کہو کہ’’ اللہ اور رسول  ؐکی اطاعت قبول کرو ‘‘پھر اگر وہ تمہاری یہ دعوت قبول نہ کریں ، تو یقینا یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ ایسے لوگوں سے محبت کرے جو( اس کی اور اس کے رسولؐ کی اطاعت سے ) انکار کرتے ہوں ۔[28]{ ۳۲}</p>
<p>اللہ [29]نے آدم ؑ اور نوحؑ اور آل ِابراہیم اور آلِ عمران[30] کو تمام دُنیا والوں پر ترجیح دے کر (اپنی رسالت کے لیے ) منتخب کیا تھا۔{۳۳}</p>
<p>یہ ایک سلسلے کے لوگ تھے جو ایک دوسرے کی نسل سے پیدا ہوئے تھے ، اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔[31]{ ۳۴}</p>
<p>( وہ اس وقت سن رہا تھا ) جب عمران کی عورت [32] کہہ رہی تھی کہ: ’’میرے پروردگار! میں اس بچے کو جو میرے پیٹ میں ہے تیری نذر کرتی ہوں ، وہ تیرے ہی کام کے لیے وقف ہوگا۔میری اس پیش کش کو قبول فرما تو سننے اور جاننے والا ہے۔‘‘[33] {۳۵}</p>
<p> پھر جب وہ بچی اس کے ہاں پیدا ہوئی تو اس نے کہا ’’ مالک! میرے ہاں تو لڑکی پیدا ہوگئی ہے ۔ حالانکہ جو کچھ اس نے جنا تھا، اللہ کواس کی خبر تھی اور لڑکا ، لڑکی کی طرح نہیں[34] ہوتا ۔ خیر ،میں نے اس کا نام مریم رکھ دیا ہے اور میں اسے اور اس کی آئندہ نسل کو شیطان مردود کے فتنے سے تیری پناہ میں دیتی ہوں ‘‘ {۳۶}</p>
<p> آخرکار اس کے رَبّ نے اس لڑکی کو بخوشی قبول فرمالیا، اُسے بڑی اچھی لڑکی بنا کراٹھایا،اور زکریّا ؑکو ا س کا سرپرست بنادیا۔زکریّا ؑ[35] جب کبھی اس کے پاس محراب [36]میں جاتا تو اُس کے پاس کچھ نہ کچھ کھانے پینے کا سامان پاتا۔ پوچھتا مریم !یہ تیرے پاس کہاں سے آیا ؟ وہ جواب دیتی اللہ کے پاس سے آیا ہے ، اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے ۔{۳۷}</p>
<p>یہ حال دیکھ کر زکریّاؑنے اپنے رَبّ کو پکارا ’’ پروردگار!اپنی قدرت سے مجھے نیک اولاد عطا کر۔ توہی دُعا سُننے والا ہے ‘‘[37]{۳۸}</p>
<p> جواب میں فرشتوں نے آوازدی جب کہ وہ محراب میں کھڑا نماز پڑھ رہا تھا کہ: ’’اللہ تجھے یحییٰ [38]کی خوش خبری دیتا ہے ۔ وہ اللہ کی طرف سے ایک فرمان [39]کی تصدیق کرنے والا بن کر آئے گا۔ اس میں سرداری وبزرگی کی شان ہوگی۔ کمال درجہ کا ضابط ہوگا۔ نبوت سے سرفراز ہوگا اور صالحین میں شمار کیا جائے گا‘‘۔ {۳۹}</p>
<p> زکریّا ؑنے کہا ’’پروردگار!بھلا میرے ہاں لڑکا کہاں سے ہوگا ؟ میں تو بہت بوڑھا ہوچکاہوں اور میری بیوی بانجھ ہے‘‘ جواب ملا ’’ایسا ہی  [40]ہوگا اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے‘‘ {۴۰}</p>
<p> عرض کیا ’’مالک! پھر کوئی نشانی میرے لئے مقرر فرمادے،[41]کہا :’’نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے اشارہ کے سوا کوئی بات چیت نہ کروگے ( یانہ کرسکوگے) اس دوران میں اپنے رَبّ کو بہت یاد کرنا اور صبح وشام اس کی تسبیح کرتے رہنا ‘‘۔[42]{۴۱}</p>
<p>پھر وہ وقت آیا جب مریم سے فرشتوں نے آکر کہا’’ اے مریم! اللہ نے تجھے برگزیدہ کیا اور پاکیزگی عطا کی اور تمام دنیا کی عورتوں پر تجھ کو ترجیح دے کر اپنی خدمت کے لیے چُن لیا۔{ ۴۲}</p>
<p>اے مریم! اپنے رَبّ کی تابع فرمان بن کررہ ، اس کے آگے سربسجود ہو ، اور جو بندے اس کے حضور جھکنے والے ہیں ان کے ساتھ تو بھی جھک جا‘‘{۴۳}</p>
<p>اے نبی  ؐ!یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تم کو وحی کے ذریعے سے بتارہے ہیں ، ورنہ تم اُس وقت وہاں موجود نہ تھے ،جب ہیکل کے خادم یہ فیصلہ کرنے کے لیے کہ مریم کا سرپرست کون ہو؟ ا پنے اپنے قلم پھینک [43]رہے تھے، اور نہ تم اُس وقت حاضر تھے جب ان کے درمیان جھگڑا برپا تھا۔ { ۴۴}</p>
<p>اور جب فرشتوں نے کہا ’’اے مریم ! اللہ تجھے اپنے ایک فرمان کی خوشنجری دیتا ہے۔ اس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا ،دنیا اور آخرت میں معزز ہوگا، اللہ کے مقرب بندوں میں شمار کیا جائے گا {۴۵}</p>
<p>لوگوں سے گہوارے میں بھی کلام کرے گا اور بڑی عمرکو پہنچ کر بھی، اور وہ ایک مرد صالح ہوگا‘‘۔{۴۶}</p>
<p> یہ سُن کر مریم بولی: ’’پروردگار! میرے ہاں بچہ کہاں سے ہوگا مجھے تو کسی مرد نے ہاتھ تک نہیں لگایا ‘‘جواب ملا : ’’ایسا ہی [44]ہوگا، اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے ۔وہ جب کسی کام کے کرنے کا فیصلہ فرماتا ہے تو بس کہتا ہے کہ ہوجا اور وہ ہوجاتا ہے ‘‘۔ {۴۷}</p>
<p>(فرشتوں نے پھر اپنے سلسلۂ کلام میں کہا )’’ اور اللہ اُسے کتاب اور حکمت کی تعلیم دے گا تو رات اور انجیل کا علم سکھائے گا{۴۸}</p>
<p> اور بنی اسرائیل کی طرف اپنا رسول مقرر کرے گا‘‘۔(اور جب وہ بحیثیت رسول بنی اسرائیل کے پاس آیا تو اُس نے کہا)’’ میں تمہارے رَبّ کی طرف سے تمہارے پاس نشانی لے کر آیا ہوں، میں تمہارے سامنے مٹی سے پرندے کی صورت کا ایک مجسمہ بناتا ہوں اور اس میں پھونک مارتا ہوں وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے ۔ میں اللہ کے حکم سے مادر زاداندھے اور کوڑھی (برص کے مریض )کو اچھا کرتا ہوں اور اس کے اِذن سے مُردے کو زندہ کرتا ہوں۔ میں تمہیں بتاتاہوں کہ تم کیا کھاتے ہو اور کیا اپنے گھروں میں ذخیرہ کرکے رکھتے ہو۔ اس میں تمہارے لیے کافی نشانی ہے اگر تم ایمان لانے والے ہو۔[45] {۴۹}</p>
<p> اور میں اس تعلیم وہدایت کی تصدیق کرنے والا بن کرآیاہوں جو تو رات  میں سے اس وقت میرے زمانہ میں موجود ہے۔[46] اور اس لیے آیا ہوں کہ تمہارے لئے بعض اُن چیزوں کو حلال کردوں جو تم پر حرام کردی گئی ہیں[47] دیکھو۔ میں تمہارے رَبّ کی طرف سے تمہارے پاس نشانی لے کر آیا ہوں ، لہٰذا اللہ سے ڈرواور میری اطاعت کرو۔ {۵۰}</p>
<p>اللہ میرا رَبّ بھی ،ہے اور تمہارا رَبّ بھی لہٰذا تم اُسی کی بندگی اختیار کرو ، یہی سیدھا راستہ ہے‘‘[48]{۵۱}</p>
<p>جب عیسی ؑ نے محسوس کیا کہ بنی اسرائیل کفر وانکار پر آمادہ ہیں تو اس نے کہا ’’کون اللہ کی راہ میں میرا مددگار ہوتا ہے ‘‘؟ حوار یوں [49]نے جواب دیا :’ ’ہم اللہ کے مددگار ہیں[50] ہم اللہ پر ایمان لائے ، آپ گواہ رہیں کہ ہم مسلم ( اللہ کے آگے سراطاعت جھکا دینے والے) ہیں۔{ ۵۲}</p>
<p>مالک! جو فرمان تو نے نازل کیا ہے ہم نے اسے مان لیا ،اور رسول کی پیروی قبول کی، ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔‘‘{۵۳}</p>
<p> پھر بنی اسرئیل (مسیح ؑکے خلاف) خفیہ تدبیریں کرنے لگے ۔ جواب میں اللہ نے بھی اپنی خفیہ تدبیر کی اور ایسی تدبیروں  میں اللہ سب سے بڑھ کرہے ۔ { ۵۴}</p>
<p> ( وہ اللہ کی خفیہ تدبیر ہی تھی) جب اُس نے کہا کہ ’’ اے عیسیٰ ؑ!اب میں تجھے واپس لے لوں گا[51] اور تجھ کو اپنی طرف اُٹھالوں گا اور جنھوں نے تیرا انکار کیا ہے ان سے (یعنی ان کی معّیت سے اور اُن کے گندے ماحول میں اُن کے ساتھ رہنے سے) تجھے پاک کردوں گا اور تیری پیروی کرنے والوں کو قیامت تک ان لوگوں پر بالادست رکھوں گا ،جنہوں نے تیرا(توحید اور تیری رسالت کا) انکار کیا ہے ۔[52]پھر تم سب کو آخر کار میرے پاس آنا ہے ، اُس وقت میں اُن باتوں کا فیصلہ کردوں گا جن میں تمہارے درمیان اختلاف ہوا ہے ۔{۵۵}</p>
<p>جن لوگوں نے کفر وانکار کی روش اختیار کی ہے، انہیں دنیا اور آخرت دونوں میں سخت سزادوں گا اور وہ کوئی مددگار نہ پائیں گے۔{۵۶}</p>
<p> اور جنہوں نے ایمان اور نیک عملی کا رویہ اختیار کیا ہے اُنہیں اُن کے اجر پورے پورے دے دیے جائیں گے۔ اور (خوب جان لے کہ ) ظالموں سے اللہ ہرگز محبت نہیں کرتا ‘‘{۵۷}</p>
<p>اے نبی  ؐ! یہ آیات اور حکمت سے لبریز تذکرے ہیں جو ہم تمہیں سنارہے ہیں ۔{۵۸}</p>
<p> اللہ کے نزدیک عیسی ؑکی مثال آدم ؑ کی سی ہے کہ اللہ نے اُسے مٹی سے پیدا کیا اور حکم دیا کہ ہوجا اور وہ ہوگیا [53]{۵۹}</p>
<p> یہ اصل حقیقت ہے جو تمہارے رَبّ کی طرف سے بتائی جارہی ہے اور تم ان لوگوں میں شامل نہ ہوجو اس میں شک کرتے ہیں[54]{۶۰}</p>
<p>یہ علم آجانے کے بعد اب جو کوئی اس معاملہ میں تم سے جھگڑا کرے تو اے نبی  ؐ! اس سے کہو کہ ’’ آ ؤ ہم اور تم خود بھی آجائیں اور اپنے اپنے بال بچوں کو بھی لے آئیں اور اللہ سے دعا کریں کہ جو جھوٹا ہواس پراللہ کی لعنت ہو‘‘[55]{۶۱}</p>
<p> یہ بالکل صحیح واقعات ہیں ، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی  اِلٰہ نہیں ہے اور وہ اللہ ہی کی ہستی ہے جس کی طاقت سب سے بالا اور جس کی حکمت نظام ِعالم میں کارفرماہے { ۶۲}</p>
<p> پس اگر یہ لوگ (اس شرط پر مقابلہ میں آنے سے ) منھ موڑیں تو ( اُن کا مفسد ہونا صاف کھل جائے گا) اور اللہ تو مفسدوں کے حال سے واقف ہی ہے۔{ ۶۳}</p>
<p>اے نبی  ؐ ! کہو[56] :’’ اے اہل کتاب !آ ؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں [57]ہے۔ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ، اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رَبّ نہ بنالے ‘‘۔ اس دعوت کو قبول کرنے سے اگر وہ منھ موڑیں تو صاف کہہ دو کہ گواہ رہو ، ہم تو مسلم ( صرف  اِلٰہ واحد کی بندگی واطاعت کرنے والے) ہیں۔ { ۶۴}</p>
<p>اے اہل کتاب ، تم ابراہیم ؑ کے (دین کے ) بارے میں کیوں جھگڑا کرتے ہو؟ تو رات اور انجیل تو ابراہیم ؑ کے بعد ہی نازل ہوئی ہیں۔ پھر کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے۔[58] { ۶۵}</p>
<p>تم لوگ جن چیزوں کا علم رکھتے ہو ان میں تو خوب بحثیں کرچکے، اب اُن معاملات میں کیوںبحث کرنے چلے ہو جن کا تمہارے پاس کچھ بھی علم نہیں ۔ اللہ جانتا ہے ، تم نہیں جانتے۔{۶۶}</p>
<p> ابراہیم ؑ نہ یہودی تھا نہ عیسائی ، بلکہ وہ تو ایک مسلم یکسو تھا [59]۔ اور وہ ہرگز مشرکوں میں سے نہ تھا {۶۷}</p>
<p>ابراہیم ؑ سے نسبت رکھنے کا سب سے زیادہ حق اگر کسی کو پہنچتا ہے تو اُن لوگوں کو پہنچتا ہے جنہوں نے اس کی پیروی کی اور اب یہ نبی  ؐاور اس کے ماننے والے اِس نسبت کے زیادہ حق دار ہیں۔ اللہ صرف انہی کا حامی و مددگار ہے جو ایمان رکھتے ہوں۔{۶۸}</p>
<p> (اے ایما ن لانے والو!) اہل کتاب میں سے ایک گروہ چاہتا ہے کہ کسی طرح تمہیں راہ راست سے ہٹادے  ،  حالانکہ درحقیقت وہ اپنے سواکسی کو گمراہی میں نہیں ڈال رہے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے؟ {۶۹}</p>
<p> اے اہل ِکتاب! کیوں اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہو حالانکہ تم خود ان کا مشاہدہ کررہے ہو ۔[60]{ ۷۰}</p>
<p>اے اہلِ کتاب !کیوں حق کو باطل کا رنگ چڑھا کر مشتبہ بناتے ہو؟ کیوں جانتے بوجھتے حق کو چھپاتے ہو؟{۷۱}</p>
<p>اہل ِکتا ب میں سے ایک گروہ کہتا ہے کہ اس نبی(محمد ؐ) کے ماننے والوں پر جو کچھ نازل ہوا ہے اس پر صبح ایمان لا ؤ ، اور شام کو اس سے انکار کردو ، شاید اس ترکیب سے یہ لوگ اپنے ایمان سے پھر جائیں۔[61] {۷۲}</p>
<p>نیز یہ لوگ آپس میں کہتے ہیں کہ اپنے مذہب والے کے سوا کسی کی بات نہ مانو۔ اے  نبی  ؐ! ان سے کہہ دو کہ ’’ اصل میں ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے اوریہ اُسی کی دین ہے کہ کسی کو وہی کچھ دے دیا جائے جو کبھی تم کو دیا گیا تھا ۔ یا یہ کہ دوسروں کو تمہارے رَبّ کے حضور پیش کرنے کے لیے تمہارے خلاف قوی حجت مل جائے‘‘۔ اے نبی  ؐ! اُ ن سے کہو کہ:’’ فضل و شرف اللہ کے اختیار میں ہے، جسے چاہے عطا فرمائے، وہ وسیع النظر [62]ہے ، اور سب کچھ جانتا ہے۔{ ۷۳}</p>
<p>اپنی رحمت کے لیے جس کو چاہتا ہے مخصوص کرلیتا ہے اور اس کا فضل بہت بڑا ہے‘‘{ ۷۴}</p>
<p>اہل کتاب میں کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اُس کے اعتماد پر مال و دولت کا ایک ڈھیر بھی دے دو تو وہ تمہارا مال تمہیں ادا کردے گا، اور کسی کا حال یہ ہے کہ اگر تم ایک دینا رکے معاملہ میں بھی اس پر بھروسہ کرو تو وہ ادا نہ کرے گا اِلا ّ یہ کہ تم اس کے سرپرسوار ہو جا ؤ۔ ان کی اس اخلاقی حالت کا سبب یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں ’’ اُمیوں (غیر یہودی لوگوں ) کے معاملہ میں ہم پر کوئی مواخذہ نہیں [64]ہے ۔‘‘ اور یہ بات وہ محض جھوٹ گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں،حالانکہ انہیں معلوم ہے (کہ اللہ نے ایسی کوئی بات نہیں فرمائی ہے) {۷۵}</p>
<p> آخر کیوں اُن سے باز پر س نہ ہوگی؟ جو بھی اپنے عہد کو پورا کرے گا اور برائی سے بچ کررہے گا وہ اللہ کا محبوب بنے گا ، کیونکہ پرہیزگار لوگ اللہ کو پسند ہیں {۷۶}</p>
<p> رہے وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں ، تو ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ، اللہ قیامت کے روز نہ ان سے بات کرے گا نہ اُن کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے[65] گا ، بلکہ ان کے لیے تو سخت درد ناک سزا ہے ۔{۷۷}</p>
<p>اُن میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو کتاب پڑھتے ہوئے اس طرح زبان کا الٹ پھیر کرتے ہیں کہ تم سمجھو جو کچھ وہ پڑھ رہے ہوں وہ کتاب ہی کی عبارت ہے ، حالانکہ وہ کتاب کی عبارت نہیں [66]ہوتی۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ جو کچھ ہم پڑھ رہے ہیں یہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے ، حالانکہ وہ اللہ تعالی کی طرف سے نہیں ہوتا ،وہ جان بوجھ کر جھوٹ بات اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں{۷۸}</p>
<p>کسی انسان کا یہ کام نہیں ہے کہ اللہ تو اُس کو کتاب اور حکم اور نبوت عطا فرمائے اور وہ لوگوں سے کہے کہ اللہ کے بجائے تم میرے بندے بن جا ؤ۔ وہ تو یہی کہے گا کہ سچّے ربّانی [67]بنو جیسا کہ اُس کتاب کی تعلیم کا تقاضا ہے جسے تم پڑھتے اور پڑھاتے ہو ۔{۷۹}</p>
<p> وہ تم سے ہر گزیہ نہ کہے گا کہ فرشتوں کو یا پیغمبروں کو اپنا رَبّ بنالو۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک نبی تمہیں کفر کا حکم دے جب کہ تم مسلم  ہو؟[68]{۸۰}</p>
<p>  یاد کرو ، اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا تھا کہ’ ’ آج میں نے تمہیں کتاب اور حکمت ودانش سے نواز اہے ، کل اگر کوئی دوسرا رسول تمہارے پاس اُسی تعلیم کی تصدیق کرتا ہوا آئے جو پہلے سے تمہارے پاس موجود ہے ، تو تم کو اس پر ایمان لانا ہوگا اور اس کی مدد کرنی ہوگی‘‘[69] یہ ارشاد فرماکر اللہ نے پوچھا ’’ کیا تم اس کا اقرار کرتے ہو اور اِس پر میری طرف سے عہد کی بھاری ذمہّ داری اُٹھاتے ہو‘‘ ؟ انہوں نے کہا ’’ ہاں ہم اقرار کرتے ہیں ‘‘ اللہ نے فرمایا ’’اچھا تو گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں‘‘ {۸۱}</p>
<p> اس کے بعد جو اپنے عہد سے پھر جائے وہی فاسق ہے ‘‘[70]{۸۲}</p>
<p>اب کیا یہ لوگ اللہ کی اطاعت کا طریقہ ( دین ُاللہ) چھوڑ کر کوئی اور طریقہ چاہتے ہیں؟ حالانکہ آسمان و زمین کی ساری چیزیں چارونا چار اللہ ہی کی تابع فرمان ( مسلم ) [71] ہیں اور اسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے ۔ {۸۳}</p>
<p>اے نبی  ؐ! کہو کہ ’’ ہم اللہ کو مانتے ہیں ، اُس تعلیم کو مانتے ہیں جو ہم پر نازل کی گئی ہے ، اُن تعلیمات کو بھی مانتے ہیں جو ابراہیم ؑ ‘ اسماعیل ؑ  ، اسحاق  ؑ یعقوب ؑ اور اولادیعقوب ؑ پر نازل ہوئی تھیں، اور اُن ہدایات پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو موسیٰ  ؑاور عیسیٰ ؑ اور دوسرے پیغمبروں کو ان کے رَبّ کی طرف سے دی گئیں ۔ ہم ان کے درمیان فرق نہیں[72] کرتے اور ہم اللہ کے تابعِ فرمان ( مسلم ) ہیں‘‘ {۸۴}</p>
<p> اس فرماں برداری (اسلام ) کے سوا جو شخص کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہے اس کا وہ طریقہ ہر گز قبول نہ کیا جائے گا اور آخرت میں وہ ناکام ونامراد رہے گا۔{۸۵}</p>
<p>کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ اُن لوگوں کو ہدایت بخشے جنہوں نے نعمت ایمان پالینے کے بعد پھر کفر اختیار کیا حالانکہ و ہ خود اس بات پر گواہی دے چکے ہیں کہ یہ رسول حق پر ہے اور اِن کے پاس روشن نشانیاں بھی آچکی ہیں۔[73] اللہ ظالموں کو توہدایت نہیں دیا کرتا ۔{۸۶}</p>
<p> ان کے ظلم کا صحیح بدلہ یہی ہے کہ ان پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی پھٹکار ہے ۔{۸۷}</p>
<p> اسی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے، نہ ان کی سزا میں تخفیف ہوگی اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی ۔ {۸۸}</p>
<p>البتہ وہ لوگ بچ جائیں گے جو اس کے بعد تو بہ کر کے اپنے طرز عمل کی اصلاح کرلیں ، اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔{۸۹}</p>
<p> مگر جن لوگوں نے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کیا، پھر اپنے کفر میں بڑھتے [74]چلے گئے ان کی توبہ ہر گز قبول نہ ہوگی ، ایسے لوگ تو پکے گمراہ ہیں۔{۹۰}</p>
<p>یقین رکھو ، جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور کفر ہی کی حالت میں جان دی ان میں سے کوئی اگر اپنے آپ کو سزا سے بچانے کے لیے روئے زمین بھر کر بھی سونا فدیہ میں دے تو اسے قبول نہ کیا جائے گا ۔ ایسے لوگوں کے لیے درد ناک سزاتیار ہے اور وہ اپنا کوئی مدد گا رنہ پائیں گے ۔{۹۱}</p>
<p>تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں ( اللہ کی راہ میں ) خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیز رکھتے ہو[75]، اور جو کچھ تم خرچ کرو گے ، اللہ اس سے بے خبر نہ ہوگا {۹۲}</p>
<p>کھانے کی یہ ساری چیزیں ( جو شریعت ِمحمدی میں حلال ہیں) بنی اسرائیل کے لیے بھی حلال تھیں،[76] البتہ بعض چیزیں ایسی تھیں جنہیں تو راۃ کے نازل کئے جانے سے پہلے اسرائیل[77] (حضرت یعقوب ؑ) نے خود اپنے اُوپر حرام کرلیا تھا۔ ان سے کہو ، اگر تم ( اپنے اعتراض میں )سچے ہو تو لا ؤ توراۃ اور پیش کرو اس کی کوئی عبارت۔ { ۹۳}</p>
<p>اس کے بعد بھی جو لوگ اپنی جھوٹی گھڑی ہوئی باتیں اللہ کی طرف منسوب کرتے رہیں وہی درحقیقت ظالم ہیں ۔{ ۹۴}</p>
<p>کہو ، اللہ نے جو کچھ فرمایا ہے سچ فرمایا ہے ، تم کو یکسو ہو کر ابراہیم ؑ کے طریقہ کی پیروی کرنی چاہیے اور ابراہیم ؑ شرک کرنے والوں میں سے نہ [78]تھا ۔{۹۵}</p>
<p>بے شک سب سے پہلی عبادت گاہ جو انسانوں کے لیے تعمیر ہوئی وہ وہی ہے جو مکہ میں واقع ہے ۔ اس کو خیروبرکت دی گئی تھی اور تمام جہان والوں  کے لیے مرکز ہدایت بنایا گیا تھا[79]{۹۶}</p>
<p> اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں،[80] ابراہیم ؑ کا مقامِ عبادت ہے ، اور اس کا حال یہ ہے کہ جو اس میں داخل ہوا مامون ہوگیا ۔ [81] لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے ، اور جو کوئی اس حکم کی پیروی سے انکار کرے تو اسے معلوم ہوجانا چاہیے کہ اللہ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے۔{۹۷}</p>
<p>کہو ، اے اہلِ کتاب !تم کیوں اللہ کی باتیں ماننے سے انکار کرتے ہو؟ جو حرکتیں تم کررہے ہو اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے ۔{۹۸}</p>
<p> کہو :اے اہلِ کتاب ، یہ تمہاری کیا روش ہے کہ جو اللہ کی بات مانتا ہے اسے بھی تم اللہ کے راستہ سے روکتے ہو اور چاہتے ہو کہ وہ ٹیڑھی راہ چلے ، حالانکہ تم خود ( اس کے راہ راست ہونے پر ) گواہ ہو ۔ تمہاری حرکتوں سے اللہ غافل نہیں ہے {۹۹}</p>
<p> اے لوگو جو ایمان لائے ہو !، اگر تم نے ان  اہل ِکتاب میں سے ایک گروہ کی بات مانی تو یہ تمہیں ایمان سے پھر کفر کی طرف پھیرلے جائیں گے۔{ ۱۰۰}</p>
<p>تمہارے لئے کفر کی طرف جانے کا اب کیا موقع باقی ہے جب کہ تم کو اللہ کی آیات سُنائی جارہی ہیں اور تمہارے درمیان اُس کا رسُول  ؐ موجود ہے ؟ جو اللہ کا دامن مضبوطی کے ساتھ تھامے گا وہ ضرور راہ ِراست پالے گا ۔{۱۰۱}</p>
<p>اے لوگو جو ایمان لائے ہو!اللہ سے ڈروجیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم[82] ہو۔{ ۱۰۲}</p>
<p>سب مل کر اللہ کی رسّی[83] کو مضبُوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو ۔ اللہ کے اُس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے ۔ تم ایک دُوسرے کے دشمن تھے، اُس نے تمہارے دل جوڑدیے اور اُس کے فضل وکرم سے تم بھائی بھائی بن گئے ۔ تم آگ سے بھرے ہوئے ایک گڑھے کے کنارے کھڑے تھے ، اللہ نے تم کو اس سے بچا لیا[84]۔ اس طرح اللہ اپنی نشانیاں تمہارے سامنے روشن کرتا ہے شاید کہ ان علامتوں سے تمہیں اپنی فلاح کا سیدھا راستہ نظر آجائے۔[85]{ ۱۰۳}</p>
<p>تم میں کچھ لوگ تو ایسے ضرورہی ہونے چاہییں جو نیکی کی طرف بلائیں ، بھلائی کا حکم دیں، اور برائیوں سے روکتے رہیں۔ جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پائیں گے۔{ ۱۰۴}</p>
<p>کہیں تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور کھلی کھلی واضح ہدایات پانے کے بعد پھر اختلافات میں مبتلا ہوئے ۔ [86]جنہوں نے یہ روش اختیار کی وہ اُس روز سخت سزاپائیں گے {۱۰۵}</p>
<p>جبکہ کچھ لوگ سُرخ رُو ہوں گے اور کچھ لوگوں کا منھ کالا ہوگا۔ جن کا منھ کالاہوگا (ان سے کہا جائے گا کہ ) نعمتِ ایمان پانے کے بعد بھی تم نے کا فرانہ روّیہ اختیار کیا؟ اچھا تو اب اس کفر انِ نعمت کے صلہ میں عذاب کا مزہ چکھو ۔ {۱۰۶}</p>
<p>رہے وہ لوگ جن کے چہرے روشن ہوں گے تو ان کو اللہ کے دامنِ رحمت میں جگہ ملے گی اور ہمیشہ وہ اسی حالت میں رہیں گے۔ {۱۰۷}</p>
<p> یہ اللہ کے ارشادات ہیں جو ہم تمہیں ٹھیک ٹھیک سنار ہے ہیں ، کیونکہ اللہ دنیا والوں پر ظلم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا[87] ۔{۱۰۸}</p>
<p>زمین اور آسمانوں کی ساری چیزوں کا مالک اللہ ہے اور سارے معاملات اللہ ہی کے حضور پیش ہوتے ہیں۔{۱۰۹}</p>
<p>اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح  کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔[88] تم نیکی کا حکم دیتے ہو ، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ اہل ِکتاب[89] ایمان لاتے تو انہی کے حق میں بہتر تھا۔ اگر چہ ان میں کچھ لوگ ایماندار بھی پائے جاتے ہیں مگران کے بیشتر افراد نافرمان ہیں۔{ ۱۱۰}</p>
<p> یہ تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے ، زیادہ سے زیادہ بس کچھ ستاسکتے ہیں۔ اگر یہ تم سے لڑیں تو مقابلہ میں پیٹھ دکھا ئیں گے ، پھر ایسے بے بس ہوں گے کہ کہیں سے ان کو مدد نہ ملے گی۔{۱۱۱}</p>
<p> یہ جہاں بھی پائے گئے ان پر ذلت کی مارہی پڑی ، کہیں اللہ کے ذِمّہ یا انسانوں کے ذِمّہ میں پناہ مل گئی تو یہ اور بات ہے ۔ [90]یہ اللہ کے غضب میں گِھرچکے ہیں۔ ان پر محتاجی و مغلوبی مسلط کردی گئی ہے ، اور یہ سب کچھ صرف اس وجہ سے ہوا ہے کہ یہ اللہ کی آیات سے کفر کرتے رہے اور انہوں نے پیغمبروں کو ناحق قتل کیا۔ یہ ان کی نافرمانیوں اور زیادتیوں کا انجام ہے ۔{ ۱۱۲}</p>
<p>مگر سارے اہلِ کتاب یکساں نہیں ہیں۔ ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جوراہ راست پر قائم ہیں ، راتوں کو اللہ کی آیات پڑھتے ہیں اور اُس کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں ۔{ ۱۱۳}</p>
<p>اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ، نیکی کا حکم دیتے ہیں ، برائیوں سے روکتے ہیں اور بھلائی کے کاموں میں سرگرم رہتے ہیں۔ یہ صالح لوگ ہیں۔{ ۱۱۴}</p>
<p>اور جونیکی بھی یہ کریں گے اس کی ناقدری نہ کی جائے گی ، اللہ پرہیزگارلوگوں کو خوب جانتا ہے۔ {۱۱۵}</p>
<p>رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا تو اللہ کے مقابلہ میں ان کو نہ ان کا مال کچھ کام دے گا نہ اولاد ، وہ تو آگ میں جانے والے لوگ ہیں اور آگ ہی میں ہمیشہ رہیں گے۔{۱۱۶}</p>
<p> جو کچھ وہ اپنی اس دنیا کی زندگی میں خرچ کررہے ہیں اُس کی مثال اُس ہوا کی سی ہے جس میں پالا ہو اور وہ ان لوگوں کی کھیتی پر چلے جنہوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا ہے اور اسے برباد کرکے رکھ دے۔[91] اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا ، درحقیقت یہ خود اپنے اوپر ظلم کررہے ہیں۔ {۱۱۷}</p>
<p>اے لوگوجو ایمان لائے ہو ! اپنی جماعت کے لوگوں کے سوا دوسروں کو اپنا راز دارنہ بنا ؤ ، وہ تمہاری خرابی کے کسی موقع سے فائدہ اٹھانے میں نہیں چوکتے ۔ [92]تمہیں جس چیز سے نقصان  پہنچے وہی اُن کو محبوب ہے۔ ان کے دل کا بغض ان کے منھ سے نکلا پڑتا ہے اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے شدید تر ہے۔ ہم نے تمہیں صاف صاف ہدایات دے دی ہیں ، اگر تم عقل رکھتے ہو ( تو ان سے تعلق رکھنے میں احتیاط برتو گے) {۱۱۸}</p>
<p>تم ان سے محبت رکھتے ہو مگر وہ تم سے محبت نہیں رکھتے حالانکہ تم تمام کُتبِ آسمانی کو مانتے ہو۔ [93]جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے بھی ( تمہارے رسول اور تمہاری کتاب کو) مان لیا ہے، مگر جب جُدا ہوتے ہیں تو تمہارے خلاف ان کے غیظ و غضب کا یہ حال ہوتا ہے کہ اپنی انگلیاں چبانے لگتے ہیں۔ ان سے کہہ دو کہ اپنے غصّہ میں آپ جل مرو ، اللہ دلوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے۔{۱۱۹}</p>
<p>تمہارا بھلا ہوتا ہے تو ان کو بُرا معلوم ہوتا ہے ، اور تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یہ خوش ہوتے ہیں ۔ مگر ان کی کوئی تدبیر تمہارے خلاف کار گرنہیں ہوسکتی بشرطیکہ تم صبر سے کام لو اور اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو ۔ جو کچھ یہ کررہے ہیں اللہ اُس پر حاوی ہے ۔{۱۲۰}</p>
<p> (اے پیغمبر [94] ؐ! مسلمانوں کے سامنے اُس موقع کا ذکر کرو) جب تم صبح سویرے اپنے گھر سے نکلے تھے اور (اُحد کے میدان میں) مسلمانوں کو جنگ  کے لیے جابجا مامور کررہے تھے۔ اللہ ساری باتیں سُنتا ہے اور وہ نہایت باخبر ہے۔ {۱۲۱}</p>
<p>یاد کرو جب تم میں سے دو گروہ بُزدلی دکھانے پر آمادہ ہوگئے تھے ،[95] حالانکہ اللہ ان کی مدد پر موجود تھا۔ اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔{ ۱۲۲}</p>
<p>آخر اس سے پہلے جنگ بدر میں اللہ تمہاری مدد کر چکا تھا حالانکہ اس وقت تم بہت کمزور تھے۔ لہٰذا تم کو چاہئے کہ اللہ کی ناشکری سے بچو۔ اُمید ہے کہ اب تم شکرگزاربنوگے۔{ ۱۲۳}</p>
<p>اے نبی  ؐ ! یاد کرو جب تم مومنوں سے کہہ رہے تھے ’’ کیا تمہارے لئے یہ بات کافی نہیں کہ اللہ تین ہزار فرشتے اُتار کر تمہاری مدد کرے؟‘‘[96]{۱۲۴}</p>
<p>بے شک ، اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرو تو جس آن دشمن تمہارے اُوپر چڑھ کر آئیں گے اُسی آن تمہارا رَبّ (تین ہزار نہیں ) پانچ ہزار صاحبِ نشان فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا ۔{۱۲۵}</p>
<p>یہ بات اللہ نے تمہیں اس لیے بتادی ہے کہ تم خوش ہو جا ؤ اور تمہارے دل مطمئن ہوجائیں۔ فتح و نصرت جو کچھ بھی ہے اللہ کی طرف سے ہے جو بڑی قوت والا اور دانا وبینا ہے۔{۱۲۶}</p>
<p> (اور یہ مدد وہ تمہیں اس لیے دے گا ) تاکہ کفر کی راہ چلنے والوں کا ایک بازو کاٹ دے ، یا ان کو ایسی ذلیل شکست دے کہ وہ نامرادی کے ساتھ پسپا ہوجائیں۔ {۱۲۷}</p>
<p> (اے پیغمبر ؐ !) فیصلہ کے اختیارات میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ، اللہ کو اختیار ہے چاہے انہیں معاف کرے، چاہے سزادے، کیونکہ وہ ظالم ہیں {۱۲۸}</p>
<p>زمین اور آسمانوں میں جوکچھ ہے اس کا مالک اللہ ہے،  جس کو چاہے بخش دے اور جس کو چاہے عذاب دے ، وہ معاف کرنے والا اور رحیم  ہے [97]{۱۲۹}</p>
<p>  اے لوگو جوایمان لائے ہو ! یہ بڑھتا اور چڑھتا سود کھانا چھوڑ دو[98] اور اللہ سے ڈرو ، اُمید ہے کہ فلاح پا ؤگے ۔{۱۳۰}</p>
<p> اُس آگ سے بچو جو کافروں  کے لیے مہیا کی گئی ہے ۔{۱۳۱}</p>
<p>اللہ اور رسُول  ؐ کی اطاعت کرو ،توقع ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا ۔{ ۱۳۲}</p>
<p>دوڑ کر چلو اس راہ پر جو تمہارے رَبّ کی بخشش اور اس جنّت کی طرف جاتی ہے ،جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے ، اور وہ اُن متقی لوگوں  کے لیے مہیا کی گئی ہے۔{ ۱۳۳}</p>
<p>جو ہر حال میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں خواہ بد حال ہوں یا خوش حال ، جو غصے کوپی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کردیتے ہیں۔ ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں۔[99] { ۱۳۴}</p>
<p>اور جن کا حال یہ ہے کہ اگر کبھی کوئی فحش کام ان سے سرزد ہوجاتا ہے یاکسی گناہ کا ارتکاب کرکے وہ اپنے اوپر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو معاً اللہ انہیں یاد آجاتا ہے اور اُس سے وہ اپنے قصوروں کی معافی چاہتے ہیں۔ کیونکہ اللہ کے سوا اور کون ہے جو گناہ معاف کرسکتا ہو۔ اور وہ کبھی دانستہ اپنے کئے پر اصرار نہیں کرتے۔{۱۳۵}</p>
<p> ایسے لوگوں کی جزا ان کے رَبّ کے پاس یہ ہے کہ وہ ان کو معاف کردے گا اور ایسے باغوں میں انہیں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔کیسا اچھا بدلہ ہے نیک اعمال کرنے والوں  کے لیے۔ {۱۳۶}</p>
<p> تم سے پہلے بہت سے دور گزر چکے ہیں ۔ زمین میں چل پھر کردیکھ لو کہ ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جنہوں نے (اللہ کے احکام وہدایات کو ) جھٹلایا۔{۱۳۷}</p>
<p>یہ لوگوں  کے لیے ایک صاف اور صریح تنبیہ ہے اور جو اللہ سے ڈرتے ہوں ان کے لیے ہدایت اور نصیحت۔ {۱۳۸}</p>
<p>دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو ، تم ہی غالب رہوگے اگر تم مومن ہو۔{۱۳۹}</p>
<p> اس وقت اگر تمہیں چوٹ لگی ہے تو اس سے پہلے ایسی ہی چوٹ تمہارے مخالف فریق کو بھی لگ چکی ہے۔[100] یہ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں۔ تم پر یہ وقت اس لیے لایا گیا کہ اللہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم میں سچے مومن کون ہیں ، اور ان لوگوں کو چھانٹ لینا چاہتا تھا جو واقعی (راستی کے) گواہ ہوں۔[101]  کیونکہ ظالم لوگ اللہ کو پسند نہیں ہیں۔{ ۱۴۰}</p>
<p> اور وہ اس آزمائش کے ذریعہ سے مومنوں کو الگ چھانٹ کر کافروں کی سرکوبی کردینا چاہتا تھا۔ {۱۴۱}</p>
<p> کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یو نہی جنّت میں چلے جا ؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا (تم کو دکھایا)ہی نہیں کہ تم میں کون وہ لوگ ہیں جو اس کی راہ میں جانیں لڑانے والے اور اس کی خاطر صبر کرنے والے ہیں ۔{ ۱۴۲}</p>
<p>تم تو موت کی تمنائیں کررہے تھے !مگر یہ اس وقت کی بات تھی جب موت سامنے نہ آئی تھی ، لو اب وہ تمہارے سامنے آگئی اور تم نے اسے آنکھوں دیکھ لیا ۔[102]{ ۱۴۳}</p>
<p>محمد  ؐ  اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسُو ل  ؐہیں۔ اُن سے پہلے اور رسول بھی گزر چکے ہیں ، پھر کیا اگر وہ مرجائیں یا قتل کردیئے جائیں تو تم لوگ الٹے پا ؤں پھر جا ؤگے [103]؟ یاد رکھو ! جو اُلٹا پھرے گا وہ اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا ، البتہ جو اللہ کے شکر گزار بندے بن کررہیں گے انہیں وہ اس کی جزادے گا۔ { ۱۴۴}</p>
<p>کوئی ذی روح ،اللہ کے اِذن کے بغیر نہیں مرسکتا ، موت کا وقت تو لکھا ہوا ہے ،[104]جو شخص ثوابِ دنیا کے ارادہ سے کام کرے گا اس کو ہم دنیا ہی میں سے دیں گے ، اور جو ثواب ِ آخرت کے ارادہ سے کام کرے گا وہ آخرت[105] کا ثواب پائے گا اور شکر کرنے[106] والوں کو ہم ان کی جزاضرور عطا کریں گے{۱۴۵}</p>
<p> اس سے پہلے کتنے ہی نبی  ؐیسے گزرچکے ہیں جن کے ساتھ مل کر بہت سے اللہ والوں نے جنگ کی ۔ اللہ کی راہ میں جو مصیبتیں اُن پر پڑیں اُن سے وہ دل شکستہ نہیں ہوئے ، انہوں نے کمزوری نہیں دکھائی ، وہ (باطل کے آگے) سرنگوں نہیں [107]ہوئے ۔ ایسے ہی صابروں کو اللہ پسند کرتا ہے {۱۴۶}</p>
<p>ان کی دعا بس یہ تھی کہ ’’ اے ہمارے رَبّ !ہماری غلطیوں اور کوتا ہیوں سے درگزر فرما، ہمارے کام میں تیرے حدود سے جو کچھ تجاوز ہوگیا ہو اسے معاف کردے ، ہمارے قدم جمادے اور کافروں کے مقابلہ میں ہماری مددکر ‘‘ {۱۴۷}</p>
<p>آخر کار اللہ نے اُن کو دنیا کا ثواب بھی دیا اور اِس سے بہتر ثوابِ آخرت بھی عطا کیا۔ اللہ کو ایسے ہی نیک عمل لوگ پسند ہیں ۔{۱۴۸}</p>
<p>اے لوگوجو ایمان لائے ہو ! اگر تم ان لوگوں کے اشاروں پر چلو گے جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے تو وہ تم کو اُلٹا پھیرلے جائیں [108]گے اور تم نا مراد  ہوجا ؤ گے۔{۱۴۹}</p>
<p>( اُن کی باتیں غلط ہیں) حقیقت یہ ہے کہ اللہ تمہارا حامی و مددگارہے اور وہ بہترین مدد کرنے والا ہے ۔{۱۵۰}</p>
<p>عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب ہم منکرین حق کے دلوں میں رُعب بٹھادیں گے ، اس لیے کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ ان کو اُلوہیت میں شریک ٹھہرایا ہے جن کے شریک ہونے پر اللہ نے کوئی سَندنازل نہیں کی۔ اُن کا آخری ٹھکانا جہنم ہے اور بہت ہی بُری ہے وہ قیام گاہ جو اُن ظالموں کو نصیب ہوگی۔{۱۵۱}</p>
<p>  اللہ نے (تائیدو نصرت کا) جو وعدہ تم سے کیا تھا وہ تو اُس نے پورا کردیا۔ ابتداء میں اس کے حکم سے تم ہی اُن کو قتل کررہے تھے ۔ مگر جب تم نے کمزوری دکھائی اور اپنے کام میں باہم اختلاف کیا، اور جو نہی کہ وہ چیز اللہ نے تمہیں دکھائی جس کی محبت میں تم گرفتار تھے۔ (یعنی مال غنیمت) تم (اپنے سردار کے)حکم کی خلاف ورزی کر بیٹھے، اس لیے کہ تم میں سے کچھ لوگ دنیا کے طالب تھے اور کچھ آخرت کی خواہش رکھتے تھے،تب اللہ نے تمہیں کافروں کے مقابلہ میں پسپا کردیا تا کہ تمہاری آزمائش کرے۔ اور حق یہ ہے کہ اللہ نے پھر بھی تمہیں معاف ہی کردیا، [109]کیونکہ مومنوں پر اللہ بڑی نظر عنایت رکھتا ہے۔ { ۱۵۲}</p>
<p>یاد کرو جب تم بھاگے چلے جارہے تھے ، کسی کی طرف پلٹ کردیکھنے تک کا ہوش تمہیں نہ تھا اور  رسول  اتمہارے پیچھے تم کو پکار [110]رہاتھا۔اس وقت تمہاری اس رَوِش کا بدلہ اللہ نے تمہیں یہ دیا کہ تم کو رنج پررنج [111]دیے ،  تا کہ آئندہ کے لیے تمہیں یہ سبق ملے کہ جو کچھ تمہارے ہاتھ سے جائے یا جو مصیبت تم پر نازل ہو اُس پر ملول نہ ہو۔ اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے۔{ ۱۵۳}</p>
<p>اِس غم کے بعد پھر اللہ نے تم میں سے کچھ لوگوں پر ایسی اطمینان کی سی حالت طاری کردی کہ وہ اُونگھنے[112] لگے۔ مگر ایک دوسرا گروہ ، جس  کے لیے ساری اہمیت بس اپنی ذات ہی کی تھی ، اللہ کے متعلق طرح طرح کے جاہلانہ گمان کرنے لگا جو سراسر خلاف ِحق تھے ۔ یہ لوگ اب کہتے ہیں کہ ’’ اس کام کے چلانے میں ہمارا بھی کوئی حصہ ہے؟‘‘ ان سے کہو: ’’(کسی کا کوئی حصہ نہیں) اس کام کے سار ے اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں ۔‘‘ دراصل یہ لوگ اپنے دلوں میں جوبات چھپائے ہوئے ہیں اسے تم پر ظاہر نہیں کرتے۔ ان کا اصل مطلب یہ ہے کہ ’’ اگر (قیادت کے ) اختیارات میں ہمارا کچھ حصہ ہوتا تو یہاں ہم نہ مارے جاتے ان سے کہہ دو کہ ’’ اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن لوگوں کی موت لکھی ہوئی تھی وہ خود اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے ‘‘ اور یہ معاملہ جو پیش آیا ، یہ تو اس لیے تھا کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں پوشیدہ ہے اللہ اسے آزمالے اور جو کھوٹ تمہارے دلوں میں ہے اسے چھانٹ دے ، اللہ دلوں کا حال خوب جانتا ہے ۔{ ۱۵۴}</p>
<p>تم میں سے جو لوگ مقابلہ کے دن پیٹھ پھیر گئے تھے ان کی اس لغزش کا سبب یہ تھا کہ ان کی بعض کمزوریوں کی وجہ سے شیطان نے اُن کے قدم ڈگمگا دیے تھے۔ اللہ نے انہیں معاف کردیا۔ اللہ بہت درگزر کرنے والا اور بُردبار ہے ۔{ ۱۵۵}</p>
<p>اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کافروں کی سی باتیں نہ کروجن کے عزیز واقارب اگر کبھی سفر پر جاتے ہیں یا جنگ میں شریک ہوتے ہیں ( اور وہاں کسی حادثہ سے دوچار ہوجاتے ہیں) تو وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس  ہوتے تو نہ مارے جاتے، اور نہ قتل ہوتے ،اللہ اس قسم کی باتوں کو ان کے دلوں میں حسرت واندوہ کا سبب بنادیتا [113]ہے، ورنہ دراصل مارنے اور جلانے والا تو اللہ ہی ہے اور تمہاری تمام حرکات پر وہی نگراں ہے۔{۱۵۶}</p>
<p>اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جا ؤ یا مرجا ؤ تو اللہ کی جو رحمت اور بخشش تمہارے حصہ میں آئے گی وہ ان ساری چیزوں سے زیادہ بہتر ہے جنہیں یہ لوگ جمع کرتے ہیں ۔{۱۵۷}</p>
<p>اور خواہ تم مرویا مارے جا ؤ بہرحال تم سب کو سمٹ کر جانا اللہ ہی کی طرف ہے۔ {۱۵۸}</p>
<p>(اے پیغمبر ؐ!) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں  کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو، ورنہ اگر کہیں تم تُند خواورسنگ دل ہوتے تو یہ سب تمہارے گردو پیش سے چھٹ جاتے۔ ان کے قصور معاف کردو، ان کے حق میں دعائے مغفرت کرو، اور دین کے کام میں ان کو بھی شریک مشورہ رکھو ، پھر جب تمہارا عزم کسی رائے پر مستحکم ہوجائے تو اللہ پر بھروسہ کرو ، اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اُسی کے بھروسے پر کام کرتے ہیں ۔ {۱۵۹}</p>
<p> اللہ تمہاری مدد پر ہو تو کوئی طاقت تم پر غالب آنے والی نہیں ، اور وہ تمہیں چھوڑدے تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرسکتا ہو؟ پس جو سچے مومن ہیں ان کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔ {۱۶۰}</p>
<p> کسی نبی کا یہ کام نہیں ہوسکتا کہ وہ خیانت کر[114]جائے۔ اور جو کوئی خیانت کرے تو وہ اپنی خیانت سمیت قیامت کے روز حاضر ہوجائے گا، پھر ہر متنفس کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور کسی پر کچھ ظلم نہ ہوگا۔{۱۶۱}</p>
<p> بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جو شخص ہمیشہ اللہ کی رضا پر چلنے والا ہو وہ اُس شخص کے سے کام کرے جو اللہ کے غضب میں گِھرگیا ہو اور جس کا آخری ٹھکا نا جہنم ہوجو بدترین ٹھکانا ہے ؟ {۱۶۲}</p>
<p> اللہ کے نزدک دونوں قسم کے آدمیوں میں بدرجہا فرق ہے اور اللہ سب کے اعمال پر نظر رکھتا ہے۔ { ۱۶۳}</p>
<p> درحقیقت اہلِ ایمان پر تو اللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان خود انہی میں سے ایک ایسا پیغمبر اٹھا یا جو اس کی آیا ت انہیں سُناتا ہے، اُن کی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور ان کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے ، حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے۔{ ۱۶۴}</p>
<p>اور یہ تمہارا کیا حال ہے کہ جب(جنگ اُحد میں) تم پر مصیبت آپڑی تو تم کہنے لگے یہ کہاں سے آئی ؟[115] حالانکہ ( جنگ بدر میں) اس سے دوگنی مصیبت تمہارے ہاتھوں (فریق ِمخالف پر ) پڑچکی ہے ۔[116] اے نبی  ؐ! ان سے کہو یہ مصیبت تمہاری اپنی لائی ہوئی [117]ہے ، اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔[118]{۱۶۵}</p>
<p>اور  جو نقصان(جنگ اُحد کی) لڑائی کے دن تمہیں پہنچا وہ اللہ کے ِاذن سے تھا اور اِس لیے تھا تاکہ یہ ظاہر ہوجائے کہ تم میں سے مومن کون ہیں{۱۶۶}</p>
<p> اور منافق کون ؟وہ منافق کہ جب ان سے کہا گیا: ’’آ ؤ اللہ کی راہ میں جنگ کرویا کم از کم ( اپنے شہر کی) مدافعت ہی کرو‘‘۔ تو کہنے لگے ’’ اگر ہمیں علم ہوتا کہ آج جنگ ہوگی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ چلتے [119] ‘‘۔ یہ بات جب وہ کہہ رہے تھے اُس وقت وہ ایمان کی بہ نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے۔ وہ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ۔ اُن کے دلوں میں نہیں ہوتیں،اور جو کچھ وہ دلوں میں چھپاتے ہیں اللہ اُسے خوب جانتا ہے ۔{۱۶۷}</p>
<p>یہ وہی لوگ ہیں جو خود تو بیٹھے رہے اور اُن کے جوبھائی بند لڑنے گئے اور مارے گئے اُن کے متعلق اُنہوں نے کہہ دیا کہ اگر وہ ہماری بات مان لیتے تو نہ مارے جاتے ۔ اُن سے کہو اگر تم اپنے اس قول میں سچے ہوتو خود تمہاری موت جب آئے اُسے ٹال کردکھا دینا۔{۱۶۸}</p>
<p>جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں اُنہیں مُردہ نہ سمجھو ، وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں ،[120] اپنے رَبّ کے پاس رزق پارہے ہیں {۱۶۹}</p>
<p>جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے اُنہیں دیا ہے اُس پر خوش وخرّم ہیں ،[121] اور مطمئن ہیں کہ جو اہلِ ایمان اُن کے پیچھے دنیا میں رہ گئے ہیں اور ابھی وہاں نہیں پہنچے ہیں ان  کے لیے بھی کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے۔{۱۷۰}</p>
<p> وہ اللہ کے انعام اور اُس کے فضل پرشاداں وفرحاں ہیں اور ان کو معلوم ہوچکا ہے کہ اللہ مومنوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔{۱۷۱}</p>
<p> (ایسے مومنوں کے اجر کو ) جنہوں نے زخم کھانے کے بعد بھی اللہ اور رسول  ؐکی پکار پر لبیک کہا اُن میں[122] جو اشخاص نیکو کار اور پر ہیز گار ہیں اُن  کے لیے بڑا اجر ہے۔{ ۱۷۲}</p>
<p> جن [123]سے لوگوں نے کہا کہ: ’’تمہارے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوئی ہیں اُن سے ڈرو‘‘ تو یہ سُن کر اُن کا ایمان اور بڑھ گیا اور اُنہوں نے جوا ب دیا کہ ’’ ہمارے لئے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کا رساز ہے ‘‘۔{ ۱۷۳}</p>
<p> آخر کار وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت اور فضل کے ساتھ پلٹ آئے۔ ان کو کسی قسم کا ضرر بھی نہ پہنچا اور اللہ کی رضا پر چلنے کا شرف بھی انہیں حاصل ہوگیا ، اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے۔  {۱۷۴}</p>
<p>اب تمہیں معلوم ہوگیا کہ وہ دراصل شیطان تھا جو اپنے دوستوں سے خواہ مخواہ ڈرارہا تھا ۔لہٰذا آئندہ تم انسانوں سے نہ ڈرنا ، مجھ سے ڈرنا اگر تم حقیقت میں صاحب ایمان ہو۔[124]{۱۷۵}</p>
<p>(اے پیغمبر ؐ!) جو لوگ آج کفر کی راہ میں بڑی دوڑ دھوپ کررہے ہیں ان کی سرگرمیاں تمہیں آزردہ نہ کریں، یہ اللہ کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں گے۔ اللہ کاارادہ  یہ ہے کہ ان  کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہ رکھے ، اور بالآخر ان کو سخت سزاملنے والی ہے۔ {۱۷۶}</p>
<p> جو لوگ ایمان کو چھوڑ کر کفر کے خرید ار بنے ہیں وہ یقینا اللہ کا کوئی نقصان نہیں کررہے ہیں، ان کے لیے دردناک عذاب تیار ہے ۔{۱۷۷}</p>
<p> یہ ڈھیل جو ہم انہیں دیے جاتے ہیں اس کو یہ کافر اپنے حق میں بہتری نہ سمجھیں ،ہم تو انہیں اس لیے ڈھیل دے رہے ہیں کہ یہ خوب بارگناہ سمیٹ لیں ، پھر ان کے لیے سخت ذلیل کرنے والی سزا ہے۔ {۱۷۸}</p>
<p>اللہ مومنوں کو اس حالت میں ہرگز نہ رہنے دے گا جس میں تم لوگ اس وقت پائے جاتے ہو۔ [125]وہ پاک لوگوں کو ناپاک لوگوں سے الگ کرکے رہے گا۔ مگر اللہ کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ تم لوگوں کو غیب پر مطلع کردے۔[126]  (غیب کی باتیں بتانے  کے لیے تو) اللہ اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے منتخب کرلیتا ہے۔ لہٰذا (اُمور غیب کے بارے میں )اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھو ۔ اگر تم ایمان اور تقویٰ کی روش پر چلوگے تو تم کو بڑا اجرملے گا۔{۱۷۹}</p>
<p>جن لوگوں کو اللہ نے اپنے فضل سے نوازا ہے اور پھر وہ بُخل سے کام لیتے ہیں وہ اس خیال میں نہ رہیں کہ یہ بخیلی ان کے لیے اچھی ہے۔ نہیں ، یہ ان کے حق میں نہایت بُری ہے ۔ جو کچھ وہ اپنی کنجوسی سے جمع کررہے ہیں وہی قیامت کے روز ان کے گلے کا طوق بن جائے گا ۔ زمین اور آسمانوں کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے[127] اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے باخبرہے۔{۱۸۰}</p>
<p>اللہ نے اُن لوگوں کا قول سُنا جو کہتے ہیں کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی [128] ہیں ۔ ان کی یہ باتیں بھی ہم لکھ لیں گے، اور اس سے پہلے جو وہ پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں وہ بھی ان کے نامۂ اعمال میں ثبت ہے۔ ( جب فیصلے کا وقت آئے گا اس وقت ) ہم ان سے کہیں گے کہ لو ، اب عذاب جہنم کا مزاچکھو {۱۸۱}</p>
<p> یہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے ، اللہ اپنے بندوں کے لیے ظالم نہیں ہے۔{۱۸۲}</p>
<p>جو لوگ کہتے ہیں ،’’اللہ نے ہم کو ہدایت کردی ہے کہ ہم کسی کو رسول تسلیم نہ کریں جب تک وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی نہ کرے جسے ( غیب سے آکر ) آگ کھالے ‘‘،ان سے کہو ’’ تمہارے پاس مجھ سے پہلے بہت سے رسول آچکے ہیں جو بہت سی روشن نشانیاں لائے تھے اور وہ نشانی بھی لائے تھے جس کا تم ذکرکرتے ہو ، پھر اگر ( ایمان لانے  کے لیے یہ شرط پیش کرنے میں)تم سچّے ہو تو اُن رسولوں کو تم نے کیوں قتل کیا؟‘‘[129]{۱۸۳}</p>
<p>اب اے نبی  ؐ ! اگر یہ لوگ تمہیں جھٹلاتے ہیں تو بہت سے رسول تم سے پہلے جھٹلائے جاچکے ہیں۔ جو کھلی کھلی نشانیاں اور صحیفے اور روشنی بخشنے والی کتابیں لائے تھے۔{۱۸۴}</p>
<p> آخر کار ہرشخص کو مرنا ہے اور تم سب اپنے اپنے پورے اجر قیامت کے روز پانے والے ہو ،کامیاب دراصل وہ ہے جو وہاں آتش دوزخ سے بچ جائے اور جنّت میں داخل کردیا جائے ۔ رہی یہ دنیا ، تو یہ محض ایک ظاہر فریب چیز ہے۔[130]{۱۸۵}</p>
<p>مسلمانو ! تمہیں مال اور جان دونوں کی آزمائشیں پیش آکر رہیں گی، اور تم اہل کتاب اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنوگے۔ اگر ان سب حالات میں تم صبر اور تقویٰ کی روش پر قائم رہو[131] تو یہ بڑے حوصلے کا کام ہے۔{۱۸۶}</p>
<p>ان اہل کتاب کو وہ عہد بھی یاد دلا ؤ جو اللہ نے ان سے لیا تھا کہ تمہیں کتاب کی تعلیمات کو لوگوں میں پھیلانا ہوگا،انہیں پوشیدہ رکھنا نہیں [132]ہوگا ۔ مگر انہوں نے کتاب کوپس پشت ڈال دیا اور تھوڑی قیمت پر اسے بیچ ڈالا، کتنا برا کاروبار ہے جو یہ کررہے ہیں۔ {۱۸۷}</p>
<p>  تم اُن لوگوں کو عذاب سے محفوظ نہ سمجھو جو اپنے کرتوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایسے کاموں کی تعریف انہیں حاصل ہوجوفی الواقع انہوں نے نہیں کئے ہیں۔[133] حقیقت میں ان کے لیے درد ناک سزا تیار ہے۔{۱۸۸}</p>
<p>زمین[134] اور آسمانوں کا مالک اللہ ہے اور اس کی قدرت سب پر حاوی ہے۔{۱۸۹}</p>
<p>زمین اور آسمانوں کی پیدائش میں اور رات اور دن کے باری باری سے آنے میں ان ہوش مند لوگوں  کے لیے بہت نشانیاں ہیں{۱۹۰}</p>
<p> جو اٹھتے ،بیٹھتے اور لیٹتے، ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے ہیں اور زمین اور آسمانوں کی ساخت میں غور وفکر کرتے ہیں[135] (وہ بے اختیار بول اٹھتے ہیں) ’’پروردگار! یہ سب کچھ تونے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا ہے، تو پاک ہے اس سے کہ عبث کام کرے، پس اے رَبّ ! ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے[136]{۱۹۱}</p>
<p> اے ہمارے رَبّ! تونے جسے دوزخ میں ڈالا اسے درحقیقت بڑی ذلت ورسوائی میں ڈال دیا ، اور پھر ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ { ۱۹۲}</p>
<p> اے ہمارے مالک! ہم نے ایک پکار نے والے کو سُنا جو ایمان کی طرف بُلاتا تھا اور کہتا تھا کہ اپنے رَبّ کو مانو ،ہم نے اس کی دعوت قبول کرلی،[137] پس اے ہمارے آقا !جو قصور ہم سے ہوئے ہیں ان سے درگزر فرما ، جو بُرائیاں ہم میں ہیں انہیں دورکردے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر { ۱۹۳}</p>
<p>اے ہمارے رَبّ! جو وعدے تونے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے کئے ہیں ان کو ہمارے ساتھ پوراکراور قیامت کے دن ہمیں رسوائی میں نہ ڈال ، بے شک تو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں [138]ہے ۔‘‘ { ۱۹۴}</p>
<p>جواب میں اُن کے رَبّ نے فرمایا ’’ میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں ہوں۔ خواہ مرد ہویا عورت ، تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس[139] ہو۔ لہٰذا جن لوگوں نے میری خاطر اپنے وطن چھوڑے اور جو میری راہ میں اپنے گھروں سے نکالے گئے اور ستائے گئے اور میرے لئے لڑے اور مارے گئے اُن کے سب قصور میں معاف کردو ں گا اور انہیں ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ ان کی جزا ہے اللہ کے ہاں اور بہترین جزااللہ ہی کے پاس [140]ہے‘‘ {۱۹۵}</p>
<p> (اے نبی  ؐ!) دنیا کے ملکوں میں اللہ کے نافرمان لوگوں کی چلت پھرت تمہیں کسی دھوکے میں نہ ڈالے، {۱۹۶}</p>
<p> یہ محض چندروزہ زندگی کا تھوڑا سالطف ہے ، پھر یہ سب جہنم میں جائیں گے جو بدترین جائے قرار ہے، {۱۹۷}</p>
<p>برعکس اس کے جو لوگ اپنے رَبّ سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے ہیں ان  کے لیے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، اُن باغوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے ، اللہ کی طرف سے یہ سامان ِ ضیافت ہے ان  کے لیے ، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے نیک لوگوں  کے لیے وہی سب سے بہتر ہے ۔{۱۹۸}</p>
<p>اہل کتاب میں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کو مانتے ہیں ، اِس کتاب پر ایمان لاتے ہیں جو تمہاری طرف بھیجی گئی ہے اور اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو اس سے پہلے خود ان کی طرف بھیجی گئی تھی اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہیں۔ اور اللہ کی آیات کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ نہیں دیتے ۔ ان کا اجران کے رَبّ کے پاس ہے اور اللہ حساب چکانے میں دیر نہیں لگاتا۔{۱۹۹}</p>
<p> اے لوگوجو ایمان لائے ہو! صبر سے کام لو ، باطل پرستوں کے مقابلے میں پامردی دکھا ؤ[141] ، حق کی خدمت  کے لیے کمر بستہ رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو ، امید ہے کہ فلاح پا ؤ گے۔{ ۲۰۰}</p>

</div><div id="4"><p>سورۃالنساء </p>
<p>اللہ کے نام سے جوبے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔</p>
<p>لوگو! اپنے رَبّ سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد وعورت دنیا میں پھیلادیے۔[1] اُس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو ، اور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑ نے سے پرہیزکرو۔یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کررہا ہے ۔{۱}</p>
<p>یتیموں کے مال ان کو واپس دو [2]، اچھے مال کو بُرے مال سے نہ بدل لو[3] ، اور اُن کے مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھا جا ؤ ، یہ بہت بڑا گناہ ہے۔{ ۲}</p>
<p> اور اگر تم کو اندیشہ ہو کہ یتیموں کے ساتھ انصاف نہ کرسکوگے توجوعورتیں تم کو پسندآئیں ان میں سے دو دو ، تین تین، چار چار سے نکاح کرلو۔[4] لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ ان کے ساتھ عدل نہ کر سکوگے تو پھر ایک ہی بیوی کرو[5]  یا اُن عورتوں کو زوجیت میں لا ؤ جو تمہارے قبضے میں آئی [6]ہیں، بے انصافی سے بچنے  کے لیے یہ زیادہ قر ین ِصواب ہے۔ {۳}</p>
<p>اور عورتوں کے مہرخوش دلی کے ساتھ ( فرض جانتے ہوئے) ادا کرو ،البتہ اگر وہ خود اپنی خوشی سے مہرکاکوئی حصہ تمہیں معاف کردیں تو اُسے تم مزے سے کھا سکتے ہو۔[7]{ ۴}</p>
<p>اور اپنے وہ مال جنہیں اللہ نے تمہارے لئے قیام زندگی کا ذریعہ بنایا ہے ، نادان لوگوں کے حوالے نہ کرو، البتہ انہیں کھانے اور پہننے  کے لیے دو ، اور انہیں نیک ہدایت کرو ۔[8]{۵}</p>
<p>اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کے قابل عمر کو پہنچ جائیں۔[9]  پھر اگر تم ان کے اندر اہلیت پا ؤ تو ان کے مال اُن کے حوالے کردو ۔[10] ایسا کبھی نہ کرنا کہ حدِّانصاف سے تجاوز کرکے اس خوف سے اُن کے مال جلدی جلدی کھاجا ؤ کہ وہ بڑے ہوکر اپنے حق کا مطالبہ کریں گے۔ یتیم کا جو سرپرست مالدار ہو وہ پرہیزگاری سے کام لے اور جو غریب ہو وہ معروف طریقہ سے کھائے ۔ [11]پھر جب اُن کے مال ان کے حوالے کرنے لگو تو لوگوں کو اس پر گواہ بنالو ، اور حساب لینے کے لیے اللہ کافی ہے ۔{۶}</p>
<p>مردوں کے لیے اُس مال میں حصّہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو ، اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصّہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو ، خواہ تھوڑا ہو یا بہت [12] اور یہ حصہ ( اللہ کی طرف سے ) مقرر ہے ۔{۷}</p>
<p>اور جب تقسیم کے موقع پر کنبہ کے لوگ اور یتیم اور مسکین آئیں تو اس مال میں سے ان کو بھی کچھ دو اور اُن کے ساتھ بھلے مانسوں کی سی بات کرو۔[13]{۸}</p>
<p> لوگوں کو اس بات کا خیال کرکے ڈرنا چاہئے کہ اگر وہ خود اپنے پیچھے بے بس اولاد چھوڑتے تو مرتے وقت انہیں اپنے بچوں کے حق میں کیسے کچھ اندیشے لاحق ہوتے ۔پس چاہیے کہ وہ اللہ کا خوف کریں اور راستی کی بات کریں ۔ {۹}</p>
<p>جو لوگ ظلم کے ساتھ یتیموں کے مال کھاتے ہیں درحقیقت وہ اپنے پیٹ آگ سے بھرتے ہیں اور وہ ضرور جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائیں [14]گے۔{۱۰}</p>
<p>تمہاری اولاد کے بارے میں اللہ تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ : مرد کا حصّہ دو عورتوں کے برابر [15]ہے۔اگر (میت کی وارث ) دو سے زائد لڑکیاں ہوں تو انہیں ترکے کا دوتہائی دیا جائے۔[16] اور اگر ایک ہی لڑکی وارث ہو تو آدھا تر کہ اس کا ہے ۔ اگر میت صاحب اولاد ہوتو اس کے والدین میں سے ہر ایک کوتر کے کا چھٹا حصّہ ملنا چاہیے۔[17] اور اگر وہ صاحب اولاد نہ ہو اور والدین ہی اس کے وارث ہوں تو ماں کو تیسرا حصّہ دیا جائے۔[18]  اور اگر میت کے بھائی بہن بھی ہوں تو ماں چھٹے حصہ کی حق دار ہوگی۔[19] (یہ سب حصّے اس وقت نکالے جائیں گے) جب کہ وصیت جو میت نے کی ہو پوری کردی جائے اور قرض جو اس پر ہو ادا کر دیا جائے۔[20]  تم نہیں جانتے کہ تمہارے ماں باپ اور تمہاری اولاد میں سے کون بلحاظِ نفع تم سے قریب تر ہے۔ یہ حصّے اللہ نے مقرر کردیے ہیں ، اور اللہ یقینا سب حقیقتوں سے واقف اور ساری مصلحتوں کا جاننے والا ہے۔[21] {۱۱}</p>
<p>اور تمہاری بیویوں نے جو کچھ چھوڑا ہو اس کا آدھا حصہ تمہیں ملے گا اگر وہ بے اولاد ہوں ، ورنہ اولاد ہونے کی صورت میں ترکہ کا ایک چوتھائی حصہ تمہارا ہے جبکہ وصیت جو انہوں نے کی ہو پوری کردی جائے، اور قرض جو اُنہو ں نے چھوڑا ہو ادا کردیا جائے ۔ اور وہ تمہارے ترکہ میں سے چوتھائی کی حقدار ہوں گی اگر تم بے اولادہو ، ورنہ صاحب اولاد ہونے کی صورت میں ان کا حصہ آٹھواں ہوگا ،[22] بعد اس کے کہ جو وصیت تم نے کی ہو وہ پوری کردی جائے، اور جو قرض تم نے چھوڑا ہو وہ ادا کردیا جائے ۔ اور اگر وہ مرد یا عورت ( جس کی میراث تقسیم طلب ہے ) بے اولاد بھی ہو اور اس کے ماں باپ بھی زندہ نہ ہوں ، مگر اس کا ایک بھائی یا ایک بہن موجود ہو تو بھائی اور بہن ہر ایک کو چھٹا حصّہ ملے گا ، اور بھائی بہن ایک  سے زیادہ ہوں تو کُل ترکہ کے ایک تہائی میں وہ سب شریک ہوں گے ،[23] جبکہ وصیت جو کی گئی ہو پوری کردی جائے ، اور قرض جو میّت نے چھوڑا ہو ادا کردیا جائے ، بشر طیکہ وہ ضرر رساں [24]نہ ہو ۔ یہ حکم ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ دانا و بینا اور نرم خو ہے۔[25]{ ۱۲}</p>
<p>یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں۔جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اُسے اللہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہے گا اور یہی بڑی کامیابی ہے۔{ ۱۳}</p>
<p>اور جو اللہ اور اس کے رسُول  ؐ کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز کرجائے گا اُسے اللہ آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے رسوا کُن سزا ہے۔[25a] { ۱۴}</p>
<p>تمہاری عورتوں میں سے جو بد کاری کی مرتکب ہوں اُن پر اپنے میں سے چار آدمیوں کی گواہی لو، اور اگر چار آدمی گواہی دے دیں تو ان کو گھروں میں بندر کھو یہاں تک کہ انہیں موت آجائے یا اللہ ان  کے لیے کوئی راستہ نکال دے۔ {۱۵}</p>
<p>اور تم میں سے جو اس فعل کا ارتکاب کریں ان دونوں کو تکلیف دو ، پھر اگر وہ توبہ کریں اور اپنی اصلاح کرلیں تو انہیں چھوڑدو کہ اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔[26]  {۱۶}</p>
<p> ہاں یہ جان لو کہ اللہ پر توبہ کی قبولیت کا حق انہی لوگوں  کے لیے ہے جونادانی کی وجہ سے کوئی بُرافعل کرگزرتے ہیں اور اس کے بعد جلدی ہی توبہ کرلیتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر اللہ اپنی نظر عنایت سے پھر متوجہ ہوجاتا ہے اور اللہ ساری باتوں کی خبر رکھنے والا اور حکیم و دانا ہے ۔ {۱۷}</p>
<p> مگر توبہ ان لوگوں کے لیے نہیں ہے جو برُے کام کئے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے اس وقت وہ کہتا ہے کہ اب میں نے توبہ کی۔ اور اسی طرح توبہ ان لوگوں  کے لیے بھی نہیں ہے جو مرتے دم تک کافررہیں ۔ ایسے لوگوں کے لیے توہم نے دردناک سزاتیار کررکھی ہے۔[27] {۱۸}</p>
<p>اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تمہارے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو۔[28] اور نہ یہ حلال ہے کہ انہیں تنگ کرکے اُس مہر کا کچھ حصہ اُڑالینے کی کوشش کرو جو تم انہیں دے چکے ہو ۔ ہاں اگر وہ کسی صریح بد چلنی کی مرتکب ہوں (توضرور تمہیں تنگ کرنے کا حق [29]ہے ) ۔ ان کے ساتھ بھلے طریقہ سے زندگی بسر کرو ۔اگر وہ تمہیں ناپسندہوں تو ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسندنہ ہو مگر اللہ نے اسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو۔[30]{۱۹}</p>
<p> اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دُوسری بیوی لے آنے کا ارادہ ہی کرلو تو خواہ تم نے اُسے ڈھیر سا مال ہی کیوں نہ دیا ہو ، اس میں سے کچھ واپس نہ لینا ۔ کیا تم اُسے بہتان لگاکر اور صریح ظلم کرکے واپس لوگے ؟{۲۰}</p>
<p> اور آخر تم اُسے کس طرح لے لوگے جب کہ تم ایک دوسرے سے لطف اندوز ہوچکے ہو اور وہ تم سے پختہ عہدلے چکی[31] ہیں ؟{۲۱}</p>
<p>اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کرچکے ہوں اُن سے ہر گز نکاح نہ کرو ، مگر جو پہلے ہوچکا سو[32] ہوچکا۔ درحقیقت یہ ایک بے حیائی کا فعل ہے،ناپسندیدہ ہے اوربراچلن ہے۔[33] { ۲۲}</p>
<p>تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں،[34]  بیٹیاں،[35] بہنیں،[36]پھوپھیاں ، خالائیں ، بھتیجیاں، بھانجیاں،[37] اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دُودھ پلایا ہو ، اور تمہاری دُودھ شریک بہنیں،[38] اور تمہاری بیویوں کی مائیں،[39] اور تمہاری بیویوں کی لڑکیاں جنہوں نے تمہاری گودوں میں پرورش پائی ہے۔[40] اُن بیویوں کی لڑکیاں جن سے تمہارا تعلق زن وشو ہوچکا ہو۔ ورنہ اگر (صرف نکاح ہوا ہو اور ) تعلق زن وشونہ ہوا ہو تو (انہیں چھوڑ کر ان کی لڑکیوں سے نکاح کرلینے میں ) تم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری صُلب سے ہوں[41]۔ اور یہ بھی تم پر حرام کیا گیا ہے کہ ایک نکاح میں دوبہنوں کو جمع کرو،[42]  مگر جو پہلے ہوگیا سو ہوگیا، اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔[43]{ ۲۳}</p>
<p>اور وہ عورتیں (محصنات ) بھی تم پر حرام ہیں جو کسی دوسرے کے نکاح میں ہوں ،البتہ ایسی عورتیں اس سے مستثنیٰ ہیں جو (جنگ میں) تمہارے ہاتھ آئیں ۔[44] یہ اللہ کا قانون ہے جس کی پابندی تم پر لازم کردی گئی ہے۔ ان کے ماسوا جتنی عورتیں ہیں انہیں اپنے اموال کے ذریعہ سے حاصل کرنا تمہارے لئے حلال کردیا گیا ہے ، بشر طیکہ حصارِ نکاح میں ان کو محفوظ کرو، نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو ۔پھر جو ازدو اجی زندگی کا لطف تم ان سے اٹھا ؤ اس کے بدلے ان کے مہربطور فرض کے ادا کرو، البتہ مہر کی قرار داد ہوجانے کے بعد آپس کی رضا مندی سے تمہارے درمیان اگر کوئی سمجھوتہ ہوجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ، اللہ علیم اور دانا ہے۔ { ۲۴}</p>
<p> اور جو شخص تم میں سے اتنی مقدرت نہ رکھتا ہو کہ خاندانی مسلمان عورتوں (محصنات ) سے نکاح کرسکے اسے چاہیے کہ تمہاری ان لونڈیوں میں سے کسی کے ساتھ نکاح کرلے جو تمہارے قبضے میں ہوں اور مومنہ ہوں۔ اللہ تمہارے ایمانوں کا حال خوب جانتا ہے ، تم سب ایک ہی گروہ کے لوگ ہو ،[45] لہٰذا اُن کے سرپرستوں کی اجازت سے ان کے ساتھ نکاح کرلو اور معروف طریقہ سے اُن کے مہر ادا کردو ،تا کہ وہ حصار نکاح میں محفوظ (محصنات) ہو کر رہیں ، آزاد شہوت رانی نہ کرتی پھریں اور نہ چوری چھپے آشنائیاں کریں، پھر جب وہ حصار نکاح میں محفوظ ہوجائیں اور اس کے بعد کسی بدچلنی کی مرتکب ہوں تو ان پر اس سزا کی بہ نسبت آدھی سزا ہے جو خاندانی عورتوں (محصنات ) کے لیے مقرر ہے،[46] یہ سہولت[47] تم میں سے ان لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے جن کو شادی نہ کرنے سے بندِ تقویٰ کے ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہو، لیکن اگر تم صبر کرو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اور اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے { ۲۵}</p>
<p>اللہ چاہتا ہے کہ تم پراُن طریقوں کو واضح کرے اور اُنہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صُلحاء کرتے تھے ، وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجہ ہونے کا ارادہ  رکھتا ہے، اور وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی ۔[48]{۲۶}</p>
<p>ہاں ، اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کررہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دُور نکل جا ؤ۔[49] {۲۷}</p>
<p> اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے ۔{۲۸}</p>
<p>اے لوگوجو ایمان لائے ہو! آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھا ؤ ، لین دین ہونا چاہیے آپس کی رضا مندی سے[50] اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ [51] یقین مانو کہ اللہ تمہارے اُوپر مہربان ہے ۔[52]{۲۹}</p>
<p>جوشخص ظلم وزیادتی کے ساتھ ایسا کرے گا اُس کو ہم ضرور آگ میں جھونکیں گے اور یہ اللہ کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔{۳۰}</p>
<p> اگر تم اُن بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے رہو جن سے تمہیں منع کیا جارہا ہے تو تمہاری چھوٹی موٹی برائیوں کو ہم تمہارے حساب سے ساقط کردیں [53]گے اور تم کو عزت کی جگہ داخل کریں گے۔{۳۱}</p>
<p>اور جوکچھ اللہ نے تم میں سے کسی کو دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ دیا ہے اس کی تمنا نہ کرو۔ جو کچھ مردوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ہے اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ۔ ہاں اللہ سے اس کے فضل کی دعا مانگتے رہو ، یقینا اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے ۔[54]{ ۳۲}</p>
<p>اور ہم نے ہر اُس ترکے کے حق دار مقرر کردیے ہیں جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑیں ۔اب رہے وہ لوگ جن سے تمہارے عہدوپیمان ہوں تو ان کا حصہ انہیں دو ، یقینا اللہ ہر چیز پر نگراں ہے۔ [55]{ ۳۳}</p>
<p>مرد عورتوں پر قوّام ہیں۔[56] اس بنا پر کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت[57] دی ہے ، اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔ پس جو صالح عورتیں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں اور مردوں کے پیچھے اللہ کی حفاظت و نگرانی میں ان کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں۔[58] اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہوا نہیں سمجھا ؤ ، خواب گاہوں میں ان سے علیٰحدہ رہو اور مارو،[59]پھر اگر وہ تمہاری مطیع ہوجائیں تو خواہ مخواہ ان پردست درازی کے لیے بہانے تلاش نہ کرو ، یقین رکھو کہ اوپر اللہ موجود ہے جو بڑا اور بالاتر ہے ۔{ ۳۴}</p>
<p>اور اگر تم لوگوں کو کہیں میاں اور بیوی کے تعلقات بگڑ جانے کا اندیشہ ہو تو ایک حکم مرد کے رشتہ داروں میں سے اور ایک عورت کے رشتہ داروں میں سے مقرر کرو ، وہ دونوں اصلاح [60]کرنا چاہیں گے تو اللہ اُن کے درمیان موافقت کی صورت نکال دے گا، اللہ سب کچھ جانتا ہے اور باخبر ہے۔[61] {۳۵}</p>
<p>اور تم سب اللہ کی بندگی کرو ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنا ؤ، ماں باپ کے ساتھ نیک برتا ؤ کرو ، قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حُسن سلوک سے پیش آ ؤ ، اور پڑوسی رشتہ دار سے ، اجنبی ہمسایہ سے ، پہلو کے [62]ساتھی اور مسافر سے ، اور اُن لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضہ میں ہوں، احسان کا معاملہ رکھو ، یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کرے{۳۶}</p>
<p> اور ایسے لوگ بھی اللہ کو پسند نہیں ہیں جو کنجوسی کرتے ہیں اور دُوسروں کو بھی کنجوسی کی ہدایت کرتے ہیں اور جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے اُسے چھپاتے ہیں ۔[63] ایسے کافرِ نعمت لوگوں کے لیے ہم نے رسُواکُن عذاب مہیا کررکھا ہے۔ {۳۷}</p>
<p> اور وہ لوگ بھی اللہ کو ناپسند ہیں جو اپنے مال محض لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں اور درحقیقت نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ روز آخر پر ۔ سچ یہ ہے کہ شیطان جس کا رفیق ہو اُسے بہت ہی بُری رفاقت میسر آئی ۔{۳۸}</p>
<p> آخر ان لوگوں پر کیا آفت آجاتی اگر یہ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے اور جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے۔ اگر یہ ایسا کرتے تو اللہ سے ان کی نیکی کا حال چھپا نہ رہ جاتا۔{۳۹}</p>
<p>اللہ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا۔ اگر کوئی ایک نیکی کرے تو اللہ اسے دو چند کرتا ہے اور پھر اپنی طرف سے بڑا اجر عطا فرماتا ہے۔ {۴۰}</p>
<p>پھر سو چو کہ اس وقت یہ کیا کریں گے جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور ان لوگوں پر تمہیں ( یعنی محمد صلے اللہ علیہ وسلم کو ) گواہ کی حیثیت سے کھڑا کریں [64]گے۔{۴۱}</p>
<p>اُس وقت وہ سب لوگ جنہوں نے رسول کی بات نہ مانی اور اس کی نافرمانی کرتے رہے ، تمنا کریں گے کہ کاش زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سماجائیں ۔ وہاں یہ اپنی کوئی بات اللہ سے نہ چھپا سکیں گے۔{ ۴۲}</p>
<p>اے لوگوجو ایمان لائے ہو ! جب تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب[65] نہ جا ؤ۔ نماز اس وقت پڑھنی چاہیے جب تم جانو کہ کیا کہہ رہے ہو،[66]  اور اسی طرح جنابت [67]کی حالت میں بھی نماز کے قریب نہ جا ؤ جب تک غسل نہ کرلو ، اِلاّیہ کہ راستہ  سے گزرتے ہو۔[68] اور اگر کبھی ایسا ہو کہ تم بیمار ہو ، یا سفر میں ہو ، یاتم میں سے کوئی شخص رفع حاجت کرکے آئے ، یاتم نے عورتوں سے لمس کیاہو،[69]اور پھر پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے کام لو اور اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کرلو،[70]  بے شک اللہ نرمی سے کام لینے والا اور بخشش فرمانے والا ہے۔{ ۴۳}</p>
<p> تم نے ان لوگوں کو بھی دیکھا جنہیں کتاب کے علم کا کچھ حصہ دیا گیا [71]ہے ؟ وہ خود ضلالت کے خریدار بنے ہوئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راہ گم کردو۔ {۴۴}</p>
<p> اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے اور تمہاری حمایت ومددگاری کے لیے اللہ ہی کافی ہے ۔ {۴۵}</p>
<p> جن لوگوں نے یہودیت کا طریقہ اختیار کیا ہے[72] اُن میں کچھ لوگ ہیں جو الفاظ کو ان کے محل سے پھیر دیتے ہیں،[73]اور دین حق کے خلاف  نیش زنی کرنے کے لیے  اپنی زبانوں کو توڑ موڑ کر کہتے ہیں سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا [74]اور اِسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ [75]اور  رَاعِنَا [76]حالانکہ اگروہ کہتے  سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا  اور  اِسْمَعْ  اور اُنْظُرْنَا،  تو یہ انہی کے لیے بہتر تھا اور زیادہ راست بازی کا طریقہ تھا ۔ مگر اُن پر تواُن کی باطل پرستی کی بدو لت اللہ کی پھٹکارپڑی ہوئی ہے ، اس لیے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں۔{۴۶}</p>
<p>اے وہ لوگو جنہیں کتاب دی گئی تھی ! مان لو اس کتاب کو جو ہم نے اب نازل کی ہے اور جو اُس کتاب کی تصدیق و تائید کرتی ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود [77]تھی ۔ اس پر ایمان لے آ ؤ قبل اس کے کہ ہم چہرے بگاڑ کر پیچھے پھیردیں یا اُن کو اسی طرح لعنت زدہ کردیں جس طرح سَبْت والوں کے ساتھ ہم نے کیا تھا ،[78] اور یاد رکھو کہ اللہ کا حکم نافذ ہو کر رہتا ہے۔{۴۷}</p>
<p> اللہ بس شرک ہی کو معاف نہیں[79] کرتا ، اس کے ماسوا دوسرے جس قدر گناہ ہیں، وہ جس کے لیے چاہتا ہے معاف کردیتا [80] ہے ۔ اللہ کے ساتھ جس نے کسی اور کو شریک ٹھہرایا اس نے تو بہت ہی بڑا جھوٹ تصنیف کیا اور بڑے سخت گناہ کی بات کی ۔{۴۸}</p>
<p>تم نے اُن لوگوں کو بھی دیکھا جو اپنی پاکیزگیٔ نفس کا بہت دم بھرتے ہیں ؟ حالانکہ پاکیزگی تو اللہ ہی جسے چاہتا ہے عطاکرتا ہے اور ( انہیں جو پاکیزگی نہیں ملتی تودرحقیقت ) ان پرذرہ برابر ظلم نہیں کیا جاتا {۴۹}</p>
<p> دیکھو تو سہی ، یہ اللہ پر بھی جھوٹے افتر اگھڑنے سے نہیں چوکتے اور ان کے صریحًاگناہ گار ہونے کے لیے یہی ایک گناہ کافی ہے۔{۵۰}</p>
<p>کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کے علم میں سے کچھ حصہ دیا گیا ہے اوراُ ن کا حال یہ ہے کہ جِبت[81] اور طاغوت[82] کو مانتے ہیں اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں سے تویہی زیادہ صحیح راستے پر ہیں۔[83] {۵۱}</p>
<p> ایسے ہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس پر اللہ لعنت کردے پھر تم اس کا کوئی مددگار نہیں پا ؤ گے۔{ ۵۲}</p>
<p> کیا حکومت میں اُن کا کوئی حصّہ ہے ؟ اگر ایسا ہوتا تو یہ دوسروں کو ایک پھوٹی کوڑی تک نہ دیتے۔[84]{ ۵۳}</p>
<p> پھر کیا یہ دُوسروں سے اس لیے حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے نوازدیا ؟[85] اگر یہ بات ہے تو انہیں معلوم ہو کہ ہم نے تو ابراہیم ؑ کی اولاد کوکتاب اور حکمت عطا کی اور ملکِ عظیم بخش دیا [86]{۵۴}</p>
<p> مگر ان میں سے کوئی اس پر ایما ن لایا اور کوئی اس سے منھ موڑگیا [87]، اور منھ موڑنے والوں کے لیے تو بس جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے۔{۵۵}</p>
<p> جن لوگوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کردیا ہے انہیں بالیقین ہم آگ میں جھونکھیں گے اور جب ان کے بدن کی کھال گل جائے گی تو اس کی جگہ دُوسری کھال پیدا کردیں گے تا کہ وہ خوب عذاب کا مزا چکھیں ، اللہ بڑی قدرت رکھتا ہے اور اپنے فیصلوں کو عمل میں لانے کی حکمت خوب جانتا ہے ۔{۵۶}</p>
<p> اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو مان لیا اور نیک عمل کئے اُن کو ہم ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ، جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور ان کو پاکیزہ بیویاں ملیں گی اور انہیں ہم گھنی چھا ؤں میں رکھیں گے۔ {۵۷}</p>
<p>مسلمانو !اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو ، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو،[88] اللہ تم کو نہایت عمدہ نصیحت کرتا ہے اوریقینًااللہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے۔{۵۸}</p>
<p> اے لوگوجو ایمان لائے ہو ! اطاعت کرو اللہ کی، اطاعت کرو رسو ل  ؐکی اور اُن لوگوں کی جوتم میں سے صاحب امرہوں ، پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہوجائے تو اسے اللہ اور رسُول  ؐکی طرف پھیردو [89]اگر تم واقعی اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو ۔ یہی ایک صحیح طریقِ کارہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے ۔[90]{۵۹}</p>
<p>اے نبی  ؐ! تم نے دیکھا نہیں اُن لوگوں کو جو دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اس کتاب پر جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور اُن کتابوں پر جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں ، مگر چاہتے یہ ہیں کہ اپنے معاملات کا فیصلہ کرنے کے لیے طاغوت کی طرف رجوع کریں، حالانکہ انہیں طاغوت سے کفر کرنے کا حکم دیا گیا  تھا[91]۔ شیطان انہیں بھٹکاکرراہ راست سے بہت دور لے جانا چاہتا ہے ۔{۶۰}</p>
<p> اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آ ؤ اس چیز کی طرف جو اللہ نے نازل کی ہے اور آ ؤ رسُول  ؐ کی طرف تو ان منافقوں کو تم دیکھتے ہو کہ یہ تمہاری طرف آنے سے کتراتے ہیں ۔[92]{۶۱}</p>
<p> پھر اُس وقت کیا ہوتا ہے جب ان کے اپنے ہاتھوں کی لائی ہوئی مصیبت ان پر آپڑتی ہے ؟ اُس وقت یہ تمہارے پاس قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں[93] اور کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ہم تو صرف بھلائی چاہتے تھے اور ہماری نیت تو یہ تھی کہ فریقین میں کسی طرح موافقت ہوجائے۔ { ۶۲}</p>
<p> اللہ جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے ، ان سے تعرض مت کرو ، انہیں ، سمجھا ؤ اور ایسی نصیحت کرو جو ان کے دلوں میں اُتر جائے۔{ ۶۳}</p>
<p>( انہیں بتا ؤ کہ ) ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اسی لئے بھیجا ہے کہ اذنِ الہٰی کی بنا پر اس کی اطاعت کی جائے۔[94] اگر انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیاہوتا کہ جب یہ اپنے نفس پر ظلم کر بیٹھے تھے تو تمہارے پاس آجاتے اور اللہ سے معافی مانگتے اور رسولؐ بھی ان کے لیے معافی کی درخواست کرتا ،تو یقینًا اللہ کو بخشنے والا اور رحم کرنے والا پاتے۔ {۶۴}</p>
<p> نہیں ،( اے محمد ؐ!) تمہارے رَبّ کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں ، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں ، بلکہ سربسر تسلیم کرلیں[95]۔ {۶۵}</p>
<p>اگر ہم نے انہیں حکم دیا ہوتا کہ اپنے آپ کو ہلاک کردو یا اپنے گھروں سے نکل جا ؤ تو ان میں سے کم ہی آدمی اس پر عمل کرتے۔ [96]حالانکہ جو نصیحت انہیں کی جاتی ہے اگر یہ اس پر عمل کرتے تو یہ ان کے لیے زیادہ بہتری اور زیادہ ثابت قدمی کاموجب [97]ہوتا{۶۶}</p>
<p>اور جب یہ ایسا کرتے تو ہم انہیں اپنی طرف سے بہت بڑا اجردیتے {۶۷}</p>
<p> اور انہیں سیدھا راستہ دکھادیتے ۔[98]{۶۸}</p>
<p>جو لوگ اللہ اور رسُول  ؐ کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے یعنی  انبیاء ؑاور صدیقینؒ اور شہداءؒ ، اور صالحینؒ۔[99] کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں ۔[100]{۶۹}</p>
<p> یہ حقیقی فضل ہے جو اللہ کی طرف سے ملتا ہے اور حقیقت جاننے کے لیے بس اللہ ہی کا علم کافی ہے ۔{ ۷۰}</p>
<p>  اے لوگو جو ایمان لائے ہو !مقابلے کے لیے ہر وقت تیار رہو ،[101] پھر جیسا موقع ہو الگ الگ دستوں کی شکل میں نکلویا اکٹھے ہوکر۷  {۷۱}</p>
<p>ہاں ، تم میں کوئی آدمی ایسا بھی ہے جو لڑائی سے جی چراتا ہے ،[102] اگر تم پر کوئی مصیبت آئے تو کہتا ہے اللہ نے مجھ پر بڑافضل کیا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ نہ گیا {۷۲}</p>
<p> اور اگر اللہ کی طرف سے تم پر فضل ہو تو کہتا ہے اور اس طرح کہتا ہے کہ گویا تمہارے اور اس کے درمیان محبت کاتو کوئی تعلق تھاہی نہیں کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو بڑا کام بن جاتا ۔{ ۷۳}</p>
<p> (ایسے لوگوں کو معلو م ہو کہ ) اللہ کی راہ میں لڑنا چاہیے ان لوگوں کو جو آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی کو فروخت کردیں ،[103] پھر جو اللہ کی راہ میں لڑے گا اور ماراجائے گا یا غالب رہے گا اسے ضرور ہم اجر عظیم عطا کریں گے۔{ ۷۴}</p>
<p> آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بے بس مردوں ، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پاکر دبالئے گئے ہیں اور فریاد کررہے ہیں کہ اے ہمارے رَبّ !ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں ، اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مددگار پیدا کردے۔ [104]{۷۵}</p>
<p>جن لوگوں نے ایمان کا راستہ اختیار کیا ہے ، وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جنہوں نے کفر کاراستہ اختیار کیا ہے ، وہ طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں ،[105] پس شیطان کے ساتھیوں سے لڑو اور یقین جانو کہ شیطان کی چالیں حقیقت میں نہایت کمزور ہیں۔{۷۶}</p>
<p>تم نے اُن لوگوں کو بھی دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھواور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو؟ اب جو انہیں لڑائی کا حکم دیا گیا تو ان میں سے ایک فریق کا حال یہ ہے کہ لوگوں سے ایسا ڈر رہے ہیں جیسا اللہ سے ڈرنا چاہئے یا کچھ اس سے بھی بڑھ [107]کر۔ کہتے ہیں اے رَبّ ! یہ ہم پر لڑائی کا حکم کیوں لکھ دیا ؟ کیوں نہ ہمیں ابھی کچھ اور مہلت دی ؟ ان سے کہو ،دنیا کا سرمایۂ زندگی تھوڑا ہے ، اور آخرت، متقی و پرہیز گار انسان کے لیے زیادہ بہتر ہے، اور تم پر ظلم ایک شمہّ برابر بھی نہ کیا[108] جائے گا ۔ {۷۷}</p>
<p> رہی موت ، تو جہاں بھی تم ہو وہ بہرحال تمہیں آکر رہے گی خواہ تم کیسی ہی مضبوط عمارتوں میں ہو۔اگر انہیں کو ئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں ۔یہ اللہ کی طرف سے ہے ،اور اگر کوئی نقصان پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ اے نبی  ؐ!یہ آپ  ؐکی بدولت [109]ہے ۔ کہو،سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے ۔آخر ان لوگوں کو کیا ہوگیاہے کہ کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔ {۷۸}</p>
<p> اے انسان! تجھے جو بھلائی بھی حاصل ہوتی ہے اللہ کی عنایت سے ہوتی ہے، اور جومصیبت تجھ پرآتی ہے وہ تیرے اپنے کسب و عمل کی بدولت ہے ۔ اے نبی  ؐ! ہم نے تم کو لوگوں کے لیے رسول بناکر بھیجا ہے اور اس پر اللہ کی گواہی کافی ہے۔{۷۹}</p>
<p> جس نے رسول  ؐکی اطاعت کی اس نے دراصل اللہ کی اطاعت کی۔ اور جو منھ ، موڑگیا ، تو بہرحال ہم نے تمہیں ان لوگوں پر پاسبان بناکر تونہیں بھیجا ہے۔[110]{۸۰}</p>
<p>وہ منھ پرکہتے ہیں کہ ہم مطیعِ فرمان ہیں۔ مگر جب تمہارے پاس سے نکلتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ راتوں کو جمع ہوکر تمہاری باتوں کے خلاف مشورے کرتا ہے ۔ اللہ ان کی یہ ساری سرگوشیاں لکھ رہا ہے ۔ تم ان کی پروانہ کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو ، وہی بھروسہ کے لیے کافی ہے ۔{۸۱}</p>
<p> کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے ؟ اگر یہ اللہ کے سواکسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت کچھ اختلاف بیانی پائی جاتی۔[111] {۸۲}</p>
<p>یہ لوگ جہاں کوئی اطمینان بخش یا خوفناک خبر سن پاتے ہیں اُسے لے کر پھیلادیتے ہیں ،حالانکہ اگر یہ اُسے رسُول  ؐاور اپنی جماعت کے ذمہّ دار اصحاب تک پہنچائیں تو وہ ایسے لوگوں کے علم میں آجائے جو اِن کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اُس سے صحیح نتیجہ اخذکر سکیں[112]  تم لوگوں پر اللہ کی مہربانی اور رحمت نہ ہوتی تو( تمہاری کمزوریاں ایسی تھیں کہ) معدودے چند کے سوا تم سب شیطان کے پیچھے لگ گئے ہوتے۔ {۸۳}</p>
<p>پس (اے نبی  ؐ!) تم اللہ کی راہ میں لڑو ، تم اپنی ذات کے سواکسی اور کے لیے ذمہ دار نہیں ہو ۔ البتہ اہل ایمان کو لڑنے کے لیے اُکسا ؤ ، بعید نہیں کہ اللہ کافروں کا زور توڑ دے ، اللہ کا زور سب سے زیادہ زبردست اور اس کی سزا سب سے زیادہ سخت ہے ۔{۸۴}</p>
<p>جو بھلائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا[113] اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا ،اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے۔{۸۵}</p>
<p>اور جب کوئی احترام کے ساتھ تمہیں سلام کرے تو اس کو اس سے بہتر طریقے کے ساتھ جواب دو یا کم از کم اسی طرح [114]، اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔ {۸۶}</p>
<p>اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں ہے ، وہ تم سب کو اس قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں ، اور اللہ کی بات سے بڑھ کر سچی بات اور کس کی ہوسکتی ہے۔ [115]</p>
<p>پھر یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ منافقین کے بارے میں تمہارے درمیان دور ائیں پائی جاتی ہیں ،[116] حالانکہ جو بُرائیاں انہوں نے کمائی ہیں ان کی بدولت اللہ انہیں اُلٹا پھیر چکا ہے ۔[117]کیا تم چاہتے ہو کہ جسے اللہ نے ہدایت نہیں بخشی اسے تم ہدایت بخش دو ؟ حالانکہ جس کو اللہ نے راستے سے بھٹکا دیا اس کے لیے تم کوئی راستہ نہیں پاسکتے ۔ {۸۸}</p>
<p>وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ خود کافر ہیں اسی طرح تم بھی کافر ہو جا ؤ تا کہ تم اور وہ سب یکساں ہوجائیں۔ لہٰذا ان میں سے کسی کو اپنا دوست نہ بنا ؤ جب تک کہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرکے نہ آجائیں ، اور اگر وہ ہجرت سے بازرہیں تو جہاں پا ؤ انہیں پکڑو اور قتل کرو[118] اور ان میں سے کسی کو اپنا دوست اور مددگار نہ بنا ؤ ۔{۸۹}</p>
<p> البتہ وہ منافق اس حکم سے مستثنیٰ ہیں جو کسی ایسی قوم سے جا ملیں جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ  [119]ہے۔ اسی طرح وہ منافق بھی مستثنیٰ ہے جو تمہار ے پاس آتے ہیں اور لڑائی سے دل برداشتہ ہیں،نہ تم سے لڑنا چاہتے ہیں نہ اپنی قوم سے ۔ اللہ چاہتاتو ان کو تم پر مسلط کردیتا اور وہ بھی تم سے لڑتے۔لہٰذا اگر وہ تم سے کنارہ کش ہوجائیں اور لڑنے سے باز رہیں اور تمہاری طرف صلح اور آشتی کا ہاتھ بڑھائیں تو اللہ نے تمہارے لیے ان پر دست درازی کی کوئی سبیل نہیں رکھی ہے ۔ {۹۰}</p>
<p>ایک اور قسم کے منافق تمہیں ایسے ملیں گے جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی،مگر جب کبھی فتنہ کاموقع پائیں گے اس میں کود پڑیں گے ۔ ایسے لوگ اگر تمہارے مقابلہ سے باز نہ رہیں اور صلح و سلامتی تمہارے آگے پیش نہ کریں اوراپنے ہاتھ نہ روکیں تو جہاں وہ ملیں انہیں پکڑو اور مارو ، ان پر ہاتھ اٹھانے کے لیے ہم نے تمہیں کھلی حجت دے دی ہے۔{۹۱}</p>
<p>کسی مومن کا یہ کام نہیں ہے کہ دوسرے مومن کو قتل کرے ، اِلاّیہ کہ اُس سے چُوک ہوجائے[120]۔ اور جو شخص کسی مومن کو غلطی سے قتل کردے تو اس کاکفارہ یہ ہے کہ ایک مومن کو غلامی سے آزاد کر ے [121]اور مقتول کے وارثوں کو خوں بہادے،[122] اِ لاّیہ کہ وہ خوں بہا معاف کردیں۔ لیکن اگر وہ مسلمان مقتول کسی ایسی قوم سے تھا جس سے تمہاری دشمنی ہو تو اس کا کَفّارہ ایک مومن غلام آزاد کرنا ہے اور اگر وہ کسی ایسی غیر مسلم قوم کا فرد تھا جس سے تمہارا معاہدہ ہو تو اس کے وارثوں کو خُوں بہاد یا جائے گا اور ایک مومن غلام کو آزاد کرنا ہوگا۔[123]پھر جو غلام نہ پائے وہ پے درپے دو مہینے کے روزے رکھے۔[124] یہ اِس گناہ پر اللہ سے توبہ کرنے کا طریقہ ہے[125] اور اللہ علیم ودانا ہے۔ { ۹۲}</p>
<p>رہا وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اُس کی جزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ۔ اُس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے سخت عذاب مہیّا کررکھا ہے۔{ ۹۳}</p>
<p>اے لوگوجو ایمان لائے ہو !جب تم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلو تو دوست اوردشمن میں تمیز کرو اور جو تمہاری طرف سلام سے تقدیم کرے اُسے فورًا نہ کہدو کہ تو مومن نہیں ہے۔[126] اگر تم دُنیوی فائدہ چاہتے ہو تو اللہ کے پاس تمہارے لئے بہت سے اموال ِغنیمت ہیں ۔ آخر اسی حالت میں تم خود بھی تو اس سے پہلے مبتلا رہ چکے ہو ، پھر اللہ نے تم پر احسان کیا ،[127] لہٰذا تحقیق سے کام لو ، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُس سے باخبر ہے۔{ ۹۴}</p>
<p>مسلمانوں میں سے وہ لوگ جو کسی معذوری کے بغیر گھر بیٹھے رہتے ہیں اور وہ جو اللہ کی راہ میں جان ومال سے جہاد کرتے ہیں ، دونوں کی حیثیت یکساں نہیں ہے۔اللہ نے بیٹھنے والوں کی بہ نسبت جان و مال سے جہاد کرنے والوں کا درجہ بڑا رکھا ہے ۔ اگر چہ ہر ایک کے لیے اللہ نے بھلائی ہی کا وعدہ فرمایا ہے ، مگر اس کے ہاں مجاہدوں کی خدمات کا معاوضہ بیٹھنے والوں سے بہت زیادہ ہے[128]{۹۵}</p>
<p>اُن کے لیے اللہ کی طرف سے بڑے درجے ہیں اور مغفرت اور رحمت ہے ، اور اللہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔{۹۶}</p>
<p>جو لوگ اپنے نفس پر ظلم کررہے [129] تھے اُن کی رُوحیں جب فرشتوں نے قبض کیں تو اُن سے پوچھا کہ یہ تم کس حال میں مبتلا تھے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم زمین میں کمزور و مجبور تھے ۔ فرشتوں نے کہا ، کیا اللہ کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے ؟ [130]یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے ،اور وہ بڑا ہی برُاٹھکانا ہے ۔ {۹۷}</p>
<p>ہاں جو مرد ، عورتیں اور بچے واقعی بے بس ہیں اور نکلنے کا کوئی راستہ اور ذریعہ نہیں پاتے{۹۸}</p>
<p> بعید نہیں کہ اللہ انہیں معاف کردے ۔ اللہ بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے۔ {۹۹}</p>
<p> جو کوئی اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں پناہ لینے کے لیے بہت جگہ اور بسراوقات کے لیے بڑی گنجائش پائے گا ،اور جو اپنے گھر سے اللہ اور رسُول  ؐ کی طرف ہجرت کے لیے نکلے ، پھر راستے ہی میں اسے موت آجائے اس کا اجر اللہ کے ذمے واجب ہوگیا ، اللہ بہت بخشش فرمانے والا اور رحیم ہے۔[131]{۱۰۰}</p>
<p>اور جب تم لوگ سفر کے لیے نکلو تو کوئی مضائقہ نہیں اگر نماز میں اختصار کردو [132] (خصوصًا)  جبکہ تمہیں اندیشہ ہوکہ کافر تمہیں ستائیں گے[133] کیونکہ وہ کھلم کھلا تمہاری دُشمنی پر تُلے ہوئے ہیں۔{۱۰۱}</p>
<p>اور اے نبی  ؐ! جب تم مسلمانوں کے درمیان ہو اور (حالت جنگ میں ) انہیں نماز پڑھانے کھڑے [134]ہو تو چاہیے کہ ان میں[135] سے ایک گروہ تمہارے ساتھ کھڑا ہو اور اپنے اسلحہ لئے رہے ، پھر جب وہ سجدہ کرلے تو پیچھے چلا جائے اور دوسرا گروہ جس نے ابھی نماز نہیں پڑھی ہے آکر تمہارے ساتھ پڑھے اور وہ بھی چوکنار ہے اور اپنے اسلحہ لئے [136]رہے ، کیونکہ کفار اس تاک میں ہیں کہ تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے سامان کی طرف سے ذرا  غافل ہو تو وہ تم پر یک بار گی ٹوٹ پڑیں۔ البتہ اگر تم بارش کی وجہ سے تکلیف محسوس کرویا بیمار ہو تو اسلحہ رکھ دینے میں مضائقہ نہیں ، مگر پھر بھی چوکنے رہو۔ یقین رکھو کہ اللہ نے کافروں کے لیے رسُواکُن عذاب مہیا کر رکھا ہے ۔[137]{ ۱۰۲}</p>
<p>پھر جب نماز سے فارغ ہو جا ؤ تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ، ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے رہو ۔ اور جب اطمینان نصیب ہوجائے تو پوری نماز پڑھو ۔نماز درحقیقت ایسا فرض ہے جو پابندیٔ وقت کے ساتھ اہل ایمان پر لازم کیا گیا ہے۔ { ۱۰۳}</p>
<p>اس گروہ [138]کے تعاقب میں کمزوری نہ دکھا ؤ۔ اگر تم تکلیف اٹھارہے ہو تو تمہاری طرح وہ بھی تکلیف اٹھارہے ہیں ۔ اور تم اللہ سے اُس  چیز کے امید وار ہو جس کے وہ اُمیدوار نہیں ہیں۔[139]اللہ سب کچھ جانتا ہے اور وہ حکیم و دانا ہے ۔{ ۱۰۴}</p>
<p> (اے نبی  ؐ !) [140]ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ جو راہ راست اللہ نے تمہیں دکھائی ہے اس کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو ۔تم بددیانت لوگوں کی طرف سے جھگڑنے والے نہ بنو۔{۱۰۵}</p>
<p> اور اللہ سے درگزر کی درخواست کرو، وہ بڑا در گزر فرمانے والا اور رحیم ہے ۔ {۱۰۶}</p>
<p>جو لوگ اپنے نفس سے خیانت کرتے ہیں [141]تم اُن کی حمایت نہ کرو۔ اللہ کو ایسا شخص پسند نہیں ہے جو خیانت کار اور معصیت پیشہ ہو۔{۱۰۷}</p>
<p> یہ لوگ انسانوں سے اپنی حرکات چھپا سکتے ہیں مگراللہ سے نہیں چھپاسکتے۔ وہ تو اُس وقت بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے جب یہ راتوں کو چھپ کر اُس کی مرضی کے خلاف مشورے کرتے ہیں ۔ ان کے سارے اعمال پر اللہ محیط ہے ۔{۱۰۸}</p>
<p> ہاں تم لوگوں نے ان مجرموں کی طرف سے دنیا کی زندگی میں تو جھگڑا کرلیا ، مگر قیامت کے روز ان کے لیے اللہ سے کون جھگڑا کرے گا ؟ آخر وہاں کو ن ان کا وکیل ہوگا ؟{۱۰۹}</p>
<p> اگر کوئی شخص برا فعل کر گزرے یا اپنے نفس پر ظلم کر جائے اور اس کے بعد اللہ سے در گزر کی درخواست کرے تواللہ کو در گزر کرنے والا اور رحیم پائے گا ۔{ ۱۱۰}</p>
<p> مگر جو برائی کمالے تو اس کی یہ کمائی اُسی کے لیے وبال ہوگی ، اللہ کو سب باتوں کی خبر ہے اور وہ حکیم و دانا ہے۔{۱۱۱}</p>
<p> پھر جس نے کوئی خطایا گناہ کرکے اس کا الزام کسی بے گناہ پر تھوپ دیا اس نے تو بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بارسمیٹ لیا۔ { ۱۱۲}</p>
<p> (اے نبی  ؐ! ) اگر اللہ کا فضل تم پر نہ ہوتا اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی تو ان میں سے ایک گروہ نے تو تمہیں غلط فہمی میں مبتلا کرنے کا فیصلہ کرہی لیاتھا ، حالانکہ درحقیقت وہ خود اپنے سواکسی کو غلط فہمی میں مبتلا نہیں کررہے تھے اور تمہارا کوئی نقصان نہ کرسکتے تھے۔[142] اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت نازل کی ہے اور تم کو وہ کچھ بتایا ہے جو تمہیں معلوم نہ تھا ، اور اس کا فضل تم پر بہت ہے ۔{ ۱۱۳}</p>
<p>لوگوں کی خفیہ سرگوشیوں میں اکثر وبیشتر کوئی بھلائی نہیں ہوتی۔ہاں اگر کوئی پوشیدہ طور پر صدقہ و خیرات کی تلقین کرے یا کسی نیک کام کے لیے یا لوگوں کے معاملات میں اصلاح کرنے کے لیے کسی سے کچھ کہے تو یہ البتہ بھلی بات ہے ، اور جو کوئی اللہ کی رضا جوئی کے لیے ایسا کرے گا، اسے ہم بڑا اجر عطاکریں گے۔ {۱۱۴}</p>
<p> مگر جو شخص رسول  ؐکی مخالفت پر کمربستہ ہو اور اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلے ، درآں حالیکہ اس پرراہ راست واضح ہوچکی ہو ، تو اُس کو ہم اُسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا [143]اور اسے جہنم میں جھونکیں گے جوبدترین جائے قرار ہے۔{۱۱۵}</p>
<p>اللہ کے ہاں[144] بس شرک ہی کی بخشش نہیں ہے ، اسکے سوا اور سب کچھ معاف ہوسکتا ہے جسے وہ معاف کرنا چاہے ۔ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرایا وہ تو گمراہی میں بہت دور نکل گیا۔{۱۱۶}</p>
<p> وہ اللہ کو چھوڑ کر دیویوں کو معبُود بناتے ہیں۔ وہ اس باغی شیطان کو معبود بناتے ہیں [145]{۱۱۷}</p>
<p>جس کو اللہ نے لعنت زدہ کیا ہے۔ ( وہ اُس شیطان کی اطاعت کررہے ہیں) جس نے اللہ سے کہا تھا کہ: ’’ میں تیرے بندوں سے ایک مقرر حصّہ لے کر رہوں  گا [146]{۱۱۸}</p>
<p> میں انہیں بہکا ؤں گا ، میں انہیں آرزو ؤں میں الجھا ؤں گا میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے جانوروں کے کان پھاڑیں گے[147] اور میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے اللہ کی بنائی ہوئی ساخت میں ردّو بدل کریں گے‘‘[148] اس شیطان کو جس نے اللہ کے بجائے اپنا ولی و سرپرست بنالیا وہ صریح نقصان میں پڑگیا۔ {۱۱۹}</p>
<p> وہ ان لوگوں سے وعدے کرتا ہے اور انہیں امیدیں دلاتا ہے ،[149] مگر شیطان کے سارے وعدے بجز فریب کے اور کچھ نہیں ہیں۔{۱۲۰}</p>
<p> اِن لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے جس سے خلاصی کی کوئی صورت یہ نہ پائیں گے ۔{۱۲۱}</p>
<p> رہے وہ لوگ جو ایمان لے آئیں اور نیک عمل کریں ، تو انہیں ہم ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کا سچّاوعدہ ہے اور اللہ سے بڑھ کر کون اپنی بات میں سچا ہوگا۔ { ۱۲۲}</p>
<p>انجام کا رنہ تمہاری آرزو ؤں پر موقوف ہے نہ اہلِ کتاب کی آرزو ؤں پر ۔جو بھی برائی کرے گا اس کا پھل پائے گا اور اللہ کے مقابلے میں اپنے لئے کوئی حامی و مددگار نہ پاسکے گا۔{ ۱۲۳}</p>
<p>اور جو نیک عمل کرے گا ، خواہ مرد ہو یا عورت ، بشرطیکہ ہووہ مومن ، تو ایسے ہی لوگ جنّت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرہ برابر حق تلفی نہ ہونے پائے گی ۔{ ۱۲۴}</p>
<p>اُس شخص سے بہتر اور کس کا طریقِ زندگی ہوسکتا ہے جس نے اللہ کے آگے سر تسلیم خم کردیا اور اپنا رویہ نیک رکھا اور یکسو ہو کر ابراہیم ؑ کے طریقہ کی پیروی کی ، اُس ابراہیمؑ کے طریقے کی جسے اللہ نے اپنا دوست بنالیا تھا۔ {۱۲۵}</p>
<p>آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ کا [150]ہے اور اللہ ہر چیز پر محیط ہے۔[151]{۱۲۶}</p>
<p> لوگ تم سے عورتوں کے معاملے میں فتویٰ پوچھتے ہیں۔[152] کہو، اللہ تمہیں ان کے معاملے میں فتویٰ دیتا ہے ، اور ساتھ ہی وہ احکام بھی یاد دلاتا ہے جو پہلے سے تم کو اس کتاب میں سُنائے جارہے ہیں[153]۔ یعنی وہ احکام جو اُن یتیم لڑکیوں کے متعلق ہیں جن کے حق تم ادا نہیں کرتے اور جن کے نکاح کرنے سے تم باز رہتے ہو [154] (یالالچ کی بنا پر تم خود ان سے نکاح کرلینا چاہتے ہو) [155] اور وہ احکام جو اُن بچوں کے متعلق ہیں جو بیچارے کوئی زور نہیں رکھتے[156] ۔ اللہ تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ یتیموں کے ساتھ انصاف پر قائم رہو ، اور جو بھلائی تم کرو گے وہ اللہ کے علم سے چھپی نہ رہ جائے گی۔ {۱۲۷}</p>
<p>اگر [157]کسی  عورت کو اپنے شوہر سے بد سلو کی یا بے رُخی کا خطرہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں کہ میاں اور بیوی(کچھ حقوق کی کمی بیشی پر) آپس میں صلح کرلیں۔ صلح بہر حال بہتر ہے ۔[158] نفس تنگ دِلی کی طرف جلدی مائل ہوجاتے ہیں ،[159] لیکن اگرتم لوگ احسان سے پیش آؤ اورتقویٰـ سے کام لو، تو یقین رکھو کہ اللہ تمہارے اس طرز ِعمل سے بے خبر [160]نہ ہوگا ۔{۱۲۸}</p>
<p>بیویوں کے درمیان پورا پورا عدل کرنا تمہارے بس میں نہیں ہے ۔تم چاہو بھی تو اِس پر قادر نہیں ہوسکتے ۔ لہٰذا (قانون الہٰی کا منشا پورا کرنے کے لیے یہ کافی ہے کہ) ایک بیوی کی طرف اِس طرح نہ جھک جا ؤ کہ دوسری کو ادھر لٹکتا چھوڑ دو۔[161] اگر تم اپنا طرز عمل درست رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو اللہ چشم پوشی کرنے اور رحم فرمانے والا ہے ۔[162]{۱۲۹}</p>
<p> لیکن اگر زوجین ایک دوسرے سے الگ ہی ہوجائیں، تو اللہ اپنی وسیع قدرت سے ہر ایک کو دوسرے کی محتاجی سے بے نیاز کردے گا۔ اللہ کا دامن بہت کشادہ ہے اور وہ دانا و بینا ہے۔{۱۳۰}</p>
<p>آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے ۔تم سے پہلے جن کو ہم نے کتاب دی تھی اُنہیں بھی یہی ہدایت کی تھی اور اب تم کو بھی یہی ہدایت کرتے ہیں کہ اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرو ۔ لیکن اگر تم نہیں مانتے تونہ مانو ، آسمان وزمین کی ساری چیزوں کا مالک اللہ ہی ہے اور وہ بے نیاز ہے ، ہر تعریف کا مستحق ۔{۱۳۱}</p>
<p>ہاں اللہ ہی مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں ، اور کارسازی کے لیے بس وہی کافی ہے ۔{ ۱۳۲}</p>
<p>اگر وہ چاہے تو تم لوگوں کو ہٹا کر تمہاری جگہ دُوسروں کو لے آئے ، اور وہ اس کی پوری قدرت رکھتا ہے ۔{ ۱۳۳}</p>
<p>جو شخص محض ثوابِ دُنیا کا طالب ہو اُسے معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ کے پاس ثواب دنیا بھی ہے اور ثواب آخرت بھی ، اور اللہ سمیع وبصیر ہے۔[163]{ ۱۳۴}</p>
<p>اے لو گو جو ایمان لائے ہو! انصاف کے علمبردار [164]اور اللہ کے لیے سچی گواہی [165]دینے والے بنوا گرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو ۔ فریق معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب ، اللہ تم سے زیادہ اُن کا خیر خواہ ہے ۔ لہٰذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو ۔ اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے۔ {۱۳۵}</p>
<p>اے لوگو جو ایمان لائے ہو !ایمان[166] لا ؤ اللہ پر اوراُس کے رسُول  ؐ  پر اور اُس کتاب پر جو اللہ نے اپنے رسول  ؐپر نازل کی ہے اور ہراُس کتاب پر جو اس سے پہلے وہ نازل کرچکا ہے ۔جس نے اللہ اور اس کے ملائکہ اور اس کی کتابوں اور اس کے رسُولوں اور روزِ آخرت سے کفر کیا [167] وہ گمراہی میں بھٹک کر بہت دور نکل گیا ۔{۱۳۶}</p>
<p>رہے وہ لوگ جو ایمان لائے ، پھر کفر کیا ، پھر ایمان لائے ، پھر کفر کیا ، پھر اپنے کفر میں بڑھتے چلے گئے،[168] تو اللہ ہر گز ان کو معاف نہ کرے گا اور نہ کبھی اُن کو راہِ راست دکھائے گا۔ {۱۳۷}</p>
<p>منافقین کو یہ مژدہ سنادو کہ ان کے لیے دردناک سزا تیار ہے۔ {۱۳۸}</p>
<p> جو منافق اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفیق بناتے ہیں کیا یہ لوگ عزت کی طلب میں اُن کے پاس جاتے ہیں [169]؟ حالانکہ عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کے لیے ہے۔{۱۳۹}</p>
<p> اللہ اس کتاب میں تم کو پہلے ہی حکم دے چکا ہے کہ جہاں تم سنو کہ اللہ کی آیات کے خلاف کفر بکا جارہا ہے اوراُن کا مذاق اُڑا یا جارہا ہے وہاں نہ بیٹھو جب تک کہ لوگ کسی دوسری بات میں نہ لگ جائیں۔ اب اگر تم ایسا (ایسی مجالس میں بیٹھا )کرتے ہو تو تم بھی انہی کی طرح ہو۔[170] یقین جانو کہ اللہ منافقوں اور کافروں کو جہنم میں ایک جگہ جمع کرنے والا ہے ۔{۱۴۰}</p>
<p>یہ منافق تمہارے معاملے میں انتظار کررہے ہیں ( کہ اُونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے) اگر اللہ کی طرف سے فتح تمہاری ہوئی تو آکر کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ اگر کافروں کا پلّہ بھاری رہا تو اُن سے کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے خلاف لڑنے پر قادر نہ تھے اور پھر بھی ہم نے تم کو مسلمانوں سے بچایا ؟[171] بس اللہ ہی تمہارے اور ان کے معاملے کا فیصلہ قیامت کے روز کرے گا اور ( اِس فیصلے میں ) اللہ نے کافروں کے لیے مسلمانوں پر غالب آنے کی ہرگز کوئی سبیل نہیں رکھی ہے۔{۱۴۱}</p>
<p>یہ منافق اللہ کے ساتھ دھوکہ بازی کررہے ہیں حالانکہ درحقیقت اللہ ہی نے اِنہیں دھوکہ میں ڈال رکھا ہے۔ جب یہ نماز کے لیے اٹھتے ہیں تو کَسْمَسَاتے ہوئے محض لوگوں کودکھانے کی خاطر اٹھتے ہیں اور اللہ کو کم ہی یاد کرتے ہیں [172]{ ۱۴۲}</p>
<p>کفر و ایمان کے درمیان ڈانواڈول ہیں۔ نہ پورے اِس طرف ہیں، نہ پورے اُس طرف۔ جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو اُس کے لیے تم کوئی راستہ نہیں پاسکتے [173]{ ۱۴۳}</p>
<p>  اے لوگوجو ایمان لائے ہو ! مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفیق نہ بنا ؤ ۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ کو اپنے خلاف صریح حجت دے دو ؟ {۱۴۴}</p>
<p>  جانو کہ منافق جہنم کے سب سے نیچے طبقے میں جائیں گے اور تم کسی کو اُن کا مددگار نہ پا ؤ گے۔{ ۱۴۵}</p>
<p> البتہ جو ان میں سے تائب ہوجائیں اور اپنے طرِز عمل کی اصلاح کرلیں اور اللہ کا دامن تھام لیں اور اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کردیں ،[174] ایسے لوگ مومنوں کے ساتھ ہیں اور اللہ مومنوں کو ضرور اجرِ عظیم عطا فرمائے گا۔ {۱۴۶}</p>
<p> آخر اللہ کو کیا پڑی ہے کہ تمہیں خواہ مخواہ سزادے اگر تم شکر گزار بندے بنے رہو[175] اور ایمان کی روش پر چلو۔ اللہ بڑا قدر دان ہے[176] اور سب کے حال سے واقف ہے۔{۱۴۷}</p>
<p>اللہ اس کو پسند نہیں کرتا کہ آدمی بد گوئی پر زبان کھولے ، اِلاّ یہ کہ کسی پر ظلم کیا گیا ہو، اور اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے ۔ {۱۴۸}</p>
<p> (مظلوم ہونے کی صورت میں اگر چہ تم کو بد گوئی کا حق ہے) لیکن اگر تم ظاہر وباطن میں بھلائی ہی کئے جا ؤ ، یا کم از کم برائی سے درگزر کرو ، تو اللہ (کی صفت بھی یہی ہے کہ وہ ) بڑا معاف کرنے والا ہے ، (حالانکہ سزا دینے پر ) پوری قدرت رکھتا ہے۔[177] {۱۴۹}</p>
<p>جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں سے کفر کرتے ہیں ، اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کریں ، اور کہتے ہیں کہ ہم کسی کو مانیں گے اور کسی کو نہ مانیں گے ، اور کفر و ایمان کے بیچ میں ایک راہ نکالنے کا ارادہ رکھتے ہیں{۱۵۰}</p>
<p> وہ سب پکے کافر ہیں[178]  اور ایسے کافروں کے لیے ہم نے وہ سزا مہیّا کررکھی ہے جو انہیں ذلیل و خوار کردینے والی ہوگی۔{۱۵۱}</p>
<p> بخلاف اس کے جو لوگ اللہ اور اس کے تمام رسولوں کو مانیں ، اور ان کے درمیان تفریق نہ کریں ،اُن کو ہم ضرور اُن کے اجرعطا[179]  کریں گے ، اور اللہ بڑا در گزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔[180] { ۱۵۲}</p>
<p> ( اے نبی  ؐ!) یہ اہل کتاب اگر آج تم سے مطالبہ کررہے ہیں کہ تم آسمان سے کوئی تحریر ان پر نازل کرا ؤ [181] تو اس سے بڑھ چڑھ کر مجرمانہ مطالبے یہ پہلے موسیٰ ؑ سے کرچکے ہیں ۔ اُس سے تو اِنہوں نے کہا تھا کہ ہمیں اللہ کو علانیہ دکھا دو اور اسی سرکشی کی وجہ سے یکا یک ان پر بجلی ٹوٹ پڑی[182]  تھی ۔پھر انہوں نے بچھڑے کو اپنا معبود بنا لیا ، حالانکہ یہ کھلی کھلی نشانیاں دیکھ چکے تھے ۔[183]  اس پر بھی ہم نے ان سے درگزر کیا۔ ہم نے موسیٰؑ کو صریح فرمان عطا کیا { ۱۵۳}</p>
<p> اور ان لوگوں پرطُور کو اٹھا کر اِن سے (اِس فرمان کی اطاعت کا ) عہد[184]  لیا ۔ ہم نے ان کو حکم دیا کہ دروازہ میں سجدہ ریز ہوتے ہوئے داخل ہو[185] ۔ ہم نے ان سے کہا کہ سبت کا قانون نہ توڑو اور اس پر ان سے پختہ عہد لیا۔{ ۱۵۴}</p>
<p>آخر کار ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ، اور اِس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا ، اور متعدد پیغمبروں کو ناحق قتل کیا، اور یہاں تک کہا کہ ہمارے دل غلافوں میں محفوظ ہیں۔[186]  حالانکہ[187] درحقیقت اِن کی باطل پرستی کے سبب سے اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا ہے اور اسی وجہ سے یہ بہت کم ایمان لاتے ہیں۔{۱۵۵}</p>
<p> پھر [189] اپنے کفر میں اتنے بڑھے کہ مریم پر سخت بہتان لگایا[190]  {۱۵۶}</p>
<p>اور خود کہا کہ ہم نے مسیح عیسیٰ ؑابن مریم ، رسول اللہ کو قتل کردیا [191] ہے۔ حالانکہ [192] فی الواقع انہوں نے نہ اُس کو قتل کیا نہ صلیب پر چڑھا یا ، بلکہ معاملہ اُ ن کے لیے مشتبہ کردیا گیا[193] ۔ اور جن لوگوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا ہے وہ بھی دراصل شک میں مبتلا ہیں، ان کے پاس اس معاملہ میں کوئی علم نہیں ہے ، محض گمان ہی کی پیروی [194] ہے ۔ انہوں نے مسیحؑ کو یقینًا قتل نہیں کیا{۱۵۷}</p>
<p>بلکہ اللہ نے اُس کو اپنی طرف اٹھالیا،[195]  اللہ زبردست طاقت رکھنے والا اور حکیم ہے ۔ {۱۵۸}</p>
<p> اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسانہ ہوگا جواُس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لے آئے گا[196]  اور قیامت کے روز وہ ان پر گواہی دے گا۔[197] {۱۵۹}</p>
<p>غرض[198]  اِن یہودیوں کے اِسی ظالمانہ رویہ کی بنا ء پرہم نے بہت سی وہ پاک چیزیں ان پر حرام کردیں جو پہلے ان کے لیے حلال تھیں،[201]   اور اس بنا ء پر کہ یہ بکثرت اللہ کے راستے سے روکتے ہیں [199] {۱۶۰}</p>
<p> اور سودلیتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا [200] ، اور لوگوں کے مال ناجائز طریقوں سے کھاتے ہیں ۔  اور جو لوگ ان میں سے کافر ہیں ان کے لیے ہم نے درد ناک عذاب تیار کررکھا ہے ۔[202] {۱۶۱}</p>
<p>  مگر ان میں جو لوگ پختہ علم رکھنے والے ہیں اور ایمان دار ہیں وہ سب اُس تعلیم پر ایمان لاتے ہیں جو اے نبی  ؐ! تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھی ۔ [203] اِس طرح کے ایمان لانے والے اور نماز و زکوٰۃ کی پابندی کرنے والے اور اللہ اور روز آخر پر سچا عقیدہ رکھنے والے لوگوں کو ہم ضرور اجر عظیم عطا کریں گے ۔{ ۱۶۲}</p>
<p>اے نبی  ؐ ! ہم نے تمہاری طرف اُسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح  ؑاور اس کے بعد کے پیغمبروں کی طرف بھیجی[204]  تھی ۔ ہم نے ابراہیمؑ ، اسماعیل  ؑ، اسحاق  ؑ ، یعقوب ؑ اور اولاد ِیعقوب ؑ، عیسیٰ  ؑ، ایوبؑ ، یونس ؑ، ہارون ؑ اور سلیمان ؑ کی طرف وحی بھیجی ۔ ہم نے دا ؤد  ؑ کو زبور دی۔[205]{ ۱۶۳}</p>
<p>ہم نے ان رسُولوں پر بھی وحی نازل کی جن کا ذکر ہم اس سے پہلے تم سے کرچکے ہیں اور اُن رسولوں پر بھی جن کا ذکر تم سے نہیں کیا۔ ہم نے موسیٰ  ؑسے اس طرح گفتگو کی جس طرح گفتگوکی جاتی ہے ۔[206]{ ۱۶۴}</p>
<p>یہ سارے رسول خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے بناکر بھیجے گئے [207]تھے تاکہ اُن کو مبعوث کردینے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت نہ رہے[208]  اور اللہ بہر حال غالب رہنے والا اور حکیم و دانا ہے۔ {۱۶۵}</p>
<p> (لوگ نہیں مانتے تو نہ مانیں ) مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ اے نبی  ؐ!جو کچھ اس نے تم پر نازل کیا ہے اپنے علم سے نازل کیا ہے اور اس پرملائکہ بھی گواہ ہیں ، اگر چہ اللہ کا گواہ ہونا بالکل کفایت کرتا ہے ۔ {۱۶۶}</p>
<p>جو لوگ اس کو ماننے سے خود انکار کرتے ہیں ،اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں وہ یقینًا گمراہی میں حق سے بہت دور نکل گئے ہیں۔{۱۶۷}</p>
<p> اس طرح جن لوگوں نے کفر و بغاوت کا طریقہ اختیار کیا اور ظلم و ستم پر اتر آئے اللہ ان کو ہرگز معاف نہ کرے گا اور انہیں کوئی راستہ نہ دکھائے گا۔{۱۶۸}</p>
<p> بجز جہنم کے راستہ کے ، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ اللہ کے لیے  یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ {۱۶۹}</p>
<p>لوگو! یہ رسُول  ؐ تمہارے پاس تمہارے رَبّ کی طرف سے حق لے کر آگیا ہے ، ایمان لے آ ؤ، تمہارے ہی لئے بہتر ہے ، اور اگر انکار کرتے ہو تو جان لو کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ[209] کا ہے اور اللہ علیم بھی ہے اور حکیم بھی[210]۔ {۱۷۰}</p>
<p>اے اہل کتاب ! اپنے دین میں غلونہ[211] کرو۔ اور اللہ کی طرف حق کے سوا کوئی بات منسوب نہ کرو۔ مسیح عیسیٰؑ ابن مریم اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ اللہ کا ایک رسول تھا اور ایک فرمان [212]تھا جو اللہ نے مریم کی طرف بھیجا اور ایک روح تھی اللہ کی طرف[213] سے ( جس نے مریم کے رحم میں بچہ کی شکل اختیار کی ) پس تم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لا ؤ [214]اور نہ کہو کہ ’’ تین‘‘ ہیں[215]۔  باز آجا ؤ ، یہ تمہارے ہی لئے بہتر ہے ۔ اللہ تو بس ایک ہی اِلٰہ ہے ۔ وہ پاک ہے اس سے کہ کوئی اس کا بیٹا ہو۔[216] زمین اور آسمانوں کی ساری چیزیں اس کی مِلک [217]ہیں ، اور ان کی کفالت و خبر گیری کے لیے بس وہی کافی ہے ۔[218]{۱۷۱}</p>
<p>مسیحؑ نے کبھی اس بات کو عارنہیں سمجھا کہ وہ اللہ کا بندہ ہو ، اور نہ مقرب ترین فرشتے اِس کو اپنے لئے عار سمجھتے ہیں۔ اگر کوئی اللہ کی بندگی کو اپنے لئے عارسمجھتا ہے اور تکبّر کرتا ہے تو ایک وقت آئے گا جب اللہ سب کو گھیر کر اپنے سامنے حاضر کرے گا ۔ { ۱۷۲}</p>
<p>اُس وقت وہ لوگ جنہوں نے ایمان لاکر نیک طرز عمل اختیار کیا ہے اپنے اجر پورے پورے  پائیں گے اور اللہ اپنے فضل سے ان کو مزید اجر عطا فرمائے گا، اور جن لوگوں نے بندگی کو عار سمجھا اور تکبّر کیا ان کو اللہ درد ناک سزادے گا اور اللہ کے سوا جن جن کی سرپرستی و مددگاری پر وہ بھروسہ رکھتے ہیں ان میں سے کسی کو بھی وہاں نہ پائیں گے ۔{ ۱۷۳}</p>
<p>لوگو! تمہارے رَبّ کی طرف سے تمہارے پاس دلیل روشن آگئی ہے ۔ اور ہم نے تمہاری طرف ایسی روشنی بھیج دی ہے جو تمہیں صاف صاف راستہ دکھانے والی ہے۔ { ۱۷۴}</p>
<p>اب جو لوگ اللہ کی بات مان لیں گے اور اس کی پناہ ڈھونڈیں گے ان کو اللہ اپنی رحمت اور اپنے فضل وکرم کے دامن میں لے لے گا اور اپنی طرف آنے کا سیدھا راستہ ان کو دکھادے گا۔{۱۷۵}</p>
<p>اے نبی  ؐ ! لوگ[219] تم سے کلالہ[220] کے معاملہ میں فتویٰ پوچھتے ہیں ۔ کہو اللہ تمہیں فتویٰ دیتا ہے۔اگر کوئی شخص بے اولاد مرجائے اور اس کی ایک بہن [221]ہو تو وہ اس کے ترکہ میں سے نصف پائے گی۔ اور اگربہن بے اولاد مرے تو بھائی اس کا وارث ہوگا۔ اگر میت کی وارث[222] دو بہنیں ہوں تو ترکے میں سے دو تہائی کی حقدار [223]ہوں گی، اور اگر کئی بھائی بہنیں ہوں تو عورتوں کا اِکہرا اور مردوں کا دو ہراحصہ ہوگا۔ اللہ تمہارے لئے احکام کی توضیح کرتا ہے تاکہ تم بھٹکتے نہ پھرو اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے ۔ {۱۷۶}</p>

</div><div id="5"><p>سورۃالمائدۃ </p>
<p>اللہ کے نام سے جوبے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔</p>
<p>اے لوگو جو ایمان لائے ہو!بندشوں کی پوری پابندی کر و[1]۔ تمہارے لئے مویشی کی قسم کے سب جانورحلال کئے گئے [2]،  سوائے ان کے جو آگے چل کر تم کو بتائے جائیں گے۔ لیکن اِحرام کی حالت میں شکار کو اپنے لئے حلال نہ کرلو ،[3] بیشک اللہ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے۔[4]{۱}</p>
<p> اے لوگوجو ایمان لائے ہو!اللہ کی نشانیوں کو بے حرمت نہ کرو ۔[5] حرام مہینوں میں سے کسی کو حلال نہ کرلو، قربانی کے جانوروں پر دست درازی نہ کرو، ان جانوروں پر ہاتھ نہ ڈالو جن کی گردنوں میں اللہ کی علامت کے طور پر پٹے پڑے ہوئے ہوں نہ ان لوگوں کو چھیڑو جو اپنے رَبّ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی تلاش میں مکان محترم(کعبہ)کی طرف جارہے ہوں ۔ [6]ہاں جب احرام کی حالت ختم ہوجائے تو شکار تم کرسکتے ہو۔[7] اور دیکھو ، ایک گروہ نے جو تمہارے لئے مسجد حرام کا راستہ بند کردیا ہے تو اس پر تمہارا غصہ تمہیں اتنا مشتعل نہ کردے کہ تم بھی ان کے مقابلہ میں ناروا زیادتیاں کرنے[8] لگو۔ نہیں، جو کام نیکی اور تقویٰ کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو اور جو گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو۔ اللہ سے ڈرو ، اس کی سزابہت سخت ہے۔{ ۲}</p>
<p>تم پر حرام کیا گیا مُردار [9]، خون ، سورکا گوشت ، وہ جانور جواللہ کے سواکسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو [10]، وہ جو گلاگھٹ کر، یا چوٹ کھا کر ، یابلندی سے گرکر ، یا ٹکر کھا کر مرا ہو ، یاجسے کسی درندے نے پھاڑاہو۔ سوائے اس کے جسے تم نے زندہ پاکر ذبح کرلیا[11]۔ اور وہ جو کسی آستانے [12]پر ذبح کیا گیا ہو۔[13] نیزیہ بھی تمہارے لئے ناجائزہے کہ پانسوں کے ذریعہ سے اپنی قسمت معلوم کرو ۔ [14]یہ سب افعال فسق ہیں ۔ آج کافروں کو تمہارے دین کی طرف سے پوری مایوسی ہوچکی ہے لہٰذا تم ان سے نہ ڈرو ، بلکہ مجھ سے ڈرو۔ [15]آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے مکمل کردیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی ہے اور تمہارے لئے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کرلیا ہے۔ (لہٰذا حرام وحلال کی جو قیود تم پر عائد کردی گئی ہیں ان کی پابندی کرو [16]) البتہ جو شخص بھوک سے مجبور ہو کر ان میں سے کوئی چیز کھالے ، بغیر اس کے کہ گناہ کی طرف اس کا میلا ن ہو تو بیشک اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔[17] { ۳}</p>
<p>( اے نبی  ؐ!) آپ سے لوگ پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کیا حلال کیا گیا ہے ، کہو تمہارے لئے ساری پاک چیزیں حلال کردی گئی ہیں ۔[18] اور جن شکاری جانوروں کو تم نے سَدھا یا ہو۔ جن کو اللہ کے دیے ہوئے علم کی بنا پر تم شکار کی تعلیم دیا کرتے ہو، وہ جس جانور کو تمہارے لئے پکڑ رکھیں اس کو بھی تم کھاسکتے ہو [19]، البتہ اس پر اللہ کا نام لے لو [20]اور اللہ کا قانون توڑنے سے ڈرو ، اللہ کو حساب لیتے دیر نہیں لگتی۔{ ۴}</p>
<p>آج تمہارے لئے ساری پاک چیزیں حلال کردی گئی ہیں ۔ اہلِ کتاب کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لیے[21] اور محفوظ عورتیں بھی تمہارے لئے حلال ہیں خواہ وہ اہل ایمان کے گروہ سے ہوں یا اُن قوموں میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی ،[22] بشرطیکہ تم ان کے مہرادا کرکے نکاح میں ان کے محافظ بنو،نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو یا چوری چھپے آشنائیاں کرو ۔ اور جو کسی نے ایمان کی روش پر چلنے سے انکار کیا تو اس کا سارا کارنامۂزندگی ضائع ہوجائے گا اور وہ آخرت میں دیوالیہ ہوگا۔[23]{ ۵}</p>
<p>اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو چاہیے کہ اپنے منھ اور ہاتھ کہنیوں تک دھولو ، سروں پر ہاتھ پھیرلو اور پا ؤں ٹخنوں تک دھولیا کرو۔[24]  اگر جنابت کی حالت میں ہو تو نہاکر پاک ہوجا ؤ ۔[25]اگر بیمار ہویا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئی رفع حاجت کرکے آئے یا تم نے عورتوںکو ہاتھ لگایا (ہم بستری کی)ہو،اور پانی نہ ملے ، تو پاک مٹی سے کام لو ، بس اس پر ہاتھ مار کراپنے منھ اور ہاتھوں پر پھیرلیا کرو۔[26]  اللہ تم پر زندگی کو تنگ نہیں کرنا چاہتا، مگر وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمت تم پر تمام کردے [27]،شاید کہ تم شکر گزار بنو۔{۶}</p>
<p>اللہ نے تم کو جو نعمت عطا کی [28]ہے اُس کا خیال رکھو اور اس پختہ عہدو پیمان کو نہ بھولو جو اس نے تم سے لیا ہے ، یعنی تمہارا یہ قول کہ’’ ہم نے سنا اور اطاعت قبول کی‘‘۔ اللہ سے ڈرو ، اللہ دلوں کے راز تک جانتا ہے ۔{۷}</p>
<p>اے لوگو جو ایمان لائے ہو!اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے[29] بنو۔ کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کردے کہ انصاف سے پھر جا ؤ۔ عدل کرو یہ تقویٰ سے زیادہ مناسبت رکھتاہے۔ اللہ سے ڈرکر کام کرتے رہو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے ۔ {۸}</p>
<p>جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں اللہ نے ان سے وعدہ کیاہے کہ ان کی خطاؤں سے در گزر کیاجائے گا اور انہیں بڑا اجر ملے گا ۔ {۹}</p>
<p>رہے وہ لوگ جو کفر کریں اور اللہ کی آیات کو جھٹلائیں تو وہ دوزخ میں جانے والے ہیں ۔{۱۰}</p>
<p>اے لوگوجوایمان لائے ہو !اللہ کے اُس احسان کو یاد کرو جو اُس نے( ابھی حال میں )تم پر کیاہے ۔ جب کہ ایک گروہ نے تم پر دست درازی کا ارادہ کرلیاتھا مگر اللہ نے ان کے ہاتھ تم پر اٹھنے سے روک دیئے [30]اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو ،ایمان رکھنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرناچاہیے ۔{۱۱}</p>
<p>اور تحقیق اللہ نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیاتھا اور ا ن میں بارہ نقیب[31] مقرر کئے تھے ۔ اور ان سے اللہ نے کہاتھا کہ ’’میں تمہارے ساتھ ہوں،اگر تم نے نماز قائم رکھی اور زکوٰۃدی اور میرے رسولوں کو مانا اور ان کی مددکی[32] اور اپنے اللہ کو اچھا قرض دیتے رہے [33]تو یقین رکھو میں تمہاری برائیاں تم سے زائل کردو ں[34] گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ،مگر اس کے بعد جس نے تم میں سے کفر کی روش اختیار کی تو درحقیقت اس نے سواء السبیل[35] گم کردی‘‘ ۔{۱۲}</p>
<p>پھر یہ اُن کا اپنے عہد کو توڑڈالنا تھا جس کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دور پھینک دیا اور ان کے دل سخت کردیے ۔اب ان کایہ حال ہے کہ الفاظ کا اُلٹ پھیر کرکے بات کو کہیں سے کہیں لے جاتے ہیں ، جو تعلیم انہیں دی گئی تھی اس کا بڑاحصہ بھول چکے ہیں،اور آئے دن تمہیں ا ن کی کسی نہ کسی خیانت کا پتہ چلتا رہتا ہے۔ ان میں سے بہت کم لوگ اس عیب سے بچے ہوئے ہیں۔ ( پس جب یہ اس حال کو پہنچ چکے ہیں توجو شرارتیں بھی یہ کریں وہ اِن سے عین متوقع ہیں)لہٰذا انہیں معاف کرو اور ان کی حرکات سے چشم پوشی کرتے رہو، اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو احسان کی روش رکھتے ہیں۔{ ۱۳}</p>
<p>اوراسی طرح ہم نے اُن لوگوں سے بھی پختہ عہد لیا تھا جنہوں نے کہا تھا کہ ہم ’’ نصاریٰ ‘‘[36]ہیں ، مگر ان کو بھی جو سبق یاد کرایا گیا تھا اس کا ایک بڑا حصّہ اُنہوں نے فراموش کردیا ، آخر کار ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے دشمنی اور آپس کے بُغض وعناد کا بیج بودیا، اور ضرور ایک وقت آئے گا جب اللہ انہیں بتائے گا کہ وہ دنیا میں کیا بناتے رہے ہیں۔ { ۱۴}</p>
<p>اے اہل کتاب! ہمارا رسُول  ؐ تمہارے پاس آگیا ہے جو کتاب الٰہی کی بہت سی ان باتوں کو تمہارے سامنے کھول رہا ہے جن پر تم پرد ہ ڈالا کرتے تھے، اور بہت سی باتوں سے درگزر بھی کرجاتا [37]ہے۔  تمہارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی اور ایک ایسی حق نما کتاب آگئی ہے{۱۵}</p>
<p> جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو ا س کی رضا کے طالب ہیں سلامتی کے طریقے بتاتا [38]ہے اور اپنے اذن سے اُن کو اندھیروں سے نکال کراُجالے کی طرف لاتا ہے اور راہ راست کی طرف اُن کی رہنمائی کرتا ہے۔ {۱۶}</p>
<p>   یقینًاکفر کیا اُن لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ مسیح  ؑ ابن مریم ہی اللہ ہے ۔[39] اے نبی  ؐ!  ان سے کہو کہ اگر اللہ مسیح  ؑ ابن مریم کو اور اس کی ماں اور تمام زمین والوں کو ہلاک کردینا چاہے تو کس کی مجال ہے کہ اس کو اس ارادے سے باز رکھ سکے ؟ اللہ تو زمین اور آسمانوں کا اور اُن سب چیزوں کا مالک ہے جو زمین اور آسمانوں کے درمیان پائی جاتی ہیں ، جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے[40] اور اس کی قدرت ہر چیز پر حاوی ہے۔{۱۷}</p>
<p>یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں ۔ ان سے پوچھو ، پھر وہ تمہارے گناہوں پر تمہیں سزا کیوں دیتا ہے؟ درحقیقت تم بھی ویسے ہی انسان ہو جیسے اور انسان اللہ نے پیدا کئے ہیں، وہ جسے چاہتا ہے معاف کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے ، زمین اور آسمان اور ان کی ساری موجودات اس کی مِلک ہیں ، اور اسی کی طرف سب کو جانا ہے۔{۱۸}</p>
<p>اے اہل کتا ب! ہمارا یہ رسُول  ؐ  ایسے وقت تمہارے پاس آیا ہے اور دین کی واضح تعلیم تمہیں دے رہاہے جب کہ رسولوں کی آمد کا سلسلہ ایک مدّت سے بند تھا،تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو ہمارے پاس کوئی بشارت دینے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا۔ سودیکھو، اب وہ بشارت دینے اور ڈرانے والا آگیا ۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر[41]ہے۔ {۱۹}</p>
<p>یاد کرو جب موسیٰ  ؑنے اپنی قوم سے کہا تھا ’’ اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی اُس نعمت کا خیال کرو جو اس نے تمہیں عطا کی تھی ۔ اس نے تم میں نبی پیدا کئے ، تم کو فرماں روابنایا ، اور تم کو وہ کچھ دیا جو دنیا میں کسی کو نہ[42] دیا تھا۔{۲۰}</p>
<p> اے برادران قوم!اس مقدس سرزمین میں داخل ہوجا ؤ جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دی [43]ہے ۔  پیچھے نہ ہٹو ورنہ ناکام ونامراد پلٹو گے۔ ‘‘[44]{۲۱}</p>
<p> اُنہوں نے جواب دیا ’’ اے موسیٰ  ؑ!وہاں تو بڑے زبردست لوگ رہتے ہیں، ہم وہاں ہرگز نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں۔ ہاں اگر وہ نکل گئے تو ہم داخل ہونے کے لیے تیار ہیں ۔‘‘ {۲۲}</p>
<p>ان ڈرنے والوں میں دو شخص ایسے بھی تھے[45] جن کو اللہ نے اپنی نعمت سے نوازا تھا۔ ا نہوں نے کہا کہ ’’ ان جباروں کے مقابلے میں دروازے کے اندر گھس جا ؤ ،جب تم اندر پہنچ جا ؤ گے تو تم ہی غالب رہوگے۔ اللہ پر بھروسہ رکھو اگر تم مومن ہو۔‘‘ {۲۳}</p>
<p>لیکن انہوں نے پھر یہی کہا کہ ’’ اے موسیٰ  ؑ !ہم تو وہاں کبھی نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں موجود ہیں۔ بس تم اور تمہارا رَبّ ، دونوں جا ؤ اور لڑو ، ہم یہاں بیٹھے ہیں‘‘۔{ ۲۴}</p>
<p> اس پر موسیٰ ؑنے کہا: ’’اے میرے رَبّ !میرے اختیار میں کوئی نہیں مگریا میری اپنی ذات یا میرا بھائی ،پس تو ہمیں ان نافرمان لوگوں سے الگ کردے ۔‘‘{۲۵}</p>
<p> اللہ نے جواب دیا ’’اچھا تو وہ ملک چالیس سال تک ان پر حرام ہے یہ زمین میں مارے مارے پھریں گے۔[46]ان نافرمانوں کی حالت پر ہر گز ترس نہ کھا ؤ‘‘ ۔[47] {۲۶}</p>
<p>اور ذرا انہیں آدم کے دو بیٹوں کا قصہ بھی بے کم وکاست سنا دو ۔ جب اُن دونوں نے قربانی کی توان میں سے ایک کی قربانی قبول کی گئی اور دوسرے کی نہ کی گئی۔ اُس نے کہا ’’میں تجھے مارڈ الوں گا‘‘۔ اس نے جواب دیا ’’اللہ تو متقیوں ہی کی نذریں قبول کرتا ہے۔ [48]{۲۷}</p>
<p> اگر تُو مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ اٹھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ نہ اٹھا ؤں گا،[49] میں اللہ رَبّ العٰلمین سے ڈرتا ہوں {۲۸}</p>
<p> میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ تُو ہی سمیٹ لے[50] اور دوزخی بن کررہے۔ ظالموں کے ظلم کا یہی ٹھیک بدلہ ہے ‘‘ {۲۹}</p>
<p> آخر کار اس کے نفس نے اپنے بھائی کا قتل اس کے لیے آسان کردیا اور وہ اسے مارکر ان لوگوں میں شامل ہوگیا جو نقصان اُٹھانے والے ہیں { ۳۰}</p>
<p>پھر اللہ نے ایک کوّ ابھیجا جو زمین کھود نے لگا تا کہ اسے بتائے کہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھپائے ،یہ دیکھ کروہ بولا: ’’افسوس! مجھ پر میں اس کوّے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپانے کی تدبیر نکال لیتا [51] ‘‘۔اس کے بعد وہ اپنے کئے پر بہت پچھتایا ۔[52]{۳۱}</p>
<p>اسی وجہ سے بنی اسرائیل پر ہم نے یہ فرمان لکھ دیا [53]تھا کہ: ’’ جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی کو زندگی بخشی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی[54]۔‘‘مگر اُن کا حال یہ ہے کہ ہمارے رسول پے درپے ان کے پاس کھلی کھلی ہدایا ت لے کر آئے پھر بھی ان میں بکثرت لوگ زمین میں زیادیتاں کرنے والے ہیں {۳۲}</p>
<p>جو لوگ اللہ اور اس کے رسُول  ؐ سے لڑتے ہیں اور زمین میں اس لیے تگ ودَو کرتے پھرتے ہیں کہ فساد برپاکریں[55] اُن کی سزایہ ہے کہ قتل کئے جائیں ، یا سولی پر چڑھائے جائیں، یا ان کے ہاتھ اور پا ؤں  مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں ، یا وہ جلاوطن کردیے جائیں[56]۔ یہ ذلّت ورسوائی تو ان کے لیے دنیا میں ہے اور آخرت میں ان کے لیے اس سے بڑی سزا ہے { ۳۳}</p>
<p>مگر جو لوگ توبہ کرلیں قبل اس کے کہ تم اُن پر قابو پا ؤ۔ تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔[57] { ۳۴}</p>
<p>اے لوگوجو ایمان لائے ہو ! اللہ سے ڈرو اور اس کی جناب میں باریابی کا ذریعہ تلاش  کرو[58] اور اس کی راہ میں جدوجہد کرو،[59] شاید کہ تمہیں کامیابی نصیب ہوجائے۔{۳۵}</p>
<p>خوب جان لو کہ جن لوگوں نے کفر کا رویّہ اختیار کیا ہے ،اگر ان کے قبضے میں ساری زمین کی دولت ہو اور اتنی ہی اور اس کے ساتھ ، اور وہ چاہیں کہ اسے فدیہ میں دے کر روز قیامت کے عذاب سے بچ جائیں ، تب بھی وہ ان سے قبول نہ کی جائے گی اور انہیں درد ناک سزا مل کررہے گی۔ {۳۶}</p>
<p>وہ چاہیں گے کہ دوزخ کی آگ سے نکل بھاگیں مگر نہ نکل سکیں گے اور انہیں قائم رہنے والا عذاب دیا جائے گا ۔{۳۷}</p>
<p>اور چور ، خواہ عورت ہویا مرد ، دونوں کے ہاتھ کاٹ دو،[60]  یہ ان کی کمائی کا بدلہ ہے اور اللہ کی طرف سے عبرتناک سزا ۔ اللہ کی قدرت سب پر غالب ہے اور وہ داناو بینا ہے۔ {۳۸}</p>
<p> پھر جو ظلم کرنے کے بعد توبہ کرے اور اپنی اصلاح کرلے تو اللہ کی نظر عنایت پھر اس پر مائل ہوجائے گی،[61]  اللہ بہت درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔ {۳۹}</p>
<p>کیا تم جانتے نہیں ہو کہ اللہ زمین اور آسمانوں کی سلطنت کا مالک ہے ؟ جسے چاہے سزادے اور جسے چاہے معاف کردے ، وہ ہر چیز کا اختیار رکھتا ہے۔ {۴۰}</p>
<p>اے پیغمبر  ؐ ! تمہارے لئے باعث رنج نہ ہوں وہ لوگ جو کفر کی راہ میں بڑی تیز گامی دکھا رہے ہیں [62]خواہ وہ اُن میں سے ہوں جو منھ سے کہتے ہیں ہم ایمان لائے مگر دل ان کے ایمان نہیں لائے ، یا ان میں سے ہوں جو یہودی ہیں ، جن کا حال یہ ہے کہ جھوٹ کے لیے کان لگاتے ہیں [63]، اور دوسرے لوگوں کی خاطر ، جو تمہارے پاس کبھی نہیں آئے ، سن گن لیتے پھرتے[64] ہیں ، کتاب اللہ کے الفاظ کو ان کا صحیح محل متعین ہونے کے باوجود اصل معنی سے پھیرتے ہیں[65] اور لوگوں سے کہتے ہیں کہ اگر تمہیں یہ حکم دیا جائے تو مانو نہیں تو [66]نہ مانو۔ جسے اللہ ہی نے فتنہ میں ڈالنے کا ارادہ کرلیا ہو اس کو اللہ کی گرفت سے بچانے کے لیے تم کچھ نہیں کرسکتے[67] یہ وہ لوگ ہیں، جن کے دلوں کو اللہ نے پاک کرنا نہ[68] چاہا ، ان کے لیے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں سخت سزاہے۔{۴۱}</p>
<p>یہ جھوٹ سننے والے اور حرام کے مال کھانے والے[69] ہیں ، لہٰذا اگر یہ تمہارے پاس (اپنے مقدمات لے کر ) آئیں تو تمہیں اختیار دیا جاتا ہے کہ چاہو ان کا فیصلہ کرو ورنہ انکار کردو ۔ انکار کردو تو یہ تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے ، اور فیصلہ کرو تو پھر ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔[70]{۴۲}</p>
<p>اور یہ تمہیں کیسے حکم بناتے ہیں جب کہ ان کے پاس تو راۃ موجود ہے جس میں اللہ کا حکم لکھا ہوا ہے اور پھر یہ اس سے منھ موڑ رہے ہیں ؟[71] اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے۔{ ۴۳}</p>
<p>ہم نے تو راۃ  نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی۔ سارے نبی ، جو مسلم تھے ، اسی کے مطابق ان یہودیوں کے [72] معاملات کا فیصلہ کرتے تھے ، اور اسی طرح رباّنی( علماء) اور احبار[73]  بھی ( اسی پر فیصلہ کا مدار رکھتے تھے) کیونکہ انہیں کتاب اللہ کی حفاظت کا ذمہ دار بنایا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ تھے ۔پس ( اے گِروہ یہود) تم لوگوں سے نہ ڈرو ، بلکہ مجھ سے ڈرو اور میری آیات کو ذرا ذرا سے معاوضے لے کر بیچنا چھوڑدو۔ جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں ۔{ ۴۴}</p>
<p>تو راۃ میں ہم نے یہودیوں پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان ، آنکھ کے بدلے آنکھ ، ناک کے بدلے ناک ، کان کے بدلے کان ، دانت کے بدلے دانت ، اور تمام ز خموں کے لیے برابر کا بدلہ ۔ پھر جو قصاص کا صدقہ کردے تو وہ اس کے لیے کفارہ [75]ہے۔ اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی ظالم ہیں۔{۴۵}</p>
<p>پھر ہم نے ان پیغمبروں کے بعد مریم کے بیٹے عیسیٰؑ کو بھیجا۔ تو راۃ میں سے جو کچھ اس کے سامنے موجود تھا وہ اس کی تصدیق کرنے والا تھا[76] اور ہم نے اس کو انجیل عطا کی جس میں رہنمائی اور روشنی تھی اور وہ بھی توراۃ میں سے جو کچھ اس وقت موجود تھا اس کی تصدیق کرنے والی تھی اور متقی لوگوں کے لیے سراسر ہدایت اور نصیحت تھی۔{۴۶}</p>
<p> ہمارا حکم تھا کہ اہل انجیل اس قانون کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی فاسق ہیں۔[77]{۴۷}</p>
<p>پھر( اے نبی  ا!) ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب بھیجی جو حق لے کر آئی ہے اور الکتاب میں سے جو کچھ اس کے آگے موجود ہے اُس کی تصدیق کرنے والی[78] اور اس کی محافظ و نگہبان [79]ہے ۔ لہٰذا تم اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق لوگوں کے معالات کا فیصلہ کرو اور جو حق تمہارے پاس آیا ہے اس سے منھ موڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔[80] ہم نے تم ( انسانوں ) میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک راہ ِعمل مقرر کی اگر چہ تمہارا اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک اُمت بھی بناسکتا تھا ، لیکن اس نے یہ اس لیے کیا کہ جو کچھ اس نے تم لوگوں کودیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے ۔ لہٰذا بھلائیوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔ آخر کا رتم سب کو اللہ کی طرف پلٹ کرجانا ہے ، پھر وہ تمہیں اصل حقیقت بتادے گا جس میں تم اختلاف کرتے [81]رہے ہو۔ {۴۸}</p>
<p>پس [82] (اے نبی  ؐ!)تم اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق ان لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو ۔ ہوشیار رہو کہ یہ لوگ تم کو فتنہ میں ڈال کر اس ہدایت سے ذرّہ برابر منحرف نہ کرنے پائیں جو اللہ نے تمہاری طرف نازل کی ہے ، پھر اگر یہ اس سے منھ موڑیں توجان لو کہ اللہ نے ان کے بعض گناہوں کی پاداش میں ان کو مبتلائے مصیبت کرنے کا ارادہ ہی کرلیا ہے ، اور یہ حقیقت ہے کہ ان لوگوں میں سے اکثر فاسق ہیں۔{۴۹}</p>
<p> (اگر یہ اللہ کے قانون سے منھ موڑتے ہیں) تو کیا پھر جاہلیت[83] کا فیصلہ چاہتے ہیں ؟ حالانکہ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں انکے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والااور کون ہوسکتا ہے؟ {۵۰}</p>
<p>اے لوگوجو ایمان لائے ہو!یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بنا ؤ ، یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی پھر انہی میں ہے ، یقینا اللہ ظالموں کو اپنی رہنمائی سے محروم کردیتا ہے۔ {۵۱}</p>
<p> تم دیکھتے ہو کہ جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے وہ انہی میں دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں ۔ کہتے ہیں’’ہمیں ڈرلگتا ہے کہ کہیں ہم کسی مصیبت کے چکر میں نہ پھنس جائیں۔‘‘ [84]مگر بعید نہیں کہ اللہ جب تمہیں فیصلہ کن فتح بخشے گا یا اپنی طرف سے کوئی اور بات ظاہر کرے[85] گا تو یہ لوگ اپنے اس نفاق پر جسے یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں نادِم ہوں گے۔{ ۵۲}</p>
<p>اور اس وقت اہل ایمان کہیں گے ’’ کیا یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھاکر یقین دلاتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ‘‘؟ ان کے سب اعمال ضائع ہوگئے اور آخر کار یہ ناکام و نامراد ہوکررہے ۔[86]{ ۵۳}</p>
<p>اے لوگو جو ایمان لائے ہو!اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے (تو پھر جائے) اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کردے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا، جو مومنوں پر نرم اور کفار پر سخت ہوں گے،[87]  جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنیوالے کی ملامت سے نہ ڈریں [88]گے۔یہ اللہ کا فضل ہے ، جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ اللہ وسیع ذرائع کا مالک ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔ {۵۴}</p>
<p> تمہارے رفیق تو حقیقت میں صرف اللہ اور اللہ کے رسُول  ؐ اور وہ اہل ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں۔ زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں ۔{۵۵}</p>
<p> اور جو اللہ اور اس کے رسُول  ؐ اور اہل ایمان کو اپنا رفیق بنالے اُسے معلوم ہوکہ اللہ کی جماعت ہی غالب رہنے والی ہے۔{۵۶}</p>
<p> اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تمہارے پیش رواہل کتاب میں سے جن لوگوں نے تمہارے دین کو مذاق اور تفریح کا سامان بنالیا ہے، انہیں اوردوسرے کافروں کو اپنا دوست اور رفیق نہ بنا ؤ۔ اللہ سے ڈرو، اگر تم مومن ہو ۔{۵۷}</p>
<p> جب تم نماز کے لیے منادی کرتے ہو تو وہ اس کا مذاق اڑاتے اور اس سے کھیلتے ہیں ۔[89] اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عقل نہیں رکھتے۔[90]{۵۸}</p>
<p> ان سے کہو: ’’ اے اہل کتاب ! تم جس  بات پر ہم سے بگڑے ہو وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ ہم اللہ پر اور دین کی اس تعلیم پر ایمان لے آئے ہیں جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور ہم سے پہلے بھی نازل ہوئی تھی، اور تم میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں‘‘ {۵۹}</p>
<p> پھر کہو: ’’ کیا میں اُن لوگوں کی نشان دہی کروں جن کا انجام اللہ کے ہاں فاسقوں کے انجام سے بھی بدتر ہے؟ وہ جن پر اللہ نے لعنت کی ، جن پر اس کا غضب ٹوٹا،جن میں سے بندر اور سوَّر بنائے گئے ، جنہوں نے طاغوت کی بندگی کی ۔ اُن کا درجہ اور بھی زیادہ برا ہے اور وہ  سَوَاء ُ السّبیل سے بہت زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں‘‘۔[91] {۶۰}</p>
<p> جب یہ تم لوگوں کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ، حالانکہ کفر لئے ہوئے آئے تھے اور کفر ہی لئے ہوئے واپس گئے اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں۔ {۶۱}</p>
<p>تم دیکھتے ہو کہ ان میں سے بکثرت لوگ گناہ اور ظلم و زیادتی کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں اور حرام کے مال کھاتے ہیں ۔ بہت بری حرکات ہیں جو یہ کررہے ہیں ۔{ ۶۲}</p>
<p> کیوں اُن کے علما ء اور مشائخ انہیں گناہ پر زبان کھولنے اور حرام کھانے سے نہیں روکتے ؟یقینا بہت ہی بُرا کارنامۂ زندگی ہے جو وہ تیار کررہے ہیں۔{ ۶۳}</p>
<p>یہودی کہتے ہیں اللہ کے ہاتھ بندھے ہو ئے ہیں [92] باندھے گئے ان کے ہاتھ [93]اور لعنت پڑی ان پر اُس بکو اس کی بدولت جو یہ کرتے ہیں۔[94] اللہ کے ہاتھ توکشادہ ہیں ، جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو کلام تمہارے رَبّ کی طرف سے تم  پرنازل ہوا ہے ، وہ ان میں سے اکثر لوگوں کی سرکشی و باطل پرستی میں الٹے اضافہ کا موجب بن گیا[95] ہے ، اور (اس کی پاداش میں) ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے عداوت اور دشمنی ڈال دی ہے ۔ جب کبھی یہ جنگ کی آگ بھڑ کاتے ہیں اللہ اس کو ٹھنڈا کردیتا ہے۔ یہ زمین میں فساد پھیلانے کی سعی کررہے ہیں مگر اللہ فساد برپا کرنے والوں کو ہر گزپسند نہیں کرتا۔ {۶۴}</p>
<p> اگر ( اس سرکشی کے بجائے ) یہ اہل ِکتاب ایمان لے آتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم اُن کی برائیاں ان سے دورکردیتے اور اِن کو نعمت بھری جنتوں میں پہنچاتے {۶۵}</p>
<p> کاش انہوں نے توراۃ اور انجیل اور ان دوسری کتابوں کو قائم کیا ہوتا جو ان کے رَبّ کی طرف سے ان کے پاس بھیجی گئی تھیں، ایسا کرتے تو ان کے لیے اوپر سے رزق برستا اور نیچے سے اُبلتا ۔[96] اگرچہ اِن میں کچھ لوگ راست روبھی ہیں ، لیکن ان کی اکثریت سخت بدعمل ہے۔ {۶۶}</p>
<p>  اے پیغمبر ؐ ! جو کچھ تمہارے رَبّ کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا۔ اللہ تم کو لوگوں کے شرسے بچانے والا ہے۔ یقین رکھو کہ وہ کافروں کو (تمہارے مقابلے میں) کامیابی کی راہ ہر گزنہ دکھائے گا۔{۶۷}</p>
<p> صاف کہہ دو کہ ’’ اے اہل کتاب ! تم ہر گز کسی اصل پر نہیں ہو جب تک کہ توراۃ اور انجیل اور اُن دوسری کتابوں کو قائم نہ کرو جوتمہاری طرف تمہارے رَبّ کی طرف سے نازل کی گئی ہیں۔ ‘‘[97] ضرور ہے کہ یہ فرمان جو تم پر نازل کیا گیا ہے ان میں اکثر کی سرکشی اور انکار کو اور زیادہ بڑھادے گا۔[98] مگر انکار کرنے والوں کے حال پر کچھ افسوس نہ کرو۔{۶۸}</p>
<p> (یقین جانو کہ یہاں اجارہ کسی کا بھی نہیں ہے) مسلمان ہوں یا یہُودی ، صابی ہوں یاعیسائی ، جو بھی اللہ اور روز آخر پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا بے شک اس کے لیے نہ کسی خوف کا مقام ہے نہ رنج کا۔[99] {۶۹}</p>
<p> ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے ۔ مگر جب کبھی ان کے پاس کوئی رسول ان کی خواہشات نفس کے خلاف کچھ لے کر آیاتو کسی کو اُنہوں نے جھٹلایا اور کسی کو قتل کردیا۔{ ۷۰}</p>
<p> اور اپنے نزدیک یہ سمجھے کہ کوئی فتنہ رونما نہ ہوگا، اس لیے اندھے اور بہرے بن گئے۔ پھر اللہ نے انہیں معاف کیا تو اُن میں سے اکثر لوگ اور زیادہ اندھے اور بہرے بنتے چلے گئے۔ اللہ ان کی یہ سب حرکات دیکھتا رہا ہے۔ {۷۱}</p>
<p>یقینا کفر کیا اُن لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ مسیح ابن مریم ہی ہے ۔ حالانکہ مسیح ؑ نے کہا تھا کہ ’’ اے بنی اسرائیل ، اللہ کی بندگی کرو جو میرا رَبّ بھی ہے اور تمہارا رَبّ بھی ‘‘۔ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا اس پر اللہ نے جنّت حرام کردی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔{۷۲}</p>
<p> یقینا کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا ایک ہے ، حالانکہ اُس ایک الٰہ کے سوا  کوئی الٰہ نہیں ہے ۔ اگر یہ لوگ اپنی ان باتوں سے بازنہ آئے تو ان میں سے جس جس نے کفر کیا ہے اس کو دردناک سزادی جائے گی۔{۷۳}</p>
<p>پھر کیا یہ اللہ سے توبہ نہ کریں گے اور اس سے معافی نہ مانگیں گے؟ اللہ بہت درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے۔{ ۷۴}</p>
<p> مسیح ابن ؑ مریم اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول تھا، اس سے پہلے اور بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے ، اس کی ماں ایک راست باز عورت تھی ، اور وہ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ دیکھو ہم کس طرح ان کے سامنے حقیقت کی نشانیاں واضح کرتے ہیں ، پھر دیکھو یہ کدھر الٹے پھرے جاتے ہیں ۔[100]{۷۵}</p>
<p>ان سے کہو ، کیا تم اللہ کو چھوڑ کر اُس کی پرستش کرتے ہو جو نہ تمہارے لئے نقصان کا اختیار رکھتا ہے نہ نفع کا ؟ حالانکہ سب کی سُننے والا اور سب کچھ جاننے والا تو اللہ ہی ہے ۔ {۷۶}</p>
<p> کہو :’’اے اہل کتاب ! اپنے دین میں ناحق غُلونہ کرو اور ان لوگوں کے تخیلات کی پیروی نہ کرو جو تم سے پہلے خود گمراہ ہوئے اور بہتوں کو گمراہ کیا اور ’’سواء السبیل ‘‘سے بھٹک گئے۔‘‘[101]{۷۷}</p>
<p>بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی اُن پر دا ؤد ؑ اور عیسیٰ ؑابن مریمؑ کی زبان سے لعنت کی گئی کیونکہ وہ سرکش ہوگئے تھے اور زیادتیاں کرنے لگے تھے{۷۸}</p>
<p>اُنہوں نے ایک دُوسرے کو بُرے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑ [102]دیا تھا، برُا طرز عمل تھا جو انہوں نے اختیار کیا۔{۷۹}</p>
<p>  آج تم اُن میں بکثرت ایسے لوگ دیکھتے ہو جو (اہل ایمان کے مقابلے میں ) کفار کی حمایت ورفاقت کرتے ہیں۔یقینا بہت بُرا انجام ہے جس کی تیاری ان کے نفسوں نے اُن کے لیے کی ہے، اللہ ان پر غضب ناک ہوگیا ہے اور وہ دائمی عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں۔{۸۰}</p>
<p> اگر فی الواقع یہ لوگ اللہ اور پیغمبر ؐ ! اور اس چیز کے ماننے والے ہوتے جو پیغمبر پر نازل ہوئی تھی تو کبھی (اہل ایمان کے مقابلے میں ) کافروں کو اپنا رفیق نہ بناتے ۔[103] مگر ان میں سے تو بیشتر لوگ اللہ کی اطاعت سے نکل چکے ہیں۔{۸۱}</p>
<p> تم اہل ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پا ؤ گے، اور ایمان لانے والوں کے لیے دوستی میں قریب تران لوگوں کو پا ؤ گے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاریٰـ ہیں۔ یہ اس وجہ سے کہ ان میں عبادت گزار عالم اور تارک الدنیا فقیر پائے جاتے ہیں اور ان میں غرورِنفس نہیں ہے۔{ ۸۲}</p>
<p> جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسُول  ؐ پر اترا ہے تو تم دیکھتے ہو کہ حق شناسی کے اثر سے ان کی آنکھیں آنسو ؤں سے تر ہوجاتی ہیں۔ وہ بول اٹھتے ہیں کہ ’’ پروردگار! ‘‘ہم ایمان لائے ، ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔‘‘{۸۳}</p>
<p> اور وہ کہتے ہیں کہ ’’ آخر کیوں نہ ہم اللہ پر ایمان لائیں اور جو حق ہمارے پاس آیا ہے اُسے کیوں نہ مان لیں جب کہ ہم اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارا رَبّ ہمیں صالح لوگوں میں شامل کرے‘‘ ؟{۸۴}</p>
<p> ان کے اس قول کی وجہ سے اللہ نے ان کو ایسی جنتیں عطا کیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔یہ جزاء ہے نیک رویہّ اختیار کرنے والوں کے لیے ۔{۸۵}</p>
<p> رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکارکیا اور انہیں جھٹلایا ، تو وہ جہنم کے مستحق ہیں۔{۸۶}</p>
<p>اے لوگو جو ایمان لائے ہو!جو پاک چیزیں اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہیں انہیں حرام نہ کرلو[104]  اور حد سے تجاوز نہ [105]کرو ، اللہ کو زیادتی کرنے والے سخت ناپسند ہیں۔ {۸۷}</p>
<p>جو کچھ حلال وطیب رزق اللہ نے تم کو دیا ہے اسے کھا ؤ پیو اور اس اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو جس پرتم ایمان لائے ہو۔{۸۸}</p>
<p> تم لوگ جو مہمل قسمیں کھالیتے ہو ان پر اللہ گرفت نہیں کرتا ،مگر جو قسمیں تم جان بوجھ کر کھاتے ہوان پروہ ضرور تم سے مواخذہ کرے گا۔( ایسی قسم توڑنے کا ) کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو وہ اوسط درجہ کا کھانا کھلا ؤ جو تم اپنے بال بچوں کو کھلاتے ہو، یا انہیں کپڑے پہنا ؤ ، یا ایک غلام آزاد کرو، اور جو اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ تین دن کے روزے رکھے ۔ یہ تمہاری قسموں کا کفّارہ ہے جب کہ تم قسم کھا کر توڑ دو ۔[106] اپنی قسموں کی حفاظت کیا کرو ۔[107] اس طرح اللہ اپنے احکام تمہارے لئے واضح کرتا ہے شاید کہ تم شکر ادا کرو۔{۸۹}</p>
<p>اے لوگو جو ایمان لائے ہو!یہ شراب اور جوّا اور یہ آستانے اور پانسے ،[108] یہ سب گندے شیطانی کام ہیں ، ان سے پر ہیز کرو ، امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی۔[109]{ ۹۰}</p>
<p>شیطان تو یہ چاہتاہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ سے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کی یاد سے اور نماز سے روک دے۔ پھر کیا تم ان چیزوں سے بازرہوگے؟ {۹۱}</p>
<p> اللہ اور اُس کے رسُول  ؐکی بات مانو اور باز آجا ؤ ، لیکن اگر تم نے حکم عدولی کی تو جان لو کہ ہمارے رسولؐ پر بس صاف صاف حکم پہنچادینے کی ذمہّ داری تھی{ ۹۲}</p>
<p> جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک عمل کرنے لگے انہوں نے پہلے جو کچھ کھایا پیا تھا اس پر کوئی گرفت نہ ہو گی بشرطیکہ وہ آئندہ ان چیزوں سے بچے رہیں جو حرام کی گئی ہیں اور ایمان پر ثابت قدم رہیں اور اچھے کام کریں ، پھر جس جس چیز سے روکا جائے اس سے رکیں اور جو فرمان الٰہی ہو اسے مانیں ، پھر تقویٰ کے ساتھ نیک رویہّ رکھیں ۔ اللہ نیک کردار لوگوں کو پسند کرتا ہے۔ { ۹۳}</p>
<p>اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ تمہیں اس شکار کے ذریعہ سے سخت آزمائش میں ڈالے گا جو بالکل تمہارے ہاتھوں اور نیزوں کی زد میں ہوگا، یہ دیکھنے کے لیے کہ تم میں سے کون اس سے غائبانہ ڈرتا ہے ، پھر جس نے اس تنبیہ کے بعد اللہ کی مقرر کی ہوئی حد سے تجاوز کیا اس  کے لیے دردناک سزا ہے۔{ ۹۴}</p>
<p> اے لوگو جو ایمان لائے ہو! احرام کی حالت میں شکار نہ مارو،[110] اور اگر تم میں سے کوئی جان بوجھ کر ایسا کر گزرے تو جو جانور اس نے ماراہو اسی کے ہم پلہ ایک جانور اسے مویشیوں میں سے نذردینا ہوگا جس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل آدمی کریں گے، اور یہ نذرانہ کعبہ پہنچایا جائے گا ، یانہیں تو اس گناہ کے کفارہ میں چند مسکینوں کو کھاناکھلانا ہوگا ، یا اس کے بقدر روزے رکھنے ہوں گے ،[111]تاکہ وہ اپنے کئے کا مزا چکھے ۔پہلے جو کچھ ہوچکا اسے اللہ نے معاف کردیا، لیکن اب اگر کسی نے اس حرکت کا اعادہ کیا تو اس سے اللہ بدلہ لے گا، اللہ سب پر غالب ہے اور بدلہ لینے کی طاقت رکھتا ہے۔ {۹۵}</p>
<p>تمہارے لئے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کردیا گیا ،[112] جہاں تم ٹھیرو وہاں بھی اسے کھاسکتے ہو اور قافلے  کے لیے زاد راہ بھی بنا سکتے ہو ۔ البتہ خشکی کاشکار ،جب تک تم احرام کی حالت میں ہو، تم پر حرام کیا گیا ہے۔ پس بچو اس اللہ کی نافرمانی سے جس کی پیشی میں تم سب کو گھیر کر حاضر کیا جائے گا۔{۹۶}</p>
<p>اللہ نے مکان محترم ، کعبہ کو لوگوں  کے لیے ( اجتماعی زندگی کے) قیام کا ذریعہ بنایا اور ماہ حرام اور قربانی کے جانوروں اور قلادوں کو بھی ( اس کام میں معاون بنادیا) [113] تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کے سب حالات سے باخبر ہے اوراُسے ہر  چیز کا علم ہے۔[114] {۹۷}</p>
<p> خبردار ہوجا ؤ! اللہ سزا دینے میں بھی سخت ہے اور اس کے ساتھ بہت درگزر اور رحم بھی کرنے والا ہے۔ {۹۸}</p>
<p>رسول  ؐپر تو صرف پیغام پہنچادینے کی ذمّہ داری ہے ، آگے تمہارے کھلے اور چھپے سب حالات کا جاننے والا اللہ ہے۔ {۹۹}</p>
<p> اے پیغمبر ؐ ! ان سے کہہ دو کہ پاک اور ناپاک بہرحال یکساں نہیں ہیں خواہ نا پاک کی بہتات تمہیں کتنا ہی فریفتہ کرنے والی[115] ہو ، پس اے لوگو جو عقل رکھتے ہو ، اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو، اُمید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی۔ {۱۰۰}</p>
<p>اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ایسی باتیں نہ پوچھا کرو جو تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں،[116]لیکن اگر تم انہیں ایسے وقت پوچھوگے جب کہ قرآن نازل ہورہا ہو تو وہ تم پر کھول دی جائیں گی۔ اب تک جو کچھ تم نے کیا اسے اللہ نے معاف کردیا، وہ درگزر کرنے والا اوربُردبار ہے ۔{۱۰۱}</p>
<p> تحقیق تم سے پہلے ایک گروہ نے اسی قسم کے سوالات کئے تھے ، پھر وہ لوگ انہی باتوں کی وجہ سے کفر میں مبتلا ہوگئے [107]{ ۱۰۲}</p>
<p>   اللہ نے نہ کوئی بَحیِرہ مقرر کیا ہے نہ سائبہ نہ وصیلہ اور نہ حام۔[118]  مگر یہ کافر اللہ پر جھوٹی تہمت لگاتے ہیں اور ان میں سے اکثر بے عقل ہیں ( کہ ایسے وہمیات کو مان رہے ہیں) { ۱۰۳}</p>
<p> اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آ ؤ اس قانون کی طرف جو اللہ نے نازل کیا ہے اور آ ؤ پیغمبر ؐ ! کی طرف تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہمارے لئے تو بس وہی طریقہ کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ کیا یہ باپ دادا ہی کی تقلید کئے چلے جائیں گے خواہ وہ کچھ نہ جانتے ہوں اور صحیح راستہ کی انہیں خبر ہی نہ ہو؟{۱۰۴}</p>
<p> اے لوگو جو ایمان لائے ہو!  اپنی فکر کرو ، کسی دوسرے کی گمراہی سے تمہارا کچھ نہیں بگڑتا اگر تم خود راہ راست پر [119]ہو، اللہ کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے ، پھر وہ تمہیں بتادے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔{۱۰۵}</p>
<p>اے لوگو جو ایمان لائے ہو!جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے اور وہ وصیت کررہا ہو تو اس کے لیے شہادت کا نصاب یہ ہے کہ تمہاری جماعت میں سے دو صاحب عدل آدمی [120] گواہ بنائے جائیں ، یا اگر تم سفر کی حالت میں ہو اور وہاں موت کی مصیبت پیش آجائے تو غیر لوگوں ہی میں سے دو گواہ لے لیے جائیں ۔ [121]پھر اگر کوئی شک پڑجائے تو نماز کے بعد دونوں گواہوں کو (مسجد میں ) روک لیا جائے اور وہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ ’’ ہم کسی ذاتی فائدے کے عوض شہادت بیچنے والے نہیں ہیں،اور خواہ کوئی ہمارا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو (ہم اس کی رعایت کرنے والے نہیں) اور نہ اللہ واسطے کی گواہی کو ہم چھپانے والے ہیں، اگر ہم نے ایسا کیا تو گناہ گاروں میں شمارہوں گے۔‘‘{۱۰۶}</p>
<p> لیکن اگر پتہ چل جائے کہ ان دونوں نے اپنے آپ کو گناہ میں مُبتلاکیا ہے تو پھر ان کی جگہ دو اور شخص جو اُن کی بہ نسبت شہادت دینے  کے لیے اہل ترہوں ان لوگوں میں سے کھڑے ہوں جن کی حق تلفی ہوئی ہو ، اور وہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ ’’ ہماری شہادت اُن کی شہادت سے زیادہ برحق ہے اور ہم نے اپنی گواہی میں کوئی زیادتی نہیں کی ہے ، اگر ہم ایسا کریں تو ظالموں میں سے ہوں گے‘‘۔ {۱۰۷}</p>
<p> اس طریقہ سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ لوگ ٹھیک ٹھیک شہادت دیں گے ، یا کم از کم اس بات ہی کا خوف کریں گے کہ اُن کی قسموں کے بعد دوسری قسموں سے کہیں ان کی تردیدنہ ہوجائے ۔ اللہ سے ڈرو اور سنو ، اللہ نافرمانی کرنے والوں کو اپنی رہنمائی سے محروم کردیتا ہے۔ {۱۰۸}</p>
<p>جس روز[122] اللہ سب رسولوں کو جمع کرکے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب [123] دیاگیا، تو وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ علم نہیں ،[124] آپ ہی تمام پوشیدہ حقیقتوں کو جانتے ہیں ۔{۱۰۹}</p>
<p> پھر تصور کرو اُس موقع کا جب اللہ فرمائے[125] گا کہ ’’ اے مریم کے بیٹے عیسیٰ ؑ! یاد کر میری اس نعمت کو جو میں نے تجھے اور تیری ماں کو عطا کی تھی ، میں نے روح پاک سے تیری مددکی، تو گہوار ے میں بھی لوگوں سے بات کرتا تھا اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی ، میں نے تجھ کو کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل کی تعلیم دی ، تو میرے حکم سے مٹی کا پتلا پرندے کی شکل کا بناتا اور اس میں پھونکتا تھا اور وہ میرے حکم سے پرندہ بن جاتا تھا ، تو مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم سے اچھا کرتا تھا ، تو مرُدوں کو میرے حکم سے نکالتا تھا [126]، پھر جب تو بنی اسرائیل کے پاس صریح نشانیاں لے کے پہنچا اور جو لوگ ان میں سے منکر حق تھے انہوں نے کہا کہ یہ نشانیاں جادوگری کے سوا اور کچھ نہیں ہیں تو میں نے ہی تجھے اُن سے بچایا{۱۱۰}</p>
<p> اور جب میں نے حواریوں کو اشارہ کیا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لا ؤ تب انہوں نے کہا ہم ایمان لائے اور گواہ رہو کہ ہم مسلم ہیں ‘‘[127]{۱۱۱}</p>
<p> (حواریوں  [128]کے سلسلے میں)  یہ واقعہ بھی یاد رہے کہ جب حواریوں نے کہا ’’ اے عیسیٰ ؑ !بن مریم! کیا آپؑ کارَبّ ہم پر آسمان سے کھانے کا ایک خوان اتار سکتا ہے‘‘ ؟ تو عیسیٰ ؑ نے کہا اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو۔ {۱۱۲}</p>
<p>انہوں نے کہا ’’ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ اس خوان سے کھانا کھائیں اور ہمارے دل مطمئن ہوں اور ہمیں معلوم ہوجائے کہ آپ ؑ نے جو کچھ ہم سے کہا ہے وہ سچ ہے اور ہم اُس پر گواہ  ہوں۔ ‘‘ {۱۱۳}</p>
<p>اس پر عیسیٰؑ ابن مریم نے دعا کی’’اے اللہ، ہمارے رَبّ! ہم پر آسمان سے ایک خوان نازل کرجو ہمارے لئے اور ہمارے اگلوں پچھلوں کے لیے خوشی کا موقع قرار پائے اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو ، ہم کو رزق دے اور تو بہترین رازق ہے ۔‘‘{۱۱۴}</p>
<p> اللہ نے جواب دیا ’’ میں اُس کو تم پر نازل کرنے والا ہوں ،[129] مگر اس کے بعد جو تم میں سے کفر کرے گا اسے میں ایسی سزادوں گا جو میں نے دنیا جہانوں میں کسی کو نہ دی ہوگی‘‘۔{۱۱۵}</p>
<p>غرض جب (یہ احسانات ) یادلاکر  اللہ فرمائے گا کہ ’’ اے عیسیٰؑ ابن مریم ! کیا تو نے لوگوں سے کہاتھا کہ اللہ کے سوا مجھے اور میری ماں کو بھی  اِلٰہ [130]بنالو‘‘ ؟ تو وہ جواب میں عرض کرے گا کہ ’’سبحان اللہ! میرا یہ کام نہ تھا کہ وہ بات کہتا جس کے کہنے کا مجھے حق نہ تھا ، اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی تو آپ کو ضرور علم ہوتا ، آپ جانتے  ہیں جو کچھ میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو کچھ آپ کے دل میں ہے ، آپ تو ساری پوشیدہ حقیقتوں کے عالم ہیں۔{۱۱۶}</p>
<p>میں نے اُن سے اُس کے سوا کچھ نہیں کہا جس کا آپ نے حکم دیا تھا ، یہ کہ اللہ کی بندگی کرو جو میرا رَبّ بھی ہے اور تمہارا رَبّ بھی ۔میں اسی وقت تک ان کا نگراں تھا جب تک کہ میں ان کے درمیان تھا۔ جب آپ نے مجھے واپس بلا لیا تو آپ ان پر نگراں تھے اور آپ تو ساری ہی چیزوں پر نگراں ہیں۔ {۱۱۷}</p>
<p> اب اگر آپ انہیں سزادیں تو وہ آپ کے بندے ہیں اور اگر معاف کردیں تو آپ غالب اور دانا ہیں ۔‘‘{۱۱۸}</p>
<p> تب اللہ فرمائے گا ’’یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کو ان کی سچائی نفع دیتی ہے ، ان  کے لیے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، یہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے راضی ہو ا اور وہ اللہ سے ،یہی بڑی کامیابی ہے ‘‘ {۱۱۹}</p>
<p>زمین اور آسمانوں اور تمام موجودات کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔{۱۲۰}</p>

</div><div id="6"><p>سورۃالانعام </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔</p>
<p>تعریف اللہ  کے لیے ہے جس نے زمین اور آسمان بنائے ، روشنی اور تاریکیاں پیدا کیں۔پھر بھی وہ لوگ جنہوں نے دعوت حق کو ماننے سے انکار کردیا ہے دوسروں کو اپنے رَبّ کا ہمسر ٹھہرا رہے ہیں۔ [1]{۱}</p>
<p>وہی ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا،  [2]پھر تمہارے لئے زندگی کی ایک مدت مقرر کردی، اور ایک دوسری مدت اور بھی ہے جو اس کے ہاں طے شدہ  ہے۔[3] مگر تم لوگ ہو کہ شک میں پڑے ہوئے ہو۔ { ۲}</p>
<p>وہی ایک معبود آسمانوں میں بھی ہے اور زمین میں بھی ، تمہارے کُھلے اور چُھپے سب حال جانتا ہے اور جو برائی یابھلائی تم کماتے ہواُس سے بھی و ہ خوب واقف ہے۔{ ۳}</p>
<p>لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کے رَبّ کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ایسی نہیں جو ان کے سامنے آئی ہو اور انہوں نے اس سے منھ نہ موڑلیا ہو۔ { ۴}</p>
<p> چنانچہ اب جو حق ان کے پاس آیا تو اسے بھی انہوں نے جھٹلا دیا۔ اچھا ،جس چیز کا وہ اب تک مذاق اُڑاتے رہے ہیں عنقریب اس کے متعلق کچھ خبریں انہیں پہنچیں گی۔[4]{۵}</p>
<p> کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ایسی قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں جن کا اپنے اپنے زمانے میں دور دورہ رہا ہے ؟ اُن کو ہم نے زمین میں وہ اقتدار بخشا تھا جو تمہیں نہیں بخشا ہے ، ان پر ہم نے آسمان سے خوب بارشیں برسائیں اور ان کے نیچے نہریں بہادیں ، (مگر جب انہوں نے کفران نعمت کیا تو ) آخر کار ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں انہیں تباہ کردیا اور ان کی جگہ دوسرے دور کی قوموں کو اٹھایا ۔{۶}</p>
<p>اے پیغمبر  ؐ!  اگر ہم تمہارے اُوپر کوئی کاغذ میں لکھی لکھائی کتاب بھی اُتاردیتے اور لوگ اسے اپنے ہاتھوں سے چھوکر بھی دیکھ لیتے تب بھی جنہوں نے حق کا انکار کیا ہے وہ یہی کہتے کہ یہ تو صریح جادُو ہے۔{۷}</p>
<p> کہتے ہیں کہ اس نبی پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اُتاراگیا ؟[5] اگر کہیں ہم نے فرشتہ اتار دیا ہو تا تواب تک کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا ، پھرانہیں کوئی مہلت نہ دی جاتی ۔[6]{۸}</p>
<p> اور اگر ہم فرشتے کو اُ تار تے تب بھی اسے انسانی شکل ہی میں اُتارتے اور اس طرح انہیں اسی شبہ میں مبتلا کردیتے جس میں اب یہ مبتلا ہیں۔ [7]{۹}</p>
<p>اے نبی  ؐ !تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے، مگر ان مذاق اڑانے والوں پر آخرکار وہی حقیقت مسلّط ہوکر رہی جس کا وہ مذاق اُڑاتے تھے{۱۰}</p>
<p> ان سے کہو ، ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ہے۔[8]{۱۱}</p>
<p>ان سے پوچھو آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کا ہے ؟ کہو ،سب کچھ اللہ ہی کا ہے ، [9]اس نے رحم و کرم کا شیوہ  اپنے اوپر لازم کرلیا ہے (اسی لئے وہ نافرمانیوں اور سرکشیوں پر تمہیں جلدی سے نہیں پکڑلیتا) قیامت کے روز وہ تم سب کو ضرور جمع کرے گا ، یہ بالکل ایک غیر مشتبہ حقیقت ہے،مگر جن لوگوں نے اپنے آپ کو خود تباہی کے خطرے میں مبتلا کرلیا ہے وہ اسے نہیں مانتے۔{ ۱۲}</p>
<p>رات کے اندھیرے اور دن کے اُجالے میں جو کچھ ٹھہرا ہوا ہے ،سب اللہ کا ہے اور وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے ،{ ۱۳}</p>
<p>کہو اللہ کو چھوڑ کرکیا میں کسی اور کو اپنا سرپرست بنالوں ؟ اُس اللہ کو چھوڑ کر جو زمین و آسمان کا خالق ہے اور جو روزی دیتا ہے ، روزی لیتا نہیں ہے ؟[10] کہو مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں اُس کے آگے سرِ تسلیم خم کروں (اور تاکید کی گئی ہے کہ کوئی شرک کرتا ہے تو کرے) تُو بہر حال مشرکوں میں شامل نہ ہو ۔{ ۱۴}</p>
<p>کہو! اگر میں اپنے رَبّ کی نافرمانی کروں تو ڈرتا ہوں کہ ایک بڑے ( خوفناک) دن مجھے سزا بھگتنی پڑے گی۔{۱۵}</p>
<p> اس دن جو سزا سے بچ گیا اس پر اللہ نے بڑا ہی رحم کیا اور یہی نمایاں کامیابی ہے۔{۱۶}</p>
<p> اگر اللہ تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو تمہیں اس نقصان سے بچاسکے، اور اگر وہ تمہیں کسی بھلائی سے بہرہ مند کرے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔{۱۷}</p>
<p> وہ اپنے بندوں پر کامل اختیارات رکھتا ہے اور دانا اور باخبر ہے۔{۱۸}</p>
<p>اِن سے پوچھو ، کس کی گواہی سب سے بڑھ کرہے؟ کہو، میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے،[11] اور یہ قرآن میری طرف بذریعہ وحی بھیجا گیا ہے تاکہ تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے۔سب کو متنبہ کردُوں۔کیا واقعی تم لوگ یہ شہادت دے سکتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دوسرے اِلٰہ بھی ہیں؟[12] کہو، میں تو اس کی شہادت ہر گز نہیں دے سکتا[13]۔ کہو ، درحقیقت  الٰہ (معبود)  ٰتو بس وہی ایک ہے اور میں اُس شرک سے قطعی بیزار ہوں جس میں تم مبتلا ہو۔{ ۱۹}</p>
<p> جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس بات کو اس طرح غیر مشتبہ طور پر پہچانتے ہیں جیسے اُن کو اپنے بیٹوں کے پہچاننے میں کوئی اشتباہ پیش نہیں آتا۔[14] مگر جنہوں نے اپنے آپ کو خود خسارے میں ڈال دیا ہے وہ اسے نہیں مانتے ۔{ ۲۰}</p>
<p>  اوراُس شخص سے بڑھ کر ظالم کو ن ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان لگائے ،[15] یا اللہ کی نشانیوں کو جھٹلائے ؟[16] یقینا ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پاسکتے۔{۲۱}</p>
<p>جس روز ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے اور مشرکوں سے پوچھیں گے کہ اب وہ  تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک کہاں ہیں جن کو تم اپنا الٰہ سمجھتے تھے{ ۲۲}</p>
<p>تو وہ اس کے سوا کوئی فتنہ نہ اٹھا سکیں گے کہ ( یہ جھوٹا بیان دیں کہ ) اے ہمارے آقا !تیری قسم ہم ہرگز مشرک نہ تھے۔{ ۲۳}</p>
<p>دیکھو ، اُس وقت یہ کس طرح اپنے اوپر آپ جھوٹ گھڑیں گے، اور وہاں ان کے سارے بناوٹی معبُود گم ہوجائیں گے۔ {۲۴}</p>
<p>اِن میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو کان لگاکر تمہاری بات سنتے ہیں مگر حال یہ ہے کہ ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال رکھے ہیں جن کی وجہ سے وہ اس کو کچھ نہیں سمجھتے اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دی ہے (کہ سب کچھ سننے پر بھی کچھ نہیں سنتے) [17] وہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں ، اس پر ایمان لاکر نہ دیں گے۔ حدیہ ہے کہ جب وہ تمہارے پاس آکر تم سے جھگڑتے ہیں تو ان میں سے جن لوگوں نے انکار کا فیصلہ کرلیا ہے وہ ( ساری باتیں سننے کے بعد ) یہی کہتے ہیں کہ یہ ایک داستانِ پارینہ کے سِوا کچھ نہیں۔ [18]{۲۵}</p>
<p>وہ اس امرِحق کو قبول کرنے سے لوگوں کو روکتے ہیں اور خود بھی اس سے دُور بھاگتے ہیں۔ (وہ سمجھتے ہیں کہ اس حرکت سے وہ تمہارا کچھ بگاڑ رہے ہیں) حالانکہ دراصل وہ خود اپنی ہی تباہی کا سامان کررہے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے ۔{۲۶}</p>
<p>کاش تم اُس وقت کی حالت دیکھ سکتے جب وہ دوزخ کے کنارے کھڑے کئے جائیں گے۔ اس وقت وہ کہیں گے کاش کوئی صُورت ایسی ہوکہ ہم دُنیا میں پھر واپس بھیجے جائیں اور اپنے رَبّ کی نشانیوں کو نہ جھٹلائیں اور ایمان لانے والوں میں شامل ہوں۔{۲۷}</p>
<p> در حقیقت یہ بات وہ محض اس وجہ سے کہیں گے کہ جس حقیقت پر انہوں نے پردہ ڈال رکھا تھا وہ اُس وقت بے نقاب ہو کر اُن کے سامنے آچکی ہوگی۔[19] ورنہ اگر انہیں سابق زندگی کی طرف واپس بھیجا جائے تو پھر وہی سب کچھ کریں جس سے انہیں منع کیا گیا ہے ، وہ توہیں ہی جھوٹے( اس لیے اپنی اس خواہش کے اظہار میں بھی جھوٹ ہی سے کام لیں گے) ۔{۲۸}</p>
<p>آج یہ لوگ کہتے ہیں کہ زندگی جو کچھ بھی ہے بس یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے اور ہم مرنے کے بعد ہر گز دوبارہ نہ اُٹھائے جائیں گے۔{۲۹}</p>
<p>کاش وہ منظر تم دیکھ سکو جب یہ اپنے رَبّ کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے۔ اس وقت ان کا رَبّ ان سے پوچھے گا ’’ کیا یہ حقیقت نہیں ہے؟‘‘ یہ کہیں گے ’’ہاں اے ہمارے رَبّ !یہ حقیقت ہی ہے ‘‘وہ فرمائے گا ’’ اچھا ، تو اب اپنے انکار حقیقت کی پاداش میں عذاب کا مزا چکھو ‘‘۔{۳۰}</p>
<p>نقصان میں پڑگئے وہ لوگ جنہوں نے اللہ سے اپنی ملاقات کی اطلاع کو جھوٹ قرار دیا۔جب اچانک وہ گھڑی آجائے گی تو یہی لوگ کہیں گے ’’ افسوس ! ہم سے اس معاملہ میں کیسی تقصیر ہوئی ‘‘ اور اِن کا حال یہ ہوگا کہ اپنی پیٹھوں پر اپنے گناہو ںکا بوجھ لادے ہوئے ہوں گے دیکھو ! کیسا بُرابوجھ ہے جو یہ اُٹھارہے ہیں، {۳۱}</p>
<p> دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور ایک تماشا ہے۔[20]حقیقت میں آخر ت ہی کا مقام ان لوگوں  کے لیے بہتر ہے جو زیاں کاری سے بچنا چاہتے ہیں، پھر کیا تم لوگ عقل سے کام نہ لوگے؟{۳۲}</p>
<p>اے نبی  ؐ !ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان سے تمہیں رنج ہوتا ہے، لیکن یہ لوگ تمہیں نہیں جھٹلاتے ،بلکہ یہ ظالم دراصل اللہ کی آیات کا انکار کررہے ہیں[21] {۳۳}</p>
<p> تم سے پہلے بھی بہت سے رسُول ؑجھٹلائے جاچکے ہیں مگر اس تکذیب پر اور اُن اذیتوں پر جو انہیں پہنچائی گئیں ، انہوں نے صبر کیا، یہاں تک کہ انہیں ہماری مدد پہنچ گئی ۔ اللہ کی باتوں کو بدلنے کی طاقت کسی میں نہیں ہے،[22] اور پچھلے رسولوں کیساتھ جو کچھ پیش آیا اس کی خبریں تمہیں پہنچ ہی چکی ہیں { ۳۴}</p>
<p>تاہم اگر ان لوگوں کی بے رُخی تم سے برداشت نہیں ہوتی تو اگر تم میں کچھ زور ہے تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈویا آسمان میں سیڑھی لگا ؤ اور ان کے پاس کوئی نشانی لانے کی کوشش کرو۔[23] اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کرسکتا تھا، لہذا نادان مت بنو ۔[24]{۳۵}</p>
<p>دعوت حق پر لبیک وہی لوگ کہتے ہیں جو سننے والے ہیں ، رہے مردے،[25]  تو انہیں تو اللہ بس قبروں ہی سے اٹھائے گا اور پھر وہ ( اس کی عدالت میں پیش ہونے کے لیے ) واپس لائے جائیں گے۔ {۳۶}</p>
<p>یہ لوگ کہتے ہیں کہ اِس( نبی  ؐ )پر اس کے رَبّ کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اُتاری گئی ؟ کہو ، اللہ نشانی اتارنے کی پوری قدرت رکھتا ہے ، مگر ان میں سے اکثر لوگ نادانی میں مبتلا ہیں ۔[26]{۳۷}</p>
<p> زمین میں چلنے والے کسی جانور اور ہوا میں پروں سے اُڑنے والے کسی پرندے کودیکھ لو ، یہ سب تمہاری ہی طرح کی انواع ہیں ، ہم نے ان کی تقدیر کے نوشتے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے، پھر یہ سب اپنے رَبّ کی طرف سمیٹے جاتے ہیں۔ {۳۸}</p>
<p> مگر جو لوگ ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں وہ بہرے اور گونگے ہیں ، تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہیں۔[27] اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھے رستے پر لگا دیتا ہے۔[28]{۳۹}</p>
<p> اِن سے کہو ، ذراغور کرکے بتا ؤ ، اگر کبھی تم پر اللہ کی طرف سے کوئی بڑی مصیبت آجاتی ہے یا آخری گھڑی آپہنچتی ہے تو کیا اس وقت تم اللہ کے سوا کسی اور کو پکارتے ہو ؟ بولو اگر تم سچّے ہو۔ {۴۰}</p>
<p>اس وقت تم اللہ ہی کو پکارتے ہو ، پھر اگر وہ چاہتا ہے تو اس مصیبت کو تم پرسے ٹال دیتا ہے ۔ ایسے موقعوں پر تم اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو بھول جاتے ہو [29]{۴۱}</p>
<p> اور تحقیق تم سے پہلے بہت سی قوموں کی طرف ہم نے رسول بھیجے اور ان قوموں کو مصائب وآلام میں مبتلا کیا تا کہ وہ عاجزی کے ساتھ ہمارے سامنے جھک جائیں ۔{ ۴۲}</p>
<p>پس جب ہماری طرف سے ان پر سختی آئی تو کیوں نہ انہوں نے عاجزی اختیار کی؟ مگر اُن کے دل تو اور سخت ہوگئے اور شیطان نے اُن کو اطمینان دلایا کہ جو کچھ تم کررہے ہو، خوب کررہے ہو۔{ ۴۳}</p>
<p>پھر جب انہوں نے اُس نصیحت، کو جو انہیں کی گئی تھی ، بھلادیا تو ہم نے ہر طرح کی خوشحالیوں کے دروازے ان  کے لیے کھول دیے ،یہاں تک کہ جب وہ ان بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں خوب مگن ہوگئے تو اچانک ہم نے انہیں پکڑلیا اور اب حال یہ تھا کہ وہ ہر خیر سے مایوس تھے۔ { ۴۴}</p>
<p>اس طرح اُن لوگوں کی جڑکاٹ کررکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا اور تعریف ہے اللہ ربّ العٰلمین کے لیے ( کہ اس نے ان کی جڑکاٹ دی){۴۵}</p>
<p>اے نبی  ؐ! ان سے کہو ، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر اللہ تمہاری بینائی اور سماعت تم سے چھین لے اور تمہارے دلوں پر ُمہر کردے[30] تو اللہ کے سوا اور کونسا  اِلٰہ ہے جو یہ قوتیں تمہیں واپس دلا سکتا ہو؟ دیکھو ، کس طرح ہم بار بار اپنی نشانیاں ان کے سامنے پیش کرتے ہیں اور پھر یہ کس طرح ان سے نظر چُراجاتے ہیں۔{۴۶}</p>
<p> کہو ، کبھی تم نے سوچا کہ اگر اللہ کی طرف سے اچانک یا علانیہ تم پر عذاب آجائے تو کیا ظالم لوگوں کے سوا کوئی اور ہلاک ہوگا؟ {۴۷}</p>
<p>ہم جو رسُول بھیجتے ہیں اسی لئے تو بھیجتے ہیں کہ وہ نیک کردار لوگوں  کے لیے خوشنجری دینے والے اور بدکرداروں کے لیے ڈرانے والے ہوں ۔ پھر جو لوگ ان کی بات مان لیں اور اپنے طرِز عمل کی اصلاح کرلیں ان  کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے۔{۴۸}</p>
<p>اور جو ہماری آیات کو جھٹلائیں وہ اپنی نافرمانیوں کی پاداش میں سزا بھُگت کررہیں گے۔{۴۹}</p>
<p>اے نبی  ؐ!ن سے کہو ، ’’ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں۔ نہ میں غیب کا علم رکھتاہوں ، اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر نازل کی جاتی ہے ‘‘[31] پھر اِن سے پوچھو ’’ کیا اندھااور آنکھوں والا دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ [32]کیا تم غور نہیں کرتے‘‘ ؟{۵۰}</p>
<p>اور اے نبی  ؐ! تم اس (علم وحی ) کے ذریعہ سے اُ ن لوگوں کو نصیحت کرو جو اس کا خوف رکھتے ہیں کہ اپنے رَبّ کے سامنے کبھی اِس حال میں پیش کئے جائیں گے کہ اُس کے سوا وہاں کوئی ( ایسا ذی اقتدار ) نہ ہوگا جو ان کا حامی و مددگار ہو، یا ان کی سفارش کرے ، شاید کہ (اِس نصیحت سے متنبہّ ہوکر ) وہ تقویٰ کی رَوش اختیار کرلیں۔ [33]{۵۱}</p>
<p>اور جولوگ اپنے رَبّ کو رات دن پکارتے رہتے ہیں اور اس کی خوشنودی کی طلب میں لگے ہوئے ہیں انہیں اپنے سے دورنہ پھینکو ۔[34] اُن کے حساب میں سے کسی چیز کا بارتم پر نہیں ہے، اور تمہارے حساب میں سے کسی چیز کا باران پر نہیں۔اس پربھی اگرتم انہیں دور پھینکو گے تو ظالموں میں شمار ہوگے۔[35]{ ۵۲}</p>
<p>دراصل ہم نے اِس طرح ان لوگوں میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ سے آزمائش میں ڈالا ہے[36] تا کہ وہ انہیں دیکھ کر کہیں ’’ کیا یہ ہیں وہ لوگ جن پر ہمارے درمیان اللہ کا فضل و کرم ہوا ہے؟‘‘ ہاں ! کیا اللہ اپنے شکر گزار بندوں کو اِن سے زیادہ نہیں جانتا ہے ؟{۵۳}</p>
<p> جب تمہارے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہو ’’تم پر سلامتی ہے۔ تمہارے رَبّ نے رحم و کرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کرلیا ہے۔ (یہ اس کا رحم وکرم ہی ہے کہ) اگر تم میں سے کوئی نادانی کے ساتھ کسی بُرائی کاارتکاب کربیٹھا ہو پھر اس کے بعد تو بہ کرے اور اصلاح کرلے تو وہ اسے معاف کردیتا ہے اور نرمی سے کام لیتا ہے‘‘[37] {۵۴}</p>
<p>اور اس طرح ہم اپنی نشانیاں کھول کھول کر پیش کرتے ہیں تا کہ مجرموں کی راہ بالکل نمایاں ہوجائے ۔[38]{۵۵}</p>
<p> ( اے نبی  ؐ )اِن سے کہو کہ ’’ تم لوگ اللہ کے سوا جن دوسروں کو پکارتے ہو اُن کی بندگی کرنے سے مجھے منع کیا گیا ہے ۔‘‘ کہو ،’’میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کروں گا ۔ اگر میں نے ایساکیا تو گمراہ ہوگیا اور راہِ راست پانے والوں میں سے نہ رہا ‘‘{۵۶}</p>
<p> کہو’’میں اپنے رَبّ کی طرف سے ایک دلیل روشن پر قائم ہوں اور تم نے اسے جھٹلادیا ہے ، اب میرے اختیار میں وہ چیز ہے نہیں جس  کے لیے تم جلدی مچار ہے ہو ، فیصلے کا سارا اختیار اللہ کو ہے وہی امر حق بیان کرتاہے اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والاہے‘‘ {۵۷}</p>
<p>کہو : اگرکہیں وہ چیز میرے اختیار میں ہوتی جس کی تم جلدی مچا رہے ہو [39]تو میرے اور تمہارے درمیان کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا۔مگر اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ ظالموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جانا چاہیے۔{۵۸}</p>
<p>اُسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔بحروبر میں جو کچھ ہے ۔سب سے وہ واقف ہے ۔ درخت سے گرنے والا کوئی پتہ ایسا نہیں جس کا اسے علم نہ ہو۔ زمین کے تاریک پردوں میں کوئی دانہ ایسا نہیں جس سے وہ باخبر نہ ہو ۔ خشک و ترسب کچھ ایک کھلی کتاب میں لکھا ہوا ہے ۔{۵۹}</p>
<p>وہی ہے جو رات کو تمہاری روحیں قبض کرتا ہے اور دن کو جو کچھ تم کرتے ہو اسے جانتا ہے ، پھر دوسرے روز وہ تمہیں اسی کا روبار کے عالم میں واپس بھیج دیتا ہے تا کہ زندگی کی مقرر مدت پوری ہو۔ آخر کار اسی کی طرف تمہاری واپسی ہے ، پھر وہ تمہیں بتادے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو ۔{۶۰}</p>
<p>اپنے بندوں پر وہ پوری قدرت رکھتا ہے اور تم پر نگرانی کرنیوالے مقرر کرکے بھیجتا ہے، [40]یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اس کی جان نکال لیتے ہیں اور اپنا فرض انجام دینے میں ذرا کو تاہی نہیں کرتے{۶۱}</p>
<p> پھر سب کے سب اللہ ، اپنے حقیقی آقا کی طرف واپس لائے جاتے ہیں۔خبردار ہوجا ؤ ، فیصلے کے سارے اختیارات اسی کو حاصل ہیں اور وہ حساب لینے میں بہت تیز ہے۔{۶۲}</p>
<p>(اے نبی  ؐ! )ان سے پوچھو ،صحر ا اور سمندر کی تاریکیوں میں کون تمہیں خطرات سے بچاتا ہے؟ کون ہے جس سے تم (مصیبت کے وقت) گِڑگِڑا گِڑ گِڑا کر اور چپکے چپکے دعائیں مانگتے ہو؟ کس سے کہتے ہو کہ اگر اس بلا سے اس نے ہم کو بچالیا تو ہم ضرور شکر گزارہوں گے؟ {۶۳}</p>
<p>کہو، اللہ تمہیں اس سے اور ہر تکلیف سے نجات دیتا ہے پھر تم دُوسروں کو اُس کا شریک ٹھہراتے ہو۔[41]{۶۴}</p>
<p>کہو:’’ وہ اس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کردے ، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپاکردے یاتمہیں گروہوں میں تقسیم کرکے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوادے ۔‘‘ دیکھو !ہم کس طرح باربار مختلف طریقوں سے اپنی نشانیاں انکے سامنے پیش کررہے ہیں شاید کہ یہ حقیقت کو سمجھ لیں ۔[42]{۶۵}</p>
<p> تمہاری قوم اُس کا انکار کررہی ہے حالانکہ وہ حقیقت ہے۔ ان سے کہہ دو کہ میں تم پر حوالہ دار نہیں بنایا گیا ہوں[43] {۶۶}</p>
<p>ہر خبر کے ظہور میں آنے کا ایک وقت مقرر ہے ، عنقریب تم کو خود انجام معلوم ہوجائے گا۔ {۶۷}</p>
<p>اور اے نبی  ؐ! جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری آیات پر نکتہ چینیاں کررہے ہیں تو ان کے پاس سے ہٹ جا ؤ یہاں تک کہ وہ اس گفتگو کو چھوڑ کر دوسری باتوں میں لگ جائیں اور اگر کبھی شیطان تمہیں بھُلاوے میں ڈال دے[44] تو جس وقت تمہیں اس غلطی کا احساس ہوجائے اس کے بعد پھر ایسے ظالم لوگوں کے پاس نہ بیٹھو۔ {۶۸}</p>
<p> ان کے حساب میں سے کسی چیز کی ذمہّ داری پرہیزگار لوگوں پر نہیں ہے ، البتہ نصیحت کرنا ان کا فرض ہے شاید کہ وہ غلط روی سے بچ جائیں۔[45]{۶۹}</p>
<p> چھوڑو اُن لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنارکھا ہے اور جنہیں دنیا کی زندگی فریب میں مبتلا کئے ہوئے ہے ۔ہاں مگر یہ قرآن سناکر نصیحت اور تنبیہ کرتے رہو کہ کہیں کوئی شخص اپنے کئے کرتوتوں کے وبال میں گرفتار نہ ہوجائے ، اور گرفتار بھی اِس حال میں ہو کہ اللہ سے بچانے والا کوئی حامی ومدد گار اور کوئی سفارشی اس  کے لیے نہ ہو ، اور اگر وہ ہر ممکن چیز فدیہ میں دے کرچھوٹنا چاہے تو وہ بھی اس سے قبول نہ کی جائے ، کیونکہ ایسے لوگ تو خود اپنی کمائی کے نتیجے میں پکڑے جائیں گے۔ ان کو تو اپنے انکارِ حق کے معاوضے میں کھولتا ہوا پانی پینے کو اور درد ناک عذاب بھگتنے کو ملے گا۔ { ۷۰}</p>
<p> اے نبی  ؐ! ان سے پوچھو کیا ہم اللہ کو چھوڑکر اُن کو پکاریں جو نہ ہمیں نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان ؟اور جب کہ اللہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا چکا ہے تو کیا اب ہم الٹے پا ؤں پھر جائیں؟ کیا ہم اپنا حال اُس شخص کا ساکر لیں جسے شیطانوں نے صحرا میں بھٹکادیا ہوا ور وہ حیران وسرگرداں پھر رہا ہو درآں حا لیکہ اس کے ساتھی اسے پکار رہے ہوں کہ اِدھر آ،یہ سیدھی راہ موجود ہے ؟ کہو ’’ حقیقت میں صحیح رہنمائی تو صرف اللہ ہی کی رہنمائی ہے اور اس کی طرف سے ہمیں یہ حکم ملا ہے کہ مالک کائنات کے آگے سرِ اطاعت خم کردو {۷۱}</p>
<p>  نماز قائم کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو ، اسی کی طرف تم سمیٹے جا ؤ گے ۔‘‘{۷۲}</p>
<p> وہی ہے جس نے آسمان و زمین کو برحق پیدا کیا ہے۔ اور جس دن وہ کہے گا کہ حشر ہوجائے اسی دن وہ ہوجائے گا۔ اس کا ارشادعین حق ہے اور جس روز صُور پھونکا جائے گا[47] اس روز باد شاہی اُسی کی ہوگی[48] ، وہ غیب اور شہادت[49] ہر چیز کا عالم ہے اور دانا اور باخبر ہے۔{ ۷۳}</p>
<p>ابراہیم  ؑ کا واقعہ یاد کرو جب کہ اس نے اپنے باپ آزر سے کہا تھا ’’ کیا توبتوں کو معبود بناتا ہے؟[50] میں تو تجھے اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں پاتا ہوں ‘‘ {۷۴}</p>
<p>  ابراہیم  ؑکو ہم اسی طرح زمین اور آسمانوں کا نظام سلطنت دکھاتے تھے [51]اور اس لیے دکھاتے تھے کہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے۔[52]{ ۷۵}</p>
<p> چنانچہ جب رات اس پر طاری ہوئی تو اس نے ایک تارا دیکھا ، کہا یہ میرا رَبّ ہے۔ مگر جب وہ ڈوب گیا تو بولا ڈوب جانے والوں کاتو میں گرویدہ نہیں ہوں۔ {۷۶}</p>
<p> پھر جب چاند چمکتا نظر آیاتو کہا یہ ہے میرا رَبّ۔ مگر جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہا اگر میرے رَبّ نے میری رہنمائی  نہ کی ہوتی تو میں بھی گمراہ لوگوں میں شامل ہوگیا ہوتا۔ {۷۷}</p>
<p>پھر جب سورج کو روشن دیکھا تو کہا یہ ہے میرا رَبّ ، یہ سب سے بڑا ہے ۔ مگر جب وہ بھی ڈوبا تو ابراہیم  ؑ پکارا ٹھا۔’’ اے برادران قوم!میں اُن سب سے بیزار ہوں جنہیں تم معبود حقیقی کا شریک ٹھہراتے ہو۔[53] {۷۸}</p>
<p>میں نے تو یکسُو ہو کر اپنا رُخ اُس ہستی کی طرف کرلیا جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور میں ہر گز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔‘‘ {۷۹}</p>
<p> اس کی قوم اس سے جھگڑنے لگی تو اس نے قوم سے کہا’’ کیا تم لوگ اللہ کے معاملے میں مجھ سے جھگڑتے ہو ؟ حالانکہ اس نے مجھے راہِ راست دکھادی ہے، اور میں تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے نہیں ڈرتا ، ہاں اگر میرا رَبّ کچھ چاہے تو وہ ضرور ہوسکتا ہے ، میرے رَبّ کا علم ہر چیز پر چھایا ہوا ہے ، پھر کیا تم ہوش میں نہ آ ؤ گے؟[54]{۸۰}</p>
<p> اور آخر میں تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے کیسے ڈروں جبکہ تم اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو الوہیت میں شریک بناتے ہوئے نہیں ڈرتے جن  کے لیے اس نے تم پر کوئی سند نازل نہیں کی ہے ؟ ہم دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بے خوفی واطمینان کا مستحق ہے؟ بتا ؤ اگر تم کچھ علم رکھتے ہو ۔{۸۱}</p>
<p> حقیقت میں تو امن اُن ہی  کے لیے ہے اور راہ ِراست پروہی ہیں جو ایمان لائے اور جنہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ آلودہ نہیں کیا۔‘‘[55]{۸۲}</p>
<p>یہ تھی ہماری وہ حجت جو ہم نے ابراہیم ؑ کو اُس کی قوم کے مقابلہ میں عطا کی۔ ہم جسے چاہتے ہیں بلند مرتبے عطا کرتے ہیں ۔ حق یہ ہے کہ تمہارا رَبّ نہایت دانا اور علیم ہے۔ { ۸۳}</p>
<p>پھر ہم نے ابراہیم ؑ کو اسحاق ؑ اور یعقوبؑ جیسی اولاد دی اور ہر ایک کو راہ راست دکھائی ( وہی راہِ راست جو ) اُس سے پہلے نوح  ؑکو دکھائی تھی اور اسی کی نسل سے ہم نے دا ؤ د  ؑ ، سلیمانؑ ، ایوب ؑ ، یوسف ؑ ، موسیٰ  ؑ اور ہارون ؑ کو(ہدایت بخشی) اس طرح ہم نیکو کاروں کو ان کی نیکی کا بدلہ دیتے ہے۔{ ۸۴}</p>
<p>( اُسی کی اولاد سے ) زکریا ؑ ، یحییٰ  ؑ،  عیسیٰؑ اور الیاس ؑ  کو ( راہ یاب کیا) ہر ایک ان میں سے صالح تھا۔{۸۵}</p>
<p>(اسی کے خاندان سے ) اسمٰعیل ؑ ، الیسعؑ ، اور یونس ؑ اور لوطؑ کو (راستہ دکھایا) ۔ ان میں سے ہر ایک کو ہم نے تمام دُنیا والوں پر فضیلت عطا کی{۸۶}</p>
<p> نیزان کے آبا ؤاجد اد اور ان کی اولاد اور ان کے بھائی بندوں میں سے بہتوں کو ہم نے نوازا ، انہیں اپنی خدمت  کے لیے چُن لیا اور سیدھے راستے کی طرف ان کی رہنمائی کی۔{۸۷}</p>
<p> یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے۔ لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا کرایا غارت ہوجاتا۔[56]{۸۸}</p>
<p> وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تھی۔ [57] اب اگر یہ لوگ اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو (پروانہیں) ہم نے کچھ اور لوگوں کو یہ نعمت سونپ دی ہے جو اس سے منکر نہیں ہیں۔[58]{۸۹}</p>
<p> اے نبی  ؐ! وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے، انہی کے راستہ پر تم چلو، اور کہہ دو کہ میں (اِس تبلیغ و ہدایت کے ) کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں ۔ یہ تو ایک عام نصیحت ہے تمام دنیا والوں کے لیے۔ {۹۰}</p>
<p>ان لوگوں نے اللہ کا بہت غلط اندازہ لگایا جب کہا کہ اللہ نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا ہے۔[59] اِن سے پوچھو ، پھر وہ کتاب جسے موسیٰ  ؑلایا تھا ، جو تمام انسانوں  کے لیے روشنی اور ہدایت تھی ، جسے تم پارہ  پارہ کرکے رکھتے ہو ، کچھ دکھا تے ہو اور بہت کچھ چھپا جاتے ہو، اور جس کے ذریعہ سے تم کووہ علم دیا گیا جونہ تمہیں حاصل تھا اور نہ تمہارے باپ دادا کو ، آخر اُس کا نازل کرنے والا کون تھا ؟[60] بس اتنا کہہ دو کہ اللہ ،پھر انہیں اپنی دلیل بازیوں سے کھیلنے کے لیے چھوڑدو ۔{۹۱}</p>
<p> ( اُسی کتاب کی طرح ) یہ ایک کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیاہے۔ بڑی خیرو برکت والی ہے۔ اُس چیز کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے آئی تھی اور اس لیے نازل کی گئی ہے کہ اس کے ذریعے سے تم بستیوں کے اس مرکز( یعنی مکہ ) اور اس کے اطراف میں رہنے والوں کو متنبہ کرو۔ جو لوگ آخرت کو مانتے ہیں وہ اِس کتاب پر ایمان لاتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں[61]{ ۹۲}</p>
<p>اور اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جُھوٹا بہتان گھڑے ،یا کہے کہ مجھ پر وحی آئی ہے درآں حالاکہ اس پر کوئی وحی نازل نہ کی گئی ہو ، یا جو اللہ کی نازل کردہ چیز کے مقابلے میں کہے کہ میں بھی ایسی چیز نازل کرکے دکھادوں گا؟ کاش تم ظالموں کو اس حالت میں دیکھ سکو جب کہ وہ سکراتِ موت میں ڈُبکیاں کھارہے ہوتے اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ’’لا ؤ ، نکالو اپنی جان ، آج تمہیں اُن باتوں کی پاداش میں ذِلِّت کا عذاب دیا جائے گا جو تم اللہ پر تہمت رکھ کر ناحق بکا کرتے تھے اور اس کی آیات کے مقابلے میں سرکشی دکھاتے تھے ‘‘ {۹۳}</p>
<p> ( اور اللہ فرمائے گا)’’ لو اب تم ویسے تن تنہاہمارے سامنے حاضر ہوگئے جیسا ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ اکیلا پیدا کیا تھا ، جو کچھ ہم نے تمہیں دنیا میں دیا تھا وہ سب تم اپنے پیچھے چھوڑ آئے ہو ، اور اب ہم تمہارے ساتھ تمہارے اُن سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کے متعلق تم سمجھتے تھے کہ تمہارے کام بنانے میں ان کا بھی کچھ حصہ ہے تمہارے آپس کے سب رابطے ٹوٹ گئے اور وہ سب تم سے گم ہوگئے جن کا تم زعم رکھتے تھے‘‘{۹۴}</p>
<p>دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا اللہ ہے۔ [62]وہی زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور وہی مُردہ کو زندہ سے خارج کرنے والا ہے ۔ [63] یہ سارے کام کرنے والا تو اللہ ہے ،پھر تم کدھر بہکے چلے جارہے ہو ؟{۹۵}</p>
<p> پردئہ شب کو چاک کرکے وہی صبح نکالتا ہے۔ اسی نے رات کو سکون کاوقت بنایا ہے۔ اسی نے چاند اور سُورج کے طلوع و غروب کا حساب مقرر کیا ہے ۔یہ سب اسی زبردست قدرت اور علم رکھنے والے کے ٹھہرائے ہوئے انداز ے ہیں{۹۶}</p>
<p>اور وہی ہے جس نے تمہارے لئے تاروں کو صحرا اور سمندر کی تاریکیوں  میں راستہ معلوم کرنے کا ذریعہ بنایا۔ دیکھو ہم نے نشانیاں کھول کر بیان کردی ہیں ان لوگوں  کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔[64]{۹۷}</p>
<p> اور وہی ہے جس نے ایک جان سے تم کو پیدا کیا[65] پھر ہر ایک کے لیے ایک جائے قرار ہے اور ایک اُس کے سونپے جانے کی جگہ ۔ یہ نشانیاں ہم نے واضح کردی ہیں ان لوگوں کے لیے جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔[66]{۹۸}</p>
<p>اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کے ذریعے سے ہر قسم کی نباتات اگائی،پھر اس سے ہرے ہرے کھیت اور درخت پیدا کئے ، پھر ان سے تہ برتہ چڑھے ہوئے دانے نکالے اور کھجور کے شگوفوں سے پھلوں کے گچھے کے گچھے پیدا کئے جو بوجھ کے مارے جُھکے پڑتے ہیں ، اور انگور،زیتون اور انار کے باغ لگائے جن کے پھل ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں اور پھر ہر ایک کی خصوصیات جُدا جُدا بھی ہیں۔ یہ درخت جب پھَلتے ہیں تو ان میں پھل آنے اور پھر ان کے پکنے کی کیفیت ذراغور کی نظر سے دیکھو ، ان چیزوں میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔ {۹۹}</p>
<p>اس پر بھی لوگوں نے جنوں کو اللہ کا شریک ٹھہرادیا [67]حالانکہ وہ ان کا خالق ہے ، اور بے جانے بُوجھے اس  کے لیے بیٹے اور بیٹیاں تصنیف کردیں ،[68] حالانکہ وہ پاک اور بالاتر ہے۔ ان باتوں سے جو یہ لوگ کہتے ہیں{۱۰۰}</p>
<p>  وہ تو آسمانوں اور زمین کا موجد ہے۔ اس کا کوئی بیٹا کیسے ہوسکتا ہے جب کہ کوئی اس کی شریک ِزندگی ہی نہیں ہے۔ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا  اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔{۱۰۱}</p>
<p> یہ ہے اللہ تمہارا رَبّ ، کوئی اِلٰہ اس کے سوا نہیں ہے ، ہر چیز کا خالق ، لہٰذا تم اسی کی بندگی کرو اور وہ ہر چیز کا کفیل ہے۔{ ۱۰۲}</p>
<p>نگاہیں اس کو نہیں پاسکتیں اور وہ نگاہوں کو پالیتا ہے ،وہ نہایت باریک بین اور باخبر ہے{۱۰۳}</p>
<p>  دیکھو، تمہارے پاس تمہارے رَبّ کی طرف سے بصیرت کی روشنیاں آگئی ہیں ،اب جو بینائی سے کام لے گا اپنا ہی بھلا کرے گا اور جو اندھا بنے گا خود نقصان اُٹھائے گا ، میں تم پر کوئی پاسبان نہیں ہوں۔[69] {۱۰۴}</p>
<p> اس طرح ہم اپنی آیات کو بار بار مختلف طریقوں سے بیان کرتے ہیں اور اس لیے کرتے ہیں کہ یہ لوگ کہیں ’’ تم کسی سے پڑھ آئے ہو ‘‘ اور جو لوگ علم رکھتے ہیں ان پر ہم حقیقت کو روشن کردیں ۔[70]{۱۰۵}</p>
<p>اے نبی  ؐ! اُس وحی کی پیروی کئے جا ؤ جو تم پر تمہارے رَبّ کی طرف سے نازل ہوئی ہے کیوں کہ اس ایک رَبّ کے سوا کوئی اوراِلٰہ نہیں ہے۔ اور ان مشرکین کے پیچھے نہ پڑو ۔ {۱۰۶}</p>
<p>اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو (وہ خود ایسا بندوبست کرسکتا تھا کہ) یہ لوگ شرک نہ کرتے ، تم کو ہم نے ان پرپاسبان مقرر نہیں کیا ہے[71] اور نہ تم ان پر حوالہ دار ہو۔ {۱۰۷}</p>
<p> اور (اے مسلمانو!) یہ لوگ اللہ کے سواجن کو پکارتے ہیں انہیں گالیاں نہ دو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بناپر اللہ کو گالیاں دینے لگیں۔[72] ہم نے تو اسی طرح ہر گروہ  کے لیے اس کے عمل کو خوشنما بنادیا ہے ،[73] پھر انہیں اپنے رَبّ ہی کی طرف پلٹ کر آنا ہے ،اُس وقت وہ انہیں بتادے گا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں۔{۱۰۸}</p>
<p>یہ لوگ کڑی کڑی قسمیں کھا کھا کرکہتے ہیں کہ اگر کوئی نشانی[74] (یعنی معجزہ ) ہمارے سامنے آجائے تو ہم اس پر ایمان لے آئیں گے۔ اے نبی  ؐان سے کہو کہ ’’نشانیاں تو اللہ کے اختیار میں ہیں۔‘‘ [75]اور تمہیں کیسے سمجھایا جائے کہ اگر نشانیاں آبھی جائیں تو یہ ایمان لانے والے نہیں۔ [76]{۱۰۹}</p>
<p>ہم اُسی طرح ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیررہے ہیں جس طرح یہ پہلی مرتبہ اِس (کتاب) پر ایمان نہیں لائے تھے۔ [77]ہم انہیں ان کی سرکشی ہی میں بھٹکنے  کے لیے چھوڑے دیتے ہیں۔{۱۱۰}</p>
<p>اگر ہم فرشتے بھی ان پر نازل کردیتے اور مُردے ان سے باتیں کرتے اور دنیا بھر کی چیزوں کو ہم ان کی آنکھوں کے سامنے جمع کردیتے تب بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے ، اِلاّیہ کہ مشیت الہٰی یہی ہو( کہ یہ ایمان لائیں) [78]مگر اکثر لوگ نادانی کی باتیں کرتے ہیں ۔{۱۱۱}</p>
<p> اور ہم نے تو اسی طرح ہمیشہ شیطان انسانوں اور شیطان جنوں کو ہر نبی کا دشمن بنایا ہے جو ایک دوسرے پر خوش آئند باتیں دھوکے اور فریب کے طور پر القا کرتے رہے ہیں ۔[79] اگر تمہارے رَبّ کی مشیت یہ ہوتی کہ وہ ایسا نہ کریں تو وہ کبھی نہ کرتے ۔ [80]پس تم انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو کہ اپنی افتراپردازیاں کرتے رہیں۔ { ۱۱۲}</p>
<p>(یہ سب کچھ ہم انہیں اسی لئے کرنے دے رہے ہیں کہ )جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اُن کے دِل اِس (خوشنما دھوکے ) کی طرف مائل ہوں اور وہ اس سے راضی ہوجائیں اور ان بُرائیوں کا اِکتساب کریں جن کا اِکتساب وہ کرنا چاہتے ہیں۔ {۱۱۳}</p>
<p> پھر جب حال یہ ہے تو کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا تلاش کروں ، حالانکہ اس نے پوری تفصیل کے ساتھ تمہاری طرف کتاب نازل کردی [81]ہے ؟ اور جن لوگوں کو ہم نے (تم سے پہلے ) کتاب دی تھی وہ جانتے ہیں کہ یہ کتاب تمہارے رَبّ ہی کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے، لہٰذا تم شک کرنے والوں میں شامل نہ ہو۔[82] { ۱۱۴}</p>
<p>تمہارے رَبّ کی بات سچائی اور انصاف کے اعتبار سے کامل ہے، کوئی اس کے فرامین کو تبدیل کرنیوالا نہیں ہے اور وہ سب کچھ سُنتا اور جانتا ہے {۱۱۵}</p>
<p> اور اے نبی  ؐ! اگر تم اُن لوگوں کی اکثریت کے کہنے پر چلو جو زمین میں بستے ہیں تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے بھٹکادیں گے ۔ وہ تو محض گمان پر چلتے اور قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔[83]{۱۱۶}</p>
<p> درحقیقت تمہارا رَبّ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے ہٹا ہوا ہے اور کون سیدھی راہ پر ہے۔{۱۱۷}</p>
<p>پھر اگر تم لوگ اللہ کی آیات پر ایمان رکھتے ہو تو جس جانور پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اُس کا گوشت کھا ؤ۔[84]{۱۱۸}</p>
<p>آخر کیا وجہ ہے کہ تم وہ چیز نہ کھا ؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو ؟ حالانکہ جن چیزوں کا استعمال حالتِ اضطرار کے سوا دوسری تمام حالتوں میں اللہ نے حرام کردیا ہے ان کی تفصیل وہ تمہیں بتاچکا ہے ۔[85]بکثرت لوگوں کا حال یہ ہے کہ علم کے بغیر محض اپنی خواہشات کی بنا پر گمراہ کُن باتیں کرتے ہیں ، ان حد سے گزر نے والوں کو تمہارا رَبّ خوب جانتا ہے۔{۱۱۹}</p>
<p>تم کھلے گناہوں سے بھی بچو اور چھپے گناہوں سے بھی ، جو لوگ گناہ کا اکتساب کرتے ہیں وہ اپنی اس کمائی کا بدلہ پاکر رہیں گے۔{ ۱۲۰}</p>
<p>اور جس جانور کو اللہ کانام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو اس کاگوشت نہ کھا ؤ ، ایسا کرنا فسق ہے ۔ شیاطین اپنے ساتھیوں کے دلوں میں شکوک و اعتراضات القا کرتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا [86]کریں، لیکن اگر تم نے ان کی اطاعت قبول کرلی تو یقینا تم مشرک ہو۔[87] {۱۲۱}</p>
<p>کیا وہ شخص جو پہلے مُردہ تھا پھر ہم نے اسے زندگی بخشی[88] اور اس کو وہ روشنی عطا کی جس کے اُجالے میں وہ لوگوں کے درمیان زندگی کی راہ طے کرتا ہے اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہواہو اور کسی طرح اُن سے نہ نکلتا ہو[89] ؟ کافروں کے لیے تو اسی طرح اُن کے اعمال خوشنما بنادیئے گئے ہیں[90] { ۱۲۲}</p>
<p>اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں اس کے بڑے بڑے مجرموں کو لگا دیا ہے کہ وہاں اپنے مکرو فریب کا جال پھیلائیں۔ دراصل وہ اپنے فریب کے جال میں آپ پھنستے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔{ ۱۲۳}</p>
<p>  جب ان کے سامنے کوئی آیت آتی ہے تو وہ کہتے ہیں ’’ ہم نہ مانیں گے جب تک کہ وہ چیز خود ہم کونہ دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی گئی ہے ‘‘ ۔[91] اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ اپنی پیغامبری کا کام کس سے لے اور کس طرح لے ۔ قریب ہے وہ وقت جب یہ مجرم اپنی مکاریوں کی پاداش میں اللہ کے ہاں ذلت اور سخت عذاب سے دوچار ہوں گے۔{ ۱۲۴}</p>
<p> پس (یہ حقیقت ہے کہ ) جسے اللہ ہدایت بخشنے کااِرادہ کرتا ہے اُس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے[92] اور جسے گمراہی میں ڈالنے کا ارادہ کرتا ہے اس کے سینے کو تنگ کردیتا ہے اور ایسا بھینچتا ہے کہ ( اسلام کا تصور کرتے ہی) اسے یوں معلوم ہونے لگتا ہے کہ گویا اس کی روح آسمان کی طرف پرواز کررہی ہے۔ اس طرح اللہ ( حق سے فرار اور نفرت کی ) ناپا کی اُن لوگوں پر مسلّط کردیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے{۱۲۵}</p>
<p>حالانکہ یہ راستہ تمہارے رَبّ کا سیدھاراستہ ہے اور اس کے نشانات ان لوگوں کے لیے واضح کردیے گئے ہیں جو نصیحت قبول کرتے ہیں۔ {۱۲۶}</p>
<p> ان کے رَبّ کے پاس ان کے لیے سلامتی کا گھر ہے[93] اور وہ ان کا سرپرست ہے اس صحیح طرز عمل کی وجہ سے جواُنہوں نے اختیار کیا۔{۱۲۷}</p>
<p>جس روز اللہ ان سب لوگوں کو گھیر کرجمع کرے گا اس روز وہ جنوں ( یعنی شیاطین جن ) [94]سے خطاب کرکے فرمائے گا کہ ’’ اے گروہ جن ، تم نے تو نوع انسانی پر خوب ہاتھ صاف کیا‘‘۔ انسانوں میں سے جو ان کے رفیق تھے وہ عرض کریں گے ’’ پروردگار ، ہم میں سے ہر ایک نے دوسرے کو خوب استعمال کیا ہے[95] ، اور اب ہم اُس وقت پر آپہنچے ہیں جو تو نے ہمارے لئے مقرر کردیاتھا۔ ‘‘ اللہ فرمائے گا’’اچھا اب آگ تمہارا ٹھکانا ہے ، اس میں تم ہمیشہ رہوگے ۔‘‘ اس سے بچیں گے صرف وہی جنہیں اللہ بچانا چاہے گا، بیشک تمہارا رَبّ دانا اور علیم ہے ۔[96]{۱۲۸}</p>
<p> دیکھو،اس طرح ہم ( آخرت میں ) ظالموں کو ایک دُوسرے کا ساتھی بنائیں گے اُس کمائی کی وجہ سے جو وہ ( دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر) کرتے تھے۔[97]{۱۲۹}</p>
<p> (اس موقع پر اللہ ان سے یہ بھی پوچھے گا کہ )’’اے گروہ جن وانس ! کیا تمہارے پاس خود تم میں سے ایسے رسول ؑ نہیں آئے تھے جو تم کو میری آیات سناتے اور اس دن کے انجام سے ڈراتے تھے؟‘‘ وہ کہیں گے ’’ہاں، ہم اپنے خلاف خود گواہی دیتے[98] ہیں۔‘‘ آج دنیا کی زندگی نے ان لوگوں کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ، مگر اس وقت وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے ۔[99]{ ۱۳۰}</p>
<p> (یہ شہادت اُن سے اس لیے لی جائے گی کہ یہ ثابت ہوجائے کہ ) تمہارا رَبّ  بستیوں کو ظلم کے ساتھ تباہ کرنے والا نہ تھا جب کہ ان کے باشندے حقیقت سے ناواقف ہوں۔[100] {۱۳۱}</p>
<p>ہر شخص کا درجہ اس کے عمل کے لحاظ سے ہے اور تمہارا رَبّ لوگوں کے اعمال سے بے خبر نہیں ہے۔{۱۳۲}</p>
<p>تمہارا رَبّ بے نیاز ہے اور مہربانی اس کا شیوہ [101]ہے ۔ اگر وہ چاہے تو تم لوگوں کو لے جائے اورتمہاری جگہ دوسرے جن لوگوں کو چاہے لے آئے جس طرح اس نے تمہیں کچھ اور لوگوں کی نسل سے اٹھایا ہے۔ { ۱۳۳}</p>
<p>تم سے جس چیز کا وعدہ کیا جارہا ہے وہ یقینا آنے والی ہے[102]۔ اور تم اللہ کو عاجز کردینے کی طاقت نہیں رکھتے۔ { ۱۳۴}</p>
<p>اے نبی  ؐکہہ دو کہ لوگو ، تم اپنی جگہ عمل کرتے رہو اور میں بھی اپنی جگہ عمل کررہا ہوں ،[103] عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ انجام کار کس کے حق میں بہتر ہوتا ہے ، بہر حال یہ حقیقت ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاسکتے۔{۱۳۵}</p>
<p>اِن لوگوں [104]نے اللہ کے لیے خود اُسی کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور مویشیوں میں سے ایک حصہ مقرر کیا ہے اور کہتے ہیں یہ اللہ کے لیے ہے ، بز عم خود ، اور یہ ہمارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لیے۔[105] پھر جو حصہ اُن کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لیے ہے وہ تو اللہ کو نہیں پہنچتا مگر جو اللہ کے لیے ہے وہ ان کے شریکوں کو پہنچ جاتا [106]ہے ۔ کیسے بُرے فیصلے کرتے ہیں یہ لوگ!{۱۳۶}</p>
<p>اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لیے ان کے شریکوں نے اپنی اولاد کے قتل کو خوشنمابنا دیا [107]ہے تاکہ ان کو ہلاکت میں مبتلا کریں [108]اور ان پر ان کے دین کو مشتبہ بنادیں۔[109] اگر اللہ چاہتا تو یہ ایسا نہ کرتے، لہٰذا انہیں چھوڑ دو کہ اپنی افتراپر دازیوںمیں لگے رہیں۔[110]{۱۳۷}</p>
<p>کہتے ہیں یہ جانور اور یہ کھیت محفوظ ہیں ، اِنہیں صرف وہی لوگ کھاسکتے ہیں جنہیں ہم کھلانا چاہیں۔ حالانکہ یہ پابندی ان کی خود ساختہ ہے ۔[111] پھر کچھ جانور ہیں جن پر سواری اور باربرداری حرام کردی گئی ہے اور کچھ جانور ہیں جن پر یہ اللہ کا نام نہیں لیتے ،[112] اور یہ سب کچھ انہوں نے اللہ پر افترا کیاہے ،[113]عنقریب اللہ انہیں ان افترا پر دازیوں کا بدلہ دے گا۔ {۱۳۸}</p>
<p>  اور کہتے ہیں کہ جو کچھ ان جانوروں کے پیٹ میں ہے ، یہ ہمارے مَردوں کے لیے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ، لیکن اگر وہ مُردہ ہوتو دونوں اس کے کھانے میں شریک ہوسکتے ہیں۔ [114]یہ باتیں جو انہوں نے گھڑلی ہیں ان کا بدلہ اللہ انہیں دے کر رہے گا۔ یقینًا وہ حکیم ہے اور سب باتوں کی اسے خبر ہے۔{۱۳۹}</p>
<p>یقینا خسار ے میں پڑگئے وہ لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو جہالت و نادانی کی بنا پر قتل کیا اور اللہ کے دیے ہوئے رزق کو اللہ پر افترا پر دازی کرکے حرام ٹھہرالیا۔ یقینا وہ بھٹک گئے اور ہر گز وہ راہ راست پانے والوں میں سے نہ تھے۔ [115]{ ۱۴۰}</p>
<p>وہ اللہ ہی ہے جس نے طرح طرح کے باغ اور تاکستان اورنخلستان[116] پیدا کئے ، کھیتیاں اگائیں جن سے قسم قسم کے ماکولات(کھانے کی چیزیں) حاصل ہوتے ہیں، زیتو ن اور انار کے درخت پیدا کئے جن کے پھل صورت میں مشابہ اور مزے میں مختلف ہوتے ہیں۔ کھا ؤ ان کی پیداوار جب کہ یہ پھلیں ،اور اللہ کا حق ادا کروجب ان کی فصل کاٹو،اور حد سے نہ گزرو کہ اللہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔{۱۴۱}</p>
<p> پھر وہی ہے جس نے مویشیوںمیں سے وہ جانور بھی پیدا کئے جن سے سواری و باربرداری کا کام لیاجاتا ہے اور وہ بھی جو کھانے اور بچھانے کے کام آتے ہیں  ۔[117] کھا ؤ ان چیزوں میں سے جو اللہ نے تمہیں بخشی ہیں اور تم شیطان کے نقش قدم کی  پیروی نہ کرو، وہ تمہارا کھلادشمن ہے۔[118]{ ۱۴۲}</p>
<p>یہ آٹھ نرو مادہ ہیں ، دو بھیڑ کی قسم سے اور دو بکری کی قسم سے ۔( اے نبی  ؐ!)اِن سے پوچھو کہ اللہ نے ان کے نر حرام کئے ہیں۔ یا مادہ ، یاوہ بچے جو بھیڑوں اور بکریوں کے پیٹ میں ہوں؟ ٹھیک ٹھیک علم کے ساتھ مجھے بتا ؤ اگر تم سچے ہو۔[119]{ ۱۴۳}</p>
<p>اور اسی طرح دو اونٹ کی قسم سے ہیں اور دو گائے کی قسم سے ۔ پوچھوان کے نر اللہ نے حرام کئے ہیں یا مادہ ، یاوہ بچے جو اونٹنی اور گائے کے پیٹ میں ہوں؟[120] کیا تم اس وقت حاضر تھے جب اللہ نے ان کے حرام ہونے کا حکم تمہیں دیا تھا؟ پھر اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ کی طرف منسوب کرکے جھوٹی بات کہے تا کہ علم کے بغیر لوگوں کی غلط رہنمائی کرے۔ یقینًا اللہ ایسے ظالموں کو راہ راست نہیں دکھاتا۔ {۱۴۴}</p>
<p> (اے نبی  ؐ!) ان سے کہو کہ جو وحی میرے پاس آئی ہے اس میں تو میں کوئی چیز ایسی نہیں پاتا جو کسی کھانے والے پر حرام ہو ، اِلا ّیہ کہ وہ مردار ہو ، یا بہایا ہوا خون ہو ، یا سور کا گوشت ہو کہ وہ ناپاک ہے ، یا فسق ہو کہ اللہ کے سواکسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو ۔[121]  پھر جو شخص مجبوری کی حالت میں ( کوئی چیز ان میں سے کھالے) بغیر اس کے کہ وہ نافرمانی کا ارادہ رکھتا ہو اور بغیر اس کے کہ وہ حد ِضرورت سے تجاوز کرے ، تو یقینا تمہارا رَبّ درگزر سے کام لینے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔{۱۴۵}</p>
<p>اور جن لوگوں نے یہودیت اختیار کی ان پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کردیے تھے۔ اور گائے اور بکری کی چربی بھی بجز اس کے جو ان کی پیٹھ یا ان کی آنتوں سے لگی ہوئی ہو یا ہڈی سے لگی رہ جائے۔ یہ ہم نے ان کی سرکشی کی سزا انہیں[122] دی تھی اور یہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں بالکل سچ کہہ رہے ہیں۔{۱۴۶}</p>
<p> اب اگر وہ تمہیں جھٹلائیں تو ان سے کہہ دو کہ تمہارے رَبّ کا دامن رحمت وسیع ہے اور مجرموں سے اس کے عذاب کو پھیر انہیں جاسکتا[123]{۱۴۷}</p>
<p>یہ مشرک لوگ ( تمہاری ان باتوں کے جواب میں) ضرور کہیں گے کہ :’’اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا، اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے‘‘۔[124] ایسی ہی باتیں بنابنا کر ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی حق کو جھٹلایا تھا یہاں تک کہ آخر کار ہمارے عذاب کا مزا انہوں نے چکھ لیا۔ ان سے کہو ’’ کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے جسے ہمارے سامنے پیش کر سکو؟ تم تو محض گمان پر چل رہے ہو اور نری قیاس آرائیاں کرتے ہو‘‘{۱۴۸}</p>
<p> پھر کہو ( تمہاری اس حجت کے مقابلے میں) ’’ حقیقت رس حجت تو اللہ کے پاس ہے،بے شک اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے  دیتا‘‘[125] {۱۴۹}</p>
<p>ان سے کہو کہ ’’ لا ؤ اپنے وہ گواہ جو اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ ہی نے ان چیزوں کو حرام کیا ہے ۔‘‘ پھر اگر وہ شہادت دے دیں تو تم ان کے ساتھ شہادت [126]نہ دینا ،  اور ہر گز اُن لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلنا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایاہے ، اور جو آخرت کے منکر ہیں اور جو دوسرو ں کو اپنے رَبّ کا ہمسر بناتے ہیں۔{۱۵۰}</p>
<p>اے نبی  ؐ! ان سے کہو کہ آ ؤ میں تمہیں سنا ؤں تمہارے رَبّ نے تم پر کیا پابندیاں عائد کی ہیں ،[127] یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔[128]والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو،[129]اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈرسے قتل نہ کرو، ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اوراُن کو بھی دیں گے ، اور بے شرمی کی باتوں  کے قریب بھی نہ جا ؤ [130]خواہ وہ کھلی ہوں یاچُھپی ،اور کسی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھہرایا ہے ہلاک نہ کرو مگر حق کے ساتھ۔[131] یہ باتیں ہیں جن کی ہدایت اس نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو۔{۱۵۱}</p>
<p> اور یہ کہ مال یتیم کے قریب نہ جا ؤ مگر ایسے طریقے سے جو بہترین ہو،[132] یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد کو پہنچ جائے۔ اور ناپ تول میں پورا انصاف کرو، ہم ہر شخص پر ذمہ داری کا اتنا ہی با ررکھتے ہیں جتنا اس کے امکان میں ہے۔[133] اور جب بات کہو انصاف کی کہو خواہ معاملہ اپنے رشتہ دار ہی کا کیوں نہ ہو۔اور اللہ کے عہد کو پورا کرو[134]۔ اِن باتوں کی ہدایت اللہ نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم نصیحت قبول کرو۔{ ۱۵۲}</p>
<p>نیز اُس کی ہدایت یہ ہے کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے لہٰذا تم اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اُس کے راستے سے ہٹا کر تمہیں پر اگندہ کردیں [135]گے ۔ یہ ہے وہ ہدایت جو تمہارے رَبّ نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم کج روی سے بچو۔{ ۱۵۳}</p>
<p>پھر ہم نے موسیٰ  ؑ کو کتاب عطا کی تھی جو بھلائی کی روش اختیار کرنے والے انسان پر نعمت کی تکمیل اور ہرضروری چیز کی تفصیل اور سراسر ہدایت و رحمت تھی ۔ (اور اس لیے بنی اسرائیل کو دی گئی تھی کہ ) شاید لوگ اپنے رَبّ کی ملاقات پر ایمان لائیں۔[136]{ ۱۵۴}</p>
<p>اور اسی طرح یہ کتاب ہم نے نازل کی ہے ایک برکت والی کتاب ۔ پس تم اس کی پیروی کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو ، بعید نہیں کہ تم پر رحم کیا جائے۔{۱۵۵}</p>
<p> اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کتاب تو ہم سے پہلے کے دوگروہوں کو دی گئی [137]تھی اور ہم کو کچھ خبرنہ تھی کہ وہ کیا پڑھتے پڑھاتے تھے{۱۵۶}</p>
<p> اور اب تم یہ بہانہ بھی نہیں کرسکتے کہ اگر ہم پر کتاب نازل کی گئی ہوتی تو ہم اُن سے زیادہ راست روثابت ہوتے ۔ تمہارے پاس تمہارے رَبّ کی طرف سے ایک دلیل روشن اور ہدایت اور رحمت آگئی ہے ، اب اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ کی آیات کو جھٹلائے اور اُن سے منھ موڑے ۔[138]جو لوگ ہماری آیات سے منھ موڑتے ہیں انہیں اس روگردانی کی پاداش میں ہم بدترین سزا دے کر رہیں گے۔{۱۵۷}</p>
<p>کیا اب لوگ اس کے منتظر ہیں کہ ان کے سامنے فرشتے آکھڑے ہوں، یا تمہارا رَبّ خودآجائے، یا تمہارے رَبّ کی بعض صریح نشانیاں نمودار ہوجائیں ؟ جس روز تمہارے رَبّ کی بعض مخصوص نشانیاں[139] نمودار ہوجائیں گی پھر کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان کچھ فائدہ نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لایا ہو یا جس نے اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہ کمائی ہو۔[140] اے نبی  ؐ! ان سے کہہ دو اچھا،تم انتظار کرو، ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔ {۱۵۸}</p>
<p>جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور گروہ گروہ بن گئے یقینا ان سے تمہارا کچھ واسطہ نہیں [141]، ان کا معاملہ تو اللہ کے سپرد ہے ، وہی اُن کو بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے{۱۵۹}</p>
<p>جو اللہ کے حضور نیکی لے کر آئے گا اس کے لیے دس گنا اجر ہے ، اور جو بدی لے کر آئے گا اس کو اتناہی بدلہ دیاجائے گا جنتا اس نے قصور کیا ہے اور کسی پر ظلم نہ کیا جائے گا۔{۱۶۰}</p>
<p>اے نبی  ؐ! کہو میرے رَبّ نے بالیقین مجھے سیدھاراستہ دکھا دیاہے ، بالکل ٹھیک دین جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ،ابراہیم ؑ کا طریقہ[142] جسے یکسُو ہو کر اُس نے اختیار کیا تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا{۱۶۱}</p>
<p> کہو، میری نماز ،میرے تمام مراسمِ عبودیت،[143] میرا جینا اور میرا مرنا ، سب کچھ اللہ رَبّ العٰلمین کے لیے ہے{۱۶۲}</p>
<p>جس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے سراطاعت جھکا نے والا میں ہوں۔ {۱۶۳}</p>
<p>کہو کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور رَبّ تلاش کروں ،حالاں کہ وہی ہر چیز کا رَبّ ہے ؟ [144]ہر شخص جو کچھ کماتا ہے اس کا ذمہّ دار وہ خود ہے، کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا [145] پھر تم سب کو اپنے رَبّ کی طرف پلٹنا ہے ،اس وقت وہ تمہارے اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا۔ {۱۶۴}</p>
<p> وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا، اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلے میں زیادہ بلنددرجے دیئے، تاکہ جو کچھ تم کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے۔[146] بے شک تمہارا رَبّ سزا دینے میں بہت تیز ہے اور بہت درگزر کرنے اور رحم فرمانے والا بھی ہے۔ {۱۶۵}</p>

</div><div id="7"><p>سورۃالاعراف </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والاہے۔</p>
<p>الٓ مّٓٓـصٓ۔{۱}</p>
<p>یہ ایک کتاب ہے جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے [1]، پس اے نبی  ؐ ! تمہارے دل میں اس سے کوئی جھجک نہ ہو۔[2] اس کے اتار نے کی غرض یہ ہے کہ تم اس کے ذریعہ سے ( منکرین کو) ڈرا ؤ اور ایمان لانے والے لوگوں کو نصیحت ہو۔[3]{ ۲}</p>
<p>لوگو! جو کچھ تمہارے رَبّ کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو اور اپنے رَبّ کو چھوڑ کر دوسرے سرپرستوں کی پیروی نہ کرو۔[4]مگر تم نصیحت کم ہی مانتے ہو۔ {۳}</p>
<p>کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کردیا۔ ان پر ہمارا عذاب اچانک رات کے وقت ٹوٹ پڑا، یادن دہاڑے ایسے وقت آیا جب کہ وہ آرام کررہے تھے { ۴}</p>
<p> اور جب ہمارا عذاب اُن پر آگیا تو ان کی زبان پر اس کے سوا کوئی صدا نہ تھی کہ واقعی ہم ظالم تھے۔[5]{ ۵}</p>
<p>پس یہ ضرور ہوکر رہنا ہے کہ ہم اُن لوگوں سے باز پرس کریں [6]جن کی طرف ہم نے پیغمبر بھیجے ہیں اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں (کہ انہوں نے پیغام رسانی کا فرض کہاں تک انجام دیا اور انہیں اس کا کیا جواب ملا) [7] {۶}</p>
<p> پھر ہم خود پورے علم کے ساتھ ساری سرگزشت ان کے آگے پیش کردیں گے، آخر ہم کہیں غائب تو نہیں تھے{۷}</p>
<p> اور وزن اس روزعین حق[8] ہوگا۔ جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پانے والے ہوں گے {۸}</p>
<p> اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے وہی اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کرنے والے ہوں گے[9] کیونکہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ظالمانہ برتا ؤ کرتے رہے تھے۔{۹}</p>
<p>ہم نے تمہیں زمین میں اختیارات کے ساتھ بسایا اور تمہارے لئے یہاں سامانِ زیست فراہم کیا، مگر تم لوگ کم ہی شکر گزارہوتے ہو۔{ ۱۰}</p>
<p>ہم نے تمہاری تخلیق کی ابتدا کی ، پھر تمہاری صورت بنائی ، پھر فرشتوں سے کہا آدم ؑکو سجدہ کرو۔[10] اس حکم پرسب نے سجدہ کیا مگر ابلیس سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا۔{۱۱}</p>
<p>پوچھا:’’ تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا جب کہ میں نے تجھ کو حکم دیا تھا ؟‘‘ بولا ، میں اس سے بہتر ہوں ، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اُسے مٹی سے۔{ ۱۲}</p>
<p> فرمایا:’’اچھا تو یہاں سے نیچے اُتر‘‘ تجھے حق نہیں ہے کہ یہاں بڑائی کا گھمنڈ کرے ۔ نکل جاکہ درحقیقت تُو اُن لوگوں میں سے ہے جو خود اپنی ذِلّت چاہتے ہیں‘‘[11]{ ۱۳}</p>
<p>بولا ’’ مجھے اس دن تک مہلت دے جب کہ یہ سب دو بارہ اٹھائے جائیں گے‘‘ {۱۴}</p>
<p> فرمایا ’’تجھے مہلت ہے ‘‘ {۱۵}</p>
<p>بولا ، ’’ اچھاتو جس طرح تو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا ہے میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر ان انسانوں کی گھات میں لگارہوں گا{۱۶}</p>
<p> آگے اور پیچھے ، دائیں اور بائیں ، ہر طرف سے ان کو گھیروں گا اورتُو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔‘‘[12]{۱۷}</p>
<p> فرمایا: ’’نکل جا یہاں سے ذلیل اور ٹھکرایا ہوا ۔ یقین رکھ کہ ان میں سے جو تیری پیروی کریں گے، تجھ سمیت اُن سب سے جہنم کو بھردوں گا۔{۱۸}</p>
<p> اور اے آدم! تو اور تیری بیوی ، دونوں اس جنّت میں رہو ، جہاں جس چیز کو تمہارا جی چاہے کھا ؤ ، مگر اس درخت کے پاس نہ پھٹکنا ورنہ ظالموں میں سے ہوجاو گے‘‘۔{۱۹}</p>
<p>پھر شیطان نے ان کو بہکایا تا کہ اُن کی شرمگا ہیں جو ایک دُوسرے سے چھپائی گئی تھیں ان کے سامنے کھول دے ۔ اس نے اُن سے کہا ’’تمہارے رَبّ نے تمہیں جو اس درخت سے روکا ہے اس کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جا ؤ ، یا تمہیں ہمیشگی کی زندگی حاصل نہ ہوجائے ‘‘ {۲۰}</p>
<p>اور اس نے قسم کھاکر ان سے کہا کہ میں تمہارا سچّا خیر خواہ ہوں{۲۱}</p>
<p> اس طرح دھوکا دے کر وہ ان دونوں کو رفتہ رفتہ اپنے ڈھب پرلے آیا۔ آخر کار جب انہوں نے اس درخت کا مزہ چکھا تو ان کے سترایک دوسرے کے سامنے کھل گئے اور وہ اپنے جسموں کو جنّت کے پتوں سے ڈھانکنے لگے ۔ تب ان کے رَبّ نے انہیں پکارا ’’کیا میں نے تمہیں اس درخت سے نہ روکا تھا اور نہ کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے ؟‘‘ {۲۲}</p>
<p>دونوں بول اٹھے ’’ اے ہمارے رَبّ ! ہم نے اپنے اوپر ستم کیا، اب اگر تو نے ہم سے درگزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقینا ہم تباہ ہوجائیں گے‘‘[13] { ۲۳}</p>
<p>فرمایا ،’’ اُتر جا ؤ ،[14] تم ایک دوسرے کے دشمن ہو ، اور تمہارے لئے ایک خاص مدت تک زمین ہی میں جائے قرار اور سامانِ زیست ہے۔ ‘‘{۲۴}</p>
<p>اور فرمایا ’’ وہیں تم کو جینا اور وہیں مرنا ہے اور اسی میں سے تم کو آخر کار نکالا جائے گا‘‘{۲۵}</p>
<p> اے اولاد آدم ! [15]ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابل شرم حصوں کو ڈھانکے اور تمہارے لئے جسم کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو ، اور بہترین لباس تقویٰ کا لباس ہے ۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ، شاید کہ لوگ اس سے سبق لیں ۔{۲۶}</p>
<p> اے بنی آدم ! ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں پھر اسی طرح فتنے میںمبتلا کردے جس طرح اس نے تمہارے والدین کو جنّتسے نکلوایا تھا اور اُن کے لباس اُن پر سے اترو ادیے تھے تا کہ ان کی شرمگاہیں ایک دوسرے کے سامنے کھولے۔ وہ اور اس کے ساتھی تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے ۔ اِن شیاطین کو ہم نے اُن لوگوں کا سرپرست بنادیا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔[16] {۲۷}</p>
<p>یہ لوگ جب کوئی شرمناک کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریقہ پر پایا ہے اور اللہ ہی نے ہمیں ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔[17] ان سے کہو اللہ بے حیائی کا حکم کبھی نہیں دیا کرتا ۔[18] کیا تم اللہ کا نام لے کروہ باتیں کہتے ہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہیں ؟ {۲۸}</p>
<p> اے نبی  ؐ ! ان سے کہو ، میرے رَبّ نے تو راستی وانصاف کا حکم دیا ہے اور اس کا حکم تو یہ ہے کہ ہر عبادت میں اپنا رُخ ٹھیک رکھو اور اسی کو پکارو اپنے دین کو اُس کے لیے خالص رکھ کر۔ جس طرح اس نے تمہیں اب پیدا کیا ہے اسی طرح تم پھر پیدا کئے جا ؤ گے۔[19] {۲۹}</p>
<p> ایک گروہ کو تو اس نے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے مگر دوسرے گروہ پر گمراہی چسپاں ہوکررہ گئی ہے کیونکہ انہوں نے اللہ کے بجائے شیطان کو اپنا سرپرست بنالیا ہے اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم سیدھی راہ پر ہیں۔ {۳۰}</p>
<p>اے بنی آدم ! ہر عبادت کے موقع پر اپنی زینت سے آراستہ رہو[20] اور کھا ؤ پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔[21]{۳۱}</p>
<p>اے نبی  ؐ! ان سے کہو کس نے اللہ کی اُس زینت کو حرام کردیا جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے نکالا تھا اور کس نے اللہ کی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کردیں ؟[22] کہو ، یہ ساری چیزیں دنیا کی زندگی میں بھی ایمان لانے والوں کے لیے ہیں اور قیامت کے روز تو خالصتہً انہی کے لیے ہوں گی۔[23] اس طرح ہم اپنی باتیں صاف صاف بیان کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھنے والے ہیں۔{ ۳۲}</p>
<p>اے نبی  ؐ !ان سے کہو کہ میرے رَبّ نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں :بے شرمی کے کام،خواہ کھلے ہوں یا چھپے ۔[24]اور گناہ [25]اور حق کے خلاف زیادتی [26]اور یہ کہ اللہ کے ساتھ تم کسی ایسے کو شریک کرو جس کے لیے اُس نے کوئی سند نازل نہیں کی ، اور یہ کہ اللہ کے نام پر کوئی ایسی بات کہو جس کے متعلق تمہیں علم نہ ہو (کہ وہ حقیقت میں اُسی نے فرمائی ہے)۔ {۳۳}</p>
<p>ہر قوم کے لیے مہلت کی ایک مدت مقرر ہے پھر جب کسی قوم کی مدت آن پوری ہوتی ہے تو ایک گھڑی بھر کی تاخیروتقدیم بھی نہیں ہوتی۔[27]{ ۳۴}</p>
<p> (اور یہ بات اللہ نے آغاز تخلیق ہی میں صاف فرمادی تھی کہ ) اے بنی آدم، یادرکھو ، اگر تمہارے پاس خود تم ہی میں سے ایسے رسول آئیں جو تمہیں میری آیات سنارہے ہوں ، تو جو کوئی نافرمانی سے بچے گا اور اپنے رویہ کی اصلاح کرلے گا اس کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے۔ {۳۵}</p>
<p>اور جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلائیں گے اور انکے مقابلے میں سرکشی برتیں گے وہی اہل دوزخ ہونگے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔[28]{۳۶}</p>
<p>آخر اُس سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جو بالکل جھوٹی باتیں گھڑکر اللہ کی طرف منسوب کرے یا اللہ کی سچی آیات کو جھٹلائے ؟ ایسے لوگ اپنے نوشتۂتقدیر کے مطابق اپنا حصّہ پاتے رہیں گے۔[29]یہاں تک کہ وہ گھڑی آجائے گی جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اُن کی روحیں قبض کرنیکے لیے پہنچیں گے ۔ اُس وقت وہ اُن سے پوچھیں گے کہ’’ بتا ؤ ، اب کہاں ہیں تمہارے معبود جن کو تم اللہ کے بجائے پکارتے تھے ؟‘‘ وہ کہیں گے کہ ’’سب ہم سے گم ہوگئے ‘‘ اور وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ ہم واقعی منکر حق تھے۔{۳۷}</p>
<p>اللہ فرمائے گا جا ؤ ، تم بھی اُسی جہنم میں چلے جا ؤ جس میں تم سے پہلے گزرے ہوئے گروہ جن وانس جاچکے ہیں۔ ہر گر وہ جب جہنم میں داخل ہوگا تو اپنے پیش رو گروہ پر لعنت کرتا ہوا داخل ہوگا، حتی کہ جب سب وہاں جمع ہوجائیں گے تو ہر بعد والا گروہ پہلے گروہ کے حق میں کہے گا کہ اے ہمارے رَبّ ! یہ لوگ تھے جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا، لہٰذا انہیں آگ کا دوہرا عذا ب دے، جواب میں ارشاد ہوگا، ہر ایک کے لیے دوہرا عذاب ہی ہے مگر تم جانتے نہیں ہو۔[30] {۳۸}</p>
<p> اور پہلا گروہ دوسرے گروہ سے کہے گا کہ ( اگر ہم قابل الزام تھے ) تو تم ہی کو ہم پر کون سی فضیلت حاصل تھی، اب اپنی کمائی کے نتیجہ میں عذاب کا مزا چکھو۔[31] {۳۹}</p>
<p>یقین جانو ، جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے اور ان کے مقابلے میں سرکشی کی ہے ان کے لیے آسمان کے دروازے ہرگز نہ کھولے جائیں گے ۔ ان کا جنّت میںجانا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا سوئی کے ناکے سے اونٹ کاگزرنا۔مجرموں کو ہمارے یہاں ایسا ہی بدلہ ملا کرتاہے ۔ {۴۰}</p>
<p>ان کے لیے جہنم کا بچھوناہوگا اور جہنم کا اوڑھنا ۔ یہ ہے وہ جزا جو ہم ظالموں کو دیا کرتے ہیں۔{۴۱}</p>
<p> بخلاف اس کے جن لوگوں نے ہماری آیات کو مان لیا ہے اور اچھے کام کئے ہیں۔ اور اس باب میں ہم ہر ایک کواس کی استطاعت ہی کے مطابق ذمہّ دار ٹھیراتے ہیں ،وہ اہل جنّت ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔{ ۴۲}</p>
<p>ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو کچھ کدورت ہوگی اسے ہم نکال دیں گے۔[32] ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ۔ اور وہ کہیں گے کہ ’’تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں یہ راستہ دکھایا، ہم خود راہ نہ پاسکتے تھے اگر اللہ ہماری رہنمائی نہ کرتا ، ہمارے رَبّ کے بھیجے ہوئے رسول واقعی حق ہی لے کر آئے تھے۔‘‘ اُس وقت ندا آئے گی کہ ’’ یہ جنّت جس کے تم وارث بنائے گے ہو تمہیں اُن اعمال کے بدلے میں ملی ہے جو تم کرتے رہے تھے‘‘۔[33]{۴۳}</p>
<p>پھر یہ جنّت کے لوگ دوزخ والوں سے پکار کر کہیں گے۔ ’’ہم نے اُن سارے وعدوں کو ٹھیک پایا جو ہمارے رَبّ نے ہم سے کئے تھے ، کیا تم نے بھی اُن وعدوں کو ٹھیک پایا جو تمہارے رَبّ نے کئے تھے ‘‘ ؟ وہ جواب دیں گے ’’ہاں ‘‘ تب ایک پکار نے والا ان کے درمیان پکارے گا کہ ’’ اللہ کی لعنت ان ظالموں پر {۴۴}</p>
<p> جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکتے اور اسے ٹیڑھا کرنا چاہتے تھے اور آخرت کے منکر تھے‘‘۔{۴۵}</p>
<p>ان دونوں گروہوں کے درمیان ایک اوٹ حائل ہوگی جس کی بلندیوں (اعراف ) پر کچھ اور لوگ ہوں گے ۔ یہ ہر ایک کو اس کے قیافہ سے پہچانیں گے اور جنّت والوں سے پکار کر کہیں گے کہ ’’ سلامتی ہو تم پر‘‘ یہ لوگجنّت میں داخل تو نہیں ہوئے مگر اس کے امیدوار ہوں گے۔ [34]{۴۶}</p>
<p>اور جب اُن کی نگاہیں دوزخ والوں کی طرف پھریں گی تو کہیں گے ’’ اے ہمارے رَبّ! ہمیں ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجیو‘‘{۴۷}</p>
<p>پھر یہ اعراف کے لوگ دوزخ کی چند بڑی بڑی شخصیتوں کو ان کی علامتوں سے پہچان کر پکاریں گے کہ ’’ دیکھ لیا تم نے، آج نہ تمہارے جتھے تمہارے کسی کام آئے اور نہ وہ سازو سامان جن کو تم بڑی چیز سمجھتے تھے۔ {۴۸}</p>
<p> اور کیا یہ اہل جنّت وہی لوگ نہیں ہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھا کھا کرکہتے تھے کہ ان کو تو اللہ اپنی رحمت میں سے کچھ نہ دے گا ؟ آج انہی سے کہا گیا کہ داخل ہوجا ؤ جنّت میں ،تمہارے لئے نہ خوف ہے نہ رنج ۔‘‘ {۴۹}</p>
<p>اور دوزخ کے لوگ جنّت والوں کو پکاریں گے کہ کچھ تھوڑا ساپانی ہم پر ڈال دو یا جو رزق اللہ نے تمہیں دیا ہے اسی میں سے کچھ پھینک دو ۔ وہ جواب دیں گے کہ ’’ اللہ نے یہ دونوں چیزیں اُن منکرین حق پر حرام کردی ہیں{۵۰}</p>
<p>جنہو ں نے اپنے دین کو کھیل اور تفریح بنالیا تھا اور جنہیں دنیا کی زندگی نے فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اللہ فرماتا ہے کہ آج ہم بھی اِنہیں اِسی طرح بُھلادیں گے جس طرح وہ اس دن کی ملاقات کو بھولے رہے اور ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے‘‘۔[35]{۵۱}</p>
<p>ہم اِن لوگوں کے پاس ایک ایسی کتاب لے آئے ہیں جس کو ہم نے علم کی بناء پر مفصّل بنایا ہے[36] اور جو ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے [37]{۵۲}</p>
<p> اب کیا یہ لوگ اِس کے سِوا کسی اور بات کے منتظر ہیں کہ وہ انجام سامنے آجائے جس کی یہ کتاب خبردے رہی ہے ؟[38] جس روز وہ انجام سامنے آگیا تو وہی لوگ جنہوں نے پہلے اسے نظر انداز کردیا تھا کہیں گے کہ ’’واقعی ہمارے رَبّ کے رسول حق لے کر آئے تھے،پھر کیا اب ہمیں کچھ سفارشی ملیں گے جو ہمارے حق میں سفارش کریں ؟ یا ہمیں دوبارہ واپس ہی بھیج دیا جائے تا کہ جو کچھ ہم پہلے کرتے تھے اس کے بجائے اب دوسرے طریقے پر کام کرکے دکھائیں ‘‘۔[39]انہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈال دیا اور وہ سارے جھوٹ جو انہوں نے تصنیف کررکھے تھے ، آج اُن سے گُم ہوگئے۔ { ۵۳}</p>
<p>درحقیقت تمہارا رَبّ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا،[40] پھر اپنے تخت سلطنت پر جلوہ فرماہوا۔ [41]جو رات کو دن پرڈھانک دیتا ہے اور پھر دن رات کے پیچھے دوڑ ا چلاآتا ہے جس نے سورج اور چاند اور تارے پیدا کئے سب اسکے فرمان کے تابع ہیں۔ خبردارر ہو ! اُسی کی خلق ہے اوراُسی کاامر ہے۔[42] بڑا بابرکت ہے اللہ ،[43]سارے جہانوں کا مالک وپروردگار{ ۵۴}</p>
<p>اپنے رَبّ کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے ، یقینا وہ حد سے گزر نے والوں کو پسند نہیں کرتا۔{۵۵}</p>
<p>زمین میں فساد برپانہ کرو جب کہ اس کی اصلاح ہوچکی ہے[44] اور اللہ ہی کو پکار وخوف کے ساتھ اور طمع کے ساتھ ،[45] یقینا اللہ کی رحمت نیک کردار لوگوں سے قریب ہے۔{۵۶}</p>
<p>اور وہ اللہ ہی ہے جو ہوا ؤں کو اپنی رحمت کے آگے آگے خوشنجری لئے ہوئے بھیجتا ہے ، پھر جب وہ پانی سے لدے ہوئے بادل اٹھالیتی ہیں تو انہیں کسی مردہ سرزمین کی طرف حرکت دیتا ہے اور وہاں مینہ برساکر (اسی مری ہوئی زمین سے) طرح طرح کے پھل نکال لاتا ہے۔ دیکھو ، اس طرح ہم مُردوں کو حالتِ موت سے نکالتے ہیں، شاید کہ تم اس مشاہدے سے سبق لو۔{۵۷}</p>
<p>جو زمین اچھی ہوتی ہے وہ اپنے رَبّ کے حکم سے خوب پھل پھول لاتی ہے اور جو زمین خراب ہوتی ہے اس سے ناقص پیداوار کے سوا کچھ نہیں نکلتا ۔[46]اسی طرح ہم نشانیوں کو باربار پیش کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو شکر گزار ہونے والے ہیں{۵۸}</p>
<p>ہم نے نوح ؑ کو اس کی قوم کی طرف بھیجا ۔[47] اس نے کہا ’’ اے برادران قوم !اللہ کی بندگی کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی  اِلٰہ نہیں ہے ۔[48] میں تمہارے حق میں ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں ۔‘‘ {۵۹}</p>
<p> اس کی قوم کے سرداروں نے جواب دیا ’’ ہم کو تویہ نظر آتا ہے کہ تم صریح گمراہی میں مبتلا ہو‘‘ {۶۰}</p>
<p> نوح ؑنے کہا: ’’ اے برادران قوم !میں کسی گمراہی میں نہیں پڑاہوں ، بلکہ میں ربّ العٰلمین کا رسُو ل ہوں {۶۱}</p>
<p> تمہیں اپنے ر ب کے پیغامات پہنچاتا ہوں ، تمہارا خیر خواہ ہوں اور مجھے اللہ کی طرف سے وہ کچھ معلوم ہے جو تمہیں معلوم نہیں ہے۔{ ۶۲}</p>
<p>کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعہ سے تمہارے رَبّ کی یاد دہانی آئی تا کہ تمہیں خبردار کرے اور تم غلط روی سے بچ جا ؤ اور تم پر رحم کیا جائے ؟‘‘[49]{۶۳}</p>
<p>مگراُنہوں نے اس کو جھٹلادیا۔ آخر کارہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو ایک کشتی میں نجات دی اور ان لوگوں کو ڈبودیا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا ،[50] یقینا وہ اندھے لوگ تھے۔{ ۶۴}</p>
<p>اور عاد[51] کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہو دؑ کو بھیجا۔  اس نے کہا ’’ اے برادران قوم ! اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی اِلہٰ  نہیں ہے ۔ پھر کیا تم غلط روی سے پرہیز نہ کرو گے؟‘‘ {۶۵}</p>
<p>اس کی قوم کے سرداروں نے ، جو اس کی بات ماننے سے انکار کررہے تھے ، جواب میں کہا ’’ ہم تو تمہیں بے عقلی میں مبتلا سمجھتے ہیں اور ہمیں گمان ہے تم جُھوٹے ہو ‘‘۔{۶۶}</p>
<p> اس نے کہا ’’ اے برارانِ قوم !میں بے عقلی میں مبتلا نہیں ہوں بلکہ میں رَبّ العٰلمین کا رسول ہوں۔{۶۷}</p>
<p>تم کو اپنے رَبّ کے پیغامات پہنچاتاہوں ، اور تمہارا ایسا خیر خواہ ہوں جس پربھروسہ کیا جاسکتا ہے {۶۸}</p>
<p> ’’کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعہ سے تمہارے ر ب کی یاد دہانی آئی تا کہ وہ تمہیں خبردار کرے ؟ بھول نہ جا ؤ کہ تمہارے رَبّ نے نوحؑ کی قوم کے بعد تم کو اس کا جانشین بنایا اور تمہیں خوب تنومند کیا ، پس اللہ کی قدرت کے کرشموں کو یاد رکھو،[52] امید ہے کہ فلاح پا ؤ گے۔‘‘ {۶۹}</p>
<p>انہوں نے جواب دیا ’’ کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہم اکیلے اللہ ہی کی عبادت کریں اور اُنہیں چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں؟[53] اچھا تو لے آوہ عذاب جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تو سچّا ہے ‘‘{۷۰}</p>
<p> اس نے کہا ’’تمہارے رَبّ کی پھٹکار تم پر پڑگئی اور اس کا غضب ٹوٹ پڑا کیا تم مجھ سے ان ناموں پر جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں۔[54]  جن کے لیے اللہ نے کوئی سندنازل نہیں کی ہے ؟[55] اچھا تو تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ‘‘ {۷۱}</p>
<p>آخرکار ہم نے اپنی مہربانی سے ہودؑ اور اس کے ساتھیوں کو بچالیا اور ان لوگوں کی جڑکاٹ دی جوہماری آیات کو جھٹلا چکے تھے اور ایمان لانے والے نہ تھے[56]{ ۷۲}</p>
<p>او رثمود[57]کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح  ؑکو بھیجا اس نے کہا:’’ اے برادران قوم ! اللہ کی بندگی کرو ،اس کے سوا تمہارا کوئی  اِلٰہ  نہیں ہے ۔ تمہارے پاس تمہارے رَبّ کی کھلی دلیل آگئی ہے۔‘‘ یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لئے ایک نشانی کے طور پر ہے [58]، لہٰذا اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں چرتی پھرے ۔ اس کو کسی بُرے ارادے سے ہاتھ نہ لگانا، ورنہ ایک درد ناک عذاب تمہیں آلے گا۔{ ۷۳}</p>
<p>یاد کرووہ وقت جب اللہ نے قومِ عاد کے بعد تمہیں اس کا جانشین بنایا اور تم کو زمین میں یہ منزلت بخشی کہ آج تم اس کے ہموار میدانوں میں عالی شان محل بناتے اور اس کے پہاڑوں کو مکانات کی شکل میں تراشتے ہو۔[59] پس اس کی قدرت کے کرشموں سے غافل نہ ہوجا ؤ اور زمین میں فساد برپانہ کرو‘‘[60]{۷۴}</p>
<p>اس کی قوم کے سرداروں نے جوبڑے بنے ہوئے تھے ، کمزور طبقہ کے اُ ن لوگوں سے جو ایمان لے آئے تھے ، کہا ’’ کیا تم واقعی یہ جانتے ہو کہ صا لح  ؑ اپنے رَبّ کا پیغمبر ہے ؟ ‘‘ انہوں نے جواب دیا ’’بے شک جس پیغام کے ساتھ وہ بھیجا گیا ہے اسے ہم مانتے ہیں ‘‘{۷۵}</p>
<p> اُن بڑائی کے مدعیوں نے کہا ’’جس چیز کو تم نے مانا ہے ہم اس کے منکر ہیں‘‘{۷۶}</p>
<p>پھر انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا [61]اور پورے تمرُّد(غرور)کے ساتھ اپنے رَبّ کے حکم کی خلاف ورزی کر گزرے ، اور صالح  ؑسے کہہ دیا کہ ’’ لے آوہ عذاب جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تو واقعی پیغمبروں میں سے ہے۔‘‘ {۷۷}</p>
<p> آخر کار ایک دہلا دینے والی آفت [62]نے انہیں آلیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے۔ {۷۸}</p>
<p> اور صالح  ؑ یہ کہتا ہو ا ان کی بستیوں سے نکل گیا کہ ’’ اے میری قوم! میں نے اپنے رَبّ کا پیغام تجھے پہنچا دیا اور میں نے تیری بہت خیر خواہی کی ،مگر میں کیا کروں کہ تجھے اپنے خیر خواہ پسند ہی نہیں ہیں‘‘{۷۹}</p>
<p> اور لوط  ؑ کو ہم نے پیغمبر بناکر بھیجا ، پھر یاد کر وجب اس نے اپنی قوم سے کہا[63] ’’ کیا تم ایسے بے حیا ہوگئے ہو کہ وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا؟{۸۰}</p>
<p> تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرتے۔[64] ہو حقیقت یہ ہے کہ تم بالکل ہی حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔‘‘ {۸۱}</p>
<p> مگر اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ’’ نکالو اِن لوگوں کو اپنی بستیوں سے ، بڑے پاک باز بنتے ہیں یہ‘‘[65]{۸۲}</p>
<p>آخر کار ہم نے لوط ؑاور اس کے گھروالوں کو، بجز اُس کی بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی، [66]بچاکر نکال دیا {۸۳}</p>
<p>اور اس قوم پر برسائی ایک بارش ،[67]  پھر دیکھو کہ اُن مجرموں کا کیا انجام ہوا۔[68]{ ۸۴}</p>
<p>اور مَدْیَنْ  [69]والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب ؑ کو بھیجا۔ اس نے کہا ’’ اے برادران قوم ! ا للہ کی بندگی کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی  الٰہ  نہیں ہے ۔ تمہارے پاس تمہارے رَبّ کی صاف رہنمائی آگئی ہے ، لہٰذا وزن اور پیمانے پورے کرو ، لوگوں کو ان کی چیزوں میں گھاٹا نہ دو ،[70] اور زمین میں فساد برپا نہ کرو جب کہ اس کی اصلاح ہوچکی ہے،[71]اسی میں تمہاری بھلائی ہے اگر تم واقعی مومن ہو۔[72] {۸۵}</p>
<p> اور (زندگی کے ) ہر راستے پر رہزن بن کرنہ بیٹھ جا ؤ کہ لوگوں کو خوف زدہ کرنے اور ایمان لانے والوں کو اللہ کے راستے سے روکنے لگو اور سیدھی راہ کو ٹیڑھا کرنے کے درپے ہوجا ؤ۔ یاد کرو وہ زمانہ جب کہ تم تھوڑے تھے پھر اللہ نے تمہیں بہت کردیا، اور آنکھیں کھول کر دیکھو کہ دنیا میں مفسدوں کا کیا انجام ہوا ہے۔{۸۶}</p>
<p>اگر تم میں سے ایک گروہ اُس تعلیم پر جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں ، ایمان لاتا ہے اور دوسرا ایمان نہیں لاتا تو صبر کے ساتھ دیکھتے رہو یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کردے ، اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے‘‘ ۔{۸۷}</p>
<p>اُس کی قوم کے سرداروں نے ، جو اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا تھے ، اس سے کہا کہ’’ اے شعیب ؑ ! ہم تجھے اور اُن لوگوں کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے ورنہ تم لوگوں کو ہماری  مِلّت میں واپس آنا ہوگا ‘‘۔ شعیبؑ نے جواب دیا’’ کیا زبردستی ہمیں پھیراجائے گا خواہ ہم راضی نہ ہوں ؟{۸۸}</p>
<p> ہم اللہ پر جھوٹ گھڑنے والے ہوں گے اگر تمہاری مِلّت میں پلٹ آئیں جب کہ اللہ ہمیں اس سے نجات دے چکا ہے ، ہمارے لئے تو اس کی طرف پلٹنا اب کسی طرح ممکن نہیں اِلاّ یہ کہ اللہ ہمارا رَبّ ہی ایسا چاہے ۔[73] ہمارے رَبّ کا علم ہر چیز پر حاوی ہے ، اُسی پر ہم نے اعتماد کرلیا۔ اے رَبّ! ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردے اور تُو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے‘‘ {۸۹}</p>
<p>اس کی قوم کے سرداروں نے ، جو اس کی بات ماننے سے انکار کرچکے تھے آپس میں کہا ’’ اگر تم نے شعیب ؑ کی پیروی قبول کرلی تو برباد ہوجا ؤ گے‘‘۔[74]{۹۰}</p>
<p> مگر ہوا یہ کہ ایک دہلا دینے والی آفت نے ان کو آلیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے۔{۹۱}</p>
<p> جن لوگوں نے شعیب ؑ کو جھٹلایا وہ ایسے مٹے کہ گویا کبھی ان گھروں میں بسے ہی نہ تھے۔ شعیب ؑ کے جھٹلانے والے ہی آخر کار برباد ہو کررہے۔[75]{ ۹۲}</p>
<p>اور شعیب ؑ یہ کہہ کر ان کی بستیوں سے نکل گیا کہ ’’ اے برادران قوم ! میں نے اپنے رَبّ کے پیغامات تمہیں پہنچادیے اور تمہاری خیر خواہی کا حق ادا کردیا، اب میں اُس قوم پر کیسے افسوس کروں جو قبول حق سے انکار کرتی ہے۔‘‘[76]{۹۳}</p>
<p>کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے کسی بستی میں نبی بھیجا ہواور اس بستی کے لوگوں کو پہلے تنگی اور سختی میں مبتلا نہ کیا ہو ،اس خیال سے کہ شاید وہ عاجزی پر اُتر آئیں۔ { ۹۴}</p>
<p>پھر ہم نے ان کی بدحالی کو خوش حالی سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ خوب پھلے پھولے اور کہنے لگے کہ ’’ہمارے اسلاف پر بھی اچھے اور برے دن آتے ہی رہے ہیں۔‘‘ آخر کار ہم نے انہیں اچانک پکڑلیا اور انہیں خبرتک نہ ہوئی۔[77] {۹۵}</p>
<p> اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے ، مگر انہوں نے تو جھٹلایا ، لہٰذا ہم نے اس بُری کمائی کے حساب میں انہیں پکڑلیا جو وہ سمیٹ رہے تھے۔ {۹۶}</p>
<p> پھر کیا بستیوں کے لوگ اب اس سے بے خوف ہوگئے ہیں کہ ہماری گرفت کبھی اچانک ان پر رات کے وقت نہ آجائے گی جب کہ وہ سوئے پڑے ہوں ؟{۹۷}</p>
<p> یا انہیں اطمینان ہوگیا ہے کہ ہمارا مضبوط  ہاتھ کبھی یکایک ان پردن کے وقت نہ پڑے گا جب کہ وہ کھیل رہے ہوں ؟{۹۸}</p>
<p> کیا یہ لوگ اللہ کی چال سے بے خوف ہیں؟ [78]حالانکہ اللہ کی چال سے وہی قوم بے خوف ہوتی ہے،جوتباہ ہونے والی ہو۔ {۹۹}</p>
<p> اور کیا اُن لوگوںکو جو سابق اہل زمین کے بعد زمین کے وارث ہوتے ہیں ، اس امرواقعی نے کچھ سبق نہیں دیا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے قصوروں پر انہیں پکڑسکتے ہیں ؟[79] ( مگر وہ سبق آموز حقائق سے تغافل برتتے ہیں) اور ہم ان کے دلوں پر مہر لگادیتے ہیں ، پھر وہ کچھ نہیں سنتے۔[80]{۱۰۰}</p>
<p>یہ قومیں جن کے قصّے ہم تمہیں سنارہے ہیں (تمہارے سامنے مثال میں موجودہیں) ان کے رسول ؑ ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے ۔مگر جس چیز کو وہ ایک دفعہ جھٹلا چکے تھے پھر اسے وہ ماننے والے نہ تھے ۔ دیکھو اس طرح ہم منکرینِ حق کے دلوں پر مُہر لگادیتے ہیں۔ [81]{۱۰۱}</p>
<p> ہم نے ان میں سے اکثر میں کوئی پاس ِعہد نہ پایا ،بلکہ اکثر کو فاسق ہی پایا [82]{۱۰۲}</p>
<p>پھراُن قوموں کے بعد ( جن کا ذکر اوپر کیا گیا ) ہم نے موسیٰ  ؑ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کے پاس بھیجا ۔[83] مگر انہوں نے بھی ہماری نشانیوں کے ساتھ ظلم کیا ،[84] پس دیکھو کہ ان مفسدوں کا کیا انجام ہوا۔{۱۰۳}</p>
<p> موسیٰ  ؑنے کہا ’’اے فرعون ! [85]میں کائنات کے مالک کی طرف سے بھیجاہوا آیا ہوں[86] { ۱۰۴}</p>
<p>میرا منصب یہی ہے کہ اللہ کا نام لے کر کوئی بات حق کے سوا نہ کہوں ، میں تم لوگوں کے پاس تمہارے رَبّ کی طرف سے صریح دلیلِ ماموریت لے کر آیا ہوں ، لہٰذا تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے ۔‘‘ {۱۰۵}</p>
<p> فرعون نے کہا ’’ اگر تو کوئی نشانی لایا ہے اور اپنے دعوے میں سچاہے تو اُسے پیش کر‘‘{۱۰۶}</p>
<p> موسیٰ  ؑنے اپنا عصا پھینکا اور یکا یک وہ ایک جیتا جاگتا اژدھا تھا۔{۱۰۷}</p>
<p> اس نے اپنی جیب سے ہاتھ نکالا اور سب دیکھنے والوں کے سامنے وہ چمک رہاتھا۔[87]{۱۰۸}</p>
<p>اس پر فرعون کی قوم کے سرداروں نے آپس میں کہا کہ ’’یقینا یہ شخص بڑا ماہر جادوگر ہے{۱۰۹}</p>
<p> تمہیں تمہاری زمین سے بے دخل کرنا چاہتا ہے،[88] اب کہو کیا کہتے ہو؟‘‘ {۱۱۰}</p>
<p> پھر ان سب نے فرعون کو مشورہ دیا کہ اسے اور اس کے بھائی کو انتظار میں رکھئے اور تمام شہروں میں ہر کارے بھیج دیجئے {۱۱۱}</p>
<p>کہ ہرماہر فن جادوگر کو آٖ پ کے پاس لے آئیں۔[89]{ ۱۱۲}</p>
<p>چنانچہ جادوگر فرعون کے پاس آگئے ۔ انہوں نے کہا ’’اگر ہم غالب رہے تو ہمیں اس کا صلہ تو ضرور ملے گا ؟‘‘{۱۱۳}</p>
<p>فرعون نے جواب دیا’’ہاں ، اور تم مقربّ بارگاہ ہوگے۔‘‘{۱۱۴}</p>
<p> پھر انہوں نے موسیٰ  ؑسے کہا۔ ’’تم پھینکتے ہویا ہم پھینکیں ؟‘‘{۱۱۵}</p>
<p> موسیٰ  ؑ نے جواب دیا ’’تم ہی پھینکو ‘‘۔ انہوں نے جو اپنے انچھر پھینکے تو نگاہوں کو مسحوراور دلوں کو خوف زدہ کردیا اور بڑا ہی زبردست جادو بنالائے۔ {۱۱۶}</p>
<p> ہم نے موسیٰ  ؑ کو اشارہ کیا کہ پھینک اپنا عصا۔ اس کا پھینکنا تھا کہ آن کی آن میں وہ ان کے اس جھوٹے طِلسم کو نگلتا چلا گیا۔[90]{۱۱۷}</p>
<p>اس طرح جو حق تھا وہ حق ثابت ہوا اور جوکچھ انہوں نے بنارکھا تھا وہ باطل ہوکررہ گیا ۔{۱۱۸}</p>
<p> فرعون اور اس کے ساتھی میدان مقابلہ میں مغلوب ہوئے اور ( فتح مند ہونے کے بجائے) اُلٹے ذلیل ہوگئے۔{۱۱۹}</p>
<p> اور جادوگروں کا حال یہ ہوا کہ گویا کسی چیز نے اندر سے انہیں سجدے میں گرادیا۔{۱۲۰}</p>
<p> کہنے لگے ’’ ہم نے مان لیا ربّ العالمین کو ،{۱۲۱}</p>
<p>اُس رَبّ کو جسے موسیٰ  ؑ اور ہارون مانتے ہیں‘‘[91] {۱۲۲}</p>
<p>فرعون نے کہا ’’ تم اس پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں ؟ یقینا یہ کوئی خفیہ سازش تھی جو تم لوگوں نے اِس دارالسلطنت میں کی تا کہ اس کے مالکوں کو اقتدار سے بے دخل کردو ۔ اچھا تو اس کا نتیجہ اب تمہیں معلوم ہوا جاتا ہے۔ {۱۲۳}</p>
<p>میں تمہارے ہاتھ پا ؤں مخالف سمتوں سے کٹوادوں گا اور اُس کے بعد تم سب کو سُولی پر چڑھا ؤں گا۔ ‘‘{۱۲۴}</p>
<p>انہوں نے جواب دیا ’’ بہرحال ہمیں پلٹنا اپنے رَبّ ہی کی طرف ہے {۱۲۵}</p>
<p> تُو جس بات پر ہم سے انتقام لینا چاہتا ہے وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہمارے رَبّ کی نشانیاں جب ہمارے سامنے آگئیں تو ہم نے انہیں مان لیا۔ اے ہمارے رَبّ ! ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اٹھا تو اس حال میں کہ ہم تیرے فرماں بردار ہوں‘‘ ۔[92]  {۱۲۶}</p>
<p>فرعون سے اسکی قوم کے سرداروں نے کہا ’’ کیا تو موسیٰ ؑ اور اس کی قوم کو یوں ہی چھوڑدے گا کہ ملک میں فساد پھیلائیں اور وہ تیری اور تیرے معبودوں کی بندگی چھوڑ بیٹھے‘‘ ؟ فرعون نے جواب دیا ’’میں ان کے بیٹوں کو قتل کرا ؤں گا اور ان کی عورتوں کو جیتا رہنے دوں گا،[93] ہمارے اقتدار کی گرفت ان پر مضبوط ہے‘‘ {۱۲۷}</p>
<p>موسیٰ  ؑ نے اپنی قوم سے کہا ’’ اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو، زمین اللہ کی ہے ، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے، اور آخری کامیابی اُنہی کے لیے ہے جو اس سے ڈرتے ہوئے کام کریں ‘‘ {۱۲۸}</p>
<p> اس کی قوم کے لوگوں نے کہا ’’ تیرے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے جاتے تھے اور اب تیرے آنے پر بھی ستائے جارہے ہیں ۔‘‘ اس نے جواب دیا ’’ قریب ہے وہ وقت کہ تمہارا رَبّ تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ  بنائے ، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو‘‘۔{۱۲۹}</p>
<p>ہم نے فرعون کے لوگوں کو کئی سال تک قحط اور پیداوار کی کمی میں مبتلا رکھا کہ شاید ان کو ہوش آئے۔{۱۳۰}</p>
<p>مگر اُن کا حال یہ تھا کہ جب اچھا زمانہ آتا تو کہتے کہ ہم اسی کے مستحق ہیں، اور جب برازمانہ آتا تو موسیٰ  ؑ اور اس کے ساتھیوں کو اپنے لئے فال بدٹھہراتے ، حالانکہ درحقیقت اُن کی فالِ بدتو اللہ کے پاس تھی۔ مگر ان میں سے اکثر بے علم تھے۔ {۱۳۱}</p>
<p> انہوں نے موسیٰ  ؑ سے کہا کہ ’’ تو ہمیں مسحور کرنے کے لیے خواہ کوئی نشانی لے آئے ، ہم تو تیری بات ماننے والے نہیں ہیں۔ ‘‘[94] {۱۳۲}</p>
<p>آخر کار ہم نے ان پر طوفان بھیجا ،[95] ٹڈی دل چھوڑے ، سُر ُسر یاں پھیلائیں ،[96] مینڈک نکالے ، اور خون برسایا۔ یہ سب نشانیاں الگ الگ کرکے دکھائیں۔ مگر وہ سرکشی کئے چلے گئے اور وہ بڑے ہی مجرم لوگ تھے۔ { ۱۳۳}</p>
<p>جب کبھی اُن پر بلانازل ہوجاتی تو کہتے ’’ اے موسیٰ  ؑ! تجھے اپنے رَبّ کی طرف سے جو منصب حاصل ہے اس کی بنا پر ہمارے حق میں دعا کر ، اگر اب کے تو ہم پر سے یہ بلا ٹلوادے تو ہم تیری بات مان لیں گے اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ بھیج دیں گے۔ ‘‘ {۱۳۴}</p>
<p>مگر جب ہم اُن پر سے اپنا عذاب ایک وقت ِمقرر تک کے لیے ، جس کو وہ بہرحال پہنچنے والے تھے ، ہٹالیتے تو وہ یکلخت اپنے عہد سے پھر جاتے۔ {۱۳۵}</p>
<p>تب ہم نے ان سے انتقام لیا اور انہیں سمندر میں غرق کردیا کیوں کہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا اور اُن سے بے پرواہو گئے تھے۔{۱۳۶}</p>
<p> اور ان کی جگہ ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور بنا کر رکھے گئے تھے، اس سرزمین کے مشرق و مغرب کا وارث  بنادیا جسے ہم نے برکتوں سے مالا مال کیا تھا ۔[97] اس طرح بنی اسرائیل کے حق میں تیرے رَبّ کا وعدہ ٔخیرپورا ہوا کیونکہ انہوں نے صبر سے کام لیا تھا اور ہم نے فرعون اور اس کی قوم کا وہ سب کچھ برباد کردیا جو وہ بناتے اور چڑھاتے تھے۔{۱۳۷}</p>
<p>بنی اسرائیل کو ہم نے سمندر سے گزار دیا، پھر وہ چلے اور راستے میں ایک ایسی قوم پر اُن کا گزر ہوا جو اپنے چندبتوں کی گِرویدہ بنی ہوئی تھی۔ کہنے لگے ، ’’ اے موسیٰ  ؑ! ہمارے لئے بھی کوئی ایسا معبود بنادے جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ۔‘‘ [98]موسیٰ  ؑ نے کہا ’’ تم لوگ بڑی نادانی کی باتیں کرتے ہو{۱۳۸}</p>
<p> یہ لوگ جس طریقہ کی پیروی کررہے ہیں وہ توبرباد ہونے والا ہے اور جو عمل وہ کررہے ہیں وہ سراسر باطل ہے‘‘ {۱۳۹}</p>
<p>  پھر موسیٰ  ؑ نے کہا ’’کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود تمہارے لئے تلاش کروں ؟ حالانکہ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں دنیا بھر کی قوموں پر فضیلت بخشی ہے{ ۱۴۰}</p>
<p> اور (اللہ فرماتا ہے) وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرعون والوں سے تمہیں نجات دی، جن کا حال یہ تھا کہ تمہیں سخت عذاب میں مبتلا رکھتے تھے ، تمہارے بیٹوں کو قتل کرتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے رَبّ کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی ‘‘{۱۴۱}</p>
<p>  ہم نے موسیٰ  ؑکو تیس شب وروز کے لیے ( کوہ سینا پر ) طلب کیا اور بعد میں دس دن کا اور اضافہ کردیا،اس طرح اس کے رَبّ کی مقرر کردہ مدت پورے چالیس دن ہوگئی ۔[99] موسیٰ  ؑنے چلتے ہوئے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ ’’ میرے پیچھے تم میری قوم میں میری جانشینی کرنا اور ٹھیک کام کرتے رہنا اور بگاڑ پیدا کرنے والوں کے طریقہ پر نہ چلنا ‘‘[100] {۱۴۲}</p>
<p>جب وہ ہمارے مقرر کئے ہوئے وقت پر پہنچا اور اس کے رَبّ نے اس سے کلام کیا تو اس نے التجا کی کہ ’’ اے میرے رَبّ!مجھے یارائے نظر دے کہ میں تجھے دیکھوں ۔‘‘ فرمایا’’ تو مجھے نہیں دیکھ سکتا ۔ ہاں ذرا سامنے کے پہاڑ کی طرف دیکھ ،اگر وہ اپنی جگہ قائم رہ جائے تو البتہ تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘ چنانچہ اس کے رَبّ نے جب پہاڑ پر تجلی کی تو اسے ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ  ؑ غش کھا کر گرپڑا ،جب ہوش آیا تو بولا’’ پاک ہے تیری ذات ، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور سب سے پہلا ایمان لانے والا میں ہوں‘‘{۱۴۳}</p>
<p> فرمایا، ’’ اے موسیٰؑ ! میں نے تمام لوگوں پر ترجیح دے کر تجھے منتخب کیا کہ میری پیغمبری کرے اور مجھ سے ہم کلام ہو۔ پس جو کچھ میں تجھے دوں اسے لے اور شکر بجالا‘‘۔{ ۱۴۴}</p>
<p>اس کے بعد ہم نے موسیٰ  ؑکو ہر شعبۂ زندگی کے متعلق نصیحت اور ہر پہلو ، کے متعلق واضح ہدایت تختیوں پر لکھ کردے دی[101] اور اس سے کہا :’’ ان ہدایات کو مضبوط ہاتھوں سے سنبھال اور اپنی قوم کو حکم دے کہ ان کے بہتر مفہوم کی پیروی کریں ، [102]عنقریب میں تمہیں فاسقوں کے گھر دکھا ؤں گا۔[103]{۱۴۵}</p>
<p> میں اپنی نشانیوں سے اُن لوگوں کی نگاہیں پھیردوں گا جو بغیر کسی حق کے زمین میں بڑے بنتے ہیں، [104]وہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں کبھی اس پر ایمان نہ لائیں گے ، اگر سیدھا راستہ اُن کے سامنے آئے تو اسے اختیار نہ کریں گے اور اگر ٹیڑھا راستہ نظر آئے تو اس پر چل پڑیں گے ، اس لیے کہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان سے بے پروائی کرتے رہے{۱۴۶}</p>
<p>ہماری نشانیوں کو جس کسی نے جھٹلایا اور آخرت کی پیشی کا انکار کیا اس کے سارے اعمال ضائع ہوگئے۔[105] کیا لوگ اس کے سوا کچھ اور جزاپاسکتے ہیں کہ جیسا کریں ویسا بھریں؟{۱۴۷}</p>
<p>موسیٰ  ؑ کے پیچھے [106]اس کی قوم کے لوگوں نے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑے کا پتلا بنایا ،جس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ کیا انہیں نظر نہ آتا تھا کہ وہ نہ ان سے بولتا ہے نہ کسی معاملے میں ان کی رہنمائی کرتا ہے ؟ مگر پھر بھی انہوں نے اسے معبود بنالیا اور وہ سخت ظالم  تھے۔[107] {۱۴۸}</p>
<p>پھر جب ان کی فریب خوردگی کا طلسم ٹوٹ گیا اور انہوں نے دیکھ لیا کہ درحقیقت وہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے کہ ’’ اگر ہمارے رَبّ نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہم سے درگزر نہ کیا تو ہم برباد ہوجائیں گے۔‘‘ {۱۴۹}</p>
<p>اُدھر سے موسیٰ  ؑغصے اور رنج میں بھر ا ہوا اپنی قوم کی طرف پلٹا ۔ آتے ہی اس نے کہا ’’بہت بُری جانشینی کی تم لوگوں نے میرے بعد ! کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوا کہ اپنے رَبّ کے حکم کا انتظار کرلیتے ؟‘‘ اور تختیاں  پھینک دیں اور اپنے بھائی ( ہارون ) کے سرکے بال پکڑکر اسے کھینچا ۔ ہارون نے کہا ’’ اے میری ماں کے بیٹے ، ان لوگوں نے مجھے دبالیا اور قریب تھا کہ مجھے مارڈا لتے ۔ پس تو دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دے اور اس ظالم گروہ کے ساتھ مجھے نہ شامل کر ‘‘[108]{۱۵۰}</p>
<p> تب موسیٰ  ؑنے کہا ’’ اے رَبّ !مجھے اور میرے بھائی کو معاف کر اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما، تو سب سے بڑھ کر رحیم ہے ‘‘ {۱۵۱}</p>
<p> ( جواب میں ارشاد ہوا کہ ) ’’ جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنایا وہ ضرور اپنے رَبّ کے غضب میں گرفتار ہو کر رہیں گے اور دنیا کی زندگی میں ذلیل ہوں گے جھوٹ گھڑنے والوں کو ہم ایسی ہی سزادیتے ہیں {۱۵۲}</p>
<p> اور جو لوگ بُرے عمل کریں پھر تو بہ کرلیں اور ایمان لے آئیں تو یقینا اس توبہ و ایمان کے بعد تیرارَبّ درگزر اور رحم فرمانے والا ہے ‘‘ {۱۵۳}</p>
<p>پھر جب موسیٰ  ؑ کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو اس نے وہ تختیاں اٹھالیں جن کی تحریرمیں ہدایت اور رحمت تھی اُن لوگوں کے لیے جو اپنے رَبّ سے ڈرتے ہیں{۱۵۴}</p>
<p>اور اس نے اپنی قوم کے ستر آدمیوں کو منتخب کیا تا کہ وہ (اُس کے ساتھ ) ہمارے مقرر کئے ہوئے وقت پر حاضر ہوں[109] جب ان لوگوں کو ایک سخت زلزلے نے آپکڑا تو موسیٰ  ؑ نے عرض کیا ’’ اے میرے سرکار! آپ چاہتے تو پہلے ہی ان کو اور مجھے ہلاک کرسکتے تھے۔ کیا آپ اُس قصور میں جو ہم میں سے چند نادانوں نے کیا تھا ہم سب کو ہلاک کردیں گے؟ یہ تو آپ کی ڈالی ہوئی ایک آزمائش تھی جس کے ذریعہ سے آ پ  جسے چاہتے ہیں گمراہی میں مبتلا کردیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں ہدایت بخش دیتے ہیں۔[110] ہمارے سرپرست تو آپ ہی ہیں۔ پس ہمیں معاف کردیجئے اور ہم پر رحم فرمائیے آپ سب سے بڑھ کر معاف فرمانے والے ہیں۔{۱۵۵}</p>
<p>اور ہمارے لئے اس دنیا کی بھلائی بھی لکھ دیجئے اور آخرت کی بھی ، ہم نے آپ کی طرف رجوع کرلیا۔ ‘‘ جواب میں ارشاد ہوا ،’’ سزاتو میں جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں ، مگر میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے[111] اور اسے میں ان لوگوں کے حق میں لکھوں گا جو نافرمانی سے پرہیز کریں گے ۔ زکوٰۃ دیں گے اور میری آیات پر ایمان لائیں گے ‘‘{۱۵۶}</p>
<p> (پس آج یہ رحمت اُن لوگوں کا حصہ ہے ) جو اس پیغمبر، نبی اُمّی(صلے اللہ علیہ وسلم) کی پیروی اختیار کریں [112]جس کا ذکر انہیں اپنے ہاں تو رات اور انجیل میں لکھا ہوا ملتا ہے۔ [113]وہ انہیں نیکی کا حکم دیتا ہے،بدی سے روکتا ہے ، ان کے لیے پاک چیزیں حلال اور ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے [114]، اور ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو ان پرلدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔[115]  لہٰذا جو لوگ اس پر ایمان لائیں اور اس کی حمایت اور نصرت کریں اور اس روشنی کی پیروی اختیار کریں جو اس کے ساتھ نازل کی گئی ہے ، وہی فلاح پانے والے ہیں۔{۱۵۷}</p>
<p>  ( اے نبی  ؐ  !) کہو کہ : ’’ اے انسانو! میں تم سب کی طرف اس اِلٰہ واحد کا پیغمبر ہوں جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے ، اس کے سوا کوئی  الِٰہ نہیں ہے ، وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، پس ایمان لا ؤ اللہ پر اور اس کے بھیجے ہوئے نبی  ؐ ُامیّ پر جو اللہ اور اس کے ارشادات کو مانتا ہے ، اور پیروی اختیار کرو اس کی ، امید ہے کہ تم راہ راست پالو گے‘‘{۱۵۸}</p>
<p>  موسیٰ  [116]ؑکی قوم میں ایک گروہ ایسا بھی تھا جو حق کے مطابق  ہدایت کرتا اور حق ہی کے مطابق انصاف کرتا تھا۔[117] {۱۵۹}</p>
<p>اور ہم نے اس قوم کو بارہ گھرانوں میں تقسیم کرکے انہیں مستقل گروہوں کی شکل دے دی تھی۔[118] اور جب موسیٰ  ؑسے اس کی قوم نے پانی مانگا تو ہم نے اس کو اشارہ کیا کہ فلاں چٹان پر اپنی لاٹھی مارو، چنانچہ اس چٹان سے یکا یک بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور ہرگروہ نے اپنے پانی لینے کی جگہ متعین کرلی۔(نیز) ہم نے ان پر بادل کا سایہ کیا اور اُن پر منّ وسلویٰ اتارا۔[119]’’کھا ؤ وہ پاک چیزیں جو ہم نے تم کو بخشی ہیں۔‘‘ مگر اس کے بعد انہوں نے جو کچھ کیا تو ہم پر ظلم نہیں کیا ،بلکہ آپ اپنے اوپر ظلم کرتے رہے{۱۶۰}</p>
<p>یاد[120]کرو وہ وقت جب ان سے کہا گیا تھا کہ ’’ اِس بستی میں جاکر بس جا ؤ اور اس کی پیداوار سے اپنے حسب ِمنشاروزی حاصل کرو اور ’’حِطَّۃٌ حِطَّۃ ٌ، ،کہتے جا ؤ  اور شہر کے دروازے میں سجدہ ریز ہوتے ہوئے داخل ہو ، ہم تمہاری خطائیں معاف کریں گے اور نیک رویہ رکھنے والوں کو مزید فضل سے نوازیں گے‘‘۔ {۱۶۱}</p>
<p>مگر جو لوگ ان میں سے ظالم تھے انہوں نے اُس بات کو جواِن سے کہی گئی تھی بدل ڈالا ، اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے ان کے ظلم کی پاداش میں ان پر آسمان سے عذاب بھیج دیا۔[121]{۱۶۲}</p>
<p> اور ذرا اِن سے اُس بستی کا حال بھی پوچھو جو سمندر کے کنارے واقع تھی۔[122]  انہیں یاد دلا ؤ وہ واقعہ کہ وہاں کے لوگ سبت (ہفتہ) کے دن احکام الٰہی کی خلاف ورزی کرتے تھے اور یہ کہ مچھلیاں سبت ہی کے دن اُبھر اُبھر کرسطح پر ان کے سامنے آتی تھیں[123] اور سبت کے سوا باقی دنوں میں نہیں آتی تھیں ۔یہ اس لیے ہوتا تھا کہ ہم ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان کو آزمائش میں ڈال رہے[124]تھے۔ { ۱۶۳}</p>
<p> اور اُنہیں یہ بھی یاد دلا ؤ کہ جب ان میں سے ایک گروہ نے دوسرے گروہ سے کہا تھا کہ ’’تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت سزادینے والا ہے‘‘ تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ ’’ ہم یہ سب کچھ تمہارے رَبّ کے حضور اپنی معذرت پیش کرنے کے لیے کرتے ہیں اور اس اُمید پر کرتے ہیں کہ شاید یہ لو گ اس کی نافرمانی سے پرہیز کرنے لگیں ‘‘۔{۱۶۴}</p>
<p>آخر کا رجب وہ اُن ہدایات کو بالکل ہی فراموش کرگئے جو انہیں یاد کرائی گئی تھیں تو ہم نے اُن لوگوں کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے، اور باقی سب لوگوں کو جو ظالم تھے ان کی نافرمانیوں پر سخت عذاب میں پکڑلیا[125] {۱۶۵}</p>
<p> پھر جب وہ پوری سرکشی کے ساتھ وہی کام کئے چلے گئے جس سے انہیں روکا گیا تھا ، تو ہم نے کہا بندر ہوجا ؤ۔ ؔذلیل اور خوار ۔ [126]{۱۶۶}</p>
<p>اور یاد کرو جب کہ تمہارے رَبّ نے اعلان کردیا[127] کہ ’’ وہ قیامت تک برابرایسے لوگ بنی اسرائیل پر مسلط کرتا رہے گا جو ان کو بدترین عذاب دیں گے‘‘۔[128] یقینا تمہارارَبّ سزادینے میں تیز دست ہے اور یقینا وہ درگزر اور رحم سے بھی کام لینے والا ہے{۱۶۷}</p>
<p>ہم نے ان کو زمین میں ٹکڑے ٹکڑے کرکے بہت سی قوموں میں تقسیم کردیا۔ کچھ لوگ ان میں نیک تھے اور کچھ اس سے مختلف ۔اور ہم ان کو اچھے اور بُرے حالات سے آزمائش میں مبتلا کرتے رہے کہ شاید یہ پلٹ آئیں۔{۱۶۸}</p>
<p> پھر اگلی نسلوں کے بعد ایسے ناخلف ان کے جانشین ہوئے جو کتاب ِالہٰی کے وارث ہو کر اسی دنیائے دَنی کے فائدے سمیٹتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ توقع ہے ہمیں معاف کردیا جائے گا، اور اگر وہی متاعِ دنیا سامنے آتی ہے تو پھر لپک کر اسے لے لیتے ہیں [129]کیا، ان سے کتاب کا عہد نہیں لیا جاچکا ہے کہ اللہ کے نام پر وہی بات کہیں جو حق ہو ؟ اور یہ خود پڑھ چکے ہیں جو کتاب میں لکھا ہے۔[130] آخرت کی قیام گاہ تو متقی لوگوں کے لیے ہی بہتر ہے ۔[131]  کیا تم اتنی سی بات نہیں سمجھتے ؟{۱۶۹}</p>
<p> جو لوگ کتا ب کی پابندی کرتے ہیں اور جنہوں نے نماز قائم کررکھی ہے ، یقینا ایسے نیک کردار لوگوں کا اجر ہم ضائع نہیں کریں گے۔{۱۷۰}</p>
<p>انہیں وہ وقت بھی کچھ یاد ہے جب کہ ہم نے پہاڑ کو ہلا کر ان پر اس طرح چھادیا تھا کہ گویا وہ چھتری ہے اور یہ گمان کررہے تھے کہ وہ ان پر آپڑے گا اور اس وقت ہم نے ان سے کہا تھا کہ جو کتاب ہم تمہیں دے رہے ہیں اسے مضبوطی کے ساتھ تھا مواور جو کچھ اس میں لکھا ہے اسے یاد رکھو ، توقع ہے کہ تم غلط روی سے بچے رہوگے۔[132]{۱۷۱}</p>
<p>اور [133]اے نبی  ؐ! لوگوں کو یاددلا ؤ وہ وقت جب کہ تمہارے رَبّ نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا تھا’’ کیا میں تمہارا رَبّ نہیں ہوں ‘‘؟ انہوں نے کہا ’’ضرور آپ ہی ہمارے رَبّ ہیں ، ہم اس پر گواہی دیتے ہیں ‘‘[134]۔  یہ ہم نے اُس لئے کیا کہ کہیں تم قیامت کے روزیہ نہ کہہ دو کہ ’’ ہم تو اس بات سے بے خبر تھے‘‘{۱۷۲}</p>
<p> یا یہ نہ کہنے لگو کہ ’’ شرک کی ابتدا تو ہمارے باپ دادا نے ہم سے پہلے کی تھی اور ہم بعد کو ان کی نسل سے پیدا ہوئے ، پھر کیا آپ ہمیں اُس قصور میں پکڑتے ہیں جو غلط کارلوگوں نے کیا تھا ؟‘‘ [135]{۱۷۳}</p>
<p>دیکھو ، اس طرح ہم نشانیاں واضح طور پر پیش کرتے  ہیں۔[136]اور اس لیے کرتے ہیں کہ یہ لوگ پلٹ آئیں۔[137]{ ۱۷۴}</p>
<p>اور اے نبی  ؐ !ان کے سامنے اُس شخص کا حال بیان کرو جس کو ہم نے اپنی آیات کا علم عطا کیا تھا۔[138] مگر وہ ان کی پابندی سے نِکل بھاگا۔ آخرکارشیطان اس کے پیچھے پڑگیا یہاں تک کہ وہ بھٹکنے والوں میں شامل ہوکر رہا۔{۱۷۵}</p>
<p>اگر ہم چاہتے تو اسے اُن آیتوں کے ذریعہ سے بلندی عطا کرتے،مگر وہ تو زمین ہی کی طرف جھک کررہ گیا اور اپنی خواہش نفس ہی کے پیچھے پڑا رہا ، لہٰذا اس کی حالت کُتے کی سی ہوگئی کہ تم اس پرحملہ کروتب بھی زبان لٹکائے رہے اوراُسے چھوڑ دوتب بھی زبان لٹکائے رہے۔[139]  یہی مثال ہے ان لوگوں کی جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ تم یہ حکایات ان کو سُناتے رہو ، شاید کہ یہ کچھ غور وفکر کریں۔{۱۷۶}</p>
<p> بڑی ہی بُری مثال ہے ایسے لوگوں کی جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا، اور وہ آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرتے رہے ہیں ۔{۱۷۷}</p>
<p>جسے اللہ ہدایت بخشے بس وہی راہِ راست پاتا ہے اور جس کو اللہ اپنی رہنمائی سے محروم کردے وہی ناکام ونامراد ہوکررہتا ہے۔{۱۷۸}</p>
<p> اور یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جن اور انسان ایسے ہیں جن کو ہم نے جہنم ہی کے لیے پیدا کیا ہے۔[140] ان کے پاس دل ہیں مگروہ ان سے سوچتے نہیں، ان کے پاس آنکھیں ہیں مگروہ ان سے دیکھتے نہیں۔ ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں ۔ وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے ، یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھوئے گئے ہیں ۔  {۱۷۹}</p>
<p>اللہ[141] اچھے ناموں کا مستحق ہے ، اس کو اچھے ہی ناموں سے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے نام رکھنے میں راستی سے منحرف ہوجاتے ہیں ۔ جو کچھ وہ کرتے ہیں اس کا بدلہ وہ پاکر رہیں گے۔[142]{۱۸۰}</p>
<p>ہماری مخلوق میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق ہدایت اور حق کے مطابق انصاف کرتا ہے۔ {۱۸۱}</p>
<p>رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلادیا ہے ، تو انہیں ہم تبدریج ایسے طریقے سے تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ انہیں خبر تک نہ ہوگی ۔{ ۱۸۲}</p>
<p>میں ان کو ڈھیل دے رہاہوں ، میری چال کا کوئی توڑ نہیں ہے۔{ ۱۸۳}</p>
<p>اور کیا ان لوگوں نے کبھی سوچا نہیں ؟ ان کے رفیق پر جنون کا کوئی اثر نہیں  ہے۔وہ تو ایک خبردار کرنے والا ہے۔جو ( بُرا انجام سامنے آنے سے پہلے) صاف صاف متنبہ کررہا ہے ۔{ ۱۸۴}</p>
<p> کیا ان لوگوں نے آسمان و زمین کے انتظام پر کبھی غور نہیں کیا اور کسی چیز کو بھی ،جو اللہ نے پیدا کی ہے آنکھیں کھول کر نہیں دیکھا ؟[143] اور کیا یہ بھی انہوں نے نہیں سوچا کہ شایدان کی مہلت زندگی پوری ہونے کا وقت قریب آلگاہو ؟[144] پھر آخر پیغمبر ؐ !  کی اس تنبیہ کے بعد اور کونسی بات ایسی ہوسکتی ہے جس پر یہ ایمان لائیں ؟ {۱۸۵}</p>
<p>جس کو اللہ رہنمائی سے محروم کردے اس کے لیے پھر کوئی رہنما نہیں ہے ،اور اللہ انہیں ان کی سرکشی ہی میں بھٹکتا ہوا چھوڑے دیتا ہے۔ {۱۸۶}</p>
<p>یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ آخروہ قیامت کی گھڑی کب نازل ہوگی ؟ کہو’’ اس کا علم میرے رَبّ ہی کے پا س ہے ۔ اسے اپنے وقت پر وہی ظاہر کرے گا۔ آسمانوں اور زمین میں وہ بڑا سخت وقت ہوگا۔ وہ تم پر اچانک آجائے گا۔‘‘ یہ لوگ اس کے متعلق تم سے اس طرح پوچھتے ہیں گویا کہ تم اس کی کھوج  میں لگے ہوئے ہو ۔ کہو ’’ اس کا علم تو صرف اللہ کو ہے مگر اکثر لوگ اس حقیقت سے ناواقف ہیں‘‘۔ {۱۸۷}</p>
<p>اے نبی  ؐ! ان سے کہو کہ ’’ میں اپنی ذات کے لیے کسی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتا ، اللہ ہی جو کچھ چاہتا ہے وہ ہوتا ہے اور اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں بہت سے فائدے اپنے لئے حاصل کرلیتا اور مجھے کبھی کوئی نقصان نہ پہنچتا ۔[145] میں تو محض ایک خبردار کرنے والا اور خوشنجری سنانے والا ہوں اُن لوگوں کے لیے جو میری بات مانیں ‘‘ ۔{۱۸۸}</p>
<p>وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تا کہ اس کے پاس سکون حاصل کرے ۔پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف ساحمل رہ گیا جسے لئے لئے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ ، اپنے رَبّ سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سابچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزارہوں گے۔ {۱۸۹}</p>
<p> مگر جب اللہ نے ان کو ایک صحیح و سالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے اللہ بہت بلند و برترہے اُن مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔[146] {۱۹۰}</p>
<p>کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ اُن کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے ، بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں {۱۹۱}</p>
<p> جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں  اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں۔{ ۱۹۲}</p>
<p>اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کی دعوت دو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آئیں۔ تم خواہ انہیں پکارو یا خاموش رہو، دونوں صورتوں میں تمہارے لئے یکساں ہی رہے۔  [147]{ ۱۹۳}</p>
<p>تم لوگ اللہ کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو ۔ ان سے دعائیں مانگ دیکھو ، یہ تمہاری دعاؤں کا جواب دیں اگر ان کے بارے میں تمہارے خیالات صحیح ہیں۔{ ۱۹۴}</p>
<p>کیا یہ پاؤں رکھتے ہیں کہ اُن سے چلیں؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ اُن سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ اُن سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیںکہ اُن سے سنیں ؟[148] اے نبی  ؐ !ان سے کہو کہ ’’بلالو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہر گز مہلت نہ دو۔ {۱۹۵}</p>
<p> میرا حامی و ناصروہ اللہ ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے۔[149] {۱۹۶}</p>
<p> بخلاف اس کے تم جنہیں اللہ کو چھوڑ کرپکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مددہی کرنے کے قابل ہیں {۱۹۷}</p>
<p> بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سُن بھی نہیں سکتے ۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے ‘‘ ۔{۱۹۸}</p>
<p>اے نبی  ؐ! نرمی ودرگزر کا طریقہ اختیار کرو ، معروف کی تلقین کئے جا ؤ ، اور جاہلوں سے نہ اُلجھو۔{۱۹۹}</p>
<p> اگر کبھی شیطان تمہیں اُکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو ، وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔{۲۰۰}</p>
<p>حقیقت میں جو لوگ متقی ہیں ان کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ کبھی شیطان کے اثر سے کوئی براخیال اگر انہیں چھوبھی جاتا ہے تو فوراً چوکنّے ہوجاتے ہیں اور پھر انہیں صاف نظر آنے لگتا ہے کہ ان کے لیے صحیح طریق کارکیا ہے {۲۰۱}</p>
<p> رہے ان کے (یعنی شیاطین کے ) بھائی بند ، تو وہ انہیں ان کی کج روی میں کھینچے لئے چلے جاتے ہیں اوراُنہیں بھٹکانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔[150] {۲۰۲}</p>
<p>اے نبی  ؐ!جب تم اِن لوگوں کے سامنے کوئی نشانی ( یعنی معجزہ ) پیش نہیں کرتے تو یہ کہتے ہیں کہ تم نے اپنے لئے کوئی نشانی کیوں نہ انتخاب کرلی ؟[151] ان سے کہو :’’میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہو ں جو میرے رَبّ نے میری طرف بھیجی ہے۔ یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں تمہارے رَبّ کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو اسے قبول کریں ۔[152]{۲۰۳}</p>
<p>جب قرآن تمہارے سامنے پڑھاجائے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو ، شاید کہ تم پر بھی رحمت ہوجائے ‘‘[153]{۲۰۴}</p>
<p>اے نبی  ؐ! اپنے رَبّ کو صبح وشام یاد کیا کرو دل ہی دل میں عاجزی اور خوف کے ساتھ اور زبان سے بھی ہلکی آواز کے ساتھ۔ تم ان لوگوں میں سے نہ ہوجا ؤ جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔[154] {۲۰۵}</p>
<p>جو فرشتے تمہارے رَبّ کے حضور تقرب کا مقام رکھتے ہیں وہ کبھی اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں آکر اس کی عبادت سے منھ نہیں موڑتے،[155] اور اس کی تسبیح کرتے ہیں[156] اور اس کے آگے جھکے رہتے ہیں- [157]{۲۰۶}</p>

</div><div id="8"><p>سورۃالانفال </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔</p>
<p>تم سے انفال کے متعلق پوچھتے ہیں  کہو ’’یہ انفال  تو اللہ اور اُس کے رسُول  ؐکے ہیں ، پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو اور اللہ اور اس کے رسول  ؐکی اطاعت کرو اگر تم مومن ہو۔‘‘[1] {۱}</p>
<p>سچے اہل ایمان تو وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سن کر لرزجاتے ہیں اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے،[2] اور وہ اپنے رَبّ پر اعتماد رکھتے ہیں۔ { ۲}</p>
<p> جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کودیا ہے اس میں سے ( ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں {۳}</p>
<p> ایسے ہی لوگ حقیقی مومن ہیں۔ ان کے لیے ان کے رَبّ کے پاس بڑے درجے ہیں، قصوروں سے درگزرہے[3] اور بہترین رز ق ہے۔{ ۴}</p>
<p> (اس مال غنیمت کے معاملے میں بھی ویسی ہی صورت پیش آرہی ہے جیسی اُس وقت پیش آئی تھی جبکہ ) تیرا ر ب تجھے حق کے ساتھ تیرے گھر سے نکال لایا تھا اور مومنوں میں سے ایک گروہ کو یہ ناگوار تھا۔ {۵}</p>
<p>وہ اس حق کے معاملے میں تجھ سے جھگڑرہے تھے درآں حالیکہ وہ صاف صاف نمایاں ہوچکا تھا۔ اُن کا حال یہ تھا کہ گویا وہ آنکھوں دیکھتے موت کی طرف ہانکے جارہے ہیں۔[4]{۶}</p>
<p>یاد کرو وہ موقع جب کہ اللہ تم سے وعدہ کررہا تھا کہ دونوں گروہوں میں سے ایک تمہیں مل جائے  گا۔ [5]تم  چاہتے تھے کہ کمزور گروہ تمہیں ملے۔ [6]مگر اللہ کاارادہ یہ تھا کہ اپنے ارشادات سے حق کو حق کر دکھائے اور کافروں کی جڑکاٹ دے{۷}</p>
<p> تاکہ حق حق ہو کر رہے اور باطل باطل ہوکررہ جائے خواہ مجرموں کو یہ کتنا ہی ناگوارہو۔[7]{۸}</p>
<p>اور وہ موقع جب کہ تم اپنے رَبّ سے فریاد کررہے تھے ۔ جواب میں اس نے فرمایا کہ میں تمہاری مدد کے لیے پے درپے ایک ہزار فرشتے بھیج رہا ہوں۔{۹}</p>
<p>یہ بات اللہ نے تمہیں صرف اس لیے بتادی کہ تمہیں خوشنجری ہو اور تمہارے دل اس سے مطمئن ہو جائیں ، ورنہ مدد توجب بھی ہوتی ہے اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے یقینا اللہ زبردست اور دانا ہے ۔{ ۱۰}</p>
<p>اور وہ وقت جب کہ اللہ اپنی طرف سے غنودگی کی شکل میں تم پر اطمینان وبے خوفی کی کیفیت طاری کررہا تھا،[8] اور آسمان سے تمہارے اوپر پانی برسارہا تھا تاکہ تمہیں پاک کرے اور تم سے شیطان کی ڈالی ہوئی نجاست دور کرے اور تمہاری ہمت بندھائے اور اس کے ذریعے سے تمہارے قدم جمادے۔[9] {۱۱}</p>
<p> اور وہ وقت جب کہ تمہارا رَبّ فرشتوں کو اشارہ کررہا تھا کہ ’’میں تمہارے ساتھ ہو ں، تم اہل ایمان کو ثابت قدم رکھو ، میں ابھی ان کافرو ں کے دلوں میں رعب ڈالے دیتا ہوں ، پس تم اُن کی گردنوں پر ضرب اور جوڑ جوڑ پر چوٹ  لگا ؤ ‘‘۔[10]{۱۲}</p>
<p> یہ اس لیے کہ ان لوگوں نے اللہ اوراُس کے رسُول  ؐ کا مقابلہ کیا اور جو اللہ اور اس کے رسُول  ؐ کا مقابلہ کرے اللہ اس کے لیے نہایت سخت گیر ہے۔[11]{ ۱۳}</p>
<p> یہ [12]ہے تم لوگوں کی سزا، اب اس کا مزہ چکھو ، اور تمہیں معلوم ہوکہ حق کا انکار کرنے والوں کے لیے دوزخ کا عذاب ہے۔{ ۱۴}</p>
<p>اے لوگو جو ایمان لائے ہو!جب تم ایک لشکر کی صورت میں کفار سے دوچار ہو تو ان کے مقابلہ میں پیٹھ نہ پھیرو ۔{۱۵}</p>
<p> جس نے ایسے موقع پر پیٹھ پھیری ، اِلاّیہ کہ جنگی چال کے طور پر ایسا کرے یا کسی دوسری فوج سے جاملنے کے لیے، تو وہ اللہ کے غضب میں گھرِ جائے گا۔ اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور وہ بہت بُری جائے بازگشت (لوٹنے کی جگہ) ہے۔[13]{۱۶}</p>
<p>پس حقیقت یہ ہے کہ تم نے انہیں قتل نہیں کیا ، بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا اور اے نبی  ؐ تم نے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا[14] ( اورمومنوں کے ہاتھ جو اس کام میں استعمال کئے گئے) تو یہ اس لیے تھا کہ اللہ مومنوں کو ایک بہترین آزمائش سے کامیابی کے ساتھ گزار دے ، یقینا اللہ سننے اور جاننے والا ہے{۱۷}</p>
<p> یہ معاملہ تو تمہارے ساتھ ہے اور کافروں کے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ اللہ ان کی چالوں کو کمزور کرنے والا ہے۔ {۱۸}</p>
<p> (ان کافروں سے کہہ دو ) ’’اگر تم فیصلہ چاہتے تھے تو لو ، فیصلہ تمہارے سامنے آگیا۔[15] اب باز آجا ؤ ، تمہارے ہی لئے بہتر ہے ورنہ پھر پلٹ کر اسی حماقت کا اعادہ کروگے تو ہم بھی اسی سزا کا اعادہ کریں گے اور تمہاری جمعیت ، خواہ وہ کتنی ہی زیادہ ہو، تمہارے کچھ کام نہ آسکے گی۔ اللہ مومنوں کے ساتھ ہے ‘‘۔{۱۹}</p>
<p>  اے لو گو جو ایمان لائے ہو! اللہ اور اس کے رسول  ؐکی اطاعت کرو اور حکم سُننے کے بعد اس سے سرتابی نہ کرو۔{۲۰}</p>
<p> ان لوگوں کی طرح نہ ہوجا ؤ جنہو ں نے کہا کہ ہم نے سنا حالانکہ وہ نہیں سُنتے۔[16]{۲۱}</p>
<p> یقینا اللہ کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں[17] جو عقل سے کام نہیں لیتے۔ {۲۲}</p>
<p>اگر اللہ کو معلوم  ہوتا کہ ان میں کچھ بھی بھلائی ہے تو وہ ضرور انہیں سننے کی توفیق دیتا ( لیکن بھلائی کے بغیر ) اگر وہ ان کو سُنواتا تو وہ بے رخی کے ساتھ منھ پھیر جاتے۔[18]{۲۳}</p>
<p>اے لوگوجو ایمان لائے ہو! اللہ اور اس کے رسول  ؐکی پکار پر لبیک کہو جب کہ رسُول  ؐ تمہیں اس چیز کی طرف بلائے جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے، اور جان رکھو کہ اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے اور اسی کی طرف تم سمیٹے جا ؤ گے۔[19]{ ۲۴}</p>
<p>اور بچو اس فتنے سے جس کی شامت مخصوص طور پر صرف انہی لوگوں تک محدود نہ رہے گی جنہوں نے تم میں سے گناہ کیا ہو[20]  اور جان رکھو کہ اللہ سخت سزادینے والا ہے۔{۲۵}</p>
<p>یاد کروہ وقت جب کہ تم تھوڑے تھے ، زمین میں تم کو بے زور سمجھا جاتا تھا ، تم ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں مٹانہ دیں ۔پھر اللہ نے تم کو جائے پناہ مہیا کردی، اپنی مددسے تمہارے ہاتھ مضبوط کئے اور تمہیں اچھا رزق پہنچایا، شاید کہ تم شکر گزار بنو۔[21]{۲۶}</p>
<p>اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جانتے بوجھتے اللہ اور اس کے رسُول  ؐ کے ساتھ خیانت نہ کرو ، اپنی امانتو ں میں [22]غداری کے مرتکب نہ ہو {۲۷}</p>
<p>اور جان رکھو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد حقیقت میں سامان آزمائش ہیں [23]اور اللہ کے پاس اجر دینے کے لیے بہت کچھ ہے۔{۲۸}</p>
<p> اے لوگو جو ایمان لائے ہو!اگر تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو گے تو اللہ تمہارے لئے کسوٹی بہم پہنچادے گا [24]اور تمہاری برائیوں کو تم سے دور کرے گا اور تمہارے قصور معاف کرے گا ۔ اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے {۲۹}</p>
<p> وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جب کہ منکرین حق تیرے خلاف تدبیریں سوچ رہے تھے کہ تجھے قید کردیں یاقتل کرڈالیں یا جلاو طن کردیں۔ [25] وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اللہ اپنی چال چل (مستحکم و خفیہ تدبیر کر)رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے (تدبیر کرنے)والا ہے۔ {۳۰}</p>
<p>جب ان کو ہماری آیات سنائی جاتی تھیں تو کہتے تھے کہ ’’ہاں سن لیا ہم نے۔ ہم چاہیں تو ایسی ہی باتیں ہم بھی بناسکتے ہیں ، یہ تو وہی پرانی کہانیاں ہیں جو پہلے سے لوگ کہتے چلے آرہے ہیں ‘‘۔{۳۱}</p>
<p> اور وہ بات بھی یاد ہے جو انہوں  (کفار مکہ) نے کہی تھی کہ ’’ اے اللہ !اگر یہ(نبی  ؐ کی دعوت) واقعی حق ہے تیری طرف سے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسادے یا کوئی دردناک عذاب ہم پر لے آ‘‘ [26]{۳۲}</p>
<p>اُس وقت تو اللہ اُن پر عذاب نازل کرنے والا نہ تھا جب کہ آپ  ؐ ان کے درمیان موجود ہوں اور نہ اللہ کا یہ قاعدہ ہے کہ لوگ استغفار کررہے ہوں اور وہ ان کو عذاب دے دے۔ [27]{۳۳}</p>
<p> لیکن اب کیوں نہ وہ اُن پر عذاب نازل کرے جب کہ وہ مسجد حرام کا راستہ روک رہے ہیں، حالاں کہ وہ اس مسجد کے جائز متولّی نہیں ہیں۔ اس کے جائز متولّی تو صرف اہلِ تقویٰ ہی ہوسکتے ہیں ، مگر اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے ۔{ ۳۴}</p>
<p>بیت ُاللہ کے پاس اُن لوگو ںکی نماز کیا ہوتی ہے ؟ بس سیٹیاں بجاتے اور تالیاں پیٹتے ہیں ۔[28] پس اب لو ، اس عذاب کا مزہ چکھو اپنے اُس انکار حق کی پاداش میں جو تم کرتے رہے ہو۔ [29]{۳۵}</p>
<p>جن لوگوں نے حق کو ماننے سے انکار کیا ہے وہ اپنے مال اللہ کے راستے سے روکنے کے لیے صرف کررہے ہیں اور ابھی اور خرچ کرتے رہیں گے ،مگر آخر کا ریہی کوششیں ان کے لیے پچھتاوے کا سبب بنیں گی ، پھرو ہ مغلوب ہوں گے ، پھر یہ کافر جہنم کی طرف گھیر لائے جائیں گے {۳۶}</p>
<p> تا کہ اللہ گندگی کو پاکیزگی سے چھانٹ کر الگ کرے اور ہر قسم کی گندگی کو ملا کر اکٹھا کرے پھر اس پلندے کو جہنّم میں جھونک دے ۔یہی لوگ اصلی دِیوالیے ہیں۔[30]{۳۷}</p>
<p>اے نبی  ؐ!ان کافروں سے کہو کہ اگراب بھی باز آجائیں تو جو کچھ پہلے ہوچکا ہے اس سے دَرگزر کرلیا جائے گا ، لیکن اگر یہ اُسی پچھلی رَوِش کا اعادہ کریں گے تو گزشتہ قوموں کے ساتھ جو کچھ ہوچکا ہے وہ سب کو معلوم ہے۔{۳۸}</p>
<p>(اے لوگو جو ایمان لائے ہو!) ان کافروں سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورا کا پور ا اللہ کے لیے ہو جائے۔ [31]پھر اگر وہ فتنہ سے رُک جائیں تو اُن کے اعمال کا دیکھنے والا اللہ ہے،{۳۹}</p>
<p> اور اگر وہ نہ مانیں تو جان رکھو کہ اللہ تمہارا سرپرست ہے اور وہ بہترین حامی ومددگار ہے۔{۴۰}</p>
<p>اور تمہیں معلوم ہوکہ جو کچھ مال غنیمت تم نے حاصل کیا ہے اس کا پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسُول  ؐ اور ر شتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے۔ [32]اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر اور اُس چیز پر جو فیصلے کے روز یعنی دونوں فوجوں کی مڈبھیڑکے دن ہم نے اپنے بندے پر نازل کی تھی،[33] ( تو یہ حصہ بخوشی ادا کرو) اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ {۴۱}</p>
<p>یاد کرو وہ وقت جب کہ تم وادی کے اس جانب تھے اور وہ دوسری جانب پڑا ؤ ڈالے ہوئے تھے اور قافلہ تم سے نیچے (ساحل ) کی طرف تھا۔اگر کہیں پہلے سے تمہارے اور ان کے درمیان مقابلے کی قرار داد ہوچکی ہوتی تو تم ضرور اس موقع پر پہلو تہی کرجاتے ، لیکن جو کچھ پیش آیا وہ اس لیے تھا کہ جس بات کا فیصلہ اللہ کرچکا تھا اُسے ظہور میں لے آئے تا کہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ زندہ [34]رہے ،یقینااللہ سننے اور جاننے والا ہے۔ [35]{۴۲}</p>
<p>(اور یاد کرو وہ وقت) جب کہ اے نبی  ؐ!اللہ اُن کو تمہارے خواب میں تھوڑا دکھا رہا [36]تھا اگر کہیں وہ تمہیں ان کی تعداد زیادہ دکھا دیتا تو ضرور تم لوگ ہمت ہار جاتے اور لڑائی کے معاملے میں جھگڑا شروع کردیتے، لیکن اللہ ہی نے اِس سے تمہیں بچایا ، یقینا وہ سینوں کا حال تک جانتا ہے۔{ ۴۳}</p>
<p>اور یادکرو جب کہ مقابلے کے وقت اللہ نے تم لوگوں کی نگاہوں میں دشمنوں کو تھوڑا دکھایا  اور ان کی نگاہوں میں تمہیں کم کرکے پیش کیا، تاکہ جو بات ہونی تھی اسے اللہ ظہور میں لے آئے ، اور آخر کار سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔{ ۴۴}</p>
<p>اے لوگو جوایمان لائے ہو!جب کسی گروہ سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو ، توقع ہے کہ تمہیں کامیابی نصیب ہوگی۔{ ۴۵}</p>
<p>اور اللہ اور اُس کے رسول  ؐکی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی اور تمہار ی ہوا اُکھڑ جائے گی ۔ صبر سے کام لو،[37] یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ {۴۶}</p>
<p>اور اُن لوگوں کے سے رنگ ڈھنگ نہ اختیار کرو جو اپنے گھروں سے اِتراتے اور لوگوں کو اپنی شان دکھاتے ہوئے نکلے اور جن کی روش یہ ہے کہ اللہ کے راستے سے روکتے ہیں ،[38] جو کچھ وہ کررہے ہیں وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے۔ {۴۷}</p>
<p>ذراخیال کرو اُس وقت کا جب کہ شیطان نے ان لوگوں کے کرتُوت ان کی نگاہوں میں خوشنما بناکر دکھائے تھے اور ان سے کہا تھا کہ آج کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا اور یہ کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ مگر جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہو اتو وہ الٹے پا ؤں پھر گیا اور کہنے لگا کہ میرا تمہارا ساتھ نہیں ہے، میں وہ کچھ دیکھ رہاہوں جو تم لوگ نہیں دیکھتے ،مجھے اللہ سے ڈرلگتاہے اور اللہ بڑی سخت سز ادینے والا ہے۔ {۴۸}</p>
<p>جب کہ منافقین اور وہ سب لوگ جن کے دلوں کو روگ لگا ہوا ہے ، کہہ رہے تھے کہ ِان لوگوں کو تواِن کے دین نے خبط میں مبتلا کررکھا ہے۔[39] حالانکہ اگر کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تویقینا اللہ بڑا زبردست اور دانا ہے۔{۴۹}</p>
<p>کاش تم اُس حالت کو دیکھ سکتے جب کہ فرشتے مقتول کافروں کی روحیں قبض کررہے تھے۔ وہ اُن کے چہروں ، اور اُن کے کو لھوں پر ضربیں لگاتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے ’’ لواب جلنے کی سزا بھگتو {۵۰}</p>
<p> یہ وہ جزا ہے جس کا سامان تمہارے اپنے ہاتھوں نے پیشگی مہیا کررکھا تھا ، ورنہ اللہ تو اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ ‘‘{۵۱}</p>
<p> یہ معاملہ ان کے ساتھ اُسی طرح پیش آیا جس طرح آل فرعون اور اس سے پہلے کے دوسرے لوگوں کے ساتھ پیش آتا رہا ہے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑلیا۔ اللہ قوت رکھتا ہے اور سخت سزادینے والا ہے ۔{ ۵۲}</p>
<p>یہ اللہ کی اس سنت کے مطابق ہوا کہ وہ کسی نعمت کو جو اس نے کسی قوم کو عطا کی ہو اُس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ قوم خود اپنے طرز عمل کو نہیں بدل دیتی۔[40] اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ { ۵۳}</p>
<p> آلِ فرعون اور ان سے پہلے کی قوموں کے ساتھ جو کچھ پیش آیا وہ اسی ضابطے کے مطابق تھا۔ انہوں نے اپنے رَبّ کی آیات کو جھٹلایا تب ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں انہیں ہلاک کیا اور آل فرعون کو غرق کردیا ۔ یہ سب ظالم لوگ تھے۔{ ۵۴}</p>
<p>یقینا اللہ کے نزدیک زمین پر چلنے والی مخلوق میں سب سے بدتر وہ لوگ ہیں۔ جنہوں نے حق کو ماننے سے انکار کردیا پھر کسی طرح وہ اسے قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ {۵۵}</p>
<p> (خصوصاً) ان میں سے وہ لوگ جن کے ساتھ تونے معاہدہ کیا پھر وہ ہر موقع پر اس کو توڑتے ہیں اور ذرا اللہ کا خوف نہیں کرتے[41]{۵۶}</p>
<p>پس اگر یہ لوگ تمہیں لڑائی میں مل جائیں تو ان کی ایسی خبرلو کہ ان کے بعد دوسرے جو لوگ ایسی روش اختیار کرنے والے ہوں ان کے حواس باختہ ہوجائیں۔[42]  توقع ہے کہ بد عہدوں کے اس انجام سے وہ سبق لیں گے۔{۵۷}</p>
<p> اور اگر کبھی تمہیں کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہوتو اس کے معاہدے کو علانیہ اس کے آگے پھینک[43] دو۔  یقینا اللہ خائنوں کو پسند نہیں کرتا۔ {۵۸}</p>
<p> منکرین حق اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ وہ بازی لے گئے ، یقینا وہ ہم کو ہرا نہیں سکتے۔ {۵۹}</p>
<p>اور تم لوگ جہاں تک تمہارا بس چلے ، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے اُن کے مقابلہ کے لیے مہیا رکھو[44]تا کہ اس کے ذریعہ سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور اُن دوسرے اعداء کو خوف زدہ کردو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے۔ اللہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدل تمہاری طرف پلٹایا جائے گا اور تمہارے ساتھ ہر گز ظلم نہ ہوگا۔{۶۰}</p>
<p>اور( اے نبی  ؐ !) اگر دشمن صلح و سلامتی کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کے لیے  آمادہ ہوجا ؤ اور اللہ پر بھروسہ کرو ، یقینا وہی سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے {۶۱}</p>
<p>اور اگر وہ دھوکے کی نیت رکھتے ہوں تو تمہارے لئے اللہ کافی ہے۔ [45]وہی تو ہے جس نے اپنی مدد سے اور مومنوں کے ذریعے سے تمہاری تائید کی{ ۶۲}</p>
<p>اور مومنوں کے دل ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیے۔ تم روئے زمین کی ساری دولت بھی خرچ کر ڈالتے تو ان لوگوں کے دل نہ جوڑسکتے تھے مگر وہ اللہ ہے جس نے ان لوگوں کے دل جوڑے ،[46] یقینا وہ بڑا زبردست اور دانا ہے۔ { ۶۳}</p>
<p>اے نبی  ؐ ! تمہارے لئے اور تمہارے پیرو اہل ایمان کے لیے  تو بس اللہ کافی ہے۔{ ۶۴}</p>
<p> ( اے نبی  ؐ !)مومنوں کو جنگ پر ابھارو۔ اگر تم میں سے بیس آدمی صابر ہوں تو وہ دوسو پر غالب آئیں گے اور اگر سو آدمی ایسے ہوں تو منکرین حق میں سے ہزار آدمیوں پر بھاری رہیں گے کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے۔[47]  {۶۵}</p>
<p>اچھا ، اب اللہ نے تمہارا بوجھ ہلکا کیا اور اسے معلوم ہوا کہ ابھی تم میں کمزوری ہے ، پس اگر تم میں سے سو آدمی صابرہوں تو وہ دوسو پر اور ہزار آدمی ایسے ہوں تو دوہزار پر اللہ کے حکم سے غالب آئیں [48]گے، اور اللہ اُن لوگوں کے ساتھ ہے جو صبر کرنے والے ہیں۔{۶۶}</p>
<p>کسی نبی کے لیے  یہ زیبا نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک کہ وہ زمین میں دشمنوں کو اچھی طرح کچل نہ دے ۔ تم لوگ دنیا کے فائدے چاہتے ہو حالانکہ اللہ کے پیش نظر آخرت ہے،اور اللہ غالب اور حکیم ہے۔ {۶۷}</p>
<p> اگر اللہ کا نوشتہ پہلے نہ لکھا جاچکا ہوتا تو جو کچھ تم لوگوں نے لیا ہے اس کی پاداش میں تم کو بڑی سزادی جاتی۔ {۶۸}</p>
<p> پس جو کچھ تم نے مال حاصل کیا ہے اُسے کھا ؤ کہ وہ حلال اور پاک ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو۔[49] یقینا اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔{۶۹}</p>
<p>اے نبی  ؐ! تم لوگوں کے قبضے میں جو قیدی ہیں اُن سے کہو اگر اللہ کو معلوم ہوا کہ تمہارے دلوں میں کچھ خیر ہے تو وہ تمہیں اس سے بڑھ چڑ ھ کردے گا جو تم سے لیا گیا ہے اور تمہاری خطائیں معاف کرے گا، اللہ درگزر کرنے والا ہے اور رحم فرمانے والا ہے۔ { ۷۰}</p>
<p> لیکن اگر وہ تیرے ساتھ خیانت کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس سے پہلے وہ اللہ کے ساتھ خیانت کرچکے ہیں ، چنانچہ اسی کی سزا اللہ نے انہیں دی کہ وہ تیرے قابو میں آگئے ، اللہ سب کچھ جانتا اور حکیم ہے۔{۷۱}</p>
<p>جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنی جانیں لڑائیں اور اپنے مال کھپائے ، اور جن لوگوں نے ہجرت کرنے والوں کو جگہ دی اور ان کی مدد کی ، وہی دراصل ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ رہے وہ لوگ جو ایمان تو لے آئے مگر ہجرت کرکے (دارالاسلام میں) آنہیں گئے تو ان سے تمہارا ولایت کا کوئی تعلق نہیں ہے جب تک کہ وہ ہجرت کرکے نہ آجائیں ۔[50]ہاں اگر وہ دین کے معاملے میں تم سے مدد مانگیں تو ان کی مدد کرنا تم پر فرض ہے، لیکن کسی ایسی قوم کے خلاف نہیں جس سے تمہارا معاہدہ [51]ہو۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔{ ۷۲}</p>
<p>جو لوگ منکرِ حق ہیں وہ ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔ اگر تم یہ نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہوگا۔{ ۷۳}</p>
<p>جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں گھر بار چھوڑے اور جدوجہد کی اور جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی وہی سچے مومن ہیں۔ ان کے لیے خطا ؤں سے درگزر ہے اور بہترین رزق ہے{ ۷۴}</p>
<p>اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کرکے آگئے اور تمہارے ساتھ مل کر جدوجہد کرنے لگے وہ بھی تم ہی میں شامل ہیں، مگر اللہ کی کتاب میں خون کے رشتے دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں[52]، یقینا اللہ ہر چیز کو جانتا ہے۔{۷۵}</p>

</div><div id="9"><p>سورۃالتوبۃ </p>
<p> </p>
<p>اعلان [1]برأت ہے اللہ اور اُس کے رسول  ؐکی طرف سے ان مشرکین کو جن سے تم نے معاہدے کئے تھے۔[2] {۱}</p>
<p> پس تم لوگ ملک میں چار مہینے اور چل پھر لو [3]اور جان رکھو کہ تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو، اور یہ کہ اللہ منکرین حق کو رسوا کرنے والا ہے { ۲}</p>
<p> اطلاع عام ہے اللہ اور اس کے  رسُول  ؐ کی طرف سے حج اکبر[4] کے دن تمام لوگوں کے لیے  کہ اللہ مشرکین سے بری الذمہّ ہے اور اس کا رسُول  ؐ بھی۔ اب اگر تم لوگ توبہ کرلو تو تمہارے ہی لئے بہتر ہے اور جو منھ پھیرتے ہو تو خوب سمجھ لو کہ تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو۔ اور اے نبی  ؐ! انکار کرنے والوں کو سخت عذاب کی خوش خبری سنادو ۔ { ۳}</p>
<p> بجز اُن مشرکین کے جن سے تم نے معاہدے کئے پھر انہوں نے اپنے عہد کو پورا کرنے میں تمہارے ساتھ کوئی کمی نہیں کی اور نہ تمہارے خلاف کسی کی مدد کی ، تو ایسے لوگوں کے ساتھ تم بھی مدّت معاہدہ تک وفا کر و کیونکہ اللہ متقیوں ہی کو پسند کرتا ہے۔[5]{ ۴}</p>
<p>پس جب حرام مہینے گزرجائیں[6] تو مشرکین کو قتل کرو جہاں پا ؤ اور انہیں پکڑو اور گھیرو اور ہر گھات میں اُن کی خبر لینے کے لیے  بیٹھو ۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو انہیں چھوڑ دو۔[7] اللہ درگزر فرمانے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔{۵}</p>
<p>اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص پناہ مانگ کر تمہارے پاس آنا چاہے ( تاکہ اللہ کا کلام سنے ) تو اسے پناہ دے دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے۔ پھر اسے اس کے مامن تک پہنچادو۔ یہ اس لیے کرنا چاہئے کہ یہ لوگ علم نہیں رکھتے۔[8]{۶}</p>
<p>ان مشرکین کے لیے  اللہ اور اس کے رسول  ؐکے نزدیک کوئی عہد آخر کیسے ہوسکتا ہے؟ بجز اُن لوگوں کے جن سے تم نے مسجد حرام کے پاس معاہدہ کیا تھا،[9] تو جب تک وہ تمہارے ساتھ سیدھے رہیں تم بھی ان کے ساتھ سیدھے رہو کیوں کہ اللہ متقیوں کوپسند کرتا ہے۔{۷}</p>
<p> مگر اُن کے سوا دوسرے مشرکین کے ساتھ کوئی عہد کیسے ہوسکتا ہے جب کہ اُن کا حال یہ ہے کہ تم پر قابو پاجائیں تو نہ تمہارے معاملہ میں کسی قرابت کا لحاظ کریں نہ کسی معاہدہ کی ذمہ داری کا ۔وہ اپنی زبانوں سے تم کو راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر دل اُن کے انکار کرتے ہیں[10] اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں۔[11]{۸}</p>
<p> انہوں نے اللہ کی آیات کے بدلے تھوڑی سی قیمت قبول کرلی [12]پھر اللہ کے راستے میں سدِّراہ بن کر کھڑے ہوگئے۔[13] بہت بُرے کر توت تھے جو یہ کرتے رہے{۹}</p>
<p> کسی مومن کے معاملے میں نہ یہ قرابت کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ کسی عہد کی ذمہ داری کا اور زیادتی ہمیشہ اِنہی کی طرف سے ہوئی ہے۔{۱۰}</p>
<p>پس اگر یہ تو بہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں۔ اور جاننے والوں کے لیے  ہم اپنے احکام واضح کئے دیتے ہیں۔[14]{۱۱}</p>
<p> اور اگر عہد کرنے کے بعد یہ پھر اپنی قسموں کو توڑڈالیں اور تمہارے دین پر حملے کرنے شروع کردیں تو کفر کے علمبرداروں سے جنگ کر وکیونکہ ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں۔ شاید کہ (پھر تلوارہی کے زور سے )وہ باز آئیں گے۔ [15] { ۱۲}</p>
<p>کیا تم [16]نہ لڑو گے ایسے لوگوں سے جو اپنے عہد توڑتے رہے ہیں اور جنہوں نے  رسول  ؐکو ملک سے نکال دینے کا قصد کیا تھا اور زیادتی کی ابتداء کرنے والے وہی تھے ؟ کیا تم اُن سے ڈرتے ہو؟ اگر تم مومن ہو تو اللہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اُس سے ڈرو۔ { ۱۳}</p>
<p>  ان سے لڑو اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزاد لوائے گا اور انہیں ذلیل وخوار کرے گا اور ان کے مقابلے میں تمہاری مدد کریگا اور بہت سے مومنوں کے دل ٹھنڈے کرے گا۔ { ۱۴}</p>
<p>اور ان کے قلوب کی جلن مٹادے گا ، اور جسے چاہے گا توبہ کی توفیق بھی دے گا۔[17] اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا ہے{۱۵}</p>
<p> کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی چھوڑدیے جا ؤگے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تودیکھا( واضح کرکے تم کو دکھایا) ہی نہیں کہ تم میں سے کون وہ لوگ ہیں جنہوں نے (اُس کی راہ میں ) جاں فشانی کی اور اللہ اور رسُول  ؐ اور مومنین کے سوا کسی کو جگری دوست نہ بنایا ،[18] جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ {۱۶}</p>
<p>  مشرکین کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ اللہ کی مسجدوں کے مجاور و خادم بنیں درآں حالیکہ اپنے اُوپر وہ خود کفر کی شہادت دے رہے ہیں۔[19] ان کے تو سارے اعمال ضائع ہوگئے [20]اور جہنم میں انہیں ہمیشہ رہنا ہے۔{۱۷}</p>
<p> اللہ کی مسجدوں کے آباد کار ( مجاور و خادم) تو وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو اللہ اورروزِ آخر کو مانیں ، اور نماز قائم کریں ، زکوٰۃ دیں ، اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈریں۔ انہی سے یہ توقع ہے کہ سیدھی راہ چلیں گے۔{۱۸}</p>
<p> کیا تم لوگوں نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی مجاوری کرنے کو اس شخص کے کام کے برابر ٹھہرالیا ہے جو ایمان لایا اللہ پر اور روز آخر پر اور جس نے جانفشانی کی اللہ کی راہ میں؟[21] اللہ کے نزدیک تو یہ دونوں برابر نہیں ہیں اور اللہ ظالموں کی رہنمائی نہیں کرتا۔ {۱۹}</p>
<p> اللہ کے ہاں تو انہی لوگوں کا درجہ بڑا ہے۔ جو ایمان لائے اور جنہوں نے اس کی راہ میں گھر بار چھوڑے اور جان ومال سے جہاد کیا۔وہی کامیاب ہیں۔{ ۲۰}</p>
<p>اُن کارَبّ انہیں اپنی رحمت اور خوشنودی اور ایسی جنتوں کی بشارت دیتا ہے جہاں ان کے لیے پائیدار عیش کے سامان ہیں۔{۲۱}</p>
<p> ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔یقینا اللہ کے پاس خدمات کا صلہ دینے کو بہت کچھ ہے۔{۲۲}</p>
<p>اے لوگو جو ایمان لائے ہو!اپنے باپوں اوربھائیوں کو بھی اپنا رفیق نہ بنا ؤ اگر وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیں ۔ تم میں سے جو اُن کو رفیق بنائیں گے وہی ظالم ہوں گے۔ {۲۳}</p>
<p>(اے نبی  ؐ!) کہدو کہ اگر تمہارے باپ، اور تمہارے بیٹے، اور تمہارے بھائی، اور تمہاری بیویاں، اور تمہارے عزیز واقارب، اور تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں ،اور تمہارے وہ کاروبار جن کے ماندپڑجانے کا تم کو خوف ہے، اور تمہارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں ، تم کو اللہ اور اس کے رسُول  ؐ اور اس کی راہ میں جہاد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرویہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے[22] ، اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا۔ { ۲۴}</p>
<p>اللہ اس سے پہلے بہت سے مواقع پر تمہاری مددکرچکا ہے۔ ابھی غزوۂ حُنین کے روز (اس کی دستگیری کی شان تم دیکھ چکے[23] ہو۔ )اُس روز تمہیں اپنی کثرت تعداد کا غَرّہ تھا ، مگر وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی اورز مین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی اور تم پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے۔{۲۵}</p>
<p> پھر اللہ نے اپنی سکِینت اپنے رسُول  ؐ پر اور مومنین پر نازل فرمائی اور وہ لشکر اُتارے جو تم کو نظر نہ آتے تھے اور منکرینِ حق کو سزادی کہ یہی  بَدلہ ہے اُن لوگوں کے لیے جو حق کا انکار کریں ۔{۲۶}</p>
<p>پھر (تم یہ بھی دیکھ چکے ہو کہ ) اس طرح سزادینے کے بعد اللہ جس کو چاہتا ہے توبہ کی توفیق بھی بخش دیتا ہے۔[24]  اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔{۲۷}</p>
<p>اے لوگوجو ایمان لائے ہو!مشرکین نا پاک ہیں ، لہٰذا اس سال کے بعد یہ مسجد حرام کے قریب نہ پھٹکنے پائیں۔[25] اور اگر تمہیں تنگ دستی کا خوف ہے تو بعید نہیں کہ اللہ چاہے تو تمہیں اپنے فضل سے غنی کردے ، اللہ علیم و حکیم ہے۔{۲۸}</p>
<p>جنگ کرو اہل کتاب میں سے ان لوگوں کے خلاف جو اللہ اور روزِ آخر پر ایمان نہیں[26] لاتے اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسول  ؐنے حرام قرار دیا ہے اسے حرام نہیں کرتے[27] اور دین حق کو اپنا دین نہیں بناتے۔ (اُن سے لڑو) یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کررہیں۔ [28]{۲۹}</p>
<p>یہودی کہتے ہیں کہ عُزَیر ؑ اللہ کا بیٹا ہے [29]، اور عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح  ؑاللہ کا بیٹا ہے یہ بے حقیقت باتیں ہیں جو وہ اپنی زبانوں سے نکالتے ہیں ان لوگوں کی دیکھا دیکھی جو ان سے پہلے کفر میں مبتلا ہوئے تھے۔[30] اللہ کی ماران پر ، یہ کہاں سے دھوکا کھارہے ہیں۔{۳۰}</p>
<p> انہو ں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رَبّ بنالیا ہے[31] اور اسی طرح مسیح  ؑ ابن مریم کو بھی ۔ حالانکہ ان کو ایک معبود کے سواکسی کی بندگی کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا ، وہ جس کے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں، پاک ہے وہ اُن مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔{۳۱}</p>
<p> یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنی پھونکوں سے بجھادیں ۔ مگر اللہ اپنی روشنی کو مکمل کئے بغیر ماننے والا نہیں ہے خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔{۳۲}</p>
<p> وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسُول  ؐ کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا ہے تا کہ اسے پوری جنس دین پر غالب کردے[32] خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوارہو{ ۳۳}</p>
<p>اے لوگوجو ایمان لائے ہو ! ان اہل کتاب کے اکثر علماء اور درویشوں کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کے مال باطل طریقوں سے کھاتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔[33] دردناک سزاکی خوشنجری دو،اُن کو جو سونے اور چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ۔{ ۳۴}</p>
<p>ایک دن آئے گا کہ اِسی سونے چاندی پر جہنم کی آگ دہکائی جائے گی اور پھر اسی سے ان لوگوں کی پیشانیوں اور پہلو ؤں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا۔ یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لئے جمع کیا تھا، لو اب اپنی سمیٹی ہوئی دولت کا مزہ چکھو۔ {۳۵}</p>
<p> حقیقت یہ ہے کہ مہینوں کی تعداد جب سے اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اللہ کے نوشتے میں بارہ ہی ہے،[34] اور ان میں سے چار مہینے حرام ہیں۔  یہی ٹھیک ضابطہ ہے۔ لہٰذا ان چار مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو[35] اور مشرکوں سے سب مل کرلڑوجس طرح وہ سب مل کر تم سے لڑتے ہیں[36] اور جان رکھو کہ اللہ متقیوں ہی کے ساتھ ہے۔{۳۶}</p>
<p> نَسی تو کفر میں ایک مزید کا فرانہ حرکت ہے جس سے یہ کافرلوگ گمراہی میں مبتلا کئے جاتے ہیں۔ کسی سال ایک مہینے کو حلال کرلیتے ہیں اور کسی سال اُس کو حرام کردیتے ہیں تاکہ اللہ کے حرام کئے ہوئے مہینوں کی تعداد پوری بھی کردیں اور اللہ کا حرام کیا ہوا حلال بھی کرلیں  ۔[37] اُن کے بُرے اعمال ان کے لیے خوشنما بنادئے گئے ہیں اور اللہ منکرینِ حق کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔{۳۷}</p>
<p>اے لوگو [38]جو ایمان لائے ہو! تمہیں کیا ہوگیا کہ جب تم سے اللہ کی راہ میں نکلنے کے لیے  کہا گیا تو تم زمین سے چمٹ کررہ گئے ؟ کیا تم نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کرلیا ؟ ایسا ہے تو تمہیں معلوم ہوکہ دنیوی زندگی کا یہ سب سروسامان آخرت میں بہت تھوڑا نکلے گا۔[39]{۳۸}</p>
<p> تم نہ اٹھوگے تو اللہ تمہیں دردناک سزادے گا،[40] اور تمہاری جگہ کسی اور گروہ کو اُٹھائے گا[41] ، اور تم اللہ کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکوگے، وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ {۳۹}</p>
<p> تم نے اگر نبی  ؐکی مددنہ کی تو کچھ پروا نہیں ،اللہ اُس کی مدد اُس وقت کرچکا ہے جب کافروں نے اسے نکال دیا تھا، جب وہ صرف دو میں کا دُوسرا تھا، جب وہ دونوں غارمیں تھے ، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ ’’ غم نہ کر، اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘۔[42] اس وقت اللہ نے اُس پر اپنی طرف سے سکون ِقلب نازل کیا اور اس کی مدد ایسے لشکروں  سے کی جوتم کو نظر نہ آتے تھے اور کافروں کا بول نیچا کردیااور اللہ کابول تو اونچا ہی ہے ، اللہ زبردست اور داناو بینا ہے۔{۴۰}</p>
<p> نکلو،خواہ ہلکے ہویا بوجھل [43]، اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ ، یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو۔ {۴۱}</p>
<p>(اے نبی  ؐ! )اگر فائدہ سہل الحصول ہوتا اور سفر ہلکا ہوتا تو وہ ضرور تمہارے پیچھے چلنے پر آمادہ ہوجاتے، مگر اُن پر تو یہ راستہ بہت کٹھن ہوگیا۔[44]  اب وہ اللہ کی قسم کھا کھا کرکہیں گے۔ کہ اگر ہم چل سکتے تو یقینا تمہارے ساتھ چلتے۔ وہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں، اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔{ ۴۲}</p>
<p> (اے نبی  ؐ! )اللہ تمہیں معاف کرے ، تم نے کیوں انہیں رخصت دے دی؟( تمہیں چاہئے تھا کہ خود رُخصت نہ دیتے ) تاکہ تم پر کھل جاتا کہ کون لوگ سچے ہیں اور جھوٹوں کو بھی تم جان لیتے ۔[45]{ ۴۳}</p>
<p>جو لوگ اللہ اور روز ِآخر پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو کبھی تم سے یہ درخواست نہ کریں گے کہ انہیں اپنی جان ومال کے ساتھ جہاد کرنے سے معاف رکھا جائے ۔ اللہ متقیوں کو خوب جانتا ہے۔ {۴۴}</p>
<p>ایسی درخواستیں تو صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو اللہ اور روزِ آخرپر ایمان نہیں رکھتے ، جن کے دلوں میں شک ہے اور وہ اپنے شک ہی میں متردّد ہورہے ہیں۔[46]{۴۵}</p>
<p> اگر واقعی اُن کا ارادہ نکلنے کا ہوتا تو وہ اس کے لیے  کچھ تیاری کرتے۔ لیکن اللہ کو ان کا اٹھنا پسند ہی نہ تھا[47] اس لیے اس نے اُنہیں سست کردیا اور کہہ دیا گیا کہ بیٹھ رہو بیٹھنے والوں کے ساتھ۔{۴۶}</p>
<p>اگر وہ تمہارے ساتھ نکلتے تو تمہارے اندر خرابی کے سواکسی چیز کا اضافہ نہ کرتے۔ وہ تمہارے درمیان فتنہ پردازی کے لیے  دوڑ دھوپ کرتے ، اور تمہارے گروہ کا حال یہ ہے کہ ابھی اُن میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو ان کی باتیں کان لگاکر سنتے ہیں، اللہ ان ظالموں کو خوب جانتا ہے۔{۴۷}</p>
<p> اس سے پہلے بھی ان لوگوں نے فتنہ انگیزی کی کوششیں کی ہیں اور تمہیں ناکام کرنیکے لیے  یہ ہرطرح کی تدبیروں کا الٹ پھیر کرچکے ہیں یہاں تک کہ ان کی مرضی کے خلاف حق آگیا اور اللہ کا کام ہوکر رہا۔{۴۸}</p>
<p>ان میں سے کوئی ہے جو کہتا ہے کہ ’’ مجھے رخصت دے دیجئے اور مجھ کو فتنے میں نہ ڈالیے‘‘[48] سُن رکھو ! فتنے ہی میں تو یہ لوگ پڑے ہوئے ہیں [49]اور جہنم نے ان کافروں کو گھیر رکھا ہے۔[50] {۴۹}</p>
<p>تمہارا بھلا ہوتا ہے تو انہیں رنج ہوتا ہے اور تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یہ منھ پھیر کر خوش خوش پلٹتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں کہ اچھا ہوا ہم نے پہلے ہی اپنا معاملہ ٹھیک کرلیا تھا۔ {۵۰}</p>
<p>ان سے کہو’’ہمیں ہر گز کوئی (بُرائی یا بھلا ئی )نہیں پہنچتی مگر وہ جو اللہ نے ہمارے لئے لکھ دی ہے ۔ اللہ ہی ہمارا مولیٰ ہے، اور اہل ایمان کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے‘‘۔[51] {۵۱}</p>
<p> ان سے کہو: ’’ تم ہمارے معاملے میں جس چیز کے منتظر ہو وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ دوبھلائیوں میں سے ایک بھلائی[52] ہے۔ اور ہم تمہارے معاملے میں جس چیز کے منتظر ہیں وہ یہ ہے کہ اللہ خود تم کو سزادیتا ہے یا ہمارے ہاتھوں دلواتا ہے؟ اچھا تو اب تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی تمہارے ساتھ منتظر ہیں۔‘‘{۵۲}</p>
<p>ان سے کہو ’’تم اپنے مال خواہ راضی خوشی خرچ کرو یا بکراہت ، [53]بہرحال وہ قبول نہ کئے جائیں گے کیونکہ تم فاسق لوگ ہو‘‘۔{۵۳}</p>
<p>ان کے دیے ہوئے مال قبول نہ ہونے کی کوئی وجہ اِس کے سِوا نہیں ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول  ؐسے کفر کیا ہے ، نماز کے لیے  آتے ہیں تو کسمساتے ہوئے آتے ہیں ، اور اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں تو بادلِ ناخواستہ خرچ کرتے ہیں۔ { ۵۴}</p>
<p>ان کے مال و دولت اور ان کی کثرت اولاد کو دیکھ کر دھوکانہ کھا ؤ ، اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ انہی چیزوں کے ذریعہ سے ان کو دنیا کی زندگی میں بھی مبتلائے عذاب کرے[54] اور یہ جان بھی دیں تو انکارِ حق ہی کی حالت میں دیں،[55]{۵۵}</p>
<p>وہ اللہ کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم تم ہی میں سے ہیں ، حالانکہ وہ ہر گز تم میں سے نہیں ہیں۔ اصل میں تو وہ ایسے لوگ ہیں جو تم سے خوف زدہ ہیں۔{۵۶}</p>
<p> اگر وہ کوئی جائے پناہ پالیں یا کوئی کھوہ یاگھس بیٹھنے کی جگہ، تو بھاگ کر اس میں جاچھپیں ۔[56]{۵۷}</p>
<p>(اے نبی  ؐ ! )ان میں سے بعض لوگ صدقات  کی تقسیم میں تم پر اعتراضات کرتے ہیں۔ اگر اس مال میں سے انہیں کچھ دے دیا جائے تو خوش ہوجائیں، اور نہ دیا جائے تو بگڑنے لگتے ہیں۔[57]{۵۸}</p>
<p> کیا اچھا ہوتا کہ اللہ اور رسول  ؐنے جو کچھ بھی انہیں دیا تھا اس پروہ راضی[58] رہتے اور کہتے کہ ’’ اللہ ہمارے لئے کافی ہے ، وہ اپنے فضل سے ہمیں اور بہت کچھ دے گا اور اس کے رسُول  ؐ بھی ہم پر عنایت فرمائیں گے،[59] ہم اللہ ہی کی طرف نظر جمائے ہوئے ہیں ‘‘[60] {۵۹}</p>
<p>یہ صدقات تو دراصل فقیر وں[61] اور مسکینوں [62]کے لیے  ہیں اور ان لوگوں کے لیے جو صدقات کے کام پر مامور ہوں[63]،  اور اُن کے لیے  جن کی تالیف قلب مطلوب ہو۔[64] نیز یہ گردنوں کے چھڑانے [65] اور قرضداروں کی مدد [66] کرنے میں اور راللہ کی راہ میں[67]  اور مسافر نوازی  [68]میں استعمال کرنے کے لیے ہیں۔ ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا وبینا ہے۔{ ۶۰}</p>
<p>ان میں سے کچھ لوگ ہیں جو اپنی باتوں سے نبی  ؐ کو دُکھ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص کانوں کا کچا [69]ہے۔ کہو ،’’ وہ تمہاری بھلائی کے لیے  ایسا [70]ہے۔ اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور اہل ایمان پر اعتماد کرتا[71] ہے اور سراسر رحمت ہے اُن لوگوں کے لیے  جو تم میں سے ایمان دار ہیں۔ اور جو لوگ اللہ کے رسُول  ؐ کو دکھ دیتے ہیں ان کے لیے  درد ناک سزا ہے‘‘۔{۶۱}</p>
<p>یہ لوگ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں تا کہ تمہیں راضی کریں ، حالانکہ اگر یہ مومن ہیں تو اللہ اور رسُول  ؐ اس کے زیادہ حق دار ہیں کہ یہ ان کو راضی کرنے کی فکر کریں۔ { ۶۲}</p>
<p>کیا انہیں معلوم نہیں ہے کہ جو اللہ اور اس کے رسُول  ؐ کا مقابلہ کرتا ہے ، اس کے لیے  دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ؟ یہ بہت بڑی رسوائی ہے۔ { ۶۳}</p>
<p>یہ منافق ڈر رہے ہیں کہ کہیں مسلمانوں پر کوئی ایسی سورت نازل نہ ہوجائے جو ان کے دلوں کے بھید کھول کر رکھ دے ۔ [72] (اے نبی  ؐ! )ان سے کہو ،’’ اور مذاق اڑا ؤ ،اللہ اُس چیز کو کھول دینے والا ہے جس کے کُھل جانے سے تم ڈرتے ہو‘‘ {۶۴}</p>
<p>اگر ان سے پوچھو کہ تم کیا باتیں کررہے تھے، تو جھٹ کہہ دیں گے کہ ہم تو ہنسی مذاق اور دل لگی کررہے تھے۔ [73]ان سے کہو ’’ کیا تمہاری ہنسی دل لگی اللہ اور اس کی آیات اور اس کے رسُول  ؐ ہی کے ساتھ تھی ؟{۶۵}</p>
<p> اب عذُرات نہ تراشو ۔ تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا ہے۔اگر ہم نے تم میں سے ایک گروہ کو معاف کربھی دیا تو دُوسرے گروہ کو تو ہم ضرور سزادیں گے کیونکہ وہ مجرم ہے۔‘‘[74]{۶۶}</p>
<p>منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک دوسرے کے ہم رنگ ہیں ۔ برائی کا حکم دیتے ہیں اور بھلائی سے منع کرتے ہیں اور اپنے ہاتھ خیر سے روکے رکھتے ہیں ۔[75] یہ اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا۔ یقینا یہ منافق ہی فاسق ہیں۔{۶۷}</p>
<p>ان منافق مردوں اور عورتوں اور کافروں کے لیے  اللہ نے آتش دوزخ کا وعدہ کیا ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ، وہی ان کے لیے  موزوں ہے۔ ان پر اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لیے  قائم رہنے والا عذاب ہے۔ {۶۸}</p>
<p>تم لوگوں [76]کے رنگ ڈھنگ وہی ہیں جو تمہارے پیش رَوؤں کے تھے ۔وہ تم سے زیادہ زور آوراور تم سے بڑھ کرمال اور اولاد و الے تھے۔ پھراُنہوں نے دنیا میں اپنے حصے کے مزے لُوٹ لئے اور تم نے بھی اپنے حصے کے مزے اُسی طرح لُوٹے جیسے انہوں نے لوٹے تھے، اور ویسی ہی بحثوں میں تم بھی پڑے جیسی بحثوں میں وہ پڑے تھے ، سواُن کا انجام یہ ہُوا کہ دنیا اور آخرت میں اُن کا سب کیا دھرا ضائع ہوگیا اور وہی خسارے میں ہیں۔ {۶۹}</p>
<p>کیا [77]ان لوگوں کو اپنے پیش رَوؤں کی تاریخ نہیں پہنچی ؟ نوح  ؑکی قوم، عاد، ثمود، ابراہیم ؑ کی قوم ،مَدْیَنْ کے لوگ اور وہ بستیاں جنہیں اُلٹ  [78]دیا گیا۔ اُن کے رسُولؑ اُن کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے ، پھر یہ اللہ کا کام نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا مگر وہ آپ ہی اپنے اوپر ظلم کرنے والے تھے۔[79]{۷۰}</p>
<p> مومن مرد اور مومن عورتیں ، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں، بھلائی کا حکم دیتے اور بُرائی سے روکتے ہیں ، نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسُول  ؐ کی اطاعت کرتے ہیں۔[80] یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی رحمت نازل ہو کر رہے گی، یقینا اللہ سب پرغالب اور حکیم و دانا ہے۔{۷۱}</p>
<p> ان مومن مردوں اور عورتوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ انہیں ایسے باغ دے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔اُن سدا بہار باغوں میں اُن کے لیے  پاکیزہ قیام گاہیں ہوں گی ، اور سب سے بڑھ کریہ کہ اللہ کی خوشنودی اُنہیں حاصل ہوگی۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔{۷۲}</p>
<p>اے نبی  ؐ ! [81] کفار اور منافقین دونوں کا پوری قوت سے مقابلہ کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آ ؤ۔ [82]آخر کار ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بدترین جائے قرار ہے۔{ ۷۳}</p>
<p>یہ لوگ اللہ کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے وہ بات نہیں کہی ، حالانکہ انہوں نے ضرور وہ کافرانہ بات کہی ہے۔[83] وہ اسلام لانے کے بعد کفر کے مرتکب ہوئے اورانہوں نے وہ کچھ کرنے کاارادہ کیا جسے کرنہ سکے۔[84] یہ ان کا ساراغصہ اسی بات پر ہے ناکہ اللہ اور اس کے رسُول  ؐ نے اپنے فضل سے ان کو غنی کردیاہے۔[85] اب اگر یہ اپنی اس روش سے بازآئیں تو انہی کے لیے  بہتر ہے، اور اگر یہ بازنہ آئے تو اللہ ان کو نہایت دردناک سزادے گا، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ،اور زمین میں کوئی نہیں جو ان کا حمایتی اور مددگار ہو۔{ ۷۴}</p>
<p>اُن میں سے بعض ایسے بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر اس نے اپنے فضل سے ہم کو نوازا تو ہم خیرات کریں گے اور صالح بن کررہیں گے۔ {۷۵}</p>
<p>  مگر جب اللہ نے اپنے فضل سے ان کو دولتمند کردیا تو وہ بخل پراترآئے اور اپنے عہد سے ایسے پھر ے کہ انہیں اس کی پرواہ تک نہیں ہے۔ [86]{۷۶}</p>
<p> نتیجہ یہ نکلاکہ ان کی اس بدعہدی کی وجہ سے جو انہوں نے اللہ کے ساتھ کی، اور اُس جھوٹ کی وجہ سے جو وہ بولتے رہے، اللہ نے ان کے دلوں میںنفاق بٹھادیا جو اس کے حضوراُن کی پیشی کے دن تک ان کا پیچھانہ چھوڑے گا۔ {۷۷}</p>
<p> کیا یہ لوگ جانتے نہیں ہیں کہ اللہ کو ان کے مخفی راز اور ان کی پوشیدہ سرگوشیاں تک معلوم ہیں اور وہ تمام غیب کی باتوں سے پوری طرح باخبر ہے ؟ {۷۸}</p>
<p>( وہ خوب جانتا ہے ان کنجوس دولت مندوں کو) جو بہ رضاورغبت دینے والے اہل ایمان کی مالی قربانیوں پر باتیں چھانٹتے ہیں اوراُن لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں جن کے پاس ( اللہ کی راہ میں دینے کے لیے  ) اُسکے سوا کچھ نہیں ہے جو وہ اپنے اوپر مشقت برداشت کرکے دیتے ہیں ۔[87] اللہ اِن مذاق اڑانے والوں کا مذاق اڑاتا ہے اور ان کے لیے درد ناک سزا ہے۔ {۷۹}</p>
<p>(اے نبی  ؐ! ) تم خواہ ایسے لوگوں کے لیے معافی کی درخواست کرویا نہ کرو، اگر تم سترّ مرتبہ بھی انہیں معاف کردینے کی درخواست کرو گے تو اللہ انہیں ہر گز معاف نہ کرے گا ۔ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسُول  ؐ کے ساتھ کفر کیا ہے ، اور اللہ فاسق لوگوں کو راہ نجات نہیں دکھا تا۔{۸۰}</p>
<p>جن لوگوں کو پیچھے رہ جانے کی اجازت دے دی گئی تھی وہ اللہ کے رسُول  ؐ  کا ساتھ نہ دینے اور گھر بیٹھے رہنے پر خوش ہوئے اور انہیں گوارانہ ہو اکہ اللہ کی راہ میں جان ومال سے جہاد کریں ۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ ’’اِس سخت گرمی میں نہ نکلو‘‘ ان سے کہو کہ جہنم کی آگ اس سے زیادہ گرم ہے ، کاش انہیں اس کا شعور ہوتا۔{۸۱}</p>
<p>اب چاہیے کہ یہ لوگ ہنسنا کم کریں اور روئیں زیادہ ، اس لیے کہ جو بدی یہ کماتے رہے ہیں اس کی جزا ایسی ہی ہے (کہ انہیں اس پر رونا چاہیے ){ ۸۲}</p>
<p> اگر اللہ ان کے درمیان تمہیں واپس لے جائے اور آئندہ ان میں سے کوئی گروہ جہاد کے لیے  نکلنے کی تم سے اجازت مانگے تو صاف کہہ دینا ’’ اب تم میرے ساتھ ہرگز نہیں چل سکتے اور نہ میری معیت میں کسی دشمن سے لڑسکتے ہو ، تم نے پہلے بیٹھ رہنے کو پسند کیا تھا تو اب گھر بیٹھنے والوں ہی کے ساتھ بیٹھے رہو‘‘{۸۳}</p>
<p>اور آئندہ ان میں سے جو کوئی مرے اس کی نماز جنازہ بھی تم ہرگز نہ پڑھنا اور نہ کبھی اس کی قبر پر کھڑے ہونا ، کیوں کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول  ؐکے ساتھ کفر کیا ہے اور وہ مرے ہیں اس حال میں کہ وہ فاسق تھے۔[88]{ ۸۴}</p>
<p>ان کی مالداری اور ان کی کثرت اولاد تم کودھوکے میں نہ ڈالے۔ اللہ نے توارادہ کرلیا ہے کہ اس مال و اولاد کے ذریعہ سے ان کو اسی دنیا میں سزادے اور ان کی جانیں اس حال میں نکلیں کہ وہ کافرہوں۔ {۸۵}</p>
<p>جب کبھی کوئی سورت اس مضمون کی نازل ہوئی کہ اللہ کو مانو اور اس کے رسول  ؐکے ساتھ مل کر جہاد کرو تو تم نے دیکھا کہ جو لوگ ان میں سے صاحب مقدرت تھے وہی تم سے درخواست کرنے لگے کہ انہیں جہاد کی شرکت سے معاف رکھا جائے اور انہوں نے کہا کہ ہمیں چھوڑ دیجئے کہ ہم بیٹھنے والوں کے ساتھ رہیں۔{۸۶}</p>
<p> ان لوگوں نے گھر بیٹھنے والیوں میں شامل ہونا پسند کیا اور اُن کے دلوں پر ٹھپہّ لگادیا گیا ، اس لیے ان کی سمجھ میں اب کچھ نہیں آتا ۔[89]{۸۷}</p>
<p> بخلاف اس کے رسول  ؐنے اور اُن لوگوں نے جو رسُول  ؐ کے ساتھ ایمان لائے تھے اپنی جان و مال سے جہاد کیا اور اب ساری بھلائیاں انہی کے لیے  ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں۔{۸۸}</p>
<p> اللہ نے ان کے لیے  ایسے باغ تیار کررکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ ہے عظیم الشان کامیابی ۔ {۸۹}</p>
<p>بدوی عربوں میں سے بھی بہت سے لوگ آئے [90]جنہوں نے عُذر کئے تا کہ انہیں بھی پیچھے رہ جانے کی اجازت دی جائے۔ اس طرح بیٹھ رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسُول  ؐ سے ایمان کا جھوٹا عہد کیاتھا۔ اِن بدویوں میں سے جن جن لوگوں نے کفر کا طریقہ اختیار کیا ہے[91] عنقریب وہ درد ناک سزا سے دوچارہوں گے{ ۹۰}</p>
<p> ضعیف اور بیمار لوگ اور وہ لوگ جو شرکت جہاد کے لیے  زادِ راہ نہیں پاتے، اگر پیچھے رہ جائیں تو کوئی حرج نہیں جب کہ وہ خلوص دل کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول  ؐکے وفادار ہوں[92] ایسے محسنین پر اعتراض کی کوئی گنجایش نہیں ہے اور اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے{۹۱}</p>
<p>اسی طرح اُن لوگوں پر بھی کوئی اعتراض کا موقع نہیں ہے جنہوں نے خود آکر تم سے درخواست کی تھی کہ ہمارے لئے سواریاں بہم پہنچائی جائیں اور جب تم نے کہا کہ میں تمہارے لئے سواریوں کا انتظام نہیں کرسکتا تو وہ مجبور ًاواپس گئے اور حال یہ تھا کہ اُن کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور انہیں اس بات کا بڑا رنج تھا کہ وہ اپنے خرچ پر شریک جہاد ہونے کی مقدرت نہیں رکھتے۔ [93]{۹۲}</p>
<p>البتہ اعتراض اُن لوگوں پر ہے جو مالدار ہیں اور پھر بھی تم سے درخواست کرتے ہیں کہ انہیں شرکت جہاد سے معاف رکھاجائے ۔ انہوں نے گھر بیٹھنے والیوں میں شامل ہونا پسند کیا اور اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپہ لگادیا ،اس لیے اب یہ کچھ نہیں جانتے  (کہ اللہ کے ہاں ان کی اس روش کا کیا نتیجہ نکلنے والا ہے) ۔{۹۳}</p>
<p>تم جب پلٹ کر ان کے پاس پہنچو گے تو یہ طرح طرح کے عُذرات پیش کریں گے۔ مگر تم صاف کہہ دینا کہ ’’ بہانے نہ کرو ، ہم تمہاری کسی بات کا اعتبار نہ کریں گے۔ اللہ نے ہم کو تمہارے حالات بتادیے ہیں۔ اب اللہ اور اس کا رسُول  ؐ  تمہارے طرز عمل کو دیکھے گا ، پھر تم اُس کی طرف پلٹائے جا ؤ گے جو کھلے اور چُھپے سب کا جاننے والا ہے اور وہ تمہیں بتادے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو‘‘۔{۹۴}</p>
<p>تمہاری واپسی پر یہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تا کہ تم ان سے َصرفِ نظر کرو۔ توبے شک تم ان سے َصرفِ نظر ہی کر لو ،[94] کیونکہ یہ گندگی ہیں اور ان کا اصلی مقام جہنم ہے جو ان کی کمائی کے بدلے میں انہیں نصیب ہوگی۔{۹۵}</p>
<p> یہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تا کہ تم ان سے راضی ہوجا ؤ۔حالانکہ اگر تم اِن سے راضی ہو بھی گئے تو اللہ ہر گز ایسے فاسق لوگوں سے راضی نہ ہوگا۔{۹۶}</p>
<p>یہ بدوی عرب کفرونفاق میں زیادہ سخت ہیں اور انکے معاملے میں اس امر کے امکانات زیادہ ہیں کہ اُس دین کے حدود سے ناواقف رہیں جو اللہ نے اپنے رسول  ؐپر نازل کیا ہے۔[95]  اللہ سب کچھ جانتا ہے اور حکیم و دانا ہے۔{۹۷}</p>
<p> ان بدویوں میں ایسے ایسے لوگ موجود ہیں جو اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرتے ہیں تو اسے اپنے اوپر زبردستی کی چَٹّی(تاوان) سمجھتے ہیں[96] اور تمہارے حق میں زمانہ کی گردشوں کا انتظار کررہے ہیں (کہ تم کسی چکر میں پھنسو تو وہ اپنی گردن سے اس نظام کی اطاعت کا قلادہ اتار پھینکیں جس میں تم نے انہیں کس دیا ہے )۔ حالانکہ بدی کا چکر خود انہی پر مسلط ہے اور اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔{۹۸}</p>
<p> اور انہی بدویوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے اللہ کے ہاں تقرّب کا اور رسول  ؐکی طرف سے رحمت کی دعائیں لینے کا ذریعہ بناتے ہیں۔ ہاں ! وہ ضرور ان کے لیے تقرّب کا ذریعہ ہے اور اللہ ضرور ان کو اپنی رحمت میں داخل کرے گا ، یقینا اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ {۹۹}</p>
<p>وہ مہاجر وانصار جنہوں نے سب سے پہلے دعوت ایمان پر لبیک کہنے میں سبقت کی، نیز وہ جو بعد میں راست بازی کے ساتھ اُن کے پیچھے آئے ، اللہ ان سے راضی ہو ا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیّا کررکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ، یہی عظیم الشان کامیابی ہے۔{۱۰۰}</p>
<p>تمہارے گردو پیش جو بدوی رہتے ہیں ان میں بہت سے منافق ہیں اور اسی طرح خود مدینہ کے باشندوں میں بھی منافق موجود ہیں جو نفاق میں طاق ہوگئے ہیں۔ تم انہیں نہیں جانتے ، ہم اُن کو جانتے ہیں[97]۔ قریب ہے وہ وقت جب ہم ان کو دوہری سزادیں گے [98]، پھر وہ زیادہ بڑی سزا کے لیے واپس لائے جائیں گے۔{۱۰۱}</p>
<p>کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے اپنے قصوروں کا اعتراف کرلیا ہے۔ ان کا عمل مخلوط ہے کچھ نیک ہے اور کچھ بد ۔  بعید نہیں کہ اللہ ان پر پھر مہربان ہوجائے کیونکہ وہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے{ ۱۰۲}</p>
<p>اے نبی  ؐ!  تم ان کے اموال میں سے صدقہ لے کر انہیں پاک کرو اور (نیکی کی راہ میں ) انہیں بڑھا ؤ اور ان کے حق میں دعائے رحمت کرو، کیونکہ تمہاری دعاء ان کے لیے وجہ تسکین ہوگی، اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے{ ۱۰۳}</p>
<p>کیااِن لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ وہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور اُن کی خیرات کو قبولیت عطا فرماتا ہے ، اور یہ کہ اللہ بہت معاف کرنے والا اور رحیم ہے؟ {۱۰۴}</p>
<p>اور اے نبی  ؐ! ان لوگوں سے کہہ دو کہ تم عمل کرو، اللہ اور اس کا رسول  ؐاور مومنین سب دیکھیں گے کہ تمہارا طرز عمل اب کیا رہتا ہے [99]پھر تم اُس کی طرف پلٹائے جا ؤ گے جو کھلے اور چھپے سب کو جانتا ہے اور وہ تمہیں بتادے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔[100] {۱۰۵}</p>
<p>   کچھ دوسرے لوگ ہیں جن کا معاملہ ابھی اللہ کے حکم پر ٹھہرا ہوا ہے ، چاہے انہیں سزادے اور چاہے ان پر از سر نومہربان ہوجائے ۔ اللہ سب کچھ جانتا ہے اور حکیم ودانا ہے۔[101] {۱۰۶}</p>
<p>کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے ایک مسجد بنائی اس غرض کے لیے کہ (دعوت حق کو ) نقصان پہنچائیں، اور (اللہ کی بندگی کرنے کے بجائے) کفر کریں ، اور اہل ایمان میں پھُوٹ ڈالیں ، اور (اس بظاہر عبادت گاہ کو ) اُس شخص کے لیے  کمین گاہ بنائیں جو اِس سے پہلے اللہ اور اِس کے رسول  اکے خلاف برسرپیکار ہوچکا ہے۔ وہ ضرور قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہمارا ارادہ تو بھلائی کے سوا کسی دوسری چیز کا نہ تھا ۔ مگر اللہ گواہ ہے کہ وہ قطعی جھوٹے ہیں ۔{۱۰۷}</p>
<p>تم ہر گز اُس عمارت میں کھڑے نہ ہونا ۔ جو مسجد اول روز سے تقویٰ پر قائم کی گئی تھی وہی اس کے لیے زیادہ موزوں ہے کہ تم اس میں (عبادت کے لیے ) کھڑے ہو،اُس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ کو پاکیزگی اختیار کرنے والے ہی پسند ہیں۔[102]{۱۰۸}</p>
<p>پھر تمہارا کیا خیال ہے کہ بہتر انسان وہ ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد اللہ کے خوف اور اس کی رضا کی طلب پر رکھی ہویا وہ جس نے اپنی عمارت ایک وادی کی کھوکھلی بے ثبات کگر [103] (کنارے ) پراٹھائی اور وہ اسے لے کر سیدھی جہنم کی آگ میں جاگری ؟ ایسے ظالم لوگوں کو اللہ کبھی سیدھی راہ نہیں دکھاتا ۔[104]{۱۰۹}</p>
<p> یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں بے یقینی کی جڑبنی رہے گی( جس کے نکلنے کی اب کوئی صورت نہیں ) بجز اس کے کہ ان کے دل ہی پارہ پارہ ہوجائیں۔ [105]اللہ نہایت باخبر اورحکیم ودانا ہے۔{۱۱۰}</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کے نفس اور ان کے مال جنّت کے بدلے خرید لئے ہیں ۔[106]  وہ اللہ کی راہ میں لڑتے اور مارتے اور مرتے ہیں۔ ان سے  اللہ تعالیٰ کے ذمے ایک پختہ وعدہ ( جنّت کا وعدہ ) ہے تو راۃ اورا نجیل اور قرآن میں[107] ۔ اور کون ہے جو اللہ تعالی سے بڑھ کر اپنے عہد کو پورا کرنے والا ہو ؟ پس خوشیاں منا ؤ اپنے اس سودے پر جو تم نے اللہ تعالیٰ سے چکا لیا ہے، یہی سب سے بڑی کامیابی ہے ۔{۱۱۱}</p>
<p> اللہ کی طرف باربار  پلٹنے والے ،[108] اس کی بندگی بجالانے والے ، اس کی تعریف  کے گن گانے والے ، اس کی خاطر زمین میں گردش کرنے والے،[109]  اس کے آگے رکوع اور سجدے کرنے والے ، نیکی کا حکم دینے والے ، بدی سے روکنے والے، اور اللہ کے حدود کی حفاظت کرنے والے ،[110] ( اس شان کے ہوتے ہیں وہ مومن جو اللہ سے بیع کا یہ معاملہ طے کرتے ہیں) او راے نبی  ؐ!ان مومنوں کو خوشنجری دے دو۔{ ۱۱۲}</p>
<p>نبی  ؐ  کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں ، زیبا نہیں ہے کہ مشرکوں کے لیے مغفرت کی دعاء کریں چاہے وہ ان کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں ، جب کہ ان پر یہ بات کھل چکی ہے کہ وہ جہنم کے مستحق  ہیں۔[111]{۱۱۳}</p>
<p> ابراہیم ؑ نے اپنے باپ کے لیے جو دعائے مغفرت کی تھی وہ تو اُس وعدے کی وجہ سے تھی جو اس نے اپنے باپ سے کیا تھا [112]، مگر جب اس پر یہ بات کھل گئی کہ اس کا باپ اللہ کادشمن ہے تو وہ اس سے بیزار ہوگیا، حق یہ ہے کہ ابراہیم ؑ بڑا رقیق القلب و نرم دل اور بردبار آدمی تھا۔ [113]{۱۱۴}</p>
<p>اللہ کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ لوگوں کو ہدایت دینے کے بعد پھر گمراہی میں مبتلا کرے جب تک کہ انہیں صاف صاف بتانہ دے کہ انہیں کن چیزوں سے بچنا چاہئے۔[114] درحقیقت اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔{۱۱۵}</p>
<p> اور یہ بھی واقعہ ہے کہ اللہ ہی کے قبضہ میں زمین اور آسمانوں کی سلطنت ہے ، اسی کے اختیار میں زندگی و موت ہے، اور تمہارا کوئی حامی  (ولی)ومددگار ایسا نہیں ہے جو تمہیں اس سے بچاسکے۔ {۱۱۶}</p>
<p>اللہ تعالیٰ نے معاف کردیا نبی  ؐ  کو اور ان مہاجرین وانصار کو جنہوں نے بڑی تنگی کے وقت میں نبی  ؐ کا ساتھ دیا۔ [115]اگر چہ اُن میں سے کچھ لوگوں کے دل کجی کی طرف مائل ہوچلے تھے ،[116] ( مگر جب انہوں نے اس کجی کا اتباع نہ کیا بلکہ نبی  ؐکا ساتھ دیاتو ) اللہ نے انہیں معاف کردیا،[117] بے شک اُس کا معاملہ ان لوگوں کے ساتھ شفقت ومہربانی کا ہے۔{۱۱۷}</p>
<p> اور اُنتینوں کو بھی اس نے معاف کیا جن کے معاملہ کو ملتوی کردیا گیا تھا [118]جب زمین اپنی ساری وُسعت کے باوجود ان پر تنگ ہوگئی اور ان کی اپنی جانیں بھی اُن پر بار ہونے لگیں اور انہوں نے جان لیا کہ اللہ سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ خود اللہ ہی کے دامن رحمت کے سوا نہیں ہے، تو اللہ اپنی مہربانی سے ان کی طرف پلٹا تا کہ وہ اُس کی طرف پلٹ آئیں ، یقینا وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے۔ [119] {۱۱۸}</p>
<p> اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کا ساتھ دو۔ {۱۱۹}</p>
<p> مدینے کے باشندوں اور گردو نواح کے بدویوں کو یہ ہرگززیبانہ تھا کہ اللہ کے رسُول  ؐ کو چھوڑ کر گھر بیٹھ رہتے اور اُس کی طرف سے بے پر واہو کر اپنے اپنے نفس کی فکر میں لگ جاتے اُس لئے کہ ایسا کبھی نہ ہوگا کہ اللہ کی راہ میں بھوک پیاس اور جسمانی مشقت کی کوئی تکلیف وہ جھیلیں ، اور منکرین حق کو جو راہ ناگوار ہے اُس پر کوئی قدم وہ اٹھائیں،اور کسی دشمن سے (عداوت حق کا ) کوئی انتقام وہ لیں ،اور اس کے بدلے ان کے حق میں ایک عمل صالح نہ لکھا جائے۔ یقینا اللہ کے ہاں محسنوں کا حق الخدمت مارا نہیں جاتا ہے۔{۱۲۰}</p>
<p>اسی طرح یہ بھی کبھی نہ ہوگا کہ وہ ( اللہ کی را ہ میں ) تھوڑا یا بہت کوئی خرچ اٹھائیں اور (سعی جہاد میں ) کوئی وادی وہ پار کریں اور ان کے حق میں اسے لکھ نہ لیا جائے تا کہ اللہ ان کے اس اچھے کارنامے کا صلہ اُنہیں عطا کرے۔ {۱۲۱}</p>
<p> اور یہ کچھ ضروری نہ تھا کہ اہل ایمان سارے کے سارے ہی نکل کھڑے ہوتے ، مگر ایسا کیوں نہ ہوا کہ اُن کی آبادی کے ہر حصہ میں سے کچھ لوگ نکل کر آتے اور دین کی سمجھ پیدا کرتے اور واپس جاکر اپنے علاقے کے باشندوں کو خبردار کرتے تا کہ وہ (غیر مسلمانہ روش سے ) پرہیز کرتے۔[120] {۱۲۲}</p>
<p> اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جنگ کرو اُن منکرینِ حق سے جو تمہارے پاس  (قریب )ہیں،[121] اور چاہیئے کہ وہ تمہارے اندر سختی پائیں[122] ، اور جان لو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے۔ [123]{ ۱۲۳}</p>
<p>جب کوئی نئی سُورت نازل ہوتی ہے تو ان میں سے بعض لوگ (مذاق کے طور پر مسلمانوں سے ) پوچھتے ہیں کہ ’’ کہو :تم میں سے کس کے ایمان میں اس سے اضافہ ہوا ؟‘‘ (اس کا جواب یہ ہے کہ )جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کے ایمان میں توفی الواقع (ہر نازل ہونے والی سُورت نے ) اضافہ ہی کیا ہے اور وہ اس سے دلشاد ہیں۔{۱۲۴}</p>
<p>البتہ جن لوگوں کے دلوں کو (نفاق کا) روگ لگا ہوا تھا ان کی سابق نجاست پر ( ہرنئی سورت نے ) ایک اور نجاست کا اضافہ کردیا [124]اور وہ مرتے دم تک کفر ہی میں مبتلا رہے ۔{۱۲۵}</p>
<p>کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ ہر سال ایک دو مرتبہ یہ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں ؟[125] مگر اس پر بھی نہ توبہ کرتے ہیں نہ کوئی سبق لیتے ہیں۔{۱۲۶}</p>
<p> جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو یہ لوگ آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہیں کہ کہیں کوئی تم کو دیکھ تو نہیں رہا ہے ، پھر چپکے سے نکل بھاگتے ہیں۔[126] اللہ نے ان کے دل پھیردیے ہیں کیونکہ یہ ناسمجھ لوگ ہیں۔ [127]{۱۲۷}</p>
<p> دیکھو ! تم لوگوں کے پاس ایک رسُول  ؐ آیا ہے جو خود تم ہی میں سے ہے ، تمہارا نقصان میں پڑنا اس پر شاق ہے ۔ تمہاری فلاح کا وہ حریص ہے، ایمان لانے والوں کے لیے وہ شفیق او ررحیم ہے {۱۲۸}</p>
<p> اب اگر یہ لوگ تم سے منھ پھیرتے ہیں تو اے نبی  ؐ! ان سے کہہ دو کہ ’’میرے لئے تو بس، اللہ ہی کافی ہے کوئی معبود نہیں مگر وہ، اُسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہ مالک ہے عرش عظیم کا‘‘۔{۱۲۹}</p>

</div><div id="10"><p>سورۃیونس </p>
<p>اللہ کے نام سے جوبے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>الٓـرٰ ، یہ اُس کتاب کی آیات ہیں جو حکمت ودانش سے لبریزہے۔[1]{۱}</p>
<p>کیا لوگوں کے لیے یہ عجیب بات ہوگئی کہ ہم نے خود انہی میں سے ایک آدمی پر وحی بھیجی کہ (غفلت میں پڑے ہوئے)لوگوں کو چونکادے اور جو مان لیں ان کو خوشجری دے دے کہ ان کے لیے ان کے رَبّ کے پاس سچی عزت و سرفرازی ہے؟[2] (اس پر ) منکرین نے کہا کہ یہ شخص تو کھلا جادوگرہے۔  [3]{۲}</p>
<p> حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رَبّ وہی اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھرتخت سلطنت پر جلوہ گر ہو کر کائنات کا انتظام چلارہا ہے۔[4] کوئی شفاعت (سفارش) کرنے والا نہیں ہے اِلاّ یہ کہ اُس کی اجازت کے بعد شفاعت کرے ۔[5] یہی اللہ تمہارا رَبّ ہے لہٰذا تم اسی کی عبادت کرو۔[6] پھر کیا تم ہوش میں نہ آ ؤ گے۔[7]{ ۳}</p>
<p>اُسی کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے ،[8] یہ اللہ کا پکا وعدہ ہے ۔بے شک پیدائش کی ابتدا وہی کرتا ہے ، پھر وہی دوبارہ پید ا کرے گا ،[9]تا کہ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے ان کو انصاف کے ساتھ جزادے ، اور جنہوں نے کفر کا طریقہ اختیار کیا وہ کھولتا ہوا پانی پئیں اور درد ناک سزابھگتیں اس انکار حق کی پاداش میں جو وہ کرتے رہے۔ [10]{ ۴}</p>
<p>وہی ہے جس نے سورج کو اُجیالا بنایا اور چاند کو چمک دی اور چاند کے گھٹنے بڑھنے کی منزلیں ٹھیک ٹھیک مقرر کردیں تا کہ تم اس سے برسوں اور تاریخوں کے حساب معلوم کرو۔ اللہ نے یہ سب کچھ برحق ہی پیدا کیا ہے۔ وہ اپنی نشانیوں کو کھول کھول کر پیش کررہا ہے اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔{۵}</p>
<p> یقینا رات اور دن کے الٹ پھیر میں اور ہر اُس چیز میں جو اللہ نے زمین اور آسمانوں میں پیدا کی ہے ، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو (غلط بینی وغلط روی سے ) بچنا چاہتے ہیں۔ [11]{۶}</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی ہی پر راضی اور مطمئن ہوگئے ہیں ، اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں{۷}</p>
<p> اُن کا آخری ٹھکانا جہنم ہوگا اُن بُرائیوں کی پاداش میں جن کا اکتساب وہ ( اپنے اس غلط عقیدے اور غلط طرز عمل کی وجہ سے ) کرتے رہے۔[12]{۸}</p>
<p>اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جو لوگ ایمان لائے (یعنی جنہوں نے اُن صداقتوں کو قبول کرلیا جو اس کتاب میں پیش کی گئی ہیں) اور نیک اعمال کرتے رہے انہیں ان کا رَبّ ان کے ایمان کی وجہ سے سیدھی راہ چلائے گا ، نعمت بھری جنتوں میں اُن کے نیچے نہریں بہیں گی[13]{۹}</p>
<p> وہاں ان کی صدایہ ہوگی کہ ’’ پاک ہے تو اے اللہ ! اُن کی دُعا یہ ہوگی کہ ’’ سلامتی ہو ‘‘ اور ان کی ہربات کا خاتمہ اس پر ہوگا کہ ’’ ساری تعریف اللہ رب العٰلمین ہی کے لیے ہے۔‘‘[14]{۱۰}</p>
<p>  اگر کہیں[15] اللہ لوگوں کے ساتھ بُرا معاملہ کرنے میں بھی اتنی ہی جلدی کرتا جتنی وہ ودنیا کی بھلائی مانگنے میں جلدی کرتے ہیں تو ان کی مہلتِ عمل کبھی کی ختم کردی گئی ہوتی۔ ( مگر ہمارا یہ طریقہ نہیں ہے) اِس لئے ہم اُن لوگوں کو جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اُن کی سرکشی میں بھٹکنے کے لیے چھوٹ دے دیتے ہیں ۔{۱۱}</p>
<p> انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس پر کوئی سخت وقت آتا ہے تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہم کو پکارتا ہے ، مگر جب ہم اس کی مصیبت ٹال دیتے ہیں تو ایسا چل نکلتا ہے کہ گویا اس نے کبھی اپنے کسی بُرے وقت پر ہم کو پکاراہی نہ تھا۔ اس طرح حد سے گزر جانے والوں کے لیے ان کے کرتوت خوشنما بنادیے گئے ۔ { ۱۲}</p>
<p>لوگو! تم سے پہلے کی قوموں[16]  کو ہم نے ہلاک کردیا جب انہو ں نے ظلم کی روش[17] اختیار کی اور اُن کے رسُول ؑ اُن کے پاس کُھلی کُھلی نشانیاں لے کر آئے اور انہوں نے ایمان لاکر ہی نہ دیا۔ اس طرح ہم مجرموں کو ان کے جرائم کا بدلہ دیا کرتے ہیں۔ {۱۳}</p>
<p>اب اُن کے بعد ہم نے تم کو زمین میں ان کی جگہ دی ہے ، تاکہ دیکھیں تم کیسے عمل کرتے ہو۔[18]{۱۴}</p>
<p>جب انہیں ہماری صاف صاف باتیں سنائی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے ، کہتے ہیں کہ ’’اِس کے بجائے کوئی اور قرآن لا ؤ یا اس میں کچھ ترمیم کر و‘‘[19]اے نبی ا!ان سے کہو ’’ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر وتبدّل کرلوں ۔میں تو بس اُس وحی کا پیروہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے۔ اگر میں اپنے رَبّ کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا ڈر ہے۔[20]{۱۵}</p>
<p>اور کہو ’’ اگر اللہ کی مشّیت یہی ہوتی تو میں یہ قرآن تمہیں کبھی نہ سناتا اور اللہ تمہیں اس کی خبر تک نہ دیتا۔ آخر اس سے پہلے میں ایک عمر تمہارے درمیان گزار چکا ہوں ، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟[21] {۱۶}</p>
<p> پھر اُس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جوایک جھوٹی بات گھڑکر اللہ کی طرف منسوب کرے یا اللہ کی واقعی آیات کو جھوٹا قرار دے ۔ [22]یقینا مجرم کبھی فلاح نہیں پاسکتے‘‘۔[23]{۱۷}</p>
<p>یہ لوگ اللہ کے سوا ان کی پرستش کررہے ہیں جو ان کو نہ نقصان پہنچاسکتے ہیں نہ نفع، اور کہتے یہ ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں اے نبی  ؐ ! ان سے کہو ’’ کیا تم اللہ کو اُس بات کی خبر دیتے ہو جسے وہ نہ آسمانوں میں جانتا ہے ۔ نہ زمین میں‘‘؟[24]  پاک ہے وہ اور بالا وبرتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔{۱۸}</p>
<p>ابتداء ً سارے انسان ایک ہی اُمّت تھے ، بعد میں انہوں نے مختلف عقیدے اور مسلک بنا لئے،[25] اور اگرتیرے رَبّ کی طرف سے پہلے ہی ایک بات طے نہ کرلی گئی ہوتی تو جس چیز میں وہ باہم اختلاف کررہے ہیں اُس کا فیصلہ کردیا [26]جاتا۔ {۱۹}</p>
<p> اور یہ جو وہ کہتے ہیں کہ اِس نبی  ؐ پر اس کے رَبّ کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتاری گئی ،[27] تو ان سے کہو  ’’غیب کا مالک و مختار تو اللہ ہی ہے ، اچھا ، انتظار کرو ، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔‘‘[28]{۲۰}</p>
<p>لوگوں کا حال یہ ہے کہ مصیبت کے بعد جب ہم اُن کو رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو فوراً ہی وہ ہماری نشانیوں کے معاملے میں چالبازیاں شروع کردیتے [29]ہیں۔  ان سے کہو ’’اللہ اپنی چال میں تم سے زیادہ تیز ہے ، اس کے فرشتے تمہاری سب مکاریوں کو قلم بندکر رہے[30] ہیں ‘‘۔ {۲۱}</p>
<p> وہ اللہ ہی ہے جو تم کو خشکی اور تری میں چلاتا ہے چنانچہ جب تم کشتیوں میں سوار ہو کر باد موافق پر فرحاں وشاداں سفر کررہے ہوتے ہو اور پھر یکایک باد ِمخالف کا زور ہوتا ہے اور ہر طرف سے موجوں کے تھپیڑے لگتے ہیں اور مسافر سمجھ لیتے ہیں کہ طوفان میں گِھر گئے ، اس وقت سب اپنے دین کو اللہ ہی کے لیے خالص کرکے اس سے دعائیں مانگتے ہیں کہ ’’اگر تونے ہم کو اِس بَلاسے نجات دے دی تو ہم شکر گزار بندے بنیں گے‘‘ ۔[31]{۲۲}</p>
<p>مگر جب وہ ان کو بچالیتا ہے تو پھر وہی لوگ حق سے مُنحرف ہو کر زمین میں بغاوت کرنے لگتے ہیں ۔ لوگو! تمہاری یہ بغاوت تمہارے ہی خلاف پڑرہی ہے ۔ دنیا کی زندگی کے چند روزہ مزے ہیں ( اس کے دھوکے میں مت پڑو)، پھر ہماری طرف تمہیں پلٹ کر آنا ہے ، اُس وقت ہم تمہیں بتادیں گے کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔{ ۲۳}</p>
<p>دنیا کی یہ زندگی ( جس کے نشے میں مست ہوکر تم ہماری نشانیوں سے غفلت برت رہے ہو ) اِس کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے ہم نے پانی برسایا تو زمین کی پیداوار ، جسے آدمی اور جانور سب کھاتے ہیں ، خوب گھنی ہوگئی ، پھر عین اُس وقت جب کہ زمین اپنی بہار پر تھی اور کھیتیاں بنی سنوری کھڑی تھیں اور ان کے مالک سمجھ رہے تھے کہ اب ہم ان سے فائدہ اٹھانے پر قادر ہیں ، یکایک رات کو یادن کو ہمارا حکم آگیا اور ہم نے اسے ایسا غارت کرکے رکھ دیا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں ۔ اس طرح ہم نشانیاں کھول کھول کر پیش کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو سوچنے سمجھنے والے ہیں۔{۲۴}</p>
<p> (تم اس ناپائیدار زندگی کے فریب میں مبتلا ہورہے ہو) اور اللہ تمہیں دارالسلام کی طرف دعوت دے [32]رہا ہے۔ (ہدایت اُسی کے اختیار میں ہے ) جس کو وہ چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے۔{۲۵}</p>
<p> جن لوگوں نے بھلائی کا طریقہ اختیار کیا ان کے لیے بھلائی ہے اور مزید فضل ۔[33]ان کے چہروں پر روسیاہی اور ذلت نہ چھائے گی۔ وہ جنّت کے مستحق ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔{۲۶}</p>
<p>اور جن لوگوں نے برائیاں کمائیں اُن کی برائی جیسی ہے ویساہی وہ بدلہ پائیں گے ،[34] ذلت ان پر مسلّط ہوگی ، کوئی اللہ سے اُن کو بچانے والا نہ ہوگا ، اُن کے چہروں پر ایسی تاریکی چھائی ہوئی ہوگی[35] جیسے رات کے سیاہ پردے اِن پر پڑے ہوئے ہوں ، وہ دوزخ کے مستحق ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔{۲۷}</p>
<p> جس روز ہم ان سب کو ایک ساتھ (اپنی عدالت میں ) اکٹھا کریں گے ،پھر اُن لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا ہے کہیں گے کہ ٹھہر جا ؤ تم بھی اور تمہارے بنائے ہوئے شریک بھی ، پھر ہم اُن کے درمیان سے اجنبیت کا پردہ ہٹادیں گے[36] اور ان کے شریک کہیں گے کہ ’’ تم ہماری عبادت تو نہیں کرتے تھے ۔{۲۸}</p>
<p> ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی گواہی کافی ہے، کہ ( تم اگر ہماری عبادت کرتے بھی تھے تو) ہم تمہاری اس عبادت سے بالکل بے خبر تھے ‘‘[37]{۲۹}</p>
<p> اُس وقت ہر شخص اپنے کئے کا مزہ چکھ لے گا ، سب اپنے حقیقی مالک کی طرف پھیردیے جائیں گے  اور وہ سارے جھوٹ جو انہو ں نے گھڑ رکھے تھے گم ہوجائیں گے۔{۳۰}</p>
<p> اُن سے پُوچھو ، کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے ؟ یہ سماعت اور بینائی کی قوتیں کس کے اختیار میں ہیں ؟ کون بے جان میں سے جاندار کو اور جاندار میں سے بے جان کو نکالتا ہے ؟ کون اس نظمِ عالم کی تدبیر کررہا ہے ؟ وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ ۔ کہو ، پھر تم (حقیقت کیخلاف چلنے سے ) پرہیز نہیں کرتے ؟{۳۱}</p>
<p> تب تویہی اللہ تمہارا حقیقی رَبّ ہے۔[38] پھر حق کے بعدگمراہی کے سوا اور کیاباقی رہ گیا ؟ آخر یہ تم کدھر پھر ائے جارہے[39] ہو ؟ {۳۲}</p>
<p> (اے نبی  ؐ !دیکھو ) اس طرح نافرمانی اختیارکرنے والوں پر تمہارے رَبّ کی بات صادق آگئی کہ وہ مان کر نہ دیں[40] گے۔{ ۳۳}</p>
<p>اِن سے پُوچھو تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ہے جو تخلیق کی ابتداء بھی کرتا ہو اورپھر اس کا اعادہ بھی کرے؟ کہو وہ صرف اللہ ہے جو تخلیق کی ابتدا ء بھی کرتا ہے اور اس کااعادہ بھی[41] ، پھر تم یہ کس الٹی راہ پر چلائے جارہے ہو ؟ [42]{۳۴}</p>
<p>  اِن سے پوچھو تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہو[43] ؟ کہو وہ صرف اللہ ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ پھر بھلا بتا ؤ ، جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے وہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یاوہ جو خودراہ نہیں پاتا اِلاّیہ کہ اُس کی رہنمائی کی جائے؟ آخر تمہیں ہوکیا گیا ہے ،کیسے اُلٹے فیصلے کرتے ہو؟{۳۵}</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ محض قیاس وگمان کے پیچھے  چلے جارہے ہیں،[44] حالانکہ گمان حق کی ضرورت کو کچھ بھی پورا نہیں کرتا۔جو کچھ یہ کررہے ہیں، اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔{۳۶}</p>
<p> اور یہ قرآن وہ چیز نہیں ہے جو اللہ کی وحی و تعلیم کے بغیر تصنیف کرلیا جائے ،بلکہ یہ توجو کچھ پہلے آچکا تھا اس کی تصدیق اور الکتاب کی تفصیل ہے۔[45] اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ فرمانروائے کائنا ت کی طرف سے ہے۔ {۳۷}</p>
<p> کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر  ؐنے اسے خود تصنیف کرلیا ہے ؟ کہو: ’’ اگر تم اپنے اس الزام میں سچے ہوتو ایک سُورۃ اِس جیسی تصنیف کرلا ؤاور ایک اللہ کو چھوڑ کر جس جس کو بلا سکتے ہو مدد کے لیے بلالو‘‘۔[46]{۳۸}</p>
<p> اصل یہ ہے کہ جو چیز اِن کے علم کی گرفت میں نہیں آئی اور جس کا مآل (انجام)بھی ان کے سامنے نہیں آیا ، اس کو انہوں نے ( خواہ مخواہ اٹکل پچوّ) جُھٹلادیا [47]اِسی طرح تو اِن سے پہلے کے لوگ بھی جھٹلاچکے ہیں، پھر دیکھ لو ان ظالموں کو کیا انجام ہوا۔{۳۹}</p>
<p> ان میں سے کچھ لوگ ایمان لائیں گے اور کچھ نہیں لائیں گے اورآپ ؐ کا رَبّ ان مفسدوں کو خوب جانتا ہے[48]{ ۴۰}</p>
<p>اگر یہ آپ  ا کوجھٹلاتے ہیں تو کہہ دیجئے کہ ’’ میرا عمل میرے لئے ہے اور تمہارا عمل تمہارے لئے، جو کچھ میں کرتا ہوں اس کی ذمہ داری سے تم بری ہو اور جو کچھ تم کررہے ہو اس کی ذمہ داری سے میں بری ہوں۔‘‘  [49]{۴۱}</p>
<p>ان میں سے بہت سے لوگ ہیں جو تیری باتیں سنتے ہیں ، مگر کیا تو بہروں کو سنائے گا خواہ وہ کچھ نہ سمجھتے ہوں ؟[50]{۴۲}</p>
<p>ان میں سے بہت سے لوگ ہیں جو تجھے دیکھتے ہیں، مگر کیا تو اندھوں کو راہ بتائے گا خواہ اُنہیں کچھ نہ سوجھتا ہو ؟[51]{۴۳}</p>
<p> حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پر ظلم نہیں کرتا ، لوگ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔[52]{۴۴}</p>
<p> (آج یہ دنیا کی زندگی میں مست ہیں) اور جس روز اللہ ان کو اکٹھاکرے گا تو (یہی دنیا کی زندگی اِنہیں ایسی محسوس ہوگی) گویا یہ محض ایک گھڑی بھر آپس میں جان پہچان کرنے کو ٹھہرے تھے۔[53] (اُس وقت تحقیق ہوجائے گا کہ ) فی الواقع سخت گھاٹے میں رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی ملاقات کوجھٹلایا [54]اور ہرگز وہ راہ راست پر نہ تھے۔ {۴۵}</p>
<p> جن بُرے نتائج سے ہم انہیں ڈرا رہے ہیں اُن کا کوئی حصہ ہم تیرے جیتے جی دکھادیں یا اُس سے پہلے ہی تجھے اُٹھالیں ، بہرحال انہیں آنا ہماری طرف ہی ہے اور جو کچھ یہ کررہے ہیں اس پر اللہ گواہ ہے۔{۴۶}</p>
<p>ہر اُمّت کے لیے ایک رسُول [55]ہے۔ پھر جب کسی اُمت کے پاس اس کا رسو ل آجاتا ہے تو اس کا فیصلہ پورے انصاف کے ساتھ چکا دیا جاتا ہے اور اس پر ذرّہ برابر ظلم نہیں کیا جاتا ۔[56]{۴۷}</p>
<p>کہتے ہیں اگر تمہاری یہ دھمکی سچّی ہے تو آخر یہ کب پُوری ہوگی ؟ {۴۸}</p>
<p>کہو، ’’ میرے اختیار میں تو خود اپنا نفع و ضرر بھی نہیں، سب کچھ اللہ کی مشیت پر موقوف ہے ۔ [57]ہر اُ مّت کے لیے مہلت کی ایک مدت ہے ، جب یہ مدت پوری ہوجاتی ہے تو گھڑی بھر کی تقدیم وتاخیر بھی نہیں ہوتی۔‘‘ [58]{۴۹}</p>
<p>اِن سے کہو ، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر اللہ کا عذاب اچانک رات کویا دن کو آجائے ( تو تم کیا کرسکتے ہو؟) آخر یہ ایسی کونسی چیز ہے جس کے لیے مجرم جلدی مچائیں ؟ {۵۰}</p>
<p>کیا جب وہ تم پر آپڑے اسی وقت تم اسے مانو گے؟ اب بچنا چاہتے ہو ؟ حالانکہ تم خود ہی اس کے جلدی آنے کا تقاضا کررہے تھے!{۵۱}</p>
<p> پھر ظالموں سے کہا جائے گا کہ اب ہمیشہ کے عذاب کا مزہ چکھو ، جو کچھ تم کماتے رہے ہو اس کی پاداش کے سوا اور کیا بدلہ تم کو دیا جاسکتا ہے؟{۵۲}</p>
<p>پھر پوچھتے ہیں کیا واقعی یہ سچ ہے جو تم کہہ رہے ہو ؟ کہو ’’ میرے رَبّ کی قسم ، یہ بالکل  سچ ہے ، اور تم اتنا بل بوتا نہیں رکھتے کہ اسے ظُہور میں آنے سے روک دو ‘‘{۵۳}</p>
<p>  اگر ہر اُس شخص کے پاس جس نے ظلم کیا ہے، روئے زمین کی دولت بھی ہوتو اس عذاب سے بچنے کے لیے وہ اُسے فدیہ میں دینے پر آمادہ ہوجائے گا۔جب یہ لوگ اُس عذاب کو دیکھ لیں گے تو دل ہی دل میں پچھتائیں [59]گے ۔ مگر ان کے درمیان پورے انصاف سے فیصلہ کیا جائے گا،کوئی ظلم ان پر نہ ہوگا ۔ {۵۴}</p>
<p> سنو! آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ کا ہے۔ سُن رکھو ! اللہ کا وعدہ سچّا ہے مگر اکثر انسان جانتے نہیں ہیں۔{۵۵}</p>
<p>وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے اور اسی کی طرف تم سب کو پلٹنا ہے۔{۵۶}</p>
<p>لوگو! تمہارے پاس تمہارے رَبّ کی طرف سے نصیحت آگئی ہے ۔ یہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کی شفا ہے اور جو اسے قبول کرلیں ان کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے{۵۷}</p>
<p> اے نبی  ؐ! کہو کہ ’’ یہ اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے کہ یہ چیز اُس نے بھیجی ، اِس پر تو لوگوں کو خوشی منانی چاہئے، یہ اُن سب چیزوں سے بہتر ہے جنہیں لوگ سمیٹ رہے ہیں‘‘۔{۵۸}</p>
<p> اے نبی  ؐ! ان سے کہو ’’ تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق[60]  اللہ نے تمہارے لئے اتارا تھا اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حرام اور کسی کو حلال ٹھہرالیا!‘‘ [61]اِن سے پوچھو ، اللہ نے تم کو اس کی اجازت دی تھی؟ یا تم اللہ پر افترا کررہے ہو؟ [62] {۵۹}</p>
<p>جو لوگ اللہ پر یہ جھوٹا افتراباندھتے ہیں ان کا کیا گمان ہے کہ قیامت کے روز ان سے کیا معاملہ ہوگا؟ اللہ تو لوگوں پر مہربانی کی نظر رکھتا ہے، مگر اکثر انسان ایسے ہیں جو شکر نہیں کرتے۔ [63]{۶۰}</p>
<p>اے نبی  ؐ ! تم جس حال میں بھی ہوتے ہو اور قرآن میں سے جو کچھ بھی سناتے ہو ، اور لوگو ، تم بھی جو کچھ کرتے ہو اُس سب کے دوران میں ہم تم کو دیکھتے رہتے ہیں ۔ کوئی ذرہ برابر چیز آسمان اور زمین میں ایسی نہیں ہے،نہ چھوٹی نہ بڑی، جو تیرے رَبّ کی نظر سے پوشیدہو اور ایک صاف دفتر میں درج نہ ہو ۔[64]{۶۱}</p>
<p> (آگاہ رہو اور غور سے) سُنو! جو اولیاء اللہ(اللہ کے دوست )ہیں، یقینا ان پرنہ خوف کا موقع آئے گا اور نہ ہی وہ رنج و غم میں ہوں گے۔{ ۶۲}</p>
<p>وہ (ایسے )لوگ (ہیں)جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقویٰ کا رویہ اختیارکیا۔ {۶۳}</p>
<p>دنیا اور آخرت کی دونوں زندگیوں میں ان کے لیے (خوش خبری اور مغفرت کی)بشارت ہی بشارت ہے ۔ اللہ تعالی کی باتیں بدل نہیں سکتیں ، یہی بڑی کامیابی ہے۔ {۶۴}</p>
<p>اے نبی  ؐ! جو باتیں یہ لوگ تجھ پر بناتے ہیں وہ تجھے رنجیدہ نہ کریں ،عزت ساری کی ساری اللہ کے اختیار میں ہے اور وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ {۶۵}</p>
<p>  آگاہ رہو ! آسمانوں کے بسنے والے ہوں یا زمین کے سب کے ،سب اللہ کے مملوک ہیں۔ اور جو لوگ اللہ کے سوا کچھ ( اپنے خود ساختہ ) شریکوں کو پکار رہے ہیں وہ نرے وہم وگمان کے پیروہیں اور محض قیاس آرائیاں کرتے ہیں {۶۶}</p>
<p>وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی کہ اس میں سکون حاصل کرو اور دن کو روشن بنایا۔اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو (کُھلے کانوں سے پیغمبر کی دعوت کو ) سنتے ہیں۔[65] {۶۷}</p>
<p>لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔ [66]سبحان اللہ ! [67]وہ تو بے نیاز ہے ، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اس کی مِلک [68]ہے، تمہارے پاس اِس قول کے لیے آخر دلیل کیا ہے؟ کیا تم اللہ کے متعلق وہ باتیں کہتے ہو جو تمہارے علم میں نہیں ہیں ؟ {۶۸}</p>
<p>اے نبی  ؐ! کہدو کہ جو لوگ اللہ پر جھوٹے افتراء باندھتے ہیں وہ ہر گز فلاح نہیں پاسکتے۔ {۶۹}</p>
<p> دنیا کی چندروزہ زندگی میں مزے کرلیں پھر ہماری طرف اُن کو پلٹنا ہے ، پھر ہم اس کفر کے بدلے جس کا ارتکاب وہ کررہے ہیں ان کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔{۷۰}</p>
<p>ان کو نوح  ؑ[69] کا قصہ سنا ؤ ، اس وقت کا قصہ جب اس نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ ’’ اے برادران قوم! اگر میرا تمہارے درمیان رہنا اور اللہ کی آیات سُناسُنا کر تمہیں غفلت سے بیدار کرنا تمہارے لئے ناقابلِ برداشت ہوگیاہے تو میرا بھروسہ اللہ پر ہے ، تم اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو ساتھ لے کر ایک متفقہ فیصلہ کرلو اور جو منصوبہ تمہارے پیش نظر ہو اُس کو خوب سوچ سمجھ لوتا کہ اس کا کوئی پہلو تمہاری نگاہ سے پوشیدہ نہ رہے ، پھر میرے خلاف اُس کو عمل میں لے آ ؤ اور مجھے ہر گز مہلت نہ دو۔[70] {۷۱}</p>
<p> تم نے میری نصیحت سے منھ موڑا ( تو میرا کیا نقصان کیا) میں تم سے کسی اجر کا طلب گارنہ تھا ، میرا  ا جر تو اللہ کے ذمہّ ہے ۔ اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ (خواہ کوئی مانے یانہ مانے ) میں خود مسلم بن کررہوں ‘‘۔ {۷۲}</p>
<p> اُنہوں نے اسے جھٹلایا اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے اسے اور ان لوگوں کو جو اس کیساتھ کشتی میں تھے ، بچالیا اور انہی کو زمین میں جانشین بنایااور ان سب لوگوں کو غرق کردیا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا ۔ پس دیکھ لو کہ جنہیں متنّبہ کیا گیا تھا ( اور پھر بھی انہوں نے مان کر نہ دیا) ان کا کیا انجام ہوا۔{۷۳}</p>
<p>پھر نوح  ؑکے بعد ہم نے مختلف پیغمبروں کو اُن کی قوموں کی طرف بھیجا اور وہ اُن کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے، مگر جس چیز کو انہوں نے پہلے جھٹلادیا تھا اُسے پھر مان کر نہ دیا ۔اس طرح ہم حد سے گزر جانے والوں کے دلوں پر ٹھپا لگادیتے ہیں ۔[71]{۷۴}</p>
<p>پھر [72]ان کے بعد ہم نے موسیٰ  ؑ اور ہارون ؑ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا، مگر انہوں نے اپنی بڑائی کا گھمنڈ [73]کیا اور وہ مجرم لوگ تھے{۷۵}</p>
<p> پس جب ہمارے پاس سے حق ان کے سامنے آیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو کھلا جادو [74]ہے۔ {۷۶}</p>
<p> موسیٰ  ؑ نے کہا ’’ تم حق کو یہ کہتے ہو جبکہ وہ تمہارے سامنے آگیا ؟ کیا یہ جادو ہے ؟ حالانکہ جادو گر فلاح نہیں پایا کرتے‘‘۔[75]{۷۷}</p>
<p>  انہوں نے جواب میں کہا’’ کیا تو اس لیے آیا ہے کہ ہمیں اُس طریقہ سے پھیردے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور زمین میں بڑائی تم دونوں کی قائم ہوجائے[76] ؟ تمہاری بات تو ہم ماننے والے نہیں ہیں۔‘‘{۷۸}</p>
<p>اور فرعون نے ( اپنے آدمیوں سے ) کہا کہ ’’ہر ماہر فن جادوگر کو میرے پاس حاضر کرو ‘‘{۷۹}</p>
<p>جب جادو گر آگئے تو موسیٰ  ؑنے ان سے کہا ’’ جو کچھ تمہیں پھینکنا ہے پھینکو ‘‘ {۸۰}</p>
<p>پھر جب انہوں نے اپنے انچھر پھینک دیے تو موسیٰ  ؑنے کہا’’یہ جو کچھ تم نے پھینکا ہے یہ جادُو ہے ۔[77] اللہ ابھی اسے باطل کئے دیتا ہے، مفسدوں کے کام کو اللہ سُدھرنے نہیں دیتا {۸۱}</p>
<p> اور اللہ اپنے فرمانوں سے حق کو حق کر دکھاتا ہے ، خواہ مجرموں کو وہ کتنا ہی ناگوار ہو ۔ ‘‘{۸۲}</p>
<p>(پھر دیکھو کہ ) موسیٰ  ؑ کو اس کی قوم میں سے چند نوجوانوں [78] کے سوا کسی نے نہ مانا ، [79]فرعون کے ڈر سے اور خود اپنی قوم کے سربرآوردہ لوگوں کے ڈرسے ( جنہیں خوف تھا کہ ) فرعون اُن کو عذاب میں مُبتلا کرے گا۔اور واقعہ یہ ہے کہ فرعون زمین میں غلبہ رکھتا تھا اور وہ ان لوگوں میں سے تھا جو کسی حد پر رکتے نہیں ہیں۔ [80] {۸۳}</p>
<p> موسیٰ  ؑ نے اپنی قوم سے کہا کہ ’’ لوگو! اگر تم واقعی اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اس پر بھروسہ کرو اگر تم مسلمان ہو‘‘[81] {۸۴}</p>
<p> انہوں نے جواب دیا [82] ’’ ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا ، اے ہمارے رَبّ !ہمیں ظالم لوگوں کے لیے فتنہ [83]نہ بنا{۸۵}</p>
<p>اور اپنی رحمت سے ہم کو کافروں سے نجات دے‘‘۔{۸۶}</p>
<p>اور ہم نے موسیٰ  ؑاور اس کے بھائی کو اشارہ کیا کہ ’’ مصر میں چند مکان اپنی قوم کے لیے مہیّا کرو اور اپنے ان مکانوںکو قبلہ ٹھہرالو اور نماز قائم کرو [84]اور اہل ایمان کو بشارت دے دو‘‘۔[85]{۸۷}</p>
<p>موسیٰ  ؑنے [86]کہا: ’’اے ہمارے رَبّ! تو نے فرعون اور اُس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں زینت [87]اور اموال [88]سے نواز رکھا ہے ۔ اے رَبّ! کیا یہ اس لیے ہے کہ وہ لوگوں کو تیری راہ سے بھٹکائیں ؟( پھر دعا کی کہ) اے رَبّ!ان کے مال غارت کردے اور ان کے دلوں پر ایسی مہر کردے کہ ایمان نہ لائیں جب تک درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ [89]{۸۸}</p>
<p>اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا’’ تم دونوں کی دعا قبول کی گئی۔ ثابت قدم رہو اور اُن لوگوں کے طریقے کی ہر گز پیروی نہ کرو جو علم نہیں رکھتے ‘‘۔[90]{۸۹}</p>
<p>اور ہم بنی اسرائیل کو سمندر سے گزار لے گئے ۔ پھر فرعون اور اُس کے لشکر ظلم اور زیادتی کی غرض سے اُن کے پیچھے چلے۔ حتیٰ کہ جب فرعون ڈوبنے لگاتو بول اُٹھا’’میں نے مان لیا کہ معبودِ حقیقی اُس کے سوا کوئی نہیں ہے جس پر بنی اسرئیل ایمان لائے ۔اور میں بھی سراطاعت جھکا دینے والوں میں سے ہوں‘‘[91]{۹۰}</p>
<p> (جواب دیا گیا) ’’اب ایمان لاتا ہے ! حالانکہ اس سے پہلے تک تو نافرمانی کرتا رہا اور فساد کرنے والوں میں سے تھا۔{۹۱}</p>
<p> اب تو ہم صرف تیری لاش ہی کو بچائیں گے تا کہ تو بعد کی نسلوں کے لیے نشان عبرت بنے[92] اگرچہ بہت سے انسان ایسے ہیں جو ہماری نشانیوں سے غفلت برتتے ہیں۔‘‘[93]{۹۲}</p>
<p>ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانا دیا[94]اور نہایت عمدہ وسائل زندگی اُنہیں عطا کئے۔پھر اُنہوں نے باہم اختلاف نہیں کیا مگر اُس وقت جب کہ علم ان کے پاس آچکا تھا۔[95] یقینا تیرا رَبّ قیامت کے روز ان کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کردے گا جس میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔{ ۹۳}</p>
<p>اب اگر تجھے اس ہدایت کی طرف سے کچھ بھی شک ہو جو ہم نے تجھ پر نازل کی ہے تو اُن لوگوں سے پوچھ لے جو پہلے سے کتاب پڑھ رہے ہیں۔ فی الواقع یہ تیرے پاس حق ہی آیا ہے تیرے رَبّ کی طرف سے ، لہٰذا توشک کرنے والوں میں سے نہ ہو { ۹۴}</p>
<p>اور ان لوگوں میں نہ شامل ہو جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا ہے، ورنہ تو نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا ۔[96]{۹۵}</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں پر تیرے رَبّ کا قول راست آگیا [97]ہےوہ ایمان نہیں لائیں گے۔ {۹۶}</p>
<p> اُن کے سامنے خواہ کوئی نشانی آجائے وہ کبھی ایمان لاکر نہیں دیتے جب تک کہ دردناک عذاب سامنے آتا نہ دیکھ لیں۔{۹۷}</p>
<p> پھر کیا ایسی کوئی مثال ہے کہ ایک بستی عذاب دیکھ کر ایمان لائی ہو اور اُس کا ایمان اُس کے لیے نفع بخش ثابت ہُوا ہو ؟ یونس  ؑ کی قوم کے سوا [98] ( اِس کی کوئی نظیر نہیں) وہ قوم جب ایمان لے آئی تھی تو البتہ ہم نے اُس پر سے دنیا کی زندگی میں رُسوائی کا عذاب ٹال [99]دیا تھااور اُس کو ایک مدت تک زندگی سے بہرہ مند ہونے کا موقع دے دیا تھا۔[100]{۹۸}</p>
<p>اگر تیرے رَبّ کی مشیت یہ ہوتی (کہ زمین میں سب مومن وفرمانبردارہی ہوں) تو سارے اہل زمین ایمان لے آئے ہوتے ،[101]پھر کیا تو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ مومن ہوجائیں ؟ [102]{۹۹}</p>
<p>  کوئی مُتنفِّس اللہ کے اِذن کے بغیر ایمان نہیں لاسکتا،[103] اور اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے وہ اُن پر گندگی ڈال دیتا ہے۔[104]{۱۰۰}</p>
<p>ان سے کہو ’’ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے اُسے آنکھیں کھول کر دیکھو ‘‘ ۔اور جو لوگ ایمان لانا ہی نہیں چاہتے اُن کے لیے نشانیاں اور تنبیہیں آخر کیا مفید ہوسکتی ہیں؟[105]{۱۰۱}</p>
<p> اب یہ لوگ اِس کے سوا اور کس چیز کے منتظر ہیں کہ وہی بُرے دن دیکھیں جو اِن سے پہلے گزرے ہوئے لوگ دیکھ چکے ہیں ؟ ان سے کہو ’’اچھا، انتظار کرو ، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتاہوں ‘‘ ۔{۱۰۲}</p>
<p>پھر( جب ایسا وقت آتا ہے تو) ہم اپنے رسولوںؑ کو اور اُن لوگوں کو بچالیا کرتے ہیں جو ایمان لائے ہوں۔ ہمارا یہی طریقہ ہے۔ ہم پر یہ حق ہے کہ مومنوں کو بچالیں{۱۰۳}</p>
<p>اے نبی  ؐ!  [106]کہہ دو کہ ’’ لوگو! اگر تم ابھی تک میرے دین کے متعلق کسی شک میں ہوتو سُن لو کہ تم اللہ کے سواجن کی بندگی کرتے ہو میں اُن کی بندگی نہیں کرتا،بلکہ صرف اُسی معبود حقیقی کی بندگی کرتا ہوں جس کے قبضے میں تمہاری موت ہے ۔[107]مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ایمان لانے والوں میں سے ہوں۔{ ۱۰۴}</p>
<p>اور مجھ سے فرمایا گیا ہے کہ یکسوہو کر اپنے آپ کو ٹھیک ٹھیک اس دین پر قائم کردے ،[108]  اور ہرگز ہر گز مشرکوں میں سے نہ ہو۔[109]{۱۰۵}</p>
<p> اور اللہ کو چھوڑ کر کسی ایسی ہستی کو نہ پکار جو تجھے نہ فائدہ پہنچاسکتی ہے نہ نقصان ، اگر توُایسا کرے گا توظالموں میں سے ہوگا۔{۱۰۶}</p>
<p> اگر اللہ تجھے کسی مصیبت میں ڈالے تو خود اُس کے سِوا کوئی نہیں جو اُس مصیبت کو ٹال دے ، اور اگر وہ تیرے حق میں کسی بھلائی کا ارادہ کرے تو اُس کے فضل کو پھیر نے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اپنے فضل سے نواز تا ہے اور وہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے‘‘ {۱۰۷}</p>
<p>   اے نبی  ؐ!  کہہ دو کہ :’’ لوگو! تمہارے پاس تمہارے رَبّ کی طرف سے حق آچکا ہے ۔اب جو سیدھی راہ اختیار کرے اُس کی راست رَوِی اُسی کے لیے مفید ہے ، اور جو گمراہ رہے اُس کی گمراہی اُسی کے لیے  تباہ کُن ہے۔ اور میں تمہارے اوپر کوئی حوالہ دار نہیں ہوں ‘‘{۱۰۸}</p>
<p> اور اے نبی  ؐ! تم اُس ہدایت کی پیروی کئے جا ؤ جو تمہاری طرف بذریعہ وحی بھیجی جارہی ہے۔ اور صبر کرو یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کردے ، اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ۔{۱۰۹}</p>

</div><div id="11"><p>سورۃھود </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔</p>
<p>الٓرٰ ۔(یہ کتاب دراصل) فرمان[1]  ہے ،جس کی آیتیں پختہ اور مفصل ارشاد ہُوئی ہیں ،[2] ایک دانا اور باخبر ہستی کی طرف سے{۱}</p>
<p> کہ تم نہ بندگی کرو مگر صرف اللہ کی۔ میں اُس کی طرف سے تم کو خبردار کرنے والا بھی ہوں اور بشارت دینے والا بھی ۔{۲}</p>
<p>اور یہ کہ تم اپنے رَبّ سے معافی چاہو اور اُس کی طرف پلٹ آ ؤ تو وہ ایک مدّت ِخاص تک تم کو اچھا سامان ِزندگی[3] دے گا اور ہر صاحب فضل کو اس کافضل عطاکرے [4] گا۔لیکن اگر تم منھ پھیرتے ہو تو میں تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں ۔{۳}</p>
<p>تم سب کو اللہ کی طرف پلٹنا ہے اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے۔{ ۴}</p>
<p>دیکھو یہ لوگ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں تا کہ اُس سے چُھپ [5] جائیں۔ خبردار!  جب یہ کپڑوں سے اپنے آپ کو ڈھانپتے ہیں، اللہ اُن کے چُھپے کو بھی جانتا ہے اور کھلے کو بھی، وہ تو اُن بھیدوں سے بھی واقف ہے جو سینوں میں ہیں۔{۵}</p>
<p>زمین میں چلنے والا کوئی جاندارایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو اور جس کے متعلق وہ نہ جانتا ہو کہ کہاں وہ رہتا ہے ، اور کہاں وہ سونپا جاتا ہے،[6]سب کچھ ایک صاف دفتر میں درج ہے۔{۶}</p>
<p>  اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ جب کہ اِس سے پہلے اُس کا عرش پانی پرتھا۔[7]  تا کہ تم کو آزما کر دیکھے تم میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔[8]  اب اگر اے نبی  ؐ!  تم کہتے ہو کہ لوگو!مرنے کے بعد تم دوبارہ اُٹھائے جا ؤ گے تو منکرین فوراً بول اٹھتے ہیں کہ یہ تو صریح جادوگری ہے۔[9]  {۷}</p>
<p> اور اگر ہم ایک خاص مدّت تک اُن کی سزا کو ٹالتے ہیں تو وہ کہنے لگتے ہیں کہ آخر کس چیزنے اسے روک رکھا ہے؟ سنو ! جس روز اُس سزا کا وقت آ گیاتو وہ کسی کے پھیرے نہ پھرسکے گا اور وہی چیز ان کو آگھیرے گی جس کا وہ مذاق اُڑارہے ہیں۔{۸}</p>
<p>اگر کبھی ہم انسان کو اپنی رحمت سے نواز نے کے بعد پھر اُس سے محروم کردیتے ہیں تو وہ مایوس  ہوتا ہے اور ناشکری کرنے لگتا ہے۔[10]{۹}</p>
<p> اور اگر اس مصیبت کے بعد جو اس پر آئی تھی ہم اُسے نعمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو کہتا ہے میرے تو سارے دِلَدَّرپار ہوگئے، (مجھ سے محتاجی ، تنگ دستی ،نحوست، سختیاں ،دور ہوگئیں ) پھر وہ پھولا نہیں سماتا اور اکڑنے لگتا ہے،{۱۰}</p>
<p> اس عیب سے پاک اگر کوئی ہیں تو بس وہ لوگ جو صبر کرنے والے[11] اور نیکوکار ہیں اور وہی ہیں جن کے لیے درگزربھی ہے اور بڑا اجر بھی۔[12]{۱۱}</p>
<p>تو اے پیغمبر  ؐ!  کہیں ایسا نہ ہوکہ تم ان چیزوں میں سے کسی چیز کو (بیان کرنے سے ) چھوڑدو جو تمہاری طرف وحی کی جارہی ہیں اور اس بات پر دل تنگ ہو کہ وہ کہیں گے ’’اس شخص پر کوئی خزانہ کیوں نہ اتارا گیا؟‘‘یا یہ کہ: ’’ اس  کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ آیا‘‘ ؟ تم تو محض خبردار کرنے والے ہو ،آگے ہر چیز کا حوالہ دار اللہ ہے۔[13]{ ۱۲}</p>
<p>کیایہ کہتے ہیں کہ پیغمبر  ؐنے یہ کتاب خود گھڑلی ہے ؟ کہو ، ’’ اچھا یہ بات ہے تو اس جیسی گھڑی ہوئی دس (۱۰)سورتیں تم بنالا ؤ اور اللہ کے سوا اور جو جو ( تمہارے حامی و ناصر) ہیں اُن کو مدد کے لیے بُلاسکتے ہوتوبلا لو اگر تم  سچے ہو { ۱۳}</p>
<p>اب اگر وہ ( تمہارے حامی و ناصر ) تمہاری مدد کو نہیں پہنچتے تو جان لو کہ یہ اللہ کے علم سے نازل ہوئی ہے اور یہ کہ اللہ کے سوا کو ئی حقیقی معبود نہیں ہے۔ پھر کیا تم ( اس امر حق کے آگے) سر تسلیم خم کرتے ہو؟‘‘[14]{۱۴}</p>
<p>جو لوگ بس اِس دنیا کی زندگی اور اس کی خوشنمائیوں کے طالب ہوتے ہیں[15] ان کی کارگزاری کا ساراپھل ہم یہیں ا ن کو دے دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی ۔{۱۵}</p>
<p> مگر آخرت میں ایسے لوگوں کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں ہے۔[16] (وہاں معلوم ہوجائے گا کہ ) جو کچھ انہوں نے دنیا میں بنایا وہ سب ملیامیٹ ہوگیا اور اب ان کا سارا کیا دھرامحض باطل ہے۔{۱۶}</p>
<p>پھر بھلاوہ شخص جو اپنے رَبّ کی طرف سے ایک صاف شہادت رکھتا تھا،[17]  اس کے بعد ایک گواہ بھی پروردگار کی طرف سے ( اُس شہادت کی تائید میں)  آگیا،[18] اور پہلے موسیٰ  ؑکی کتاب رہنما اور رحمت کے طور پر آئی ہوئی بھی موجود تھی ( کیا وہ بھی دنیا پرستوں کی طرح اِس سے انکار کرسکتا ہے؟) ایسے لوگ تو اس پر ایمان ہی لائیں[19] گے۔ اور انسانی گروہوں میں سے جو کوئی اس کا انکار کرے تو ا س کے لیے جس جگہ کا وعدہ ہے ، وہ دوزخ ہے پس (اے پیغمبر ؐ!) تم اس چیز کی طرف سے کسی شک میں نہ پڑنا ، یہ حق ہے تمہارے رَبّ کی طرف سے مگر اکثر لوگ نہیں مانتے۔ {۱۷}</p>
<p> اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ گھڑے ؟[20] ایسے لوگ اپنے رَبّ کے حضور پیش ہوں گے اور گواہ شہادت دیں گے کہ یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے رَبّ پر جھوٹ گھڑا تھا ۔سنو ! اللہ کی لعنت ہے ظالموں [21]پر۔ (اُن ظالموں پر) [22]{۱۸}</p>
<p> جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکتے ہیں ،اس کے راستے کو ٹیڑھا کرنا چاہتے ہیں[23] ، اور آخرت کا انکارکرتے ہیں۔{۱۹}</p>
<p> وہ زمین[24] میں اللہ کو بے بس کرنے والے نہ تھے اور نہ اللہ کے مقابلے میں کوئی ان کا حامی تھا ۔ انہیں اب دوہراعذاب دیا[25] جائے گا ۔ وہ نہ کسی کی سن ہی سکتے تھے اور نہ خود ہی انہیں کچھ سُوجھتا تھا۔{۲۰}</p>
<p> یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خود گھاٹے میں ڈالا اور وہ سب کچھ ِان سے کھویا گیا جو انہوں نے گھڑرکھا تھا۔[26]{۲۱}</p>
<p> ناگزیر ہے کہ وہی آخرت میں سب سے بڑھ کرگھاٹے میں رہیں۔ { ۲۲}</p>
<p>رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے اور اپنے رَبّ ہی کے ہو کر رہے، تو یقینا وہ جنتی لوگ ہیں اور جنّت میں وہ ہمیشہ رہیں [27]گے۔{ ۲۳}</p>
<p>ان دونوں فریقوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک آدمی تو ہواندھابہرا اور دوسرا ہو دیکھنے اور سُننے والا، کیا یہ دونوں یکساں ہوسکتے ہیں؟[28] کیا تم ( اِس مثال سے ) کوئی سبق نہیں لیتے ؟{۲۴}</p>
<p> ( اور ایسے ہی حالات تھے جب) ہم نے نوح  ؑ  کو اُس کی قوم کی طرف بھیجا تھا ۔[29] ( اُس نے کہا) ’’ میں تم لوگوں کو صاف  صاف خبردار کرتا ہوں۔{۲۵}</p>
<p> کہ اللہ کے سواکسی کی بندگی نہ کروورنہ مجھے اندیشہ ہے کہ تم پر ایک روز دردناک عذاب آئے گا ‘‘[30]{۲۶}</p>
<p>جواب میں اُس کی قوم کے سردار جنہوں نے اس کی بات ماننے سے انکار کیا تھا ، بولے ’’ ہماری نظر میں تو تم اس کے سواکچھ نہیں ہو کہ بس ایک انسان ہو ہم جیسے۔[31] اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہماری قوم میں سے بس اُن لوگوں نے جو ہمارے ہاں اَراذِل تھے بے سوچے سمجھے تمہاری پیروی اختیار کرلی ہے ۔[32] اور ہم کوئی چیز بھی ایسی نہیں پاتے جس میں تم لوگ ہم سے کچھ بڑھے ہوئے ہو ،[33] بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں ‘‘۔{۲۷}</p>
<p> اُس نے کہا: ’’ اے برادران قوم! ذراسو چوتو سہی کہ اگر میں اپنے رَبّ کی طرف سے ایک کھلی شہادت پر قائم تھا اور پھر اس نے مجھ کو اپنی خاص رحمت سے بھی نواز[34] دیا مگر وہ تم کو نظر نہ آئی تو آخر ہمارے پاس کیا ذریعہ ہے کہ تم ماننا نہ چاہو اور ہم زبردستی اس کو تمہارے سرچپیک  دیں؟ {۲۸}</p>
<p>اور اے برادران قوم! میں اس کام پر تم سے کوئی مال نہیں مانگتا [35]، میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے، اور میں اُن لوگوں کو دھکّے دینے سے بھی رہاجنہوں نے میری بات مانی ہے، وہ آپ ہی اپنے رَبّ کے حضور جانے والے ہیں۔[36] مگر میں دیکھتا ہو ںکہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو ۔{۲۹}</p>
<p> اور اے قوم ! اگر میں اِن لوگوں کو دُھتکاردوں تو اللہ کی پکڑ سے کون مجھے بچانے آئے گا؟تم لوگوں کی سمجھ میں کیا اتنی بات بھی نہیں آتی ؟ {۳۰}</p>
<p> اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ، نہ یہ کہتاہوں کہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں ، نہ یہ میرا دعویٰ ہے کہ میں فرشتہ ہوں[37] ، اور یہ بھی میں نہیں کہہ سکتا کہ جن لوگوں کو تمہاری آنکھیں حقارت سے دیکھتی ہیں انہیں اللہ نے کوئی بھلائی نہیں دی۔ ان کے نفس کا حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اگر میں ایسا کہوں تو ظالم ہو ں گا‘‘{۳۱}</p>
<p>آخر کار اُن لوگوں نے کہا کہ ’’ اے نوحؑ!تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت کرلیا۔ اب تو بس وہ عذاب لے آ ؤ جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو اگر سچّے ہو ‘‘۔ {۳۲}</p>
<p> نوحؑ نے جواب دیا ’’ وہ تو اللہ ہی لائے گا ، اگر چاہے گا ، اور تم اِتنا بَل بُوتا نہیں رکھتے کہ اسے روک دو۔{ ۳۳}</p>
<p>اب اگر میں تمہاری کچھ خیر خواہی کرنا بھی چاہوں تو میری خیرخواہی تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی جب کہ اللہ ہی نے تمہیں بھٹکا دینے کا ارادہ کرلیا  ہو ،[38]وہی تمہارا رَبّ ہے اور اسی کی طرف تمہیں پلٹنا ہے‘‘۔{۳۴}</p>
<p>اے نبی  ؐ ! کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اِس شخص نے یہ سب کچھ خود گھڑلیا ہے ؟ ان سے کہو ’’ اگر میں نے یہ خود گھڑا ہے تو مجھ پر اپنے جُرم کی ذمّہ داری ہے ، اور جو جرم تم کررہے ہو اس کی ذمہ داری سے میں برَی ہوں‘‘[39]{۳۵}</p>
<p>نوحؑ پر وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لاچکے ، بس وہ لاچکے، اب کوئی ماننے والا نہیں ہے۔ ان کے کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑو{۳۶}</p>
<p> اور ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنانی شروع کردو۔ اور دیکھو جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے حق میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا، یہ سارے کے سارے اب ڈوبنے والے ہیں۔ [40]{۳۷}</p>
<p>نوحؑ کشتی بنارہاتھا اور اس کی قوم کے سرداروں میں سے جوکوئی اس کے پاس سے گزرتا تھا وہ اس کا مذاق اڑاتا تھا ۔ اس نے کہا ’’ اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ہم بھی تم پر ہنس رہے ہیں{۳۸}</p>
<p> عنقریب تمہیں خود معلوم ہوجائے گا کس پر وہ عذاب آتا ہے جو اُسے رسوا کردے گا اور کس پر وہ بلاٹوٹ پڑتی ہے جو ٹا لے نہ ٹلے گی‘‘۔[41] {۳۹}</p>
<p> یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور وہ تنّوراُبل[42] پڑ اتو ہم نے کہا ’’ ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو ، اپنے گھروالوں کو بھی ۔ سوائے اُن اشخاص کے جن کی نشاندہی پہلے کی جاچکی ہے[43] اس میں سوار کرادو اور اُن لوگوں کو بھی بٹھالو جو ایمان لائے ہیں۔ ‘‘[44]اور تھوڑے ہی لوگ تھے جو نوحؑ کے ساتھ ایمان لائے تھے ۔{۴۰}</p>
<p>نوحؑ نے کہا ’’سوار ہوجا ؤ اِس میں،اللہ ہی کے نام سے ہے اس کا چلنا بھی اور اس کا ٹھہرنا بھی ، میرا رَبّ بڑا غفور و رحیم ہے۔[45]{۴۱}</p>
<p> کشتی ان لوگوں کو لئے چلی جارہی تھی اور ایک ایک موج پہاڑ کی طرح اٹھ رہی تھی۔ نوحؑ کا بیٹا دور فاصلے پر تھا۔ نوحؑ نے پکار کر کہا’’بیٹا ، ہمارے ساتھ سوار ہوجا، کافروں کے ساتھ نہ رہ‘‘ {۴۲}</p>
<p>اس نے پلٹ کر جواب دیا’’ میں ابھی ایک پہاڑ پرچڑھا جاتا ہوں جو مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ نوحؑ نے کہا ’’ آج کوئی چیز اللہ کے حکم سے بچانے والی نہیں ہے سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم فرمائے ‘‘ اتنے میں ایک موج دونوں کے درمیان حائل ہوگئی اور وہ بھی ڈوبنے والوں میں شامل ہوگیا۔{۴۳}</p>
<p>حکم ہوا ’’ اے زمین اپنا سارا پانی نگل جا اور اے آسمان رک جا ‘‘ چنانچہ پانی زمین میں بیٹھ گیا فیصلہ چکادیا گیا ،کشتی  جُودِی پرٹک گئی [46]،اور کہہ دیا گیا کہ دور ہوئی ظالموں کی قوم! {۴۴}</p>
<p>نوحؑ نے اپنے رَبّ کو پکارا ۔ کہا اے رَبّ! میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا [47]ہے اور تو سب حاکموں سے بڑا اور بہتر حاکم [48]ہے۔ ‘‘{۴۵}</p>
<p> جواب میں ارشاد ہوا’’ اے نوحؑ! وہ تیرے گھروالوں میں سے نہیں ہے ، وہ تو ایک بگڑا ہوا کام [49]ہے، لہٰذا تُواُس بات کی مجھ سے درخواست نہ کر جس کی حقیقت تُو نہیں جانتا ، میں تجھے نصیحت کرتاہوں کہ اپنے آپ کو جاہلوں کی طرح نہ بنالے‘‘[50]{۴۶}</p>
<p> نوحؑ نے فوراً عرض کیا ’’ اے میرے رَبّ ! میں تیری پناہ مانگتا  ہوں اس سے کہ وہ چیز تجھ سے مانگوں جس کا مجھے علم نہیں۔ اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور رحم نہ فرمایا تو میں برباد ہوجا ؤں گا‘‘۔[51]{۴۷}</p>
<p>حکم ہوا ’’اے نوحؑ !اترجا،[52] ہماری طرف سے سلامتی اور برکتیں ہیں تجھ پر اور اُن گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ، اور کچھ گروہ ایسے بھی ہیں جن کو ہم کچھ مدت سامان زندگی بخشیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا ‘‘{۴۸}</p>
<p>اے نبی  ؐ!یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کررہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبرکرو، انجام کارمتقیوں ہی کے حق میں ہے۔[53] {۴۹}</p>
<p>  اور عاد کی طرف ہم نے اُن کے بھائی ہودؑ کو بھیجا ۔[54] اُس نے کہا ’’ اے برادِران قوم ! اللہ کی بندگی کرو ، تمہارا کوئی  اِ لٰہاُس کے سوا نہیں ہے۔ تم نے محض جھوٹ گھڑرکھے ہیں۔[55] {۵۰}</p>
<p> اے برادران قوم!اس کام پر میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا ، میرا اجر تو اُس کے ذِمّہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے ، کیا تم عقل سے ذرا کام نہیں لیتے ؟[56]{۵۱}</p>
<p> اور اے میری قوم کے لوگو! اپنے رَبّ سے معافی چاہو، پھر اُس کی طرف پلٹو ، وہ تم پر آسمان کے دہانے کھول دے گا، اور تمہاری موجودہ قوّت پر مزید قوّت کا اضافہ کرے[57] گا ۔ مجرم بن کر (بندگی سے) منھ نہ پھیرو‘‘۔{۵۲}</p>
<p>انہوں نے جواب دیا ’’ اے ہودؑ ! تو ہمارے پاس کو ئی صریح شہادت لے کر نہیں آیا ہے[58] اور تیرے کہنے سے ہم اپنے معبود وں کو نہیں چھوڑ سکتے، اور تجھ پر ہم ایمان لانے والے نہیں ہیں۔{ ۵۳}</p>
<p> ہم تو سمجھتے ہیں کہ تیرے اوپر ہمارے معبودوں میں سے کسی کی مارپڑ گئی ہے‘‘[59] ہودؑ نے کہا ’’ میں اللہ کی شہادت پیش کرتا ہوں[60]۔ اور تم گواہ رہو کہ یہ جو اللہ کے سوا دوسروں کو تم نے اُلُوہیّت میں شریک ٹھہرا رکھا ہے اس سے میں بیزارہوں۔[61]{۵۴}</p>
<p>تم سب کے سب مل کر میرے خلاف اپنی کرنی میں کسر نہ اٹھارکھو اور مجھے ذرا مہلت نہ دو۔[62]{۵۵}</p>
<p> میرا بھر وسہ اللہ پر ہے جو میرا رَبّ بھی ہے اور تمہارارَبّ بھی۔ کوئی جاندار ایسا نہیں جس کی چوٹی اس کے ہاتھ میں نہ ہو۔ بیشک میرا رَبّ سیدھی راہ پر ہے۔[63]{۵۶}</p>
<p> اگر تم منھ پھیرتے ہو تو پھیر لو جو پیغام دے کر میں تمہارے پاس بھیجاگیا تھا وہ میں تم کو پہنچاچکاہوں ۔ اب میرا رَبّ تمہاری جگہ دوسری قوم کو اٹھائے گا اور تم اُس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے ۔ [64]یقینا میرا رَبّ ہر چیز پر نگراں ہے‘‘{۵۷}</p>
<p>پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے اپنی رحمت سے ہودؑ کو اور اُن لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے نجات دے دی اور ایک سخت عذاب سے انہیں بچالیا۔ {۵۸}</p>
<p>یہ ہیں عاد ، اپنے رَبّ کی آیات سے انہوں نے انکار کیا، اُس کے رسوُلوں کی بات نہ مانی [65]اور ہر جبّاردشمنِ حق کی پیروی کرتے رہے۔{۵۹}</p>
<p> آخر کار اس دنیا میں بھی ان پر پھٹکار پڑی اور قیامت کے روز بھی ۔ سنو! عاد نے اپنے رَبّ سے کفر کیا۔ سنو ! دور پھینک دیے گئے عاد ، ہودؑ کی قوم کے لوگ ۔{۶۰}</p>
<p>اورثمود کی طرف ہم نے اُن کے بھائی صالح  ؑ کو بھیجا۔[66] اس نے کہا ’’ اے میری قوم کے لوگو!اللہ کی بندگی کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی  اِلٰہ نہیں ہے ۔ وہی ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے اور یہاں تم کو بسایا ہے۔ [67]لہٰذا تم اُس سے معافی چاہو[68] اور اُس کی طرف پلٹ آ ؤ ، یقینا میرا رَبّ قریب ہے اور وہ دعا ؤں کا جواب دینے والا ہے‘‘۔[69]  {۶۱}</p>
<p>انہوں نے کہا ’’ اے صالح  ؑ !اس سے پہلے تو ہمارے درمیان ایسا شخص تھا جس سے بڑی توقعات وابستہ تھیں۔[70] کیاتُو ہمیں اُن معبودوں کی پرستش سے روکنا چاہتا ہے جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے ؟ [71] تُو جس طریقے کی طرف ہمیں بلا رہا ہے اس کے بارے میں ہم کو سخت شبہ ہے جس نے ہمیں خلجان میں ڈال رکھاہے‘‘۔[72]{۶۲}</p>
<p>صالح  ؑنے کہا ’’ اے برادران قوم !تم نے کچھ اس بات پر بھی غور کیا کہ اگر میں اپنے رَبّ کی طرف سے ایک صاف شہادت رکھتا تھا، اور پھر اُس نے اپنی رحمت سے بھی مجھ کو نواز دیا تو اس کے بعد اللہ کی پکڑسے مجھے کون بچائے گا اگر میں اس کی نافرمانی کروں ؟ تم میرے کس کام آسکتے ہو سوائے اس کے کہ مجھے اور زیادہ خسارے میں ڈال دو۔[73]{ ۶۳}</p>
<p>اور اے میری قوم کے لوگو! دیکھو یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لئے ایک نشانی ہے۔ اسے اللہ کی زمین میں چرنیکے لیے آزاد چھوڑ دو ۔ اس سے ذراتعرض نہ کرنا ورنہ کچھ زیادہ دیرنہ گزرے گی کہ تم  پر اللہ کا عذاب آجائے گا‘‘{۶۴}</p>
<p>مگر انہوں نے اونٹنی کو مارڈالا۔ اس پر صالح  ؑ نے اُن کو خبردار کردیا کہ ’’ بس اب تین دن اپنے گھروں میں اور رہ بس لو ۔ یہ ایسی میعاد ہے جو جھوٹی نہ ثابت ہوگی‘‘ {۶۵}</p>
<p>آخر کار جب ہمارے فیصلے کا وقت آگیا تو ہم نے اپنی رحمت سے صالحؑ کو اور اُن لوگوں کو جو اِس کے ساتھ ایمان لائے تھے بچالیا اور اس دن کی رسوائی سے ان کو محفوظ رکھا ۔[74] بیشک تیرا رَبّ ہی در اصل طاقتور اور بالا دست ہے ۔{۶۶}</p>
<p> رہے وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا تھا تو ایک سخت دھماکے نے اُن کو دھرلیا اور وہ اپنی بستیوں میں اس طرح بے حس و حرکت پڑے کے پڑے رہ گئے{۶۷}</p>
<p>کہ گویا وہ وہاں کبھی بسے ہی نہ تھے۔ سُنو! ثمود نے اپنے رَبّ سے کفر کیا۔سنو! دور پھینک دیے گئے ثمود!{۶۸}</p>
<p>اور دیکھو ،ابراہیم ؑ کے پاس ہمارے فرشتے خوشنجری لئے ہوئے پہنچے ۔ کہا تم پر سلام ہو۔ ابراہیم  ؑنے جواب دیا تم پر بھی سلام ہو ، پھر کچھ دیرنہ گزری کہ ابراہیم  ؑ ایک بُھنا ہوا بچھڑا(ان کی ضیافت کے لیے  ) لے آیا۔[75]{۶۹}</p>
<p> مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے پر نہیں بڑھتے  تو وہ ان سے مشتبہ ہوگیا اور دل میں ان سے خوف محسوس کرنے لگا ۔[76]  انہوں نے کہا’’ ڈرو نہیں ، ہم تو لوط ؑ کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں‘‘۔[77]{۷۰}</p>
<p> ابراہیم ؑ کی بیوی بھی کھڑی ہوئی تھی۔ وہ یہ سن کر ہنس دی۔ [78]پھر ہم نے اس کو اسحاق  ؑ کی اور اسحاق  ؑ کے بعد یعقوبؑ کی خوشنجری دی۔[79]{۷۱}</p>
<p> وہ بولی ’’ ہائے میری کم بختی  ! [80] کیا اب میرے ہاں اولاد ہوگی جب کہ میں بُڑھّیا پھونس ہوگئی اور میرے میاں بھی بوڑھے ہوچکے ؟[81] یہ تو بڑی عجیب بات ہے‘‘ ۔{۷۲}</p>
<p>فرشتوں نے کہا ’’کیا تم اللہ کے حکم پر تعجب کرتی ہو؟[82] ابراہیم ؑ کے گھروالو! تم لوگوں پر تو اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں، اور یقینا اللہ نہایت قابل تعریف اور بڑی شان والا ہے‘‘۔ {۷۳}</p>
<p>پھرجب ابراہیم ؑکی گھبراہٹ دور ہوگئی اور(اولاد کی بشارت سے) اس کا دل خوش ہوگیا تو اُس نے قوم لوط ؑکے معاملے میں ہم سے جھگڑا شروع کیا ۔[83]{۷۴}</p>
<p>حقیقت میں ابراہیم ؑ بڑا حلیم اور نرم دل آدمی تھا اور ہر حال میں ہماری طرف رجوع کرتا تھا{۷۵}</p>
<p> (آخرکار ہمارے فرشتوں نے اس سے کہا ) ’’اے ابراہیم ؑ ! اس سے باز آجا ؤ، تمہارے رَبّ کا حکم ہوچکا ہے اور اب اُن لوگوں پروہ عذاب آکر رہے گا جو کسی کے پھیرے نہیں پھرسکتا۔‘‘ [84]{۷۶}</p>
<p>اور جب ہمارے فرشتے لوطؑ کے پاس پہنچے [85]تو ان کی آمد سے وہ بہت گھبرایا اور دل تنگ ہو ااور کہنے لگا کہ آج بڑی مصیبت کا دن [86]ہے۔۲{۷۷}</p>
<p>(ان مہمانوں کا آنا تھا کہ) اس کی قوم کے لوگ بے اختیار اس کے گھر کی طرف دوڑ پڑے۔ پہلے سے وہ ایسی ہی بدکاریوں کے خوگر تھے ۔ لوطؑ نے ان سے کہا ’’ بھائیو !یہ میری بیٹیاں موجود ہیں ، یہ تمہارے لئے پاکیزہ تر ہیں۔[87]کچھ اللہ کا خوف کرو اور میرے مہمانو ں کے معاملے میں مجھے ذلیل نہ کرو ۔ کیا تم میں کوئی بھلا آدمی نہیں؟‘‘{۷۸}</p>
<p>انہوں نے جواب دیا ’’تجھے تو معلوم ہی ہے کہ تیری بیٹیوں میں ہمارا کوئی حصہ نہیں ہے[88] اور تویہ بھی جانتا ہے کہ ہم چاہتے کیا ہیں ‘‘۔ {۷۹}</p>
<p> لوط ؑ نے کہا ’’کاش میرے پاس اتنی طاقت ہوتی کہ تمہیں سیدھا کردیتا ، یا کوئی مضبوط سہاراہی ہوتا کہ اس کی پناہ لیتا ۔‘‘ {۸۰}</p>
<p>  تب فرشتوں نے اس سے کہا کہ ’’ اے لوط ؑ! ہم تیرے رَبّ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں ، یہ لوگ تیرا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ بس تو کچھ رات رہے اپنے اہل وعیال کو لے کر نکل جا۔ اور دیکھو تم میں سے کوئی شخص پیچھے پلٹ کرنہ دیکھے ۔[89] مگر تیری بیوی (ساتھ نہیں جائے گی) کیو ںکہ اس پر بھی وہی کچھ گزرنے والا ہے جو ان لوگوں پر گزرنا ہے ۔[90]ان کی تباہی کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے ۔ صبح ہوتے اب دیرہی کتنی ہے! ‘‘ {۸۱}</p>
<p>پھر جب ہمارے فیصلہ کا وقت آپہنچا تو ہم نے اُس بستی کو تَل پَٹ کردیا اور اس پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر تابڑتو ڑ [91]برسائے{۸۲}</p>
<p>جن میں ہر پتھر تیرے رَبّ کے ہاں نشان زدہ تھا۔[92]اور ظالموں سے یہ سزا کچھ دور نہیں ہے ۔[93]{۸۳}</p>
<p>اور مَدْ ین والوں کی طرف ہم نے اُن کے بھائی شعیب ؑ کو بھیجا ۔ [94]اس نے کہا ’’ اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی بندگی کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی  اِلٰہ نہیں ہے۔ اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو ۔ آج میں تم کو اچھے حال میں دیکھ رہا ہوں، مگر مجھے ڈرہے کہ کل تم پر ایسا دن آئے گا جس کا عذاب سب کو گھیر لے گا۔{۸۴}</p>
<p> اور اے برادِر انِ قوم!ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ پورا ناپو اور تولو اور لوگوں کو اُن کی چیزوں میں گھاٹا نہ دیا کرو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔{۸۵}</p>
<p>اللہ کی دی ہوئی بچت تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم مومن ہو اور بہرحال میں تمہارے اوپر کوئی نگران کار نہیں ہوں‘‘[95]{۸۶}</p>
<p>انہوں نے جواب دیا ’’ اے شعیب ؑ !کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی [96]ہے کہ ہم اُن سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے ؟ یایہ کہ ہم کواپنے مال میں اپنے منشاء کے مطابق تصّرف کرنے کا اختیار نہ ہو ؟[97] بس تُوہی تو ایک عالی ظرف او ر ر استبازآدمی رہ گیا ہے!‘‘ {۸۷}</p>
<p>شعیب ؑ نے کہا ’’بھائیو! تم خود ہی سوچوکہ اگر میں اپنے رَبّ کی طرف سے ایک کھلی شہادت پر تھا اور پھر اس نے مجھے اپنے ہاں سے اچھارزق بھی عطا کیا[98] ( تو اس کے بعد میں تمہاری گمراہیوں اور حرام خوریوں میں تمہارا شریک حال کیسے ہوسکتا ہوں؟)۔ اور میں ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ جن باتوں سے میں تم کو روکتاہوں ان کا خودارتکاب کروں ۔ [99]میں تواصلاح کرنا چاہتا ہوں جہاں تک بھی میرا بس چلے۔اور یہ جو کچھ میں کرنا چاہتا ہوں اس کا سارا انحصار اللہ کی توفیق پر ہے۔ اُسی پر میں نے بھروسہ کیا اور ہر معاملے میں اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔ {۸۸}</p>
<p>اور اے برادران قوم !میرے خلاف تمہاری ہٹ دھرمی کہیں یہ نوبت نہ پہنچادے کہ آخر کا رتم پر بھی وہی عذاب آکر رہے جوقومِ نوح  ؑیا قومِ ہودؑ یا صالح  ؑکی قوم پر آیا تھا ۔ اور لوطؑ کی قوم تو تم سے کچھ زیادہ دور بھی نہیں ہے[100]{۸۹}</p>
<p> دیکھو !اپنے رَبّ سے معافی مانگو اور اُس کی طرف پلٹ آ ؤ ،بے شک میرا رَبّ رحیم ہے اور اپنی مخلوق سے محبت رکھتا ہے‘‘۔[101]{۹۰}</p>
<p>انہوں نے جواب دیا ’’ اے شعیبؑ!تیری بہت سی باتیں تو ہماری سمجھ ہی میں نہیں آتیں [102]اور ہم دیکھتے ہیں کہ تو ہمارے درمیان ایک بے زور آدمی ہے، تیری برادری نہ ہوتی تو ہم کبھی کا تجھے سنگسار کرچکے ہوتے، تیرا بل بوتا تو اتنا نہیں ہے کہ ہم پر بھاری ہو ‘‘ ۔[103]{۹۱}</p>
<p> شعیب ؑ نے کہا ’’بھائیو ! کیا میری برادری تم پر اللہ سے زیادہ بھاری ہے کہ تم نے ( برادری کا تو خوف کیا اور )  اللہ کو بالکل پس پشت ڈال دیا ؟ جان رکھو کہ جو کچھ تم کررہے ہو وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے{ ۹۲}</p>
<p> اے میری قوم کے لوگو!تم اپنے طریقے پر کام کئے جا ؤ اور میں اپنے طریقے پر کرتا رہوں گا جلدی ہی تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس پر ذلّت کا عذاب آتا ہے اور کون جھوٹا ہے۔ تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ چشم براہ ہوں‘‘ ۔{۹۳}</p>
<p>آخر کار جب ہمارے فیصلے کا وقت آگیا تو ہم نے اپنی رحمت سے شعیبؑ اور اس کے ساتھی مومنوں کو بچالیا اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو ایک سخت دھماکے نے ایسا پکڑا کہ وہ اپنی بستیوں میں بے حِس و حرکت پڑے کے پڑے رہ گئے {۹۴}</p>
<p>گویا وہ کبھی وہاں رہے بسے ہی نہ تھے سنو ۔مَدْ ین والے بھی دور پھینک دیئے گئے ،جس طرح ثمود پھینکے گئے تھے ۔{۹۵}</p>
<p>  اور موسیٰ  ؑکو ہم نے اپنی نشانیوں اور کُھلی سندِماموریت کے ساتھ بھیجا۔ {۹۶}</p>
<p> فرعون اور اس کے اعیانِ سلطنت کی طرف،مگر انہوں نے فرعون کے حکم کی پیروی کی ، حالانکہ فرعون کا حکم راستی پر نہ تھا۔{۹۷}</p>
<p>قیامت کے روز وہ اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور اپنی پیشوائی میں انہیں دوزخ کی طرف لے جائے گا۔ [104]کیسی بدتر جائے وُرُود(پہنچنے کی جگہ) ہے یہ جس پر کوئی پہنچے ! {۹۸}</p>
<p>اور اُن لوگوں پر دنیا میں بھی لعنت پڑی اور قیامت کے روز بھی پڑے گی۔ کیسا بُرا صلہ ہے یہ جو کسی کو ملے۔ {۹۹}</p>
<p>یہ چند بستیوں کی سرگزشت ہے جو ہم تمہیں سنارہے ہیں۔ ان میں سے بعض اب بھی کھڑی ہیںاور بعض کی فصل کٹ چکی ہے ۔{۱۰۰}</p>
<p> ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا ، انہوں نے آپ ہی اپنے اوپر ستم ڈھایا اور جب اللہ کا حکم آگیا تو ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے ان کے کچھ کام نہ آسکے اور اُنہوں نے ہلاکت وبربادی کے سوا اُنہیں کچھ فائدہ نہ دیا۔{۱۰۱}</p>
<p> اور تیرا رَبّ جب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو پھر اس کی پکڑ ایسی ہی ہوا کرتی ہے ، فی الواقع اس کی پکڑ بڑی سخت اور درناک ہوتی ہے۔{ ۱۰۲}</p>
<p> حقیقت یہ ہے کہ ِاس میں ایک نشانی ہے ہر اس شخص کے لیے جو عذاب آخرت کا خوف کرے ۔[105] وہ ایک دن ہوگا جس میں سب  لوگ جمع ہو ں گے اور پھر جو کچھ بھی اُس روز ہوگا سب کی آنکھوں کے سامنے ہوگا{۱۰۳}</p>
<p>ہم اس کے لانے میں کچھ بہت زیادہ تاخیر نہیں کررہے ہیں ، بس ایک گِنی چُنی مدت اس کے لیے مقرر ہے، {۱۰۴}</p>
<p>  جب وہ آئے گا تو کسی کو بات کرنے کی مجال نہ ہوگی اِلاّ یہ کہ اللہ کی اجازت سے کچھ عرض کرے [106]۔ پھر کچھ لوگ اس روزبدبخت (شقی) ہوںگے اور کچھ نیک بخت (سعید) {۱۰۵}</p>
<p> جو بدبخت ہوں گے وہ دوزخ میں جائیں گے ( جہاں گرمی اور پیاس کی شدت سے ) وہ ہانپیں گے اور پُھنکا رے ماریں گے {۱۰۶}</p>
<p> اور اسی حالت میں ہمیشہ رہیں گے جب تک کہ زمین و آسمان قائم ہیں،[107] اِلاّ یہ کہ تیرا رَبّ کچھ اور چاہے بے شک تیرا رَبّ پورا اختیار رکھتا ہے کہ جو چاہے کرے۔ [108]{۱۰۷}</p>
<p> رہے وہ لوگ جو نیک بخت نکلیں گے ، تو وہ جن جنّت میں جائیں گے اور وہاں ہمیشہ رہیں گے جب تک زمین اور آسمان قائم ہیں، اِلاّ یہ کہ تیرا رَبّ کچھ اور چاہے۔[109] ایسی بخشش ان کو ملے گی جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا۔{۱۰۸}</p>
<p>پس( اے نبی  ؐ! )آپؐ ان معبودوں کی طرف سے کسی شک میں نہ رہیے جن کی یہ لوگ عبادت کر رہے ہیں۔ یہ تو (بس لکیر کے فقیر بنے ہوئے) اُسی طرح پُوجاپاٹ کئے جارہے ہیں جس طرح پہلے ان کے باپ دادا کرتے تھے۔[110] اور ہم اِن کا حصہ انہیں بھرپور دیں گے بغیر اس کے کہ اس میں کچھ کاٹ کسر ہو ۔{۱۰۹}</p>
<p>ہم اِس سے پہلے موسیٰ  ؑ کو بھی کتاب دے چکے ہیں اور اس کے بارے میں بھی اختلاف کیا گیا تھا (جس طرح آج اِس کتاب کے بارے میں کیا جارہا ہے جو تمہیں دی گئی ہے ) [111] اگر تیرے رَبّ کی طرف سے ایک بات پہلے ہی طے نہ کردی گئی ہوتی تو اُن اختلاف کرنے والوں کے درمیان کبھی فیصلہ چُکا دیا گیا ہوتا ۔[112]یہ واقعہ ہے کہ یہ لوگ اس کی طرف سے شک اور خلجان میں پڑے ہوئے ہیں{۱۱۰}</p>
<p> اور یہ بھی واقعہ ہے کہ تیرا رَبّ انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے کررہے گا ، یقینا وہ ان کی سب حرکتوں سے باخبر ہے{۱۱۱}</p>
<p> پس( اے نبی  ؐ!  ) تم اور تمہارے وہ ساتھی جو ( کفر و بغاوت سے ایمان واطاعت کی طرف) پلٹ آئے ہیں ، ٹھیک ٹھیک راہِ راست پر ثابت قدم رہو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے اور بندگی کی حد سے تجاوز نہ کرو ۔جو کچھ تم کررہے ہو اس پر تمہارا رَبّ نگاہ رکھتا ہے ۔{۱۱۲}</p>
<p> ان ظالموںکی طرف ذرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آجا ؤ گے اور تمہیں کوئی ایسا ولی وسرپرست نہ ملے گا جو اللہ سے تمہیں بچاسکے اور کہیں سے تم کو مدد نہ پہنچے گی۔{۱۱۳}</p>
<p>اور دیکھو ، نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے پر۔[113]  درحقیقت نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں ،[114] یہ ایک یاد دہانی ہے اُن لوگوں کے لیے جو اللہ کو یادرکھنے والے ہیں۔{۱۱۴}</p>
<p> اور صبرکر ،اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا۔{۱۱۵}</p>
<p> پھرکیوں نہ اُن قوموں میں جو تم سے پہلے گزرچکی ہیں ایسے اہلِ خیر موجود رہے جو لوگوں کو زمین میں فسادبرپا کرنے سے روکتے؟ ایسے لوگ نکلے بھی تو بہت کم، جن کو ہم نے ان قوموں میں سے بچالیا، ورنہ ظالم لوگ تو اُنہی مزوں کے پیچھے پڑے رہے جن کے سامان انہیں فراوانی کے ساتھ دیئے گئے تھے اور وہ مجرم بن کررہے۔{۱۱۶}</p>
<p>تیرا رَبّ ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ناحق تباہ کردے حالانکہ ان کے باشندے اصلاح کرنے والے ہوں۔[115]{۱۱۷}</p>
<p> بے شک تیرارَبّ اگر چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک گروہ بناسکتا تھا ، مگر اب تو وہ مختلف طریقوں ہی پر چلتے رہیں گے{۱۱۸}</p>
<p>اور بے راہ رویوں سے صرف وہ لوگ بچیں گے جن پر تیرے رَبّ کی رحمت ہے ۔ اِسی (آزادی انتخاب و اختیار اور امتحان ) کے لیے ہی تو اس نے انہیں پیدا کیا [116]تھا۔ اور تیرے رَبّ کی وہ بات پوری ہوگئی جو اس نے کہی تھی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے بھردوں گا۔{۱۱۹}</p>
<p>اور اے نبی  ؐ!یہ پیغمبروں کے قصے جو ہم تمہیں سناتے ہیں۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن کے ذریعہ سے ہم تمہارے دل کو مضبوط کرتے ہیں اِن کے اندر تم کو حقیقت کا علم ملا اور ایمان لانے والوں کو نصیحت اور بیداری نصیب ہوئی۔ {۱۲۰}</p>
<p>رہے وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے ، تو ان سے کہہ دو کہ تم اپنے طریقے پر کام کرتے رہو اور ہم اپنے طریقے پر کئے جاتے ہیں {۱۲۱}</p>
<p>انجامِ کار کاتم بھی انتظار کرو اور ہم بھی منتظر ہیں۔{۱۲۲}</p>
<p>آسمانوں اور زمین میں جو کچھ چھپا ہوا ہے سب اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہے اور سارا معاملہ اسی کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ پس اے نبی  ؐ!تُو اس کی بندگی کر اور اسی پر بھروسہ ر کھ ، جو کچھ تم لوگ کررہے ہو تیرا رَبّ اس سے بے خبر نہیں ہے۔۔[117] {۱۲۳}</p>

</div><div id="12"><p>سورۃیوسف </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والاہے۔</p>
<p>الٓرٰ ۔ یہ اُس کتاب کی آیات ہیں جو اپنا مدعاصاف صاف بیان کرتی ہے۔{۱}</p>
<p> ہم نے اِسے نازل کیا ہے قرآن [1]بناکر عربی زبان میں تا کہ تم ( اہلِ عرب) اس کواچھی طرح سمجھ سکو۔[2]{ ۲}</p>
<p> اے نبی  ؐ! ہم اِس قرآن کو تمہاری طرف وحی کرکے بہترین پیرایہ میں واقعات اور حقائق تم سے بیان کرتے ہیں ، ورنہ اس سے پہلے تو (اِن چیزوں سے ) تم بالکل ہی بے خبر تھے۔[3] {۳}</p>
<p>یہ اُس وقت کا ذکر ہے جب یوسف ؑ نے اپنے باپ سے کہا ’’ابا جان ! میں نے خواب دیکھا ہے کہ گیارہ ستارے ہیں اور سورج اور چاند ہیں اور وہ مجھے سجدہ کررہے ہیں۔ ‘‘{۴}</p>
<p> جواب میں اس کے باپ نے کہا ’’ بیٹا! اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ سُنا نا ورنہ وہ تیرے درپے آزار ہوجائیں گے،[4]  حقیقت یہ ہے کہ شیطان آدمی کا کھلادشمن ہے۔{ ۵}</p>
<p> اور ایسا ہی ہوگا (جیسا تو نے خواب میں دیکھا ہے کہ) تیرا رَبّ تجھے ( اپنے کام کے لیے) منتخب کرے[5] گا او رتجھے باتوں کی تہ تک پہنچنا سکھائے گا[6]اور تیرے اوپر اور آل یعقوب ؑ پر اپنی نعمت اُسی طرح پوری کرے گا جس طرح اِس سے پہلے وہ تیرے بزرگوں ، ابراہیم  ؑ اور اسحاق  ؑ پر کرچکا ہے ، یقینا تیرا رَبّ علیم اور حکیم ہے‘‘ ۔[7]{۶}</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ یوسف ؑ اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں اِن پوچھنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔ {۷}</p>
<p>یہ قصہ یو ں شروع ہوتاہے کہ اُس کے بھائیو ں نے آپس میں کہا کہ ’’یہ یوسف ؑ اور اس کا بھائی،[8]  دونوں ہمارے والد کو ہم سب سے زیادہ محبوب ہیں ، حالانکہ ہم ایک پورا جتھا ہیں ، سچی ّبات یہ ہے کہ ہمارے ابّا جان بالکل ہی بہک گئے ہیں۔[9]{۸}</p>
<p> چلو یوسف  ؑکو قتل کردو یا اسے کہیں پھینک دو تا کہ تمہارے والد کی توجہ صرف تمہاری ہی طرف ہوجائے ۔ یہ کام کرلینے کے بعد پھر نیک بن رہنا ‘‘[10]{۹}</p>
<p> اس پر ان میں سے ایک بولا ’’یوسف ؑ کو قتل نہ کرو ، اگر کچھ کرنا ہی ہے تو اسے کسی اندھے کنوئیں میں ڈال دو ، کوئی آتا جاتا قافلہ اسے نکال لے جائے گا‘‘{۱۰}</p>
<p> اس قرار داد پر انہو ں نے جاکر اپنے باپ سے کہا ’’ ا بّا جان ! کیا بات ہے کہ آپ یوسف ؑ کے معاملہ میں ہم پر بھروسہ نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے سچے خیر خواہ ہیں ؟ {۱۱}</p>
<p>کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے ، کچھ چَرچُگ لے گا  اور کھیل کود سے بھی دل بہلائے گا۔ ہم اس کی حفاظت کو موجود ہیں‘‘[11]{۱۲}</p>
<p> باپ نے کہا:’’ تمہارا اُسے لیجانا مجھے شاق گزرتا ہے اور مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں اسے بھیڑیا نہ پھاڑکھائے جبکہ تم اس سے غافل ہو ‘‘۔{۱۳}</p>
<p> انہوں نے جواب دیا ’’ اگر ہمارے ہوتے اسے بھیڑیئے نے کھالیا ، جب کہ ہم ایک جتھاہیں ،تب تو ہم بڑے ہی نِکمّے ہوں گے۔ ‘‘{۱۴}</p>
<p>اس طرح اصرار کر کے جب وہ اسے لے گئے اور انہوں نے طے کرلیا کہ اسے ایک اندھے کنوئیں  میں چھوڑدیں تو ہم نے یوسف ؑ کو وحی کی کہ’’ ایک وقت آئے گا جب تو اِن لوگوں کو اِن کی یہ حرکت جتائے گا، یہ اپنے فعل کے نتائج سے بے خبر ہیں ‘‘۔[12]{۱۵}</p>
<p> شام کووہ روتے پیٹتے اپنے باپ کے پاس آئے{۱۶}</p>
<p> اور کہا ’’ا بّاجان! ہم دوڑ کا مقابلہ کرنے میں لگ گئے تھے اور یوسف ؑ کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا کہ اتنے میں بھیڑیا آکر اسے کھا گیا۔ آپ ہماری بات کا یقین نہ کریں گے چاہے ہم سچے ہی ہوں ‘‘ ۔{۱۷}</p>
<p> اور وہ یوسف ؑکے قمیص پر جُھوٹ مُوٹ کا خون لگاکر لے آئے تھے۔ یہ سُن کران کے باپ نے کہا ’’بلکہ تمہارے نفس نے تمہارے لئے ایک بڑے کام کو آسان بنادیا۔ اچھا ، صبرکروں گا اور بخوبی [13]صبرکروں گا، جوبات تم بنارہے ہو اس پر اللہ ہی سے مدد مانگی جاسکتی ہے ‘‘ ۔[14]{۱۸}</p>
<p>اُدھر ایک قافلہ آیا اور اس نے اپنے سقّے کو پانی لانیکے لیے بھیجا ۔ سقیّ نے جو کنوئیں میں ڈول ڈالا تو (یوسفؑ کو دیکھ کر )  پُکا راُٹھا ’’ مبارک ہو یہاں تو ایک لڑکا ہے ‘‘ ۔ اِن لوگوں نے اُس کو مال تجارت سمجھ کر چھپا لیا ، حالانکہ جو کچھ وہ کررہے تھے اللہ اس سے باخبر تھا {۱۹}</p>
<p> آخر کار انہوں نے تھوڑی سی قیمت پر چنددرہموں کے عوض اُسے بیچ ڈالا[15] اور وہ اس کی قیمت کے معاملہ میں کچھ زیادہ کے امیدوار نہ تھے۔{۲۰}</p>
<p>مصر کے جس شخص نے اسے خرید ا[16]اس نے اپنی بیوی[17] سے کہا ’’ اس کو اچھی طرح رکھنا ، بعید نہیں کہ یہ ہمارے لئے مفید ثابت ہویا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ [18]اس طرح ہم نے یوسف ؑ کے لیے اُس سرزمین میں قدم جمانے کی صورت نکالی اور اسے معاملہ فہمی کی تعلیم دینے کا انتظام کیا۔[19] اللہ اپنا  کام کرکے رہتا ہے ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔{۲۱}</p>
<p> اور جب وہ اپنی پوری جوانی کو پہنچا تو ہم نے اسے قوتِ فیصلہ اور علم عطا کیا ،[20] اس طرح ہم نیک لوگوں کو جزادیتے ہیں۔{۲۲}</p>
<p>جس عورت کے گھر میں وہ تھا وہ اس پر ڈورے ڈالنے لگی اور ایک روز دروازے بند کرکے بولی ’’آجا‘‘ یوسف ؑ نے کہا :’’ اللہ کی پناہ ! میرے رَبّ  نے تو مجھے اچھی منزلت بخشی ( اور میں یہ کام کروں )  ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پایا کرتے ‘‘ ۔[21]{۲۳}</p>
<p>وہ اس کی طرف بڑھی اور یوسف ؑ بھی اس کی طرف بڑھتا اگر اپنے رَبّ کی برُہان نہ دیکھ لیتا۔[22]  ایسا ہوا ، تا کہ ہم اس سے بدی اور بے حیائی کو دور کردیں،[23] درحقیقت وہ ہمارے چُنے ہوئے بندوں میں سے تھا۔{۲۴}</p>
<p>آخر کار یوسف ؑاور وہ آگے پیچھے دروازے کی طرف بھاگے اور اس نے پیچھے سے یوسف ؑ کا قمیص(کھینچ کر ) پھاڑ دیا۔ دروازے پر دونوں نے اُس کے شوہر کو موجود پایا۔ اسے دیکھتے ہی عورت کہنے لگی، ’’کیا سزا ہے اس شخص کی جوتیری گھروالی پر نیت خراب کرے؟ اِس کے سوا اور کیا سزا ہوسکتی ہے کہ وہ قید کیا جائے یا اسے سخت عذاب دیا جائے ؟‘‘ {۲۵}</p>
<p>یوسف ؑ نے کہا ’’یہی مجھے پھانسنے کی کوشش کررہی تھی۔‘‘ اُس عورت کے اپنے کنبہ والوں میں سے ایک شخص نے (قرینے کی)  شہادت پیش کی[24] کہ ’’ اگر یوسف ؑ کا قمیص آگے سے پھٹا ہو تو عورت سچّی ہے اور یہ جھوٹا{۲۶}</p>
<p> اور اگر اس کا قمیص پیچھے سے پھٹا ہو تو عورت جھوٹی ہے اور یہ  سچا ‘‘۔[25]{۲۷}</p>
<p> جب شوہر نے دیکھا کہ یوسف ؑ کا قمیص پیچھے سے پھٹا ہے تو اس نے کہا ’’ یہ تم عورتوں کی چالا کیاں ہیں ، واقعی بڑے غضب کی ہوتی ہیں تمہاری چالیں۔ {۲۸}</p>
<p> یوسف ؑ! اس معاملے سے درگزرکر۔ اور اے عورت تو اپنے قصور کی معافی مانگ ، توہی اصل میں خطار کار تھی‘‘ ۔[25a]{۲۹}</p>
<p>شہر کی عورتیں آپس میں چرچا کرنے لگیں کہ ’’ عزیزکی بیوی اپنے نوجوان غلام کے پیچھے پڑی ہوئی ہے، محبت نے اس کو بے قابو کررکھا ہے ، ہمارے نزدیک تو وہ صریح غلطی کررہی ہے۔‘‘ {۳۰}</p>
<p>اُس نے جو اُن کی یہ مکاّرانہ باتیں سُنیں تو اُن کو بُلاوابھیج دیا اور ان کے لیے تکیہ دار مجلس آراستہ کی [26]اور ضیافت میں ہر ایک کے آگے ایک ایک چُھری رکھ دی ، ( پھر عین اس وقت جبکہ وہ پھل کاٹ کاٹ کر کھارہی تھیں) اُس نے یوسف ؑ کو اشارہ کیا کہ اُن کے سامنے نکل آ۔ جب اُن عورتوں کی نگاہ اس پر پڑی تو وہ دنگ رہ گئیں اور اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں اور بے ساختہ  پکاراٹھیں’’ حَاشَ  لِلّٰہ ، یہ شخص انسان نہیں ہے ، یہ تو کوئی بزرگ فرشتہ ہے‘‘۔{۳۱}</p>
<p> عزیز کی بیوی نے کہا ’’ دیکھ لیا ،یہ ہے وہ شخص جس کے معاملہ میں تم مجھ پر باتیں بناتی تھیں۔ بیشک میں نے اسے رِجھا نے کی کوشش کی تھی مگر یہ بچ نکلا، اگر یہ میرا کہنا نہ مانے گا توقید کیا جائے گا اور بہت ذلیل و خوار ہوگا‘‘[27]{۳۲}</p>
<p> یوسف ؑ نے کہا ’’ اے میرے رَبّ ! قید مجھے منظور ہے بہ نسبت اِس کے کہ میں وہ کام کروں جو یہ لوگ مجھ سے چاہتے ہیں ۔اور اگر تونے ان کی چالوں کو مجھ سے دفع نہ کیا تو میں ان کے دام میں پھنس جا ؤں گا اور جاہلو ںمیں شامل ہو [28]رہوں گا‘‘۔{۳۳}</p>
<p> اس کے رَبّ نے اِس کی دعاقبول کی اور ان عورتوں کی چالیں اس سے دفع کردیں ،[29] بے شک وہی ہے جو سب کی سُنتا اور سب کچھ جانتا ہے۔ {۳۴}</p>
<p>پھراُن لوگوں کو یہ سُوجھی کہ ایک مدت کے لیے اُسے قید کردیں حالانکہ وہ ( اس کی پاک دامنی اور خود اپنی عورتوں کے برے اطوار کی ) صریح نشانیاں دیکھ چکے تھے۔[30]  {۳۵}</p>
<p>قید خانے [31]میں دوغلام اور بھی اس کے ساتھ داخل ہوئے ۔[32]ایک روزان میں سے ایک نے کہا ’’ میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں شراب کشید کررہاہوں ‘‘ دوسرے نے کہا ’’ میں نے دیکھا کہ میرے سر پرروٹیاں رکھی ہیں اور پرندے ان کو کھارہے ہیں‘‘ دونوں نے کہا ’’ہمیں اس کی تعبیر بتایئے ، ہم دیکھتے ہیں کہ آپ ایک نیک آدمی ہیں‘‘۔[33]{۳۶}</p>
<p> یوسف  ؑ نے کہا’’ یہاں جو کھانا تمہیں ملا کرتا ہے اس کے آنے سے پہلے میں تمہیں ان خوابوں کی تعبیر بتادوں گا ۔ یہ اُن عُلوم میں سے ہے جو میرے رَبّ نے مجھے عطا کئے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ میں نے اُن لوگوں کا طریقہ ترک کردیا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں {۳۷}</p>
<p>اور میں نے اپنے  بزرگوں ، ابراہیم ؑ ، اسحاق  ؑاور یعقوب ؑ کا طریقہ اختیار کیا ہے ۔ ہمارا یہ کام نہیں ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائیں ۔ درحقیقت یہ اللہ کا فضل ہے ہم پر اور تمام انسانوں پر ( کہ اس نے اپنے سواکسی کا بندہ ہمیں نہیں بنایا) مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے ۔ {۳۸}</p>
<p> اے زنداں کے ساتھیو! تم خودہی سوچو کہ بہت سے متفرق رَبّ بہتر ہیں یا وہ ایک اللہ جو سب پر غالب ہے ؟{۳۹}</p>
<p> اُس کو چھوڑ کر تم جن کی بندگی کررہے ہو وہ اِس کے سِوا کچھ نہیں ہیں کہ بس چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آبا ؤ اجداد نے رکھ لئے ہیں ، اللہ نے اُن کے لیے کوئی سندنازل نہیں کی ۔ فرمانروائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے ۔ اُس کا حکم ہے کہ خود اُس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو۔یہی ٹھیٹھ سیدھا طریقۂ زندگی ہے ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔{۴۰}</p>
<p> اے زنداں کے ساتھیو! تمہارے خواب کی تعبیر یہ ہے کہ تم میں سے ایک تو اپنے رَبّ (شاہِ مصر )  کو شراب پلائے گا، رہا دوسراتو اسے سولی پر چڑھا یاجائے گا اور پرندے اس کا سرنوچ نوچ کرکھائیں گے ۔ فیصلہ ہوگیا اُس بات کا جوتم پوچھ رہے تھے‘‘۔[34]{۴۱}</p>
<p>پھر ان میں سے جس کے متعلق خیال تھا کہ وہ رہا ہوجائے گا اس سے یوسف  ؑ نے کہا کہ’’ اپنے رَبّ (شاہ ِمصر) سے میراذکر کرنا ۔‘‘ مگر شیطان نے اُسے ایسا غفلت میں ڈالا کہ وہ اپنے رَبّ (شاہ ِمصر ) سے اس کا ذکر کرنا بھول گیا اور یوسف ؑ کئی سال قید خانے میں پڑارہا ۔ [35]{ ۴۲}</p>
<p>ایک روز [36] بادشاہ نے کہا ’’ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دُبلی گائیں کھارہی ہیں اور اناج کی سات بالیں ہری ہیں اور دوسری سات سوکھی ۔ اے اہلِ دربار! مجھے اس خواب کی تعبیر بتا ؤ اگر تم خوابوں کا مطلب سمجھتے  ہو ‘‘۔[37]{ ۴۳}</p>
<p> لوگوں نے کہا ’’ یہ تو پریشان خوابوں کی باتیں ہیں اور ہم اس طرح کے خوابوں کا مطلب نہیں جانتے ‘‘۔ {۴۴}</p>
<p>  اُن دوقیدیو ں میں سے جو شخص بچ گیا تھا اور اسے ایک مدت دراز کے بعد اب بات یاد آئی ،اُس نے کہا ’’میں آپ حضرات کو اِس کی تاویل بتاتا ہوں ، مجھے ذرا (قید خانے میں یوسف ؑ کے پاس ) بھیج دیجئے ‘‘ ۔[38]{۴۵}</p>
<p>اُس نے جاکر کہا ’’ یوسف ؑ اے سراپا راستی! [39] مجھے اِس خواب کا مطلب بتاکہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھارہی ہیں اور سات بالیں ہری ہیں اور سات سوکھی ، شاید کہ میں ان لوگوں کے پاس واپس جا ؤں اور شاید کہ وہ جان لیں‘‘  ۔[40]{۴۶}</p>
<p>یوسف ؑ نے کہا ’’ سات برس تک لگاتار تم کھیتی باڑی کرتے رہوگے۔ اس دوران میں جو فصلیں تم کاٹو اُن میں سے بس تھوڑا سا حصہ ، جو تمہاری خوراک کے کام آئے ، نکالو اور باقی کو اس کی بالوں ہی میں رہنے دو۔{۴۷}</p>
<p> پھر سات برس بہت سخت آئیں گے۔ اُس زمانے میں وہ سب غلہ کھا لیا جائے گا جو تم اُس وقت کے لیے جمع کروگے ۔ اگر کچھ بچے گا تو بس وہی جو تم نے محفوظ کررکھا ہو۔{۴۸}</p>
<p> اِس کے بعد پھر ایک سال ایسا آئے گا جس میں بار انِ رحمت سے لوگوں کی فریادرسی کی جائے گی اور وہ رس نچوڑیں[41] گے‘‘۔{۴۹}</p>
<p>بادشاہ نے کہا اُسے میرے پاس لا ؤ۔ مگر جب شاہی فرستادہ یوسف ؑ کے پاس پہنچا تو اُس نے کہا[42] ’’ اپنے رَبّ کے پاس واپس جا اور اس سے پوچھ کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے؟ میرا رَبّ تو ان کی مکاّری سے واقف ہی[43] ہے‘‘۔{۵۰}</p>
<p> اس پربادشاہ  نے ان عورتوں سے دریافت کیا[44] ’’ تمہارا کیا تجربہ ہے ۔اُس وقت کا جب تم نے یوسف ؑ کو رِجھا نے کی کوشش کی تھی ‘‘؟ سب نے ایک زبان ہوکر کہا ’’حَاشَ لِلّٰہِ‘‘ ہم نے تو اُس میں بدی کاشائبہ تک نہ پایا‘‘ عزیز کی بیوی بول اٹھی ’’ اب حق کھل چکا ہے ، وہ میں ہی تھی جس نے اُس کو پُھسلانے کی کوشش کی تھی ، بے شک وہ بالکل سچا ہے‘‘۔[45]{۵۱}</p>
<p>(یوسف ؑ نے کہا) [46] ’’ اِس سے میری غرض یہ تھی کہ ( عزیز) یہ جان لے کہ میں نے دَرِپردہ اُس کی خیانت نہیں کی تھی اور یہ کہ جو خیانت کرتے ہیں اُن کی چالوں کو اللہ کامیابی کی راہ پر نہیں لگاتا ۔{ ۵۲}</p>
<p>میں کچھ اپنے نفس کی براء ت نہیں کررہا ہوں ، نفس تو بدی پر اکساتا ہی ہے اِلاّ یہ کہ کسی پر میرے رَبّ کی رحمت ہو ، بے شک میرا رَبّ بڑا غفور و رحیم ہے۔ { ۵۳}</p>
<p>بادشاہ نے کہا ’’ اُنہیں میرے پاس لا ؤ تا کہ میں اُن کو اپنے لئے مخصوص کرلوں‘‘۔جب یوسف ؑ نے اس سے گفتگو کی تو اس نے کہا ’’ اب آپ ہمارے ہاں قدر ومنزلت رکھتے ہیں اور آپ کی امانت پر پورا بھروسہ ہے ‘‘۔[47]{۵۴}</p>
<p>یوسف ؑنے کہا ’’ ملک کے خزانے میرے سپرد کیجئے ، میں حفاظت کرنے والا بھی ہوں اور علم بھی رکھتا ہوں۔[47a]{۵۵}</p>
<p>اِس طرح ہم نے اُس سرزمین میں یوسف  ؑکے لیے اِقتدار کی راہ ہموار کی ۔ وہ مختار تھا کہ اس میں جہاں چاہے اپنی جگہ بنائے،[48] ہم اپنی رحمت سے جس کو چاہتے ہیں نواز تے ہیں ، نیک لوگوں کا اَجر ہمارے ہاں مارانہیں جاتا {۵۶}</p>
<p>اور آخرت کا اَجر ان لوگوں کے لیے زیادہ بہتر ہے جو ایمان لے آئے اورتقویٰ کے ساتھ کام کرتے رہے۔ [49]{۵۷}</p>
<p>یوسف  ؑکے بھائی مصر آئے اور اس کے ہاں حاضر ہوئے،[50] اُس نے اُنہیں پہچان لیا۔ مگر وہ اُس سے ناآشنا تھے۔[51]{۵۸}</p>
<p> پھر جب اس نے ان کا سامان تیار کرو ادیا تو چلتے وقت ان سے کہا ’’ اپنے سوتیلے بھائی کو میرے پاس لانا۔ دیکھتے نہیں ہو کہ میں کس طرح پیمانہ بھر کردیتا ہوں اور کیسا ا چھا مہمان نواز ہوں ۔ {۵۹}</p>
<p> اگر تم اسے نہ لا ؤ گے تو میرے پاس تمہارے لئے کوئی غلہ نہیں ہے ، بلکہ تم میرے قریب بھی نہ  پھٹکنا  ‘‘۔[52]{۶۰}</p>
<p>انہوں نے کہا ’’ہم کوشش کریں گے کہ والد صاحب اسے بھیجنے پر راضی ہوجائیں ، اور ہم ایسا ضرور کریں گے۔‘‘ {۶۱}</p>
<p>یوسف  ؑ نے اپنے غلاموں کو اشارہ کیا کہ ’’ ان لوگوں نے غلّے کے عوض جو مال دیا ہے وہ چپکے سے ان کے سامان ہی میں رکھ دو ‘‘۔ یہ یوسف  ؑ نے اس امید پر کیا کہ گھر پہنچ کروہ اپنا واپس پایا ہوا مال پہچان جائیں گے  ( یا اِس فیاضی پر احسان مندہوں گے) اور عجب نہیں کہ پھر پلٹیں۔ {۶۲}</p>
<p>جب وہ اپنے باپ کے پاس گئے تو کہا ’’ اے ا بّا جان ! آئندہ ہم کو غلّہ دینے سے انکار کردیا گیا ہے ، لہٰذا آپ ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے تا کہ ہم غلہ لے کر آئیںاور اس کی حفاظت کے ہم ذمہ دار ہیں۔‘‘{۶۳}</p>
<p> باپ نے جواب دیا ’’ کیا میں اُس کے معاملہ میں تم پرویساہی بھروسہ کروں جیسا اِس سے پہلے اُس کے بھائی کے معاملہ میں کرچکا ہوں؟ اللہ ہی بہتر محافظ ہے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔‘‘ {۶۴}</p>
<p> پھر جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تودیکھا کہ اُ ن کامال بھی انہیں واپس کردیا گیا ہے۔ یہ دیکھ کر وہ پُکار اُٹھے ’’ابّا جان ! اور ہمیں کیا چاہئے ، دیکھے یہ ہمارا مال بھی ہمیں واپس دے دیا گیا ہے ۔پس اب ہم جائیں گے اور اپنے اہلِ وعیال کے لیے رسدلے کرآئیں گے ، اپنے بھائی کی حفاظت بھی کریں گے اور ایک بارِشتر اور زیادہ بھی لے آئیں گے ، اتنے غلّہ کا اضافہ آسانی کے ساتھ ہوجائے گا۔ ‘‘{۶۵}</p>
<p> ان کے باپ نے کہا ’’میں اُس کو ہرگز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک کہ تم اللہ کے نام سے مجھ کو پیمان نہ دے دو کہ اسے میرے پاس ضرور واپس لے کر آ ؤ گے اِلاّ یہ کہ تم گھیرہی لئے جا ؤ ‘‘ ۔جب انہوں نے اس کو اپنے اپنے پیمان دے دیے تو اس نے کہا ’’دیکھو ، ہمارے اس قول پر اللہ نگہبان ہے‘‘{۶۶}</p>
<p> پھر اس نے کہا ’’ اے میرے بچو !مصر کے دارالسلطنت میں ایک دروازے سے داخل نہ ہو نا، بلکہ مختلف دروازوں سے جانا۔ [53]مگر میں اللہ کی مشیّت سے تم کو نہیں بچا سکتا، حکم اس کے سوا کسی کا بھی نہیں چلتا ، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور جس کو بھی بھروسہ کرنا ہوا سی پر کرے‘‘{۶۷}</p>
<p> اور واقعہ بھی یہی ہوا کہ جب وہ اپنے باپ کی ہدایت کے مطابق شہر میں (متفرق دروازوں سے ) داخل ہوئے تو اس کی یہ احتیاطی تدبیر اللہ کی مشیت کے مقابلے میں کچھ بھی کام نہ آسکی۔ ہاں بس یعقوب ؑ کے دل میں جو ایک کھٹک تھی اسے دور کرنے کے لیے اس نے اپنی سی کوشش کرلی ۔ بیشک وہ ہماری دی ہوئی تعلیم سے صاحبِ علم تھا مگر اکثر لوگ معاملے کی حقیقت کو جانتے نہیں ہیں۔[54]{۶۸}</p>
<p>یہ لوگ یوسف ؑ کے حضور پہنچے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس الگ بلایا اور اسے بتادیا کہ ’’ میں تیرا وہی بھائی ہوں( جو کھو یا گیا تھا) اب تو اُن باتوں کا غم نہ کر جو یہ لوگ کرتے رہے ہیں ‘‘۔  [55]{۶۹}</p>
<p>جب یوسف ؑ ان بھائیوں کا سامان لدوانے لگا تو اس نے اپنے بھائی کے سامان میں اپنا پیالہ رکھ دیا۔[56] پھر ایک پکارنے والے نے پکار کرکہا ’’ اے قافلے والو! تم لوگ چور ہو‘‘[57]{۷۰}</p>
<p> انہوں نے پلٹ کر پوچھا ’’تمہاری کیا چیزکھوئی گئی؟ ‘‘{۷۱}</p>
<p> سرکاری ملازموں نے کہا ’’ بادشاہ کا پیمانہ ہم کو نہیں ملتا ‘‘۔ ( اور اُن کے جمعدار نے کہا)’’جو شخص لاکردے گا، اس کے لیے ایک بارِشترانعام ہے ، اس کا میں ذمہ لیتا ہوں‘‘ ۔{۷۲}</p>
<p> ان بھائیوں نے کہا ’’ اللہ کی قسم ، تم لوگ خوب جانتے ہو کہ ہم اس ملک میں فساد کرنے نہیں آئے ہیں اور ہم چوریاں کرنے والے لوگ نہیں ہیں۔{۷۳}</p>
<p>انہوں نے کہا ’’ اچھا اگر تمہاری بات جھوٹی نکلی تو چور کی کیا سزا ہے؟ ‘‘ {۷۴}</p>
<p>انہوں نے کہا ’’ اس کی سزا؟ جس کے سامان میں سے چیز نکلے وہ آپ ہی اپنی سزا میں رکھ لیا جائے ، ہمارے ہاں تو ایسے ظالموں کو سزا دینے کا یہی طریقہ ہے‘‘۔[58]{۷۵}</p>
<p>  تب یوسف ؑ نے اپنے بھائی سے پہلے اُن کی خُرجیوں کی تلاشی لینی شروع کی ، پھر اپنے بھائی کی خرجی سے گم شدہ چیز بر آمد کرلی۔ اس طرح ہم نے یوسف ؑ کی تائید اپنی تدبیر سے کی[59]۔ اُس کا یہ کام نہ تھا کہ بادشاہ کے دین (یعنی مصر کے شاہی قانون ) میں اپنے بھائی کو پکڑتا اِلا ّیہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے۔ [60] ہم جس کے درجے چاہتے ہیں بلند کردیتے ہیں ، اور ایک علم رکھنے والا ایسا ہے جو ہر صاحبِ علم سے بالاتر ہے۔{۷۶}</p>
<p>ان بھائیوں نے کہا ’’ یہ چوری کرے تو کچھ تعجب کی بات بھی نہیں ، اس سے پہلے اس کا بھائی ( یوسفؑ) بھی چوری کرچکا ہے‘‘ ۔[61]یوسفؑ ان کی یہ بات سُن کر پی گیا ، حقیقت ان پر نہ کھولی ، بس ( زیرلب ) اتنا کہہ کر رہ گیا کہ ’’بڑے ہی بُرے ہوتم لوگ ، (میرے منھ درمنھ مجھ پر ) جو الزام لگارہے ہو اس کی حقیقت اللہ خوب جانتا ہے‘‘۔{۷۷}</p>
<p>انہوں نے کہا ’’ اے سردارِ ذی اقتدار (عزیز) [62]  اِس کا باپ بہت بوڑھا آدمی ہے ، اِس کی جگہ آپ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجئے ، ہم آپ کو بڑا ہی نیک نفس انسان پاتے ہیں‘‘ ۔{۷۸}</p>
<p>یوسف ؑ نے کہا ’’ معاذ اللہ! دوسرے کسی شخص کو ہم کیسے رکھ سکتے ہیں؟ جس کے پاس ہم نے اپنا مال پایا ہے[63] اس کو چھوڑ کر دوسرے کو رکھیں گے تو ہم ظالم ہوں گے‘‘۔{۷۹}</p>
<p>جب وہ یوسف ؑ سے مایوس ہوگئے تو ایک گوشے میںجاکر آپس میں مشورہ کرنے لگے۔ اُن میں جو سب سے بڑا تھا وہ بولا’’ تم جانتے نہیں ہو کہ تمہارے والد تم سے اللہ کے نام پر عہد وپیمان لے چکے ہیں ؟ اور اِس سے پہلے یوسف ؑ کے معاملے میں جو تم کرچکے ہو وہ بھی تم کو معلوم ہے ۔ اب میں تو یہا ں سے ہرگز نہ جا ؤں گا جب تک کہ میرے والد مجھے اجازت نہ دیں ، یا پھر اللہ ہی میرے حق میں کوئی فیصلہ فرمادے کہ وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ۔{۸۰}</p>
<p> تم جاکر اپنے والد سے کہو کہ اے ا بّا جان! آپ کے صاحبزادے نے چوری کی ہے۔ ہم نے اسے چوری کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ جو کچھ ہمیں معلوم ہوا ہے بس وہی ہم بیان کررہے ہیں، اور غیب کی نگہبانی تو ہم نہ کرسکتے تھے۔{۸۱}</p>
<p> آپ اُس بستی کے لوگوں سے پوچھ لیجئے جہاں ہم تھے اُس قافلے سے دریافت کرلیجئے جس کے ساتھ ہم آئے ہیں۔ ہم اپنے بیان میں بالکل سچے ہیں ‘‘۔{۸۲}</p>
<p>   باپ نے یہ داستان سن کر کہا’’ دراصل تمہارے نفس نے تمہارے لئے ایک اور بڑی بات کو سہل بنا دیا۔[64] اچھا اِس پر بھی صبر کروں گا اور بخوبی کروں گا ۔ کیا بعید کہ اللہ ان سب کو مجھ سے لاملائے ، وہ سب کچھ جانتا ہے اور اس کے سب کام حکمت پر مبنی ہیں ‘‘۔{۸۳}</p>
<p> پھر وہ ان کی طرف سے منھ پھیر کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ ’’ہائے یوسف !‘‘ وہ دل ہی دل میں غم سے گُھٹا جارہا تھا اور اس کی آنکھیں سفید پڑگئی تھیں۔{۸۴}</p>
<p> بیٹوں نے کہا ’’ اللہ کی قسم ! آپ تو بس یوسف ہی کو یاد کئے جاتے ہیں۔ نوبت یہ آگئی ہے کہ اس کے غم میں اپنے آپ کو گُھلادیں گے یا اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے ‘‘ ۔{۸۵}</p>
<p>اُس نے کہا میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ کے سوا کسی سے نہیں کرتا اور اللہ سے جیسا میں واقف ہوں تم نہیں ہو۔ {۸۶}</p>
<p> میرے بچّو!  جاکر یوسف  ؑ اور اس کے بھائی کی کچھ ٹوہ لگا ؤ ، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ، اس کی رحمت سے تو بس کافر ہی مایوس ہوا کرتے ہیں۔{۸۷}</p>
<p> جب یہ لوگ مصر جاکر یوسف ؑ کی پیشی میں داخل ہوئے تو انہوں نے عرض کیا کہ ’’ اے سردارِ بااقتدار! ہم اور ہمارے اہل وعیال سخت مصیبت میں مبتلاہیں ، اور ہم کچھ حقیر سی پونجی لے کر آئے ہیں۔ آپ ہمیں بھر پور غلّہ عنایت فرمائیں اور ہم کو خیرات دیں ،[65] اللہ خیرات دینے والوں کو جزا دیتا ہے‘‘۔{۸۸}</p>
<p> ( یہ سُن کر یوسف ؑ سے نہ رہا گیا) اس نے کہا ’’ تمہیں کچھ یہ بھی معلوم ہے کہ تم نے یوسف ؑ اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا جب کہ تم نادان تھے ؟{۸۹}</p>
<p> وہ چونک کر بولے ’’ ہائیں ! کیا تم یوسف ؑ ہو؟‘‘ اُس نے کہا ’’ ہاں ، میں یوسف  ؑ ہوں اور یہ میرا بھائی ہے ۔ اللہ نے ہم پر احسان فرمایا ۔حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی تقویٰ اور صبر سے کام لے تو اللہ کے ہاں ایسے نیک لوگوں کا اجر مارانہیں جاتا ‘‘۔ {۹۰}</p>
<p>انہوں نے کہا’’ اللہ کی قسم تم کو اللہ نے ہم پر فضیلت بخشی اور واقعی ہم خطا کارتھے {۹۱}</p>
<p>اُس نے جواب دیا، ’’ آج تم پر کوئی گرفت نہیں،اللہ تمہیں معاف کرے ، وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔{۹۲}</p>
<p> جا ؤ ، میرا یہ قمیص لے جا ؤ اور میرے والد کے منھ پر ڈال دو، ان کی بینائی پلٹ آئے گی اور اپنے سب اہلِ وعیال کو میرے پاس لے آ ؤ‘‘۔{۹۳}</p>
<p>جب یہ قافلہ ( مصر سے ) روانہ ہو ا تو اُن کے باپ نے (کنعان میں) کہا’’ میں یوسف ؑ  کی خوشبو محسوس کررہا ہوں ،[66] تم لوگ کہیں یہ نہ کہنے لگو کہ میں بڑھاپے میں سٹھیا گیا ہوں‘‘ {۹۴}</p>
<p>گھر کے لوگ بولے ’’اللہ کی قسم آپ ابھی تک اپنے اُسی پُرا نے خبط میں پڑے ہوئے ہیں۔‘‘[67]{۹۵}</p>
<p> پھر جب خوشنجری لانے والا آیا تو اس نے یوسف ؑ کا قمیص یعقوب ؑ کے منھ پر ڈال دیا اور یکایک اس کی بینائی عود کرآئی ۔ تب اس نے کہا ’’ میں تم سے کہتا نہ تھا ؟ میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے، ‘‘{۹۶}</p>
<p> سب بول اٹھے، ’’ اے ہمارے اباّ جان ! آپ ہمارے گناہوں کی بخشش کے لیے دُعا کریں ، واقعی ہم خطا کارتھے ‘‘۔{۹۷}</p>
<p> اُس نے کہا :’’ میں اپنے رَبّ سے تمہارے لئے معافی کی درخواست کروں گا ، وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے‘‘ ۔{۹۸}</p>
<p>پھر جب یہ لوگ یوسف ؑ کے پاس پہنچے [68]تو اس نے اپنے والدین کو اپنے ساتھ بٹھا لیا [69]اور اپنے سب کُنبے والوں سے کہا’’ چلو اب شہر میں چلو ، اللہ نے چاہا تو امن وچین سے رہوگے‘‘{۹۹}</p>
<p>(شہر میں داخل ہونے کے بعد) اس نے اپنے والدین کو اٹھا کر اپنے پاس تخت پر بٹھایا اور سب اُس کے آگے بے اختیار سجدے میں جُھک گئے ،[70]یوسفؑ نے کہا،’’ اَباّ جان ! یہ تعبیر ہے میرے اُس خواب کی جو میں نے پہلے دیکھا تھا میرے رَبّ نے اسے حقیقت بنادیا۔ اُس کا احسان ہے کہ اس نے مجھے قید خانے سے نکالا ، اور آپ لوگوں کو صحرا سے لاکر مجھ سے ملایا ، حالانکہ شیطان میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال چکا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ میرا رَبّ غیر محسوس تدبیروں سے اپنی مشیّت پوری کرتا ہے۔بیشک وہ علیم اور حکیم ہے۔{۱۰۰}</p>
<p> اے میرے رَبّ ! تونے مجھے حکومت بخشی اور مجھ کو باتوں کی تہ تک پہنچنا سکھایا۔ زمین وآسمان کے بنانے والے ، توہی دنیا اور آخرت میں میرا سرپرست ہے ، میرا خاتمہ اسلام پر کر اور انجام کار مجھے صالحین کے ساتھ ملا۔ ‘‘[71]{۱۰۱}</p>
<p>(اے نبی  ؐ!)یہ قصّہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم تم پر وحی کررہے ہیں ، ورنہ تم اُس وقت موجود نہ تھا جب یوسف ؑ کے بھائیوں نے آپس میں اتفاق کرکے سازش کی تھی۔{ ۱۰۲}</p>
<p> مگر تم خواہ کتنا ہی چاہو اِن میں سے اکثر لوگ مان کردینے والے نہیں ہیں۔[72]{۱۰۳}</p>
<p>حالاں کہ تم اس خدمت پر اُن سے کوئی اُجرت بھی نہیں مانگتے ہو،یہ تو ایک نصیحت ہے جو دنیا والوں کے لیے عام ہے۔ [73]{۱۰۴}</p>
<p> زمین [74]اور آسمانوں میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ لوگ گزرتے رہتے ہیں اور ذرا توجہ نہیں کرتے۔[75]{۱۰۵}</p>
<p> اِن میں سے اکثر  اللہ کو مانتے  ہیں مگر اس طرح کہ اُس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔[76]{۱۰۶}</p>
<p> کیا یہ مطمئن ہیں کہ اللہ کے عذاب کی کوئی بلا انہیں دُبوچ نہ لے گی یا بے خبری میں قیامت کی گھڑی اچانک ان پر نہ آجائے گی؟[77]{۱۰۷}</p>
<p> تم اِن سے صاف کہہ دو کہ ’’ میرا راستہ تو یہ ہے ، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں ، میں خود بھی پوری روشنی میں اپناراستہ دیکھ رہا ہوں اور میرے ساتھی بھی ، اور اللہ پاک ہے[78] اور شرک کرنے والوں سے میرا کوئی واسطہ نہیں‘‘۔{۱۰۸}</p>
<p>  اے نبی  ؐ !تم سے پہلے ہم نے جو پیغمبر بھیجے تھے وہ سب بھی انسان ہی تھے اور اِنہی بستیوں کے رہنے والوں میں سے تھے ، اور اُن ہی کی طرف ہم وحی بھیجتے رہے ہیں ۔پھر کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اُ ن قوموں کا انجام اِنہیں نظر نہ آیا جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں؟ یقینا آخرت کا گھر اُن لوگوں کے لیے اور زیادہ بہتر ہے جنہوں نے (پیغمبروں کی بات مان کر ) تقویٰ کی روش اختیار کی۔ کیا اب بھی تم لوگ نہ سمجھو گے ؟[79]{۱۰۹}</p>
<p>  (پہلے پیغمبروں کے ساتھ بھی یہی ہوتا رہا ہے کہ وہ مدتوں نصیحت کرتے رہے اور لوگوں نے سُن کر نہ دیا) یہاں تک کہ جب پیغمبر لوگوں سے مایوس ہوگئے اور لوگوں نے بھی سمجھ لیا کہ اُن سے جھوٹ بولا گیا تھا ، تو یکایک ہماری مدد پیغمبروں کو پہنچ گئی۔ پھر جب ایسا موقع آجاتا ہے تو ہمارا قاعدہ یہ ہے کہ جسے ہم چاہتے ہیں بچالیتے ہیں اور مجرموں پر سے تو ہمارا عذاب ٹالاہی نہیں جاسکتا ۔{۱۱۰}</p>
<p>اگلے لوگوں کے اِن قصّوں میں عقل و ہوش رکھنے والوں کے لیے عبرت ہے۔ یہ جو کچھ قرآن میں بیان کیا جارہا ہے، یہ بناوٹی باتیں نہیں ہیں ،بلکہ جو کتابیں اِس سے پہلے آئی ہوئی ہیں اِنہی کی تصدیق ہے اور ہر چیز کی تفصیل[80]اور ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت۔{۱۱۱}</p>

</div><div id="13"><p>سورۃالرعد </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔</p>
<p>ا لٓمّٓرٰ ۔ یہ کتابِ الہیٰ کی آیات ہیں اور جو کچھ تمہارے رَبّ کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ عین حق ہے۔ مگر (تمہاری قوم کے) اکثر لوگ مان نہیں رہے ہیں۔[1]{۱}</p>
<p>وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کو ایسے سہاروں کے بغیر قائم کیا جو تم کو نظر آتے ہوں،[2]  پھر وہ اپنے تختِ سلطنت پر جلوہ فرما ہوا ،[3] اور اس نے آفتاب و ماہتاب کو ایک قانون کا پابند بنایا ۔[4] اِس سارے نظام کی ہر چیز ایک وقتِ مقرر تک کے لیے چل رہی ہے[5] اور اللہ ہی اِس سارے کام کی تدبیر فرمارہا ہے ۔ وہ نشانیاں کھول کھول کربیان کرتا ہے[6] شاید کہ تم اپنے رَبّ کی ملاقات کا یقین کرو۔[7]{ ۲}</p>
<p>اور وہی ہے جس نے یہ زمین پھیلارکھی ہے ، اِس میں پہاڑوں کے کھونٹے گاڑ رکھے ہیں اور دریا بہادیے ہیں ۔ اُسی نے ہر طرح کے پھلوں کے جوڑے پیدا کئے ہیں اور وہی دن پر رات طاری کرتاہے۔[8] اِن ساری چیزوںمیں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو غور فکر سے کام لیتے ہیں۔ {۳}</p>
<p>اور دیکھو ، زمین میں الگ الگ خطّے پائے جاتے ہیں جو ایک دوسرے سے متصّل واقع ہیں۔[9] انگور کے باغ ہیں ، کھیتیاں ہیں ، کھجور کے درخت ہیں  جن میں سے کچھ اکہرے ہیں اور کچھ دوہرے ۔ [10]سب کو ایک ہی پانی سیراب کرتا ہے ، مگر مزے میں ہم کسی کو بہتر بنادیتے ہیں اور کسی کو کمتر۔ اِن سب چیزوں میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔[11]{۴}</p>
<p>اب اگر تمہیں تعجب کرنا ہے تو تعجب کے قابل لوگوں کا یہ قول ہے کہ ’’ جب ہم مرکرمٹی ہوجائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کئے جائیں گے ‘‘ ؟ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رَبّ سے کفر کیا ہے۔[12] یہ وہ لوگ ہیںجن کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے[13] ہیں ۔ یہ جہنمی ہیں اور جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔{۵}</p>
<p>یہ لوگ بھلائی سے پہلے بُرائی کے لیے جلدی مچا رہے ہیں[14] حالانکہ اِن سے پہلے (جو لوگ اِس روش پر چلے ہیں ان پر اللہ کے عذاب کی) عبرت ناک مثالیں گزر چکی ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ تیرا رَبّ لوگوں کی زیادتیوں کے باوجود اِن کے ساتھ چشم پوشی سے کام لیتا ہے ، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ تیرا رَبّ سخت سزادینے والا ہے۔ {۶}</p>
<p>یہ لوگ جنہوں نے تمہاری بات ماننے سے انکا رکردیا ہے، کہتے ہیں کہ ’’ اِس شخص پر اس کے رَبّ کی طرف سے  کوئی نشانی کیوں نہ اُتری؟‘‘[15] تم تو محض خبردارکر دینے والے ہو اور ہرقوم کے لیے ایک رہنما ہے۔ [16]{۷}</p>
<p> اللہ ایک ایک حاملہ کے پیٹ سے واقف ہے، جو کچھ اس میں بنتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اس میں کمی یا بیشی ہوتی ہے اس سے بھی وہ باخبر رہتا ہے۔[17]ہر چیز کے لیے اُس کے ہاں ایک مقدار مقرر ہے۔ {۸}</p>
<p> وہ پوشیدہ اور ظاہر ، ہرچیزکا عالم ہے۔ وہ بزرگ ہے اور ہر حال میں بالاتر رہنے والا ہے ۔{۹}</p>
<p> تم میں سے کوئی شخص خواہ زور سے بات کرے یا آہستہ ، اور کوئی رات کی تاریکی میں چُھپا ہوا ہویا دن کی روشنی میں چل رہا ہواُس کے لیے سب یکساں ہیں ۔{۱۰}</p>
<p>ہر شخص کے آگے اور پیچھے اُس کے مقرر کئے ہوئے نگراں لگے ہوئے ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی دیکھ بھال کررہے ہیں ۔[18] حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی۔ اور جب اللہ کسی قوم کی شامت لانے کا فیصلہ کرلے تو پھر وہ کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتی ،نہ اللہ کے مقابلے میں ایسی قوم کا کوئی حامی و مددگار ہوسکتا ہے۔[19]{۱۱}</p>
<p>وہی ہے جو تمہارے سامنے بجلیاں چمکاتا ہے جنہیں دیکھ کر تمہیں اندیشے بھی لاحق ہوتے ہیں اور امیدیں بھی بندھتی ہیں۔ وہی ہے جو پانی سے لدے ہوئے بادل اُٹھاتا ہے۔{۱۲}</p>
<p> بادلوں کی گرج اُس کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتی ہے [20]اور فرشتے اس کی ہیبت سے لرزتے ہوئے اس کی تسبیح کرتے ہیں۔[21] وہ کڑکتی ہوئی بجلیوں کو بھیجتا ہے اور (بسااوقات ) انہیں جس پر چاہتا ہے عین اُس حالت میں گرادیتا ہے۔ جب کہ لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑرہے ہوتے ہیں۔فی الواقع اُس کی چال بڑی ز بردست ہے۔[22]{ ۱۳}</p>
<p>اُسی کو پکارنا برحق ہے۔  [23]رہیں وہ دوسری ہستیاں جنہیں اُس کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں، وہ اُن کی دُعا ؤں کا کوئی جواب نہیں دے سکتیں۔ اِنہیں پکار ناتو ایسا ہے جیسے کوئی شخص پانی کی طرف ہاتھ پھیلاکر اس سے درخواست کرے کہ تومیرے منھ تک پہنچ جا، حالانکہ پانی اس تک پہنچنے والا نہیں۔ بس اسی طرح کافروں کی دُعائیں بھی کچھ نہیں ہیں ،مگر ایک تیرِبے ہدف ! {۱۴}</p>
<p>وہ تو اللہ ہی ہے جس کو زمین اور آسمان کی ہر چیز طوعًا وکر ھًا سجدہ کررہی [24]ہے  اور سب چیزوں کے سائے صبح وشام اُس کے آگے جھکتے ہیں۔[25]  {۱۵}</p>
<p>اِن سے پوچھو ، آسمان وزمین کا رَبّ کو ن ہے ؟ کہو ، اللہ ۔[26] پھر ان سے کہو کہ جب حقیقت یہ ہے تو کیا تم نے اُسے چھوڑ کر ایسے معبودوں کو اپنا کارساز ٹھیرالیا جو خود اپنے لئے بھی کسی نفع ونقصان کا اختیار نہیں رکھتے ؟ کہو ، کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہواکرتا ہے ؟[27] کیا روشنی اور تاریکیاں یکساں ہوتی ہیں ؟[28] اور اگر ایسا نہیں تو کیا اِن کے ٹھیرائے ہوئے شریکوں نے بھی اللہ کی طرح کچھ پیدا کیا ہے کہ اُس کی وجہ سے ان پرتخلیق کا معاملہ مشتبہ ہوگیا ؟ [29] کہو ہر چیز کا خالق صرف اللہ ہے اور وہ یکتا ہے ، سب پر غالب ! [30]{۱۶}</p>
<p>اللہ نے آسمان سے پانی برسایا اور ہر ندی نالہ اپنے ظرف کے مطابق اسے لے کر چل نکلا۔ پھر جب سیلاب اٹھا تو سطح پر جھاگ بھی آگئے ،[31] اور ایسے ہی جھاگ اُن دھاتوں پر بھی اٹھتے ہیں جنہیں زیور اور برتن وغیرہ بنانے کے لیے لوگ پگھلایا کرتے ہیں۔[32] اسی مثال سے اللہ حق اور باطل کے معاملے کو واضح کرتا ہے۔ جو جھاگ ہے وہ اُڑ جایا کرتا ہے اور جو چیز انسانوں کے لیے نافع ہے وہ زمین میں ٹھہرجاتی ہے۔ اِس طرح اللہ مثالوں سے اپنی بات سمجھاتا ہے۔{۱۷}</p>
<p>جن لوگوں نے اپنے رَبّ کی دعوت قبول کرلی ان کے لیے بھلائی ہے ، اور جنہوں نے اسے قبول نہ کیا وہ اگر زمین کی ساری دولت کے بھی مالک ہوں اور اُتنی ہی اور فراہم کرلیں تو وہ اللہ کی پکڑ سے بچنے کے لیے اس سب کو فدیہ میں دے ڈالنے پر تیار ہوجائیں گے۔[33]یہ وہ لوگ ہیں جن سے بُری طرح حساب لیا جائے گا [34]اور ان کا ٹھکا نا جہنم ہے، بہت ہی بُراٹھکانا ۔{۱۸}</p>
<p>بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ شخص جو تمہارے رَبّ کی اِس کتاب کو جو اس نے تم پر نازل کی ہے حق جانتا ہے ، اور وہ شخص جواس حقیقت کی طرف سے اندھا ہے ، دونوں یکساں ہوجائیں [35]؟ نصیحت تو دانشمند لوگ ہی قبول کیا کرتے ہیں۔[36]{۱۹}</p>
<p> اوراُن کا طرِز عمل یہ ہوتا ہے کہ اللہ کیساتھ اپنے عہد کوپورا کرتے ہیں، اُسے مضبوط باندھنے کے بعد توڑ نہیں ڈالتے۔ [37]{۲۰}</p>
<p> اُن کی روش یہ ہوتی ہے کہ اللہ نے جن جن روابط کو بر قرار رکھنے کا حکم دیا ہے[38] انہیں برقرار رکھتے ہیں، اپنے رَبّ سے ڈرتے ہیں اور اِس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ کہیں ان سے بُری طرح حساب نہ لیا جائے۔{۲۱}</p>
<p> اُن کا حال یہ ہوتا ہے کہ اپنے رَبّ کی رضا کے لیے صبر سے کام لیتے ہیں [39]، نماز قائم کرتے ہیں ، ہمارے دیئے ہوئے رزق میں سے علانیہ اور پوشیدہ خرچ کرتے ہیں ۔اور برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں۔[40] آخرت کا گھر انہی لوگوں کے لیے ہے۔{ ۲۲}</p>
<p>یعنی ایسے باغ جو اُن کی ابدی قیام گاہ ہوں گے۔وہ خود بھی ان میں داخل ہوں گے اور اُن کے آباء و اجداد اور اُنکی بیویوں اور اُنکی اولاد میں سے جوجو صالح ہیں وہ بھی اُن کے ساتھ وہاں جائیں گے۔ ملائکہ ہر طرف سے اُن کے استقبال کے لیے آئیں گے{ ۲۳}</p>
<p> اور اُن سے کہیں گے ’’ تم پر سلامتی ہے ،[41] تم نے دنیا میں جس طرح صبر سے کام لیا اُس کی بدولت آج تم اِس کے مستحق ہوئے ہو‘‘ ۔ پس کیا ہی خوب ہے یہ آخرت کا گھر۔{۲۴}</p>
<p>رہے وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑ ڈالتے ہیں ، جو اُن رابطوں کو کاٹتے ہیں جنہیں اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اور جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ، وہ لعنت کے مستحق ہیں اور اُن کے لیے آخرت میں بہت بُراٹھکانا ہے۔{۲۵}</p>
<p>اللہ جس کو چاہتا ہے رزق کی فراخی بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تُلارزق دیتا ہے۔[42] یہ لوگ دنیوی زندگی میں مگن ہیں،حالاں کہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں ایک متاع ِقلیل کے سوا کچھ بھی نہیں۔{۲۶}</p>
<p>یہ لوگ جنہوں نے ( رسالت محمدّیؐ کو ماننے سے ) انکار کردیا ہے ، کہتے ہیں ’’ اِس شخص پر اِس کے رَبّ کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اُتری ‘‘[43] کہو، اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور وہ اپنی طرف آنے کاراستہ اُسی کو دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے۔[44]{۲۷}</p>
<p>ایسے ہی لوگ ہیں وہ جنہوں نے( اس نبی ؐ کی دعوت کو ) مان لیا ہے اور اُن کے دلوں کو اللہ کی یاد سے ا طمینان نصیب ہوتا ہے ۔خبردار رہو ! اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلو ںکو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے۔ {۲۸}</p>
<p>پھر جن لوگوں نے دعوتِ حق کو مانا اور نیک عمل کئے وہ خوش نصیب ہیں اور اُن کے لیے اچھا انجام ہے۔{۲۹}</p>
<p> اے نبی  ؐ! اسی شان سے ہم نے تم کو رسول  ؐبناکر بھیجا ہے [45]ایک ایسی قوم میں جس سے پہلے بہت سی قومیں گزرچکی ہیں، تا کہ تم اِن لوگوں کو وہ پیغام سنا ؤ جو ہم نے تم پر نازل کیا ہے اِس حال میں کہ یہ اپنے نہایت مہربان رب کے کافربنے ہوئے ہیں۔[46] ان سے کہو کہ وہی میرا رَبّ ہے اُسکے سوا کوئی معبود نہیں ہے ، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہی میرا ملجا وماویٰ ہے۔{۳۰}</p>
<p>اور کیا ہوجاتا اگر کوئی ایسا قرآن اتار دیا جاتا جس کے زور سے پہاڑ چلنے لگتے ، یازمین شق ہوجاتی ، یامُردے قبروں سے نکل کر بولنے لگتے ؟ [47] ( اِس طرح کی نشانیاں  دکھا دینا کچھ مشکل نہیں ہے) بلکہ سارا اختیار ہی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ [48]پھر کیا اہلِ ایمان ( ابھی تک کفار کی طلب کے جواب میں کسی نشانی کے ظہور کی آس لگائے بیٹھے ہیں اور وہ یہ جان کر ) مایوس نہیں ہوگئے کہ اگر اللہ چاہتا تو سارے انسانوں کو ہدایت دے دیتا؟ [49] جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ کفر کا رویہّ اختیار کررکھا ہے اُن پر اُن کے کرتوتوں کی وجہ سے کوئی نہ کوئی آفت آتی ہی رہتی ہے ، یا اُن کے گھر کے قریب کہیں نازل ہوتی ہے،یہ سلسلہ چلتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آن پورا ہو۔ یقینا اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ۔{۳۱}</p>
<p> تم سے پہلے بھی بہت سے رسُولوں کا مذاق اُڑایا جاچکا ہے مگر میں نے ہمیشہ منکرین کو ڈھیل دی اور آخر کار اُن کو پکڑلیا ، پھر دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی۔{ ۳۲}</p>
<p>پھر کیاوہ جو ایک ایک متنفس کی کمائی پر نظر رکھتا ہے[50] (اسکے مقابلے میں یہ جسارتیں کی جارہی ہیں[51] کہ ) لوگوں نے اسکے کچھ شریک ٹھہرا رکھے ہیں؟ (اے نبی  ؐ) ، اِن سے کہو  ( اگر واقعی وہ اللہ کے اپنے بنائے ہوئے شریک ہیں تو ) ذرا اُن کے نام لو کہ وہ کون ہیں ؟ کیا تم اللہ کو ایک نئی بات کی خبردے رہے ہو جسے وہ اپنی زمین میں نہیں جانتا ؟ یا تم لوگ بس یونہی جو منھ میں آتا ہے کہہ ڈالتے ہو ؟[52] حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے دعوتِ حق کو ماننے سے انکا رکیا ہے اُن کے لیے ان کی مکّاریاں [53]خوشنما بنادی گئی ہیں اور وہ راہِ راست سے روک دیے گئے ہیں ،[54] پھر جس کو اللہ گمراہی میں پھینک دے اسے کوئی راہ دکھانیوالا نہیں ہے{۳۳}</p>
<p> ایسے لوگوں کے لیے دنیا کی زندگی ہی میں عذاب ہے ، اور آخرت کا عذاب اِس سے بھی زیادہ سخت ہے ۔ کوئی ایسا نہیں جو اُنہیں اللہ سے بچانے والا ہو۔{ ۳۴}</p>
<p>متقی انسانوں کے لیے جس جنّت کا وعدہ کیا گیا ہے اُس کی شان یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ، اس کے پھل دائمی ہیں اور اُس کا سایہ لازوال ۔ یہ انجام ہے متقی لوگوں کا ۔ اور منکرینِ حق کا انجام یہ ہے کہ ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے۔{۳۵}</p>
<p>اے نبی  ؐ !جن لوگوں کو ہم نے پہلے کتاب دی تھی وہ اِس کتاب سے جو ہم نے تم پر نازل کی ہے ، خوش ہیں اور مختلف گروہوں میں کچھ لوگ ایسے بھی  ہیں جو اس کی بعض باتوں کو نہیں مانتے ۔ تم صاف کہہ دو کہ ’’مجھے تو صرف اللہ کی بندگی کا حکم دیا گیا ہے اور اِس سے منع کیا گیا ہے کہ کسی کو اس کے ساتھ شریک ٹھہرا ؤں ، لہٰذا میں اُسی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اُسی کی طرف میرارجوع ہے ‘‘[55]۔{۳۶}</p>
<p> اِسی ہدایت کے ساتھ ہم نے یہ فرمانِ عربی تم پر نازل کیا ہے۔ اب اگر تم نے اس علم کے باوجود جو تمہارے پاس آچکا ہے، لوگوں کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی تمہارا حامی ومدد گار ہے اور نہ کوئی اس کی پکڑ سے تم کو بچاسکتا ہے۔{۳۷}</p>
<p>تم سے پہلے بھی ہم بہت سے رسُول بھیج چکے ہیں اور ان کو ہم نے بیوی بچوں والا ہی بنایا تھا ۔[56]اور کسی رسول کی بھی یہ طاقت نہ تھی کہ اللہ کے اِذن کے بغیر کوئی نشانی خود لادکھاتا۔[57] ہر دور کے لیے ایک کتاب ہے۔ {۳۸}</p>
<p> اللہ جو کچھ چاہتا ہے مٹادیتا ہے اور جس چیز کو چاہتا ہے قائم رکھتا ہے ،اُمُّ الکتاب اُسی کے [58]پاس ہے۔ {۳۹}</p>
<p> اور اے نبی  ؐ! جس بُرے انجام کی دھمکی ہم اِن لوگوں کو د ے رہے ہیں اِس کا کوئی حصہ خواہ ہم تمہارے جیتے جی دکھادیں یا اس کے ظہور میں آنے سے پہلے ہم تمہیں اٹھالیں، بہر حال تمہارا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔ [59]{۴۰}</p>
<p>کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم اِس سرزمین پر چلے آرہے ہیں اور اِس کا دائرہ ہر طرف سے تنگ کرتے چلے آتے ہیں؟[60] اللہ حکومت کررہا ہے ، کوئی اُس کے فیصلوں پر نظر ثانی کرنے والا نہیں ہے اور اُسے حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی۔{۴۱}</p>
<p> اِن سے پہلے جو لوگ ہوگزرے ہیں وہ بھی بڑی بڑی چالیں چل چکے ہیں،[61] مگر اصل فیصلہ کُن چال (خفیہ تدبیر) تو پوری کی پوری اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کون کیا کچھ کمائی کررہا ہے ، اور عنقریب یہ منکرین ِحق دیکھ لیں گے کہ انجام کس کا بخیر ہوتا ہے۔{ ۲ ۴}</p>
<p>یہ منکرین کہتے ہیں کہ تم اللہ کے بھیجے ہوئے رسول نہیں ہو۔ کہو ،’’ میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی گواہی کا فی ہے اور پھر اُس شخص کی گواہی جو کتابِ آسمانی کا علم رکھتا ہے۔‘‘ [62]{۴۳}</p>

</div><div id="14"><p>سورۃابراہیم </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>الٓرٰ۔( اے محمد ؐ !) یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوںسے نکال کر روشنی میں لا ؤ ، اُن کے رَبّ کی توفیق سے ، اُس رَبّ کے راستے [1]پر جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمودہے ۔[2]{۱}</p>
<p>اور(اللہ ہی ) زمین اور آسمانوں کی ساری موجودات کا مالک ہے۔اور سخت تباہ کُن سزا ہے قبولِ حق سے انکار کرنے والوں کے لیے { ۲}</p>
<p>جو دنیا کی زندگی کو آخرت  پر ترجیح دیتے ہیں[3] ، جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روک رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ راستہ ( اُن کی خواہشات کے مطابق ) ٹیڑھا ہو جائے۔[4] یہ لوگ گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں۔{ ۳}</p>
<p>ہم نے اپنا پیغام دینے کے لیے جب کبھی کوئی رسول بھیجا ہے ، اُس نے اپنی قوم ہی کی زبان میں پیغام دیا ہے تاکہ وہ اُنہیں اچھی طرح کھول کر بات سمجھائے ۔[5] پھر اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے،[6] وہ بالادست اور حکیم ہے۔[7]{ ۴}</p>
<p>ہم اِس سے پہلے موسیٰ  ؑ  کو بھی اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیج چکے ہیں۔ اُسے بھی ہم نے حکم دیا تھا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لا اور اُنہیں تاریخِ الہٰی[8]  کے سبق آموز واقعات سُناکر نصیحت کر۔ ان واقعات میں بڑی نشانیاں ہیں[9] ہراُس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو۔[10]  {۵}</p>
<p>یادکرو جب موسیٰ  ؑ نے اپنی قوم سے کہا ’’ اللہ کے اُس احسان کو یادرکھو جو اس نے تم پر کیا ہے ۔ اس نے تم کو فرعون والوں سے چُھڑایا جو تم کو سخت تکلیفیں دیتے تھے۔ تمہارے لڑکوں کو قتل کرڈالتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ بچارکھتے تھے ، اس میں تمہارے رَبّ کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی۔{۶}</p>
<p>اور یادرکھو تمہارے رَبّ نے خبردار کردیا تھا کہ اگر شکر گزاربنوگے[11] تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا اور اگر کُفرانِ نعمت کروگے تو میری سزا بہت سخت ہے ‘‘[12]{۷}</p>
<p>اور موسیٰ  ؑ نے کہا کہ ’’ اگر تم کفر کرو اور زمین کے سارے رہنے والے بھی کافر ہوجائیں تو اللہ بے نیاز اوراپنی ذات میں آپ محمود ہے‘‘[13]{۸}</p>
<p> کیا تمہیں[14]  اُن قوموں کے حالات نہیں پہنچے جو تم سے پہلے گزرچکی ہیں ؟ قو مِ نوحؑ ،عاد ،ثمود اور اُن کے بعد آنے والی بہت سی قومیں جن کا شمار اللہ ہی کو معلوم ہے ؟ اُن کے رسولؑ جب اُن کے پاس صاف صاف باتیں اور کھلی کھلی نشانیاں لئے ہوئے آئے تو انہو ں نے اپنے منھ میں ہاتھ دبالئے [15]اور کہا کہ ’’جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اُس کو نہیں مانتے اور جس چیز کی تم ہمیں دعوت دیتے ہو اس کی طرف سے ہم سخت خلجان آمیزشک میں پڑے ہوئے ہیں‘‘۔[16] {۹}</p>
<p>ان کے رسُولوں نے کہا ’’کیا اللہ کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے؟[17] وہ تمہیں بُلا رہا ہے تا کہ تمہارے قصور معاف کرے اور تم کو ایک مدّت مقرر تک مُہلت دے‘‘۔[18] اُنہوں نے جواب دیا ’’ تم کچھ نہیں ہو، مگر ویسے ہی انسان جیسے ہم ہیں۔[19] تُم ہمیں اُن ہستیوں کی بندگی سے روکنا چاہتے ہو جن کی بندگی باپ دادا سے ہوتی چلی آرہی ہے۔ اچھا تو لا ؤ کوئی صریح سند ۔‘‘[20]{۱۰}</p>
<p>اُن کے رسولوں نے ان سے کہا ’’ واقعی ہم کچھ نہیں ہیں مگرتُم جیسے انسان ، لیکن اللہ اپنے  بندو ں میں سے جس کو چاہتا ہے نوازتا ہے[21] اور یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے کہ تمہیں کوئی سندلادیں۔ سند تو اللہ ہی کے اِذنْ سے آسکتی ہے اور اللہ ہی پراہل ایمان کو بھروسہ کرنا چاہیے ۔{۱۱}</p>
<p> اور ہم کیو ںنہ اللہ پر بھروسہ کریں جب کہ ہماری زندگی کی راہوں میں اس نے ہماری رہنمائی کی ہے ؟جو اذیتیں تم  لوگ ہمیں دے رہے ہو اُن پر ہم صبر کریں گے اور بھروسہ کرنے والوں کا بھروسہ اللہ ہی پر ہوناچاہیے ‘‘{۱۲}</p>
<p>  آخر کار منکرین نے اپنے رسُولوں سے کہہ دیا کہ ’’یاتو تمہیں ہماری ملت میں واپس آنا ہوگا  ورنہ [22]ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں گے۔ ‘‘تب اُن کے رَبّ نے اُن پر وحی بھیجی کہ ’’ ہم اِن ظالموں کو ہلاک کردیں گے { ۱۳}</p>
<p>اور ان کے بعد تمہیں زمین میں آباد کریں گے۔ [23]یہ انعام ہے اُس کا جو میرے حضور جواب دہی کا خوف رکھتا ہو اور میری  وعید سے ڈرتا ہو‘‘ { ۱۴}</p>
<p>اُنہوں نے فیصلہ چاہا تھا ( تو یوں اُن کا فیصلہ ہوا) اور ہر جبّار دشمنِ حق نے منھ کی کھائی [24]{۱۵}</p>
<p> پھر اس کے بعد آگے اس کے لیے جہنم ہے ۔وہاں اُسے کچ لہو کا ساپانی پینے کو دیا جائے گا{۱۶}</p>
<p> جسے وہ زبردستی حلق سے اُتار نے کی کوشش کرے گا اور مشکل ہی سے اُتارسکے گا ۔موت ہر طرف سے اس پر چھائی رہے گی مگروہ مرنے نہ پائے گا اور آگے ایک سخت عذاب اس کی جان کو لاگور ہے گا ۔{۱۷}</p>
<p>جن لوگوں نے اپنے رَبّ سے کفر کیا ہے ان کے اعمال کی مثال اُس راکھ کی سی ہے جسے ایک طوفانی دن کی آندھی نے اُڑادیا ہو، وہ اپنے کیے کا کچھ بھی پھل نہ پاسکیں گے۔ [25]یہی پرلے درجے کی گم گشتگی ہے۔ {۱۸}</p>
<p> کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے آسمانوں و زمین کی تخلیق کو حق پر قائم کیا ہے ؟[26] وہ چاہے تو تم لوگوں کو لے جائے اور ایک نئی خلقت تمہاری جگہ لے آئے ۔{۱۹}</p>
<p>ایسا کرنا اُس پر کچھ بھی دشوار نہیں ہے۔[27]{۲۰}</p>
<p>اور یہ لوگ جب اکٹھے اللہ کے سامنے بے نقاب ہوں گے تو اُس وقت ان میں سے جو دنیا میں کمزور تھے وہ اُن لوگوں سے جو بڑے بنے ہوئے تھے، کہیں گے ’’ دنیا میں ہم تمہارے تابع تھے ، اب کیا تم اللہ کے عذاب سے ہم کو بچانے کے لیے بھی کچھ کرسکتے ہو؟‘‘ وہ جواب دیں گے ’’ اگر اللہ نے ہمیں نجات کی کوئی راہ دکھائی ہوتی تو ہم ضرور تمہیں دکھادیتے ۔ اب تو یکساں ہے خواہ ہم جزع فزع کریں یا صبر،بہر حال ہمارے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔ ‘‘[29]{۲۱}</p>
<p>  اور جب فیصلہ چکا دیا جائے گاتو شیطان کہے گا ’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کئے تھے وہ سب سچّے تھے اور میں نے جتنے وعدے کئے ان میں سے کوئی بھی پُورا نہ کیا ۔[30]میراتم پر کوئی زور تو تھا نہیں ، میں نے اِس کے سواکچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تم کو دعوت دی اور تم نے میری دعوت پرلبیک کہا۔[31] اب مجھے ملامت نہ کرو ، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو ۔ یہاں نہ میں تمہاری فریاد رسی کر سکتاہوں اور نہ تم میری۔ اِس سے پہلے جو تم نے مجھے اللہ کا شریک [32]بنارکھاتھا میں اس سے بری الذّمہ ہوں ، ایسے ظالموں کے لیے درد ناک سزایقینی ہے ۔{ ۲۲}</p>
<p>بخلاف اِس کے جولوگ دنیا میں ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں وہ ایسے باغوں میں داخل کئے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ وہاں وہ اپنے رَبّ کے اِذنْ سے ہمیشہ رہیں گے ، اور وہاں ان کا استقبال سلامتی کی مبارکباد [33]سے ہوگا۔{۲۳}</p>
<p> کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کلمئہ طیّبہ [34]کو کس چیز سے مثال دی ہے ؟ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اچھی ذات کا درخت جس کی جڑز مین میں گہری جمی ہوئی ہے اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں[35]{۲۴}</p>
<p>ہر آن وہ اپنے رَبّ کے حکم سے اپنے پھل دے رہا ہے۔[36]یہ مثالیں اللہ اس لیے دیتا ہے کہ لوگ ان سے سبق لیں۔{۲۵}</p>
<p> اور کلمۂ خبیشہ [37]کی مثال ایک بدذات درخت کی سی ہے، جو زمین کی سطح سے اُکھاڑ پھینکا جاتا ہے، اُس کے لیے کوئی استحکام نہیں ہے۔[38]{۲۶}</p>
<p>ایمان لانے والوں کو اللہ ایک قول ثابت کی بنیاد پر دنیااور آخرت ، دونوں میں ثبات عطا کرتا ہے [39]، اور ظالموں کو اللہ بھٹکا دیتا ہے ۔[40] اللہ کو اختیار ہے جو چاہے کرے۔ {۲۷}</p>
<p>تم نے دیکھا اُن لوگوں کو جنہوں نے اللہ کی نعمت پائی اور اُسے کفرانِ نعمت سے بدل ڈالا اور ( اپنے ساتھ) اپنی قوم کو بھی ہلاکت کے گھر میں جھونک دیا{۲۸}</p>
<p> یعنی جہنم، جس میں وہ جھلسے جائیں گے اور وہ بدترین جائے قرار ہے۔{۲۹}</p>
<p> اور اللہ کے کچھ ہمسرتجویز کرلیے تا کہ وہ انہیں اللہ کے راستے سے بھٹکادیں ۔ ان سے کہو ، اچھا مزے کرلو ، آخر کا رتمہیں  پلٹ کرجانا دوزخ ہی میں ہے۔{۳۰}</p>
<p>(اے نبی  ؐ!)میرے جو بندے ایمان لائے ہیں اُن سے کہہ دو کہ نماز قائم کریں اور جو کچھ ہم نے اُن کو دیاہے اُس میں سے کھلے اور چُھپے (راہِ خیر میں ) خرچ کریں[41] قبل اِس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خرید و فروخت ہوگی اور نہ دوست نوازی ہوسکے گی۔[42]{۳۱}</p>
<p>اللہ وہی تو[43] ہے جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی برسایا ، پھر اس کے ذریعہ سے تمہاری رزق رسانی کے لیے طرح طرح کے پھل پیدا کئے۔ جس نے کشتی کو تمہارے لئے مسخر کیا کہ سمندر میں اس کے حکم سے چلے اور دریا ؤں کو تمہارے لیے مسخر کیا ۔{۳۲}</p>
<p>جس نے سُورج اور چاند کو تمہارے لئے مسخر کیا کہ لگاتار چلے جارہے ہیں اور رات اور دن کو تمہارے لئے مسخر کیا[44] {۳۳}</p>
<p>جس نے وہ سب کچھ تمہیں دیا جو تم  نے مانگا [45]اگر تم اللہ کی نعمتوں کاشمار کرنا چاہو تو نہیں کرسکتے ۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی بے انصاف اور ناشکرا ہے۔{ ۳۴}</p>
<p>  یادکرو وہ وقت جب ابراہیم ؑ نے دعا کی[46] تھی کہ: ’’ پروردگار ! اس شہر [47] ( یعنی مکہ ) کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا ۔{۳۵}</p>
<p>اے میرے پروردگار ! اِن بتوں نے بہتوں کو گمراہی میں ڈالا ہے[48] ( ممکن ہے کہ میری اولاد کو بھی یہ گمراہ کردیں، لہذا اُن میں سے ) جو میرے طریقے پر چلے وہ میرا ہے اور جو میرے خلاف طریقہ اختیار کرے تو یقینا تو درگزر کرنے والا مہربان ہے۔[49]{۳۶}</p>
<p> پروردگار ! میں نے ایک بے آب وگیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصہ کو تیرے محترم گھر کے پاس لابسایا ہے ۔ پروردگار! یہ میں نے اس لیے کیا ہے کہ یہ لوگ یہاں نماز قائم کریں ، لہٰذا تو لوگوں کے دِلوں کو ان کا مشتاق بنا اور انہیں کھانے کو پھل دے ،[50] شاید کہ یہ شُکر گزار بنیں۔ {۳۷}</p>
<p> پروردگار !تو جانتا ہے جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں‘‘[51]اور[52] واقعی اللہ سے کچھ بھی چھپا ہو انہیں ہے ، نہ زمین میں نہ آسمانوں میں ۔{۳۸}</p>
<p>’’شکر ہے اُس اللہ کا جس نے مجھے اِس بڑھاپے میں اسماعیل ؑ اور اسحاق  ؑ جیسے بیٹے دیئے۔ حقیقت یہ ہے کہ میرا رَبّ ضرور دُعا سنتا ہے۔ {۳۹}</p>
<p> اے میرے پروردگار !مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد سے بھی( ایسے لوگ اُٹھا جو یہ کام کریں) پروردگار ! میری دُعا قبول کر۔ {۴۰}</p>
<p> پروردگار ! مجھے اور میرے والدین کو اور سب ایمان لانے والوں کو اُس دن معاف کر دیجیو جبکہ حساب قائم ہوگا۔ ‘‘[53]{۴۱}</p>
<p>اب یہ ظالم لوگ جو کچھ کررہے ہیں ، اللہ کو تم اس سے غافل نہ سمجھو۔ اللہ تو انہیں ٹال رہا ہے اُس دن کے لیے جب حال یہ ہوگا کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ہیں{ ۴۲}</p>
<p> سراٹھائے بھاگے چلے جارہے ہیں ، نظریں اوپر جمی ہیں[54] اور دل اُڑے جاتے ہیں ۔{ ۴۳}</p>
<p>(اے نبی  ؐ  !) اُس دن سے تم انہیں ڈرادو جبکہ عذاب اِنہیں آلے گا ۔ اُس وقت یہ ظالم کہیں گے کہ ’’اے ہمارے رَبّ ، ہمیں تھوڑی سی مُہلت اور دیدے ، ہم تیری دعوت کو لبیک کہیں گے اور رسولوں کی پیروی کریں گے  ‘‘ ( مگر انہیں صاف جواب دیا جائے گا کہ )  کیا تم وہی لوگ نہیں ہو جو اِس سے پہلے قسمیں کھا کھاکرکہتے تھے ،  ہم پر تو کبھی زوال آنا ہی نہیں ہے ؟ {۴۴}</p>
<p> حالانکہ تم اُن قوموں کی بستیوں میں رہ بس چکے تھے جنہوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا تھااور دیکھ چکے تھے کہ ہم نے اُن سے کیا سلوک کیا اور اُن کی مثالیں دے دے کر ہم تمہیں سمجھا بھی چکے تھے ۔{۴۵}</p>
<p>اُنہوں نے اپنی ساری ہی چالیں چل دیکھیں ، مگر اُن کی ہر چال کا توڑ اللہ کے پاس تھا اگر چہ ان کی چالیں ایسی غضب کی تھیں کہ پہاڑ اُن سے ٹل جائیں‘‘۔  [55]{۴۶}</p>
<p> پس (اے نبی  ؐ!)  تم ہرگز یہ گمان نہ کرو کہ اللہ کبھی اپنے رسولوں سے کئے ہوئے وعدوں کے خلاف کرے[56] گا۔ اللہ زبردست ہے اور انتقام لینے والا ہے۔ {۴۷}</p>
<p> ڈرا ؤ اِنہیں اُس دن سے جب کہ زمین و آسمان بدل کرکچھ سے کچھ کردیے جائیں [57] گے اور سب کے سب اللہ واحد قہار کے سامنے بے نقاب حاضر ہوجائیں گے ۔{۴۸}</p>
<p> اُس روز تم مجرموں کو دیکھو گے کہ زنجیروں میں ہاتھ پا ؤں جکڑے ہوئے ہوں گے{۴۹}</p>
<p> تارکول [58]کے لباس پہنے ہوئے ہوں گے اور آگ کے شعلے ان کے چہروں پرچھائے جارہے ہوں گے۔ {۵۰}</p>
<p> یہ اس لیے ہوگا کہ اللہ ہر متنفس کو اس کے کئے کا بدلہ دے ۔ اللہ کو حساب لیتے کچھ دیرنہیں لگتی۔ {۵۱}</p>
<p> یہ ایک پیغام ہے سب انسانوں کے لیے ، اور یہ بھیجاگیا ہے اس لیے کہ اُن کو اِس کے ذریعے سے خبردار کردیا جائے اور وہ جان لیں کہ حقیقت میں اِلٰہ  تو بس ایک ہی ہے او رجو عقل رکھتے ہیں وہ ہوش میں آجائیں۔ { ۵۲}</p>

</div><div id="15"><p>سورۃالحجر </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔</p>
<p>ا لٰٓ ۔ یہ آیات ہیں کتاب الہٰی اور قرآن مبین کی [1] { ۱ }</p>
<p>بعید نہیں کہ ایک وقت وہ آجائے جب وہی لوگ جنہوں نے آج (دعوت اسلام کو قبول کرنے سے) انکار کردیا ہے ، پچھتا پچھتا کرکہیں گے کہ کاش ہم نے سرِتسلیم خم کردیا ہوتا۔{۲}</p>
<p> چھوڑو اِنہیں ،کھائیں پییں ، مزے کریں ، اور بھلاوے میں ڈالے رکھے اِن کو جھوٹی اُمید، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا۔{ ۳}</p>
<p> ہم نے اِس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لیے ایک خاص مہلت عمل لکھی جاچکی تھی۔[2]{۴}</p>
<p> کوئی قوم نہ اپنے وقت ِمقررسے پہلے ہلاک ہوسکتی ہے ، نہ اس کے بعد چھوٹ سکتی ہے۔{۵}</p>
<p>یہ لوگ کہتے ہیں ’’اے وہ شخص جس پر یہ ذکر [3] نازل ہوا ہے! [4] تو یقینا دیوانہ ہے {۶}</p>
<p> اگر تو سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتا ؟ ‘‘{۷}</p>
<p> ہم فرشتوں کو یوں ہی نہیں اُتار دیا کرتے۔ وہ جب اُترتے ہیں تو حق کے ساتھ اُترتے ہیں ، اور پھر لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی۔[5]{۸}</p>
<p> رہا یہ الذِّکْر (قرآن مجید) تو اِس کو ہم نے نازل کیا ہے اور ہم خود اِس کے نگہبان ہیں۔[6]{۹}</p>
<p>(اے نبی  ؐ!)ہم تم سے پہلے بہت سی گزری ہوئی قوموں میں رسول بھیج چکے ہیں۔ {۱۰}</p>
<p> کبھی ایسا نہیں ہو اکہ اُن کے پاس کوئی رسول آیا ہو اور اُنہوں نے اُس کا مذاق نہ اُڑا یا ہو۔ {۱۱}</p>
<p>مجرمین کے دلوں میں تو ہم اِس( الذِّکْر:قرآنی احکامات) کو اسی طرح (سلاخ کے مانند ) گزارتے ہیں، {۱۲}</p>
<p> وہ اس پر ایمان نہیں لایا کرتے ۔[7] قدیم سے اِس قماش کے لوگوں کا یہی طریقہ چلاآرہا ہے۔ {۱۳}</p>
<p> اگر ہم اُن پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیتے اور وہ دن دہاڑے اُس میں چڑھنے بھی لگتے{۱۴}</p>
<p> تب بھی وہ یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں کو دھوکا ہورہا ہے ، بلکہ ہم پر جادو کر دیا گیا ہے۔{۱۵}</p>
<p> یہ ہماری کار فرمائی ہے کہ آسمان میں ہم نے بہت سے مضبوط قلعے بنائے،[8] اُن کو دیکھنے والوں کے لیے (ستاروں سے ) آراستہ کیا [9]{۱۶}</p>
<p> اور ہر شیطان مردودسے اُن کو محفوظ کردیا[10]{۱۷}</p>
<p> کوئی شیطان اُن میں راہ نہیں پاسکتا ، اِلاّ یہ کہ کچھ سُن گُن لے لے۔[11]  اور جب وہ سُن گُن لینے کی کوشش کرتا ہے تو ایک شعلۂ روشن اُس کا پیچھا کرتا ہے۔ [12]{۱۸}</p>
<p>ہم نے زمین کو پھیلایا، اُس میں پہاڑجمائے ،اس میں ہر نوع کی نباتا ت ٹھیک ٹھیک نپی تُلی مقدار کے ساتھ اُگائی[13] {۱۹}</p>
<p>اور اس میں معیشت کے اسباب فراہم کئے ، تمہارے لئے بھی اوراُن بہت سی مخلوقات کے لیے بھی جن کے رازق تم نہیں ہو،{ ۲۰}</p>
<p>کوئی چیز ایسی نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں۔ اور جس چیز کو بھی ہم نازل کرتے ہیں ایک مقرر مقدار میں نازل کرتے ہیں[14]{۲۱}</p>
<p> بار آور ہوا ؤں کو ہم ہی بھیجتے ہیں ، پھر آسمان سے پانی برساتے ہیں ’ اور اس پانی سے تمہیں سیراب کرتے ہیں ۔ اس دولت کے خزانہ دار تم نہیں ہو ،{ ۲۲}</p>
<p> زندگی اور موت ہم دیتے ہیں، اور ہم ہی سب کے وارث ہونے والے ہیں،[15] {۲۳}</p>
<p> پہلے جو لوگ تم میں سے ہوگزرے ہیں اُن کو بھی ہم نے دیکھ رکھا ہے ، اور بعد کے آنے والے بھی ہماری نگاہ میں ہیں{۲۴}</p>
<p>یقینا تمہارا رب ان سب کو اکٹھا کرے گا ، وہ حکیم بھی ہے اور علیم بھی۔[16] {۲۵}</p>
<p>ہم نے انسان کو سٹری ہوئی مٹی کے سُوکھے گارے سے بنایا [17]{۲۶}</p>
<p> اور اُس سے پہلے جنوّں کو ہم آگ کی لپٹ سے پیدا کرچکے تھے۔[18]{۲۷}</p>
<p> پھریاد کرو اُس موقع کو جب تمہارے رَبّ نے فرشتوں سے کہا کہ ’’میں سٹری ہوئی مٹی کے سُوکھے گارے سے ایک بشر پیدا کر رہا ہوں۔{۲۸}</p>
<p>جب میں اسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح سے کچھ پُھونک دوں [19]تو تم سب اُس کے آگے سجدے میں گِرجانا‘‘۔{۲۹}</p>
<p> چنانچہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا {۳۰}</p>
<p>سوائے ابلیس کے کہ اُس نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ دینے سے انکار کردیا۔[20]{۳۱}</p>
<p> رَبّ نے پوچھا ’’ اے ابلیس !تجھے کیا ہوا کہ تونے سجدہ کرنے والو ں کا ساتھ نہ دیا؟‘‘ {۳۲}</p>
<p> اُس نے کہا ’’ میرا یہ کام نہیں ہے کہ میں اُس بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے سٹری ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے پیدا کیا ہے‘‘ ۔{۳۳}</p>
<p>رَبّ نے فرمایا’’ اچھا تو نکل جایہاں سے کیونکہ تومردود ہے{ ۳۴}</p>
<p>اور اب روزِ جزا تک تجھ پر لعنت ہے‘‘۔[21]{۳۵}</p>
<p>اُس نے عرض کیا ’’میرے رَبّ !یہ بات ہے تو پھر مجھے اُس روز تک کے لیے مہلت دے جب کہ سب انسان دوبارہ اٹھائے جائیں گے ‘‘{۳۶}</p>
<p> فرمایا،’’ اچھا، تجھے مہلت ہے{۳۷}</p>
<p>اُس دن تک جس کا وقت ہمیں معلوم ہے‘‘ ۔{۳۸}</p>
<p> وہ بولا ’’ میرے رَبّ! جیساتو نے مجھے بہکایا اُسی طرح اب میں زمین میںان کے لیے دل فریبیاں پیدا کرکے ان سب کو بہکادوں گا [22]{۳۹}</p>
<p> سوائے تیرے اُن بندوں کے جنہیں تونے ان میں سے خالص کرلیا ہو‘‘۔{۴۰}</p>
<p> فرمایا’’یہ راستہ ہے جو سیدھا مجھ تک پہنچتاہے [23]{۴۱}</p>
<p> بیشک جو میرے حقیقی بندے ہیں ان پر تیرا بس نہ چلے گا ۔ تیرا بس تو صرف اُن بہکے ہوئے لوگوں ہی پرچلے گا جو تیری پیروی کریں [24]{۴۲}</p>
<p>اور ان سب  کے لیے جہنم کی وعیدہے‘‘ ۔[25]{۴۳}</p>
<p> یہ جہنم (جس کی وعید پیروان ابلیس  کے لیے کی گئی ہے) اس کے سات دروازے ہیں ، ہر دروازے  کے لیے اُن میں سے ایک حصہ مخصوص کردیاگیاہے۔ [26]{۴۴}</p>
<p>( بخلاف اِس کے )متقی لوگ باغوں [27]اور چشموں میں ہوں گے{۴۵}</p>
<p>اور اُن سے کہا جائے گا کہ داخل ہوجا ؤ ان میں سلامتی کے ساتھ بے خوف وخطر۔{۴۶}</p>
<p>اُن کے دلوں میں جو تھوڑی بہت کھوٹ کپٹ ہوگی اسے ہم نکال دیں گے ،[28] وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے تختوں پربیٹھیں گے۔{۴۷}</p>
<p> انہیں نہ وہاں کسی مشقّت سے پالا پڑے گا اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔[29]{۴۸}</p>
<p>اے نبی  ؐ!میر ے بندوں کو خبردے دو کہ میں بہت درگزر کرنے والا اور رحیم ہوں۔ {۴۹}</p>
<p> مگر اِس کے ساتھ میرا عذاب بھی نہایت دردناک عذاب ہے۔ {۵۰}</p>
<p>اور اِنہیں ذرا ابراہیم  ؑ کے مہمانوں کا قصہ سنا ؤ[30]{۵۱}</p>
<p> جب وہ آئے اس کے ہاں اور کہا’’ سلام ہوتم پر‘‘ تو اُس نے کہا ’’ ہمیں تم سے ڈرلگتا ہے۔‘‘[31]{۵۲}</p>
<p>انہوں نے جواب دیا ’’ ڈرو نہیں، ‘‘ ہم تمہیں ایک بڑے سیانے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں‘‘۔[32] {۵۳}</p>
<p> ابراہیم ؑ نے کہا ’’ کیا تم اس بڑھاپے میں مجھے اولاد کی بشارت دیتے ہو؟ ذراسو چوتوسہی کہ یہ کیسی بشارت تم مجھے دے رہے ہو ‘‘۔{۵۴}</p>
<p>انہوں نے جواب دیا : ’’ ہم تمہیں برحق بشارت دے رہے ہیں ، تم مایوس نہ ہو‘‘{۵۵}</p>
<p> ابراہیم  ؑنے کہا ’’ اپنے رَبّ کی رحمت سے مایوس تو گمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں ‘‘{۵۶}</p>
<p> پھر ابراہیم ؑ نے پوچھا ’’ اے فرستادگانِ الہٰیـ !وہ مہم کیا ہے جس پر آپ حضرات تشریف لائے ہیں؟[33]{۵۷}</p>
<p> وہ بولے ’’ ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں ۔[34]{۵۸}</p>
<p>صرف لوط ؑ کے گھروالے مستثنیٰ ہیں ، اُن سب کو ہم بچالیں گے ۔{۵۹}</p>
<p> سوائے اُس کی بیوی کے جس  کے لیے ( اللہ فرماتا ہے کہ ) ہم نے  مقّدر کردیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں شامل رہے گی‘‘{۶۰}</p>
<p>پھر جب یہ فرستادے لوطؑ کے ہاں پہنچے[35]{۶۱}</p>
<p> تو اُس نے کہا ’’ آپ لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہیں‘‘[36] {۶۲}</p>
<p> انہوں نے جواب دیا ’’ نہیں ، بلکہ ہم وہی چیزلے کر آئے ہیں جس کے آنے میں یہ لوگ شک کررہے تھے {۶۳}</p>
<p>ہم تم سے سچ کہتے ہیں کہ ہم حق کے ساتھ تمہارے پاس آئے ہیں{۶۴}</p>
<p>لہٰذا اب تم کچھ رات رہے اپنے گھروالوں کو لے کر نکل جا ؤ اور خود انکے پیچھے پیچھے چلو،[37] تم میں سے کوئی پلٹ کرنہ دیکھے،[38] بس سیدھے چلے جا ؤ جد ھر جانے کا تمہیں حکم دیا جارہا ہے ۔‘‘{۶۵}</p>
<p>اور اُسے ہم نے اپنا یہ فیصلہ پہنچادیا صبح ہوتے ہوتے ان لوگوں کی جڑکاٹ دی جائے گی{۶۶}</p>
<p> اِتنے میں شہر کے لوگ خوشی کے مارے بے تاب ہوکر لوطؑ کے گھر چڑھ آئے[39]{۶۷}</p>
<p> لوطؑ نے کہا ’’بھائیو، یہ میرے مہمان ہیں ، میری فضیحت نہ کرو{۶۸}</p>
<p> اللہ سے ڈرو ، مجھے رُسوانہ کرو ‘‘ {۶۹}</p>
<p>وہ بولے ’’کیا ہم بارہا تمہیں منع نہیں کرچکے ہیں کہ دنیا بھر کے ٹھیکہ دارنہ بنو ‘‘ {۷۰}</p>
<p> لوط ؑ نے ( عاجز ہوکر ) کہا ’’ اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے تو یہ میری بیٹیاں موجود ہیں!‘‘ [40] {۷۱}</p>
<p>تیری جان کی قسم اے نبی  ؐ!اُس وقت اُن پر ایک نشہ سا چڑھا ہوا تھا جس میں وہ آپے سے باہر ہوئے جاتے تھے۔ { ۷۲}</p>
<p> آخر کار پوپھٹتے ہی اُن کو ایک زبردست دھماکے نے آلیا{۷۳}</p>
<p> اور ہم نے اُس بستی کو تَل پَٹ کرکے رکھ دیا اور ان پرپکی ہوئی مٹی کے پتھروں کی بارش برسادی۔[41] {۷۴}</p>
<p>اس واقعے میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو صاحبِ فراست ہیں۔{۷۵}</p>
<p> اور وہ علاقہ (جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا) گزرگاہ عام پر واقع ہے [42] {۷۶}</p>
<p>اس میں سامان ِعبرت ہے اُن لوگوں کے لیے جو صاحب ایمان ہیں۔{۷۷}</p>
<p>اور اَیکہ[43]والے (بھی یقینا)ظالم تھے {۷۸}</p>
<p> تو دیکھ لو کہ ہم نے بھی اُن سے انتقام لیا ، اور اِن دونوں قوموں کے اجڑے ہوئے علاقے کُھلے راستے پر واقع ہیں۔[44] {۷۹}</p>
<p>حجر [45]کے لوگ بھی رسولوں کی تکذیب کرچکے ہیں۔{۸۰}</p>
<p> ہم نے اپنی آیات ان کے پاس بھیجیں ، اپنی نشانیاں اُن کو دکھائیں ، مگر وہ سب کو نظر اندازہی کرتے رہے ۔{۸۱}</p>
<p> وہ پہاڑ تراش تراش کرمکان بناتے تھے اور اپنی جگہ بالکل بے خوف اور مطمئن تھے ۔{ ۸۲}</p>
<p>آخر کار ایک زبردست دھماکے نے اُن کو صبح ہوتے آلیا{ ۸۳}</p>
<p>اور ان کی کمائی ان کے کچھ کام نہ آئی۔[46]{ ۸۴}</p>
<p>ہم نے زمین اور آسمانوں کو اور ان کی سب موجودات کو حق کے سوا کسی اور بنیاد پر خلق نہیں کیا،[47] اور فیصلے کی گھڑی یقینا آنے والی ہے ، پس (اے نبی  ؐ) !تم (ان لوگوں کی بیہودگیوں پر) شریفانہ درگزر سے کام لو۔ {۸۵}</p>
<p>یقینا تمہارا رَبّ سب کا خالق ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔ [48]{۸۶}</p>
<p>اور یقینا ( اے نبی  ؐ! )ہم نے تم کو سات ایسی آیتیں دے رکھی ہیں جو بار بار دہرائی جانے کے لائق ہیں ، [49] اور تمہیں قرآن عظیم عطا کیا ہے۔[50]{۸۷}</p>
<p> تم اُس متاع ِدنیا کی طرف آنکھ اٹھا کرنہ دیکھو جو ہم نے ان میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے ، اور نہ ان کے حال پر اپنا دل کڑھا ؤ۔[51]انہیں چھوڑ کر ایمان لانے والوں کی طرف جھکو{۸۸}</p>
<p>اور ( نہ ماننے والوں سے ) کہہ دو کہ ’’ میں تو صاف صاف تنبیہ کرنے والا ہوں۔‘‘ {۸۹}</p>
<p> یہ اُ سی طرح کی تنبیہ ہے جیسی ہم نے اُن تفرقہ پر دازوں کی طرف بھیجی تھی{۹۰}</p>
<p> جنہوں نے اپنے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کرڈالا ہے۔ [52]{۹۱}</p>
<p> تو قسم ہے تیرے رَبّ کی ، ہم ضرورا ن سب سے پوچھیں گے { ۹۲}</p>
<p>کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔{ ۹۳}</p>
<p>پس (اے نبی  ؐ!)جس چیز کا تمہیں حکم دیا جا رہا ہے اُسے ہانکے پکار ے کہہ دو اور شرک کرنے والوں کی ذرا پروانہ کرو۔{ ۹۴}</p>
<p>تمہاری طرف سے ہم اُن مذاق اُڑانے والوں کی خبرلینے  کے لیے کافی ہیں {۹۵}</p>
<p>جواللہ کے ساتھ کسی اور کو بھی اِلٰہ قرار دیتے ہیں، عنقریب  انہیں معلوم ہوجائے گا۔{۹۶}</p>
<p>ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ تم پر بناتے ہیں ان سے تمہارے دل کو سخت کوفت ہوتی ہے{۹۷}</p>
<p> ( اس کا علاج یہ ہے کہ ) اپنے رَبّ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو، اس کی جناب میں سجدہ بجالا ؤ {۹۸}</p>
<p>اور اُس آخری گھڑی تک اپنے رَبّ کی بندگی کرتے رہو جس کا آنا یقینی ہے۔[53]{۹۹}</p>

</div><div id="16"><p>سورۃالنحل </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔</p>
<p>آگیا اللہ کا فیصلہ [1]، اب اس کے لیے جلدی نہ مچا ؤ ۔پاک ہے وہ اور بالاوبر تر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔[2]{۱}</p>
<p> وہ اس روح [4]کو اپنے جس بندے پر چاہتا ہے اپنے حکم سے ملائکہ کے ذریعے نازل فرمادیتا ہے( اِس ہدایت کے ساتھ کہ لوگوں کو )’’ آگاہ کردو ، میرے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں ہے، لہٰذا تم مجھ ہی سے ڈرو‘‘ ۔[5] {۲}</p>
<p> اس نے آسمانوں و زمین کو برحق پیدا کیا ہے، وہ بہت بالاوبر ترہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں[6]{۳}</p>
<p>اُس نے انسان کو ایک ذراسی بُوند سے پیدا کیا اور دیکھتے دیکھتے صریحاً وہ ایک جھگڑالوہستی بن گیا۔ [7]{۴}</p>
<p>اس نے جانو ر پیدا کئے جن میں تمہارے لیے پوشاک بھی ہے اور خوراک بھی ، اور طرح طرح کے دوسرے فائدے بھی۔{۵}</p>
<p>اُن میں تمہارے لئے جمال ہے جب کہ صبح تم انہیں چرنے  کے لیے بھیجتے ہو اور جب کہ شام انہیں واپس لاتے ہو۔{۶}</p>
<p>وہ تمہارے لئے بوجھ ڈھو کر ایسے ایسے مقامات تک لے جاتے ہیں جہاں تم سخت جانفشانی کے بغیر نہیں پہنچ سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رَبّ بڑا ہی شفیق اور مہربان ہے۔{۷}</p>
<p> اس نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا کئے تا کہ تم ان پر سوار ہو، اور وہ تمہاری زندگی کی رونق بنیں ۔ وہ اور بہت سی چیزیں (تمہارے فائدے کے لیے )  پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم تک نہیں ہے۔[8] {۸}</p>
<p>اور اللہ ہی کے ذمہ ہے سیدھاراستہ بتانا جب کہ راستے ٹیڑھے بھی موجود ہیں ۔[9] اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا۔ [10]{۹}</p>
<p>وہی ہے جس نے آسمان سے تمہارے لئے پانی برسایا۔ جس سے تم خود بھی سیراب ہوتے ہو اور تمہارے جانوروں کے لیے بھی چارہ پیدا ہوتا ہے۔ {۱۰}</p>
<p>وہ اس پانی کے ذریعے سے کھیتیاں اُگاتا ہے اور زیتون اور کھجور اور انگور اور طرح طرح کے دُوسرے پھل پیدا کرتا ہے۔ اِس میں ایک بڑی نشانی ہے اُن لوگوں کے لیے جو غور وفکر کرتے ہیں۔{۱۱}</p>
<p>  اُس نے تمہار ی بھلائی  کے لیے رات اور دن کو اور سُورج اور چاند کو مسخر کررکھا ہے اور سب تارے بھی اُسی کے حکم سے مسخر ہیں۔ اِس میں بہت نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔{ ۱۲}</p>
<p>اور یہ جو بہت سی رنگ برنگ کی چیزیں اُس نے تمہارے لئے زمین میں پیدا کررکھی ہیں ، اِن میں بھی ضرور نشانی ہے اُن لوگوں کے لیے جو سبق حاصل کرنے والے ہیں۔{۱۳}</p>
<p>وہی ہے جس نے تمہارے لئے سمندر کو مسخر کررکھا ہے تا کہ تم اس سے ترو تازہ گوشت لے کر کھا ؤ اور اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو۔ تم دیکھتے ہوکہ کشتی سمندر کا سینہ چیرتی ہوئی چلتی ہے۔یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ تم اپنے رَبّ کا فضل تلاش کرو [11]اور اس کے شکر گزار بنو۔{ ۱۴}</p>
<p>اُس نے زمین میں پہاڑوں کی میخیں گاڑدیں تا کہ زمین تم کو لے کر ڈُھلک نہ جائے۔[12] اس نے دریا جاری کئے اور قدرتی راستے [13]بنائے تا کہ تم ہدایت پا ؤ۔{۱۵}</p>
<p> اُس نے زمین میں راستہ بتانے والی علامتیں رکھ دیں [14]، اور تاروں سے بھی لوگ ہدایت پاتے ہیں۔[15] {۱۶}</p>
<p> پھر کیا وہ جو پیدا کرتا ہے اور وہ جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے ، دونوں یکساں ہیں؟[16] کیا تم ہوش میں نہیں آتے ؟ {۱۷}</p>
<p>اگر تُم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو گِن نہیں سکتے ، حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ہی درگزر کرنے والا اور رحیم ہے[17] {۱۸}</p>
<p>حالانکہ وہ تمہارے کُھلے سے بھی واقف ہے اور چُھپے سے بھی۔[18]{۱۹}</p>
<p>اور وہ دوسری ہستیاںجنہیں اللہ کو چھوڑ کر لوگ پکارتے ہیں ، وہ کسی چیز کے بھی خالق نہیں ہیں ، بلکہ خود مخلوق ہیں۔{۲۰}</p>
<p> مُردہ ہیں نہ کہ زندہ۔ اور ان کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ انہیں کب (دوبارہ زندہ کرکے) اُٹھایا جائے گا۔  [19]{۲۱}</p>
<p> تمہارا  اِلٰہ  توبس ایک ہی اِلٰہ ہے ۔ مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے اُن کے دلوں میں انکار بس کررہ گیا ہے اور وہ گھمنڈ میں پڑگئے ہیں۔[20]{ ۲۲}</p>
<p>اللہ یقینا اِن کے سب کر توت جانتا ہے ، چُھپے ہوئے بھی اور کُھلے ہوئے بھی ۔ وہ اُن لوگوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا جو غرورِ نفس میں مُبتلا ہوں۔[21]{ ۲۳}</p>
<p>اور جب کوئی اُن سے پوچھتا ہے کہ تمہارے رَبّ نے یہ کیا چیز ناز ل کی ہے تو کہتے ہیں ’’ اجی وہ تو اگلے وقتوں کی فرسودہ کہا نیاں ہیں‘‘۔[22]{۲۴}</p>
<p> یہ باتیں وہ اس لیے کرتے ہیں کہ قیامت کے روز اپنے بوجھ بھی پورے اٹھائیں ، اور ساتھ ساتھ کچھ اُن لوگوں کے بوجھ بھی سمیٹیں جنہیں یہ بربنائے جہالت گمراہ کررہے ہیں۔ دیکھو ! کیسی سخت ذمہ داری ہے جو یہ اپنے سرلے رہے ہیں۔{۲۵}</p>
<p>ان سے پہلے بھی بہت سے لوگ (حق کو نیچا د کھانے کے لیے )  ایسی ہی مَکّاریاں کرچکے ہیں، تو دیکھ لو کہ اللہ نے اُن کے مکر کی عمارت جڑسے اُکھاڑپھینکی اور اُس کی چھت اُوپر سے ان کے سر پرآرہی اور ایسے رُخ سے اُن پر عذاب آیا، جِدھرسے اُس کے آنے کا اُن کو گمان تک نہ تھا ۔{۲۶}</p>
<p>پھر قیامت کے روز اللہ اُنہیں ذلیل و خوار کرے گا اور اُن سے کہے گا ’’ بتا ؤ اب کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کے لیے تُم ( اہل حق سے ) جھگڑے کیا کرتے تھے‘‘؟[23] جن لوگوں کو دنیا میں عِلم حاصل تھا وہ کہیں گے ’’آج رسوائی اور بدبختی ہے کافروں کے لیے۔ ‘‘ {۲۷}</p>
<p>ہاں[24] اُنہی کافروں کے لیے جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہوئے جب ملائکہ کے ہاتھوں گرفتار ہوتے ہیں [25]تو (سرکشی چھوڑ کر ) فوراً ڈگیں ڈال دیتے ہیں اور کہتے ہیں ، ’’ہم تو کوئی قصور نہیں کررہے تھے۔ ‘‘ ملائکہ جواب دیتے ہیں۔ ’’ کرکیسے نہیں رہے تھے ! اللہ تمہارے کرتوتوں سے خوب واقف ہے ۔{۲۸}</p>
<p> اب جا ؤ، جہنّم کے دروازوں میں گُھس جا ؤ۔ وہیں تم کو ہمیشہ رہنا ہے‘‘ ۔[26]پس حقیقت یہ ہے کہ بڑا ہی بُراٹھکانا ہے متکبّروں کے لیے ۔{۲۹}</p>
<p>دوسری طرف جب متقی لوگوں سے پوچھا جاتا ہے کہ یہ کیا چیز ہے جو تمہارے رَبّ کی طرف سے نازل ہوئی ہے ، تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ’’ بہتر ین چیز اُتری ہے ۔ ‘‘[27] اِس طرح کے نیکو کار لوگوں کے لیے اِس دنیا میں بھی بھلائی ہے اور آخرت کا گھر تو ضرور ہی ان کے حق میں بہتر ہے ۔ بڑا اچھا گھر ہے متقیوں کا {۳۰}</p>
<p> دائمی قیام کی جنّتیں ، جن میں وہ داخل ہوں گے ، نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور سب کچھ وہاں عین اُن کی خواہش کے مطابق ہوگا۔[28] یہ جزادیتا ہے اللہ متقیوں کو۔ {۳۱}</p>
<p> اُن متقیوں کو جن کی رُوحیں پاکیزگی کی حالت میں جب ملائکہ قبض کرتے ہیں توکہتے ہیں ’’ سلام ہوتم پر ، جا ؤ جنّت میں اپنے اعمال کے بدلے‘‘۔ {۳۲}</p>
<p>  ( اے نبی  ؐ!) اب جو یہ لوگ انتظار کررہے ہیں تو اِس کے سوا اب اور کیا باقی رہ گیا ہے کہ ملائکہ ہی آپہنچیں، یا تیرے رَبّ کا فیصلہ صادر ہوجائے ؟[29] اِسی طرح کی ڈھٹائی اِن سے پہلے بہت سے لوگ کر چکے ہیں،پھر جو کچھ اُن کے ساتھ ہو ا وہ اُن پر اللہ کا ظُلم نہ تھا بلکہ اُن کا اپنا ظُلم تھا جو انہوں نے خود اپنے اوپر کیا۔{۳۳}</p>
<p>اُن کے کرتوتوں کی خرابیاں آخر کار اُن کی دامن گیر ہوگئیں اور وہی چیزاُن پر مُسلّط ہو کررہی جس کا وہ مذاق اُڑایا کرتے تھے۔{ ۳۴}</p>
<p>یہ مشرکین کہتے ہیں۔ ’’ اگر اللہ چاہتا  تو نہ ہم اور نہ ہمارے باپ دادا اُس کے سوا کسی اور کی عبادت کرتے اور نہ اس کے حکم کے بغیر کسی چیز کو حرام ٹھہراتے۔ ‘‘[30]ایسے ہی بہا نے اِن سے پہلے کے لوگ بھی بناتے رہے ہیں ۔ [31]تو کیا رسُولوں پر صاف صاف بات پہنچادینے کے سوا اور بھی کوئی ذمہ داری ہے؟ {۳۵}</p>
<p> ہم نے ہراُمّت میں ایک رسُول بھیج دیا، اور اس کے ذریعہ سے سب کو خبردار کردیا کہ ’’ اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو‘‘ ۔[32]اس کے بعد ان میں سے کسی کو اللہ نے ہدایت بخشی اور کسی پر ضلالت مسلّط ہوگئی۔[33] پھر ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوچکا ہے۔[34] {۳۶}</p>
<p>اے نبی  ؐ!  تم چاہے ان کی ہدایت کے لیے کتنے ہی حریص ہو ، مگر اللہ جس کو بھٹکا دیتا ہے پھر اسے ہدایت نہیں دیا کرتا اور اس طرح کے لوگوں کی مدد کوئی نہیں کرسکتا ۔{۳۷}</p>
<p>یہ لوگ اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ ’’ اللہ کسی مرنے والے کو پھر سے زندہ کرکے نہ اٹھائے گا‘‘۔ اٹھائے گاکیوں نہیں؟ یہ تو ایک وعدہ ہے جسے پورا کرنا اس نے اپنے اوپر واجب کرلیا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔{۳۸}</p>
<p> اور ایسا ہونا اس لیے ضروری ہے کہ اللہ ان کے سامنے اس حقیقت کو کھول دے جس کے بارے میں یہ اختلاف کررہے ہیں۔ اور منکرین حق کو معلوم ہوجائے کہ وہ جھوٹے تھے۔[35]{۳۹}</p>
<p>( رہا اُس کا امکان ، تو ) ہمیں کسی چیز کو وجود میں لانے  کے لیے اس سے زیادہ کچھ کرنا نہیں ہوتا کہ اسے حکم دیں’’ ہوجا‘‘ اور بس وہ ہوجاتی ہے۔ [36]{۴۰}</p>
<p>جو لوگ ظلم سہنے کے بعد اللہ کی خاطر ہجرت کرگئے ہیں ان کو ہم دنیا ہی میں اچھا ٹھکانا دیں گے اور آخرت کا اجر تو بہت بڑا ہے ۔  [37]کاش جان لیں {۴۱}</p>
<p>وہ مظلوم جنہوں نے صبر کیا ہے اور جو اپنے رَبّ کے بھروسے پر کام کررہے ہیں ( کہ کیسا اچھا انجام اُن کا منتظر ہے۔){۴۲}</p>
<p>اے نبی  ؐ !ہم نے تم سے پہلے بھی جب کبھی رسُول بھیجے ہیں آدمی  ہی بھیجے ہیں جن کی طرف ہم اپنے پیغامات وحی کیا کرتے تھے۔[38] اہل ذِکر [39]سے پُوچھ لو اگر تم لوگ خود نہیں جانتے ۔{۴۳}</p>
<p>پچھلے رسُولوں کو بھی ہم نے روشن نشانیاں اور کتابیں دے کر بھیجا تھا ، اور اب یہ ذکر تم پر نازل کیا ہے تا کہ تم لوگوں کے سامنے اُس تعلیم کی تشریح و توضیح کرتے جا ؤ جو اُن  کے لیے اُتاری گئی ہے،[40]اور تا کہ لوگ (خود بھی) غور وفکر کریں۔{۴۴}</p>
<p>پھر کیا وہ لوگ جو (دعوت پیغمبر کی مخالفت میں ) بدتر سے بدتر چالیں چل رہے ہیں اِس بات سے بالکل ہی بے خوف ہوگئے ہیں کہ اللہ اُن کو زمین میں دھنسادے ، یا ایسے گوشے سے ان پر عذاب لے آئے جدھر سے اس کے آنے کا ان کو وہم وگمان تک نہ ہو{۴۵}</p>
<p>یا اچانک چلتے پھرتے ان کو پکڑلے( وہ جو کچھ بھی کرنا چاہے وہ کر گزرتا ہے)یہ لوگ اُس کو عاجز کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ {۴۶}</p>
<p> یا ایسی حالت میں انہیں پکڑے جبکہ انہیں خود آنے والی مصیبت کا کھٹکالگا ہواہو اور وہ اس سے بچنے کی فکر میں چوکنّے ہوں؟ حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رَبّ بڑا ہی نرم خُو اور رحیم ہے۔ {۴۷}</p>
<p>اور کیا یہ لوگ اللہ کی پیدا کی ہوئی کسی چیز کو بھی نہیں دیکھتے کہ اس کا سایہ کس طرح اللہ کے حضور سجدہ کرتے ہوئے دائیں اور بائیں گرتا ہے ؟[41] سب کے سب اِس طرح اظہارِ عجز کررہے ہیں ۔{۴۸}</p>
<p> زمین اور آسمانوں میں جس قدرجان دار مخلوقات ہیں اور جتنے ملائکہ ، سب اللہ کے آگے سربسجودہیں ۔ [42]وہ ہرگزسرکشی نہیں کرتے{۴۹}</p>
<p> اپنے رَبّ سے جو اُن کے اُوپر ہے ، ڈرتے ہیں اور جو کچھ حکم دیا جاتا ہے اسی کے مطابق کام کرتے ہیں۔{۵۰}</p>
<p>  اللہ کافرمان ہے ’’ دو  اِلٰہ  نہ بنالو [43] اِلہٰ  تو بس ایک ہی ہے لہٰذاتم مجھ ہی سے ڈرو ‘‘۔ {۵۱}</p>
<p>اُسی کا ہے وہ سب کچھ جو آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے ، اور خالصًا اُسی کا دین ( ساری کائنات میں ) چل رہا ہے۔[44] پھر کیا اللہ کو چھوڑ کر تم کسی اور سے تقویٰ کرو گے ؟[45]{۵۲}</p>
<p> تم کو جو نعمت بھی حاصل ہے ،اللہ ہی کی طرف سے ہے ۔پھر جب کوئی سخت وقت تُم پرآتا ہے تو تم لوگ خود اپنی فریادیں لے کر اُسی کی طرف دوڑتے ہو۔[46]{ ۵۳}</p>
<p> مگر جب اللہ اُس وقت کو ٹال دیتا ہے تویکا یک تم میں سے ایک گروہ اپنے رَبّ کے ساتھ دوسروں کو ( اس مہربانی کے شکریے میں ) شریک کرنے لگتا ہے [47]{ ۵۴}</p>
<p>تا کہ اللہ کے احسان کی ناشکری کرے۔ اچھا ،مزے کرلو ،عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا۔ {۵۵}</p>
<p>یہ لوگ جن کی حقیقت سے واقف نہیں ہیں [48]اُن کے حصے ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے مقرر کرتے ہیں۔[49] اللہ کی قسم! ضرور تم سے پوچھا جائے گا کہ یہ جھوٹ تم نے کیسے گھڑلئے تھے؟{۵۶}</p>
<p>یہ اللہ  کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں[50] سبحان اللہ ! اور اِن کے لیے وہ جو یہ خود چاہیں؟[51]{۵۷}</p>
<p>جب اِن میں سے کسی کو بیٹی کے پیدا ہونے کی خوش خبری دی جاتی ہے تو اُس کے چہرے پر کَلْونْس چھاجاتی ہے اور وہ بس خون کا ساگھونٹ پی کر رہ جاتا ہے۔{۵۸}</p>
<p>لوگوں سے چُھپتا پھرتا ہے کہ اِس بُری خبر کے بعد کیا کسی کو منہ دکھائے ۔ سوچتا ہے کہ ذلت کے ساتھ بیٹی کو لیے رہے یا مٹی میں دبادے ؟ دیکھو کیسے بُرے حکم ہیں جو یہ اللہ کے بارے میں لگاتے ہیں ۔[52] {۵۹}</p>
<p> بُری صفات سے متصف کئے جانے کے لائق تو وہ لوگ ہیں جو آخرت کا یقین نہیں رکھتے ۔ رہااللہ تو اس کے لیے سب سے برتر صفات ہیں، وہی تو سب پر غالب اور حکمت میں کامل ہے۔{۶۰}</p>
<p>اگر کہیں اللہ لوگوں کو ان کی زیادتی پر فوراً ہی پکڑلیا کرتا تورُوئے زمین پر کسی متنفس کو نہ چھوڑتا، لیکن وہ سب کو ایک وقت ِمقرر تک مہلت دیتا ہے ، پھر جب وہ وقت آجاتا ہے تو اس سے کوئی ایک گھڑی بھر بھی آگے پیچھے نہیں ہوسکتا، {۶۱}</p>
<p> آج یہ لوگ وہ چیزیں اللہ  کے لیے تجویز کررہے ہیں جو خود اپنے لئے اِنہیں ناپسند ہیں ، اورجھوٹ کہتی ہیں ان کی زبانیں کہ ان  کے لیے بھلاہی بھلا ہے ۔ ان  کے لیے تو ایک ہی چیز ہے ، اور وہ ہے دوزخ کی آگ۔ ضروریہ سب سے پہلے اس میں پہنچائے جائیں گے۔{ ۶۲}</p>
<p>اللہ کی قسم ! (اے نبی  ؐ!)تم سے پہلے بھی بہت سی قوموں میں ہم رسُول بھیج چکے ہیں ( اور پہلے بھی یہی ہوتا رہا ہے کہ ) شیطان نے اُن کے بُرے کرتوت انہیں خوشنما بناکر دکھائے ( اور رسولوں کی بات انہوں نے مان کر نہ دی )۔ وہی شیطان آج اِن لوگوں کا بھی سرپرست بناہوا ہے اور یہ درد ناک سزا کے مستحق بن رہے ہیں۔{ ۶۳}</p>
<p> ہم نے یہ کتاب تم پر اس لیے نازل کی ہے کہ تم اُن اختلافات کی حقیقت ان پر کھول دوجن میں یہ پڑے ہوئے ہیں۔یہ کتاب رہنمائی اور رحمت بن کر اُتری ہے اُن لوگوں  کے لیے جو اسے مان لیں۔[53]{ ۶۴}</p>
<p>(تم ہر برسات میں دیکھتے ہو کہ ) اللہ نے آسمان سے پانی برسایا اور یکایک مُردہ پڑی ہوئی زمین میں اس کی بدولت جان ڈال دی۔  یقینا اس  میں ایک نشانی ہے سننے والوں کے لیے[53a] {۶۵}</p>
<p>اور تمہارے لئے مویشیوں میں بھی ایک سبق موجود ہے ۔اُن کے پیٹ سے گوبر اور خون کے درمیان ہم ایک چیز تمہیں پلاتے ہیں ، یعنی خالص دودھ [54]، جو پینے والوں کے لیے نہایت خوشگوار ہے۔{۶۶}</p>
<p>( اِسی طرح) کھجور کے درختوں اور انگور کی بیلوں سے بھی ہم ایک چیز تمہیں پلاتے ہیں جسے تم نشہ آور بھی بنالیتے ہو اور پاک رزق بھی۔[55]یقینا اس میں ایک نشانی ہے عقل سے کام لینے والوں  کے لیے۔ {۶۷}</p>
<p>اور دیکھو ، تمہارے رَبّ نے شہد کی مکھی پر یہ بات وحی کردی  [56]کہ پہاڑوں میں ، اور درختوں میں، اور ٹٹیوں پر چڑھائی ہوئی بیلوں میں ، اپنے چھتیّ بنا {۶۸}</p>
<p>اور ہر طرح کے پھلوں کا رس چوس ، اور اپنے رَبّ کی ہموار کی ہوئی راہوں پر چلتی رہ ۔[57] اس مکھی کے اندر سے رنگ برنگ کا ایک شربت نکلتا ہے جس میں شفا ہے لوگوں کے لیے [58]یقینا اس میں بھی ایک نشانی ہے اُن لوگوں کے لیے جو غوروفکر کرتے ہیں[59]{۶۹}</p>
<p>اور دیکھو ، اللہ نے تم کو پیدا کیا ، پھر وہ تم کو موت دیتا ہے ،[60] اور تم میں سے کوئی بدترین عمر کو پہنچا دیا جاتا ہے تا کہ سب کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانے۔[61] حق یہ ہے کہ اللہ ہی علم میں بھی کامل ہے اور قدرت میں بھی۔ {۷۰}</p>
<p> اور دیکھو ، اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت عطا کی ہے ۔پھر جن لوگوں کو یہ فضیلت دی گئی ہے وہ ایسے نہیں ہیں کہ اپنا رزق اپنے غلاموں کی طرف پھیردیا کرتے ہوں تا کہ دونوں اس رزق میں برابر کے حصہ داربن جائیں ۔ تو کیا اللہ ہی کا احسان ماننے سے ان لوگوں کو اِنکار ہے؟ [62]{۷۱}</p>
<p> اور وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے تمہاری ہم جنس بیویاں بنائیں اور اُسی نے ان بیویوں سے تمہیں بیٹے پوتے عطا کئے اور اچھی اچھی چیز یں تمہیں کھانے کو دیں ۔ پھر کیا یہ لوگ ( یہ سب کچھ دیکھتے اور جانتے ہوئے بھی) باطل کو مانتے ہیں [63]اور اللہ کے احسان کا انکار کرتے ہیں ۔[64]{ ۷۲}</p>
<p>اور اللہ کو چھوڑ کراُ ن کو پوجتے ہیں جن کے ہاتھ میں نہ آسمانوں سے انہیں کچھ بھی رزق دیناہے نہ زمین سے اور نہ یہ کام وہ کرہی سکتے ہیں؟ {۷۳}</p>
<p>پس اللہ  کے لیے مثالیں نہ گھڑو۔ [65]اللہ جانتا ہے ، تم نہیں جانتے۔{ ۷۴}</p>
<p>اللہ ایک مثال دیتا ہے ۔[66] ایک تو ہے غلام ، جو دُوسرے کا مملوک ہے اور خود کوئی اختیار نہیں رکھتا ۔ دوسرا شخص ایسا ہے جسے ہم نے اپنی طرف سے اچھا رزق عطا کیا ہے اور وہ اُس میں سے کُھلے اور چُھپے خوب خرچ کرتا ہے ۔ بتا ؤ کیا یہ دونوں برابر ہیں ؟ الحمد للہ،[67] مگر اکثر لوگ ( اس سیدھی بات کو ) نہیں جانتے۔[68]{۷۵}</p>
<p>اللہ ایک اور مثال دیتا ہے ۔ دو آدمی ہیں ایک گونگا بہرا ہے، کوئی کام نہیں کرسکتا ، اپنے آقا پر بوجھ بنا ہو ا ہے، جدھربھی وہ اسے بھیجے کوئی بھلا کام اُس سے بن نہ آئے ۔ دُوسرا شخص ایسا ہے کہ انصاف کا حکم دیتا ہے اور خودراہِ راست پر قائم ہے۔ بتا ؤ کیا یہ دونوں یکساں ہیں ؟[69] {۷۶}</p>
<p>اور زمین و آسمان کے پوشید ہ حقائق کا علم تو اللہ ہی کو ہے ۔[70] اور قیامت  کے برپا ہونے کا معاملہ کچھ دیرنہ لے گا مگر بس اتنی کہ جس میں آدمی کی پلک جھپک جائے ، بلکہ اِس سے بھی کچھ [71]کم۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے۔{۷۷}</p>
<p>اللہ نے تم کو تمہاری ما ؤں کے پیٹوں سے نکالا اُس حالت میں کہ تم کچھ نہ جانتے تھے ۔اُس نے تمہیں کان دیے ، آنکھیں دیں اور سوچنے والے دل دیے ،[72] اِس لیے کہ تم شکرگزاربنو ۔[73]{۷۸}</p>
<p> کیا اِن لوگوں نے کبھی پرندوں کو نہیں دیکھا کہ فضائے آسمانی میں کس طرح مسخر ہیں ؟ اللہ کے سواکس نے اِن کو تھام رکھا ہے ؟ اِس میں بہت نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔{۷۹}</p>
<p>اللہ نے تمہارے لئے تمہارے گھروں کو جائے سکون بنایا ۔ اس نے جانوروں کی کھالوں سے تمہارے لئے ایسے مکان پیدا کئے [74]جنہیں تم سفر اور قیام ، دونوں حالتوں میں ہلکا پاتے ہو۔[75] اس نے جانوروں کے صوف اور اُون اور بالوں سے تمہارے لئے پہننے اور برتنے کی بہت سی چیزیں پیدا کردیں جو زندگی کی مدّت مقررہ تک تمہارے کام آتی ہیں۔ {۸۰}</p>
<p>اس نے اپنی پیدا کی ہوئی بہت سی چیزوں سے تمہارے لئے سائے کا انتظام کیا ، پہاڑوں میں تمہارے لئے پناہ گاہیں بنائیں ،اور تمہیں ایسی پوشاکیں بخشیں جو تمہیں گرمی سے بچاتی ہیں [76]اور کچھ دوسری پوشاکیں جو آپس کی جنگ میں تمہاری حفاظت کرتی ہیں۔[77]اِس طرح وہ تم پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کرتا ہے [78]شاید کہ تم فرمانبردار بنو{۸۱}</p>
<p> اب اگر یہ لوگ منھ موڑتے ہیں تو (اے نبی  ؐ!) تم پر صاف صاف پیغام حق پہنچادینے کے سوا اور کوئی ذمّہ داری نہیں ہے۔{ ۸۲}</p>
<p>یہ اللہ کے احسان کو پہچانتے ہیں، پھر اس کا انکار کرتے ہیں [79]اور اِن میں بیش ترلوگ ایسے ہیں جو حق ماننے  کے لیے تیار نہیں ہیں ۔{ ۸۳}</p>
<p> (انہیں کچھ ہوش بھی ہے کہ اُس روز کیا بنے گی) جب کہ ہم ہر اُمّت میں سے ایک گواہ[80] کھڑا کریں گے، پھر کافروں کو نہ حجتیں پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا [81]نہ اُن سے توبہ و استغفار ہی کا مطالبہ کیا جائے گا۔ [82]{۸۴}</p>
<p> ظالم لوگ جب ایک دفعہ عذاب دیکھ لیں گے تو اس کے بعد نہ اُن کے عذاب میں کوئی تخفیف کی جائے گی اور نہ اُنہیں ایک لمحہ بھر مہلت دی جائے گی۔{۸۵}</p>
<p> اور جب وہ لوگ جنہوں نے دنیا میں شرک کیا تھا اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے ’’ اے ہمارے پروردگار! یہی ہیں ہمارے وہ شریک جنہیں ہم تجھے چھوڑ کرپکار اکرتے تھے۔‘‘ اس پر اُن کے وہ معبود انہیں صاف جواب د یں گے کہ ’’ تم جھوٹے ہو‘‘۔  [83]{۸۶}</p>
<p>اس وقت یہ سب اللہ کے آگے جھک جائیں گے اور ان کی وہ ساری افتراپر دازیاں رفو چکر ہوجائیں گی جو یہ دنیا میں کرتے رہے تھے۔[84]{۸۷}</p>
<p>جن لوگوں نے خود کفر کی راہ اختیار کی اور دُوسروں کو اللہ کی راہ سے رُوکا اُنہیں ہم عذاب  پر عذاب دیں گے[85] اُس فساد کے بدلے جو دنیا میں برپا کرتے رہے۔{۸۸}</p>
<p>( اے نبی  ؐ!انہیں اُس دن سے خبردار کردو ) جب کہ ہم ہر اُمّت میں خود اُسی کے اندر سے ایک گواہ اٹھاکھڑا کریں گے جو اُس کے مقابلے میں شہادت دے گا،اور اِن لوگوں کے مقابلے میں شہادت دینے کے لیے ہم تمہیں لائیں گے ۔اور ( یہ اُسی شہادت کی تیاری ہے کہ ) ہم نے یہ کتاب تم پر نازل کردی ہے جو ہر چیز کی صاف صاف وضاحت کرنے والی ہے[86] اور ہدایت و رحمت اور بشارت ہے(مسلمانوں کے لیے) اُن لوگوں کے لیے جنہوں نے سرِتسلیم خَم کردیاہے۔[87]{۸۹}</p>
<p>  اللہ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے[88] اور بدی وبے حیائی اور ظلم وزیادتی سے منع کرتا ہے ۔[89]وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تا کہ تم سبق لو ۔ {۹۰}</p>
<p>اللہ کے عہد کو پورا کروجب کہ تم نے اس سے کوئی عہد باندھا ہو ، اور اپنی قسمیں پختہ کرنے کے بعدتوڑ نہ ڈالو جب کہ تم اللہ کو اپنے اوپر گواہ بناچکے ہو۔ اللہ تمہارے سب افعال سے باخبر ہے ۔{۹۱}</p>
<p>تمہاری حالت اُس عورت کی سی نہ ہوجائے جس نے آپ ہی محنت سے سُوت کاتا اور پھر آپ ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کرڈالا۔[90] تم اپنی قسموں کو آپَس کے معاملات میں مکرو فریب کا ہتھیار بناتے ہو، تا کہ ایک قوم دوسری قوم سے بڑھ کرفائدے حاصل کرے ۔ حالانکہ اللہ اِس عہد وپیمان کے ذریعہ سے تم کو آزمائش میں ڈالتا ہے ،[91] اور ضرور وہ قیامت کے روز تمہارے تمام اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا ۔[92]{۹۲}</p>
<p> اگر اللہ کی مشیت یہ ہوتی ( کہ تم میں کوئی اختلاف نہ ہو ) تو وہ تم سب کو ایک ہی اُمّت بنادیتا ،[93] مگر وہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں ڈالتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہِ راست دکھا دیتا ہے ،[94] اور ضرور تم سے تمہارے اعمال کی باز پُرس ہوکررہے گی۔ { ۹۳}</p>
<p>اور( اے مسلمانو ! ) تم اپنی قسموں کو آپَس میں ایک دُوسرے کو دھوکہ دینے کا ذریعہ نہ بنالینا، کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی قدم جمنے کے بعد اکھڑ جائے [95]اور تم اس جرم کی پاداش میں کہ تم نے لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکا ، برُ ا نتیجہ دیکھو اور سزا بھگتو۔{۹۴}</p>
<p>اللہ کے عہد[96] کو تھوڑے سے فائدے کے بدلے نہ بیچ ڈالو ،[97] جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے اگر تم جانو۔{۹۵}</p>
<p>جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ خرچ ہوجانے والا ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہی باقی رہنے والا ہے ،اور ہم ضرور صبر سے کام لینے والوں[98] کواُن کے اجراُن کے بہترین اعمال کے مطابق دیں گے۔ {۹۶}</p>
<p> جو شخص بھی نیک عمل کرے گا ، خواہ وہ مرد ہو یا عورت ، بشرطیکہ ہو وہ مومن، اسے ہم دنیا میں پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے[99] اور( آخرت میں) ایسے لوگوں کو اُن کے اجراُن کے بہترین اعمال کے مطابق بخشیں گے۔ [100]{۹۷}</p>
<p>پھر جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان ِرجیم سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو۔  [101]{۹۸}</p>
<p> اُسے اُن لوگوں پر تسلّط حاصل نہیں ہوتا جو ایمان لاتے اور اپنے رَبّ پر بھروسہ کرتے ہیں۔{۹۹}</p>
<p>اس کا زور تو اُنہی لوگوں پر چلتا ہے جو اس کو اپنا سرپرست بناتے اور اس کے بہکانے سے شرک کرتے ہیں۔{۱۰۰}</p>
<p>جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت نازل کرتے ہیں۔ اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا نازل کرے۔ تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ تم یہ قرآن خود گھڑتے ہو ۔[102] اصل بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ حقیقت سے ناواقف ہیں۔{۱۰۱}</p>
<p> ان سے کہو کہ اسے تو روح القدس نے ٹھیک ٹھیک میرے رَبّ کی طرف سے بتدریج نازل کیا[103] ہے تا کہ ایمان لانے والوں کے ایمان کو پختہ کرے [104]اور فرماں برداروں کو زندگی کے معاملات میں سیدھی راہ بتائے[105] اور انہیں فلاح وسعادت کی خوش خبری دے۔[106]{ ۱۰۲}</p>
<p>ہمیں معلوم ہے یہ لوگ تمہارے متعلق کہتے ہیں کہ اُ س شخص کو ایک آدمی سکھاتا  پڑھاتا ہے ،[107] حالانکہ ان کااشارہ جس آدمی کی طرف ہے اس کی زبان عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے۔{ ۱۰۳}</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی آیات کو نہیں مانتے اللہ کبھی ان کو صحیح بات تک پہنچنے کی توفیق نہیں دیتا اور ایسے لوگوں  کے لیے درد ناک عذاب ہے۔{ ۱۰۴}</p>
<p>(جُھوٹی باتیں نبی نہیں گھڑتا بلکہ ) جھوٹ وہ لوگ گھڑرہے ہیں جو اللہ کی آیات کو نہیں مانتے،[108]وہی حقیقت میں جھوٹے ہیں۔{۱۰۵}</p>
<p>جو شخص ایمان لانے کے بعدکفر کرے( وہ اگر) مجبور کیا گیا ہو اور دل اس کا ایمان پر مطمئن ہو (تب تو خیر ) مگر جس نے دل کی رضا مندی سے کفر کو قبول کرلیا اس پر اللہ کا غضب ہے اور ایسے سب لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے۔[109]{۱۰۶}</p>
<p> یہ اس لیے کہ انہوں نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کرلیا ، اور اللہ کا قاعدہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو راہ ِنجات نہیں دکھاتا جو اس کی نعمت کا کُفر ان کریں۔ {۱۰۷}</p>
<p>یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں اور کانوں اور آنکھوں پر اللہ نے مہر لگادی ہے ، یہ غفلت میں ڈوب چکے ہیں۔{۱۰۸}</p>
<p> ضرورہے کہ آخرت میں یہی خسارے میں رہیں۔[110]{۱۰۹}</p>
<p> بخلاف اس کے جن لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب (ایمان لانے کی وجہ سے )وہ ستائے گئے تو انہوں نے گھربار چھوڑ دیے، ہجرت کی ، راہ الہٰی میں سختیاں جھیلیں اور صبر سے کام لیا ،[111] اُن کے لیے یقینا تیرا رَبّ غفور و رحیم ہے۔ {۱۱۰}</p>
<p> ( ان سب کا فیصلہ اُس دن ہوگا) جب کہ ہر متنفس اپنے ہی بچا ؤ کی فکر میں لگاہوا ہوگا اور ہر ایک کو اس کے کیے کا بدلہ پورا پورا دیا جائے گا اور کسی پر ذرہ برابر ظلم نہ ہونے پائے گا۔{۱۱۱}</p>
<p>اللہ ایک بستی کی مثال دیتا ہے۔ وہ امن و اطمینان کی ز ندگی بسرکررہی تھی اور ہرطرف سے اس کو بفراغت رزق پہنچ رہا تھا کہ اُس نے اللہ کی نعمتوں کا کُفران شروع کردیا۔ تب اللہ نے اس کے باشندوں کو اُن کے کرتوتوں کا یہ مزہ چکھایا کہ بھوک اور خوف کی مصیبتیں ان پر چھاگئیں۔ {۱۱۲}</p>
<p> اُن کے پاس ان کی اپنی قوم میں سے ایک رسول آیا۔ مگر انہوں نے اس کو جھٹلادیا۔ آخر کار عذاب نے اُن کو آلیا جب کہ وہ ظالم ہوچکے تھے۔[112] {۱۱۳}</p>
<p>پس اے لوگو!اللہ نے جو کچھ حلال اور پاک رزق تم کو بخشا ہے اسے کھا ؤ اور اللہ کے احسان کا شکر ادا کرو [113]اگر تم واقعی اُسی کی بندگی کرنے والے ہو۔[114]{ ۱۱۴}</p>
<p>اللہ نے جو کچھ تم پر حرام کیا ہے وہ ہے مُردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور جس پر اللہ کے سواکسی اور کا نام لیا گیا ہو ۔ا لبتہ بھوک سے مجبور اور بے قرار ہو کر اگر کوئی ان چیزوں کو کھالے ، بغیر اس کے کہ وہ قانونِ اِلہٰی کی خلاف ورزی کا خواہش مند ہویا حد ضرورت سے تجاوز کا مرتکب ہو ، تو یقینا اللہ معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے۔ [115]{۱۱۵}</p>
<p> اور یہ جو تمہاری زبانیں جھوٹے احکام لگایا کرتی ہیں کہ یہ چیز حلال ہے اور وہ حرام، تو اس طرح کے حکم لگا کر اللہ پر جھوٹ نہ باندھا کرو۔ [116]جو لوگ اللہ پر جھوٹے افتراباندھتے ہیں وہ ہر گز فلاح نہیں پایاکرتے۔ {۱۱۶}</p>
<p> دنیا کا عیش چندروزہ ہے ۔ آخرکار ان کے لیے دردناک سزا ہے۔ {۱۱۷}</p>
<p> وہ [117]چیزیں ہم نے خاص طور پر یہودیوں کے لیے حرام کی تھیں جن کا ذکر اِس سے پہلے ہم تم سے کرچکے ہیں۔ [118]اور یہ ان پر ہمارا ظلم نہ تھا بلکہ ان کا اپنا ہی ظلم تھا جو وہ اپنے اوپر کررہے تھے۔{۱۱۸}</p>
<p>البتہ جن لوگوں نے جہالت کی بنا پر بُرا عمل کیا اور پھر توبہ کرکے اپنے عمل کی اصلاح کرلی تو یقینا توبہ و اصلاح کے بعد تیرا رَبّ اُن کے لیے غفور اور رحیم ہے۔{۱۱۹}</p>
<p> واقعہ یہ ہے کہ ابراہیم ؑ اپنی ذات سے ایک پوری اُمّت تھا ،[119] اللہ کا مطیع فرمان اور یک سُو۔ وہ کبھی مشرک نہ تھا۔ {۱۲۰}</p>
<p> اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والاتھا۔اللہ نے اس کو منتخب کرلیا اورسیدھا راستہ دکھایا ۔{۱۲۱}</p>
<p> دنیا میں اس کو بھلائی دی اور آخرت میں وہ یقینا صالحین میں سے ہوگا۔ {۱۲۲}</p>
<p> پھر ہم نے تمہاری طرف یہ وحی بھیجی کہ یک سُو ہوکر ابراہیم ؑ کے طریقے پر چلو اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا [120]{۱۲۳}</p>
<p> رہاسَبْت تو وہ ہم نے اُن لوگوں پر مُسلّط کیا تھا جنہو ں نے اُس کے احکام میں اختلاف کیا [121]اور یقینا تیرا رَبّ قیامت کے روز اُن سب باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔{۱۲۴}</p>
<p>(اے نبی  ؐ! )اپنے رَبّ کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ[122] ، اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقہ پر جو بہترین ہو۔[123] تمہارا رَبّ ہی زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور کون راہِ راست پر ہے{۱۲۵}</p>
<p>اور اگر تم لوگ بدلہ لو تو بس اُسی قدرلے لو جس قدر تم پر زیادتی کی گئی ہو ۔ لیکن اگر تم صبر کرو تو یقینا یہ صبر کرنے والوں ہی کے حق میں بہتر ہے {۱۲۶}</p>
<p>( اے نبی  ؐ ! ) صبر سے کام کئے جا ؤ، اور تمہارا یہ صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے۔ ان لوگوں کی حرکات پر رنج نہ کرو اور نہ ان کی چال بازیوں پر دل تنگ ہو۔{۱۲۷}</p>
<p> اللہ اُن لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ سے کام لیتے ہیں، اور احسان پر عمل کرتے ہیں۔[124]{۱۲۸}</p>

</div><div id="17"><p>سورۃبنی اسرائیل </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔</p>
<p>پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اُس مسجد تک جس کے ماحول کو اُس نے برکت دی ہے تا کہ اُسے اپنی کچھ نشانیوں کا مشاہدہ کرائے۔  حقیقت [1] میں وہی ہے سب کچھ سُننے اور دیکھنے والا ۔{۱}</p>
<p>ہم نے اِس سے پہلے موسیٰ ؑکو کتاب دی تھی اور اُسے بنی اسرائیل کے لیے ذریعۂ ہدایت بنایا تھا [2]اس تاکید کے ساتھ کہ میرے سواکسی کو اپنا وکیل نہ بنانا۔[3]{۲}</p>
<p>تم اُن لوگوں کی اولاد ہو جنہیں ہم نے نوحؑ کے ساتھ کشتی پر سوار کیا تھا [4]اور نوحؑ ایک شکر گزار بندہ تھا۔{ ۳}</p>
<p>پھر ہم نے اپنی کتاب  [5]میں بنی اسرائیل کو اس بات پر بھی متنبہ کردیا تھا کہ تم دو مرتبہ زمین میں فساد ِعظیم برپاکرو گے اور بڑی سرکشی دکھا ؤ گے۔[6]{ ۴}</p>
<p>آخر کار جب اُن میں سے پہلے سرکشی کا موقع پیش آیا ، تو اے بنی اسرائیل !ہم نے تمہارے مقابلے پر اپنے ایسے بندے اٹھائے جو نہایت زور آور تھے اور وہ تمہارے ملک میں گھس کر ہر طرف پھیل گئے۔  یہ ایک وعدہ تھا جسے پورا ہو کر ہی رہنا تھا۔ [7]{۵}</p>
<p> اس کے بعد ہم نے تمہیں ان پر غلبے کا موقع دے دیا اور تمہیں مال اور اولاد سے مدددی اور تمہاری تعداد پہلے سے بڑھادی۔[8]{۶}</p>
<p> دیکھو ! تم نے بَھلائی کی تو وہ تمہارے اپنے ہی لئے بھلائی تھی اور برائی کی تو وہ تمہاری اپنی ذات کے لیے برائی ثابت ہوئی۔ پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے دوسرے دشمنوں کو تم پر مسلط کیا تا کہ وہ تمہارے چہر ے بگاڑ دیںاور مسجد ( بیت المقدس ) میں اُسی طرح گُھس جائیں جس طرح پہلے دشمن گُھسے تھے اور جس چیز پر ان کا ہاتھ پڑے اُسے تباہ کرکے رکھ دیں۔[9] {۷}</p>
<p>ہوسکتا ہے کہ اب تمہارا رب تم پر رحم کرے ، لیکن اگر تم نے پھر اپنی سابق روِش کا اعادہ کیا تو ہم بھی پھر اپنی سزا کا اعادہ کریں گے ، اور کافرِنعمت لوگوں کے لیے ہم نے جہنم کو قید خانہ بنارکھا ہے۔[10]{۸}</p>
<p>  حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے۔ جو لوگ اسے مان کر بھلے کام کرنے لگیں انہیں یہ بشارت دیتا ہے کہ اُن کے لیے بڑا اجر ہے{۹}</p>
<p>اور جو لوگ آخرت کو نہ مانیں انہیں یہ خبر دیتا ہے کہ ان کے لیے ہم نے درد ناک عذاب مہیا کررکھا ہے۔[11]{۱۰}</p>
<p>  انسان شراُس طرح مانگتا ہے جس طرح خیر مانگنی چاہئے ۔ انسان بڑا ہی جلد بازواقع ہواہے۔[12] {۱۱}</p>
<p> دیکھو ، ہم نے رات اور دن کو دونشانیاں بنایا ہے۔ رات کی نشانی کو ہم نے بے نور بنایا ، اور دن کی نشانی کو روشن کردیا تا کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرسکو اور ماہ وسال کا حساب معلوم کرسکو ۔ اِسی طرح ہم نے ہر چیز کو الگ الگ ممیز کرکے رکھا ہے۔[13]{ ۱۲}</p>
<p>ہر انسان کا شگون ہم نے اس کے اپنے گلے میں لٹکارکھا ہے۔[14] اور قیامت کے روز ہم ایک نوشتہ اس کے لیے نکالیں گے جسے وہ کھلی کتاب کی طرح پائے گا۔{ ۱۳}</p>
<p>پڑھ اپنا نامئہ اعمال ، آج اپنا حساب لگانے کے لیے تو خود ہی کافی ہے۔{ ۱۴}</p>
<p> جو کوئی راہِ راست اختیار کرے اُس کی راست روی اُس کے اپنے ہی لئے مفید ہے، اور جو گمراہ ہواُس کی گمراہی کا وبال اُسی پر ہے ۔[15] کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا [16] اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ (لو گوں کو حق وباطل کا فرق سمجھانے کے لیے ) ایک پیغام برنہ بھیج دیں۔[17]{۱۵}</p>
<p>  جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کاارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں اور وہ اس میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں ، تب عذاب کا فیصلہ اُس بستی پر چسپا ںہوجاتا ہے اور ہم اسے برباد کرکے رکھ دیتے  ہیں۔  [18]{۱۶}</p>
<p> دیکھ لو ، کتنی ہی نسلیں ہیں جو نوحؑ کے بعد ہمارے حکم سے ہلاک ہوئیں ۔ تیرا رب اپنے  بندوں کے گناہوں سے پوری طرح باخبر ہے اور سب کچھ دیکھ رہا ہے۔{۱۷}</p>
<p>جو کوئی ( اس دنیا میں ) جلدی[19] حاصل ہونے والے فائدوں کا خواہشمند ہو ، اسے یہیں ہم دے دیتے ہیں جو کچھ بھی جسے دینا چاہیں، پھر اُسکے مقسوم میں جہنم لکھ دیتے ہیں جسے وہ تاپے گا ملامت زدہ اور رحمت سے محروم ہو کر ۔[20]{۱۸}</p>
<p> اور جو آخرت کا خواہشمند ہو اور اس کے لیے سعی کرے جیسی کہ اس کے لیے سعی کرنی چاہئے اور ہو وہ مومن ، تو ایسے ہر شخص کی سعی مشکور ہوگی۔ [21]{۱۹}</p>
<p> اِن کو بھی اور اُن کو بھی ، دونوں فریقوں کو ہم ( دنیا میں ) سامان زیست دیے جارہے ہیں ، یہ تیرے رب کا عطیہ ہے اور تیرے رب کی عطا کو روکنے والا کوئی نہیں ہے۔[22]{۲۰}</p>
<p> مگر دیکھ لو ، دنیا ہی میں ہم نے ایک گروہ کو دوسرے پرکیسی فضیلت دے رکھی ہے، اور آخرت میں اس کے درجے اور بھی زیادہ ہوں گے، اور اس کی فضیلت اور بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر ہوگی[23]{۲۱}</p>
<p>تُو اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنا [24]ورنہ ملامت زدہ اور بے یارو مدد گار بیٹھا رہ جائے گا۔{ ۲۲}</p>
<p>تیرے رب نے فیصلہ کردیا ہے[25] کہ : تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو ، مگر صرف اُس کی ۔[26] والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو ، اگر تمہارے پاس اُن میں سے کوئی ایک یادونوں ، بوڑھے ہوکر رہیں تو انہیں اُف تک نہ کہو ، نہ انہیں جھڑک کر جواب دو ، بلکہ ان سے احترام کے ساتھ بات کرو { ۲۳}</p>
<p>اور نرمی اور رحم کے ساتھ ان کے سامنے جُھک کر رہو ، اور دعا کیا کرو کہ ’’پروردگار!ان پر رحم فرما جس طرح انہو ں نے رحمت وشفقت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالاتھا ‘‘۔{۲۴}</p>
<p> تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ تمہارے دلوں میں کیا ہے ۔ اگر تم صالح بن کر رہو تو وہ ایسے سب لوگوں کے لیے درگزر کرنے والا ہے جو اپنے قصور پر متنبّہ  ہو کر بندگی کے رویے کی طرف پلٹ آئیں ۔[27]{۲۵}</p>
<p> رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق ۔ فضول خرچی نہ کرو۔{۲۶}</p>
<p> فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں ، اور شیطان اپنے رب کا ناشکراہے۔ {۲۷}</p>
<p> اگر ان  (حاجت مندر شتہ داروں ، مسکینوں اور مسافروں )سے تمہیں کترانا ہو ، اُس بنا پر کہ ابھی تم اللہ کی اُس رحمت کو جس کے تم اُمیدوار ہو تلاش کررہے ہو، تو انہیں نرم جواب دے دو،[28] {۲۸}</p>
<p>نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ رکھو اور نہ اُسے بالکل ہی کُھلا چھوڑدو کہ ملامت زدہ اور عاجزبن کررہ جا ؤ ۔[29] {۲۹}</p>
<p>تیرا رب جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے ۔ وہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور انہیں دیکھ رہا ہے۔ [30]{۳۰}</p>
<p>اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کرو ۔ ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی۔ درحقیقت اُن کا قتل ایک بڑی خطا ہے۔[31] {۳۱}</p>
<p> زنا کے قریب نہ پھٹکو۔ وہ بہت بُرافعل ہے اور بڑا ہی بُرا راستہ[32]{ ۳۲}</p>
<p> قتل ِنفس کاارتکاب نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے[33] مگر حق کے ساتھ۔[34] اور جو شخص مظلومانہ قتل کیا گیا ہو اس کے ولی کو ہم نے قصاص کے مطالبے کا حق عطا کیا ہے۔ [35]پس چاہئے کہ وہ قتل میں حد سے نہ گزرے[36] اُس کی مدد کی جائے گی۔  [37]{۳۳}</p>
<p> مال ِیتیم کے پاس نہ پھٹکو مگر احسن طریقے سے ، یہاں تک کہ وہ اپنے شباب کو پہنچ جائے۔[38] عہد کی پابندی کرو ، بے شک عہد کے بارے میں تم کو جواب دہی کرنی ہوگی۔[39]{۳۴}</p>
<p>پیمانے سے دو تو پورا بھر کردو اور تو لو تو ٹھیک ترازوسے تو لو ۔ [40]یہ اچھا طریقہ ہے اور بلحاظ انجام بھی یہی بہترہے۔[41]{۳۵}</p>
<p> کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہ ہو۔ یقینا آنکھ، کان اور دل سب ہی کی باز پرس ہونی ہے [42]{۳۶}</p>
<p> زمین میں اکڑ کر نہ چلو ، تم نہ زمین کو پھاڑ سکتے ہو ، نہ پہاڑوں کی بلند ی کو پہنچ سکتے ہو۔[43]{۳۷}</p>
<p>اِن اُمور میں سے ہر ایک کا بُرا پہلو تیرے رب کے نزدک ناپسندیدہ ہے۔[44]{۳۸}</p>
<p>یہ وہ حکمت کی باتیں ہیں جو تیرے رب نے تجھ پر وحی کی ہیں اور دیکھ ! اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنا بیٹھ ورنہ توجہنم میں ڈال دیا جائے گا ملامت زدہ اور ہر بھلائی سے محروم [45] ہو کر۔{۳۹}</p>
<p>  کیسی عجیب بات ہے کہ تمہارے رب نے تمہیں توبیٹوں سے نوازا اور خود اپنے لئے ملائکہ کو بیٹیاں بنالیا؟ [46]بڑی جھوٹی بات ہے جو تم لوگ زبانوں سے نکالتے ہو۔{۴۰}</p>
<p> ہم نے اِس قرآن میں طرح طرح سے لوگوں کو سمجھایا کہ ہوش میں آئیں ، مگر وہ حق سے اور زیادہ دُور ہی بھاگے جارہے ہیں۔{۴۱}</p>
<p>اے نبی  ؐ !اِن سے کہو کہ اگر اللہ کے ساتھ دوسرے اِلٰہ بھی ہوتے جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں، تو وہ مالکِ عرش کے مقام کو پہنچنے کی ضرور کوشش کرتے۔ [47]{۴۲}</p>
<p>پاک ہے وہ اور بہت بالا و برتر ہے اُن باتوں سے جو یہ لوگ کہہ رہے ہیں۔{۴۳}</p>
<p> اس کی پاکی تو ساتوں آسمان اور زمین اور وہ ساری چیزیں بیان کررہی ہیں جو آسمان و زمین  میں ہیں۔ [48]وئی چیز ایسی نہیں جو اُس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کررہی ہو ،[49] مگر تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں ہو ، حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ہی بُردباراور درگزر کرنے والا ہے[50]۔{ ۴۴}</p>
<p>جب تم قرآن پڑھتے ہو تو ہم تمہارے اور آخرت پر ایمان نہ لانے والوں کے درمیان ایک پردہ حائل کردیتے ہیں{۴۵}</p>
<p> اور ان کے دلوں پر ایسا غلاف چڑھادیتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں سمجھتے اور ان کے کانوں میں گرانی پیدا کردیتے ہیں۔[51]  اور جب تم قرآن میں اپنے ایک ہی رب کا ذکر کرتے ہوتو وہ نفرت سے منھ موڑلیتے ہیں۔  [52]{۴۶}</p>
<p> ہمیں معلوم ہے کہ جب وہ کان لگاکر تمہاری بات سُنتے ہیں تو دراصل کیا سُنتے ہیں،اور جب بیٹھ کر باہم سرگوشیاں کرتے ہیں تو کیا کہتے ہیں۔ یہ ظالم آپس میں کہتے ہیں کہ یہ تو ایک سحرزدہ آدمی ہے جس کے پیچھے تم لوگ جارہے ہو[53]{۴۷}</p>
<p>دیکھو ، کیسی باتیں ہیں جو یہ لوگ تم پر چھا نٹتے ہیں ،یہ بھٹک گئے ہیں ، انہیں راستہ نہیں ملتا ۔[54]{۴۸}</p>
<p>وہ کہتے ہیں ’’ جب ہم صرف ہڈیاں اور خاک ہو کر رہ جائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کرکے اٹھائے جائیں گے؟ ‘‘{۴۹}</p>
<p>ان سے کہو ،’’تم پتھر یا لوہا بھی ہوجا ؤ، {۵۰}</p>
<p>یا اس سے بھی زیادہ سخت کوئی چیز جو تمہارے ذہن میں قبول حیات سے بعید ترہو‘‘(پھر بھی تم اُٹھ کر رہوگے ) ۔ وہ ضرور پوچھیں گے [55]’’ کون ہے وہ جو ہمیں  پھر زندگی کی طرف پلٹا کر لائے گا ‘‘ ؟ جواب میں کہو ’’ وہی جس نے پہلی بار تم کو پیدا کیا۔‘‘ وہ سر ہلاہلا کر پوچھیں گے ’’ اچھا ، تو یہ ہوگا کب ‘‘؟ تم کہو ’’ کیا عجب کہ وہ وقت قریب ہی آ لگاہو۔{۵۱}</p>
<p>جس روز وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی حمد کرتے ہوئے اس کی پکار کے جواب میں نکل آ ؤ گے اور تمہارا گمان اُس وقت یہ ہوگا کہ ہم بس تھوڑی دیرہی اِس حالت میں پڑے رہے ہیں‘‘۔  [56]{۵۲}</p>
<p>اور( اے نبی  ؐ! ) میرے بندوں[57] (یعنی مومن بندوں ) سے کہہ دو کہ زبان سے وہ بات نکالا کریں جو بہترین ہو،[58]دراصل یہ شیطان ہے جو انسانوں کے درمیان فساد ڈالوانے کی کوشش کرتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ شیطان انسان کا کھلادشمن ہے۔[59]{ ۵۳}</p>
<p>تمہارا رب تمہارے حال سے خوب واقف ہے ۔ وہ چاہے تو تم پر رحم کرے اور چاہے تو تمہیں عذاب دیدے۔[60] اور( اے نبی  ؐ!)ہم نے تم کو لوگوں پر حوالہ داربناکر نہیں بھیجا ہے۔[61]{۵۴}</p>
<p>تیرا رب زمین اور آسمانوں کی مخلوقات کو زیادہ جانتا ہے ، ہم نے بعض پیغمبروں کو بعض سے بڑھ کر مرتبے دیے ،[62]اور ہم نے ہی دا ؤ دؑ کو زبوردی تھی[63]{۵۵}</p>
<p>اِن سے کہو، پکار دیکھو ان معبودوں کو جن کو تم اللہ کے سوا ( اپنا کارساز ) سمجھتے ہو،وہ کسی تکلیف کو تم سے نہ ہٹا سکتے ہیں نہ بدل سکتے ہیں،[64]{۵۶}</p>
<p>جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ خود اپنے رب کے حضور رسائی حاصل کرنے کا وسیلہ تلاش کررہے ہیں کہ کون اُس سے قریب ترہوجائے اور وہ اس کی رحمت کے امیدوار اور اس کے عذاب سے خائف ہیں،[65]حقیقت یہ ہے کہ تیرے رب کا عذاب ہے ہی ڈرنے کے لائق{۵۷}</p>
<p>اور کوئی بستی ایسی نہیں جسے ہم قیامت سے پہلے ہلاک نہ کریں یا سخت عذاب نہ دیں ، [66]یہ نوشتۂ الہٰی میں لکھاہوا ہے۔{۵۸}</p>
<p> اور ہم کو نشانیاں[67] بھیجنے سے نہیں روکا مگر اس بات نے کہ اِن سے پہلے کے لوگ ان کو جھٹلاچکے ہیں،۲( چنانچہ دیکھ لو) ثمود کو ہم نے علانیہ اونٹنی لاکردی اور انہوں نے اس پر ظلم کیا۔[68] ہم نشانیاں اسی لئے تو بھیجتے ہیں کہ لوگ انہیں دیکھ کر ڈریں [69]{۵۹}</p>
<p> یاد کرو اے نبی  ؐ! ہم نے تم سے کہہ دیا تھا کہ تیرے رب نے ان لوگوں کو گھیر رکھا ہے ۔[70] اور یہ جو کچھ ابھی ہم نے تمہیں دکھایا ہے،[71] اس کو او راُس درخت کو جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے ۔[72] ہم نے اُن لوگوں کے لیے بس ایک فتنہ بناکر رکھ دیا۔ [73]ہم انہیں تنبیہ پر تنبیہ کئے جارہے ہیں، مگر ہر تنبیہ ان کی سرکشی میں اضافہ کئے جاتی ہے۔{۶۰}</p>
<p>اور یاد کرو جبکہ ہم نے ملائکہ سے کہا کہ آدمؑ کو سجدہ کرو ، تو سب نے سجدہ کیا ، مگر ابلیس نے نہ کیا ۔[74] اس نے کہا ’’ کیا میں اس کو سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے بنایا ہے؟ ‘‘{۶۱}</p>
<p>پھر وہ بولا’’ دیکھ توسہی کیا یہ اس قابل تھا کہ تونے اسے مجھ پر فضیلت دی؟ اگر تو مجھے قیامت کے دن تک مُہلت دے تو میں اِس کی پوری نسل کی بیخ کنی کرڈالوں ،[75] بس تھوڑے ہی لوگ مجھ سے بچ سکیں گے‘‘۔{۶۲}</p>
<p> اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’ اچھا تو جا ، ان میں سے جو بھی تیری پیروی کریں ، تجھ سمیت ان سب کے لیے جہنم ہی بھرپور جزاء ہے۔{ ۶۳}</p>
<p>تو جس جس کو اپنی دعوت سے پھُسلا سکتا ہے پھُسلالے ، [76]ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھالا ،[77] مال اور اولاد میں ان کے ساتھ ساجھالگا ، [78]اور ان کو وعدوں کے جال میں پھانس ۔[79]اور شیطان کے وعدے ایک دھوکے کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔ {۶۴}</p>
<p> یقینا میرے بندوں پر تجھے کوئی اقتدار حاصل نہ ہوگا،[80] اور توکّل کے لیے تیرا رب کافی ہے‘‘۔[81]{۶۵}</p>
<p>  تمہارا (حقیقی ) رب تو وہ ہے جو سمندر میں تمہاری کشتی چلاتا ہے [82] تا کہ تم اس کافضل تلاش کرو۔ [83]حقیقت یہ ہے کہ وہ تمہارے حال پر نہایت مہربان ہے۔{۶۶}</p>
<p> جب سمندر میں تم پر مصیبت آتی ہے تو اُس ایک کے سوا دوسرے جن جن کو تم پُکارا کرتے ہو وہ سب گُم ہوجاتے ہیں، [84]مگر جب وہ تم کو بچاکر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو تم اس سے منھ موڑ جاتے ہو ۔ انسان واقعی بڑانا شکر ا ہے۔{۶۷}</p>
<p> اچھا! تو کیا تم اِس بات سے بالکل بے خوف ہو کہ اللہ کبھی خشکی پر ہی تم کو زمین میں دھنسا دے، یا تم پر پتھرا ؤ کرنے والی آندھی بھیج دے اور تم اس سے بچانے والا کوئی حمایتی نہ پا ؤ ؟{۶۸}</p>
<p> اور کیا تمہیں اِس کا اندیشہ نہیں کہ اللہ پھر کسی وقت سمندر میں تم کو لے جائے اور تمہاری ناشکری کے بدلے تم پر سخت طوفانی ہوا بھیج کر تمہیں غرق کردے ۔ اور تم کو ایسا کوئی نہ ملے جو اُس سے تمہارے اِس انجام کی پوچھ گچھ کرسکے ؟{۶۹}</p>
<p>  یہ تو ہماری عنایت ہے کہ ہم نے بنی آدم ؑکو بزرگی دی اور انہیں خشکی و تری میں سواریاں عطاکیں اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایا ں فوقیت بخشی ۔[85]{۷۰}</p>
<p>پھر خیال کرو اُس دن کا جب کہ ہم ہر انسانی گروہ کو اُس کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے۔ اُس وقت جن لوگوں کو ان کانامۂ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیا گیا، وہ اپنا کارنامہ پڑھیں گے[86] اور اِن پر ذرّہ برا بر ظلم نہ ہوگا ۔{۷۱}</p>
<p> اور جو اس دنیا میں اندھا بن کر رہا وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا۔ بلکہ راستہ پانے میں اندھے سے بھی زیادہ ناکام۔ { ۷۲}</p>
<p> (اے نبی  ؐ!)ان لوگوں نے اِس کوشش میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی کہ تمہیں فتنے میں ڈال کر اس وحی سے پھیر دیں جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے تاکہ تم ہمارے نام پر اپنی طرف سے کوئی بات گھڑو۔[87] اگر تم ایسا کرتے تو وہ ضرور تمہیں اپنا دوست بنالیتے۔ {۷۳}</p>
<p>اور بعید نہ تھا کہ اگر ہم تمہیں مضبوط نہ رکھتے تو تم ان کی طرف کچھ نہ کچھ جُھک جاتے۔ {۷۴}</p>
<p> لیکن اگر تم ایسا کرتے تو ہم تمہیں دنیا میں بھی دُوہرے عذاب کا مزہ چکھاتے اور آخرت میں بھی دُوہرے عذاب کا ، پھر ہمارے مقابلے میں تم کوئی مدد گارنہ پاتے۔[88]{۷۵}</p>
<p>اور یہ لوگ اِ س بات پر بھی تُلے رہے ہیں کہ تمہارے قدم اِس سرزمین سے اکھاڑدیں اور تمہیں یہاں سے نکال باہر کریں لیکن اگر یہ ایسا کریں گے تو تمہارے بعد یہ خود یہاں کچھ زیادہ دیرنہ ٹھہر سکیں گے ۔[89]{ ۷۶}</p>
<p> یہ ہمار ا مستقل طریقِ کارہے جو اُن سب رسُولوں کے معاملے میں ہم نے برتا ہے جنہیں تم سے پہلے ہم نے بھیجا [90]تھا اور ہمارے طریق کار میں تم کوئی تغیر نہ پا ؤ گے ۔{۷۷}</p>
<p>  نماز قائم کرو،[91] زوالِ آفتاب [92]سے لے کر رات کے اندھیرے [93]تک اور فجر کے قرآن کا بھی التزام کرو [94]کیونکہ قرآن فجرمَشہُود  ہوتا ہے۔[95]{۷۸}</p>
<p> اور رات کو تہجد پڑھو ، یہ تمہارے لئے نفل ہے،[97] بعید نہیں کہ تمہارا رب تمہیں مقام ِ مُحمود [98]پر فائز کردے  ۔{۷۹}</p>
<p> اور دُعا کرو کہ پروردگار! مجھ کو جہاں بھی تولے جاسچائی کیساتھ لے جا اور جہاں سے بھی نکال سچائی کیساتھ نکال[99] اور اپنی طرف سے ایک اقتدار کو میر امددگار بنادے۔[100]{۸۰}</p>
<p>اور اعلان کردو کہ ’’ حق آگیا اور باطل مٹ گیا ، باطل تومٹنے ہی والا ہے‘‘۔[101]{۸۱}</p>
<p>ہم اس قرآن کے سلسلۂ تنزیل میں وہ کچھ نازل کررہے ہیں جو ماننے والوں کے لیے توشفا اور رحمت ہے، مگر ظالموں کے لیے خسارے کے سوا اور کسی چیزمیں اضافہ نہیں کرتا۔{۸۲}</p>
<p>انسان[102] کا حال یہ ہے کہ جب ہم اس کو نعمت عطا کرتے ہیں تو وہ اینٹھتاہے اور پیٹھ موڑلیتا ہے ، اور جب ذرا مصیبت سے دوچار ہوتا ہے تو مایوس ہونے لگتا ہے۔{ ۸۳}</p>
<p> (اے نبی  ؐ! ) ان لوگوں سے کہہ دو کہ ’’ ہر ایک اپنے طریقے پر عمل کررہا ہے ، اب یہ تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ سیدھی راہ پر کون ہے۔ ‘‘{۸۴}</p>
<p>یہ لوگ تم سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں۔ کہو: ’’ یہ روح میرے رب کے حکم سے آتی ہے ، مگر تم لوگوں نے علم سے کم ہی بہرہ پایا ہے‘‘ ۔ [103]{۸۵}</p>
<p> اور اے نبی  ؐ ! ہم چاہیں تو وہ سب کچھ تم سے چھین لیں جو ہم نے وحی کے ذریعے سے تم کو عطا کیا ہے ، پھر تم ہمارے مقابلے میں کوئی حمایتی نہ پا ؤ گے جو اسے واپس دلاسکے۔{۸۶}</p>
<p> یہ تو جو کچھ تمہیں ملا ہے تمہارے رب کی رحمت سے ملا ہے ، حقیقت یہ ہے کہ اس کا فضل تم پر بہت بڑا ہے۔ [104]{۸۷}</p>
<p> کہہ دو کہ اگر انسان اور جن سب کے سب مل کر اس قرآن جیسی کوئی چیز لانے کی کوشش کریں تو نہ لاسکیں گے ، چاہے وہ سب ایک دوسرے کے مددگار ہی کیو ں نہ ہوں۔[105] {۸۸}</p>
<p>  ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا مگر اکثر لوگ انکارہی پر جمے رہے{۸۹}</p>
<p>اور انہوں نے کہا ، ’’ہم تیری بات نہ مانیں گے جب تک کہ تو ہمارے لئے زمین کو پھاڑ کر ایک چشمہ جاری نہ کردے ۔{۹۰}</p>
<p> یاتیرے لئے کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ پیدا ہو اور تو اس میں نہریں رواں کردے۔{۹۱}</p>
<p> یا تُو آسمان کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہمارے اوپر گرادے جیسا کہ تیرا دعویٰ ہے ۔ یا اللہ اور فرشتوں کو رُو  در  رُوہمارے سامنے لے آئے۔ { ۹۲}</p>
<p>یاتیرے لئے سونے کا ایک گھربن جائے۔ یاتُو آسمان پر چڑھ جائے ، اور تیرے چڑھنے کا بھی ہم یقین نہ کریں گے جب تک کہ تُو ہمارے اوپر ایک ایسی تحریر نہ اُتار لائے جسے ہم پڑھیں ۔( اے نبی  ؐ)!ان سے کہو ’’پاک ہے میرا پروردگار ! کیا میں ایک پیغام لانے والے انسان کے سوا اور بھی کچھ ہوں ؟‘‘[106]{۹۳}</p>
<p>  لوگوں کے سامنے جب کبھی ہدایت آئی تو اس پر ایمان لانے سے اُن کو کسی چیز نے نہیں روکا مگر اُن کے اسی قول نے کہ ’’ کیا اللہ نے بشر کو پیغمبر بناکر بھیج دیا؟‘‘ [107]{۹۴}</p>
<p>ان سے کہو اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو ہم ضرور آسمان سے کسی فرشتے ہی کو اُن کے لیے پیغمبر بناکر بھیجتے۔[108]{۹۵}</p>
<p> (اے نبی  ؐ!) ان سے کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان بس ایک اللہ کی گواہی کافی ہے ، وہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور سب کچھ دیکھ رہا ہے۔[109]{۹۶}</p>
<p>جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے ، اور جسے وہ گمراہی میں ڈال دے تو اس کے سوا ایسے لوگوں کے لیے تو کوئی حامی وناصر نہیں پاسکتا ۔[110] ان لوگوں کو ہم قیامت کے روز اوندھے منھ کھینچ لائیں گے ، اندھے ، گونگے اور بہرے ۔[111]اُن کا ٹھکانا جہنم ہے جب کبھی اس کی آگ دھیمی ہونے لگے گی ہم اسے اور بھڑکا دیں گے۔ {۹۷}</p>
<p> یہ بدلہ ہے اُن کی اس حرکت کا کہ انہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا ’’ کیا جب ہم صرف ہڈیاں اور خاک ہوکررہ جائیں گے تو نئے سرے سے ہم کو پیدا کرکے اٹھاکھڑا کیا جائیگا؟ ‘‘ {۹۸}</p>
<p> کیا اِن کو یہ نہ سوجھا کہ جس اللہ نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے وہ ان جیسوں کو پیدا کرنے کی ضرور قدرت رکھتا ہے؟  اُس نے اِن کے حشر کے لیے ایک وقت مقرر کررکھا ہے جس کا آنا یقینی ہے ، مگر ظالموں کو اصرار ہے کہ وہ اس کا انکارہی کریں گے۔{۹۹}</p>
<p> (اے نبی  ؐ!) ان سے کہو ، اگر کہیں میرے رب کی رحمت کے خزانے تمہارے قبضے میں ہوتے تو تم خرچ ہوجانے کے اندیشے سے ضرور ان کو روک رکھتے۔واقعی انسان بڑاتنگ دل واقع ہوا ہے ۔[112] {۱۰۰}</p>
<p>ہم نے موسیٰ  ؑکو نو (۹)نشانیاں عطا کی تھیں جو صریح پر طور پر دکھائی دے رہی تھیں،[113] اب یہ تم خود بنی اسرائیل سے پُوچھ لو کہ جب موسیٰ  ؑ اُن کے ہاں آئے تو فرعون نے یہی کہا تھا ناکہ ’’ اے موسیٰ  ؑ! میں سمجھتا ہوں کہ تُو ضرور ایک سحرزدہ آدمی ہے‘‘۔[114]{۱۰۱}</p>
<p> موسیٰ  ؑ نے اس کے جواب میں کہا ’’ تُو خوب جانتا ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں زمین اور آسمانوں کے رب کے سواکسی نے نازل نہیں کی ہیں،[115] اور میرا خیال یہ ہے کہ اے فرعون! تو ضرور ایک شامت زدہ آدمی ہے‘‘۔[116]{۱۰۲}</p>
<p> آخر کار فرعون نے ارادہ کیا کہ موسیٰ  ؑ اور بنی اسرائیل کو زمین سے اکھاڑپھینکے ، مگر ہم نے اُس کو اور اُس کے ساتھیوں کو اکٹھا غرق کردیا {۱۰۳}</p>
<p>اور اِس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ اب تم زمین میں بسو ،[117] پھر جب آخرت کے وعدے کا وقت آن پورا ہوگا تو ہم تم سب کو ایک ساتھ لاحاضر کریں گے۔ { ۱۰۴}</p>
<p>اِس قرآن کو ہم نے حق کے ساتھ نازل کیا ہے اور حق ہی کے ساتھ یہ نازل ہُوا ہے ، اور( اے نبی  ؐ!) تمہیں ہم نے اس کے سوا اور کسی کام کے لیے نہیں بھیجا کہ ( جو مان لے اُسے ) بشارت دے دو اور ( جو نہ مانے اُسے) مُتنّبہ کردو ۔[118]{۱۰۵}</p>
<p>اور اِس قرآن کو ہم نے تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا ہے تا کہ تم ٹھہر ٹھہر کرا سے لوگوں کو سنا ؤ ، اور اسے ہم نے ( موقع موقع سے ) بتدریج اُتارا ہے۔[119]{۱۰۶}</p>
<p> (اے نبی  ؐ! ) ان لوگوں سے کہہ دو کہ تُم اسے مانو یا نہ مانو ، جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا ہے[120] انہیں جب یہ سُنایا جاتا ہے تو وہ منھ کے بل سجدے میں گرجاتے ہیں{۱۰۷}</p>
<p> اور پکار اٹھتے ہیں ’’ پاک ہے ہمارا رَبّ ، اس کا وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا‘‘۔[121]{۱۰۸}</p>
<p> اور وہ منھ کے بل روتے ہوئے گِرجاتے ہیں اور( اسے سُن کر) اُن کا خشوع اور بڑھ جاتا ہے- [122]{۱۰۹}</p>
<p>(اے نبی  ؐ!) اُن سے کہو ’’ اللہ کہہ کر پکارو یا رحمان کہہ کر، جس نام سے بھی پکارو اُس کے لیے سب اچھے ہی نام ہیں ،[123] اور اپنی نماز نہ بہت زیادہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ بہت پست آواز سے ، ان دونوں کے درمیان اُوسط درجے کا لہجہ اختیار کرو‘‘ ۔ [124]{۱۱۰}</p>
<p>او رکہو’’ تعریف ہے اُس اللہ کے لیے جس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا ، نہ کوئی بادشاہی میں اُس کا شریک ہے ، اور نہ وہ عاجز ہے کہ کوئی اُس کا پُشتیبان ہو‘‘[125]اور اُس کی بڑائی بیان کرو ، کمال درجے کی بڑائی۔{۱۱۱}</p>

</div><div id="18"><p>سورۃالکہف </p>
<p>اللہ کے نام سے جوبے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔</p>
<p>تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے بندے پر یہ کتاب نازل کی اور اس میں کوئی ٹیڑھ نہ رکھی۔[1]  {۱}</p>
<p> ٹھیک ٹھیک سیدھی بات کہنے والی کتاب، تاکہ وہ لوگوں کو اللہ کے سخت عذاب سے خبردار کر دے ، اور ایمان لاکر نیک عمل کرنے والوں کو خوش خبر ی دیدے کہ ان کے لیے اچھا اجر ہے۔ { ۲}</p>
<p> جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔{ ۳}</p>
<p>اور اُن لوگوں کوڈرا دے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔[2] { ۴}</p>
<p> اس بات کا نہ اُنہیں کوئی علم ہے اور نہ ان کے باپ دادا کو تھا۔[3] بڑی بات ہے جو ان کے منھ سے نکلتی ہے ، وہ محض جُھوٹ بکتے ہیں۔ {۵}</p>
<p>اچھا ، تو( اے نبی  ؐ!) شاید تم اِن کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کھودینے والے ہو اگر یہ اس تعلیم پر ایمان نہ لائے۔[4]{۶}</p>
<p> واقعہ یہ ہے کہ یہ جو کچھ سروسامان بھی زمین پر ہے اِس کو ہم نے زمین کی زینت  بنایا ہے تاکہ ِان لوگوں کو آزمائیں اِن میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔ {۷}</p>
<p> آخر کار اِس سب کو ہم ایک چٹیل  میدان بنادینے والے ہیں۔[5]{۸}</p>
<p>  کیا تم سمجھتے ہو کہ غار [6]اور کتبے[7] والے  ہماری کوئی بڑی عجیب نشانیو ں میں سے تھے ؟[8]{۹}</p>
<p> جب وہ چند نوجوان غار میں پناہ گزیں ہوئے اور انہوں نے کہا کہ ’’ اے پروردگار !ہم کو اپنی رحمتِ خاص سے نواز اور ہمارا معاملہ درست کردے ‘‘۔{۱۰}</p>
<p> تو ہم نے اُنہیں اُسی غار میں تھپک کرسالہا سال کے لیے گہری نیند سُلادیا ۔{۱۱}</p>
<p>پھر ہم نے انہیں اٹھایا تا کہ دیکھیں اُن کے دوگروہوں میں سے کون اپنی مدّتِ قیام کا ٹھیک شمار کرتا ہے۔{۱۲}</p>
<p> ہم اِن کا اصل قصّہ تمہیں سُناتے ہیں ۔ [9]وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لے آئے تھے اور ہم نے ان کو ہدایت میں ترقی بخشی تھی ۔ [10]{۱۳}</p>
<p> ہم نے ان کے دل اُس وقت مضبوط کردیا جب وہ اُٹھے اور انہوں نے یہ اعلان کردیا کہ ’’ ہمارا رب تو بس وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے ہم اُسے چھوڑ کرکسی دوسرے معبود کو نہ پکاریں گے ۔ اگر ہم ایسا کریں تو بالکل بیجابات کریں گے ‘‘۔ { ۱۴}</p>
<p>( پھر انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا )’’ یہ ہماری قوم تو ربّ ِکائنات کو چھوڑ کردوسرے اِلٰہ بنا بیٹھی ہے ۔ یہ لوگ ان کے معبود ہونے پر کوئی واضح دلیل کیوں نہیں لاتے ؟ آخر اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوسکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے ؟{۱۵}</p>
<p>اب جبکہ تم ان سے اور ان کے معبود انِ غیر اللہ سے بے تعلق ہوچکے ہوتو چلو اب فلاں غارمیں چل کر پنا ہ لو۔[11] تمہارا رب تم پر اپنی رحمت کا دامن وسیع کرے گا اور تمہارے کام کے لیے سروسامان مہیا کردے گا۔ ‘‘{۱۶}</p>
<p>تم انہیں غار میں دیکھتے [12] تو تمہیں یوں نظر آتا کہ سُورج جب نکلتا ہے تو ان کے غار کو چھوڑ کر دائیں جانب چڑھ جاتا ہے اور جب غروب ہوتا ہے تو ان سے بچ کر بائیں جانب اُتر جاتا ہے اور  وہ ہیں کہ غار کے اندر ایک وسیع جگہ میں پڑے ہیں ۔ [13]یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے، جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے اللہ بھٹکادے اس کے لیے تم کوئی وَلیِ مُرشد نہیں پاسکتے۔ {۱۷}</p>
<p>تم انہیں دیکھ کریہ سمجھتے کہ وہ جاگ رہے ہیں، حالانکہ وہ سورہے تھے۔ ہم انہیں دائیں ، بائیں کروٹ دِلواتے رہتے تھے[14] اور ان کا کُتّا غار کے دہانے پرہاتھ (اپنے دونوں بازو) پھیلائے بیٹھا تھا۔ اگر تم کہیں جھانک کرانہیں دیکھتے تو اُلٹے پا ؤں بھاگ کھڑے ہوتے اور تم پر ان کے نظارے سے دہشت بیٹھ جاتی۔ [15]{۱۸}</p>
<p>اور اسی عجیب کرشمے سے ہم نے انہیں اُٹھابٹھایا [16]تا کہ ذرا آپس میں پوچھ گچھ کریں ۔ اُن میں سے ایک نے پوچھا’’ کہو ، کتنی دیر اس حال میں رہے ؟‘‘ دوسروں نے کہا ’’ شاید دن بھر یا اس سے کچھ کم رہے ہوں گے۔پھر وہ بولے ’’اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہمارا کتنا وقت اس حالت میں گزرا ۔ چلو ،اب اپنے میں سے کسی کو چاندی کا یہ سِکّہ دے کر شہر بھیجیں اور وہ دیکھے کہ سب سے اچھا کھانا کہاں ملتا ہے۔ وہاں سے وہ کچھ کھانے کے لیے لائے۔ اور چاہیے کہ ذرا ہوشیاری سے کام کرے ، ایسا نہ ہو کہ وہ کسی کو ہمارے یہاں ہونے سے خبردار کر بیٹھے ۔{۱۹}</p>
<p> اگر کہیں ان لوگوں کا ہاتھ ہم پر پڑگیا توبس سنگسارہی کر ڈالیں گے یاپھر زبردستی  ہمیں اپنی مِلّت میں واپس لے جائیں گے۔اور ایسا ہوا تو ہم کبھی فلاح نہ پاسکیں گے‘‘۔{۲۰}</p>
<p> اِس طرح ہم نے اہل شہر کو اُن کے حال پر مطلع کیا[17]  تا کہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت کی گھڑی بیشک آکر رہے گی۔[18] ( مگر ذراخیال کرو کہ جب سوچنے کی اصل بات یہ تھی) اُس وقت وہ آپس میں اس بات پر جھگڑرہے تھے کہ ان ( اصحاب کہف ) کے ساتھ کیا کیا جائے ۔ کچھ لوگوں نے کہا ’’ ان پر ایک دیوار چُن دو ، ان کارب ہی ان کے معاملے کو بہتر جانتا ہے ۔  ‘‘[19]مگر جو لوگ اُن کے معاملات پر غالب تھے[20] اُنہوں نے کہا ’’ ہم تو ان پر ایک عبادت گاہ بنائیں گے‘‘۔[21] {۲۱}</p>
<p>کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا اُن کا کُتّا تھا۔اور کچھ دوسرے کہہ دیں گے کہ پانچ تھے اور چھٹا  اُن کا کُتّا تھا۔ یہ سب بے تُکی ہانکتے ہیں۔ کچھ اور لوگ کہتے ہیں کہ سات تھے اور آٹھواں اُن کا کُتّا تھا۔[22] کہو ،میرا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنے تھے۔ کم ہی لوگ ان کی صحیح تعداد جانتے ہیں۔ پس تم سرسری بات سے بڑھ کر ان کی تعداد کے معاملے میں لوگوں سے بحث نہ کرو، اور نہ ان کے متعلق کسی سے کچھ پوچھو۔ [23]{۲۲}</p>
<p>اور  دیکھو، کسی چیز کے بارے میں کبھی یہ نہ کہا کرو کہ میں کل یہ کام کردوں گا۔{۲۳}</p>
<p> (تم کچھ نہیں کرسکتے) اِلاّ یہ کہ اللہ چاہے ۔ اگر بھولے سے ایسی بات زبان سے نکل جائے تو فوراً اپنے رب کو یاد کرو اور کہو’’ امید ہے کہ میرا رب اس معاملے میں رُشد سے قریب تربات کی طرف میری رہنمائی فرمادے گا‘‘۔[24]{۲۴}</p>
<p> اور وہ اپنے غارمیں تین سوسال رہے، اور (کچھ لوگ مدت کے شمار میں) ۹ سال اور بڑھ گئے ہیں۔[25]{۲۵}</p>
<p>تم کہو، اللہ ان کے قیام کی مدّت زیادہ جانتا ہے، آسمانوں اور زمین کے سب پوشیدہ احوال اُسی کو معلوم ہیں ، کیا خوب ہے وہ دیکھنے والا اور سُننے والا !(زمین و آسمان کی مخلوقات کا) کوئی خبرگیر اس کے سوا نہیں، اور وہ اپنی حکومت میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔{۲۶}</p>
<p> (اے نبی  ؐ!) [26] تمہارے رَب ّکی کتاب میں سے جو کچھ تم پر وحی کیا گیا ہے اسے ( جوں کا توں) سُنادو ، کوئی اس کے فرمودات کو بدل دینے کا مجاز نہیں ہے، ( اور اگر تم کسی کی خاطر اس میں ردو بدل کروگے تو ) اُس سے بچ کر بھاگنے  کے لیے کوئی جائے پناہ نہ پا ؤ گے۔[27]{۲۷}</p>
<p>اور اپنے دل کو اُن لوگوں کی معیّت پر مطمئن کرو جو اپنے رب کی رضا کے طلب گاربن کر صبح و شام اُسے پکارتے ہیں ، اور ان سے ہرگز نگاہ نہ پھیرو۔ کیا تم دنیا کی زینت  پسند کرتے ہو؟[28] کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کرو [29] جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور جس نے اپنی خواہشِ نفس کی پیروی اختیار کرلی ہے اور جس کا طریق کارافراط وتفریط پر مبنی ہے۔[30]{۲۸}</p>
<p> صاف کہہ دو کہ یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے ، اب جس کاجی چاہے مان لے اور جس کا جی چاہے انکار کردے ۔[31]ہم نے (انکار کرنے والے ) ظالموں کے لیے ایک آگ تیار کررکھی ہے جس کی لپٹیں انہیں گھیرے میں لے چکی ہیں۔ [32]وہاں اگر وہ پانی مانگیں گے تو ایسے پانی سے ان کی تواضع کی جائے گی جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہوگا[33]اور اُن کا منھ بھون ڈالے گا ، بدترین پینے کی چیز اور بہت بُری آرام گاہ !{۲۹}</p>
<p>رہے وہ لوگ جو مان لیں اور نیک عمل کریں ، تویقینا ہم نیکو کارلوگوں کا اجر ضائع نہیں کیا کرتے ۔{۳۰}</p>
<p>  ان کے لیے سدا بہار جنّتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، وہاں وہ سونے کے کنگنوں سے آراستہ کئے جائیں گے، [34] بار یک ریشم اور اَطلس و دِیباَ کے سبز کپڑے پہنیں گے اور اُونچی مسندوں [35]پر تکیے لگاکر بیٹھیں گے۔ بہتر ین اجر اور اعلیٰ درجے کی جائے قیام!{۳۱}</p>
<p> (اے نبی  ؐ ! ) اُن کے سامنے ایک مثال پیش کرو۔[36] دو شخص تھے۔ ان میں سے ایک کو ہم نے انگور کے دو باغ دیے اور اُن کے گرد کھجور کے درختوں کی باڑھ لگائی اور ان کے درمیان کاشت کی زمین رکھی۔{۳۲}</p>
<p> دونوں باغ خوب پھلے پھولے اور بار آور ہونے میں انہوں نے ذراسی کسر بھی نہ چھوڑی۔ ان باغوں کے اندر ہم نے ایک نہر جاری کردی{ ۳۳}</p>
<p>اور اُسے خوب نفع حاصل ہوا۔ یہ کچھ پاکر ایک دن وہ اپنے ہمسائے سے بات کرتے ہوئے بولا :’’ میں تجھ سے زیادہ مالدار ہوں اور تجھ سے زیادہ طاقتور نفری رکھتا ہوں‘‘۔{۳۴}</p>
<p>پھر وہ اپنی جنّت میں داخل ہوا [37]اور اپنے نفس کے حق میں ظالم بن کر کہنے لگا ’’میں نہیں سمجھتا کہ یہ دولت کبھی فنا ہوجائے گی،{۳۵}</p>
<p> اور مجھے توقع نہیں کہ قیامت کی گھڑی کبھی آئے گی۔ تاہم اگر کبھی مجھے اپنے رب کے حضور پلٹا یا بھی گیا تو ضرور اِس سے بھی زیادہ شاندار جگہ پا ؤں گا‘‘۔[38]{۳۶}</p>
<p> اس کے ہمسائے نے گفتگو کرتے ہوئے اس سے کہا ’’ کیا تو کفر کرتا ہے اس ذات سے جس نے تجھے مٹی سے اور پھر نطفے سے پیدا کیا اور تجھے ایک پورا آدمی بناکر کھڑا کیا؟ [39]{۳۷}</p>
<p>رہا میں ، تو میرا رب تو وہی اللہ ہے اور میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔{۳۸}</p>
<p> اور جب تُو اپنی جنّت میں داخل ہورہا تھا تو اُس وقت تیری زبان سے یہ کیوں نہ نکلا کہ  مَاشَآئَ اللّٰہُ ، لَاقُوَّۃَ  اِلاّبِاللّٰہِ [40]اگر تو مجھے مال اور اولاد میں اپنے سے کمتر پارہا ہے {۳۹}</p>
<p>تو بعید نہیں کہ میرا رب مجھے تیری  جنّت سے بہتر عطا فرمادے اور تیری  جنّت پر آسمان سے کوئی آفت بھیج دے جس سے وہ صاف میدان بن کررہ جائے {۴۰}</p>
<p> یا اس کا پانی زمین میں اُترجائے اور پھر تو اسے کسی طرح نہ نکال سکے‘‘ {۴۱}</p>
<p> آخر کار ہوا یہ کہ اس کا سارا ثمرہ مارا گیااور وہ اپنے انگوروں کے باغ کو ٹٹیوں پر الٹا پڑا دیکھ کر اپنی لگائی ہوئی لاگت پر ہاتھ ملتا رہ گیا اور کہنے لگا کہ ’’ کاش ! میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہوتا‘‘ {۴۲}</p>
<p> نہ ہوا اللہ کو چھوڑ کر اس کے پاس کوئی جتھّا کہ اس کی مدد کرتا ، اور نہ کرسکا وہ آپ ہی اس آفت کا مقابلہ {۴۳}</p>
<p> اس وقت معلوم ہوا کہ کارسازی کا اختیار معبودِبرحق ہی کے لیے ہے ، انعام وہی بہترہے جووہ بخشے اور انجام وہی بخیر ہے جو وہ دکھائے۔ {۴۴}</p>
<p>اور( اے نبی  ؐ)  اِنہیں حیات دنیا کی حقیقت اِس مثال سے سمجھا ؤ کہ آج ہم نے آسمان سے پانی برسادیا تو زمین کی پود خوب گھنی ہوگئی ، اور کل وہی نباتات بُھس بن کررہ گئی جسے ہوائیں اُڑائے لئے پھرتی ہیں۔ اللہ ہر چیز پر قُدرت رکھتا ہے۔[41]{۴۵}</p>
<p>یہ مال اور یہ اولاد محض دنیوی زندگی کی ایک ہنگامی آرائش ہے۔ اصل میں تو باقی رہ جانے والی نیکیاں ہی تیرے رب کے نزدیک نتیجے کے لحاظ سے بہتر ہیں اور اُنہی  سے اچھی امیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں۔{۴۶}</p>
<p>فکر اُس دن کی ہونی چاہئے جب کہ ہم پہاڑوں کو چلائیں گے ،[42] اور تم زمین کو باکل برہنہ پا ؤ گے ،[43] اور ہم تمام انسانوں کو اس طرح گھیر کر جمع کریں گے کہ ( اگلوں پچھلوں میں سے)  ایک بھی نہ چُھوٹے گا [44]{۴۷}</p>
<p>اور سب کے سب تمہارے رب کے حضورصف درصف پیش کئے جائیں گے۔ لودیکھ لو ، آگئے ناتم ہمارے پاس اُسی طرح جیسا ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا ۔ [45]تم نے تو یہ سمجھا تھا کہ ہم نے تمہارے لئے کوئی وعدے کا وقت مقّررہی نہیں کیا ہے۔{۴۸}</p>
<p> اور نامۂ اعمال سامنے رکھ دیا جائے گا۔ اُس وقت تم دیکھو گے کہ مجرم لوگ اپنی کتابِ زندگی کے اندراجات سے ڈررہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ ’’ ہائے ہماری کم بختی ، یہ کیسی کتاب ہے کہ ہماری کوئی چھوٹی بڑی حرکت ایسی نہیں رہی جو اس میں درج نہ ہوگئی ہو۔ ‘‘ جوجو کچھ اُنہوں نے کیا تھا وہ سب اپنے سامنے حاضر پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ذرا ظلم نہ کرے گا۔[46]{۴۹}</p>
<p>  یادکرو ، جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم ؑکو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا۔[47] وہ جنوں میں سے تھا اس لیے اپنے رب کے حکم کی اطاعت سے نکل گیا۔[48] اب کیا تم مجھے چھوڑ کر اس کو اور اُس کی ذُرّیت کو اپنا سرپرست بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں ؟ بڑا ہی برُا بدل ہے جسے ظالم لوگ اختیار کررہے ہیں۔{۵۰}</p>
<p> میں نے آسمان وزمین پیدا کرتے وقت اُن کو نہیں بلایا تھا اور نہ خود اُن کی اپنی تخلیق میں انہیں شریک کیا تھا۔[49] میرا کام یہ نہیں ہے کہ گمراہ کرنے والوں کو اپنا مددگار بنایا کروں  {۵۱}</p>
<p>پھر کیا کریں گے یہ لوگ اُس روز جب کہ ان کا ربّ اُن سے کہے گا کہ پکارو اب ان ہستیوں کو جنہیں تم میرا شریک سمجھ بیٹھے تھے۔[50]یہ ان کو پکاریں گے ، مگروہ ان کی مدد کو نہ آئیں گے اور ہم ان کے درمیان ایک ہی ہلاکت کاگڑھا مشترک کردیں گے۔[51]{ ۵۲}</p>
<p>سارے مجرم اُس روز آگ دیکھیں گے اور سمجھ لیں گے کہ اب انہیں اس میں گِرنا ہے اور وہ اس سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ نہ پائیں گے۔ {۵۳}</p>
<p>ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا مگر انسان بڑا ہی جھگڑ الوواقع ہوا ہے۔{ ۵۴}</p>
<p>  اُن کے سامنے جب ہدایت آئی تو اسے ماننے اور اپنے رب کے حضور معافی چاہنے سے آخر اُن کو کس چیز نے روک دیا؟ اِس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ منتظر ہیں کہ ان کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو ،جوپچھلی قوموں کے ساتھ ہوچکا ہے، یایہ کہ وہ عذاب کو سامنے آتے دیکھ لیں! [52]{۵۵}</p>
<p>رسُولوں کو ہم اس کام کے سوا اور کسی غرض کے لیے نہیں بھیجتے کہ وہ بشارت اور تنبیہ کی خدمت انجام دے دیں[53] مگر کافروں کا حال یہ ہے کہ وہ باطل کے ہتھیار لے کر حق کو نیچادکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور انہوں نے میری آیات کو اور اُن تنبیہات کو جو انہیں کی گئیں مذاق بنالیا ہے۔{۵۶}</p>
<p>اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہے جسے اس کے رب کی آیات سُناکر نصیحت کی جائے اور وہ اُن سے منھ پھیرے اور اُس بُرے انجام کو بھول جائے جس کا سروسامان اس نے اپنے لئے خود اپنے ہاتھوں کیا ہے؟ ( جن لوگوں نے یہ روش اختیار کی ہے) ان کے دلوں پر ہم نے غلاف چڑھا دیے ہیں جو انہیں قرآن کی بات نہیں سمجھنے دیتے، اور اُن کے کانوں میں ہم نے گرانی پیدا کردی ہے۔ تم انہیں ہدایت کی طرف کتنا ہی بلا ؤ ،وہ اس حالت میں کبھی ہدایت نہ پائیں گے۔[54]{۵۷}</p>
<p>تیرا رب بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔ وہ اِن کے کرتُوتُوں پر انہیں پکڑنا چاہتا تو جلدی ہی عذاب بھیج دیتا۔ مگر اِن کے لیے وعدے کا ایک وقت مُقّرر ہے اور اس سے بچ کربھاگ نکلنے کی یہ کوئی راہ نہ پائیں گے۔[55] {۵۸}</p>
<p> یہ عذاب رسیدہ بستیاں تمہارے سامنے موجود ہیں ،[56] انہوں نے جب ظلم کیا تو ہم نے انہیں ہلاک کردیا، اور ان میں سے ہر ایک کی ہلاکت کے لیے ہم نے وقت مُقّرر کررکھا تھا۔{۵۹}</p>
<p> (ذرا اِن کو وہ قصہ سنا ؤ جو موسیٰ  ؑ کو پیش آیا تھا) جبکہ موسیٰ  ؑنے اپنے خادم سے کہا تھا کہ ’’ میں اپنا سفر ختم نہ کروں گا جب تک کہ دونوں دریا ؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جا ؤں، ورنہ میں ایک زمانہ ٔدراز تک چلتا ہی رہوں گا۔[57] {۶۰}</p>
<p> پس جب وہ ان کے سنگم پر پہنچے تو اپنی مچھلی سے غافل ہوگئے اور وہ نِکل کر اس طرح دریا میں چلی گئی جیسے کہ کوئی  سُرنگ لگی ہو {۶۱}</p>
<p> آگے جاکر موسیٰ  ؑنے اپنے خادم سے کہا ’’ لا ؤ ہمارا ناشتہ ،آج کے سفر میں تو ہم بُری طرح تھک گئے ہیں‘‘۔ {۶۲}</p>
<p>  خادم نے کہا’’ آپ نے دیکھا !  یہ کیا ہوا؟ جب ہم اُس چٹان کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے اس وقت مجھے مچھلی کا خیال نہ رہا اور شیطان نے مجھ کو ایسا غافل کردیا کہ میں اس کا ذکر (آپ سے کرنا ) بھُول گیا۔ مچھلی تو عجیب طریقے سے نکل کردریا میں چلی گئی‘‘{۶۳}</p>
<p> موسیٰ  ؑنے کہا ، ’’ اسی کی تو ہمیں تلاش تھی‘‘ ۔[58]۱چنانچہ وہ دونوں اپنے نقشِ قدم پرپھر واپس ہوئے {۶۴}</p>
<p>اور وہاں انہو ں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم نے اپنی رحمت سے نوازا تھا اور اپنی طرف سے ایک خاص علم عطا کیاتھا۔ [59]{۶۵}</p>
<p> موسیٰ  ؑ نے اُس سے کہا ’’ کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں تا کہ آپ مجھے بھی اُس دانش کی تعلیم دیں  جو آپ کوسکھائی گئی ہے‘‘؟ {۶۶}</p>
<p> اُس نے جواب دیا،’’ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکتے{۶۷}</p>
<p>اور جس چیز کی آپ کو خبر نہ ہو آخرآپ اُس پر صبر کربھی کیسے سکتے ہیں‘‘۔{۶۸}</p>
<p> موسیٰ  ؑ نے کہا ’’ان شاء اللہ آپ  مجھے صابر پائیں گے اور میں کسی معاملہ میں آپ کی نافرمانی نہ کروں گا‘‘۔{۶۹}</p>
<p> اُس نے کہا ’’اچھا ، اگر آپ میرے ساتھ چلتے ہیں تو مجھ سے کوئی بات نہ پوچھیں جب تک کہ میں خو د اس کا آپ سے ذکر نہ کروں  ‘‘۔{۷۰}</p>
<p>اب وہ دونوں روانہ ہوئے یہاں تک کہ وہ ایک کشتی میں سوار ہوگئے تو اُس شخص نے کشتی میں شگاف ڈال دیا۔ موسیٰ  ؑ نے کہا ’’ آپ نے اس میں شِگاف ڈالدیا تا کہ سب کشتی والوں کو ڈبودیں ؟ یہ تو آپ نے ایک سخت حرکت کرڈالی‘‘۔{۷۱}</p>
<p> اس نے کہا ’’میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کرسکتے‘‘{۷۲}</p>
<p>  موسیٰ  ؑ نے کہا ’’ بھول چوک پر مجھے نہ پکڑیے میرے معاملے میں آپ ذرا سختی سے کام نہ لیں۔ { ۷۳}</p>
<p>  پھر وہ دونوں چلے ، یہاں تک کہ ان کو ایک لڑکا ملا اور اُس شخص نے اسے قتل کردیا ۔ موسیٰ  ؑنے کہا ’’آپ نے ایک بے گناہ کی جان لے لی حالانکہ اُس نے کسی کا خون نہ کیا تھا؟ یہ کام تو آپ نے بہت ہی بُرا کیا‘‘{۷۴}</p>
<p> اس نے کہا ’’ میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کرسکتے؟‘‘ {۷۵}</p>
<p>  موسیٰ  ؑنے کہا ’’اس کے بعد اگر میں آپ سے کچھ پُوچھوں تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں ۔ لیجئے، اب تو میری طرف سے آپ کو عذر مل گیا‘‘۔{۷۶}</p>
<p>پھر وہ آگے چلے یہاں تک کہ ایک بستی میں پہنچے اور وہاں کے لوگوں سے کھانا مانگا مگر انہوں نے ان دونوں کی ضیافت سے انکار کردیا۔ وہاں انہوں نے ایک دیوار دیکھی جو گِراچا ہتی تھی۔ اُس شخص نے اس دیوار کو پھر قائم کردیا۔ موسیٰ  ؑنے کہا۔’’ اگر آپ چاہتے تو اس کام کی اجرت لے سکتے تھے‘‘۔ {۷۷}</p>
<p> اُس نے کہا ’’ بس میرا تمہارا ساتھ ختم ہو ا۔ اب میں تمہیں اُن باتوں کی حقیقت بتاتا ہوں جن پر تم صبر نہ کرسکے۔ {۷۸}</p>
<p> اُس کشتی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ چند غریب آدمیوں کی تھی جودریا میں محنت مزدوری کرتے تھے، میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں کیونکہ آگے ایک ایسے بادشاہ کا علاقہ تھا جو ہر کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا ۔{۷۹}[1</p>
<p> رہا وہ لڑکا ، تو اس کے والدین مومن تھے، ہمیں اندیشہ ہوا کہ یہ لڑکا اپنی سرکشی اور کفر سے ان کو تنگ کرے گا {۸۰}</p>
<p> اس لیے ہم نے چاہا کہ ان کا رَبّ اس کے بدلے ان کو ایسی اولاد دے جو اخلاق میں بھی اس سے بہتر ہو اور جس سے صلہ رحمی بھی زیادہ متوقع ہو{۸۱}</p>
<p> اور اِس دیوار کا معاملہ یہ ہے کہ یہ دو یتیم لڑکوں کی ہے جو اس شہر میں رہتے ہیں، اِس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لیے ایک خزانہ مدفون ہے اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا۔ اس لیے تمہارے رَبّ نے چاہا کہ یہ دونوں بچے بالغ ہوں اور اپنا خزانہ نکال لیں، یہ تمہارے رَبّ کی رحمت کی بناپر کیا گیا ہے ، میں نے کچھ اپنے اختیار سے نہیں کردیا ہے۔یہ ہے حقیقت اُن باتوں کی جن پر تم صبر نہ کرسکے‘‘[60]{۸۲}</p>
<p>اور (اے نبی  ؐ!)یہ لوگ تم سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں۔[61] ان سے کہو ، میں اُس کا کچھ حال تم کو سُناتا ہوں۔[62]{ ۸۳}</p>
<p>ہم نے اُس کو زمین میں اقتدار عطا کررکھا تھا اور اسے ہر قسم کے اسباب ووسائل بخشے تھے۔{ ۸۴}</p>
<p>اس نے ( پہلے مغرب کی طرف ایک مہم کا ) سروسامان کیا۔{۸۵}</p>
<p>حتیٰ کہ جب وہ غروبِ آفتا ب کی حد تک پہنچ گیا [63]تو اس نے سُورج کو ایک کالے پانی میں ڈوبتے  دیکھا [64]اور وہاں اسے ایک قوم ملی۔ ہم نے کہا ’’ اے ذُوالقرنین! تجھے یہ مقدرت بھی حاصل ہے کہ ان کو تکلیف پہنچائے اور یہ بھی کہ ان کے ساتھ نیک رویہّ اختیار کرے‘‘۔[65] {۸۶}</p>
<p>اس نے کہا،’’ جو اُن میں سے ظلم کرے گا ہم اس کو سزادیں گے، پھر وہ اپنے رَبّ کی طرف پلٹا یا جائے گا اور وہ اسے اور زیادہ سخت عذاب دے گا۔{۸۷}</p>
<p> اور جو اُن میں سے ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا ، اُس کے لیے اچھی جزا ہے اور ہم اُس کو نرم احکام دیں گے‘‘۔ {۸۸}</p>
<p>پھر اُس نے( ایک دوسری مہم کی) تیاری کی {۸۹}</p>
<p>یہاں تک کہ طلوعِ آفتاب کی حد تک جا پہنچا ۔ وہاں اس نے دیکھا کہ سورج ایک ایسی قوم پر طلوع ہورہا ہے جس کے لیے دُھوپ سے بچنے کا کوئی سامان ہم نے نہیں کیا ہے۔[66]{۹۰}</p>
<p>یہ حال تھا اُن کا، اور ذوالقرنین کے پاس جو کچھ تھا اُسے ہم جانتے تھے۔{۹۱}</p>
<p>پھر اُس نے (ایک اور مہم کا) سامان کیا{۹۲}</p>
<p> یہاں تک کہ جب دوپہاڑوں کے درمیان پہنچا[67] تو اسے ان کے پاس ایک قوم ملی جو مشکل ہی سے کوئی بات سمجھتی تھی۔[68]{۹۳}</p>
<p>اُن لوگوں نے کہا کہ ’’ اے ذوالقرنین! یاجوج اور ماجوج[69] اِس سرزمین میں فساد پھیلاتے ہیں تو کیا ہم تجھے کوئی ٹیکس اِس کام کے لیے دیں کہ تو ہمارے اور اُن کے درمیان ایک بند تعمیر کردے‘‘ ؟ {۹۴}</p>
<p> اس نے کہا’’جو کچھ میرے رَبّ نے مجھے دے رکھا ہے وہ بہت ہے۔ تم بس محنت سے میری مدد کرو ، میں تمہارے اور ان کے درمیان بند بنائے دیتا ہوں۔[70] {۹۵}</p>
<p> مجھے لوہے کی چادریں لاکردو‘‘۔آخر جب دونوں پہاڑوں کے درمیانی خلا کو اس نے پاٹ دیا تو لوگوں سے کہا کہ اب آگ دہکا ؤ۔حتیٰ کہ جب ( یہ آ ہنی دیوار ) بالکل آگ کی طرح سُرخ کردی تو اس نے کہا ’’ لا ؤ ،اب میں اس پر پگھلا ہواتانبا اُنڈیلوں گا‘‘۔ {۹۶}</p>
<p> (یہ بند ایسا تھا کہ ) یاجوج وماجوج اس پر چڑھ کر بھی نہ آسکتے تھے اور اس میں نقب لگانا ان کے لیے اور بھی مشکل تھا۔{۹۷}</p>
<p> ذوالقرنین نے کہا ’’ یہ میرے رَبّ کی رحمت ہے۔ مگر جب میرے رَبّ کے وعدے کا وقت آئے گا تو وہ اس کو پیوند خاک کردے گا۔[71] اور میرے رَبّ کا وعدہ برحق ہے ‘‘۔[72]{۹۸}</p>
<p>اور اُس [73]روز ہم لوگوں کو چھوڑ دیں گے کہ (سمندر کی موجوں کی طرح) ایک دوسرے سے گُتھّم گُتّھاہوں اورصُورپُھونکا جائے گا اور ہم سب انسانوں کو ایک ساتھ جمع کریں گے۔{۹۹}</p>
<p>اور وہ دن ہوگا جب ہم جہنم کو کافروں کے سامنے لائیں گے{۱۰۰}</p>
<p>اُن کافروں کے سامنے جو میری نصیحت کی طرف سے اندھے بنے ہوئے تھے اور کچھ سننے کے لیے تیار ہی نہ تھے۔{۱۰۱}</p>
<p>تو کیا [74]یہ لوگ ، جنہوں نے کفر اختیار کیا ہے ، یہ خیال رکھتے ہیں کہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوںکو اپنا کارساز بنالیں؟ ہم نے ایسے کافروں کی ضیافت کے لیے جہنم تیار کررکھی ہے۔ { ۱۰۲}</p>
<p> (اے نبی  ؐ!) ان سے کہو ، کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام ونامراد لوگ کون ہیں؟{۱۰۳}</p>
<p>وہ کہ دنیا کی زندگی میں جن کی ساری سعی وجہدراہ ِ راست سے بھٹکی رہی [76]اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کررہے ہیں ۔{۱۰۴}</p>
<p> یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رَبّ کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اُس کے حضور پیشی کا یقین نہ کیا۔ اس لیے اُن کے سارے اعمال ضائع ہوگئے، قیامت کے روز ہم اُنہیں کوئی وزن نہ دیں گے۔[77] {۱۰۵}</p>
<p> اِن کی جزا جہنم ہے اُس کفر کے بدلے جو انہوں نے کیا اور اُس مذاق کی پاداش میں جووہ میری آیات اور میرے رسُولوں کے ساتھ کرتے رہے۔{۱۰۶}</p>
<p> البتہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ، اُن کی میزبانی کے لیے فردوس[78] کے باغ ہوں گے{۱۰۷}</p>
<p> جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور کبھی اس جگہ سے نکل کر کہیں جانے کو اُن کاجی نہ چاہے گا۔[79]{۱۰۸}</p>
<p> (اے نبی  ؐ ! )کہو کہ اگر سمندر میرے رَبّ کی باتیں[80] لکھنے کے لیے روشنائی بن جائے تو وہ ختم ہوجائے مگر میرے رَبّ کی باتیں ختم نہ ہوں،بلکہ اگر اتنی ہی روشنائی ہم اور لے آئیں تو وہ بھی کفایت نہ کرے۔{۱۰۹}</p>
<p>اے نبی  ؐ! کہو کہ میں تو ایک انسان ہوں تم ہی جیسا ، میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا  اِلٰہ بس ایک ہی  اِلٰہ ہے ، پس جو کوئی اپنے رَبّ کی ملاقات کا اُمیدوار ہو ،اُسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور بندگی میں اپنے رَبّ کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے۔{۱۱۰}</p>

</div><div id="19"><p>سورۃمریم </p>
<p>اللہ کے نام سے جوبے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔</p>
<p>کٓھٰیٰعٓصٓ۔{۱}</p>
<p> ذِکر [1]ہے اُس رحمت کا جو تیرے رَبّ نے اپنے بندے زَکرِیاؑ [2]پر کی تھی{ ۲}</p>
<p> جب کہ اس نے اپنے رَبّ کو چُپکے چُپکے پُکارا۔{۳}</p>
<p>اُس نے عرض کیا’’ اے پروردگار !میری ہڈیاں تک گھل گئی ہیں اور سربڑھاپے سے بھڑک اٹھاہے،اے پروردگار! میں کبھی تجھ سے دُعا مانگ کرنا مراد نہیں رہا{۴}</p>
<p> مجھے اپنے پیچھے اپنے بھائی بندوں کی بُرائیوں کا خوف [3]ہے اور میری بیوی بانجھ ہے۔ تو مجھے اپنے فضل ِخاص سے ایک وارِث عطا کردے {۵}</p>
<p>جو میرا وارث بھی ہو اور آلِ یعقوبؑ کی میراث بھی [4]پائے، اور اے پروردگار! اُس کو ایک پسندیدہ انسان بنا۔‘‘{۶}</p>
<p> ( جواب دیا گیا) ’’ اے زَکرِیا ؑ!ہم تجھے ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہوگا ہم نے اِس نام کا کوئی آدمی اِس سے پہلے پیدا نہیں کیا‘‘[5]{۷}</p>
<p> عرض کیا ’’پروردگار ! بھلا میرے ہاں کیسے بیٹا ہوگا جبکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بوڑھا ہو کر سوکھ چکاہوں ‘‘؟{۸}</p>
<p> جواب ملا’’ایسا ہی ہوگا۔ تیرا رَبّ فرماتا ہے کہ یہ تو میرے لئے ایک ذراسی بات ہے ، آخر اِس سے پہلے میں تجھے پیدا کرچکا ہوں جب کہ تو کوئی چیزنہ تھا‘‘۔[6]{۹}</p>
<p> زَکرِیاؑ نے کہا ،’’پروردگار! میرے لئے کوئی نشانی مقرر کردے۔ فرمایا ’’تیرے لئے نشانی یہ ہے کہ تُوپیہم تین دن لوگوں سے بات نہ کرسکے گا ‘‘۔ {۱۰}</p>
<p>چنانچہ وہ محراب [7]سے نکل کر اپنی قوم کے سامنے آیا اور اس نے اشارے سے اُن کو ہدایت کی کہ صبح وشام تسبیح کرو۔[8]{۱۱}</p>
<p>اے یحییٰ  ؑ ! کتاب اِلہٰی کو مضبوط تھام لے۔[9]  ہم نے اُسے بچپن ہی میں ’’ حکم ‘‘[10]سے نوازا{۱۲}</p>
<p> اور اپنی طرف سے اس کو نرم دلی[11] اور پَاکیزگی عطا کی، اور وہ بڑا پرہیزگار تھا{۱۳}</p>
<p>اور اپنے والدین کا حق شناس تھا۔ وہ  جبّارنہ تھا او رنہ نافرمان۔{۱۴}</p>
<p>سلام اُس پر جس روز کہ وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ مرے اور جس روز وہ زندہ کرکے اٹھایا جائے۔[12]{۱۵}</p>
<p>اور اے نبی  ؐ! اس کتاب میں مریم کا حال بیان کرو،[13] جبکہ وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر شرقی جانب گوشہ نشین ہوگئی تھی {۱۶}</p>
<p> اور پردہ ڈال کر اُن سے چُھپ بیٹھی تھی۔[14]  اس حالت میں ہم نے اس کے پاس اپنی روح کو ( یعنی فرشتے کو ) بھیجا اور وہ اس کے سامنے ایک پورے انسان کی شکل میں نمودار ہوگیا۔ {۱۷}</p>
<p> مریم یکایک بول اُٹھی کہ ’’ اگر تو کوئی متقی آدمی ہے تو میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں‘‘ ۔{۱۸}</p>
<p> اُس نے کہا ’’میں تو تیرے رَبّ کافرستادہ ہوں اور اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ تجھے ایک پاکیزہ لڑکادُوں ‘‘۔{۱۹}</p>
<p> مریم نے کہا ’’میرے ہاں کیسے لڑکا ہوگا جبکہ مجھے کسی بشر نے چُھواتک نہیں ہے اور میں کوئی بدکار عورت نہیں ہوں‘‘ ۔{۲۰}</p>
<p> فرشتے نے کہا’’ ایسا ہی ہوگا  تیرا رَبّ فرماتا ہے کہ ایسا کرنا میرے لئے بہت آسان ہے اور ہم یہ اس لیے کریں گے کہ اُس لڑکے کولوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں[15] اور اپنی طرف سے ایک رحمت۔ اور یہ کام ہوکر رہنا ہے‘‘۔{۲۱}</p>
<p>مریم کو اِس بچے کا حمل رہ گیا اور وہ اس حمل کو لئے ہوئے ایک دُور کے مقام پر چلی گئی۔  [16]{۲۲}</p>
<p> پھر زچگی کی تکلیف نے اُسے ایک کھجور کے درخت کے نیچے پہنچا دیا۔ وہ کہنے لگی ’’ کاش میں اس سے پہلے ہی مرجاتی اور میرانام ونشان نہ رہتا ۔‘‘[17] { ۲۳}</p>
<p> فرشتے نے پائینتی سے اس کو پکار کر کہا ’’غم نہ کر تیرے رَبّ نے تیرے نیچے ایک چشمہ رواں کردیا ہے،{ ۲۴}</p>
<p>اور تو ذرا اِس درخت کے تنے کو ہلا، تیرے اوپر تروتازہ کھجوریں ٹپک پڑیں گی۔{۲۵}</p>
<p> پس توکھا اور پی اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر۔ پھر اگر کوئی آدمی تجھے نظر آئے تو اُس سے کہہ دے کہ میں نے رحمان کے لیے روزے کی نذرمانی ہے ، اس لیے آج میں کسی سے نہ بولوں گی ‘‘۔[18]{۲۶}</p>
<p>پھر وہ اس بچّے کو لئے ہوئے اپنی قوم میں آئی۔ لوگ کہنے لگے۔ ’’ اے مریم !یہ تو، تونے بڑا پاپ کرڈالا۔{۲۷}</p>
<p> اے ہارون کی بہن! [19]  نہ تیرا باپ کوئی بُرا آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی کوئی بدکار عورت تھی۔‘‘{۲۸}</p>
<p> مریم نے بچّے کی طرف اشارہ کردیا۔ لوگوں نے کہا’’ہم اِس سے کیا بات کریں جو گہوارے میں پڑا ہوا ایک بچّہ[20] ہے ‘‘؟{۲۹}</p>
<p> بچہ بول اٹھا ’’ میں اللہ کا بندہ ہوں۔  اُس نے مجھے کتاب  دی ، اور نبی بنایا۔{۳۰}</p>
<p> اور بابرکت کیا جہاں بھی میں رہوں ، اور نماز اور زکوٰۃ کی پابندی کا حکم دیا جب تک میں زندہ  رہوں، {۳۱}</p>
<p> اور اپنی والدہ کا حق ادا کرنے والا بنایا  اور مجھ کوجَبّار اور شقی نہیں بنایا۔{۳۲}</p>
<p>سلام ہے مجھ پر جبکہ میں پیدا ہوا اور جبکہ میں مروں اور جبکہ زندہ کرکے اٹھایا جا ؤں‘‘۔  [21]{۳۳}</p>
<p>یہ ہے عیسیٰؑ ابن مریم اور یہ ہے اس کے بارے میں وہ سچّی بات جس میں لوگ شک کر رہے ہیں۔ {۳۴}</p>
<p>اللہ کا یہ کام نہیں کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے۔ وہ پاک ذات ہے۔ وہ جب کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے تو کہتا ہے کہ ہوجا،اور بس وہ ہوجاتی ہے۔[22]{۳۵}</p>
<p> (ا ور عیسیٰ  ؑ نے کہا تھا کہ )’’ اللہ میرا رَبّ بھی ہے اور تمہارا رَبّ بھی ، پس تُم اُسی کی بندگی کرو ، یہی سیدھی راہ[23] ہے ‘‘۔ {۳۶}</p>
<p>مگر پھر مختلف گروہ [24]باہم اختلاف کرنے لگے۔ سوجن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے وہ وقت بڑی تباہی کا ہوگا جب کہ وہ ایک بڑادن دیکھیں گے {۳۷}</p>
<p> جب وہ ہمارے سامنے حاضر ہوں گے اس روز توان کے کان بھی خوب سُن رہے ہوں گے اور اُن کی آنکھیں بھی خوب دیکھتی ہو ںگی، مگر آج یہ ظالم کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔{۳۸}</p>
<p> ( اے نبی  ؐ!) اِس حالت میں جب کہ یہ لوگ غافل ہیں اور ایمان نہیں لارہے ہیں ، انہیں اُس دن سے ڈرا دو جبکہ فیصلہ کردیا جائے گا اور پچھتا وے کے سواکوئی چارہ ٔکارنہ ہوگا۔{۳۹}</p>
<p>آخر کارہم ہی زمین اور اس کی ساری چیزوں کے وارث ہوں گے اور سب ہماری طرف ہی پلٹائے جائیں گے۔[25]{۴۰}</p>
<p> اور اس کتاب میں ابراہیم ؑ کا قصہ بیان کرو [26]، بے شک وہ ایک راست باز انسان اور ایک نبی تھا۔{۴۱}</p>
<p> (انہیں ذرا اُس موقع کی یاد دلا ؤ) جبکہ اس نے اپنے باپ سے کہا کہ ’’ ا بّا جان !آپ کیو ںاُن چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ سُنتی ہیں،نہ دیکھتی ہیں اور نہ آپ کے کوئی کام بناسکتی ہیں ؟ {۴۲}</p>
<p>ابّا جان!میرے پاس ایک ایسا علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا، آپ میرے پیچھے چلیں ، میں آپ کو سیدھاراستہ بتا ؤں گا۔ {۴۳}</p>
<p> ابّاجان! آپ شیطان کی بندگی نہ کریں[27] ، شیطان تو رحمن کانافرمان ہے۔ { ۴۴}</p>
<p>ابّاجان ! مجھے ڈرہے کہ کہیں آپ رحمن کے عذاب میں مبتلا نہ ہوجائیں اور شیطان کے ساتھی بن کررہیں ‘‘{۴۵}</p>
<p> باپ نے کہا، ’’ابراہیم  ؑ! کیا تو میرے معبودوں سے پھر گیا ہے ؟ اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کردوںگا بس تو ہمیشہ کے لیے مجھ سے الگ ہوجا،‘‘{۴۶}</p>
<p> ابراہیم  ؑ نے کہا ’’ سلام ہے آپ کو میں اپنے رَبّ سے دعا کرو ں گا کہ آپ کو معاف کردے ، میرا رَبّ مجھ پر بڑاہی مہربان ہے۔{۴۷}</p>
<p> میں آپ لوگوں کو بھی چھوڑتا ہوں اور ان ہستیوں کو بھی جنہیں آپ لوگ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے ہیں۔ میں تو اپنے رَبّ ہی کو پکارو ںگا ، اُمید ہے کہ میں اپنے رَبّ کو پکار کرنا مرادنہ رہوں گا۔ ‘‘{۴۸}</p>
<p> پس جب وہ اُن لوگوں سے اور اُن کے معبود انِ غیراللہ سے جُدا ہوگیا تو ہم نے اس کو اسحاق  ؑ اور یعقوب ؑجیسی اولاد دی اور ہر ایک کو نبی بنایا {۴۹}</p>
<p> اور ان کو اپنی رحمت سے نوازا اور ان کو سچی نام وری عطا کی۔[28]{۵۰}</p>
<p> اور ذکر کرو اِس کتاب میں موسیٰ  ؑکا۔ وہ ایک چیدہ شخص [29]تھا اور رسول نبی تھا۔ [30] {۵۱}</p>
<p>  ہم نے اُس کو طور کے داہنی جانب سے پکارا [31]اور راز کی گفتگو سے اس کو تقرب عطا کیا [32] {۵۲}</p>
<p> اور اپنی مہربانی سے اس کے بھائی ہارونؑ کو نبی بناکر اسے (مدد گار کے طور پر ) دیا۔ {۵۳}</p>
<p>اور اس کتاب میں اسماعیل ؑ کا ذکر کرو۔ وہ وعدے کا سچّا تھا اور رسول نبی تھا۔{۵۴}</p>
<p>وہ اپنے گھروالوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا تھا اور اپنے رَبّ کے نزدیک ایک پسندیدہ انسان تھا۔{۵۵}</p>
<p> اور اس کتاب میں ادریس ؑ [33]کا ذکر کرو۔ وہ ایک راست باز انسان اور ایک نبی تھا۔{۵۶}</p>
<p> اور اسے ہم نے بلند مقام پر اٹھایا تھا ۔[34]{۵۷}</p>
<p>یہ وہ پیغمبر ہیں جن پر اللہ نے انعام فرمایاآدم ؑ کی اولاد میں سے ، اور اُن لوگوں کی نسل سے جنہیں ہم نے نوحؑ  کے ساتھ کشتی پر سوار کیا تھا ، اور ابراہیم ؑ کی نسل سے اور اسرائیلؑ کی نسل سے ۔ اوریہ اُن لوگوں میں سے تھے جن کو ہم نے ہدایت بخشی اور برگزیدہ کیا۔ اُن کا حال یہ تھا کہ جب رحمان کی آیات ان کوسنائی جاتیں تو روتے ہوئے سجدے میں گِر جاتے تھے۔{۵۸}</p>
<p>  پھر ان کے بعد وہ ناخلف لوگ ان کے جانشین ہوئے جنہوں نے نماز کو ضائع [35]کیا اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کی[36]، پس قریب ہے کہ وہ گمراہی کے انجام سے دوچارہوں۔ {۵۹}</p>
<p> البتہ جو توبہ کرلیں اور ایمان لے آئیں اور نیک عملی اختیار کرلیں وہ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرّہ برابر حق تلفی نہ ہوگی {۶۰}</p>
<p>ان کے لیے ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کا رحمان نے اپنے بندوں سے درپردہ وعدہ کررکھا ہے [37]اور یقینا یہ وعدہ پورا ہوکر رہنا ہے۔{۶۱}</p>
<p> وہاں وہ کوئی بیہُودَہ بات نہ سنیں گے،جو کچھ بھی سُنیں گے ٹھیک ہی سُنیں گے[38] اور اُن کا رزق انہیں پیہم صبح وشام ملتا رہے گا۔{ ۶۲}</p>
<p>یہ ہے وہ جنّت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اُس کو بنائیں گے جو پرہیز گار رہا ہے۔{ ۶۳}</p>
<p>(اے نبی  ؐ! [39] )ہم تمہارے رَبّ کے حکم کے بغیر نہیں اُتراکرتے۔ جو کچھ ہمارے آگے ہے اور جو کچھ پیچھے ہے اور جو کچھ اس کے درمیان ہے ہر چیز کا مالک وہی ہے اور تمہارا رَبّ بھولنے والا نہیں ہے۔{ ۶۴}</p>
<p> وہ رَبّ ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور ان ساری چیزوں کا جو آسمانوں اور زمین کے درمیان ہیں ، پس تم اُس کی بندگی کرو اور اُسی کی بندگی پر ثابت قدم رہو[40] ۔ کیا ہے کوئی ہستی تمہارے علم میں اس کی ہم پایہ ؟[41]{۶۵}</p>
<p>  انسان کہتا ہے کیا واقعی جب میں مرچکوں گا تو پھر زندہ کرکے نکال لایا جا ؤں گا؟ {۶۶}</p>
<p> کیا انسان کو یاد نہیں آتا کہ ہم پہلے اس کو پیدا کر چکے ہیں جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھا ؟{۶۷}</p>
<p> تیرے رَبّ کی قسم ، ہم ضرور اِن سب کو اور ان کے ساتھ شیاطین کو بھی[42] گھیرلائیں گے ، پھر جہنم کے گردلا کر اِنہیں گھٹنوں کے بل گرادیں گے {۶۸}</p>
<p> پھر ہر گروہ میں سے ہر اُس شخص کو چھانٹ لیں گے جو رحمان کے مقابلے میں زیادہ سرکش بناہوا تھا[43] {۶۹}</p>
<p> پھر یہ ہم جانتے ہیں کہ ان میں سے کون سب سے بڑھ کر جہنم میں جھونکے جانے کا مستحق ہے۔ {۷۰}</p>
<p> تم میں سے کوئی ایسا نہیں جو جہنم پر واردنہ ہو ، [44]یہ توایک طے شدہ بات ہے جسے پُورا کرنا تیرے رَبّ کا ذِمّہ ہے۔ {۷۱}</p>
<p> پھر ہم اُن لوگوں کو بچالیں گے جو ( دنیا میں ) متقی تھے اور ظالموں کو اُسی میں گِراہوا چھوڑدیں گے ۔{۷۲}</p>
<p>  اِن لوگوں کو جب ہماری کھلی کھلی آیات سُنائی جاتی ہیں تو انکار کرنے والے ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں ’’ بتا ؤ ہم دونوں گروہوں میں سے کون بہتر حالت میں ہے اور کس کی مجلسیں زیادہ شاندار ہیں‘‘؟[45] {۷۳}</p>
<p> حالاں کہ ان سے پہلے ہم کتنی ہی ایسی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جو اِن سے زیادہ سروسامان رکھتی تھیں اور ظاہری شان و شوکت میں ان سے بڑھی ہوئی تھیں۔{۷۴}</p>
<p> اِن سے کہو ، جو شخص گُمراہی میں مبتلا ہوتا ہے اُسے رحمان ڈھیل دیا کرتا ہے یہاں تک کہ جب ایسے لوگ وہ چیز دیکھ لیتے ہیں جس کا اُن سے وعدہ کیا گیا ہے ۔ خواہ وہ عذابِ اِلہٰی ہویا قیامت کی گھڑی ۔تب انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ کس کا حال خراب ہے اور کس کا جتھا کمزور ! {۷۵}</p>
<p>اِس کے برعکس جو لوگ راہ ِراست اختیار کرتے ہیں اللہ اُن کو راست روی میں ترقی عطا فرماتا ہے[46] اور باقی رہ جانے والی نیکیاں ہی تیر ے رَبّ کے نزدیک جزا اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہیں۔{۷۶}</p>
<p>پھر تو نے دیکھا اُس شخص کو جو ہمار ی آیات کو ماننے سے انکارکرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تومال اور اولاد سے نوازا ہی جاتا رہوں[47] گا؟ {۷۷}</p>
<p> کیا اُسے غیب کا پتہ چل گیا ہے یا اس نے رحمان سے کوئی عہد لے رکھا ہے؟{۷۸}</p>
<p> ہرگز نہیں، جو کچھ یہ َبکْتاہے اسے ہم لکھ لیں [48]گے اور اس کے لیے سزا میں اور زیادہ اضافہ کریں گے ۔{۷۹}</p>
<p> جس سروسامان اور لا ؤ لشکر کا یہ ذکر کررہا ہے وہ سب ہمارے پاس رہ جائے گا اور یہ اکیلا ہمارے سامنے حاضر ہوگا۔{۸۰}</p>
<p>اِن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کراپنے کچھ اِلٰہ بنا رکھے ہیں کہ وہ اِن کے پشتیبان ہوں[49] گے۔{۸۱}</p>
<p> کوئی پشتیبان نہ ہوگا، وہ سب اِن کی عبادت کا انکار کریں [50]گے اور اُلٹے اِن کے مخالف بن جائیں گے۔{۸۲}</p>
<p>  کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ ہم نے منکرین حق پر شیاطین چھوڑ رکھے ہیں جو انہیں خوب خوب ( مخالفتِ حق پر) اُکسار ہے ہیں؟{۸۳}</p>
<p>اچھا ، تو اب ان پرنُزول عذاب کے لیے بیتاب نہ ہو۔ ہم ان کے دِن گِن رہے ہیں [51]{۸۴}</p>
<p> وہ دن آنے والا ہے جب متقی لوگوں کو ہم مہمانوں کی طرح رحمان کے حضور پیش کریں گے {۸۵}</p>
<p> اور مجرموں کو پیاسے جانوروں کی طرح جہنم کی طرف ہانک لے جائیں گے ۔{۸۶}</p>
<p> اس وقت لوگ کوئی سفارش لانے پر قادرنہ ہوں گے بجز اُس کے جس نے رحمان کے حضور سے پروانہ حاصل کرلیا ہو۔ [52]{۸۷}</p>
<p> وہ کہتے ہیں کہ رحمان نے کسی کو بیٹا بنایاہے۔ {۸۸}</p>
<p> سخت بے ہودہ بات ہے جو تم لوگ گھڑلائے ہو ۔{۸۹}</p>
<p> قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں ، زمین شق ہوجائے اور پہاڑ گرجائیں {۹۰}</p>
<p>اس بات پر کہ لوگوں نے رحمان کے لیے اولاد ہونے کا دعویٰ کیا !{۹۱}</p>
<p> رحمان کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے ۔{۹۲}</p>
<p> زمین اور آسمانوں کے اندر جو بھی ہیں سب اس کے حضور بندوں کی حیثیت سے پیش ہونے والے ہیں۔ {۹۳}</p>
<p> سب پروہ محیط ہے اور اُس نے اُن کو شمار کررکھا ہے۔{۹۴}</p>
<p> سب قیامت کے روز فرداً فرداً اس کے سامنے حاضر ہوں گے۔{۹۵}</p>
<p>یقینا جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور عمل صالح کررہے ہیں عنقریب رحمان اُن کے لیے دلوں میں محبت پیدا کردے گا۔[53] {۹۶}</p>
<p>پس (اے نبی  ؐ!) اِس کلام کو ہم نے آسان کرکے تمہاری زبان میں اِسی لئے نازل کیا ہے کہ تم پرہیز گاروں کو خوشنجری دے دو اور ہٹ دھرم لوگوں کو ڈرادو۔{۹۷}</p>
<p>اِن سے پہلے ہم کتنی ہی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں،پھر آج کہیں تم ان کا نشان پاتے ہویا اُن کی بھنک بھی کہیں سنائی دیتی ہے؟{۹۸}</p>

</div><div id="20"><p>سورۃ طٰہٰ </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہامہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔</p>
<p>  طٰہٰ {۱}</p>
<p> ہم نے یہ قرآن تم پر اس لیے نازل نہیں کیا ہے کہ تم مصیبت میں پڑجا ؤ۔{۲}</p>
<p>یہ تو ایک یاددہانی ہے ہر اُس شخص کے لیے جوڈرے۔[1]  {۳}</p>
<p>نازل کیا گیا ہے اُس ذات کی طرف سے جس نے پیدا کیا ہے زمین کو اور بلند آسمانوں کو ۔{ ۴}</p>
<p>وہ رحمان ( کائنات کے ) تختِ سلطنت پر جلوہ فرماہے۔[2]{۵}</p>
<p> مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور جو زمین و آسمان کے درمیان ہیں اور جو مٹی کے نیچے ہیں۔{۶}</p>
<p> تم چاہے اپنی بات پکار کر کہو ، وہ توچپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اُس سے مخفی تربات بھی جانتا ہے۔[3]{۷}</p>
<p>وہ اللہ ہے اس کے سوا کوئی اللہ نہیں ، اس کے لیے بہترین نام ہیں۔[4]{۸}</p>
<p>اور تمہیں کچھ موسیٰ  ؑکی خبر بھی پہنچی ہے ؟ {۹}</p>
<p> جب کہ اس نے ایک آگ دیکھی[5] اور اپنے گھروالوں سے کہا کہ ’’ ذرا ٹھہرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے ۔ شاید کہ تمہارے لئے ایک آدھ انگارالے آ ؤں ، یا اس آگ پر مجھے (راستے کے متعلق ) کوئی رہنمائی مل جائے۔‘‘[6] {۱۰}</p>
<p>وہاں پہنچا تو پکاراگیا:’’ اے موسیٰ  ؑ! {۱۱}</p>
<p> میں ہی تیرا رَبّ ہوں ، جوتیاں اُتاردے،[7] تو وادیٔ مقدس طُویٰ [8]میں ہے {۱۲}</p>
<p>اور میں نے تجھ کو چُن لیا ہے ، سُن جوکچھ وحی کیا جاتا ہے۔{ ۱۳}</p>
<p> میں ہی اللہ ہوں ، میرے سوا کوئی  اِلٰہ نہیں ہے ،پس تو میری بندگی کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔[9]{ ۱۴}</p>
<p> قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے میں اُس کاوقت مخفی رکھنا چاہتا ہوں ، تا کہ ہر متنفس اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے۔[10]{۱۵}</p>
<p>پس کوئی ایسا شخص جو اس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش ِ نفس کا بندہ بن گیا ہے تجھ کو اُس گھڑی کی فکر سے نہ روک دے ، ورنہ تو ہلاکت میں پڑجائے گا۔{۱۶}</p>
<p> اور اے موسیٰؑ!  یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ‘‘ ؟[11]{۱۷}</p>
<p> موسیٰ  ؑنے جواب دیا’’ یہ میری  لاٹھی ہے، اس پر ٹیک لگاکر چلتاہوں ، اس سے اپنی بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں ، اور بھی بہت سے کام ہیں جو اس سے لیتا ہوں ‘‘۔[12]{۱۸}</p>
<p> فرمایا’’ پھینک دے اس کو اے موسیٰ  ؑ !‘‘{۱۹}</p>
<p> اس نے پھینک دیا اور یکایک وہ ایک سانپ تھی جو دوڑرہاتھا۔ {۲۰}</p>
<p>فرمایا ’’پکڑلے اس کو اور ڈرنہیں، ہم اسے پھر ویسا ہی کردیں گے جیسی یہ تھی۔{۲۱}</p>
<p> اور ذرا اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دبا، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف[13] کے۔ یہ دُوسری نشانی ہے۔ {۲۲}</p>
<p>اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی نشانیاںدکھانے والے ہیں۔{ ۲۳}</p>
<p>اب تو فرعون کے پاس جا،وہ سرکش ہوگیاہے۔ ‘‘ {۲۴}</p>
<p>موسیٰ  ؑنے عرض کیا’’ پروردگار !میرا سینہ کھول دے[14] {۲۵}</p>
<p>اور میرے کام کو میرے لئے آسان کردے {۲۶}</p>
<p>اور میری زبان کی گرہ سلجھادے {۲۷}</p>
<p>تا کہ لوگ میری بات سمجھ سکیں[15]{۲۸}</p>
<p>اور میرے لئے میرے اپنے کُنبے سے ایک وزِیر مقرر کردے۔{۲۹}</p>
<p> ہارونؑ ، جو میرا بھائی ہے ۔[16] {۳۰}</p>
<p>اُس کے ذریعے سے میرا ہاتھ مضبوط کر{۳۱}</p>
<p>اور اس کو میرے کام میں شریک کردے { ۳۲}</p>
<p>تا کہ ہم خوب تیری پاکی بیان کریں {۳۳}</p>
<p>اور خوب تیرا چرچا کریں ۔{۳۴}</p>
<p>تو ہمیشہ ہمارے حال پر نگراں رہا ہے‘‘ ۔{۳۵}</p>
<p> فرمایا: ’’دیا گیا جو تونے مانگا اے موسیٰ  ؑ! {۳۶}</p>
<p>ہم نے پھر ایک مرتبہ تجھ پر احسان کیا۔[17]{۳۷}</p>
<p>یاد کروہ وقت جبکہ ہم نے تیری ماں کو اشارہ کیا، ایسا اشارہ جو وحی کے ذریعے سے ہی کیا جاتا ہے۔ {۳۸}</p>
<p> کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ دے اور صندوق کو دریا میں چھوڑ دے ۔ دریا اُسے ساحل پر پھینک دے گا اور اسے میرا دشمن اور اس بچے کا دشمن اُٹھالیگا۔ میں نے اپنی طرف سے تجھ پر محبت طارِی کردی اور ایسا انتظام کیا کہ تو میری نگرانی میں پالا جائے۔{۳۹}</p>
<p> یاد کر جبکہ تیری بہن چل رہی تھی ، پھر جاکر کہتی ہے ۔ ’’میں تمہیں اُس کا پتہ دُوں جو اس بچّے کی پرورش اچھی طرح کرے‘‘ ؟ اِس طرح ہم نے تجھے پھر تیری ماں کے پاس پہنچا دیا تا کہ اُس کی آنکھ ٹھنڈی رہے اور وہ رنجیدہ نہ ہو۔ اور ( یہ بھی یاد کر کہ ) تونے ایک شخص کو قتل کردیا تھا ، ہم نے تجھے اس پھندے سے نکالا اور تجھے مختلف آزمائشوں سے گزار ا اور تومَدْین کے لوگوں میں کئی سال ٹھہرارہا۔ پھر اب ٹھیک اپنے وقت پر تو آگیاہے اے موسیٰ  ؑ!{۴۰}</p>
<p>میں نے تجھ کو اپنے کام  کا بنالیا ہے۔{۴۱}</p>
<p> جا، تو اور تیرا بھائی میری نشانیوں کے ساتھ۔ اور دیکھو ، تم میری یاد میں تقصیر نہ کرنا۔{۴۲}</p>
<p>جا ؤ تم دونوں فرعون کے پاس کہ وہ سرکش ہوگیا ہے۔{ ۴۳}</p>
<p>اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا ، شاید کہ وہ نصیحت قبول کرے یاڈرجائے‘‘۔[18]{۴۴}</p>
<p>دونوں نے عرض کیا ’’پروردگار !ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا یا پِل پڑے گا ‘‘{۴۵}</p>
<p> فرمایا ’’ ڈرومت ، میں تمہارے ساتھ ہوں ، سب کچھ سُن رہاہوں اور دیکھ رہا ہوں۔ {۴۶}</p>
<p>جا ؤ اس کے پاس اور کہو کہ ہم تیرے رَبّ کے فرستادے ہیں، بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کے لیے چھوڑدے اور ان کو تکلیف نہ دے ہم تیرے پاس تیرے رَبّ کی نشانی لے کرآئے ہیں اور سلامتی ہے اُس کے لیے جو راہ ِراست کی پیروی کرے۔ {۴۷}</p>
<p> ہم کووحی سے بتایا گیا ہے کہ عذاب ہے اُس کے لیے جو جُھٹلائے اورمنھ موڑے ‘‘[19]{۴۸}</p>
<p>فرعون [20]نے کہا ’’اچھا ، تو پھر تم دونوں کا رَبّ کون ہے اے موسیٰ ؑ؟‘‘[21]{۴۹}</p>
<p> موسیٰؑ نے جواب دیا ،’’ ہمارا رَبّ وہ [22]ہے جس نے ہر چیز کو اس کی ساخت بخشی ، پھر اس کو راستہ بتایا‘‘۔[23] {۵۰}</p>
<p>فرعون بولااور پہلے جو نسلیں گزر چکی ہیں ان کی پھر کیا حالت تھی ؟‘‘[24]{۵۱}</p>
<p>موسیٰ  ؑ نے کہا’’ اُس کا علم میرے رَبّ کے پاس ایک نوشتے میں محفوظ ہے میرا رَبّ نہ چوکتا ہے نہ بھولتا ہے‘‘[25] {۵۲}</p>
<p>وہی [26]جس نے تمہارے لئے زمین کا فرش بچھایا، اوراُس میں تمہاے چلنے کو راستے بنائے، اور اوپر سے پانی برسایا، پھر اس کے ذریعے سے مختلف اقسام کی پیداوار نکالی، {۵۳}</p>
<p>کھا ؤ اور اپنے جانوروں کو بھی چرا ؤ ۔ یقینا اِس میں بہت سی نشانیاں ہیں عقل رکھنے والوں کے لیے۔[27] {۵۴}</p>
<p>اِسی زمین سے ہم نے تم کو پیدا کیا ہے ، اسی میں ہم تمہیں واپس لے جائیں گے اور اسی سے تم کو دوبار ہ نکالیں گے۔[28]{۵۵}</p>
<p>ہم نے فرعون کو اپنی سب ہی نشانیاں دکھائیں [29]مگر وہ جھٹلائے چلاگیا اور نہ مانا {۵۶}</p>
<p> کہنے لگا ’’ اے موسیٰؑ !کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے ہم کو ہمارے ملک سے نکال باہر کرے ؟ [30]{۵۷}</p>
<p>اچھا ، ہم بھی تیرے مقابلے میں ویسا ہی جادو لاتے ہیں۔ طے کرلے کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے۔ نہ ہم اس قرار داد سے پھریں گیااور نہ تو پھریو۔ ( وعدہ خلافی نہ کرنا )اور مقابلہ کے لیے کھلے میدان میں سامنے آجا‘‘۔ {۵۸}</p>
<p>موسیٰ  ؑنے کہا ’’جشن کا دن طے ہوا، اور دن چڑھے لوگ جمع ہوں‘‘۔[31]  {۵۹}</p>
<p> فرعون نے پلٹ کر اپنے سارے ہتھکنڈے جمع کئے اور مقابلے میں آگیا۔[32]{۶۰}</p>
<p> موسیٰ  ؑنے ( عین موقع پر گِروہ مقابل کو مخاطب کرکے) کہا[33] ’’شامت کے مارو، نہ جھوٹی تہمتیں باندھو [34]اللہ پر، ورنہ وہ ایک سخت عذاب سے تمہارا ستیاناس کردے گا۔ جھوٹ جس نے بھی گھڑا وہ نامراد ہوا ‘‘۔{۶۱}</p>
<p>یہ سُن کراُن کے درمیان اختلاف رائے ہوگیا اور وہ چپکے چپکے باہم مشورہ کرنے لگے۔[35] {۶۲}</p>
<p>آخر کار کچھ لوگوں نے کہا کہ[36] ’’ یہ دونوں تو محض جادوگر ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تم کو تمہاری زمین سے بے دخل کردیں اور تمہارے مثالی طریق زندگی کا خاتمہ کردیں۔[37]{۶۳}</p>
<p>اپنی ساری تدبیریںآج اکٹھی کر لو اور متحد ہوکر میدان میں[38] آ ؤ۔ بس یہ سمجھ لو کہ آج جو غالب رہا وہی جیت گیا‘‘۔{۶۴}</p>
<p>جادوگر[39] بولے ’’موسیٰ  ؑ! تم پھینکتے ہو یا پہلے ہم پھینکیں ؟‘‘ {۶۵}</p>
<p>   موسیٰ  ؑ نے کہا ’’ نہیں تم ہی پھینکو‘‘۔یکایک اُن کی رسیّاں اور اُن کی لاٹھیاں اُن کے جادُو کے زور سے موسیٰ  ؑ کو دوڑتی ہوئی محسوس ہونے لگیں،[40]{ ۶۶}</p>
<p>اور موسیٰ  ؑ اپنے دل میں ڈرگیا۔ [41]{۶۷}</p>
<p> ہم نے کہا ’’مت ڈر ، تُو ہی غالب رہے گا۔ {۶۸}</p>
<p>پھینک جو کچھ تیرے ہاتھ میں ہے ، ابھی اِن کی ساری بناوٹی چیزوں کو نگلے جاتا ہے۔ [42]یہ جو کچھ بناکر لائے ہیں یہ تو جادُو گر کا فریب ہے ، اور جادُو گر کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا ، خواہ کسی شان سے وہ آئے ‘‘۔ {۶۹}</p>
<p>آخر کو یہی ہُوا کہ سارے جادُو گر سجدے میں گِرادیے گئے ،  اور پُکار اُٹھے[43] ’’مان لیا ہم نے ہارون ؑ اور موسیٰ  ؑ کے رَبّ[44] کو ‘‘۔ {۷۰}</p>
<p>فرعون  نے کہا ’’ تم اِس پر ایمان لے آئے قبل اِس کے کہ میں تمہیں اِس کی اجازت دیتا ؟ معلوم ہوگیا کہ یہ تمہارا گُرو ہے جس نے تمہیں جادُوگری سکھائی [45]تھی۔ اچھا، اب میں تمہارے ہاتھ پا ؤں مخالف سمتوں سے کٹواتا [46]ہوں اور کھجور کے تنوں پر تم کو سُولی دیتا ہوں [47]پھر تمہیں پتہ چل جائے گا کہ ہم دونوں میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیرپا ہے ‘‘۔[48] (یعنی میں تمہیں زیادہ سخت سزادے سکتا ہوں یا موسیٰ  ؑ ) {۷۱}</p>
<p>جادوگروں نے جواب دیا ’’قسم ہے اُس ذات کی جس نے ہمیں پیدا کیا ہے ، یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ ہم روشن نشانیاں سامنے آجانے کے بعد بھی ( صداقت پر ) تجھے ترجیح دیں[49] ۔ تو جو کچھ کرنا چاہے کرلے۔ تُو زیادہ سے زیادہ بس اِسی دنیا کی زندگی کا فیصلہ کرسکتا ہے۔{ ۷۲}</p>
<p> ہم تُو اپنے رَبّ پر ایمان لے آئے تا کہ وہ ہماری خطائیں معاف کردے اور اُس جادُوگری سے ، جس پر تُونے ہمیں مجبور کیا تھا درگزر فرمائے ۔ اللہ ہی اچھا ہے اور وہی باقی رہنے والا ہے ‘‘۔{۷۳}</p>
<p> حقیقت[50]  یہ ہے کہ جو مُجرم بن کر اپنے رَبّ کے حضور حاضِر ہوگا، اُس کے لیے جہنم ہے جس میں وہ نہ جیے گانہ مرے[51] گا۔{۷۴}</p>
<p>جو اُس کے حضور مومن کی حیثیت سے حاضر ہوگا جس نے نیک عمل کئے ہوں گے ، ایسے سب لوگوں کے لیے بلند درجے ہیں{۷۵}</p>
<p> سدابہار باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی ، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔یہ جزا ہے اُس شخص کی جو پاکیزگی اختیار کرے۔ {۷۶}</p>
<p>ہم [52]نے موسیٰ ؑپر وحی کی کہ اب راتوں رات میرے بندوں کو لے کر چل پڑ، اور ان کے لیے سمندر میں سے سوکھی سڑک بنالے [53]، تجھے کسی کے تعاقب کا ذرا خوف نہ ہو اور نہ (سمندر کے بیچ سے گزرتے ہوئے) ڈرلگے۔{۷۷}</p>
<p>پیچھے سے فرعون اپنے لشکر لے کر پہنچا ، اور پھر سمندر اُن پرچھا گیا جیسا کہ چھاجانے کا حق تھا۔[54] {۷۸}</p>
<p> فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ ہی کیا تھا، کوئی صحیح رہنمائی نہیں کی تھی۔[55]{۷۹}</p>
<p>اے بنی اسرائیل[56] ، ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی ، اور طُور کے دائیں جانب [57]تمہاری حاضری کے لیے وقت مقرر [58]کیا اور تم پر منّ وسلویٰ اتارا۔[60]{۸۰}</p>
<p> کھا ؤ ہمارا دیا ہوا پاک رزق اور اسے کھا کر سرکشی نہ کر و، ورنہ تم پر میرا غضب ٹوٹ پڑے گا۔ اور جس پر میرا غضب ٹوٹا وہ پھرگر کرہی رہا۔{۸۱}</p>
<p> البتہ جو توبہ کرلے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے ، پھر سیدھاچلتا رہے اُس کے لیے میں بہت درگزر کرنے والا ہوں۔[60]{ ۸۲}</p>
<p>اور [61]کیا چیز تمہیں اپنی قوم سے پہلے لے آئی موسیٰ ؟ ؑ  [62]{۸۳}</p>
<p>اُس نے عرض کیا’’ وہ بس میرے پیچھے آہی رہے ہیں۔ میں جلدی کرکے تیرے حضور آگیا ہوں ، اے میرے رَبّ ! تا کہ تو مجھ سے خوش ہوجائے‘‘۔ {۸۴}</p>
<p> فرمایا’’ اچھا ، تو سنو ہم نے تمہارے پیچھے تمہاری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا اور سامری [63]نے انہیں گمراہ کرڈالا‘‘۔  {۸۵}</p>
<p>  موسیٰ  ؑسخت غصے اور رنج کی حالت میں اپنی قوم کی طرف پلٹا۔ جاکر اُس نے کہا ’’اے میری قوم کے لوگو!کیا تمہارے رَبّ نے تم سے اچھے وعدے نہیں کئے [64]تھے؟ کیا تمہیں دن لگ گئے ہیں ؟ یا تم اپنے رَبّ کا غضب ہی اپنے اوپر لانا چاہتے تھے کہ تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی ؟‘‘ [65]{۸۶}</p>
<p>انہو ں نے جواب دیا ’’ ہم نے آپ سے وعدہ خلافی کچھ اپنے اختیار سے نہیں کی ، معاملہ یہ ہوا کہ لوگوں کے زیورات کے بوجھ سے ہم لدگئے تھے اور ہم نے بس اُن کو پھینک [67]دیا تھا‘‘ ۔پھر [68] اِسی طرح سامری نے بھی کچھ ڈالا {۸۷}</p>
<p>اور ان کے لیے ایک بچھڑے کی مُورت بناکر نکال لایا جس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ لوگ پکاراٹھے ، ’’یہی ہے تمہارا  اِلٰہ اور موسیٰ  ؑ کا  اِلٰہ ،موسیٰؑ اُسے بُھول گیا‘‘۔{۸۸}</p>
<p> کیا وہ دیکھتے نہ تھے کہ نہ وہ اُن کی بات کا جواب دیتا ہے اور نہ ان کے نفع ونقصان کا کچھ اختیار رکھتا ہے ؟{۸۹}</p>
<p>ہارون ؑ ( موسیٰ  ؑ کے آنے سے) پہلے ہی اُن سے کہہ چکا تھا کہ ’’لوگو! تم اس کی وجہ سے فتنے میں پڑگئے ہو، تمہارا رَبّ تو رحمن ہے ، پس تم میری پیروی کرو اور میری بات مانو ‘‘۔ {۹۰}</p>
<p>مگر اُنہوں نے اس سے کہہ دیا کہ ’’ہم تو اِسی کی پرستش کرتے رہیں گے جب تک کہ موسیٰ  ؑ ہمارے پاس واپس نہ آجائے ‘‘۔[69]{۹۱}</p>
<p>موسیٰ  ؑ(قوم کو ڈانٹنے کے بعد ہارون ؑ کی طرف پلٹا اور) بولا ’’ ہارونؑ! تم نے جب دیکھا تھا کہ یہ گمراہ ہورہے ہیں تو کس چیز نے تمہارا ہاتھ پکڑا تھا {۹۲}</p>
<p>کہ میرے طریقے پر عمل نہ کرو ؟ کیا تم نے میرے حکم کی خلاف ورزی کی ‘‘؟[70]{۹۳}</p>
<p>ہارون ؑ نے جواب دیا ’’ اے میری ماں کے بیٹے ! میری داڑھی نہ پکڑ، نہ میرے سرکے بال کھینچ [71]، مجھے اس بات کا ڈرتھا کہ تو آکر کہے گا تم نے بنی اسرائیل میں پُھوٹ ڈال دی اور میری بات کا پاس نہ کیا‘‘۔[72]  {۹۴}</p>
<p> موسیٰ  ؑنے کہا ’’ اور سامری ! تیرا کیا معاملہ ہے ‘‘؟ {۹۵}</p>
<p>اس نے جواب دیا ’’ میں نے وہ چیز دیکھی جو اِن لوگوں کو نظر نہ آئی ، پس میں نے رسول کے نقش قدم سے ایک مٹھی اُٹھالی اور اُس کو ڈال دیا ۔میرے نفس نے مجھے کچھ ایسا ہی سُجھایا‘‘۔  [73]{۹۶}</p>
<p> موسیٰ  ؑ نے کہا’’ اچھاتُو جا، اب زندگی بھر تجھے یہی پکارتے رہنا ہے کہ مجھے نہ چُھونا[74]۔  اور تیرے لئے باز پُرس کا ایک وقت مقرر ہے جو تجھ سے ہر گز نہ ٹلے گا ۔اور دیکھ اپنے اِس  اِلٰہ کو جس پر تور یجھا ہوا تھا ، اب ہم اِسے جلاڈالیں گے اور ریزہ ریزہ کرکے دریا میں بہادیں گے۔{۹۷}</p>
<p> لوگو!تمہارا  اِلٰہ توبس ایک ہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی اور اِلٰہ  نہیں ہے،ہر چیز پر اُسی کا علم حاوی ہے ‘‘ ۔{۹۸}</p>
<p> ( اے نبی  ؐ! [75]) اس طرح ہم پچھلے گزرے ہوئے حالات کی خبریں تم کو سناتے ہیں ، اور ہم نے خاص اپنے ہاں سے تم کو ایک ’’ ذِکر ‘‘ (درس نصیحت ) عطا کیا ہے۔[76]{۹۹}</p>
<p>جو کوئی اس سے منھ موڑے گاوہ قیامت کے روز سخت بارِگناہ اُٹھائے گا{۱۰۰}</p>
<p>اور ایسے سب لوگ ہمیشہ اس کے وبال میں گرفتاررہیں گے اور قیامت کے دن اُن کے لیے ( اس جرم کی ذمہ داری کا بوجھ )بڑا تکلیف دہ بوجھ ہوگا[77]{۱۰۱}</p>
<p> اُس دن جبکہ صورپھونکا جائے گا [78]اور ہم مجرموں کو اس حال میں گھیرلائیں گے کہ ان کی آنکھیں (دہشت کے مارے ) پتھرائی ہوئی ہوں گی[79] {۱۰۲}</p>
<p>آپس میں چُپکے چُپکے کہیں گے کہ ’’ دنیا میں مشکل ہی سے تم نے کوئی دس دن گزارے ہوں گے‘‘۔[80]{۱۰۳}</p>
<p>ہمیں [81]خوب معلوم ہے کہ وہ کیا باتیں کررہے ہوں گے(ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ) اُس وقت ان میں سے جو زیادہ سے زیادہ محتاط اندازہ لگانے والا ہوگا وہ کہے گا کہ نہیں ، تمہاری دنیا کی زندگی بس ایک دن کی زندگی تھی۔{ ۱۰۴}</p>
<p>یہ لوگ [82]تم سے پوچھتے ہیں کہ آخر اُس دن یہ پہاڑ کہا ں چلے جائیں گے؟ کہو کہ میرا رَبّ اُن کو دھول بناکر اُڑادے گا{۱۰۵}</p>
<p> اور زمین کو ایسا ہموار چٹیل میدان بنادے گا {۱۰۶}</p>
<p>کہ اِس میں تم کوئی بَلْ اور َسلْوٹ نہ دیکھو گے۔[83]{۱۰۷}</p>
<p> اُس روز سب لوگ منادی کی پکار پرسیدھے چلے آئیں گے، کوئی ذرا اکڑ نہ دکھاسکے گا۔ اور آوازیں رحمان کے آگے دب جائینگی، ایک سرسراہٹ [84]کے سوا تم کچھ نہ سُنوگے {۱۰۸}</p>
<p> اُس روز شفاعت کارگرنہ ہوگی ، الا ّیہ کہ کسی کو رحمان اسکی اجازت دے اور اسکی بات سننا پسند کرے۔[85]{۱۰۹}</p>
<p> وہ لوگوں کا اگلا پچھلا سب حال جانتا ہے اور دُوسروں کو اس کا پورا علم نہیں ہے۔[86]{۱۱۰}</p>
<p> لوگوں کے سراُس حیّ وقیْوم کے آگے جُھک جائیں گے۔نامراد ہوگا جو اُس وقت کسی ظلم کا بارِگناہ اٹھائے ہوئے ہو۔{۱۱۱}</p>
<p> اور کسی ظلم یا حق تلفی کا خطرہ نہ ہوگا اُس شخص کو جو نیک عمل کرے اور اس کے ساتھ وہ مومن بھی ہو۔[87]{ ۱۱۲}</p>
<p> اور( اے نبی  ؐ!) اِسی طرح ہم نے اسے قرآن عربی بناکر نازل کیا [88]ہےاور اس میں طرح طرح سے تنبیہات کی ہیں شاید کہ یہ لوگ کج روی سے بچیں یا ان میں کچھ ہوش کے آثار اِس کی بدولت پیدا ہوں ۔[89]{ ۱۱۳}</p>
<p>پس بالا وبرتر ہے اللہ ، پادشاہ حقیقی[90]۔  اور دیکھو ، قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کیا کرو جب تک کہ تمہاری طرف اُس کی وحی تکمیل کو نہ پہنچ جائے ، اور دعا کرو کہ اے پروردگار!  مجھے مزید علم عطاکر [91]{۱۱۴}</p>
<p>ہم [92]نے اس سے پہلے آدم ؑکو ایک حکم دیا تھا[93] ،مگر وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں عز م نہ پایا۔  [94]{۱۱۵}</p>
<p> یاد کرو وہ وقت جبکہ ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدمؑ کو سجدہ کرو۔وہ سب تو سجدہ کرگئے ، مگر ایک ابلیس تھا کہ انکار کربیٹھا۔{۱۱۶}</p>
<p> اس پر ہم نے آدمؑ [95]سے کہا کہ ’’دیکھو ، یہ تمہارا  اور تمہاری بیوی کا دشمن [96]ہے ، ایسا نہ ہو کہ یہ تمہیں جنّت سے نکلو ادے[97] اور تم مصیبت میں پڑجا ؤ۔{۱۱۷}</p>
<p> یہاں تو تمہیں یہ آسائشیں حاصل ہیں کہ نہ تم  بُھوکے وننگے رہتے ہو{۱۱۸}</p>
<p> نہ پیاس اور دھوپ تمہیں ستاتی ہے ‘‘۔[98]{۱۱۹}</p>
<p> لیکن شیطان نے اس کو پُھسلایا ۔[99] کہنے لگا’’ آدمؑ بتا ؤں تمہیں وہ درخت جس سے ابدی زندگی اور لازوال سلطنت حاصل ہوتی ہے‘‘؟[100]{۱۲۰}</p>
<p> آخر کا ردونوں (میاں بیوی) اُس درخت کا پھل کھا گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ فوراً ہی اُن کے سترایک دوسرے کے آگے کھل گئے اور لگے دونوں اپنے آپ کو جنّت کے پتوں سے ڈھانکنے ۔[101]  آدم ؑ نے اپنے رَبّ کی نافرمانی کی اور راہ راست سے بھٹک گیا۔[102]{۱۲۱}</p>
<p> پھر اُس کے رَبّ نے اُسے برگزیدہ کیا[103] اور اس کی توبہ قبول کرلی اور اسے ہدایت بخشی ۔[104]{۱۲۲}</p>
<p>اور فرمایا’’ تم دونوں (فریق ، یعنی انسان اور شیطان ) یہاں سے اُتر جا ؤ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن رہوگے۔ اب اگر میری طرف سے تمہیں کوئی ہدایت پہنچے تو جو کوئی میری اس ہدایت کی پیروی کرے گاوہ نہ بھٹکے گا نہ بد بختی میں مبتلا ہوگا۔{۱۲۳}</p>
<p>اور جو میرے’’ ذِکر ‘‘(درس نصیحت) سے منھ موڑے گا اُس کے لیے دنیا میں تنگ زندگی ہوگی[105] اور قیامت کے روز ہم اُسے اندھا اٹھائیں گے‘‘[106] {۱۲۴}</p>
<p> وہ کہے گا ، ’’پروردگار! دنیا میں تو میں آنکھوں والا تھا ، یہاں مجھے اندھا کیوں اٹھایا؟‘‘ {۱۲۵}</p>
<p>اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’’ ہاں اسی طرح تو ہماری آیات کو ، جبکہ وہ تیرے پاس آئی تھیں ، تُونے بھلادیا تھا۔ [107]اُسی طرح آج تُو بھُلایا جارہا ہے۔‘‘{۱۲۶}</p>
<p>اسی طرح ہم حد سے گزرنے والے اوراپنے رَبّ کی آیات نہ ماننے والے کو ( دُنیا میں ) بدلہ دیتے ہیں،[108] اور آخرت کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ دیرپا ہے۔{۱۲۷}</p>
<p>پھر کیا ان لوگوں کو[109] (تاریخ کے اِس سبق سے)کوئی ہدایت نہ ملی کہ ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں جن کی (بربادشدہ ) بستیوں میں آج یہ چلتے پھرتے ہیں ؟ درحقیقت اس میں[110] بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو عقل سلیم رکھنے والے ہیں۔{۱۲۸}</p>
<p>اگر تیرے رَبّ کی طرف سے پہلے ایک با ت طے نہ کردی گئی ہوتی اور مہلت کی ایک مدّت مقرر نہ کی جاچکی ہوتی تو ضروراِن کا بھی فیصلہ چُکا دیا جاتا۔ {۱۲۹}</p>
<p> پس اے نبی  ؐ!جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں اُن پر صبر کرو ، اور اپنے رَبّ کی حمد وثنا کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو سورج نکلنے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے ، اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح کرواور دن کے کناروں  پر بھی [111]، شاید کہ تم راضی ہوجا ؤ ۔[112]{۱۳۰}</p>
<p>اور نگاہ اٹھاکر بھی نہ دیکھو دنیوی زندگی کی اُس شان و شوکت کو جو ہم نے اِن میں سے مختلف قسم کے لوگوں کودے رکھی ہے ۔ وہ تو ہم نے اُنہیں آزمائش میں ڈالنے کے لیے دی ہے ، اور تیرے رب کا دیا ہوا رزق حلال [113]ہی بہتر اور پائندہ تر ہے۔{۱۳۱}</p>
<p>اپنے اہل وعیال کو نماز کی تلقین کرو[114] اور خود بھی اس کے پابند رہو۔ ہم تم سے کوئی رزق نہیں چاہتے۔ رزق تو ہم ہی تمہیں دے رہے ہیں اور انجام کی بھلائی تقویٰ ہی کے لیے ہے۔[115]{۱۳۲}</p>
<p>وہ کہتے ہیں کہ یہ شخص اپنے رب کے طرف سے کوئی نشانی (معجزہ) کیوں نہیں لاتا ؟ اور کیا اُن کے پاس اگلے صحیفوں کی تمام تعلیمات کا بیان واضح نہیں  آیا؟ [116]{۱۳۳}</p>
<p>اگر ہم اُس کے آنے سے پہلے اِن کو کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو پھر یہی لوگ کہتے کہ اے ہمارے پروردگار !تونے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ذلیل ورسوا ہونے سے پہلے ہی ہم تیری آیات کی پیروی اختیار کرلیتے ؟ {۱۳۴}</p>
<p>  (اے نبی  ؐ!) ان سے کہو ، ہر ایک انجام کار کے انتظار میں[117] ہے، پس اب منتظر رہو ، عن قریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون سیدھی راہ چلنے والے ہیں اور کون ہدایت یافتہ ہیں۔{۱۳۵}</p>

</div><div id="21"><p>سورۃالانبیآء </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔</p>
<p>قریب آگیا ہے لوگوں کے حساب کا وقت[1] ، اور وہ ہیں کہ غفلت میں منھ موڑے ہوئے ہیں۔[2]{۱}</p>
<p> اوراُن کے پاس جوتازہ نصیحت بھی ان کے رَبّ کی طرف سے آتی [3]ہے اُس کو بہ تکلف سُنتے ہیں اور کھیل میں پڑے رہتے ہیں،[4]{ ۲}</p>
<p> دل ان کے ( دُوسری ہی فکروں میں ) منہمک ہیںاور ظالم آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں کہ’’یہ شخص آخر تم جیسا ایک بشر ہی تو ہے، پھر کیا تم آنکھوں دیکھتے جادُو کے پھندے میں پھنس جا ؤ گے؟‘‘[5] {۳}</p>
<p>رسول  انے کہا میرا رَبّ ہراُس بات کو جانتا ہے جو آسمان اور زمین میں کی جائے ، وہ سمیع اور علیم ہے [6]{۴}</p>
<p>وہ کہتے ہیں ’’ بلکہ یہ پراگندہ خواب ہیں ،بلکہ یہ اِس کی من گھڑت ہے ،بلکہ یہ شخص شاعر ہے ۔[7] ورنہ یہ لائے کوئی نشانی جس طرح پُرانے زمانے کے رسُول نشانیوں کے ساتھ بھیجے گئے تھے ‘‘{۵}</p>
<p> حالانکہ ان سے پہلے کوئی بستی بھی ، جسے ہم نے ہلاک کیا ، ایمان نہ لائی ۔ اب کیا یہ ایمان لائیں گے ؟[8]{۶}</p>
<p>اور( اے نبی  ؐ!) تم سے پہلے بھی ہم نے انسانوں ہی کو رسُول بناکر بھیجا تھا جن پر ہم وحی کیا کرتے تھے[9] تم لوگ اگر علم نہیں رکھتے تو اہل کتاب سے پُوچھ لو[10]{۷}</p>
<p> اُن رسولوں کو ہم نے کوئی ایسا جسم نہیں دیا تھا کہ وہ کھاتے نہ ہوں، اور نہ وہ سدا جینے والے تھے۔ {۸}</p>
<p> پھر دیکھ لو کہ آخر کار ہم نے ان کے ساتھ اپنے وعدے پورے کئے، اور اُنہیں اور جس جس کو ہم نے چاہا بچالیا، اور حد سے گزر جانے والوں کو ہلاک کردیا۔[11]{۹}</p>
<p> لوگو! ہم نے تمہاری طرف ایک ایسی کتاب بھیجی ہے جس میں تمہارا ہی ذکر ہے ، کیا تم سمجھتے نہیں ہو؟[12] {۱۰}</p>
<p>کتنی ہی ظالم بستیاں ہیں جن کو ہم نے پیس کررکھ دیا اور ان کے بعد دُوسری کسی قوم کو اٹھایا۔{۱۱}</p>
<p> جب اُن کو ہمارا عذاب محسوس ہوا [13]تو لگے وہاں سے بھاگنے۔{ ۱۲}</p>
<p> ( کہا گیا) ’’ بھاگو نہیں ، جا ؤ اپنے اُنہی گھروں اور عیش کے سامانوں میں جن کے اندر تم چین کررہے تھے ، شاید کہ تم سے پُوچھا جائے‘‘۔[14] {۱۳}</p>
<p> کہنے لگے ’’ ہائے ہماری کم بختی ، بے شک ہم خطاوار تھے ‘‘ ۔{۱۴}</p>
<p> اور وہ یہی پکارتے رہے، یہاں تک کہ ہم نے ان کو کھلیان کردیا ، زندگی کا ایک شرارہ تک ان میں نہ رہا۔{۱۵}</p>
<p>ہم نے اس آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان میں ہے کچھ کھیل کے طور پر نہیں بنایا ہے۔[15]{۱۶}</p>
<p> اگر ہم کوئی کھلونا بنانا چاہتے اور بَس یہی کچھ ہمیں کرنا ہوتا تو اپنے ہی پاس سے کرلیتے۔ [16]{۱۷}</p>
<p> مگر ہم تو باطل پر حق کی چوٹ لگاتے ہیں جو اس کا سرتوڑ دیتی ہے اور وہ دیکھتے دیکھتے مِٹ جاتا ہے اور تمہارے لئے تباہی ہے اُن باتوں کی وجہ سے جو تم بناتے ہو۔[17]{۱۸}</p>
<p> زمین اور آسمانوں میں جو مخلوق بھی ہے اللہ کی ہے۔[18] اور جو (فرشتے) اُس کے پاس ہیں[19] وہ نہ اپنے آپ کو بڑا سمجھ کراُس کی بندگی سے سرتابی کرتے ہیں اور نہ مَلُول ہوتے ہیں۔[20] {۱۹}</p>
<p> شب وروز اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں ، دَم نہیں لیتے ۔{۲۰}</p>
<p>کیا ان لوگوں کے بنائے ہوئے ارضی اِلٰہ  ایسے ہیں کہ ( بے جان کو جان بخش کر) اُٹھا کھڑا کرتے ہوں ؟ [21]{۲۱}</p>
<p>اگر آسمان و زمین میں ایک اللہ کے سوا دُوسرے اِلٰہ  بھی ہوتے تو ( زمین اور آسمان ) دونوں کا نظام بگڑ جاتا ۔[22] پس پاک ہے اللہ رَبّ العرش[23] اُن باتوں سے جو یہ لوگ بنارہے ہیں۔ {۲۲}</p>
<p> وہ اپنے کاموں کے لیے (کسی کے آگے ) جواب دِہ نہیں ہے اور سب جواب دِہ ہیں۔{۲۳}</p>
<p>کیا اُسے چھوڑ کر اِنہوں نے دُوسرے  اِلٰہ  بنالئے ہیں؟( اے نبی  ؐ!) اِن سے کہو کہ ’’ لا ؤ اپنی دلیل ، یہ کتاب بھی موجود ہے جس میں میرے دَور کے لوگوں کے لیے نصیحت ہے اور وہ کتابیں بھی موجود ہیں جن میں مجھ سے پہلے لوگوں کے لیے نصیحت تھی۔‘‘[24]مگر ان میں سے اکثر لوگ حقیقت سے بے خبر ہیں۔ اس لیے منھ موڑے ہوئے ہیں۔[25]{۲۴}</p>
<p>ہم نے تم سے پہلے جو رسول بھی بھیجا ہے اُس کو یہی وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی  اِلٰہ نہیں ہے ، پس تم لوگ میری ہی بندگی کرو۔{۲۵}</p>
<p>یہ کہتے ہیں ’’ رحمان اولاد رکھتا ہے ۔ ‘‘[26] سبحان اللہ ، وہ ( یعنی فرشتے ) تو بندے ہیں جنہیں عزّت دی گئی ہے۔{۲۶}</p>
<p>اُس کے حضور بڑھ کر نہیں بولتے اور بس اُس کے حکم پر عمل کرتے ہیں{۲۷}</p>
<p> جو کچھ اُن کے سامنے ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اُن سے اُوجھل ہے اس سے بھی وہ باخبر ہے۔ وہ کسی کی سفارش نہیں کرتے بجز اس کے جس کے حق میں سفارش  سننے پر اللہ راضی ہو ، اور وہ اس کے خوف سے ڈرے رہتے ہیں ۔[27]{۲۸}</p>
<p> اور جو ان میں سے کوئی کہہ دے کہ اللہ کے سوا میں بھی ایک اِلٰہ ہوں ، تو اُسے ہم جہنم کی سزادیں ،ہمارے ہاں ظالموں کا یہی بدلہ ہے۔ {۲۹}</p>
<p>کیا وہ لوگ جنہوں نے ( نبی  ؐ کی بات ماننے سے ) انکار کردیا ہے غور نہیں کرتے کہ یہ سب آسمان اور زمین باہم ملے ہوئے تھے ، پھر ہم نے انہیں جُدا کیا ،[28] اور پانی سے ہر زندہ چیز[29] پیدا کی ؟ کیا وہ ( ہماری اس خلاّقی کو ) نہیں مانتے ؟{۳۰}</p>
<p>اور ہم نے زمین میں پہاڑ جمادیے تا کہ وہ اِنہیں لے کر ڈُھلک نہ [30]جائے ، اوراُس میں کشادہ راہیں بنادیں ،[31] شاید کہ لوگ اپنا راستہ معلوم کرلیں۔[32]{۳۱}</p>
<p> اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنادیا [33]، مگر یہ ہیں کہ کائنات کی نشانیوں کی طرف[34] توجہ ہی نہیں کرتے ۔{ ۳۲}</p>
<p>اور وہ اللہ ہی ہے جس نے رات اور دن بنائے اور سُورج اور چاند کو پیدا کیا، سب ایک ایک فَلک میں تیررہے ہیں۔[35] {۳۳}</p>
<p> اور[36] ( اے نبی  ؐ !) ہمیشگی تو ہم نے تم سے پہلے بھی کسی انسان کے لیے نہیں رکھی ہے۔ اگر تم مرگئے تو کیا یہ لوگ ہمیشہ جیتے رہیں گے ؟{۳۴}</p>
<p>ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے[37] ، اور ہم اچھے اور بُرے حالات میں ڈال کر تم سب کی آزمائش کررہے ہیں ۔[38] آخر کار تمہیں ہماری ہی طرف پلٹنا ہے۔{۳۵}</p>
<p>منکرین حق جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق بنالیتے ہیں ۔کہتے ہیں ’’ کیا یہ ہے وہ شخص جو تمہارے معبودوں کاذکر کیا کرتا ہے ؟‘‘ [39]اور اِن کا اپنا حال یہ ہے کہ رحمان کے ذکر سے منکر ہیں۔[40]{۳۶}</p>
<p> انسان جلد باز مخلوق [41]ہے۔ ابھی میں تم کو اپنی نشانیاں دکھائے دیتا ہوں، مجھ سے جلدی نہ مچا ؤ [42]{۳۷}</p>
<p>  یہ لوگ کہتے ہیں’’ آخر یہ دھمکی پُوری کب ہوگی اگر تُم سچّے ہو؟‘‘ {۳۸}</p>
<p>کاش ان کافروں کو اُس وقت کا کچھ علم ہوتا جب کہ یہ نہ اپنے منھ آگ سے بچاسکیں گے نہ اپنی پیٹھیں ، اور نہ اِن کو کہیں سے مدد پہنچے گی۔ {۳۹}</p>
<p> وہ بَلا اچانک آئے گی اور انہیں اس طرح یک لخت دبوچ لے گی کہ یہ نہ اس کو دفع کرسکیں گے اور نہ ان کو لمحہ بھر مہلت ہی مل سکے گی۔{۴۰}</p>
<p>مذاق تُم سے پہلے بھی رسُولوں کا اُڑایا جاچکا ہے ، مگر اُن کا مذاق اُڑانے والے اُسی چیز کے پھیر میں آکر رہے جس کا وہ مذاق اُڑاتے تھے۔{۴۱}</p>
<p> (اے نبی  ؐ! )اِن سے کہو :’’ کون ہے جو رات کو یا دن کو تمہیں رحمان سے بچا سکتا [43]ہو؟‘‘ مگر یہ اپنے رَبّ کی نصیحت سے منھ موڑرہے ہیں ۔{ ۴۲}</p>
<p>کیا یہ کچھ ایسے  اِلٰہ  رکھتے ہیں جو ہمارے مقابلے میں ان کی حمایت کریں ؟ وہ تو نہ خود اپنی مدد کرسکتے ہیں اور نہ ہماری ہی تائید اُن کو حاصل ہے۔{ ۴۳}</p>
<p>اصل بات یہ ہے کہ اِن لوگوں کو اور اِن کے آباؤ اجداد کو ہم زندگی کا سروسامان دیے چلے گئے یہاں تک کہ ان کو دن لگ گئے۔[44] مگر کیااِنہیں نظر نہیں آتا کہ ہم زمین کو مختلف سمتوں سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں؟ [45] پھر کیا یہ غالب آجائیں گے؟ [46]{۴۴}</p>
<p> ان سے کہہ دو کہ ’’ میں تو وحی کی بناپر تمہیں متنبہ کررہا ہوں‘‘ مگر بہرے پُکار کو نہیں سُنا کرتے جب کہ انہیں خبردار کیا جائے ۔{۴۵}</p>
<p> اور اگر تیرے رَبّ کا عذاب ذراسا انہیں چُھو [47]جائے تو ابھی چیخ اٹھیں کہ ہائے ہماری کم بختی بے شک ہم خطا وار تھے۔{۴۶}</p>
<p> قیامت کے روز ہم ٹھیک ٹھیک تولنے والے ترازو ر کھ دیں گے ، پھر کسی شخص پر ذرّہ برابر ظلم نہ ہوگا۔ جس کا رائی کے دانے برابر بھی کچھ کیا دھرا ہوگا وہ ہم سامنے لے آئیں گے اور حساب لگانے کے لیے ہم کافی ہیں۔ [48]{۴۷}</p>
<p> پہلے [49]ہم موسیٰ  ؑ اور ہارون  ؑ کو فرقان اور روشنی اور ’’ ذِکر ‘‘[50] عطا کرچکے ہیں اُن متقی لوگوں کی بھلائی کے لیے[51] {۴۸}</p>
<p>جو بے دیکھے اپنے رَبّ سے ڈریں اور جن کو ( حساب کی) اُس گھڑی[52] کا کھٹکا لگا ہوا ہو،{۴۹}</p>
<p> اور اب یہ بابرکت ’’ ذِکر ‘‘ ہم نے (تمہارے لیے ) نازل کیا ہے ۔ پھر کیا تم اس کو قبول کرنے سے انکاری ہو ؟{۵۰}</p>
<p> اُس سے بھی پہلے ہم نے ابراہیم ؑ کو اُس کی ہوشمندی بخشی تھی اور ہم اُس کو خوب [53]جانتے تھے۔{۵۱}</p>
<p> یاد کرو وہ موقع [54]جبکہ ٰاُس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ ’’یہ مُورتیں کیسی ہیں جن کے تم لوگ گرویدہ ہورہے ہو ‘‘؟{۵۲}</p>
<p>انہوں نے جواب دیا ’’ ہم نے اپنے باپ دادا کو اُن کی عبادت کرتے پایا ہے ‘‘{۵۳}</p>
<p> اس نے کہا ’’ تم بھی گمراہ ہو اور تمہارے باپ دادا بھی صریح گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔‘‘ {۵۴}</p>
<p> انہوں نے کہا ’’کیا تو ہمارے سامنے اپنے اصلی خیالات پیش کررہا ہے یا مذاق کرتا  ہے ‘‘؟[55] {۵۵}</p>
<p> اُس نے جواب دیا ’’نہیں ، بلکہ فی الواقع تمہارا رَبّ وہی ہے جو زمین اور آسمانوں کا رَبّ اور اُن کا پیدا کرنے والا ہے ۔ اس پر میں تمہارے سامنے گواہی دیتا ہوں۔{۵۶}</p>
<p>اور اللہ کی قسم میں تمہاری غیر موجودگی میں ضرور تمہارے بتوں کی خبرلوں گا۔‘‘[56]{۵۷}</p>
<p> چنانچہ اُس نے اُن کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا [57]اور صرف اُن کے بڑے کو چھوڑدیا تا کہ شاید وہ اُس کی طرف رجوع کریں۔[58]{۵۸}</p>
<p> ( اُنہوں نے آکر بتُوں کا یہ حال دیکھا تو ) کہنے لگے ’’ ہمارے اِلہٰوں (معبودوں)کا یہ حال کس نے کردیا ؟ بڑا ہی کوئی ظالم تھا وہ ‘‘۔{۵۹}</p>
<p> ( بعض لوگ ) بولے ’’ ہم نے ایک نوجوان کو ان کا ذکر کرتے سُنا تھا جس کا نام ابراہیم ؑ ہے ‘‘{۶۰}</p>
<p> اُنہوں نے کہا ’’تو پکڑلا ؤ اسے سب کے سامنے تا کہ لوگ دیکھ لیں (اُس کی کیسی خبرلی جاتی ہے) ‘‘۔[59]{۶۱}</p>
<p> (ابرا ہیمؑ کے آنے پر ) اُنہوں نے پوچھا ’’ کیوں ابراہیمؑ! تو نے ہمارے معبووں( یعنی مورتیوں) کے ساتھ یہ حرکت کی ہے ؟‘‘{۶۲}</p>
<p>اُس نے جواب دیا ’’ بلکہ یہ سب کچھ اِن کے اس سردار نے کیا ہے ، اِن ہی سے پُوچھ لو ، اگر یہ بولتے ہوں‘‘[60]  {۶۳}</p>
<p>یہ سُن کر وہ اپنے ضمیر کی طرف پلٹے اور ( اپنے دِلوں میں ) کہنے لگے ’’ واقعی تم خود ہی ظالم ہو ‘‘۔{۶۴}</p>
<p>مگر پھر ان کی مَت پلٹ گئی[61] اور بولے ’’ تو جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ‘‘۔{۶۵}</p>
<p> ابراہیم ؑ نے کہا ’’ پھر کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان چیزوں کو پُوج(معبود بنا) رہے ہو جو نہ تمہیں نفع پہنچانے پرقادر ہیں نہ نقصان ۔{۶۶}</p>
<p> تُف ہے تم پر اور تمہارے اِن معبودوں پر جن کی تم اللہ کو چھوڑ کرپوجا کررہے ہو۔ کیا تم کچھ بھی عقل نہیں رکھتے ؟‘‘ {۶۷}</p>
<p> اُنہو ں نے کہا ’’ جلاڈالو اس کو اور حمایت کرو اپنے معبودوں (بتوں اور مورتیوں)کی ،اگر تمہیں کچھ کرنا ہے۔ ‘‘{۶۸}</p>
<p> ہم نے کہا ’’اے آگ ! ٹھنڈی ہوجا اور سلامتی بن جا ابراہیم ؑ پر ‘‘۔[62]{۶۹}</p>
<p> وہ چاہتے تھے کہ ابراہیم  ؑ کے ساتھ بُرائی کریں۔ مگر ہم نے ان کو بُری طرح ناکام کردیا۔{۷۰}</p>
<p>اور ہم اُسے اور لوط ؑ [63]کو بچا کر اُس سرزمین کی طرف نکال لے گئے جس میں ہم نے دنیا والوں کے لیے برکتیں رکھی ہیں۔[64]{۷۱}</p>
<p> اور ہم نے اُسے اسحاق  ؑعطا کیا اور یعقوبؑ اس پر مز ید، [65]اورہم نے ہر ایک کو صالح بنایا۔{ ۷۲}</p>
<p>اور ہم نے اُن کو امام بنادیا جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے ۔ اور ہم نے انہیں وحی کے ذریعے نیک کاموں کی اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کی ہدایت کی اور وہ ہمارے عبادت گزار تھے[66]{۷۳}</p>
<p> اور لوط  ؑکو ہم نے حُکم اور علم بخشا[67] اور اُسے اُس بستی سے بچاکر نکال دیا جو بدکاریاں کرتی تھی۔ درحقیقت وہ بڑی ہی بُری فاسق قوم تھی۔{ ۷۴}</p>
<p>اور لُوط  ؑ کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا ، وہ صالح لوگوں میں سے تھا۔{۷۵}</p>
<p> اور یہی نعمت ہم نے نوح ؑ کو دی۔ یاد کر وجبکہ اِن سب سے پہلے اُس نے ہمیں پُکارا[68] تھا ۔ ہم نے اس کی دُعاقبول کی اور اسے اور اس کے گھروالوں کو کربِ عظیم [69]سے نجات دی،{۷۶}</p>
<p> اور اُس قوم کے مقابلے میں اُس کی مدد کی جس نے ہماری آیات کو جُھٹلادیا تھا۔ وہ بڑے بُرے لوگ تھے، پس ہم نے اُن سب کو غرق کردیا۔{۷۷}</p>
<p>اور اِسی نعمت سے ہم نے دا ؤ د ؑ و سلیمانؑ کو سرفراز کیا۔ یادکرو وہ موقع جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے مقدمے میں فیصلہ کررہے تھے جس میں رات کے وقت دُوسرے لوگوں کی بکریاں پھیل گئی تھیں ،اور ہم اُن کی عدالت خود دیکھ رہے تھے۔{۷۸}</p>
<p> اُس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمانؑ کو سمجھادیا، حالانکہ حکم اورعلم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا۔[70] دا ؤد ؑ کے ساتھ ہم نے پہاڑوں اور پرندوں کو مسخرکر دیا تھا جو تسبیح کرتے تھے، [71]اِس فعل کے کرنے والے ہم ہی تھے۔ {۷۹}</p>
<p> او رہم نے اُس کو تمہارے فائدے کے لیے زِرہ بنانے کی صنعت سکھادی تھی ، تاکہ تم کو ایک دُوسرے کی مارسے بچائے[72] ، پھر کیا تم شکر گزار ہو ؟[73]{۸۰}</p>
<p> اور سلیمانؑ کے لیے ہم نے تیز ہوا کو مسخر کردیا تھاجو اُس کے حکم سے اُس سرزمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکتیں رکھی ہیں ،[74] ہم ہر چیز کا علم رکھنے والے تھے۔{۸۱}</p>
<p>  اور شیاطین میں سے ہم نے ایسے بہت سوں کو اُس کا تابع بنا دیا تھا جو اس کے لیے غوطے لگاتے اور اس کے سوا دوسرے کام کرتے تھے۔ ان سب کے نگراں ہم ہی[75] تھے۔ { ۸۲}</p>
<p>اور یہی (  ہو شمندی اور حُکم و علم کی نعمت) ہم نے ایوب ؑ [76]کو دی تھی، یا دکرو جب اُس نے اپنے رَبّ کو پُکارا کہ ’’ مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو ارحم الراحمین ہے‘‘[77] {۸۳}</p>
<p>ہم نے اُس کی دُعاقبول کی اور جو تکلیف اُسے تھی اس کودُور کردیا،[78] اور صرف اُس کے اہل وعیال ہی اس کو نہیں دیے ، بلکہ ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی دیے، اپنی خاص رحمت کے طور پر ، اور اس لیے کہ یہ ایک سبق ہو عبادت گزاروں کے لیے[79]{۸۴}</p>
<p>اور یہی نعمت اسماعیل ؑ اور ادریس ؑ [80]اور ذوالکفل ؑ [81]کو دی کہ یہ سب صابر لوگ تھے۔{۸۵}</p>
<p> اور ان کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا کہ وہ صالحوں میں سے تھے۔{۸۶}</p>
<p>اور مچھلی  والے کو بھی ہم نے نوازا [82]۔ یاد کرو  جب کہ وہ بگڑ کر چلاگیا تھا[83]۔  اور سمجھاتھا کہ ہم اس پر گرفت نہ کریں گے۔[84] آخر کو اُس نے تاریکیوں میں سے پُکارا[85] ’’ نہیں ہے کوئی اِلٰہ (مشکل کشا)مگر تو ، پاک ہے تیری ذات ، بے شک میں نے قصور کیا‘‘۔{۸۷}</p>
<p> تب ہم نے اُس کی دُعاقبول کی اور غم سے اُس کو نجات بخشی ، اور اِسی طرح ہم مومنوں کو بچالیا کرتے ہیں۔{۸۸}</p>
<p>اور زکریاؑ کو ،جب کہ اس نے اپنے رَبّ کو پُکارا کہ ’’ اے پروردگار! مجھے اکیلانہ چھوڑ ، اور بہترین وارث تو، تُوہی ہے۔ ‘‘{۸۹}</p>
<p> پس ہم نے اُس کی دُعا قبول کی اور اسے یحییٰ  ؑ عطا کیا اور اس کی بیوی کو اس کے لیے درست[86] کردیا۔ یہ لوگ نیکی کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتے تھے اور ہمیں رغبت اور خوف کے ساتھ پکارتے تھے ، او رہمارے آگے جھکے ہوئے تھے۔[87]{ ۹۰}</p>
<p>اور وہ خاتون جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی تھی۔[88]  ہم نے اُس کے اندر اپنی رُوح سے پُھونکا[89] اوراُسے اور اُس کے بیٹے کو دنیا بھر کے لیے نشانی بنادیا[90]{۹۱}</p>
<p>یہ تمہاری اُمّت حقیقت میں ایک ہی اُ مّت ہے اور میں تمہارا رَبّ ہوں، پس تم میری عبادت کرو۔{۹۲}</p>
<p>مگر ( یہ لوگوں کی کارستانی ہے کہ )  انہوں نے آپس میں اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرڈالا۔[91]سب کو ہماری طرف پلٹنا ہے۔ { ۹۳}</p>
<p>پھر جو نیک عمل کرے گا، اس حال میں کہ وہ مومن ہو ، تو اس کے کام کی ناقدری نہ ہوگی، اوراُسے ہم لکھ رہے ہیں۔{۹۴}</p>
<p>اور ممکن نہیں ہے کہ جس بستی کو ہم نے ہلاک کردیا ہو وہ پھر پلٹ سکے۔ [92]{۹۵}</p>
<p> یہاں تک کہ جب یا جُوج وماجُوج کھول دیے جائیں گے اور ہر بلندی سے وہ نکل پڑیں گے{۹۶}</p>
<p>اور وعدۂ برحق کے پورا ہونے کا وقت قریب آلگے گا[93] تو یکایک اُن لوگوں کے دیدے پھٹے کے پھٹے رہ جائیں گے جنہو ں نے کفر کیا تھا۔ کہیں گے ’’ہائے ہماری کم بختی ، ہم اِس چیز کی طرف سے غفلت میں پڑے ہوئے تھے،بلکہ ہم خطا کار تھے‘‘۔[94]{۹۷}</p>
<p> بے شک تم اور تمہارے وہ معبود جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پوجتے ہو، جہنّم کا ایندھن ہیں ، وہیں تم کو جانا ہے ۔[95] {۹۸}</p>
<p>اگریہ واقعی اِلٰہ ہوتے تو وہاں نہ جاتے ۔ اب سب کو ہمیشہ اسی میں رہنا ہے۔{۹۹}</p>
<p> وہاں وہ  پھُنکارے ماریں [96]گے اور حال یہ ہوگا کہ اس میں کا ن پڑی آوازنہ سنائی دے گی۔{۱۰۰}</p>
<p> رہے وہ لوگ جن کے لیے ہماری طرف سے بَھلائی کا پہلے ہی فیصلہ ہوچکا ہوگا، تو وہ یقینا اس سے دُور رکھے جائیں گے۔[97]{۱۰۱}</p>
<p> اُس کی سرسر اہٹ تک نہ سنیں گے اور وہ ہمیشہ ہمیشہ اپنی من بھاتی چیزو ں کے درمیان رہیں گے۔ { ۱۰۲}</p>
<p> وہ انتہائی گھبراہٹ کا وقت اُن کو ذراپریشان نہ کرے[98] گا اور ملائکہ بڑھ کر ان کو ہاتھوں ہاتھ لیں گے کہ ’’یہ تمہارا وہی دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا‘‘۔{۱۰۳}</p>
<p> وہ دن جب کہ آسمان کو ہم یو ں لپیٹ کررکھ دیں گے جیسے طُومار میں اَوراق لپیٹ دیے جاتے ہیں ۔ جس طرح پہلے ہم نے تخلیق کی ابتدا کی تھی اُسی طرح ہم پھر اُس کا اعادہ کریں گے۔ یہ ایک وعدہ ہے ہمارے ذمّے، اور یہ کام ہمیں بہرحال کرنا ہے{۱۰۴}</p>
<p> اور زَبُور میں ہم نصیحت کے بعد یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔  {۱۰۵}</p>
<p> اس میں ایک بڑی خبر ہے عبادت گزار لوگوں کے لیے۔ [99]{۱۰۶}</p>
<p>(اے نبی  ؐ!)ہم نے تو تم کو دنیا والوں کے لیے رحمت[100]بناکر بھیجا ہے{۱۰۷}</p>
<p> ان سے کہو ’’ میرے پاس جو وحی آتی ہے وہ یہ ہے کہ تمہارا اِلٰہ (معبود ِ حقیقی )تو بس صرف ایک اللہ ہے ، پھر کیا تم سراطاعت  جُھکا تے ہو؟‘‘ {۱۰۸}</p>
<p> اگر وہ منھ پھیریں تو کہہ دو کہ ’’ میں نے علی الاعلان تم کو خبردار کردیا ہے۔ اب یہ میں نہیں جانتا کہ وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے [101]قریب ہے یادُور۔{۱۰۹}</p>
<p>اللہ وہ باتیں بھی جانتا ہے جو بآواز بلند کہی جاتی ہیں اور وہ بھی جو تُم  چُھپا کرکرتے ہو ۔[102]{۱۱۰}</p>
<p>میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ شایدیہ (دیر ) تمہارے لئے ایک فتنہ ہے[103] اور تمہیں ایک وقتِ خاص تک کے لیے مزے کرنے کا موقع دیا جارہا ہے ‘‘۔{۱۱۱}</p>
<p>( آخر کار) رسول  ؐنے کہا کہ ’’ اے میرے رَبّ!حق کے ساتھ فیصلہ کردے، اور لوگو، تم جو باتیں بناتے ہواُن کے مقابلے میں ہمارا ربّ ِ رحمان ہی ہمارے لئے مدد کا سہارا ہے‘‘۔{۱۱۲}</p>

</div><div id="22"><p>سورۃالحج </p>
<p>اللہ کے نام سے جوبے انتہامہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>لوگو! اپنے رَبّ کے غضب سے بچو ، حقیقت یہ ہے کہ قیامت کا زلزلہ بڑی ( ہولناک) چیز [1]ہے{۱}</p>
<p> جس روز تم اسے دیکھو گے ، حال یہ ہوگا کہ ہر دُودھ پلانے والی اپنے دُودھ پیتے بچّے سے غافل ہوجائے گی،[2] ہر حاملہ کا حمل گرجائے گا اور لوگ تم کو مدہوش نظر آئیں گے ، حالاں کہ وہ نشے میں نہ ہوں گے،  بلکہ اللہ کا عذاب ہی کچھ ایسا سخت ہوگا۔[3]{ ۲}</p>
<p>بعض لوگ ایسے ہیں جو عِلم کے بغیر اللہ کے بارے میں بحثیں کرتے ہیں[4] اور ہر شیطان سرکش کی پَیروی کرنے لگتے ہیں ۔{ ۳}</p>
<p>حالانکہ اُس کے تو نصیب ہی میں یہ لکھا ہے کہ جو اس کو دوست بنائے گا اُسے وہ گمراہ کرکے چھوڑے گا اور عذاب ِجہنم کا راستہ دکھائے گا۔{ ۴}</p>
<p>لوگو ! اگر تمہیں زندگی بعد موت کے بارے میں کچھ شک ہے تو تمہیں معلوم ہو کہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ہے ، پھر نطفے [5]سے ، پھر خون کے لوتھڑے سے ، پھر گوشت کی بوٹی سے جو شکل والی بھی ہوتی ہے اور بے شکل بھی۔[6] ( یہ ہم اس لیے بتارہے ہیں) تا کہ تم پر حقیقت واضح کریں۔ ہم جس (نطفے ) کو چاہتے ہیں ایک وقت ِخاص تک رحموں میں ٹھہرائے رکھتے ہیں ، پھر تم کو ایک بچّے کی صورت میں نکال لاتے ہیں ۔ (پھر تمہیں پرورش کرتے ہیں) تا کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو، اور تم میں سے کوئی پہلے ہی واپس بُلالیا جاتا ہے اور کوئی بدترین عمر کی طرف پھیردیا جاتا ہے تا کہ سب کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانے ۔[7]اور تم دیکھتے ہو کہ زمین سوکھی پڑی ہے ، پھر جہاں ہم نے اُس پر مینہ برسایا کہ یکایک وہ پَھبک اُٹھی اور پُھول گئی اور اس نے ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگلنی شروع کردی ۔{۵}</p>
<p>یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے [8]، اور وہ مُردوں کو زندہ کرتا ہے ، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے {۶}</p>
<p>اور یہ ( اس بات کی دلیل ہے) کہ قیامت کی گھڑی آکر رہے گی، اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں، اور اللہ ضرور اُن لوگوں کو اٹھائے گا جو قبروں میں جاچکے ہیں۔[9]{۷}</p>
<p>بعض اور لوگ ایسے ہیں جو کسی علم [10]اور ہدایت [11]اور روشنی بخشنے والی کتاب [12]کے بغیر ، اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں{۸}</p>
<p> گردن اکڑائے [13]ہوئے تاکہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بھٹکادیں۔[14] ایسے شخص کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور قیامت کے روز اس کو ہم آگ کے عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔{۹}</p>
<p> یہ ہے تیرا وہ مستقبل جو تیرے اپنے ہاتھوں نے تیرے لئے تیار کیا ہے ، ورنہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔{۱۰}</p>
<p>اور لوگوں میں کوئی ایسا ہے جو کنارے پررہ کر اللہ کی بندگی کرتا [15]ہے اگر فائدہ ہو ، تو مطمئن ہوگیا اور جو کوئی مصیبت آگئی تو الٹا پھر گیا۔[16] اُس کی دنیا بھی گئی اور آخرت بھی ۔ یہ ہے صریح خسارہ۔ [17]{۱۱}</p>
<p>پھر وہ اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پُکارتا ہے جو نہ اس کو نقصان پہنچاسکتے ہیں نہ فائدہ، یہ ہے گمراہی کی ا نتہا۔{ ۱۲}</p>
<p> وہ اُن کو پُکارتا ہے جن کا نقصان ان کے نفع سے قریب ترہے ،[18] بدترین ہے اُس کا مولیٰ اور بدترین ہے اُس کا رفیق۔[19] {۱۳}</p>
<p> (اس کے برعکس) اللہ اُن لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے ،[20] یقینا ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہر یں بہہ رہی ہوں گی اللہ کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے۔[21] {۱۴}</p>
<p>جو شخص یہ گمان رکھتا ہو کہ اللہ دنیا اور آخرت میں اُس کی کوئی مدد نہ کرے گا اُسے چاہئے کہ ایک رسّی کے ذریعے آسمان تک پہنچ کر شگاف لگائے پھردیکھ لے کہ آیا اس کی تدبیر کسی ایسی چیز کو رد کرسکتی ہے،جو اس کو ناگوار ہے۔[22]{۱۵}</p>
<p>ایسی ہی کُھلی کُھلی باتوں کے ساتھ ہم نے اس قرآن کو نازل کیا ہے۔ اور ہدایت اللہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔{۱۶}</p>
<p>جولوگ ایمان لائے،[23] او رجو یہودی ہوئے،[24]اور صابی [25]اور نصاریٰ [26]اور مجوس [27]اور جن لوگوں نے شرک کیا [28]، ان سب کے درمیان اللہ قیامت کے روز فیصلہ کردے گا،[29]ہر چیز اللہ کی نظر میں ہے۔{۱۷}</p>
<p> کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کے آگے سربسُجود ہیں[30] وہ سب جو آسمانوں میں ہیں [31]اور جو زمین میں ہیں، سُورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان [32]اور بہت سے وہ لوگ بھی جو عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں [33]؟ اور جسے اللہ ذلیل و خوار کردے اُسے پھر کوئی عزت دینے والا نہیں[34] ہے ، اللہ کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے۔[35]{۱۸}</p>
<p>یہ دوفریق ہیں جن کے درمیان اپنے رَبّ کے معاملے میں جھگڑا ہے، [36] ان میں سے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اُن کے لیے آگ کے لباس کاٹے جاچکے ہیں ،[37] اُن کے سروں پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا{۱۹}</p>
<p> جس سے اُن کی کھالیں ہی نہیں پیٹ کے اندر کے حصے تک گل جائیں گے{۲۰}</p>
<p>اور اُن کی خبر لینے کے لیے لوہے کے گُرزہوں گے۔{۲۱}</p>
<p> جب کبھی وہ گھبراکر جہنّم سے نکلنے کی کوشش کریں گے پھراُسی میں دھکیل دیے جائیں گے کہ چکھواب جلنے کی سزا کا مزہ ۔{ ۲۲}</p>
<p>( دوسری طرف ) جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے اُن کو اللہ ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ وہاں وہ سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ کئے جائیں گے[38] اور ان کے لباس ریشم کے ہوں گے۔{ ۲۳}</p>
<p>ان کو پاکیزہ بات قبول کرنے کی ہدایت بخشی گئی[39] اور انہیں ستودہ صفات اللہ (گ ) کا راستہ دکھایا گیا۔[40]{۲۴}</p>
<p>جن لوگوں نے کفر کیا [41]اور جو ( آج ) اللہ کے راستے سے روک رہے ہیں اور اُس مسجد حرام کی زیارت میں مانع ہیں[42] جسے ہم نے سب لوگوں کے لیے بنایا ہے، جس میں مقامی باشندوں اور باہر سے آنے والوں کے حقوق برابرہیں[43] ( اُن کی روش یقینا سزا کی مستحق ہے) اس (مسجد ِحرام ) میں جو بھی راستی سے ہٹ کر ظلم کا طریقہ اختیار کرے[44] گا اسے ہم درد ناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔{۲۵}</p>
<p>یادکرو وہ وقت جبکہ ہم نے ابراہیم ؑ کے لیے اس گھر (خانہ ٔکعبہ ) کی جگہ تجویز کی تھی ( اس ہدایت کے ساتھ) کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو ، اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام ورکوع وسجود کرنے والو ں کے لیے پاک رکھو [45]{۲۶}</p>
<p>اور لوگوں کو حج کے لیے اِذن عام دے دو کہ وہ تمہارے پاس ہر دور دراز مقام سے پیدل او راُونٹوں [46]پر سوار آئیں[47]{۲۷}</p>
<p>تاکہ وہ فائدے دیکھیں جو یہا ں اُن کے لیے رکھے گئے ہیں ،[48] اور چند مقرر دنوں میں اُن جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اُس نے انہیں بخشے ہیں ،[49] خود بھی کھائیں اور تنگ دست محتاج کو بھی دیں ۔[50]{۲۸}</p>
<p> پھر اپنا میل کچیل دور کریں[51] اور اپنی نذریں پوری کریں[52] اور اس قدیم گھر کا طواف کریں[53]{۲۹}</p>
<p>یہ تھا ( تعمیر کعبہ کا مقصد ) اور جو کوئی اللہ کی قائم کردہ حرمتوں کا احترام کرے تو یہ اس کے رَبّ کے نزدیک خود اسی کے لیے بہتر ہے۔[54] اور تمہارے لئے مویشی جانور حلال کئے گئے۔[55]  ماسوا اُن چیزوں کے جو تمہیں بتائی جاچکی ہیں ۔ [56]پس بُتوں کی گندگی سے بچو ،[57] جھوٹی باتوں سے پرہیز کرو[58]{۳۰}</p>
<p> یک سُوہو کر اللہ کے بندے بنو ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے تو گویا وہ آسمان سے گِرگیا ، اب یاتو اسے پرندے اُچک لے جائیں گے یا ہوا اُس کو ایسی جگہ لے جاکر پھینک دے گی جہاں اُس کے چیتھڑے اُڑجائیں گے ۔[59] {۳۱}</p>
<p>یہ ہے اصل معاملہ ( اِسے سمجھ لو )، اور جو اللہ کے مقرر کردہ شعائر[60] کا احترام کرے تو یہ دِلوں کے تقویٰ سے ہے۔[61]{ ۳۲}</p>
<p>تمہیں ایک وقت ِمقرر تک اُن ( ہَدْی کے جانوروں ) سے فائدہ اٹھانے کا حق ہے،[62]  پھراُن ( کے قربان کرنے ) کی جگہ اسی قدیم گھر کے پاس ہے۔[63] {۳۳}</p>
<p>ہراُمّت کے لیے ہم نے قربانی کا ایک قاعدہ مقرر کردیا ہے تا کہ ( اُس اُ مّت کے ) لوگ اُن جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اُس نے ان کو بخشے ہیں۔[64] ( اِن مختلف طریقوں کے اندر مقصد ایک ہی ہے ) پس تمہارا اِلٰہ ایک ہی اِلٰہ (معبود)ہے اور اُسی کے تم مطیع فرمان بنو۔ اور( اے نبی  ؐ ) !بشارت دے دیجیے۔ عاجزانہ رَوِش اختیار کرنے والوں کو [65]{ ۳۴}</p>
<p>جن کا حال یہ ہے کہ اللہ کا ذِکر سنتے ہیں تو اِن کے دل کانپ اٹھتے ہیں ، جو مصیبت بھی اُن پر آتی ہے اُس پر صبر کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، اور جو کچھ رزق ہم نے اُن کو دیا ہے اُس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ [66]{۳۵}</p>
<p>  اور( قربانی کے) اُونٹوں[67] کو ہم نے تمہارے لئے شعائر اللہ میں شامل کیا ہے ، تمہارے لئے اُن میں بھلائی [67]ہے، پس انہیں کھڑا کرکے[68] ان پر اللہ کا نام لو،[70] اور جب (قربانی کے بعد) اُن کی پیٹھیں زمین پرٹِک جائیں [71]تو اُن میں سے خود بھی کھا ؤ اور اُن کو بھی کھلا ؤ جو قناعت کئے بیٹھے ہیں ، اور اُن کو بھی جو  اپنی حاجت پیش کریں۔ اِن جانوروں کو ہم نے اِس طرح تمہارے لئے مسخر کیا ہے تا کہ تم شکریہ ادا کرو۔[72]{۳۶}</p>
<p> نہ اُن کے گوشت اللہ کو پہنچتے ہیں نہ خون ، مگر اُسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے ۔ [73]اُس نے ان کو تمہارے لئے اِس طرح مسخر کیا ہے تا کہ اُس کی بخشی ہوئی ہدایت پر تم اُس کی تکبیر کرو۔[74] اور (اے نبی  ؐ !)بشارت دے دیجیے نیکوکارلوگوں کو {۳۷}</p>
<p>یقینا [75]اللہ مدافعت کرتا ہے اُن لوگوں کی طرف سے جو ایمان لائے [76]ہیں۔ یقینا اللہ کسی خائن، کا فر نعمت کو پسند نہیں کرتا ۔[77]{۳۸}</p>
<p>اجازت دے دی گئی اُن لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جارہی ہے ۔ کیونکہ وہ مظلوم ہیں،[78] اور اللہ یقینا ان کی مدد پر قادر ہے۔ [79]{۳۹}</p>
<p> یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکال دیے گئے[80] صرف اس قصور پر کہ وہ کہتے تھے ’’ ہمارا رَبّ اللہ ہے۔ ‘‘[81] اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعہ دفع نہ کرتا رہے تو خانقا ہیں اور گرجا اور معبد [82]اور مسجدیں ، جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے ، سب مسمار کر ڈالی جائیں۔[83] اللہ ضروراُن لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے[84] ۱للہ بڑا طاقتور اور زبردست ہے ۔{۴۰}</p>
<p> یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے ، زکوٰۃ دیں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں [85]گے اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔[86]{۴۱}</p>
<p> (اے نبی  ؐ!) اگروہ ( یعنی کفار) تمہیں [87]جُھٹلاتے ہیں تو اُن سے پہلے قومِ نوحؑ اور عاد، اور ثمود جُھٹلاچکے ہیں {۴۲}</p>
<p>اورقوم ابراہیم ؑ اور قوم لوطؑ {۴۳}</p>
<p>اور اہلِ مدین بھی جُھٹلاچکے ہیں اور موسیٰ  ؑ بھی جھٹلائے جاچکے ہیں۔ اِن سب منکرِین حق کو میں نے پہلے مہلت دی پھر پکڑلیا۔ [88]اب دیکھ لو کہ میری عقوبت کیسی[89] تھی۔ {۴۴}</p>
<p>کتنی ہی خطا کاربستیاں ہیں جن کو ہم نے تباہ کیا ہے اور آج وہ اپنی چھتوں پر اُلٹی پڑی ہیں ، کتنے ہی کنوئیں[90] بیکار اور کتنے ہی قصر کھنڈربنے ہوئے ہیں۔ {۴۵}</p>
<p>کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ ان کے دل سمجھنے والے یا اِن کے کان سُننے والے ہوتے ؟ حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں مگر وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔[91]{۴۶}</p>
<p>یہ لوگ عذاب کے لیے جلدی مچار ہے ہیں۔[92] اللہ ہرگز اپنے وعدے کے خلاف نہ کرے گا،مگر تیرے رَبّ کے ہاں کا ایک دن تمہارے شمار کے ہزار برس کے برابر ہوا کرتا [93]ہے۔  {۴۷}</p>
<p>کتنی ہی بستیاں ہیں جو ظالم تھیں ، میں نے ان کو پہلے مہلت دی ، پھر پکڑلیا، اور سب کو واپس تو میرے ہی پاس آنا ہے۔ {۴۸}</p>
<p>اے نبی  ؐ ! کہہ دو کہ ’’لوگو! میں تو تمہارے لے صرف وہ شخص ہوں جو (بُرا وقت آنے سے پہلے) صاف صاف خبردار کر دینے والا ہوں‘‘۔[94]{۴۹}</p>
<p> پھر جو ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے ان کے لیے مغفرت ہے۔اورعزت کی روزی۔[95] {۵۰}</p>
<p> اور جو ہماری آیات کو نیچا دکھانے کی کوشش کرے گا وہ دوزخ کے یار ہیں۔{۵۱}</p>
<p>اور( اے نبی  ؐ!) تم سے پہلے نہ کوئی رسُول ایسا بھیجا ہے نہ نبی[96] (جس کے ساتھ یہ معاملہ نہ پیش آیا ہو کہ)جب اُس نے تمنّا کی ، شیطان اس کی تمنّا[97] میں خلل انداز ہوگیا۔ اس طرح جو کچھ بھی شیطان خلل اندازیاں[98] کرتا ہے، اللہ ان کو مٹا دیتا ہے او راپنی آیات کو پختہ کر دیتا ہے[99] اور اللہ علیم ہے اور حکیم ۔[100]{ ۵۲}</p>
<p> (وہ اس لیے ایسا ہونے دیتا ہے) تاکہ شیطان کی ڈالی ہوئی خرابی کو فتنہ بنادے اُن لوگو ں کے لیے جن کے دلوں کو (نفاق کا روگ ) لگا ہوا ہے اور جن کے دل کھوٹے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کے یہ ظالم لوگ عناد میں بہت دُور نکل گئے ہیں۔ {۵۳}</p>
<p> اور علم سے بہرہ مند لوگ جان لیں کہ یہ حق ہے تیرے رَبّ کی طر ف سے اور وہ اس پر ایمان لے آئیں اور ان کے دل اس کے آگے جُھک جائیں، یقینا اللہ ایمان لانے والوں کو ہمیشہ سیدھا راستہ دکھادیتا ہے۔[101]  {۵۴}</p>
<p>انکار کرنے والے تو اس کی طرف سے شک ہی میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ یا تو اُن پر قیامت کی گھڑی اچانک آجائے، یا ایک منحوس [102]دن کا عذاب نازل ہو جائے۔ {۵۵}</p>
<p>  اُس روز بادشاہی اللہ کی ہوگی، اور وہ ان کے درمیان فیصلہ کردے گا۔ جو ایمان رکھنے والے اورعمل صالح کرنے والے ہوں گے وہ نعمت بھری جنتوں میں جائیں گے۔{۵۶}</p>
<p>اور جنہوں نے کفر کیا ہوگا اور ہماری آیات کو جُھٹلایاہوگا اُن کے لیے رسواکن عذاب ہوگا۔{۵۷}</p>
<p>اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی ، پھر قتل کردیئے گئے یا مر گئے، اللہ ان کو اچّھارزق دیگا۔ اور یقینا صرف اللہ ہی بہترین رازق ہے۔{۵۸}</p>
<p>وہ انہیں ا یسی جگہ پہنچائے گا جس سے وہ خوش ہوجائیں گے۔ بیشک اللہ علیم اور حلیم ہے۔[103]{۵۹}</p>
<p> یہ تو ہے اُن کاحال اور انجام ، اور جو کوئی بدلہ لے، ویساہی جیسا اُس کے ساتھ کیا گیا ، اور پھر اس پر زیادتی بھی کی گئی ہو، تو اللہ اس کی مدد ضرور کرے گا۔[104] اللہ معاف کرنے والا اور در گزر کرنے والا ہے۔ [105]{۶۰}</p>
<p>یہ [106]اس لیے کہ رات سے دن اور دن سے رات نکالنے والا اللہ ہی [107]ہے اور وہ سمیع و بصیر [108]ہے۔{۶۱}</p>
<p> یہ اس لیے کہ اللہ ہی حق ہے اور وہ سب باطل ہیں جنھیں اللہ کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں[109] اور اللہ ہی بالادست اور بزرگ ہے۔{ ۶۲}</p>
<p>کیا تم دیکھتے نہیں ہوکہ اللہ آسمان سے پانی برساتا ہے اور اس کی بدولت زمین سر سبز ہوجاتی ہے؟[110] حقیقت یہ ہے کہ وہ لطیف و خبیر ہے ۔[111] {۶۳}</p>
<p>اُسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، بے شک وہی غنی و حمید ہے۔[112]{۶۴}</p>
<p>کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اُس نے وہ سب کچھ تمہارے لیے مسخرکر رکھا ہے،جو زمین میں ہے ،اور اُسی نے کشتی کو قاعدے کا پابند بنایا ہے کہ وہ اس کے حکم سے سمندر میں چلتی ہے،اور وہی آسمان کو اِس طرح تھامے ہوئے ہے کہ اس کے اِذن کے بغیر وہ زمین پر نہیں گرسکتا ؟[113] واقعہ یہ ہے کہ اللہ لوگوں کے حق میں بڑا شفیق اور رحیم ہے۔ {۶۵}</p>
<p> وہی ہے جس نے تمہیں زندگی بخشی ہے ، وہی تم کو موت دیتا ہے اور وہی پھر تم کو زندہ کرے گا۔ سچ یہ ہے کہ انسان بڑا ہی منکر حق ہے۔[114]{۶۶}</p>
<p>ہراُ مّت[115] کے لیے ہم نے ایک طریقِ عبادت [116]مقرر کیا ہے جس کی وہ پَیروی کرتی ہے ، پس (اے نبی  ؐ) وہ اس معاملہ میں تم سے جھگڑانہ کریں [117]تم اپنے رَبّ کی طرف دعوت دو یقینا تم سیدھے راستے پر ہو۔[118] {۶۷}</p>
<p> اور اگروہ تم سے جھگڑیں تو کہہ دو کہ ’’ جو کچھ تم کررہے ہو اللہ کو خوب معلوم ہے{۶۸}</p>
<p> اللہ قیامت کے روز تمہارے درمیان ان سب باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں تُم اختلاف کرتے رہے ہو۔‘‘{۶۹}</p>
<p>کیا تم نہیں جانتے کہ آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ کے علم میں ہے ؟ سب کچھ ایک کتاب میں درج ہے ۔ اللہ کے لیے یہ کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔[119]{۷۰}</p>
<p> یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر اُن کی عبادت کررہے ہیں جن کے لیے نہ تو اُس نے کوئی سندنازل کی اور نہ یہ خود اُن کے بارے میں کوئی علم رکھتے ہیں ۔[120] اِن ظالموں کے لیے کوئی مددگار نہیں ہے۔[121]{۷۱}</p>
<p> اور جب اِن کو ہماری صاف صاف آیات سُنائی جاتی ہیں تو تم دیکھتے ہو کہ منکرِین حق کے چہرے بگڑنے لگتے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ابھی وہ اُن لوگوں پر ٹوٹ پڑیں گے جو انہیں ہماری آیات سُناتے ہیں ۔ان سے کہو ’’میں بتا ؤں تمہیں کہ اس سے بدتر چیز کیا ہے ؟[122] آگ، اللہ نے اُسی کا وعدہ اُن لوگوں کے حق میں کررکھا ہے جو قبولِ حق سے انکار کریں ، اور وہ بہت ہی بُراٹھکانا ہے ۔‘‘{۷۲}</p>
<p>لوگو! ایک مثال دی جاتی ہے ، غور سے سنو ۔ جن معبُودوں کو تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہیں کرسکتے ، بلکہ اگر مکھی اُن سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اُسے چھڑا بھی نہیں سکتے۔ مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور[123]۔ { ۷۳}</p>
<p>ان لوگوں نے اللہ کی قدرہی نہ پہچانی جیسا کہ اس کے پہنچاننے کا حق ہے ۔ واقعہ یہ ہے کہ قوت اور عزّت والا تو اللہ ہی ہے۔{۷۴}</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ اللہ ( اپنے فرامین کی ترسیل کے لیے ) ملائکہ میں سے بھی پیغام رساں منتخب کرتا ہے اور انسانوں میں سے بھی ۔ [124]وہ سمیع اور بصیر ہے {۷۵}</p>
<p> جو کچھ لوگوں کے سامنے ہے اُسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اُن سے اُوجھل ہے اس سے بھی وہ واقف [125]ہے ، اور سارے معاملات ، اُسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔[126]{۷۶}</p>
<p>اے لوگو جو ایمان لائے ہو! رکوع اور سجدہ کرو، اپنے رَبّ کی بندگی کرو ، اور نیک کام کرو ، اِسی سے توقع کی جاسکتی ہے کہ تم کو فلاح نصیب ہو۔[127]{۷۷}</p>
<p> اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق [128]ہے ۔ اُس نے تمہیں اپنے کام کے لیے چُن لیا ہے[129] اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔[130] قائم ہوجا ؤ اپنے باپ ابراہیم ؑ کی مِلّت،[131] پر اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام ’’مسلم‘‘ رکھا تھا اور اس ( قرآن ) میں بھی (تمہارا یہی نام [132]ہے) تاکہ رسُول  ؐ تم پر گواہ ہو اور تُم لوگوں پر گواہ۔[133] پس نماز قائم کرو ، زکوٰۃ دو ، اور اللہ سے وابستہ ہوجا ؤ۔[134] وہ ہے تمہارا مولیٰ ، بہت ہی اچھا ہے وہ مولیٰ اور بہت ہی اچھا ہے وہ مددگار۔ {۷۸}</p>

</div><div id="23"><p>سورۃالمؤمنون </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان او ررحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>یقینا فلاح پائی ہے ایمان لانے والوں [1]نے{۱}</p>
<p>جو اپنی [2]نماز میں خشوع [3]اختیار کرتے ہیں{ ۲}</p>
<p>اور وہ جو لغویات سے دور رہتے ہیں[4]{ ۳}</p>
<p>(اور وہ لوگ جو )زکوٰۃ کے طریقے پر عامل ہوتے ہیں[5]{ ۴}</p>
<p>اور وہ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں[6]{۵}</p>
<p> سوائے اپنی بیویوں کے اور اُن عورتوں کے جواِن کی مِلکِ یمیِن میں ہوں  کہ اُن پر محفوظ نہ رکھنے میں وہ قابلِ ملامت نہیں ہیں۔{۶}</p>
<p> البتہ جو اُس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں ۔[7]{۷}</p>
<p>(اور وہ جو )اپنی امانتوں اور اپنے عہدو پیمان کا پاس رکھتے ہیں۔[8] {۸}</p>
<p> اور وہ اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں۔[9]{۹}</p>
<p> یہی لوگ وہ وارث ہیں{۱۰}</p>
<p> جو میراث میں فردوس [10]پائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔[11]{۱۱}</p>
<p>ہم نے انسان کو مٹی کے ست سے بنایا {۱۲}</p>
<p> پھر اسے ایک محفوظ جگہ ٹپکی ہوئی بوندمیں تبدیل کیا۔{۱۳}</p>
<p>پھر اس بوند کو لوتھڑے کی شکل دی ، پھر لو تھڑے کو بوٹی بنادیا ، پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں ، پھرہڈیوں پر گوشت چڑھایا ،[12] پھر اسے ایک دوسری ہی مخلوق بناکھڑا کیا۔[13]  پس بڑا ہی بابرکت [14]ہے اللہ، سب کاریگروں سے اچھا کاریگر۔{۱۴}</p>
<p>پھر اس کے بعد تم کو ضرور مرنا ہے۔{۱۵}</p>
<p>پھر قیامت کے روز یقینا تم اٹھائے جا ؤ گے۔ {۱۶}</p>
<p>اور تمہارے اُوپر ہم نے سات راستے  بنائے ،[15]تخلیق کے کام سے ہم کچھ نابلدنہ  تھے۔[16]{۱۷}</p>
<p>اور آسمان سے ہم نے ٹھیک حساب کے مطابق ایک خاص مقدار میں پانی اُتارا اور اس کو زمین میں ٹھہرادیا ،[17] ہم اُسے جس طرح چاہیں غائب کر سکتے ہیں۔ [18]{۱۸}</p>
<p>پھر اس پانی کے ذریعے سے ہم نے تمہارے لئے کھجور اور انگو ر کے باغ پیدا کردئے ، تمہار ے لئے اِن باغوں میں بہت سے لذیذ پھل ہیں [19]اور ان سے تم کھاتے ہو روزی حاصل کرتے ہو۔[20] {۱۹}</p>
<p> اور وہ درخت بھی ہم نے پیدا کیا جو طورسینا سے نکلتا ہے [21] تیل بھی لئے ہوئے اُگتا ہے اور کھانے والوں کے لیے سالن بھی ۔{۲۰}</p>
<p>اور حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لئے مویشیوں میں بھی ایک سبق ہے۔ ان کے پیٹوں میں جو کچھ ہے اسی میں سے ایک چیز ( یعنی دودھ ) ہم تمہیں پلاتے ہیں ،[22] اور تمہارے لئے ان میں بہت سے دوسرے فائدے بھی ہیں۔ اُن کو تم کھاتے ہو{۲۱}</p>
<p> اور اُن پر اور کشتیوں پر سوار بھی کئے جاتے ہو ۔[23]{ ۲۲}</p>
<p>  ہم نے نوح ؑ کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۔[24] اس نے کہا ’’ اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی بندگی کر و ، اس کے سوا تمہارے لئے کوئی معبود نہیں ہے ، کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟‘‘[25]{۲۳}</p>
<p>اُس کی قوم کے جن سرداروں نے ماننے سے انکار کیا وہ کہنے لگے کہ ’’ یہ شخص کچھ نہیں ہے مگر ایک بشر تم ہی جیسا ۔[26] اس کی غرض یہ ہے کہ تم پر برتری حاصل کرے۔[27] اللہ کو اگر بھیجنا ہوتاتو فرشتے بھیجتا ۔ یہ بات تو ہم نے کبھی اپنے باپ دادا کے وقتوں میں سُنی ہی نہیں ( کہ بشر رسُول بن کرآئے )۔‘‘ {۲۴}</p>
<p>کچھ نہیں بس اِس آدمی کو ذراجنون لاحق ہوگیا ہے۔ کچھ مدت اور دیکھ لو (شاید افاقہ ہوجائے ){۲۵}</p>
<p> نوحؑ نے کہا ’’ پروردگار !اِن لوگوں نے جو میری تکذیب کی ہے اس پر اب تُو ہی میری نصرت فرما ‘‘[28]{۲۶}</p>
<p>ہم نے اس پر وحی کی کہ ’’ ہماری نگرانی میں اور ہماری وحی کے مطابق کشتی تیار کر ۔ پھر جب ہمارا حکم آجائے اور وہ تنوراُبل پڑے [29]تو ہرقسم کے جانوروں میں سے ایک ایک جوڑا لے کر اس میں سوار ہوجا، اور اپنے اہل وعیال کو بھی ساتھ لے سوائے اُن کے جن کے خلاف پہلے فیصلہ ہوچکا ہے ، اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے کچھ نہ کہنا ، یہ اب غرق ہونے والے ہیں۔{۲۷}</p>
<p>  پھر جب تو اپنے ساتھیوں سمیت کشتی پرسوار ہوجائے تو کہہ ، شکر ہے اُس اللہ کا جس نے ہمیں ظالم لوگوں سے نجات دی۔ [30]{۲۸}</p>
<p> اور کہہ ، پروردگار ! مجھ کو برکت والی جگہ اُتار اور تو بہترین جگہ دینے والا ہے‘‘[31]{۲۹}</p>
<p> اس قصّے میں بڑی نشانیاں ہیں ،[32] اور آزمائش تو ہم کرکے ہی رہتے ہیں۔[33]{۳۰}</p>
<p>اُن کے بعد ہم نے ایک دوسرے دور کی قوم اٹھائی [34]{۳۱}</p>
<p>پھر اُن میں خود انہی کی قوم کا ایک رسُول بھیجا( جس نے انہیں دعوت دی) کہ اللہ کی بندگی کرو ، تمہارے لئے اُس کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے ، کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟{۳۲}</p>
<p>اُس کی قوم کے جن سرداروں نے ماننے سے انکار کیا اور آخر ت کی پیشی کو جُھٹلایا جن کو ہم نے دنیا کی زندگی میں آسُودہ کررکھا تھا ،[35] وہ کہنے لگے ’’ یہ شخص کچھ نہیں ہے مگر ایک بشر تم ہی جیسا جو کچھ تم کھاتے ہو وہی یہ کھاتا ہے اور جو کچھ تم پیتے ہووہی یہ پیتا ہے۔{۳۳}</p>
<p> اب اگر تم نے اپنے ہی جیسے ایک بشر کی اطاعت  قبول کرلی تو تم گھاٹے ہی میں رہے[36]{۳۴}</p>
<p>یہ تمہیں اطلاع دیتا ہے کہ جب تم مرکرمٹی ہوجا ؤ گے اور ہڈیوں کا پنجربن کررہ جا ؤ گے اُس وقت تم ( قبروں سے ) نکالے جا ؤگے ؟ {۳۵}</p>
<p>بعید ، بالکل بعید ہے یہ وعدہ جو تم سے کیا جارہا ہے {۳۶}</p>
<p>زندگی کچھ نہیں ہے مگر بس یہی دنیا کی زندگی یہیں ہم کو مرنا اور جینا ہے اور ہم ہرگز اُٹھائے جانے والے نہیں ہیں{۳۷}</p>
<p> یہ شخص اللہ کے نام پر محض جھوٹ گھڑرہا ہے اور ہم کبھی اس کی ماننے والے نہیں ہیں‘‘{۳۸}</p>
<p> رسُول نے کہا ’’ پروردگار !اِن لوگوں نے جو میری تکذیب کی ہے اس پر اب توہی میری نصرت فرما‘‘۔ {۳۹}</p>
<p>جواب میں ارشاد ہوا ’’قریب ہے وہ وقت جب یہ اپنے کئے پر پچھتا ئیں گے‘‘ ۔{۴۰}</p>
<p> آخر کار ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق ایک ہنگامۂٔ عظیم نے ان کو آلیا اور ہم نے ان کو کچرا[37] بناکر پھینک دیا۔دُور ہوظالم قوم!{۴۱}</p>
<p>پھر ہم نے ان کے بعد دُوسری قو میں اُٹھائیں۔{۴۲}</p>
<p>کوئی قوم نہ اپنے وقت سے پہلے ختم ہوئی اور نہ اس کے بعد ٹھہرسکی۔ {۴۳}</p>
<p>پھر ہم نے پے درپے اپنے رسُول بھیجے ۔ جس قوم کے پاس بھی اُس کا رسُول آیا، اُس نے اُسے جُھٹلایا، اور ہم ایک کے بعد ایک قوم کو ہلاک کرتے چلے گئے، حتیٰ کہ ان کو بس افسانہ ہی بناکر چھوڑا۔ پھٹکار اُن لوگوں پر جو ایمان نہیں [38]لاتے ! {۴۴}</p>
<p>پھرہم نے موسیٰ  ؑ اور اس کے بھائی ہارونؑ کو اپنی نشانیوں اور کھلی سنَد [39]کے ساتھ بھیجا{۴۵}</p>
<p>فرعون اور اس کے اعیانِ سلطنت کی طرف ، مگر انہوں نے تکبّر کیا او ر بڑی دوں کی لی [40] ( یعنی وہ تھے ہی بڑے شیخی باز اور سرکش لوگ ) {۴۶}</p>
<p>کہنے لگے ’’ کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں؟ اور آدمی بھی وہ جن کی قوم ہماری بندی[41] ہے‘‘۔{۴۷}</p>
<p> پس، اُنہوں نے دونوں کو جُھٹلادیا اور ہلاک ہونے والوں میں جاملے۔[42] {۴۸}</p>
<p> اور موسیٰ  ؑکو ہم نے کتاب عطا فرمائی تا کہ لوگ اس سے رہنمائی حاصل کریں۔{۴۹}</p>
<p>اور ابن مریمؑ اور اس کی ماں کو ہم نے ایک نشانی بنایا [43]اور ان کو ایک سطح مُرتفَع پر رکھا جو اطمینان کی جگہ تھی اور چشمے اس میں جاری تھے۔ [44]{۵۰}</p>
<p>اے پیغمبر و[45] ! کھا ؤ پاک چیزیں اور عمل کر وصالح [46]، تم جو کچھ بھی کرتے ہو ،میںاُس کو خوب جانتا  ہوں {۵۱}</p>
<p> اور یہ تمہاری اُمّت ایک ہی اُمّت ہے اور میں تمہارا رَبّ ہوں ، پس مجھ ہی سے تم ڈرو[47]{ ۵۲}</p>
<p>مگر بعد میں لوگوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرلیا۔ ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے اُسی میں وہ مگن[48]ہے۔{ ۵۳}</p>
<p>اچھا تو چھوڑو انہیں ، ڈوبے رہیں اپنی غفلت میں ایک وقت خاص تک [49]{۵۴}</p>
<p>کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو انہیں مال اولاد سے مدد دیئے جارہے ہیں{۵۵}</p>
<p> تو گویا انہیں بھلائیاں دینے میں سرگرم ہیں ؟ نہیں اصل معاملے کا انہیں شعُور نہیں ہے۔[50]{۵۶}</p>
<p> حقیقت میں تو جو لوگ اپنے رَبّ کے خوف سے ڈرنے والے ہوتے ہیں[51]{۵۷}</p>
<p>جو اپنے رَبّ کی آیات پر ایمان لاتے ہیں [52]{۵۸}</p>
<p>جو اپنے رَبّ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے[53]{۵۹}</p>
<p> اور جن کا حال یہ ہے کہ دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں اور دل اُن کے اِس خیال سے کانپتے رہتے ہیں کہ ہمیں اپنے رَبّ کی طرف پلٹنا ہے[54]{۶۰}</p>
<p>وہی بَھلائیوں کی طرف دوڑنے والے اور سبقت کرکے انہیں [55]پالینے والے ہیں۔{۶۱}</p>
<p>ہم کسی شخص کو اسکی مقدرت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے ، اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے۔ جو ( ہر ایک کاحال ) ٹھیک ٹھیک بتادینے والی ہے[56] اور لوگوں پر ظلم بہرحال نہیں کیا جائے گا[57]{۶۲}</p>
<p>مگر یہ لوگ اس معاملے سے بے خبرہیں۔[58] اور ان کے اعمال بھی اُس طریقے سے (جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے) مختلف ہیں ۔ ( وہ اپنے یہ کرتُوت کئے چلے جائیں گے) {۶۳}</p>
<p>یہاں تک کہ جب ہم اُن کے عیّاشوں کو عذاب میں پکڑلیں گے[59] تو پھر وہ ڈَکر انا شروع کردیں گے ۔[60]{۶۴}</p>
<p>اب [61]بند کرو اپنی فریاد وفغاں، ہماری طرف سے اب کوئی مدد تمہیں نہیں ملنی۔{۶۵}</p>
<p> میری آیات سنائی جاتی تھیں، تو تم ( رسُول کی آواز سُنتے ہی) الٹے پا ؤں بھاگ نکلتے تھے [62]{۶۶}</p>
<p>اپنے گھمنڈمیں اُس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے ،اپنی چوپالوں میں اُس پر با تیں چھانٹتے [63]اور بکو اس کیا کرتے تھے۔{۶۷}</p>
<p>توکیا اِن لوگوں نے کبھی اس کلام پر غور نہیں کیا؟[64]یاوہ کوئی ایسی بات لایا ہے جو کبھی ان کے اسلاف کے پاس نہ آئی تھی ؟[65]{۶۸}</p>
<p> یایہ اپنے رسُول سے کبھی کے واقف نہ تھے،کہ ( اَن جانا آدمی ہونے کے باعث ) اُس سے بِدَکتے ہیں؟[66]{۶۹}</p>
<p> یایہ اس بات کے قائل ہیں کہ وہ مجنون ہے ؟[67] نہیں ، بلکہ وہ حق لایا ہے اور حق ہی ان کی اکثریت کو ناگوار ہے۔{۷۰}</p>
<p>اور حق اگر کہیں ان کی خواہشات کے پیچھے چلتا تو زمین اور آسمان اور ان کی ساری آبادی کا نظام درہم برہم ہوجاتا[68] نہیں ، بلکہ ہم ان کا اپنا ہی ذِکر اُن کے پاس لائے ہیں اور وہ اپنے ذکر سے منھ موڑرہے ہیں۔[69]{۷۱}</p>
<p>کیا تُو ان سے کچھ مانگ رہا ہے ؟ تیرے لئے تو تیرے رَبّ کا دیا ہی بہتر ہے اور وہ بہترین رازق ہے[70]{۷۲}</p>
<p> تُو ، تو اُن کو سیدھے راستے کی طرف بلارہا ہے ۔{ ۷۳}</p>
<p>مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ راہِ راست سے ہٹ کر چلنا چاہتے ہیں۔[71]{ ۷۴}</p>
<p>اگر ہم اِن پر رحم کریں اور وہ تکلیف جس میں آج کل یہ مبتلا ہیں ،  دُور کردیں تو یہ اپنی سرکشی میں بالکل ہی بہک جائیں گے۔[72] {۷۵}</p>
<p> ان کا حال تو یہ ہے کہ ہم نے انہیں تکلیف میں مبتلاکیا ، پھر بھی یہ اپنے رَبّ کے آگے نہ جھکے اور نہ عاجزی اختیار کرتے ہیں۔ {۷۶}</p>
<p> ا لبتہ جب نوبت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ ہم ان پر سخت عذاب کا دروازہ کھول دیں تویکایک تم دیکھو گے کہ اس حالت میں یہ ہر خیر سے مایوس ہیں۔[73] {۷۷}</p>
<p>وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہیں سُننے اور دیکھنے کی قوتیں دیں اور سوچنے کو دل دیے مگر تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو[74]{۷۸}</p>
<p> وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا، اور اُسی کی طرف تم سمیٹے جا ؤ گے۔ {۷۹}</p>
<p> وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے ۔ گردِش لیل ونہار اُسی کے قبضۂ قدرت میں ہے ۔ [75]کیا تمہاری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی ؟[76]{۸۰}</p>
<p> مگر یہ لوگ وہی کچھ کہتے ہیں جو اِن کے پیش روکہہ چکے ہیں۔ {۸۱}</p>
<p> یہ کہتے ہیں ’’ کیا جب ہم مرکرمٹی ہوجائیں گے اور ہڈیوں کا پنجربن کررہ جائیں گے تو ہم کو پھرزندہ کرکے اٹھایا جائے گا ؟{۸۲}</p>
<p>ہم نے بھی یہ وعدے بہت سُنے ہیں اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا بھی سُنتے رہے ہیں۔ یہ محض افسانہ ہائے پارینہ ہیں‘‘۔[77]{ ۸۳}</p>
<p>ان سے کہو ، بتا ؤ ، اگر تم جانتے ہو کہ یہ زمین اور اس کی ساری آبادی کس کی ہے ؟{۸۴}</p>
<p>یہ ضرور کہیں گے اللہ کی۔ کہو ،پھر تم ہوش میں کیوں نہیں آتے ؟ [78]{۸۵}</p>
<p>اُن سے پُوچھو، ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے ؟ {۸۶}</p>
<p>یہ ضرور کہیں گے[79] اللہ ۔کہو ، پھر تم ڈرتے کیوں نہیں؟[80]{۸۷}</p>
<p>ان سے کہو ، بتا ؤ اگر تم جانتے ہوکہ ہر چیز پر اقتدار [81]کس کا ہے ؟ اور کون ہے وہ جو پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دےسکتا ؟{۸۸}</p>
<p> یہ ضرور کہیں گے کہ یہ بات تو اللہ ہی کے لیے ہے ۔ کہو ، پھر کہاں سے تم کو دھوکہ لگتا ہے ؟[82]{۸۹}</p>
<p>جو امرحق ہے وہ ہم ان کے سامنے لے آئے ہیں، اور کوئی شک نہیں کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں  [83]{۹۰}</p>
<p> اللہ نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا ہے،[84]  اور کوئی دُوسرا  اِلٰہ اُس کے ساتھ نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر اِلٰہ  اپنی خلق کو لے کر الگ ہوجاتا اور پھر وہ ایک دُوسرے پر چڑھ دوڑتے ۔[85] پاک ہے اللہ اُن باتوں سے جو یہ لوگ بناتے ہیں۔{۹۱}</p>
<p> کھلے اور چُھپے کا جاننے والا ،[86]وہ بالاتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ تجویز کررہے ہیں۔{ ۹۲}</p>
<p>اے نبی  ؐ! دُعا کرو کہ ’’ پروردگار !جس عذاب کی ان کو دھمکی دی جارہی ہے وہ اگر میری موجودگی میں تو لائے {۹۳}</p>
<p>تو اے میرے رَبّ !مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجیؤ ۔ ‘‘[87]{۹۴}</p>
<p>اور حقیقت یہ ہے کہ ہم تمہاری آنکھوں کے سامنے ہی وہ چیز لے آنے کی پوری قدرت رکھتے ہیں جس کی دھمکی ہم انہیں دے رہے ہیں۔{۹۵}</p>
<p> اے نبی  ؐ!برائی کو اُس طریقہ سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ جو کچھ باتیں وہ تم پر بناتے ہیں وہ ہمیں خوب معلوم ہیں۔{۹۶}</p>
<p> اور دُعا کرو کہ ’’ پروردگار!میں شیاطین کی اُکساہٹوں سے تیری پنا ہ مانگتا ہوں {۹۷}</p>
<p> بلکہ اے میرے رب! میں تو اِس سے بھی تیری پناہ مانگتاہوں کہ وہ میرے پاس آئیں‘‘ ۔[88]{۹۸}</p>
<p>(یہ لوگ اپنی کرنی سے بازنہ آئیں گے ) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آجائے گی تو کہنا شروع کریگا کہ ’’اے میرے رَبّ !مجھے اُسی دنیا میں واپس بھیج [89]دیجئے جسے میں چھوڑ آیاہوں{۹۹}</p>
<p> اُمید ہے کہ اب میں نیک عمل[90] کروں گا۔ ‘‘ ہرگز نہیں[91] ، یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ بَکْ رہا[92] ہے۔ اب ان سب ( مرنے والوں )  کے پیچھے ایک بَرزخ  حائل ہے دوسری زندگی کے دن تک۔[93]{۱۰۰}</p>
<p>پھر جو نہی کہ صور پُھونک دیا گیا ، ان کے درمیان پھر کوئی رشتہ نہ رہے گا اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے۔[94]{۱۰۱}</p>
<p> اُس وقت جن کے پلڑے بھاری ہوں[95] گے وہی فلاح پائیں گے۔{۱۰۲}</p>
<p>اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈال لیا۔[96] وہ جہنّم میں ہمیشہ رہیں گے۔ {۱۰۳}</p>
<p> آگ اُن کے چہروں کی کھال چاٹ جائے گی اور اُن کے جبڑے باہر نکل آئیں گے۔[97]{ ۱۰۴}</p>
<p>’’ کیا تم وہی لوگ نہیں ہو کہ میری آیات تمہیں سنائی جاتی تھیں تو تم انہیں جھٹلاتے تھے ‘‘ ؟{۱۰۵}</p>
<p>وہ کہیں گے ’’اے ہمارے َربّ! ہماری بدبختی ہم پر چھا گئی تھی۔ ہم واقعی گمراہ لوگ تھے {۱۰۶}</p>
<p>اے پروردگار !اب ہمیں یہاں سے نکال دے پھر ہم ایسا قصُور کریں تو ظالم ہوں گے۔‘‘ {۱۰۷}</p>
<p>اللہ تعالیٰ جواب دے گا ’’دُور ہو میرے سامنے سے ، پڑے رہو اسی میں اور مجھ سے بات نہ کرو۔[98]{۱۰۸}</p>
<p> تم وہی لوگ تو ہو کہ میرے کچھ بندے جب کہتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار !ہم ایمان لائے ، ہمیں معاف کردے ، ہم پر رحم کر ، تُو سب رحیموں سے اچھارحیم ہے {۱۰۹}</p>
<p>تو تم نے ان کا مذاق بنالیا۔ یہاں تک کہ اُن کی ضدنے تمہیں یہ بھی بُھلادیا کہ میں بھی کوئی ہوں ،اور تم اُن پر ہنستے رہے{۱۱۰}</p>
<p> آج اُن کے اس صبر کا میں نے یہ پھل دیا ہے کہ وہی کامیاب ہیں‘‘۔[99]{۱۱۱}</p>
<p>پھر اللہ تعالیٰ اُن سے پوچھے گا،’’بتا ؤ ، زمین میں تم کتنے سال رہے ؟‘‘ {۱۱۲}</p>
<p> وہ کہیں گے: ’’ایک دن یا دن کا بھی کچھ حصّہ ہم وہاں ٹھہرے ہیں،[100] شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجئے ‘‘۔ {۱۱۳}</p>
<p> ارشاد ہوگا’’ تھوڑی ہی دیر ٹھہرے ہونا[101] ، کاش تم نے یہ اُس وقت جانا ہوتا {۱۱۴}</p>
<p> کے ا تم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم نے تمہیں فضول ہی پیدا کیا ہے[102] اور تمہیں ہماری طرف کبھی پلٹنا ہی نہیں ہے‘‘؟ {۱۱۵}</p>
<p> پس بالا وبر تر ہے [103]اللہ ،پادشاہِ حقیقی کو ئی اِلٰہ اُس کے سوا نہیں ، مالک ہے عرش ِبزرگ کا {۱۱۶}</p>
<p>اور جو کوئی  اللہ کے ساتھ کسی اور معبُود کو پُکارے جس کے لیے اُس کے پاس کوئی دلیل نہیں  تو اس کا حساب اس کے رَبّ کے پاس ہے[105] ایسے کافر کبھی فلاح نہیں پاسکتے۔ [106]{۱۱۷}</p>
<p>اے نبی  ؐ!کہو ، میرے رَبّ درگزر فرمااور رحم کر ، توسب رحیموں سے اچھا رحیم ہے۔[107]{۱۱۸}</p>

</div><div id="24"><p>سورۃالنور </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔</p>
<p>یہ ایک سورۃ ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے ، اور اسے ہم نے فرض کیا ہے  اور اس میں ہم نے صاف صاف ہدایات نازل کی ہیں[1] شاید کہ تم سبق لو۔{۱}</p>
<p>زانیہ عورت اور زانی مرد، دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو[2]۔ اور ان پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے معاملے میں تم کو دامن گیرنہ ہوا گر تم اللہ تعالیٰ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتے ہو۔[3] اور اُن کو سزادیتے وقت اہل ِایمان کا ایک گروہ موجود رہے۔[4] {۲}</p>
<p>زانی نکاح نہ کرے مگر زانیہ کے ساتھ یامشرکہ کے ساتھ۔اور زانیہ کے ساتھ نکاح نہ کرے مگر زَانی یا مشرک۔ اور یہ حرام کردیا گیا ہے اہل ِایمان پر[5] {۳}</p>
<p>اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پرتہمت لگائیں،  پھر چارگواہ لے کر نہ آئیں ، ان کو اَسّی کوڑے مارو اور اُن کی شہادت کبھی قبول نہ کرو ، اور وہ خود ہی فاسق ہیں۔ { ۴}</p>
<p> سوائے اُن لوگوں کے جو اس حرکت کے بعد تائب ہوجائیں اور اصلاح کرلیں کہ اللہ ضرور ( اُن کے حق میں) غفور ورحیم ہے۔  [6]{۵}</p>
<p>اور جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگائیں اور ان کے پاس خود اُن کے اپنے سوا دُوسرے کوئی گواہ نہ ہوں تو اُن میں سے ایک شخص کی شہادت (یہ ہے کہ وہ ) چار مرتبہ اللہ کی قسم کھاکر گواہی دے کہ وہ ( اپنے الزام میں ) سچا ہے۔[7]{۶}</p>
<p> اور پانچویں بارکہے کہ اُس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ ( اپنے الزام میں ) جھوٹا ہو۔{۷}</p>
<p>اور عورت سے سزا اِس طرح ٹل سکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھاکر شہادت دے کہ یہ شخص ( اپنے الزام میں)  جُھوٹا ہے{۸}</p>
<p> اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اُس بندی پر اللہ کا غضب ٹوٹے اگر وہ (اپنے الزام میں) سچا ہو۔ {۹}</p>
<p> تم لوگوں پر اللہ کا فضل اور اس کا رحم نہ ہوتااور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بڑا التفات فرمانے والا اور حکیم ہے تو ( بیویوں پر الزام کا معاملہ تمہیں بڑی پیچیدگی میں ڈال دیتا )۔ {۱۰}</p>
<p>جولوگ یہ بہتان گھڑلائے[8] ہیں وہ تمہارے ہی اندر کا ایک ٹولہ [9]ہیں۔ اس واقعے کو اپنے حق میں شر نہ سمجھو ، بلکہ یہ بھی تمہارے لئے خیر [10]ہی ہے ۔جس نے اُس میں جتنا حصّہ لیا اس نے اتناہی گناہ سمیٹا، اور جس شخص نے اس کی ذمہ داری کا بڑا حصّہ اپنے سرلیا[11] اس کے لیے تو عذاب عظیم ہے۔{۱۱}</p>
<p>جس وقت تم لوگوں نے اسے سُنا تھا اُسی وقت کیوں نہ مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے آپ سے نیک گمان کیا [12]اور کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ صریح بہتان ہے [13]{۱۲}</p>
<p> وہ لوگ ( اپنے الزام کے ثبوت میں) چارگواہ کیوں نہ لائے؟ اب کہ وہ گواہ نہیں لائے ہیں ، اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔ [14] {۱۳}</p>
<p>اگر تم لوگوں پر دنیا اور آخرت  میں اللہ کا فضل اور رحم و کرم نہ ہوتا تو جن باتوں میں تم پڑگئے تھے ان کی پاداش میں بڑا عذاب تمہیں آلیتا ۔{۱۴}</p>
<p>(ذراغور تو کرو اس وقت تم کیسی سخت غلطی کررہے تھے) جبکہ تمہاری ایک زبان سے دُوسری زبان اس جھوٹ کو لیتی چلی جارہی تھی اور تم اپنے منھ سے وہ کچھ کہے جارہے تھے جس کے متعلق تمہیں کوئی علم نہ تھا۔ تم اسے ایک معمولی بات سمجھ رہے تھے حالانکہ اللہ کے نزدیک یہ بڑی بات تھی۔{۱۵}</p>
<p>کیوں نہ اِسے سُنتے ہی تم نے کہہ دیا کہ ’’ ہمیں ایسی بات زبان سے نکالنا زیب نہیں دیتا ، سُبحان اللہ ، یہ تو ایک بہتان عظیم ہے ‘‘ ۔{۱۶}</p>
<p>اللہ تم کو نصیحت کرتا ہے کہ آیندہ کبھی ایسی حرکت نہ کرنا اگر تم مومن ہو۔ {۱۷}</p>
<p> اللہ تمہیں صاف صاف ہدایات دیتا ہے اور وہ علیم وحکیم ہے۔[15]{۱۸}</p>
<p>جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں دردناک سزاکے مستحق ہیں ،[16] اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔[17]{۱۹}</p>
<p> اگر اللہ کا فضل اور اُس کا رحم و کرم تم پر نہ ہوتا اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بڑا شفیق و رحیم ہے،( تو یہ چیز جو ابھی تمہارے اندر پھیلائی گئی تھی بدترین نتائج دکھادیتی)۔ {۲۰}</p>
<p>اے لوگوجو ایمان لائے ہو ! شیطان کے نقش ِقدم پر نہ چلو۔ اُس کی پیروی کوئی کرے گا تو وہ تواُسے فحش اور بدی ہی کا حکم دے گا۔ اگر اللہ کا فضل اوراس کا رحم و کرم تم پر نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی شخص پاک نہ [18]ہوسکتا ۔ مگر اللہ ہی جسے چاہتا ہے پاک کردیتا ہے ، اور اللہ سُننے والا اور جاننے والا ہے۔[19]{۲۱}</p>
<p>تم میں سے جو لوگ صاحب ِفضل اور صاحب مقدرت ہیں وہ اس بات کی قَسم نہ کھابیٹھیں کہ اپنے  رشتہ دار ، مسکین اور مہاجرفی سبیل اللہ لوگوں کی مدد نہ کریں گے۔ انہیں معاف کردینا چاہیے اور دَرگُزر کرنا چاہیے۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کرے ؟ اور اللہ کی صفت یہ ہے کہ غفور اور رحیم ہے۔[20] {۲۲}</p>
<p>جو لوگ پاکدامن ، بے خبر [21]، مومن عورتوں پرُ تہمتیں لگاتے ہیں ان پر دُنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی اور اُن کے لیے بڑا عذاب ہے ۔{ ۲۳}</p>
<p> وہ اُس دن کو بُھول نہ جائیں جب کہ اُن کی اپنی زبانیں اور ان کے اپنے ہاتھ پا ؤں اُن کے کرتوتوں کی گواہی [21a]دیں گے۔ {۲۴}</p>
<p>اُس دن اللہ وہ بدلہ انہیں بھر پوردے دے گا جس کے وہ مستحق ہیں اور انہیں معلوم ہوجائے گا کہ اللہ ہی حق ہے سچ کو سچ کر دکھانے والا۔{۲۵}</p>
<p>خبیث عورتیں خبیث مَردوں کے لیے ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لیے۔ پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مَرد پاکیزہ عورتوں کے لیے۔ اُن کا دامن پاک ہے اُن باتوں سے جو بنانے والے بناتے ہیں ،[22] اُن کے لیے مغفرت ہے اور رزق ِکریم۔{۲۶}</p>
<p>اے  لوگو[23]جو ایمان لائے ہو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو جب تک کہ گھروالوں کی رضانہ لے [24]لو اور گھروالوں پر سلام نہ بھیج لو، یہ طریقہ تمہارے لئے بہتر ہے ۔ توقع ہے کہ تم اس کا خیال رکھو گے۔[25]{۲۷}</p>
<p> پھر اگر وہاں کسی کو نہ پا ؤ تو داخل نہ ہو جب تک کہ تم کو اجازت نہ دیدی جائے[26] اور اگر تم سے کہا جائے کہ واپس چلے جا ؤ تو واپس ہوجاؤ،یہ تمہارے لئے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے [27]، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔{۲۸}</p>
<p>البتہ تمہارے لئے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ ایسے گھروں میں داخل ہو جا ؤ جو کسی کے رہنے کی جگہ نہ ہوں اور جن میں تمہارے فائدے (یاکام ) کی کوئی چیز[28]  ہو تم جو کچھ ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ چھپاتے ہو ،سب کی اللہ کو خبر ہے۔{۲۹}</p>
<p>اے نبی  ؐ !مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچاکر رکھیں[29] اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ،[30] یہ اُن کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے ، جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اُس سے باخبر رہتا ہے۔{۳۰}</p>
<p>اور اے نبی  ؐ! مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں، [31]اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں،[32] اور[33] اپنا بنا ؤ سنگھار نہ دکھائیں [34]بَجُز اس کے جو خود ظاہر ہوجائے[35] اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑ ھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں۔[36] وہ اپنا بنا ؤ سنگھار نہ ظاہر کریں مگر اِن لوگوں کے سامنے[37] :شوہر ، باپ ،[38] شوہروں کے باپ ، اپنے بیٹے ، شوہروں کے بیٹے ،[39] بھائی ،[40] بھائیوں کے بیٹے ،[41] بہنوں کے بیٹے ،[42] اپنے میل جول کی عورتیں، [43]اپنے لونڈی، [44]غلام، وہ زیرِ دست مرد جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں،[45]اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں۔[46] وہ اپنے پا ؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ اپنی جو زینت انہوں نے چھپارکھی ہو اس کالوگوں کو علم ہوجائے[47] اے مومنو!تم سب مِل کر اللہ سے تو بہ کرو،[48] توقع ہے کہ فلاح پا ؤگے ۔[49]{۳۱}</p>
<p>تم میں سے جو لوگ مجرّد[50] ہوں ، اور تمہارے لونڈی غلاموں میں سے جو صالح [51]ہوں، ان کے نکاح کردو۔[52] اگر وہ غریب ہوں تو اللہ اپنے فضل سے اُن کو غنی کردے[53] گا ، اللہ بڑی وسعت والا اور علیم ہے { ۳۲}</p>
<p>اور جو نکاح کا موقع نہ پائیں انہیں چاہئے کہ عفت مآبی اختیار کریں،یہاں تک کہ اللہ اپنے فضل سے اُن کو غنی کردے ۔[54]اور تمہارے مملوکوں میں سے حومُکاتَبت کی درخواست کریں [55]ان سے مُکاتَبت [56]کرلو اگر تمہیں معلوم ہو کہ ان کے اندر بھلائی ہے [57]اور اُن کو اس مال میں سے دو جو اللہ نے تمہیں دیا ہے،[58]اور اپنی لونڈیوں کو اپنے دنیوی فائدوں کی خاطر قحبہ گری پر مجبور نہ کرو  جبکہ وہ خود پاکدامن رہنا چاہتی ہوں[59] اور جو کو ئی ان کو مجبور کرے تو اس جبر کے بعد اللہ اُن کے لیے غفور ورحیم ہے۔{ ۳۳}</p>
<p>ہم نے صاف صاف ہدایت دینے والی آیات تمہارے پاس بھیج دی ہیں،اور ان قوموں کی عبرتناک مثالیں بھی ہم تمہارے سامنے پیش کرچکے ہیں جو تم سے پہلے ہو گزری ہیں ،اور وہ نصیحتیں ہم نے کردی ہیں جو ڈرنے والوں کے لیے ہوتی ہیں۔[59]{ ۳۴}</p>
<p>  اللہ[61] آسمانوں اور زمین کا نُور ہے۔[62] ( کائنات میں ) اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق میں چراغ رکھا ہوا ہو ، چراغ ایک فانوس میں ہو ، فانوس کا حال یہ ہو کہ جیسے موتی کی طرح  چمکتا ہواتارا ، اور وہ چراغ زیتون کے ایک ایسے مبارک[63] درخت  کے تیل سے روشن کیا جاتا ہو جو نہ شرقی ہو نہ غربی ،[64] جس کا تیل آپ ہی آپ بھڑ کا پڑتا ہو چاہے آگ اس کو نہ لگے، (اِس طرح ) روشنی پر روشنی ( بڑھنے کے تمام اسباب جمع ہوگئے ہوں)۔ [65] اللہ اپنے نور کی طرف جس کی چاہتا ہے رہنمائی فرماتا ہے [66]، وہ لوگوں کو مثالوں سے بات سمجھاتا ہے ، وہ ہر چیزسے خوب واقف ہے۔[67]{۳۵}</p>
<p>( اُس کے نور کی طرف ہدایت پانے والے) اُن گھروں  میں پائے جاتے ہیں جنہیں بلند کرنے کا ، اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ نے اِذن دیا ہے۔[68] اُن میں ایسے لوگ صبح وشام اُس کی تسبیح کرتے ہیں{۳۶}</p>
<p>جنہیں تجارت اور خرید وفروخت اللہ کی یاد سے اور اِقامتِ نماز وادائے زکوٰۃ سے غافل نہیں کردیتی ۔ وہ اُس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں دل الٹنے اور دیدے پتھرا جانے کی نوبت آجائے گی{۳۷}</p>
<p> (اور وہ یہ سب کچھ اس لیے کرتے ہیں) تا کہ اللہ ان کے بہترین اعمال کی جزا اُن کو دے اور مزید اپنے فضل سے نوازے ،اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔[69]{۳۸}</p>
<p>( اس کے برعکس )جنہوں نے کفر کیا [70]ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے دشت ِ بے آب میں سراب کہ پیاسا اُس کو پانی سمجھے ہوئے تھا ، مگر جب وہاں پہنچاتو کچھ نہ پایا ، بلکہ وہاں اس نے اللہ کو موجود پایا ، جس نے اس کا پورا پورا حساب  چکادیا، اور اللہ کو حساب لیتے دیر نہیں لگتی ۔[71]{۳۹}</p>
<p> یاپھر اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرا، کہ اُوپر ایک موج چھائی ہوئی ہے ، اُس پر ایک اور موج ، اور اُس کے اوپر بادل ، تاریکی پر تاریکی مسلّط ہے ، آدمی اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی نہ دیکھنے پائے ۔[72]جسے اللہ نور نہ بخشے اُس کے لیے پھر کوئی نور نہیں۔[73]{۴۰}</p>
<p>کیا تم [74]دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کی تسبیح کررہے ہیں وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ پرندے جو پَر پھیلائے اُڑرہے ہیں ؟ ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتا ہے ، اور یہ سب جو کچھ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبر رہتا ہے ۔{۴۱}</p>
<p>آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے اور اسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے۔ { ۴۲}</p>
<p>کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ بادل کو آہستہ آہستہ چلاتا ہے ، پھر اس کے ٹکڑوں کو باہم جوڑتا ہے ، پھر اسے سمیٹ کر ایک کثیف ابربنادیتا ہے ، پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے خول میں سے بارش کے قطرے ٹپکتے چلے آتے ہیں ۔اور وہ آسمان سے ، ان پہاڑوں کی بدولت جو اُس میں بلند [75]ہیں، اولے برساتا ہے ، پھر جسے چاہتا ہے ان کا نقصان پہنچاتا ہے اور جسے چاہتا ہے ان سے بچالیتا ہے ۔ اس کی بجلی کی چمک نگاہوں کو خیرہ کئے دیتی ہے۔ {۴۳}</p>
<p>رات اور دن کا الٹ پھیروہی کررہا ہے ۔ اِس میں ایک سبق ہے آنکھوں والوں کے لیے۔ {۴۴}</p>
<p>اور اللہ نے ہر جاندار ایک طرح کے پانی سے پیدا کیا۔ کوئی پیٹ کے بل چل رہا ہے تو کوئی دوٹانگوں پر اور کوئی چارٹانگوں پر ۔ جو کچھ وہ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے ، وہ ہرچیز پر قادر ہے۔{۴۵}</p>
<p> ہم نے صاف صاف حقیقت بتانے والی آیات نازل کردی ہیں، آگے صراط مستقیم کی طرف ہدایت اللہ ہی جسے چاہتا ہے دیتا ہے {۴۶}</p>
<p>  یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ اور سول ؐ پر اور ہم نے اطاعت قبول کی ، مگر اس کے بعد ان میں سے ایک گروہ (اطاعت سے ) منھ موڑجاتا ہے۔ ایسے لوگ ہر گز مومن نہیں ہیں۔[76]{۴۷}</p>
<p>جب اُن کو بُلایا جاتا ہے اللہ اور رسول  ؐکی طرف تا کہ رسول اُن کے آ پس کے مقدمے کا فیصلہ کرے[77] تو ان میں سے ایک فریق کترَاجاتا ہے۔[78]{۴۸}</p>
<p> البتہ اگر حق ان کی موافقت میں ہو تو رسُول  ؐ کے پاس بڑے اطاعت کیش بن کر آجاتے ہیں۔ [79]{۴۹}</p>
<p> کیا ان کے دلوں کو ( منافقت کا) روگ لگا ہوا ہے ؟ یایہ شک میں پڑے ہوئے ہیں؟ یا ان کو یہ خوف ہے کہ اللہ اور اس کا رسُول  ؐ ان پر ظلم کرے گا ؟ اصل بات یہ ہے کہ ظالم تو یہ لوگ خود ہیں۔[80]{۵۰}</p>
<p>  ایمان لانے والوں کا کام تویہ ہے کہ جب وہ اللہ اور رسُول  ؐ کی طرف بُلائے جائیں تا کہ رسُول  ؐ ان کے مقدمے کا فیصلہ کرے تو وہ کہیں کہ ہم نے سُنا اور اطاعت کی۔ ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں{۵۱}</p>
<p> اور کامیاب وہی ہیں جو اللہ اور رسول  ؐکی فرماں برداری کریں اور اللہ سے ڈریں اور اِس کی نافرمانی سے بچیں۔ {۵۲}</p>
<p>یہ ( منافق) ، اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھاکر کہتے ہیں کہ ’’ آپ حکم دیں تو ہم گھروں سے نکل کھڑے ہوں ‘‘ ان سے کہو ’’ قسمیں نہ کھا ؤ ، تمہاری اطاعت کا حال معلوم [81]ہے تمہارے کرتُوتوں سے اللہ بے خبر نہیں[82] ہے ‘‘۔{ ۵۳}</p>
<p> کہو’’ اللہ کے مطیع بنو اور رسول  ؐکے تابع فرمان بن کررہو۔ لیکن اگر تم منھ پھیرتے ہو تو خوب سمجھ لوکہ رسول  ؐپر جس فرض کاباررکھا گیا ہے اس کا ذمّہ دار وہ ہے اور تم پر جس فرض کابارڈالا گیا ہے اُس کے ذمّہ دار تم ۔ اُس کی اطاعت کروگے ۔ تو خودہی ہدایت پا ؤ گے۔ ورنہ رسُول  ؐ کی ذمّہ داری اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ صاف صاف حکم پہنچا دے۔ ‘‘{۵۴}</p>
<p>  اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو اُسی طرح زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح اُن سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بناچکا ہے ، اُن کے لیے اُن کے اُس دین کو مضبوط بنیادوں پر قائم کردے گا جسے اللہ تعالیٰ نے اُن کے حق میں پسند کیا ہے ، اور اُن کی (موجودہ ) حالتِ خوف کو امن سے بدل دے گا ، بس وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ [83]کریں۔اور جو اِس کے بعد کفر کرے[84] تو ایسے ہی لوگ فاسق ہیں۔ {۵۵}</p>
<p> نماز قائم کرو ، زکوٰۃ دو ، اور رسول  ؐکی اطاعت کرو ، اُمید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا۔{۵۶}</p>
<p>جو لوگ کفر کررہے ہیں ان کے متعلق اس غلط فہمی میں نہ رہوکہ وہ زمین میں اللہ کو عاجز کردیں گے، ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بڑاہی بُراٹھکانا ہے۔{۵۷}</p>
<p>  اے لوگو[85] جو ایمان لائے ہو!لازم ہے کہ تمہارے لونڈی،[86] غلام اور تمہارے وہ بچے جو ابھی عقل کی حد کو نہیں پہنچے ہیں ،[87] تین اوقات میں اجازت لے کر تمہارے پاس آیا کریں : صبح کی نماز سے پہلے ، اور دوپہر کو جبکہ تم کپڑے اُ تارکر رکھ دیتے ہو ،اور عشاء کی نماز کے بعد۔ یہ تین وقت تمہارے لئے پردے کے وقت ہیں[88]۔ ان کے بعد وہ بلااجازت آئیں تو نہ تم پر کوئی گناہ ہے نہ اُن پر،[89] تمہیں ایک دوسرے کے پاس بار بار آنا ہی ہوتا ہے ۔[90] اِس طرح اللہ تمہارے لئے اپنے ارشادات کی توضیح کرتا ہے، اور وہ علیم وحکیم ہے۔{۵۸}</p>
<p>  اور جب تمہارے بچے عقل کی حد کو پہنچ جائیں[91] تو چاہیے کہ اُسی طرح اجازت لے کر آیا کریں جس طرح اُن کے بڑے اجازت لیتے رہے ہیں ، اس طرح اللہ اپنی آیات تمہارے سامنے کھولتا ہے اور وہ علیم و حکیم ہے۔{۵۹}</p>
<p>اور جو عورتیں جو انی سے گزری بیٹھی [92]ہوں ،نکاح کی امیدوارنہ ہوں ، وہ اگر اپنی چادریں اتار کررکھ [93]دیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں،بشر طیکہ زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں۔[94] تاہم وہ بھی حیاداری ہی برتیں تو ان کے حق میں اچھا ہے ،اور اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔{۶۰}</p>
<p>کوئی حرج نہیں اگر کوئی اندھا ،یا لنگڑا ، یا مریض (کسی کے گھر سے کھالے) اور نہ تمہارے اوپر اِس میں کوئی مضائقہ ہے کہ اپنے گھروں سے کھا ؤ یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے ، یا اپنی ماں نانی کے گھروں سے ، یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے ، یا اپنی بہنوں کے گھروں سے ، یا اپنے چچا ؤں کے گھروں سے ، یا اپنی پُھوپھیوں کے گھروں سے ، یا اپنے مامووں کے گھروں سے، یا اپنی خالا ؤں کے گھروں سے، یا اُن گھروں سے جن کی کنجیاں تمہاری سپردگی میں ہوں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے ۔[95] اس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ تم لوگ مل کر کھا ؤ یا الگ الگ ۔ [96]البتہ جب گھروں میں داخل ہوا کر و تو اپنے لوگوں کو سلام کیا کر و ، دعائے خیر ، اللہ کی طرف سے مقرر فرمائی ہوئی ، بڑی بابرکت اور پاکیزہ ۔ اس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے آیات بیان کرتا ہے ، توقع ہے کہ تُم سمجھ بُوجھ سے کام لوگے۔{۶۱}</p>
<p>مومن[97] تواصل میں وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول  ؐکو دل سے مانیں اور جب کسی اجتماعی کام کے موقع پر رسُول  ؐ کے ساتھ ہوں تو اُس سے اجازت لئے بغیر نہ جائیں ۔ [97]اے نبی  ؐ !جو لوگ تم سے اجازت مانگتے ہیں وہی اللہ اور رسول  ؐکے ماننے والے ہیں ، پس جب وہ اپنے کسی کام سے اجازت مانگیں[98] تو جسے تم چاہو اجازت دے دیا کرو [100]اور ایسے لوگوں کے حق میں اللہ سے دعائے مغفرت کیا کرو،[101] اللہ یقینا غفور ورحیم ہے۔ { ۶۲}</p>
<p> مسلمانو! اپنے درمیان رسُو ل اکے بُلانے کو آپس میں ایک دوسرے کا سا بُلانانہ سمجھ بیٹھو ۔[102] اللہ اُن لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تم میں ایسے ہیں کہ ایک دوسرے کی آڑلیتے ہوئے چپکے سے سٹک جاتے ہیں۔ [103]رسول  ؐکے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈرنا چاہئے کہ وہ کسی فتنے میں گرفتار نہ ہوجائیں یا ان پردردناک عذاب نہ آجائے۔{۶۳}</p>
<p>خبردار رہو ، آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اللہ کا ہے ۔ تم جس روش پر بھی ہو اللہ اس کو جانتا ہے۔جس روز لوگ اس کی طرف پلٹائے جائیں گے وہ انہیں بتادے گا کہ وہ کیا کچھ کرکے آئے ہیں۔ وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔{ ۶۴}</p>

</div><div id="25"><p>سورۃ  الفرقان </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔</p>
<p>نہایت متبرّک [1]ہے وہ جس نے یہ فرقان[2] اپنے بندہ پر نازل[3] کیا تا کہ سارے جہان والوں کے لیے خبردار کردینے والا[4] ہو ۔{۱}</p>
<p> وہ جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک[5] ہے ۔جس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا ہے ،[6] جس کے ساتھ بادشاہی میں کوئی شریک نہیں [7]ہے۔ جس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کی ایک تقدیر مقرر کی۔[8]{ ۲}</p>
<p>لوگوں نے اُسے چھوڑ کر ایسے معبُود بنالئے جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے ، بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں ،[9] جو خود اپنے لئے بھی کسی نفع یا نقصان کا اختیار نہیں رکھتے ، جو نہ مارسکتے ہیں نہ جِلاسکتے ہیں ،نہ مرے ہوئے کو پھر اٹھا سکتے ہیں۔[10]{ ۳}</p>
<p>جن لوگوں نے نبی  ؐ کی بات ماننے سے انکار کردیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ’’ یہ فرقان ایک من گھڑت چیز ہے جسے اِس شخص نے آپ ہی گھڑلیا ہے اور کچھ دُوسرے لوگوں نے اس کام میں اس کی مدد کی ہے۔‘‘ بڑا ظلم[11] اور سخت جھوٹ ہے جس پر یہ لوگ اُترآئے ہیں ۔{ ۴}</p>
<p>کہتے ہیں ’’ یہ پُرانے لوگوں کی لکھی ہوئی چیزیں ہیں جنہیں یہ شخص نقل کراتا ہے اور وہ اسے صبح و شام سنائی جاتی ہیں ‘‘ {۵}</p>
<p>اے نبی  ؐ ! ان سے کہو ’’کہ اسے نازل کیا ہے اُس نے جو زمین اور آسمانوں کا بھیدجانتا ہے ‘‘[12] حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا غفور و رحیم ہے۔[13]{۶}</p>
<p>کہتے ہیں :’’یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ؟[14] کیوں نہ اس کے پاس کو ئی فرشتہ بھیجاگیا جواس کے ساتھ رہتا اور ( نہ ماننے والوں کو ) [15]دھمکاتا ؟ {۷}</p>
<p>یا اور کچھ نہیں تو اس کے لیے کوئی خزانہ ہی اتار دیا جاتا ، یا اس کے پاس کو ئی باغ ہی ہوتا جس سے یہ (اطمینان کی) روزی حاصل کرتا ‘‘[16]۔ اور یہ ظالم کہتے ہیں ’’ تم لوگ تو ایک سحر زدہ آدمی [17]کے پیچھے لگ گئے ہو ‘‘۔{۸}</p>
<p> دیکھو ، کیسی کیسی حجتیں یہ لوگ تمہارے آگے پیش کررہے ہیں ، ایسے بہکے ہیں کہ کوئی ٹھکانے کی بات ان کو نہیں سوجھتی۔[18]{۹}</p>
<p>بڑا بابرکت ہے [19]وہ جو اگر چاہے تو ان کی تجویز کردہ چیزوں سے بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر تم کودے سکتا ہے، (ایک نہیں ) بہت سے باغ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں اور بڑے بڑے محل ۔{۱۰}</p>
<p>اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ’’اُس گھڑی ‘‘[20]کو جُھٹلا چکے ہیں ۔[21] اور جو اُس گھڑی کو جھٹلائے اس کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر رکھی ہے۔{۱۱}</p>
<p>  وہ جب دور سے اِن کو دیکھے[22] گی تو یہ اُس کے غضب اور جو ش کی آوازیں سُن لیں گے۔{ ۱۲}</p>
<p> اور جب یہ دست وپابستہ اُس میں ایک تنگ جگہ ٹھونسے جائیں گے تو اپنی موت کو پکارنے لگیں گے۔{۱۳}</p>
<p> ( اُس وقت اُن سے کہا جائے گا) آج ایک موت کو نہیں بہت سی مَوتوں کو پکارو۔{۱۴}</p>
<p>اِن سے پوچھو یہ انجام اچھا ہے یا وہ ابدی جنّت جس کا وعدہ متقی وپرہیزگاروں سے کیا گیا ہے؟ جو اُن کے عمل کی جزا اور اُن کے سفر کی آخری منزل ہوگی {۱۵}</p>
<p> جس میں اُن کی ہر خواہش پوری ہوگی جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، جس کا عطا کرنا تمہارے رَبّ کے ذمّے ایک واجب الاداوعدہ ہے۔[23]{۱۶}</p>
<p>اور وہی دن ہوگا جب کہ (تمہارا رَبّ ) اِن لوگوں کو بھی گھیرلائے گا اور ان کے اُن معبودوں[24] کو بھی بُلالے گا جنہیں آج یہ اللہ کو چھوڑ کر پُوج رہے ہیں،  پھر وہ اُن سے پوچھے گا ’’ کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا ، یا یہ خود راہ ِراست سے بھٹک [25]گئے تھے؟‘‘ {۱۷}</p>
<p> وہ عرض کریں گے ’’ پاک ہے آپ کی ذات ، ہماری تو یہ بھی مجال نہ تھی کہ آپ کے سوا کسی کو اپنا مولیٰ بنائیں ۔ مگر آپ نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو خوب سامان زندگی دیا حتیٰ کہ یہ سبق بُھول گئے اور شامت زدہ ہو کر[26]رہے ‘‘۔{۱۸}</p>
<p> یُوں جھٹلادیں گے وہ (تمہارے معبُود ) اُن باتوں کو جو آج تم کہہ رہے ہو۔[27]  پھر تم نہ اپنی شامت کو ٹال سکوگے نہ کہیں سے مدد پاسکوگے اور جو بھی تم میں سے ظلم [28]کرے اُسے ہم سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔{۱۹}</p>
<p>اے نبی  ؐ! تم سے پہلے جو رسُول بھی ہم نے بھیجے تھے وہ سب بھی کھانا کھانے والے اور بازاروں میں چلنے پھرنے والے لوگ ہی تھے۔[29] دراصل ہم نے تم لوگوں کو ایک دوسرے کے لیے آزمائش کا ذریعہ بنادیاہے ۔[30]  کیا تم صبر کرتے ہو ؟ [31]تمہارا رَبّ سب کچھ دیکھتا ہے۔{۲۰}</p>
<p>  جو لوگ ہمارے حضور پیش ہونے کا اندیشہ نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں ’’ کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں ؟[33] یاپھر ہم اپنے رَبّ کو دیکھیں ۔‘‘[34]بڑا گھمنڈ لے بیٹھے یہ اپنے نفس میں[35] اور حد سے گزرگئے یہ اپنی (بدترین) سرکشی میں ۔{۲۱}</p>
<p> جس روزیہ فرشتوں کو دیکھیں گے وہ مجرموں کے لیے کسی بشارت کا دن [36]نہ ہوگا اور وہ چیخ اٹھیں گے، اللہ کی پناہ، یہ تو محروم ہی محروم کیے گئے۔{۲۲}</p>
<p>اور جو کچھ بھی ان کا کیا دھرا ہے، (بظاہر نیک عمل بھی )اُسے ہم غبار کی طرح اُڑادیں گے۔ [37]{۲۳}</p>
<p>بس وہی لوگ جو جنّت کے مستحق ہوں گے، اُس دن اچھی جگہ ٹھہریں گے، اور دوپہر گزارنے کو عمدہ مقام پائیں گے۔[38]{۲۴}</p>
<p>آسمان کو چیرتا ہوا ایک بادل اُس روز نمودار ہوگا اور فرشتوں کے پرے کے پرے اتاردیے جائیں گے۔ {۲۵}</p>
<p>اُس روز حقیقی بادشاہی صرف رحمان [39]کی ہوگی۔ اور وہ منکرین کے لیے بڑا سخت دن ہوگا۔{۲۶}</p>
<p> ظالم انسان اپنے ہاتھ چبائے گا اور کہے گا:’’ کاش میں نے رسُول  ؐ کا ساتھ دیا ہوتا۔ {۲۷}</p>
<p> ہائے میری کم بختی ، کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا۔{۲۸}</p>
<p>اُس کے بہکائے میں آکر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس آئی تھی ، شیطان انسان کے حق میں بڑاہی بے وفا [40] (دھوکا باز، اور ذلیل کرنے والا)نکلا۔‘‘ {۲۹}</p>
<p>اور رسُول  ؐ کہیں گے گا کہ ’’ اے میرے رَبّ! میری قوم کے لوگوں نے اس قرآن کو نشانۂ تضحیک بنالیا [41]تھا۔ ‘‘ {۳۰}</p>
<p>  اے نبی  ؐ!ہم نے تو اِسی طرح مجرموں کو ہرنبی ؑکا دشمن بنایا [42]ہے اور تمہارے لئے تمہارا رَبّ ہی رہنمائی اور مدد کو کافی ہے۔[43]{۳۱}</p>
<p>  منکرین کہتے ہیں’’ اِس شخص پر سارا قرآن ایک ہی وقت میں کیوں نہ اُتار دیا گیا؟‘‘[44] ہاں ایسا اِس لیے کیا گیا ہے کہ اِس کو اچھی طرح ہم تمہارے ذہن نشین کرتے رہیں۔[45] اور ( اِسی غرض کے لیے ) ہم نے اس کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ الگ الگ اجزاء کی شکل دی ہے۔ { ۳۲}</p>
<p>اور( اس میں یہ مصلحت بھی ہے) کہ جب کبھی وہ تمہارے سامنے کوئی نرالی بات ( یاعجیب سوال ) لے کر آئے ، اُس کا ٹھیک جو اب بروقت ہم نے تمہیں دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کھول دی ۔[46]{۳۳}</p>
<p>جو لوگ اَوندھے منھ جہنم کی طرف دھکیلے جانے والے ہیں ان کاموقف بہت بُراہے اور ان کی راہ حددرجہ غلط۔[47] {۳۴}</p>
<p>ہم نے موسیٰ  ؑ کو کتاب[48] دی  اور اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون ؑ کو مددگارکے طور پر لگایا{۳۵}</p>
<p> اور اُن سے کہا کہ جا ؤ اُس قوم کی طرف جس نے ہماری آیات کو جُھٹلادیا [49]ہے ۔ آخر کار اُن لوگوں کو ہم نے تباہ کرکے رکھ دیا۔{۳۶}</p>
<p> یہی حال قوم نوحؑ کا ہوا جب انہوں نے رسولوں کی تکذیب[50] کی۔ ہم نے اُن کو غرق کردیا اور دنیا بھر کے لوگوں کے لیے ایک نشانِ عبرت بنادیا اور اُن ظاموں کے لیے ایک دردناک عذاب ہم نے مہیا کر رکھا ہے ۔[51]{۳۷}</p>
<p> اسی طرح عاد اور ثمود اور اصحاب الرس[52] اور بیچ کی صدیوں کے بہت سے لوگ تباہ کئے گئے۔{۳۸}</p>
<p>ان میں سے ہر ایک کو ہم نے (پہلے تباہ ہونے والوں کی ) مثالیں دے دے کر سمجھایا اور آخر کار ہر ایک کو غارت کردیا۔{۳۹}</p>
<p> اور اُس بستی پر تو اِن کا گزر ہوچکا ہے جس پر بدترین بارش برسائی گئی تھی۔[53]  کیا انہوں نے اس کا حال دیکھانہ ہوگا؟ مگر یہ موت کے بعد دوسری زندگی کی توقع ہی نہیں رکھتے۔[54]{۴۰}</p>
<p> یہ لوگ جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق بنالیتے ہیں ۔ (کہتے ہیں )’’ کیا یہ شخص ہے جسے اللہ نے رسول ؐ بنا کر بھیجا ہے ؟{۴۱}</p>
<p> اِس نے تو ہمیں گمراہ کرکے اپنے معبودوں سے برگشتہ ہی کردیا ہوتا اگر ہم اُن کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے‘‘۔[55] اچھا، وہ وقت دور نہیں ہے جب عذاب دیکھ کر انہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کون گمراہی میں دورنکل گیا تھا۔{۴۲}</p>
<p>کبھی تم نے اُس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا  اِلٰہ  بنالیا ہو ؟ [56]کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو ؟ {۴۳}</p>
<p>کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں ، یہ تو جانوروں کی طرح ہیں ، بلکہ اُن سے بھی گئے گزرے۔[57]{۴۴}</p>
<p>تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارا رَبّ کس طرح سایہ پھیلا دیتا ہے ؟  اگر وہ چاہتا تو اُسے دائمی سایہ بنادیتا ۔ ہم نے سُورج کو اُس پر دلیل [58]بنایا  {۴۵}</p>
<p>پھر ( جیسے جیسے سُورج اٹھتا جاتا ہے ) ہم اس سائے کو رفتہ رفتہ اپنی طرف سمیٹتے چلے جاتے ہیں۔  [59]{۴۶}</p>
<p> اور وہ اللہ ہی ہے جس نے رات کو تمہارے لئے لباس ،[60] اور نیند کو سکونِ موت ، اور دن کو جی اُٹھنے کا وقت بنایا[61]{۴۷}</p>
<p>اور وہی ہے جو اپنی رحمت کے آگے آگے ہوا ؤں کو بشارت بناکر بھیجتا ہے۔ پھر آسمان سے پاک [62]پانی نازل کرتا ہے{۴۸}</p>
<p> تا کہ ایک مُردہ علاقے کو اس کے ذریعے زندگی بخشے اور اپنی مخلوق میںسے بہت سے جانوروں اور انسانوں کو سیراب کرے۔[63]{۴۹}</p>
<p> اِس کرشمے کو ہم باربار ان کے سامنے لاتے ہیں[64] تا کہ وہ کچھ سبق لیں ، مگر اکثر لوگ کفر اور ناشکری کے سوا کوئی دُوسرا رویہّ اختیار کرنے سے انکا ر کردیتے ہیں۔[65]{۵۰}</p>
<p>اگر ہم چاہتے تو ایک ایک بستی میں ایک ایک خبردار کرنے والا اٹھا کھڑاکر تے۔[66] {۵۱}</p>
<p> پس اے نبی  ؐ!  کافروں کی بات ہرگز نہ مانو اور اس قرآن کولے کر ان کے ساتھ زبردست جہاد کرو۔ [67]{ ۵۲}</p>
<p>اور وہی ہے جس نے دو سمندروں کو ملا کر رکھا ہے۔ ایک لذیذوشیریں ، دُوسراتلخ وشور ۔ اور دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے۔ایک رکاوٹ ہے جو انہیں گڈمڈ ہونے سے روکے ہوئے ہے۔[68] {۵۳}</p>
<p>اور وہی ہے جس نے پانی سے ایک بشر پیدا کیا، پھر اس سے نسب اور سُسرال کے دو الگ سلسلے چلائے ۔[69] تیرا رَبّ بڑا ہی قدرت والا ہے۔ {۵۴}</p>
<p>اُس اللہ کو چھوڑ کر لوگ اُن کو پُوج رہے ہیں جو نہ ان کو نفع پہنچاسکتے ہیں نہ نقصان ، اور اوپر سے مزید یہ کہ کافر اپنے رَبّ کے مقابلے میںہر باغی کامدد گار بناہوا ہے۔[70]{۵۵}</p>
<p> اے نبی  ؐ! تم کو تو ہم نے بس ایک بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا بناکر بھیجا ہے۔[71] {۵۶}</p>
<p> اِن سے کہہ دو کہ ’’ میں اس کام پر تم سے کوئی اُجرت نہیں مانگتا ، میری اُجرت بس یہی ہے کہ جس کاجی چاہے وہ اپنے رَبّ کا راستہ اختیار کرلے‘‘۔[71a]{۵۷}</p>
<p>اے نبی  ؐ!  اُس اللہ پر بھروسہ رکھو جو زندہ ہے اور کبھی مرنے والا نہیں۔ اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو۔ اپنے بندوں کے گناہو ںسے بس اُسی کا باخبر ہونا کافی ہے۔{۵۸}</p>
<p>وہ جس نے چھ دنوں میں زمین اور آسمانوں کو اور اُن سار ی چیزوں کو بناکر رکھ دیا جو آسمانوں اور زمین کے درمیان ہیں ، پھر آپ ہی ’’ عرش ‘‘ پر جلوہ فرماہوا، [72]رحمن اس کی شان بس کسی جاننے والے سے پوچھو۔{۵۹}</p>
<p> ان لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ اس رحمان کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں ’’رحمان کیا ہوتا ہے ؟ کیا بس جسے تو کہہ دے اسی کو ہم سجدہ کرتے پھریں؟‘‘[73]یہ دعوت ان کی نفرت میں اُلٹا اور اضافہ کردیتی ہے۔[74]{۶۰}</p>
<p>بڑا متبرک ہے وہ جس نے آسمان میں بُرج بنائے [75]اور اُس میں ایک چراغ[76] اور ایک چمکتا چاند روشن کیا۔{۶۱}</p>
<p> وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کا جانشین بنایا، ہر اس شخص کے لیے جو سبق لینا چاہے، یاشکر گزار ہونا چاہے۔[77]{ ۶۲}</p>
<p>اوررحمان کے ( اصلی) بندے [78]وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے [79]ہیں ۱ور جاہل اُن کے منھ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام [80]۔{۶۳}</p>
<p>جو اپنے رَبّ کے حضور سجدے اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں۔[81]{۶۴}</p>
<p> جو دعائیں کرتے ہیں کہ ’’ اے ہمارے رَبّ! جہنم کے عذاب سے ہم کو بچالے ، اس کا عذاب تو جان کا لاگو ہے۔{۶۵}</p>
<p>وہ تو بڑا ہی بُرا مُستقر اور مقام ہے ‘‘۔[82]{۶۶}</p>
<p> جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بُخل ،بلکہ اُن کا خرچ دونوں انتہا ؤں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا ہے۔[83] {۶۷}</p>
<p> جو اللہ کے سواکسی اور معبود کو نہیںپُکارتے، اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے ، اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں۔ [84]یہ کام جو کوئی کرے وہ اپنے گناہ کا بدلہ پائے گا{۶۸}</p>
<p> قیامت کے روز اُس کو مکرر عذاب دیا جائے گا[85] اور اُسی میں ہمیشہ ذلت کے ساتھ پڑا رہے گا۔{۶۹}</p>
<p> اِلّا یہ کہ کوئی (اِن گناہوں کے بعد) توبہ کرچکا ہو اورایمان لاکر عمل صالح کرنے لگاہو۔[86] ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل [87]دے گا اور وہ بڑا غفور ٌ رحیم ہے۔{۷۰}</p>
<p> جو شخص توبہ کرکے نیک عملی اختیار کرتا ہے وہ تو اللہ کی طرف پلٹ آتا ہے جیسا کہ پلٹنے کا حق ہے۔[88]{۷۱ }</p>
<p> ( اور رحمن کے بندے وہ ہیں) جو جُھوٹ کے گواہ نہیں بنتے [89]اور کسی لغوچیز پر اُن کا گزر ہوجائے تو شریف آدمیوں کی طرح گزر جاتے ہیں۔[90] {۷۲}</p>
<p> جنہیں اگر اُن کے رَبّ کی آیات سناکر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اُس پراندھے اور بہرے بن کر نہیں رہ جاتے۔[91] {۷۳}</p>
<p>جو دُعائیں مانگا کرتے ہیں کہ ’’ اے ہمارے رَبّ ! ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک[92] دے اور ہم کو پرہیز گاروں کا اِمام بنا‘‘۔[93]{۷۴}</p>
<p>یہ ہیں وہ لوگ جو اپنے صبر[94] کا پھل منزل بلند کی شکل میں[95] پائیں گے۔ آداب و تسلیمات سے اُن کا استقبال ہوگا۔{۷۵}</p>
<p> وہ ہمیشہ ہمیشہ وہاں رہیں گے۔ کیا ہی اچھا ہے وہ مستقر اور وہ مقام۔ {۷۶}</p>
<p> اے نبی  ؐ!  لوگوں سے کہو’’میرے رَبّ کو تمہاری کیا حاجت پڑی ہے اگر تم اس کو نہ پکارو۔[96] اب کہ تم نے جھٹلادیا ہے، عن قریب وہ سزاپا ؤ گے کہ جان چھڑانی مُحال ہوگی۔‘‘{۷۷}</p>

</div><div id="26"><p>سورۃ  الشعرآء </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>  طٰٰسٓـمّٓ۔{۱}</p>
<p> یہ کتابِ مبین کی آیات ہیں۔  [1]{۲}</p>
<p> اے نبی  ؐ!شاید تم اِس غم میں اپنی جان کھودو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے ۔[2]{ ۳}</p>
<p>ہم چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل کرسکتے ہیں کہ اِن کی گردنیں اُس کے آگے جُھک جائیں۔[3] {۴}</p>
<p> اِن لوگوں کے پاس رحمان کی طرف سے جو نئی نصیحت بھی آتی ہے یہ اس سے منھ موڑلیتے ہیں۔ {۵}</p>
<p> اب کہ یہ جُھٹلاچکے ہیں ، عنقریب ان کو اس چیز کی حقیقت ( مختلف طریقوں سے ) معلوم ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں۔[4]{۶}</p>
<p>اور کیا اِنہوں نے کبھی زمین پر نگاہ نہیں ڈالی کہ ہم نے کتنی کثیر مقدار میں ہر طرح کی عمدہ نباتات اس میں پیدا کی ہیں ؟{۷}</p>
<p> یقینا اُس میں ایک نشانی ہے،[5] مگر ان میں سے اکثر ماننے  والے نہیں۔ {۸}</p>
<p> اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رَبّ زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔  [6]{۹}</p>
<p>  اِنہیں اُس وقت کا قصہ سنا ؤ جب کہ تمہارے رَبّ نے موسیٰ  ؑ کو پکارا [7]’’ ظالم قوم کے پاس جا {۱۰}</p>
<p> فرعون کی قوم کے پاس[8]۔ کیا وہ نہیں ڈرتے ؟‘‘ [9]{۱۱}</p>
<p> اُس نے عرض کیا :’’ اے میرے رَبّ !مجھے خوف ہے کہ وہ مجھ کو جُھٹلادیں گے۔{ ۱۲}</p>
<p>میرا سینہ گُھٹتاہے اور میری زبان نہیں چلتی۔آپ ہارون ؑ کی طرف رسالت بھیجیں۔[10]{۱۳}</p>
<p> اور مجھ پر اُن کے ہاں ایک جُرم کا الزام بھی ہے ، اس لیے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں گے‘‘[11] {۱۴}</p>
<p> فرمایا’’ہر گز نہیں ، تم دونوں جا ؤ ہماری نشانیاں [12]لے کر، ہم تمہارے ساتھ سب کچھ سُنتے رہیں گے۔{۱۵}</p>
<p> فرعون کے پاس جا ؤ اور اس سے کہو ، ہم کو ربُّ العٰلمین نے بھیجا ہے {۱۶}</p>
<p>اس لیے کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے ‘‘۔[13]{۱۷}</p>
<p>فرعون نے کہا’’ کیا ہم نے تجھ کو اپنے ہاں بچّہ سا نہیں پالا[14] تھا؟ تو نے اپنی عمر کے کئی سال ہمارے ہاں گزارے{۱۸}</p>
<p>اور اس کے بعد کرگیا جو کچھ کرگیا[15]تو بڑا ا حسان فراموش آدمی ہے ‘‘ {۱۹}</p>
<p> موسیٰ  ؑ نے جواب دیا ’’اُس وقت وہ کام میں نے نادانستگی میں کردیا تھا۔[16]{۲۰}</p>
<p> پھر میں تمہارے خوف سے بھاگ گیا۔اس کے بعد میرے رَبّ نے مجھ کو حکم عطا کیا[17] اور مجھے رسُولوں میں شامل فرمالیا{۲۱}</p>
<p> رہا تیراا حسان جو تونے مجھ پر جتایا ہے تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ تونے بنی اسرائیل کو غلام بنالیا تھا۔[18]{ ۲۲}</p>
<p> فرعون نے کہا[19] ’’ اور یہ ربُّ العٰلمین کیا ہوتا ہے ‘‘؟[20]{۲۳}</p>
<p>موسیٰ  ؑنے جواب دیا ’’ آسمانوں اورز مین کا رَبّ ، اور اُن سب چیزوں کا رَبّ جو آسمان وزمین کے درمیان ہیں ، اگر تم یقین لانے والے ہو ‘‘۔[21] {۲۴}</p>
<p>فرعون نے اپنے گردو پیش کے لوگوں سے کہا ’’ سُنتے ہو ‘‘ ؟ {۲۵}</p>
<p> موسیٰ  ؑنے کہا ’’تمہارا رَبّ بھی اور تمہارے اُن آباء واجداد کا رَبّ بھی جو گزر چکے ہیں‘‘۔[22]{۲۶}</p>
<p> فرعون نے (حاضرین سے ) کہا ’’تمہارے یہ رسُول صاحب جو تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں،بالکل ہی پاگل معلوم  ہوتے ہیں۔{۲۷}</p>
<p>موسیٰؑ نے کہا ’’ مشرق و مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رَبّ ، اگر آپ  لوگ کچھ عقل رکھتے ہیں ‘‘۔[23] {۲۸}</p>
<p>فرعون نے کہا ’’ اگر تونے میرے سواکسی اور کو معبود مانا تو تجھے بھی اُن لوگوں میں شامل کردوں گا جو قید خانوں میں پڑے سڑرہے ہیں ‘‘۔[24] {۲۹}</p>
<p>موسیٰ  ؑنے کہا ’’اگرچہ میں لے آ ؤں تیرے سامنے ایک صریح  چیز بھی ‘‘؟[25]{۳۰}</p>
<p> فرعون نے کہا ’’ اچھا تو لے آ اگر توسچا ہے ‘‘[26]{۳۱}</p>
<p>( اُس کی زبان سے یہ بات نکلتے ہی) موسیٰ  ؑنے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ ایک صریح اژدہا تھا ۔[27]{۳۲}</p>
<p> پھراُس نے اپنا ہاتھ (بغل سے ) کھینچا اور وہ سب دیکھنے والوں کے سامنے  چمک رہا تھا۔  [28]{۳۳}</p>
<p> فرعون اپنے گردو پیش کے سرداروں سے بولا ’’ یہ شخص یقینا ایک ماہر جادو گر ہے{۳۴}</p>
<p>چاہتا ہے کہ  اپنے جادُو کے زور سے تم کو تمہارے ملک سے نکال دے۔[29] اب بتا ؤ تم کیا حکم دیتے ہو‘‘ ؟[30]{۳۵}</p>
<p> انہوں نے کہا ’’ اسے اور اس کے بھائی کو روک لیجئے اور شہروں میں ہر کارے بھیج دیجئے {۳۶}</p>
<p> کہ ہر سیانے جادوگر کو آپ کے پاس لے آئیں‘‘۔{۳۷}</p>
<p> چنانچہ ایک روز مقرر وقت[31] پر جادوگر اکٹھے کرلئے گئے{۳۸}</p>
<p> اور لوگوں سے کہا گیا ’’ تم اجتماع میں چلوگے ؟[32]{۳۹}</p>
<p> شاید کہ ہم جادوگروں کے دِین ہی پررہ جائیں اگر وہ غالب رہے‘‘ ۔[33] {۴۰}</p>
<p>جب جادو گر میدان میں آئے تو انہوں نے فرعون سے کہا ’’ ہمیں انعام تو ملے گا اگر ہم غالب رہے ؟‘‘[34]{۴۱}</p>
<p> اس نے کہا:’’ ’ہاں ، اور تم تو اُس وقت مقرّبین میں شامل ہوجا ؤ گے ‘‘۔[35]{۴۲}</p>
<p> موسیٰ  ؑ نے کہا ’’پھینکو جو تمہیں پھینکنا ہے ۔‘‘{۴۳}</p>
<p> انہوں نے فوراً اپنی رسیّاں اور لاٹھیاں پھینک دیں اور بولے ’’ فرعون کے اقبال سے ہم ہی غالب رہیں گے ‘‘ ۔[36]{۴۴}</p>
<p>پھر موسیٰ  ؑنے اپنا عصا پھینکا تو یکایک وہ ان کے جُھوٹے کرشموں کو ہڑپ کرتا چلاجارہا تھا ۔{۴۵}</p>
<p> اس پر سارے جادو گربے اختیار سجدے میں گرپڑے{۴۶}</p>
<p> اور بول اُٹھے کہ ’’ مان گئے ہم ربُّ العٰلمین کو {۴۷}</p>
<p>موسیٰ  ؑ اور ہارونؑ کے رَبّ [37]کو ‘‘۔{۴۸}</p>
<p> فرعون نے کہا ’’ تم موسیٰ  ؑ کی بات مان گئے  قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دیتا ! ضرور یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے [38]اچھا ، ابھی تمہیں معلوم ہواجاتا ہے ، میں تمہارے ہاتھ پا ؤں مخالف سمتوں سے کٹوا ؤں گا اور تم سب کو سُولی پر چڑھادوں گا ‘‘ ۔[39]{۴۹}</p>
<p> انہوں نے جواب دیا ’’کچھ پروا نہیں ، ہم اپنے رَبّ کے حضور پہنچ جائیں گے{۵۰}</p>
<p>اور ہمیں توقع ہے کہ ہمارا رَبّ ہمارے گناہ معاف کردے گا کیونکہ سب سے پہلے ہم ایمان لائے ہیں۔ ‘‘[40]{۵۱}</p>
<p>ہم [41]نے  موسیٰ  ؑ کو وحی بھیجی کہ ’’راتوں رات میرے بندوں کو لے کر نکل جا ؤ ، تمہارا پیچھا کیا جائے گا ‘‘ ۔[42]{۵۲}</p>
<p> اس پر فرعون نے (فوجیں جمع کرنے کے لیے ) شہروں میں نقیب بھیج دیے{۵۳}</p>
<p> ( اور کہلا بھیجا) کہ ’’ یہ کچھ مُٹھی بھر لوگ ہیں {۵۴}</p>
<p>اور اِنہوں نے ہم کو بہت ناراض کیا ہے {۵۵}</p>
<p>اور ہم ایک ایسی جماعت ہیں جس کا شیوہ ہر وقت چوکناّ رہنا ہے‘‘۔[43] {۵۶}</p>
<p> اِس طرح ہم اُنہیں اُن کے باغوں اور چشموں سے نکال لائے {۵۷}</p>
<p> اور خزانوں اور ان کی بہترین قیام گاہوں سے[44] {۵۸}</p>
<p>یہ تو ہو ا اُن  کے ساتھ، اور ( دوسری طرف ) بنی اسرائیل کو ہم نے ان سب چیزوں کا وارث کردیا۔[45]{۵۹}</p>
<p> صبح ہوتے یہ لو گ اُن کے تعاقب میں چل پڑے۔ {۶۰}</p>
<p> جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہوا تو موسیٰ  ؑ کے ساتھی چیخ اٹھے کہ ’’ ہم تو پکڑے گئے ‘‘ {۶۱}</p>
<p> موسیٰ  ؑنے کہا ’’ ہرگز نہیں ۔ میرے ساتھ میرا رَبّ ہے ۔ وہ ضرور میری رہنمائی فرمائے گا ‘‘[46]{۶۲}</p>
<p> ہم نے موسیٰ  ؑ کو وحی کے ذریعہ سے حکم دیا کہ ’’ مار اپنا عصا سمندر پر ‘‘۔ یکایک سمندر پھٹ گیا اور اس کا ہرٹکڑا ایک عظیم الشان پہاڑ کی طرح ہوگیا ۔ [47]{۶۳}</p>
<p>اُسی جگہ ہم دُوسرے گروہ کو بھی قریب لے آئے۔[48]{۶۴}</p>
<p> موسیٰ  ؑ اور اُن سب لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے۔ ہم نے بچالیا۔{۶۵}</p>
<p> اور دُوسروں کو غرق کردیا۔{۶۶}</p>
<p> اس واقعہ میں ایک نشانی ہے ،[49]مگر اِن لوگوں میں سے اکثر ماننے والے نہیں ہیں۔{۶۷}</p>
<p> اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رَبّ زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔{۶۸}</p>
<p> اور انہیں ابراہیم  ؑکا قصہ سنا ؤ [50]{۶۹}</p>
<p>جبکہ اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پُوچھا تھا کہ ’’ یہ کیا چیزیں ہیں جن کو تم پوجتے ہو ؟‘‘ [51]{۷۰}</p>
<p>انہوں نے جواب دیا ’’ کچھ بُت ہیں جن کی ہم پوُجاکرتے ہیں اور انہی کی سیوا میں ہم لگے رہتے ہیں ‘‘ ۔[52]{۷۱}</p>
<p>اس نے پوچھا ’’ کیا یہ تمہاری سُنتے ہیں جب تم انہیں پکارتے ہو {۷۲}</p>
<p> یایہ تمہیں کچھ نفع یانقصان پہنچاتے ہیں ‘‘؟ {۷۳}</p>
<p>انہوں نے جواب دیا ’’ نہیں، بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے پایا ہے‘‘۔[53]{۷۴}</p>
<p>اس پر ابراہیم ؑ نے کہا ’’ کبھی تم نے ( آنکھیں کھول کر ) اُن چیزوں کو دیکھا بھی جن کی بندگی تم کرتے رہے ہو؟{۷۵}</p>
<p> تم اور تمہارے پچھلے باپ دادا (بجالاتے رہے ) ۔ [54]{۷۶}</p>
<p> میرے تو یہ سب دشمن ہیں ،[55] بجز ایک رَبُّ العٰلمین [56]کے{۷۷}</p>
<p> جس نے مجھے پیدا کیا ،[57] پھر وہی میری رہنمائی فرماتا ہے۔{۷۸}</p>
<p> جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے {۷۹}</p>
<p>اور جب بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی مجھے شفادیتا ہے۔[58]{۸۰}</p>
<p>جو مجھے موت دے گا اور پھر دوبارہ مجھ کو زندگی بخشے گا۔{۸۱}</p>
<p> اور جس سے میں اُمید ر کھتاہوں کہ روزِ جزا میں وہ  میری خطا معاف فرمادے [59]گا ‘‘{۸۲}</p>
<p> ( اس کے بعد ابراہیم  ؑنے دعا کی ) ’’ اے میرے رَبّ ! مجھے حکم عطا[60] کر اور مجھ کو صالحوں کے ساتھ ملا۔[61]{۸۳}</p>
<p> اور بعد کے آنے والوں میں مجھ کو سچّی ناموری عطا کر۔ [62]{۸۴}</p>
<p> اور مجھے جنّتِ نعیم کے وارثوں میں شامل فرما۔{۸۵}</p>
<p> اور میرے باپ کو معاف کردے کہ بے شک وہ گمراہ لوگوں میں سے ہے[63]{۸۶}</p>
<p>اور مجھے اُس دن رسوانہ کر جبکہ سب لوگ زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے۔[64] {۸۷}</p>
<p> جبکہ نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاد {۸۸}</p>
<p> بجز اس کے کہ کوئی شخص قلبِ سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو‘‘[65]{۸۹}</p>
<p>(اُس روز[66] )  جنّت پرہیزگاروں کے قریب لے آئی جائے گی۔{۹۰}</p>
<p>اور دوزخ بہکے ہوئے ( گمراہ )لوگوں کے سامنے کھول دی جائے گی[67]{۹۱}</p>
<p> اور ان سے پوچھا جائے گا کہ ’’اب کہاں ہیں وہ جن کی تم عبادت کرتے تھے ؟ {۹۲}</p>
<p>اللہ کو چھوڑ کرکیا وہ تمہاری کچھ مدد کررہے ہیں یا خود اپنا بچا ؤ کرسکتے ہیں‘‘ ؟{۹۳}</p>
<p>پھر وہ معبُود اور یہ بہکے ہوئے لوگ اُس میں اُوپر تلے (اوندھے منہ) دھکیل دیے جائیں گے ۔[68]{ ۹۴}</p>
<p>اور ابلیس کے لشکر سب کے سب{۹۵}</p>
<p> وہاں یہ سب آپس میں جھگڑیں گے اور یہ بہکے ہوئے لوگ (اپنے معبُودو ں سے ) کہیں گے{۹۶}</p>
<p>کہ ’’ اللہ کی قسم !ہم تو صریح گمراہی میں مبتلا تھے ۔{۹۷}</p>
<p> جب کہ تم کو ربُّ العٰلمین کی برابری کا درجہ دے رہے تھے۔{۹۸}</p>
<p> اور وہ مجرم لوگ ہی تھے جنہوں نے ہم کو اس گمراہی میں ڈالا۔[69]{۹۹}</p>
<p> اب نہ ہمارا کوئی سفارشی ہے[70]{۱۰۰}</p>
<p>اور نہ کوئی جگری دوست ۔[71]{۱۰۱}</p>
<p> کاش ہمیں ایک دفعہ پھر پلٹنے کا موقع مل جائے تو ہم مومن ہوں ‘‘ ۔[72]{۱۰۲}</p>
<p>یقینا اِس میں ایک بڑی نشانی ہے ۔[73] مگر اِن میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں۔{۱۰۳}</p>
<p> اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رَبّ زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔{ ۱۰۴}</p>
<p>  قومِ نوحؑ [74]نے رسُولوں کو جھٹلایا۔[75]{۱۰۵}</p>
<p> یاد کرو جب کہ اُن کے بھائی نوحؑ نے ان سے کہا تھا ’’ کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟[76]{۱۰۶}</p>
<p> میں تمہارے لئے ایک امانت دار رسول ؑہوں[77]{۱۰۷}</p>
<p> لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ [78]{۱۰۸}</p>
<p>میں اِس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں ۔ میرا اجر تو ربُّ العٰلمین کے ذمّہ ہے۔[79]{۱۰۹}</p>
<p> پس تم اللہ سے ڈرو اور (بے کھٹکے ) میری اطاعت کرو‘‘۔[80]{۱۱۰}</p>
<p> انہوں نے جواب دیا ’’ کیا ہم تجھے مان لیں حالانکہ تیری پیروی رذیل ترین لوگوں نے اختیار کی ہے ؟‘‘[81]{۱۱۱}</p>
<p> نوحؑ نے کہا ’’ میں کیا جانوں کہ اُن کے عمل کیسے ہیں { ۱۱۲}</p>
<p> ان کا حساب تو میرے رَبّ کے ذمّہ ہے ، کاش تم کچھ شعور سے کام لو۔ [82]{۱۱۳}</p>
<p> میرا یہ کام نہیں ہے کہ جوایمان لائیں ان کو میں دُھتکاردوں۔ {۱۱۴}</p>
<p>میں تو بس ایک صاف صاف متنبہ کردینے والا آدمی ہوں‘‘[83]{۱۱۵}</p>
<p> انہوں نے کہا ’’ اے نوحؑ ! اگر توبازنہ آیا تو پھٹکارے ہوئے لوگوں میں شامل ہوکررہے گا ‘‘۔[84] {۱۱۶}</p>
<p> نوح ؑنے دُعا کی ’’ اے میرے رَبّ !میری قوم نے مجھے جُھٹلادیا۔[85]{۱۱۷}</p>
<p>   اب میرے اور ان کے درمیان دوٹوک فیصلہ کردے اور مجھے اور جو مومن میرے ساتھ ہیں ان کو نجات دے ‘‘۔[86]{۱۱۸}</p>
<p> آخرکارہم نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو ایک بھری ہوئی کشتی میں بچالیا۔ [87]{۱۱۹}</p>
<p> اور اس کے بعد باقی لوگوں کو غرق کردیا{۱۲۰}</p>
<p>یقینا اِس میں ایک نشانی ہے ،مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں{۱۲۱}</p>
<p> اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رَبّ زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔{۱۲۲}</p>
<p>عاد نے رسولوں کو جھٹلایا [88]{۱۲۳}</p>
<p>یادکرو جب کہ ان کے بھائی ہودؑ نے ان سے کہا [89]تھا ’’کیا تم ڈرتے نہیں ؟{۱۲۴ }</p>
<p>میں تمہارے لئے ایک امانت داررسول ؑ ہوں {۱۲۵}</p>
<p>لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ {۱۲۶}</p>
<p>میں اِس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں۔ میرا اجر تورَبّ العٰلمین کے ذمّہ ہے۔{۱۲۷}</p>
<p> یہ تمہارا کیا حال ہے کہ ہر اُونچے مقام پر لاحاصل ایک یادگار عمارت بناڈالتے ہو [90]{۱۲۸}</p>
<p>اور بڑے بڑے قصر تعمیر کرتے ہوگویا تمہیں ہمیشہ رہنا ہے۔[91]{۱۲۹}</p>
<p>اور جب کسی پر ہاتھ ڈالتے ہو جبارن کرڈالتے ہو ۔[92]{۱۳۰}</p>
<p>پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔{۱۳۱}</p>
<p>ڈرو اُس سے جس نے وہ کچھ تمہیں دیا ہے جو تم جانتے ہو۔{۱۳۲}</p>
<p>تمہیں جانورد یے ،اولادیں دیں {۱۳۳}</p>
<p>باغ دیئے اور چشمے دیے ۔ {۱۳۴}</p>
<p> مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے دن کے عذاب کاڈرہے ‘‘۔{۱۳۵}</p>
<p> انہو ں نے جواب دیا’’ تُو وعظ و نصیحت کریانہ کر ، ہمارے لئے سب یکساں ہے۔{۱۳۶}</p>
<p> یہ باتیں تویوں ہی ہوتی چلی آئی ہیں[93]{۱۳۷}</p>
<p> اور ہم عذاب میں مبتلا ہونے والے نہیں ہیں‘‘۔{۱۳۸}</p>
<p> آخر کار اُنہوں نے اُسے جُھٹلادیا اور ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔[94]یقینا اِس میں ایک نشانی ہے ، مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں ہیں۔{۱۳۹}</p>
<p> اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رَبّ زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔{۱۴۰}</p>
<p>  ثمود نے رسُولوں کو جُھٹلایا۔[95] {۱۴۱}</p>
<p> یاد کروجب کہ ان کے بھائی صالح  ؑ نے اُن سے کہا ’’کیا تم ڈرتے نہیں؟ {۱۴۲}</p>
<p>میں تمہارے لئے ایک امانت داررسُول ہوں۔[96]{۱۴۳}</p>
<p> لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو ۔{۱۴۴}</p>
<p> میں اِس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، میرا اجر توربُّ لعٰلمین کے ذمّہ ہے۔{۱۴۵}</p>
<p> کیا تم اُن سب چیزوں کے درمیان ، جو یہاں ہیں ، بس یونہی اطمینان سے رہنے دیے جا ؤ گے ؟[97]{۱۴۶}</p>
<p> اِن باغوں اور چشموںمیں ؟{۱۴۷}</p>
<p> ان کھیتوں اور نخلستانوں میں جن کے خوشے رس بھرے ہیں ؟ [98]{۱۴۸}</p>
<p> تم پہاڑ کھود کھود کرفخر یہ اُن میں عمارتیں بناتے ہو۔[99]{۱۴۹}</p>
<p> اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔{۱۵۰}</p>
<p> اُن بے لگام لوگوں کی اطاعت نہ کرو{۱۵۱}</p>
<p> جو زمین میں فسادبرپا کرتے ہیں اور کوئی اصلاح نہیں کرتے‘‘۔[100]{۱۵۲}</p>
<p> انہوں نے جواب دیا ’’ تُو محض ایک سحر زدہ آدمی ہے[101]{۱۵۳}</p>
<p>تو ہم جیسے ایک انسان کے سوا ا ور کیا ہے ؟ لاکوئی نشانی اگر تو سچّا ہے ‘‘۔[102]{۱۵۴}</p>
<p>صالح  ؑ نے کہا ’’ یہ اونٹنی [103]ہے ۔ ایک دن اس کے پینے کا ہے اور ایک دن تم سب کے پانی لینے کا۔[104]{۱۵۵}</p>
<p> اِس کو ہر گز نہ چھیڑنا ورنہ ایک بڑے دن کا عذاب تم کو آلے گا‘‘۔{۱۵۶}</p>
<p>مگر انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ دیں[105] اور آخر کا رپچھتاتے رہ گئے۔ {۱۵۷}</p>
<p>عذاب نے اُنہیں آلیا۔ [106]یقینا اس میں ایک نشانی ہے ، مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں۔{۱۵۸}</p>
<p> اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رَبّ زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔{۱۵۹}</p>
<p>  لوطؑ کی قوم نے رسُولوں کو جُھٹلایا۔[107]{۱۶۰}</p>
<p>یاد کرو جب کہ ان کے بھائی لوطؑ نے ان سے کہا تھا،’’ کیا تم ڈرتے نہیں ؟ {۱۶۱}</p>
<p>میں تمہارے لئے ایک امانت داررُ سول ہوں۔ {۱۶۲}</p>
<p>لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔{۱۶۳}</p>
<p> میں اِس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں ، میرا اجر تو ربُّ العٰلمین کے ذمّہ ہے ۔{۱۶۴}</p>
<p> کیا تم دنیا کی مخلوق میں سے مَردو ں کے پاس جاتے ہو[108] {۱۶۵}</p>
<p>اور تمہاری بیویوں میں تمہارے رَبّ نے تمہارے لئے جو کچھ پیدا کیا ہے اسے چھوڑ دیتے ہو ؟[109] بلکہ تم لوگ تو حد سے ہی گزرگئے ہو ‘‘ ۔[110]{۱۶۶}</p>
<p> اُنہوں نے کہا ’’ اے لوط  ؑ! اگر تو ان باتوں سے بازنہ آیا تو جو لوگ ہماری بستیوں سے نکالے گئے ہیں اُن میں تو بھی شامل ہو کررہے گا ‘‘۔[111] {۱۶۷}</p>
<p>اُس نے کہا ’’ تمہارے کرتُوتوں پر جولوگ کُڑھ رہے ہیں میں اُن میں شامل ہوں ۔{۱۶۸}</p>
<p>اے پروردگار ! مجھے اور میرے اہل وعیال کو ان کی بدکرداریوں سے نجات دے‘‘ ۔[112] {۱۶۹}</p>
<p> آخر کارہم نے اسے اور اس کے سب اہل وعیال کوبچالیا{۱۷۰}</p>
<p>بجز ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی۔[113]{۱۷۱}</p>
<p> پھر باقی ماندہ لوگوں کو ہم نے تباہ کردیا {۱۷۲}</p>
<p>اور اُن پر برسائی ایک برسات، بڑی ہی بُری  بارش تھی جو اُن ڈرائے جانے والوں پر نازل [114]ہوئی ۔{۱۷۳}</p>
<p>یقینااس میں ایک نشانی ہے ، مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں۔{۱۷۴}</p>
<p>اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رَبّ زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔ {۱۷۵}</p>
<p> اصحابُ الایکہ نے رسُولوں کو جھٹلایا۔[115]{۱۷۶}</p>
<p> یاد کرو جب کہ شعیب ؑ نے ان سے کہا تھا ’’ کیا تم ڈرتے نہیں ؟ {۱۷۷}</p>
<p>میں تمہارے لئے ایک امانت داررُسول ہوں{۱۷۸}</p>
<p>لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو{۱۷۹}</p>
<p>میں اِس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں۔میرا اجر تو ربُّ العٰلمین کے ذمّہ ہے۔ {۱۸۰}</p>
<p> پیمانے ٹھیک بھرواور کسی کوگھاٹا نہ دو۔{۱۸۱}</p>
<p> صحیح ترازو سے تو لو {۱۸۲}</p>
<p>اور لوگوں کو اُن کی چیزیں کم نہ دو، زمین میں فسادنہ پھیلاتے پھرو {۱۸۳}</p>
<p>اور اُس ذات کا خوف کرو جس نے تمہیں اور گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا ہے ‘‘۔{۱۸۴}</p>
<p>انہوں نے کہا ’’ تو محض ایک سحر زدہ آدمی ہے{۱۸۵}</p>
<p> اور تو کچھ نہیں ہے مگر ایک انسان ہم ہی جیسا ، اور ہم تو تجھے بالکل جھوٹا سمجھتے ہیں۔{۱۸۶}</p>
<p> اگر تو سچّا ہے تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دے ‘‘۔ {۱۸۷}</p>
<p> شعیب ؑ نے کہا ’’ میرا رَبّ جانتا ہے جو کچھ تم کررہے ہو ‘‘۔[116]{۱۸۸}</p>
<p> انہوں نے اسے جھٹلادیا۔ آخر کارچھتری والے دن کا عذاب اُن پر آگیا[117] اور وہ بڑے ہی خوفناک دن کا عذاب تھا۔{۱۸۹}</p>
<p>یقینا اس میں ایک نشانی ہے ، مگر اِن میں سے اکثر ماننے والے نہیں۔{۱۹۰}</p>
<p>اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رَبّ زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔{۱۹۱}</p>
<p>یہ [118]ربُّ العٰلمین کی نازل کردہ چیز ہے۔  [119]{۱۹۲}</p>
<p>اسے لے کر امانت دار روح [120] اتری ہے { ۱۹۳}</p>
<p> تیرے دل پرتا کہ تو اُن لوگوں میں شامل ہوجو (اللہ کی طرف سے خلق اللہ کو ) متنبہ کرنے والے ہیں {۱۹۴}</p>
<p> صاف صاف عربی زبان میں۔[121] {۱۹۵}</p>
<p> اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے۔[122]{۱۹۶}</p>
<p> کیا ان (اہل مکہ ) کے لیے یہ کوئی نشانی نہیں ہے کہ اسے علما ء بنی اسرائیل جانتے ہیں ؟ [123] {۱۹۷}</p>
<p>( لیکن اِن کی ہٹ دھرمی کا حال تو یہ ہے کہ ) اگر ہم اسے کسی عجمی پر بھی نازل کردیتے {۱۹۸}</p>
<p>اور یہ (فصیح عربی کلام ) وہ اِن کو پڑھ کر سُناتا تب بھی یہ مان کر نہ دیتے ۔ [124]{۱۹۹}</p>
<p> اِسی طرح ہم نے اس ( ذکر ) کو مجرموں کے دلوں میں گزارا ہے۔[125]{۲۰۰}</p>
<p> وہ اس پر ایمان نہیں لاتے جب تک کہ عذاب الیم نہ دیکھ لیں۔[126]{۲۰۱}</p>
<p> پھر جب وہ بے خبری میں ان پر آپڑتا ہے{ ۲۰۲}</p>
<p>اُس وقت وہ کہتے ہیں کہ ’’ کیا اب ہمیں کچھ مُہلت مل سکتی ہے؟‘‘[127]{۲۰۳}</p>
<p>تو کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں ؟{۲۰۴}</p>
<p>تم نے کچھ غور کیا،اگر ہم اِنہیں برسوں تک عیش کرنے کی مہلت بھی دے دیں{۲۰۵}</p>
<p>اور پھروہی چیزان پر آجائے جس سے انہیں ڈرایا جارہا ہے {۲۰۶}</p>
<p> تو وہ سامانِ زیست جو اِن کو ملاہوا ہے اِن کے کس کام آئے گا ؟[128]{۲۰۷}</p>
<p>( دیکھو) ہم نے کبھی کسی بستی کو اس کے بغیر ہلاک نہیں کیا کہ اُس کے لیے خبردار کرنے والے موجود تھے۔{۲۰۸}</p>
<p> حقِ نصیحت ادا کرنے کو،اور ہم ظالم نہ تھے[129]{۲۰۹}</p>
<p>اِس( کتاب ِمبین ) کو شیاطین لے کر نہیں اترے ہیں[130]{۲۱۰}</p>
<p>نہ یہ کام اُن کو سجتا [131] (زیب دیتا) ہے ، اور نہ وہ ایسا کرہی سکتے ہیں[132]{۲۱۱}</p>
<p>وہ تو اِس کی سماعت تک سے دُور رکھے گئے ہیں۔[133] {۲۱۲}</p>
<p> پس (اے نبی  ؐ!) اللہ کے ساتھ کسی دُوسرے معبُود کو نہ پکارو ، ورنہ تم بھی سزاپانے والوں میں شامل ہوجا ؤ گے۔[134]{ ۲۱۳}</p>
<p>اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو ڈرا ؤ[135]{۲۱۴}</p>
<p>اور ایمان لانے والوں میں سے جو لوگ تمہاری پیروی اختیار کریں ان کے ساتھ تواضع سے پیش آ ؤ ۔ {۲۱۵}</p>
<p>لیکن اگر وہ تمہاری نافرمانی کریں تو اُن سے کہہ دو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اُس سے میں بری ا لذّمہ ہوں [136]{۲۱۶}</p>
<p> اور اُس زبردست اور رحیم پر توکل کرو[137]{۲۱۷}</p>
<p> جو تمہیں اُس وقت دیکھ رہا ہوتا ہے جب تم اُٹھتے ہو [138]{۲۱۸}</p>
<p> اور سجدہ گزار لوگوں میں تمہاری نقل و حرکت پر نگاہ رکھتا ہے۔[139]{۲۱۹}</p>
<p> وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔{۲۲۰}</p>
<p>لوگو!کیا میں تمہیں بتا ؤں کہ شیاطین کس پراُتراکرتے ہیں ؟{۲۲۱}</p>
<p>وہ ہر جعل ساز بدکار پر اُترا کرتے ہیں۔[140]{۲۲۲}</p>
<p>سُنی سنائی باتیں کانوں میں پُھونکتے ہیں اور ان میں سے اکثر  جُھوٹے ہوتے ہیں۔  [141]{۲۲۳}</p>
<p> رہے شعراء، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلاکرتے ہیں۔[142] {۲۲۴}</p>
<p>کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے ہیں[143]{۲۲۵}</p>
<p> اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں ہیں[144]{۲۲۶}</p>
<p> بجز اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا اور جب ان پر ظلم کیا گیا تو صرف بدلہ لے لیا۔[145]اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔[146]{۲۲۷}</p>

</div><div id="27"><p>سورۃالنمل </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والاہے۔</p>
<p> طٰسٓ۔ یہ آیات ہیں قرآن اور کتابِ مبین [1]کی {۱}</p>
<p> ہدایت اور بشارت [2]اُن ایمان لانے والوں کے لیے {۲}</p>
<p> جو نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں ،[3] اور پھر وہ ایسے لوگ ہیں جو آخرت پر پورا یقین رکھتے ہیں۔[4] {۳}</p>
<p> حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے اُن کے لیے ہم نے اُن کے کرتوتوں کو خوشنما بنادیا ہے، اس لیے وہ بھٹکتے پھرتے ہیں۔[5] { ۴}</p>
<p>یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے بری سزا ہے [6]اور آخرت میں یہی سب سے زیادہ خسارے میں رہنے والے ہیں۔{۵}</p>
<p>اور( اے نبی  ؐ !) بلاشبہ تم یہ قرآن ایک حکیم وعلیم ہستی کی طرف سے پار ہے ہو۔[7]{۶}</p>
<p>(انہیں اُس وقت کا قصہ سُنا ؤ ) جب موسیٰ  ؑنے اپنے گھروالوں سے کہا[8] کہ ’’ مجھے ایک آگ سی نظرآئی ہے ، میں ابھی یاتو وہاں سے کوئی خبرلے کر آتا ہو ںیا کوئی انگارا  چُن لاتا ہوں تا کہ تم لوگ گرم ہو سکو‘‘[9]{۷}</p>
<p> وہاں جو پہنچا تو ندا آئی [10]کہ’’ مبارک ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور جو اِس کے ماحول میں ہے ۔ پاک ہے اللہ، سب جہان والوں کا پروردگار[11] {۸}</p>
<p> اے موسیٰ ؑ !یہ میں ہوں اللہ زبردست اور دانا۔ {۹}</p>
<p>اور پھینک تو ذرا اپنی لاٹھی، ‘‘ جونہی کہ موسیٰ  ؑ نے دیکھا لاٹھی سانپ کی طرح بل کھارہی ہے[12] تو پیٹھ پھیر کر بھاگا اور پیچھے مُڑکر بھی نہ دیکھا۔ ’’اے موسیٰ !، ڈرو نہیں میرے حضور رسُو ل ڈرا نہیں کرتے [13]{۱۰}</p>
<p>اِ لاّ یہ کہ کسی نے قصور کیا ہو۔ [14]پھر اگر بُرائی کے بعد اُس نے بَھلائی سے ( اپنے فعل کو ) بدل لیا تو میں معاف کرنے والا مہربان ہوں۔[15]{۱۱}</p>
<p> اور ذرا اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں تو ڈالو ، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے۔ یہ ( دو۲ نشانیاں ) نو۹ نشانیوں میں سے ہیں فرعون اور اس کی قو م کی طرف ( لے جانے کے لیے [16]) وہ بڑے بدکردار لوگ ہیں ‘‘۔{۱۲}</p>
<p>مگر جب ہماری کھلی کھلی نشانیاں اُن لوگوں کے سامنے آئیں تواُنہو ں نے کہا کہ یہ تو کھلا جادُو ہے{۱۳}</p>
<p> اُنہوں نے سراسر ظلم اور غرور کی راہ سے ان نشانیوں کا انکار کیا حالانکہ دل اُن کے قائل ہوچکے تھے۔[17] اب دیکھ لو کہ اُن مفسدوں کا انجام کیسا ہوا۔{۱۴}</p>
<p>( دُوسری طرف ) ہم نے دا ؤد ؑ و سلیمان ؑ کو علم عطا کیا[18] اور انہوں نے کہا کہ ’’ شکر ہے اس اللہ کا جس نے ہم کو اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطاکی ‘‘۔[19]{۱۵}</p>
<p> اور دا ؤد ؑ کا وارث سلیمانؑ [20]ہوا ۔ اور اس نے کہا ’’ لوگو ! ہمیں پرندوں کی بولیاں سکھائی گئی[21] ہیں اور ہمیں ہر طرح کی چیزیں دی گئی [22]ہیں بے شک یہ (اللہ کا) نمایاںفضل ہے۔‘‘ {۱۶}</p>
<p>سلیمان ؑ کے لیے جِن اور انسانوں اور پر ندوں کے لشکر جمع کئے گئے تھے[23] اور وہ پُورے ضبط میں رکھے جاتے تھے۔{۱۷}</p>
<p>(ایک مرتبہ وہ اُن کے ساتھ کوچ کررہاتھا) یہاں تک کہ جب یہ سب چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی ، نے کہا ’’ اے چیونٹیو! اپنے بلِوںمیں گھس جا ؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمانؑ اور اس کے لشکر تمہیں کچل ڈالیں اور انہیں خبر بھی نہ ہو ‘‘۔[24]{۱۸}</p>
<p>سلیمان ؑ اس کی بات پر مسکراتے ہوئے ہنس پڑا اور بولا:’’ اے میرے رَبّ! مجھے قابومیں[25] رکھ کہ میں تیرے اُس احسان کا شکر ادا کرتا رہوں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا  ہے اور ایسا عملِ صالح کروں جو تجھے پسند آئے اور اپنی رحمت سے مجھ کو اپنے صالح بندوں میں داخل کر ‘‘۔[26]{۱۹}</p>
<p>(ایک اور مَوقع پر ) سلیمان ؑ نے پرندوں کا جائزہ لیا[27] اور کہا ’’ کیا بات ہے کہ میں فلاں ہُدہُد کو نہیں دیکھ رہاہوں ؟ کیا وہ کہیں غائب ہوگیا ہے ؟ {۲۰}</p>
<p>میں اُسے سخت سزادوں گا، یا اُسے ذبح کردوں گا ، ورنہ اسے میرے سامنے معقول وجہ پیش کرنی [28]ہوگی‘‘۔ {۲۱}</p>
<p>کچھ زیادہ دیرنہ گزری تھی کہ اُس نے آکر کہا ’’میں نے وہ معلومات حاصل کی ہیں جو آپ کے ِعلم میں نہیں ہیں۔ میں سبا کے متعلق یقینی اطلاع لے کر آیا ہوں۔ [29]{۲۲}</p>
<p> میں نے وہاں ایک عورت دیکھی جو اُس قوم کی حکمراں ہے۔ اُس کو ہر طرح کا سروسامان بخشا گیا ہے اور اُس کا تخت بڑا عظیم الشان ہے ۔{۲۳}</p>
<p>میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کے بجائے سُورج کے آگے سجدہ [30]کرتی ہے ‘‘۔ شیطان[31] نے اُن کے اعمال اُن کے لیے خوشنما بنادیے[32] اور انہیں شاہراہ سے روک دیا، اِس وجہ سے وہ یہ سیدھاراستہ نہیں پاتے{۲۴}</p>
<p>کہ اُس اللہ کو سجدہ کریں جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزیں نکالتا ہے[33] اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم لوگ چُھپاتے اور ظاہر کرتے ہو۔[34]{۲۵}</p>
<p> اللہ کہ جس کے سوا کوئی مستحق ِ عبادت نہیں ، جو عرشِ عظیم کا مالک ہے۔[35]{۲۶ }</p>
<p>سلیمانؑ نے کہا ’’ ابھی ہم دیکھے لیتے ہیں کہ تو نے سچ کہا ہے یا تو جُھوٹ بولنے والوںمیں سے ہے۔{۲۷}</p>
<p> میرا یہ خط لے جااور اسے ان لوگوں کی طرف ڈال دے ، پھر الگ ہٹ کر دیکھ کہ وہ کیا ردِّعمل ظاہر کرتے ہیں‘‘۔[36]{۲۸}</p>
<p>ملکہ بولی ’’اے اہل ِدربار ! میری طرف ایک بڑا اہم خط پھینکا گیا ہے۔{۲۹}</p>
<p> وہ سلیمانؑ کی جانب سے ہے اور اللہ رحمن و رحیم کے نام سے شروع کیا گیا ہے۔{۳۰}</p>
<p>مضمون یہ ہے کہ ’’میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور مسلم  ہو کر میرے پاس حاضر ہوجا ؤ ‘‘[37]{۳۱}</p>
<p> (خط سناکر ) ملکہ نے کہا ’’ اے سرداران قوم !میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو میں کسی معاملہ کا فیصلہ تمہارے بغیر نہیں کرتی ہوں‘‘۔[38]{۳۲}</p>
<p> اُنہوں نے جواب دیا ’’ ہم  طاقت ور اور لڑنے والے لوگ ہیں۔ آگے فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ خود دیکھ لیں کہ آپ کو کیا حکم دینا ہے‘‘۔{۳۳}</p>
<p> ملکہ نے کہا کہ ’’بادشاہ جب کسی مُلک میں گھس آتے ہیں تو اُسے خراب اور اس کے عزّت والوں کو ذلیل کردیتے ہیں۔ [39]یہی کچھ وہ کیا کرتے ہیں[40]{۳۴}</p>
<p>میں اُن لوگوں کی طرف ایک ہدیہ بھیجتی ہوں ، پھر دیکھتی ہوں کہ میرے ایلچی کیا جواب لے کر پلٹتے ہیں‘‘۔{۳۵}</p>
<p>جب وہ ( ملکہ کا سفیر ) سلیمانؑ کے ہاں پہنچا تو اُس نے کہا ’’کیا تم لوگ مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو ؟ جو کچھ اللہ نے مجھے دے رکھا ہے وہ اُس سے بہت زیادہ ہے جو تمہیں دیاہے۔[41] تمہارا ہدیہ تم ہی کو مبارک رہے۔{۳۶}</p>
<p> (اے سفیر ) واپس جا اپنے بھیجنے والوں کی طرف ۔ ہم ان پر ایسے لشکر لے کرآئیں [42]گے جن کا مقابلہ وہ نہ کرسکیں گے اور ہم انہیں ایسی ذلّت کے ساتھ وہاں سے نکالیں گے کہ وہ خوار ہو کررہ جائیں گے‘‘۔{۳۷}</p>
<p>سلیمان ؑ [43]نے کہا ’’ اے اہلِ دربار !تم میں سے کون اُس کا تخت میرے پاس لاتا ہے قبل اِس کے کہ وہ لوگ مطیع ہوکر میرے پاس حاضرہوں ؟[44]{۳۸}</p>
<p> جِنّوں میں سے ایک قوی ہیکل نے عرض کیامیں اسے حاضر کردوں گا قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں۔[45] میں اِس کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دارہوں۔ ‘‘[46]{۳۹}</p>
<p> جس شخص کے پاس کتاب کا ایک علم تھا وہ بولا’’ میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے اسے لائے دیتا ہوں۔ ‘‘[47]جونہی کہ سلیمان ؑ نے وہ تخت اپنے پاس رکھاہوا دیکھا ، و ہ پُکاراُٹھا’’ یہ میرے رَبّ کا فضل ہے تا کہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہو ں یا کافرِ نعمت بن جاتا ہوں۔[48] اور جو کوئی شکر کرتا ہے اس کا شکر اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے ، ورنہ کوئی ناشکری کرے تو میرا رَبّ بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ بزرگ ہے‘‘۔[49] {۴۰}</p>
<p> سلیمانؑ [50]نے کہا ’’ اَنجان طریقے سے اس کا تخت اس کے سامنے رکھ دو، دیکھیں وہ صحیح بات تک پہنچتی ہے یا اُن لوگوں میں سے ہے جو راہِ راست نہیں پاتے ‘‘۔[51]{۴۱}</p>
<p> ملکہ جب حاضر ہوئی تواس سے کہا گیا کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے ؟ وہ کہنے لگی ’’ یہ تو گویاوہی [52]ہے ۔ ہم تو پہلے ہی جان گئے تھے اور ہم نے سراطاعت جُھکا دیا تھا۔ (یا ہم مسلم ہوچکے تھے)۔ [53]  {۴۲}</p>
<p>اُس کو (ایمان لانے سے) جس چیز نے روک رکھا تھا وہ اُن معبُودوں کی عبادت تھی جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتی تھی ،کیوں کہ وہ ایک کافر قوم سے تھی۔ [54]{۴۳}</p>
<p>اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہو۔ اس نے جو دیکھا تو سمجھی کہ پانی کا حوض ہے اور اترنے کے لیے اس نے اپنے پائینچے اٹھالئے۔ سلیمانؑ نے کہا ’’ یہ شیشے کا چکنا فرش ہے ۔‘‘[55] اس پر وہ پُکاراُٹھی ’’ اے میرے رَبّ ! (آج تک ) میں اپنے نفس پر بڑاظلم کرتی رہی،اور اب میں نے سلیمانؑ کے ساتھ اللہ رَبّ العٰلمین کی اطاعت قبول کرلی‘‘ ۔[56]{۴۴}</p>
<p>اور [57]ثمود کی طرف ہم نے اُن کے بھائی صا لح  ؑکو ( یہ پیغام دے کر ) بھیجا کہ اللہ کی بندگی کرو، تویکایک وہ دو متخاصِم فریق بن گئے۔[58] {۴۵}</p>
<p> صالح  ؑنے کہا ’’ اے میری قوم کے لوگو ! بھلائی سے پہلے بُرائی کے لیے کیوں جلدی مچاتے ہو ؟[59] کیوں نہیں اللہ سے مغفرت طلب کرتے ؟ شاید کہ تم پر رحم فرمایا جائے ؟‘‘ {۴۶}</p>
<p>  انہوں نے کہا ’’ ہم نے تو تم کو اور تمہارے ساتھیوں کوبدشگونی کانشان پایا [60]ہے۔ ‘‘ صالح  ؑنے جواب دیا ’’تمہارے نیک وبد شگون کا سررشتہ تو اللہ کے پاس ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ تم لوگوں کی آزمائش ہورہی ہے‘‘۔[61]{۴۷}</p>
<p>اُس شہر میں نو۹ جھتے دارتھے [62]جو ملک میں فساد پھیلاتے اور کوئی اصلاح کاکام نہ کرتے تھے۔ {۴۸}</p>
<p> انہوں نے آپس میں کہا ’’ اللہ کی قسم کھاکر عہد کر لو کہ ہم صالح  ؑ اور اس کے گھروالوں پرشب خون ماریں گے اور پھر اس کے ولی [63]سے کہہ دیں گے کہ ہم اس کے خاندان کی ہلاکت کے موقع پر موجود نہ تھے ، ہم بالکل سچ کہتے ہیں۔[64]{۴۹}</p>
<p> یہ چال تو وہ چلے اور پھر ایک چال ہم نے چلی جس کی اُنہیں خبر نہ تھی۔[65] {۵۰}</p>
<p> اب دیکھ لو کہ ان کی چال کا انجام کیا ہوا۔ ہم نے تباہ کرکے رکھ دیا ان کو اور ان کی پوری قوم کو {۵۱}</p>
<p> وہ اُن کے گھر خالی پڑے ہیں اُس ظلم کی پاداش میں جووہ کرتے تھے۔ اِس میں ایک نشانِ عبرت ہے اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔ [66]{۵۲}</p>
<p>اور بچالیا ہم نے اُن لوگوں کو جو ایمان لائے تھے۔ اور نافرنی  سے پرہیز کرتے تھے۔ {۵۳}</p>
<p>اورلوطؑ [67]کو ہم نے بھیجا ، یاد کرو وہ وقت جب اس نے اپنی قوم سے کہا ’’ کیا تم آنکھوں دیکھتے بدکاری کرتے ہو؟ [68]{۵۴}</p>
<p> کیا تمہارا یہی چلن ہے کہ عورتوں کو چھوڑ کر مَردوں کے پاس شہوت رانی کے لیے جاتے ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ سخت جہالت کا کام کرتے ہو۔[69]{۵۵}</p>
<p> مگر اس کی قوم کا جواب اِس کے سوا کچھ نہ تھا کہ اُنہوں نے کہا ’’نکال دو لُوط  ؑکے گھروالوں کو اپنی بستی سے ، یہ بڑے پاکبازبنتے ہیں‘‘۔ {۵۶}</p>
<p> آخر کار ہم نے بچالیا اُس کو اور اس کے گھروالوں کو ، بجز اُس کی بیوی کے جس کا پیچھے رہ جانا ہم نے طَے کردیا تھا[70] {۵۷}</p>
<p> اور برسائی اُن لوگوں پر ایک برسات ، بہت ہی بُری برسات تھی وہ اُن لوگوں کے حق میں جو متنبہ کئے جاچکے تھے۔ {۵۸}</p>
<p> ( اے نبی  ؐ!) [71] کہو ، حمد ہے اللہ کے لیے اور سلام اس کے اُن بندوں پر جنہیں اس نے برگزیدہ کیا۔( اُن سے پوچھو ) اللہ بہترہے یا وہ معبُود جنہیں یہ لوگ اس کا شریک بنا رہے ہیں؟ [72]{۵۹}</p>
<p>بھلاوہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمہارے لئے آسمان سے پانی برسایا پھر اُس کے ذریعہ وہ خوشنما باغ اُگائے جن کے درختوں کا اُگاناتمہارے بس میں نہ تھا ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دُوسرا  اِلٰہ بھی ( ان کاموں میں شریک) ہے ؟ [73] ( نہیں ) ، بلکہ یہی لوگ راہ راست سے ہٹ کرچلے جارہے ہیں۔ {۶۰}</p>
<p> اور وہ کون ہے جس نے زمین کو جائے قرار[74] بنایا اور اس کے اندر دریا رواں کیے اوراس میں ( پہاڑوں کی) میخیں گاڑدیں اور پانی کے دوذخیروں کے درمیان پردے حائل کردیے[75] ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور  اِلٰہ بھی (ان کاموں میں شریک ) ہے ؟ نہیں ، بلکہ ان میں سے اکثر لوگ نادان ہیں۔{۶۱}</p>
<p>کون ہے جو بے قرار کی دعاسنتا ہے جبکہ وہ اسے پکارے اور کون اس کی تکلیف رفع کرتا ہے[76] ؟ اور ( کون ہے جو ) تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے [77]؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور ِالٰہ  بھی ( یہ کام کرنے والا) ہے ؟ تم  لوگ کم ہی سوچتے ہو۔{۶۲}</p>
<p>اور کون ہے جو خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں تم کو راستہ دکھاتا ہے[78] اور کون اپنی رحمت کے آگے ہوا ؤں کو خوشنجری لے کر بھیجتا ہے ؟[79] کیا اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا  اِلٰہ بھی ( یہ کام کرتا ) ہے ؟ بہت بالاوبرتر ہے اللہ اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں ۔{۶۳}</p>
<p>اور وہ کون ہے جو خلق کی ابتدا کرتا اور پھر اس کا اعادہ کرتا ہے ؟[80] اور کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے ؟[81] کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور  اِلٰہ بھی( ان کاموں میں) حصہ دار ہے ؟ کہو کہ لا ؤ اپنی دلیل اگر تم سچّے ہو۔[82]{ ۶۴}</p>
<p>اِن سے کہو ، اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی غیب کا علم نہیں رکھتا۔[83] اور وہ (تمہارے معبود تو یہ بھی) نہیں جانتے کہ کب وہ اٹھائے جائیں گے۔[84]{۶۵}</p>
<p>بلکہ آخرت کا تو علم ہی اِن لوگوں سے گم ہوگیا ہے، بلکہ یہ اُس کی طرف سے شک میں ہیں ، بلکہ یہ اُس سے اندھے ہیں ۔[85]{۶۶}</p>
<p>  یہ منکرین کہتے ہیں ’’ کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہوچکے ہوں گے تو ہمیں واقعی قبروں سے نکالا جائے گا؟{۶۷}</p>
<p> یہ خبریں ہم کو بھی بہت دی گئی ہیں اور پہلے ہمارے آباء و اجداد کو بھی دی جاتی رہی ہیں ، مگر یہ بس افسانے ہی افسانے  ہیں جو اگلے وقتوں سے سنتے چلے آرہے ہیں‘‘۔ {۶۸}</p>
<p>کہو ذرا زمین میں چل پھر کردیکھو کہ مجرموں کا کیا انجام ہوچکا ہے۔[86]{۶۹}</p>
<p>اے نبی  ؐ! ان کے حال پر رنج نہ کرو اور نہ اِن کی چالوں پر دل تنگ ہو۔[87]{۷۰}</p>
<p> وہ کہتے ہیں کہ ’’ یہ دھمکی کب پُوری ہوگی اگر تم سچّے ہو ؟‘‘[88] {۷۱}</p>
<p> کہو کیا عجب کہ جس عذاب کے لیے تم جلدی مچار ہے ہواُس کا ایک حصہ تمہارے قریب ہی آلگاہو۔[89]{۷۲}</p>
<p>  حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب تو لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔[90] {۷۳}</p>
<p> بِلاشبہ تیرا رب خوب جانتا ہے جو کچھ اُن کے سینے اپنے اندر چھپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں۔ [91]{۷۴}</p>
<p> آسمان و زمین کی کوئی پوشیدہ چیز ایسی نہیں ہے جو ایک واضح کتاب میں لکھی ہوئی موجودنہ ہو۔  [92]{۷۵}</p>
<p>یہ واقعہ ہے کہ یہ قرآن بنی اسرائیل کو اکثر اُن باتوں کی حقیقت بتاتا ہے جن میں وہ اختلاف رکھتے ہیں۔[93] {۷۶}</p>
<p>اور یہ ہدایت اور رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لیے۔[94]{۷۷}</p>
<p>یقینا ( اِسی طرح )  تیرا رب اِن لوگوں کے درمیان[95] بھی اپنے حکم سے فیصلہ کردے گا  اور وہ زبردست اور سب کچھ جاننے والا ہے۔[96]{۷۸}</p>
<p> پس اے نبی  ؐ! اللہ پر بھر وسا رکھو ، یقینا تم صریح حق پر ہو۔{۷۹}</p>
<p>تم مُردوں کو نہیں سُناسکتے،[97] نہ اُن بہروں تک اپنی پکار پہنچا سکتے ہو جو پیٹھ پھیر کر بھاگے جارہے ہوں[98]{۸۰}</p>
<p> اور نہ اندھوں کو راستہ بتاکر بھٹکنے سے بچاسکتے ہو ،[99] تم تو اپنی بات انہی لوگوں کو سُناسکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور پھر فرماں بردار بن جاتے ہیں۔{۸۱}</p>
<p>اورجب ہماری بات پوری ہونے کا وقت اُن پر آپہنچے گا [100]تو ہم اُن کے لیے ایک جانور زمین سے نکالیں گے جو ان سے کلام کرے گا کہ لوگ ہماری آیا ت پریقین نہیں کرتے تھے۔[101]{ ۸۲}</p>
<p>اور ذراتصور کرو اُس دن کا جب ہم ہراُ مّت میں سے ایک فوج کی فوج اُن لوگوں کی گھیر لائیں گے جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے ، پھر اُن کو ( ان کی اقسام کے لحاظ سے درجہ بدرجہ ) مرتّب کیا جائے گا۔ {۸۳}</p>
<p> یہاں تک کہ جب سب آجائیں گے ،تو( ان کا رب ان سے ) پُوچھے گا کہ ’’ تم نے میری آیات کو جھٹلادیا حالانکہ تم نے اِن کا علمی احاطہ نہ کیا [102]تھا ؟ اگر یہ نہیں تو اور تم کیا کررہے تھے ‘‘؟[103] {۸۴}</p>
<p> اور ان کے ظلم کی وجہ سے عذاب کا وعدہ ان پر پورا ہوجائے گا، تب وہ کچھ بھی نہ بول سکیں گے۔ {۸۵}</p>
<p>  کیا اُن کو سجھائی نہ دیتا تھا کہ ہم نے رات ان کے لیے سکون حاصل کرنے کو بنائی تھی اور دن کوروشن کیا تھا ؟[104] اِس میں بہت نشانیاں تھیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے تھے۔[105]{۸۶}</p>
<p>اور کیا گزرے گی اس روز جب کہ صُور پُھونکا جائے گا اور ہَول کھا جائیں گے وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں۔[106] سوائے ان لوگوں کے جنہیں اللہ اس ہَول سے بچانا چاہے گا۔ اور سب کان دبائے اس کے حضور حاضر ہوجائیں گے۔{۸۷}</p>
<p> آج تُو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خوب جمے ہوئے ہیں ، مگر اُس وقت یہ بادلوں کی طرح اُڑ رہے ہوں گے ، یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہوگا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا ہے ، وہ خوب جانتا ہے کہ تم لوگ کیا کرتے ہو۔[107] {۸۸}</p>
<p> جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اُسے اُس سے زیادہ بہتر صلہ ملے گا [108]اور ایسے لوگ اُس دن کے ہَول سے محفوظ ہوں گے۔[109]{۸۹}</p>
<p> اور جو برائی لئے ہوئے آئے گا ، ایسے سب لوگ اوندھے منھ آگ میں پھینکے جائیں گے۔ کیا تم لوگ اس کے سوا کوئی اور جزا پاسکتے ہو کہ جیسا کرو ویسا بھرو؟{۹۰}</p>
<p>( اے نبی  ؐ ! ا ِن سے کہو )’’ مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ ِاس شہر ( مکہ) کے رب کی بندگی کروں جس نے اِسے حرم بنایا ہے اور جو ہر چیز کا مالک ہے ۔[110] مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلم بن کررہوں{۹۱}</p>
<p>اور یہ قرآن پڑھ کرسنا ؤں‘‘ ۔ اب جو ہدایت اختیار کرے گا وہ اپنے ہی بھلے کے لیے ہدایت اختیار کرے گا۔ اور جو گمراہ ہو اُس سے کہہ دوکہ: ’’ میں تو بس خبردار کردینے والا ہوں ‘‘۔{۹۲}</p>
<p> ان سے کہو ،تعریف اللہ ہی کے لیے ہے ، عنقریب وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھادے گا اور تم انہیں پہچان لوگے ، اور تیرا رب بے خبر نہیں ہے اُن اعمال سے جو تم لوگ کرتے ہو۔{ ۹۳}</p>

</div><div id="28"><p>سورۃ  القصص </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہامہربان او ررحم فرمانے والا ہے۔ </p>
<p>طٰسٓمّٓ ۔{۱}</p>
<p> یہ کتابِ مبین کی آیات ہیں { ۲}</p>
<p> ہم موسیٰ  ؑ اور فرعون کا کچھ حال ٹھیک ٹھیک تمہیں سناتے ہیں[1] ، ایسے لوگوں کے فائدے کے لیے جو ایمان لائیں۔[2]{۳}</p>
<p>واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی[3] اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کردیا۔[4] اُن میں سے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا اُس کے لڑکوں کوقتل کرتا اور اس کی لڑکیوں کو جیتا رہنے دیتا تھا۔  [5]فی الواقع وہ مفسد لوگوں میں سے تھا{۴}</p>
<p>اور ہم یہ ارادہ رکھتے تھے کہ مہربانی کریں اُن لوگوں پر جو زمین میں ذلیل کرکے رکھے گئے تھے اوراُ نہیں پیشوا بنادیں [6]اور اُن ہی کو وارث بنائیں۔[7] {۵}</p>
<p>اور زمین میں ان کو اقتدار بخشیں اور ان سے فرعون وہامان[8] اور ان کے لشکروں کو وہی کچھ دکھلادیں جس کا انہیں ڈرتھا۔{۶}</p>
<p>ہم [9]نے موسیٰ  ؑکی ماں کو اشارہ کیا کہ ’’ اِس کو دُودھ پلا ، پھر جب تجھے اس کی جان کا خطرہ ہوتو اسے دریا میں ڈال دے اور کچھ خوف اور غم نہ کر ، ہم اسے تیرے ہی پاس لے آئیں گے اور اس کو پیغمبروں میں شامل کریں گے‘‘۔[10]{۷}</p>
<p>آخرکارفرعون کے گھروالوں نے اسے ( دریا سے ) نکال لیا تا کہ وہ ان کا دشمن اور ان کے لیے سببِ رنج بنے ،[11] واقعی فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر ( اپنی تدبیر میں ) بڑے غلط کارتھے۔ {۸}</p>
<p> فرعون کی بیوی نے ( اُس سے ) کہا ’’ یہ میرے اور تیرے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ، اِسے قتل نہ کرو ، کیا عجب کہ یہ ہمارے لئے مفید ثابت ہو،یا ہم اِسے بیٹا ہی بنالیں ۔‘‘ [12]اور وہ (انجام سے ) بے خبر تھے ۔{۹}</p>
<p>اُدھر موسیٰ  ؑکی ماں کا دل اُڑا جارہا تھا۔ وہ اُس کا راز فاش کربیٹھتی اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھادیتے تا کہ وہ (ہمارے وعدے پر ) ایمان لانے والوں میں سے ہو۔{ ۱۰}</p>
<p> اُس نے بچّے کی بہن سے کہا اس کے پیچھے پیچھے جا،چنانچہ وہ الگ سے اُس کو اس طرح دیکھتی رہی کہ (دشمنوں کو ) اُس کا پتا نہ چلا۔ [13]{۱۱}</p>
<p> اور ہم نے بچّے پر پہلے ہی دودھ پلانے والیوں کی چھاتیاں حرام کررکھی تھیں ۔[14] ( یہ حالت دیکھ کر ) اس لڑکی نے اُن سے کہا ’’ میں تمہیں ایسے گھر کا پتا بتا ؤں جس کے لوگ اس کی پرورش کا ذمّہ لیں اور خیر خواہی کے ساتھ اسے رکھیں ؟‘‘ [15]{۱۲}</p>
<p>اِس طرح ہم موسیٰ  ؑ[16]کو اس کی ماں کے پاس پلٹا لائے تا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غمگین نہ ہو اور جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا تھا،[17] مگر اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے۔ {۱۳}</p>
<p>جب موسیٰ  ؑ اپنی پوری جوانی کو پہنچ گیا اور اس کا نشوونما مکمل [18]ہوگیا تو ہم نے اسے حُکم اور علم عطا کیا [19]، ہم  نیک لوگوں کو ایسی ہی جزادیتے ہیں۔{۱۴}</p>
<p>( ایک روز) وہ شہر میں ایسے وقت داخل ہوا جبکہ اہلِ شہر غفلت میں تھے۔[20] وہاں اس نے دیکھا کہ دو آدمی لڑرہے ہیں۔ ایک اس کی اپنی قوم کا تھا اور دوسرا اُس کی دُشمن قوم سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کی قوم کے آدمی نے دشمن قوم والے کے خلاف اُسے مددکے لیے پکارا ۔ موسیٰ  ؑ نے اس کو ایک گھونسا مارا [21]اور اس کا کام تمام کردیا۔( یہ حرکت سرز دہوتے ہی) موسیٰ  ؑنے کہا ! ’’ یہ شیطان کی کارفرمائی ہے ، وہ سخت دشمن اور کھلا گمراہ کُن ہے ‘‘۔[22]{۱۵}</p>
<p> پھر وہ کہنے لگا۔ ’’ اے میرے رب ! میں نے اپنے نفس پر ظلم کر ڈالا، میری مغفرت فرمادے ‘‘ ۔[23]چنانچہ اللہ نے اس کی مغفرت فرمادی[24] وہ غفور ، رحیم ہے{ ۱۶}</p>
<p> موسیٰ  ؑنے عہد کیا کہ ’’ اے میرے رب !یہ احسان جو تونے مجھ پر کیا ہے ۔[25] اس کے بعد اب میں کبھی مجرموں کا مددگارنہ بنوں گا ‘‘۔[26]{۱۷}</p>
<p>دوسرے روز وہ صبح سویرے ڈرتا اور ہر طرف سے خطرہ بھانپتا ہوا شہر میں جارہا تھا کہ یکایک کیا دیکھتا ہے کہ وہی شخص جس نے کل اسے مدد کے لیے پکارا تھا آج پھر اسے پکارر ہا ہے۔ موسیٰ ؑنے کہا ’’ تُو توبڑاہی بہکا ہوا آدمی ہے ‘‘۔[27]{۱۸}</p>
<p>پھر جب موسیٰ  ؑنے ارادہ کیا کہ دشمن قوم کے آدمی پر حملہ کرے [28]تو وہ پکاراٹھا[29] ’’اے موسیٰ  ؑ !کیا آج تو مجھے اسی طرح قتل کرنے لگاہے جس طرح کل ایک شخص کو قتل کرچکا ہے ؟ تو اس ملک میں جبّار بن کررہنا چاہتا ہے ،اصلاح کرنا نہیں چاہتا ‘‘۔ {۱۹}</p>
<p>اس کے بعد ایک آدمی شہر کے پرلے سرے سے دوڑتا ہوا آیا [30]اور بولا ’’ موسیٰ  ؑ! سرداروں میں تیرے قتل کے مشورے ہورہے ہیں ، یہاں سے نکل جا، میں تیرا خیرخواہ ہوں۔‘‘{۲۰}</p>
<p> یہ خبر سنتے ہی موسیٰ  ؑ ڈرتا اور سہمتا نکل کھڑا ہوا اور اس نے دُعا کی کہ ’’ اے میرے رب! مجھے ظالموں سے بچا۔‘‘{۲۱}</p>
<p>(مصر سے نکل کر ) جب موسیٰ  ؑنے مدَین کا رخ  کیا [31]تو اس نے کہا ’’ اُمید ہے کہ میرا رب مجھے ٹھیک راستے پر ڈال دے گا‘‘[32] {۲۲}</p>
<p>اور جب وہ مدَین کے کنویں پر پہنچا[33] تو اُس نے دیکھا کہ بہت سے لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں اور ان سے الگ ایک طرف دو عورتیں اپنے جانوروں کو روک رہی ہیں۔موسیٰ  ؑنے ان عورتوں سے پوچھا :’’تمہیں کیاپریشانی ہے‘‘انہوں نے کہا ’’ ہم اپنے جانوروں کو پانی نہیں پلاسکتیں جب تک یہ چرواہے اپنے جانورنہ نکال لے جائیں،اور ہمارے والد ایک بہت بوڑھے آدمی ہیں ‘‘ ۔ [34]{۲۳}</p>
<p> یہ سُن کر موسیٰ  ؑ نے ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا ، پھر ایک سائے کی جگہ جا بیٹھا اور بولا: ’’پروردگار !جو خیر بھی تو مجھ پر نازل کردے میں اس کا محتاج ہوں‘‘{۲۴}</p>
<p> ( کچھ دیرنہ گزری تھی کہ) اُن دونوں عورتوں میں سے ایک شرم وحیا کے ساتھ چلتی ہوئی اس کے پاس آئی[35] اور کہنے لگی ’’میرے والد آپ کو بُلارہے ہیں، تا کہ آپ نے ہمارے لئے جانوروں کو پانی جو پلایا ہے اس کا اجر آپ کو دیں۔‘‘[36] موسیٰ  ؑ جب اسکے پاس پہنچا اور اپنا سارا قصّہ اسے سُنایا تو اس نے کہا ’’ کچھ خوف نہ کرو، اب تم ظالم لوگوں سے بچ نکلے ہو‘‘۔{۲۵}</p>
<p>ان دونوں عورتوں میں سے ایک نے اپنے باپ سے کہا ’’ ا بّاجان ! اس شخص کو نو کر رکھ لیجئے ، بہترین آدمی جسے آپ ملازم رکھیں وہی ہوسکتا ہے جو مضبوط اور امانت دار ہو‘‘۔[37]{۲۶}</p>
<p> اسکے باپ نے (موسیٰ  ؑ سے ) کہا [38]’’ میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تمہارے ساتھ کردوںبشرطیکہ تم آٹھ سال تک میرے ہاں ملازمت کرو، اور اگر دس سال پُورے کردو تو یہ تمہاری مرضی ہے۔ میں تم پر سختی نہیں کرنا چاہتا۔تم ان شاء اللہ مجھے نیک آدمی پا ؤ گے ‘‘۔{۲۷}</p>
<p> موسیٰ  ؑنے جواب دیا ’’ یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے ہوگئی ، ان دونوں مدتوں میں سے جو بھی میں پوری کردوں اسکے بعد پھر کوئی زیادتی مجھ پر نہ ہو، اور جو کچھ قول قرار ہم کررہے ہیں اللہ اس پر نگہبان ہے ‘‘۔[39]{۲۸}</p>
<p>جب موسیٰ  ؑ نے مدت پُوری کردی [40]اور وہ اپنے اہل وعیال کو لے کر چلاتو طُور کی جانب اس کو ایک آگ نظر آئی۔[41] اُس نے اپنے گھروالوں سے کہا ’’ٹھہرو ، میں نے ایک آگ دیکھی ہے ، شاید میں وہاں سے کوئی خبر لے آ ؤں یا اس آگ سے کوئی انگارہ ہی اُٹھالا ؤں جس سے تم تاپ سکو‘‘۔{۲۹}</p>
<p> وہاں پہنچا تو وادی کے داہنے کنارے[42] پر مبارک خطّے میں[43] ایک درخت سے پکارا گیا کہ ’’ اے موسیٰ  ؑ ! میں ہی اللہ ہوں ، سارے جہان والوں کا مالک ‘‘ ۔{۳۰}</p>
<p>اور (حکم دیا گیا کہ ) پھینک دے اپنی لاٹھی ۔ جوں ہی کہ موسیٰ  ؑنے دیکھا کہ وہ لاٹھی سانپ کی طرح بل کھارہی ہے تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگا اور اس نے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔  (ارشاد ہوا) ’’ موسیٰ  ؑ پلٹ آ اور خوف نہ کر ، تو بالکل محفوظ ہے ۔{۳۱}</p>
<p>اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال، چمکتا ہوانکلے گا بغیر کسی تکلیف کے[44]۔ اور خوف سے بچنے کے لیے اپنا بازو بھینچ لے۔ [45]یہ دو روشن نشانیاں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے ، وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں‘‘۔[46]{۳۲}</p>
<p> موسیٰ  ؑنے عرض کیا ’’میرے آقا ! میں تو ان کا ایک آدمی قتل کرچکا ہوں ، ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے مارڈالیں گے ۔[47]{ ۳۳}</p>
<p>اور میرا بھائی ہارونؑ مجھ سے زیادہ زبان آورہے ، اسے میرے ساتھ مددگار کے طور پر بھیج تا کہ وہ میری تائید کرے ، مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے ‘‘۔{۳۴}</p>
<p> فرمایا’’ ہم تیرے بھائی کے ذریعہ سے تیرا ہاتھ مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو ایسی سطوت بخشیں گے کہ وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے ۔ ہماری نشانیوں کے زور سے غلبہ تمہارا اور تمہارے پیرووں کا ہی ہوگا ۔‘‘[48]{۳۵}</p>
<p>پھر جب موسیٰ  ؑ اُن لوگوں کے پاس ہماری کھلی کھلی نشانیاں لے کر پہنچا تو انہوں نے کہا کہ ’’ یہ کچھ نہیں ہے مگر بنا ؤٹی جادو ،[49] اور یہ باتیں تو ہم نے اپنے باپ دادا کے زمانے میں کبھی سنیں ہی نہیں‘‘[50]{۳۶}</p>
<p>موسیٰ ؑ ؑنے جواب دیا’’میرا رب اُس شخص کے حال سے خوب واقف ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ آخری انجام کس کا اچھا ہونا ہے ، حق یہ ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے‘‘ ۔[51]{۳۷}</p>
<p> اور فرعون نے کہا’’ اے اہلِ دربار ! میں تو اپنے سوا تمہارے کسی  اِلٰہ کو نہیں جانتا[52]۔ اے ہامان ! ذرا اینٹیں پکواکر میرے لئے ایک اُونچی عمارت تو بنوا ، شاید کہ اس پر چڑھ کر میں موسیٰ  ؑ کے  اِلٰہ کو دیکھ سکوں ، میں تو اسے جُھوٹ سمجھتا ہوں‘‘۔[53]{۳۸}</p>
<p>اُس نے اور اس کے لشکروں نے زمین میں بغیر کسی حق کے اپنی بڑائی کا گھمنڈ[54]کیا اور سمجھے کہ انہیں کبھی ہماری طرف پلٹنا نہیں [55]ہے۔{۳۹}</p>
<p> آخر کار ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑا اور سمندر میں پھینک[56] دیا۔ اب دیکھ لو کہ ان ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔{۴۰}</p>
<p>ہم نے انہیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے پیش روبنا دیا[57] اور قیامت کے روز وہ کہیں سے کوئی مدد نہ پاسکیں گے۔{۴۱}</p>
<p> ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگادی اور قیامت کے روز وہ بڑی قباحت میں مبتلا ہوں گے۔[58]{ ۴۲}</p>
<p>پچھلی نسلو ں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰ  ؑ کو کتاب عطا کی ، لوگوں کے لیے بصیرتوں کا سامان بناکر ، ہدایت اور رحمت بناکر ، تاکہ شاید لوگ سبق حاصل کریں۔[59]{ ۴۳}</p>
<p> (اے نبی  ؐ) تم اُس وقت مغربی گوشے میں موجود نہ [60]تھے، جب ہم نے موسیٰ  ؑ کو یہ فرمان شریعت عطا کیا اور نہ تم شاہدین میں شامل [61]تھے{۴۴}</p>
<p>بلکہ اس کے بعد ( تمہارے زمانے تک) ہم بہت سی نسلیں اٹھا چکے ہیں اور ان پر بہت زمانہ گزرچکا ہے ۔[62] تم اہلِ مدین کے درمیان بھی موجود نہ تھے کہ اُن کو ہماری آیات سُنارہے ہوتے ،[63] مگر (اُس وقت کی یہ خبریں ) بھیجنے والے ہم ہیں۔{۴۵}</p>
<p>اور تم طُور کے دامن میں بھی اُس وقت موجود نہ تھے جب ہم نے (موسیٰ  ؑ کو پہلی مرتبہ ) پکارا تھا، مگر یہ تمہارے رب کی رحمت ہے( کہ تم کو یہ معلومات دی جارہی ہیں) [64]تا کہ تم ان لوگوں کو متنبہ کروجن کے پاس تم سے پہلے کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا ، [65]شاید کہ وہ ہوش میں آئیں۔{۴۶}</p>
<p>( اور یہ ہم نے اس لیے کیا کہ ) کہیں ایسا  نہ ہو کہ اُن کے اپنے کئے کرتُوتوں کی بدولت کوئی مصیبت جب اُن پر آئے تووہ کہیں ’’ اے پروردگار! تُونے کیوں نہ ہماری طرف کوئی رسول بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہل ایمان میں سے ہوتے‘‘۔[66]{۴۷}</p>
<p>مگر جب ہمارے ہاں سے حق اُن کے پاس آگیا تو وہ کہنے لگے ’’ کیوں نہ دیا گیا اِس کو وہی کچھ جو موسیٰ  ؑ کو دیا گیا تھا‘‘؟[67] کیا یہ لوگ اُس کا انکار نہیں کرچکے ہیں جو اس سے پہلے موسیٰ  ؑکو دیا گیا تھا؟ [68] اِنہوں نے کہا ’’دونوں جادوہیں[69] جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں ‘‘۔ اور کہا ’’ ہم کسی کونہیں مانتے ‘‘۔{۴۸}</p>
<p>( اے نبی  ؐ) اِن سے کہو ،’’ اچھا تو لا ؤ اللہ کی طرف سے کوئی کتاب جو اِن دونوں سے زیادہ ہدایت بخشنے والی ہوا گر تم سچّے ہو ، میں اسی کی پیروی اختیار کروں گا۔ ‘‘[70]{۴۹}</p>
<p> اب اگر وہ تمہارا یہ مطالبہ پور انہیں کرتے تو سمجھ لو کہ دراصل یہ اپنی خواہشات کے پیروہیں۔ اوراُس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو اللہ کی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے ؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہر گز ہدایت نہیں بخشتا۔{۵۰}</p>
<p>  اور ( نصیحت کی) بات پے درپے ہم اُنہیں پہنچاچکے ہیں تا کہ وہ غفلت سے بیدار ہوں[71]{۵۱}</p>
<p> جن لوگو ں کو اس سے پہلے ہم نے کتاب دی تھی وہ اس ( قرآن ) پر ایمان لاتے ہیں[72]{۵۲}</p>
<p>اور جب یہ اُن کو سُنایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ’’ہم اِس پر ایمان لائے ، یہ واقعی حق ہے ہمارے رب کی طرف سے ، ہم تو پہلے ہی سے مُسلم ہیں‘‘۔[73] {۵۳}</p>
<p>یہ وہ لوگ ہیں جنہیں انکا اجردوبار دیا جائے[74] گا اس ثابت قدمی کے بدلے جو انہوں نے دکھائی۔[75]وہ بُرائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں[76] اور جو کچھ رزق ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔[77]{ ۵۴}</p>
<p> اور جب انہوں نے بیہودہ بات سُنی [78]تو یہ کہہ کر اس سے کنارہ کش ہوگئے کہ ’’ہمارے اعمال ہمارے لئے اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ، تم کو سلام ہے ، ہم جاہلوں کا ساطریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے‘‘{۵۵}</p>
<p> اے نبی  ؐ !تم جسے چاہواسے ہدایت نہیں دے سکتے ، مگر اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ اُن لوگوں کو خوب جانتا ہے جو ہدایت قبول کرنے والے ہیں۔[79]{۵۶}</p>
<p>وہ کہتے ہیں ’’ اگر ہم تمہارے ساتھ اِس ہدایت کی پیروی اختیار کرلیں تو اپنی زمین سے اُچک لئے جائیں گے ‘‘۔[80]  کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے ایک پُراَمن حرم کو اِن کے لیے جائے قیام بنادیا جس کی طرف ہر طرح کے ثمرات کھنچے چلے آتے ہیں ، ہماری طرف سے رزق کے طور پر ؟ مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔[81]  {۵۷}</p>
<p> اور کتنی ہی ایسی بستیاں ہم تباہ کرچکے ہیں جن کے لوگ اپنی معیشت پر اِتراگئے تھے۔ سودیکھ لو ، وہ اُن کے مسکن پڑے ہوئے ہیں جن میں اُنکے بعد کم ہی کوئی بسا ہے ، آخر کار ہم ہی وارث ہوکررہے۔  [82]{۵۸}</p>
<p>اور تیرا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہ تھا جب تک کہ ان کے مرکز میں ایک رسول نہ بھیج دیتا جو ان کو ہماری آیات سُناتا۔ اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے،جب تک کہ ان کے رہنے والے ظالم نہ ہوجاتے۔[83] {۵۹}</p>
<p>تم لوگوں کو جو کچھ بھی دیا گیا ہے وہ محض دُنیا کی زندگی کا سامان اور اس کی زینت ہے، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس سے بہتر اورباقی تر ہے ، کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ؟{۶۰}</p>
<p> بھلاوہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہواور وہ اسے پانے والا ہو کبھی اُس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جسے ہم نے صرف حیاتِ دنیا کا سروسامان دے دیا ہو اور پھر وہ قیامت کے روز سزا کے لیے پیش کیا جانے والا ہو؟[84]{۶۱}</p>
<p>اور (بُھول نہ جائیں یہ لوگ ) اُس دن کو جب کہ وہ اُن کو پکارے گا اور پُوچھے گا ’’ کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے‘‘؟[85] {۶۲}</p>
<p>یہ قول جن پرچسپاں[86] ہوگا وہ کہیں گے ’’ اے ہمارے رب !  بے شک یہی لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا، انہیں ہم نے اُسی طرح گمراہ کیا جیسے ہم خود گمراہ ہوئےہم آپ کے سامنے براء ت کا اظہارکرتے ہیں ۔[87]یہ ہماری تو بندگی نہیں کرتے تھے‘‘۔[88]  {۶۳}</p>
<p>پھر ان سے کہا جائے گا کہ پکارو اب اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو ۔[89] یہ اُنہیں پکاریں گے مگر وہ اِن کو کوئی جواب نہ دیں گے۔ اور یہ لوگ عذاب دیکھ لیں گے۔ کاش یہ ہدایت اختیار کرنے والے ہوتے۔ {۶۴}</p>
<p>اور (فراموش نہ کریں یہ لوگ) وہ دن جب کہ وہ ان کو پکارے گا اور پُوچھے گا کہ ’’ جو رسُول بھیجے گئے تھے اُنہیں تم نے کیا جواب دیا تھا ‘‘؟ {۶۵}</p>
<p>اُس وقت کوئی جواب اِن کو نہ سُوجھے گا اور نہ یہ آپس میں ایک دُوسرے سے پوچھ ہی سکیں  گے ۔{۶۶}</p>
<p> البتہ جس نے آج توبہ کرلی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کئے وہی یہ توقع کرسکتا ہے کہ وہاں فلاح پانے والوں میں سے ہوگا۔{۶۷}</p>
<p>تیرا رب پیدا کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے اور ( وہ خود ہی اپنے کام کے لیے جسے چاہتا ہے) منتخب کرلیتا ہے ، یہ انتخاب اِن لوگوں کے کرنے کا کام نہیں [90]ہے۔ اللہ پاک ہے اور بہت بالاترہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ {۶۸}</p>
<p>تیرا رب جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ یہ ظاہر کرتے ہیں۔[91]{۶۹}</p>
<p> وہی ایک اللہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں۔ اسی کے لیے حمد ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، فرماں روائی اس کی ہے اور اسی کی طرف تم سب پلٹائے جانے والے ہو۔{۷۰}</p>
<p> اے نبی  ؐ! ان سے کہو کبھی تم لوگوں نے غور کیا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کے لیے رات طاری کردے تو اللہ کے سوا وہ کون سامعبود ہے جو تمہیں روشنی لادے ؟ کیا تم سُنتے نہیں ہو ؟{۷۱}</p>
<p>ان سے پُوچھو ، کبھی تم نے سوچا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پرہمیشہ کے لیے دن طاری کردے تو اللہ کے سوا وہ کو ن سا معبُو د ہے جو تمہیں رات لادے تا کہ تم اس میں سکون حاصل کرسکو ؟ کیا تم کو سُوجھتا نہیں ؟{۷۲}</p>
<p>یہ اُسی کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لئے رات اور دن بنائے تا کہ تم (رات میں) سکون حاصل کرو اور (دن کو ) اپنے رب کا فضل تلاش کرو ، شاید کہ تم شکرگزار بنو۔{ ۷۳}</p>
<p> (یادرکھیں یہ لوگ ) وہ دن جب کہ وہ انہیں پکارے گا پھر پُوچھے گا ’’کہا ں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے ؟‘‘{۷۴}</p>
<p> اور ہم ہر اُمت میں سے ایک گواہ نکال لائیں [92]گے پھر کہیں گے کہ’’ لا ؤ اب اپنی دلیل‘‘ ۔[93] اس وقت انہیں معلوم ہوجائے گا کہ حق اللہ کی طرف ہے ،اور گم ہوجائیں گے اِن کے وہ سارے جُھوٹ جو اِنہوں نے گھڑرکھے تھے۔{۷۵}</p>
<p> یہ ایک واقعہ[94] ہے کہ قارون ، موسیٰ  ؑ کی قوم کا ایک شخص تھا ، پھر وہ اپنی قوم کے خلاف سرکش ہوگیا[95]۔ اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دے رکھے تھے کہ ان کی کنجیاں طاقت ور آدمیوں کی ایک جماعت مشکل سے اُٹھاسکتی تھی۔[96] ایک دفعہ جب اس کی قوم کے لوگوں نے اس سے کہا ’’پُھول نہ جا، اللہ پھولنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔{۷۶}</p>
<p> جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے۔ اس سے آخرت کا گھربنانے کی فکر کر اور دنیا میں سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کر۔ احسان کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے ، اور زمین میں فساد بر پا کرنے کی کوشش نہ کر ۔ اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا۔ ‘‘{۷۷}</p>
<p>اُس نے کہا ’’ یہ سب کچھ تو مجھے اُس علم کی بناپر دیا گیا ہے جو مجھ کو حاصل ہے۔ ‘‘[97] کیا اس کو یہ علم نہ تھا کہ اللہ اس سے پہلے بہت سے ایسے لوگوں کو ہلاک کرچکا ہے جو اس سے زیادہ قوت اور جمعیت رکھتے تھے ؟[98] مجرموں سے تو ان کے گناہ نہیں پُوچھے جاتے [99] {۷۸}</p>
<p>ایک روز وہ اپنی قوم کے سامنے اپنے پُورے ٹھاٹھ میں نکلا۔ جو لوگ حیات دنیا کے طالب تھے وہ اسے دیکھ کرکہنے لگے ’’ کاش ہمیں بھی وہی کچھ ملتا جو قارون کو دیا گیا ہے ، یہ تو بڑا نصیبے والا ہے ‘‘{۷۹}</p>
<p>  مگر جو لوگ علم رکھنے والے تھے وہ کہنے لگے ’’ افسوس تمہارے حال پر اللہ کا ثواب بہتر ہے اُس شخص کے لیے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے ، اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صبر کرنے والوں کو‘‘[100]{۸۰}</p>
<p>آخر کار ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسادیا۔ پھر کوئی اُس کے حامیو ں کا گروہ نہ تھا جو اللہ کے مقابلے میں اس کی مدد کو آتا اور نہ وہ خود اپنی مدد آپ کرسکا {۸۱}</p>
<p> اب وہی لوگ جو کل اُس کی منزلت کی تمنا کررہے تھے کہنے لگے ’’ افسوس ، ہم بُھول گئے تھے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کا رزق چاہتا ہے کشادہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے نَپا تُلادیتا ہے۔[101] اگر اللہ نے ہم پر احسان نہ کیا ہوتا تو ہمیں بھی زمین میں دھنسا دیتا ۔ افسوس ہم کویاد نہ رہا کہ کافر فلاح نہیں [102]پایا کرتے ‘‘{۸۲}</p>
<p>  وہ آخرت [103]کا گھر تو ہم اُن لوگوں کے لیے مخصوص کردیں گے جو زمین میں اپنی بڑائی نہیں چاہتے [104]اور نہ فساد کرنا چاہتے ہیں۔[105] اور انجام کی بھلائی متقین ہی کے لیے ہے[106]{ ۸۳}</p>
<p>جو کوئی بَھلائی لے کر آئے گا اس کے لیے اس سے بہتر بھلائی ہے اور جو برائی لے کر آئے تو برائیاں کرنے والوں کو ویسا ہی بدلہ ملے گا جیسے عمل وہ کرتے تھے۔{ ۸۴}</p>
<p>اے نبی  ؐ! یقین جانو کہ جس نے یہ قرآن تم پر فرض کیا ہے[107]  وہ تمہیں ایک بہترین انجام کو پہنچانے والا [108]ہے ۔ اِن لوگوں سے کہہ دو کہ ’’ میرا رَبّ خوب جانتا ہے کہ ہدایت لے کر کون آیا ہے اور کھلی گمراہی میں کون مبتلاہے ‘‘۔{۸۵}</p>
<p> تم اس بات کے ہرگز اُمیدوارنہ تھے کہ تم پر کتاب نازل کی جائے گی ، یہ تو محض تمہارے رَبّ کی مہربانی سے (تم پر نازل ہوئی ہے[109])۔ پس تم کافروں کے مددگارنہ بنو۔[110]{۸۶}</p>
<p> اور ایسا کبھی نہ ہونے پائے کہ اللہ کی آیات جب تم پر نازل ہوں تو کفارتمہیں اُن سے باز رکھیں۔ [111]اپنے ربّ کی طرف دعوت دو اور ہرگز مشرکوں میں شامل نہ ہو۔ {۸۷}</p>
<p>اور اللہ کے ساتھ کسی دُوسرے معبُود کو نہ پکارو ۔ اُس کے سوا کوئی معبُود نہیں ہے۔ ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اُس کی ذات کے ۔ فرماں روائی اسی کی[112] ہے اور اسی کی طرف تم سب پلٹائے جانے والے ہو۔{۸۸}</p>

</div><div id="29"><p>سورۃ  العنکبوت </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہامہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔</p>
<p>الٓمّٓ {۱}</p>
<p>  کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ’’ ہم ایمان لائے ‘‘اور ان کو آزمایا نہ جائے گا ؟[1]{۲}</p>
<p>حالاں کہ ہم اُن سب لوگوں کی آزمائش کرچکے ہیں جو اِن سے پہلے گزرے ہیں۔[2] اللہ کو تو ضروریہ دیکھنا[3] (اورتم لوگوںکو یہ دکھانا اور معلوم کروادینا)ہے کہ سچّے کون ہیں اور جُھوٹے کون؟{۳}</p>
<p> اور کیا وہ لوگ جو بری حرکتیں کررہے ہیں [4] یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ وہ ہم سے بازی لے جائیں [5]گے؟ بڑا غلط حکم ہے جو وہ لگارہے ہیں۔{۴}</p>
<p>جو کوئی اللہ سے ملنے کی توقع رکھتا ہو (اسے معلوم ہونا چاہئے کہ ) اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت آنے ہی والا ہے ،[6] اور اللہ سب کچھ سُنتا اور جانتا ہے۔[7] {۵}</p>
<p>  جو شخص بھی مجاہدہ کرے گا، اپنے ہی بھلے کے لیے کرے گا [8] اللہ یقینا دنیا جہاں والوں سے بے نیاز ہے۔ [9] {۶}</p>
<p> اور جو لوگ ایمان لائیں گے اور نیک اعمال کریں گے اُن کی بُرائیاں ہم ان سے دور کردیں گے اور انہیں ان کے بہترین اعمال کی جزادیں [10]گے۔{۷}</p>
<p>اور ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ لیکن اگر وہ تجھ پر زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسے( معبُود ) کوشریک ٹھہرائے جسے تو ( میرے شریک کی حیثیت سے ) نہیں جانتا تو ان کی اطاعت نہ کر [11]۔ میری ہی طرف تم سب کو پلٹ کر آنا ہے ، پھر میں تم کو بتادوں گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔[12] {۸}</p>
<p>اور جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور جنہوں نے نیک اعمال کئے ہوں گے اُن کو ہم ضرور صالحین میں داخل کریں گے۔{۹}</p>
<p>لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو کہتا ہے کہ ہم ایمان لائے اللہ پر۔[13] مگر جب وہ اللہ کے معاملے میں ستایا گیا تو اس نے لوگوں کی ڈالی ہوئی آزمائش کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھ لیا۔[14] اب اگر تیرے رب کی طرف سے فتح ونصرت آگئی تو یہی شخص کہے گا کہ ’’ہم تو تمہارے ساتھ [15]تھے‘‘۔ کیا دنیا والوں کے دلوں کا حال اللہ کو بخوبی معلوم نہیں ہے ؟{۱۰}</p>
<p>اور اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہی ہے کہ ایمان لانے والے کون ہیں اور منافق کون۔[16]{۱۱}</p>
<p>یہ کافر لوگ ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں کہ تم ہمارے طریقے کی پیروی کرو اور تمہاری خطاؤں کو ہم اپنے اُوپر لے لیں گے ۔[17]حالاں کہ اُن کی خطاؤں میں سے کچھ بھی وہ اپنے اوپر لینے والے نہیں ہیں ،[18] وہ قطعاً جھوٹ کہتے ہیں۔{ ۱۲}</p>
<p> ہاں ضرور وہ اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ دوسرے بہت سے بوجھ بھی ۔[19] ا ور قیامت کے روز یقینا اُن سے ان افتراپر دازیوں کی بازپرس ہوگی جو وہ کرتے رہے ہیں۔[20]{ ۱۳}</p>
<p>ہم نے نوح  ؑ کو اس کی قوم کی طرف بھیجا [21]اور وہ پچاس کم ایک ہزار برس اُن کے درمیان رہا[22]۔ آخر کار اُن لوگوں کو طوفان نے آگھیرا اس حال میں کہ وہ ظالم تھے۔ [23]{ ۱۴}</p>
<p>پھر نوح  ؑ کو اور کشتی والوں[24] کو ہم نے بچالیا اور اُسے دنیا والوں کے لیے ایک نشانِ عبرت بناکر رکھ دیا  ۔[25] {۱۵}</p>
<p>اور ابراہیم ؑ کو بھیجا [26]جب کہ اُس نے اپنی قوم سے کہا : ’’ اللہ کی بندگی کرو اور اُس سے ڈرو ۔[27] یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو۔ {۱۶}</p>
<p> تم اللہ کو چھوڑکر جنہیں پُوج رہے ہو وہ تو محض بُت ہیں اور تم ایک جھوٹ گھڑرہے ہو۔ [28]درحقیقت اللہ کے سوا جن کی تم پر ستش کرتے ہو وہ تمہیں کوئی رزق بھی دینے کا اختیار نہیں رکھتے ۔ اللہ سے رزق مانگو اور اُسی کی بندگی کرو اور اس کاشکرادا کرو ، اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو ۔[29]{۱۷}</p>
<p> اور اگر تم جھٹلاتے ہو تو تم سے پہلے بہت سی قومیں جھٹلا چکی ہیں،[30]اور رسُول  ؐ پر صاف صاف پیغام  پہنچادینے کے سوا کوئی ذمّہ داری نہیں ہے‘‘۔{۱۸}</p>
<p>  کیا اِن [31]لوگوں نے کبھی دیکھا ہی نہیں ہے کہ کس طرح اللہ خلق کی ابتدا کرتا ہے ، پھراُس کا اعادہ کرتا ہے ؟ یقینا یہ (اعادہ تو ) اللہ کے لیے آسان تر ہے۔[32]{۱۹}</p>
<p>ان سے کہو کہ زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اُس نے کس طرح خلق کی ابتدا کی ہے ، پھر اللہ بارِ دیگر بھی زندگی بخشے گا۔ یقینا اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔[33]{۲۰}</p>
<p> جسے چاہے سزادے اور جس پر چاہے رحم فرمائے ، اُسی کی طرف تم پھیرے جانے والے ہو۔{۲۱}</p>
<p> تم نہ زمین میں عاجز کرنے والے ہو نہ آسمان میں [34]، اور اللہ سے بچانے والا کوئی سرپرست اور مددگار تمہارے لئے نہیں[35] ہے۔ { ۲۲}</p>
<p>جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا اور اس سے ملاقات کا انکار کیا ہے وہ میری رحمت سے مایوس ہوچکے ہیں [36]اور ان کے لیے درد ناک سزا ہے۔{۲۳}</p>
<p>پھر[37] ابراہیم  ؑ کی قوم کا جواب اِس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہوں نے کہا ’’ قتل کردو اِسے یا جلاڈالو [38]اِس کو۔‘‘ آخر کار اللہ نے اسے آگ سے بچالیا ،[39] یقینا اس میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لانے والے ہیں۔[40]{ ۲۴}</p>
<p>اور اُس نے کہا[41]’’تم نے دنیا کی زندگی میں تو اللہ کو چھوڑ کربتوں کو اپنے درمیان محبت کا ذریعہ بنالیا ہے [42] مگر قیامت کے روز تم ایک دوسرے کا انکار اور ایک دوسرے پر لعنت کروگے[43] اور آگ تمہارا ٹھکا نا ہوگی اور کوئی تمہارا مددگار نہ ہوگا ‘‘ ۔{۲۵}</p>
<p> اُس وقت لوطؑ نے اُس کو مانا[44]۔ اور ابراہیمؑ نے کہا میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں[45] وہ زبردست ہے اور حکیم[46] ہے {۲۶}</p>
<p> اور ہم نے اسے اسحاق ؑ اور یعقوب ؑ (جیسی اولاد) عنایت فرمائی [47]اور اِس کی نسل میں نبوت اور کتاب رکھ دی،[48] اور اسے دنیا  میں اُس کا اجر عطا کیا اور آخرت میں وہ یقینا صالحین میں سے ہوگا۔[49]{۲۷}</p>
<p>اور ہم نے لوطؑ کو بھیجا [50]جب کہ اس نے اپنی قوم سے کہا : ’’ تم تو وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے  دنیا والوں میں سے کسی نے نہیں کیا ہے۔{۲۸}</p>
<p> کیا تمہارا حال یہ ہے کہ مَردوں کے پاس جاتے ہو ،[51] اور رہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں برُے کام کرتے[52] ہو ؟‘‘ پھر کوئی جواب اُس کی قوم کے پاس اِس کے سوانہ تھا کہ انہوں نے کہا ’’لے آ اللہ کا عذاب اگر تو سچّا ہے ‘‘۔{۲۹}</p>
<p> لوطؑ نے کہا ’’ اے میرے رب! ان مفسدوں کے مقابلے میں میری مدد فرما۔‘‘{۳۰}</p>
<p>  اور جب ہمارے فرستادے ابراہیمؑ کے پاس بشارت لے کر پہنچے[53] تو انہوں نے اُس سے کہا ’’ ہم  اس بستی کے لوگوں کو ہلاک کرنے والے ہیں‘‘۔[54] اس کے لوگ سخت ظالم ہوچکے ہیں ‘‘ ۔{۳۱}</p>
<p> ابراہیم ؑ  نے کہا ’’ وہاں تو لُوط ؑ موجود ہے ‘‘۔[55] انہوں نے کہا’’ ہم خوب جانتے ہیں کہ وہاں کو ن کون ہے ۔ ہم اسے، اور اس کے باقی سب گھر والوں کو بچالیں گے،اس کی بیوی کے سوا‘‘۔ اس کی بیوی پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی۔[56]{۳۲}</p>
<p>پھر جب ہمارے فرستادے لُوط  ؑ کے پاس پہنچے تو اُن کی آمد پر وہ سخت پریشان اور دل تنگ[57] ہوا ۔ اُنہوں نے کہا ’’ نہ ڈرو اور نہ رنج کرو۔[58] ہم تمہیں اور تمہارے گھروالوں کو بچالیں گے، سوائے تمہاری بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔ {۳۳}</p>
<p>ہم اِس بستی کے لوگوں پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں اُس فسق کی بدولت جو یہ کرتے رہے ہیں ‘‘۔{۳۴}</p>
<p> اور ہم نے اُس بستی کی ایک کھلی نشانی چھوڑ دی ہے۔[59]  اُ ن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔[60]{۳۵}</p>
<p>اور مَدین کی طرف ہم نے اُن کے بھائی شعیب ؑ کو بھیجا۔[61] اُس نے کہا ’’ ا ے میری قوم کے لوگو !اللہ کی بندگی کرو اور روز ِآخر کے امیدوار رہو[62] اور زمین میں مفسد بن کر زیادتیاں نہ کرتے پھرو۔ ‘‘ {۳۶}</p>
<p>مگر انہوں نے اسے جھٹلا دیا۔[63] آخر کار ایک سخت زلزلے نے انہیں آلیا اور وہ اپنے گھروں میں [64]پڑے کے پڑے رہ گئے۔{۳۷}</p>
<p>اور عاد و ثمود کو ہم نے ہلاک کیا ، تم وہ مقامات دیکھ چکے ہو جہاں وہ رہتے تھے۔[65] اُن کے اعمال کو شیطان نے اُن کے لیے خوشنما بنادیا اور انہیں راہِ راست سے برگشتہ کردیا حالانکہ وہ ہوش گوش رکھتے تھے۔[66]{۳۸}</p>
<p>اور قارون و فرعون و ہامان کو ہم نے ہلاک کیا۔ موسیٰ  ؑ اُن کے پاس بیّنات لے کر آیا ، مگر انہوں نے زمین میں اپنی بڑائی کا زعم کیا ، حالانکہ وہ سبقت لے جانے والے نہ تھے ۔[67]{۳۹}</p>
<p>آخر کار ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ میں پکڑا ۔ پھر ان میں سے کسی پر ہم نے پتھرا ؤ کرنے والی ہوا بھیجی ،[68]اور کسی کو ایک زبردست دھماکے نے آلیا ، [69]اور کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا ،[70] اور کسی کو غرق کردیا ۔[71] اللہ اُن پر ظلم کرنے والا نہ تھا ، مگر وہ خودہی اپنے اوپر ظلم کررہے تھے۔[72]{۴۰}</p>
<p> جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کردُوسرے سرپرست (اولیاء) بنالئے ہیں ان کی مثال مکڑی جیسی ہے جو اپنا ایک گھر بناتی ہے اور سب گھروں سے زیادہ کمزور گھر مکڑی کا گھر ہی ہوتا ہے۔ کاش! یہ لوگ علم رکھتے۔[73] {۴۱}</p>
<p> یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جس چیز کو بھی پُکارتے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے اور وہی زبردست اور حکیم ہے۔[74] {۴۲}</p>
<p>یہ مثالیں ہم لوگوں کی فہمائش کے لیے دیتے ہیں ، مگر اِن کو وہی لوگ سمجھتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں۔ {۴۳}</p>
<p>اللہ نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے ،[75] درحقیقت اِس میں ایک نشانی ہے اہل ایمان کے لیے۔[76] {۴۴}</p>
<p> ( اے نبی  ؐ! ) تلاوت کرو اس کتاب کی جو تمہاری طرف وحی کے ذریعہ سے بھیجی گئی ہے اور نماز قائم کرو ،[77] یقینا نماز فحش اور بُرے کاموں سے روکتی [78]ہے اور اللہ کا ذکر اِس سے بھی زیادہ بڑی چیز ہے۔[79]  اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔{۴۵}</p>
<p>اور اہل کتاب [80]سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقہ سے۔ [81]سوائے اُن لوگوں کے جواُ ن میں سے ظالم ہوں [82]اور اُن سے کہو کہ ’’ ہم ایمان لائے ہیں اُس چیز پر بھی جو ہماری طرف بھیجی گئی ہے اور اُس چیز پر بھی جو تمہاری طرف بھیجی گئی تھی ، ہمارا  اِلٰہ اور تمہارا اِلٰہ ایک ہی ہے اور ہم اُسی کے مسلم (فرمانبردار ) ہیں ‘‘۔[83]{۴۶}</p>
<p> (اے نبی  ؐ!) ہم نے اسی طرح تمہاری طرف کتاب نازل کی ہے، [84] اس لیے وہ لوگ جن کو ہم نے پہلے کتاب دی تھی وہ اِس پر ایمان لاتے ہیں،[85] اور اِن لوگوں میں سے بھی بہت سے اس پر ایمان لارہے ہیں،[86]اور ہماری آیات کا انکار صرف کا فرہی کرتے ہیں [87]{۴۷}</p>
<p> (اے نبی  ؐ!) تم اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے ، اگر ایسا ہوتا توباطل پرست لوگ شک میں پڑسکتے تھے۔[88]{۴۸}</p>
<p>دراصل یہ روشن نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے دلوں میں جنہیں علم بخشا گیا ہے،[89] اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتے مگر وہ جو ظالم ہیں۔{۴۹}</p>
<p> یہ لوگ کہتے ہیں کہ ’’کیو ں نہ اُتاری گئیں اِس شخص پر نشانیاں[90] اس کے رَبّ کی طرف سے ‘‘؟ کہو ،’’ نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں اور میں صرف خبردار کرنے والا ہوں کھول کھول کر ‘‘۔{۵۰}</p>
<p> اور کیا ان لوگوں کے لیے یہ ( نشانی ) کافی نہیں ہے کہ ہم نے تم پر کتاب نازل کی جو اِنہیں پڑھ کرسُنائی جاتی ہے [91]؟ درحقیقت اِس میں رحمت ہے اور نصیحت اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔[92]{۵۱}</p>
<p>  ( اے نبی  ؐ! ) کہو کہ ’’ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہی کے لیے کافی ہے ۔ وہ آسمانوں اور زمین میں سب کچھ جانتا ہے ۔ جو لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ سے کفر کرتے ہیں وہی خسارے میں رہنے والے ہیں ‘‘۔{ ۵۲}</p>
<p>  یہ لوگ تم سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔[93] اگر ایک وقت مقرر نہ کردیا گیا ہو تا تو ان پر عذاب آچکا ہوتا ۔اور یقینا ( اپنے وقت پر ) وہ آکر رہے گا اچانک ، اِس حال میں کہ ا نہیں خبر بھی نہ ہوگی۔ {۵۳}</p>
<p> یہ تم سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ حالانکہ جہنم اِن کافروں کو گھیرے میں لے چکی ہے۔{۵۴}</p>
<p>(اور انہیں پتہ چلے گا) اُس روز جب کہ عذاب انہیں اُوپر سے بھی ڈھانک لے گا اور پا ؤں کے نیچے سے بھی اور (اللہ) کہے گا کہ اب چکھو مزہ ان کرتُوتوں کا جو تم کرتے تھے۔{۵۵}</p>
<p>  اے میرے بندو !جو ایمان لائے ہو ، میری زمین وسیع ہے ، پس تم میری ہی بندگی بجالا ؤ۔[94] {۵۶}</p>
<p> ہر متنفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے ، پھر تم سب ہماری طرف ہی پلٹا کر لائے جا ؤ گے[95]{۵۷}</p>
<p> جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں۔ اُن کو ہم جنّت کی بلند وبالا عمارتوں میں رکھیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ، کیا ہی عمدہ اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے۔ [96]{۵۸}</p>
<p> اُن لوگوں کے لیے جنہوں نے صبر کیا ہے[97] اور جو اپنے رَبّ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ [98]{۵۹}</p>
<p> کتنے ہی جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے ، اللہ اُن کو رزق دیتا ہے اور تمہارا رازق بھی وہی ہے ، وہ سب کچھ سُنتا اور جانتا ہے۔ [99]{۶۰}</p>
<p> اگر تم [100] اِن لوگوں سے پوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے اور چاند اور سُورج کو کس نے مسخر کررکھا ہے تو ضرور کہیں گے کہ اللہ نے ، پھر یہ کدھر سے دھوکا کھارہے ہیں ؟{۶۱}</p>
<p> اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں میں سے جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کرتا ہے ، یقینا اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے ۔{۶۲}</p>
<p> اور اگر تم اِن سے پوچھو کس نے آسمان سے پانی برسایا اور اس کے ذریعہ سے مُردہ پڑی ہوئی زمین کو جلا اُٹھایا تو وہ ضرور کہیں گے اللہ نے ۔کہو ، الحمد للہ[101] ، مگر اِن میں سے اکثر لوگ سمجھتے نہیں ہیں۔{۶۳}</p>
<p>اور یہ دنیا کی زندگی کچھ نہیں ہے مگر ایک کھیل اور دل کا بہلاوا[102]۔ اصل زندگی کا گھر تودارِ آخرت ہے۔ کاش یہ لوگ جانتے۔[103]{۶۴}</p>
<p>جب یہ لوگ کشتی پر سوار ہوتے ہیں تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کرکے اُس سے دُعا مانگتے ہیں ، پھر جب وہ انہیں بچاکر خشکی پر لے آتا ہے تو یکایک یہ شرک کرنے لگتے ہیں{۶۵}</p>
<p> تاکہ اللہ کی دی ہوئی نجات پر اُس کا کفر انِ نعمت کریں اور ( حیات دنیا کے ) مزے لوٹیں ۔[104] اچھا عنقریب اِنہیں معلوم ہوجائے گا۔ {۶۶}</p>
<p>کیا یہ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم نے ایک پُرامن حرم بنادیا ہے حالاں کہ ان کے گردوپیش لوگ اُچک لئے جاتے ہیں؟[105]  کیا پھر بھی یہ لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا کفران کرتے ہیں ؟{۶۷}</p>
<p> اُس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگاجو اللہ پر جھوٹ باندھے یا حق کو جھٹلائے جب کہ وہ اس کے سامنے آچکا ہو ،[106] کیا ایسے کافروں کا ٹھکانا جہنم ہی نہیں ہے ؟ {۶۸}</p>
<p>جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے،[107] اور یقینا اللہ نیکو کاروں ہی کے ساتھ ہے۔{۶۹}</p>

</div><div id="30"><p>سورۃالروم </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔</p>
<p>ا لٓ مّٓ۔{۱}</p>
<p> رومی مغلوب ہوگئے ہیں{ ۲}</p>
<p> قریب کی سرزمین میں اور اپنی اِس مغلوبیت کے بعد (عنقریب )وہ غالب ہوجائیں گے۔ [1]{۳}</p>
<p>چند سال کے اندر۔اللہ ہی کا اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی۔[2]اور وہ دن وہ ہوگا جب کہ مسلمان خوشیاں منائیں گے۔  [3]{۴}</p>
<p> اللہ کی بخشی ہوئی فتح پر۔ اللہ نُصرت عطا فرماتا ہے جسے چاہتا ہے ، اور وہ زبردست اور رحیم ہے۔{۵}</p>
<p>یہ وعدہ اللہ نے کیا ہے ، اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ،مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔{۶}</p>
<p>لوگ دنیا کی زندگی کا بس ظاہری پہلو جانتے ہیں اور آخرت سے وہ خودہی غافل ہیں۔[4]{۷}</p>
<p>  کیا انہوں نے کبھی اپنے آپ میں غورو فکر نہیں کیا ؟ [5]اللہ نے زمین اور آسمانوں کو اور اُن ساری چیزوں کو جو اُن کے درمیان ہیں برحق اور ایک مدتِ مقرر ہی کے لیے پیدا کیا ہے ۔[6] مگر بہت سے لوگ اپنے رَبّ کی ملاقات کے منکر ہیں[7] {۸}</p>
<p> اور کیا یہ لوگ کبھی زمین میں چلے پھر ے نہیں ہیں کہ انہیں اُن لوگوں کا انجام نظر آتا جو ان سے پہلے گزرچکے ہیں ؟[8] وہ ان سے زیادہ طاقت رکھتے تھے، اُنہوں نے زمین کو خوب اُدھیڑا تھا[9] اور اُسے اتنا آباد کیا تھا جتنا اِنہوں نے نہیں کیا ہے۔[10] اُن کے پاس اُن کے رسُو ل روشن نشانیاں لے کر آئے۔[11] پھر اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا ،مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کررہے تھے۔[12]{۹}</p>
<p>آخر کار جن لوگوں نے بُرائیاں کی تھیں ان کا انجام بہت بُرا ہوا،اس لیے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا تھا اور وہ اُن کا مذاق اُڑاتے تھے۔ {۱۰}</p>
<p>  اللہ ہی خلق کی ابتدا کرتا ہے پھر وہی اس کا اعادہ کرے[13] گا ، پھر اُسی کی طرف تم پلٹائے جا ؤ گے۔ {۱۱}</p>
<p> اور جب وہ ساعت[14] برپاہوگی اُس دن مُجرم ہَک دَک رہ جائیں گے۔[15]  { ۱۲}</p>
<p> ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں سے کوئی ان کا سفارشی نہ ہوگا [16]اور وہ اپنے شریکوں کے منکرہوجائیں[17] گے۔  { ۱۳}</p>
<p>جس روز وہ ساعت برپا ہوگی ، اس دن (سب انسان) الگ گروہوں میں بٹ جائیں [18]گے۔{ ۱۴}</p>
<p>جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں وہ ایک باغ میں[19] شاداں وفرحاں رکھے جائیں گے ۔[20]{۱۵}</p>
<p>اور جنہوں نے کفر کیا ہے اور ہماری آیات کو اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا ہے[21] وہ عذاب میں حاضر رکھے جائیں گے۔{۱۶}</p>
<p> پس[22] تسبیح کرو اللہ کی جب کہ[23] تم شام کرتے ہو اور جب صبح کرتے ہو۔{۱۷}</p>
<p> آسمانوں اور زمین میں اُسی کے لیے حمد ہے۔ اور (تسبیح کرو اس کی) تیسرے پہر اور جبکہ تم پرظہر کا وقت آتا ہے۔  [24]{۱۸}</p>
<p> وہ زندہ کو مُردے میں سے نکالتاہے اور مُردے کو زندہ  میں سے نکال لاتا ہے اور زمین کو اُس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے۔ [25]اسی طرح تم لوگ بھی (حالت موت سے ) نکال لئے جا ؤ گے۔{۱۹}</p>
<p>اُس[26] کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اُس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ۔ پھر یکایک تم بشرہو کہ ( زمین میں) پھیلتے چلے جارہے ہو۔[27]{۲۰}</p>
<p> اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اُس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں[28] تا کہ تم اُن کے پاس سکون حاصل کرو[29] اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کردی۔[30] یقینا اِس میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو غوروفکر کرتے ہیں۔{۲۱}</p>
<p> اور اُس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش [31]، اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ہے ۔ [32]یقینا اس میں بہت سی نشانیاں ہیں دانش مند لوگوں کے لیے{۲۲}</p>
<p>اور اُس کی نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن کو سونا اور تمہارا اُس کے فضل کو تلاش کرنا ہے۔[33] یقینا اس میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو(غور سے) سُنتے ہیں۔ {۲۳}</p>
<p>اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ تمہیں بجلی کی چمک دکھاتا ہے خوف کے ساتھ بھی اور طمع کے ساتھ بھی۔ [34]اور آسمان سے پانی برساتا ہے ، پھر اس کے ذریعہ سے زمین کواُس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے۔[35] یقینا اس میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔{۲۴}</p>
<p>اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں۔[36] پھر جوں ہی کہ اُس نے تمہیں زمین سے پکارا ، بس ایک ہی پکار میں اچانک تم نکل آ ؤ گے۔[37]{۲۵}</p>
<p> آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں اُس کے بندے ہیں ۔سب کے سب اسی کے تابع فرمان ہیں۔{۲۶}</p>
<p> وہی ہے جو تخلیق کی ابتدا کرتا ہے، پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا اور یہ اُس کے لیے آسان تر [38]ہے۔ آسمانوں اور زمین میں اس کی صفت سب سے برترہے اور وہ زبردست اور حکیم ہے۔{۲۷}</p>
<p>  وہ تمہیں [39]خود تمہاری اپنی ہی ذات سے ایک مثال دیتا ہے ۔ کیا تمہارے اُن غلاموں میںسے جو تمہاری ملکیت میں ہیں کچھ غلام ایسے بھی ہیں جو ہمارے دیے ہوئے مال و دولت میں تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہوں اور تم ان سے اُس طرح ڈرتے ہو جس طرح آپس میں اپنے ہمسروں سے ڈرتے ہو۔[40] اس طرح ہم آیات کھول کرپیش کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔{۲۸}</p>
<p> مگر یہ ظالم بے سمجھے بُوجھے اپنے تخیلات کے پیچھے چل پڑے ہیں۔ اب کون اُس شخص کو راستہ دکھا سکتا ہے جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو ؟[41] ایسے لوگوں کا تو کوئی مددرگار نہیں ہوسکتا ۔{۲۹}</p>
<p>پس[42] ( اے نبی ؐ  ااور نبی  ؐ کے پیروؤ!) یک سُوہو کر اپنا رُخ اِس[43] دین کی سمت میں جمادو،[44]قائم ہوجا ؤ اُس فطرت پر جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے[45] ،اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدلی نہیں جاسکتی، [46] یہی بالکل راست اور درست دین ہے ، [47]مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ {۳۰}</p>
<p> ( قائم ہوجا ؤ اس بات پر ) اللہ کی طرف رُجوع کرتے [48]ہوئے اور ڈرو[49] اس سے ، اور نماز قائم کرو ،[50] اور نہ ہوجا ؤ اُن مشرکین میں سے{۳۱}</p>
<p> جنہوں نے اپنا اپنا دین الگ بنالیا ہے اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں ، ہر ایک گروہ کے پاس جو کچھ ہے اُسی میں وہ مگن ہے۔[51]{۳۲}</p>
<p>لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رَبّ کی طرف رجوع کرکے اسے پکارتے ہیں،[52] پھر جب وہ کچھ اپنی رحمت کا ذائقہ انہیں چکھا دیتا ہے تو یکایک ان میں سے کچھ لوگ شرک کرنے لگتے ہیں[53]{۳۳}</p>
<p>تا کہ ہمارے کئے ہوئے احسان کی نا شکری کریں۔ اچھا ، مزے کرلو ، عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا۔{۳۴}</p>
<p> کیا ہم نے کوئی سند اور دلیل ان پر نازل کی ہے جو شہادت دیتی ہو اُس شرک کی صداقت پر جو یہ کررہے ہیں ؟[54]{۳۵}</p>
<p>جب ہم لوگوں کو رحمت کا ذائقہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر پُھول جاتے ہیں اور جب ان کے اپنے کئے کرتُوتوں سے ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یکا یک وہ مایوس ہونے لگتے ہیں۔[55]{۳۶}</p>
<p> کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ اللہ ہی رزق کشادہ کرتا ہے جس کا چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے (جس کا چاہتا ہے ) ؟ یقینا اِس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔ [56]{۳۷}</p>
<p>پس (اے مومن ) رشتہ دار کو اس کا حق دے اور مسکین ومسافر کو ( اُس کا حق )۔ [57] یہ طریقہ بہتر ہے اُن لوگوں کے لیے جو اللہ کی خوشنودی چاہتے ہوں، اور وہی فلاح پانے والے ہیں[58]{۳۸}</p>
<p>جو سُود تم دیتے ہو تاکہ لوگوں کے اموال میں شامل ہوکر وہ بڑھ جائے ، اللہ کے نزدیک وہ نہیں بڑھتا [59] اور جو زکوٰۃ تم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے ارادے سے دیتے ہو ، اسی کے دینے والے درحقیقت اپنے مال بڑھاتے ہیں۔[60]{۳۹}</p>
<p>اللہ ہی [61]ہے جس نے تم کو پیدا کیا، پھر تمہیں رزق دیا ،[62] پھر وہ تمہیں موت دیتا ہے ، وہ  پھرتمہیں زندہ کرے گا۔ کیا تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو اِن میں سے کوئی کام بھی کرتا ہو؟[63] پاک ہے وہ اور بہت بالاوبرتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ {۴۰}</p>
<p>  خشکی اور تری میں فساد برپاہوگیا ہے لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے  تاکہ مزاچکھائے اُن کو اُن کے بعض اعمال کا ، شاید کہ وہ  باز آئیں۔ [64]{۴۱}</p>
<p> ( اے نبی  ؐ!) ان سے کہو کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو پہلے گزرے ہوئے لوگوں کا کیا انجام ہوچکا ہے، ان میں سے اکثر مشرک ہی تھے۔[65]{ ۴۲}</p>
<p>پس ( اے نبی  ؐ!) اپنا رُخ مضبوطی کے ساتھ جمادو اِس دین راست کی سمت میں قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس کے ٹل جانے کی کوئی صورت اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔ ا[66]ُس دن لوگ پَھٹ کر ایک دُوسرے سے الگ ہوجائیں گے۔{ ۴۳}</p>
<p>جس نے کفر کیا ہے اس کے کفر کا وبال اسی پر ہے ،[67] اور جن لوگوں نے نیک عمل کیا ہے۔وہ اپنے ہی لئے ( فلاح کا راستہ ) صاف کررہے ہیں {۴۴}</p>
<p> تاکہ اللہ ایمان لانے والوں اور عمل صالح کرنے والوں کو اپنے فضل سے جزادے۔ یقیناوہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔ {۴۵}</p>
<p>اُس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے بشارت دینے کے لیے[68] اور تمہیں اپنی رحمت سے بہرہ مند کرنیکے لیے اور اس غرض کے لیے کہ کشتیاں اس کے حکم سے چلیں[69] اور تم اس کا فضل تلاش کرو [70]اور اس کے شکر گزار بنو۔{۴۶}</p>
<p> اور ہم نے تم سے پہلے رسُولوں کو ان کی قوم کی طرف بھیجا اور وہ ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر آئے۔[71] پھر جنہوں نے جرم کیا[72] اُن سے ہم نے انتقام لیا اور ہم پر یہ حق تھا کہ ہم مومنوں کی مدد کریں۔{۴۷}</p>
<p>اللہ ہی ہے جو ہوا ؤں کو بھیجتا ہے اور وہ بادل اُٹھاتی ہیں ، پھر وہ ان بادلوں کو آسمان میں پھیلاتا ہے جس طرح چاہتا ہے اور انہیں ٹکڑیوں میں تقسیم کرتا ہے ، پھر تُو دیکھتا ہے کہ بارش کے قطرے بادل میں سے ٹپکے چلے آتے ہیں ۔ یہ بارش جب وہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے برساتا ہے تویکایک وہ خوش و خرم ہوجاتے ہیں۔ {۴۸}</p>
<p>حالانکہ اس کے نزول سے پہلے وہ مایوس ہورہے تھے۔{۴۹}</p>
<p> دیکھو اللہ کی رحمت کے اثرات کہ مُردہ پڑی ہوئی زمین کو وہ کس طرح جِلااُٹھاتا ہے،[73] یقینا وہ مُردوں کو زندگی بخشنے والا ہے اور وہ ہر چیزپر قادر ہے۔{۵۰}</p>
<p>اور اگر ہم ایک ایسی ہوا بھیج دیں جس کے اثر سے وہ اپنی کھیتی کو زردپائیں[74] تو وہ کفر کرتے رہ جاتے ہیں ۔[75]{۵۱}</p>
<p> (اے نبی  ؐ!) تم مُردوں کو نہیں سُناسکتے۔[76]نہ اُن بہروں کو اپنی پکار سُناسکتے ہوجو پیٹھ پھیرے چلے جارہے ہوں،[77]{ ۵۲}</p>
<p> اور نہ تم اندھوں کو اُن کی گمراہی سے نکال کررا ہِ راست دکھاسکتے ہو ۔[78]تم تو صرف اُنہی کو سُنا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے اور سر تسلیم خم کردیتے ہیں۔{۵۳}</p>
<p>اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتدا کی ، پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی ،  پھر اس قوت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کردیا ۔ وہ جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔[79] اور وہ سب کچھ جاننے والا ،ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔{ ۵۴}</p>
<p>اور جب وہ ساعت برپا [80]ہوگی تو مجرم قسمیں کھا کھا کرکہیں گے کہ ہم ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں ٹھہرے ہیں ،[81] اِسی طرح وہ دنیا کی زندگی میں دھوکا کھایا کرتے تھے۔ [82]{۵۵}</p>
<p> مگر جو علم اور ایمان سے بہرہ مند کئے گئے تھے وہ کہیں گے کہ اللہ کے نوشتے میں تو تم روز ِحشر تک پڑے رہے ہو ، سو یہ وہی روزِ حشر ہے ، لیکن تم جانتے نہ تھے۔{۵۶}</p>
<p> پس وہ دن ہوگا جس میں ظالموں کو ان کی معذرت کوئی نفع نہ دے گی اور نہ ان سے معافی مانگنے کے لیے کہا جائے گا۔  [83]{۵۷}</p>
<p>ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح  سے سمجھایا ہے۔ تم خواہ کوئی نشانی لے آؤ جن لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے وہ یہی کہیں گے کہ تم باطل پرہو۔{۵۸}</p>
<p>اس طرح ٹھپّہ لگادیتا ہے اللہ اُن لوگوں کے دلوں پر جوبے علم ہیں۔{۵۹}</p>
<p>پس (اے نبی  ؐ!) صبر کرو ، یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے [84]اور ہرگز ہلکانہ پائیں تم کو وہ لوگ جو یقین نہیں لاتے ۔[85]  {۶۰}</p>

</div><div id="31"><p>سورۃ  لقمٰن </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>الٓمّٓ ۔ {۱}</p>
<p> یہ کتابِ حکیم کی آیات ہیں[1]{ ۲}</p>
<p>ہدایت اور رحمت نیکوکارلوگوں کے لیے[2] {۳}</p>
<p>جو نماز قائم کرتے ہیں ، زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔[3] { ۴}</p>
<p>یہی لوگ اپنے رَبّ کی طرف سے راہِ راست پر ہیں اوریہی فلاح پانے والے ہیں۔[4]{۵}</p>
<p>اور انسانوں ہی میں سے کوئی ایسا بھی ہے[5] جو کلام دل فریب[6] خرید کرلاتا ہے  تا کہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے علم کے بغیر[7] بھٹکادے اور اس راستے کی دعوت کو مذاق میں اڑادے ۔ [8]ایسے لوگوں کے لیے سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔[9]{۶}</p>
<p> اسے جب ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو وہ بڑے گھمنڈ کے ساتھ اِس طرح رُخ پھیر لیتا ہے گویا کہ اس نے انہیں سناہی نہیں ، گویا کہ اس کے کان بہرے ہیں۔ اچھا مژدہ  سُنادو اسے ایک درد ناک عذاب کا۔{۷}</p>
<p> البتہ جو لوگ ایمان لے آئیں اورنیک عمل کریں ، اُن کے لیے نعمت بھری جنتیں ہیں۔ [10]{۸}</p>
<p>جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ یہ اللہ کا پختہ وعدہ ہے اور وہ زبردست اور حکیم ہے۔ [11]{۹}</p>
<p>اس [12]نے آسمانوں کو پیدا کیا بغیر ستونوں کے جو تم کو نظر آئیں ۔ [13]اس نے زمین میں پہاڑ جمادیے تاکہ وہ تمہیں لے کر ڈھلک نہ جائے۔[14] اس نے ہر طرح کے جانور زمین میں پھیلادیے اور آسمان سے پانی برسایا  اور زمین میں قسم قسم کی عمدہ چیزیں اُگادیں۔{۱۰}</p>
<p> یہ تو ہے اللہ کی تخلیق ، اب ذرا مجھے دکھا ؤ، ان دُوسروں نے کیا پیدا کیا ہے؟[15] اصل بات یہ ہے کہ یہ ظالم لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔[16]{۱۱}</p>
<p>ہم [17]نے لقمان کو حکمت عطا کی تھی کہ اللہ کا شکر گزار ہو۔ [18]جو کوئی شکر کرے اُس کا شکر اُس کے اپنے ہی لئے مفید ہے۔ اور جو کفر کرے تو حقیقت میں اللہ بے نیاز اور آپ سے آپ محمود ہے[19]{ ۱۲}</p>
<p> یادکرو جب لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت کررہاتھا تو اس نے کہا ’’ بیٹا ! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا،[20] حق یہ ہے کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے‘‘ ۔ [21]{۱۳}</p>
<p>اور[22] یہ حقیقت ہے کہ ہم نے انسان کو اپنے والدین کا حق پہچاننے کی خود تاکید کی ہے۔ اُس کی ماں نے ضعف پر ضعف اُٹھاکر اُسے اپنے پیٹ میں رکھا اور دوسال اُس کا دُودھ چُھوٹنے میں لگے۔ [23] (اسی لئے ہم نے اُس کو نصیحت کی کہ) میرا شکر کر اور اپنے والدین کا شکر بجالا، میری ہی طرف تجھے پلٹنا ہے ۔{ ۱۴}</p>
<p>لیکن اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ میرے ساتھ توکسی ایسے کو شریک کرے جسے تُونہیں جانتا  [24]تو اُن کی بات ہر گز نہ مان ۔ دنیا میں ان کے ساتھ نیک برتا ؤ کرتا رہ مگر پیروی اُس شخص کے راستے کی کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے۔ پھر تم سب کو پلٹنا میری ہی طرف ہے ،[25] اُس وقت میں تمہیں بتادوں گا کہ تم کیسے عمل کرتے رہے ہو۔[26] {۱۵}</p>
<p>( اور لقما ن[27] نے کہا تھا کہ ) ’’ بیٹا !کوئی چیزرائی کے دانہ برابر بھی ہو اور کسی چٹان میں یا آسمانوں یا زمین میں کہیں چھپی ہوئی ہو، اللہ اُسے نکال لائے گا۔[28] وہ باریک بیں اور باخبر ہے۔ {۱۶}</p>
<p> بیٹا ! نماز قائم کر ،نیکی کا حکم دے ، بدی سے منع کر اور جو مصیبت بھی پڑے اس پر صبرکر[29] یہ وہ باتیں ہیں جن کی بڑی تاکیدکی گئی ہے۔[30]  {۱۷}</p>
<p> اور لوگوں سے منھ پھیر کر بات نہ کر [31]، نہ زمین میں اکڑ کر چل ، اللہ کسی خود پسند اور فخر جتانے والے شخص کو پسند نہیں کرتا۔[32] {۱۸}</p>
<p>اپنی چال میں اعتدال اختیارکر [33]، اور اپنی آواز ذراپست رکھ ، سب آوازوں سے زیادہ بُری آواز گدھوں کی آواز ہوتی ہے ‘‘۔[34]{۱۹}</p>
<p>کیا تم لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ نے زمین اور آسمانوں کی ساری چیزیں تمہارے لئے مسخر کر رکھی ہیں [35]اور اپنی کھلی اور چھپی نعمتیں [36]تم پر تمام کردی ہیں ؟ اِس پر حال یہ ہے کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ ہیں جو اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں[37] بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی عِلم ہو یاہدایت ، یا کوئی روشنی دکھانے والی کتاب ۔[38]{۲۰}</p>
<p>اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ پیروی کرو اُس چیز کی جو اللہ نے نازل کی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو اُس چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کوپایا ہے۔ کیا یہ اُنہی کی پیروی کریں گے خواہ شیطان اُن کو بھڑکتی ہوئی آگ ہی کی طرف کیوں نہ بلاتا رہا ہو؟[39]{۲۱}</p>
<p>جو شخص اپنے آپ کو اللہ کے حوالہ کردے[40] اور عملاً وہ نیک ہو[41] ، اس نے فی الواقع ایک بھروسے کے قابل سہارا تھام لیا[42] ،اور سارے معاملات کا آخری فیصلہ اللہ ہی کے ہاتھ ہے۔{۲۲}</p>
<p>اب جو کفر کرتا ہے اُس کا کفر تمہیں غم میں مبتلا نہ کرے ،[43] اُنہیں پلٹ کر آنا تو ہماری ہی طرف ہے ، پھر ہم انہیں بتادیں گے کہ وہ کیا کچھ کرکے آئے ہیں۔ یقینا اللہ سینوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے۔{۲۳}</p>
<p>ہم تھوڑی مدّت انہیں دنیا میں مزے کرنے کا موقع دے رہے ہیں ، پھر ان کو بے بس کرکے ایک سخت عذاب کی طرف کھینچ لے جائیں گے۔{۲۴}</p>
<p>اگر تم اِن سے پوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے  تو یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے ۔ کہو اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ۔[44]  مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔[45]{۲۵}</p>
<p> آسمانوں اور زمین میں جوکچھ ہے اللہ کا ہے۔ [46]بے شک اللہ بے نیاز اور آپ سے آپ محمود ہے[47]{۲۶}</p>
<p>زمین میں جتنے درخت ہیں اگر وہ سب کے سب قلم بن جائیں اور سمندر ( دوات بن جائے ) جسے سات مزید سمندر روشنائی مہیا کریں۔تب بھی اللہ کی باتیں ( لکھنے سے ) ختم نہ ہوں گی۔[48]بے شک اللہ زبردست اور حکیم ہے۔ {۲۷}</p>
<p> تم سارے انسانوں کو پیدا کرنا اور پھر دوبارہ جِلااُٹھا نا تو ( اُس کے لیے ) بس ایسا ہے جیسے ایک متنفس کو (پیدا کرنا اور جلااُٹھانا )۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ سب کچھ سُننے اور دیکھنے والا ہے۔[49]{۲۸}</p>
<p>کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ رات کو دن میں پروتا ہوا لے آتا ہے اور دن کو رات میں ؟ اس نے سُورج اور چاند کو مسخر کررکھا ہے ، [50]سب ایک وقتِ مقرر تک چلے جارہے ہیں، [51]اور ( کیا تم نہیں جانتے ) کہ جو کچھ بھی تم کرتے ہو اللہ اس سے  باخبرہے ؟ {۲۹}</p>
<p>یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے [52]اوراُسے چھوڑ کر جن دُوسری چیزوں کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ سب باطل ہیں ،[53] اور ( اِس وجہ سے کہ ) اللہ ہی بزرگ وبرتر ہے۔[54] {۳۰}</p>
<p>کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ کشتی سمندر میں اللہ کے فضل سے چلتی ہے تا کہ وہ تمہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائے ؟ [55]درحقیقت اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو۔[56]{۳۱}</p>
<p> اور جب (سمندر میں ) ان لوگوں پر ایک موج سائبانوں کی طرح چھاجاتی ہے تو یہ اللہ کو پکارتے ہیں اپنے دین کو بالکل اُسی کے لیے خالص کرکے ۔ پھر جب وہ بچاکر انہیں خشکی تک پہنچادیتا ہے تو ان میں سے کوئی اقتصاد برتتا ہے[57]  اور ہماری نشانیوں کا انکار نہیں کرتا مگر ہر وہ شخص جو غدّار اور ناشکراہے۔[58]{ ۳۲}</p>
<p>لوگو! بچو اپنے رَبّ کے غضب سے اور ڈرو اُس دن سے جب کہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے بدلہ نہ دے گا اور نہ کوئی بیٹا ہی اپنے باپ کی طرف سے کچھ بدلہ دینے والا ہوگا۔ [59]فی الواقع اللہ کا وعدہ سچّاہے۔ [60]پس یہ دُنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے [61]اور نہ دھوکہ باز تم کو اللہ کے معاملے میں دھوکا دینے پائے ۔[62] {۳۳}</p>
<p>اُس گھڑی کا علم اللہ ہی کے پاس ہے ، وہی بارش برساتا ہے ، وہی جانتا ہے کہ ما ؤں کے پیٹوں میں کیا پرورش پارہا ہے ، کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرنے والاہے ، اور نہ کسی شخص کو یہ خبر ہے کہ کِس سرزمین میں اس کو موت آنی ہے ، اللہ ہی سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔[63]{۳۴}</p>

</div><div id="32"><p>سورۃ  السجدۃ </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہامہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔</p>
<p>الٓمّٓ۔{۱}</p>
<p> اس کتاب کی تنزیل بلاشبہ ربُّ العالمین کی طرف سے ہے۔[1]{ ۲}</p>
<p> کیا[2] یہ لوگ کہتے ہیں کہ اِس شخص نے اِسے خود گھڑلیا ہے ؟ [3]نہیں، بلکہ یہ حق ہے تیرے رَبّ کی طرف سے [4]تا کہ تو متنبہ کرے ایک ایسی قوم کو جس کے پاس تجھ سے پہلے کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا ، شاید کہ وہ ہدایت پا جائیں ۔[5]{ ۳}</p>
<p>وہ [6]اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اوراُن ساری چیزوں کو جوان کے درمیان ہیں چھ(۶) دنوں میں پیدا کیا اور اس کے بعد عرش پر جلوہ فرماہوا،[7] اس کے سوانہ تمہارا کوئی حامی ومددگارہے اور نہ کوئی اُس کے آگے سفارش کرنے والا، پھر کیا تم ہوش میں نہ آ ؤ گے ؟[8]{۴}</p>
<p>وہ آسمان سے زمین تک دنیا کے معاملات کی تدبیر کرتا ہے اور اس تدبیر کی روداداُوپر اُس کے حضور جاتی ہے ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار سے ایک ہزار سال ہے۔  [9]{۵}</p>
<p> وہی ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ،[10] زبردست [11]اوررحیم ۔ [12]{۶}</p>
<p> جو چیز بھی اُس نے بنائی خوب ہی بنائی۔[13] اُس نے انسان کی تخلیق کی ابتدا گار ے سے کی {۷}</p>
<p>پھر اُس کی نسل ایک ایسے سَت سے چلائی جو حقیر پانی کی طرح کا ہے [14]{۸}</p>
<p>پھر اُس کو نِک سُک سے درست کیا[15] اور اس کے اندر اپنی رُوح پُھونک دی ،[16] اور تم کو کان دیے ،[17] آنکھیں دیں اور دل دیے۔ تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو۔[18]{۹}</p>
<p> اور [19]یہ لوگ کہتے ہیں:’’جب ہم مٹی میں رَل مِل چکے ہوں گے تو کیا ہم پھرنئے سرے سے پیدا کئے جائیں گے ‘‘؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ اپنے رَبّ کی ملاقات کے منکر ہیں۔{۱۰}</p>
<p> اِن[20] سے کہو ’’ موت کا وہ فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے تم کو پُورا کا پُورا اپنے قبضے میں لے لے گا اور پھر تم اپنے رَبّ کی طرف پلٹالائے جا ؤ گے۔ ‘‘[21]  {۱۱}</p>
<p>کاش [22]!تم دیکھو وہ وقت جب یہ مجرم سرجھکائے اپنے رَبّ کے حضور کھڑے ہوں گے۔ ( اُس وقت کہہ رہے ہوں گے )’’ ا ے ہمارے رَبّ ! ہم نے خوب دیکھ لیا اور سُن لیا ، اب ہمیں واپس بھیج دے تا کہ ہم نیک عمل کریں ، ہمیں اب یقین آگیا ہے ‘‘۔{۱۲}</p>
<p>( جواب میں ارشاد ہوگا)’’اگر ہم چاہتے تو پہلے ہی ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے ۔ [23]مگر میری وہ بات پُوری ہوگئی جو میں نے کہی تھی کہ میں جہنم کو جِنوں اور انسانوں، سب سے بھردوں گا۔[24]{۱۳}</p>
<p>پس اب چکھو مزہ اپنی اِس حرکت کا کہ تم نے اِس دن کی ملاقات کو فراموش کردیا ،[25] ہم نے بھی اب تمہیں فراموش کردیا ہے ۔ چکھو ہمیشگی کے عذاب کا مزہ اپنے کرتُوتوں کی پاداش میں ‘‘ ۔{۱۴}</p>
<p>  ہماری آیات پر تو وہ لوگ ایمان لاتے ہیں جنہیں یہ آیات سُناکر جب نصیحت کی جاتی ہے تو سجدے میں گر پڑتے ہیں اور اپنے رَبّ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں اور تکبّر نہیں کرتے[26]۔  {۱۵}</p>
<p>اُن کی پیٹھیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، اپنے رَبّ کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں،[27] اور جو کچھ رزق ہم نے اُنہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔[28]{۱۶}</p>
<p> پھر جیسا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان اُن کے اعمال کی جزا میں اُن کے لیے چُھپار کھا گیا ہے اس کی کسی متنفس کو خبر نہیں ہے۔[29]{۱۷}</p>
<p> بھلاکہیں یہ ہوسکتا ہے کہ جو شخص مومن ہو وہ اس شخص کی طرح ہوجائے جو فاسق ہو ؟[30] یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔[31] {۱۸}</p>
<p> جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں اُن کے لیے تو جنتوں کی قیام گا ہیں ہیں ،[32] ضیافت کے طور پر اُن کے اعمال کے بدلے میں ۔{۱۹}</p>
<p> اور جنہوں نے فسق ِاختیار کیا ہے ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ جب کبھی وہ اس سے نکلنا چاہیں گے اُسی میں دھکیل دیئے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ چکھو اب اُسی آگ کے عذاب کا مزہ جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔{ ۲۰}</p>
<p>اُس بڑے عذاب سے پہلے ہم اِسی دنیامیں ( کسی نہ کسی چھوٹے ) عذاب کا مزہ اِنہیں چکھاتے رہیں گے ، شاید کہ یہ ( اپنی باغیانہ روش سے )باز آجائیں۔ [33]{۲۱}</p>
<p> اور اُس سے بڑا ظالم کون ہوگا جسے اس کے رَبّ کی آیات کے ذریعہ سے نصیحت کی جائے اور پھر وہ ان سے منھ پھیرلے ۔ [34]ایسے مجرموں سے تو ہم انتقام لے کر رہیں گے۔{ ۲۲}</p>
<p>  اس سے پہلے ہم موسیٰ  ؑ کو کتاب دے چکے ہیں ، لہٰذااُسی چیز کے ملنے پر تمہیں کوئی شک نہ ہونا  چاہئے ۔[35] اُس کتاب کوہم نے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا تھا[36] {۲۳}</p>
<p>اور جب انہوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین لاتے رہے تو ان کے اندر ہم نے ایسے پیشوا پیدا کئے جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے۔[37]{ ۲۴}</p>
<p> یقینا تیرا رَبّ ہی قیامت کے روز اُن باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں ( بنی اسرائیل ؑ) باہم اختلاف کرتے رہے ہیں۔[38]{۲۵}</p>
<p>اور کیا اِن لوگوں کو ( ان تاریخی واقعات میں ) کوئی ہدایت نہیں ملی کہ ِان سے پہلے کتنی قوموںکو ہم ہلاک کرچکے ہیں جن کے رہنے کی جگہوں میں آج یہ چلتے پھرتے ہیں ؟[39] اس میں بڑی نشانیاں ہیں ، کیا یہ سُنتے نہیں ہیں ؟ {۲۶}</p>
<p>اور کیا اِن لوگوں نے یہ منظر کبھی نہیں دیکھا کہ ہم ایک بے آب وگیاہ زمین کی طرف پانی بہالاتے ہیں، اور پھر اُسی زمین سے وہ فصل اُگاتے ہیں جس سے اُن کے جانوروں کو بھی چارہ ملتا ہے اور یہ خود بھی کھاتے ہیں ؟ تو کیا اِنہیں کچھ نہیں سُوجھتا ؟[40]{۲۷}</p>
<p> یہ لوگ کہتے ہیں کہ ’’ یہ فیصلہ کب ہوگا اگر تم سچّے ہو ؟‘‘[41] {۲۸}</p>
<p>اِن سے کہو ’’ فیصلے کے دن ایمان لانا اُن لوگوں کے لیے کچھ بھی نافع نہ ہوگا جنہوں نے کفر کیا ہے اور پھر ان کو کوئی مہلت نہ ملے گی ‘‘۔[42]{۲۹}</p>
<p>اچھا انہیں ان کے حال پر چھوڑدو اور انتظار کرو ، یہ بھی منتظر ہیں۔{۳۰}</p>

</div><div id="33"><p>سورۃ  الاحزاب </p>
<p> اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>  اے[1] نبی  ؐ!اللہ سے ڈرو اور کفّارو منافقین کی اطاعت نہ کرو ، حقیقت میں علیم اور حکیم تو اللہ ہی ہے ۔ [2]{۱}</p>
<p> پیروی کرو اس بات کی جس کا اشارہ تمہارے رَبّ کی طرف سے تمہیں کیا جارہا ہے، اللہ ہر اس بات سے باخبر ہے جو تم لوگ کرتے ہو۔[3]{ ۲}</p>
<p> اللہ پر توکل کرو ، اللہ ہی وکیل ہونے کے لیے کافی ہے۔[4] { ۳}</p>
<p>اللہ نے کسی شخص کے دھڑ میں دو دل نہیں رکھے،[5] نہ اس نے تم لوگوں کی اُن بیویوں کو جن سے تم ظِہار کرتے ہو تمہاری ماں بنادیا ہے،[6] اور نہ اس نے تمہارے منھ بولے بیٹوں کو تمہارا حقیقی بیٹا بنایا ہے۔[7] یہ تو وہ باتیں ہیں جو تم لوگ اپنے منھ سے نکال دیتے ہو ، مگر اللہ وہ بات کہتا ہے جو مبنی برحق ہے ، اور وہی صحیح طریقے کی طرف رہنمائی کرتا ہے ۔{ ۴}</p>
<p> منھ بولے بیٹوں کو اُن کے باپوں کی نسبت سے پکارو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ بات ہے،[8] اور اگر تمہیں معلوم نہ ہو کہ ان کے باپ کون ہیں تو وہ تمہارے دینی بھائی اور رفیق ہیں۔[9] نادانستہ جو بات تم کہو اس کے لیے تم پر کوئی گرفت نہیں ہے ، لیکن اُس بات پر ضرور گرفت ہے جس کا تم دل سے ارادہ کرو۔[10] اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔ [11]{۵}</p>
<p>بلاشبہ نبی  ؐ تو اہلِ ایمان کے لیے اُن کی اپنی ذات پر مقّدم ہے ،[12] اور نبی  ؐکی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔[13] مگر کتاب اللہ کی روسے عام مومنین ومہاجرین کی بہ نسبت رشتہ دار ایک دُوسرے کے زیادہ حقدار ہیں ، البتہ اپنے رفیقوں کے ساتھ تم کوئی بھلائی ( کرنا چاہو تو ) کرسکتے ہو ۔[14] یہ حکم کتاب ِالٰہی میں لکھا ہوا ہے۔{۶}</p>
<p>اور ( اے نبی  ؐ !) یاد رکھو اُس عہد و پیمان کو جو ہم نے سب پیغمبرں سے لیا ہے ، تم سے بھی اور نوح ؑ اور ابراہیمؑ اور موسیٰ  ؑ اور عیسیٰ ؑ ابن مریم سے بھی ۔ سب سے ہم پختہ عہد  لے چکے ہیں۔[15]{۷}</p>
<p>تا کہ سچّے لوگوں سے ( ان کا رَبّ ) ان کی سچّائی کے بارے میں سوال کرے ،[16] اور کافروں کے لیے  تو اس نے درد ناک عذاب مہیّا کرہی رکھا ہے۔[17]{۸}</p>
<p> اے لوگو[18] جو ایمان لائے ہو ! یاد کرو اللہ کے احسان کو جو ( ابھی ابھی ) اُس نے تم پر کیا ہے ۔ جب لشکر تم پر چڑھ آئے تو ہم نے اُن پر ایک سخت آندھی بھیج دی اور ایسی فوجیں روانہ کیں جو تم کو نظر نہ آتی تھیں۔[19] اللہ وہ سب کچھ دیکھ رہا تھا جو تم لوگ اُس وقت کررہے تھے۔{۹}</p>
<p>جب دشمن اُوپر سے اورنیچے سے تم پر چڑھ آئے ،[20] جب خوف کے مارے آنکھیں پتھراگئیں ، کلیجے منھ کو آگئے ، اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے{۱۰}</p>
<p>اُس وقت ایمان لانے والے خوب آزمائے گئے اور بُری طرح ہِلا مارے گئے۔ [21]{۱۱}</p>
<p> یاد کرو وہ وقت جب منافقین اور وہ سب لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا صاف صاف کہہ رہے تھے کہ اللہ اور اُس کے رسول  ؐنے جو وعدے ہم سے کئے تھے [22]وہ فریب کے سوا کچھ نہ تھے۔{ ۱۲}</p>
<p> جب اُن میں سے ایک گروہ نے کہا کہ ’’ اے یثرب کے لوگو ! تمہارے لئے اب ٹھہرنے کا کوئی موقع نہیں ہے ، پلٹ چلو ۔‘‘ جب ان کا ایک فریق یہ کہہ کرنبی  ؐ  سے رخصت طلب کررہا تھا کہ’’ ہمارے گھر خطرے میں ہیں ‘‘[24]، حالاں کہ وہ خطرے میں نہ تھے ،[25] دراصل وہ (محاذِ جنگ سے ) بھاگنا چاہتے تھے۔{ ۱۳}</p>
<p>اگر شہر کے اطراف سے دشمن گُھس آئے ہوتے اور اُس وقت انہیں فتنے کی طرف دعوت دی جاتی [26]تو یہ اُس میں جاپڑتے اور مشکل ہی سے اِنہیں شریک فتنہ ہونے میں کوئی تامّل ہوتا۔{۱۴}</p>
<p>اِن لوگوں نے اس سے پہلے اللہ سے عہد کیا تھا کہ یہ پیٹھ نہ پھیریں گے ، اور اللہ سے کئے ہوئے عہد کی باز پرس تو ہونی ہی تھی۔[27]{۱۵}</p>
<p>اے نبی ؐ! ان سے کہو ، اگر تم موت یا قتل سے بھاگو تو یہ بھاگنا تمہارے لئے کچھ بھی نفع بخش نہ ہوگا۔ اس کے بعد زندگی کے مزے لُوٹنے کا تھوڑاہی موقع تمہیں مل سکے گا۔[28]{۱۶}</p>
<p>ان سے کہو ، کون ہے جو تمہیں اللہ سے بچا سکتا ہو ، اگر وہ تمہیں نقصان پہنچانا چاہے ؟ اور کون اس کی رحمت کو روک سکتا ہے اگر وہ تم پر مہربانی کرنا چاہے؟اللہ کے مقابلے میں تویہ لوگ کوئی حامی ومددگار نہیں پاسکتے ہیں۔{۱۷}</p>
<p>اللہ تم میں سے اُن لوگوں کو خوب جانتا ہے جو (جنگ کے کام میں ) رکاوٹیں ڈالنے والے ہیں ، جو اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ’’ آ ؤ ہماری طرف۔‘‘ [29]جو لڑائی میں حصہ لیتے بھی ہیں تو بس نام گنانے کو{۱۸}</p>
<p> جو تمہارا ساتھ دینے میں سخت بخیل ہیں ۔[30] خطرے کاوقت آجائے تو اس طرح دِیدے پھرا پھراکر تمہاری طرف دیکھتے ہیں جیسے کسی مرنے والے پر غشی طاری ہورہی ہو ، مگر جب خطرہ گزرجاتا ہے تو یہی لوگ فائدوں کے حریص بن کر قینچی کی طرح چلتی ہوئی زبانیں لئے تمہارے استقبال کو آجاتے ہیں۔[31] یہ لوگ ہر گز ایمان نہیں لائے ، اسی لئے اللہ نے ان کے سارے اعمال ضائع کردیے۔ [32]اور ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔ [33]{۱۹}</p>
<p> یہ سمجھ رہے ہیں کہ حملہ آور گروہ ابھی گئے نہیں ہیں۔ اور اگر وہ پھر حملہ آور ہوجائیں تو ان کاجی چاہتا ہے کہ اُس موقع پر کہیں صحرا میں بدّووں کے درمیان جابیٹھیں اور وہیں سے تمہارے حالات پوچھتے رہیں۔ تاہم اگر یہ تمہارے درمیان رہے بھی تو لڑائی میں کم ہی حصہ لیں گے۔{۲۰}</p>
<p>درحقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسُول  امیں ایک بہترین نمونہ تھا،[34]  ہراُس شخص کے لیے جو اللہ اور یومِ آخر کا اُمیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے ۔[35]{۲۱}</p>
<p> اور سچّے مومنوں( کا حال اُس وقت یہ تھا کہ[36]) جب انہوں نے حملہ آور لشکر وں کو دیکھاتو پکاراٹھے کہ ’’ یہ وہی چیز ہے جس کا اللہ اور اس کے رسُول  انے ہم سے وعدہ کیا تھا ، اللہ اور اس کے رسُول  ؐ کی بات بالکل سچّی تھی۔ ‘‘[37]اِس واقعہ نے اُن کے ایمان اور ان کی سپُردگی کو اور زیادہ بڑھا دیا۔[38]{ ۲۲}</p>
<p> ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجودہیں جنہوں نے اللہ سے کئے ہوئے عہد کو سچا کردکھایا ہے۔ ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کر چکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے ۔[39] انہوں نے اپنے رویّے میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔{۲۳}</p>
<p>( یہ سب کچھ اس لیے ہوا ) تا کہ اللہ سچّوں کو ان کی سچّائی کی جزادے اور منافقوں کو چاہے تو سزادے اور چاہے تو اُن کی توبہ قبول کرلے ، بے شک اللہ غفور ورحیم ہے{۲۴}</p>
<p>اللہ نے کفّار کا منھ پھیردیا۔ وہ کوئی فائدہ حاصل کئے بغیر اپنے دل کی جلن لئے یُونہی پلٹ گئے ، اور مومنین کی طرف سے اللہ ہی لڑنے کے لیے کافی ہوگیا، اللہ بڑی قوّت والا اور زبردست ہے۔{۲۵}</p>
<p> پھر اہلِ کتاب میں سے جن لوگوں نے اِن حملہ آوروں کا ساتھ دیاتھا ۔[40] اللہ اُن کی گڑھیوں سے انہیں اُتار لایا اور اُن کے دلوں میں اُس نے ایسا رعب ڈال دیا کہ آج ان میں سے ایک گروہ کو تم قتل کررہے ہو اور دوسرے گروہ کو قید کررہے ہو۔ {۲۶}</p>
<p> اس نے تم کو ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے اموال کا وارث بنادیا اور وہ علاقہ تمہیں دیا جسے تم نے کبھی پامال نہ کیا تھا۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔{۲۷}</p>
<p>اے[41] نبی  ؐ !اپنی بیویوں سے کہو ،اگر تم دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آ ؤ ، میں تمہیں کچھ دے دلاکر بھلے طریقے سے رخصت کردوں۔ {۲۸}</p>
<p> اور اگر تم اللہ اور اس کے رسُول  ؐ اور دار آخرت کی طالب ہوتو جان لو کہ تم میں سے جو نیکو کارہیں اللہ نے ان کے لیے بڑا اجر مہیّا کررکھا ہے۔[42]{۲۹}</p>
<p> نبی  ؐکی بیویو!تم میں سے جو کسی صریح فحش حرکت کا ارتکاب کرے گی اسے دُوہرا عذاب دیا جائے گا ،[43] اللہ کے لیے یہ بہت آسان کام ہے۔ [44]{۳۰}</p>
<p>اور تم میں سے جو اللہ اور اس کے رسُول  اکی اطاعت کرے گی اور نیک عمل کرے گی اس کو ہم دُوہرا اجر دیں گے[45] اور ہم نے اس کے لیے رزق کریم مہیّا کررکھا ہے۔{۳۱}</p>
<p>نبی  ؐکی بیویو!تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔[46] اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہوتو دبی زبان سے بات نہ کیا کرو کہ دل کی خرابی کا مبتلا کوئی شخص لالچ میں پڑجائے ، بلکہ صاف سیدھی بات کرو۔[47]{ ۳۲}</p>
<p> اپنے گھروں میں ٹِک کر رہو[48] اور سابق دورِ جاہلیّت کی سی سَج دھج نہ دکھاتی پھرو۔ [49]نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ اوراُس کے رسُول  ا کی اطاعت کرو۔ اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم اہلِ بیتِ نبی  ؐسے گندگی کو دُور کرے اور تمہیں پُوری طرح پاک کردے۔[50] {۳۳}</p>
<p> یادرکھو اللہ کی آیات اور حکمت کی اُن باتوں کو جو تمہارے گھروں میں سُنائی جاتی ہیں [51]بے شک اللہ لطیف[52] اور باخبر ہے۔{۳۴}</p>
<p>  با لیقین [53]جو مرد اور جو عورتیں مسلم ہیں ،[54] مومن ہیں ، [55]مطیعِ فرمان ہیں ،[56] راست بازہیں ، [57]صابرہیں، [58]اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں ،[59] صدقہ دینے والے ہیں ،[60] روزے رکھنے والے ہیں ،[61] اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں ، [62]اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے ہیں ، [63]اللہ نے ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر مہیّا کررکھا ہے[64]{۳۵}</p>
<p>کسی[65] مومن مرد اور کسی مومنہ عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اوراُس کا رسُول  ؐ کسی معاملے کا فیصلہ کردے تو پھراُسے اپنے اُس معاملے میں خو د فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل رہے۔ اور جو کوئی اللہ اور اُس کے رسُول  اکی نافرمانی کرے تو وہ صریح گمراہی میں پڑگیا۔[66]{۳۶}</p>
<p>اے [67]نبی  ؐ ! یادکرو وہ موقع جب تم اُس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے اور تم نے احسان کیا تھا [68]کہ ’’ اپنی بیوی کو نہ چھوڑ اور اللہ سے ڈر‘‘۔[69] اُس وقت تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ کھولنا چاہتا تھا ، تم لوگوں سے ڈر رہے تھے۔ حالاں کہ اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ تم اُس سے ڈرو[70] پھر جب زیدؓ  اُس سے اپنی حاجت  پُوری کرچکا [71]تو ہم نے اس ( مطلقہ خاتون ) کا تم سے نکاح کردیا[72] تا کہ مومنوں پر اپنے منھ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملہ میں کوئی تنگی نہ رہے جبکہ وہ اُن سے اپنی حاجت پُوری کرچکے ہوں ۔[73] اور اللہ کا حکم تو عمل میں آنا ہی چاہیے تھا {۳۷}</p>
<p> نبی  ؐپر کسی ایسے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے جو اللہ نے اُس کے لیے مقرر کردیاہو۔[74] یہی اللہ کی سُنّت اُن سب انبیائؑ کے معاملے میں رہی ہے جو پہلے گزرچکے ہیں اور اللہ کا حکم ایک قطعی طے شدہ فیصلہ ہوتا ہے[75]{۳۸}</p>
<p> ( یہ اللہ کی سُنّت ہے اُن لوگوں کے لیے ) جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اُسی سے ڈرتے ہیں اور ایک اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور محاسبہ کے لیے بس اللہ ہی کافی ہے۔[76]{۳۹}</p>
<p> (لوگو) محمد  ؐ تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، مگر وہ اللہ کے رسول  ؐاور خاتم النبیین ؐ ہیں، اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔[77] {۴۰}</p>
<p>اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ کو کثرت سے یاد کرو{۴۱}</p>
<p>اور صبح وشام اُس کی تسبیح کرتے رہو[78]{۴۲}</p>
<p>وہی ہے جو تم پر رحمت فرماتا ہے اور اُس کے ملائکہ تمہارے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں تا کہ وہ تمہیں تاریکیوں سے روشنی میں نکال لائے ، وہ مومنوں پر بہت مہربان ہے۔[79]{ ۴۳}</p>
<p> جس روز وہ اس سے ملیں گے ، اُن کا استقبال سلام سے ہوگا[80] اور اُن کے لیے اللہ نے بڑا باعزت اجر فراہم کررکھا ہے۔{۴۴}</p>
<p>اے نبی  ؐ ! [81]ہم نے تمہیں بھیجا ہے گواہ بناکر ،[82] بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بناکر،[83] {۴۵}</p>
<p> اللہ کی اجازت سے اُس کی طرف دعوت دینے [84]والا بناکر اور روشن چراغ بناکر۔ {۴۶}</p>
<p> بشارت دے دو اُن لوگوں کو جو ( تم پر ) ایمان لائے ہیں کہ اُن کے لیے اللہ کی طرف سے بڑا فضل ہے۔{۴۷}</p>
<p>اور ہرگزنہ دبوکفّار ومنافقین سے، کوئی پرواہ نہ کرو اُن کی اذیّت رسانی کی اور بھروسہ کرلو اللہ پر ، اللہ ہی اِس کے لیے کافی ہے کہ آدمی اپنے معاملات اُس کے سپُرد کردے۔ {۴۸}</p>
<p>اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو اور پھر انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو[85] تو تمہاری طرف سے اُن پر کوئی عدت لازم نہیں ہے جس کے پُورے ہونے کا تم مطالبہ کر سکو۔ لہٰذا انہیں کچھ مال دو اور بھلے طریقے سے رخصت کردو۔[86]{۴۹}</p>
<p>اے نبی  ؐ!ہم نے تمہار ے لئے حلال کردیں تمہاری وہ بیویاں جن کے مہرتم نے ادا کئے ہیں،[87] اور وہ عورتیں جو اللہ کی عطا کردہ لونڈیوں میں سے تمہاری ملکیت میں آئیں ، اور تمہاری وہ چچازاد اور پھوپھی زاد اور ماموں زاد اور خالہ زاد بہنیں جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی ہے ، اور وہ مومن عورت جس نے اپنے آپ کو نبی  ؐکے لیے  ہبہ کیا ہو، اگر نبی  ؐ اسے نکاح میں لینا چاہے۔ [88]یہ رعایت خالصۃً تمہارے لئے ہے ، دُوسرے مومنوں کے لیے نہیں ہے۔[89] ہم کو معلوم ہے کہ عام مومنوں پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں ہم نے کیا حدود عائد کئے ہیں ( تمہیں ان حدود سے ہم نے اِس لئے مستثنیٰ کیا ہے ) تا کہ تمہارے اوپر کوئی تنگی نہ رہے ، [90]اور اللہ غفور ورحیم ہے۔{۵۰}</p>
<p>تم کو اختیار دیا جاتا ہے کہ اپنی بیویوں میں سے جس کو چاہو اپنے سے الگ رکھو ، جسے چاہو اپنے ساتھ رکھو اور جسے چاہو الگ رکھنے کے بعد اپنے پاس بُلالو۔ اِس معاملہ میں تم پر کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اس طرح زیادہ متوقع ہے کہ اُن کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی اور وہ رنجیدہ نہ ہوں گی ، اور جو کچھ بھی تم ان کو دوگے اس پروہ سب راضی رہیں گی۔[91] اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگوں کے دلوں میں ہے ، اور اللہ علیم وحلیم ہے۔[92]{۵۱}</p>
<p>اِس کے بعد تمہارے لیے دوسری عورتیں حلال نہیں ہیں، اور نہ اِس کی اجازت ہے کہ اِن کی جگہ اور بیویاں لے آ ؤ، خواہ اُن کا حسن تمہیں کتنا ہی پسندہو  ، [93]البتّہ لونڈیوں کی تمہیں اجازت ہے[94] اللہ ہر چیز پر نگراں ہے۔{ ۵۲}</p>
<p>  ا ے لوگو جو ایمان لائے ہو! نبی  ؐ کے گھروں میں بلااجازت نہ چلے آیا کرو ۔[95] نہ کھانے کا وقت تاکتے رہو۔ ہاں اگر تمہیں کھانے پر بلایا جائے تو ضرور آ ؤ۔[96]مگر جب کھانا کھالو تو منتشر ہو جا ؤ۔ باتیں کرنے میں نہ لگے رہو۔ [97]تمہاری یہ حرکتیں نبی  ؐ کو تکلیف دیتی ہیں، مگر وہ شرم کی وجہ سے کچھ نہیں کہتے۔ اور اللہ حق بات کہنے میں نہیں شرماتا ۔ نبی  ؐ کی بیویوں سے اگر تمہیں کچھ مانگنا ہوتو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو ، یہ تمہارے اور اُن کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے زیادہ مناسب طریقہ ہے۔ [98]تمہارے لئے یہ ہرگز جائز نہیں کہ اللہ کے رسُول  اکو تکلیف دو ، [99]اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد ان کی بیویوں سے نکاح کرو،[100]یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑاگناہ ہے۔[101]{۵۳}</p>
<p>تم خواہ کوئی بات ظاہر کرو یاچھپا ؤ، اللہ کو ہر بات کا علم ہے۔{۵۴}</p>
<p>ازواج نبی  ؐکے لیے اِس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ ا ن کے باپ، ان کے بیٹے ، ان کے بھائی، ان کے بھتیجے،[102] ان کے بھانجے، ان کے میل جول کی عورتیں[103] اور ان کے مملوک[104] گھروں میں آئیں۔ ( اے عورتو!) تمہیں اللہ کی نافرمانی سے پرہیز کرنا چاہئے۔ اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے۔[105]{۵۵}</p>
<p>اللہ اور اس کے ملائکہ نبی  ؐپر درود بھیجتے ہیں، [106]اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، تم بھی ان پردرود وسلام بھیجو۔[107] {۵۶}</p>
<p>جولوگ اللہ اور اس کے رسُول  ا کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور اُن کے لیے رُسواکُن عذاب مہیّا کردیا ہے۔[108]{۵۷}</p>
<p> اور جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بے قصُور اذیت دیتے ہیں انہوں نے ایک بڑے بہتان[109] اور صریح گناہ کا وبال اپنے سرلے لیا ہے۔{۵۸}</p>
<p>  اے نبی  ؐ! اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہلِ ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اُوپر ا پنی چادروں کے پلو لٹکالیا کریں۔[110]  یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تا کہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں۔[111]  اللہ تعالیٰ غفور ورحیم ہے۔[112]{۵۹}</p>
<p>اگر منافقین ، اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خرابی ہے ،[113] اور وہ جو مدینہ میں ہیجان انگیز افواہیں پھیلانے والے ہیں،[114] اپنی حرکتوں سے باز نہ آ ئے تو ہم ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے تمہیں اُٹھاکھڑا کریں گے، پھر وہ اِس شہر میں مشکل ہی سے تمہارے ساتھ رہ سکیں گے۔{۶۰}</p>
<p>اُن پر ہر طرف سے لعنت کی بوچھاڑ ہوگی، جہاں کہیں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور بُری طرح مارے جائیں گے۔{۶۱}</p>
<p> یہ اللہ کی سنّت ہے جو ایسے لوگوں کے معاملے میں پہلے سے چلی آرہی ہے ، اور تم اللہ کی سنّت میں کوئی تبدیلی نہ پا ؤ گے۔[115]{۶۲}</p>
<p>لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کی گھڑی کب آئے گی ۔کہو[116] اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے ۔ تمہیں کیا خبر ، شاید کہ وہ قریب ہی آلگی ہو۔{۶۳}</p>
<p>بہرحال یہ امریقینی ہے کہ اللہ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ مہیّا کردی ہے{۶۴}</p>
<p>جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ، کوئی حامی ومددگارنہ پاسکیں گے۔{۶۵}</p>
<p>جس روز ان کے چہرے آگ پر اُلٹ پُلٹ کئے جائیں گے اُس وقت وہ کہیں گے کہ ’’کاش ہم نے اللہ اور رسُول  اکی اطاعت کی ہوتی۔‘‘{۶۶}</p>
<p> اور کہیں گے’’ اے رَبّ ہمارے ! ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہمیں راہ راست سے بے راہ کردیا  {۶۷}</p>
<p> اے رَبّ ان کو دوہرا عذاب دے اور ان پر سخت لعنت کر‘‘۔[117]{۶۸}</p>
<p>اے لوگوجو ایمان لائے ہو ! [118]اُن لوگوں کی طرح نہ بن جا ؤ جنہوں نے موسیٰ ؑ کو اذیتیں دی تھیں، پھر اللہ نے ان کی بنائی ہوئی باتوں سے اُس کی برأت فرمائی اور وہ اللہ کے نزدیک باعزّت تھا۔ [119]{۶۹}</p>
<p> اے ایمان لانے والو! اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کیا کرو۔{۷۰}</p>
<p>اللہ تمہارے اعمال درست کردے گا اور تمہارے قصُوروں سے درگزر فرمائے گا۔ جو شخص اللہ اور اس کے رسُول  اکی اطاعت کرے اُس نے بڑی کامیابی حاصل کی ۔ {۷۱}</p>
<p>ہم نے اِس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو وہ اُسے اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوئے اور اس سے ڈرگئے ،مگر انسان نے اسے اُٹھالیا ، بے شک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے [120]{۷۲}</p>
<p> (اس بار ِامانت کو اُٹھانے کا لازمی نتیجہ ہے ) تا کہ اللہ منافق مردوں اور عورتوں، اور مُشرک مردوں اور عورتوں کو سزادے اور مومن مردوں اور عورتوں کی توبہ قبول کرے ، اللہ درگزر فرمانے والا اور رحیم ہے{ ۷۳}</p>

</div><div id="34"><p>سورۃسبا </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ </p>
<p>حمد اُس اللہ کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا مالک ہے[1] اور آخرت میں بھی اُسی کے لیے حمد ہے۔ [2]وہ دانا اور باخبر ہے۔[3]  {۱}</p>
<p> جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اُس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اُترتا ہے اور جو کچھ اُس میں چڑھتا ہے۔ ہر چیز کو وہ جانتا ہے ، وہ رحیم اور غفور ہے۔[4]{ ۲}</p>
<p>منکرین کہتے ہیں کیا بات ہے کہ قیامت ہم پر نہیں آرہی ہے[5] ! کہو ، ’’ قسم ہے میرے عالم ِالغیب پروردگار کی ، وہ تم پر آکررہے گی۔[6] اُس سے ذرّہ برابر کوئی چیز نہ آسمانوں میں چھپی ہوئی ہے نہ زمین میں ۔ نہ ذرّے سے بڑی اور نہ اُس سے چھوٹی۔ سب کچھ ایک نمایاں دفتر میں درج ہے ‘‘۔[7]{۳}</p>
<p> اور یہ قیامت اس لیے آئے گی کہ جزادے اللہ اُن لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اور نیک عمل کرتے رہے ہیں۔ اُن کے  لیے مغفرت ہے اور رزقِ کریم۔ {۴}</p>
<p> اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو نیچادکھانے کے لیے زور لگایا ہے،ان کے لیے بدترین قسم کا دردناک عذاب ہے۔[8]{۵}</p>
<p>اے نبی  ؐ!  علم رکھنے والے خوب جانتے  ہیں کہ جو کچھ تمہارے رَبّ کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ سراسر حق ہے اوروہ رَبِّ عزیز وحمید کا راستہ دکھاتا ہے۔[9]{۶}</p>
<p>منکرین، لوگوں سے کہتے ہیں ’’ہم بتائیں تمہیں ایسا شخص جو خبردیتا ہے کہ جب تمہارے جسم کا ذرّہ ذرّہ منتشر ہوچکا ہوگا، اس وقت تم نئے سرے سے پیدا کردیے جا ؤ گے ؟{۷}</p>
<p>نہ معلوم یہ شخص اللہ کے نام سے جُھوٹ گھڑتا ہے یا اِسے جنون لاحق ہے۔ ‘‘[10]نہیں،بلکہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں اور وہی بُری طرح بہکے ہوئے ہیں۔[11]{۸}</p>
<p> کیا اِنہوں نے کبھی اُس آسمان و زمین کو نہیں دیکھا جو انہیں آگے اور پیچھے سے گھیرے ہوئے ہے ؟ ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسادیں ، یا آسمان کے کچھ ٹکڑے ان پر گرادیں ۔[12]درحقیقت اس میں ایک نشانی ہے ہر اُس بندے کے لیے جو اللہ کی طرف رُجوع کرنے والا ہو۔[13]{۹}</p>
<p>ہم نے دا ؤد  ؑ کو اپنے ہاں سے بڑا فضل عطا کیا تھا۔[14] (ہم نے حکم دیا کہ ) اے پہاڑو ! اس کے ساتھ  ہم آہنگی کرو ( اور یہی حکم ہم نے ) پرندوں کو دیا۔[15] ہم نے لوہے کو اس کے لیے نرم کردیا۔{۱۰}</p>
<p>اِس ہدایت کے ساتھ کہ زِر ہیں بنا اور ان کے حلقے ٹھیک اندازے پر رکھ۔ [16] (اے آل دا ؤ د) نیک عمل کرو ، جو کچھ تم کرتے ہو اُس کو میں دیکھ رہا ہوں۔{۱۱}</p>
<p>اور سلیمان ؑ کے لیے ہم نے ہوا کو مُسخّر کردیا ، صبح کے وقت اُس کا چلنا ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی راہ تک۔[17] ہم نے اُس کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہادیا[18] اور ایسے جِن اُس کے تابع کردیے جو اپنے رَبّ کے حکم سے اُس کے آگے کام کرتے تھے۔[19] اُن میں سے جو ہمارے حکم سے سرتابی کرتا اس کو ہم بھڑکتی ہوئی آگ کا مزہ چکھاتے۔ {۱۲}</p>
<p> وہ اُس کے لیے بناتے تھے جو کچھ وہ چاہتا، اُونچی عمارتیں ، تصویریں ،[20]بڑے بڑے حوض جیسے لگن اور اپنی جگہ سے نہ ہٹنے والی بھاری دیگیں ۔[21] اے آل ِدا ؤد ! عمل کر وشکر کے طریقے پر ، [22] میرے بندوں میں کم ہی شکر گزارہیں۔{۱۳}</p>
<p>پھر جب سلیمانؑ پر ہم نے موت کا فیصلہ نافذ کیا تو جِنّوں کو اُس کی موت کا پتہ دینے والی کوئی چیز اُس گُھن کے سوا نہ تھی جو اُس کے عصَا کو کھا رہا تھا۔ اِس طرح جب سلیمان ؑ گرپڑا توجِنّوں پر یہ بات کھل گئی [23]کہ اگر وہ غیب کے جاننے والے ہوتے تو اِس ذلّت کے عذاب میں مبتلانہ رہتے۔[24]{۱۴}</p>
<p>  یقیناسبا[25] کے لیے اُن کے اپنے مسکن ہی میں ایک نشانی موجود تھی ،[26] دو باغ دائیں اور بائیں ،[27] کھا ؤ اپنے رَبّ کا رزق اور شکر بجالا ؤاُس کا ، ملک ہے عمدہ و پاکیزہ اور پروردگارہے بخشش فرمانے والا ۔{۱۵}</p>
<p> مگروہ منھ موڑگئے۔[28] آخر کار ہم نے اُن پر بند توڑ سیلاب بھیج دیا[29] اور ان کے پچھلے دو باغوں کی جگہ دو اور باغ انہیں دیے جن میں کڑوے کسیلے پھل اور جھا ؤ کے درخت تھے اور کچھ تھوڑی سی بیریاں۔[30]{۱۶}</p>
<p>یہ تھا ان کے کفر کا بدلہ جو ہم نے ان کو دیا ، اور ناشکرے انسان کے سوا ایسا بدلہ ہم اور کسی کو نہیں دیتے۔{۱۷}</p>
<p>اور ہم نے اُن کے اور اُن بستیوں کے درمیان ، جن کو ہم نے برکت  عطا کی تھی ، نمایاں بستیاں بسادی تھیں اور اُن میں سفر کی مسافتیں ایک اندازے پر رکھ دی تھیں۔[31]چلو پھر و اِن راستوں میں رات دِن پورے امن کے ساتھ۔{۱۸}</p>
<p> مگر انہوں نے کہا ’’ اے ہمارے رَبّ !ہمارے سفر کی مسافتیں لمبی کردے۔‘‘ [32]انہوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا۔ آخر کار ہم نے انہیں افسانہ بناکر رکھ دیا اور انہیں بالکل تِتّر بِّتر کر ڈالا۔[33] یقینا اس میں نشانیاں ہیں ہراُس شخص کے لیے جو بڑا صابر وشاکر ہو۔[34]{۱۹}</p>
<p> اُن کے معاملے میں ابلیس نے اپنا گمان صحیح پایا اور انہوں نے اُسی کی پیروی کی ، بجز ایک تھوڑے سے گروہ کے جو مومن تھا۔[35]{۲۰}</p>
<p> ابلیس کو اُن پر کوئی اقتدار حاصل نہ تھا، مگر جو کچھ ہوا وہ اس لیے ہوا کہ ہم یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ کون آخرت کا ماننے والا ہے اور کون اس کی طرف سے شک میں پڑا ہوا ہے۔ [36]تیرارَبّ ہر چیز پر نگراں ہے۔[37]{۲۱}</p>
<p>( اے نبی[38]  ؐ !اِن مشرکین سے ) کہو کہ ’’ پکار دیکھو اپنے اُن معبُودوں کو جنہیں تم اللہ کے سوا اپنا معبُود سمجھے بیٹھے ہو ۔[39]وہ نہ آسمانوں میں کسی ذرّہ برابر چیز کے مالک ہیں نہ زمین میں ۔وہ آسمان و زمین کی ملکیت میں شریک بھی نہیں ہیں۔ اُن میں سے کوئی اللہ کا مددگار بھی نہیں ہے۔{ ۲۲}</p>
<p> اور اللہ کے حضور کوئی شفاعت بھی کسی کے لیے نافع نہیں ہوسکتی بجزاُس شخص کے جس کے لیے اللہ نے سفارش کی اجازت دی ہو،[40] حتیٰ کہ جب لوگوں کے دلوں سے گھبراہٹ دُور ہوگی تو وہ ( سفارش کرنے والوں سے ) پوچھیں گے کہ تمہارے رَبّ نے کیا جواب دیا ؟ وہ کہیں گے کہ ٹھیک جواب ملا ہے اور وہ بزرگ و برتر ہے‘‘ ۔[41]{۲۳}</p>
<p> (اے نبی  ؐ!) اِن سے پُوچھو’’ کون تم کو آسمانوں اور زمین سے رزق دیتا ہے ‘‘؟ کہو :’’ اللہ ۔[42] اب لامحالہ ہم میں اور تم میں سے کوئی ایک ہی ہدایت پر ہے یا کھلی گُمراہی میں پڑا ہوا ہے ‘‘[43]{۲۴}</p>
<p> اِن سے کہو: ’’جو قصُور ہم نے کیا ہو اس کی کوئی باز پرس تم سے نہ ہوگی اور جو کچھ تم کررہے ہو اس کی کوئی جواب طلبی ہم سے نہیں کی جائے گی ‘‘۔[44]{۲۵}</p>
<p> کہو ،’’ ہمارا رَبّ ہم کو جمع کرے گا ،پھر ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردے گا۔ وہ ایسا زبردست حاکم ہے جو سب کچھ جانتا ہے‘‘۔[45]{۲۶}</p>
<p> اِن سے کہو ، ’’ ذرا مجھے دکھا ؤتو سہی وہ کون ہستیاں ہیں جنہیں تم نے اس کے ساتھ شریک لگارکھا ہے ‘‘ ۔[46]ہر گز نہیں ، زبردست اور دانا تو بس وہ اللہ ہی ہے۔{۲۷}</p>
<p>اور (اے نبی  ؐ!) ہم نے تم کو تمام ہی انسانوں کے لیے بشیر ونذیر بناکر بھیجا ہے ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں ۔[47]{۲۸}</p>
<p>یہ لوگ تم سے کہتے ہیں کہ’’ وہ ( قیامت کا ) وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچّے ہو؟ ‘‘[48]{۲۹}</p>
<p> کہو :’’تمہارے لئے ایک ایسے دن کی میعاد مقرر ہے جس کے آنے میں نہ ایک گھڑی بھر کی تاخیر تم کرسکتے ہو اور نہ ایک گھڑی بھر پہلے اسے لاسکتے ہو‘‘۔[49]{۳۰}</p>
<p> یہ کافر کہتے ہیں کہ ’’ ہم ہر گز اِس قرآن کو نہ مانیں گے اور نہ اِس سے پہلے آئی ہوئی کسی کتاب کو تسلیم کریں گے ‘‘ ۔[50] کاش تم دیکھو اِن کا حال اُس وقت جب یہ ظالم اپنے رَبّ کے حضور کھڑے ہوں گے۔ اُس وقت یہ ایک دُوسرے پر الزام دھریں گے۔ جو لوگ دنیا میں دبا کر رکھے گئے تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے کہ ’’ اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے‘‘ ۔[51]{۳۱}</p>
<p>وہ بڑے بننے والے اِن دبے ہوئے لوگوں کو جواب دیں گے ’’ کیا ہم نے تمہیں اُس ہدایت سے روکا تھا جو تمہارے پاس آئی تھی؟ نہیں ، بلکہ تم خود مجرم تھے ‘‘ ۔[52]{۳۲}</p>
<p>   وہ دبے ہوئے لوگ اُن بڑے بننے والوں سے کہیں گے ،’’ نہیں، بلکہ شب وروزکی مکّاری تھی جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم اللہ سے کفر کریں اور دُوسروں کو اس کا ہمسر ٹھہرائیں ۔‘‘[53] آخر کارجب یہ لوگ عذاب دیکھیں گے تو اپنے دلوں میں پچھتائیں گے اور ہم اِن منکرین کے گلوں میں طَوق ڈال دیں گے۔ کیا لوگوں کو اِس کے سوا اور کوئی بدلہ دیا جاسکتا ہے کہ جیسے اعمال اُن کے تھے ویسا ہی جزا وہ پائیں؟ {۳۳}</p>
<p>  کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے کسی بستی میں ایک خبردار کرنے والا بھیجا ہو اور اُس بستی کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہ نہ کہا ہو کہ ’’ جو پیغام تم لے کر آئے ہو اس کو ہم نہیں مانتے ‘‘[54]{۳۴}</p>
<p>انہوں نے ہمیشہ یہی کہا کہ ’’ ہم تم سے زیادہ مال اور اولاد رکھتے ہیں اور ہم ہر گز سزاپانے والے نہیں ہیں ‘‘[55]{۳۵}</p>
<p>  اے نبی  ؐ!ان سے کہو ’’ میرا رَبّ جسے چاہتا ہے ، کشادہ رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نَپا تُلا عطا کرتا ہے ، مگر اکثر لوگ اس کی حقیقت نہیں جانتے۔ ‘‘[56]{۳۶}</p>
<p>یہ تمہاری دولت اور تمہاری اولاد نہیں ہے جوتمہیں ہم سے قریب کرتی ہو۔ ہاں مگر جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے ۔ [57]یہی لوگ ہیں جن کے لیے اُن کے عمل کی دُوہری جزا ہے ۔اور وہ بلند وبالا عمارتوں میں اطمینان سے رہیں گے۔[58]{۳۷}</p>
<p> رہے وہ لوگ جو ہماری آیات کو نیچادکھانے کے لیے دوڑ دھوپ کرتے ہیں تو وہ عذاب میں مبتلا ہوں گے۔{۳۸}</p>
<p>اے نبی  ؐ! ان سے کہو’’ میرا رَبّ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے کُھلا رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے، نَپا تُلادیتا ہے۔[59] جو کچھ تم خرچ کردیتے ہو اُس کی جگہ وہی تم کو اور دیتا ہے ، وہ سب رازقوں سے بہتر رازق ہے‘‘۔[60]{۳۹}</p>
<p> اور جس دن وہ تمام انسانوں کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے پوچھے گا’’ کیا یہ لوگ تمہاری ہی عبادت کیا کرتے تھے‘‘؟[61] {۴۰}</p>
<p>تو وہ جواب دیں گے کہ ’’ پاک ہے آپ کی ذات ، ہمارا تعلق تو آپ سے ہے نہ کہ اِن لوگوں سے ۔ [62]دراصل یہ ہماری نہیں بلکہ جِنّوں کی عبادت کرتے تھے ، ان میں سے اکثر اُنہی پر ایمان لائے ہوئے تھے۔‘‘ [63] {۴۱}</p>
<p> (اُس وقت ہم کہیں گے کہ )’’ آج تم میں سے کوئی نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے نہ نقصان اور ظالموں سے ہم کہہ دیں گے کہ اب چکھو اس عذابِ جہنّم کا مزہ  جسے تم جھٹلایا کرتے تھے‘‘۔ {۴۲}</p>
<p>ان لوگوں کو جب ہماری صاف صاف آیات سُنائی جاتی ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ ’’ یہ شخص تو بس یہ چاہتا ہے کہ تم کو ان معبُودوں سے برگشتہ کردے جن کی عبادت تمہارے باپ دادا کرتے آئے ہیں ۔ ‘‘ اور کہتے  ہیں کہ ’’ یہ ( قرآن  ) محض ایک جُھوٹ ہے گھڑا ہوا ۔‘‘ان کافروں کے سامنے جب حق آیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ ’’ یہ تو صریح جادو ہے ‘‘۔ {۴۳}</p>
<p> حالانکہ نہ ہم نے اِن لوگوں کو پہلے کوئی کتاب دی تھی کہ یہ اسے پڑھتے  ہوں اور نہ تم سے پہلے ان کی طرف کوئی متنبہ کرنے والا بھیجا تھا ۔[64]{۴۴}</p>
<p>اِن سے پہلے گزرے ہوئے لوگ جُھٹلا چکے ہیں۔ جو کچھ ہم نے اُنہیں دیا تھا اِس کے عُشرِعَشیر کو بھی یہ نہیں پہنچے ہیں ، مگر جب اُنہوں نے میرے رسُولوں کو جھٹلایا تو دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی ۔[65]{۴۵}</p>
<p>اے نبی  ؐ!ان سے کہو کہ ’’ میں تمہیںبس ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں ۔ اللہ کے لیے تم اکیلے اکیلے اور دو، دو مِل کر اپنا دماغ لڑا ؤ اور سوچو ، تمہارے صاحب میں آخر کون  سی بات ہے جو جُنون کی ہو ؟[66] وہ تو ایک سخت عذاب کی آمد سے پہلے تم کو متنبہ کرنے والا ہے‘‘۔[67]{۴۶}</p>
<p> اِن سے کہو ،’’ اگر میں نے تم سے کوئی اجر مانگا ہے تو وہ تم ہی کو مبارک رہے۔[68] میرا اجر تو اللہ کے ذمّہ ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے‘‘۔[69]{۴۷}</p>
<p> اِن سے کہو ’’میرارَبّ ( مجھ پر ) حق کا اِلقاکرتا ہے [70]اور وہ تمام پوشیدہ حقیقتوں کا جاننے والا ہے۔‘‘{۴۸}</p>
<p>کہو ’’ حق آگیا اور اب باطل کے لیے کچھ نہیں ہوسکتا{۴۹}</p>
<p>‘‘کہو ’’ اگر میں گمراہ ہوگیا ہوں تو میری گمراہی کا وبال مجھ پر ہے ، اور اگر میں ہدایت پر ہوں تو اُس وحی کی بناپر ہو ں جو میرا رَبّ میرے اوپر نازل کرتا ہے ، وہ سب کچھ سنتا ہے اور قریب ہی ہے‘‘[71]{۵۰}</p>
<p>کاش تم دیکھو انہیں اُس و قت جب یہ لوگ گھبرائے پھر رہے ہوں گے اور کہیں بچ کر نہ جاسکیںگے ، بلکہ قریب ہی سے پکڑ لئے جائیں گے [72]{۵۱}</p>
<p>اُس وقت یہ کہیں گے کہ ہم اُس پر ایمان لئے آئے۔ [73]حالاں کہ اب دُور نکلی ہوئی چیز کہاں ہاتھ آسکتی ہے[74]{۵۲}</p>
<p>اس سے پہلے یہ کفر کرچکے تھے اور بلا تحقیق دُور دُور کی کوڑیاں لایا کرتے تھے[75]{ ۵۳}</p>
<p>اُس وقت جس چیز کی یہ تمنّا کررہے ہوں گے۔ اس سے محروم کردیے جائیں گے جس طرح اِن کے پیش روہم مشرب محروم ہوچکے ہوں گے، یہ بڑے گمراہ کن شک میں پڑے ہوئے تھے۔[76]{۵۴}</p>

</div><div id="35"><p>سورۃفاطر </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔</p>
<p>تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین کا بنانے والا اور فرشتوں کو پیغام رساں مقرر کرنے والاہے، [1] (ایسے فرشتے) جن کے دو دو اور تین تین اور چار چار بازو ہیں۔[2] وہ اپنی مخلوق کی ساخت میں جیسا چاہتا ہے اضافہ کرتا ہے  ۔[3] یقینا اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔{۱}</p>
<p> اللہ جس رحمت کا دروازہ بھی لوگوں کے لیے کھول دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے وہ بندکردے اسے اللہ کے بعد پھر کوئی دوسرا کھولنے والا نہیں،[4] وہ زبردست اور حکیم ہے۔[5]{ ۲}</p>
<p> لوگو ! تم پر اللہ کے جو احسانات ہیں انہیں یادرکھو۔[6] کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق بھی ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہو؟ کوئی معبُود اُس کے سوانہیں ، آخر تم کہاں سے دھوکا کھارہے ہو؟[7]{۳}</p>
<p>اب اگر ( اے نبی  ؐ!) یہ لوگ تمہیں جھٹلاتے ہیں[8] ( تو یہ کوئی نئی بات نہیں) ، تم سے پہلے بھی بہت سے رسُول جھٹلائے جاچکے ہیں اور سارے معاملات آخر کار اللہ ہی کی طرف رُجوع ہونے والے ہیں۔ [9]{۴}</p>
<p>  لوگو! اللہ کا وعدہ یقینا برحق ہے ،[10] لہٰذا دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے[11] اور نہ وہ بڑا دھوکے باز تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکہ دینے پائے۔[12]{۵}</p>
<p>درحقیقت شیطان تمہارا دشمن ہے اس لیے تم بھی اسے اپنا دشمن ہی سمجھو۔ وہ تو اپنے پیرووں کو اپنی راہ پر اس لیے بُلارہا ہے کہ وہ دوزخیوں میں شامل ہوجائیں {۶}</p>
<p> جو لوگ کفر کریں گے[13] اُن کے لیے سخت عذاب ہے اور جو ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے اُن کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے۔[14]{۷}</p>
<p>(بھلا [15]کچھ ٹھکانا ہے اُس شخص کی گمراہی کا ) جس کے لیے اُس کا بُرا عمل خوشنما بنادیا گیا ہو اور وہ اُسے اچھا سمجھ رہاہو ؟ [16]حقیقت یہ ہے کہ اللہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں ڈال دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہ راست دکھادیتا ہے پس ( اے نبی  ؐ!) خواہ مخواہ تمہاری جان ان لوگوں کی خاطر غم وافسوس میں نہ گھلے ۔[17]جو کچھ یہ کررہے ہیں اللہ اُس کو خوب جانتا ہے۔[18]{۸}</p>
<p> وہ اللہ ہی تو ہے جو ہوا ؤں کو بھیجتا ہے ، پھر وہ بادل اُٹھاتی ہیں۔ پھر ہم اُسے ایک اُجاڑ علاقے کی طرف لے جاتے ہیں اور اُس کے ذریعہ سے اُسی زمین کو جِلا اُٹھاتے ہیں جو مری پڑی تھی۔ مرے ہوئے انسانوں کا جی اُٹھنا بھی اسی طرح ہوگا۔[19]{۹}</p>
<p>جو کوئی عزّت چاہتا ہو اُسے معلوم ہونا چاہئے کہ عزّت ساری کی ساری اللہ کی ہے۔ [20]اُس کے ہاں جو چیز اوپر چڑھتی ہے وہ صرف پاکیزہ قول ہے، اور عملِ صالح اُس کو اُوپر چڑھاتا ہے۔[21] رہے وہ لوگ جو بے ہودہ چال بازیاں کرتے ہیں ،[22]اُن کے لیے سخت عذاب ہے اوراُن کا مکر خودہی غارت ہونے والا ہے۔{۱۰}</p>
<p>اللہ [23]نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ، پھر نطفہ سے ،[24] پھر تمہارے جوڑے بنادیے ( یعنی مرد اور عورت )۔ کوئی عورت حاملہ نہیں ہوتی اور نہ بچّہ جنتی ہے مگر یہ سب کچھ اللہ کے علم میں ہوتا ہے ۔ کوئی عمر پانے والا عمر نہیں پاتا اور نہ کسی کی عمر میں کچھ کمی ہوتی ہے مگر یہ سب کچھ ایک کتاب میں لکھا ہوتا ہے۔ [25]اللہ کے لیے یہ بہت آسان کام ہے۔[26]{۱۱}</p>
<p> اور پانی کے دونوں ذخیرے یکساں نہیں ہیں۔[27]ایک میٹھا اور پیاس بُجھانے والا ہے ، پینے میں خوشگوار ، اور دُوسرا سخت کھاری کہ حلق چھیل دے ۔ مگر دونوں سے تم تروتازہ گوشت حاصل کرتے ہو، [28]پہننے کے لیے زینت کا سامان نکالتے ہو ،[29] اور اسی پانی میں تم دیکھتے ہوکہ کشتیاں اُس کا سینہ چیرتی چلی جاری ہیں، تا کہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو اور اُس کے شکرگزار بنو۔{ ۱۲}</p>
<p>وہ دن کے اندر رات اور رات کے اندر دن کو پروتا ہوا لے آتا ہے۔ [30]چاند اور سُورج کو اس نے مسخر کررکھا ہے ۔[31] یہ سب کچھ ایک وقت مقرر تک چلا جارہا ہے ۔ وہی اللہ (جس کے یہ سارے کام ہیں) تمہارا رَبّ ہے۔ بادشاہی اُسی کی ہے۔ اُسے چھوڑ کر جن دُوسروں کو تم پکارتے ہو وہ ایک پر کاہ [32]کے مالک بھی نہیں ہیں۔{۱۳}</p>
<p>انہیں پکارو تو وہ تمہاری دعائیں سُن نہیں سکتے اور سُن لیں تو ان کا تمہیں کوئی جواب نہیں دے سکتے ۔ [33]اور قیامت کے روز وہ تمہارے شرک کا انکار کردیں گے۔[34]حقیقت حال کی ایسی صحیح خبر تمہیں ایک خبردار کے سوا کوئی نہیں دے سکتا۔[35]{ ۱۴}</p>
<p>لوگو! تم ہی اللہ کے محتاج ہو [36]اور اللہ تو غنی وحمید ہے[37] {۱۵}</p>
<p> وہ چاہے تو تمہیں ہٹاکر کوئی نئی خلقت تمہاری جگہ لے آئے {۱۶}</p>
<p>ایسا کرنا اللہکے لیے کچھ بھی دشوار نہیں۔[38]{۱۷}</p>
<p>کوئی بوجھ اُٹھانے والا کسی دُوسرے کا بوجھ نہ اُٹھائے گا ۔[39] اور اگر کوئی لداہوا نفس اپنا بوجھ اُٹھانے کے لیے پُکارے گا تو اس کے بار کا ایک ادنیٰ حصّہ بھی بٹانیکے لیے کوئی نہ آئے گا چاہے وہ قریب ترین رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔[40] ( اے نبی  ؐ!) تم صرف اُنہی لوگوں کو متنبہ کرسکتے ہو جوبے دیکھے اپنے رَبّ سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں۔[41] جو شخص بھی پاکیزگی اختیار کرتا ہے اپنی ہی بھلائی کے لیے کرتا ہے۔ اور پلٹنا سب کو اللہ ہی کی طرف ہے۔{۱۸}</p>
<p> اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہے۔ {۱۹}</p>
<p> نہ تاریکیاں اور روشنی یکساں ہیں۔{۲۰}</p>
<p>نہ ٹھنڈی چھا ؤں اور دُھوپ کی تپش ایک جیسی ہے {۲۱}</p>
<p> اور نہ زندے اور مُردے مساوی ہیں۔[42] اللہ جسے چاہتا ہے سنو اتا ہے، مگر ( اے نبی  ؐ! ) تم ان لوگوں کو نہیں سُنا سکتے جو قبروں میں مدفون ہیں ۔[43] {۲۲}</p>
<p>تم تو بس ایک خبردار کرنے والے ہو۔[44]{ ۲۳}</p>
<p>ہم نے تم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بناکر ۔اور کوئی اُمّت ایسی نہیں گزری ہے جس میں کوئی متنبہ کرنے والا نہ آیا ہو۔[45]{ ۲۴}</p>
<p>اب اگر یہ لوگ تمہیں جھٹلاتے ہیں تو اِن سے پہلے گزرے ہوئے لوگ بھی جھٹلاچکے ہیں۔ اُن کے پاس ان کے رسُول کُھلے دلائل [46]اور صحیفے اور روشن ہدایات دینے والی کتاب [47]لے کر آئے تھے۔{۲۵}</p>
<p>پھر جن لوگوں نے نہ مانا اُن کو میں نے پکڑلیا اور دیکھ لو کہ میری سزاکیسی سخت تھی۔{۲۶}</p>
<p>   کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ آسمان سے پانی برساتا ہے اور پھر اس کے ذریعہ سے ہم طرح طرح کے پھل نکال لاتے ہیں جن کے رنگ مختلف ہوتے ہیں۔پہاڑوں میں بھی سفید، سُرخ اور گہری سیاہ دھاریاں پائی جاتی ہیں جن کے رنگ مختلف ہوتے ہیں۔{۲۷}</p>
<p> اور اِسی طرح انسانوں اور جانوروں اور مویشیوں کے رنگ بھی مختلف ہیں۔[48] حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے لوگ ہی اُس سے ڈرتے ہیں۔[49]  بے شک اللہ زبردست اور درگزر فرمانے والا ہے[50]{۲۸}</p>
<p>جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے اُنہیں رزق دیا ہے اس میں سے کُھلے اور چُھپے خرچ کرتے ہیں ، یقینا وہ ایک ایسی تجارت کے متوقع ہیں جس میں ہرگز خسارہ نہ ہوگا۔{۲۹}</p>
<p> ( اِس تجارت میں انہوں نے اپنا سب کچھ اس لیے کھپایا ہے) تا کہ اللہ اُن کے اجر پُورے کے پُورے اُن کو دے اور مزید اپنے فضل سے ان کو عطا فرمائے۔ [51]بے شک اللہ بخشنے والا اور قدر دان ہے۔[52]{۳۰}</p>
<p>   (اے نبی  ؐ! ) جو کتاب ہم نے تمہاری طرف وحی کے ذریعہ سے بھیجی ہے وہی حق ہے ، تصدیق کرتی ہوئی آئی ہے اُن کتابوں کی جو اِس سے پہلے آئی تھیں۔[53] بیشک اللہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور ہر چیز پر نگاہ رکھنے والا ہے۔[54]{۳۱}</p>
<p>پھر ہم نے اِس کتاب کا وارث بنادیا اُن لوگوں کو جنہیں ہم نے ( اِس وراثت کے لیے) اپنے بندوں میں سے چُن لیا۔[55] اب کوئی تو ان میں سے اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہے ، اور کوئی بیچ کی راس (میانہ رو)ہے، اور کوئی اللہ کے اِذن سے نیکیوں میں سبقت کرنے والا ہے ، یہی بہت بڑا فضل ہے۔ [56]{۳۲}</p>
<p> ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن میں یہ لوگ داخل ہوں گے۔[57] وہاں انہیں سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ کیا جائے گا ، وہاں ان کا لباس ریشم ہوگا{۳۳}</p>
<p>اور وہ کہیں گے کہ ’’ شکر ہے اُس اللہ کا جس نے ہم سے غم دُور کردیا، [58]یقینا ہمارا رَبّ معاف کرنے والا اور قدر فرمانے والا ہے [59]{۳۴}</p>
<p>جس نے ہمیں اپنے فضل سے ابدی قیام کی جگہ ٹھہرادیا ،[60]اب یہاں نہ ہمیں کوئی مشقت پیش آتی ہے اور نہ تکان لاحق ہوتی ہے ‘‘۔[61]{۳۵}</p>
<p>  اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے [62]اُن کے لیے جہنّم کی آگ ہے ۔ نہ اُن کا قصہ پاک کردیا جائے گا کہ مرجائیں اور نہ  اُن کے لیے جہنّم کے عذاب میں کوئی کمی کی جائے گی ۔ اس طرح ہم بدلہ دیتے ہیں ہر اُس شخص کو جو کفر کرنے والا ہو۔{۳۶}</p>
<p> وہ وہاں چیخ چیخ کر کہیں گے کہ ’’ اے ہمارے رَبّ !ہمیں یہاں سے نکال لے تا کہ ہم نیک عمل کریں اُن اعمال سے مختلف جو پہلے کرتے رہے تھے۔ ‘‘( انہیں جو اب دیا جائے گا) ’’کیا ہم نے تم کو  اِتنی عمر نہ دی تھی جس میں کوئی سبق لینا چاہتا تو سبق لے سکتا تھا؟ [63]اور تمہارے پاس متنبّہ کرنے و الا بھی آچکا تھا ۔ اب مزہ چکھو ۔ ظالموں کا یہاں کوئی مددگار نہیں ہے‘‘۔{۳۷}</p>
<p>بے شک اللہ آسمانوں اور زمین کی ہر پوشیدہ چیز سے واقف ہے ، وہ توسینوں کے چُھپے ہوئے راز تک جانتا ہے{۳۸}</p>
<p> وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے۔[64] اب جو کوئی کفر کرتا ہے اس کے کفر کا وبال اُسی پر ہے ،[65] اور کافروں کو اُن کا کفر اِس کے سوا کوئی ترقی نہیں دیتا کہ ان کے رَبّ کا غضب اُن پر زیادہ سے زیادہ بھڑ کتا چلا جاتا ہے۔ کافروں کے لیے خسارے میں اضافے کے سوا کوئی ترقی نہیں{۳۹}</p>
<p>( اے نبی  ؐ!) ان سے کہو ، ’’ کبھی تم نے دیکھا بھی ہے اپنے اُن شریکوں[66] کو جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے ہو ؟ مجھے بتا ؤ ، اُنہوں نے زمین میں کیا پیدا کیا ہے ؟ یا آسمانوں میں ان کی کیا شرکت ہے ؟ ‘‘ ( اگر یہ نہیں بتاسکتے تو ان سے پُوچھو ) کیا ہم نے انہیں کوئی تحریر لکھ کردی ہے جس کی بناپر یہ ( اپنے اِس شرک کے لیے ) کوئی صاف سند رکھتے ہوں ؟[67] نہیں، بلکہ یہ ظالم ایک دُوسرے کو محض فریب کے جھانسے دیے جارہے ہیں[68] {۴۰}</p>
<p> حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی ہے جو آسمانوں اور زمین کو ٹل جانے سے روکے ہوئے ہے ، اور اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے بعد کوئی دُوسرا اُنہیں تھامنے والا نہیں ہے [69]بے شک اللہ بڑا حلیم اور درگزر فرمانے والا ہے۔[70]{۴۱}</p>
<p>یہ لوگ کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی خبردار کرنے والا ان کے ہاں آگیا ہوتا تو یہ دنیا کی ہر دُوسری قوم سے بڑھ کرراست روہوتے ۔ [71]مگر جب خبردار کرنے والا اِن کے ہاں آگیا تو اُس کی آمد نے ان کے اندر حق سے فرار کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کیا۔{ ۴۲}</p>
<p>یہ زمین میں اور زیادہ سرکشی کرنے لگے اور برُی برُی چالیں چلنے لگے ، حالاں کہ بُری چالیں اپنے چلنے والوں ہی کو لے بیٹھتی ہیں۔ اب کیا یہ لوگ اِس کا انتظار کررہے ہیں کہ پچھلی قوموں کے ساتھ اللہ کا جو طریقہ رہا ہے وہی ان کے ساتھ بھی برتا جائے ؟[72] یہی بات ہے تو تم اللہ کے طریقے میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ پا ؤ گے اور تم کبھی نہ دیکھو گے کہ اللہ کی سُنّت کو اُس کے مقرر راستے سے کوئی طاقت پھیرسکتی ہے ۔{۴۳}</p>
<p>کیا یہ لوگ زمین میں کبھی چلے پھرے نہیں ہیں کہ ِانہیں اُن لوگوں کا انجام نظر آتا جو ان سے پہلے گزرچکے ہیں اور اِن سے بہت زیادہ طاقت ورتھے ؟ اللہ کو کوئی چیز عاجز کرنے والی نہیں ہے۔ نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں۔ وہ سب کچھ جانتا ہے اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔{ ۴۴}</p>
<p>اگر کہیں وہ لوگوں کو اُن کے کئے کرتُوتوں پر پکڑتا تو زمین پر کسی متنفس کو جیتا نہ چھوڑتا ، مگر وہ انہیں ایک مقرر وقت تک کے لیے مُہلت دے رہا ہے، پھر جب ان کا وقت آن پُورا ہوگا تو اللہ اپنے بندوں کو دیکھ لے گا۔{۴۵}</p>

</div><div id="36"><p>سورۃ  یٰسٓ </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔</p>
<p> یسٰںٓ[1]{۱}</p>
<p> قسم ہے قرآن ِحکیم کی{ ۲}</p>
<p>کہ(اے نبی  ؐ!) تم یقینا رسُولوں میں سے ہو۔ [2]{۳}</p>
<p> سیدھے راستے پر ہو۔{۴}</p>
<p>( اور یہ قرآن ) غالب اور رحیم ہستی کا نازل کردہ ہے۔[3]{۵}</p>
<p> تا کہ تم خبردار کرو ایک ایسی قوم کو جس کے باپ دادا خبردار نہ کئے گئے تھے اور اس وجہ سے وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔[4]{۶}</p>
<p>  ان میں سے اکثر لوگ فیصلۂ عذاب کےمستحق ہوچکے ہیں ، اِسی لئے وہ ایمان نہیں لاتے۔ [5]{۷}</p>
<p> ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں جن سے وہ ٹھوڑیوں تک جکڑے گئے ہیں ، اس لیے وہ سراُٹھائے کھڑے ہیں۔[6]{۸}</p>
<p>ہم نے ایک دیوار اُن کے آگے کھڑی کردی ہے اور ایک دیوار اُن کے پیچھے ۔ ہم نے انہیں ڈھانک دیا ہے ، انہیں اب کچھ نہیں سوجھتا۔[7]{۹}</p>
<p> ان کے لیے یکساں ہے ، تم انہیں خبردار کرویا نہ کرو ، یہ نہ مانیں گے۔[8]{ ۱۰}</p>
<p> تم تو اُسی شخص کو خبردار کرسکتے ہو جو نصیحت کی پیروی کرے اور بے دیکھے رَبِّ رحمن سے ڈرے۔ اُسے مغفرت اور اجر کریم کی بشارت دے دو۔{۱۱}</p>
<p>  ہم یقینا ایک روز مُردوں کو زندہ کرنے والے ہیں۔ جو کچھ افعال اُنہوں نے کئے ہیں وہ سب ہم لکھتے جارہے ہیں اور جو کچھ آثار انہو ں نے پیچھے چھوڑے ہیں وہ بھی ہم ثبت کررہے ہیں ۔[9] ہر چیز کو ہم نے ایک کھلی کتاب میں درج کررکھا ہے۔{ ۱۲}</p>
<p> اِنہیں مثال کے طور پر اُس بستی والوں کا قصہ سنا ؤ جب کہ اس میں رسول ؑ  آئے تھے۔[10]{ ۱۳}</p>
<p> ہم نے ان کی طرف دو رسول بھیجے اور انہوں نے دونوں کو جھٹلادیا ۔ پھر ہم نے تیسرا مدد کے لیے بھیجا اور ان سب نے کہاکہ ’’ہم تمہاری طر ف رسول ؑکی حیثیت سے بھیجے گئے ہیں‘‘۔{ ۱۴}</p>
<p>بستی والوں نے کہا ’’ تم کچھ نہیں ہو مگر ہم جیسے چند انسان ،[11] اور رحمن نے ہر گز کوئی چیز نازل نہیں کی ہے[12] تم محض جُھوٹ بولتے ہو‘‘{۱۵}</p>
<p>رسُولوں ؑنے کہا ’’ ہمارا رَبّ جانتا ہے کہ ہم ضرور تمہاری طرف رسُول ؑ بناکر بھیجے گئے ہیں،{۱۶}</p>
<p> اور ہم پر صاف صاف پیغام پہنچادینے کے سوا کوئی ذمّہ داری نہیں ہے‘‘۔[13]{۱۷}</p>
<p> بستی والے کہنے لگے ’’ ہم تو تمہیں اپنے لئے فالِ بد سمجھتے ہیں ۔[14] اگر تم باز نہ آئے تو ہم تم کو سنگسار کردیں گے اور ہم سے تم بڑی درد ناک سزاپا ؤگے‘‘۔{۱۸}</p>
<p> رسُولوں نے جواب دیا ’’ تمہاری فالِ بد تو تمہارے اپنے ساتھ لگی ہوئی ہے۔ [15]کیا یہ باتیں تم اس لیے کرتے ہو کہ تمہیں نصیحت کی گئی؟ اصل بات یہ ہے کہ تم حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو‘‘۔[16]{۱۹}</p>
<p> اتنے میں شہر کے دُور دراز گوشے سے ایک شخص دوڑ تا ہوا آیا اور بولا’’ اے میری قوم کے لوگو!رسُولوں ؑ کی پیروی اختیار کرلو۔{۲۰}</p>
<p> پیروی کرو اُن لوگوں کی جو تم سے کوئی اجر نہیں چاہتے اور ٹھیک راستے پر ہیں۔[17]{۲۱}</p>
<p>آخر کیوں نہ میں اس ہستی کی بندگی کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور جس کی طرف تم سب کو پلٹ کرجانا ہے ؟[18]{۲۲}</p>
<p>کیا میں اسے چھوڑ کر دوسرے معبُود بنالوں ؟ حالاں کہ اگر رحمن مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو نہ ان کی شفاعت میرے کسی کام آسکتی ہے اور نہ وہ مجھے چُھڑاہی سکتے ہیں۔[19]{۲۳}</p>
<p>اگر میں ایسا کروں [20]تو میں صریح گمراہی میں مبتلا ہوجا ؤں گا {۲۴}</p>
<p> میں تو تمہارے رَبّ پر ایمان لے آیا [21]تم بھی میری بات مان لو‘‘{۲۵}</p>
<p>(آخر کار اُن لوگوں نے اسے قتل کردیااور) اُس شخص سے کہہ دیا گیا۔ ’’ داخل ہوجاجنت میں ‘‘ ۔[22] اُس نے کہا ’’کاش میری قوم کو یہ معلوم ہوتا{۲۶}</p>
<p>کہ میرے رَبّ نے کس چیز کی بدولت میری مغفرت فرمادی اور مجھے باعزّت لوگوں میں داخل فرمایا۔‘‘[23]{۲۷}</p>
<p>اُس کے بعداُس کی قوم پر ہم نے آسمان سے کوئی لشکر نہیں اُتارا ۔ ہمیں لشکر بھیجنے کی کوئی حاجت نہ تھی۔{۲۸}</p>
<p> بس ایک دھماکہ ہوا اور یکایک وہ سب بُجھ کررہ گئے۔2[24]{۲۹}</p>
<p> افسوس بندوں کے حال پر ، جو رسُول ؑبھی ان کے پاس آیا اس کا وہ مذاق ہی اڑاتے رہے ۔{۳۰}</p>
<p> کیا اُنہوں نے دیکھا نہیں اُن سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں اور اس کے بعد وہ پھر کبھی ان کی طرف پلٹ کرنہ آئے؟[25] {۳۱}</p>
<p> ان سب کو ایک روزہمارے سامنے حاضر کیا جانا ہے۔ { ۳۲}</p>
<p> اِن[26] لوگوں کے لیے بے جان زمین ایک نشانی ہے ۔[27] ہم نے اُس کو زندگی بخشی اور اِس سے غلہّ نکالا جسے یہ کھاتے ہیں۔{۳۳}</p>
<p>ہم نے اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کئے اور اس کے اندر سے چشمے پھوڑ نکالے{۳۴}</p>
<p> تا کہ یہ اس کے پھل کھائیں، یہ سب کچھ ان کے اپنے ہاتھوں کا پیدا کیا ہوا نہیں ہے۔[28]پھر کیا یہ شکر ادا نہیں کرتے ؟[29] {۳۵}</p>
<p>پاک ہے وہ ذات[30] جس نے جملہ اقسام کے جوڑے پیدا کئے خواہ وہ زمین کی نباتات میں سے ہوں یا خود ان کی اپنی جنس ( یعنی نوع انسانی )میں سے یا اُن اشیا ء میں سے جن کو یہ جانتے تک نہیں ہیں۔[31] {۳۶}</p>
<p>  اِن کے لیے ایک اور نشانی رات ہے ، ہم اس کے اُوپر سے دن ہٹا دیتے ہیں تو ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے۔ [32]{۳۷}</p>
<p> اور سُورج ،وہ اپنے ٹھکانے کی طرف چلاجارہا ہے۔ [33]یہ زبردست علیم ہستی کا باندھا ہوا حساب ہے۔{۳۸}</p>
<p> اور چاند ،اُس کے لیے ہم نے منزلیں مقرر کردی ہیں  یہاں تک کہ اُن سے گزر تا ہوا وہ پھر کھجور کی سوکھی شاخ کے مانندرہ جاتا ہے۔[34]{۳۹}</p>
<p>نہ سُورج  کے بس میں یہ ہے کہ وہ چاند کو جاپکڑے[35] اور نہ رات دن پر سبقت لے جاسکتی ہے۔ [36]سب ایک ایک فلک میں تیررہے ہیں۔[37]{۴۰}</p>
<p>اِن کے لیے یہ بھی ایک نشانی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی  میں  سوار کردیا[38]{۴۱}</p>
<p> اور پھر ان کے لیے ویسی ہی کشتیاں اور پیداکیں جن پر یہ سوار ہوتے ہیں۔[39]{۴۲}</p>
<p> ہم چاہیں تو اِن کو غرق کردیں ، کوئی اِن کی فریاد سننے والا نہ ہو۔ اور کسی طرح یہ نہ بچائے جاسکیں ۔{۴۳}</p>
<p>بس ہماری رحمت ہی ہے جو انہیں پارلگاتی اور ایک وقتِ خاص تک زندگی سے متمتع ہونے کا موقع دیتی ہے۔[40]{۴۴}</p>
<p>اور ان لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ بچو اُس انجام سے جو تمہارے آگے آرہا ہے اور تمہارے پیچھے گزر چکا ہے ، [41]شاید کہ تم پر رحم کیا جائے (تو یہ سُنی اَن سُنی کر جاتے ہیں)۔ {۴۵}</p>
<p>اور اِن کے سامنے ان کے رَبّ کی آیات میں سے جو آیت بھی آتی ہے یہ اس کی طرف التفات نہیں کرتے[42] {۴۶}</p>
<p> اور جب اِن سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو رزق تمہیں عطا کیا ہے اُس میں سے کچھ اللہ کی راہ میں بھی خرچ کرو تو یہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے ایمان لانے والوں کو جواب دیتے ہیں ’’ کیا ہم اُن کو کھلائیں جنہیں اگر اللہ چاہتا تو خود کھلادیتا ؟ تم تو بالکل ہی بہک گئے ہو ‘‘۔[43]{۴۷}</p>
<p>یہ[44] لوگ کہتے ہیں کہ ’’یہ قیامت کی دھمکی آخر کب پوری ہوگی؟ بتا ؤ اگر تم سچّے ہو‘‘ ۔[45]{۴۸}</p>
<p>دراصل یہ جس چیز کی راہ تک رہے ہیں وہ بس ایک دھماکہ ہے جو یکایک انہیں اِس حالت میں دھرلے گا جب یہ (اپنے دنیوی معاملات میں) جھگڑرہے ہوں گے۔{۴۹}</p>
<p> اور اس وقت یہ وصیت تک نہ کرسکیں گے ، نہ اپنے گھروں کو پلٹ سکیں گے۔[46]{۵۰}</p>
<p> پھر ایک صُور پُھو نکاجائے گا اور یکایک یہ اپنے رَبّ کے حضور پیش ہونے کے لیے  اپنی اپنی قبروں سے نکل پڑیں گے۔[47]{۵۱}</p>
<p> گھبراکر کہیں گے :’’ ارے ، یہ کس نے ہمیں ہماری خواب گاہ سے اٹھا کھڑا کیا‘‘؟[48]یہ وہی چیز ہے جس کا رحمن نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں ؑکی بات سچی تھی۔[49]{۵۲}</p>
<p> ایک ہی زور کی آواز ہوگی اور سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کردیے جائیں گے۔[50]{ ۵۳}</p>
<p> آج کسی پرذرّہ برابر ظلم نہ کیا جائے گا اور تمہیں ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسے تم عمل کرتے رہے تھے۔{۵۴}</p>
<p> (یقینا) آج جنتی لوگ مزے کرنے میں مشغول ہیں۔[51]{۵۵}</p>
<p> وہ اور ان کی بیویاں گھنے سایوں میں ہیں مسندوں پر تکیے لگائے ہوئے۔ {۵۶}</p>
<p>ہر قسم کی لذیذ چیزیں کھانے پینے کو ان کے لیے وہاں موجود ہیں ، جو کچھ وہ طلب کریں ان کے لیے  حاضر ہے{۵۷}</p>
<p> ربِّ رحیم کی طرف سے ان کو سلام کہا گیا ہے۔{۵۸}</p>
<p>اور اے مُجرمو! آج تم چھٹ کر الگ ہوجا ؤ ۔[52]{۵۹}</p>
<p> آدم کے بچّو ! کیا میں نے تم کو ہدایت نہ کی تھی کہ شیطان کی بندگی نہ کرو، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے {۶۰}</p>
<p>اور میری ہی بندگی کرو ، یہ سیدھا راستہ ہے؟[53]{۶۱}</p>
<p> مگر اس کے باوجود اُس نے تم میں سے ایک گروہ کثیر کو گمراہ کردیا ۔ کیا تم عقل نہیں رکھتے تھے ؟ [54]{۶۲}</p>
<p>یہ وہی جہنم ہے جس سے تم کو ڈرایا جاتا رہا تھا۔{۶۳}</p>
<p> جو کفر تم دنیا میں کرتے رہے ہو اُس کی پاداش میں اب اس کا ایندھن بنو۔{ ۶۴}</p>
<p>آج ہم اِن کے منھ بند کئے دیتے ہیں ، اِن کے ہاتھ ہم سے بولیں گے اور ان کے پا ؤں گواہی دیں گے کہ یہ دنیا میں کیا کمائی کرتے رہے ہیں۔[55]{۶۵}</p>
<p>ہم چاہیں تو ان کی آنکھیں مُونددیں ، پھر یہ راستے کی طرف لپک کر دیکھیں ، کہاں سے انہیں راستہ سجھائی دے گا؟{۶۶}</p>
<p> ہم چاہیں تو اِنہیں اِن کی جگہ ہی پر اس طرح مسخ  کرکے رکھ[56] دیں کہ یہ نہ آگے چل سکیں نہ پیچھے پلٹ سکیں۔{۶۷}</p>
<p>  جس شخص کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں اس کی ساخت کو ہم الٹ ہی دیتے ہیں ۔[57]کیا( یہ حالات دیکھ کر ) اِنہیں عقل نہیں آتی؟ {۶۸}</p>
<p> ہم نے اِس ( نبی  ؐ ) کو شعر نہیں سکھایا ہے اور نہ شاعری اس کو زیب ہی دیتی ہے۔[58] یہ تو ایک نصیحت ہے اور صاف پڑھی جانے والی کتاب {۶۹}</p>
<p>تا کہ وہ ہر اس شخص کو خبردار کردے جو زندہ ہو[59] اور انکار کرنے والوں پر حجّت قائم ہوجائے۔{۷۰}</p>
<p>کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم نے اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں [60]میں سے ان کے لیے مویشی پیدا کئے ہیں اور اب یہ ان کے مالک ہیں۔{۷۱}</p>
<p> ہم نے اُنہیں اِس طرح ان کے بس میں کردیا ہے کہ اُن میں سے کسی پر یہ سوار ہوتے ہیں، کسی کا یہ گوشت کھاتے ہیں{ ۷۲}</p>
<p> اور اُن کے اندر اِن کے لیے  طرح طرح کے فوائد اور مشروبات ہیں۔ پھر کیا یہ شکر گزار نہیں ہوتے ؟[61]{۷۳}</p>
<p>( یہ سب کچھ ہوتے ہوئے) اِنہوں نے اللہ کے سوا دوسرے اِلٰہ بنالئے ہیں اور یہ اُمید رکھتے ہیں کہ ان کی مدد کی جائے گی۔{۷۴}</p>
<p> وہ ان کی کوئی مدد نہیں کرسکتے، بلکہ یہ لوگ اُلٹے اُن کے لیے  حاضر باش لشکر بنے ہوئے ہیں[62]{۷۵}</p>
<p>اچھا ، جوباتیں یہ بنارہے ہیں وہ تمہیں رنجیدہ نہ کریں ، ان کی چھپی اور کھلی سب باتوں کو ہم جانتے ہیں۔[63]{۷۶}</p>
<p>کیا [64]انسان دیکھتا نہیں ہے کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا اور پھر وہ صریح جھگڑالُو بن کر کھڑا ہوگیا؟ [65]{۷۷}</p>
<p> اب وہ ہم پر مثالیں چسپاں کرتا ہے[66] اور اپنی پیدائش کو بُھول جاتا ہے ۔ [67]کہتا ہے ’’ کون اِن ہڈیوں کو زندہ کرے گا جب کہ یہ بوسیدہ ہوچکی ہوں ؟‘‘ {۷۸}</p>
<p>اس سے کہو ، انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے پہلے انہیں پیدا کیا تھا ، اور وہ تخلیق کا ہر کام جانتا ہے {۷۹}</p>
<p>وہی جس نے تمہارے لئے ہرے بھرے درخت سے آگ پیدا کردی اور تم اس سے اپنے  چُولہے روشن کرتے ہو۔ [68]{۸۰}</p>
<p>  کیا وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اِس پر قادر نہیں ہے کہ ان جیسوں کو پیدا کرسکے ؟ کیوں نہیں ، جب کہ وہ ماہر خَلّاق ہے۔ {۸۱}</p>
<p> وہ توجب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا کام بس یہ ہے کہ اسے حکم دے کہ ہوجا اور وہ ہوجاتی ہے۔{ ۸۲}</p>
<p> پاک ہے وہ جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا مکمل اقتدار ہے ، اور اُسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو۔{ ۸۳}</p>

</div><div id="37"><p>سورۃ  الصٰٓفّٰت </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔</p>
<p> قطاردرقطار صف باندھنے والوں کی قسم {۱}</p>
<p> پھراُن کی قسم جو ڈانٹنے پھٹکارنے والے ہیں{ ۲}</p>
<p>پھر اُن کی قسم جو کلام نصیحت سنانے والے ہیں۔[1] {۳}</p>
<p> تمہارا معبُودِ حقیقی بس ایک ہی ہے۔[2]{ ۴}</p>
<p>وہ جو زمین اور آسمانوں کا اور تمام اُن چیزوں کا مالک ہے جو زمین و آسمان میں ہیں ، اور سارے مشرقوں [3]کا مالک۔ [4] {۵}</p>
<p> ہم نے آسمانِ دُنیا [5]کو تاروں کی زینت سے آراستہ کیا ہے {۶}</p>
<p>اور ہر شیطان سرکش سے اس کو محفوظ کردیا ہے۔[6]{۷}</p>
<p> یہ شیاطین ملاء اعلیٰ کی باتیں نہیں سُن سکتے، ہر طرف سے مارے اور ہانکے جاتے ہیں {۸}</p>
<p>اور ان کے لیے  پیہم عذاب ہے۔{۹}</p>
<p> تاہم اگر کوئی ان میں سے کچھ لے اُڑے تو ایک تیز شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔[7]{۱۰}</p>
<p>اب اِن سے پوچھو ، ان کی پیدائش زیادہ مشکل ہے یا اُن چیزوں کو جو ہم نے پیدا کر رکھی ہیں ؟[8] اِن کو تو ہم نے لیس دار گارے سے پیدا کیا ہے۔[9]{۱۱}</p>
<p> تم (اللہ کی قدرت کے کرشموں پر ) حیران ہو اور یہ اس کا مذاق اڑارہے ہیں۔{ ۱۲}</p>
<p>سمجھایا جاتا ہے تو سمجھ کر نہیں دیتے۔{۱۳}</p>
<p>کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اسے ٹھٹھوں میں اُڑاتے ہیں۔{ ۱۴}</p>
<p> اور کہتے ہیں ’’یہ تو صریح جادُو ہے[10]{۱۵}</p>
<p>بھلاکہیں ایسا  ہوسکتا ہے کہ جب ہم مرچکے ہوں اور مٹی بن جائیں اور ہڈیوں کا پنجر رہ جائیں اُس وقت ہم پھر زندہ کرکے اٹھاکھڑے کئے جائیں؟ {۱۶}</p>
<p> اور کیا ہمارے اگلے وقتوں کے آباؤ اجداد بھی اٹھائے جائیں گے ؟‘‘ {۱۷}</p>
<p>اِن سے کہو ہاں ،اور تم (اللہ کے مقابلے میں ) بے بس ہو۔[11]{۱۸}</p>
<p>’’بس ایک ہی جھڑکی ہوگی اور یکایک یہ اپنی آنکھوں سے ( وہ سب کچھ جس کی خبردی جارہی ہے) دیکھ رہے ہوں گے۔[12]{۱۹}</p>
<p>اس وقت یہ کہیں گے ’’ہائے ہماری کم بختی، یہ تو یوم الجزاء ہے ‘‘۔{۲۰}</p>
<p> یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم جُھٹلایا کرتے تھے۔ [13] {۲۱}</p>
<p> (حکم ہوگا )’’ گھیرلا ؤ سب ظالموں[14] اور ان کے ساتھیوں[15] اور اُن معبُودوں  کو جن کی وہ بندگی کیا کرتے تھے [16]{۲۲}</p>
<p>اللہ کو چھوڑ کر۔پھر ان سب کو جہنم کا راستہ دکھا ؤ۔{۲۳}</p>
<p> اور ذرا اِنہیں ٹھہرا ؤ ، ان سے کچھ پُوچھنا ہے ۔{۲۴}</p>
<p> کیا ہوگیا تمہیں ، ا ب کیوں ایک دُوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟{۲۵}</p>
<p>’ ارے، آج تو یہ اپنے آپ کو (اور ایک دُوسرے کو ) حوالے کئے دے رہے ہیں ‘‘![17]{۲۶}</p>
<p> اس کے بعد یہ ایک دُوسرے کی طرف مڑیں گے اور باہم تکرار شروع کردیں گے۔{۲۷}</p>
<p> (پیروی کرنے والے اپنے پیشوا ؤں سے ) کہیں گے ، ’’تم ہمارے پاس سیدھے رُخ سے آتے تھے‘‘[18]{۲۸}</p>
<p>وہ جواب دیں گے ، ’’نہیں، بلکہ تم خود ایمان لانے والے نہ تھے ۔{۲۹}</p>
<p>ہمارا تم پر کوئی زور نہ تھا ، تم خود ہی سرکش لوگ تھے{۳۰}</p>
<p> آخر کار ہم اپنے رَبّ کے اِس فرمان کے مستحق ہوگئے کہ ہم عذاب کا مزہ چکھنے والے ہیں۔ {۳۱}</p>
<p>سو ہم نے تم کو بہکایا ، درحقیقت ہم خود بہکے ہوئے تھے ‘‘۔[19]{۳۲}</p>
<p>اس طرح وہ سب اُس روز عذا ب میں مشترک ہوں گے۔ [20]{ ۳۳}</p>
<p>ہم مجرموں کے ساتھ یہی کچھ کیا کرتے ہیں۔{ ۳۴}</p>
<p>یہ وہ لوگ تھے کہ جب ان سے کہا جاتا ’’ اللہ کے سوا کوئی معبُودِ برحق نہیں ہے ‘‘ تو یہ گھمنڈ میں آجاتے تھے{۳۵}</p>
<p>اور کہتے تھے ’’ کیا ہم ایک شاعرِ مجنون کی خاطر اپنے معبُودوں کو چھوڑدیں ؟ ‘‘ {۳۶}</p>
<p>حالانکہ وہ حق لے کر آیا تھا اور اس نے رسُولوں کی تصدیق کی تھی۔[21]{۳۷}</p>
<p> ( اب ان سے کہا جائے گا کہ ) تم لازماً درد ناک سزا کا مزہ چکھنے والے ہو۔{۳۸}</p>
<p> اور تمہیں جو بدلہ بھی دیا جارہا ہے اُنہی اعمال کا دیا جارہا ہے جو تم کرتے رہے ہو۔{۳۹}</p>
<p>مگر اللہ کے چیدہ بندے ( اِس انجام بدسے ) محفوظ ہوں گے ۔{۴۰}</p>
<p>اُن کے لیے جانا بُوجھارزق ہے[22]{۴۱}</p>
<p> ہر طرح کی لذیذ چیزیں[23] اور وہ عزت کے ساتھ رکھے جائیں گے{۴۲}</p>
<p> نعمت بھری جنتوں میں {۴۳}</p>
<p> تختوں پر آمنے سامنے بیٹھیں گے ۔[24]{۴۴}</p>
<p>شراب کے چشموں سے [26]ساغر بھر بھر کران کے درمیان پھرائے جائیں گے ۔{۴۵}</p>
<p>چمکتی ہوئی شراب ، جو پینے والوں کے لیے  لذّت ہوگی۔{۴۶}</p>
<p> نہ اُن کے جسم کو اُس سے کوئی ضرر ہوگا اور نہ ان کی عقل اس سے خراب ہوگی۔[27]{۴۷}</p>
<p> اور ان کے پاس نگاہیں بچانے والی ،[28] خوبصورت آنکھوں والی عورتیں ہوں گی [29]{۴۸}</p>
<p>ایسی نازک جیسے انڈے کے چھلکے کے نیچے چھپی ہوئی جِھلی۔ [30]{۴۹}</p>
<p>پھر وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر حالات پُوچھیں گے {۵۰}</p>
<p> اُن میں سے ایک کہے گا، ’’دنیا میں میرا ایک ہم نشین تھا {۵۱}</p>
<p>جو مجھ سے کہا کرتا تھا ، کیا تم بھی تصدیق کرنے والوں میں سے ہو؟[31]{۵۲}</p>
<p> کیا واقعی جب ہم مرچکے ہوں گے اور مٹی ہوجائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کررہ جائیں گے تو ہمیں جزا وسزادی جائیگی؟{۵۳}</p>
<p>وہ کہے گااب کیا آپ لوگ دیکھنا چاہتے ہیں(کہ وہ صاحب اب کہاں ہیں)؟‘‘{۵۴}</p>
<p> یہ کہہ کر جو نہی وہ جُھکے گا تو جہنّم کی گہرائی میں اُس کو دیکھ لے گا {۵۵}</p>
<p>اور اس سے خطاب کرکے کہے گا ’’ اللہ کی قسم ، تُو تو مجھے تباہ ہی کر دینے والا تھا۔ {۵۶}</p>
<p>میرے رَبّ کا فضل شامل حال نہ ہوتا تو آج میں بھی اُن لوگوں میں سے ہوتا جو پکڑے ہوئے آئے ہیں۔ [32]{۵۷}</p>
<p> اچھا تو کیا اب ہم مرنے والے نہیں ہیں ؟{۵۸}</p>
<p> موت جو ہمیں آنی تھی وہ بس پہلے آچکی ؟ اب ہمیں کوئی عذاب نہیں ہونا ؟‘‘[33]{۵۹}</p>
<p> یقینا یہی عظیم الشّان کامیابی ہے۔{۶۰}</p>
<p> ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔ {۶۱}</p>
<p> بولو ، یہ ضیافت اچھی ہے یا زَقّوم[34] کا درخت ؟ {۶۲}</p>
<p>ہم نے اُس درخت کو ظالموں کے لیے  فتنہ بنادیا ہے۔ [35]{۶۳}</p>
<p>وہ ایک درخت ہے جو جہنّم کی تہہ سے نکلتا ہے۔{۶۴}</p>
<p>اُس کے شگوفے ایسے ہیں جیسے شیطانوں کے سر۔[36]{۶۵}</p>
<p>جہنّم کے لوگ اسے کھائیں گے اور اُسی سے پیٹ بھریں گے {۶۶}</p>
<p> پھر اس پر پینے کے لیے  ان کو کھولتا ہوا پانی ملے گا۔{۶۷}</p>
<p> اور اس کے بعد ان کی واپسی اُسی آتش ِدوزخ کی طرف ہوگی۔[37]{۶۸}</p>
<p> یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے باپ دادا کو گمراہ پایا {۶۹}</p>
<p>اور اُنہی کے نقشِ قدم پر دوڑ چلے[38] {۷۰}</p>
<p>حالاں کہ اُن سے پہلے بہت سے لوگ گمراہ ہوچکے تھے {۷۱}</p>
<p>اور اُن میں ہم نے تنبیہہ کرنے والے رسُول بھیجے تھے۔{۷۲}</p>
<p>اب دیکھ لوکہ اُن تنبیہ کئے جانے والوں کا کیا انجام ہوا۔ {۷۳}</p>
<p> اِس بد انجامی سے بس اللہ کے وہی بندے بچے ہیں جنہیں اس نے اپنے لئے خالص کرلیا ہے۔ {۷۴}</p>
<p>ہم کو [39] ( اِس سے پہلے ) نوحؑ نے پکارا تھا ،[40] تو دیکھو کہ ہم کیسے اچھے جواب دینے والے تھے۔{۷۵}</p>
<p> ہم نے اُس کو اور اس کے گھروالوں کو کربِ عظیم سے بچالیا [41]{۷۶}</p>
<p> اوراُسی کی نسل کو باقی رکھا [42]{۷۷}</p>
<p> اور بعد کی نسلوں میں اُس کی تعریف وتوصیف چھوڑدی۔ {۷۸}</p>
<p>  سلام ہے نوحؑ پر تمام دنیا والوں میں۔[43] {۷۹}</p>
<p> بے شک ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزادیا کرتے ہیں۔{۸۰}</p>
<p>درحقیقت وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔ {۸۱}</p>
<p> پھر دُوسرے گروہ کو ہم نے غرق کردیا۔{۸۲}</p>
<p>اور نوحؑ ہی کے طریقے پر چلنے والا ابراہیم ؑ تھا۔{۸۳}</p>
<p>جب وہ اپنے رَبّ کے حضور قلبِ سلیم لے کر آیا۔[44] {۸۴}</p>
<p>جب اُس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا [45]’’ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کر رہے ہو ؟ {۸۵}</p>
<p>کیا اللہ کو چھوڑ کر جُھوٹ گھڑے ہوئے معبُود چاہتے ہو؟{۸۶}</p>
<p>آخر رَبّ العالمین کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے ؟‘‘[46]{۸۷}</p>
<p>پھر[47] اُس نے تاروں پر ایک نگاہ ڈالی [48]{۸۸}</p>
<p>اور کہا میری طبیعت خراب ہے[49]{۸۹}</p>
<p> چنانچہ وہ لوگ اُسے چھوڑ کر چلے گئے ۔[50]{۹۰}</p>
<p> اُن کے پیچھے وہ چپکے سے اُن کے معبُودوں کے مندر میں گھس گیا اور بولا ’’ آپ لوگ کھاتے کیوں نہیں ہیں ؟[51]{۹۱}</p>
<p> کیا ہوگیا ، آپ لوگ بولتے بھی نہیں ؟‘‘ {۹۲}</p>
<p> اسکے بعد وہ اُن پرپل پڑا اور سیدھے ہاتھ سے خوب ضربیں لگائیں۔ {۹۳}</p>
<p> (واپس آکر ) وہ لوگ بھاگے بھاگے اُسکے پاس آئے۔[52]{ ۹۴}</p>
<p> اُس نے کہا ’’ کیا تم اپنی ہی تراشی ہو ی چیزوں کو پُوجتے ہو ؟ {۹۵}</p>
<p> حالاں کہ اللہ ہی نے تم کو بھی پیدا کیا ہے اور اُن چیزوں کو بھی جنہیں تم بناتے ہو۔‘‘{۹۶}</p>
<p> اُنہوں نے آپس میں کہا کہ ’’ اس کے لیے  ایک الا ؤ تیار کرو اور اسے دہکتی ہوئی آگ کے ڈھیر میں پھینک دو ‘‘۔{۹۷}</p>
<p> انہوں نے اسکے خلاف ایک کارروائی کرنی چاہی تھی ، مگر ہم نے اُنہی کو نیچا دکھادیا ۔[53] {۹۸}</p>
<p> ابرہیم ؑ نے کہا [54]’’ میں اپنے رَبّ کی طرف جاتا ہوں [55] وہی میری رہنمائی کرے گا{۹۹}</p>
<p> اے پروردگار ! مجھے ایک بیٹا عطا کر جو صالحوں میں سے ہو‘‘ ۔[56]{۱۰۰}</p>
<p> ( اِس دُعا کے جواب میں ) ہم نے اس کو ایک حلیم ( بُردبار) لڑکے کی بشار ت دی۔[57]{۱۰۱}</p>
<p>وہ لڑکا جب اس کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کی عمر کو پہنچ گیا تو ( ایک روز ) ابراہیم ؑ نے اُس سے کہا : ’’ بیٹا ! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کررہا ہوں ،[58] اب توبتا ، تیرا کیا خیال ہے ؟‘‘ [59]اُس نے کہا ، ’’ ابّاجان ، جو کچھ آپ کو حکم دیا جارہا ہے[60] اسے کر ڈالئے ، آپ ان شاء اللہ مجھے صابروں میں سے پائیں گے ‘‘۔ {۱۰۲}</p>
<p>آخر کو جب اُن دونوں نے سرِ تسلیم خم کردیا اور ابراہیم  ؑنے بیٹے کو ماتھے کے بَل گرادیا [61]{۱۰۳}</p>
<p>اور ہم نے ندا دی [62]کہ ’’اے ابراہیم ؑ!{۱۰۴}</p>
<p>تو نے خواب سچ کردکھا یا [63] ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزادیتے ہیں[64]{۱۰۵}</p>
<p>یقینا یہ ایک کُھلیآزمائش تھی‘‘۔[65]{۱۰۶}</p>
<p> اور ہم نے ایک بڑی قربانی فدیے میں دیکر اُس بچّے کو چھڑالیا۔ [66]{۱۰۷}</p>
<p>اور اُس کی تعریف و توصیف ہمیشہ کے لیے  بعد کی نسلوں میں چھوڑدی۔ {۱۰۸ }</p>
<p> سلام ہے ابراہیم ؑ پر۔ {۱۰۹}</p>
<p> ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزادیتے ہیں۔{۱۱۰}</p>
<p> یقینا وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔ {۱۱۱}</p>
<p> اور ہم نے اُسے اسحاقؑ کی بشارت دی، ایک نبی صالحین میں سے{ ۱۱۲}</p>
<p> اور اسے اور اسحاق ؑ کو برکت دی ۔[67] اب اُن دونوں کی ذرّیت میں سے کوئی مُحسن ہے اور کوئی اپنے نفس پر صریح ظلم کرنے والا ہے۔ [68]{ ۱۱۳}</p>
<p>  اور ہم نے موسیٰ ؑ و ہارونؑ پر احسان کیا {۱۱۴}</p>
<p>اُن کو اور ان کی قوم کو کربِ عظیم سے نجات دی [69]{۱۱۵}</p>
<p> اور اُنہیں نصرت بخشی جس کی وجہ سے وہی غالب رہے{۱۱۶}</p>
<p>پھر اُن کو نہایت واضح کتاب عطا کی۔{۱۱۷}</p>
<p> انہیں راہ ِراست دکھائی{۱۱۸}</p>
<p> اور بعد کی نسلوں میں ان کا ذِکر خیر باقی رکھا{۱۱۹}</p>
<p> سلام ہے موسیٰ  ؑاور ہارون ؑ پر۔{۱۲۰}</p>
<p>یقینا ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزادیتے ہیں {۱۲۱}</p>
<p>درحقیقت وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔{۱۲۲}</p>
<p>  اور الیاس ؑ بھی یقینا مُرسَلین میں سے تھا۔[70]{۱۲۳}</p>
<p>یاد کرو جب اس نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ ’’تم لوگ ڈرتے نہیں ہو ؟{۱۲۴}</p>
<p>کیا تم بعل[71] کو پکارتے ہو اور احسن الخالقین کو چھوڑ دیتے ہو {۱۲۵}</p>
<p> اُس اللہ کو جو تمہارا اور تمہارے اگلے پچھلے آباؤ اجداد کا رَبّ ہے ‘‘ ؟ {۱۲۶}</p>
<p> مگر اُنہوں نے اُسے جھٹلادیا، سو اب یقینا وہ سزا کے لیے  پیش کئے جانے والے ہیں۔{۱۲۷}</p>
<p>بجزاُن اللہ کے بندوں کے جن کو خالص کرلیا گیا تھا[72] {۱۲۸}</p>
<p> اور الیاس ؑ کا ذِکرخیر ہم نے بعد کی نسلوں میں باقی رکھا۔[73]{۱۲۹}</p>
<p>سلام ہے الیاسؑ پر۔ [74]{۱۳۰}</p>
<p>(ہاں ہاں)ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزادیتے ہیں۔{۱۳۱}</p>
<p> واقعی وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔{۱۳۲}</p>
<p>اور لوط  ؑ بھی انہی لوگوں میں سے تھا جو رسُول ؑ بناکر بھیجے گئے ہیں ۔{۱۳۳}</p>
<p>یاد کرو جب ہم نے اس کو اور اس کے سب گھروالوں کو نجات دی{۱۳۴}</p>
<p>سوائے ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی۔[75]{۱۳۵}</p>
<p> پھر باقی سب کو تَہس نَہس کردیا۔{۱۳۶}</p>
<p> آج تم بلا شبہ صبح کواُن کے اُجڑے دیار پر سے گزرتے ہو[76]{۱۳۷}</p>
<p> اور رات کو بھی ، پھر بھی کیا تم کو عقل نہیں آتی؟{۱۳۸}</p>
<p>  اور یقینا یونسؑ بھی رسُولوں میں سے تھا۔[77]{۱۳۹}</p>
<p> یادکرو جب وہ ایک بھری کشتی کی طرف بھاگ نکلا [78]{۱۴۰}</p>
<p>پھر قرعہ اندازی میں شریک ہوا اور اس میں مات کھائی ۔{۱۴۱}</p>
<p> آخر کار مچھلی نے اسے نگل لیا اور وہ ملامت زدہ تھا۔ [79]{۱۴۲}</p>
<p> اب اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا[80]{۱۴۳}</p>
<p> تو روز ِقیامت تک اُسی مچھلی کے پیٹ میں رہتا۔[81]  {۱۴۴}</p>
<p>آخر کار ہم نے اسے بڑی سقیم حالت میں ایک چٹیل زمین پر پھینک دیا۔[82]{۱۴۵}</p>
<p> اور اُس پر ایک بیل دار درخت اُگا دیا۔[83]{۱۴۶}</p>
<p> اِس کے بعد ہم نے اسے ایک لاکھ ، یا اس سے زائد لوگوں کی طرف بھیجا [84]{۱۴۷}</p>
<p> وہ ایمان لائے اور ہم نے ایک وقتِ خاص تک انہیں باقی رکھا ۔[85]{۱۴۸}</p>
<p>پھر ذرا ان لوگوں سے پوچھو،[86]کیا (اِن کے دل کو یہ بات لگتی ہے کہ) تمہارے رَبّ کے لیے  تو ہوں بیٹیاں اور اِن کے لیے  ہوں بیٹے ؟ [87]{۱۴۹}</p>
<p> کیا واقعی ہم نے ملائکہ کو عورتیں ہی بنایا ہے اور یہ آنکھوں دیکھی بات کہہ رہے ہیں{۱۵۰}</p>
<p>خُوب سن رکھو ، دراصل یہ لوگ اپنی من گھڑت سے یہ بات کہتے ہیں{۱۵۱}</p>
<p>کہ اللہ اولاد رکھتا ہے اور فی الواقع یہ جھوٹے ہیں۔{۱۵۲}</p>
<p>کیا اللہ نے بیٹوں کے بجائے بیٹیاں اپنے لئے پسند کرلیں ؟ {۱۵۳}</p>
<p> تمہیں کیا ہوگیا ہے ،کیسے حکم لگارہے ہو ؟{۱۵۴}</p>
<p>کیا تمہیں ہوش نہیں آتا ؟{۱۵۵}</p>
<p> یا پھر تمہارے پاس اپنی ان باتوں کے لیے  کوئی صاف سند ہے{۱۵۶}</p>
<p> تولا ؤ اپنی و ہ کتا ب اگرتم سچّے ہو۔[88]{۱۵۷}</p>
<p>انہو ں نے اللہ اور ملائکہ[89] کے درمیان نسب کا رشتہ بنارکھا ہے، حالاں کہ ملائکہ خوب جانتے ہیں کہ یہ لوگ مجرم کی حیثیت سے پیش ہونے والے ہیں{۱۵۸}</p>
<p>( اور وہ کہتے ہیں کہ )’’ اللہ اُن صفات سے پاک ہے جو دُوسرے لوگ اُس کی طرف منسوب کرتے ہیں {۱۵۹}</p>
<p> اُس کے خالص بندوں کے سوا  ( جو ایسی نادانی کی باتیں ہرگز نہیں کرتے ){۱۶۰}</p>
<p>پس تم اور تمہارے یہ معبُود{۱۶۱}</p>
<p> اللہ سے کسی کو پھیر نہیں سکتے {۱۶۲}</p>
<p>مگر صرف اُس کو جو دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جُھلسنے والاہو۔[90]{۱۶۳}</p>
<p>اور ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کا ایک مقام مقرر ہے[91]{۱۶۴}</p>
<p>اور ہم صف بستہ خدمت گار ہیں{۱۶۵}</p>
<p>اور بے شک ہم تسبیح کرنے والے ہیں‘‘۔{۱۶۶}</p>
<p>  یہ لوگ پہلے تو کہا کرتے تھے{۱۶۷}</p>
<p>کہ کاش ہمارے پاس وہ ’’ ذِکر ‘‘ ہوتا جو پچھلی قوموں کو ملا تھا {۱۶۸}</p>
<p> توہم اللہ کے چیدہ (منتخب) بندے ہوتے۔[92]{۱۶۹}</p>
<p> مگر ( جب وہ آگیا ) تو اِنہو ں نے اس کا انکار کردیا۔اب عنقریب اِنہیں ( اِس رَوِش کا نتیجہ ) معلوم ہوجائے گا۔{۱۷۰}</p>
<p>اپنے بھیجے ہوئے بندوں سے ہم پہلے ہی وعدہ کرچکے ہیں {۱۷۱}</p>
<p> کہ یقیناان کی مدد کی جائے گی{۱۷۲}</p>
<p>اور ہمارا لشکر ہی غالب ہوکررہے گا ۔[93]{۱۷۳}</p>
<p>   پس اے نبی  ؐ! ذرا کچھ مدّت تک اِنہیں اِن کے حال پر چھوڑ دو {۱۷۴}</p>
<p>اور دیکھتے رہو، عنقریب یہ خود بھی دیکھ لیں گے۔[94] {۱۷۵}</p>
<p> کیا یہ ہمارے عذاب کے لیے  جلدی مچارہے ہیں ؟{۱۷۶}</p>
<p> جب وہ اِن کے صحن میں اُترے گا تو وہ دن اُن لوگوں کے لیے بہت بُرا ہوگا جنہیں متنبہ کیا جاچکا ہے۔{۱۷۷}</p>
<p>بس ذرا  اِنہیں کچھ مدت کے لیے چھوڑ دو{۱۷۸}</p>
<p> اور دیکھتے رہو ،عنقریب یہ خود دیکھ لیں گے۔ {۱۷۹}</p>
<p> پاک ہے تیرا رَبّ ، عزّت کا مالک ، اُن تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنارہے ہیں۔{۱۸۰}</p>
<p> اور سلام ہے رسُولوںپر{۱۸۱}</p>
<p> اور ساری تعریف اللہ رَبّ العالمین ہی کے لیے  ہے ۔{۱۸۲}</p>

</div><div id="38"><p>سورۃ  صٓ </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔</p>
<p>صٓ۔[1]قسم ہے نصیحت بھرے [2]قرآن کی{۱}</p>
<p> بلکہ یہی لوگ، جنہوں نے ماننے سے انکار کیا ہے ، سخت تکبُّر اور ضِد میں مبتلا ہیں۔ [3]{ ۲}</p>
<p> اِن سے پہلے ہم ایسی کتنی ہی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں ( اور جب ان کی شامت آئی ہے) تووہ چیخ اُٹھے ہیں ، مگر وہ وقت بچنے کا نہیں ہوتا۔{ ۳}</p>
<p>اِن لوگوں کو اس بات پر بڑا تعجب ہوا کہ ایک ڈرانے والا خود اِنہی میں سے آگیا ۔ [4]منکرین کہنے لگے کہ ’’یہ ساحر ہے ،[5] سخت جُھوٹا ہے { ۴}</p>
<p> کیا اس نے سارے معبودوں کی جگہ بس ایک ہی  اِلٰہ بناڈالا ؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے‘‘۔ {۵}</p>
<p>اور سردارانِ قوم یہ کہتے ہوئے نکل گئے[6] کہ ’’ چلو اور ڈٹے رہو اپنے معبُودوں کی عبادت پر ۔ یہ بات [7]تو کسی اور ہی غرض سے کہی جارہی ہے۔  [8]{۶}</p>
<p>یہ بات ہم نے زمانۂ قریب کی مِلّت میں کسی سے نہیں سُنی۔[9]یہ کچھ نہیں ہے مگر ایک من گھڑت بات ۔{۷}</p>
<p> کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص رہ گیا تھا جس پر اللہ کا ذکر نازل کردیا گیا؟‘‘ اصل بات یہ ہے کہ یہ میرے ’’ ذِکر ‘‘ پر شک کررہے ہیں [10]اور یہ ساری باتیں اس لیے کررہے ہیں کہ انہوں نے میرے عذاب کا مزہ چکھا نہیں ہے۔{۸}</p>
<p> کیا تیرے داتا اور غالب پر وردگار کی رحمت کے خزانے اِن کے قبضے میں ہیں ؟{۹}</p>
<p>کیا یہ آسمان و زمین اور اُن کے درمیان کی چیزوں کے مالک ہیں ؟ اچھا تو یہ عالمِ اسباب کی بلندیوں پر چڑھ کردیکھیں ! [11]{۱۰}</p>
<p>یہ تو جتھوں میں سے ایک چھوٹا سا جتّھ ہے جو اِسی جگہ شکست کھانے والا ہے[12] {۱۱}</p>
<p> اِن سے پہلے نوح  ؑ کی قوم ، اور عاد اور میخوں والا فرعون [13]جھٹلاچکے ہیں { ۱۲}</p>
<p> اور ثمُود ، اور قومِ لُوط اور اَیکہ والے جتھے وہ تھے {۱۳}</p>
<p> ان میں سے ہرایک نے رسولوں کو جھٹلایا اور میری عقوبت کا فیصلہ اس پر چسپاں ہوکر رہا۔{۱۴}</p>
<p> یہ لوگ بھی بس ایک دھما کے کے منتظر ہیں جس کے بعد کوئی دوسرا دھماکہ نہ ہوگا[14]{۱۵}</p>
<p> اور یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رَبّ! یوم الحساب سے پہلے ہی ہمارا حصّہ ہمیں جلدی سے دے دے۔[15]{۱۶}</p>
<p>اے نبی  ؐ ! صبر کرو اُن باتوں پر جو یہ لوگ بناتے ہیں ،[16] اور اِن کے سامنے ہمارے بندے دا ؤد ؑ کا قصہ بیان کرو[17] جو بڑی قوتوں کامالک تھا۔ [18]ہر معاملہ میں اللہ کی طرف رُجوع کرنے والا تھا۔{۱۷}</p>
<p> ہم نے پہاڑوں کو اس کے ساتھ مسخر کررکھا تھا کہ صبح و شام وہ اُس کے ساتھ تسبیح کرتے تھے۔{۱۸}</p>
<p>پرندے سمٹ آتے ، سب کے سب اُس کی تسبیح کی طرف متوجّہ ہوجاتے تھے۔[19]{۱۹}</p>
<p> ہم نے اس کی سلطنت مضبوط کردی تھی، اس کو حکمت عطا کی تھی اور فیصلہ کُن بات کہنے کی صلاحیّت بخشی تھی۔[20] {۲۰}</p>
<p> پھر تمہیں کچھ خبر پہنچی ہے اُن مقدمے والوں کی جودیوار چڑھ کراُس کے بالا خانے میں گھس آئے تھے ؟[21]{۲۱}</p>
<p> جب وہ دا ؤدؑ کے پاس پہنچے تو وہ انہیں دیکھ کر گھبراگیا ۔[22] اُنہوں نے کہا ’’ ڈریئے نہیں ، ہم دو فریق مقدمہ ہیں جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے۔ آپ ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ کر دیجئے ، بے انصافی نہ کیجئے اور ہمیں راہِ راست بتائیے۔{۲۲}</p>
<p>یہ میرا بھائی ہے ، [23]اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہی دُنبی ہے۔ اِس نے مجھ سے کہا کہ یہ ایک دُنبی بھی میرے حوالے کردے اور اس نے گفتگو میں مجھے دبالیا ‘‘۔[24]{۲۳}</p>
<p> دوا ؤد ؑ نے جواب دیا’’اِس شخص نے اپنی دُنبیوں کے ساتھ تیری دُنبی ملالینے کا مطالبہ کرکے یقینا تجھ پر ظلم کیا، [25]اور واقعہ یہ ہے کہ ِمل جل کر ساتھ رہنے والے لوگ اکثر ایک دوسرے پر زیادتیاں کرتے رہتے ہیں بس وہی لوگ اس سے بچے ہوئے ہیں جو ایمان رکھتے اور عملِ صالح کرتے ہیں، اور ایسے لوگ کم ہی ہیں‘‘ ۔( یہ بات کہتے کہتے ) دا ؤد  ؑ سمجھ گیا کہ یہ تو ہم نے دراصل اس کی آزمائش کی ہے ، چنانچہ اُس نے اپنے رَبّ سے معافی مانگی اور سجدے میں گرگیا اور رجوع کرلیا۔[26]{۲۴}</p>
<p> تب ہم نے اس کا وہ قصُور معاف کیا  اور یقینا ہمارے ہاں اس کے لیے تقرّب کا مقام اور بہتر انجام ہے۔[27]{۲۵}</p>
<p> ( ہم نے اُس سے کہا ) ’’ اے دا ؤد ؑ! ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے، لہٰذا تو لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ حکومت کر اور خواہشِ نفس کی پیروی نہ کر کہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکادے گی۔ جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹکتے ہیں یقینا اُن کے لیے سخت سزا ہے کہ وہ یوم الحساب کو بُھول گئے ‘‘۔[28]{۲۶}</p>
<p> ہم نے اس آسمان اور زمین کو اور اس دنیا کو جواُن کے درمیان ہے ، فضول پیدا نہیں کردیا ہے [29]یہ تو اُن لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کیا ہے ، اور ایسے کافروں کے لیے  بربادی ہے جہنّم کی آگ سے۔{۲۷}</p>
<p> کیا ہم اُن لوگوں کو جو ایمان لاتے اور نیک اعمال کرتے ہیں اور اُن کو جو زمین میں فساد کرنے والے ہیں یکساں کردیں ؟ کیا متقیوں کو ہم فاجروں جیسا کردیں ؟[30]{۲۸}</p>
<p> یہ ایک بڑی برکت والی کتا ب [31]ہے جو (اے نبی  ؐ!) ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تا کہ یہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں اور عقل و فکر رکھنے والے اس سے سبق لیں۔{۲۹}</p>
<p>اور دا ؤ د  ؑکو ہم نے سلیمان ؑ ( جیسا بیٹا) عطا کیا ،[32] بہترین بندہ ،کثرت سے اپنے رَبّ کی طرف رُجوع کرنے والا{۳۰}</p>
<p> قابلِ ذکر ہے وہ موقع جب شام کے وقت اُس کے سامنے خوب سَدھے ہوئے گھوڑے پیش کئے گئے[33]{۳۱}</p>
<p>تو اُس نے کہا ’’ میں نے اس مال [34]کی محبت اپنے رَبّ کی یاد کی وجہ سے اختیار کی ہے ۔‘‘ یہاں تک کہ جب وہ گھوڑے نگاہ سے اوجھل ہوگئے{۳۲}</p>
<p> تو( اس نے حکم دیا کہ ) انہیں میرے پاس واپس لا ؤ ، پھر لگاان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے۔[35]{۳۳}</p>
<p> اور ( دیکھو کہ ) سلیمان ؑ کو بھی ہم نے آزمائش میں ڈالا اور اس کی کرسی پر ایک جسدلاکر ڈال دیا ، پھر اس نے رجوع کیا {۳۴}</p>
<p>اور کہا کہ ’’اے میرے رَبّ ! مجھے معاف کردے اور مجھے وہ بادشاہی دے جو میرے بعد کسی کے لیے  سزاوارنہ ہو ، بے شک تُو ہی اصل داتا ہے‘‘ ۔[36]{۳۵}</p>
<p>تب ہم نے اس کے لیے ہوا کو مسخر کردیا ، جو اس کے حکم سے نرمی کے ساتھ چلتی تھی جدھر وہ چاہتا تھا [37]{۳۶}</p>
<p>اور شیاطین کو مسخر کردیا، ہر طرح کے معمار اور غوطہ خور{۳۷}</p>
<p>اور دوسرے جو پابندِ سلاسل تھے۔[38]{۳۸}</p>
<p> ( ہم نے اُس سے کہا)’’یہ ہماری بخشش ہے ، تجھے اختیار ہے جسے چاہے دے اور جس سے چاہے روک لیے کوئی حساب نہیں‘‘۔[39]{۳۹}</p>
<p> یقینا اس کے لیے  ہمارے ہاں تقرب کا مقام اور بہتر انجام ہے۔ [40]{۴۰}</p>
<p>اور ہمارے بندے ایوبؑ کا ذکر کرو ،[41] جب اس نے اپنے رَبّ کو پکارا کہ شیطان نے مجھے تکلیف اور عذاب میں ڈال دیاہے۔ [42]{۴۱}</p>
<p>( ہم نے اُسے حکم دیا) اپنا پا ؤں زمین پر مار ، یہ ہے ٹھنڈا پانی نہانے کے لیے  اور پینے کے لیے[43]{۴۲}</p>
<p>ہم نے اُسے اس کے اہل وعیال واپس دیے اور اُن کے ساتھ اُتنے ہی اور ،[44] اپنی طرف سے رحمت کے طور پر ، اور عقل وفکر رکھنے والوں کے لیے درس کے طور پر[45]{ ۴۳}</p>
<p>( اور ہم نے اس سے کہا ) تنکوں کا ایک مُٹّھالے اور اُس سے ماردے ، اپنی قسم نہ توڑ ۔[46]  ہم نے اسے صابر پایا ، بہترین بندہ ، اپنے رَبّ کی طرف بہت رُجوع کرنے والا۔[47] {۴۴}</p>
<p>اور ہمارے بندوں ، ابراہیم ؑ اور اسحاق ؑ اور یعقوبؑ کا ذکر کرو ۔ بڑی قوت عمل رکھنے والے اور دیدہ ور لوگ تھے۔[48]{۴۵}</p>
<p>ہم نے اُن کو ایک خالص صفت کی بناپر برگزیدہ کیا تھا ، اور وہ دارِ آخرت کی یاد تھی۔[49]{۴۶}</p>
<p> یقینا ہمارے ہاں ان کا شمارچُنے ہوئے نیک اشخاص میں ہے ۔{۴۷}</p>
<p> اور اسمٰعیل ؑ اور الیسع ؑ[50]اور ذوالکفل ؑ [51]کا ذکر کرو ، یہ سب نیک لوگوں میں سے تھے{۴۸}</p>
<p>یہ ایک ذکر تھا۔ ( اب سنو کہ ) متّقی لوگوں کے لیے  یقینا بہترین ٹھکانا ہے{۴۹}</p>
<p>ہمیشہ رہنے والی جنتیں جن کے دروازے اُن کے لیے  کُھلے ہوں گے[52]{۵۰}</p>
<p>ان میں وہ تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے ، خوب خوب فواکہ اور مشروبات طلب کررہے ہوں گے{۵۱}</p>
<p>اور ان کے پاس شرمیلی ہم سنِ بیویاں[53] ہوں گی۔{ ۵۲}</p>
<p> یہ وہ چیزیں ہیں جنہیں حساب کے دن عطا کرنے کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے۔{ ۵۳}</p>
<p>یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔{۵۴}</p>
<p>یہ تو ہے( متقیوں کا انجام ) اور سرکشوں کے لیے  بدترین ٹھکانا ہے{۵۵}</p>
<p> جہنّم جس میں وہ جُھلسے جائیں گے ، بہت ہی بُر ی قیام گاہ۔ {۵۶}</p>
<p> یہ ہے اُن کے لیے ، پس وہ مزہ چکھیں کھولتے ہوئے پانی اور پیپ اور لَہُو[54]{۵۷}</p>
<p> اور اسی قسم کی دُوسری تلخیوں کا {۵۸}</p>
<p>( وہ جہنّم کی طرف اپنے پیَرووں کو آتے دیکھ کر آپس میں کہیں گے)’’ یہ ایک لشکر تمہارے پاس گُھساچلا آرہا ہے ،کوئی خوش آمدید اِن کے لیے  نہیں ہے ، یہ آگ میں جُھلسنے والے ہیں‘‘۔{۵۹}</p>
<p> وہ اُ ن کو جواب دیں گے ’’ (نہیں بلکہ تم ہی جھلسے جارہے ہو )کوئی خیر مقدم تمہارے لئے نہیں ۔ تم ہی تو یہ انجام ہمارے آگے لائے ہو ، کیسی بُری ہے یہ جائے قرار۔‘‘{۶۰}</p>
<p>پھر وہ کہیں گے ’’اے ہمارے رَبّ !جس نے ہمیں اس انجام کو پہنچانے کا بندوبست کیا اُس کو دوزخ کا دوہرا عذاب دے ‘‘ {۶۱}</p>
<p> اور وہ آپس میں کہیں گے ’’ کیا بات ہے ، ہم ان لوگوں کو کہیں نہیں دیکھتے جنہیں ہم دنیا میں بُرا سمجھتے تھے ؟‘‘[55]{۶۲}</p>
<p>ہم نے یوں ہی اُن کا مذاق بنالیا تھا ، یاوہ کہیں نظروں سے اوجھل ہیں ؟ {۶۳}</p>
<p>بے شک یہ بات سچّی ہے ، اہل دوزخ میں یہی کچھ جھگڑے ہونے والے ہیں۔[56]{ ۶۴}</p>
<p> (اے نبی  ؐ!) ان سے کہو ، ’’ میں تو بس خبردار کردینے والا ہوں ۔[57] کوئی حقیقی معبُود نہیں مگر اللہ جو یکتا ہے۔ سب پر غالب {۶۵}</p>
<p> آسمانوں اور زمین کا مالک اور اُن ساری چیزوں کا مالک جو اُن کے درمیان ہیں ، زبردست اور درگزر کرنے والا ‘‘ ۔{۶۶}</p>
<p>اِن سے کہو ’’ یہ ایک بڑی خبر ہے {۶۷}</p>
<p>جس کو سُن کر تم منھ پھیرتے ہو‘‘۔[58]{۶۸}</p>
<p>(اِن سے کہو)’’ مجھے اُس وقت کی کوئی خبر نہ تھی جب ملاء اعلیٰ میں جھگڑا ہورہا تھا {۶۹}</p>
<p> مجھ کو تو وحی کے ذریعہ سے یہ باتیں صرف اس لیے بتائی جاتی ہیں کہ میں کُھلاکُھلا خبردار کرنے والا ہوں ‘‘ ۔{۷۰}</p>
<p> جب تیرے رَبّ نے فرشتوں سے کہا [59]’’ میں مٹی سے ایک بشر بنانے والا ہوں [60]{۷۱}</p>
<p> جب میں اسے پوری طرح بنادوں اور اس میں اپنی رُوح پھونک دوں[61] تو تم اسکے آگے سجدے میں گرجا ؤ‘‘[62]{۷۲}</p>
<p> اس حکم کے مطابق فرشتے سب کے سب سجدے میں گرگئے {۷۳}</p>
<p>مگر ابلیس نے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اور وہ کافروں میں سے ہوگیا۔ [63]{۷۴}</p>
<p> رَبّ نے فرمایا ’’ اے ابلیس !تجھے کیا چیز اُس کو سجدہ کرنے سے مانع ہوئی جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے ؟[64] تو بڑا بن رہا ہے یا تو ہے ہی کچھ اُونچے درجے کی ہستیوں میں سے ‘‘؟ {۷۵}</p>
<p> اُس نے جواب دیا ’’ میں اُس سے بہتر ہوں ، آپ نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور اِس کو مٹی سے ‘‘۔ {۷۶}</p>
<p> فرمایا ’’ اچھاتو یہاں سے نکل جا،[65] تو مردُودہے[66]{۷۷}</p>
<p>اور تیرے اوپر یوم الجزا ء تک میری لعنت ہے‘‘۔[67]{۷۸}</p>
<p> وہ بولا’’ اے میرے رَبّ !یہ بات ہے تو پھر اُس وقت تک کے لیے مجھے مہلت دے دے جب یہ لوگ دوبارہ اُٹھائے جائیں گے‘‘۔{۷۹}</p>
<p> فرمایا:’’ اچھا ، تجھے مہلت ہے {۸۰}</p>
<p>اُس روزتک کی۔جس کا وقت مجھے معلوم ہے ‘‘ ۔{۸۱}</p>
<p>اس نے کہا ’’ تیری عزت کی قسم ، میں ان سب لوگوں کو بہکا کر رہوں گا{۸۲}</p>
<p>بجز تیرے اُن بندوں کے جنہیں تو نے خالص کرلیا ہے ‘‘۔[68]{۸۳}</p>
<p>فرمایا ’’تو حق یہ ہے ، اور میں حَق ہی کہا کرتا ہوں{ ۸۴}</p>
<p>کہ میں جہنّم کو تجھ سے[69] اوراُن سب لوگوں سے بھردوں گا جو اِن انسانوں میں سے تیری پیروی کریں گے ۔‘‘[70]{۸۵}</p>
<p> (اے نبی  ؐ!)  اِن سے کہہ دو کہ میں اس تبلیغ پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا ،[71] اور نہ میں بناوٹی لوگوں میں سے ہوں۔[72]{۸۶}</p>
<p>یہ تو ایک نصیحت ہے تمام جہان والوں کے لیے {۸۷}</p>
<p> اور تھوڑی  مدّت ہی گزرے گی کہ تمہیں اس کا حال خود معلوم ہوجائے گا۔[73]{۸۸}</p>

</div><div id="39"><p>سورۃ  الزمر </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>اس کتاب کا نزول اللہ زبردست اور دانا کی طرف سے ہے۔[1]{۱}</p>
<p>(اے نبی  ؐ!) یہ کتاب ہم نے تمہاری طرف بر حق نازل کی ہے ،[2] لہٰذا تم اللہ ہی کی بندگی کرو دین کو اُسی کے لیے خالص کرتے ہوئے ! [3]{ ۲}</p>
<p> خبردار !دین خالص اللہ کا حق ہے۔ [4]رہے وہ لوگ جنہوں نے اُس کے سوا دُوسرے سرپرست بنارکھے ہیں (اور اپنے اِس فعل کی توجیہ یہ کرتے ہیں کہ ) ہم تو اُن کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تک ہماری رسائی کرادیں ،[5] اللہ یقینا اُن کے درمیان اُن تمام باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کررہے ہیں۔[6] اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جُھوٹا اور مُنکر حق ہو۔[7]{ ۳}</p>
<p>اگر اللہ کسی کو بیٹا بنانا چاہتا تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا برگزیدہ کرلیتا ،[8] پاک ہے وہ اِس سے (کہ کوئی اُس کا بیٹا ہو )وہ اللہ ہے اکیلا اور سب پر غالب ۔[9]{ ۴}</p>
<p> اس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے۔ [10]وہی دن پر رات اور رات پردن کولپیٹتا ہے ۔ اُسی نے سُورج اور چاند کو اس طرح مُسخّر کررکھا ہے کہ ہر ایک ایک وقتِ مقرر تک چلے جارہا ہے ۔جان رکھو ، وہ زبردست ہے اور درگزر کرنے والا ہے۔[11]{۵}</p>
<p> اُسی نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا ، پھروہی ہے جس نے اُس جان سے اس کا  جوڑا بنایا۔ [12]اور اسی نے تمہارے لئے مویشیوں میں سے آٹھ نرو مادہ پیدا  کئے۔[13] وہ تمہاری ما ؤں کے پیٹوں میں تین تین تاریک پردوں کے اندر تمہیں ایک کے بعد ایک شکل دیتا چلاجاتا ہے۔[14] یہی اللہ ( جس کے یہ کام ہیں ) تمہارا رَبّ ہے ،[15] بادشاہی اسی کی ہے۔ [16]کوئی معبُود اس کے سوا نہیں ہے ،[17] پھر تم کدھر سے پھر ائے جارہے ہو ؟[18]{۶}</p>
<p>اگر تم کفر کرو تو اللہ تم سے بے نیاز ہے ،[19] لیکن وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا ،[20] اور اگر تم شکر کر وتو اسے وہ تمہارے لئے پسند کرتا ہے۔ [21]کوئی بوجھ اُٹھانے والا کسی دُوسرے کا بوجھ نہ اُٹھائے گا۔[22] آخر کارتم سب کو اپنے رَبّ کی طرف پلٹنا ہے ، پھر وہ تمہیں بتادے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو ، وہ تو دلوں کا حال تک جانتا ہے۔{۷}</p>
<p>انسان پر جب کوئی آفت آتی ہے[23] تو وہ اپنے رَبّ کی طرف رُجوع کرکے اُسے پکارتا ہے ۔[24] پھر جب اس کا رَبّ اسے اپنی نعمت سے نواز دیتا ہے تو وہ اُس مصیبت کو بُھول جاتا ہے جس پر وہ پہلے پُکاررہا تھا [25]اور دُوسروں کو اللہ کا ہمسر ٹھہراتا ہے [26]تا کہ اِس کی راہ سے گمراہ کرے۔ [27] (اے نبی  ؐ!) اُس سے کہو کہ تھوڑے دن اپنے کفر سے لُطف اُٹھالے ، یقینا تو دوزخ میں جانے والا ہے۔{۸}</p>
<p> ( کیا اِس شخص کی روش بہتر ہے یا اُس شخص کی) جو مطیع فرمان ہے ، رات کی گھڑیوں میں کھڑارہتا اور سجدے کرتا ہے ، آخرت سے ڈرتا اور اپنے رَبّ کی رحمت سے اُمید لگاتا ہے ؟ ان سے پُوچھو کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں کبھی یکساں ہوسکتے ہیں؟[28]نصیحت تو عقل رکھنے والے ہی قبول کرتے ہیں۔{۹}</p>
<p> (اے نبی  ؐ!) کہو کہ اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو ،اپنے رَبّ سے ڈرو ۔[29] جن لوگوں نے اس دنیا میں نیک رویہّ اختیار کیا ہے ان کے لیے  بھلائی ہے۔ [30]اور اللہ کی ز مین وسیع  ہے ،[31] صبر کرنے والوں کو تو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔[32]{۱۰}</p>
<p>( اے نبی  ؐ!) اِن سے کہو ، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ دین کو اللہ کے لیے  خالص کرکے اُس کی بندگی کرو ں۔{۱۱}</p>
<p>  اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں خود مسلم بنوں۔[33]{ ۱۲}</p>
<p> کہو ، اگر میں اپنے رَبّ کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے۔{ ۱۳}</p>
<p>کہہ دو کہ میں تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کرکے اُسی کی بندگی کروں گا {۱۴}</p>
<p>تم اُس کے سوا جس جس کی بندگی کرنا چاہو کرتے رہو۔ کہو ، اصل دیوالیے تو وہی ہیں جنہوں نے قیامت کے روز اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو گھاٹے میں ڈال دیا۔ خوب سُن رکھو ، یہی کُھلادیوالیہ ہے۔[34]{۱۵}</p>
<p>اُن پر آگ کی چھتریاں اُوپر سے بھی چھائی ہوں گی اور نیچے سے بھی ۔ یہ وہ انجام ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے ، پس اے میرے بندو!میرے غضب سے بچو {۱۶}</p>
<p>بخلاف اِس کے جن لوگوں نے طاغوت [35]کی بندگی سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رُجوع کرلیا اُن کے لیے  خوش خبری ہے۔ پس ( اے نبی  ؐ!)  بشارت دے دو میرے ان بندوں کو{۱۷}</p>
<p> جو بات کو غور سے سنتے ہیں اور اس کے بہترین پہلو کی پیروی کرتے ہیں۔ [36]یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی ہے اور یہی دانشمند ہیں{۱۸}</p>
<p> (اے نبی  ؐ!)  اُس شخص کو کون بچاسکتا ہے جس پر عذاب کا فیصلہ چسپاں ہوچکا ہو ؟[37] کیا تم اُسے بچاسکتے ہو جو آگ میں گرچکا ہو ؟ {۱۹}</p>
<p> البتہ جو لوگ اپنے رَبّ سے ڈرکررہے اُن کے لیے  بلند عمارتیں ہیں منزل پر منزل بنی ہوئی ، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے ، اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔{۲۰}</p>
<p>کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا ، پھر اس کو سوتوں اور چشموں اور دریا ؤں [38]کی شکل میں  زمین کے اندر جاری کیا ، پھر اس پانی کے ذریعہ سے وہ طرح طرح کی کھیتیاں نکالتا ہے جن کی قسمیں مختلف ہیں ، پھر وہ کھیتیاں پک کر سُوکھ جاتی ہیں ، پھر تم دیکھتے  ہو کہ وہ زرد پڑگئیں ، پھر آخر کار اللہ اُن کو بُھس بنادیتا ہے۔ درحقیقت اس میں ایک سبق ہے عقل رکھنے والوں کے لیے ۔[39] {۲۱}</p>
<p>اب کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا [40]اور وہ اپنے رَبّ کی طرف سے ایک روشنی پرچل رہا ہے[41] ( اُس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس نے اِن باتوں سے کوئی سبق نہ لیا ؟) تباہی ہے ان لوگوں کے لیے  جن کے دل اللہ کی نصیحت سے اور زیادہ سخت ہوگئے ۔ [42]وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔{ ۲۲}</p>
<p> اللہ نے بہترین کلام اُتارا ہے ، ایک ایسی کتاب جس کے تمام اجزاء ہم رنگ ہیں [43]اور جس میں بار بار مضامین دُہرائے گئے ہیں۔ اُسے سُن کر اُن لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رَبّ سے ڈرنے والے ہیں ، اور پھر ان کے جسم اور ان کے دل نرم ہوکر اللہ کے ذکر کی طرف راغب ہوجاتے ہیں۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے جس سے وہ راہِ راست پرلے آتا ہے جسے چاہتا ہے۔ اور جسے اللہ ہی ہدایت نہ دے اس کے لیے پھر کوئی ہادی نہیں ہے ۔{۲۳}</p>
<p>اب اس شخص کی بدحالی کا تم کیا اندازہ کرسکتے ہو جو قیامت کے روز عذاب کی سخت مار اپنے منھ پر لے گا ؟[44] ایسے ظالموں سے تو کہہ دیا جائے گا کہ اب چکھو مزہ اُس کمائی کا جو تم کرتے رہے تھے۔[45]{ ۲۴}</p>
<p>اِن سے پہلے بھی بہت سے لوگ اسی طرح جھٹلاچکے ہیں۔ آخر اُن پر عذاب ایسے رُخ سے آیا جدھر ان کا خیال بھی نہ جاسکتا تھا۔{۲۵}</p>
<p> پھر اللہ نے ان کو دنیا ہی کی زندگی میں رسوائی کا مزہ چکھایا، اور آخرت کا عذاب تو اس سے شدید تر ہے ، کاش یہ لوگ جانتے ۔{۲۶}</p>
<p>ہم نے اِس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح کی مثالیں دی ہیں کہ یہ ہوش میں آئیں۔{۲۷}</p>
<p> ایسا قرآن جو عربی زبان میں ہے،[46] جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے ،[47] تا کہ یہ بُرے انجام سے بچیں۔{۲۸}</p>
<p> اللہ ایک مثال دیتا ہے ۔ ایک شخص تو وہ ہے جس کے مالک ہونے میں بہت سے کج خلق آقا شریک ہیں جو اُسے اپنی اپنی طرف کھینچتے ہیں اوردُوسرا شخص پُورا کا پورا ایک ہی آقا کا غلام ہے ۔ کیا اِن دونوں کا حال یکساں ہوسکتا ہے ؟[48] الحمدللہ، [49]مگر اکثر لوگ نادانی میں پڑےہوئے ہیں[50]{۲۹}</p>
<p> (اے نبی  ؐ!) تمہیں بھی مرنا ہے اور اِن لوگوں کو بھی مرنا ہے۔[51]{۳۰}</p>
<p>آخر کار قیامت کے روز تم سب اپنے رب کے حضور اپنا اپنا مقدمہ پیش کرو گے ۔{۳۱}</p>
<p>  پھراُس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور جب سچائی اس کے سامنے آئی تو اسے جُھٹلادیا ۔ کیا ایسے لوگوں کے لیے جہنّم میں کوئی ٹھکانا نہیں ہے ؟{۳۲}</p>
<p>اور جو شخص سچائی لے کر آیا اور جنہوں نے اس کو سچ مانا ، وہی عذاب سے بچنے والے ہیں۔[52] {۳۳}</p>
<p> اُنہیں اپنے رَبّ کے ہاں وہ سب کچھ ملے گا جس کی وہ خواہش کریں گے ۔[53]یہ ہے نیکی کرنے والوں کی جزا{۳۴}</p>
<p>تا کہ جو بد ترین اعمال انہوں نے کئے تھے انہیں اللہ ان کے حساب سے ساقط کردے اور جو بہترین اعمال وہ کرتے رہے اُن کے لحاظ سے اُن کو اجر عطا فرمائے۔ [54]{۳۵}</p>
<p> ( اے نبی  ؐ!) کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے ؟ یہ لوگ اُس کے سوا دُوسروں سے تم کو ڈراتے ہیں۔[55] حالاں کہ اللہ جسے گمراہی میں ڈال دے اُسے کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہے{۳۶}</p>
<p> اور جسے وہ ہدایت دے اُسے بھٹکانے والا بھی کوئی نہیں ۔ کیا اللہ زبردست اور انتقام لینے والا نہیں ہے؟[56] {۳۷}</p>
<p>ان لوگوں سے اگر تم پوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے تو یہ خود کہیں گے کہ اللہ نے ۔ اِن سے پوچھو ، جب حقیقت یہ ہے تو تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر اللہ مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو کیا تمہاری یہ دیویاں ، جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو ، مجھے اُس کے پہنچائے ہوئے نقصان سے بچالیں گی ؟ یا اللہ! مجھ پر مہربانی کرنا چاہے تو کیا یہ اس کی رحمت کو روک سکیں گی؟بس ان سے کہہ دو کہ میرے لئے اللہ ہی کافی ہے ، بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔[57]{۳۸}</p>
<p> ان سے صاف کہو کہ ’’ اے میری قوم کے لوگو!تم اپنی جگہ اپنا کام کئے جا ؤ ،[58] میں اپنا کام کرتا رہوں گا ، عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گاکہ{۳۹}</p>
<p> کس پر رُسواکُن عذاب آتا ہے اور کسے وہ سزاملتی ہے جو کبھی ٹلنے والی نہیں۔ ‘‘{۴۰}</p>
<p> ( اے نبی  ؐ! ) ہم نے سب انسانوں کے لیے یہ کتابِ برحق تم پر نازل کردی ہے۔ اب جو سیدھا راستہ اختیار کرے گا اپنے لئے کرے گا اور جو بھٹکے گا اُس کے بھٹکنے کا وبال اُسی پر ہوگا ، تم اُن کے ذمّہ دار نہیں ہو۔[59]{۴۱}</p>
<p> وہ اللہ ہی ہے جو موت کے وقت رُوحیں قبض کرتا ہے اور جو ابھی نہیں مرا ہے اُس کی رُوح نیند میں قبض کرلیتا ہے ،[60] پھر جس پر وہ موت کا فیصلہ نافذکرتا ہے اُسے روک لیتا ہے اور دوسروں کی رُوحیں ایک وقتِ مقرر کے لیے واپس بھیج دیتا ہے۔ اِس میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو غو روفکر کرنے والے ہیں[61]{۴۲}</p>
<p> کیا اُس اللہ کو چھوڑ کر اِن لوگوں نے دُوسروں کو شفیع بنارکھا ہے ؟[62] ان سے کہو: کیا وہ شفاعت کریں گے خواہ اُن کے اختیار میں کچھ ہونہ ہو اور وہ سمجھتے بھی نہ ہوں ؟{۴۳}</p>
<p>کہو: شفاعت ساری کی ساری اللہ کے اختیار میں ہے۔[63] آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا وہی مالک ہے ،پھر اُسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو۔ {۴۴}</p>
<p> جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے دل کُڑھنے لگتے ہیں، اور جب اُس کے سوا دُوسروں کا ذکر ہوتا ہے تو یکایک وہ خوشی سے کِھل اٹھتے ہیں[64]{۴۵}</p>
<p> کہو اے اللہ !آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے ، حاضرو غائب کے جاننے والے ، تو ہی اپنے بندوں کے درمیان اُس چیز کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔{۴۶}</p>
<p> اگر اِن ظالموں کے پاس زمین کی ساری دولت بھی ہو ، اور اِتنی ہی اور بھی ، تو یہ روزِ قیامت کے بُرے عذاب سے بچنے کے لیے سب کچھ فدیے میں دینے کے لیے تیار ہوجائیں گے۔ وہاں اللہ کی طرف سے اِن کے سامنے وہ کچھ آئے گا جس کا اِنہوں نے کبھی اندازہ ہی نہیں کیا ہے۔ {۴۷}</p>
<p> وہاں اپنی کمائی کے سارے بُرے نتائج  ان پر کھل جائیں گے اور وہی چیزان پر مسلّط ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں۔{۴۸}</p>
<p>یہی انسان [65]جب ذراسی مصیبت اسے چُھوجاتی ہے تو ہمیں پُکارتا ہے ، اور جب ہم اسے اپنی طرف سے نعمت دے کراَپھار دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے علم کی بنا پر دیا گیا ہے ! [66] نہیں، بلکہ یہ آزمائش ہے ، مگر اِن میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔[67]{۴۹}</p>
<p> یہی بات ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ بھی کہہ چکے ہیں، مگر جو کچھ وہ کماتے تھے وہ اُن کے کسی کام نہ آیا۔[68]{۵۰}</p>
<p> پھر اپنی کمائی کے بُرے نتائج انہوں نے بھگتے ، اوراِن لوگوں میں سے بھی جو ظالم ہیں وہ عنقریب اپنی کمائی کے بُرے نتائج بھگتیں گے ، یہ ہمیں عاجز کر دینے والے نہیں ہیں۔{۵۱}</p>
<p>اور کیا اِنہیں معلوم نہیں ہے کہ اللہ جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے۔ اور جس کا چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے ؟[69] اس میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں لیے جو ایمان لاتے ہیں۔{ ۵۲}</p>
<p> ( اے نبی  ؐ!میری جانب سے )کہہ دو ، ا ے میرے بندو! [70] جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے ، اللہ کی رحمت سے مایُوس نہ ہوجا ؤ، یقینا اللہ سارے گناہ معاف کردیتا ہے، وہ تو غفورو رحیم ہے،[71]{۵۳}</p>
<p>پلٹ آ ؤ اپنے رَبّ کی طرف اور مطیع بن جا ؤ اُس کے ،قبل اس کے کہ تم پر عذاب آجائے اور پھر کہیں سے تمہیں مدد نہ مل سکے۔ {۵۴}</p>
<p>اور پیروی اختیار کرلو اپنے رَبّ کی بھیجی ہوئی کتاب کے بہترین پہلو  کی [72]قبل اس کے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تم کو خبربھی نہ ہو {۵۵}</p>
<p> کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں کوئی شخص کہے ’’ افسوس میری اُس تقصیر پر جو میں اللہ کی جناب میں کرتا رہا ، بلکہ میں تواُلٹا مذاق اُڑانے والوں میں شامل تھا۔‘‘{۵۶}</p>
<p>  یا کہے ’’ کاش اللہ نے مجھے ہدایت بخشی ہوتی تو میں بھی متقیوں میں سے ہوتا ۔‘‘{۵۷}</p>
<p> یا عذاب دیکھ کر کہے ’’ کاش مجھے ایک موقع اور مِل جائے اور میں بھی نیک عمل کرنے والوں میں شامل ہوجا ؤں ‘‘ ۔{۵۸}</p>
<p> (اور اُس وقت اسے یہ جواب ملے کہ ) ’’ کیوں نہیں ، میری آیات تیرے پاس آچکی تھیں، پھر تُونے انہیں جُھٹلایا اور تکبر کیا اور تُو کافروں میں سے تھا‘‘ ۔{۵۹}</p>
<p>آج جن لوگوں نے اللہ پر جُھوٹ باندھے ہیں قیامت کے روز تم دیکھو گے کہ ان کے منھ کالے ہوں گے۔ کیا جہنم میں متکبروں کے لیے کافی جگہ نہیں ہے ؟{۶۰}</p>
<p> اس کے برعکس جن لوگوں نے یہاں تقویٰ کیا ہے اُن کے اسبابِ کامیابی کی وجہ سے اللہ ان کو نجات دے گا ، ان کو نہ کوئی گزند پہنچے گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔{۶۱}</p>
<p> اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے۔[73]{۶۲}</p>
<p> زمین اور آسمانوں کے خزانوں کی کُنجیاں اُسی کے پاس ہیں اور جو لوگ اللہ کی آیات سے کفر کرتے ہیں وہی گھاٹے میں رہنے والے ہیں۔{۶۳}</p>
<p> ( اے نبی  ؐ! ) اِن سے کہو ’’ پھر کیا اے جاہلو ، تم اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی کرنیکے لیے مجھ سے کہتے ہو‘‘؟ {۶۴}</p>
<p>( یہ بات تمہیں ان سے صاف کہہ دینی چاہئے کیوں کہ ) تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے تمام انبیاء کی طرف یہ وحی بھیجی جاچکی ہے کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارا عمل ضائع ہوجائے گا[74] اور تم خسارے میں رہو گے۔ {۶۵}</p>
<p> لہٰذا ( اے نبی  ؐ!) تم بس اللہ ہی کی بندگی کرو اور شکر گزار بندوں میں سے ہوجا ؤ {۶۶}</p>
<p>   اِن لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے[75] ( اُس کی قدرت کاملہ کا حال تو یہ ہے کہ)  قیامت کے روز پُوری زمین اُس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے دستِ راست میں لپٹے ہوئے ہوں گے[76] پاک اور بالاتر ہے وہ اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ [77]{۶۷}</p>
<p>اور اُس روز صُور پھونکا جائے گا[78]  اور وہ سب مرکر گرجائیں گے جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سوائے اُن کے جنہیں اللہ زندہ رکھنا چاہے۔ پھر ایک دُوسراصور پھونکا جائے گا اور یکایک سب کے سب اُٹھ کردیکھنے لگیں گے[79]{۶۸}</p>
<p> زمین اپنے رَبّ کے نُور سے چمک اٹھے گی، کتاب ِاعمال لاکر رکھ دی جائے گی ، انبیاء اور تمام گواہ [80]حاضر کردیے جائیں گے، لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا ، اُن پر کوئی ظلم نہ ہوگا{۶۹}</p>
<p>اور ہر متنفس کو جو کچھ بھی اُس نے عمل کیا تھا اُس کا پُورا پُورا بدلہ دے دیا جائے گا ۔ لوگ جو کچھ بھی کرتے ہیں اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔{۷۰}</p>
<p> (اس فیصلہ کے بعد ) وہ لوگ جنہو ں نے کفر کیا تھا جہنم کی طرف گروہ درگروہ ہانکے جائیں گے ، یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے تو اس کے دروازے کھولے جائیں گے [81]اور اس کے کارندے ان سے کہیں گے ’’کیا تمہارے پاس تمہارے اپنے لوگوں میں سے ایسے رسُول نہیں آئے تھے جنہوں نے تم کو تمہارے رَبّ کی آیات سُنائی ہوں اور تمہیں اس بات سے ڈرایا ہو کہ ایک وقت تمہیں یہ دن بھی دیکھنا ہوگا ؟‘‘ وہ جواب دیں گے ’’ ہاں ، آئے تھے ، مگر عذاب کا فیصلہ کافروں پر چپک گیا ۔‘‘ {۷۱}</p>
<p> کہا جائے گا داخل ہوجا ؤ جہنم کے دروازوں میں ، یہاں اب تمہیں ہمیشہ رہنا ہے ،بڑا ہی بُر اٹھکانا ہے یہ متکبّروں کے لیے۔{۷۲}</p>
<p>اور جو لوگ اپنے رَبّ کی نافرمانی سے پر ہیز کرتے تھے انہیں گروہ درگروہ جنّت کی طرف لے جایا جائے گا۔یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے ، اور اس کے دروازے پہلے ہی کھولے جاچکے ہوں گے ، تو اُس کے منتظمین اُن سے کہیں گے کہ ’’سلام ہو تم پر ، بہت اچھے رہے ، داخل ہوجا ؤ اِس میں ہمیشہ کے لیے ‘‘ {۷۳}</p>
<p>اور وہ کہیں گے ’’شکر ہے اُس اللہ کا جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچ کردکھایا اور ہم کو زمین کا وارث بنادیا،[82] ہم جنّت میں جہاں چاہیں اپنی جگہ بناسکتے ہیں۔‘‘[83] پس بہترین اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے۔[84] { ۷۴}</p>
<p>اور تم دیکھو گے کہ فرشتے عرش کے گرد حلقہ بنائے ہوئے اپنے رَبّ کی حمد و تسبیح کررہے ہوں گے اور لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ چکا دیا جائے گا ، اور پُکار دیا جائے گا کہ حمد ہے اللہ رَبّ العالمین کے لیے ۔[85] {۷۵}</p>

</div><div id="40"><p>سورۃ  المؤمن </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>حٰمٓ{۱}</p>
<p> اس کتاب کا نزول  اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست ہے سب کچھ جاننے والا ہے۔[1] { ۲}</p>
<p> گناہ معاف کرنے والا اور تو بہ قبول کرنے والا ہے ، سخت سزادینے والا اور بڑا صاحبِ فضل ہے ، کوئی معبُود اس کے سوا نہیں ، اسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے۔{ ۳}</p>
<p>اللہ کی آیات میں جھگڑے [2]نہیں کرتے مگر صرف وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے۔[3] اس کے بعد دنیا کے ملکوں میں اُن کی چَلَت پِھرَت تمہیں کسی دھوکے میں نہ ڈالے۔[4]{۴}</p>
<p> اِن سے پہلے نوحؑ کی قوم بھی جُھٹلاچکی ہے، اور اُس کے بعد بہت سے دوسرے جتّھوں نے بھی یہ کام کیا ہے۔ ہر قوم اپنے رسُول ؑ پر جھپٹی تا کہ اُسے گرفتار کرے ۔ اُن سب نے باطل کے ہتھیاروں سے حق کو نیچادکھانے کی کوشش کی ، مگر آخر کار میں نے ان کو پکڑلیا ، پھر دیکھ لو کہ میری سز اکیسی سخت تھی۔{۵}</p>
<p> اسی طرح تیرے رَبّ کا یہ فیصلہ بھی اُن سب لوگوں پرچسپاں ہوچکا ہے جو کفر کے مرتکب ہوئے ہیں کہ وہ واصل بجہنّم ہونے والے ہیں۔[5]{۶}</p>
<p>عرش ِالہٰی کے حامل فرشتے ، اور وہ جو عرش کے گردو پیش حاضر رہتے ہیں ، سب اپنے رَبّ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کررہے ہیں ۔ وہ اُس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان لانے والوں کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں۔[6] وہ کہتے ہیں : ’’ اے ہمارے رَبّ ! تو اپنی رحمت اور اپنے علم کے ساتھ ہر چیز پر چھایا ہوا ہے ،[7] پس معاف کردے ا ور عذاب ِدوزخ سے بچالے[8] اُن لوگوں کو جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرا راستہ اختیار کرلیا ہے۔[9]{۷}</p>
<p>اے ہمارے رَبّ! اور داخل کراُن کو ہمیشہ رہنے والی ان جنتّوں میں جن کا تونے اُن سے وعدہ کیا ہے ،[10]اور ان کے والدین اور بیویوں اور اولاد میں سے جو صالح ہوں ( اُن کو بھی وہاں اُن کے ساتھ ہی پہنچادے[11]) تو بِلاشُبہ قادرِ مطلق اور حکیم ہے۔{۸}</p>
<p> اور بچادے اُن کو برائیوں سے[12]۔ جس کو تُونے قیامت کے دن برائیوں (کی سزا)سے [13]بچادیا اُس پر تُونے بڑا رحم کیا،یہی بڑی کامیابی ہے‘‘ {۹}</p>
<p>جن لوگوں نے کُفر کیا ہے قیامت کے روز اُن کو پکار کر کہاجاے گا ’’ آج تمہیں جتنا شدید غصّہ اپنے اوپر آرہا ہے ، اللہ تم پر اُس سے زیادہ غضب ناک اُس وقت ہوتاتھا جب تمہیں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھااور تم کفر کرتے تھے‘‘[14]{۱۰}</p>
<p> وہ کہیں گے ’’ اے ہمارے رَبّ! تُو نے واقعی ہمیں دو دفعہ موت اور دو دفعہ زندگی دے دی،[15] اب ہم اپنے قصوروں کااعتراف کرتے ہیں ،[16]کیا اب یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی سبیل ہے ؟‘‘ [17]{۱۱}</p>
<p> (جواب ملے گا ) ’’ یہ حالت جس میں تم مبتلا ہو اس وجہ سے ہے کہ جب اکیلے للہ کی طرف بُلایا جاتا تھا تو تم ماننے سے انکار کردیتے  تھے اور جب اُس کے ساتھ دوسروں کو ملایاجاتا تو تم مان لیتے تھے۔ اب فیصلہ اللہ بزرگ وبرتر کے ہاتھ ہے ‘‘۔[18]{ ۱۲}</p>
<p>وہی ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے [19]اور آسمان سے تمہارے لئے رزق نازل کرتا ہے،[20] مگر ( اِن نشانیوں کے مشاہدے سے ) سبق صرف وہی شخص لیتا ہے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔[21]{ ۱۳}</p>
<p>( پس اے رجوع کرنے والو) اللہ ہی کو پکارو اپنے دین کو اُس کے لیے خالص کرکے ،[22] خواہ تمہارا یہ فعل کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔{۱۴}</p>
<p>وہ بلند درجوں والا ،[23] مالکِ عرش ہے ۔[24] اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے رُوح نازل کردیتا ہے[25] تا کہ وہ ملاقات کے دن [26]سے خبردارکردے۔{۱۵}</p>
<p>وہ دن جب کہ سب لوگ بے پردہ ہوں گے، اللہ سے اُن کی کوئی بات چُھپی ہوئی نہ ہوگی۔ (اُس روز پکار کرپُوچھا جائے گا ) آج بادشاہی کس کی ہے ؟[27] (سارا عالم پُکاراُ ٹھے گا)  اللہ واحد قہّار کی۔{۱۶}</p>
<p> ( کہا جائے گا) آج ہرمتنفس کو اُس کمائی کا بدلہ دیا جائے گا جو اُس نے کی تھی۔ آج کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔ [28]اور اللہ حساب لینے میں بہت تیز ہے۔[29]{۱۷}</p>
<p> اے نبی  ؐ!  ڈرادواِن لوگوں کو اُس دن سے جو قریب آلگا ہے۔[30] جب کلیجے مُنھ کو آرہے ہوں گے اور لوگ چُپ چاپ غم کے گھونٹ پیے کھڑے ہوں گے۔ ظالموں کا نہ کوئی مشفق دوست ہوگا [31]اور نہ کوئی شفیع جس کی بات مانی جائے۔[32]{۱۸}</p>
<p> اللہ نگاہوں کی چوری تک سے واقف ہے اور وہ راز تک جانتا ہے جو سینوں نے چُھپارکھے ہیں ۔{۱۹}</p>
<p> اور اللہ ٹھیک ٹھیک بے لاگ فیصلہ کرے گا ۔ رہے وہ جن کو ( یہ مشرکین ) اللہ کو چُھوڑ کر پکارتے ہیں، وہ کسی چیز کا بھی فیصلہ کرنے والے نہیں ہیں،بلاشبہ اللہ ہی سب کچھ سننے اور دیکھنے والا[33] ہے۔ {۲۰}</p>
<p>کیا یہ لوگ کبھی زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اِنہیں اُن لوگوں کا انجام نظر آتا جو اِن سے پہلے گزرچکے ہیں ؟ وہ ان سے زیادہ طاقت ورتھے اور ان سے زیادہ زبردست آثار زمین میں چھوڑ گئے ہیں۔ مگر اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑ لیا اور ان کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہ تھا۔{۲۱}</p>
<p> یہ ان کا انجام اس لیے ہوا کہ ان کے پاس اُن کے رسُولؑ بیّنات [34]لے کر آئے اور انہوں نے ماننے سے انکار کردیا۔ آخر کار اللہ نے ان کو پکڑلیا ، یقینا وہ بڑی قوت والا اور سزادینے میں بہت سخت ہے۔{ ۲۲}</p>
<p>اور یقیناہم نے موسیٰ ؑ[35]کو اپنی نشانیوں اور نمایاں سند ماموریت[37] کے ساتھ بھیجا {۲۳}</p>
<p>فرعون اور ہامان[36] اور قارون کی طرف ،مگر انہوں نے کہا ’’ ساحر ہے ، کذّاب ہے۔‘‘{۲۴}</p>
<p>پھر جب وہ ہماری طرف سے حق ان کے سامنے لے آیا [38]تو انہوں نے کہا ’’ جو لوگ ایمان لاکر اس کے ساتھ شامل ہوئے ہیں اُن سب کے لڑکوں کو قتل کرو اور لڑکیوں کو جیتا چھوڑ دو ۔‘‘[39] مگر کافروں کی چال اکارت ہی گئی۔[40]{۲۵}</p>
<p> اورایک[41] روز فرعون نے اپنے درباریوں سے کہا ’’ چھوڑو مجھے ، میں اِس موسیٰ ؑکو قتل کئے دیتا ہوں ،[42] اور پکار دیکھے یہ اپنے رَبّ کو۔ مجھے اندیشہ ہے کہ یہ تمہارا دین بدل ڈالے گا ، یا ملک میں فساد بر پاکرے گا‘‘[43]{۲۶}</p>
<p>موسیٰؑ نے کہا ’’ میں نے تو ہر اُس مُتکبّر کے مقابلے میں جو یَومُ الحِسَاب پر ایمان نہیں رکھتا اپنے رَبّ اور تمہارے رَبّ کی پناہ لے لی ہے ‘‘۔[44]{۲۷}</p>
<p>اوراس موقع پر آلِ فرعون میں سے ایک مومن شخص ، جو اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا ، بول اٹھا : ’’ کیا تم ایک شخص کو صرف اس بناپر قتل کردوگے کہ وہ کہتا ہے میرا رَبّ اللہ ہے ؟ حالانکہ وہ تمہارے رَبّ کی طرف سے تمہارے پاس بیّنات لے[45] آیا۔ اگر وہ جُھوٹا ہے تو اُس کا جُھوٹ خود اسی پر پلٹ پڑے گا، [46]لیکن اگر وہ سچّا ہے تو جن ہولناک نتائج کا وہ تم کو خوف دلاتاہے اُن میں سے کچھ تو تم پر ضرورہی آجائیں گے۔ اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزر جانے والا اور کذّاب ہو۔[47]{۲۸}</p>
<p> اے میری قوم کے لوگو! آج تمہیں بادشاہی حاصل ہے اور زمین میں تم غالب ہو ، لیکن اگر اللہ کا عذاب ہم پر آگیا تو پھر کون ہے جو ہماری مدد کرسکے گا۔ ‘‘[48]فرعون نے کہا ’’ میں تو تم لوگوں کو وہی رائے دے رہا ہوں جو مجھے مناسب نظر آتی ہے اور میں اُسی راستے کی طرف تمہاری رہنمائی کرتا ہوں جو ٹھیک ہے‘‘۔[49]{۲۹}</p>
<p>وہ شخص جو ایمان لایا تھا اُس نے کہا ’’ اے میری قوم کے لوگو !مجھے خوف ہے کہ کہیں تم پر بھی وہ دن نہ آجائے جو اس سے پہلے بہت سے جَتّھَوں پر آچکا ہے {۳۰}</p>
<p> جیسا دِن قومِ نوحؑ اور عاد اور ثمود اور اُن کے بعد والی قوموں پر آیاتھا۔ اور یہ حقیقت ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا[50] {۳۱}</p>
<p> اے قوم!مجھے ڈر ہے کہ کہیں تم پر فریاد وفغاں کا دن نہ آجائے۔{۳۲}</p>
<p> جب تم ایک دوسرے کو پکارو گے اور بھاگے بھاگے پھروگے ، مگر اُس وقت اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔سچ یہ ہے کہ جسے اللہ بھٹکادے اسے پھر کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہوتا ۔{۳۳}</p>
<p>اس سے پہلے یوسف ؑ تمہارے پاس بینّات لے کر آئے تھے مگر تم اُن کی لائی ہوئی تعلیم کی طرف سے شک ہی میں پڑ ے رہے ۔ پھر جب ان کا انتقال ہوگیا تو تم نے کہا اب اُن کے بعد اللہ کوئی رسُولؑ ہر گز نہ بھیجے گا۔[51] ۔۔۔۔ [52]اِسی  طرح اللہ ان سب لوگوں کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے جو حد سے گزر نے والے اور شکی ہوتے ہیں {۳۴}</p>
<p>اور اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں بغیر اس کے کہ اُن کے پاس کوئی سند یادلیل آئی ہو ۔[53] یہ رویہّ اللہ اور ایمان لانے والوں کے نزدیک سخت مبغوض ہے۔ اِسی طرح اللہ ہر متکبر وجبّار کے دل پر ٹھپّہ لگادیتا ہے۔[54]{۳۵}</p>
<p>فرعون نے کہا ’’ اے ہامان! میرے لئے ایک بلند عمارت بنا، تاکہ میں راستوں تک پہنچ سکوں {۳۶}</p>
<p> آسمانوں کے راستوں تک ، اور موسیٰ  کے اِلٰہ کو جھانک کر دیکھوں۔ مجھے تو یہ موسیٰ جُھوٹا ہی معلوم ہوتا ہے ‘‘[55] اس طرح فرعون کے لیے اس کی بد عملی خوشنمابنادی گئی اور وہ راہِ راست سے روک دیا گیا۔ فرعون کی ساری چال بازی ( اُس کی اپنی ) تباہی کے راستہ ہی میں صرف ہوئی۔{۳۷}</p>
<p>وہ شخص جو ایمان لایا تھا بولا:’’ اے میری قوم کے لوگو! میری بات مانو ، میں تمہیں صحیح راستہ بتاتا ہوں {۳۸}</p>
<p> اے قوم !یہ دُنیا کی زندگی توچندروزہ ہے،[56] ہمیشہ کے قیام کی جگہ آخرت ہی ہے۔{۳۹}</p>
<p>جو بُرائی کرے گا اُس کو اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنی اُس نے بُرائی کی ہوگی۔ اور جو نیک عمل کرے گا ، خواہ وہ مردہو یا عورت ، بشرطیکہ ہو وہ مومن، ایسے سب لوگ جنت میں داخل ہوں گے جہاں ان کو بے حساب رزق دیا جائے گا ۔{۴۰}</p>
<p>اے قوم!آخر یہ کیا ماجرا ہے کہ میں تو تم لوگو ں کو نجات کی طرف بُلاتا ہوں اور تم لوگ مجھے آگ کی طرف دعوت دیتے ہو !{۴۱}</p>
<p> تم  مجھے اس بات کی دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ سے کفر کروں اور اس کے ساتھ اُن ہستیوں کو شریک ٹھہرا ؤں جنہیں میں نہیں جانتا،[57] حالاں کہ میں تمہیں اُس زبردست مغفرت کرنے والے رَبّ کی طرف بُلارہا ہوں۔{ ۴۲}</p>
<p>نہیں ، حق یہ ہے اور اِس کے خلاف نہیں ہوسکتا کہ جن کی طرف تم مجھے بُلا رہے ہو اُن کے لیے نہ دُنیا میں کوئی دعوت ہے ، نہ آخرت میں ،[58] اور ہم سب کو پلٹنا اللہ ہی کی طرف ہے ، اور حد سے گزر نے والے[59] آگ میں جانے والے ہیں۔{ ۴۳}</p>
<p>آج جو کچھ میں کہہ رہا ہوں ، عنقریب وہ وقت آئے گا جب تم اُسے یاد کرو گے ۔ اور اپنا معاملہ میں اللہ کے سپرد کرتا ہوں ، وہ اپنے بندوں کا نگہبان ہے‘‘ ۔[60]{۴۴}</p>
<p>آخر کار اُن لوگوں نے جو بُری سے بُری چالیں اُس مومن کے خلاف چلیں ، اللہ نے اُن سب سے اُس کو بچا لیا،[61] اور فرعون کے ساتھی خود بدترین عذاب کے پھیر میں آگئے۔ [62]{۴۵}</p>
<p> دوزخ کی آگ ہے جس کے سامنے صبح وشام وہ پیش کئے جاتے ہیں، اور جب قیامت کی گھڑی آجائے گی تو حکم ہوگا کہ آلِ فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کرو۔[63]{۴۶}</p>
<p>پھر ذراخیال کرو اُس وقت کا جب یہ لوگ دوزخ میں ایک دُوسرے سے جھگڑرہے ہوں گے۔ دنیا میں جو لوگ کمزور تھے وہ بڑ ے بننے والوں سے کہیں گے کہ ’’ہم تمہارے تابع تھے ، اب کیا یہاں تم نارِ جہنم کی تکلیف کے کچھ حصے سے ہم کو بچالو گے ؟‘‘ [64]{۴۷}</p>
<p>وہ بڑے بننے والے جواب دیں گے ’’ ہم سب یہاں ایک حال میں ہیں ، اور اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کرچکا ہے ‘‘[65]{۴۸}</p>
<p> پھر یہ دوزخ میں پڑے ہوئے لوگ جہنم کے اہل کاروں سے کہیں گے ’’ اپنے رَبّ سے دُعا کر و کہ ہمارے عذاب میں بس ایک دن کی تخفیف کردے ۔‘‘{۴۹}</p>
<p>وہ پوچھیں گے ’’ کیا تمہارے پاس رسو ل بیناّت لے کر نہیں آتے رہے تھے ؟‘‘ وہ کہیں گے ’’ ہاں ‘‘ جہنم کے اہل کاربولیں گے : ’’ پھر تو تم ہی دُعا کرو ، اور کافرں کی دُعااکارت ہی جانے والی ہے۔ ‘‘[66]{۵۰}</p>
<p>یقین جانو کہ ہم اپنے رسُولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد اِس دنیا کی زندگی میں بھی لازماً کرتے ہیں ،[67] اور اُس روز بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے ۔[68]{۵۱}</p>
<p>جب ظالموں کو ان کی معذرت کچھ بھی فائدہ نہ دے گی اوراُن پر لعنت پڑے گی اور بدترین ٹھکانااُن کے حصّے میں آئے گا۔{ ۵۲}</p>
<p>آخر دیکھ لو کہ موسیٰ  ؑکی ہم نے رہنمائی کی[69] اور بنی اسرائیل کو اُس کتاب کا وارث بنادیا {۵۳}</p>
<p>جو عقل و دانش رکھنے والوں کے لیے ہدایت ونصیحت تھی۔ [70]{ ۵۴}</p>
<p>  پس اے نبی  ؐ!  صبرکرو ،[71] اللہ کا وعدہ برحق ہے ،[72] اپنے قصور کی معافی چاہو[73] اور صبح وشام اپنے رَبّ کی حمدکے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو۔[74]  {۵۵}</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ کسی سند وحجت کے بغیرجو اُن کے پاس آئی ہو ، اللہ کی آیات میں جھگڑرہے ہیں اُن کے دلو ںمیں کِبر بھر ا ہوا ہے ،[75] مگر وہ اُس بڑائی کو پہنچنے والے نہیں ہیں جس کا وہ گھمنڈ رکھتے ہیں۔[76]  بس اللہ کی پناہ مانگ لو،[77] وہ سب کچھ دیکھتا اور سُنتا ہے۔[78]{۵۶}</p>
<p>آسمانو ںاور زمین کا پیدا کرنا، انسان کو پیدا کرنے کی بہ نسبت  یقینا زیادہ بڑا کام ہے ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔[79]{۵۷}</p>
<p> اور یہ نہیں ہوسکتا کہ اندھا اور بینایکساں ہوجائے اور ایمان دارو صالح اور بدکار برابر ٹھہریں مگر تم لوگ کم ہی کچھ سمجھتے ہو۔[80]{۵۸}</p>
<p> یقینا قیامت کی گھڑی آنے والی ہے،اس کے آنے میں کوئی شک نہیں، مگر اکثر لوگ نہیں مانتے۔[81] {۵۹}</p>
<p> تمہارا[82] رَبّ کہتا ہے ’’ مجھے پُکارو ، میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا [83]جو لوگ گھمنڈ میں آکر میری عبادت سے مُنھ موڑتے ہیں ضرور وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے‘‘۔[84]{۶۰}</p>
<p>وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تا کہ تم اس میں سکون حاصل کرو ، اوردن کو روشن کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے مگر اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے ۔[85]{۶۱}</p>
<p> وہی اللہ (جس نے تمہارے لئے یہ کچھ کیا ہے ) تمہارا رَبّ ہے ۔ ہر چیز کا خالق ۔ اس کے سوا کوئی معبُود نہیں ۔[86] پھر تم کدھر سے بہکائے جارہے ہو ؟ [87]{۶۲}</p>
<p>اسی طرح وہ سب لوگ بہکائے جاتے رہے ہیں جو اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے۔[88]{۶۳}</p>
<p>وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو جائے قرار بنایا[89] اوراُوپر آسمان کا گنبد بنادیا۔ [90]جس نے تمہاری صُورت بنائی اور بڑی ہی عمدہ بنائی ،جس نے تمہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا۔[91] وہی اللہ ( جس کے یہ کام ہیں) تمہارا رَبّ ہے ۔ بے حساب برکتوں والا ہے وہ کائنات کا رَبّ۔ {۶۴}</p>
<p>وہی زندہ ہے۔[92] اس کے سوا کوئی معبُود نہیں ۔ اُسی کو تم پکارو اپنے دین کو اُسی کے لیے خالص [93]کرکے۔ساری تعریف اللہ رَبّ العالمین ہی کے لیے ہے۔[94]{۶۵}</p>
<p>اے نبی  ؐ!اِن لوگوں سے کہہ دو کہ مجھے تواُن ہستیوں کی عبادت سے منع کردیا گیا ہے جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پُکارتے ہو۔ [95] ( میں یہ کام کیسے کرسکتا ہوں ) جب کہ میرے پاس میرے رَبّ کی طرف سے بینات آچکی ہیں۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں رَبّ العالمین کے آگے سرِ تسلیم خم کردوں۔{۶۶}</p>
<p> وہی تو ہے جس نے تم کومٹی سے پیدا کیا ، پھر نطفے سے ،پھر خون کے لوتھڑے سے ، پھر وہ تمہیں بچے کی شکل میں نکالتا ہے ، پھر تمہیں بڑھاتا ہے تا کہ تم اپنی پوری طاقت کو پہنچ جا ؤ ، پھر اور بڑھاتا ہے تا کہ تم بڑھا پے کو پہنچو اور تم میں سے کوئی پہلے ہی واپس بُلالیا جاتا ہے ۔[96]یہ سب کچھ اس لیے کیا جاتا ہے تا کہ تم اپنے مقررہ وقت تک پہنچ جا ؤ ،[97] اور اس لیے کہ تم حقیقت کو سمجھو ۔[98]{۶۷}</p>
<p> وہی ہے زندگی دینے والا ، اور وہی موت دینے والاہے۔ وہ جس بات کا بھی فیصلہ کرتا ہے ، بس ایک حکم دیتا ہے کہ وہ ہوجائے اور وہ ہو جاتی ہے۔{۶۸}</p>
<p>تم نے دیکھا اُن لوگوں کو جو اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، کہاں سے وہ پھرائے جارہے ہیں ؟[99] {۶۹}</p>
<p> یہ لوگ جو اِس کتاب کو اور اُن ساری کتابوں کو جُھٹلاتے ہیں جو ہم نے اپنے رسُولوں کے ساتھ بھیجی تھیں ،[100] عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا {۷۰}</p>
<p> جب طوق اِن کی گردنوں میں ہوں گے اور زنجیریں ، جن سے پکڑ کر وہ کھینچے جائیں گے ۔{۷۱}</p>
<p>اور پھر کھولتے ہوئے پانی کی طرف دوزخ کی آگ میں جھونک دیئے جائیں گے۔[101] {۷۲}</p>
<p>پھر اِن سے پوچھا جائے گا کہ ’’ اب کہا ںہیں وہ دوسرے معبود جن کو تم شریک کرتے تھے ؟‘‘[102]{۷۳}</p>
<p>اللہ کے سوا ،وہ جواب دیں گے ’’ کھوئے گئے وہ ہم سے بلکہ ہم اس سے پہلے کسی چیز کو نہ پکارتے تھے ۔‘‘ [103]اس طرح اللہ کافروں کا گمراہ ہونا متحقق کردے گا ۔{ ۷۴}</p>
<p>اِن سے کہا جائے گا’’ یہ تمہارا انجام اس لیے ہوا ہے کہ تم زمین میں غیر ِحق پرمگن تھے اور پھر اُس پر اِتراتے تھے[104]{۷۵}</p>
<p>اب جا ؤ ، جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجا ؤ ، ہمیشہ تم کو وہیں رہنا ہے ، بہت ہی بُرا ٹھکانا ہے متکبرین کا ‘‘۔{۷۶}</p>
<p> پس اے نبی  ؐ ! صبر کرو ،[105] اللہ کا وعدہ برحق ہے ۔ اب خواہ ہم تمہارے سامنے ہی اِن کو اُن بُرے نتائج کا کوئی حصہ دکھا دیں جن سے ہم اِنہیں ڈرارہے ہیں، یا ( اُس سے پہلے ) تمہیں دنیاسے اُٹھا لیں، پلٹ کر آنا تو انہیں ہماری ہی طرف ہے۔[106]{۷۷}</p>
<p> اے[107] نبی  ؐ!تم سے پہلے ہم بہت سے رسُول بھیج چکے ہیں جن میں سے بعض کے حالات ہم نے تم کو بتائے ہیں اور بعض کے نہیں بتائے ۔ کسی رسُول کی بھی یہ طاقت نہ تھی کہ اللہ کے اذن کے بغیر خود کوئی نشانی لے آتا ۔ [108]پھر جب اللہ کا حکم آگیا تو حق کے مطابق فیصلہ کردیا گیا اور اُس وقت غلط کارلوگ خسارے میں پڑگئے۔ [109]{۷۸}</p>
<p>اللہ ہی نے تمہارے لئے یہ مویشی جانور بنائے ہیں تا کہ ان میں سے کسی پر تم سوار ہو اور کسی کا گوشت کھا ؤ ۔{۷۹}</p>
<p>ان کے اندر تمہارے لئے اور بھی بہت سے منافع ہیں۔ وہ اِس کا م بھی آتے ہیں کہ تمہارے دلوں میں جہاں جانے کی حاجت ہو وہاں تم اُن پر پہنچ سکو ۔ اُن پر بھی اور کشتیوں پر بھی تم سوار کئے جاتے ہو{۸۰}</p>
<p>اللہ اپنی یہ نشانیاں تمہیں دکھا رہا ہے ، آخر تم اِس کی کِن کِن نشانیوں کا انکار کروگے۔[110]{۸۱}</p>
<p> پھر کیا [111]یہ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اِن کو اُن لوگوں کا انجام نظر آتا جو اِن سے پہلے گزرچکے ہیں ؟ وہ اِن سے تعداد میں زیادہ تھے ، ان سے بڑھ کر طاقت ورتھے ، اور زمین میں ان سے زیادہ شاندار آثار چھوڑ گئے ہیں۔ جو کچھ کمائی اُنہو ں نے کی تھی ، آخر وہ اُن کے کس کام آئی ؟{۸۲}</p>
<p>جب ان کے رسُول ان کے پاس بینات لے کر آئے۔ تو وہ اُسی علم میں مگن رہے جو ان کے اپنے پاس تھا،[112] اور پھراُسی چیز کے پھیر میں آگئے جس کا وہ مذاق اُڑاتے تھے۔{ ۸۳}</p>
<p>جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو پکار اُٹھے کہ ہم نے مان لیا اللہ وحدہ  لاشریک کو اور ہم انکار کرتے ہیں اُن سب معبُودوں کا جنہیں ہم اُس کا شریک ٹھہراتے تھے۔{ ۸۴}</p>
<p> مگر ہمارا عذاب دیکھ لینے کے بعد ان کا ایمان اُن کے لیے کچھ بھی نافع نہ ہوسکتا تھا ، کیوں کہ یہی اللہ کا مقرر ضابطہ ہے جو ہمیشہ اس کے بندوں میں جاری رہا ہے،[113] اور اس وقت کافر لوگ خسارے میں پڑگئے۔{۸۵}</p>

</div><div id="41"><p>سورۃ  حٰمٓ السجدۃ </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>حٰمٓ {۱}</p>
<p> یہ (قرآن ) رحمن و رحیم کی طرف سے نازل کردہ چیز ہے{ ۲}</p>
<p> ایک ایسی کتاب جس کی آیات خوب کھول کر بیان کی گئی ہیں ، عربی زبان کا قرآن ، اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں { ۳}</p>
<p>بشارت دینے والا اور ڈرادینے والا۔ [1]مگر ان لوگوں میں سے اکثر نے اس سے رُوگردانی کی اور وہ سُن کر نہیں دیتے {۴}</p>
<p> کہتے ہیں’’ جس چیز کی طرف تو ہمیں بُلا رہا ہے اُس کے لیے ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں ،[2] ہمارے کان بہرے ہوگئے ہیں ، اور ہمارے اور تیرے درمیان ایک حجاب حائل ہوگیا ہے ۔[3] تو اپنا کام کر ، ہم اپنا کام کئے جائیں گے‘‘۔[4]{۵}</p>
<p>اے نبی  ؐ!ان سے کہو ، میں تو ایک بشر ہوں تم جیسا ۔[5] مجھے وحی کے ذریعہ سے بتایا جاتا ہے کہ تمہارا  اِلٰہ تو بس ایک ہی  اِلٰہ ہے ۔[6]لہٰذا تم سیدھے اُسی کا رُخ اختیار کرو[7] اور اس سے معافی چاہو۔ [8]تباہی ہے اُن مشرکوں کے لیے{۶}</p>
<p> جو زکوٰۃ نہیں دیتے[9] اور آخرت کے منکر ہیں۔{۷}</p>
<p> رہے وہ لوگ جنہوں نے مان لیا اور نیک اعمال کئے ، اُن کے لیے یقینا ایسا اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے۔ [10]{۸}</p>
<p>اے نبی  ؐ ان سے کہو ، کیا تم اُس خالق سے کفر کرتے ہو اور دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھہراتے ہو جس نے زمین کو دو دنوں میں بنادیا ؟ وہی تو سارے جہان والوں کا رَبّ ہے۔{۹}</p>
<p>اُس نے ( زمین کو وجود میں لانے کے بعد )اُوپر سے اُس پر پہاڑ جمادیے اور اس میں برکتیں رکھ دیں[11] اور اس کے اندر سب مانگنے والوں کے لیے ہر ایک کی طلب وحاجت کے مطابق ٹھیک اندازسے خوراک کا سامان مہیا کردیا۔[12] یہ سب کام چاردن میں ہوگئے[13]{۱۰}</p>
<p>پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ  ہوا جو اُس وقت محض دُھواں تھا۔[14] اُس نے آسمان اور زمین سے کہا ’’وجود میں آجا ؤ ، خواہ تم چاہو یانہ چاہو ‘‘ ۔دونوں نے کہا ’’ ہم آگئے فرمانبرداروں کی طرح ‘‘۔[15]{۱۱}</p>
<p> تب اُس نے دودن کے اندر سات آسمان بنادیے ، اور ہر آسمان میں اُس کا قانون وحی کردیا۔ اور آسمان ِدُنیا کو ہم نے چراغوں سے آراستہ کیا اور اسے خوب محفوظ کردیا ۔[16] یہ سب کچھ ایک زبردست علیم ہستی کا منصوبہ ہے۔{ ۱۲}</p>
<p>اب اگر یہ لوگ منھ موڑتے ہیں[17] تو اِن سے کہہ دو کہ میں تم کو اُسی طرح کے ایک اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا عاد وثمود پر نازل ہوا تھا۔{۱۳}</p>
<p>جب اللہ کے رسُول اُن کے پاس آگے اور پیچھے ، ہر طرف سے آئے[18] اور انہیں سمجھایاکہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو تو انہوں نے کہا ’’ ہمارا رَبّ چاہتا تو فرشتے بھیجتا ، لہٰذا ہم اُس بات کو نہیں مانتے جس کے لیے تم بھیجے گئے ہو‘‘۔[19]{۱۴}</p>
<p>عاد کا حال یہ تھا کہ وہ زمین میں کسی حق کے بغیر بڑے بن بیٹھے اور کہنے لگے ’’ کون ہے ہم سے زیادہ زور آور ۔‘‘ اُن کو یہ نہ سوجھا کہ جس اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے وہ ان سے زیادہ زور آور ہے۔ وہ ہماری آیات کا انکار ہی کرتے رہے{۱۵}</p>
<p>آخر کار ہم نے چند منحوس دنوں میں سخت طوفانی ہوا ان پر بھیج دی[20] تا کہ انہیں دنیا ہی کی زندگی میں ذلت و رسوائی کے عذاب کا مزہ چکھادیں ،[21] اور آخرت کا عذاب تو اس سے بھی زیادہ رسُواکُن ہے ، وہاں کوئی ان کی مدد کرنے والا نہ ہوگا ۔{۱۶}</p>
<p>رہے ثمود ، تو ان کے سامنے ہم نے راہ راست پیش کی مگر انہوں نے راستہ دیکھنے کے بجائے اندھا بنارہنا ہی پسند کیا۔ آخر اُن کے کرتوتوں کی بدولت ذلت کا عذاب اُن پر ٹوٹ پڑا{۱۷}</p>
<p> اور ہم نے اُن لوگوں کو بچالیا جو ایمان لائے تھے اور گمراہی و بدعملی سے پرہیز کرتے تھے۔[22]{۱۸}</p>
<p> اور ذرا اُس وقت کا خیال کرو جب اللہ کے یہ دشمن دوزخ کی طرف جانے کے لیے گھیر لائے جائیں گے۔[23] اُ ن کے اگلوں کو پچھلوں کے آنے تک روک رکھا جائے گا[24]{۱۹}</p>
<p> پھر جب سب وہاں پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے جسم کی کھالیں ان پر گواہی دیں گی کہ وہ دنیا میں کیا کچھ کرتے رہے ہیں۔ [25]{۲۰}</p>
<p> وہ اپنے جسم کی کھالوں سے کہیں گے ’’ تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی؟ ‘‘ وہ جواب دیں گی ’’ہمیں اُسی اللہ نے گویائی دی ہے جس نے ہر چیز کو گویا کردیا ہے۔[26] اُسی نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور اب اُسی کی طرف تم واپس لائے جارہے ہو۔{۲۱}</p>
<p>تم دنیا میں جرائم کرتے وقت جب چھپتے تھے تو تمہیں یہ خیال نہ تھا کہ کبھی تمہارے اپنے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہارے جسم کی کھالیں تم پر گواہی دیں گی ،بلکہ تم نے تو یہ سمجھا تھا کہ تمہارے بہت سے اعمال کی اللہ کو بھی خبر نہیں ہے۔{۲۲}</p>
<p>تمہارا یہی گمان جو تم نے اپنے رَبّ کے ساتھ کیا تھا ،تمہیں لے ڈوبا اور اسی کی بدولت تم خسارے میں پڑگئے ‘‘۔[27]{۲۳}</p>
<p>اِس حالت میں وہ صبر کریں (یانہ کریں) آگ ہی اُن کا ٹھکانا ہوگی، اور اگر رجوع کا موقع چاہیں گے تو کوئی موقع اُنہیں نہ دیا جائے گا۔[28]{۲۴}</p>
<p>ہم نے اُن پر ایسے ساتھی مسلط کردیئے تھے جو انہیں آگے اور پیچھے ہر چیز خوشنما بناکر دکھاتے تھے،[29] آخر کاراُن پر بھی وہی فیصلۂ عذاب چسپاں ہو کر رہا جو ان سے پہلے گزرے ہوئے جنّوں اور انسانوں کے گروہوں پر چسپاں ہوچکا تھا ، یقینا وہ خسارے میں رہ جانے والے تھے۔{۲۵}</p>
<p>یہ منکرینِ حق کہتے ہیں ’’ اس قرآن کو ہر گزنہ سنو اور جب یہ سنایا جائے تو اس میں خلل ڈالو ، شاید کہ اسی طرح تم غالب آجا ؤ ‘‘۔[30]{۲۶}</p>
<p>ان کا فروں کو ہم سخت عذاب کا مزہ چکھا کررہیں گے اور جو بدترین حرکات یہ کرتے رہے ہیں ان کا پورا پورا بدلہ انہیں دیں گے۔ {۲۷}</p>
<p> وہ دوزخ ہے جو اللہ کے دشمنوں کو بدلے میں ملے گی۔ اُسی میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان کا گھر ہوگا۔ یہ ہے سزا اِس جُرم کی کہ وہ ہماری آیات کا انکارکرتے رہے۔{۲۸}</p>
<p> وہاں یہ کافر کہیں گے کہ ’’ اے ہمارے رَبّ ! ذرا ہمیں دکھا دے اُن جنوں اور انسانوں کو جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا ، ہم انہیں پا ؤں تلے روندڈالیں گے تا کہ وہ خوب ذلیل و خوار ہوں‘‘۔[31]{۲۹}</p>
<p>جن[32] لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رَبّ ہے اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے،[33] یقینا اُن پر فرشتے نازل ہوتے ہیں[34]اور ان سے کہتے ہیں کہ ’’ نہ ڈرو ، نہ غم کرو ،[35] اور خوش ہوجا ؤ اُس جنت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔{۳۰}</p>
<p> ہم اِس دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی۔ وہاں جو کچھ تم چاہو گے تمہیں ملے گا اور ہر چیز جس کی تم تمنا کروگے وہ تمہاری ہوگی{۳۱}</p>
<p>یہ ہے سامان ِ ضیافت اُس ہستی کی طرف سے جو غفور اور رحیم ہے۔‘‘{۳۲}</p>
<p>اور اُس شخص کی بات سے اچھی بات اور کس کی ہوگی جس نے اللہ کی طرف بُلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوں[36] {۳۳}</p>
<p>اور اے نبی  ؐ! نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اُس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔[37] {۳۴}</p>
<p> یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر اُن لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں ، [38]اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر اُن لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہیں۔[39] {۳۵}</p>
<p> اور اگر تم شیطان کی طرف سے کوئی اُکساہٹ محسوس کرو تو اللہ کی پناہ مانگ لو ،[40] وہ سب کچھ سُنتا اور جانتا ہے۔[41]{۳۶}</p>
<p>اللہ[42] کی نشانیوں میں سے ہیں یہ رات اور دن اور سُورج اور چاند ۔[43] سُورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو، بلکہ اُس (اللہ )کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے اگر فی الواقع تم اُسی کی عبادت کرنے والے ہو[44]{۳۷}</p>
<p> لیکن اگر یہ لوگ غرور میں آکر اپنی ہی بات پر اَڑے رہیں[45] تو پروانہیں ، جو فرشتے تیرے رَبّ کے مقرب ہیں وہ شب وروز اس کی تسبیح کررہے ہیں اور کبھی نہیں تھکتے۔[46] {۳۸}</p>
<p> اور اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ تم دیکھتے ہو زمین سُونی پڑی ہوئی ہے ، پھر جونہی کہ ہم نے اس پر پانی برسایا ، یکایک وہ پھَبک اُٹھتی ہے اور پُھول جاتی ہے۔ یقینا جو اللہ اِس مری ہوئی زمین کو جلا اٹھاتا ہے وہ مُردوں کو بھی زندگی بخشنے والا ہے ۔[47] یقینا وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔{۳۹}</p>
<p>جو[48] لوگ ہماری آیات کو اُلٹے معنی پہناتے ہیں[49] وہ ہم سے کچھ چھپے ہوئے نہیں ہیں ۔ [50]خود ہی سوچ لو کہ آیاوہ شخص بہتر ہے جو آگ میں جھونکا جانے والا ہے یاوہ جو قیامت کے روز امن کی حالت میں حاضر ہوگا؟ کرتے رہو جو کچھ تم چاہو ،تمہاری ساری حرکتوں کو اللہ دیکھ رہا ہے۔ {۴۰}</p>
<p> یہ وہ لوگ ہیں جن کے سامنے کلام ِنصیحت آیاتو اِنہوں نے اُسے ماننے سے انکار کردیا ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک زبردست کتاب ہے۔ [51]{۴۱}</p>
<p> باطل نہ سامنے سے اِس پر آسکتا ہے نہ پیچھے  سے ،[52] یہ ایک حکیم وحمید کی نازل کردہ چیزہے۔{۴۲}</p>
<p>اے نبی  ؐ!  تم کو جو کچھ کہا جارہا ہے اس میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو تم سے پہلے گزرے ہوئے رسُولوں کو نہ کہی جاچکی ہو ۔ بے شک تمہارا رَبّ بڑا درگزر کرنے والا ہے[53] اور اِس کے ساتھ بڑی درد ناک سزادینے والا بھی ہے۔{۴۳}</p>
<p>اگر ہم اِس کو عجمی قرآن بناکر بھیجتے تو یہ لوگ کہتے ’’ کیوں نہ اِس کی آیا ت کھول کر بیان کی گئیں؟ کیا ہی عجیب بات ہے کہ کلام عجمی ہے اور مخاطب عربی۔‘‘ [54]ان سے کہو یہ قرآن ایمان لانے والوں کے لیے تو ہدایت اور شفا ہے ، مگر جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کے لیے یہ کانوں کی ڈاٹ اور آنکھوں کی پٹی ہے۔ اُن کا حال تو ایسا ہے جیسے اُن کو دُور سے پُکارا جارہا ہو۔[55]{ ۴۴}</p>
<p>اِس سے پہلے ہم نے موسیٰ  ؑکو کتاب دی تھی اور اس کے معاملے میں بھی یہی اختلاف ہوا تھا ۔ [56]اگر تیرے رَبّ نے پہلے ہی ایک بات طے نہ کردی ہوتی تو ان اختلاف کرنے والوں کے درمیان فیصلہ چکا دیا جاتا۔ [57]اور حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اُس کی طرف سے سخت اضطر اب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ [58]{۴۵}</p>
<p> جو کوئی نیک عمل کرے گا اپنے ہی لئے اچھا کرے گا ، جو بدی کرے گا اس کا وبال اُسی پر ہوگا ۔ اور تیرا رَبّ اپنے بندوں کے حق میں ظالم نہیں ہے۔ [59]{۴۶}</p>
<p>اُس ساعت[60] کا علم اللہ ہی کی طرف راجع ہوتا ہے ، وہی اُن سارے پھلوں کو جانتا ہے جو اپنے شگوفوں میں سے نکلتے ہیں، اُسی کو معلوم ہے کہ کون سی مادہ حاملہ ہوئی ہے اور کس نے بچہ جنا ہے ۔[62] پھر جس روز وہ اِن لوگوں کو پکارے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک ؟ یہ کہیں گے ’’ ہم عرض کرچکے ہیں ، آج ہم میں سے کوئی اِس کی گواہی دینے والا نہیں ہے ‘‘ ۔[63]{۴۷ }</p>
<p>اُس وقت وہ سارے معبُود اِن سے گم ہوجائیں گے جنہیں یہ اس سے پہلے پکارتے تھے ،[64] اور یہ لوگ سمجھ لیں گے کہ اِن کے لیے اب کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔{۴۸}</p>
<p>انسان کبھی بھلائی کی دُعا مانگتے نہیں تھکتا ،[65] اور جب کوئی آفت اِس پر آجاتی ہے تو مایوس و دل شکستہ ہوجاتا ہے  {۴۹}</p>
<p> مگر جو نہی کہ سخت وقت گزرجانے کے بعد ہم اِسے اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں یہ کہتا ہے کہ ’’میں اِسی کا مستحق ہوں ،[66] اور میں نہیں سمجھتا کہ قیامت کبھی آئے گی ، لیکن اگر واقعی میں اپنے رَبّ کی طرف پلٹایا گیا تو وہاں بھی مزے کرو ں گا‘‘ حالاں کہ کفر کرنے والوں کو لازماً ہم بتا کر رہیں گے کہ وہ کیا کرکے آئے ہیں اور انہیں ہم بڑے گندے عذاب کا مزہ چکھائیں  گے{۵۰}</p>
<p>انسان کو جب ہم نعمت دیتے ہیں تو وہ منھ پھیرتا ہے اور اکڑ جاتا ہے[67] اور جب اسے کوئی آفت چُھوجاتی ہے تولمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے۔[68]{۵۱}</p>
<p> اے نبی  ؐ!اِن سے کہو ، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر واقعی یہ قرآن اللہ ہی کی طرف سے ہوا اور تم اس کا انکار کرتے رہے تو اُس شخص سے بڑھ کر بھٹکا ہوا اور کون ہوگا جو اس کی مخالفت میں دُور تک نکل گیا ہو ؟[69]{۵۲}</p>
<p> عنقریب ہم اِن کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفس میں بھی یہاں تک کہ اِن پر یہ بات کُھل جائے گی کہ یہ قرآن واقعی برحق ہے ۔[70]کیا یہ بات کافی نہیں ہے کہ تیرا رَبّ ہر چیز کا شاہد ہے ؟[71] {۵۳}</p>
<p> آگاہ رہو ، یہ لوگ اپنے رَبّ کی ملاقات میں شک رکھتے ہیں۔[72] سُن رکھو،وہ ہر چیز پر محیط ہے۔ [73]{۵۴}</p>

</div><div id="42"><p>سورۃ  الشورٰی </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہامہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>حٰمٓ {۱}</p>
<p> عٓسٓقٓ{ ۲}</p>
<p> اِسی طرح اللہ غالب وحکیم تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے (رسُولوں کی ) طرف وحی کرتا رہا ہے۔[1] { ۳}</p>
<p>آسمانو ںاور زمین میں جو کچھ بھی ہے اُسی کا ہے ، وہ بر تراور عظیم ہے [2]{ ۴}</p>
<p> قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں۔ [3] فرشتے اپنے ربّ کی حمد کے ساتھ تسبیح کررہے ہیں۔ اور زمین والوں کے حق میں درگزر کی درخواستیں کئے جاتے ہیں۔[4] آگاہ رہو ، حقیقت میں اللہ غفور ورحیم ہی ہے۔[5]{۵}</p>
<p>جن لوگوں نے اُس کو چھوڑ کر اپنے کچھ دوسرے سرپرست(اولیاء) [6] بنار رکھے ہیں ، اللہ ہی اُن پر نگراں ہے ،تم ان کے حوالہ دار نہیں ہو۔{۶}</p>
<p>ہاں اِسی طرح اے نبی  ؐ! یہ قرآنِ عربی ہم نے تمہاری طرف وحی کیا ہے[8] تاکہ تم بستیوں کے مرکز (شہر مکہ ) اور اُس کے گردوپیش رہنے والوں کو خبردار کردو ،[9] اور جمع ہونے کے دن سے ڈرادو [10]جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ۔ ایک گروہ کو جنّت میں جانا ہے اور دُوسرے گروہ کو دوزخ میں۔{۷}</p>
<p>اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ایک ہی اُمت بنادیتا ، مگر وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے ، اور ظالموں کا نہ کوئی ولی ہے نہ مددگار ۔[11]{۸}</p>
<p> کیا یہ ( ایسے نادان ہیں کہ ) انہوں نے اُسے چھوڑ کر دوسرے ولی بنار کھے ہیں ؟ ولی تو اللہ ہی ہے ، وہی مُردوں کو زندہ کرتا ہے ، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔[12]{۹}</p>
<p>تمہارے[13] درمیان جس معاملے میں بھی اختلاف ہو، اُس کا فیصلہ کرنا اللہ کا کام ہے۔ [14]وہی اللہ میرا[15] رَبّ ہے ، اُسی پر میں نے بھروسہ کیا ، اور اُسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔[16] {۱۰}</p>
<p>   آسمانوں اور زمین کا بنانے والا جس نے تمہاری اپنی جنس سے تمہارے لئے جوڑے پیدا کئے ، اور اِسی طرح جانوروں میں بھی (اُنہی کے ہم جنس ) جوڑے بنائے، اور اس طریقہ سے وہ تمہاری نسلیں پھیلاتا ہے۔ کائنات کی کوئی چیز اُس کے مشابہ نہیں ،[17] وہ سب کچھ سُننے اور دیکھنے والا ہے۔[18]{۱۱}</p>
<p> آسمان اور زمین کے خزانوںکی کنجیاں اُسی کے پاس ہیں ، جسے چاہتا ہے کھلارزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نَپاتُلا دیتا ہے ، اُسے ہر چیز کا علم ہے۔[19]{ ۱۲}</p>
<p>اُس نے تمہارے لئے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اُس نے نوحؑ کو دیا تھا اور جسے ( اے نبی  ؐ!)  اب تمہاری طرف ہم نے وحی کے ذریعہ سے بھیجا ہے ، اور جس کی ہدایت ہم ابراہیم ؑ اور موسیٰؑ اور عیسیٰ ؑ کو دے چکے ہیں ، اس تاکید کے ساتھ کہ قائم کرو اس دین کو اور اس میں متفرق نہ ہوجا ؤ۔[20] یہی بات ان مشرکین کو سخت ناگوار ہوئی ہے جس کی طرف (اے نبی  ؐ!) تم انہیں دعوت دے رہے ہو ۔ اللہ جسے چاہتا ہے اپنا کرلیتاہے اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اُسی کو دکھاتا ہے جو اُس کی طرف رجوع کرے۔ [21]{۱۳}</p>
<p>لوگوں میں جو تفرقہ رُو نما ہوا وہ اس کے بعد ہوا کہ اُن کے پاس علم آچکا تھا،[22] اور اس بناپر ہوا کہ وہ آپس میں ایک دُوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے۔[23] اگر تیرا رَبّ  پہلے ہی یہ نہ فرما چکا ہوتا کہ ایک وقت ِمقرر تک فیصلہ ملتوی رکھا جائے گا تو ان کا قضیہ چُکا دیا گیا ہوتا ۔[24] اور حقیقت یہ ہے کہ اگلوں کے بعد جو لوگ کتاب  کے وارث بنائے گئے وہ اُس کی طرف سے بڑے اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں۔  [25]{۱۴}</p>
<p>  (چونکہ یہ حالت پیدا ہوچکی ہے) اس لیے اے نبی  ؐ! اب تم اُسی دین کی طرف دعوت دو ، اور جس طرح تمہیں حکم دیا گیا ہے اُسی پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوجا ؤ، اور اِن لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو ،[26] اور اِن سے کہہ دو کہ: ’’ اللہ نے جو کتاب بھی نازل کی ہے میں اُس پر ایمان لایا ،[27]مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں ۔[28] اللہ ہی ہمارا رَبّ بھی ہے اور تمہارا رَبّ بھی ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ۔[29] ہمارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں۔ [30] اللہ ایک روز ہم سب کو جمع کرے گا اور اُسی کی طرف سب کو جانا ہے ‘‘۔ {۱۵}</p>
<p>اللہ کی دعوت پر لبیک کہے جانے کے بعد جو لوگ ( لبیّک کہنے والوں سے ) اللہ کے معاملہ میں جھگڑے کرتے ہیں ،[31] ان کی حجت بازی اُن کے رَبّ کے نزدیک باطل ہے ، اور اُن پر اُس کا غضب ہے اور اُن کے لیے سخت عذاب ہے ۔{۱۶}</p>
<p>وہ اللہ ہی ہے جس نے حق کے ساتھ یہ کتاب اور میزان نازل کی ہے۔[32]  اور تمہیں کیا خبر، شاید کہ فیصلے کی گھڑی قریب ہی آلگی ہو۔[33]{۱۷}</p>
<p>جو لوگ اُس کے آنے پر ایمان نہیں رکھتے وہ تو اُس کے لیے جلدی مچاتے ہیں، مگر جو اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یقینا وہ آنے والی ہے۔ خوب سُن لو ، جو لوگ اُس گھڑی کے آنے میں شک ڈالنے والی بحثیں کرتے ہیں وہ گمراہی میں بہت دُور نکل گئے ہیں۔{۱۸}</p>
<p>اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔[34] جسے جو کچھ چاہتا ہے دیتا ہے ،[35] اور وہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے۔ [36]{۱۹}</p>
<p> جو کوئی آخرت کی کھیتی چاہتا ہے اُس کی کھیتی کو ہم بڑھاتے ہیں ، اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے اُسے دنیا ہی میں سے دیتے ہیں مگر آخرت میں اُس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔[37] {۲۰}</p>
<p>کیا یہ لوگ کچھ ایسے(اللہ کے) شریک رکھتے ہیں جنہو ں نے اِن کے لیے دین کی نوعیت رکھنے والا ایک ایسا طریقہ مقرر کردیا ہے جس کا اللہ نے اِذن نہیں دیا ؟ [38] اگر فیصلے کی بات طے نہ ہوگئی ہوتی تو اِن کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا۔[39] یقینا اِن ظالموں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔{۲۱}</p>
<p> تم دیکھو گے کہ یہ ظالم اس وقت اپنے کئے کے انجام سے ڈرر ہے ہوں گے اور وہ ان پر آکر رہے گا۔ بخلاف اِس کے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں وہ جنت کے گلستانوں میں ہوں گے ، جو کچھ بھی وہ چاہیں گے اپنے رَبّ کے ہاں پائیں گے ، یہی بڑا فضل ہے۔{۲۲}</p>
<p>یہ ہے وہ چیز جس کی خوشنجری اللہ اپنے اُن بندوں کو دیتا ہے جنہوں نے مان لیا اور نیک عمل کئے ۔ اے نبی  ؐ! اِن لوگوں سے کہہ دو کہ ’’ میں اس کا م پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں،[40] البتہ قرابت کی محبت ضرور چاہتا ہوں‘‘  ۔ [41]جو کوئی بھلائی کمائے گا ہم اس کے لیے اس بھلائی میں خوبی کا اضافہ کردیں گے۔ بیشک اللہ بڑا درگزر کرنے والا اور قدر دان ہے۔ [42]{۲۳}</p>
<p>  کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اللہ پر جُھوٹا بہتان گھڑلیا ہے ؟[43] اگر اللہ چاہے تو تمہارے دل پر مُہرکردے۔ [44] وہ باطل کو مٹادیتا ہے اور حق کو اپنے فرمانوں سے حق کردکھاتا ہے ۔ [45]وہ سینوں کے چُھپے ہوئے راز جانتا ہے ۔[46]{ ۲۴}</p>
<p>و ہی ہے جو اپنے بندوں سے توبہ قبول کرتاہے اور بُرائیوں سے درگزر فرماتا ہے،حالانکہ تم لوگوں کے سب افعال کا اُسے علم ہے۔[47]{۲۵}</p>
<p>وہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کی دُعا قبول کرتا ہے اور اپنے فضل سے ان کو اور زیادہ دیتا ہے۔ رہے انکار کرنے والے ، تو ان کے لیے سخت سزا ہے۔{۲۶}</p>
<p>اگر اللہ اپنے سب بندوں کو کھلا رزق دے دیتا تو وہ زمین میں سرکشی کا طوفان برپا کردیتے ، مگر وہ ایک حساب سے جتنا چاہتا ہے نازل کرتا ہے ، یقینا وہ اپنے بندوں سے باخبر ہے اور اُن پر نگاہ رکھتا ہے۔[48]{۲۷}</p>
<p> وہی ہے جو لوگوں کے مایوس ہوجانے کے بعد مینھ برساتا ہے اور اپنی رحمت پھیلادیتا ہے ، اور وہی قابلِ تعریف ولی ہے۔[49]{۲۸}</p>
<p> اُس کی نشانیوں میں سے ہے یہ زمین اور آسمانوں کی پیدائش، اور یہ جاندار مخلوقات جو اُس نے دونوں جگہ پھیلا رکھی ہیں ۔[50] وہ جب چاہے انہیں اکٹھا کر سکتا ہے۔[51] {۲۹}</p>
<p>  تم لوگوں پر جو مصیبت بھی آئی ہے، تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آئی ہے،  اور بہت سے قصوروں سے وہ ویسے ہی درگزر کرجاتا ہے۔[52]{۳۰}</p>
<p>تم زمین میں اپنے رَبّ کو عاجز کردینے والے نہیں ہو ، اور اللہ کے مقابلے میں تم کوئی حامی و ناصر نہیں رکھتے ۔{۳۱}</p>
<p>اُس کی نشانیوں میں سے ہیں یہ جہاز جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح نظر آتے ہیں۔{۳۲}</p>
<p> اللہ جب چاہے ہوا کو ساکن کردے اور یہ سمندر کی پیٹھ پر کھڑے کے کھڑے رہ جائیں ۔اس میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو کمال درجہ صبرو شکر کرنے والا ہو۔[53]{۳۳}</p>
<p>یا ( اُن پر سوار ہونے والوں کے ) بہت سے گناہوں سے درگزر کرتے ہوئے ان کے چند ہی کرتُوتوں کی پاداش میں انہیں ڈبودے{ ۳۴}</p>
<p>اور اُس وقت ہماری آیات میں جھگڑے کرنے والوں کو پتہ چل جائے کہ ان کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔ [54]{۳۵}</p>
<p>جو کچھ بھی تم لوگوں کو دیا گیا ہے وہ محض دنیا کی چند روزہ زندگی کا سرو سامان ہے ،[55] اور جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر بھی ہے اور پائیدار بھی ۔[56] وہ اُن لوگوں کے لیے ہے جو ایمان لائے ہیں اور اپنے رَبّ پر بھروسہ کرتے ہیں[57]{۳۶}</p>
<p>جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں [58]اور اگر غصہ آجائے تو درگزر کرجاتے ہیں[59] {۳۷}</p>
<p> جو اپنے رَبّ کا حکم مانتے ہیں ،[60] نماز قائم کرتے ہیں ، اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں ،[61] ہم نے جو کچھ بھی رزق انہیں دیا ہے اُس میں سے خرچ کرتے ہیں[62]{۳۸}</p>
<p>اور جب ان پرزیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔[63]{۳۹}</p>
<p> [64]--بُرائی کا بدلہ ویسی ہی بُرائی ہے ،[65] پھر جوکوئی معاف کردے اور اصلاح کرے اُس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے ،[66] اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔{۴۰}</p>
<p> اور جو لوگ ظلم ہونے کے بعد بدلہ لیں اُن کو ملامت نہیں کی جاسکتی{۴۱}</p>
<p> ملامت کے مستحق تو وہ ہیں جو دُوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔{۴۲}</p>
<p>البتہ جو شخص صبر سے کام لے اور درگزر کرے ، تو یہ بڑی اولُوالعزمی کے کاموں میں سے ہے۔ [68]{۴۳}</p>
<p> جس کو اللہ ہی گمراہی میں پھینک دے اُس کا کوئی سنبھالنے والا اللہ کے بعد نہیں ہے۔ [69]تم دیکھو گے کہ یہ ظالم جب عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے اب پلٹنے کی بھی کوئی سبیل ہے ؟[70] {۴۴}</p>
<p>اور تم دیکھو گے کہ یہ جہنم کے سامنے جب لائے جائیں گے تو ذلت کے مارے جُھکے جارہے ہوں گے اور اُس کو نظر بچا بچا کرکن آنکھیوں سے دیکھیں گے۔[71] اُس وقت وہ لوگ جو ایمان لائے تھے کہیں گے کہ واقعی اصل زیاں کا روہی ہیں جنہوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے متعلقین کو خسارے میں ڈال دیا ۔ خبردار رہو ، ظالم لوگ مستقل عذاب میں ہوں گے {۴۵}</p>
<p>اور ان کے کوئی حامی و سرپرست نہ ہوں گے جو اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کو آئیں۔ جسے اللہ گمراہی میں پھینک دے اس کے لیے بچا ؤ کی کوئی سبیل نہیں۔{۴۶}</p>
<p>مان لو اپنے رَبّ کی بات قبل اِس کے کہ و ہ دن آئے جس کے ٹلنے کی کوئی صُورت اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔[72] اُس دن تمہارے لئے کوئی جائے پناہ نہ ہوگی اور نہ کوئی تمہارے حال کو بدلنے کی کوشش کرنے والا ہوگا ۔[73]{۴۷}</p>
<p>اب اگر یہ لوگ منھ موڑتے ہیں تو اے نبی  ؐ! ہم نے تم کو اِن پر نگہبان بناکر تو نہیں بھیجا ہے۔[74] تم پر توصرف بات پہنچادینے کی ذمہ داری ہے۔ انسان کا حال یہ ہے کہ جب ہم اسے اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو اُس پر پُھول جاتا ہے ، اور اگر اس کے اپنے ہاتھوں کا کیا دھرا کسی مصیبت کی شکل میں اس پر الٹ پڑتا ہے تو سخت ناشکرابن جاتا ہے۔[75]{۴۸}</p>
<p> اللہ زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے ،[76] جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے ، جسے چاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے جسے چاہتا ہے لڑکے دیتا ہے {۴۹}</p>
<p> جسے چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں مِلا جُلا کردیتا ہے ، اور جسے چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے ۔ وہ سب کچھ جانتا اور ہر چیز پر قادر ہے۔ [77]{۵۰}</p>
<p>  کسی [78]بشر کا یہ مقام نہیں ہے کہ اللہ اُس سے رُوبرو بات کرے۔ اُس کی بات یا تو وحی ( اشارے ) کے طور پر ہوتی ہے [79]، یاپر دے کے پیچھے سے،[80] یا پھر وہ کوئی پیغام بر( فرشتہ ) بھیجتا ہے اور وہ اُس کے حکم سے جو کچھ وہ چاہتاہے وحی کرتا ہے ، [81]وہ برتر اور حکیم ہے ۔[82]{۵۱}</p>
<p> اور اِسی طرح ( اے نبی  ؐ!) ہم نے اپنے حکم سے ایک رُوح تمہاری طرف وحی کی ہے[83]تمہیں کچھ پتہ نہ تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے ،[84] مگراُس رُوح کو ہم نے ایک روشنی بنا دیا جس سے ہم راہ دکھاتے ہیں اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں۔ یقینا تم سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کر رہے ہو {۵۲}</p>
<p>اُس اللہ کے راستے کی طرف جو زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا مالک ہے ۔ خبردار رہو! سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رُجوع کرتے ہیں۔[85]{۵۳}</p>

</div><div id="43"><p>سورۃ  الزخرف </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔</p>
<p>حٰمٓ {۱}</p>
<p> قسم ہے اس واضح کتاب کی { ۲}</p>
<p> کہ ہم نے اسے عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تا کہ تم لوگ اسے سمجھو۔[1]{۳}</p>
<p>اور درحقیقت یہ اُ مُّ الکتاب میں ثبت ہے ،[2] ہمارے ہاں بڑی بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز کتاب ہے۔[3]{ ۴}</p>
<p>اب کیا ہم تم سے بیزار ہو کر یہ درسِ نصیحت تمہارے ہاں بھیجنا چھوڑدیں صرف اس لیے کہ تم حد سے گزرے ہوئے ہو ؟[4] {۵}</p>
<p> پہلے گزری ہوئی قوموں میں بھی بارہا ہم نے نبی بھیجے ہیں۔{۶}</p>
<p> کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی نبی ﷺُن کے ہاں آیا ہو اور انہوں نے اُس کا مذاق نہ اُڑایا ہو ۔[5]{۷}</p>
<p> پھر جو لوگ اِن سے بدرجہا زیادہ طاقتور تھے اُنہیں ہم نے ہلاک کردیا ،پچھلی قوموں کی مثالیں گزرچکی ہیں۔[6]{۸}</p>
<p>اگر تم اِن لوگوں سے پُوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا تو یہ خود کہیں گے کہ ’’ انہیں اُسی زبردست علیم ہستی نے پیدا کیا ہے۔ ‘‘{۹}</p>
<p> وہی ناجس نے تمہارے لئے اُس زمین کو گہوارہ بنایا [7]اور اس میں تمہاری خاطر راستے بنادیئے[8] تا کہ تم اپنی منزل ِمقصود کی راہ پاسکو۔[9]{۱۰}</p>
<p>جس نے ایک خاص مقدار میں آسمان سے پانی اُتارا [10]اور اس کے ذریعے سے مُردہ زمین کو جِلا اُٹھایا ، اِسی طرح ایک روز تم زمین سے بر آمد کئے جا ؤ گے۔[11]{۱۱}</p>
<p>وہی جس نے یہ تمام جوڑے پیدا کئے [12]اور جس نے تمہارے لئے کشتیوں اور جانوروں کو سواری بنایا {۱۲}</p>
<p> تاکہ تم اُن کی پشت پر چڑھو اور جب اُن پر بیٹھو تواپنے رَبّ کا احسان یاد کرو اور کہوکہ ’’ پاک ہے وہ جس نے ہمارے لئے ان چیزوں کو مسخر کردیا ورنہ ہم اِنہیں قابو میں لانے کی طاقت نہ رکھتے تھے [13]{۱۳}</p>
<p> اور ایک روز یقینا ہمیں اپنے رَبّ کی طرف پلٹنا ہے۔‘‘[14]{۱۴}</p>
<p>( یہ سب کچھ جانتے اور مانتے ہوئے بھی ) اِن لوگوں نے اُسکے بندوں میں سے بعض کو اُس کا جُزو بناڈالا،[15] حقیقت یہ ہے کہ انسان کُھلا احسان فراموش ہے۔ {۱۵}</p>
<p>کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لئے بیٹیاں انتخاب کیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا ؟ {۱۶}</p>
<p>اور حال یہ ہے کہ جس اولاد کو یہ لوگ اُس ربّ ِرحمن کی طرف منسوب کرتے ہیں اُس کی ولادت کا مژدہ جب خود اِن میں سے کسی کو دیا جاتا ہے تو اُس کے منھ پرسیاہی چھاجاتی ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے۔[16]{۱۷}</p>
<p>کیا اللہ کے حصے میں وہ اولاد آئی جو زیوروں میں پالی جاتی ہے اور بحث وحجت میں اپنا مدعا پوری طرح واضح بھی نہیں کرسکتی ؟[17]{۱۸}</p>
<p>اِنہوں نے فرشتوں کو ، جو (ربّ) رحمن کے خاص بندے ہیں ،[18] عورتیں قرار دے لیا۔ کیا اُن کے جسم کی ساخت انہو ں نے دیکھی ہے ؟[19] ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور اِنہیں اِس کی جواب دہی کرنی ہوگی۔ {۱۹}</p>
<p> یہ کہتے ہیں :’’اگر(ربّ)رحمن چاہتا ( کہ ہم ان کی عبادت نہ کریں ) تو ہم کبھی اُن کو نہ پُوجتے‘‘[20] یہ اس معاملے کی حقیقت کو قطعی نہیں جانتے ، محض تیرتُکے لڑاتے ہیں۔ {۲۰}</p>
<p>کیا ہم نے اس سے پہلے کوئی کتاب اِن کو دی تھی جس کی سند ( اپنی اس ملائکہ پرستی کے لیے )یہ اپنے پاس رکھتے ہوں ؟[21]{۲۱}</p>
<p>نہیں،بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پرپایا ہے اور ہم اُنہی کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں ۔[22]{ ۲۲}</p>
<p>اِسی طرح تم سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی نذیر بھیجا، اُس کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پرپایا ہے اور ہم اُنہی کے نقشِ قدم کی پیروی کررہے ہیں۔[23]{ ۲۳}</p>
<p>ہر نبی نے اُن سے پوچھا ، کیا تم اُسی ڈگر پر چلے جا ؤ گے خواہ میں تمہیں اس راستے سے زیادہ صحیح راستہ بتا ؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ انہوں نے سارے رسولوں کو یہی جواب دیا کہ جس دین کی طرف بلانے کے لیے تم بھیجے گئے ہوہم اُس کے کافر ہیں۔{۲۴}</p>
<p>آخر کار ہم نے اُن کی خبر لے ڈالی اور دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔ {۲۵}</p>
<p> یاد کرو وہ وقت جب ابراہیم ؑ نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا[24] کہ ’’ تم جن کی بندگی کرتے ہو میرا اُن سے کو ئی تعلق نہیں۔{۲۶}</p>
<p> میرا تعلق صرف اُس سے ہے جس نے مجھے پیدا کیا ، وہی میری رہنمائی کرے گا ‘‘۔[25]{۲۷}</p>
<p>اور ابراہیم ؑ یہی کلمہ [26]اپنے پیچھے اپنی اولاد میں چھوڑ گیا تا کہ وہ اِس کی طرف رجوع کریں[27]{۲۸}</p>
<p> ( اس کے باوجود جب یہ لوگ دوسروں کی بندگی کرنے لگے تو میں نے اِن کو مٹا نہیں دیا) بلکہ میں اِنہیں اور ان کے باپ دادا کو متاعِ حیات دیتارہا یہاں تک کہ اِن کے پاس حق اور کھول کھول کربیان کرنے والا رسُول  ؐ آگیا۔[28]{۲۹}</p>
<p> مگر جب وہ حق اِن کے پاس آیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو جادُو ہے[29] اور ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں {۳۰}</p>
<p>   کہتے ہیں،یہ قرآن دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پرکیوں نہ نازل کیا گیا  ؟ [30]{۳۱}</p>
<p> کیا تیرے رَبّ کی رحمت یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں ؟ دُنیا کی زندگی میں اِن کی گزر بسر کے ذرائع تو ہم نے اِن کے درمیان تقسیم کئے ہیں، اور ان میں سے کچھ لوگوں کو کچھ دُوسرے لوگوں پر ہم نے بدر جہافوقیت دی ہے تاکہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لیں۔[31] اور تیرے رَبّ کی رحمت (یعنی نبوت ) اُس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو ( ان کے رئیس ) سمیٹ رہے ہیں ۔[32]{ ۳۲}</p>
<p>اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ سارے لوگ ایک ہی طریقہ کے ہوجائیں گے تو ہم (ربّ) رحمن سے کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتیں اور ان کی سیڑھیاں جن سے وہ اپنے بالا خانوں پر چڑھتے ہیں ،چاندی کے بنادیتے {۳۳}</p>
<p> اور اُن کے دروازے اور ان کے تخت جن پر وہ تکیے لگاکر بیٹھتے ہیں {۳۴}</p>
<p> وہ سب (چاندی) اور سونے کے بنادیتے [33]یہ تو محض حیاتِ دُنیا کی متاع ہے ، اور آخرت تیرے رَبّ کے ہاں صرف متقین کے لیے ہے۔{۳۵}</p>
<p> جو شخص رحمن کے ذِکر[34]سے تغافل بر تتا ہے ، ہم اُس پر ایک شیطان مسلّط کردیتے اور وہ اُس کا رفیق بن جاتا ہے۔{۳۶}</p>
<p>یہ شیاطین ایسے لوگوں کو راہِ راست پر آنے سے روکتے ہیں ، اور وہ اپنی جگہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ٹھیک جارہے ہیں۔{۳۷}</p>
<p>آخر کار جب یہ شخص ہمارے ہاں پہنچے گا تو( اپنے شیطان سے) کہے گا ، ’’کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کابُعد ہوتا ، تُو تو بدترین ساتھی نکلا ‘‘۔{۳۸}</p>
<p> اُس وقت اُن لوگوں سے کہاجائے گا کہ جب تم ظلم کرچکے تو آج یہ بات تمہارے لئے کچھ بھی نافع نہیں ہے کہ تم اور تمہارے شیاطین عذاب میں مشترک ہیں۔[35]{۳۹}</p>
<p> اب کیا اے نبی  ؐ! تم بہروں کو سنا ؤ گے ؟ یا اندھوں اور صریح گمراہی میں پڑے ہوئے لوگوں کو راہ دکھا ؤ گے ؟[36]{۴۰}</p>
<p>اب تو ہمیں اِن کو سزادینی ہے خواہ ہم تمہیں دنیا سے اٹھالیں، {۴۱}</p>
<p> یا تم کو آنکھوں سے اِن کا وہ انجام دِکھادیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے ، ہمیں اِن پر پُوری قدرت حاصل ہے۔[37]{ ۴۲}</p>
<p> تم بہرحال اُس کتا ب کو مضبوطی سے تھامے رہو جو وحی کے ذریعہ سے تمہارے پاس بھیجی گئی ہے ، یقینا تم سیدھے راستے پر ہو ۔[38]{ ۴۳}</p>
<p> حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب تمہارے لئے اور تمہاری قوم کے لیے ایک بہت بڑا شرف ہے اور عنقریب تم لوگوں کو اِس کی جواب دہی کرنی ہوگی۔[39] { ۴۴}</p>
<p> تم سے پہلے ہم نے جتنے رسُول ؑبھیجے تھے اُن سب سے پوچھ دیکھو ، کیا ہم نے (ربّ)رحمن کے سواکچھ دوسرے معبُود بھی مقرر کئے تھے کہ اُن کی بندگی کی جائے۔[40]  {۴۵}</p>
<p> ہم نے موسیٰ  ؑ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ[42] فرعون اور اُس کے اَعیانِ سلطنت کے پاس بھیجا، اور اُس نے جاکر کہا کہ میں ربّ العالمین کا رسُول ہوں ۔{۴۶}</p>
<p>پھر جب اُس نے ہماری نشانیاں اُن کے سامنے پیش کیں تو وہ ٹھٹھے مارنے لگے۔{۴۷}</p>
<p>ہم ایک پر ایک ایسی نشانی ان کو دکھاتے چلے گئے جو پہلی سے بڑھ چڑھ کرتھی ، اور ہم نے اُن کو عذاب میں دھر لیا کہ وہ اپنی روش سے باز آئیں ۔[43]{۴۸}</p>
<p> (ہر عذاب کے موقع پروہ کہتے) اے ساحر! اپنے رَبّ کی طرف سے جو منصب تجھے حاصل ہے اُس کی بناپر ہمارے لئے اُس سے دُعا کر ، ہم ضرور راہ ِراست پر آجائیں گے ۔{۴۹}</p>
<p> مگر جوں ہی کہ ہم اُن پر سے عذاب ہٹادیتے وہ اپنی بات سے پھر جاتے تھے۔[44]{۵۰}</p>
<p>ایک روز فرعون نے اپنی قوم کے درمیان پکار کرکہا ،[45] ’’ لوگو کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے ، اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں ؟ کیا تم لوگوں کو نظر نہیں آتا ؟ {۵۱}</p>
<p>(اب تم ہی بتاؤ؟)[46]میں بہتر ہوں یا یہ شخص جو ذلیل و حقیر ہے[47] اور اپنی بات بھی کھول کر بیان نہیں کرسکتا ؟{[48]۵۲}</p>
<p> کیوں نہ اِس پر سونے کے کنگن اتارے گئے ؟ یا فرشتوں کا ایک دستہ اس کی اردلی میں نہ آیا ؟‘‘[49] {۵۳}</p>
<p>اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انہوں نے اس کی اطاعت کی ، درحقیقت وہ تھے ہی فاسق لوگ۔  [50]{۵۴}</p>
<p>آخر کار جب اِنہوں نے ہمیں غضب ناک کردیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان کو اکٹھا غرق کردیا {۵۵}</p>
<p>اوربعد والوں کے لیے پیش رو اور نمونۂ عبرت بناکر رکھ دیا[51]{۵۶}</p>
<p>اور جو نہی کہ اِبن مریم  کی مثال دی گئی ، تمہاری قوم کے لوگوں نے اس پر غل مچادیا{۵۷}</p>
<p> اور لگے کہنے کہ ہمارے معبُود اچھے ہیں یا وہ ؟[52] یہ مثال وہ تمہارے سامنے محض کج بحثیکے لیے لائے ہیں،حقیقت یہ ہے کہ یہ ہیں ہی جھگڑا لو لوگ{۵۸}</p>
<p> ابنِ مریم اِس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ایک بندہ تھا جس پر ہم نے انعام کیا اور بنی اسرائیل کے لیے اُسے اپنی قدرت کا ایک نمونہ بنادیا[53]{۵۹}</p>
<p>ہم چاہیں تو تم سے فرشتے پیدا کردیں [54]جو زمین میں تمہارے جانشین ہوں۔{۶۰}</p>
<p>اور وہ ( یعنی ابنِ مریم) دراصل قیامت کی ایک نشانی ہے ،[55] پس تم اُس میں شک نہ کرو اور میری بات مان لو ، یہی سیدھا راستہ ہے {۶۱}</p>
<p> ایسا نہ ہو شیطان تم کو اُس سے روک دے[56] کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔{ ۶۲}</p>
<p>اور جب عیسیٰ  ؑ صریح نشانیاں لئے ہوئے آیا تھا تو اُس نے کہا تھا کہ ’’میں تم لوگوں کے پاس حکمت لے کر آیا ہوں ، اور اس لیے آیا ہوں کہ تم پر بعض اُن باتوں کی حقیقت کھول دوں جن میں تم اختلاف کررہے ہو ، لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔{ ۶۳}</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی میرا رَبّ بھی ہے اور تمہارا رَبّ بھی۔ اُسی کی تم عبادت کرو ، یہی سیدھا راستہ ہے‘‘۔[57] {۶۴}</p>
<p> مگر ( اُس کی اس صاف تعلیم کے باوجود ) گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا۔ [58]پس تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے ظلم کیا ایک درد ناک دن کے عذاب سے {۶۵}</p>
<p>کیا یہ لوگ اب بس اِسی چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک اِن پر قیامت آجائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو ؟ {۶۶}</p>
<p> وہ دن جب آئے گا تو متقین کو چھوڑ کر باقی سب دوست ایک دُوسرے کے دشمن ہوجائیں گے۔ [59]{۶۷}</p>
<p>  ( کہاجائے گا ) اے میرے بندو !آج تمہارے لیے کوئی خوف نہیں اور نہ تمہیں کوئی غم لاحق ہوگا۔ {۶۸}</p>
<p>  (اِس روز ) ان لوگوں سے جو ہماری آیات پر ایمان لائے تھے اور مطیع بن کررہے تھے۔{۶۹}</p>
<p> (کہا جائے گا) ’’ داخل ہوجا ؤ جنت میں تم اور تمہاری بیویاں،[60] تمہیں خوش کردیا جائے گا ‘‘۔{۷۰}</p>
<p>اُن کے آگے سونے کے تھال اور ساغر گردش کرائے جائیں گے اور ہرمَنْ بھاتی اور نگاہوں کو لذت دینے والی چیزوہاںموجود ہوگی ۔ ان سے کہا جائے گا ، ’’ تم اب یہاں ہمیشہ رہوگے۔{۷۱}</p>
<p>  تم اُس جنّت کے وارث اپنے اُن اعمال کی وجہ سے ہوئے ہو جوتم دنیا میں کرتے رہے۔{ ۷۲}</p>
<p> تمہارے لئے یہاں بکثرت فواکہ موجود ہیں جنہیں تم کھا ؤ گے ‘‘۔{۷۳}</p>
<p> رہے مجرمین تو وہ ہمیشہ جہنم کے عذاب میں مبتلا رہیں گے {۷۴}</p>
<p>کبھی اُن کے عذاب میں کمی نہ ہوگی ، اور وہ اُس میں مایوس پڑے ہوں گے۔{۷۵}</p>
<p>ان پر ہم نے ظلم نہیں کیا ، بلکہ وہ خود ہی اپنے اُوپر ظلم کرتے رہے{ ۷۶}</p>
<p>وہ پکاریں گے ، ’’اے مالک ! [61] تیرا رَبّ ہمارا کام ہی تمام کر دے تو اچھا ہے‘‘ وہ جواب دے گا ’’تم یوں ہی پڑے رہوگے۔ {۷۷}</p>
<p>یقیناہم تمہارے پاس حق لے کر آئے تھے مگر تم میں سے اکثر کو حق ہی ناگوار تھا ‘‘۔[62] {۷۸}</p>
<p> کیا اِن لوگوں نے کوئی اقدام کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے [63] اچھا تو ہم بھی پھر ایک فیصلہ کیے لیتے ہیں۔{۷۹}</p>
<p> کیا اِنہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم اِن کی راز کی باتیں اور ان کی سرگوشیاں سنتے نہیں ہیں ؟ ہم سب کچھ سُن رہے ہیںاور ہمارے فرشتے ان کے پاس ہی لکھ رہے ہیں{۸۰}</p>
<p>اِن سے کہو:’’اگر واقعی رحمن کی کوئی اولاد ہوتی تو سب سے پہلے عبادت کرنے والا میں ہوتا ۔‘‘[64] {۸۱}</p>
<p> پاک ہے آسمانوں اور زمین کافرماں رو ا ، عرش کا مالک، اُن ساری باتوں سے جو یہ لوگ اُس کی طرف منسوب کرتے ہیں،{ ۸۲}</p>
<p>اچھا ، انہیں اپنے باطل خیالات میں غرق اور اپنے کھیل میں منہمک رہنے دو ، یہاں تک کہ یہ اپنا وہ دن دیکھ لیں جس کا اِنہیں خوف دلایا جارہا ہے۔{ ۸۳}</p>
<p>وہی ایک آسمان میں بھی اِلٰہ و معبُود ہے اور زمین میں بھی وہی اِلٰہ ،اور وہی حکیم وعلیم ہے [65]{ ۸۴}</p>
<p>بہت بالا و برتر ہے وہ جس کے قبضے میں زمین اور آسمانوں اور ہراُس چیز کی بادشاہی ہے جو زمین و آسمان کے درمیان پائی جاتی ہے [66]اور وہی قیامت کی گھڑی کا علم رکھتا ہے ، اور اسی کی طرف تم سب پلٹائے جانے والے ہو[67]{۸۵}</p>
<p>اُس کو چھوڑ کر یہ لوگ جنہیں پکارتے ہیں وہ کسی شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے اِلاّ یہ کہ کوئی علم کی بنا پر حق کی شہادت دے[68]{۸۶}</p>
<p> اور اگر تم اِن سے پوچھو کہ انہیں کس نے پیدا کیا ہے تویہ خود کہیں گے کہ اللہ نے۔[69]  پھر کہاں سے یہ دھوکا کھا رہے ہیں {۸۷}</p>
<p>  قسم ہے رسول  ؐکے اِس قول کی کہ اے رَبّ ! یہ وہ لوگ ہیں جو مان کر نہیں دیتے۔ [70]{۸۸}</p>
<p>اچھا ، اے نبی  ؐ!ان سے درگزر کرو اور کہہ دو کہ سلام ہے تمہیں ،[71] عنقریب اِنہیں معلوم ہوجائے گا۔{۸۹}</p>

</div><div id="44"><p>سورۃ  الدخان </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔</p>
<p>حٰمٓ {۱}</p>
<p> قسم ہے اس کتاب مبین کی { ۲}</p>
<p> کہ ہم نے اِسے ایک بڑی خیرو برکت والی رات میں نازل کیا ہے،  کیونکہ ہم لوگوں کو متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔[1]{ ۳}</p>
<p>یہ وہ رات تھی جس میں ہر معاملے کا حکیمانہ فیصلہ [2]صادر کیا جاتا ہے[3]{ ۴}</p>
<p>ہمارے ہی حکم سے ، ہم ایک رسُول بھیجنے والے تھے{۵}</p>
<p>تیرے رَبّ کی رحمت کے طور پر ، [4]یقینا وہی سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے[5]{۶}</p>
<p> آسمانوں اور زمین کا رَبّ اور ہر اُس چیز کا رَبّ جو آسمان و زمین کے درمیان ہے اگر تم لوگ واقعی یقین رکھنے والے ہو۔[6]{۷}</p>
<p> کوئی معبُود اُس کے سوا نہیں ہے ،[7] وہی زندگی عطا کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ [8]تمہارا رَبّ اور تمہارے اُن اسلاف کا رَبّ جو پہلے گزرچکے ہیں[9]{۸}</p>
<p> (مگر فی الواقع اِن لوگوں کو یقین نہیں ہے ) بلکہ یہ اپنے شک میں پڑے کھیل رہے ہیں۔[10]{۹}</p>
<p>اچھا انتظار کرو اُس دن کا جب آسمان صریح دُھواں لئے ہوئے آئے گا {۱۰}</p>
<p>اور وہ لوگوں پر چھا جائے گا۔ یہ ہے درد ناک سزا {۱۱}</p>
<p> (اب کہتے ہیں کہ ) ’’ پروردگار ! ہم پر سے یہ عذاب ٹال دے ، ہم ایمان لاتے ہیں ‘‘{۱۲}</p>
<p>اِن کی غفلت کہاں دُور ہوتی ہے ؟ ان کا حال تو یہ ہے کہ ان کے پاس رسُول مُبین آگیا [11]{۱۳}</p>
<p> پھر بھی یہ اُس کی طرف ملتفت نہ ہوئے اور کہا کہ ’’ یہ توسکھا یاپڑھایا با ؤ لا ہے‘‘۔[12]{ ۱۴}</p>
<p> ہم ذرا عذاب ہٹائے دیتے ہیں، تم لوگ پھر وہی کچھ کرو گے جو پہلے کررہے تھے۔ {۱۵}</p>
<p>جس روز ہم بڑی ضرب لگائیں گے وہ دن ہوگا جب ہم تم سے انتقام لیں گے۔[13]{۱۶}</p>
<p>ہم اِن سے پہلے فرعون کی قوم کو اسی آزمائش میں ڈال چکے ہیں اُن کے پاس ایک نہایت شریف رسُول ؑ[14] آیا{۱۷}</p>
<p> اور اس نے کہا [15]’’ اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کرو ،[16] میں تمہارے لئے ایک امانت دار رسُول ؑہوں[17] {۱۸}</p>
<p> اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو۔ میں تمہارے سامنے ( اپنی ماموریت کی ) صریح سند پیش کرتا ہوں۔[18]{۱۹}</p>
<p> اور میں اپنے رَبّ اور تمہارے رَبّ کی پنا ہ لے چکا ہوں اس سے کہ تم مجھ پر حملہ آور ہو{۲۰}</p>
<p> اگر تم میری بات نہیں مانتے تو مجھ پر ہاتھ ڈالنے سے باز رہو ‘‘۔[19]{۲۱}</p>
<p> آخر کار اس نے اپنے رَبّ کو پکارا کہ یہ لوگ مجرم ہیں[20]{۲۲}</p>
<p> (جواب دیا گیا ) ’’ اچھا تو راتوں رات میرے بندوں کو [21]لے کر چل پڑ۔ تم  لوگوں کا پیچھا کیا جائے گا[22]{۲۳}</p>
<p>سمندر کو اُس کے حال پر کُھلا چھوڑدے یہ سارا لشکر غرق ہونے والا ہے ‘‘ ۔[23]{۲۴}</p>
<p>کتنے ہی باغ اور چشمے ہیں جو وہ چھوڑ گئے۔{۲۵}</p>
<p> اور کھیت اور شاندار محل {۲۶}</p>
<p>  اورکتنے ہی عیش کے سروسامان ، جن میں وہ مزے کررہے تھے ، (اُن کے پیچھے دھرے رہ گئے){۲۷}</p>
<p>  یہ ہوا اُن کا انجام ، اور ہم نے دُوسروں کو اِن چیزوں کا وارث بنادیا[24]{۲۸}</p>
<p> پھر نہ آسمان اُن پر رویا نہ زمین ،[25] اور ذراسی مہلت بھی ان کو نہ دی گئی۔ {۲۹}</p>
<p> اس طرح بنی اسرائیل کو ہم نے سخت ذِلت کے عذاب ،[26] سے نجات دی{۳۰}</p>
<p> فرعون سے جو حد سے گزر جانے والوں میں فی الواقع بڑے اُونچے درجے کا آدمی تھا[27]{۳۱}</p>
<p>اور اُن کی حالت جانتے ہوئے اُن کو دنیا کی دوسری قوموں پر ترجیح دی [28]{۳۲}</p>
<p> اورا نہیں ایسی نشانیاں دکھائیں جن میں صریح آزمائش تھی۔[29] {۳۳}</p>
<p> بے شک یہ لو گ کہتے ہیں {۳۴}</p>
<p>’’ ہماری پہلی موت کے سوا اور کچھ نہیں،اُس کے بعد ہم دوبارہ اُٹھائے جانے والے نہیں ہیں۔[30]{۳۵}</p>
<p> اگر تم سچے ہو تو اُٹھا لا ؤ ہمارے باپ دادا کو ‘‘۔[31]{۳۶}</p>
<p>یہ بہتر ہیں یاتُبع کی قوم [32] اور اُس سے پہلے کے لوگ ؟ ہم نے اُن کو اسی بناپر تباہ کیا کہ وہ مجرم ہوگئے تھے[33]{۳۷}</p>
<p> یہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزیں ہم نے کچھ کھیل کے طور پر نہیں بنادی ہیں۔ {۳۸}</p>
<p>ان کو ہم نے برحق پیدا کیا ہے ، مگر اِن میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔[34]{۳۹}</p>
<p>اِن سب کے اٹھائے جانے کے لیے طے شدہ وقت فیصلے کا دن ہے[35]{۴۰}</p>
<p>وہ دن جب کوئی عزیز قریب اپنے کسی عزیز قریب [36]کے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور نہ کہیں سے انہیں کوئی مددپہنچے گی {۴۱}</p>
<p>سوائے اِسکے کہ اللہ ہی کسی پر رحم کرے ، وہ زبردست اور رحیم ہے۔[37] { ۴۲}</p>
<p>یقینا زقوم کا درخت [38]{۴۳}</p>
<p>گناہ گار کا کھاجاہوگا۔ {۴۴}</p>
<p>تیل کی تلچھٹ [39]جیسا ،پیٹ میں وہ اِس طرح جوش کھائے گا {۴۵}</p>
<p>جیسے کھولتا ہوا پانی جوش کھاتا ہے{۴۶}</p>
<p>’’پکڑو اِسے اور رگیدتے ہوئے لے جا ؤ اس کو جہنم کے بیچوں بیچ۔{۴۷}</p>
<p> اور اُنڈیل دواس کے سر پر کُھولتے پانی کا عذاب۔{۴۸}</p>
<p>چکھ اس کا مزہ ، بڑا زبردست عزت دار آدمی ہے تو۔ {۴۹}</p>
<p> یہ وہی چیز ہے جس کے آنے میں تم لوگ شک رکھتے تھے‘‘۔ {۵۰}</p>
<p>یقینامتقی لوگ امن کی جگہ میں ہوں گے ۔[40]{۵۱}</p>
<p> باغوں اور چشموں میں{ ۵۲}</p>
<p>حریر و دیبا [41]کے لباس پہنے ، آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے ۔{ ۵۳}</p>
<p>یہ ہوگی اُن کی شان ۔ اور ہم گوری گوری آہو چشم عورتیں[42] ان سے بیاہ دیں گے۔{ ۵۴}</p>
<p>وہاں وہ اطمینان سے ہر طرح کی لذیذ چیزیں طلب کریں گے۔ [43]{۵۵}</p>
<p> وہاں موت کا مزہ وہ کبھی نہ چکھیں گے۔بس دنیا میں جو موت آچکی سو آچکی۔ اور اللہ اپنے فضل سے اُن کو جہنم کے عذاب سے بچادے گا۔[44]{۵۶}</p>
<p> یہ دراصل آپ کے رَبّ کا فضل ہوگا، اوردراصل یہی بڑی کامیابی ہے{۵۷}</p>
<p>اے نبی  ؐ !ہم نے اس کتاب کو تمہاری زبان میں سہل بنادیا ہے تا کہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ {۵۸}</p>
<p> اب تم بھی انتظار کرو ، یہ بھی منتظر ہیں۔[45]{۵۹}</p>

</div><div id="45"><p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا  مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔  </p>
<p>حٰمٓ{۱}</p>
<p> ا س کتاب کا نزول اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست اور حکیم ہے[1]{ ۲}</p>
<p> حقیقت یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں بے شمار نشانیاں ہیں ایمان لانے والوں کے لیے[2]{۳}</p>
<p> اورتمہاری اپنی پیدائش میں اوراُن حیوانات میں جن کو اللہ ( زمین میں ) پھیلارہا ہے ، بڑی نشانیاںہیں اُن لوگوں کے لیے جو یقین لانے والے ہیں۔[3] {۴}</p>
<p>اور شب وروز کے فرق و اختلاف میں ،[4] اور اُس رزق میں[5] جسے اللہ آسمان سے نازل فرماتا ہے پھر اُس کے ذریعہ سے مُردہ زمین کو جِلا اُٹھاتا ہے[6] اور ہوا ؤں کی گردش میں [7]بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔{۵}</p>
<p>یہ اللہ کی نشانیاں ہیں جنہیں ہم تمہارے سامنے ٹھیک ٹھیک بیان کر رہے ہیں ۔ اب آخر اللہ اور اس کی آیات کے بعد اور کون سی بات ہے جس پر یہ لوگ ایمان لائیں گے۔[8]{۶}</p>
<p>تباہی ہے ہر اُس جُھوٹے بداعمال شخص کے لیے {۷}</p>
<p>جس کے سامنے اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں ، اور وہ اُن کوسُنتا ہے ، پھر پورے غرور کے ساتھ اپنے کفر پر اِس طرح اَڑارہتا ہے کہ گویا اُس نے اُن کو سُناہی نہیں۔[9] ایسے شخص کو درد ناک عذاب کا مُژدہ سُنادو ۔{۸}</p>
<p> ہماری آیات میں سے کوئی بات جب اس کے عِلم میں آتی ہے تو وہ اُن کا مذاق بنالیتا ہے۔[10] ایسے سب لوگوں کے لیے ذِلت کا عذاب ہے۔{۹}</p>
<p>اُن کے آگے جہنم ہے۔ [11]جو کچھ بھی انہوں نے دنیا میں کمایا ہے اُس میں سے کوئی چیز اُن کے کسی کام نہ آئے گی، نہ اُن کے وہ سرپرست ہی اُن کے لیے کچھ کرسکیں گے جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے اپنا ولی بنارکھا ہے۔[12] اُن کے لیے بڑا عذاب ہے۔{۱۰}</p>
<p>یہ( قرآن) سراسر ہدایت ہے ، اور اُن لوگوں کے لیے بلا کا درد ناک عذاب ہے جنہوں نے اپنے رَبّ کی آیات کو ماننے سے انکار کیا{۱۱}</p>
<p>  وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لئے سمندر کو مُسخّر کیا تا کہ اس کے حکم سے کشتیاں اُس میں چلیں [13]اور تم اُس کا فضل تلاش کرو [14]اور شکر گزار بنو{ ۱۲}</p>
<p> اُس نے زمین اور آسمانوں کی ساری چیزوں کو تمہارے لئے مسخر کر دیا،[15]سب کچھ اپنے پاس سے۔[16] اِس میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو غور وفکر کرنے والے ہیں[17] {۱۳}</p>
<p>اے نبی  ؐ!ایمان لانے والوں سے کہہ دو کہ جو لوگ اللہ کی طرف سے بُرے دن آنے کا کوئی اندیشہ نہیں رکھتے،[18] اُن کی حرکتوں پر درگزر سے کام لیں تا کہ اللہ خود ایک گروہ کو اُس کی کمائی کا بدلہ دے[19] { ۱۴}</p>
<p>جو کوئی نیک عمل کرے گا اپنے ہی لئے کرے گا ، اور جو بُرائی کرے گا وہ آپ ہی اُس کا خمیازہ بھگتے گا۔ پھر جانا تو سب کو اپنے رَبّ ہی کی طرف ہے۔{۱۵}</p>
<p>اِس سے پہلے بنی اسرائیل کو ہم نے کتاب اور حُکم[20] اور نبوت عطا کی تھی ۔ اُن کو ہم نے عمدہ سامان زِیست سے نوازا ، دنیا بھر کے لوگوں پر انہیں فضیلت عطا کی[21]{۱۶}</p>
<p>اور دین کے معاملے میں اُنہیں واضح ہدایات دے دیں ۔ پھر جو اختلاف اُن کے درمیان رُونما ہوا وہ (ناواقفیت کی وجہ سے نہیں بلکہ ) علم آجانے کے بعد ہوا اور اِس بناپر ہُوا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے۔[22] اللہ قیامت کے روز اُن معاملات کا فیصلہ فرمادے گا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔{۱۷}</p>
<p> اس کے بعد اب اے نبی  ؐ! ہم نے تم کو دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ( شریعت) پر قائم کیا ہے۔[23] لہٰذا تم اسی پر چلو اور اُن لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو جو علم نہیں رکھتے {۱۸}</p>
<p>اللہ کے مقابلے میں وہ تمہارے کچھ بھی کام نہیں آسکتے[24] ظالم لوگ ایک دُوسرے کے ساتھی ہیں اور متقیوں کا ساتھی اللہ ہے {۱۹}</p>
<p>یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں سب لوگوں کے لیے اور ہدایت اور رحمت اُن لوگوں کے لیے جو یقین لائیں۔[25] {۲۰}</p>
<p>کیا [26]وہ لوگ جنہوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا ہے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم اُنہیں اور ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو ایک جیسا کردیں گے کہ ان کا جینا اور مرنا یکساں ہوجائے ؟ بہت بُرے حکم ہیں جو یہ لوگ لگاتے ہیں۔[27]{۲۱}</p>
<p> اللہ نے تو آسمانوں اور زمین کوبر حق پیدا کیا ہے[28] اور اِس لئے کیا کہ ہر متنفس کو اُس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے ، لوگوں پر ظلم ہر گزنہ کیا جائے گا[29]{۲۲}</p>
<p>پھر کیا تم نے کبھی اُ س شخص کے حال پر بھی غور کیا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا  اِلٰہ بنالیا[30] اور اللہ نے علم کے باوجود[31]  اُسے گمراہی میں پھینک دیا اور اُس کے دل اور کانوں پر مہرلگادی اور اُس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ؟[32] اللہ کے بعد اور کو ن ہے جو اُسے ہدایت دے ؟ کیا تم لوگ کوئی سبق نہیں لیتے ؟ [33]{۲۳}</p>
<p>یہ لوگ کہتے ہیں کہ ’’ زندگی بس یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے ، یہیں ہمارا مرنا اور جینا ہے اور گردشِ ایام کے سوا کوئی چیز نہیں جو ہمیں ہلاک کرتی ہو ۔‘‘ درحقیقت اِس معاملہ میں اِن کے پاس کوئی علم نہیں ہے۔ یہ محض گمان کی بناپر یہ باتیں کرتے ہیں۔[34]{۲۴}</p>
<p>اور جب ہماری واضح آیات اِنہیں سُنائی جاتی ہے[35] تو ان کے پاس کوئی حجت اس کے سوا نہیں ہوتی کہ اُٹھالا ؤ ہمارے باپ دادا کو اگر تم سچے ہو۔ [36]{۲۵}</p>
<p>   اے نبی  ؐ ! اِن سے کہو اللہ ہی تمہیں زندگی بخشتا ہے ، پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے ،[37] پھر وہی تم کو اُس قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ،[38] مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ [39]{۲۶}</p>
<p>زمین اور آسمانوں کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے ،[40] اور جس روز قیامت کی گھڑی آکھڑی ہوگی اُس دن باطل پرست خسارے میں پڑجائیں گے{۲۷}</p>
<p>اُس وقت تم ہر گروہ کو گھٹنوں کے بل گرادیکھو گے۔[41] ہر گروہ کوپکارا جائے گا کہ آئے اور اپنا نامۂ اعمال دیکھے۔اُن سے کہا جائے گا : ’’ آج تم لوگوں کو اُن اعمال کابدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے رہے تھے۔{۲۸}</p>
<p>یہ ہمارا تیار کرایا ہوا اعمال نامہ ہے جو تمہارے اوپر ٹھیک ٹھیک شہادت دے رہا ہے ، جو کچھ بھی تم کرتے تھے اُسے ہم لکھو اتے جارہے تھے‘‘ ۔[42]{۲۹}</p>
<p>پھر جو لوگ ایمان لائے تھے اور نیک عمل کرتے رہے تھے انہیں ان کا رَبّ اپنی رحمت میں داخل کرے گا اور یہی صریح کامیابی ہے۔{۳۰}</p>
<p> اور جن لوگوں نے کفر کیا تھا ( اِن سے کہا جائے گا)’’ کیا میری آیات تم کو نہیں سُنائی جاتی تھیں ؟[43] مگر تم نے تکبر کیا اور مجرم بن کررہے{۳۱}</p>
<p>اور جب کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ برحق ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں ، تو تم کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کیا ہوتی ہے ، ہم تو بس ایک گمان سا رکھتے ہیں ، یقین ہم کو نہیں ہے ‘‘۔[44]{۳۲}</p>
<p>اُس وقت اُن پر اُن کے اعمال کی برائیاں کھل جائیں گی [45]اور وہ اُسی چیز کے پھیر میں آجائیں گے جس کا وہ مذاق اُڑایا کرتے تھے۔{۳۳}</p>
<p>اور ان سے کہہ دیا جائیگا کہ ’’ آج ہم بھی اُسی طرح تمہیں بھُلائے دیتے ہیں جس طرح تم اِس دن کی ملاقات کو بھُول گئے تھے۔ تمہارا ٹھکانا اب دوزخ ہے اور کوئی تمہاری مدد کرنے والا نہیں ہے۔{۳۴}</p>
<p>یہ تمہارا انجام اس لیے ہوا ہے کہ تم نے اللہ کی آیات کا مذاق بنالیا تھا اور تمہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا تھا۔ لہٰذا آج نہ یہ لوگ دوزخ سے نکالے جائیں گے اور نہ اِن سے کہا جائے گا کہ معافی مانگ کر اپنے رَبّ کو راضی کرو ‘‘۔[46]{۳۵}</p>
<p>پس تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو زمین اور آسمانوں کا مالک اور سارے جہان والوں کا پروردگارہے {۳۶}</p>
<p>زمین اور آسمانوں میں بڑائی اُسی کے لیے ہے اور وہی زبردست اور دانا ہے۔{۳۷}</p>

</div><div id="46"><p>سورۃ  الاحقاف </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔</p>
<p> حٰمٓ {۱}</p>
<p> اِس کتاب کا نزول اللہ زبردست اور دانا کی طرف سے ہے۔[1]{ ۲}</p>
<p>ہم نے زمین اور آسمانوں کو اور اُن ساری چیزوں کو جواُن کے درمیان ہیں برحق، اور ایک مدّتِ خاص کے تعین کے ساتھ پیدا کیا ہے۔[2] مگر یہ کافر لوگ اُس حقیقت سے منھ موڑے ہوئے ہیں جس سے ان کو خبردار کیا گیا ہے۔[3]{ ۳}</p>
<p> اے نبی  ؐ! اِن سے کہو:’’ کبھی تم نے آنکھیں کھول کردیکھا بھی کہ وہ ہستیاں ہیں کیا جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو ؟ ذرا مجھے دکھا ؤ تو سہی کہ زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ یا آسمانوں کی تخلیق وتدبیر میں ان کا کوئی حصّہ ہے؟ اِس سے پہلے آئی ہوئی کوئی کتاب یا علم کا کوئی بقیہ ( اِن عقائد کے ثبوت میں ) تمہارے پاس ہو تو وہی لے آ ؤ، اگر تم سچے ہو‘‘۔[4]{۴}</p>
<p>آخر اس شخص سے زیادہ بہکا ہوا انسان اور کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پُکارے جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتے،[5] بلکہ اِس سے بھی بے خبر ہیں کہ پکارنے والے ان کو پُکار رہے ہیں [6]{۵}</p>
<p>اور جب تمام انسان جمع کئے جائیں گے اس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر ہوں گے  ۔[7]{۶}</p>
<p>اِن لوگوں کو جب ہماری صاف صاف آیات سُنائی جاتی ہیں اور حق اِن کے سامنے آجاتا ہے تو یہ کافر لوگ اُس کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ تو کُھلا جادو ہے۔[8]{۷}</p>
<p>  کیا اُن کا کہنا یہ ہے کہ رسُول نے اِسے خود گھڑلیا ہے ؟[9] اِن سے کہو:’’ اگر میں نے اِسے خود گھڑلیا ہے تو تم مجھے اللہ کی پکڑسے کچھ بھی نہ بچا سکو گے ، جو باتیں تم بناتے ہو اللہ ان کو خوب جانتا ہے ، میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لیے کافی ہے ،[10] اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔‘‘[11]{۸}</p>
<p>اِن سے کہو:’’ میں کوئی نِرالا رسُول تو نہیں ہوں،  میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا ،میں تو صرف اُس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والے کے سوا اور کچھ نہیں ہوں‘‘[12]{۹}</p>
<p>اے نبی  ؐ!ان سے کہو: ’’ کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کردیا ( تو تمہارا کیا انجام ہوگا)؟ [13] اور اس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکا ہے۔ وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے [14]ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا ‘‘۔{۱۰}</p>
<p> جن لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اِس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جاسکتے تھے۔[15]  چونکہ اِنہوں نے اُس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پُرانا جھوٹ ہے [16]{۱۱}</p>
<p> حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ  ؑ کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے اور یہ کتاب اُس کی تصدیق کرنے والی زبانِ عربی میں آئی ہے تا کہ ظالموں کو متنبہ کردے[17] اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے { ۱۲}</p>
<p>یقینا جن لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ ہی ہمارا رَبّ ہے ، پھر اُس پر جم گئے ، اُن کے لیے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے[18]{ ۱۳}</p>
<p>ایسے لوگ جنّت میں جانے والے ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ، اپنے اُن اعمال کے بدلے جو وہ دنیا میں کرتے رہے ہیں۔{۱۴}</p>
<p>ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ نیک برتا ؤ کرے۔ اُس کی ماں نے مشقت اُٹھا کر اُسے پیٹ میں رکھا اور مشقت اُٹھا کر ہی اس کو جنا ، اور اس کے حمل اور دُودھ چھڑانے میں تیس(۳۰) مہینے لگ گئے۔ [19]یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری طاقت کو پہنچا اور چالیس (۴۰)سال کا ہوگیا تو اُس نے کہا ’’ اے میرے رَبّ ! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اُن نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تونے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائیں، اور ایسا نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو ،[20] اور میری اولاد کو بھی نیک بناکر مجھے سکھ دے ، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور تابع فرمان ( مسلم ) بندوں میں سے ہوں ۔‘‘{۱۵}</p>
<p> اِس طرح کے لوگوں سے ہم اُن کے بہترین اعمال کو قبول کرتے ہیں اور اُن کی بُرائیوں سے درگزر کر جاتے ہیں۔[21] یہ جنتی لوگوں میں شامل ہوں گے اُس سچّے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا رہا ہے  {۱۶}</p>
<p>  اور جس شخص نے اپنے والدین سے کہا ’’ اُف ، تنگ کردیا تم نے ، کیا تم مجھے یہ خوف دلاتے ہو کہ میں مرنے کے بعد قبر سے نکالا جا ؤں گا ؟ حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی نسلیں گزر چکی ہیں۔ (اُن میں سے تو کوئی اُٹھ کرنہ آیا)‘‘۔ ماں اور باپ اللہ کی دوہائی دے کرکہتے ہیں ’’ ارے بدنصیب! مان جا ، اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ ‘‘ مگر وہ کہتا ہے ’’ یہ سب اگلے وقتوں کی فرسُودہ کہانیاں ہیں ‘‘۔{۱۷}</p>
<p> یہ لوگ ہیں جن پر عذاب کا فیصلہ چسپاں ہوچکا ہے ۔ اِن سے پہلے جِنّوں اور انسانوں کے جو ٹولے ( اسی قماش کے ) ہوگزرے ہیں اُنہی میں یہ بھی جا شامل ہوں گے، بے شک یہ گھاٹے میں رہ جانے والے لوگ ہیں۔[22] {۱۸}</p>
<p>دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کے درجے اُن کے اعمال کے لحاظ سے ہیں تا کہ اللہ ان کے کئے کاپورا پورا بدلہ ان کو دے ۔ ان پر ظلم ہر گزنہ کیا جائے گا[23]{۱۹}</p>
<p> پھر جب یہ کافر آگ کے سامنے لاکھڑے کئے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا ۔ ’’تم اپنے حصے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ختم کرچکے اور ان کا لطف تم نے اٹھالیا ، اب جو تکبر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں اُن کی پاداش میں آج تم کو ذِلت کا عذاب دیا جائے گا۔‘‘[24]{۲۰}</p>
<p> ذرا انہیں عاد کے بھائی( ہودؑ) کا قصہ سُنا ؤ جب کہ اُس نے احقاف میں اپنی قوم کو خبردار کیا تھا۔ اور [25]ایسے خبردار کرنے والے اُس سے پہلے بھی گزرچکے تھے اور اس کے بعد بھی آتے رہے کہ ’’ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو ، مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے ‘‘۔ {۲۱}</p>
<p> انہوں نے کہا ’’ کیا تو اِس لئے آیا کہ ہمیں بہکاکر ہمارے معبُودوں سے برگشتہ کردے ؟ اچھا تو لے آ اپنا وہ عذاب جس سے تو ہمیں ڈراتا ہے اگر واقعی تو سچا ہے۔‘‘{۲۲}</p>
<p>اُس نے کہا’’ اِس کا علم تو اللہ کو ہے، [26]میں صرف وہ پیغام تمہیں پہنچا رہا ہوں جسے دے کر مجھے بھیجا گیا ہے مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو۔ ‘‘[27]{۲۳}</p>
<p>پھر جب انہوں نے اُس عذاب کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے ’’ یہ بادل ہے جو ہم کو سیراب کردے گا‘‘، ’’ نہیں،[28] بلکہ یہ وہی چیز ہے جس کے لیے تم جلدی مچارہے تھے۔ یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں درد ناک عذاب چلا آرہا ہے {۲۴}</p>
<p> اپنے رَبّ کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر ڈالے گا ۔‘‘ آخر کار اُن کا حال یہ ہوا کہ اُن کے رہنے کی جگہوں کے سواوہاں کچھ نظر نہ آتا تھا ۔ اِس طرح ہم مجرموں کو بدلہ دیا کرتے ہیں ۔[29]{۲۵}</p>
<p>اُن کو ہم نے وہ کچھ دیا تھا جو تم لوگوں کو نہیں دیا ہے۔[30] اُن کو ہم نے کان ، آنکھیں اور دل ، سب کچھ دے رکھے تھے ، مگر نہ وہ کان اُن کے کسی کام آئے ، نہ آنکھیں ، نہ دل ، کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے ،[31] اور اُسی چیز کے پھیر میں وہ آگئے جس کا وہ مذاق اُڑاتے تھے۔{۲۶}</p>
<p>تمہارے گردو پیش کے علاقوں میں بہت سی بستیوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں۔ ہم نے اپنی آیات بھیج کر بار بار طرح طرح سے اُن کو سمجھایا ، شاید کہ وہ باز آجائیں۔ {۲۷}</p>
<p> پھر کیوں نہ اُن ہستیوں نے اُن کی مدد کی جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے تقرب اِلی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہوئے معبُود بنالیا تھا؟[32] بلکہ وہ تو ان سے کھوئے گئے ، اور یہ تھا اُن کے جھوٹ اور ان بناوٹی عقیدوں کا ا نجام جو انہو ں نے گھڑرکھے تھے۔{۲۸}</p>
<p>( اور وہ واقعہ بھی قابلِ ذکر ہے ) جب ہم جنوں کے ایک گروہ کو تمہاری طرف لے آئے تھے تا کہ قرآن سنیں۔[33]  جب وہ اُس جگہ پہنچے ( جہاں تم قرآن پڑھ رہے تھے) تو اُنہوں نے آپس میں کہا خاموش ہوجا ؤ ۔ پھر جب وہ پڑھا جاچکا تو وہ خبردار کرنے والے بن کر اپنی قوم کی طرف پلٹے۔ {۲۹}</p>
<p> انہوں نے جا کر کہا: ’’ اے ہماری قوم کے لوگو !ہم نے ایک کتاب سُنی ہے جو موسیٰ  ؑ کے بعد نازل کی گئی ہے ، تصدیق کرنے والی ہے اپنے سے پہلے آئی ہوئی کتابوں کی ، رہنمائی کرتی ہے حق اور راہِ راست کی  طرف ۔ [34]{۳۰}</p>
<p>اے ہماری قوم کے لوگو ! اللہ کی طرف بُلانے والے کی دعوت قبول کرلو اور اُس پر ایمان لے آ ؤ ، اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں عذاب الیم سے بچادے گا ‘‘ ۔[35]{۳۱}</p>
<p>اور [36]جو کوئی اللہ کے داعی کی بات نہ مانے وہ نہ زمین میں خود کوئی بل بوتا رکھتا ہے کہ اللہ کوعاجز( زِچ) کردے اور نہ اس کے کوئی ایسے حامی و سرپرست ہیں کہ اللہ سے اس کو بچالیں ۔ ایسے لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ {۳۲}</p>
<p>اور کیا اِن لوگوں کو یہ سُجھائی نہیں دیتا کہ جس اللہ نے یہ زمین اور آسمان پیدا کئے اور اُن کو بناتے ہوئے وہ نہ تھکا، وہ ضرور اِس پر قادر ہے کہ مُردوں کو جِلا اُٹھائے ؟ کیوں نہیں یقینا وہ ہر چیز کی قدرت رکھتا ہے ۔{ ۳۳}</p>
<p>جس روزیہ کافر آگ کے سامنے لائے جائیں گے ،اُس وقت اِن سے پوچھا جائے گا ’’ کیا یہ حق نہیں ہے ؟‘‘ یہ کہیں گے ’’ ہاں ، ہمارے رَبّ کی قسم ( یہ واقعی حق ہے ) ‘‘ اللہ فرمائے گا ’’ اچھا تو اب عذاب کا مزہ چکھو اپنے اُس انکار کی پاداش میں جو تم کرتے رہے تھے‘‘۔{۳۴}</p>
<p>پس اے نبی  ؐ صبر کرو جس طرح اُولوالعزم رسُولوں ؑنے صبر کیا ہے ، اور اِن کے معاملہ میں جلدی نہ کرو ۔ [37]جس روز یہ لوگ اُس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا اِنہیں خوف دلا یا جارہا ہے تو اِنہیں یوں معلوم ہوگا کہ جیسے دنیا میں دن کی ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں رہے تھے۔ بات پہنچادی گئی ، اب کیا نافرمان لوگوں کے سوا اور کوئی ہلاک ہوگا؟{۳۵}</p>

</div><div id="47"><p>سورۃ  محمَّد </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>جن لوگوں نے کفر کیا[1] اور اللہ کے راستے سے روکا ،[2] اللہ نے ان کے اعمال کو رائیگاں کردیا۔[3]{ ۱ }</p>
<p> اور جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے اوراُس چیز کو مان لیا جو محمد ؐ پر نازل ہوئی ہے۔ اور [4]ہے وہ سراسر حق اُن کے رَبّ کی طرف سے۔ اللہ نے اُن کی بُرائیاں اُن سے دور کردیں[5] اور ان کا حال درست کردیا۔[6]{۲}</p>
<p>یہ اس لیے کہ کفر کرنے والوں نے باطل کی پیروی کی اور ایمان لانے والوں نے اُس حق کی پیروی کی جو ان کے رَبّ کی طرف سے آیا ہے۔ اس طرح اللہ لوگوں کو اُن کی ٹھیک ٹھیک حیثیت بتائے دیتا ہے[7]{ ۳}</p>
<p>پس جب ان کافروں سے تمہاری مڈبھیڑ ہو تو پہلا کام گردنیں مارنا ہے ، یہاں تک کہ جب تم اُن کو اچھی طرح کچل دو تب قیدیوں کو مضبوط باندھو ، اس کے بعد ( تمہیں اختیار ہے) احسان کرویا فدیے کا معاملہ کرلو تا آنکہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے۔[8] ( یہ ہے تمہارے کرنے کا کام )۔ اللہ چاہتا تو خود ہی ان سے نمٹ لیتا ، مگر (یہ طریقہ اُس نے اس لیے اختیار کیا ہے) تا کہ تم لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعہ سے آزمائے [9]اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں گے اللہ ان کے اعمال کو ہر گز ضائع نہ کرے گا ۔[10]{۴}</p>
<p>وہ ان کی رہنمائی فرمائے گا  ان کا حال دُرست کردے گا {۵}</p>
<p>اوراُن کو اُس جنّت میں داخل کرے گا جس سے وہ اُن کو واقف کراچکا ہے[11]{۶}</p>
<p>اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا [12]اور تمہارے قدم مضبوط جمادے گا {۷}</p>
<p> رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے ، تو اُن کے لیے ہلاکت ہے[13] اور اللہ نے ان کے اعمال کو بھٹکا دیا ہے{۸}</p>
<p> کیونکہ انہوں نے اس چیز کو ناپسند کیا جسے اللہ نے نازل کیا ہے ،[14] لہٰذا اللہ نے اُن کے اعمال ضائع کردیے۔{۹}</p>
<p> کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہ تھے کہ اُن لوگوں کا انجام دیکھتے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں ؟ اللہ نے اُن کا سب کچھ اُن پراُلٹ دیا اور ایسے ہی نتائج اِن کافروں کے لیے مقدر ہیں۔[15] {۱۰}</p>
<p> یہ اس لیے کہ ایمان لانے والوں کا حامی وناصر اللہ ہے اور کافروں کا حامی وناصر کوئی نہیں۔[16]{۱۱}</p>
<p>ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو اللہ اُن جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، اور کفر کرنے والے بس دنیا کی چندروزہ زندگی کے مزے لوٹ رہے ہیں ، جانوروں کی طرح کھاپی رہے ہیں،[17] اور اُن کا آخری ٹھکا نا جہنم ہے۔{۱۲}</p>
<p>اے نبی  ؐ!کتنی ہی بستیاں ایسی گزرچکی ہیں جو تمہاری اُس بستی سے بہت زیادہ زور آور تھیں جس نے تمہیں نکال دیا ہے ۔ اُنہیں ہم نے اِس طرح ہلاک کردیا کہ کوئی اُن کا بچانے والا نہ تھا [18]{۱۳}</p>
<p>بھلا کہیں ایسا ہوسکتا ہے کہ جو اپنے رَبّ کی طرف سے ایک صاف وصریح ہدایت پر ہو ، وہ اُن لوگوں کی طرح ہوجائے جن کے لیے اُن کا بُرا عمل خوشنما بنادیا گیا ہے اور وہ اپنی خواہشات کے پیرو بن گئے ہیں۔[19]{۱۴}</p>
<p>پرہیز گار لوگوں کے لیے جس جنّت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان تو یہ ہے کہ اس میں نہریں بہہ رہی ہوں گی نتھرے ہوئے پانی کی ،[20] نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسے دُودھ کی جس کے مزے میں ذرا فرق نہ آیاہوگا [21]، نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسی شراب کی جو پینے والوں کے لیے لذیذ ہوگی ،[22] نہریں بہہ رہی ہوں گی صاف شفاف شہد کی[23] اُس میں اُن کے لیے ہر طرح کے پھل ہوں گے اور اُن کے رَبّ کی طرف سے بخشش[24] (کیا وہ شخص جس کے حصہ میں یہ جنّت آنے والی ہے) اُن لوگوں کی طرح ہوسکتا ہے جو جہنم میں ہمیشہ رہیں گے اور جنہیں ایسا گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتیں تک کاٹ دے گا؟{۱۵}</p>
<p> ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو کان لگا کر تمہاری بات سنتے ہیں اور پھر جب تمہارے پاس سے نکلتے ہیں تو اُن لوگوں سے جنہیں علم کی نعمت بخشی گئی ہے پوچھتے ہیں کہ ابھی ابھی انہوں نے کیا کہا تھا ؟[25] یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے ٹھپا لگادیا ہے اور یہ اپنی خواہشات کے پیرو بنے ہوئے ہیں۔[26]{۱۶}</p>
<p> رہے وہ لوگ جنہوں نے ہدایت پائی ہے ، اللہ ان کو اور زیادہ ہدایت دیتا ہے [27]اور انہیں اُن کے حصے کا تقویٰ عطا فرماتا ہے[28]{۱۷}</p>
<p> اب کیا یہ لوگ بس قیامت ہی کے منتظر ہیں کہ وہ اچانک ان پر آجائے ؟[29] اُس کی علامات تو آچکی ہیں۔ [30]جب وہ خود آجائے گی تو اُن کے لیے نصیحت قبول کرنے کا کون ساموقع باقی رہ جائے گا؟{۱۸}</p>
<p>پس اے نبی  ؐ! خوب جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے ، اور معافی مانگو اپنے قصور کے لیے بھی اور مومن مردوں اور عورتوں کے لیے بھی۔ [31]ا للہ تمہاری سرگرمیوں کو بھی جانتا ہے اور تمہارے ٹھکانے سے بھی واقف ہے۔{۱۹}</p>
<p>جو لوگ ایمان لائے ہیں  وہ کہہ رہے تھے کہ کوئی سورۃ کیوں نہیں نازل کی جاتی ( جس میں جنگ کا حکم دیا جائے)  مگر جب ایک پختہ سورت نازل کردی گئی جس میں جنگ کا ذکر تھا تو تم نے دیکھا کہ جن کے دلوں میں بیماری تھی وہ تمہاری طرف اس طرح دیکھ رہے ہیں جیسے کسی پر موت چھاگئی ہو۔[32] افسوس اُن کے حال پر {۲۰}</p>
<p>( اُن کی زبان پر ہے ) اطاعت کا اقرار اور اچھی اچھی باتیں ۔ مگر جب قطعی حکم دے دیا گیا اُس وقت وہ اللہ سے اپنے عہد میں سچے نکلتے تو اُنہی کے لیے اچھا تھا۔ {۲۱}</p>
<p> اب کیا تم لوگوں سے اِس کے سوا کچھ اور توقع کی جاسکتی ہے کہ اگر تم اُلٹے منھ پھر گئے [33]تو زمین میں پھر فساد برپا کروگے اور آپس میں ایک دُوسرے کے گلے کاٹو گے ؟[34]{۲۲}</p>
<p>یہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان کو اندھا اور بہرا بنا دیا۔{۲۳}</p>
<p>کیا ان لوگوں نے قرآن پر غور نہیں کیا، یا دلوں پر اُن کے قفل چڑھے ہوئے ہیں ؟[35] {۲۴}</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہدایت واضح ہوجانے کے بعد اُس سے پھر گئے اُن کے لیے شیطان نے اس روش کو سہل بنادیا ہے اور جھوٹی توقعات کا سلسلہ اُن کے لیے دراز کررکھا ہے۔{۲۵}</p>
<p> اِسی لئے انہوں نے اللہ کے نازل کردہ دین کو ناپسند کرنے والوں سے کہہ دیا کہ بعض معاملات میں ہم تمہاری مانیں گے۔[36]  اللہ اُن کی یہ خفیہ باتیں خوب جانتا ہے {۲۶}</p>
<p> پھراُس وقت کیا حال ہوگا جب فرشتے اِن کی روحیں قبض کریں گے اور ان کے منھ اور پیٹھوں پر مارتے ہوئے انہیں لے جائیں گے ؟[37] {۲۷}</p>
<p>یہ اسی لئے تو ہوگا کہ انہوں نے اس طریقے کی پیروی کی جو اللہ کو ناراض کرنے والا ہے اوراُس کی رضا کا راستہ اختیار کرنا پسند نہ کیا، اسی بناپر اس نے اِن کے سب اعمال ضائع کردیے۔[38] {۲۸}</p>
<p>کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ اللہ ان کے دلوں کے کھوٹ ظاہر نہیں کرے گا ؟{۲۹}</p>
<p>اور ہم چاہیں تو اِنہیں تم کو آنکھوں سے دکھا دیں اور اُن کے چہروں سے تم اُن کو پہچان لو۔ مگر ان کے اندازِ کلام سے تو تم اُن کو جان ہی لوگے ۔ اللہ تم سب کے اعمال سے خوب واقف ہے۔{۳۰}</p>
<p>ہم ضرور تم لوگوں کو آزمائش میں ڈالیں گے تا کہ تمہارے حالات کی جانچ کریں اور دیکھ لیں (ظاہر کردیں)کہ تم میں مجاہد اور ثابت قدم کو ن ہیں۔{۳۱}</p>
<p> جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا اور رسُول  ؐ سے جھگڑا کیا جب کہ اُن پر راہ ِراست واضح ہوچکی تھی، درحقیقت وہ اللہ کا کوئی نقصان بھی نہیں کرسکتے ، بلکہ اللہ ہی اُن کا سب کیا کرایاغارت کردے گا۔[39] {۳۲}</p>
<p>اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسُول  ؐ کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو برباد  نہ کرلو ۔[40]{۳۳}</p>
<p>کفر کرنے والوں اور اللہ کی راہ سے روکنے والوں اور مرتے دم تک کفر پر جمے رہنے والوں کو تو اللہ ہر گز معاف نہ کرے گا۔{۳۴}</p>
<p>پس تم بودے نہ بنو اور صلح کی درخواست نہ کرو، [41] تم ہی غالب رہنے والے ہو۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے اور تمہارے اعمال کو وہ ہرگز ضائع نہ کرے گا۔ {۳۵}</p>
<p> یہ دنیاکی زندگی تو ایک کھیل اور تماشا ہے۔[42] اگر تم ایمان رکھو اور تقویٰ کی روش پر چلتے رہو تو اللہ تمہارے اجر تم کو دے گا اور وہ تمہارے مال تم سے نہ مانگے گا۔  [43]{۳۶}</p>
<p>اگر کہیں وہ تمہارے مال تم سے مانگ لے اور سب کے سب تم سے طلب کرلے تو تم  بُخل  کرو گے اور وہ تمہارے کھوٹ اُبھار لائے گا ۔[44]{۳۷}</p>
<p>  دیکھو ، تم لوگوں کو دعوت دی جارہی ہے کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرو ۔ اس پر تم میں سے کچھ لوگ ہیں جو بُخل کررہے ہیں ، حالانکہ جو بخل کرتا ہے وہ درحقیقت اپنے آپ ہی سے  بُخل کررہا ہے ۔ اللہ تو غنی ہے ، تم ہی اُس کے محتاج ہو۔اگر تم منھ موڑو گے تو اللہ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا اور وہ تم جیسے نہ ہوں گے۔ {۳۸}</p>

</div><div id="48"><p>سورۃ  الفتح </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>اے نبی  ؐ !ہم نے تم کو کھلی فتح عطا کردی[1] {۱}</p>
<p> تا کہ اللہ تمہاری اگلی پچھلی ہر کوتاہی سے درگزر فرمائے [2] ا ور تم پر اپنی نعمت کی تکمیل کردے[3] اور تمہیں سیدھا راستہ دکھائے[4] {۲}</p>
<p> اور تم کو زبردست نصرت بخشے[5] {۳}</p>
<p> وہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں میں سکینت نازل  فرمائی [6]تا کہ اپنے ایمان کے ساتھ وہ ایک ایمان اور بڑھالیں ۔ [7]زمین اور آسمانوں کے سب لشکر اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہیں اور وہ علیم و حکیم ہے۔[8]{۴}</p>
<p> (اُس نے یہ کام اس لیے کیا ہے) تا کہ مومن مردوں اور عورتوں [9]کو ہمیشہ رہنیکے لیے ایسی جنتوں میں داخل فرمائے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور اُن کی بُرائیاں اُن سے دُور کردے ۔[10] اللہ کے نزدیک یہ بڑی کامیابی ہے۔{۵}</p>
<p> اوراُن منافق مردوں اور عورتوں اور مشرک مردوں اور عورتوں کو سزادے جو اللہ کے متعلق بُرے گمان رکھتے ہیں ۔[11] بُرائی کے پھیر میں وہ خودہی آگئے ،[12] اللہ کا غضب اُن پر ہوا ا ور اُس نے اُن پر لعنت کی اور ان کے لیے جہنم مہیا کردی جو بہت ہی بُراٹھکانا ہے ۔{۶}</p>
<p> زمین اور آسمان کے لشکر اللہ ہی کے قبضۂ قدرت میں ہیں اور وہ زبردست اور حکیم ہے[13]{۷}</p>
<p>اے نبی  ؐ!ہم نے تم کو شہادت دینے والا[14]  بشارت دینے والا اور خبردار کردینے والا [15]بناکر بھیجا ہے۔{۸}</p>
<p>تا کہ اے لوگو !تم اللہ اور اس کے رسول  ؐپر ایمان لا ؤ اور اُس کا ( یعنی رسُول  ؐ کا) ساتھ دو ، اس کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح وشام اللہ کی تسبیح کرتے رہو۔[16]{۹}</p>
<p>اے نبی  ؐ! جو لوگ تم سے بیعت کررہے تھے [17]وہ دراصل اللہ سے بیعت کررہے تھے ۔ [18]اُن کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ تھا ۔ اب جو اس عہد کو توڑے گا اس کی عہد شکنی کا وبال اُس کی اپنی ہی ذات پر ہوگا ، اور جو اُس عہد کو وفا کرے گا جو اُس نے اللہ سے کیاہے،[19] اللہ عنقریب اس کو بڑا اجر عطا فرمائے گا۔{۱۰}</p>
<p>اے نبی  ؐ! بدوی عربوں[20] میں سے جو لوگ پیچھے چھوڑدیے گئے تھے  اب وہ آکر ضرور تم سے کہیں گے کہ ’’ ہمیں اپنے اموال اور بال بچوں کی فکر نے مشغول کررکھا تھا ، آپ  ؐ ہمارے لئے مغفرت کی دعا فرمائیں ۔ ‘‘ یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو اِن کے دلوں میں نہیں ہوتیں۔ [21]ان سے کہنا ’’ اچھا ، یہی بات ہے تو کون (ہے جو )تمہارے معاملہ میں اللہ کے فیصلے کو روک دینے کا کچھ بھی اختیار رکھتا ہے اگر وہ تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے یا نفع بخشنا چاہے ؟ تمہارے اعمال سے تو اللہ ہی باخبر ہے۔[22] {۱۱}</p>
<p> ( مگر اصل بات وہ نہیں ہے جو تم کہہ رہے ہو ) بلکہ تم نے یوں سمجھا کہ رسُول  ؐ اور مومنین اپنے گھروالوں میں ہرگز پلٹ کرنہ آسکیں گے اور یہ خیال تمہارے دلوں کو بہت بھلا لگا [23]اور تم نے بہت برے گمان کئے اور تم سخت بدباطن لوگ ہو‘‘ ۔[24]{۱۲}</p>
<p>اللہ اور اس کے رسُول  ؐ پر جو لوگ ایمان نہ رکھتے ہوں ایسے کافروں کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر رکھی ہے۔[25]{ ۱۳}</p>
<p>آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک اللہ ہی ہے ، جسے چاہے معاف کرے اور جسے چاہے سزادے ، اور وہ غفور و رحیم ہے[26]{ ۱۴}</p>
<p>جب تم مال غنیمت حاصل کرنے کے لیے جانے لگو گے تو یہ پیچھے چھوڑے جانے والے لوگ تم سے ضرور کہیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دو ۔[27] یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے فرمان کو بدل دیں۔ [28]ان سے صاف کہہ دینا کہ ’’ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے ، اللہ پہلے ہی یہ فرما چکا ہے۔ ‘‘[29] یہ کہیں گے کہ ’’ نہیں ، بلکہ تم لوگ ہم سے حَسد کررہے ہو ۔‘‘ (حالانکہ بات حسد کی نہیں ہے)بلکہ یہ لوگ صحیح بات کو کم ہی سمجھتے ہیں۔{۱۵}</p>
<p>اِن پیچھے چھوڑے جانے والے بدوی عربوں سے کہنا کہ ’’ عنقریب تمہیں ایسے لوگوں سے لڑنے کے لیے بلایا جائیگا جو بڑے زور آور ہیں۔ تم کو ان سے جنگ کرنی ہوگی یا وہ مطیع ہوجائیں گے۔[30] اُس وقت اگر تم نے حکم ِجہاد کی اطاعت کی تو اللہ تمہیں اچھا اجر دے گا، اور اگر تم پھر اُسی طرح منہ موڑگئے جس طرح پہلے موڑچکے ہو تو اللہ تم کو درد ناک سزادے گا۔{۱۶}</p>
<p> ہاں اگر اندھا اور لنگڑا اور مریض جہاد کے لیے نہ آئے تو کوئی حرج نہیں ۔[31] جو کوئی اللہ اور اس کے رسول  ؐکی اطاعت کرے گا اللہ اُسے اُن جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، اور جو منہ پھیرے گا اسے وہ درد ناک عذاب دے گا‘‘۔{۱۷}</p>
<p>اللہ مومنوں سے خوش ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کررہے تھے۔[32] ان کے دلوں کا حال اُس کو معلوم تھا اس لیے اُس نے ان پرسکینت نازل فرمائی ،[33] ان کو انعام میں قریبی فتح بخشی {۱۸}</p>
<p> اور بہت سامالِ غنیمت انہیں عطا کردیا جسے وہ ( عنقریب ) حاصل کریں گے۔[34]  اللہ زبردست اور حکیم ہے ۔{۱۹}</p>
<p> اللہ تم سے بکثرت اموالِ غنیمت کا وعدہ کرتا ہے جنہیں تم حاصل کروگے۔ [35]فوری طور پر تو یہ فتح اس نے تمہیں عطا کردی[36] اور لوگوں کے ہاتھ تمہارے خلاف اٹھنے سے روک دیے [37]تا کہ یہ مومنوں کے لیے ایک نشانی بن جائے[38] اور اللہ سیدھے راستے کی طرف تمہیں ہدایت بخشے۔[39]{۲۰}</p>
<p>اس کے علاوہ دُوسری اور غنیمتوںکا بھی وہ تم سے وعدہ کرتا ہے جن پر تم ابھی قادر نہیں ہوئے ہو اور اللہ نے ان کو گھیر رکھا ہے۔[40] اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔{۲۱}</p>
<p>یہ کافر لوگ اگر اِس وقت تم سے لڑگئے ہوتے تو یقینا پیٹھ پھیرجاتے اور کوئی حامی و مددگارنہ پاتے[41]{ ۲۲}</p>
<p> یہ اللہ کی سنت ہے جو پہلے سے چلی آرہی ہے[42] اور تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پا ؤ گے۔ { ۲۳}</p>
<p>وہی ہے جس نے مکہّ کی وادی میں اُن کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیے ، حالانکہ وہ اُن پر تمہیں غلبہ عطا کر چکا تھا اور جو کچھ تم کررہے تھے اللہ اسے دیکھ رہا تھا۔{۲۴}</p>
<p>وہی لوگ تو ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجدِ حرام سے روکا اور ہَدی کے اونٹوں کو اُن کی قربانی کی جگہ نہ پہنچنے دیا ۔[43] اگر ( مکّہ میں ) ایسے مومن مردو عورت موجود نہ ہوتے جنہیں تم نہیں جانتے ، اور یہ خطرہ نہ ہوتا کہ نادانستگی میں تم انہیں پامال کردو گے اور اس سے تم پر حرف آئے گا (تو جنگ نہ روکی جاتی ۔ روکی وہ اس لیے گئی ) تا کہ اللہ اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرلے ۔وہ مومن الگ ہوگئے ہوتے تو ( اہلِ مکہّ میں سے ) جو کافر تھے ان کو ہم ضرور سخت سزادیتے۔[44]{۲۵}</p>
<p>(یہی وجہ ہے کہ )جب ان کافروں نے اپنے دِلوں میں جاہلانہ حمیت بٹھالی[45] تو اللہ نے اپنے رسول  ؐاور مومنوں پر سکینت  نازل فرمائی[46] اور مومنوں کو تقویٰ کی بات کا پابندرکھا کہ وہی اس کے زیادہ حق دار اوراُس کے اہل تھے۔ اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔{۲۶}</p>
<p>فی الواقع اللہ نے اپنے رسُول  اکو سچا خواب دکھا یا تھا جو ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق تھا[47]۔ان شاء اللہ [48]تم ضرور مسجدِ حرام میں پورے امن کے ساتھ داخل ہوگے[49] اپنے سرمنڈ وا ؤ گے اور بال تر شوا ؤ گے [50]، اور تمہیں کوئی خوف نہ ہوگا۔ وہ اُس بات کو جانتا تھا جسے تم نہ جانتے تھے اس لیے وہ خواب پورا ہونے سے پہلے اُس نے یہ قریبی فتح تم کو عطا فرما دی۔ {۲۷}</p>
<p>وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول  ؐکو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تا کہ اُس کو پوری جنس دین پر غالب کردے اور اس حقیقت پر اللہ کی گواہی کافی ہے[51] {۲۸}</p>
<p>  نبی  ؐ اللہ کے رسول ہیں ، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت[52]  اور آپس میں رحیم ہیں۔[53] تم جب دیکھو گے اُنہیں رکوع و سجود ، اور اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی طلب میں مشغو ل پا ؤ گے ۔ سجود کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں جن سے وہ الگ پہچانے جاتے ہیں۔[54] یہ ہے اُن کی صفت تو راۃ میں[55] اور انجیل میں اُن کی مثال یوں دی گئی ہے [56]کہ گویا ایک کھیتی ہے جس نے پہلے کو نپل نکالی ،پھر اس کو تقویت دی، پھروہ گدرائی، پھر اپنے تنے  پر کھڑی ہوگئی۔ کاشت کرنے والوں کو وہ خوش کرتی ہے تا کہ کفار اُن کے پھلنے پھولنے پر جلیں۔ ا س گروہ کے لوگ جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں اللہ نے ان سے مغفرت اور بڑے اجر کا وعدہ فرمایا ہے۔ [57]{۲۹}</p>

</div><div id="49"><p>سورۃ  الحجرات </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>اے لوگو جو ایمان لائے ہو !اللہ اوراُس کے رسول  ؐکے آگے پیش قدمی نہ کرو[1]  اور اللہ سے ڈرو ، اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔[2] {۱}</p>
<p>اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنی آواز نبی  ؐکی آواز سے بلند نہ کرو ، اور نہ نبی  ؐکے ساتھ اونچی آواز سے بات کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو ،[3]کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب غارت ہوجائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔[4] { ۲}</p>
<p> جو لوگ رسُول اللہ  ؐکے حضور بات کرتے ہوئے اپنی آواز پست رکھتے ہیں وہ درحقیقت وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے جانچ لیا ہے،[5]  ان کے لیے مغفرت ہے اور اجرِ عظیم ۔{ ۳}</p>
<p>اے نبی  ؐ!جو لوگ تمہیں حُجروں کے باہر سے پُکارتے ہیں ان میں سے اکثر بے عقل ہیں۔{ ۴}</p>
<p> اگر وہ تمہارے برآمد ہونے تک صبر کرتے تو انہی کے لیے بہترتھا،[6] اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔ [7]{۵}</p>
<p>  اَے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کرلیا کرو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کئے پر پشیمان ہو۔ [8]{۶}</p>
<p> خوب جان رکھو کہ تمہارے درمیان اللہ کا رسُول  ؐ  موجود ہے ۔ اگر وہ بہت سے معاملات میں تمہاری بات مان لیا کرے تو تم خود ہی مشکلات میں مبتلا ہوجا ؤ ۔ [9]مگر اللہ نے تم کو ایمان کی محبت دی اور اس کو تمہارے لئے دل پسند بنادیا، اور کفر وفسق اور نافرمانی سے تم کو متنفر کردیا۔ ایسے ہی لوگ راست رو ہیں [10]{۷}</p>
<p> اللہ کے فضل و احسان سے، اور یقینا اللہ علیم و حکیم ہے۔[11]{۸}</p>
<p>اور اگر اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑجائیں[12] تو ان کے درمیان صلح کرا ؤ۔[13] پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ پرزیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو [14]یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے ۔[15] پھر اگر وہ پلٹ آئے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرادو۔[16] اور انصاف کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔[17]{۹}</p>
<p> مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں ،لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان تعلقات کو درست کرو[18] اور اللہ سے ڈرو ، امید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا۔[19]{۱۰}</p>
<p> اے لوگو جو ایمان لائے ہو !نہ مَرد، دوسرے مَردوں کا مذاق اُڑائیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اُڑائیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔[20]آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو [21] اور نہ ایک دوسرے کو بُرے القاب سے یاد کرو۔[22]ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بُری بات ہے۔ [23]جو لوگ اس روش سے باز نہ آئیںوہ ظالم ہیں۔{۱۱}</p>
<p> اے لوگو جو ایمان لائے ہو !بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ تجسس نہ کرو۔[25] ا ور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔[26]  کیا تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا ؟[27] تم خود اس سے گِھن کھاتے ہو۔ اللہ سے ڈرو ،اللہ بڑا تو بہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے ۔{۱۲}</p>
<p>لوگو !ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنادیں تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچانو ۔ درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیز گار ہے ۔ [28]یقینا اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے ۔[29]{۱۳}</p>
<p> یہ بدوی کہتے ہیں کہ ’’ ہم ایمان لائے ‘‘ ۔[30]  اِن سے کہو ، تم ایمان نہیں لائے، بلکہ یوں کہو کہ ’’ ہم مطیع ہوگئے ۔‘‘[31] ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے ، اگر تم اللہ اور اس کے رسول  ؐکی فرمانبرداری اختیار کرلو تو وہ تمہارے اعمال کے اجر میں کوئی کمی نہ کرے گا ، یقینا اللہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔ {۱۴}</p>
<p> حقیقت میں تو مومن وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول  ؐپر ایمان لائے پھر انہوں نے کوئی شک نہ کیا اور اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ۔ وہی سچے لوگ ہیں۔{۱۵}</p>
<p> اے نبی  ؐ! اِن (مدعیان ایمان) سے کہو ، کیا تم اللہ کو اپنے دین کی اطلاع دے رہے ہو ؟ حالاں کہ اللہ ز مین اور آسمانوں کی ہرچیز کو جانتا ہے اور ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔{۱۶}</p>
<p> یہ لوگ تم پر احسان جتاتے ہیں کہ انہوں نے اسلام قبول کرلیا ان سے کہو اپنے اسلام کا احسان مجھ پر نہ رکھو ، بلکہ اللہ تم پر اپنا احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت دی اگر تم واقعی اپنے ( دعوائے ایمان میں)سچے ہو۔{۱۷}</p>
<p> اللہ زمین اور آسمانوں کی ہر پوشیدہ چیز کا علم رکھتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ سب اس کی نگاہ میں ہے۔{۱۸}</p>

</div><div id="50"><p>سورۃ  قٓ </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہاء مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>قٓ  ۔ قسم ہے قرآن مجید کی۔ [1]{۱}</p>
<p> بلکہ اِن لوگوں کو تعجب اِس بات پر ہوا کہ ایک خبردار کرنے والا خود اِنہی میں سے اِن کے پاس آگیا۔[2] پھر منکرین کہنے لگے ’’ یہ تو عجیب بات ہے {۲}</p>
<p> کیا جب ہم مرجائیں گے اور خاک ہوجائیں گے ( تو دوبارہ اٹھائے جائیں گے) یہ واپسی تو عقل سے بعید ہے‘‘[3]  {۳}</p>
<p>(حالانکہ ) زمین اِن کے جسم میں سے جو کچھ کھاتی ہے وہ سب ہمارے علم میں ہے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جس میں سب کچھ محفوظ ہے۔[4]{۴}</p>
<p>بلکہ اِن لوگوں نے تو جس وقت حق اِن کے پاس آیا اُسی وقت اسے صاف جھٹلادیا۔ اسی وجہ سے اب یہ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں۔[5] {۵}</p>
<p>اچھا[6] ، تو کیا اِنہوں نے کبھی اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا ؟ کس طرح ہم نے اسے بنایا اور آراستہ کیا ،[7] اور اس میں کہیں کوئی رخنہ نہیں ہے۔[8]{۶}</p>
<p> اور زمین کو ہم نے بچھایا اور اس میں پہاڑ جمائے اور اُس کے اندر ہر طرح کی خوش منظر نباتات اُگادیں[9] {۷}</p>
<p> یہ ساری چیزیں آنکھیں کھولنے والی اور سبق دینے والی ہیں ہر اُس بندے کے لیے جو(حق کی طرف) رجوع کرنے والا ہو۔{۸}</p>
<p> اور آسمان سے ہم نے برکت والا پانی نازل کیا ، پھر اس سے باغ اور (کٹنے والی ) فصل کے غلے (اُگائے) {۹}</p>
<p> اور بلند و بالا کھجور کے درخت پیدا کردیے جن پر پھلوں سے لدے ہوئے خوشے تہ برتہ لگتے ہیں۔{۱۰}</p>
<p> یہ انتظام ہے بندوں کو رزق دینے کا ۔ اس پانی سے ہم ایک مُردہ زمین کو زندگی بخش دیتے ہیں[10] (مرے ہوئے انسانوں کا زمین سے ) نکلنا بھی اِسی طرح ہوگا۔[11]{۱۱}</p>
<p> ان سے پہلے نوحؑ کی قوم ، اور اصحاب اَلرّس [12]اور ثمودجھٹلا چکے ہیں{۱۲}</p>
<p> اور عاد اور فرعون[13] اور لُوط  ؑکے بھائی {۱۳}</p>
<p>اور ایکہ والے اور تُبّع کی قوم [14]کے لوگ بھی جھٹلا چکے ہیں ۔[15] ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا [16]اور آخر کار میری وعید اُن پر چسپاں ہوگئی۔[17] {۱۴}</p>
<p>کیا پہلی بار کی تخلیق سے ہم عاجز تھے؟ مگر ایک نئی تخلیق کی طرف سے یہ لوگ شک میں پڑے ہوئے ہیں۔[18]{۱۵}</p>
<p>  ہم [19]نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اُس کے دل میں اُبھرنے والے وسوسوں تک کو ہم جانتے ہیں۔ ہم اس کی رگِ گردن سے بھی زیادہ اُس سے قریب ہیں۔ [20]{۱۶}</p>
<p> ( اور ہمارے اِس براہِ راست علم کے علاوہ ) دوکاتب اِس کے دائیں اور بائیں بیٹھے ہرچیز ثبت کررہے ہیں۔{۱۷}</p>
<p>کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتا جسے محفوظ کرنے    کے لیے ایک حاضر باش نگراں موجود نہ ہو۔[21]{۱۸}</p>
<p>پھر دیکھو ، وہ موت کی جاں کنی حق لے کر آپہنچی ،[22] یہ وہی چیز ہے جس سے تُو بھاگتا تھا۔[23]{۱۹}</p>
<p> اور پھر صور پھونکا گیا ، [24]یہ ہے وہ دن جس کا تجھے خوف دلا یا جاتا تھا۔{۲۰}</p>
<p> ہر شخص اِس حال میں آگیا کہ اُسکے ساتھ ایک ہانک کر لانے والا ہے اور ایک گواہی دینے والا۔[25]{۲۱}</p>
<p> اِس چیز کی طرف سے تو غفلت میں تھا ، ہم نے وہ پردہ ہٹا دیا جو تیرے آگے پڑا ہوا تھا اور آج تیری نگاہ خوب تیز ہے ۔[26]{۲۲}</p>
<p>اس کے ساتھی نے عرض کیا  یہ جومیری سپردگی میں تھا حاضر ہے۔[27]{ ۲۳}</p>
<p>حکم دیا گیا پھینک دو جہنم میں [28]ہر کٹّے کافر [29]کو جو حق سے عنادرکھتا تھا {۲۴}</p>
<p>خیر کو روکنے والا[30] اور حد سے تجاوز کرنے والا تھا۔ [31]شک میں پڑا ہوا تھا[32]{۲۵}</p>
<p>اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کومعبُود بنائے بیٹھا تھا ۔ ڈال دو اُسے سخت عذاب میں۔[33]{۲۶}</p>
<p> اُس کے ساتھی نے عرض کیا ’’اے ہمارے رَبّ! میں نے اِس کو سرکش نہیں بنایا ، بلکہ یہ خود ہی پرلے درجہ کی گمراہی میں پڑا تھا‘‘۔[34]{۲۷}</p>
<p> جواب میں ارشاد ہوا ’’ میرے حضور جھگڑا نہ کرو میں تم کو پہلے ہی انجام ِ بد سے خبر دار کرچکا تھا۔[35]{۲۸}</p>
<p> میرے ہاں بات پلٹی نہیں جاتی [36]اور میں اپنے بندوں پر ظلم توڑنے والا نہیں ہوں ‘‘۔[37]{۲۹}</p>
<p>وہ دن جب کہ ہم جہنم سے پوچھیں گے کیا تو بھر گئی ؟ اور وہ کہے گی کیا اور کچھ ہے؟[38] {۳۰}</p>
<p> اور جنت متقین کے قریب لے آئی جائے گی، کچھ بھی دور نہ ہوگی۔[39]{۳۱}</p>
<p> ارشادہوگا :’’ یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ، ہراُس شخص کے لیے جو بہت رجوع کرنیوالا[40] اور بڑی نگہداشت کرنے والا تھا [41]{۳۲}</p>
<p> جو بے دیکھے رحمن سے ڈرتا تھا[42] اور جو دِلِ گرویدہ لئے ہوئے آیا ہے۔[43]{۳۳}</p>
<p>’’داخل ہوجا ؤ جنّت میں سلامتی کے ساتھ ‘‘۔[44] وہ دن حیات ِابدی کا دن ہوگا۔{۳۴}</p>
<p>وہاں ان کے لیے وہ سب کچھ ہوگا جووہ چاہیں گے ، اور ہمارے پاس اس سے زیادہ بھی بہت کچھ اُن کے لیے ہے ۔[45]{۳۵}</p>
<p>ہم اِن سے پہلے بہت سی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جو اِن سے بہت زیادہ طاقت ور تھیں اور دنیا کے ملکوں کو اُنہوں نے چھان مارا تھا۔ [46]پھر کیا وہ کوئی جائے پناہ پاسکے ؟ [47]{۳۶}</p>
<p>اس تاریخ میں عبرت کا سبق ہے ہر اُس شخص کے لیے جو دل رکھتا ہو یا جو توجہ سے بات کو[48] سُنے۔{۳۷}</p>
<p>ہم نے زمین اور آسمانوں کو اور اُن کے درمیان کی ساری چیزوں کو چھ دنوں میں پیدا کردیا [49]اور ہمیں کوئی تکان لاحق نہ ہوئی۔ {۳۸}</p>
<p> پس اے نبی  ؐ! جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان پر صبر کرو ،[50] اور اپنے رَبّ کی حمد کے ساتھ اُ س کی تسبیح کرتے رہو طلوع ِآفتاب اور غروب ِآفتاب سے پہلے۔ {۳۹}</p>
<p> اور رات کے وقت پھر اُس کی تسبیح کرو اور سجدہ ریز یوں سے فارغ ہونے کے بعد بھی۔ [51]{۴۰}</p>
<p>اور سُنو :جس دن منادی کرنے والا ( ہر شخص کے ) قریب ہی سے پکارے گا [52]{۴۱}</p>
<p> جس دن سب لوگ آوازۂ  حشر کو ٹھیک ٹھیک سُن رہے ہوں گے ،[53] وہ زمین سے مُردوں کے نکلنے کا دن ہوگا ۔{۴۲}</p>
<p>ہم ہی زندگی بخشتے ہیں اور ہم ہی موت دیتے ہیں ،اور ہماری طرف ہی اُس دن سب کو پلٹنا ہے{۴۳}</p>
<p>جب زمین پھٹے گی اور لوگ اس کے اندر سے نکل کرتیز تیز بھاگے جارہے ہوں گے۔یہ حشر ہمارے لئے بہت آسان ہے ۔ [54]{۴۴}</p>
<p> اے نبی  ؐ!جو باتیں یہ لوگ بنارہے ہیں انہیں ہم خوب جانتے ہیں [55]، اور تمہارا کام ان سے جبراً بات منوانا نہیں ہے، بس تم اس قرآن کے ذریعہ سے ہر اُس شخص کو نصیحت کردو جو میری تنبیہ سے ڈرے۔[56] {۴۵}</p>

</div><div id="51"><p>سورۃ  الذٰریٰت </p>
<p> اللہ کے نام سے جو بے انتہامہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>قسم ہے اُن ہوا ؤں کی جو گر داُڑانے والی ہیں{۱}</p>
<p>پھر پانی سے لدے ہوئے بادل اٹھانے والی ہیں[1] {۲}</p>
<p> پھر سُبک رفتاری کیساتھ چلنے والی ہیں{۳}</p>
<p>پھر ایک بڑے کام (بارش ) کی تقسیم کرنے والی ہیں[2] {۴}</p>
<p> حق یہ ہے کہ جس چیز کا تمہیں خوف دلا یا جارہا ہے[3] وہ سچی ہے{۵}</p>
<p> اور جزائے اعمال ضرور پیش آنی ہے۔[4]  {۶}</p>
<p>قسم ہے متفرق شکلوں والے آسمان کی [5]{۷}</p>
<p> (آخرت کے بارے میں ) تمہاری بات ایک دوسرے سے مختلف ہے ۔[6]{۸}</p>
<p> اُس سے وہی برگشتہ ہوتا ہے جو حق سے پھر اہوا ہے۔[7] {۹}</p>
<p> مارے گئے قیاس وگمان سے حکم لگانے والے[8] {۱۰}</p>
<p>جو جہالت میں غرق اور غفلت میں مدہوش ہیں۔ [9]{۱۱}</p>
<p> پوچھتے ہیں: آخر وہ روزِ جزا کب آئے گا ؟{۱۲}</p>
<p>وہ اُس روز آئے گا جب یہ لوگ آگ پر تپائے جائیں گے۔[10]{۱۳}</p>
<p>( اِن سے کہا جائے گا)  اب چکھو مزہ اپنے فتنے کا ،[11] یہ وہی چیز ہے جس کے لیے تم جلدی مچار ہے تھے ۔ [12]{۱۴}</p>
<p>البتہ متقی لوگ [13]اُس روز باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔{۱۵}</p>
<p>جو کچھ اُن کا رَبّ انہیں دے گا اسے خوشی خوشی لے رہے ہوں گے ۔[14] وہ اس دن کے آنے سے پہلے نیکو کار تھے {۱۶}</p>
<p> راتوں کو کم ہی سوتے تھے [15]{۱۷}</p>
<p> پھر وہی رات کے پچھلے پہروں میں معافی مانگتے تھے[16]{۱۸}</p>
<p> اور اُن کے مالوں میں حق تھا سائل اور محروم کے لیے [17]{۱۹}</p>
<p> زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں یقین لانے والوں کے لیے[18]{۲۰}</p>
<p> اور خود تمہارے اپنے وجود میں ہیں۔[19]کیا تم کو سُوجھتا نہیں؟ {۲۱}</p>
<p> آسمان ہی میں ہے تمہارا رزق بھی اور وہ چیز بھی جس کاتم سے وعدہ کیا جارہا ہے۔[20] {۲۲}</p>
<p> پس قسم ہے آسمان اور زمین کے مالک کی ، یہ بات حق ہے ، ایسی ہی یقینی جیسے تم بول رہے ہو[21]{۲۳}</p>
<p> ( اے نبی  ؐ!)کیا ابراہیم ؑ کے معزز مہمانوں کی حکایت بھی تمہیں پہنچی ہے ؟[22] {۲۴}</p>
<p>جب وہ اُس کے ہاں آئے تو کہا آپ کو سلام ہے۔ اُس نے کہا ’’ آپ لوگوں کو بھی سلام ہے ،[23]کچھ نا آشنا سے لوگ ہیں‘‘{۲۵}</p>
<p> پھر وہ چپکے سے اپنے گھروالوں کے پاس گیا،[24] اور ایک (بھنا ہوا ) موٹا تازہ بچھڑا[25] لایا{۲۶}</p>
<p>(بچھڑے کا گوشت)  لا کر مہمانوں کے آگے پیش کیا ۔ اُس نے کہا آپ حضرات کھاتے نہیں ؟{۲۷}</p>
<p> پھر وہ اپنے دل میں اُن سے ڈرا ۔[26] انہوں نے کہا ڈریے نہیں ، اور اسے ایک علیم (ذی علم) لڑکے کی پیدائش کا مژدہ سنایا ۔[27] {۲۸}</p>
<p> یہ سُن کر اس کی بیوی چیختی ہوئی آگے بڑھی اور اس نے اپنا منہ پیٹ لیا اور کہنے لگی ، بوڑھی ، بانجھ ! [28]{۲۹}</p>
<p> انہوں نے کہا ’’ یہی کچھ فرمایا ہے تیرے رَبّ نے ، وہ حکیم ہے اور سب کچھ جانتا ہے‘‘۔[29]{۳۰}</p>
<p>( ابراہیم ؑ نے )کہا ، ’’ اے فرستادگان الہٰی ! کیا مُہم آپ کو درپیش ہے؟ ‘‘[30]{۳۱}</p>
<p> انہوں نے کہا ’’ ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں[31] {۳۲}</p>
<p>تاکہ اس پرپکی ہوئی مٹی کے پتھر برسادیں {۳۳}</p>
<p>جو آپ کے رَبّ کے ہاں حد سے گزرجانے والوں کے لیے نشان زدہ ہیں‘‘۔  [32]{۳۴}</p>
<p> پھر [33]ہم نے اُن سب لوگوں کو نکال لیا جو اُس بستی میں مومن تھے {۳۵}</p>
<p>اور وہاں ہم نے ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھرنہ پایا[34]{۳۶}</p>
<p> اِس کے بعد ہم نے وہاں بس ایک نشانی اُن لوگوں کے لیے چھوڑ دی جو درد ناک عذاب سے ڈرتے ہوں۔[35]  {۳۷}</p>
<p>اور (تمہارے لئے نشانی ہے )موسیٰ  ؑ کے قصے میں ، جب ہم نے اُسے صریح سند کے ساتھ فرعون کے پاس بھیجا [36] {۳۸}</p>
<p> تو وہ اپنے بل بوتے پر اکڑ گیا اور بولا یہ جادو گر ہے یا مجنون ہے۔[37]{۳۹}</p>
<p>آخر کار ہم نے اُسے اور اس کے لشکروں کو پکڑا اور سب کو سمندر میں پھینک دیا اور وہ ملامت زدہ ہو کر رہ گیا۔[38]{۴۰}</p>
<p>اور (تمہارے لئے نشانی ہے ) عاد میں ، جب کہ ہم نے ان پر ایک ایسی بے خیر ہوا بھیج دی{۴۱}</p>
<p>کہ جس چیز پر بھی وہ گزر گئی اسے بوسیدہ کرکے رکھ دیا۔[39]{۴۲}</p>
<p>اور ( تمہارے لئے نشانی ہے ) ثمود میں، جب اُن سے کہا گیا تھا کہ ایک خاص وقت تک مزے کر لو[40]{۴۳}</p>
<p>مگر اس تنبیہ پر بھی انہوں نے اپنے رَبّ کے حکم سے سرتابی کی۔ آخر کار اُن کے دیکھتے دیکھتے  ایک اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب [41]نے اُن کو آلیا {۴۴}</p>
<p> پھر نہ اُن میں اُٹھنے کی سکت تھی اور نہ وہ اپنا بچا ؤ کرسکتے تھے۔[42] {۴۵}</p>
<p>اور اِن سب سے پہلے ہم نے نوح  ؑکی قوم کو ہلاک کیا کیونکہ وہ فاسق لوگ تھے ۔{۴۶}</p>
<p> آسمان [43]کو ہم نے اپنے زور سے بنایا ہے اور ہم اِس کی قدرت رکھتے ہیں ۔ [44]{۴۷}</p>
<p>زمین کو ہم نے بچھایا ہے اور ہم بڑے اچھے ہموار کرنے والے ہیں[45]{۴۸}</p>
<p> اور ہرچیز کے ہم نے جوڑے بنائے ہیں [46] شاید کہ تم اِس سے سبق لو۔ [47]{۴۹}</p>
<p>پس دوڑواللہ کی طرف ،میں تمہارے لئے اس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں۔ {۵۰}</p>
<p>اور نہ بنا ؤ اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود ، میں تمہارے لئے اُس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں ۔[48]{۵۱}</p>
<p>یونہی ہوتا رہا ہے ، اِن سے پہلے کی قوموں کے پاس بھی کوئی رسول ؑ ایسا نہیں آیا جسے اُنہوں نے یہ نہ کہا ہو کہ یہ ساحر ہے یا مجنون۔[49]{۵۲}</p>
<p>کیا اِن سب نے آپس میں اِس پر کوئی سمجھوتہ کرلیا ہے ؟ نہیں ، بلکہ یہ سب سرکش لوگ  ہیں۔ [50]{۵۳}</p>
<p>پس اے نبی  ؐ!اِن سے رُخ پھیرلو ، تم پر کچھ ملامت نہیں[51] {۵۴}</p>
<p> البتہ نصیحت کرتے رہو ، کیوں کہ نصیحت ایمان لانے والوں کے لیے نافع ہے۔[52]{۵۵}</p>
<p>  میں نے جن اور انسانوں کو اس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔  [53]{۵۶}</p>
<p> میں اُن سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں ۔[54]{۵۷}</p>
<p>اللہ تو خود ہی رزّاق ہے ، بڑی قوت والا اور زبردست ۔[55]{۵۸}</p>
<p>پس جن لوگوں نے ظلم کیا ہے[56]  اُن کے حصے کا بھی ویسا ہی عذاب تیار ہے جیسا انہی جیسے لوگوں کو اُن کے حصے کامل چکا ہے ، اس کے لیے یہ لوگ مجھ سے جلدی نہ مچائیں۔[57]{۵۹}</p>
<p> آخر کو تباہی ہے کفر کرنے والوں کے لیے اُس روز جس کا انہیں خوف دلا یا جارہا ہے۔{۶۰}</p>

</div><div id="52"><p>سورۃ الطور </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ </p>
<p>قسم ہے طُور کی[1] {۱}</p>
<p>اور ایک ایسی کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے { ۲}</p>
<p>کھلی اوررقیق ِجلد میں[2]{۳}</p>
<p> اور آباد گھر کی [3]{۴}</p>
<p>اور اونچی چھت کی[4] {۵}</p>
<p> اور مَوجزن سمندر کی[5]{۶}</p>
<p>کہ تیرے رَبّ کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے{۷}</p>
<p> جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں۔ [6]{۸}</p>
<p> وہ اُس روز واقع ہوگا جب آسمان بُری طرح ڈگمگائے گا[7] {۹}</p>
<p>اور پہاڑ اُڑے اُڑے پھریں گے[8] {۱۰}</p>
<p> تباہی ہے اُس روز اُن جھٹلانے والوں کے لیے {۱۱}</p>
<p>جو آج کھیل کے طور پر اپنی حجت بازیوں میں لگے ہوئے ہیں۔ [9]{۱۲}</p>
<p> جس دن انہیں دھکے مار مار کرنا رِجہنم کی طرف لے  چلا جائے گا{۱۳}</p>
<p> (اُس وقت اُن سے کہا جائے گا کہ)’’یہ وہی آگ ہے جسے تم جھٹلا یا کرتے تھے۔{۱۴}</p>
<p>اب بتا ؤ ، یہ جادُو ہے یا تمہیں سُوجھ نہیں رہا ہے ؟[10]{۱۵}</p>
<p> جا ؤ اب جُھلسو اِس کے اندر ، تم خواہ صبر کرو یا نہ کرو ، تمہارے لئے یکساں ہے ، تمہیں ویسا ہی بدلہ دیا جارہا ہے جیسے تم عمل کررہے تھے‘‘۔{۱۶}</p>
<p>متقی لوگ [11]وہاں باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے {۱۷}</p>
<p> لُطف لے رہے ہونگے اُن چیزوں سے جو اُن کا رَبّ اُنہیں دے گا ،اور ان کا رَبّ اُنہیں دُوزخ کے عذاب سے بچالے گا۔ [12]{۱۸}</p>
<p>( ان سے کہا جائے گا ) کھا ؤ اور پیومزے سے[13] اپنے اُن اعمال کے صلے میں جو تم کرتے رہے ہو۔{۱۹}</p>
<p> وہ آمنے سامنے بچھے ہوئے تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے اور ہم خوبصورت آنکھوں والی حوریں اُن سے بیاہ دیں گے[14] {۲۰}</p>
<p> جو لوگ ایمان لائے ہیں اور اُن کی اولاد بھی کسی درجۂ ایمان میں اُن کے نقش قدم پر چلی ہے ان کی اُس اولاد کو بھی ہم ( جنّت  میں) اُن کے ساتھ ملادیں گے اور ان کے عمل میں کوئی گھا ٹا اُن کو نہ دیں گے ۔ [15]ہر شخص اپنے کسب کے عوض رہن ہے ۔[16]{۲۱}</p>
<p> ہم ان کو ہر طرح کے پھل اور گوشت ،[17] جس چیز کو بھی اُن کا جی چاہے گا ، خوب دیے چلے جائیں گے۔ {۲۲}</p>
<p>وہ ایک دُوسرے سے جامِ شراب لپک لپک کرلے رہے ہوں گے ، جس میں نہ یاوہ گوئی ہوگی نہ بدکرداری۔[18] {۲۳}</p>
<p> اوراُن کی خدمت میں وہ لڑکے دوڑتے پھر رہے ہوں گے جو اُنہی (کی خدمت ) کے لیے مخصوص ہوں گے ،[19] ایسے خوبصورت جیسے چُھپا کررکھے ہوئے موتی ۔{۲۴}</p>
<p> یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے ( دنیا میں گزرے ہوئے ) حالات پوچھیں گے۔ {۲۵}</p>
<p> یہ کہیں گے کہ ہم پہلے اپنے گھروالوں میں ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے تھے [20] {۲۶}</p>
<p> آخر کار اللہ نے ہم پر فضل فرمایا اور ہمیں جُھلسا دینے والی ہوا [21]کے عذاب سے بچالیا۔{۲۷}</p>
<p>ہم پچھلی زندگی میں اُسی سے دعائیں مانگتے تھے ، وہ واقعی بڑاہی محسن اور رحیم ہے ۔{۲۸}</p>
<p> پس اے نبی  ؐ!  تم نصیحت کئے جا ؤ ، اپنے رَبّ کے فضل سے نہ تم کا ہن ہو اور نہ مجنون۔{۲۹}</p>
<p>کیا [22]یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ شخص شاعر ہے جس کے حق میں ہم گردشِ ا یاّم کا انتظار کررہے ہیں ؟[23]{۳۰}</p>
<p> اِن سے کہو اچھا ، انتظار کرو ، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہو ں۔[24]{۳۱}</p>
<p> کیا اِن کی عقلیں انہیں ایسی ہی باتیں کرنے کے لیے کہتی ہیں ؟ یا درحقیقت یہ عِناد میں حد سے گزرے ہوئے لوگ ہیں ؟  [25] {۳۲}</p>
<p>کیا یہ کہتے ہیں کہ اِس شخص نے یہ قرآن خود گھڑلیا ہے ؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ ایمان نہیں لانا چاہتے۔[26] {۳۳}</p>
<p>اگر یہ اپنے اِس قول میں سچے ہیں تو اسی شان کا ایک کلام بنالائیں[27]{۳۴}</p>
<p> کیا یہ کسی خالق کے بغیر خود پیدا ہوگئے ہیں ؟ یا یہ خود اپنے خالق ہیں ۔{۳۵}</p>
<p> یا زمین اور آسمانوں کو انہوں نے پیدا کیا ہے ؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ یقین نہیں  رکھتے [28]{۳۶}</p>
<p>کیا تیرے رَبّ کے خزانے اِن کے قبضے میں ہیں؟ یا اُن پر اِنہی کا حکم چلتا ہے؟ [29]{۳۷}</p>
<p>کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر یہ عالم ِبالا کی سُن گن لیتے ہیں ؟ اِن میں سے جس نے سُن گُن لی ہو وہ لائے کو ئی کھلی دلیل ۔{۳۸}</p>
<p>کیا اللہ کے لیے تو ہیں بیٹیاں اور تم لوگوں کے لیے ہیں بیٹے ؟ [30] {۳۹}</p>
<p>کیا تم اِن سے کوئی اجر مانگتے ہو کہ یہ زبردستی پڑی ہوئی چٹّی(تاوان) کے بوجھ تلے دبے جاتے  ہیں ؟[31]{۴۰}</p>
<p>کیا اِن کے پاس غیب کے حقائق کا علم ہے کہ اُس کی بنا پر یہ لکھ رہے ہوں ؟[32] {۴۱}</p>
<p>کیا یہ کوئی چال چلنا چاہتے ہیں؟ [33]اگر یہ بات ہے تو کفر کرنے والوں پر ان کی چال اُلٹی ہی پڑے گی۔[34]{۴۲}</p>
<p>کیا اللہ کے سوا یہ کوئی اور معبود رکھتے ہیں ؟ اللہ پاک ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کررہے ہیں[35] {۴۳}</p>
<p>یہ لوگ آسمان کے ٹکڑے بھی گرتے ہوئے دیکھ لیں تو کہیں گے یہ بادل ہیں جو امڈے چلے آرہے ہیں[36]{۴۴}</p>
<p>پس اَے نبی  ؐ! اِنہیں اِن کے حال پر چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ اپنے اُس دن کو پہنچ جائیں جس میں یہ مار گرائے جائیں گے ۔{۴۵}</p>
<p>جس دن نہ ان کی اپنی کوئی چال ان کے کسی کام آئے گی نہ کوئی ان کی مدد کو آئے گا۔{۴۶}</p>
<p>اور اُس وقت کے آنے سے پہلے بھی ظالموں کے لیے ایک عذاب ہے ، مگر ان میں سے اکثر جانتے نہیں ہیں۔[37]{۴۷}</p>
<p>اے نبی  ؐ! اپنے رَبّ کا فیصلہ آنے تک صبرکرو،[38] تم ہماری نگاہ میں ہو ۔[39] تم جب اُٹھو تو اپنے رَ بّ کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح  کرو[40]{۴۸}</p>
<p>رات کو بھی اس کی تسبیح کیا کرو [41]اور ستارے جب پلٹتے ہیں اُس وقت بھی  ۔{۴۹}</p>

</div><div id="53"><p>سورۃ  النجم </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہامہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>قسم ہے تارے کی[1] جب کہ وہ غروب ہوا {۱}</p>
<p> تمہارا رفیق نہ بھٹکاہے[2] نہ بہکا ہے ۔[3]{۲}</p>
<p> وہ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتا {۳}</p>
<p>یہ تو ایک وحی ہے جو اس پر نازل کی جاتی ہے۔[4]{۴}</p>
<p> اُسے زبردست قوت والے نے تعلیم دی ہے [5]{۵}</p>
<p>(وہ فرشتہ)جو بڑا صاحب حکمت ہے۔ [6]وہ سامنے آکھڑا ہوا {۶}</p>
<p>جبکہ وہ بالائی اُفق پر تھا [7]{۷}</p>
<p> پھر قریب آیا اور اوپر معلّق ہوگیا{۸}</p>
<p> یہاں تک کہ دوکمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا[8]{۹}</p>
<p> تب اس نے اس ا للہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو و حی بھی اُسے پہنچانی تھی[9]{۱۰}</p>
<p> نظر نے جو کچھ دیکھا ، دل نے اُس میں جھوٹ نہ ملایا۔[10] {۱۱}</p>
<p> اب کیا تم اُس چیز پر اس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے ؟{۱۲}</p>
<p>اور ایک مرتبہ پھر اُس نے اُس کو اُترتے دیکھا{۱۳}</p>
<p>سدرۃ المنتہی کے پاس {۱۴}</p>
<p> جہاں پاس ہی جنّت الماویٰ ہے۔[11]{۱۵}</p>
<p>اس وقت سدرہ پر چھا رہا تھا [12]جو کچھ کہ چھارہا تھا۔ {۱۶}</p>
<p>نگاہ نہ چندھیائی نہ حد سے متجاوز ہوئی [13]{۱۷}</p>
<p>اور اس نے اپنے رَبّ کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔[14] {۱۸}</p>
<p> اب ذرا بتا ؤ ، تم نے کبھی اس لات ، اور اس عزیٰ(کو بھی دیکھاہے){۱۹}</p>
<p> اور تیسری ایک دیوی منات کی حقیقت پر کچھ غور بھی کیا ہے؟[15] {۲۰}</p>
<p>کیا بیٹے تمہارے لئے ہیں اور بیٹیاں اللہ کے لیے۔[16]  {۲۱}</p>
<p>یہ تو پھر بڑی دھاندلی کی تقسیم ہوئی !{۲۲}</p>
<p> دراصل یہ کچھ نہیں ہیں مگر بس چند نام جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں ، اللہ نے اِن کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی۔ [17]حقیقت یہ ہے کہ لوگ محض وہم وگمان کی پیروی کررہے ہیں اور خواہشاتِ نفس کے مرید بنے ہوئے ہیں۔[18]حالاں کہ ان کے رَبّ کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے۔[19]{۲۳}</p>
<p>کیا انسان جو کچھ چاہے اس کے لیے وہی حق ہے؟[20] {۲۴}</p>
<p>دنیا اور آخرت کا مالک تو اللہ ہی ہے۔{۲۵}</p>
<p>  آسمانو ںمیں کتنے ہی فرشتے موجود ہیں ، اُن کی شفاعت کچھ بھی کام نہیں آسکتی جب تک کہ اللہ کسی ایسےشخص کے حق میں اُس کی اجازت نہ دے جس کے لیے وہ کوئی عرض داشت سننا چاہے اور اُس کو پسند کرے۔[21]{۲۶}</p>
<p> مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ فرشتوں کو دیویوں کے ناموں سے موسوم کرتے ہیں[22] {۲۷}</p>
<p> حالانکہ اس معاملے کا کوئی علم اُنہیں حاصل نہیں ہے ، وہ محض گمان کی پیروی کررہے ہیں ،[23]اور گمان حق کی جگہ کچھ بھی کام نہیں دے سکتا {۲۸}</p>
<p>  پس اے نبی  ؐ!جو شخص ہمارے ذکر سے منہ پھیرتا ہے ،[24] اور دنیا کی زندگی کے سواجسے کچھ مطلوب نہیں ہے ، اُسے اُس کے حال پر چھوڑ دو۔[25]{۲۹}</p>
<p> اِن[26] لوگوں کا مبلغ علم بس یہی کچھ ہے ، [27]یہ بات تیرا رَبّ ہی زیادہ جانتا ہے کہ اس کے راستے سے کون بھٹک گیا ہے اور کون سیدھے راستے پر ہے۔ {۳۰}</p>
<p> اور زمین اور آسمانو ںکی ہرچیز کا مالک اللہ ہی ہے[28] تا کہ [29] اللہ بُرائی کرنے والوں کو ان کے عمل کا بدلہ دے اور اُن لوگوں کو اچھی جزا سے نوازے جنہوں نے نیک رویہ اختیار کیا ہے {۳۱}</p>
<p>جو بڑے بڑے گناہوں[30] اور کھلے کھلے قبیح افعال [31]سے پرہیز کرتے ہیں، اِلاّ یہ کہ کچھ قصور اُن سے سرزدہوجائے۔[32] بلاشبہ تیرے رَبّ کا دامن ِمغفرت بہت وسیع ہے۔[33] وہ تمہیں اس وقت سے خوب جانتا ہے جب اُس نے زمین سے تمہیں پیدا کیا اورجب تم اپنی ما ؤں کے پیٹوں میں ابھی جنین ہی تھے۔ پس اپنے نفس کی پاکی کے دعوے نہ کرو ، وہی بہتر جانتا ہے کہ واقعی متقی کون ہے؟{۳۲}</p>
<p> پھر اے نبی  ؐ! تم نے اُس شخص کو بھی دیکھا جو راہ حق سے پھر گیا ؟{۳۳}</p>
<p>اور تھوڑا سادے کررک گیا [34]{۳۴}</p>
<p> کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ حقیقت کو دیکھ رہا ہے ؟ [35]{۳۵}</p>
<p>کیا اُسے اُن باتوں کی کوئی خبر نہیں پہنچی جو موسیٰ  ؑکے صحیفوں میں بیان ہوئی ہے؟{۳۶}</p>
<p>اور اُس ابراہیم ؑ (کے صحیفوں میں)جس نے وفا کا حق ادا کردیا؟ [36]{۳۷}</p>
<p> ’’ یہ کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا [37] {۳۸}</p>
<p> اور یہ کہ انسان کے لیے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اُس نے سعی کی ہے  [38]{۳۹}</p>
<p>اور یہ کہ اُس کی سعی عنقریب دیکھی جائے گی[39]{۴۰}</p>
<p>پھر اس کی پُوری جزا اُسے دی جائے گی{۴۱}</p>
<p>اور یہ کہ آخر کار پہنچنا تیرے رَبّ ہی کے پاس ہے{۴۲}</p>
<p>اور یہ کہ اُسی نے ہنسایا اور اسی نے رُلایا [40] {۴۳}</p>
<p> اور یہ کہ اسی نے موت دی اور اسی نے زندگی بخشی{۴۴}</p>
<p>اور یہ کہ اسی نے نراور مادہ کا جوڑا پیدا کیا{۴۵}</p>
<p> ایک بُوند سے جب کہ وہ ٹپکائی جاتی ہے [41]{۴۶}</p>
<p> اور یہ کہ دوسری زندگی بخشنا بھی اُسی کے ذمہ ہے[42]{۴۷}</p>
<p> اور یہ کہ اُسی نے غنی کیا اور جائدادبخشی[43] {۴۸}</p>
<p>اور یہ کہ وہی شعریٰ کارَبّ ہے [44]{۴۹}</p>
<p>اور یہ کہ اسی نے عاداولیٰ [45]کو ہلاک کیا {۵۰}</p>
<p> اور ثمود کو ایسا مٹایا کہ ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑا {۵۱}</p>
<p> اور ان سے پہلے قوم نوحؑ کو تباہ کیا کیوں کہ وہ تھے ہی سخت ظالم و سرکش لوگ {۵۲}</p>
<p> اور اوندھی گرنے والی بستیوں کو اٹھا پھینکا {۵۳}</p>
<p> پھر چھادیا ان پر وہ کچھ جو ( تم جانتے ہی ہو کہ ) کیا چھادیا [46]{۵۴}</p>
<p>پس [47] (اے انسان !) اپنے رَبّ کی کن کن نعمتوں میں توشک کرے گا؟‘‘[48]{۵۵}</p>
<p>یہ ایک تنبیہ ہے پہلے آئی ہوئی تنبیہات میں سے ۔[49]{۵۶}</p>
<p> آنے والی گھڑی قریب آلگی ہے ۔[50]{۵۷}</p>
<p> اللہ کے سواکوئی اس کو ہٹانے والا نہیں[51]{۵۸}</p>
<p>اب کیا یہی وہ باتیں ہیں جن پر تم اظہار تعجب کرتے ہو ؟[42]{۵۹}</p>
<p> ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو ؟{۶۰}</p>
<p>اور گابجاکر انہیں ٹالتے ہو؟ [53]{۶۱}</p>
<p> جھک جا ؤ اللہ کے آگے اور بندگی بجالا ؤ ۔[54]{۶۲}</p>

</div><div id="54"><p>سورۃ  القمر </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>قیامت کی گھڑی قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔  [1]{۱}</p>
<p> مگر اِن لوگوں کا حال یہ ہے کہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں ، منہ موڑ جاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو چلتا ہوا جادو ہے ۔[2]{ ۲}</p>
<p> انہوں نے (اس کو بھی ) جھٹلادیا اور اپنی خواہشات نفس ہی کی پیروی کی ۔ [3]ہر معاملے کو آخر کار ایک انجام پر پہنچ کر رہنا ہے۔[4]{ ۳}</p>
<p>ان لوگوں کے سامنے ( پچھلی قوموں کے ) وہ حالات آچکے ہیں جن میں سرکشی سے باز رکھنے کے لیے کافی سامانِ عبرت ہے{ ۴}</p>
<p> اور ایسی حکمت جو نصیحت کے مقصد کو بدرجۂ اَتم پورا کرتی ہے۔ مگر تنبیہات ان پر کار گر نہیں ہوتیں {۵}</p>
<p>پس اے نبی  ؐ! ان سے رُخ پھیرلو،[5] جس ۱وز پکارنے والا ایک سخت ناگوار[6] چیز کی طرف پکارے گا {۶}</p>
<p> لوگ سہمی ہوئی نگاہوں کیساتھ[7] اپنی قبروں سے[8] اس طرح نکلیں گے گویا وہ بکھری ہوئی ٹڈّیاں ہیں۔ {۷}</p>
<p> پکارنے والے کی طرف دوڑے جارہے ہوں گے اور وہی منکرین ( جو دنیا میں اس کا انکار کرتے تھے) اس وقت کہیں گے کہ یہ دن تو بڑ اکٹھن ہے۔{۸}</p>
<p> ان سے پہلے نوح  ؑ کی قوم جھٹلا چکی ہے،[9] انہوں نے ہمارے بندے کو جُھوٹا قرار دیا اور کہا کہ یہ دیوانہ ہے اور وہ بُری طرح جھڑکا گیا [10]{۹}</p>
<p>آخر کار اُس نے اپنے رَبّ کو پُکارا کہ ’’ میں مغلوب ہوچکا ، اب تُو اِن سے انتقام لے ‘‘{۱۰}</p>
<p>تب ہم نے موسلا دھار بارش سے آسمان کے دروازے کھول دیے {۱۱}</p>
<p> اور زمین کو پھاڑ کر چشموں میں تبدیل کردیا،[11] اور یہ سارا پانی اس کام کو پورا کرنے کے لیے مل گیا جو مقدر ہوچکا تھا {۱۲}</p>
<p> اور نوح  ؑ کو ہم نے ایک تختوں اور کیلوں والی[12] پر سوار کردیا{۱۳}</p>
<p>جو ہماری نگرانی میں چل رہی تھی یہ تھا بدلہ اس شخص کی خاطر جس کی ناقدری کی گئی تھی۔ [13]{۱۴}</p>
<p>اُس کشتی کو ہم نے ایک نشانی بناکر چھوڑدیا ،[14] پھر کوئی ہے نصیحت قبول کرنے والا ؟ {۱۵}</p>
<p>دیکھ لو ، کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات {۱۶}</p>
<p> ہم نے اِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنادیا ہے،[15] پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟ {۱۷}</p>
<p>عاد نے جھٹلایا تو دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات {۱۸}</p>
<p> ہم نے ایک پیہم نحوست کے دن [16]سخت طوفانی ہوا اُن پر بھیج دی{۱۹}</p>
<p> جو لوگوں کو اُٹھا اُٹھا کر ا س طرح پھینک رہی تھی جیسے وہ جڑسے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے ہوں۔{۲۰}</p>
<p>پس دیکھ لو کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات {۲۱}</p>
<p>ہم نے اِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنادیا ہے ، پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟ {۲۲}</p>
<p>ثمود نے تنبیہات کو جھٹلایا {۲۳}</p>
<p>اور کہنے لگے ’’ ایک اکیلا آدمی جو ہم ہی میں سے ہے کیا اب ہم اُس کے پیچھے چلیں ؟[17] اس کا اتباع ہم قبول کرلیں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم بہک گئے ہیں اور ہماری عقل ماری گئی ہے۔ { ۲۴}</p>
<p> کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص تھا جس پر اللہ کا ذکر نازل کیا گیا ؟ نہیں ، بلکہ یہ پرلے درجے کا جھوٹا اور برخود غلط ہے‘‘ {۲۵}</p>
<p> ( ہم نے اپنے پیغمبرسے کہا )’’ کل ہی اِنہیں معلوم ہوا جاتا ہے کہ کون پرلے درجے کا جھوٹا اور برخود غلط ہے۔{۲۶}</p>
<p> ہم اونٹنی کو ان کے لیے فتنہ بنا کر بھیج رہے ہیں۔ اب ذرا صبر کے ساتھ دیکھ کہ ان کا کیا انجام ہوتا ہے۔{۲۷}</p>
<p> اِن کو جتادے کہ پانی اِن کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم ہوگا اور ہر ایک اپنی باری کے دن پانی پرآئے گا‘‘ ۔[19]{۲۸}</p>
<p> آخر کار اُن لوگوں نے اپنے آدمی کو پکارا اور اس نے اس کام کا بیڑ ا اُٹھایا اور اونٹنی کو مارڈالا[20]{۲۹}</p>
<p> پھر دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات۔ {۳۰}</p>
<p> ہم نے ان پر بس ایک ہی دھماکا چھوڑا اور وہ باڑے والے کی روندی ہوئی باڑھ کی طرح بھُس ہوکر رہ گئے[21] {۳۱}</p>
<p> ہم نے اِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنادیا ہے ، اب ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟{۳۲}</p>
<p>لوط  ؑ کی قوم نے تنبیہات کو جھٹلایا{۳۳}</p>
<p> اور ہم نے پتھرا ؤ کرنے والی ہوااس پر بھیج دی ، صرف لوطؑ کے گھروالے اُس سے محفوظ رہے ۔ رات کے پچھلے پہر بچا کر نکال دیا۔{۳۴}</p>
<p>اپنے پاس کی نعمت اور فضل و کرم سے یہ جزا دیتے ہیں ہم ہر اُس شخص کو جو شکر گزار ہوتا ہے۔{۳۵}</p>
<p> (لوطؑ نے) اپنی قوم کے لوگوں کو ہماری پکڑ سے خبردار کیا مگر وہ ساری تنبیہات کو مشکوک سمجھ کر باتوں میں اڑاتے رہے۔{۳۶}</p>
<p>پھراُنہوں نے اُسے اپنے مہمانوں کی حفاظت سے باز رکھنے کی کوشش کی ، آخر کار ہم نے انکی آنکھیں مونددیں کہ چکھو اب میرے عذاب اورتنبیہات کا مزہ ۔[22]{۳۷}</p>
<p> صبح سویرے ہی ایک اٹل عذاب نے اُن کو آلیا{۳۸}</p>
<p> چکھو مزہ اب میرے عذاب کا اور میری تنبیہات کا۔ {۳۹}</p>
<p>ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنادیا ہے، پس ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟ {۴۰}</p>
<p> اور آلِ فرعون کے پاس بھی تنبیہات آئی تھیں{۴۱}</p>
<p> مگر انہوں نے ہماری ساری نشانیوں کو جھٹلا دیا۔ آخر کو ہم نے انہیں پکڑا جس طرح کوئی زبردست قدرت والا پکڑا کرتا ہے۔ {۴۲}</p>
<p> کیا تمہارے کُفّار کچھ اُن لوگوں سے بہتر ہیں ؟[23] یا آسمانی کتابوں میں تمہارے لئے کوئی معافی لکھی ہوئی ہے؟ {۴۳}</p>
<p>یا ان لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ ہم ایک مضبوط جتھا ہیں، اپنا بچا ؤ کرلیں گے ؟ {۴۴}</p>
<p>عنقریب یہ جتّھا شکست کھا جائے گا اور یہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگتے نظر آئیں گے۔[24] {۴۵}</p>
<p>بلکہ ان سے نمٹنے کے لیے اصل وعدے کا وقت تو قیامت ہے ، اور وہ بڑی آفت اور زیادہ تلخ ساعت ہے ۔{۴۶}</p>
<p>یہ مجرم لوگ درحقیقت غلط فہمی میں مبتلا ہیں اور ان کی عقل ماری گئی ہے۔{۴۷}</p>
<p>جس روز یہ منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے اُس روز ان سے کہا جائے گا کہ اب چکھو جہنم کی لپٹ کامزہ ۔{۴۸}</p>
<p>  ہم نے ہر چیز ایک تقدیر کے ساتھ پیدا کی ہے [25] {۴۹}</p>
<p>اور ہمارا حکم بس ایک ہی حکم ہوتا ہے اور پلک جھپکاتے وہ عمل میں آجاتا ہے ۔[26]{۵۰}</p>
<p> تم جیسے بہت سوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں ،[27] پھر ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟ {۵۱}</p>
<p>جو کچھ انہوں نے کیا ہے وہ سب دفتر وں میں درج ہے {۵۲}</p>
<p>اور ہر چھوٹی بڑی بات لکھی ہوئی موجود ہے۔[28] {۵۳}</p>
<p> نافرمانی سے پرہیز کرنے والے یقینا  باغوں اور نہروں میں ہوں گے {۵۴}</p>
<p>سچی عزت کی جگہ ، بڑے ذی اقتدار بادشاہ کے قریب۔ {۵۵}</p>

</div><div id="55"><p>سورۃ  الرحمٰن </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔</p>
<p>نہایت مہربان ( اللہ ) نے {۱}</p>
<p>اِس قرآن کی تعلیم دی ہے۔[1]{ ۲}</p>
<p> اُسی نے انسان کو پیدا کیا [2]{۳}</p>
<p> اور اسے بولنا سکھایا۔[3]{۴}</p>
<p> سُورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں [4]{۵}</p>
<p>اور تارے[5] اور درخت سب سجدہ ریز ہیں۔ [6]{۶}</p>
<p> آسمان کو اُس نے بلند کیا اور میزان قائم کردی۔ [7]{۷}</p>
<p> اس کا تقاضایہ ہے کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو {۸}</p>
<p> انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو۔[8] {۹}</p>
<p>  زمین[9] کو اس نے سب مخلوقات کے لیے بنایا[10]{۱۰}</p>
<p> اس میں ہر طرح کے بکثرت لذیذ پھل ہیں۔کھجور کے درخت ہیں جن کے پھل غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں ۔{۱۱}</p>
<p> طرح طرح کے غلے ہیں جن میں بھوسابھی ہوتا ہے اور دانہ بھی[11]{۱۲}</p>
<p> پس اے جنّ وانس ، تم اپنے رَبّ کی کن کن نعمتوں [12]کو جھٹلا ؤ گے ۔[13]{۱۳}</p>
<p>انسان کو اُس نے ٹھیکری جیسے سُوکھے سڑے گارے سے بنایا [14]{۱۴}</p>
<p>اور جنّ کو آگ کی لپٹ سے پیدا کیا۔ [15]{۱۵}</p>
<p>پس اے جنّ وانسؑ ! تم اپنے رَبّ کے کن کن عجائب قدرت [16]کو جھٹلا ؤ گے۔{۱۶}</p>
<p>دونوں مشرق اور دونوں مغرب، سب کا مالک وپروردگاو ہی ہے[17]{۱۷}</p>
<p> پس اے جنّ وانس! تم اپنے رَبّ کی کن کن قدرتوں[18] کو جھٹلا ؤ گے ؟{۱۸}</p>
<p>دو سمندروں کو اس نے چھوڑ دیا کہ باہم مل جائیں {۱۹}</p>
<p>پھر بھی ان کے درمیان ایک پردہ حائل ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے۔[19]{۲۰}</p>
<p> پس اے جنّ وانس! تم اپنے رَبّ کی قدرت کے کن کن کرشموں کو جھٹلا ؤ گے ؟{۲۱}</p>
<p> ان سمندروں سے موتی اور مونگے [20]نکلتے ہیں۔[21]{۲۲}</p>
<p>پس اے جنّ وانس!تم اپنے رَبّ کی قدرت کے کن کن کمالات کو جھٹلا ؤ گے؟[22]{۲۳}</p>
<p>اور یہ جہاز اسی کے ہیں [23]جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح اونچے اُٹھے ہوئے ہیں۔{۲۴}</p>
<p>پس اے جنّ وانس ! تم اپنے رَبّ کے کن کن احسانات کو جھٹلا ؤ گے ؟[24]{۲۵}</p>
<p>ہر چیز[25] جو اس زمین پر ہے فنا ہوجانے والی ہے۔{۲۶}</p>
<p> اور صرف تیرے رَبّ کی جلیل و کریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے {۲۷}</p>
<p> پس اے جِنّ واِنس! تم اپنے رَبّ کے کن کن کمالات کو جھٹلا ؤ گے ؟ [26]{۲۸}</p>
<p> زمین اور آسمانوں میں جو بھی ہیں سب اپنی حاجتیں اسی سے مانگ رہے ہیں۔ہر آن وہ نئی شان میں ہے۔[27] {۲۹}</p>
<p>پس اے جنّ وانس ! تم اپنے رَبّ کی کن کن صفات حمیدہ کو جھٹلا ؤ گے؟[28]{۳۰}</p>
<p>اے زمین کے بوجھو،[29]  عنقریب ، ہم تم سے باز پُرس کرنے کے  لیے فارغ ہوئے جاتے ہیں[30]{۳۱}</p>
<p>( پھر دیکھ لیں گے کہ ) تم اپنے رَبّ کے کن کن احسانات کو جُھٹلاتے ہو؟[31]{۳۲}</p>
<p> اے گروہ جنّ وانس! اگر تم زمین اور آسمانوں کی سرحد وں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ دیکھو ۔ نہیں بھاگ سکتے۔ اس کے لیے بڑا زور چاہیے ۔[32]{۳۳}</p>
<p>اپنے رَبّ کی کن کن قدرتوں کو تم جھٹلا ؤ گے ؟{۳۴}</p>
<p> ( بھاگنے کی کوشش کروگے تو ) تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں [33]چھوڑ دیا جائے گا جس کا تم مقابلہ نہ کرسکوگے{۳۵}</p>
<p>اے جنّ وانس! تم اپنے رَبّ کی کن کن قدرتوں کا انکار کروگے؟{۳۶}</p>
<p>پھر (کیا بنے گی اُس وقت ) جب آسمان پھٹے گا  اور لال چمڑے کی طرح سرخ ہو جائے گا ؟[34]{۳۷}</p>
<p> اے جنّ واِنس! (اُس وقت) تم اپنے رَبّ کی کن کن قدرتوں کو جھٹلا ؤگے؟[35]{۳۸}</p>
<p>اُس روز کسی انسان اور کسی جنّ سے اُس کا گناہ پوچھنے کی ضرورت نہ ہوگی [36]{۳۹}</p>
<p> پھر (دیکھ لیا جائے گا کہ) تم دونوں گروہ اپنے رَبّ کے کن کن احسانات کا انکار کرتے ہو؟[37]{۴۰}</p>
<p>مجرم وہاں اپنے چہروں سے پہچان لئے جائیں گے۔ اور انہیں پیشانی کے بال اور پا ؤں پکڑ پکڑ کر گھسیٹا جائے گا{۴۱}</p>
<p> ( اُس وقت ) تم اپنے رَبّ کی کن کن قدرتوں کو جھٹلا ؤ گے ؟ {۴۲}</p>
<p>( اس وقت کہا جائے گا) یہ وہی جہنم ہے جس کو مجرمین جھوٹ قرار دیا کرتے تھے{۴۳}</p>
<p>اُسی جہنم اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان وہ گردش کرتے رہیں گے۔[38]{ ۴۴}</p>
<p> پھر اپنے رَبّ کی کن کن قدرتوں کو تم جھٹلا ؤ گے ؟[39]{۴۵}</p>
<p>اور ہر اس شخص کے لیے جو اپنے رَبّ کے حضور پیش ہونے کا خوف رکھتا ہو،[40] دو باغ ہیں۔[41]{۴۶}</p>
<p> اپنے رَبّ کے کن کن انعامات کو تم جھٹلا ؤ گے ؟[42]{۴۷}</p>
<p> ہری بھری ڈالیوں سے بھر پور {۴۸}</p>
<p> اپنے رَبّ کے کن کن انعامات کو تم جھٹلا ؤ گے ؟{۴۹}</p>
<p> دونوں باغوں میں دو چشمے رواں{۵۰}</p>
<p> اپنے رَبّ کے کن کن انعامات کو تم جھٹلا ؤ گے ؟{۵۱}</p>
<p> دونوں باغوں میں ہر پھل کی دو قسمیں۔  [43]{۵۲}</p>
<p>اپنے رَبّ کے کن کن انعامات کو تم جھٹلا ؤ گے ؟{۵۳}</p>
<p>جنتی لوگ ایسے فرشوں پر تکیے لگاکے بیٹھیں گے جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے ،[44] اور باغوں کی ڈالیاں پھلوں سے جھکی پڑرہی ہوں گی۔ {۵۴}</p>
<p>اپنے رَبّ کے کن کن انعامات کو تم جھٹلا ؤ گے ؟ {۵۵}</p>
<p>ان نعمتوں کے درمیان شرمیلی نگاہوں والیاں ہوں گی[45] جنہیں اِن جنتیوں سے پہلے کبھی کسی انسان یا جنّ نے نہ چھوا ہوگا[46]  {۵۶}</p>
<p>اپنے رَبّ کے کن کن انعامات کو تم جھٹلا ؤ گے ؟{۵۷}</p>
<p> ایسی خوبصورت جیسے ہیرے اور موتی {۵۸}</p>
<p> اپنے رَبّ کے کن کن انعامات کو تم جھٹلا ؤ گے ؟ {۵۹}</p>
<p>نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔[47] {۶۰}</p>
<p> پھر اے جنّ واِنس ! اپنے رَبّ کے کن کن اوصاف حمیدہ کا تم انکا رکرو گے؟[48]{۶۱}</p>
<p> اوراُن دوباغوں کے علاوہ دو باغ اور ہوں گے۔[49]{ ۶۲}</p>
<p>اپنے رَبّ کے کن کن انعامات کو تم جھٹلا ؤ گے ؟ {۶۳}</p>
<p>گھنے سر سبز وشاداب باغ۔[50] {۶۴}</p>
<p>اپنے رَبّ کے کن کن انعامات کو تم جھٹلا ؤ گے؟ {۶۵}</p>
<p>دونوں باغوں میں دو چشمے فواروں کی طرح اُبلتے ہوئے۔{۶۶}</p>
<p>اپنے رَبّ کے کن کن انعامات کو تم جھٹلا ؤ گے ؟{۶۷}</p>
<p> اُن میں بکثرت پھل اور کھجوریں اور انار (ہوں گے) ۔{۶۸}</p>
<p> اپنے رَبّ کے کن کن انعامات کو تم جھٹلا ؤ گے؟ {۶۹}</p>
<p>ان نعمتوں کے درمیان خوب سیرت اور خوبصورت بیویاں (ہوں گی) ۔{۷۰}</p>
<p> اپنے رَبّ کے کن کن انعامات کو تم جھٹلا ؤ گے {۷۱}</p>
<p> خیموں میں ٹھہرائی ہوئی حوریں(ہوں گی)۔ [51]  {۷۲}</p>
<p> اپنے رَبّ کے کن کن انعامات کو تم جھٹلا ؤ گے ؟{۷۳}</p>
<p>ان جنتیوں سے پہلے کبھی کسی انسان یا جن نے اُن کو نہ چھوا ہوگا۔{۷۴}</p>
<p>اپنے رَبّ کے کن کن انعامات کو تم جھٹلا ؤ گے ؟ {۷۵}</p>
<p>وہ جنتی سبز قالینوں اور نفیس ونادر فرشوں [52]پر تکیے لگا کے بیٹھیں گے ۔{۷۶}</p>
<p> اپنے رَبّ کے کن کن انعامات کو تم جھٹلا ؤ گے ؟{۷۷}</p>
<p>بڑی برکت والا ہے تیرے ربّ ِجلیل و کریم کا نام ۔{۷۸}</p>

</div><div id="56"><p>سورۃ  الواقعۃ </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>جب وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا {۱}</p>
<p> توکوئی اُس کے وقوع کو جھٹلانے والا نہ ہوگا۔[1]{۲}</p>
<p>وہ تہ وبالاکر دینے والی آفت ہوگی[2] {۳}</p>
<p>زمین اُس وقت یکبارگی ہلا ڈالی جائے گی [3]{۴}</p>
<p>اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ کردئے جائیں گے {۵}</p>
<p>کہ پراگندہ غباربن کررہ جائیں گے۔{۶}</p>
<p> تم لوگ اس وقت تین گروہوں میں تقسیم ہوجا ؤ گے ۔[4]{۷}</p>
<p>دائیں بازو والے ،[5] سودائیں بازو والوں ( کی خوش نصیبی) کا کیا کہنا۔ {۸}</p>
<p> اور بائیں بازو والے [6]، توبائیں بازو والوں ( کی بدنصیبی ) کا کیا ٹھکانا۔ {۹}</p>
<p> اور آگے والے تو پھر آگے والے ہی ہیں۔ [7]{۱۰}</p>
<p>وہی تو مقرب لوگ ہیں{۱۱}</p>
<p> نعمت بھری جنتوں میں رہیں گے۔ { ۱۲}</p>
<p> اگلوں میں سے بہت ہوں گے {۱۳}</p>
<p>اور پچھلوں میں سے کم [8]{۱۴}</p>
<p> مُرصَّع تختوں پر{۱۵}</p>
<p> تکیے لگائے آمنے سامنے بیٹھیں گے۔{۱۶}</p>
<p> اُن کی مجلسوں میں اَبدی لڑکے [9] دوڑتے پھرتے ہوں گے {۱۷}</p>
<p>جاری چشمہ سے ستھری شراب کے (کنٹر) جام و ساغر اور آبخورے لیے (پھریں گے) {۱۸}</p>
<p>جسے پی کر نہ اُن کا سرچکر ائے گانہ اُن کی عقل میں فتور آئے گا۔[10]{۱۹}</p>
<p> اور وہ ان کے سامنے طرح طرح کے لذیذ پھل پیش کریں گے کہ جسے چاہیں چُن لیں {۲۰}</p>
<p>اور پرندوں کے گوشت پیش کریں گے کہ جس پرندے کا چاہیں استعمال کریں۔[11]{۲۱}</p>
<p> اور ان کے لیے خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی{۲۲}</p>
<p> ایسی حسین جیسے چُھپا کر رکھے ہوئے موتی۔[12]{۲۳}</p>
<p>یہ سب کچھ اُن اعمال کی جزا کے طور پر انہیں ملے گا جو وہ دنیا میں کرتے رہے تھے۔{ ۲۴}</p>
<p>وہاں وہ کوئی بے ہودہ کلام یا گناہ کی بات نہ سنیں گے[13]{۲۵}</p>
<p>جو بات بھی ہوگی ٹھیک ٹھیک ہوگی۔[14]{۲۶}</p>
<p>اور دائیں بازو والے ، دائیں بازووالوں( کی خوش نصیبی) کاکیا کہنا{۲۷}</p>
<p> وہ بے خار بیریوںمیں ہوں گے[15] {۲۸}</p>
<p>اور تہ بہ تہ چڑھے ہوئے کیلوں{۲۹}</p>
<p>اور دور تک پھیلی ہوئی چھا ؤں{۳۰}</p>
<p>اور ہردم رواں پانی {۳۱}</p>
<p>(اور) بہ کثرت پھلوں [16]میں{۳۲}</p>
<p>جو نہ کبھی ختم ہونے والے ہیں بلکہ بے روک ٹوک ملنے والے ہیں {۳۳}</p>
<p>اور اُونچی نشست گاہوں (میں ہوں گے)۔ {۳۴}</p>
<p> اُن کی بیویوں کو ہم خاص طور پر نئے سرے سے پیدا کریں گے {۳۵}</p>
<p>اور اُنہیں باکرہ بنا دیں گے [17]{۳۶}</p>
<p> اپنے شوہروں کی عاشق[18] اور عمر میں ہم سن۔[19]{۳۷}</p>
<p>یہ کچھ دائیں بازو والوں کے لیے ہے۔{۳۸}</p>
<p>  وہ اگلوں میں سے بھی بہت ہوں گے{۳۹}</p>
<p>اور پچھلوں میں سے بھی بہت۔ {۴۰}</p>
<p>  اور بائیں بازو والے ، بائیں بازو والوں ( کی بدنصیبی ) کا کیا پوچھنا {۴۱}</p>
<p> وہ لُو کی لپٹ اور کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے {۴۲}</p>
<p>اور کالے دھوئیں کے سائے (میں ہوں گے){۴۳}</p>
<p>جو نہ ٹھنڈ اہوگا نہ آرام دہ {۴۴}</p>
<p>یہ وہ لوگ ہوں گے جو اس انجام کو پہنچنے سے پہلے خوشحال تھے {۴۵}</p>
<p>اور گناہ عظیم پراصرار کرتے تھے ۔[20]{۴۶}</p>
<p>اور وہ کہتے تھے ’’کیا جب ہم مرکر خاک ہوجائیں گے اور ہڈیوں کا پنجررہ جائیں گے تو پھر اٹھاکھڑے کئے جائیں گے ؟ {۴۷}</p>
<p>اور کیا ہمارے باپ دادا بھی اُٹھائے جائیں گے جو پہلے گزر چکے ہیں؟ ‘‘{۴۸}</p>
<p> اے نبی  ؐ! ان لوگوں سے کہو، یقینا اگلے اور پچھلے {۴۹}</p>
<p>سب ایک دن ضرور جمع کئے جانے والے ہیں جس کا وقت مقرر کیا جاچکا ہے۔ {۵۰}</p>
<p> پھر اے گمراہواور جھٹلانے والو!{۵۱}</p>
<p> تم زَقّوم کے درخت [21]کی غذا کھانے والے ہو{ ۵۲}</p>
<p>اُسی سے تم پیٹ بھرو گے{ ۵۳}</p>
<p>اور اُوپر سے کھولتا ہوا پانی پیو گے{ ۵۴}</p>
<p>تَونس لگے ہوئے اونٹ کی طرح (پیوگے){۵۵}</p>
<p> یہ ہے ( ان بائیں بازو والوں ) کی ضیافت کا سامان روز جزا میں ۔[22]{۵۶}</p>
<p>ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے پھر کیوں تصدیق نہیں کرتے؟[23] {۵۷}</p>
<p>کبھی تم نے غور کیا ،یہ نطفہ جو تم ڈالتے ہو {۵۸}</p>
<p>اس سے بچہ تم بناتے ہو یا اُس کے بنانے والے ہم ہیں ؟[24]{۵۹}</p>
<p>ہم نے تمہارے درمیان موت کو تقسیم کیا ہے ، [25]اور ہم اس سے عاجز نہیں ہیں{۶۰}</p>
<p> کہ تمہاری شکلیں بدل دیں اور کسی ایسی شکل میں تمہیں پیدا کردیں جس کو تم نہیں جانتے ۔[26]{۶۱}</p>
<p> اپنی پہلی پیدائش کو تو تم جانتے ہی ہو ،پھر کیوں سبق نہیں لیتے ؟[27]{۶۲}</p>
<p>کبھی تم نے سوچا ، یہ بیج جو تم بوتے ہو { ۶۳}</p>
<p>اِن سے کھیتیاں تم اُگاتے ہو یا اُن کے اُگانے والے ہم ہیں ؟[28]{۶۴}</p>
<p>ہم چاہیں تو ان کھیتیوں کو بُھس بناکر رکھ دیں اور تم طرح طرح کی باتیں بناتے رہ جا ؤ {۶۵}</p>
<p> کہ ہم پر تو اُلٹی چَٹی(تاوان)پڑگئی {۶۶}</p>
<p>بلکہ ہمارے تو نصیب ہی پھوٹے ہوئے ہیں۔{۶۷}</p>
<p>کبھی تم نے آنکھیں کھول کردیکھا ، یہ پانی جو تم پیتے ہو{۶۸}</p>
<p> اسے تم نے بادل سے برسایا ہے یا اس کے برسانے والے ہم ہیں ؟ [29]{۶۹}</p>
<p>ہم چاہیں تو اسے سخت کھاری بناکر رکھ دیں ، [30]پھرکیوں تم شکر گزار نہیں ہوتے ؟ [31]{۷۰}</p>
<p>کبھی تم نے خیال کیا ، یہ آگ جو تم سُلگاتے ہو {۷۱}</p>
<p> اس کا درخت [32]تم نے پیدا کیا ہے ، یا اس کے پیدا کرنے والے ہم ہیں؟۵ { ۲ ۷}</p>
<p>ہم نے اُس کو یاد دہانی کا ذریعہ [33]اور حاجت مندوں کے لیے [34]سامان زیست بنایا ہے { ۷۳}</p>
<p>پس اے نبی  ؐ! اپنے رَبّ عظیم کے نام کی تسبیح کرو۔[35] {۷۴}</p>
<p>پس [36]نہیں میں قسم کھاتاہوں تاروں کے مواقع کی {۷۵}</p>
<p>اور اگر تم سمجھو تو یہ بہت بڑی قسم ہے {۷۶}</p>
<p> کہ یہ ایک بلند پا یہ قرآن ہے[37]{۷۷}</p>
<p>ایک محفوظ کتاب میں ثبت[38]{۷۸}</p>
<p> جسے مطہرین کے سوا کوئی چُھو نہیں سکتا۔[39] {۷۹}</p>
<p>یہ ربَّ العالمین کا نازل کردہ ہے {۸۰}</p>
<p> پھر کیا اس کلام کے ساتھ تم بے اعتنائی برتتے ہو[40] {۸۱}</p>
<p>اور اس نعمت میں اپنا حصہ تم نے یہ رکھا ہے کہ اسے جھٹلاتے ہو؟[41]{۸۲}</p>
<p> پھر کیوں نہیں ( تم روح کو پھیر لیتے )،جب مرنے والوں کی جان حلق تک پہنچ چکی ہوتی ہے {۸۳}</p>
<p>اور تم اس وقت آنکھوں دیکھ رہے ہوتے ہو کہ وہ مررہاہے { ۸۴}</p>
<p>اور اُس وقت تمہاری بہ نسبت ہم اس کے قریب ہوتے ہیں مگر تم کو نظر نہیں آتے ،{۸۵}</p>
<p>اگر تم کسی کے محکوم نہیں ہو ؟{۸۶}</p>
<p> توپھر کیوں نہیں تم واپس لے آتے (اس نکلتی ہوئی جان کو) اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو۔{۸۷}</p>
<p> پھر وہ مرنے والا اگر مقربین میں سے ہو{۸۸}</p>
<p> تواس کے لیے راحت اور عمدہ رزق اور نعمت بھری جنت ہے{۸۹}</p>
<p>اور اگر وہ اصحا بِ یمین میں سے ہو{۹۰}</p>
<p>تو اس کا استقبال یوں ہوتا ہے کہ سلام ہے تجھے ، تو اصحاب الیمین میں سے ہے ۔{۹۱}</p>
<p> اور اگر وہ جُھٹلانے والے گمراہ لوگوں میں سے ہو{۹۲}</p>
<p> تواس کی تواضع کے لیے کھولتا ہوا پانی ہے {۹۳}</p>
<p> اور جہنم میں جھونکا جانا ۔{۹۴}</p>
<p> یہ سب کچھ قطعی حق ہے {۹۵}</p>
<p> پس اے نبی  ؐ! اپنے ربِّ عظیم کے نام کی تسبیح کرو ۔[42]{۹۶}</p>

</div><div id="57"><p>سورۃ  الحدید </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ </p>
<p>اللہ کی تسبیح کی ہے ہراُس چیز نے جو زمین اور آسمانوں میں ہے[1] ، اور وہی زبردست اور دانا ہے۔[2]{۱}</p>
<p> زمین اور آسمانوں کی سلطنت کا مالک وہی ہے ، زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے ، اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ { ۲}</p>
<p> وہی اول بھی ہے اور آخر بھی ، اور ظاہر بھی ہے اور مخفی بھی،[3]  اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔{ ۳}</p>
<p> وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور پھر عرش پر جلوہ فرماہوا ۔[4] اُس کے علم میں ہے جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اُس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اُتر تا ہے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے[5] وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو۔[6]جو کام بھی تم کرتے ہو اُسے وہ دیکھ رہا ہے۔{ ۴}</p>
<p> وہی زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے اور تمام معاملات فیصلے کے لیے اُسی کی طرف رجوع کئے جاتے ہیں {۵}</p>
<p>وہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے ، اور دلوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے۔ {۶}</p>
<p>ایمان لا ؤ اللہ اور اس کے رسول  پر[7] اور خرچ کرو[8] ان چیزوں میں سے جن پر اس نے تم کو خلیفہ بنایا ہے [9]جو لوگ تم میں سے ایمان لائیں گے اور مال خرچ کریں گے[10] ان کے لیے بڑا اجر ہے۔{۷}</p>
<p> تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالاں کہ رسول  ؐتمہیں اپنے رَبّ پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہے[11]اور وہ تم سے عہد لے چکا ہے [12] اگر تم واقعی  ماننے والے ہو ۔{۸}</p>
<p> وہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندے پر صاف صاف آیتیں نازل کررہا ہے تا کہ تمہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے  اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تم پر نہایت شفیق اور مہربان ہے ۔{۹}</p>
<p> آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالاں کہ زمین اور آسمانوں کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے۔  [13]تم میں سے جو لوگ فتح کے بعد خرچ اور جہاد کریں گے وہ کبھی اُن لوگوں کے برابر نہیں ہوسکتے جنہوں نے فتح سے پہلے خرچ اور جہاد کیا ہے ۔ ان کا درجہ بعد میں خرچ اور جہاد کرنے والوں سے بڑھ کرہے اگر چہ اللہ نے دونوں ہی سے اچھے وعدے فرمائے ہیں۔[14] جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔[15] {۱۰}</p>
<p>کون ہے جو اللہ کو قرض دے ؟ اچھا قرض ، تا کہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر واپس دے اور اُس کے لیے بہترین اجر ہے۔[16] {۱۱}</p>
<p> اُس دن جبکہ تم مومن مردوں اور عورتوں کو دیکھو گے کہ اُن کانوراُن کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا[17]  ( ان سے کہا جائے گا کہ ) ’’آج بشارت ہے تمہارے لئے ‘‘ ۔جنتیں ہوں گی جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے ، یہی ہے بڑی کامیابی۔{ ۱۲}</p>
<p>اُس روز منافق مردوں اور عورتوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ مومنوں سے کہیں گے ’’ ذرا ہماری طرف دیکھو تا کہ ہم تمہارے نور سے کچھ فائدہ اٹھائیں ‘‘۔[18]مگر اُن سے کہا  جائے گا ’’ پیچھے ہٹ جا ؤ ، اپنا نور کہیں اور تلاش کرو ‘‘ ۔ پھرا ن کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا ۔ اُس دروازے کے اندر رحمت ہوگی اور باہر عذاب[19] {۱۳}</p>
<p>وہ مومنوں سے پکار پکار کرکہیں گے ’’کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟‘‘[20] مومن جواب دیں گے ’’ہاں ، مگر تم نے اپنے آپ کو خود فتنے میں ڈالا ،[21] موقع پرستی کی ،[22] شک میں پڑے رہے ، [23]اور جُھوٹی توقعات تمہیں فریب دیتی رہیں ،[24] یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آگیا ، اور آخر وقت تک وہ بڑا دھوکے باز [25] ( شیطان ) تمہیں اللہ کے معاملے میں دھوکا دیتا رہا{۱۴}</p>
<p> لہٰذا آج نہ تم سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ ان لوگوں سے جنہوں نے کُھلا کُھلا کُفر کیا تھا۔[26] تمہارا ٹھکانا جہنّم ہے ، وہی تمہاری خبر گیری کرنے والی ہے[27] اور یہ بدترین انجام ہے ‘‘۔ {۱۵}</p>
<p>کیا ایمان لانے والوں  کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اُ ن کے دل اللہ کے ذکر سے پگھلیں اور اُس کے ناز ل کردہ حق کے آگے جھکیں [28]اور وہ اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں پہلے کتاب دی گئی تھی ، پھر ایک لمبی مدّت ان پر گزرگئی تو اُن کے دل سخت ہوگئے اور آج ان میں سے اکثر فاسق بنے ہوئے ہیں ؟ [29]{۱۶}</p>
<p> خوب جان لو کہ اللہ زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے، ہم نے نشانیاں تم کو صاف صاف دکھادی ہیں ، شاید کہ تم عقل سے کام لو۔[30]{۱۷}</p>
<p> مردوں اور عورتوں میں سے جولوگ صدقات[31]  دینے والے ہیں اور جنہوں نے اللہ کو قرضِ حَسن دیا ہے، اُن کو یقینا کئی گنابڑھا کردیا جائیگا اور اُن کے لیے بہترین اجر ہے۔ {۱۸}</p>
<p> اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں[32] وہی اپنے رَبّ کے نزدیک صدیق [33] اور شہید  [34]ہیں ، اُن کے لیے اُن کا اجر اور اُن کا نور ہے[35] اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہے وہ دوزخی ہیں۔{۱۹}</p>
<p>خوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتا نا اور مال واولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش ہوگئی تو اُس سے پیدا ہونے والی نباتات کو دیکھ کر کاشت کا ر خوش ہوگئے۔ پھر وہی کھیتی پک جاتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہوگئی ۔پھر وہ بُھس بن کررہ جاتی ہے۔ اس کے برعکس آخرت وہ جگہ ہے جہاں سخت عذاب ہے اور اللہ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی ہے۔ دنیا کی زندگی ایک دھوکے کی ٹٹی کے سوا کچھ نہیں۔ [36]{۲۰}</p>
<p> دوڑ و اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو[37] اپنے رَبّ کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی  ہے ،[38] جو مہیا کی گئی ہے اُن لوگوں کے لیے جو اللہ اور اس کے رسولوںؑ پر ایمان لائے ہوں ۔ یہ اللہ کا فضل ہے ، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے،  اور اللہ بڑے فضل والا ہے ۔{۲۱}</p>
<p> کوئی مصیبت ایسی نہیں ہے جو زمین میں یا تمہارے اپنے نفس پر نازل ہوتی ہو اور ہم نے اس کو پیدا کرنے سے پہلے[39] ایک کتاب ( یعنی نوشتۂ تقدیر ) میں لکھ نہ رکھاہو ۔[40] ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان کام ہے ۔[41]{۲۲}</p>
<p>  (یہ سب کچھ اس لیے ہے ) تا کہ جو کچھ بھی نقصان تمہیں ہو اس پر تم دل شکستہ نہ ہو اور جو کچھ اللہ تمہیں عطافرمائے اس پر پھُول نہ جا ؤ۔[42]اللہ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے ہیں اور فخر جتاتے ہیں {۲۳}</p>
<p> جو خود بخل کرتے ہیں اور دُوسروں کو بُخل کرنے پر اکساتے ہیں۔[43] اب اگر کوئی روگردانی کرتا ہے تو اللہ بے نیاز اور ستودہ صفات ہے۔[44]{۲۴}</p>
<p>ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا ، اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تا کہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔[45] اور لوہا اُتارا جس میں بڑا زور ہے اور لوگوں کے لیے منافع ہیں [46] یہ اس لیے کیا گیا ہے کہ اللہ کو معلوم ہوجائے کہ کون اُس کودیکھے بغیراُس کی اور اُس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے۔ یقینا اللہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے۔[47]{۲۵}</p>
<p>ہم [48]نے نوحؑ اور ابراہیم ؑ کو بھیجا اور ان دونوں کی نسل میں نبوت اور کتاب رکھ دی ۔ [49]پھر اُن کی اولاد میں سے کسی نے ہدایت اختیار کی اور بہت سے فاسق ہوگئے۔[50]{۲۶}</p>
<p> اُن کے بعد ہم نے پے درپے اپنے رسو ل بھیجے ، اور ان سب کے بعد عیسیٰؑ بن مریم کو مبعوث کیا اور اس کو انجیل عطا کی ، اور جن لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کی ان کے دلوں میں ہم نے ترس اور رحم ڈال دیا،[51] اور رہبانیت [52]انہوں نے خود ایجاد کرلی ، ہم نے اُسے اُن پر فرض نہیں کیا تھا ، مگر اللہ کی خوشنودی کی طلب میں انہوں نے آپ ہی یہ بدعت نکالی [53]اور پھر اس کی پابندی کرنے کا جو حق تھا اسے ادا نہ کیا۔[54] ان میں سے جو لوگ ایمان لائے ہوئے تھے ان کا اجرہم نے ان کو عطا کیا ،مگر ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں۔ {۲۷}</p>
<p> اے لوگوجو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول ( ؐ ) پر ایمان لا ؤ ،[55] اللہ تمہیں اپنی رحمت کا دُہراحصہ عطا فرمائے گا اور تمہیں وہ نور بخشے گا جس کی روشنی میں تم چلو گے ،[56] اور تمہارے قصور معاف کردے گا ،[57] اللہ بڑا معاف کرنے والا اور مہربان ہے۔{۲۸}</p>
<p> (تم کو یہ روش اختیار کرنی چاہئے ) تا کہ اہل کتاب کو معلوم ہوجائے کہ اللہ کے فضل پر ان کا کوئی اجارہ نہیں ہے ۔اور یہ کہ اللہ کا فضل اس کے اپنے ہی ہاتھ میں ہے ، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے ، اور وہ بڑے فضل والا ہے۔{۲۹}</p>

</div><div id="58"><p>سورۃ  المجادلۃ </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>اللہ  نے سُن لی[1] اُس عورت کی بات جو اپنے شوہر کے معاملے میں تم سے تکرار کررہی ہے اور اللہ سے فریاد کئے جاتی ہے ۔ اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے ،[2] وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔{۱}</p>
<p> تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں [3]ان کی بیویاں ان کی مائیں نہیں ہیں ، ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے ۔ [4]یہ لوگ ایک سخت ناپسندیدہ اور جھوٹی بات کہتے ہیں[5] اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے ۔[6]{۲}</p>
<p>جو[7] لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں پھر اپنی اُس بات سے رجوع کریں جو انہوں نے کہی تھی،[8] توقبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں ، ایک غلام آزاد کرنا ہوگا ۔ اس سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے ، [9]اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ [10]{۳}</p>
<p>اور جو شخص غلام نہ پائے وہ دو مہینے کے پے درپے روزے رکھے قبل اِس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں۔ اور جو اس پر بھی قادر نہ ہو وہ ساٹھ(۶۰) مسکینوں کو کھا نا کھلائے۔  [11]یہ حکم اس لیے دیا جارہا ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول  ؐپر ایمان لا ؤ۔ [12]یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں ، اور کافروں کے لیے درد ناک سزا ہے ۔[13]{۴}</p>
<p>جو لوگ اللہ اور اس کے رسول  ؐ کی مخالفت کرتے ہیں[14] وہ اسی طرح ذلیل و خوار کردیئے جائیں گے جس طرح اِن سے پہلے کے لوگ ذلیل و خوار کئے جاچکے ہیں۔ [15]ہم نے صاف صاف آیات نازل کردی ہیں ، اور کافروں کے لیے ذلّت کا عذاب ہے ۔[16]{۵}</p>
<p>اُس دن ( یہ ذلّت کا عذاب ہونا ہے) جب اللہ ان سب کو پھر سے زندہ کرکے اٹھائے گا اور انہیں بتا دے گا کہ کیا کچھ کرکے آئے ہیں۔ وہ بھول گئے ہیں مگر اللہ نے ان کا سب کیا دھراگِن گِن کر محفوظ کررکھا ہے[17] اور اللہ ایک ایک چیز پر شاہد ہے۔{۶}</p>
<p> کیا[18] تم کو خبر نہیں ہے کہ زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا اللہ کو علم ہے ؟کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ تین آدمیوں میں کوئی سرگوشی ہو اور ان کے درمیان چوتھا اللہ نہ ہو ، یا پانچ آدمیوں میں سرگوشی ہو اور ان کے اندر چھٹا اللہ نہ ہو۔ [19]خفیہ بات کرنے والے خواہ اِس سے کم ہوں یا زیادہ ، جہاں کہیں بھی وہ ہوں ، اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔[20] پھر قیامت کے روز وہ اُن کو بتادے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے ۔ اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ {۷}</p>
<p> کیا تم نے دیکھا نہیں اُن لوگوں کو جنہیں سرگوشیاں کرنے سے منع کردیا گیا تھا پھر بھی وہ وہی حرکت کئے جاتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا ؟[21] یہ لوگ چُھپ چُھپ کر آپس میں گناہ اور زیادتی اور رسول  ؐکی نافرمانی کی باتیں کرتے ہیںاور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو تمہیں اُس طریقے سے سلام کرتے ہیں جس طرح اللہ نے تم پر سلام نہیں کیا[22] ہے، اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ہماری اِن باتوں پر اللہ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا ؟[23] اُن کے لیے جہنّم ہی کا فی ہے۔ اُسی کا وہ ایندھن بنیں گے ۔ بڑا ہی بُرا انجام ہے اُن کا ۔{۸}</p>
<p>اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جب تم آپس میں پوشیدہ  بات کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسُول  ؐ کی نافرمانی کی باتیں نہیں ، بلکہ نیکی اور تقویٰ کی باتیں کرو اُس اللہ سے ڈرتے رہو جس کے حضور تمہیں حشر میں پیش ہونا ہے۔[24] {۹}</p>
<p>کانا پھوسی تو ایک شیطانی کام ہے ، اور وہ اِس لئے کی جاتی ہے کہ ایمان لانے والے لوگ اُس سے رنجیدہ ہوں ، حالانکہ اللہ کے اذن کے بغیر وہ اُنہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتی ، اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔[25] {۱۰}</p>
<p>اے لوگو جو ایمان لائے ہو!جب تم سے کہا جائے کہ اپنی مجلسوں میں کشادگی پیدا کرو تو جگہ کشادہ کردیا کرو ،[26] اللہ تمہیں کشادگی بخشے گا ۔  اور جب تم سے کہا جائے کہ اُٹھ جا ؤ تو اُٹھ جایا کرو [27] تم میں سے جو لوگ ایمان رکھنے والے ہیں اور جن کو علم بخشا گیا ہے ، اللہ ان کو بلند درجے عطا فرمائے گا ،[28] اور جوکچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے۔{۱۱}</p>
<p>اے لوگو جو ایمان لائے ہو!جب تم رسول  ؐسے تخلیہ میں بات کرو ،تو بات کرنے سے پہلے کچھ صدقہ دو،[29] یہ تمہارے لئے بہتراور پاکیزہ تر ہے ، البتہ اگر تم صدقہ دینے کے لیے کچھ نہ پا ؤ تو اللہ غفور ورحیم ہے۔ { ۱۲}</p>
<p> کیا تم ڈرگئے اِس بات سے کہ تخلیہ میں گفتگو کرنے سے پہلے تمہیں صدقات دینے ہوں گے ؟ اچھا ، اگر تم ایسا نہ کرو اور اللہ نے تم کو اس سے معاف کردیا ۔ تو نماز قائم کرتے رہو ، زکوٰۃ دیتے رہو۔ اور اللہ اور اس کے رسول  ؐکی اطاعت کرتے رہو ۔تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔[30] {۱۳}</p>
<p>کیا تم نے دیکھا اُن لوگوں کو جنہوں نے دوست بنایا ہے ایک ایسے گروہ کو جو اللہ کا مغضوب ہے ؟[31] وہ نہ تمہارے ہیں نہ اُن کے ، [32]اور وہ جان بوجھ کر جھوٹی بات پر قسمیں کھاتے ہیں۔[33]{۱۴}</p>
<p>اللہ نے اُن کے لیے سخت عذاب مہیّا کررکھا ہے ، بڑے ہی بُرے کرتُوت ہیں جو وہ کررہے ہیں۔{۱۵}</p>
<p> اُنہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنارکھا ہے جس کی آڑ میں وہ اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں ،[34] اس پر اُن کے لیے ذلّت کا عذاب ہے۔{۱۶}</p>
<p> اللہ سے بچانے کے لیے نہ اُن کے مال کچھ کام آئیں گے نہ اُن کی اولاد ۔ وہ دوزخ کے یار ہیں ، اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔{۱۷}</p>
<p> جس روز اللہ ان سب کو اٹھائے گا ، وہ اُس کے سامنے بھی اُسی طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے کھاتے ہیں[35] اور اپنے نزدیک یہ سمجھیں گے کہ اِس سے ان کا کچھ کام بن جائے گا ۔ خوب جان لو ، وہ پرلے درجے کے جھوٹے ہیں۔ {۱۸}</p>
<p> شیطان اُن پر مسلّط ہوچکا ہے اور اس نے اللہ کی یاد اُن کے دل سے بھلادی ہے۔ وہ شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں ۔ خبردار رہو ، شیطان کی پارٹی والے ہی خسارے میں رہنے والے ہیں۔{۱۹}</p>
<p>یقینا ذلیل ترین مخلوقات میں سے ہیں وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسُول  ؐ  کا مقابلہ کرتے ہیں۔{۲۰}</p>
<p>اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول  ؐہی غالب ہوکررہیں گے۔[36] فی الواقع اللہ زبردست اور زورآور ہے۔{۲۱}</p>
<p>تم کبھی یہ نہ پا ؤ گے کہ جو لوگ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں وہ اُن لوگوں سے محبت کرتے ہوں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول  ؐکی مخالفت کی ہے ، خواہ وہ ان کے باپ ہوں ، یا ان کے بیٹے ، یا ان کے بھائی یا اُن کے اہلِ خاندان ۔[37] یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثَبْت کردیا ہے اور اپنی طرف سے ایک روح عطا کرکے ان کو قوت بخشی ہے۔ وہ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ اِن میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ اللہ اُن سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ وہ(حزب اللہ) اللہ کی جماعت کے لوگ ہیں۔خبردار رہو! (حزب اللہ)اللہ کی پارٹی (جماعت) والے ہی فلاح پانے والے ہیں۔{ ۲۲}</p>

</div><div id="59"><p>سورۃ  الحشر </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔</p>
<p>اللہ ہی کی تسبیح کی ہے ہر اُس چیز نے جو آسمانوں اور زمین میں ہے ، اور وہی غالب اور حکیم ہے[1]{۱}</p>
<p> وہی ہے جس نے اہلِ کتاب کافروں کو پہلے ہی ہلّے میں [2]اُن کے گھروں سے نکال باہر کیا۔  [3]تمہیں ہر گزیہ گمان نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے ، اور وہ بھی یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ اُن کی گڑھیاں انہیں اللہ سے بچالیں گی۔ [4]مگر اللہ ایسے رُخ سے اُن پر آیا جدھر ان کا خیال بھی نہ گیا تھا۔[5]  اس نے اِن کے دلوں میں رُعب ڈال دیا ۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خود اپنے ہاتھوں سے بھی اپنے گھروں کو برباد کررہے تھے اور مومنوں کے ہاتھوں بھی برباد کروا رہے تھے ۔[6] پس عبرت حاصل کرو،اے دیدہ ٔبینا رکھنے والو! [7]{۲}</p>
<p>اگر اللہ نے اُن کے حق میں جَلاوطنی نہ لکھ دی ہوتی تو دنیا ہی میں وہ انہیں عذاب دے ڈالتا۔[8]  اور آخرت میں تو ان کے لیے دوزخ کا عذاب ہے ہی۔{۳}</p>
<p> یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول  ؐکا مقابلہ کیا اور جو بھی اللہ کا مقابلہ کرے اللہ اس کو سزادینے میں بہت سخت ہے۔{ ۴}</p>
<p>تم لوگوں نے کھجوروں کے جو درخت کاٹے یا جن کو اپنی جڑوں پرکھڑا رہنے دیا، یہ سب اللہ ہی کے اِذن سے تھا۔[9] اور (اللہ نے یہ اِذن اس لیے دیا) تا کہ فاسقوں کو ذلیل و خوار کرے۔ [10]{۵}</p>
<p>اور جو مال اللہ نے اُن کے قبضے سے نکال کر اپنے رسُول  ؐ کی طرف پلٹا دیے،[11] وہ ایسے مال نہیں ہیں جن پر تم نے اپنے گھوڑے اور اونٹ دوڑائے ہوں ، بلکہ اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے تسلط عطا فرمادیتا ہے ، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ [12] {۶}</p>
<p>جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ بستیوں کے لوگوں سے اپنے رسُول  ؐ  کی طرف پلٹا دے وہ اللہ اور رسول  ؐاور رشتہ داروں اور یتامیٰـ اور مساکین اور مسافروں کے لیے ہے[13] تاکہ وہ تمہارے مالداروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے۔[14] جو کچھ رسُول  ؐ تمہیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دے اس سے رُک جا ؤ۔[15] اللہ سے ڈرو ،اللہ سخت سزادینے والا ہے۔ {۷}</p>
<p> (نیزوہ مال ) اُن غریب مہاجرین کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور جائدادوں سے نکال باہر کئے گئے ہیں۔[16] یہ لوگ اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی چاہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول  ؐکی حمایت پر کمر بستہ رہتے ہیں۔ یہی راست باز لوگ ہیں۔{۸}</p>
<p> (اور وہ اُن لوگوں کے لیے بھی ہے ) جو اِن مہاجرین کی آمد سے پہلے ہی ایمان لاکر دارالہجرت میں مقیم تھے۔[17]  یہ اُن لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کرکے ان کے پاس آئے ہیں اور جو کچھ بھی اُن کو دے دیا جائے اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں۔[18] حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے دل کی تنگی سے بچالئے گئے ۔وہی فلاح پانے والے ہیں۔[19]{۹}</p>
<p> (اور وہ اُن لوگوں کے لیے بھی ہے ) جو اِن اگلوں کے بعد آئے ہیں [20] جو کہتے ہیں کہ ’’ اے ہمارے رب! ہمیں اور ہمارے اُن سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں اہلِ ایمان کے لیے کوئی بغض نہ رکھ ، اے ہمارے رب ! تو بڑا مہربان اور رحیم ہے ۔‘‘[21]{۱۰}</p>
<p>تم [22]نے  دیکھا نہیں اُن لوگوں کو جنہوں نے منافقت کی روش اختیار کی ہے ؟ یہ اپنے کافر اہل ِکتاب بھائیوں سے کہتے ہیں ’’ اگر تمہیں نکالا گیا تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے ، اور تمہارے معاملہ میں ہم کسی کی بات ہر گز نہ مانیں گے ،اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے ۔ ‘‘ مگر اللہ گواہ ہے کہ یہ لوگ قطعی جُھوٹے ہیں۔{۱۱}</p>
<p> اگر وہ نکالے گئے تو یہ اُ ن کے ساتھ ہر گز نہ نکلیں گے ، اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ ان کی ہر گز مددنہ کریں گے ، اور اگر یہ ان کی مدد کریں بھی تو پیٹھ پھیر جائیں گے اور پھر کہیں سے کوئی مدد نہ پائیں گے۔{ ۱۲}</p>
<p>ان کے دلوں میں اللہ سے بڑھ کر تمہارا خوف ہے ،[23] اس لیے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ بوجھ نہیں رکھتے [24]{۱۳}</p>
<p>یہ کبھی اکٹھے ہو کر ( کُھلے میدان میں ) تمہارا مقابلہ نہ کریں گے ، لڑیں گے بھی تو قلعہ بند بستیوں میں بیٹھ کر یادیواروں کے پیچھے چُھپ کر ۔ یہ آپس کی مخالفت میں بڑے سخت ہیں۔ تم انہیں اکٹھا سمجھتے ہو مگر ان کے دل ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہیں۔ [25]ان کا یہ حال اس لیے ہے کہ یہ بے عقل لوگ ہیں۔{۱۴}</p>
<p>یہ اُنہی لوگوں کے مانند ہیں جو اِ ن سے تھوڑی ہی مدّت پہلے اپنے کئے کامزہ چکھ چکے ہیں[26] اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔{۱۵}</p>
<p>ان کی مثال شیطان کی سی ہے کہ پہلے وہ انسان سے کہتا ہے کہ کفر کر اور جب انسان کفر کر بیٹھتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں تجھ سے بَری ُالذِمّہ ہوں ، مجھے تو اللہ رب العٰلمین سے ڈرلگتا ہے۔[27]{۱۶}</p>
<p> پھر دونوں کا انجام یہ ہونا ہے کہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں جائیں اور ظالموں کی یہی جزا ہے۔[28] {۱۷}</p>
<p>  اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ سے ڈرو ، اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اُس نے کل کے لیے کیا سامان کیا ہے ۔[29] اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ یقینا تمہارے اُن سب اعمال سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔{۱۸}</p>
<p>  اُن لوگوں کی طرح نہ ہوجا ؤ جو اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے اُنہیں خود اپنا نفس بُھلادیا، [30] یہی لوگ فاسق ہیں۔{۱۹}</p>
<p> دوزخ میں جانے والے اور جنّت میں جانے والے کبھی یکساں نہیں ہوسکتے۔جنّت میں جانے والے ہی اصل میں کامیاب ہیں۔ {۲۰}</p>
<p> اگر ہم نے یہ قرآن کسی پہاڑ پر بھی اُتار دیا ہوتا تو تم دیکھتے کہ وہ اللہ کے خوف سے دبا جارہا ہے اور پھٹا پڑتا ہے۔ [31]یہ مثالیں ہم لوگوں کے سامنے اس لیے بیان کرتے ہیں کہ وہ (اپنی حالت پر)  غور کریں۔{۲۱}</p>
<p>وہ[32] اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبُود نہیں۔[33]  غائب اور ظاہر ہر چیز کا جاننے والا[34] ، وہی رحمن اوررحیم ہے۔ [35]{ ۲۲}</p>
<p> وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبُود نہیں۔ وہ بادشاہ ہے[36] نہایت مقدس، [37]سراسر سلامتی، [38]امن دینے والا ،[39] نگہبان،[40]سب پر غالب [41]اپنا حکم بزور نافذکرنے والا ،[42]اور بڑا ہی ہو کر رہنے والا ، [43]پاک ہے اللہ اُس شرک سے جو لوگ کررہے ہیں۔[44]{ ۲۳}</p>
<p> وہ اللہ ہی ہے جو تخلیق کا منصوبہ بنانے والا اور اس کا نافذ کرنے والا اور اس کے مطابق صورت گری کرنے والا ہے۔[45] اس کے لیے بہترین نام ہیں۔[46] ہر چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے اس کی تسبیح کررہی ہے،[47]  اور وہ زبردست اور حکیم ہے۔[48] { ۲۴}</p>

</div><div id="60"><p>سورۃ  الممتحنۃ </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>اے[1]  لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم میری راہ میں جہاد کرنے کے لیے اور میری رضا جو ئی کی خاطر (وطن چھوڑ کر گھروں سے ) نکلے ہو تو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ تم اُن کے ساتھ دوستی کی طرح ڈالتے ہو ، حالانکہ جو حق تمہارے پاس آیا ہے اس کو ماننے سے وہ انکار کرچکے ہیں اور اُن کی روش یہ ہے کہ رسول  ؐکو اور خود تم کو صرف اس قصور پر جلا وطن کرتے ہیں کہ تم اپنے رب ، اللہ پر ایمان لائے ہو ۔ تم  چُھپا کراُن کو دوستانہ پیغام بھیجتے ہو، حالانکہ جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو اور جو علانیہ کرتے ہو،ہر چیز کو میں خوب جانتا ہوں۔ جو شخص بھی تم میں سے ایسا کرے وہ یقینا راہ ِراست سے بھٹک گیا{۱}</p>
<p>  اُن کا روّیہ تو یہ ہے کہ اگر تم پر قابو پاجائیں تو تمہارے ساتھ دشمنی کریں اور ہاتھ اور زبان سے تمہیں آزار دیں ۔ وہ تویہ چاہتے ہیں کہ تم کسی طرح کافر ہوجا ؤ[2]{۲}</p>
<p> قیامت کے دن نہ تمہاری رشتہ داریاں کسی کام آئیں گی نہ تمہاری اولاد۔[3] اُس روز اللہ تمہارے درمیان جُدائی ڈال دے گا[4] اور وہی تمہارے اعمال کا دیکھنے والا ہے ۔[5]{۳}</p>
<p>  تم لوگوں کے لیے ابراہیم ؑ اور اُس کے ساتھیوں میں ایک اچھا نمونہ ہے کہ اُنہوں نے اپنی قوم سے صاف کہہ دیا ’’ ہم تم سے اور تمہارے اُن معبودُوں سے جن کو تم اللہ کو چھوڑ کر پُوجتے ہو قطعی بیزار ہیں ،ہم نے تم سے کفر کیا [6]اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے عداوت ہوگئی اور بیر پڑگیا جب تک تم اللہ واحد پر ایمان نہ لا ؤ‘‘۔ مگر ابراہیم ؑ کا اپنے باپ سے یہ کہنا (اس سے مستثنیٰ ہے) کہ ’’ میں آپ کے لیے مغفرت کی درخواست ضرور کروں گا، اور اللہ سے آپ کے لیے کچھ حاصل کرلینا میرے بس میں نہیں ہے،[7] (اور ابراہیم ؑ واصحاب ابراہیم ؑ کی دعا یہ تھی کہ ) ’’ اے ہمارے ربّ !تیرے ہی اوپر ہم نے بھروسا کیا اور تیری ہی طرف ہم نے رجوع کرلیا اور تیرے ہی حضور ہمیں پلٹنا ہے۔{ ۴}</p>
<p>  اے ہمارے رب !ہمیں کافروں کے لیے فتنہ نہ بنادے[8] اور اے ہمارے رب ! ہمارے قصوروں سے درگزر فرما ،بے شک تُو ہی زبردست اور دانا ہے ‘‘۔{۵}</p>
<p> اُن ہی لوگوں کے طرزِ عمل میں تمہارے لئے اور ہر اُس شخص کے لیے اچھاّ نمونہ ہے جو اللہ اور روز ِآخر کا امیدوار ہو ۔[9] اِس سے کوئی منحرف ہو تو اللہ بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔ [10]{۶}</p>
<p>بعید نہیں کہ اللہ کبھی تمہارے اور اُن لوگوں کے درمیان محبت ڈال دے جن سے آج تم نے دشمنی مول لی ہے۔[11]  اللہ بڑی قدرت رکھتا ہے اور وہ غفور ورحیم ہے ۔{۷}</p>
<p> اللہ تمہیں اِس بات سے نہیں روکتا کہ تم اُن لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتا ؤ کرو جنہوں نے دین کے معاملہ میں تم سے جنگ نہیں کی ہے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا ہے۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔[12]{۸}</p>
<p> وہ تمہیں جس بات سے روکتا ہے وہ تو یہ ہے کہ تم اُن لوگوں سے دوستی کرو جنہوں نے تم سے دین کے معاملے میں جنگ کی ہے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے اور تمہارے اخراج میں ایک دوسرے کی مدد کی ہے۔ اُن سے جو لوگ دوستی کریں وہی ظالم ہیں[13]{۹}</p>
<p> اے لوگو جو ایمان لائے ہو!جب مومن عورتیں ہجرت کرکے تمہارے پاس آئیں تو ( ان کے مومن ہونے کی ) جانچ پڑتال کرلو ، اور ان کے ایمان کی حقیقت تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ پھر جب تمہیں معلوم ہوجائے کہ وہ مومنہ ہیں تو انہیں کُفّار کی طرف واپس نہ کرو،[14] نہ وہ کفار کے لیے حلال ہیں اور نہ کفّار اُن کے لیے حلال ۔ اُن کے کافر شوہروں نے جو مَہر اُن کو دیے تھے وہ انہیں پھیردو ۔ اور اُن سے نکاح کرلینے میں تم پر کوئی گناہ نہیں جب کہ تم اُن کے مَہر اُن کو ادا کردو۔[15]  اور تم خود بھی کافرعورتوں کو اپنے نکاح میں نہ روکے رہو ۔ جو مہر تُم نے اپنی کافر بیویوں کو دیے تھے وہ تم واپس مانگ لو اور جو مَہر کافروں نے اپنی مسلمان بیویوں کو دیے تھے انہیں وہ واپس مانگ لیں۔[16] یہ اللہ کا حکم ہے ، وہ تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور وہ علیم وحکیم ہے۔{۱۰}</p>
<p>اور اگر تمہاری کافربیویوں کے مَہروں میں سے کچھ تمہیں کفّار سے واپس نہ ملے اور پھر تمہاری نوبت آئے تو جن لوگوں کی بیویاں اُدھر رہ گئی ہیں اُن کو اُتنی رقم ادا کردو جو ان کے دیے ہوئے مَہروں کے برابر ہو[17] اور اُس اللہ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایما ن لائے ہو۔ {۱۱}</p>
<p>اے نبی  ؐ! جب تمہارے پاس مومن عورتیں بیعت کرنے کے لیے آئیں[18] اور اس بات کا عہد کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں گی ، چوری نہ کریں گی ،[19]زنانہ کریں گی ، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی ،[20] اپنے ہاتھ پا ؤں کے آگے کو ئی بہتان گھڑ کر نہ لائیں گی،[21] اور کسی اَمر ِمعروف میں تمہاری نافرمانی نہ کریں گی،[22] تو ان سے بیعت لے لو [23]اور ان کے حق میں دعائے مغفرت کرو ، یقینا اللہ درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ { ۱۲}</p>
<p>   اے لوگوجو ایمان لائے ہو!اُن لوگوں کو دوست نہ بنا ؤ جن پر اللہ نے غضب فرمایا ہے ، جو آخرت سے اُسی طرح مایوس ہیں جس طرح قبروں میں پڑے ہوئے کافر مایوس ہیں۔[24]{۱۳}</p>

</div><div id="61"><p>سورۃ  الصف </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>اللہ کی تسبیح کی ہے ہراُس چیز نے جو آسمانوں اور زمین میں ہے ، اور وہ غالب اور حکیم ہے۔[1] {۱}</p>
<p>اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم کیو ںوہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو ؟{۲}</p>
<p> اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسند یدہ حرکت ہے کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں[2]{۳}</p>
<p>  اللہ کو توپسند وہ لوگ ہیں جو اُس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا کہ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔[3] {۴}</p>
<p> اور یاد کرو موسیٰ  ؑ کی وہ بات جو اس نے اپنی قوم سے کہی تھی کہ ’’ اے میری قوم کے لوگو!تم کیوں مجھے  اذیت دیتے ہو حالاں کہ تم خوب جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف  اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں؟‘‘[4] پھر جب اُنہوں نے ٹیڑھ اختیار کی تو اللہ نے بھی انکے دل ٹیڑھے کردیے ، اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ [5]{۵}</p>
<p>اور[6] یاد کرو عیسیٰ ؑ بن مریم کی و ہ بات جو اس نے کہی تھی کہ ’’ اے بنی اسرائیل !میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں،  تصدیق کرنے والا ہوں اُس توراۃ کی جو مجھ سے پہلے آئی ہوئی موجودہے ،[7] اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمدؐ  ہوگا ‘‘ ۔[8]مگر جب وہ اُن کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آیا تو انہوں نے کہا یہ توصریح دھوکا ہے ۔[9]{۶}</p>
<p> اب بھلا اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹے بہتان باندھے [10]حالانکہ اسے اسلام ( اللہ کے آگے سراطاعت جھکادینے )کی دعوت دی جارہی ہو؟[11]  ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا ۔{۷}</p>
<p> یہ لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں ، اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نُور کو پُورا پھیلا کررہے گا خواہ کافروں کو یہ کتناہی ناگوار ہو۔[12]{۸}</p>
<p> وہی تو ہے جس نے اپنے رسُول  ؐ  کو ہدایت اور دین ِحق کے ساتھ بھیجا ہے تا کہ اسے پُورے کے پُورے دین پر غالب کردے خواہ مشرکین کو یہ کتناہی نا گوار ہو ۔[13]{۹}</p>
<p>اے لوگوجو ایمان لائے ہو!میں بتا ؤ ں تم کو وہ تجارت [14]جو تمہیں عذاب ِالیم سے بچادے ؟ {۱۰}</p>
<p> ایمان لا ؤ اللہ اور اس کے رسول  ؐپر[15] اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے یہی تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو! [16] {۱۱}</p>
<p> اللہ تمہارے گناہ معاف کردے گا ، اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور ابدی قیام کی جنتوں میں بہترین گھر تمہیں عطا فرمائے گا ۔ یہ ہے بڑی کامیابی۔[17]{۱۲}</p>
<p>اور وہ دوسری چیز جو تم چاہتے ہو ، وہ بھی تمہیں دے گا ، اللہ کی طر ف سے نصرت اور قریب ہی میں حاصل ہوجانے والی فتح،[18] اے نبی  ؐ! اہل ایمان کو اس کی بشارت دے دو۔{۱۳}</p>
<p>اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کے مددگار بنو ، جس طرح عیسیٰ  ؑبن مریم نے حواریوں کو [19]خطاب کرکے کہا تھا : ’’ کون ہے اللہ کی طرف ( بلانے  ) میں میرا مددگار ؟‘‘ اور حواریوں نے جواب دیا تھا :’’ ہم ہیں اللہ کے مددگار ‘‘[20]اس وقت بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لایا اور دوسرے گروہ نے انکارکیا ۔ پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی ان کے دشمنوں کے مقابلے میں تائید کی اور وہی غالب ہو کررہے[21] {۱۴}</p>

</div><div id="62"><p>سورۃ  الجمعۃ </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔</p>
<p>اللہ کی تسبیح کررہی ہے ہر وہ چیز جو آسمانو ںمیں ہے اور ہر وہ چیز جو زمین میں ہے۔ بادشاہ ہے نہایت مقدس ، زبردست اور حکیم۔[1]{۱}</p>
<p>وہی ہے جس نے اُمیّوں [2] کے اندر ایک رسول خود اُنہی میں سے اٹھایا ، جو اُنہیں اُس کی آیات سُناتا ہے ، اُن کی زندگی سنوارتا ہے ، اور اُن کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے ،[3] حالاں کہ اِس سے پہلے وہ کُھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے ۔[4]{ ۲}</p>
<p> اور( اِس رسول ؑ کی بعثت ) اُن دوسرے لوگوں کے لیے بھی ہے جو ابھی اُن سے نہیں ملے ہیں [5] اللہ زبردست اور حکیم ہے۔ [6]{۳}</p>
<p>یہ اس کا فضل ہے ، جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور وہ بڑا فضل فرمانے والا ہے۔{۴}</p>
<p>جن لوگوں کو تورا ت کا حامل بنایا گیا تھا مگر اُنہوں نے اس کا بارنہ اٹھایا ،[7] اُن کی مثال اُس گدھے[8] کی سی ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں ۔ اِس سے بھی زیادہ بُری مثال ہے اُن لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلادیا ہے ۔[9] ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا ۔{۵}</p>
<p>اِن سے کہو: ’’ اے لوگوجو یہُودی بن گئے ہو! [10]  اگر تمہیں یہ گھمنڈ ہے کہ باقی سب لوگوں کو چھوڑ کر بس تم ہی اللہ کے چہیتے ہو[11] تو موت کی تمنّا کرو اگر تم اپنے اس زعم میں سچّے ہو‘‘۔  [12]{۶}</p>
<p>لیکن یہ ہر گز اُس کی تمنّا نہ کریں گے اپنے اُن کرتوتوں کی وجہ سے جو یہ کرچکے ہیں۔[13] اور اللہ ان ظالموں کو خوب جانتا ہے۔{۷}</p>
<p> اِن سے کہو ، ’’ جس موت سے تم بھاگتے ہو وہ تو تمہیں آکر رہے گی۔ پھر تم اُس کے سامنے پیش کئے جا ؤ گے جو پوشیدہ و ظاہر کا جاننے والا ہے ، اور وہ تمہیں بتادے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو ۔‘‘{۸}</p>
<p>  اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جب پکارا جائے نماز کے لیے جمعہ کے دن[14] تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ و اور خرید و فروخت چھوڑ دو ۔[15]یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے اگر تم جانو ۔{۹}</p>
<p> پھر جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں پھیل جا ؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔[16] اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو ،[17] شاید کہ تمہیں فلاح نصیب ہوجائے ۔[18]{۱۰}</p>
<p>اور جب اُنہو ں نے تجارت اور کھیل تماشا ہوتے دیکھا تو اُس کی طرف لپک گئے اور تمہیں کھڑا چھوڑدیا۔[19] اِن سے کہو ، جو کچھ اللہ کے پاس ہے ، وہ کھیل تماشے اور تجارت سے بہتر ہے ۔  [20]اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔[21] {۱۱}</p>

</div><div id="63"><p>سورۃ  المنافقون </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>اے نبی  ؐ! جب یہ منافق تمہارے پا س آتے ہیں تو کہتے ہیں ’’ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ یقینا اللہ کے رسُول  ؐ ہیں ۔‘‘ ہاں ، اللہ جانتا ہے کہ تم ضروراُ س کے رسول  ؐہو ، مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق قطعی جُھوٹے ہیں[1] {۱}</p>
<p>اِنہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے[2] اور اس طرح یہ اللہ کے راستے سے خود رکتے اور دنیا کو روکتے ہیں۔ [3]کیسی بُری حرکتیں ہیں جو یہ لوگ کررہے ہیں۔ {۲}</p>
<p> یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اِن لوگوں نے ایمان لاکر پھر کفر کیا اِس لئے ان کے دلوں پر مہرلگادی گئی ، اب یہ کچھ نہیں سمجھتے۔[4]  {۳}</p>
<p>اِنہیں دیکھو تو ان کے جثے(جسم) تمہیں بڑے شاندار نظر آئیں۔ بولیں تو تم ان کی باتیں سُنتے رہ جا ؤ ۔[5] مگر اصل میں یہ گویا لکڑی کے کُندے ہیں جو دیوار کے ساتھ چُن کررکھ دیے گئے ہوں[6] ہر زور کی آواز کو یہ اپنے خلاف سمجھتے ہیں ۔[7] یہ پکّے دشمن ہیں ،[8] اِن سے بچ کر رہو ،[9] اللہ کی مار اِن پر ،[10] یہ کدھر اُلٹے پھر ائے جارہے ہیں[11]{۴}</p>
<p>اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ آ ؤ تا کہ اللہ کا رسُول  ؐ  تمہارے لئے مغفرت کی دعا کرے ، تو سر جھٹکتے ہیں ، اور تم دیکھتے ہو کہ وہ بڑے گھمنڈ کے ساتھ آنے سے رُکتے ہیں۔[12]{۵}</p>
<p> اے نبی  ؐ! تم چاہے ان کے لیے مغفرت کی دُعا کرویا نہ کرو ، ان کے لیے یکساں ہے ، اللہ ہر گز انہیں معاف نہ کرے گا ،[13] اللہ فاسق لوگوں کو ہر گز ہدایت نہیں دیتا [14]{۶}</p>
<p>یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ رسُول  ؐ کے ساتھیوں پر خرچ کرنا بند کردو تا کہ یہ منتشر ہوجائیں ،حالاں کہ زمین اور آسمانوں کے خزانوں کا مالک اللہ ہے ، مگر یہ منافق سمجھتے نہیں ہیں {۷}</p>
<p>یہ کہتے ہیں کہ ہم مدینہ واپس پہنچ جائیں تو جو عزت والا ہے وہ ذلیل کو وہاں سے نکال باہر کرے  گا۔ [15]حالاں کہ عزت تو اللہ اور اس کے رسول  ؐاور مومنین کے لیے ہے ،[16] مگر یہ منافق جانتے نہیں ہیں۔{۸}</p>
<p> اے[17] لوگو جو ایمان لائے ہو ! تمہارے مال اور تمہاری اولاد یں تم کو اللہ کی یاد سے غافل نہ کردیں ۔ [18]جو لوگ ایسا کریں وہی خسارے میں رہنے والے ہیں{۹}</p>
<p>جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اُس میں سے خرچ کرو قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے اور اُس وقت وہ کہے کہ ’’ اے میرے رب ! کیوں نہ تُو نے مجھے تھوڑی سی مہلت اور دے دی کہ میں صدقہ دیتا اور صالح لوگوں میں شامل ہوجاتا ‘‘ {۱۰}</p>
<p> حالاں کہ جب کسی کی مہلت عمل پُوری ہونے کا وقت آجاتا ہے تو اللہ کسی شخص کو ہر گز مزید مہلت نہیں دیتا ، اور جو کچھ تم کرتے ہو ، اللہ اُس سے باخبر ہے۔{۱۱}</p>

</div><div id="64"><p>سورۃ  التغابن </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>اللہ کی تسبیح کررہی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور ہروہ چیز جو زمین میں ہے ۔[1] اُسی کی بادشاہی ہے[2] اور اُسی کے لیے تعریف ہے[3] اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔[4]{۱}</p>
<p> وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا ، پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور کوئی مومن ،[5] اور اللہ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے جو تم کرتے ہو۔[6]{۲}</p>
<p> اُس نے زمین اور آسمانوں کو برحق پیدا کیا ہے ، اور تمہاری صورت بنائی اور بڑی عمدہ بنائی ہے ، اور اُسی کی طرف آخر کارتمہیں پلٹنا ہے۔[7] {۳}</p>
<p>زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا اُسے علم ہے ، جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو[8] سب اُس کو معلوم ہے ،اور وہ دلوں کا حال تک جانتا ہے۔ [9]{۴}</p>
<p>کیا تمہیں اُن لوگوں کی کوئی خبر نہیں پہنچی جنہوں نے اِس سے پہلے کُفر کیا اور پھر اپنی شامتِ اعمال کا مزہ چکھ لیا ؟ اور آگے اُن کے لیے ایک درد ناک عذاب ہے ۔[10]{۵}</p>
<p>اِس انجام کے مستحق وہ اِس لیے ہوئے کہ اُن کے پاس اُن کے رسول کھلی کھلی دلیلیں اور نشانیاں لے کرآتے رہے،[11] مگر اُنہوں نے کہا ’’ کیا انسان ہمیں ہدایت دیں گے ؟ ‘‘[12] اس طرح اُنہو ں نے ماننے سے انکار کردیا اور مُنہ پھیر لیا ، تب اللہ بھی اُن سے بے پروا ہوگیا اور اللہ تو ہے ہی بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ۔[13]{۶}</p>
<p> منکرین نے بڑے دعوے سے کہا ہے کہ وہ مَرنے کے بعد ہر گز دو بارہ نہ اُٹھائے جائیں گے ۔[14] اُن سے کہو ’’نہیں ، میرے رب کی قسم تم ضرور اُٹھائے جا ؤ گے [15] پھر ضرور تمہیں بتایا جائے گا کہ تم نے (دنیا میں ) کیا کچھ کیا ہے ،[16] اور ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان ہے ‘‘۔[17] {۷}</p>
<p>پس ایمان لاؤ اللہ پر ، اور اِس کے رسُول  ؐ پر اور اُس روشنی پر جو ہم نے نازل کی ہے[18] جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ {۸}</p>
<p>( اِس کا پتہ تمہیں اُس روز چل جائے گا ) جب اجتماع کے دن وہ تم سب کو اکٹھا کرے گا ۔ [19]وہ دن ہوگا ایک دوسرے کے مقابلے میں لوگوں کی ہار جیت کا ۔ [20]جو اللہ پر ایمان لایا ہے اور نیک عمل کرتا ہے ، [21]اللہ اس کے گناہ جھاڑ دے گا ۔ اور اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ۔ یہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے ۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔{۹}</p>
<p> اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہے [22]وہ دوزخ کے باشندے ہوں گے۔ جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہ بدترین ٹھکانا ہے۔ {۱۰}</p>
<p> کوئی مصیبت کبھی نہیں آتی مگر اللہ کے اِذن ہی سے آتی ہے۔[24] جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہو اللہ اس کے دل کو ہدایت بخشتا ہے ،[25] اللہ کو ہر چیز کا علم ہے۔[26]{۱۱}</p>
<p> اللہ کی اطاعت کرو اور رسول  ؐکی اطاعت کرو۔ لیکن اگر تم اطاعت سے منہ موڑتے ہو تو ہمارے رسول  ؐپر صاف صاف حق پہنچادینے کے سوا کوئی ذمّہ داری نہیں ہے۔[27]{۱۲}</p>
<p> اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں ، لہٰذا ایمان لانے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا  چاہیے۔[28] {۱۳}</p>
<p>اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں ، اُن سے ہوشیار رہو۔ اور اگر تم عفوو درگز ر سے کام لو اور معاف کردو تو اللہ غفور و رحیم ہے، {۱۴}</p>
<p> تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو ایک آزمائش ہیں ، اور اللہ ہی ہے جس کے پاس بڑا اجر ہے۔ [29]{۱۵}</p>
<p>لہٰذا جہاں تک تمہارے بس میں ہو اللہ سے ڈرتے رہو ،[31] اور سنو اور اطاعت کرو ، اور اپنے مال خرچ کرو ، یہ تمہارے ہی لئے بہتر ہے ۔ جو اپنے دل کی تنگی سے محفوظ رہ گئے بس وہی فلاح پانے والے ہیں۔[32]{۱۶}</p>
<p> اگر تم اللہ کوقرضِ حسن دوتو وہ تمہیں کئی گنا بڑھا کر دے گا [33]اور تمہارے قصوروں سے درگزر فرمائے گا ، اللہ بڑا قدر دان اور بُردبار ہے۔ [34]{۱۷}</p>
<p> حاضر اور غائب ہر چیز کو جانتا ہے ، زبردست اور دانا ہے ۔{۱۸}</p>

</div><div id="65"><p>سورۃ الطلاق </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان او رحم فرمانے والا ہے۔ </p>
<p>اے نبی  ؐ!جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو انہیں اُن کی عِدّت کے لیے طلاق دیا کرو [1] اور عِدّت کے زمانے کا ٹھیک ٹھیک شمار کرو ،[2] اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے۔ ( زمانہ عدّت میں) نہ تم اُنہیں اُن کے گھروں سے نکالو ، اور نہ وہ خود نکلیں[3]  اِلا ّیہ کہ وہ کسی صریح برائی کی مرتکب ہوں۔[4]یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیںاور جو کوئی اللہ کی حدوں سے تجاوز کرے گاوہ اپنے اوپر خود ظلم کرے گا ۔ تم نہیں جانتے شاید اس کے بعد اللہ (موافقت کی) کوئی صورت پیدا کردے۔ [5]{۱}</p>
<p> پھر جب وہ اپنی ( عدت کی) مدت کے خاتمہ پر پہنچیں تو یا انہیں بھلے طریقے سے ( اپنے نکاح میں ) روک رکھو ، یا بھلے طریقے پر اُن سے جُداہوجا ؤ ۔[6] اور دو ایسے آدمیوں کو گواہ بنالو جو تم میں سے صاحبِ عدل ہوں ۔[7] اور ( اے گواہ بننے والو!) گواہی ٹھیک ٹھیک اللہ کے لیے ادا کرو ۔ یہ باتیں ہیں جن کی تم لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے ، ہراُس شخص کو جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو۔[8] جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا اللہ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا[9] {۲}</p>
<p>اور اسے ایسے راستے سے رزق دے گا جدھر اُس کا گمان بھی نہ جاتا ہو۔ [10]جو اللہ پر بھروسہ کرے اس کے لیے وہ کافی ہے۔ اللہ اپنا کام پورا کرکے رہتا ہے ۔[11]اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک تقدیر مقرر کررکھی ہے۔{ ۳}</p>
<p>اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہوچکی ہوں ان کے معاملہ میں اگر تم لوگوں کو کوئی شک لاحق ہے تو (تمہیں معلوم ہو کہ ) اُن کی عدّت تین مہینے ہے۔ [12]اور یہی حکم اُن کا ہے جنہیں ابھی حیض نہ آیا ہو[13] اور حاملہ عورتوں کی عدّت کی حدیہ ہے کہ اُن کا وضعِ حمل ہوجائے۔[14] جو شخص اللہ سے ڈرے اس کے معاملے میں وہ سہولت پیدا کردیتا ہے {۴}</p>
<p> یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے ۔ جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کی برائیوں کو اس سے دور کردے گا اور اس کو بڑا اجر دے گا۔[15]{ ۵}</p>
<p>اُن کو ( زمانہ ٔعدّت میں ) اسی جگہ رکھو جہاں تم رہتے ہو ، جیسی کچھ بھی جگہ تمہیں میّسرہو۔ اور انہیں تنگ کرنے کے لیے ان کو نہ ستا ؤ ۔[16]اور اگر وہ حاملہ ہوں تو ان پر اس وقت تک خرچ کرتے رہو جب تک ان کا وضعِ حمل نہ ہوجائے ۔[17] پھر اگر وہ تمہارے لئے (بچّے کو) دودھ پلائیں تو ان کی اُجرت اُنہیں دو، اور بھلے طریقے سے (اُجرت کا معاملہ ) باہمی گفت وشنید سے طے کرلو[18]لیکن اگر تم نے ( اُجرت طے کرنے میں ) ایک دوسرے کو تنگ کیا تو بچّے کو کوئی اور عورت دودھ پلالے گی۔[19]{۶}</p>
<p> خوشحال آدمی اپنی خوشحالی کے مطابق نفقہ دے ، اور جس کو رزق کم دیا گیا ہو وہ اُسی مال میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اُسے دیا ہے ۔ اللہ نے جس کو جتنا کچھ دیا ہے اِس سے زیادہ کا وہ اُسے مکلف نہیں کرتا ، بعید نہیں کہ اللہ تنگ دستی کے بعد فراخ دستی بھی عطا  فرمادے۔[20] {۷}</p>
<p>کتنی ہی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے رَبّ اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرتابی کی تو ہم نے ان سے سخت محاسبہ کیا اور ان کو بُری طرح سزادی۔{۸}</p>
<p>انہوں نے اپنے کئے کا مزہ چکھ لیا اور اُن کا انجام کارگھاٹا ہی گھاٹا ہے{۹}</p>
<p> اللہ نے (آخرت میں ) ان کے لیے سخت عذاب مہیّاکررکھا ہے ۔ پس اللہ سے ڈرو اے صاحب عقل لوگو جو ایمان لائے ہو ۔ اللہ نے تمہاری طرف ایک نصیحت نازل کردی ہے {۱۰}</p>
<p> ایک ایسا رسول [21]جو تم کو اللہ کی صاف صاف ہدایت دینے والی آیات سُناتا ہے تا کہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے۔[22] جو کوئی اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے ، اللہ اُسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ۔ یہ لوگ اُن میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ۔ اللہ نے ایسے شخص کے لیے بہترین رزق رکھا ہے۔{۱۱}</p>
<p>اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور زمین کی قسم سے بھی انہی کے مانند۔[23]  اُن کے درمیان حکم نازل ہوتا رہتا ہے( یہ بات تمہیں اس لیے بتائی جارہی ہے) تا کہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ، اور یہ کہ اللہ کا علم ہر چیز پر محیط ہے۔{۱۲}</p>

</div><div id="66"><p>سورۃ  التحریم </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>اے نبی  ؐ! تم کیو ںاُس چیز کو حرام کرتے ہو جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہے ؟[1] (کیا اس لیے کہ) تم اپنی بیویوں کی خوشی چاہتے ہو ؟ [2] اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔[3]{۱}</p>
<p> اللہ نے تم لوگوں کے لیے اپنی قَسموں کی پابندی سے نکلنے کا طریقہ مقرر کردیا ہے۔[4]اللہ تمہارا مولیٰ ہے ، اور وہی علیم وحکیم ہے۔ [5]{۲}</p>
<p> ( اور یہ معاملہ بھی قابل تو جہ ہے کہ ) نبی  ؐنے ایک بات اپنی ایک بیوی سے راز میں کہی تھی ۔ پھر جب اُس بیوی نے (کسی اور پر ) وہ راز ظاہر کردیااور اللہ نے نبی  ؐکو اس ( افشائے راز ) کی اطلاع دے دی ، تو نبی  ؐنے اس پر کسی حد تک (اُس بیوی کو ) خبردار کیا اور کسی حد تک اس سے درگزر کیا ۔ پھر جب نبی  ؐنے اُسے (افشائے راز کی ) یہ بات بتائی تو اُس نے پوچھا آپ  ؐکو اس کی کس نے خبردی ؟ نبی  ؐنے کہا ’’مجھے اُس نے خبردی جو سب کچھ جانتا ہے اور خوب باخبر ہے ‘‘۔[6]{۳}</p>
<p> اگر تم دونوں اللہ سے توبہ کرتی ہو ( تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے ) کیونکہ تمہارے دل سیدھی راہ سے ہٹ گئے ہیں ۔[7] اور اگر نبی  ؐکے مقابلے میں تم نے جتھ بندی کی[8] تو جان رکھو کہ اللہ اُس کا مولیٰ ہے اور اُس کے بعد جبرئیل ؑ اور تمام صالح اہل ِایمان اور سب ملائکہ اس کے ساتھی اور مددگار ہیں،[9]{۴}</p>
<p>بعید نہیں کہ اگر نبیؐ  تم سب بیویوں کو طلاق دے دے تو اللہ اسے ایسی بیویاں تمہارے بدلے میں عطا فرمادے جو تم سے بہتر ہوں،[10]سچی مسلمان ، باایمان ،[11]اطاعت گزار ،[12] توبہ گزار ،[13] عبادت گزار ، [14]اور روزہ دار ، [15]خواہ شوہر دیدہ ہوں یاباکرہ ۔{۵}</p>
<p>اے لوگوجو ایمان لائے ہو!بچا ؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہلِ وعیال کو اُس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے،[16] جس پر نہایت تُند خُو اور سخت گیر فرشتے مقرر ہوں گے جو کبھی اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم بھی انہیں دیا جاتا ہے اسے بجالا تے ہیں ۔[17] {۶}</p>
<p>( اُس وقت کہا جائے گا کہ ) اے کافرو!آج معذرتیں پیش نہ کر و، تمہیں تو ویسا ہی بدلہ دیا جارہا ہے جیسے تم عمل کررہے تھے۔[18]{۷}</p>
<p> اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ سے توبہ کرو ، خالص تو بہ ۔[19]بعید نہیں کہ اللہ تمہاری برائیاں دُور کردے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل فرمادے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔[20]یہ وہ دن ہوگا جب اللہ اپنے نبی  ؐکو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں رسُوانہ کرے گا۔[21] اُن کا نور اُن کے آگے آگے اور اُن کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا اور وہ کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب! ہمارا نور ہمارے لئے مکمل کردے اور ہم سے درگزر فرما ، تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔[22]{۸}</p>
<p>اے نبی  ؐ! کُفّار اور منافقین سے جہاد کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آ ؤ ۔[23] ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت بُرا ٹھکانا ہے۔{۹}</p>
<p>اللہ کافروں کے معاملے میں نوحؑ اور لوط  ؑ کی بیویوں کو بطور مثال پیش کرتا ہے۔ وہ ہمارے دو صالح بندوں کی زوجیّت میں تھیں ، مگر انہوں نے اپنے اُن شوہروں سے خیانت  کی[24] اور وہ اللہ کے مقابلہ میں اُن کے کچھ بھی نہ کام آسکے ۔ دونوں سے کہہ دیا گیا کہ جا ؤ آگ میں جانے والوں کے ساتھ تم بھی چلی جا ؤ۔{۱۰}</p>
<p> اور اہلِ ایمان کے معاملہ میں اللہ فرعون کی بیوی کی مثال پیش کرتا ہے جب کہ اُس نے دعا کی ’’اے میرے ربّ!میرے لئے اپنے ہاں جنّت میں ایک گھر بنادے اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے بچالے[25] اور ظالم قوم سے مجھ کو نجات دے ‘‘۔{۱۱}</p>
<p> اور عمر ان کی بیٹی مریم [26]کی مثال دیتا ہے جس نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی تھی، [27] پھر ہم نے اس کے اندر اپنی طرف سے روح پھُونک دی [28]،اور اس نے اپنے رَب ّکے ارشادات اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ اطاعت گزار لوگوں میں سے تھی ۔[29]{۱۲}</p>

</div><div id="67"><p>سورۃ  الملک </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔</p>
<p>نہایت بزرگ وبرتر ہے[1] وہ جس کے ہاتھ میں (کائنات کی) سلطنت ہے ،[2] اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔[3] {۱}</p>
<p> جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تا کہ تم لوگوں کو آزماکردیکھے تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔[4] اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی۔[5] {۲}</p>
<p> جس نے تہ برتہ سات آسمان بنائے ۔[6] تم رحمن کی تخلیق میں کسی قسم کی بے ربطی نہ پا ؤ گے [7] پھر پلٹ کر دیکھو،کہیں تمہیں کوئی خلل نظر آتا ہے؟ [8]{۳}</p>
<p> بار بار نگاہ دوڑا ؤ ۔ تمہاری نگاہ تھک کرنا مراد پلٹ آئے گی۔{۴}</p>
<p>ہم نے تمہارے قریب کے آسمان [9]کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے[10] اور اُنہیں شیاطین کو ماربھگانے کا ذریعہ بنادیا ہے۔[11] اِن شیطانوں کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ ہم نے مہیّا کررکھی ہے۔ {۵}</p>
<p>جن لوگوں نے اپنے رَبّ سے کفر کیا ہے[12] اُن کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ بہت ہی بُراٹھکانا ہے۔{۶}</p>
<p> جب وہ اُس میں پھینکے جائیں گے تو اس کے دہاڑ نے کی ہولناک آوازسنیں  گے[13] اور وہ جوش کھارہی ہوگی۔ {۷}</p>
<p>شدّتِ غضب سے پھٹی جاتی ہوگی۔ ہر بار جب کوئی انبوہ اس میں ڈالا جائے گا ، اُس کے کارندے اُن لوگوں سے پوچھیں گے ’’ کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا؟ ‘‘[14]{۸}</p>
<p> وہ جواب دیں گے ’’ ہاں خبردار کرنے والا ہمارے پاس آیا تھا مگر ہم نے اسے جھٹلادیااور کہا اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا ہے ، تم بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو ‘‘۔[15]{۹}</p>
<p> اور وہ کہیں گے’’ کاش ہم سنتے یا سمجھتے[16] تو آج اِس بھڑکتی ہوئی آگ کے سزاواروں میں نہ شامل ہوتے ۔‘‘ {۱۰}</p>
<p>اس طرح وہ اپنے قصور کا [17]خود اعتراف کرلیں گے ،لعنت ہے اِن دوزخیوں پر۔ {۱۱}</p>
<p>جو لوگ بے دیکھے اپنے رَبّ سے ڈرتے ہیں ،[18] یقینا اُن کے لیے مغفرت ہے اور بڑا اجر۔[19] {۱۲}</p>
<p> تم خواہ چپکے سے بات کرو یا اونچی آواز سے ( اللہ کے لیے یکساں ہے ) وہ تو دلوں کا حال تک جانتا ہے۔[20] {۱۳}</p>
<p> کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے؟  [21]حالاں کہ وہ باریک بیں[22] اور باخبر ہے۔{۱۴}</p>
<p> وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو تابع کررکھا ہے ، چلو اُس کی چھاتی پر اور کھا ؤ اللہ کا رزق،[23] اُسی کے حضور تمہیں دوبارہ زندہ ہو کرجانا ہے۔[24]{۱۵}</p>
<p> کیا تم اِس سے بے خوف ہو کہ وہ جو آسمان میں ہے [25] تمہیں زمین میں دھنسادے اور یکایک یہ زمین جھکو لے کھانے لگے ؟{۱۶}</p>
<p> کیا تم اِس سے بے خوف ہوکہ وہ جو آسمان میں ہے تم پر پتھرا ؤ کرنے والی ہوا بھیج دے؟[26] پھر تمہیں معلوم ہوجائے گا میری تنبیہ کیسی ہوتی ہے۔[27]{۱۷}</p>
<p> ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ جھٹلا چکے ہیں۔ پھر دیکھ لو کہ میری گرفت کیسی سخت تھی۔[28] {۱۸}</p>
<p> کیا یہ لوگ اپنے اوپر اُڑنے والے پرندوں کو پر پھیلائے اور سکیڑتے نہیں دیکھتے ؟ رحمن کے سوا کوئی نہیں جو انہیں تھامے ہوئے ہو ؟ [29]وہی ہر چیز کا نگہبان ہے۔[30]{۱۹}</p>
<p> بتا ؤ ، آخر وہ کونسا لشکر تمہارے پاس ہے جو رحمن کے مقابلے میں تمہاری مددکرسکتا ہے ؟[31] حقیقت یہ ہے کہ یہ منکرین دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔{۲۰}</p>
<p> یا پھر بتا ؤ ، کون ہے جو تمہیں رزق دے سکتا ہے اگر رحمن اپنا رزق روک لے ؟ دراصل یہ لوگ سرکشی اور حق سے گریز پراڑے ہوئے ہیں۔{۲۱}</p>
<p> بھلاسو چو، جو شخص منہ اَوندھائے چل رہا ہو[32] وہ زیادہ صحیح راہ پانے والا ہے یاوہ جو سراٹھائے سیدھا ایک ہموار سڑک پر چل رہا ہو ؟ {۲۲}</p>
<p>اِن سے کہو اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ، تم کوسننے اور دیکھنے کی طاقتیں دیں اور سوچنے ، سمجھنے والے دل دیے ، مگر تم کم ہی شکر ادا کرتے ہو۔  [33]{۲۳}</p>
<p>اِن سے کہو ، اللہ ہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلا یا ہے اور اسی کی طرف تم سمیٹے جا ؤ گے ۔[34]{۲۴}</p>
<p> یہ کہتے ہیں ’’ اگر تم سچّے ہوتو بتا ؤ یہ وعدہ کب پورا ہوگا؟‘‘[35]{۲۵}</p>
<p> کہو :’’اس کا علم تو اللہ کے پاس ہے ، میں تو بس صاف صاف خبردار کردینے والا ہوں‘‘۔[36] {۲۶}</p>
<p> پھر جب یہ اُس چیز کو قریب دیکھ لیں گے تو ان سب لوگوں کے چہرے بگڑ جائیں گے جنہوں نے انکار کیا ہے[37] اور اُس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ چیز جس کے لیے تم تقاضے کررہے تھے ۔{۲۷}</p>
<p>اِن سے کہو ، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اللہ خواہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کردے یا ہم پر رحم کرے ، کافروں کو درد ناک عذاب سے کون بچالے گا ؟ [38]{۲۸}</p>
<p>اِن سے کہو ، وہ بڑا رحیم ہے ، اُسی پر ہم ایمان لائے ہیں ، اور اُسی پر ہمارا بھروسہ ہے ، [39]عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ صریح گمراہی میں پڑا ہوا کون ہے۔ {۲۹}</p>
<p> اِن سے کہو ، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر تمہارے کنو ؤں کا پانی زمین میں اتر جائے تو کون ہے جو اِس پانی کی بہتی ہوئی سوتیں تمہیں نکال کرلادے گا؟[40]{۳۰}</p>

</div><div id="68"><p>سورۃ  القلم </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>نٓ ۔ قسم ہے قلم کی اور اُس چیز کی جسے لکھنے والے لکھ رہے ہیں[1] {۱}</p>
<p>  تم اپنے رَبّ کے فضل سے مجنون نہیں ہو[2] {۲}</p>
<p> اور یقینا تمہارے لئے ایسا اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔[3] {۳}</p>
<p> اور بے شک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو [4]{۴}</p>
<p> عنقریب تم بھی دیکھ لوگے اور وہ بھی دیکھ لیں گے{۵}</p>
<p>کہ تم میں سے کون جنون میں مبتلاہے ۔{۶}</p>
<p>تمہارا رَبّ اُن لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں اور وہی ان کو بھی اچھی طرح جانتا ہے جو راہ ِراست پر ہیں۔{۷}</p>
<p> لہٰذا تم ان جھٹلانے والوں کے دبا ؤ میں ہر گز نہ آ ؤ۔{۸}</p>
<p> یہ تو چاہتے ہیں کہ کچھ تم مداہنت کرو تو یہ بھی مداہنت کریں۔ [5] {۹}</p>
<p> ہرگز نہ دبوکسی ایسے شخص سے جوبہت قسمیں کھانے والا بے وقعت آدمی ہے [6]{۱۰}</p>
<p> طعنے دیتا ہے ، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے {۱۱}</p>
<p> بھلائی سے روکتا ہے ،[7] ظلم وزیادتی میں حد سے گزر جانے والا ہے ، سخت بداعمال ہے { ۱۲}</p>
<p> جفاکار ہے ،[8] اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے۔[9] {۱۳}</p>
<p> اس بناپر کہ وہ بہت مال اور اولاد رکھتا ہے ۔[10]{۱۴}</p>
<p> جب ہماری آیات اُس کو سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے وقتوں کے افسانے ہیں۔{۱۵}</p>
<p> عنقریب ہم اس کی سُونڈپر داغ لگائیں گے۔[11]{۱۶}</p>
<p> ہم نے اِن ( اہلِ مکہّ ) کو اُسی طرح آزمائش میں ڈالا ہے جس طرح ایک باغ کے مالکوں کو آزمائش میں ڈالا تھا ،[12] جب انہوں نے قسم کھائی کہ صبح سویرے ضرور اپنے باغ کے پھل توڑیں گے{۱۷}</p>
<p> اور وہ کوئی استثناء نہیں کررہے تھے۔ [13]{۱۸}</p>
<p> رات کو وہ سوئے پڑے تھے کہ تمہارے رَبّ کی طرف سے ایک بَلا اُس باغ پر پھر گئی {۱۹}</p>
<p>اور اُس کا ایسا حال ہو گیا  جیسے کٹی ہوئی فصل ہو۔ {۲۰}</p>
<p> صبح اُن لوگوں نے ایک دوسرے کو پکارا {۲۱}</p>
<p>کہ اگر پھل توڑنے ہیں تو سویرے سویرے اپنی کھیتی کی طرف نکل چلو۔ [14]{۲۲}</p>
<p> چنانچہ وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے{۲۳}</p>
<p> کہ آج کوئی مسکین تمہارے پاس باغ میں نہ آنے پائے۔ {۲۴}</p>
<p> وہ کچھ نہ دینے کا فیصلہ کئے ہوئے صبح سویرے جلدی جلدی[15] اِس طرح وہاں گئے جیسے کہ وہ ( پھل توڑنے پر) قادر ہیں{۲۵}</p>
<p> مگر جب باغ کو دیکھا تو کہنے لگے ’’ ہم راستہ بھول گئے ہیں{۲۶}</p>
<p>نہیں ، بلکہ ہم محروم رہ گئے ‘‘ ۔[16]{۲۷}</p>
<p>اُن میں جو سب سے بہتر آدمی تھا اس نے کہا ’’ میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے‘‘ ؟[17]{۲۸}</p>
<p> وہ پکاراُ ٹھے ’’ پاک ہے ہمارا رَبّ واقعی ہم گناہ گار تھے ‘‘۔{۲۹}</p>
<p>پھر اُن میں سے ہر ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگا۔[18]{۳۰}</p>
<p> آخر کو اُنہوں نے کہا: افسوس ہمارے حال پر ، بے شک ہم سرکش ہوگئے تھے {۳۱}</p>
<p> بعید نہیں کہ ہمارا ربّ ہمیں بدلے میں اِس سے بہتر باغ عطا فرمائے ، ہم اپنے رَبّ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔‘‘ {۳۲}</p>
<p> ایسا ہوتا ہے عذاب اور آخرت کا عذاب اس سے بھی بڑا ہے ، کاش یہ لوگ اس کو جانتے ۔[19]{۳۳}</p>
<p> یقینا متّقی لوگوں کے لیے اُن کے رَبّ کے ہاں نعمت بھری جنتیں ہیں{۳۴}</p>
<p>کیا ہم فرمانبرداروں کا حال مجرموں کا ساکردیں ؟{۳۵}</p>
<p>تم لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ، تم کیسے حکم لگاتے ہو ؟[20]{۳۶}</p>
<p> کیا تمہارے پاس کوئی کتاب  ہے[21] جس میں تم یہ پڑھتے ہو{۳۷}</p>
<p> کہ تمہارے لئے ضرور وہاں وہی کچھ ہے جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو ؟{۳۸}</p>
<p>یا پھر کیا تمہارے لئے روز قیامت تک ہم پر کچھ عہد وپیمان ثابت ہیں کہ تمہیں وہی کچھ ملے گا جس کا تم حکم لگا ؤ ؟{۳۹}</p>
<p> ان سے پوچھو تم میں سے کون اس کا ضامن ہے ؟[22] {۴۰}</p>
<p>یا پھر ان کے ٹھہرائے ہوئے کچھ شریک ہیں ( جنہوں نے اس کا ذمہ لیا ہو ) ؟ یہ بات ہے تو لائیں اپنے ان شریکوں کو اگر یہ سچّے ہیں[23]{۴۱}</p>
<p> جس روز سخت وقت آپڑے گا [24]اور لوگوں کو سجدہ کرنے کے لیے بلایا جائے گا تو یہ لوگ سجدہ نہ کرسکیں گے{ ۴۲}</p>
<p>ان کی نگاہیں نیچی ہوں گی، ذِلّت ان پر چھارہی ہوگی۔ یہ جب صحیح و سالم تھے اُس وقت اِنہیں سجدے کے لیے بلایا جاتا تھا ( اور یہ انکار کرتے تھے) [25]{۴۳}</p>
<p>پس اے نبی  ؐ! تم اِس کلام کے جھٹلانے والوں کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو ۔ [26]ہم ایسے طریقہ سے ان کو بتدریج تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی[27]{۴۴}</p>
<p>میں اِن کی رسی دراز کررہا ہوں ، میری چال[28] بڑی زبردست ہے{۴۵}</p>
<p>کیا تم اِن سے کوئی اجر طلب کررہے ہو کہ یہ اس چٹّی (تاوان)کے بوجھ تلے دبے جارہے ہوں؟[29]{۴۶}</p>
<p>کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں ؟[30]{۴۷}</p>
<p> اچھا ! اپنے رَبّ کا فیصلہ صادر ہونے تک صبر کرو[31] اور مچھلی والے (یونس علیہ السلام ) کی طرح نہ ہوجا ؤ[32] جب اُس نے پُکار اتھا اور وہ غم سے بھرا ہوا تھا۔[33]{۴۸}</p>
<p> اگر اُس کے رَبّ کی مہربانی اس کے شاملِ حال نہ ہوجاتی تو وہ مذموم ہوکر چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتا ۔[34]{۴۹}</p>
<p> آخر کار اُس کے رَبّ نے اسے برگزیدہ فرمالیا اور اسے صالح بندوں میں شامل کردیا۔ {۵۰}</p>
<p> جب یہ کافر لوگ کلامِ نصیحت ( قرآن ) سنتے ہیں تو تمہیں ایسی نظروں سے دیکھتے ہیں کہ گویا تمہارے قدم اکھاڑدیں گے ،[35] اور کہتے ہیں کہ یہ ضرور دیوانہ ہے {۵۱}</p>
<p>حالانکہ یہ توسارے جہان والوں کے لیے ایک نصیحت ہے ۔{ ۵۲}</p>

</div><div id="69"><p>سورۃ  الحاقۃ </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔</p>
<p>  ہونی شُدنی! [1] {۱}</p>
<p> کیا ہے وہ ہونی شُدنی ؟ {۲}</p>
<p>اور تم کیا جانو کہ وہ کیا ہے ہونی شُدنی ۔[2]{۳}</p>
<p>  ثمود [3]او ر عاد نے اُس اچانک ٹوٹ پڑنے والی آفت [4]کو جھٹلایا ۔{۴}</p>
<p> تو ثمود ایک سخت حادثہ[5] سے ہلاک کئے گئے۔ {۵}</p>
<p> اور عاد ایک بڑی شدید طوفانی آندھی سے تباہ کردیے گئے۔{۶}</p>
<p> اللہ تعالیٰ نے اُس کو مسلسل سات رات اور آٹھ دن اُن پر مسلّط رکھا ۔( تم وہاں ہوتے تو )دیکھتے کہ وہ وہاں اس طرح پچھڑے پڑے ہیں جیسے وہ کھجور کے بوسیدہ تنے ہوں۔{۷}</p>
<p> اب کیا اُن میں سے کوئی تمہیں باقی بچانظر آتا ہے ؟{۸}</p>
<p>اور اِسی خطائے عظیم کا ارتکاب فرعون اور اُس سے پہلے کے لوگوں نے اور تَل پَٹ ہوجانے والی بستیوں نے کیا۔[6]  {۹}</p>
<p>اِن سب نے اپنے رَبّ کے رسو ل کی بات نہ مانی تو اُس نے ان کو بڑی سختی کے ساتھ پکڑا۔{۱۰}</p>
<p>جب پانی کا طوفان حد سے گزر گیا[7]  تو ہم نے تم کو کشتی میں سوار کردیا تھا [8]{۱۱}</p>
<p> تا کہ اس واقعہ کو تمہارے لئے ایک سبق آموزیاد گار بنادیں اور یادرکھنے والے کان اس کی یاد محفوظ رکھیں۔[9]{ ۱۲}</p>
<p>پھر [10]جب ایک دفعہ صور میں پھونک مار دی جائیگی { ۱۳}</p>
<p>اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک ہی چوٹ میں ریزہ ریزہ کردیا جائے گا {۱۴}</p>
<p> اُس روز وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا۔ {۱۵}</p>
<p> اُس دن آسمان پھٹے گا اور اس کی بندش ڈھیلی پڑجائے گی ۔{۱۶}</p>
<p>فرشتے اس کے اطراف و جوانب میں ہوں گے اور آٹھ فرشتے اُس روز تیرے رَبّ کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔[11] {۱۷}</p>
<p>وہ دن ہوگا جب تم لوگ پیش کئے جا ؤ گے ، تمہارا کوئی راز بھی چھپانہ رہ جائے گا۔ {۱۸}</p>
<p>  اُس وقت جس کا نامۂ ا عمال اُس کے سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا[12] وہ کہے گا ’’ لو دیکھو ، پڑھو میرا  نامۂ اعمال [13]{۱۹}</p>
<p>میں سمجھتا تھا کہ مجھے ضرور اپنا حساب ملنے والا ہے‘‘۔[14]{۲۰}</p>
<p>پس وہ دل پسند عیش میں ہوگا۔{۲۱}</p>
<p> عالی مقام جنّت میں { ۲۲}</p>
<p>جس کے پھلوں کے گچھے جھکے پڑرہے ہوں گے۔ { ۲۳}</p>
<p> (ایسے لوگوں سے کہا جائے گا ) مزے سے کھا ؤ اور پیو اپنے اُن اعمال کے بدلے جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں کئے ہیں۔ { ۲۴}</p>
<p>اور جس کا نامۂ اعمال اُس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا[15] وہ کہے گا ’’کاش میرا اعمال نامہ مجھے نہ دیا گیا ہوتا[16] {۲۵}</p>
<p>اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے۔ [17]{۲۶}</p>
<p> کاش میری وہی موت ( جو دنیا میں آئی تھی) فیصلہ کُن ہوتی ۔  [18]{۲۷}</p>
<p> آج میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا۔{۲۸}</p>
<p> میرا سارا اقتدار ختم ہوگیا ‘‘۔[19]{۲۹}</p>
<p> (حکم ہوگا) پکڑو اسے اور اس کی گردن میں طوق ڈال دو{۳۰}</p>
<p>پھر اسے جہنم میں جھونک دو{۳۱}</p>
<p> پھر اس کو ستّرہاتھ لمبی زنجیر میں جکڑ دو۔ {۳۲}</p>
<p>یہ نہ اللہ بزرگ و برتر پر ایمان لاتا تھا {۳۳}</p>
<p>اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب  دیتا تھا۔[20]{۳۴}</p>
<p> لہٰذا آج نہ یہاں اس کا کوئی یا رغم خوار ہے۔{۳۵}</p>
<p>اور نہ زخموں کے دھووَن کے سوا اس کے لیے کوئی کھانا {۳۶}</p>
<p> جسے خطاکاروں کے سوا کوئی نہیں کھاتا ۔{۳۷}</p>
<p>پس نہیں،[21]میں قسم کھاتاہوں اُن چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو {۳۸}</p>
<p> اور اُن کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے ،{۳۹}</p>
<p> یہ ایک رسول ِکریم اکا قول ہے[22]{۴۰}</p>
<p> کسی شاعر کا قول نہیں ہے ، تم لوگ کم ہی ایمان لاتے ہو۔[23]{۴۱}</p>
<p> اور نہ یہ کسی کاہن کا قول ہے ، تم لوگ کم ہی غور کرتے ہو۔{ ۴۲}</p>
<p> یہ رَبّ العٰلمین کی طرف سے نازل ہوا ہے۔[24]{ ۴۳}</p>
<p>اور اگر اِس ( نبی  ؐ) نے خود گھڑ کر کوئی بات ہماری طرف منسوب کی ہوتی{۴۴}</p>
<p> تو ہم اِس کا دایاں ہاتھ پکڑلیتے  {۴۵}</p>
<p>اور اِس کی رگِ گردن کاٹ ڈالتے{۴۶}</p>
<p> پھر تم میں سے کوئی (ہمیں) اِ س کام سے روکنے والا نہ ہوتا۔[25] {۴۷}</p>
<p> درحقیقت یہ پرہیز گار لوگوں کے لیے ایک نصیحت ہے[26] {۴۸}</p>
<p> او رہم جانتے ہیں کہ تم میں سے کچھ لوگ جھٹلانے والے ہیں۔ {۴۹}</p>
<p>ایسے کافروں کے لیے یقینا یہ موجب ِحسرت ہے۔[27]{۵۰}</p>
<p> اور یہ بالکل یقینی حق ہے۔ {۵۱}</p>
<p> پس اے نبی  ؐ!اپنے ربِّ عظیم کے نام کی تسبیح کرو۔ {۵۲}</p>

</div><div id="70"><p>سورۃ المعارج </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔</p>
<p>مانگنے والے نے عذاب مانگا ہے ،[1] ( وہ عذاب ) جو ضرور واقع ہونے والا ہے{۱}</p>
<p> کافروں کے لیے ہے ، کوئی اُسے دفع کرنے والا نہیں { ۲}</p>
<p>اُس اللہ کی طرف سے ہے جو عروج کے زینوں کا مالک ہے۔[2]{ ۳}</p>
<p> ملائکہ اور روح[3]  اس کے حضور چڑھ کر جاتے ہیں[4] ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔[5]  {۴}</p>
<p> پس اے نبی  ؐ!  صبر کرو ، شائستہ صبر [6]{۵}</p>
<p> یہ لوگ اُسے دور سمجھتے ہیں{۶}</p>
<p> اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں۔[7]{۷}</p>
<p> (وہ عذاب اُس روز ہوگا ) جس[8] روز آسمان پگھلی ہوئی چاندی کی طرح ہوجائے گا[9]  {۸}</p>
<p> اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اُون جیسے ہوجائیں گے۔[10]{۹}</p>
<p> اور کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کو نہ پوچھے گا{۱۰}</p>
<p>حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے ۔ [11]مجرم چاہے گا کہ اُس دن کے عذاب سے بچنے کے لیے اپنی اولاد کو فدیہ میں دے دے{۱۱}</p>
<p>اپنی بیوی کو اور اپنے بھائی کو{۱۲}</p>
<p> اوراپنے قریب ترین خاندان کو، جو اُسے پناہ دینے والا تھا{۱۳}</p>
<p> اور روئے زمین کے سب لوگوں کو۔ اور یہ تدبیر اُسے نجات دلا دے۔ { ۱۴}</p>
<p> ہر گز نہیں ۔ وہ تو بھڑکتی ہوئی آگ کی لپٹ ہوگی {۱۵}</p>
<p>جو گوشت پوست کو چاٹ جائے گی {۱۶}</p>
<p> پکار پکار کر اپنی طرف بلائے گی ہر اُس شخص کو جس نے حق سے منہ موڑا اور پیٹھ پھیری {۱۷}</p>
<p>اور مال جمع کیا اور سینت سینت کررکھا ۔[12]{۱۸}</p>
<p>انسان تُھڑ دِلا پیدا کیا گیا ہے[13]{۱۹}</p>
<p> جب اس پر مصیبت آتی ہے تو گھبرا اُٹھتا ہے{۲۰}</p>
<p> اور جب اسے خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے۔{۲۱}</p>
<p> مگر وہ لوگ (اِس عیب سے بچے ہوئے ہیں) جو نماز پڑھنے والے ہیں[14]{ ۲۲}</p>
<p> جو اپنی نماز کی ہمیشہ پابندی کرتے ہیں[15] {۲۳}</p>
<p> جن کے مالوں میں ایک مقرر حق ہے[16] {۲۴}</p>
<p>سائل اور محروم کا{۲۵}</p>
<p>جو روز ِجزا کو برحق مانتے ہیں[17]{۲۶}</p>
<p>جو اپنے رَبّ کے عذاب سے ڈرتے ہیں[18]{۲۷}</p>
<p>کیونکہ اُن کے رَبّ کا عذاب ایسی چیز نہیں ہے، جس سے کوئی بے خوف ہو{۲۸}</p>
<p>جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں[19]{۲۹}</p>
<p> بجز اپنی بیویوں یا اپنی مملو کہ عورتوں کے جن سے محفوظ نہ رکھنے میں ان پر کوئی ملامت نہیں{۳۰}</p>
<p> البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ [20]{۳۱}</p>
<p>جو اپنی امانتوں کی حفاظت اور اپنے عہد کا پاس کرتے ہیں[21]{۳۲}</p>
<p> جو اپنی گواہیوں میں راست بازی پر قائم رہتے ہیں [22]{۳۳}</p>
<p>اور جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں [23]{۳۴}</p>
<p>یہ لوگ عزت کے ساتھ جنّت کے باغوں میں رہیں گے۔{۳۵}</p>
<p>پس اے نبی  ؐ ! کیا بات ہے کہ یہ منکرین تمہاری طرف دوڑے چلے آرہے ہیں [24]{۳۶}</p>
<p> دائیں اور بائیں گروہ در گروہ ؟{۳۷}</p>
<p>کیا اِن میں سے ہر ایک یہ لالچ رکھتا ہے کہ وہ نعمت بھری جنّت میں داخل کردیا جائیگا؟[25] {۳۸}</p>
<p>ہر گز نہیں ،ہم نے جس چیز سے ان کو پیدا کیا ہے اُسے یہ خود جانتے ہیں۔[26]{۳۹}</p>
<p> پس نہیں ،[27] میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی ،[28] ہم اس پر قادرہیں {۴۰}</p>
<p> کہ اِن کی جگہ ان سے بہتر لوگ لے آئیں اور کوئی ہم سے بازی لے جانے والا نہیں ہے۔[29]{۴۱}</p>
<p> لہٰذا انہیں اپنی بیہودہ باتوں اور اپنے کھیل میں پڑا رہنے دویہاں تک کہ یہ اپنے اُس دن کو پہنچ جائیں جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے ، {۴۲}</p>
<p> جب یہ اپنی قبروں سے نکل کر اس طرح دوڑے جارہے ہوں گے جیسے اپنے بتوں کے استھانوں کی طرف دوڑ رہے ہوں[30] {۴۳}</p>
<p> ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی ، ذِلّت ان پرچھا رہی ہوگی ۔ وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے۔{ ۴۴}</p>

</div><div id="71"><p>سورۃ نوح </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔</p>
<p>ہم نے نوحؑ کو اُس کی قوم کی طرف بھیجا ( اِس ہدایت کے ساتھ ) کہ اپنی قوم کے لوگوں کو خبردار کردے قبل اِس کے کہ اُن پر ایک درد ناک عذاب آئے۔[1]{۱}</p>
<p>اُس نے کہا :’’ اے میری قوم کے لوگو!میں تمہارے لئے ایک صاف صاف خبردار کردینے والا ( پیغمبر) ہوں۔ { ۲}</p>
<p>( تم کو آگاہ کرتا ہوں) کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو[2] {۳}</p>
<p>اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا[3] اور تمہیں ایک وقت ِمقرر تک باقی رکھے گا۔  [4]حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت جب آجاتا ہے تو پھر ٹالا نہیں جاتا، [5] کاش تمہیں اس کا علم ہو۔‘‘[6]{۴}</p>
<p> اس[7]  نے عرض کیا :’’ اے میرے رَبّ !میں نے اپنی قوم کے لوگوں کو شب وروز پکارا {۵}</p>
<p>مگر میری پکار نے اُن کے فرارہی میں اضافہ کیا۔[8]{۶}</p>
<p> اور جب بھی میں نے اُن کو بُلایا تا کہ تو اُنہیں معاف کردے ،[9] انہوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑوں سے منہ ڈھانک لئے [10] اور اپنی روش پر اڑگئے اور بڑا تکبر کیا۔[11]{۷}</p>
<p> پھر میں نے ان کو ہانکے پکارے دعوت دی۔{۸}</p>
<p> پھر میں نے علانیہ بھی ان کو تبلیغ کی اور چپکے چپکے بھی سمجھایا۔{۹}</p>
<p> میں نے کہا ’’ اپنے رَبّ سے معافی مانگو ، بے شک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے ۔{۱۰}</p>
<p> وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا{۱۱}</p>
<p> تمہیں مال اور اولاد سے نوازے گا، تمہارے لئے باغ پیدا کرے گا اور تمہارے لئے نہریں جاری کردے گا۔ [12]{۱۲}</p>
<p> تمہیں کیا ہوگیاہے کہ اللہ کے لیے تم کسی وقار کی توقع نہیں رکھتے ؟ [13]{۱۳}</p>
<p> حالانکہ اُس نے طرح طرح سے تمہیں بنایا ہے۔ [14]{۱۴}</p>
<p>کیا دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہ بہ تہ بنائے۔{۱۵}</p>
<p> اور اُن میں چاند کو نور اور سورج کو چراغ بنایا ؟ {۱۶}</p>
<p>اور اللہ نے تم کو زمین سے عجیب طرح اُگایا [15]{۱۷}</p>
<p> پھر وہ تمہیں اِسی زمین میں واپس لے جائے گا اور اس سے یکایک تم کو نکال کھڑا کرے گا۔ {۱۸}</p>
<p> اور اللہ نے زمین کو تمہارے لئے فرش کی طرح بچھادیا {۱۹}</p>
<p>تا کہ تم اس کے اندر کھلے راستوں میں چلو‘‘۔{۲۰}</p>
<p>  نوحؑ نے کہا :’’ میرے رَبّ! اُنہوں نے میری بات رد کردی اور اُن ( رئیسوں )کی پیروی کی جو مال اور اولاد پاکر اور زیادہ نا مُراد ہوگئے ہیں۔{۲۱}</p>
<p> ان لوگوں نے بڑا بھاری مکر کا جال پھیلارکھا ہے۔[16]{ ۲۲}</p>
<p> اِنہوں نے کہا ہر گز نہ چھوڑ و اپنے معبُودوں کو ، اور نہ چھوڑو  وَدّ اور سُواع کو ، اور نہ یَغُوث اور یَعُوق اور نَسر کو۔ [17]{۲۳}</p>
<p>انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کیا ہے ، اور توبھی اِن ظالموں کو گمراہی کے سوا کسی چیز میں ترقی نہ دے‘‘۔[18]{۲۴}</p>
<p> اپنی خطا ؤں کی بنا پر ہی وہ غرق کئے گئے اور آگ میں جھونک دیے گئے [19]پھر انہوں نے اپنے لئے اللہ سے بچانے والا کوئی مددگار نہ پایا۔[20]{۲۵}</p>
<p> اور نوحؑ نے کہا :’’ میرے رَبّ! ان کافروں میں سے کوئی زمین پر بسنے والا نہ چھوڑ۔{۲۶}</p>
<p> اگر تُو نے اِن کو چھوڑ دیا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان کی نسل سے جوبھی پیدا ہوگا بدکار اور سخت کا فرہی ہوگا،{۲۷}</p>
<p> میرے رَبّ !مجھے اور میرے والدین کو ، اور ہراُس شخص کو جو میرے گھر میں مومن کی حیثیت سے داخل ہوا ہے ، اور سب مومن مردوں اور عورتوں کو معاف فرمادے ، اور ظالموں کے لیے ہلاکت کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کر ‘‘۔{۲۸}</p>

</div><div id="72"><p>سورۃ  الجن </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>اَے نبی  ؐ!کہو ، میری طرف وحی بھیجی گئی ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے غور سے سنا  [1]پھر (جاکر اپنی قوم کے لوگوں سے ) کہا ’’ ہم نے ایک بڑا عجیب قرآن سنا ہے[2] {۱ }</p>
<p> جو راہِ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے اس لیے ہم اُس پر ایمان لئے آئے ہیں اور اب ہم ہر گز اپنے رَبّ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے‘‘ ۔[3]{۲}</p>
<p> اور یہ کہ ’’ ہمارے رَبّ کی شان بہت اعلیٰ وار فع ہے ، اُس نے کسی کو بیوی یابیٹا نہیں بنایا ہے ‘‘۔[4]{۳}</p>
<p> اور یہ کہ ’’ہمارے نادان لوگ[5] اللہ کے بارے میں بہت خلاف ِحق باتیں کہتے رہے ہیں‘‘۔ {۴}</p>
<p> اور یہ کہ ’’ہم نے سمجھا تھا کہ انسان اور جِنّ کبھی اللہ کے بارے میں جھوٹ نہیں بول سکتے ‘‘۔[6] {۵}</p>
<p> اور یہ کہ ’’انسانوں میں سے کچھ لوگ جُنّوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے ، اِس طرح انہوں نے جنوں کا غرور اور زیادہ بڑھا دیا‘‘۔[7]{۶}</p>
<p> اور یہ کہ ’’ انسانوں نے بھی وہی گمان کیا جیسا تمہارا گمان تھا کہ اللہ کسی کو رسول بناکر نہ بھیجے گا‘‘ ۔[8]{۷}</p>
<p>اور یہ کہ ’’ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو دیکھا کہ وہ پہر ے داروں سے پٹا پڑا ہے اور شہابوں کی بارش ہورہی ہے ‘‘۔{۸}</p>
<p> اور یہ کہ ’’ پہلے ہم سُن گُن لینے کے لیے آسمان میں بیٹھنے کی جگہ پالیتے تھے ، مگر اب جو چوری چُھپے سننے کی کوشش کرتا ہے وہ اپنے لئے گھات میں ایک شہاب ثاقب لگاہوا پاتا ہے ‘‘۔[9]{۹}</p>
<p> اور یہ کہ ’’ ہماری سمجھ میں نہ آتا تھا کہ آیازمین والوں کے ساتھ کوئی بُرامعاملہ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے یا اُن کا رَبّ اُنہیں راہ ِراست دکھانا چاہتا ہے‘‘۔[10]  {۱۰}</p>
<p>اور یہ کہ ’’ ہم میں سے کچھ لوگ صالح ہیں اور کچھ اس سے فروتر ہیں ، ہم مختلف طریقوں میں بٹے ہوئے ہیں‘‘ ۔ [11]{۱۱}</p>
<p>اور یہ کہ ’’ ہم سمجھتے تھے کہ نہ زمین میں ہم اللہ کو عاجز کرسکتے ہیں اور نہ بھاگ کراُسے ہر اسکتے ہیں ‘‘۔[12]{۱۲}</p>
<p> اور یہ کہ ’’ ہم نے جب ہدایت کی تعلیم سنی تو ہم اس پر ایمان لے آئے ۔ اب جو کوئی بھی اپنے رَبّ پر ایمان لے آئے گا اُسے کسی حق تلفی یا ظلم کا خوف نہ ہوگا‘‘۔[13]{۱۳}</p>
<p> اور یہ کہ ’’ہم میں سے کچھ مسلم ( اللہ کے اطاعت گزار ) ہیں اور کچھ حق سے منحرف ۔تو جنہوں نے اسلام (اطاعت کا راستہ ) اختیار کرلیا اُنہوں نے نجات کی راہ ڈھونڈلی{۱۴}</p>
<p> اور جو حق سے منحرف ہیں وہ جہنم کا ایندھن بننے والے ہیں‘‘ ۔ [14]{۱۵}</p>
<p> اور [15] ( اے نبی  ؐ!  کہو ، مجھ پر یہ وحی بھی کی گئی ہے کہ ) لوگ اگرراہِ راست پر ثابت قدمی سے چلتے تو ہم انہیں خوب سیراب کرتے[16]{۱۶}</p>
<p> تا کہ ِاس نعمت سے اُن کی آزمائش کریں[17] اور جو اپنے رَبّ کے ذکر سے منہ موڑے گا [18]اُس کار ب اسے سخت عذاب میں مبتلا کردے گا۔{۱۷}</p>
<p> اور یہ کہ مسجدیں اللہ کے لیے ہیں ، لہٰذا  اُن میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔[19] {۱۸}</p>
<p> اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ[20] اُس کو پکارنے کے لیے کھڑا ہو ا تو لوگ اُس پر ٹوٹ پڑنے کے لیے تیار ہوگئے۔{۱۹}</p>
<p>اے نبی  ؐ! [21]کہو کہ ’’ میں تو اپنے رَبّ کو پُکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا ‘‘{۲۰}</p>
<p> کہو ، ’’میں تم لوگوں کے لیے نہ کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں نہ کسی بھلائی کا {۲۱}</p>
<p> کہو، مجھے اللہ کی گرفت سے کوئی بچانہیں سکتا اور نہ میں اُس کے دامن کے سوا کوئی جائے پنا ہ پاسکتا ہوں۔ {۲۲}</p>
<p> میرا کام اِس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ کی بات اور اس کے پیغامات پہنچا دوں۔[22] اب جو بھی اللہ اور اس کے رسُول  ؐ کی بات نہ مانے گا اس کے لیے جہنم کی آگ ہے اور ایسے لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے ‘‘۔[23]{۲۳}</p>
<p> ( یہ لوگ اپنی اس روش سے باز نہ آئیں گے ) یہاں تک کہ جب اُس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس کے مدد گار کمزور ہیں اور کس کا جتھا تعداد میں کم ہے۔[24]{ ۲۴}</p>
<p> کہو ، ’’میں نہیں جانتا کہ جس  چیز کا وعدہ تم سے کیا جارہا ہے ۔ وہ قریب ہے یا میرا رَبّ اس کے لیے کوئی لمبی مدّت مقرر فرماتا ہے ۔[25]{۲۵}</p>
<p>وہ عالم الغیب ہے ، اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا[26]{۲۶}</p>
<p> سوائے اُس رسول کے جسے اُس نے (غیب کا علم دینے کے لیے ) پسند کرلیا ہو[27]  تو اُس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگادیتا ہے[28] {۲۷}</p>
<p>تا کہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے رَبّ کے پیغامات پہنچا دیے،[29] اور وہ اُن کے پُورے ماحول کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ایک ایک چیز کو اس نے گِن رکھا ہے۔[30]{۲۸}</p>

</div><div id="73"><p>سورۃ  المزمل </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>اے اوڑھ لپٹ کر سونے والے! [1]{۱}</p>
<p> رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو مگر کم[2]{۲}</p>
<p> آدھی رات ، یا اس سے کچھ کم کرلو { ۳}</p>
<p> یا اس سے کچھ زیادہ بڑھا دو ،[3] اور قرآن کو خوب ٹھہرٹھہر کر پڑھو۔ [4]{ ۴}</p>
<p> ہم تم پر ایک بھاری کلام نازِل کرنے والے ہیں۔[5]{۵}</p>
<p>درحقیقت رات کا اٹھنا[6] نفس پر قابو پانے کے لیے بہت کارگر[7] اور (قرآن) ٹھیک پڑھنے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔[8]{۶}</p>
<p>دن کے اوقات میں تو تمہارے لئے بہت مصروفیات ہیں۔ {۷}</p>
<p>اپنے رَبّ کے نام کا ذکر کیا کرو [9]اور سب سے کٹ کر اُسی کے ہو رہو ۔{۸}</p>
<p> وہ مشرق و مغرب کا مالک ہے ، اُس کے سوا کوئی الٰہ ( معبُود ) نہیں ہے ، لہٰذا اُسی کو اپنا وکیل بنالو[10] {۹}</p>
<p> اور جو باتیں لوگ بنارہے ہیں ان پر صبر کرو اور شرافت کے ساتھ اُن سے الگ ہوجا ؤ ۔[11]{۱۰}</p>
<p> ان جھٹلانے والے خوشحال لوگوں سے نمٹنے کا کام تم مجھ پر چھوڑ دو[12] اور انہیں ذرا کچھ دیر اِسی حالت پر رہنے دو{۱۱}</p>
<p> ہمارے پاس(ان کے لیے ) بھاری بیڑ یاں ہیں [13]اور بھڑکتی ہوئی آگ{۱۲}</p>
<p> اور حلق میں پھنسنے والا کھانا اور درد ناک عذاب۔ {۱۳}</p>
<p> یہ اُس دن ہوگا جب زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے اور پہاڑوں کا حال ایسا ہوجائے گا جیسے ریت کے ڈھیر ہیں جو بکھرے جارہے ہیں۔ [14]{۱۴}</p>
<p>تم [15]لوگوں  کے پاس ہم نے اُسی طرح ایک رسُول  ؐ تم پر گواہ بنا کر بھیجا[16] ہے جس طرح ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا تھا۔{۱۵}</p>
<p> ( پھر دیکھ لو جب ) فرعون نے اُس رسول کی بات نہ مانی تو ہم نے اُس کو بڑی سختی کے ساتھ پکڑلیا۔{۱۶}</p>
<p> اگر تم ماننے سے انکا ر کرو گے تو اُس دن کیسے بچ جا ؤ گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا[17] {۱۷}</p>
<p>اور جس کی سختی سے آسمان پھٹا جارہا ہوگا ؟ اللہ کا وعدہ تو پورا ہو کرہی رہنا ہے۔ {۱۸}</p>
<p> یہ ایک نصیحت ہے ، اب جس کاجی چاہے اپنے رَبّ کی طرف جانے کا راستہ اختیار کرلے۔ {۱۹}</p>
<p>اے نبی  ؐ ! [18] تمہارا رَبّ جانتا ہے کہ تم کبھی دوتہائی رات کے قریب اور کبھی آدھی رات اور کبھی ایک تہائی رات عبادت میں کھڑے رہتے ہو ،[19] اور تمہارے ساتھیوں میں سے بھی ایک گروہ یہ عمل کرتاہے۔[20] اللہ ہی رات اور دن کے اوقات کا حساب رکھتا ہے ، اُسے معلوم ہے کہ تم لوگ اوقات کا ٹھیک شمار نہیں کرسکتے ، لہٰذا اس نے تم پر مہربانی فرمائی ، اب جتنا قرآن آسانی سے پڑھ سکتے ہو پڑھ لیا کرو[21]  اُسے معلوم ہے کہ تم میں کچھ مریض ہوں گے ، کچھ دوسرے لوگ اللہ کے فضل کی تلاش میں سفر کرتے ہیں،[22] اور کچھ اور لوگ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں ۔ [23]پس جتنا قرآن بآسانی پڑھا جاسکے پڑھ لیا کرو ، نماز قائم کرو ، زکوٰۃ[24] دو اور اللہ کو اچھا قرض دیتے رہو۔[25] جو کچھ بھلائی تم اپنے لئے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں موجود پا ؤ گے ، وہی زیادہ بہتر ہے اور اس کا اجر بہت بڑا ہے ۔[26] اللہ سے مغفرت مانگتے رہو ، بے شک اللہ بڑا غفور ورحیم ہے۔{۲۰}</p>

</div><div id="74"><p>سورۃ  المدثر </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>اے اوڑھ  لپیٹ کرلیٹنے والے[1]{۱}</p>
<p>اٹھو اور خبردار کرو۔[2]{۲}</p>
<p> اور اپنے رَبّ کی بڑائی کا اعلان کرو۔[3] {۳}</p>
<p> اور اپنے کپڑے پاک رکھو [4]{ ۴}</p>
<p> اور گندگی سے دُور رہو۔[5]{ ۵}</p>
<p> اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لیے [6]{۶}</p>
<p>اور اپنے رَبّ کی خاطر صبر کرو۔[7]{۷}</p>
<p>اچھا! جب  صور میں پھونک ماری جائے گی{۸}</p>
<p> وہ دن بڑاہی سخت دن ہوگا [8]{۹}</p>
<p>کافروں کے لیے ہلکانہ ہوگا۔ [9]{۱۰}</p>
<p> چھوڑ دو مجھے اوراُس شخص [10]کو جسے میں نے اکیلا پیداکیا [11]{۱۱}</p>
<p>بہت سامال اُس کو دیا ۔ {۱۲}</p>
<p>اُس کے ساتھ حاضر رہنے والے بیٹے دیے[12] {۱۳}</p>
<p> اور اس کے لیے ریاست کی راہ ہموار  کی {۱۴}</p>
<p>پھر وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں۔[13] {۱۵}</p>
<p> ہرگز نہیں وہ ہماری آیات سے عنادرکھتا ہے۔ {۱۶}</p>
<p> میں تواسے عنقریب ایک کٹھن چڑھائی چڑھوا ؤں گا ۔{۱۷}</p>
<p>اُس نے سوچا اور کچھ بات بنانے کی کوشش کی۔{۱۸}</p>
<p> تو اللہ کی مار اُس پر،کیسی بات بنانے کی کوشش کی۔{۱۹}</p>
<p> ہاں! اللہ کی مار اُس پر ، کیسی بات بنانے کی کوشش کی{۲۰}</p>
<p> پھر ( لوگوں کی طرف) دیکھا۔ {۲۱}</p>
<p> پھر پیشانی سکیڑی اور منہ  بنایا ۔ {۲۲}</p>
<p> پھر پلٹا اور تکبّر میں پڑگیا{۲۳}</p>
<p>آخر کار بولا کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر ایک جادو جو پہلے سے چلا آرہا ہے {۲۴}</p>
<p> یہ توایک انسانی کلام ہے ۔[14]{۲۵}</p>
<p> عنقریب میں اسے دوزخ میں جھونک دو نگا {۲۶}</p>
<p> اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دوزخ ؟{۲۷}</p>
<p> نہ باقی رکھے نہ چھوڑے۔ [15]{۲۸}</p>
<p> (آدمی کی)کھال جھلس دینے والی [16]{۲۹}</p>
<p> انیس کارکن اس پر مقرر ہیں۔ {۳۰}</p>
<p> ہم [17]نے دوزخ کے یہ کارکن فرشتے بنائے ہیں[18]اور ان کی تعداد کو کافروں کے لیے فتنہ بنادیا ہے ،[19] تا کہ اہلِ کتاب کو یقین آجائے [20]اور ایمان لانے والوں کا ایمان بڑھے ،[21] اور اہلِ کتاب اور مومنین کسی شک میں نہ رہیں اور دل کے بیمار [22]اور کفّار یہ کہیں کہ بھلا اللہ کا اِس عجیب بات سے کیا مطلب ہوسکتا ہے۔[23] اس طرح اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت بخش دیتا ہے۔[24] اور تیرے رَبّ کے لشکروں کو خوداس کے سوا کوئی نہیں[25] جانتا۔ اور اس دوزخ کا ذکر اِس کے سوا کسی غرض کے لیے نہیں کیا گیا ہے کہ لوگوں کو اس سے نصیحت ہو۔[26]{۳۱}</p>
<p>ہرگز نہیں[27] قسم ہے چاند کی{۳۲}</p>
<p>اور رات کی جبکہ وہ پلٹتی ہے {۳۳}</p>
<p>اور صبح کی جبکہ وہ روشن ہوتی ہے{ ۳۴}</p>
<p>یہ دوزخ بھی بڑی چیزوں میں سے ایک ہے، [28]{۳۵}</p>
<p> انسانوں کے لیے ڈراوا {۳۶}</p>
<p> تم میں سے ہراُس شخص کے لیے (ڈراوا) جو آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے رہ جانا چاہے۔[29]{۳۷}</p>
<p>  ہر شخص اپنے کسب کے بدلے رہن ہے[30] {۳۸}</p>
<p> دائیں بازو والوں کے سوا [31]{۳۹}</p>
<p>جو جنتوں میں ہوں گے۔ وہ پوچھیں گے[32] {۴۰}</p>
<p> مجرموں سے {۴۱}</p>
<p>‘‘ تمہیں کیا چیز دوزخ میں لے گئی ’’؟ {۴۲}</p>
<p> وہ کہیں گے ’’ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے[33]{۴۳}</p>
<p>اور مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے ،[34]{۴۴}</p>
<p> اور حق کے خلاف باتیں بنانے والوں کے ساتھ مل کرہم بھی باتیں بنانے لگتے تھے {۴۵}</p>
<p>اور روز جزاکو جھوٹ قرار دیتے تھے{۴۶}</p>
<p> یہاں تک کہ ہمیں اُس یقینی چیز سے سابقہ پیش آگیا ‘‘۔[35]{۴۷}</p>
<p> اُس وقت سفارش کرنے والوں کی کوئی سفارش ان کے کسی کام نہ آئے گی۔[36]{۴۸}</p>
<p>  آخر اِن لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ اِس نصیحت سے منہ موڑرہے ہیں{۴۹}</p>
<p> گویا یہ جنگلی گدھے ہیں{۵۰}</p>
<p>جو شیر سے ڈرکر بھاگ پڑے ہیں[37]{۵۱}</p>
<p> بلکہ ان میں سے تو ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ اُس کے نام کھلے خط بھیجے جائیں۔  [38]{۵۲}</p>
<p> ہرگز نہیں، اصل بات یہ ہے کہ یہ آخرت کا خوف نہیں رکھتے۔[39]{۵۳}</p>
<p>ہرگز نہیں ،[40] یہ تو ایک نصیحت ہے{ ۵۴}</p>
<p>اب جس کاجی چاہے اس سے سبق حاصل کرلے {۵۵}</p>
<p> اور یہ کوئی سبق حاصل نہ کریں گے اِ لاّ یہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے ۔[41] وہ اس کا حق دار ہے کہ اُس سے تقویٰ کیا جائے [42]اور وہ اس کا اہل ہے کہ ( تقویٰ کرنے والوں کو ) بخش دے۔[43]{۵۶}</p>

</div><div id="75"><p>سورۃ  القیٰمۃ </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>نہیں، [1] میں قسم کھاتا ہو ں قیامت کے دن کی {۱}</p>
<p>اور نہیں ، میں قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی[2] {۲}</p>
<p> کیا انسان یہ سمجھ رہا ہے کہ ہم اُس کی ہڈیوں کو جمع نہ کرسکیں گے ؟[3]{۳}</p>
<p>کیوں نہیں ؟ ہم تو اس کی اُنگلیوں کی پور پور تک ٹھیک بنادینے پر قادر ہیں۔[4]{۴}</p>
<p> مگر انسان چاہتا یہ ہے کہ آگے بھی بداعمالیاں کرتارہے۔[5] {۵}</p>
<p> پوچھتا ہے ’’ آخر کب آنا ہے وہ قیامت کا دن ؟‘‘[6]{۶}</p>
<p>پھر جب دیدے پتھر ا جائیں گے[7]{۷}</p>
<p>اور چاند بے نور ہوجائے گا {۸}</p>
<p>اور چاند سُورج ملا کر ایک کردئے جائیں گے[8]{۹}</p>
<p> اُس وقت یہی انسان کہے گا ’’ کہاں بھاگ کر جا ؤں ؟‘‘{۱۰}</p>
<p> ہر گز نہیں ، وہاں کوئی جائے پناہ نہ ہوگی {۱۱}</p>
<p>اُس روز تیرے رَبّ ہی کے سامنے جاکر ٹھہرنا ہوگا۔{ ۱۲}</p>
<p> اُس روز انسان کو اس کا سب اگلا پچھلا کیا کرایا بتادیا جائے گا [9]{۱۳}</p>
<p> بلکہ انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے{۱۴}</p>
<p> چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے[10] {۱۵}</p>
<p>( اے نبی  ؐ! [11])اس وحی کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دو {۱۶}</p>
<p>اس کو یاد کرا دینا اور پڑھو ادینا ہمارے ذمّہ ہے {۱۷}</p>
<p> لہٰذا جب ہم اِسے پڑھ رہے ہوں[12] اُس وقت تم اِس کی قرأت کو غور سے سُنتے رہو {۱۸}</p>
<p> پھر اس کا مطلب سمجھا دینا بھی ہمارے ہی ذمّہ ہے۔[13] {۱۹}</p>
<p> ہرگز نہیں، [14] اصل بات یہ ہے کہ تم لوگ جلدی حاصل ہونے والی چیز( یعنی دنیا) سے محبت رکھتے ہو {۲۰}</p>
<p> اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو[15]{۲۱}</p>
<p> اُس روز کچھ چہرے تروتازہ ہوں گے[16]{ ۲۲}</p>
<p> اپنے رَبّ کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔[17]{۲۳}</p>
<p> اور کچھ چہرے اُداس ہوں گے{ ۲۴}</p>
<p> اور سمجھ رہے ہوں گے کہ اُن کے ساتھ کمر توڑ برتا ؤ ہونے والا ہے۔{۲۵}</p>
<p> ہر گز نہیں،[18] جب جان حلق تک پہنچ جائے گی {۲۶}</p>
<p>اور کہا جائے گا کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا[19]{۲۷}</p>
<p> اور آدمی سمجھ لے گا کہ یہ دنیا سے جدائی کا وقت ہے {۲۸}</p>
<p> اور پنڈلی سے پنڈلی جڑجائے گی[20]{۲۹}</p>
<p> وہ دن ہوگا تیرے رَبّ کی طرف روانگی کا ۔{۳۰}</p>
<p> مگر اس نے نہ سچ مانا اور نہ نماز پڑھی {۳۱}</p>
<p> بلکہ جھٹلایا اور پلٹ گیا {۳۲}</p>
<p> پھر اکڑتا ہو ا اپنے گھروالوں کی طرف چل دیا ۔[21]{۳۳}</p>
<p>یہ روش تیرے ہی لئے سزاوار ہے اور تجھی کو زیب دیتی ہے۔[22] {۳۴}</p>
<p>ہاں یہ روش تیرے ہی لئے سزاوار ہے اور تجھی کو زیب دیتی ہے ۔{۳۵}</p>
<p>کیا[23] انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ یو نہی مہمل چھوڑ دیا جائیگا؟ [24]{۳۶}</p>
<p>کیا وہ ایک حقیر پانی کا نطفہ نہ تھا جو ( رحمِ مادر میں ) ٹپکا یا جاتا ہے ؟ {۳۷}</p>
<p> پھر وہ ایک لوتھڑابنا ، پھر اللہ نے اس کا جسم بنایا اور ا سکے اعضادرست کئے{۳۸}</p>
<p>پھر اس سے مرد اور عورت کی دوقسمیں بنائیں{۳۹}</p>
<p> کیا وہ اس پر قادر نہیں ہے کہ مرنے والوں کو پھر سے زندہ کردے ؟[25]{۴۰}</p>

</div><div id="76"><p>سورۃالدھر </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>کیا انسان پر لامُتنَاہی زمانے کا ایک وقت ایسا بھی گزراہے جب وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا؟[1]{۱}</p>
<p> ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا[2] تا کہ اس کا امتحان لیں [3]اور اِس غرض کے لیے ہم نے اُسے سننے اور دیکھنے والا بنایا ۔[4]{۲}</p>
<p> ہم نے اسے راستہ دکھا دیا ، خواہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا [5]{۳}</p>
<p>کفر کرنے والوں کے لیے ہم نے زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ مہیّاکررکھی ہے۔ { ۴}</p>
<p>نیک لوگ [6] ( جنّت میں ) شراب کے ایسے ساغر پییں گے جن میں آبِ کا فور کی آمیزش ہوگی{۵}</p>
<p>یہ ایک بہتا چشمہ[7] ہوگا جس کے پانی کے ساتھ اللہ کے بندے[8] شراب پییں گے اور جہاں چاہیں گے بسہولت اس کی شاخیں نکال لیں گے۔[9]{۶}</p>
<p> یہ وہ لوگ ہوں گے جو ( دنیا میں) نذرپوری کرتے ہیں ،[10] اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی آفت ہر طرف پھیلی ہوئی ہوگی {۷}</p>
<p> اور اللہ کی محبت[11] میں مسکین اور یتیم او ر قیدی[12] کو کھانا کھلاتے ہیں[13]{۸}</p>
<p> (اور اُن سے کہتے ہیں کہ ) ’’ ہم تمہیں صرف اللہ کی خاطر کھلارہے ہیں ، ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ[14]{۹}</p>
<p>ہمیں تو اپنے رَبّ سے اُس دن کے عذاب کا خوف لاحق ہے جو سخت مصیبت کا انتہائی طویل دن ہوگا‘‘ ۔{۱۰}</p>
<p> پس اللہ تعالیٰ انہیں اُس دن کے شر سے بچالے گا اور انہیں تازگی اور سرور بخشے گا [15]{۱۱}</p>
<p> اوراُن کے صبر کے بدلے  میں[16] انہیں جنّت اور ریشمی لباس عطا کرے گا{۱۲}</p>
<p>وہاں وہ اونچی مسندوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے ۔ نہ اُنہیں دھوپ کی گرمی ستائے گی نہ جاڑے کی ٹِھر{ ۱۳}</p>
<p>جنّت کی چھا ؤں ان پر جھکی ہوئی سایہ کررہی ہوگی اور اس کے پھل ہر وقت اُن کے بس میں ہوں گے ( کہ جس طرح چاہیں انہیں توڑلیں)۔{ ۱۴}</p>
<p> اُن کے آگے چاندی کے برتن[17] اور شیشے کے پیالے گردش کرائے جارہے ہوں گے{۱۵}</p>
<p> شیشے بھی وہ جو چاندی کی قسم کے ہوں گے،[18] اور ان کو ( منتظمین جنّت نے) ٹھیک اندازے کے مطابق بھرا ہوگا ۔[19]{۱۶}</p>
<p> ان کو وہاں ایسی شراب کے جام پلائے جائیں گے جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی{۱۷}</p>
<p> یہ جنّت کا ایک چشمہ ہوگا جسے سلسبیل کہا جاتا ہے۔[20]{۱۸}</p>
<p> ان کی خدمت کے لیے ایسے لڑکے دوڑتے پھر رہے ہوں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے ۔ تم اُنہیں دیکھو تو سمجھو کہ موتی ہیں جو بکھیر دیے گئے ہیں۔ [21]{۱۹}</p>
<p> وہاں جدھر بھی تم نگاہ ڈالو گے نعمتیں ہی نعمتیں اور ایک بڑی سلطنت کا سروسامان تمہیں نظر آئے گا۔[22]{۲۰}</p>
<p> اُن کے اوپر باریک ریشم کے سبزلباس اور اطلس و دیبا کے کپڑے ہوں گے ،[23] ان کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے[24] اور ان کا رَبّ ان کو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا ۔[25]{۲۱}</p>
<p> یہ ہے تمہاری جزا اور تمہاری کار گزاری قابل قدر ٹھہری ہے۔ [26]{ ۲۲}</p>
<p>اے نبی  ؐ! ہم نے ہی تم پر یہ قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے [27] {۲۳}</p>
<p> لہٰذا تم اپنے رَبّ کے حکم پر صبر کرو ،[28] اور اِن میں سے کسی بدعمل یا منکر حق کی بات نہ مانو۔[29]{ ۲۴}</p>
<p> اپنے رَبّ کا نام صبح و شام یاد کرو{۲۵}</p>
<p> رات کو بھی اس کے حضور سجدہ ریز ہو ، اور رات کے طویل اوقات میں اس کی تسبیح کرتے رہو۔[30]{۲۶}</p>
<p> یہ لوگ تو جلدی حاصل کرنے والی چیز ( دنیا ) سے محبت رکھتے ہیں اور آگے جو بھاری دن آنے والا ہے اسے نظر انداز کردیتے ہیں۔[31]{۲۷}</p>
<p>ہم نے ہی اِن کو پیدا کیا ہے اور اِن کے جوڑبند مضبوط کئے ہیں اور ہم جب چاہیں ان کی شکلوں کو بدل کررکھ دیں۔[32] {۲۸}</p>
<p>یہ ایک نصیحت ہے ، اب جس کاجی چاہے اپنے رَبّ کی طرف جانے کا راستہ اختیار کرلے۔ {۲۹}</p>
<p> اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ نہ چاہے ۔[33] یقینا اللہ بڑا علیم وحکیم ہے {۳۰}</p>
<p> اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے داخل کرتا ہے ، اور ظالموں کے لیے اس نے درد ناک عذاب تیار کررکھا ہے۔[34]{۳۱}</p>

</div><div id="77"><p>سورۃ  المرسلات </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>قسم ہے اُن ( ہوا ؤں )کی جو پے درپے بھیجی جاتی ہیں{۱}</p>
<p> پھر طوفانی رفتار سے چلتی ہیں{ ۲}</p>
<p> اور (بادلوں کو ) اٹھا کر پھیلاتی ہیں{۳}</p>
<p> پھر ( اُن کو ) پھاڑکر جدا کرتی ہیں { ۴}</p>
<p> پھر ( دلوں میں اللہ کی) یاد ڈالتی ہیں{۵}</p>
<p> عذر کے طور پر یاڈراوے کے طور پر[1]{۶}</p>
<p>جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے [2]وہ ضرور واقع ہونے والی ہے۔[3] {۷}</p>
<p>پھر جب ستارے ماندپڑ جائیں گے[4]{۸}</p>
<p> اور آسمان پھاڑ دیا جائیگا[5]{۹}</p>
<p> اور پہاڑ دُھنک ڈالے جائیں گے{۱۰}</p>
<p> اور رسولول کی حاضری کا وقت آپہنچے گا [6]{۱۱}</p>
<p> ( اس روز وہ چیز واقع ہوجائے گی) کس روز کے لیے یہ کام اٹھارکھا گیا ہے ؟{۱۲}</p>
<p> فیصلے کے روز کے لیے{۱۳}</p>
<p>اور تمہیں کیا خبر کہ وہ فیصلے کا دن کیا ہے ؟ {۱۴}</p>
<p> تباہی ہے اُس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔[7] {۱۵}</p>
<p> کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہیں کیا ؟[8] {۱۶}</p>
<p> پھر اُنہی کے پیچھے ہم بعد والوں کو چلتا کریں گے۔[9] {۱۷}</p>
<p> مجرموں کے ساتھ ہم یہی کچھ کیا کرتے ہیں۔{۱۸}</p>
<p> تباہی ہے اُس دن جھٹلانے والو ں کے لیے ۔[10]{۱۹}</p>
<p> کیا ہم نے ایک حقیر پانی سے تمہیں پیدانہیں کیا {۲۰}</p>
<p>اور اُسے ایک محفوظ جگہ ٹھہرائے رکھا۔ [12]{۲۱}</p>
<p> ایک مقررہ مدّت تک[11]{۲۲}</p>
<p> تو دیکھو ، ہم اس پر قادر تھے پس ہم بہت اچھی قدرت رکھنے والے ہیں۔[13]{۲۳}</p>
<p> تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے [14]{۲۴}</p>
<p>کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا {۲۵}</p>
<p>زندوں کے لیے بھی اور مُردوں کے لیے بھی {۲۶}</p>
<p> اور اس میں بلندو بالا پہاڑ جمائے ، اورتمہیں میٹھا پانی پلایا؟[15] {۲۷}</p>
<p>تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے[16] {۲۸}</p>
<p>چلو[17] اب اُسی چیز کی طرف جسے تم جھٹلایا کرتے تھے {۲۹}</p>
<p> چلو اس سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے۔[18] {۳۰}</p>
<p>نہ ٹھنڈک پہنچانے والا اور نہ آگ کی لپٹ سے بچانے والا {۳۱}</p>
<p> وہ آگ محل جیسی بڑی بڑی چنگاریاں پھینکے گی{۳۲}</p>
<p>( جو اُچھلتی ہوئی یوں محسوس ہوں گی) گویا کہ وہ زرد اُونٹ ہیں[19]{۳۳}</p>
<p> تباہی ہے اُ س روز جھٹلانے والوں کے لیے {۳۴}</p>
<p>یہ وہ دن ہے جس میں وہ نہ کچھ بولیں گے {۳۵}</p>
<p> اور نہ انہیں موقع دیاجاے گا کہ کوئی عذر پیش کریں۔[20] {۳۶}</p>
<p> تباہی ہے اُس دن جھٹلانے والوں کے لیے ۔{۳۷}</p>
<p>یہ فیصلے کا دن ہے۔ ہم نے تمہیں اور تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو جمع کردیا ہے۔{۳۸}</p>
<p>اب اگر کوئی چال تم چل سکتے ہو تو میرے مقابلے میں چل دیکھو۔[21]{۳۹}</p>
<p>تباہی ہے اُس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔ {۴۰}</p>
<p> متقی[22] لوگ آج سایوں اور چشموں میں ہیں{۴۱}</p>
<p> اور جو پھل وہ چاہیں ( اُن کے لیے حاضر ہیں) {۴۲}</p>
<p> کھا ؤ اور پیو مزے سے اپنے اُن اعمال کے صلے میں جو تم کرتے رہے ہو۔{ ۴۳}</p>
<p> ہم نیک لوگوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔{ ۴۴}</p>
<p> تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے۔ [33]{۴۵}</p>
<p>کھالو [34] اور مزے کر لو تھوڑے دن ،[35]حقیقت میں تم لوگ مجرم ہو۔{۴۶}</p>
<p> تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے۔{۴۷}</p>
<p> جب ان سے کہاجاتا ہے کہ ( اللہ کے آگے ) جھکو تو نہیں جھکتے ۔[36]{۴۸}</p>
<p>تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے۔ {۴۹}</p>
<p>اب اِس (قرآن) کے بعد اور کون سا کلام ایسا ہوسکتا ہے جس پر یہ ایمان لائیں ؟[37]{۵۰}</p>

</div><div id="78"><p>سورۃ  النبا </p>
<p>اللہ کے  نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کررہے ہیں ؟{۱}</p>
<p> کیا اُس بڑی خبر کے بارے میں{ ۲}</p>
<p> جس کے متعلق یہ مختلف چہ مگوئیاں کرنے میں لگے ہوئے ہیں ؟[1]{۳}</p>
<p> ہر گز نہیں [2] عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا { ۴}</p>
<p> ہاں، ہر گز نہیں ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا[3]{۵}</p>
<p>کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا؟[4]{۶}</p>
<p> اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑدیا[5] {۷}</p>
<p> اورہم نے تمہیں ( مَردوں اور عورتوں کے ) جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا [6]{۸}</p>
<p> اور(ہم ہی نے)  تمہاری نیند کو باعث سکون بنایا [7]{۹}</p>
<p>اور(ہم نے) رات کو پردہ پوش بنایا{۱۰}</p>
<p> اور(ہم ہی نے)  دن کو معاش کا وقت بنایا [8]{۱۱}</p>
<p> اور تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان ہم نے قائم کئے [9]{ ۱۲}</p>
<p>اور ایک نہایت روشن اور گرم چراغ (ہم نے )پیدا کیا [10]{۱۳}</p>
<p>اور بادلوں سے لگاتا ر بارش (ہم نے) برسائی{۱۴}</p>
<p>تا کہ اُگائیں(ہم نکالیں) اس کے ذریعہ سے غلّہ اور سبزی {۱۵}</p>
<p> اور گھنے باغ ۔[11]{۱۶}</p>
<p>بے شک فیصلے کا دن ایک مقرر وقت ہے {۱۷}</p>
<p> جس روز صُور میں پھُونک ماردی جائیگی ،تم فوج درفوج نکل آ ؤ گے۔ [12]{۱۸}</p>
<p> اور آسمان کھول دیا جائے گا حتیٰ کہ وہ دروازے ہی دروازے بن کررہ جائے  گا{۱۹}</p>
<p>اور پہاڑ چلائے جائیں گے یہاں تک کہ وہ سراب ہوجائیں گے۔[13] {۲۰}</p>
<p>درحقیقت جہنم ایک گھات ہے [14]{۲۱}</p>
<p> سرکشوں کا ٹھکانا {۲۲}</p>
<p>جس میں وہ مدتوں پڑے رہیں گے۔[15]{ ۲۳}</p>
<p>اس کے اندر کسی ٹھنڈک اور پینے کے قابل کسی چیز کا مزہ نہ چکھیں گے { ۲۴}</p>
<p>کچھ ملے گا تو بس گرم پانی اور زخموں کا دھوون[16]{۲۵}</p>
<p> ( اُن کے کرتُوتوں) کا بھرپور بدلہ {۲۶}</p>
<p> وہ کسی حساب کی توقع نہ رکھتے تھے {۲۷}</p>
<p>اور ہماری آیات کو انہوں نے بالکل جُھٹلادیا تھا[17]{۲۸}</p>
<p> اور حال یہ تھا کہ ہم نے ہر چیز گِن گِن کر لکھ رکھی تھی ۔[18]{۲۹}</p>
<p> اب چکھو مزہ ،ہم تمہارے لئے عذاب کے سوا کسی چیز میں ہر گز اضافہ نہ کریں گے۔ {۳۰}</p>
<p>یقینا متقیوں[19] کے لیے کامرانی کا ایک مقام ہے {۳۱}</p>
<p>باغات اور انگور ہوں گے۔{ ۳۲}</p>
<p> اور نوخیز ہم سن لڑکیاں[20] {۳۳}</p>
<p> اور چھلکتے ہوئے جام { ۳۴}</p>
<p> وہاں کوئی لغو اورجُھوٹی بات وہ نہ سنیں گے۔ [21]{ ۳۵}</p>
<p> جزاء اور کافی انعام[22] تمہارے رَبّ کی طرف سے {۳۶}</p>
<p> اُس نہایت مہربان رَبّ کی طرف سے جو زمین اور آسمانوں کا اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا مالک ہے ،جس کے سامنے کسی کو بولنے کا یارا نہیں،[23] {۳۷}</p>
<p>جس روز [24]روح اور ملائکہ صف بستہ کھڑے ہوں گے ،کوئی نہ بولے گا سوائے اُس کے جسے رحمان اجازت دے اور جو ٹھیک بات کہے۔[25]{۳۸}</p>
<p>وہ دن برحق ہے، اب جس کا جی چاہے اپنے ربّ کی طرف پلٹنے کا راستہ اختیار کرلے ۔{۳۹}</p>
<p>ہم نے تم لوگوں کو اُس عذاب سے ڈرا دیا ہے جو قریب آلگا ہے،[26] جس روز آدمی وہ سب کچھ دیکھ لے گا جو اُس کے ہاتھو ں نے آگے بھیجا ہے، اور کافر پکاراُٹھے گا کہ کاش میں خاک ہوتا۔[27]{۴۰}</p>

</div><div id="79"><p>سورۃ  النازعات </p>
<p> اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہر بان رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>قسم ہے اُن ( روح نکالنے والے فرشتوں ) کی جو ڈوب کر کھینچتے ہیں {۱}</p>
<p> اور آہستگی سے(روح) نکال لے جاتے ہیں  {۲}</p>
<p>اور (اُن فرشتوں کی جو کائنا ت میں ) تیزی سے تیرتے پھرتے ہیں {۳}</p>
<p>پھر (حکم بجالانے میں ) سبقت کرتے ہیں  {۴}</p>
<p>پھر (احکام الہٰی کے مطابق ) معاملات کا انتظام چلاتے ہیں۔ [1]{۵}</p>
<p> جس روز ہلامارے گا،زلزلے کا جھٹکا {۶}</p>
<p>اور اس کے پیچھے ایک اور جھٹکا پڑے گا[2]{۷}</p>
<p> کچھ دل ہوں گے جو اُس روز خوف سے کانپ رہے ہوں گے[3] {۸}</p>
<p>نگاہیں اُن کی سہمی ہوئی ہوں گی۔{۹}</p>
<p> یہ لوگ کہتے ہیں ’’ کیا واقعی ہم پلٹا کر پھر واپس لائے جائیں گے ؟ {۱۰}</p>
<p> کیا جب ہم کھوکھلی بوسیدہ ہڈیاں بن چکے ہوں گے ؟‘‘{۱۱}</p>
<p> کہنے لگے ’’ یہ واپسی تو پھر بڑے گھاٹے کی ہوگی‘‘۔[4]{ ۱۲}</p>
<p>حالاں کہ یہ بس اتنا کام ہے کہ ایک زور کی ڈانٹ پڑے گی {۱۳}</p>
<p>اور یکایک یہ کھلے میدان میں موجود ہوں گے۔[5]{ ۱۴}</p>
<p> کیا [5]تمہیں موسیٰ  ؑ کے قصے کی خبر پہنچی ہے ؟{۱۵}</p>
<p> جب اس کے ربّ نے اُسے طُویٰ کی مقدس وادی [7]میں پکارا تھا { ۱۶}</p>
<p>کہ’’ فرعون کے پاس جا، وہ سرکش ہوگیا ہے {۱۷}</p>
<p>اور اس سے کہہ کیا تو اس کے لیے تیار ہے کہ پاکیز گی اختیار کرے؟ ‘‘{۱۸}</p>
<p>اور میں تیرے ربّ کی طرف تیری رہنمائی کرو ں تو (اُس کا ) خوف تیرے اندر پیدا ہو ؟[8]{۱۹}</p>
<p>  پھر موسیٰ  ؑ نے ( فرعون کے پاس جاکر )اُس کو بڑی نشانی [9]دکھائی {۲۰}</p>
<p> مگر اُس نے جھٹلا دیا اور نہ مانا{۲۱}</p>
<p> پھر چالبازیاں کرنے کے لیے پلٹا[10]{۲۲}</p>
<p>اور لوگوں کو جمع کرکے اس نے پکارا {۲۳}</p>
<p> اور کہا ’’ میں تمہارا سب سے بڑا رَبّ ہوں ‘‘[11]{۲۴}</p>
<p> آخر کار  اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑلیا[12]{۲۵}</p>
<p> درحقیقت اِس میں بڑی عبرت ہے ہراُس شخص کے لیے جو ڈرے۔ {۲۶}</p>
<p>کیا [13]تم لوگوں کی تخلیق زیادہ سخت کام ہے یا آسمان کی[14] ؟اللہ نے اُس کو بنایا {۲۷}</p>
<p> اُس کی چھت خوب اونچی اٹھائی پھراُس کا توازن قائم کیا {۲۸}</p>
<p> اوراُس کی رات ڈھانکی اور اُس کا دن نکالا۔[15]{۲۹}</p>
<p> اس کے بعد زمین کو اس نے بچھایا[16]{۳۰}</p>
<p> اُس کے اندر سے اُسکا پانی اور چارہ نکالا[17] {۳۱}</p>
<p>اور پہاڑ اس میں گاڑدیے {۳۲}</p>
<p> سامانِ زیست کے طور پر تمہارے لئے اور تمہارے مویشیوں کے لیے۔[18] {۳۳}</p>
<p>پھر جب وہ ہنگامۂ عظیم برپا  ہوگا [19]{۳۴}</p>
<p> جس روز انسان اپنا سب کیا دھرایادکرے گا[20]{۳۵}</p>
<p> اور ہر دیکھنے والے کے سامنے دوزخ کھول کررکھ دی جائے گی{۳۶}</p>
<p> تو جس نے سرکشی کی تھی {۳۷}</p>
<p>اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تھی{۳۸}</p>
<p> دوزخ ہی اس کا ٹھکانا ہوگی {۳۹}</p>
<p> اور جس نے اپنے رَبّ کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا تھا اور نفس کو بُری خواہشات سے باز رکھا تھا{۴۰}</p>
<p> پس یقینا جنت اُس کا ٹھکانا ہوگی۔[21]{۴۱}</p>
<p>یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ ’’ آخر وہ گھڑی کب آکر ٹھہرے گی ؟‘‘[22] {۴۲}</p>
<p> تمہارا کیا کام کہ اُس کا وقت بتا ؤ ۔{۴۳}</p>
<p> اس کا علم تو اللہپر ختم ہے، { ۴۴}</p>
<p>تم صرف خبردار کرنے والے ہو ہر اُس شخص کو جو اُس کا خوف کرے۔[23]{۴۵}</p>
<p> جس روز یہ لوگ اسے دیکھ لیں گے تو اِنہیں یوں محسوس ہوگا کہ ( دنیا میں یا حالت ِموت میں )  یہ بس ایک دن کے پچھلے پہر یا اگلے پہر تک ٹھہرے ہیں۔[24]{۴۶}</p>

</div><div id="80"><p>سورۃ عبس </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہامہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ </p>
<p>تُرش رُو ہوا اور بے رُخی برتی {۱}</p>
<p>اِس بات پر کہ وہ اندھا اُس کے پاس آگیا [1]{ ۲}</p>
<p>اور تمہیں کیا خبر ، شاید وہ سدھر جائے { ۳}</p>
<p>یا نصیحت پر دھیان دے اور نصیحت کرنا اس کے لیے نافع ہو؟ {۴}</p>
<p>جو شخص بے پروائی برتتا ہے{۵}</p>
<p>اس کی طرف تو تم توجہ کرتے ہو{۶}</p>
<p>حالانکہ اگر وہ نہ سُدھرے تو تم پر اس کی کیا ذمہ دار ی ہے ؟ {۷}</p>
<p> اور جو خود تمہارے پاس دوڑ اآتا ہے{۸}</p>
<p> اور ڈررہا ہوتا ہے{۹}</p>
<p>اُس سے تم بے رُخی برتتے ہو ۔[2]{۱۰}</p>
<p>ہرگز نہیں[3]۔ یہ تو ایک نصیحت ہے[4] {۱۱}</p>
<p>جس کا جی چاہے اِسے قبول کرے۔{ ۱۲}</p>
<p>یہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو مکرَّم ہیں { ۱۳}</p>
<p>بلند مرتبہ ہیں،پاکیزہ ہیں[5]  {۱۴}</p>
<p>(ایسے) کاتبوں[6] کے ہاتھوں میں رہتے ہیں [7]{۱۵}</p>
<p> جو معزز اور نیک ہیں۔ {۱۶}</p>
<p>لعنت ہو[8] انسان[9] پر ،کیساسخت منکرحق ہے [10]یہ ۔{۱۷}</p>
<p> کس چیز سے اللہ نے اسے پیدا کیا ہے؟ {۱۸}</p>
<p> نطفہ کی ایک بوند سے[11]۔ اللہ نے اسے پیدا کیا ،پھر اِس کی تقدیر مقرر کی [12]{۱۹}</p>
<p> پھر اس کے لیے زندگی کی راہ آسان کی[13]{۲۰}</p>
<p> پھر اِسے موت دی اور قبر میں پہنچایا۔[14]{۲۱}</p>
<p> پھر جب چاہے وہ اسے دوبارہ اُٹھا کھڑا کردے ۔[15]{ ۲۲}</p>
<p> ہرگز نہیں ، اس نے وہ فرض ادا نہیں کیا جسکا اللہ نے اِسے حکم دیا تھا [16]{۲۳}</p>
<p> پھر ذرا انسان اپنی خور اک کو دیکھے[17] {۲۴}</p>
<p>ہم نے خوب پانی لُنڈھایا [18]{۲۵}</p>
<p> پھر زمین کو عجیب طرح پھاڑا [19]{۲۶}</p>
<p> پھراُس کے اندر اُگائے غلّے {۲۷}</p>
<p>اور انگور اور ترکاریاں{۲۸}</p>
<p> اور زیتون اور کھجوریں {۲۹}</p>
<p>اور گھنے باغ {۳۰}</p>
<p> اور طرح طرح کے پھل اور چارے {۳۱}</p>
<p>تمہارے لئے اور تمہارے مویشیوں کے لیے سامان ِزیست کے طور پر۔[20]{۳۲}</p>
<p>  آخر کار جب وہ کان بہرے کردینے والی آواز [21]بلند ہوگی۔ { ۳۳}</p>
<p> اُس روز آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا {۳۴}</p>
<p>اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے{۳۵}`</p>
<p> اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے (بھاگے گا)۔ [22] {۳۶}</p>
<p> ان میں سے ہر شخص پر اُس دن ایسا وقت آپڑے گا کہ اُسے اپنے سواکسی کا ہوش نہ ہوگا[23]{۳۷}</p>
<p> کچھ چہرے اُس روز دمک رہے ہوں گے {۳۸}</p>
<p>ہشَاش بشاش اور خوش و خرم ہوں گے ۔{۳۹}</p>
<p> اور کچھ چہروں پر اس روز خاک اڑ رہی ہوگی۔{۴۰}</p>
<p>اور کلونس (سیاہی)چھائی ہوئی ہوگی{۴۱}</p>
<p>یہی کافرو فاجر لوگ ہوں گے۔ {۴۲}</p>

</div><div id="81"><p>سورۃ  التکویر </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>جب سورج لپیٹ دیا جائے گا [1]{۱}</p>
<p> اور جب تارے بکھرجائیں گے[2]{ ۲}</p>
<p> اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے[3]{ ۳}</p>
<p>اور جب دس مہینے کی حاملہ اونٹنیاں اپنے حال پر چھوڑ دی جائیں گی [4]{۴}</p>
<p>اور جب جنگلی جانور سمیٹ کر اکٹھے کردیے جائیں گے[5]{ ۵}</p>
<p> اور جب سمندر بھڑ کا دیے جائیں گے[6] {۶}</p>
<p> اور جب [7]جانیں (جسموں سے ) جوڑدی جائیں گی۔  [8]{۷}</p>
<p> اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا {۸}</p>
<p>کہ وہ کس قصور میں ماری گئی ؟[9] {۹}</p>
<p> اور جب اعمال نامے کھولے جائیں گے{۱۰}</p>
<p> اور جب آسمان کا پردہ ہٹادیا جائے گا [10]{۱۱}</p>
<p> اور جب جہنم دہکائی جائے گی { ۱۲}</p>
<p> اور جب جنّت قریب لے آئی جائے گی [11]{۱۳}</p>
<p>اُس وقت ہر شخص کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے۔{ ۱۴}</p>
<p>پس نہیں،[12] میں قسم کھاتا ہوں پلٹنے والے کی {۱۵}</p>
<p>اور چُھپ جانیوالے تاروںکی{۱۶}</p>
<p> اور رات کی جب کہ وہ رخصت ہوئی{۱۷}</p>
<p> اور صبح کی جب کہ اُس نے سانس لیا[13]{۱۸}</p>
<p> یہ فی الواقع ایک بزرگ پیغامبرکاقول ہے[14] {۱۹}</p>
<p>جو بڑی توانائی رکھتا ہے ،[15] عرش والے کے ہاں بلند مرتبہ ہے {۲۰}</p>
<p> وہاں اس کا حکم مانا جاتا ہے[16] وہ بااعتماد ہے ۔[17]{۲۱}</p>
<p> اور ( اے اہل مکہّ ) تمہارا رفیق [18]مجنون نہیں ہے {۲۲}</p>
<p> اُس نے اُس پیغام بر کوروشن اُفق پر دیکھا ہے۔ [19]{ ۲۳}</p>
<p>اور وہ غیب (کے اِس علم کو لوگوں تک پہنچانے ) کے معاملہ میں بخیل نہیں ہے۔[20]{ ۲۴}</p>
<p>اور یہ کسی شیطان مردود کا قول نہیں ہے۔[21]{۲۵}</p>
<p>پھر تم لوگ کدھر چلے جارہے ہو ؟ {۲۶}</p>
<p> یہ توسارے جہان والوں کے لیے ایک نصیحت ہے {۲۷}</p>
<p> تم میں سے ہر اُس شخص کے لیے جو راہ ِراست پر چلنا چاہتا ہو۔ [22]{۲۸}</p>
<p> اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ رب العالمین نہ چاہے [23]{۲۹}</p>

</div><div id="82"><p>سورۃ  الانفطار </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔</p>
<p>جب آسمان پھٹ جائے گا {۱}</p>
<p> اور جب تارے بکھر جائیں گے{ ۲}</p>
<p>اور جب سمندر پھاڑ دیے  جائیں گے [1]{ ۳}</p>
<p>اور جب قبریں کھول دی جائیں گی[2] {۴}</p>
<p>اس وقت ہر شخص کو اس کا اگلا پچھلا سب کیا دھرا معلوم ہوجائے گا[3]{۵}</p>
<p>  اے انسان ! کس چیز نے تجھے اپنے اُس ربّ کریم کی طرف سے دھوکے میں ڈال دیا {۶}</p>
<p>جس نے تجھے پیدا کیا،تجھے نِک سُک سے درست کیا ،پھر تجھے متناسب بنایا {۷}</p>
<p> اور جس صورت میں چاہاتجھ کو جوڑ کرتیار کیا ؟[4]{۸}</p>
<p> ہر گز نہیں ،[5] بلکہ ( اصل بات یہ ہے کہ ) تم لوگ جزا وسزا کو جھٹلاتے  ہو [6]{۹}</p>
<p> حالانکہ تم پر نگراں مقرر ہیں{۱۰}</p>
<p>ایسے معزز کاتب(کراماً کاتبین ) {۱۱}</p>
<p> جو تمہارے ہر فعل کو جانتے ہیں ۔[7]{۱۲}</p>
<p>یقینا نیک لوگ مزے میں ہوں گے{ ۱۳}</p>
<p>اور بے شک بدکار لوگ جہنم میں جائیں گے۔ { ۱۴}</p>
<p>جزا کے دن وہ اس میں داخل ہوں گے { ۱۵}</p>
<p>اور اُس سے ہرگز غائب نہ ہو سکیں گے {۱۶}</p>
<p>اورتم کیا جانتے ہو کہ وہ جزا کادن کیا ہے ؟{۱۷}</p>
<p>ہاں،تمہیں کیا خبر کہ وہ جزا کا دن کیا ہے ؟{۱۸}</p>
<p> یہ وہ دن ہے جب کسی شخص کے لیے کچھ کرنا کسی کے بس میں نہ ہوگا ،[8]اورفیصلہ اُس دن بالکل اللہ کے اختیار میں ہوگا۔{۱۹}</p>

</div><div id="83"><p>سورۃ  المطفّفین </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہامہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>تباہی ہے ڈنڈی مارنے والوں کے لیے[1]{۱}</p>
<p>جن کا حال یہ ہے کہ جب لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا پورا  لیتے ہیں { ۲}</p>
<p>اور جب ان کو ناپ کریاتول کردیتے ہیں تو اِنہیں گھاٹا دیتے ہیں۔[2]{ ۳}</p>
<p>کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ (بلا شبہ وہ قبروں سے) اُٹھا کر لائے جانے والے ہیں؟{ ۴}</p>
<p>ایک عظیم بڑے دن [3] {۵}</p>
<p> اُس دن جب کہ سب لوگ ربّ العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ {۶}</p>
<p> ہرگز نہیں[4] یقینا بدکاروں کا نامہ ٔ اعمال قید خانے کے دفتر میں ہے ۔[5]{۷}</p>
<p> اور تمہیں کیا معلوم کہ کیا ہے وہ قید خانے کا دفتر ؟ {۸}</p>
<p>وہ ایک کتاب ہے لکھی ہوئی {۹}</p>
<p>تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے {۱۰}</p>
<p>(یہ وہ لوگ ہیں )جو روزِ جزا کو جھٹلاتے ہیں{۱۱}</p>
<p> اور اُسے(روز جزا و سزا کو) نہیں جھٹلاتا مگر ہر وہ شخص جو حد سے گزر جانے والا بد عمل ہے ۔{ ۱۲}</p>
<p> اُسے جب ہماری آیات( پڑھ کر )سنائی جاتی ہیں[6] تو کہتا ہے ’’ یہ تو اگلے وقتوں کی کہانیاں ہیں‘‘ ۔{۱۳}</p>
<p>ہر گز نہیں، بلکہ دراصل ان لوگوں کے دلوں پر ان کے بُرے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔ [7]{۱۴}</p>
<p>ہرگز نہیں، بالیقین اُس روزیہ اپنے رَبّ کی دید سے محروم رکھے جائیں گے[8]{۱۵}</p>
<p> پھر یہ جہنم میں جاپڑیں گے{۱۶}</p>
<p> پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔{۱۷}</p>
<p>ہر گز نہیں، [9]بے شک نیک آدمیوں کا نامۂ اعمال بلند پا یہ لوگوں کے دفتر میں ہے۔ {۱۸}</p>
<p> اور تمہیں کیا خبر کہ کیا ہے وہ بلند پایہ لوگوں کا دفتر ؟{۱۹}</p>
<p> ایک لکھی ہوئی کتاب {۲۰}</p>
<p> جس کی نگہداشت مقرب فرشتے کرتے ہیں۔{۲۱}</p>
<p>بے شک نیک لوگ بڑے مزے میں ہوں گے{ ۲۲}</p>
<p>اونچی مسندوں پر بیٹھے نظارے کررہے ہوں گے { ۲۳}</p>
<p>ان کے چہروں پر تم خوشحالی کی رونق محسوس کرو گے۔{ ۲۴}</p>
<p>ان کو نفیس ترین سربند شراب پلائی جائے گی {۲۵}</p>
<p>جس پر مُشک کی مُہر لگی ہوگی۔[10] جو لوگ دوسرو ں پر بازی لے جانا چاہتے ہوں وہ اس چیز کو حاصل کرنے میں بازی لے جانے کی کوشش کریں ۔{۲۶}</p>
<p> اُس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی [11]{۲۷}</p>
<p>یہ ایک چشمہ ہے جس کے پانی کے ساتھ(اللہ کے ) مقرب لوگ شراب پئیں گے{۲۸}</p>
<p>مجرم لوگ دنیا میں ایمان لانے والوں کا مذاق اُڑاتے تھے ۔{۲۹}</p>
<p> جب اُن کے پاس سے گزرتے تو آنکھیں مارمار کر ان کی طرف اشارے کرتے تھے،{۳۰}</p>
<p> اپنے گھروالوں کی طرف پلٹتے تو مزے لیتے ہوئے پلٹتے تھے[12]{۳۱}</p>
<p> اور جب انہیں دیکھتے تو کہتے تھے ،یہ بہکے ہوئے لوگ ہیں [13]{۳۲}</p>
<p>حالانکہ وہ ان پر نگراں بناکر نہیں بھیجے گئے تھے۔[14]{ ۳۳}</p>
<p> آج ایمان لانے والے کفّار پر ہنس رہے ہیں{ ۳۴}</p>
<p>مسندوں پر بیٹھے ہوئے اُنکا حال دیکھ رہے ہیں {۳۵}</p>
<p>مل گیا ناکافروں کو اُن حرکتوں کا ثواب(پورا پورابدلہ) جووہ کیا کرتے تھے؟ [15] {۳۶}</p>

</div><div id="84"><p>سورۃ  الانشقاق </p>
<p>اللہ کے  نام سے جو بے انتہامہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔</p>
<p>جب آسمان پھٹ جائے گا {۱}</p>
<p>اور(وہ کان لگائے ہوئے ) اپنے رَبّ کے فرمان کی تعمیل کریگا [1]اور اس کے لیے حق یہی ہے ( کہ اپنے رَبّ کا حکم مانے )۔{۲}</p>
<p> اور جب زمین پھیلادی  جائے گی[2]{ ۳}</p>
<p>اور جو کچھ اس کے اندر ہے اُسے باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی [3]{۴}</p>
<p>اور(وہ کان لگائے ہوئے ) اپنے رَبّ کے حکم کی تعمیل کرے گی اور اس کے لیے حق یہی ہے ( کہ اُس کی تعمیل کرے)۔ [4]{۵}</p>
<p> اے انسان!تو کشاں کشاں اپنے رَبّ کی طرف چلا جارہا ہے[5] اورتو( یقینا)اُس سے ملنے والا ہے۔ {۶}</p>
<p> پھر جس کا نامۂ اعمال اس کے سیدھے ہاتھ میں دیا گیا {۷}</p>
<p>اُس سے ہلکا حساب لیا جائے گا [6] {۸}</p>
<p>اور وہ اپنے لوگوں کی طرف خوش خوش پلٹے گا ۔[7]{۹}</p>
<p> رہا وہ شخص جس کا نامۂ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا [8]{۱۰}</p>
<p> تو وہ موت کو پکارے گا {۱۱}</p>
<p>اور بھڑکتی ہوئی آگ میں جاپڑے گا۔ {۱۲}</p>
<p>وہ اپنے گھروالوں میں مگن تھا۔[9]{۱۳}</p>
<p>اُس نے سمجھا تھا کہ اسے کبھی پلٹنا نہیں ہے۔{ ۱۴}</p>
<p>پلٹنا کیسے نہ تھا ،اُس کا رب اُس کے کرتوت دیکھ رہا تھا۔[10]{۱۵}</p>
<p> پس نہیں ، میں قسم کھاتا ہوں شفق کی{۱۶}</p>
<p>اور رات کی اور جو کچھ وہ سمیٹ لیتی ہے{۱۷}</p>
<p>اور چاند کی جب کہ وہ ماہ کامل ہوجاتا ہے{۱۸}</p>
<p> تم کو ضرور درجہ بدرجہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف گزرتے چلے جاناہے۔[11] {۱۹}</p>
<p> پھر ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ ایمان نہیں لاتے[12] {۲۰}</p>
<p>اور جب قرآن ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے ؟{۲۱}</p>
<p>بلکہ یہ منکرین تو الٹا جھٹلاتے ہیں{ ۲۲}</p>
<p>حالانکہ جو کچھ یہ (نامۂ اعمال میں) جمع کررہے ہیں اللہ  اُسے خوب جانتا ہے [13] { ۲۳}</p>
<p>لہٰذا ان کو درد ناک عذاب کی بشارت دے دو { ۲۴}</p>
<p>البتہ جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں ان کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے۔{ ۲۵}</p>

</div><div id="85"><p>سورۃ  البروج </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔</p>
<p>قسم ہے مضبوط قلعوں والے آسمان کی[1] {۱}</p>
<p> اور اُس دن کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے[2] (یعنی قیامت ) {۲}</p>
<p> اور دیکھنے والے کی اور دیکھی جانیو الی چیز کی [3]{ ۳}</p>
<p>کہ مار ے گئے گڑھے والے { ۴}</p>
<p>( اس گڑھے والے) جس میں خوب بھڑکتے ہوئے ایندھن کی آگ تھی ۔{۵}</p>
<p>جب کہ وہ اس گڑھے کے کنارے پر بیٹھے ہوئے تھے {۶}</p>
<p>اور جو کچھ وہ ایمان لانے والوں کے ساتھ کررہے تھے اسے دیکھ رہے تھے۔[4]  {۷}</p>
<p> اور ان اہلِ ایمان سے ان کی دشمنی اس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ اُس اللہ  پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے{۸}</p>
<p> جو آسمانوں اور زمین کی سلطنت کا مالک ہے ،اوراللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے ۔[5]{۹}</p>
<p>جن لوگوں نے مومن مردوں اور عورتوں پرستم توڑا اور پھر اس سے تائب نہ ہوئے یقینا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اوراُن کے لیے جلائے جانے کی سزا ہے  ۔[6]{ ۱۰}</p>
<p> جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے یقینا اُن کے لیے جنّت کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ، یہ ہے بڑی کامیابی {۱۱}</p>
<p>درحقیقت تمہارے رَبّ کی پکڑ بڑی سخت ہے۔ { ۱۲}</p>
<p> وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ پیدا کرے گا۔ { ۱۳}</p>
<p> اور وہ بخشنے والا ہے ، محبت کرنے والا ہے{ ۱۴}</p>
<p>عرش کا مالک ہے ،بزرگ و برتر ہے {۱۵}</p>
<p> اور جو کچھ چاہے کر ڈالنے والا ہے۔ [7]{۱۶}</p>
<p>کیا تمہیں لشکروں کی خبر پہنچی ہے ؟ {۱۷}</p>
<p> فرعون اور ثمود ( کے لشکروں ) کی؟[8]{۱۸}</p>
<p> مگر جنہوں نے کفر کیا ہے وہ جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں {۱۹}</p>
<p> حالاں کہ اللہ نے ان کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ {۲۰}</p>
<p> (ان کے جھٹلانے سے اِس قرآ ن کا کچھ نہیں بگڑتا ) بلکہ یہ قرآن بلند پایہ ہے {۲۱}</p>
<p> اُس لُوح میں ( نقش ہے) جو محفوظ ہے۔[9] { ۲۲}</p>

</div><div id="86"><p>سورۃ  الطارق </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔</p>
<p>قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی۔ {۱}</p>
<p> اور تم کیا جانو کہ وہ رات کو نمودار ہونے والا کیا ہے ؟ {۲}</p>
<p>(النجم الثاقب)چمکتا ہوا تارا {۳}</p>
<p>کوئی جان ایسی نہیں ہے جس کے اوپر کوئی نگہبان نہ ہو۔  [1]{۴}</p>
<p> پھر ذرا انسان یہی دیکھ لے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے ۔[2]{۵}</p>
<p>ایک اُچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے {۶}</p>
<p>جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے [3]{۷}</p>
<p> یقینا وہ ( خالق ) اُسے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے ۔[4]{۸}</p>
<p>جس روز پوشیدہ اسرار کی جانچ پڑتال ہوگی[5]{۹}</p>
<p> اُس وقت انسان کے پاس نہ خود اپنا کوئی زور ہوگا اور نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہوگا ۔{۱۰}</p>
<p> قسم ہے بارش برسانے والے آسمان کی[6] {۱۱}</p>
<p> اور (نباتات اُگتے وقت ) پھٹ جانے والی زمین کی { ۱۲}</p>
<p> یہ ایک جچی تُلی بات ہے { ۱۳}</p>
<p>ہنسی مذاق نہیں ہے۔ [7]{۱۴}</p>
<p> یہ لوگ ( یعنی کفّار مکہّ ) کچھ چالیں چل رہے ہیں [8]{۱۵}</p>
<p> اور میں بھی ایک چال چل رہا ہوں[9]{۱۶}</p>
<p> پس چھوڑ دو(اے نبی  ؐ!) اِن کافروں کو ایک ذراکی ذرا اِن کے حال پر چھوڑ دو۔[10]{۱۷}</p>

</div><div id="87"><p>سورۃ  الاعلٰی </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>( اے نبی  ؐ!) آپ اپنے ربّ ِاعلیٰ کے نام کی تسبیح کرو[1] {۱}</p>
<p> جس نے پیدا کیا اور تناسُب قائم کیا  [2]{۲}</p>
<p> اور جس نے تقدیر بنائی [3]پھر راہ دکھائی[4]  {۳}</p>
<p>اور وہ ذات جس نے(زمین سے چارا) نباتا ت اُگائیں[5]  {۴}</p>
<p> پھر اُن کو سیاہ کوڑاکرکٹ بنادیا ۔[6]{۵}</p>
<p> ہم تمہیں پڑھوادیں گے ،پھر تم نہیں بھولوگے[7]{۶}</p>
<p>سوائے اُس کے جو اللہ  چاہے [8] بیشک وہ ظاہر کو بھی جانتا ہے اور جوکچھ پوشیدہ ہے اُس کو بھی۔ [9]{۷}</p>
<p> اور ہم تمہیں آسان طریقے کی سہولت دیتے  ہیں {۸}</p>
<p> لہٰذا تم نصیحت کرو اگر نصیحت نافع ہو۔ [10]{۹}</p>
<p> جو شخص ڈرتا ہے وہ ضرور نصیحت قبول کرلے گا[11] {۱۰}</p>
<p> اور اُس سے گریز کرے گا وہ انتہائی بد بخت {۱۱}</p>
<p>جو بڑی آگ میں جائے گا { ۱۲}</p>
<p> پھر نہ اس میں مرے گا نہ جیے گا۔ [12]{ ۱۳}</p>
<p>یقینا فلاح پاگیا وہ جس نے پاکیز گی اختیار کی[13] { ۱۴}</p>
<p> اور اپنے رب کا نام یاد کیا [14]پھر نماز پڑھی۔[15]{۱۵}</p>
<p> مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو[16] {۱۶}</p>
<p>حالانکہ آخرت بہتر ہے اور باقی رہنے والی ہے۔[17]{۱۷}</p>
<p> بلا شبہ یہی بات پہلے آئے ہوئے صحیفوں میں[18] بھی کہی گئی تھی {۱۸}</p>
<p> ابراہیم ؑ اور موسیٰ  ؑ کے صحیفوں میں۔ {۱۹}</p>

</div><div id="88"><p>سورۃ  الغا شیۃ </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>کیا تمہیں اُس چھاجانے والی آفت ( یعنی قیامت)کی خبر پہنچی ہے ؟[1]{۱}</p>
<p>کچھ چہرے [2] اُس روز خوفزدہ ہوں گے { ۲}</p>
<p>سخت مشقت کررہے ہوں گے، تھکے جاتے ہوں گے { ۳}</p>
<p> شدید آگ میں جھلس رہے ہوں گے{ ۴}</p>
<p> کھولتے ہوئے چشمے کا پانی انہیں پینے کو دیا جائے گا  {۵}</p>
<p> خاردار سو کھی گھاس کے سوا کوئی کھانا ان کے لیے نہ ہوگا [3]{۶}</p>
<p> جو نہ موٹا کرے نہ بھوک مٹائے۔ {۷}</p>
<p> کچھ چہرے اُس روز بارونق ہوں گے {۸}</p>
<p>اپنی سعی وکارگزاری پر خوش ہوں گے [4]{۹}</p>
<p> عالی مقام جنّت میں ہوں گے {۱۰}</p>
<p> کوئی بیہودہ بات وہ وہاں نہ سنیں گے [5]{۱۱}</p>
<p> اُس میں چشمے رواں ہوں گے{ ۱۲}</p>
<p> اُس کے اندر اونچی مسندیں ہوں گی { ۱۳}</p>
<p>اور ساغر رکھے ہوئے ہوں گے[6]{ ۱۴}</p>
<p>اور گا ؤ تکیوں کی قطاریں لگی ہوں گی {۱۵}</p>
<p>اور نفیس فرش بچھے ہوئے ہوں گے {۱۶}</p>
<p> ( یہ لوگ نہیں مانتے) تو کیا یہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بنائے گئے ؟ {۱۷}</p>
<p>اور  آسمان کو نہیں دیکھتے کہ کیسے اٹھایا گیا ؟{۱۸}</p>
<p>اور پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے جمائے گئے ؟ {۱۹}</p>
<p>اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بچھائی گئی ؟[7] {۲۰}</p>
<p> اچھا تو( اے نبی  ؐ) نصیحت کئے جا ؤ ،تم بس نصیحت ہی کرنے والے ہو {۲۱}</p>
<p> کچھ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہو۔ [8]{ ۲۲}</p>
<p>البتہ جو شخص منہ موڑے گا اور انکار کرے گا {۲۳}</p>
<p>تو اللہ اُس کو بھاری سزادے گا۔{۲۴}</p>
<p> یقینا ان لوگوں کو پلٹنا ہماری طرف ہی ہے {۲۵}</p>
<p>پھریقینا ان کا حساب لینا ہمارے ہی ذمہّ ہے۔ {۲۶}</p>

</div><div id="89"><p>سورۃ  الفجر </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والاہے ۔</p>
<p>قسم ہے فجر کی {۱}</p>
<p> اور د س راتوں کی { ۲}</p>
<p>اور جُفت اورطاق کی { ۳}</p>
<p>اور رات کی جب کہ وہ رخصت ہو رہی ہو۔{ ۴}</p>
<p> کیا اس میں کسی صاحب عقل کے لیے کوئی قسم  ہے؟ [1]{۵}</p>
<p>تم[2] نے دیکھا نہیں، کہ تمہارے رَبّ نے کیا برتا ؤ کیا عاد کیساتھ؟ { ۶}</p>
<p>اُو نچے سُتونوں والے اِرم کیساتھ [3]{۷}</p>
<p>جن کے مانند کوئی قوم دنیا کے ملکوں میں پیدا نہیں کی گئی تھی؟ [4]{۸}</p>
<p>اور ثمود کیساتھ جنہوں نے وادی میں چٹانیں تراشی تھیں؟[5] {۹}</p>
<p>اور میخوں والے فرعون [6]کے ساتھ ؟ {۱۰}</p>
<p>یہ وہ لوگ تھے جنہو ں نے دنیا کے ملکوں میں بڑی سرکشی کی تھی {۱۱}</p>
<p> اور اُن میں بہت فساد پھیلایا تھا۔{۱۲}</p>
<p> آخر کار تمہارے رَبّ نے اُن پر عذاب کاکوڑا برسادیا ۔{۱۳}</p>
<p> حقیقت یہ ہے کہ تمہارارَبّ گھات لگائے ہوئے ہے۔[7]{۱۴}</p>
<p>  مگر[8] انسان کا حال یہ ہے اس کا رَبّ جب اُس کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور اُسے عزّت اور نعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رَبّ نے مجھے عزّت دار بنادیا {۱۵}</p>
<p> اور جب اُس کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور اُس کا رزق اُس پر تنگ کردیتا ہے تو وہ کہتا ہے میرے رَبّ نے مجھے ذلیل کردیا۔[9]  {۱۶}</p>
<p> ہرگز نہیں[10] ، بلکہ تم یتیم سے عزت کا سلوک نہیں کرتے [11]{۱۷}</p>
<p> اور مسکین کو کھانا کھلانے پر ایک دوسرے کو نہیں اُکساتے [12]{۱۸}</p>
<p> اور میراث کا سارا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو ،[13]{۱۹}</p>
<p> اور مال کی محبت میں بُری طرح گرفتار ہو۔[14] {۲۰}</p>
<p> ہر گز نہیں، [15]جب زمین پے درپے کوٹ کوٹ کر ریگ زار بنادی جائے گی {۲۱}</p>
<p> اورتمہارا رَبّ جلوہ فرما ہوگا [16]اس حال میں کہ فرشتے صف درصف کھڑے ہوں گے، {۲۲}</p>
<p> اور جہنم اُس روز سامنے لے آئی جائے گی ، اُس دن انسان کو سمجھ آئے گی اور اُس وقت اُس کے سمجھنے کا کیا حاصل ؟[17] {۲۳}</p>
<p>وہ کہے گا کہ کاش! میں نے اپنی اس زندگی کے لیے  کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا ! {۲۴}</p>
<p> پھر اُس دن اللہ  جو عذاب دے گا ویسا عذاب دینے والا کوئی نہیں {۲۵}</p>
<p>اور اللہ  جیسا باندھے گا ویسا باندھنے والا کوئی نہیں۔ {۲۶}</p>
<p>( دوسری طرف اِرشاد ہوگا ) اے نفس مطمئن ! [18]{۲۷}</p>
<p>چل اپنے رَبّ کی طرف،[19] اس حال میں کہ تو (اپنے انجامِ نیک سے ) خوش ( اور اپنے رَب ّکے نزدیک ) پسندیدہ ہے۔ {۲۸}</p>
<p> آ ! شامل ہوجا میرے ( نیک ) بندوں میں {۲۹}</p>
<p> اور داخل ہوجا میری جنت میں۔ {۳۰}</p>

</div><div id="90"><p>سورۃ  البلد </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>نہیں،[1] میں قسم کھا تا ہوں اِس شہر(مکہ ) [2] کی {۱}</p>
<p> اور حال یہ ہے کہ ( اے نبی  ؐ!) اس شہر میں تم کو حلال کر لیا گیا ہے[3] { ۲}</p>
<p>اور قسم کھاتا ہوں باپ ( آدم ؑ) کی اور اُس اولاد کی جو اُس سے پیدا ہوئی[4] {۳}</p>
<p> درحقیقت ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے۔[5]  {۴}</p>
<p>کیا اُس نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اُس پر کوئی قابو نہ پا سکے گا ؟[6]{۵}</p>
<p>کہتا ہے کہ میں نے ڈھیروں مال اُڑادیا۔[7] {۶}</p>
<p> کیا وہ سمجھتا ہے کہ کسی نے اس کو نہیں دیکھا؟ [8] {۷}</p>
<p> کیا ہم نے اُسے دو آنکھیں نہیں دیے؟ {۸}</p>
<p>اور ایک زبان اور دو ہونٹ( نہیں دیے)؟ [9]{۹}</p>
<p> اورہم نے ( نیکی اور بدی کے ) دونوں نمایاں راستے اسے (کیا نہیں) دکھادیے ؟ [10]{۱۰}</p>
<p> مگر اس نے دشوار گزار گھاٹی سے گزرنے کی ہمت نہ کی۔ [11]{۱۱}</p>
<p> اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دشوار گزار گھاٹی ؟{۱۲}</p>
<p>کسی گردن کو غلامی سے چھڑانا {۱۳}</p>
<p>یا فاقے کے دن کسی کو کھانا کھلانا {۱۴}</p>
<p> قریبی یتیم رشتہ دار کو{۱۵}</p>
<p>یا خاک نشین مسکین کو (کھانا کھلانایا مدد کرنا) [12] {۱۶}</p>
<p> پھر ( اس کے ساتھ یہ کہ ) آدمی اُن لوگوں میں شامل ہو جو ایمان لائے[13] اور جنہوں نے ایک دوسرے کو صبر اور (مخلوق پر) رحم کی تلقین کی ۔[14]{۱۷}</p>
<p> یہ لوگ ہیں دائیں بازو والے {۱۸}</p>
<p> اور جنہوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کیا وہ بائیں بازو والے ہیں[15] {۱۹}</p>
<p> اُن پر آگ چھائی ہوئی ہوگی ۔[16]{۲۰}</p>

</div><div id="91"><p>سورۃ  الشمس </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>سُورج اور اُس کی دھوپ [1]کی قسم {۱}</p>
<p> اور چاند کی قسم جب کہ وہ اُس کے پیچھے آتا ہے { ۲}</p>
<p> اور دن کی قسم جب کہ وہ ( سُورج کو ) نمایاں کردیتا ہے { ۳}</p>
<p> اور رات کی قسم جب کہ وہ ( سُورج کو ) ڈھانک لیتی ہے[2] { ۴}</p>
<p> اور آسمان کی اور اس ذات کی قسم جس نے اُسے قائم کیا [3]{۵}</p>
<p>اور زمین کی اور اُس ذات کی قسم جس نے اُسے بچھایا {۶}</p>
<p> اور نفسِ انسانی کی اور اُس ذات کی قسم جس نے اسے ہموار کیا [4]{۷}</p>
<p>پھر اُس کی بدی اور اُس کی پرہیزگاری اُس پر الہام کردی [5]{۸}</p>
<p> یقینا فلاح پاگیاوہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا {۹}</p>
<p> اور نامراد ہوا وہ جس نے اُس کو دبا دیا ۔ [6]{۱۰}</p>
<p> ثمود [7]نے اپنی سرکشی کی بناپر جھٹلایا۔ [8]{۱۱}</p>
<p> جب اُس قوم کا سب سے زیادہ شقی آدمی بپھر کر اُٹھا {۱۲}</p>
<p>تو اللہ کے رسول نے اُن لوگوں سے کہا کہ خبردار ،اللہ  کی اونٹنی کو (ہاتھ نہ لگانا) اور اس کے پانی پینے ( میں مانع نہ ہونا ) [9] {۱۳}</p>
<p>مگر اُنہوں نے اس (اللہ کے رسول ) کی بات کو جھوٹا قرار دیا اور اونٹنی کو مار ڈالا۔ [10]آخر کار اُن کے گناہ کی پاداش میں اُن کے رَب ّنے اُن پر ایسی آفت توڑی کہ ایک ساتھ سب کو پیوند خاک کردیا {۱۴}</p>
<p> اور اُسے ( اپنے اِس فعل کے) کسی بُرے نتیجے کا کوئی خوف نہیں ہے۔ [11]{۱۵}</p>

</div><div id="92"><p>سورۃ  اللیل </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہامہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>قسم ہے رات کی جب کہ وہ چھاجائے {۱}</p>
<p> اور دن کی جبکہ وہ روشن ہو  { ۲}</p>
<p> اور اُس ذات کی جس نے نراور مادہ کو پیدا کیا {۳}</p>
<p> درحقیقت تم لوگوں کی کوششیں مختلف قسم کی ہیں۔[1]  {۴}</p>
<p>  تو جس نے (اللہ  کی راہ میں ) مال دیا اور (اللہ کی نافرمانی سے ) پرہیز کیا  {۵}</p>
<p> اور بھلائی کو سچ مانا [2] {۶}</p>
<p> اس کو ہم آسان راستے کے لیے سہولت دیں گے۔ [3]{۷}</p>
<p> اور جس نے بُخل کیا اور ( اپنے معبود سے ) بے نیازی برتی  {۸}</p>
<p>اور بھلائی کو جھٹلایا [4]{۹}</p>
<p> اُس کو ہم سخت راستے کے لیے سہولت دیں گے۔[5]{۱۰}</p>
<p> اور اس کا مال آخر اُس کے کس کام آئے گا جبکہ وہ ہلاک ہوجائے ؟[6]  {۱۱}</p>
<p>بے شک راستہ بتانا ہمارے ذمہ ہے[7] { ۱۲}</p>
<p> اور درحقیقت آخرت اور دنیا،دونوں کے ہم ہی مالک ہیں۔ [8]{ ۱۳}</p>
<p> پس میں نے تم کو خبردار کردیا ہے بھڑکتی ہوئی آگ سے۔ {۱۴}</p>
<p>اُس میں نہیں جُھلسے گا مگر وہ انتہائی بدبخت {۱۵}</p>
<p>جس نے جھٹلایا اور مُنہ پھیرا۔ {۱۶}</p>
<p> اور اس سے دور رکھا جائے گا وہ نہایت پرہیزگار{۱۷}</p>
<p>جو پاکیزہ ہونے کی خاطر اپنا مال دیتا ہے۔ [9]{۱۸}</p>
<p>جب کہ اُس پر کسی کا کوئی احسان نہیں ہے جس کا بدلہ اُسے دینا ہو۔ {۱۹}</p>
<p> وہ تو صرف اپنے ربّ ِاعلیٰ و برتر کی رضا جوئی کے لیے یہ(مال خرچ کرنے کا ) کام کرتا ہے۔ [10]{ ۲۰}</p>
<p> اور ضرور وہ (اُس سے ) خوش ہوگا ۔[11]{۲۱}</p>

</div><div id="93"><p>سورۃ  الضحٰی </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>قسم ہے روز روشن کی[1] {۱}</p>
<p>اور رات کی جبکہ وہ سکون کے ساتھ طاری ہوجائے [2]{ ۲}</p>
<p> (اے نبی  ؐ!) تمہارے ربّ نے تم کو ہرگز نہیں چھوڑا اور نہ وہ ناراض ہوا۔[3] {۳}</p>
<p> اور یقینا تمہارے لئے بعد کا دَور پہلے دَورسے بہتر ہے [4]{ ۴}</p>
<p> اور عنقریب تمہارا ربّ تم کو اتنا دے گا کہ تم خوش ہوجا ؤ گے[5] { ۵}</p>
<p> کیا اُس نے تم کو یتیم نہیں پایااور پھر ٹھکانا فراہم کیا؟[6] {۶}</p>
<p>اور تمہیں ناواقفِ راہ(ہدایت کا متلاشی) پایا اور پھر ہدایت بخشی ۔[7]{۷}</p>
<p> اور تمہیں نادار پایا او رپھر مالدارواور غنی کردیا [8]{۸}</p>
<p> لہٰذا یتیم پر سختی نہ کرو[9]{۹}</p>
<p>اور سائل کو نہ جھڑ کو [10]{۱۰}</p>
<p> اور اپنے رب کی نعمت کا اظہار کرو۔[11]{۱۱}</p>

</div><div id="94"><p>سورۃ  الشرح </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>(اے نبی  ؐ!) کیا ہم نے تمہارا سینہ تمہارے لئے کھول نہیں دیا؟[1] {۱}</p>
<p> اور تم پر سے وہ بھاری بوجھ ہم نے اُتار دیا {۲}</p>
<p>جوتمہاری کمرتوڑے ڈال رہا تھا۔ [2]{۳}</p>
<p> اور تمہاری خاطر تمہارے ذکر کا آوازہ ہم نے بلند کردیا۔ [3]{۴}</p>
<p> پس حقیقت یہ ہے کہ تنگی (مشکل) کے ساتھ فراخی (راحت)بھی ہے[4] {۵}</p>
<p> بے شک تنگی (سختی) کے ساتھ فراخی (آسانی) بھی ہے {۶}</p>
<p> لہٰذا جب تم فارغ ہوتوعبادت (منصب نبوت کے فرائض )کی مشقت میں لگ جاؤ {۷}</p>
<p> اور(دل کی گہرائیوں سے ) اپنے رَبّ ہی کی طرف راغب ہوجاؤ[5]{۸}</p>

</div><div id="95"><p>سورۃ  التین </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہامہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>قسم ہے انجیر اور زیتون کی [1]{۱}</p>
<p>اور طورِ سیناکی [2]{۲}</p>
<p> اور اس پُر امن شہر (مکہّ) کی{ ۳}</p>
<p> یقیناہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا [3]{۴}</p>
<p>پھر اُسے اُلٹاپھیر کر ہم نے سب نیچوں سے نیچ کردیا [4]{۵}</p>
<p> سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے کہ اُن کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا اَجر ہے ۔[5]{۶}</p>
<p>پس (اَے نبی نبی  ؐ!) اِس کے بعد کون جزاو سزاکے معاملے میں تم کو جھٹلاسکتا ہے ؟ [6]{۷}</p>
<p> کیااللہ  سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ہے؟ [7]{۸}</p>

</div><div id="96"><p>سورۃ  العلق </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>پڑھو [1] ( اے نبی  ؐ!) اپنے ربّ کے نام کے ساتھ [2]جس نے پیدا کیا[3]{۱}</p>
<p>جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی۔[4] { ۲}</p>
<p> پڑھو ، اور تمہارا ربّ بڑا کریم ہے { ۳}</p>
<p>جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا [5]{۴}</p>
<p> انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا ۔ [6]{۵}</p>
<p>ہرگز نہیں،[7] انسان سرکشی کرتا ہے {۶}</p>
<p>اِس بناپر کہ وہ اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے[8] {۷}</p>
<p> (حالانکہ ) پلٹنا یقینا تیرے رب ہی کی طرف ہے ۔[9]{۸}</p>
<p> تم نے دیکھا اُس شخص کو جو منع کرتا ہے{۹}</p>
<p>  ایک بندے کوجبکہ وہ نماز پڑھتا ہو؟ [10]{۱۰}</p>
<p> تمہارا کیا خیال ہے اگر ( وہ بندہ)  راہِ راست پر ہو {۱۱}</p>
<p>یا پرہیز گاری کی تلقین کرتا ہو ؟{ ۱۲}</p>
<p> تمہارا کیا خیال ہے اگر ( یہ منع کرنے والا شخص حق کو) جھٹلاتا اور منہ موڑتا ہو؟{ ۱۳}</p>
<p>کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے؟[11]{۱۴}</p>
<p> ہر گز نہیں[12] ، اگر وہ باز نہ آیا تو ضرور ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچیں گے {۱۵}</p>
<p> اُس پیشانی کو جو جھوٹی اور سخت خطا کارہے۔ [13]{۱۶}</p>
<p> وہ بُلالے اپنے حامیوں کی ٹولی کو [14]{۱۷}</p>
<p> ہم بھی عذاب کے فرشتوں کو بلالیں گے۔[15] {۱۸}</p>
<p> ہرگز نہیں ، اُس کی با ت نہ مانو اور سجدہ کرو اور ( اپنے ربّ کا)  قرب حاصل کرو۔ [16]{۱۹}</p>

</div><div id="97"><p>سورۃ  القدر </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والاہے ۔</p>
<p>بیشک ہم نے اِس (قرآن ) کو شب قدر میں نازل کیاہے [1]{ ۱}</p>
<p> اور تم کیا جانو کہ شبِ قدر کیا ہے؟ {۲}</p>
<p>  شبِ قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔  [2]{ ۳}</p>
<p> فرشتے اور رُوح[3] اُس میں اپنے رَبّ کے اِذن سے ہر حکم لے کر اُترتے ہیں۔  [4]{ ۴}</p>
<p>وہ رات سراسر سلامتی ہے طلوع فجر تک[5]  {۵}</p>

</div><div id="98"><p>سورۃ  البیّنۃ </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>اہل کتاب اور مشرکین[1] میں سے جو لوگ کافر تھے ،[2] ( وہ اپنے کفر سے ) باز آنے والے نہ تھے جب تک کہ اُن کے پاس دلیل روشن نہ آجائے [3] {۱}</p>
<p>( یعنی) اللہ کی طرف سے ایک رسول [4]جو پاک صحیفے پڑھ کر سنائے [5] {۲}</p>
<p>جن میں بالکل راست اور درست تحریریں لکھی ہوئی ہو ں۔ {۳}</p>
<p>پہلے جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی اُن میں تفرقہ برپانہیں ہوا مگر اِس کے بعد کہ اُن کے پاس ( راہ ِراست کا) بیان واضح آچکا تھا ۔  [6]{۴}</p>
<p> اور اُن کو اِس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کریں،اپنے دین کو اُس کے لیے خالص کرکے ، بالکل یک سُوہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اوریہی نہایت صحیح و درست دین ہے۔[7]{۵}</p>
<p> اہل کتاب اور مشرکین میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ہے[8] وہ یقینا جہنم کی آگ میں جائیں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے ،یہ لوگ بدترین خلائق ہیں۔[9]{۶}</p>
<p>جو لوگ ایمان لے آئے اور جنہوں نے نیک عمل کئے ، وہ یقینا بہترین خلائق ہیں۔ [10]{۷}</p>
<p> اُن کی جزا اُن کے ربّ کے ہاں دائمی قیام کی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ یہ (جنّت اور رضا) ہے اُس شخص کے لیے جس نے اپنے رَبّ کا خوف کیا ہو۔ [11]{۸}</p>

</div><div id="99"><p>سورۃ  الزلزال </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہامہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>جب زمین اپنی پوری شدّت کے ساتھ(زلزلوں سے) ہلا ڈالی جائے گی[1] {۱}</p>
<p>اور زمین اپنے اندر کے سارے بوجھ نکال کر باہر ڈال دے گی[2]{ ۲}</p>
<p> اور انسان کہے گاکہ یہ اس کو کیا ہورہا ہے ؟[3] {۳}</p>
<p>اس روز وہ اپنے ( اوپر گزرے ہوئے) حالات بیان کرے گی[4]{۴}</p>
<p> کیوں کہ تیرے رَب ّنے اسے ( ایسا کرنے کا ) حکم دیاہوگا۔ {۵}</p>
<p> اُس روز لوگ متفرق حالت میں پلٹیں گے [5]تاکہ اُن کے اعمال اُن کو دکھائے جائیں۔  [6]{۶}</p>
<p> پھر جس نے ذرّہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔ {۷}</p>
<p> اور جس نے ذرہ برابر بدی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔ [7]{۸}</p>

</div><div id="100"><p>سورۃ  العٰد یت </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہامہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>قسم ہے اُن ( گھوڑوں ) کی جو پھنکارے مارتے ہوئے دوڑتے ہیں[1]{۱}</p>
<p> پھر ( اپنی ٹاپوں سے ) چنگاریاں جھاڑتے ہیں[2]{ ۲}</p>
<p> پھر صبح سویرے چھاپہ مارتے ہیں[3]{ ۳}</p>
<p> پھراُس موقع پر گردو غباراُڑاتے ہیں {۴}</p>
<p> پھر اسی حالت میں کسی مجمع کے اندر جاگھستے ہیں {۵}</p>
<p>حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے رَبّ کا بڑا ناشکرا ہے [4]{۶}</p>
<p> اور وہ خود اس پر گواہ ہے [5]{۷}</p>
<p>اور وہ مال و دولت کی محبت میں بُری طرح مبتلاہے۔[6]{۸}</p>
<p> تو کیاوہ اُس وقت کو نہیں جانتا جب قبروں میں جو کچھ (مدفون) ہے اُسے نکال لیا جائے گا[7]{۹}</p>
<p> اور سینوں میں جو کچھ ( مخفی) ہے اُسے بر آمد کرکے اُس کی جانچ پڑتال کی جائے گی؟[8] {۱۰}</p>
<p> یقینا اُن کا رَبّ اُس روز اُن سے خوب باخبر ہوگا۔  [9]{۱۱}</p>

</div><div id="101"><p>سورۃ القارعۃ </p>
<p>اللہ  کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ </p>
<p>(کھڑکھڑانے اور کھٹکھٹانے والا ہولناک) وہ عظیم حادثہ! [1] {۱}</p>
<p>کیا ہے وہ عظیم حادثہ ؟ {۲}</p>
<p>اورتم کیا جانو کہ وہ عظیم حادثہ کیا ہے ؟ {۳}</p>
<p>وہ دن جب لوگ بِکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے { ۴}</p>
<p>اور پہاڑ رنگ برنگ کے دُھنکے ہوئے اُون کی طرح ہوں گے [2]{۵}</p>
<p> پھر [3]جس کے پلڑے بھاری ہوں گے{۶}</p>
<p> وہ  دل پسند عیش میں ہوگا {۷}</p>
<p> اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے[4] {۸}</p>
<p>اُس کی جائے قرار (ھاویہ)گہری کھائی ہوگی۔[5]  {۹}</p>
<p>اور تمہیں کیا خبر کہ وہ  (ھاویہ)کیا چیز ہے ؟ {۱۰}</p>
<p> بھڑکتی ہوئی آگ ۔[6]{۱۱}</p>

</div><div id="102"><p>سورۃ اتکاثر </p>
<p>اللہ  کے نام سے جو بے انتہامہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ </p>
<p>تم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اور ایک دوسرے سے بڑھ کردنیا حاصل کرنے کی دُھن نے غفلت میں ڈال رکھا ہے[1] { ۱}</p>
<p> یہاں تک کہ( اسی فکر میں ) تم لب گور(قبروں کے کنارے )تک پہنچ جاتے ہو۔[2] {۲}</p>
<p> ہر گز نہیں ، عنقریب  تم کو معلوم ہوجائے گا [3]{۳}</p>
<p>پھر(سُن لوکہ ) ہرگز نہیں، عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا {۴}</p>
<p> ہرگز نہیں ، اگر تم یقینی علم کی حیثیت سے ( اس روش کے انجام کو ) جانتے ہوتے ( تو تمہارا یہ طرز عمل نہ ہوتا )۔ {۵}</p>
<p> ضرور تم دوزخ(جہّنم) دیکھ کر رہوگے {۶}</p>
<p> پھر (سُن لوکہ ) تم بالکل یقین کے ساتھ ضرور اُسے دیکھ لوگے ۔{۷}</p>
<p> پھر ضرور اُس روز تم سے اِن نعمتوں کے بارے میں جواب طلبی کی جائے گی۔ [4]{۸}</p>

</div><div id="103"><p>سورۃ  العصر </p>
<p>اللہ  کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔  </p>
<p>زمانے  کی قسم  {۱}</p>
<p> انسان درحقیقت خسارے میں ہے  { ۲}</p>
<p>سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے، اور نیک اعمال کرتے رہے، اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کرتے رہے ، اور صبر کی تلقین کرتے رہے۔ [1]{ ۳}</p>

</div><div id="104"><p>سورۃ  الھُمزۃ </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ </p>
<p>  تباہی ہے ہر اُس شخص کے لیے جو ( منُہ درمنُہ ) لوگوں پر طعن اور ( پیٹھ پیچھے ) برائیاں کرنے کا خوگر ہے۔ [1]{۱}</p>
<p> جس نے مال جمع کیا اور اُسے گِن گِن کررکھا۔[2] {۲}</p>
<p> وہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال ہمیشہ اس کے پاس رہے گا ۔[3] {۳}</p>
<p> ہر گز نہیں ، وہ شخص توچکنا چور کردینے والی[4]جگہ میں پھینک دیا جائے گا ۔[5]{۴}</p>
<p>اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ چکنا چُور کردینے والی جگہ؟  {۵}</p>
<p>اللہ کی آگ ،[6]خوب بھڑکائی ہوئی {۶}</p>
<p> جودلوں تک پہنچے گی۔  [7]{۷}</p>
<p> بیشک وہ( آگ) اُن پر ڈھانک کربند کردی جائے گی[8]{۸}</p>
<p>(اس حالت میں کہ وہ ) اُونچے اُونچے ستونوں میں (گھرے ہوئے ہوں  گے)۔ [9] {۹}</p>

</div><div id="105"><p>سورۃ الفیل </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہامہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ </p>
<p>کیا تم نے دیکھا نہیں [1]کہ تمہارے رَبّ نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا ؟[2]{۱}</p>
<p> کیا اُس نے اُن کی تدبیر[3] کو اکارت نہیں کردیا؟ [4]{۲}</p>
<p>اوراُن پر پرندوں کے جُھنڈکے جُھنڈ بھیج دیے[5]{ ۳}</p>
<p> جو اُن کے اوپر پکی ہوئی مٹی کے کنکر پتھر پھینک رہے تھے[6]{ ۴}</p>
<p>پھراُس نے اُن کا یہ حال کردیا جیسے (جانوروں کا ) کھایا ہوا بھوسا ۔  [7]{۵}</p>

</div><div id="106"><p>سورۃ قریش </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>چوں کہ قریش مانوس ہوئے[1] {۱}</p>
<p> (یعنی) جاڑے اور گرمی کے سفروں سے مانوس [2] { ۲}</p>
<p> لہٰذا اُن کو چاہیے کہ اس گھر کے رَبّ کی عبادت کریں [3]{ ۳}</p>
<p> جس نے اِنہیں بھوک سے بچا کر کھانے کو دیا [4]اور خوف سے بچا کرامن عطا کیا۔[5]{۴}</p>

</div><div id="107"><p>سورۃ الماعون </p>
<p>اللہ  کے نام سے جو بے انتہامہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>کیا تم نے [1]دیکھا اُس شخص کو جو آخرت کی جزاو سزا [2]کوجھٹلاتا ہے ؟[3]{۱}</p>
<p>وہی تو ہے[4] جو یتیم کو دھکّے دیتا ہے[5] { ۲}</p>
<p>اور مسکین کوکھانا [6]دینے پر نہیں اُکساتا ۔[7]  {۳}</p>
<p>پھر تباہی ہے اُن نماز پڑھنے والوں کے لیے[8]{ ۴}</p>
<p>جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں[9] {۵}</p>
<p> جو ریاکاری کرتے ہیں۔[10] {۶}</p>
<p> اور معمولی ضرورت کی چیز یں[11] ( لوگوں کو) دینے سے گریز کرتے ہیں۔  {۷}</p>

</div><div id="108"><p>سورۃ الکوثر </p>
<p>اللہ  کے نام سے جو بے انتہامہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>( اے نبی ؐ!) یقینا ہم نے تمہیں کوثر عطا کردیا [1]{۱}</p>
<p> پس تم اپنے رَبّ ہی کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو [2]{۲}</p>
<p> بلا شبہ تمہارا دشمن[3] ہی جڑکٹاہے [4] (بے نام و نشان رہے گا) ۔ { ۳}</p>

</div><div id="109"><p>سورۃ الکافرون </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>کہہ دو،کہ اے کافرو ! [1]  {۱}</p>
<p> میں اُن کی عبادت نہیں کرتا جن کی عبادت تم کرتے ہو[2]{۲}</p>
<p> اور  نہ تم اُس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں۔ [3]{۳}</p>
<p> اور نہ میں اُن کی عبادت کرنے والا ہوں جن کی عبادت تم نے کی ہے  {۴}</p>
<p> اور نہ تم اُس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں ۔[4]{۵}</p>
<p> تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرادین  ۔ [5]{۶}</p>

</div><div id="110"><p>سورۃ النصر </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>جب اللہ کی مدد آجائے اور فتح نصیب ہوجائے[1]{۱}</p>
<p> اور ( اے نبی  ؐ!) تم دیکھ لو کہ لوگ فوج درفوج اللہ کے دین میں داخل ہورہے ہیں [2]{ ۲}</p>
<p>تو اپنے ربّ کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو ،[3] اور اُس سے مغفرت کی دعا مانگو ،[4] بے شک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے  ۔{ ۳}</p>

</div><div id="111"><p>سورۃ اللھب </p>
<p>اللہ  کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>ٹوٹ گئے ابولہب کے ہاتھ اور نامُراد ہوگیا وہ ۔[1]{۱}</p>
<p> اُس کا مال اور جو کچھ اُس نے کمایا وہ اُسکے کسی کام نہ آیا ۔[2]{۲}</p>
<p> ضرور وہ شعلہ زن آگ میں ڈالا جائے گا  {۳}</p>
<p>اور ( اُسکے ساتھ) اُس کی جو رو (بیوی)بھی [3] (آگ میں ڈالی جائے گی) جو لگائی بجھائی کرنے والی[4] ہے { ۴}</p>
<p> اسکی گردن میں مو نجھ کی ( مضبوط بٹی ہوئی) رسّی ہوگی ۔[5] {۵}</p>

</div><div id="112"><p>سورۃ الاخلاص </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>کہو،[1] وہ  اللہ ہے،[2] یکتا۔[3]  {۱}</p>
<p> اللہ سب سے بے نیازہے اور سب اُس کے محتاج ہیں ۔[4]{ ۲}</p>
<p> نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد  ۔[5]{ ۳}</p>
<p> اور کوئی اس کا ہمسر نہیں ہے ۔[6]{ ۴}</p>

</div><div id="113"><p>سورۃ الفلق </p>
<p>اللہ  کے نام سے جو بے انتہامہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>کہو ،[1]میں پناہ مانگتا ہوں[2] صبح کے رَبّ [3]کی  {۱}</p>
<p> ہر اُس چیز کے شرسے جو اس نے پیدا کی ہے[4]{ ۲}</p>
<p>اور رات کی تاریکی کے شر سے جب کہ وہ چھا جائے[5]{۳}</p>
<p> اور گرہوں میں پھونکنے والوں ( یاوالیوں ) کے شرسے[6] {۴}</p>
<p> اور حاسد کے شر سے جب کہ وہ حسد کرے ۔[7]{۵}</p>

</div><div id="114"><p>سورۃ  الناس </p>
<p>اللہ کے نام سے جو بے انتہامہربان اور رحم فرمانے والا ہے ۔</p>
<p>کہو ، میں پنا ہ مانگتا ہوں انسانوں کے رَبّ کی {۱}</p>
<p> انسانوں کے بادشا ہ کی{ ۲}</p>
<p> انسانوں کے حقیقی معبود کی[1] { ۳}</p>
<p> اُس وسوسہ ڈالنے والے کے شرسے جو بار بار پلٹ کر آتا ہے[2]  { ۴}</p>
<p> جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے {۵}</p>
<p> خواہ وہ  جِنّوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔[3] {۶}</p>

</div>

</body>