سورۃالتوبۃ   -  9 : 93-129 / 129البتہ اعتراض اُن لوگوں پر ہے جو مالدار ہیں اور پھر بھی تم سے درخواست کرتے ہیں کہ انہیں شرکت جہاد سے معاف رکھاجائے ۔ انہوں نے گھر بیٹھنے والیوں میں شامل ہونا پسند کیا اور اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپہ لگادیا ،اس لیے اب یہ کچھ نہیں جانتے (کہ اللہ کے ہاں ان کی اس روش کا کیا نتیجہ نکلنے والا ہے) ۔{۹۳} تم جب پلٹ کر ان کے پاس پہنچو گے تو یہ طرح طرح کے عُذرات پیش کریں گے۔ مگر تم صاف کہہ دینا کہ ’’ بہانے نہ کرو ، ہم تمہاری کسی بات کا اعتبار نہ کریں گے۔ اللہ نے ہم کو تمہارے حالات بتادیے ہیں۔ اب اللہ اور اس کا رسُول ؐ تمہارے طرز عمل کو دیکھے گا ، پھر تم اُس کی طرف پلٹائے جا ؤ گے جو کھلے اور چُھپے سب کا جاننے والا ہے اور وہ تمہیں بتادے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو‘‘۔{۹۴} تمہاری واپسی پر یہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تا کہ تم ان سے َصرفِ نظر کرو۔ توبے شک تم ان سے َصرفِ نظر ہی کر لو ،[94] کیونکہ یہ گندگی ہیں اور ان کا اصلی مقام جہنم ہے جو ان کی کمائی کے بدلے میں انہیں نصیب ہوگی۔{۹۵} یہ تمہارے سامنے قسمیں کھائیں گے تا کہ تم ان سے راضی ہوجا ؤ۔حالانکہ اگر تم اِن سے راضی ہو بھی گئے تو اللہ ہر گز ایسے فاسق لوگوں سے راضی نہ ہوگا۔{۹۶} یہ بدوی عرب کفرونفاق میں زیادہ سخت ہیں اور انکے معاملے میں اس امر کے امکانات زیادہ ہیں کہ اُس دین کے حدود سے ناواقف رہیں جو اللہ نے اپنے رسول ؐپر نازل کیا ہے۔[95] اللہ سب کچھ جانتا ہے اور حکیم و دانا ہے۔{۹۷} ان بدویوں میں ایسے ایسے لوگ موجود ہیں جو اللہ کی راہ میں کچھ خرچ کرتے ہیں تو اسے اپنے اوپر زبردستی کی چَٹّی(تاوان) سمجھتے ہیں[96] اور تمہارے حق میں زمانہ کی گردشوں کا انتظار کررہے ہیں (کہ تم کسی چکر میں پھنسو تو وہ اپنی گردن سے اس نظام کی اطاعت کا قلادہ اتار پھینکیں جس میں تم نے انہیں کس دیا ہے )۔ حالانکہ بدی کا چکر خود انہی پر مسلط ہے اور اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔{۹۸} اور انہی بدویوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہیں اور جو کچھ خرچ کرتے ہیں اسے اللہ کے ہاں تقرّب کا اور رسول ؐکی طرف سے رحمت کی دعائیں لینے کا ذریعہ بناتے ہیں۔ ہاں ! وہ ضرور ان کے لیے تقرّب کا ذریعہ ہے اور اللہ ضرور ان کو اپنی رحمت میں داخل کرے گا ، یقینا اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ {۹۹} وہ مہاجر وانصار جنہوں نے سب سے پہلے دعوت ایمان پر لبیک کہنے میں سبقت کی، نیز وہ جو بعد میں راست بازی کے ساتھ اُن کے پیچھے آئے ، اللہ ان سے راضی ہو ا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے، اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ مہیّا کررکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے ، یہی عظیم الشان کامیابی ہے۔{۱۰۰} تمہارے گردو پیش جو بدوی رہتے ہیں ان میں بہت سے منافق ہیں اور اسی طرح خود مدینہ کے باشندوں میں بھی منافق موجود ہیں جو نفاق میں طاق ہوگئے ہیں۔ تم انہیں نہیں جانتے ، ہم اُن کو جانتے ہیں[97]۔ قریب ہے وہ وقت جب ہم ان کو دوہری سزادیں گے [98]، پھر وہ زیادہ بڑی سزا کے لیے واپس لائے جائیں گے۔{۱۰۱} کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے اپنے قصوروں کا اعتراف کرلیا ہے۔ ان کا عمل مخلوط ہے کچھ نیک ہے اور کچھ بد ۔ بعید نہیں کہ اللہ ان پر پھر مہربان ہوجائے کیونکہ وہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے{ ۱۰۲} اے نبی ؐ! تم ان کے اموال میں سے صدقہ لے کر انہیں پاک کرو اور (نیکی کی راہ میں ) انہیں بڑھا ؤ اور ان کے حق میں دعائے رحمت کرو، کیونکہ تمہاری دعاء ان کے لیے وجہ تسکین ہوگی، اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے{ ۱۰۳} کیااِن لوگوں کو معلوم نہیں ہے کہ وہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں کی توبہ قبول کرتا ہے اور اُن کی خیرات کو قبولیت عطا فرماتا ہے ، اور یہ کہ اللہ بہت معاف کرنے والا اور رحیم ہے؟ {۱۰۴} اور اے نبی ؐ! ان لوگوں سے کہہ دو کہ تم عمل کرو، اللہ اور اس کا رسول ؐاور مومنین سب دیکھیں گے کہ تمہارا طرز عمل اب کیا رہتا ہے [99]پھر تم اُس کی طرف پلٹائے جا ؤ گے جو کھلے اور چھپے سب کو جانتا ہے اور وہ تمہیں بتادے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔[100] {۱۰۵} کچھ دوسرے لوگ ہیں جن کا معاملہ ابھی اللہ کے حکم پر ٹھہرا ہوا ہے ، چاہے انہیں سزادے اور چاہے ان پر از سر نومہربان ہوجائے ۔ اللہ سب کچھ جانتا ہے اور حکیم ودانا ہے۔[101] {۱۰۶} کچھ اور لوگ ہیں جنہوں نے ایک مسجد بنائی اس غرض کے لیے کہ (دعوت حق کو ) نقصان پہنچائیں، اور (اللہ کی بندگی کرنے کے بجائے) کفر کریں ، اور اہل ایمان میں پھُوٹ ڈالیں ، اور (اس بظاہر عبادت گاہ کو ) اُس شخص کے لیے کمین گاہ بنائیں جو اِس سے پہلے اللہ اور اِس کے رسول اکے خلاف برسرپیکار ہوچکا ہے۔ وہ ضرور قسمیں کھا کھا کر کہیں گے کہ ہمارا ارادہ تو بھلائی کے سوا کسی دوسری چیز کا نہ تھا ۔ مگر اللہ گواہ ہے کہ وہ قطعی جھوٹے ہیں ۔{۱۰۷} تم ہر گز اُس عمارت میں کھڑے نہ ہونا ۔ جو مسجد اول روز سے تقویٰ پر قائم کی گئی تھی وہی اس کے لیے زیادہ موزوں ہے کہ تم اس میں (عبادت کے لیے ) کھڑے ہو،اُس میں ایسے لوگ ہیں جو پاک رہنا پسند کرتے ہیں اور اللہ کو پاکیزگی اختیار کرنے والے ہی پسند ہیں۔[102]{۱۰۸} پھر تمہارا کیا خیال ہے کہ بہتر انسان وہ ہے جس نے اپنی عمارت کی بنیاد اللہ کے خوف اور اس کی رضا کی طلب پر رکھی ہویا وہ جس نے اپنی عمارت ایک وادی کی کھوکھلی بے ثبات کگر [103] (کنارے ) پراٹھائی اور وہ اسے لے کر سیدھی جہنم کی آگ میں جاگری ؟ ایسے ظالم لوگوں کو اللہ کبھی سیدھی راہ نہیں دکھاتا ۔[104]{۱۰۹} یہ عمارت جو انہوں نے بنائی ہے ہمیشہ ان کے دلوں میں بے یقینی کی جڑبنی رہے گی( جس کے نکلنے کی اب کوئی صورت نہیں ) بجز اس کے کہ ان کے دل ہی پارہ پارہ ہوجائیں۔ [105]اللہ نہایت باخبر اورحکیم ودانا ہے۔{۱۱۰} حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے مومنوں سے ان کے نفس اور ان کے مال جنّت کے بدلے خرید لئے ہیں ۔[106] وہ اللہ کی راہ میں لڑتے اور مارتے اور مرتے ہیں۔ ان سے اللہ تعالیٰ کے ذمے ایک پختہ وعدہ ( جنّت کا وعدہ ) ہے تو راۃ اورا نجیل اور قرآن میں[107] ۔ اور کون ہے جو اللہ تعالی سے بڑھ کر اپنے عہد کو پورا کرنے والا ہو ؟ پس خوشیاں منا ؤ اپنے اس سودے پر جو تم نے اللہ تعالیٰ سے چکا لیا ہے، یہی سب سے بڑی کامیابی ہے ۔{۱۱۱} اللہ کی طرف باربار پلٹنے والے ،[108] اس کی بندگی بجالانے والے ، اس کی تعریف کے گن گانے والے ، اس کی خاطر زمین میں گردش کرنے والے،[109] اس کے آگے رکوع اور سجدے کرنے والے ، نیکی کا حکم دینے والے ، بدی سے روکنے والے، اور اللہ کے حدود کی حفاظت کرنے والے ،[110] ( اس شان کے ہوتے ہیں وہ مومن جو اللہ سے بیع کا یہ معاملہ طے کرتے ہیں) او راے نبی ؐ!ان مومنوں کو خوشنجری دے دو۔{ ۱۱۲} نبی ؐ کو اور ان لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں ، زیبا نہیں ہے کہ مشرکوں کے لیے مغفرت کی دعاء کریں چاہے وہ ان کے رشتہ دار ہی کیوں نہ ہوں ، جب کہ ان پر یہ بات کھل چکی ہے کہ وہ جہنم کے مستحق ہیں۔[111]{۱۱۳} ابراہیم ؑ نے اپنے باپ کے لیے جو دعائے مغفرت کی تھی وہ تو اُس وعدے کی وجہ سے تھی جو اس نے اپنے باپ سے کیا تھا [112]، مگر جب اس پر یہ بات کھل گئی کہ اس کا باپ اللہ کادشمن ہے تو وہ اس سے بیزار ہوگیا، حق یہ ہے کہ ابراہیم ؑ بڑا رقیق القلب و نرم دل اور بردبار آدمی تھا۔ [113]{۱۱۴} اللہ کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ لوگوں کو ہدایت دینے کے بعد پھر گمراہی میں مبتلا کرے جب تک کہ انہیں صاف صاف بتانہ دے کہ انہیں کن چیزوں سے بچنا چاہئے۔[114] درحقیقت اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔{۱۱۵} اور یہ بھی واقعہ ہے کہ اللہ ہی کے قبضہ میں زمین اور آسمانوں کی سلطنت ہے ، اسی کے اختیار میں زندگی و موت ہے، اور تمہارا کوئی حامی (ولی)ومددگار ایسا نہیں ہے جو تمہیں اس سے بچاسکے۔ {۱۱۶} اللہ تعالیٰ نے معاف کردیا نبی ؐ کو اور ان مہاجرین وانصار کو جنہوں نے بڑی تنگی کے وقت میں نبی ؐ کا ساتھ دیا۔ [115]اگر چہ اُن میں سے کچھ لوگوں کے دل کجی کی طرف مائل ہوچلے تھے ،[116] ( مگر جب انہوں نے اس کجی کا اتباع نہ کیا بلکہ نبی ؐکا ساتھ دیاتو ) اللہ نے انہیں معاف کردیا،[117] بے شک اُس کا معاملہ ان لوگوں کے ساتھ شفقت ومہربانی کا ہے۔{۱۱۷} اور اُنتینوں کو بھی اس نے معاف کیا جن کے معاملہ کو ملتوی کردیا گیا تھا [118]جب زمین اپنی ساری وُسعت کے باوجود ان پر تنگ ہوگئی اور ان کی اپنی جانیں بھی اُن پر بار ہونے لگیں اور انہوں نے جان لیا کہ اللہ سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ خود اللہ ہی کے دامن رحمت کے سوا نہیں ہے، تو اللہ اپنی مہربانی سے ان کی طرف پلٹا تا کہ وہ اُس کی طرف پلٹ آئیں ، یقینا وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے۔ [119] {۱۱۸} اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور سچے لوگوں کا ساتھ دو۔ {۱۱۹} مدینے کے باشندوں اور گردو نواح کے بدویوں کو یہ ہرگززیبانہ تھا کہ اللہ کے رسُول ؐ کو چھوڑ کر گھر بیٹھ رہتے اور اُس کی طرف سے بے پر واہو کر اپنے اپنے نفس کی فکر میں لگ جاتے اُس لئے کہ ایسا کبھی نہ ہوگا کہ اللہ کی راہ میں بھوک پیاس اور جسمانی مشقت کی کوئی تکلیف وہ جھیلیں ، اور منکرین حق کو جو راہ ناگوار ہے اُس پر کوئی قدم وہ اٹھائیں،اور کسی دشمن سے (عداوت حق کا ) کوئی انتقام وہ لیں ،اور اس کے بدلے ان کے حق میں ایک عمل صالح نہ لکھا جائے۔ یقینا اللہ کے ہاں محسنوں کا حق الخدمت مارا نہیں جاتا ہے۔{۱۲۰} اسی طرح یہ بھی کبھی نہ ہوگا کہ وہ ( اللہ کی را ہ میں ) تھوڑا یا بہت کوئی خرچ اٹھائیں اور (سعی جہاد میں ) کوئی وادی وہ پار کریں اور ان کے حق میں اسے لکھ نہ لیا جائے تا کہ اللہ ان کے اس اچھے کارنامے کا صلہ اُنہیں عطا کرے۔ {۱۲۱} اور یہ کچھ ضروری نہ تھا کہ اہل ایمان سارے کے سارے ہی نکل کھڑے ہوتے ، مگر ایسا کیوں نہ ہوا کہ اُن کی آبادی کے ہر حصہ میں سے کچھ لوگ نکل کر آتے اور دین کی سمجھ پیدا کرتے اور واپس جاکر اپنے علاقے کے باشندوں کو خبردار کرتے تا کہ وہ (غیر مسلمانہ روش سے ) پرہیز کرتے۔[120] {۱۲۲} اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جنگ کرو اُن منکرینِ حق سے جو تمہارے پاس (قریب )ہیں،[121] اور چاہیئے کہ وہ تمہارے اندر سختی پائیں[122] ، اور جان لو کہ اللہ متقیوں کے ساتھ ہے۔ [123]{ ۱۲۳} جب کوئی نئی سُورت نازل ہوتی ہے تو ان میں سے بعض لوگ (مذاق کے طور پر مسلمانوں سے ) پوچھتے ہیں کہ ’’ کہو :تم میں سے کس کے ایمان میں اس سے اضافہ ہوا ؟‘‘ (اس کا جواب یہ ہے کہ )جو لوگ ایمان لائے ہیں ان کے ایمان میں توفی الواقع (ہر نازل ہونے والی سُورت نے ) اضافہ ہی کیا ہے اور وہ اس سے دلشاد ہیں۔{۱۲۴} البتہ جن لوگوں کے دلوں کو (نفاق کا) روگ لگا ہوا تھا ان کی سابق نجاست پر ( ہرنئی سورت نے ) ایک اور نجاست کا اضافہ کردیا [124]اور وہ مرتے دم تک کفر ہی میں مبتلا رہے ۔{۱۲۵} کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں کہ ہر سال ایک دو مرتبہ یہ آزمائش میں ڈالے جاتے ہیں ؟[125] مگر اس پر بھی نہ توبہ کرتے ہیں نہ کوئی سبق لیتے ہیں۔{۱۲۶} جب کوئی سورت نازل ہوتی ہے تو یہ لوگ آنکھوں ہی آنکھوں میں ایک دوسرے سے باتیں کرتے ہیں کہ کہیں کوئی تم کو دیکھ تو نہیں رہا ہے ، پھر چپکے سے نکل بھاگتے ہیں۔[126] اللہ نے ان کے دل پھیردیے ہیں کیونکہ یہ ناسمجھ لوگ ہیں۔ [127]{۱۲۷} دیکھو ! تم لوگوں کے پاس ایک رسُول ؐ آیا ہے جو خود تم ہی میں سے ہے ، تمہارا نقصان میں پڑنا اس پر شاق ہے ۔ تمہاری فلاح کا وہ حریص ہے، ایمان لانے والوں کے لیے وہ شفیق او ررحیم ہے {۱۲۸} اب اگر یہ لوگ تم سے منھ پھیرتے ہیں تو اے نبی ؐ! ان سے کہہ دو کہ ’’میرے لئے تو بس، اللہ ہی کافی ہے کوئی معبود نہیں مگر وہ، اُسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہ مالک ہے عرش عظیم کا‘‘۔{۱۲۹}
سورۃیونس   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 10 : 1-25 / 109الٓـرٰ ، یہ اُس کتاب کی آیات ہیں جو حکمت ودانش سے لبریزہے۔[1]{۱} کیا لوگوں کے لیے یہ عجیب بات ہوگئی کہ ہم نے خود انہی میں سے ایک آدمی پر وحی بھیجی کہ (غفلت میں پڑے ہوئے)لوگوں کو چونکادے اور جو مان لیں ان کو خوشجری دے دے کہ ان کے لیے ان کے رَبّ کے پاس سچی عزت و سرفرازی ہے؟[2] (اس پر ) منکرین نے کہا کہ یہ شخص تو کھلا جادوگرہے۔ [3]{۲} حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رَبّ وہی اللہ ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا، پھرتخت سلطنت پر جلوہ گر ہو کر کائنات کا انتظام چلارہا ہے۔[4] کوئی شفاعت (سفارش) کرنے والا نہیں ہے اِلاّ یہ کہ اُس کی اجازت کے بعد شفاعت کرے ۔[5] یہی اللہ تمہارا رَبّ ہے لہٰذا تم اسی کی عبادت کرو۔[6] پھر کیا تم ہوش میں نہ آ ؤ گے۔[7]{ ۳} اُسی کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے ،[8] یہ اللہ کا پکا وعدہ ہے ۔بے شک پیدائش کی ابتدا وہی کرتا ہے ، پھر وہی دوبارہ پید ا کرے گا ،[9]تا کہ جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے ان کو انصاف کے ساتھ جزادے ، اور جنہوں نے کفر کا طریقہ اختیار کیا وہ کھولتا ہوا پانی پئیں اور درد ناک سزابھگتیں اس انکار حق کی پاداش میں جو وہ کرتے رہے۔ [10]{ ۴} وہی ہے جس نے سورج کو اُجیالا بنایا اور چاند کو چمک دی اور چاند کے گھٹنے بڑھنے کی منزلیں ٹھیک ٹھیک مقرر کردیں تا کہ تم اس سے برسوں اور تاریخوں کے حساب معلوم کرو۔ اللہ نے یہ سب کچھ برحق ہی پیدا کیا ہے۔ وہ اپنی نشانیوں کو کھول کھول کر پیش کررہا ہے اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔{۵} یقینا رات اور دن کے الٹ پھیر میں اور ہر اُس چیز میں جو اللہ نے زمین اور آسمانوں میں پیدا کی ہے ، نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو (غلط بینی وغلط روی سے ) بچنا چاہتے ہیں۔ [11]{۶} حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اور دنیا کی زندگی ہی پر راضی اور مطمئن ہوگئے ہیں ، اور جو لوگ ہماری نشانیوں سے غافل ہیں{۷} اُن کا آخری ٹھکانا جہنم ہوگا اُن بُرائیوں کی پاداش میں جن کا اکتساب وہ ( اپنے اس غلط عقیدے اور غلط طرز عمل کی وجہ سے ) کرتے رہے۔[12]{۸} اور یہ بھی حقیقت ہے کہ جو لوگ ایمان لائے (یعنی جنہوں نے اُن صداقتوں کو قبول کرلیا جو اس کتاب میں پیش کی گئی ہیں) اور نیک اعمال کرتے رہے انہیں ان کا رَبّ ان کے ایمان کی وجہ سے سیدھی راہ چلائے گا ، نعمت بھری جنتوں میں اُن کے نیچے نہریں بہیں گی[13]{۹} وہاں ان کی صدایہ ہوگی کہ ’’ پاک ہے تو اے اللہ ! اُن کی دُعا یہ ہوگی کہ ’’ سلامتی ہو ‘‘ اور ان کی ہربات کا خاتمہ اس پر ہوگا کہ ’’ ساری تعریف اللہ رب العٰلمین ہی کے لیے ہے۔‘‘[14]{۱۰} اگر کہیں[15] اللہ لوگوں کے ساتھ بُرا معاملہ کرنے میں بھی اتنی ہی جلدی کرتا جتنی وہ ودنیا کی بھلائی مانگنے میں جلدی کرتے ہیں تو ان کی مہلتِ عمل کبھی کی ختم کردی گئی ہوتی۔ ( مگر ہمارا یہ طریقہ نہیں ہے) اِس لئے ہم اُن لوگوں کو جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے اُن کی سرکشی میں بھٹکنے کے لیے چھوٹ دے دیتے ہیں ۔{۱۱} انسان کا حال یہ ہے کہ جب اس پر کوئی سخت وقت آتا ہے تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ہم کو پکارتا ہے ، مگر جب ہم اس کی مصیبت ٹال دیتے ہیں تو ایسا چل نکلتا ہے کہ گویا اس نے کبھی اپنے کسی بُرے وقت پر ہم کو پکاراہی نہ تھا۔ اس طرح حد سے گزر جانے والوں کے لیے ان کے کرتوت خوشنما بنادیے گئے ۔ { ۱۲} لوگو! تم سے پہلے کی قوموں[16] کو ہم نے ہلاک کردیا جب انہو ں نے ظلم کی روش[17] اختیار کی اور اُن کے رسُول ؑ اُن کے پاس کُھلی کُھلی نشانیاں لے کر آئے اور انہوں نے ایمان لاکر ہی نہ دیا۔ اس طرح ہم مجرموں کو ان کے جرائم کا بدلہ دیا کرتے ہیں۔ {۱۳} اب اُن کے بعد ہم نے تم کو زمین میں ان کی جگہ دی ہے ، تاکہ دیکھیں تم کیسے عمل کرتے ہو۔[18]{۱۴} جب انہیں ہماری صاف صاف باتیں سنائی جاتی ہیں تو وہ لوگ جو ہم سے ملنے کی توقع نہیں رکھتے ، کہتے ہیں کہ ’’اِس کے بجائے کوئی اور قرآن لا ؤ یا اس میں کچھ ترمیم کر و‘‘[19]اے نبی ا!ان سے کہو ’’ میرا یہ کام نہیں ہے کہ اپنی طرف سے اس میں کوئی تغیر وتبدّل کرلوں ۔میں تو بس اُس وحی کا پیروہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے۔ اگر میں اپنے رَبّ کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا ڈر ہے۔[20]{۱۵} اور کہو ’’ اگر اللہ کی مشّیت یہی ہوتی تو میں یہ قرآن تمہیں کبھی نہ سناتا اور اللہ تمہیں اس کی خبر تک نہ دیتا۔ آخر اس سے پہلے میں ایک عمر تمہارے درمیان گزار چکا ہوں ، کیا تم عقل سے کام نہیں لیتے ؟[21] {۱۶} پھر اُس سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جوایک جھوٹی بات گھڑکر اللہ کی طرف منسوب کرے یا اللہ کی واقعی آیات کو جھوٹا قرار دے ۔ [22]یقینا مجرم کبھی فلاح نہیں پاسکتے‘‘۔[23]{۱۷} یہ لوگ اللہ کے سوا ان کی پرستش کررہے ہیں جو ان کو نہ نقصان پہنچاسکتے ہیں نہ نفع، اور کہتے یہ ہیں کہ یہ اللہ کے ہاں ہمارے سفارشی ہیں اے نبی ؐ ! ان سے کہو ’’ کیا تم اللہ کو اُس بات کی خبر دیتے ہو جسے وہ نہ آسمانوں میں جانتا ہے ۔ نہ زمین میں‘‘؟[24] پاک ہے وہ اور بالا وبرتر ہے اس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔{۱۸} ابتداء ً سارے انسان ایک ہی اُمّت تھے ، بعد میں انہوں نے مختلف عقیدے اور مسلک بنا لئے،[25] اور اگرتیرے رَبّ کی طرف سے پہلے ہی ایک بات طے نہ کرلی گئی ہوتی تو جس چیز میں وہ باہم اختلاف کررہے ہیں اُس کا فیصلہ کردیا [26]جاتا۔ {۱۹} اور یہ جو وہ کہتے ہیں کہ اِس نبی ؐ پر اس کے رَبّ کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اتاری گئی ،[27] تو ان سے کہو ’’غیب کا مالک و مختار تو اللہ ہی ہے ، اچھا ، انتظار کرو ، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں۔‘‘[28]{۲۰} لوگوں کا حال یہ ہے کہ مصیبت کے بعد جب ہم اُن کو رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو فوراً ہی وہ ہماری نشانیوں کے معاملے میں چالبازیاں شروع کردیتے [29]ہیں۔ ان سے کہو ’’اللہ اپنی چال میں تم سے زیادہ تیز ہے ، اس کے فرشتے تمہاری سب مکاریوں کو قلم بندکر رہے[30] ہیں ‘‘۔ {۲۱} وہ اللہ ہی ہے جو تم کو خشکی اور تری میں چلاتا ہے چنانچہ جب تم کشتیوں میں سوار ہو کر باد موافق پر فرحاں وشاداں سفر کررہے ہوتے ہو اور پھر یکایک باد ِمخالف کا زور ہوتا ہے اور ہر طرف سے موجوں کے تھپیڑے لگتے ہیں اور مسافر سمجھ لیتے ہیں کہ طوفان میں گِھر گئے ، اس وقت سب اپنے دین کو اللہ ہی کے لیے خالص کرکے اس سے دعائیں مانگتے ہیں کہ ’’اگر تونے ہم کو اِس بَلاسے نجات دے دی تو ہم شکر گزار بندے بنیں گے‘‘ ۔[31]{۲۲} مگر جب وہ ان کو بچالیتا ہے تو پھر وہی لوگ حق سے مُنحرف ہو کر زمین میں بغاوت کرنے لگتے ہیں ۔ لوگو! تمہاری یہ بغاوت تمہارے ہی خلاف پڑرہی ہے ۔ دنیا کی زندگی کے چند روزہ مزے ہیں ( اس کے دھوکے میں مت پڑو)، پھر ہماری طرف تمہیں پلٹ کر آنا ہے ، اُس وقت ہم تمہیں بتادیں گے کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو۔{ ۲۳} دنیا کی یہ زندگی ( جس کے نشے میں مست ہوکر تم ہماری نشانیوں سے غفلت برت رہے ہو ) اِس کی مثال ایسی ہے جیسے آسمان سے ہم نے پانی برسایا تو زمین کی پیداوار ، جسے آدمی اور جانور سب کھاتے ہیں ، خوب گھنی ہوگئی ، پھر عین اُس وقت جب کہ زمین اپنی بہار پر تھی اور کھیتیاں بنی سنوری کھڑی تھیں اور ان کے مالک سمجھ رہے تھے کہ اب ہم ان سے فائدہ اٹھانے پر قادر ہیں ، یکایک رات کو یادن کو ہمارا حکم آگیا اور ہم نے اسے ایسا غارت کرکے رکھ دیا کہ گویا کل وہاں کچھ تھا ہی نہیں ۔ اس طرح ہم نشانیاں کھول کھول کر پیش کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو سوچنے سمجھنے والے ہیں۔{۲۴} (تم اس ناپائیدار زندگی کے فریب میں مبتلا ہورہے ہو) اور اللہ تمہیں دارالسلام کی طرف دعوت دے [32]رہا ہے۔ (ہدایت اُسی کے اختیار میں ہے ) جس کو وہ چاہتا ہے سیدھا راستہ دکھا دیتا ہے۔{۲۵}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)