سورۃالتوبۃ   -  9 : 34-92 / 129اے لوگوجو ایمان لائے ہو ! ان اہل کتاب کے اکثر علماء اور درویشوں کا حال یہ ہے کہ وہ لوگوں کے مال باطل طریقوں سے کھاتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ سے روکتے ہیں۔[33] دردناک سزاکی خوشنجری دو،اُن کو جو سونے اور چاندی جمع کرکے رکھتے ہیں اور انہیں اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے ۔{ ۳۴} ایک دن آئے گا کہ اِسی سونے چاندی پر جہنم کی آگ دہکائی جائے گی اور پھر اسی سے ان لوگوں کی پیشانیوں اور پہلو ؤں اور پیٹھوں کو داغا جائے گا۔ یہ ہے وہ خزانہ جو تم نے اپنے لئے جمع کیا تھا، لو اب اپنی سمیٹی ہوئی دولت کا مزہ چکھو۔ {۳۵} حقیقت یہ ہے کہ مہینوں کی تعداد جب سے اللہ نے آسمان و زمین کو پیدا کیا ہے اللہ کے نوشتے میں بارہ ہی ہے،[34] اور ان میں سے چار مہینے حرام ہیں۔ یہی ٹھیک ضابطہ ہے۔ لہٰذا ان چار مہینوں میں اپنے اوپر ظلم نہ کرو[35] اور مشرکوں سے سب مل کرلڑوجس طرح وہ سب مل کر تم سے لڑتے ہیں[36] اور جان رکھو کہ اللہ متقیوں ہی کے ساتھ ہے۔{۳۶} نَسی تو کفر میں ایک مزید کا فرانہ حرکت ہے جس سے یہ کافرلوگ گمراہی میں مبتلا کئے جاتے ہیں۔ کسی سال ایک مہینے کو حلال کرلیتے ہیں اور کسی سال اُس کو حرام کردیتے ہیں تاکہ اللہ کے حرام کئے ہوئے مہینوں کی تعداد پوری بھی کردیں اور اللہ کا حرام کیا ہوا حلال بھی کرلیں ۔[37] اُن کے بُرے اعمال ان کے لیے خوشنما بنادئے گئے ہیں اور اللہ منکرینِ حق کو ہدایت نہیں دیا کرتا۔{۳۷} اے لوگو [38]جو ایمان لائے ہو! تمہیں کیا ہوگیا کہ جب تم سے اللہ کی راہ میں نکلنے کے لیے کہا گیا تو تم زمین سے چمٹ کررہ گئے ؟ کیا تم نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کرلیا ؟ ایسا ہے تو تمہیں معلوم ہوکہ دنیوی زندگی کا یہ سب سروسامان آخرت میں بہت تھوڑا نکلے گا۔[39]{۳۸} تم نہ اٹھوگے تو اللہ تمہیں دردناک سزادے گا،[40] اور تمہاری جگہ کسی اور گروہ کو اُٹھائے گا[41] ، اور تم اللہ کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکوگے، وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ {۳۹} تم نے اگر نبی ؐکی مددنہ کی تو کچھ پروا نہیں ،اللہ اُس کی مدد اُس وقت کرچکا ہے جب کافروں نے اسے نکال دیا تھا، جب وہ صرف دو میں کا دُوسرا تھا، جب وہ دونوں غارمیں تھے ، جب وہ اپنے ساتھی سے کہہ رہا تھا کہ ’’ غم نہ کر، اللہ ہمارے ساتھ ہے‘‘۔[42] اس وقت اللہ نے اُس پر اپنی طرف سے سکون ِقلب نازل کیا اور اس کی مدد ایسے لشکروں سے کی جوتم کو نظر نہ آتے تھے اور کافروں کا بول نیچا کردیااور اللہ کابول تو اونچا ہی ہے ، اللہ زبردست اور داناو بینا ہے۔{۴۰} نکلو،خواہ ہلکے ہویا بوجھل [43]، اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں اور اپنی جانوں کے ساتھ ، یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو۔ {۴۱} (اے نبی ؐ! )اگر فائدہ سہل الحصول ہوتا اور سفر ہلکا ہوتا تو وہ ضرور تمہارے پیچھے چلنے پر آمادہ ہوجاتے، مگر اُن پر تو یہ راستہ بہت کٹھن ہوگیا۔[44] اب وہ اللہ کی قسم کھا کھا کرکہیں گے۔ کہ اگر ہم چل سکتے تو یقینا تمہارے ساتھ چلتے۔ وہ اپنے آپ کو ہلاکت میں ڈال رہے ہیں، اللہ خوب جانتا ہے کہ وہ جھوٹے ہیں۔{ ۴۲} (اے نبی ؐ! )اللہ تمہیں معاف کرے ، تم نے کیوں انہیں رخصت دے دی؟( تمہیں چاہئے تھا کہ خود رُخصت نہ دیتے ) تاکہ تم پر کھل جاتا کہ کون لوگ سچے ہیں اور جھوٹوں کو بھی تم جان لیتے ۔[45]{ ۴۳} جو لوگ اللہ اور روز ِآخر پر ایمان رکھتے ہیں وہ تو کبھی تم سے یہ درخواست نہ کریں گے کہ انہیں اپنی جان ومال کے ساتھ جہاد کرنے سے معاف رکھا جائے ۔ اللہ متقیوں کو خوب جانتا ہے۔ {۴۴} ایسی درخواستیں تو صرف وہی لوگ کرتے ہیں جو اللہ اور روزِ آخرپر ایمان نہیں رکھتے ، جن کے دلوں میں شک ہے اور وہ اپنے شک ہی میں متردّد ہورہے ہیں۔[46]{۴۵} اگر واقعی اُن کا ارادہ نکلنے کا ہوتا تو وہ اس کے لیے کچھ تیاری کرتے۔ لیکن اللہ کو ان کا اٹھنا پسند ہی نہ تھا[47] اس لیے اس نے اُنہیں سست کردیا اور کہہ دیا گیا کہ بیٹھ رہو بیٹھنے والوں کے ساتھ۔{۴۶} اگر وہ تمہارے ساتھ نکلتے تو تمہارے اندر خرابی کے سواکسی چیز کا اضافہ نہ کرتے۔ وہ تمہارے درمیان فتنہ پردازی کے لیے دوڑ دھوپ کرتے ، اور تمہارے گروہ کا حال یہ ہے کہ ابھی اُن میں بہت سے ایسے لوگ موجود ہیں جو ان کی باتیں کان لگاکر سنتے ہیں، اللہ ان ظالموں کو خوب جانتا ہے۔{۴۷} اس سے پہلے بھی ان لوگوں نے فتنہ انگیزی کی کوششیں کی ہیں اور تمہیں ناکام کرنیکے لیے یہ ہرطرح کی تدبیروں کا الٹ پھیر کرچکے ہیں یہاں تک کہ ان کی مرضی کے خلاف حق آگیا اور اللہ کا کام ہوکر رہا۔{۴۸} ان میں سے کوئی ہے جو کہتا ہے کہ ’’ مجھے رخصت دے دیجئے اور مجھ کو فتنے میں نہ ڈالیے‘‘[48] سُن رکھو ! فتنے ہی میں تو یہ لوگ پڑے ہوئے ہیں [49]اور جہنم نے ان کافروں کو گھیر رکھا ہے۔[50] {۴۹} تمہارا بھلا ہوتا ہے تو انہیں رنج ہوتا ہے اور تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یہ منھ پھیر کر خوش خوش پلٹتے ہیں اور کہتے جاتے ہیں کہ اچھا ہوا ہم نے پہلے ہی اپنا معاملہ ٹھیک کرلیا تھا۔ {۵۰} ان سے کہو’’ہمیں ہر گز کوئی (بُرائی یا بھلا ئی )نہیں پہنچتی مگر وہ جو اللہ نے ہمارے لئے لکھ دی ہے ۔ اللہ ہی ہمارا مولیٰ ہے، اور اہل ایمان کو اسی پر بھروسہ کرنا چاہئے‘‘۔[51] {۵۱} ان سے کہو: ’’ تم ہمارے معاملے میں جس چیز کے منتظر ہو وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ دوبھلائیوں میں سے ایک بھلائی[52] ہے۔ اور ہم تمہارے معاملے میں جس چیز کے منتظر ہیں وہ یہ ہے کہ اللہ خود تم کو سزادیتا ہے یا ہمارے ہاتھوں دلواتا ہے؟ اچھا تو اب تم بھی انتظار کرو اور ہم بھی تمہارے ساتھ منتظر ہیں۔‘‘{۵۲} ان سے کہو ’’تم اپنے مال خواہ راضی خوشی خرچ کرو یا بکراہت ، [53]بہرحال وہ قبول نہ کئے جائیں گے کیونکہ تم فاسق لوگ ہو‘‘۔{۵۳} ان کے دیے ہوئے مال قبول نہ ہونے کی کوئی وجہ اِس کے سِوا نہیں ہے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ؐسے کفر کیا ہے ، نماز کے لیے آتے ہیں تو کسمساتے ہوئے آتے ہیں ، اور اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں تو بادلِ ناخواستہ خرچ کرتے ہیں۔ { ۵۴} ان کے مال و دولت اور ان کی کثرت اولاد کو دیکھ کر دھوکانہ کھا ؤ ، اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ انہی چیزوں کے ذریعہ سے ان کو دنیا کی زندگی میں بھی مبتلائے عذاب کرے[54] اور یہ جان بھی دیں تو انکارِ حق ہی کی حالت میں دیں،[55]{۵۵} وہ اللہ کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم تم ہی میں سے ہیں ، حالانکہ وہ ہر گز تم میں سے نہیں ہیں۔ اصل میں تو وہ ایسے لوگ ہیں جو تم سے خوف زدہ ہیں۔{۵۶} اگر وہ کوئی جائے پناہ پالیں یا کوئی کھوہ یاگھس بیٹھنے کی جگہ، تو بھاگ کر اس میں جاچھپیں ۔[56]{۵۷} (اے نبی ؐ ! )ان میں سے بعض لوگ صدقات کی تقسیم میں تم پر اعتراضات کرتے ہیں۔ اگر اس مال میں سے انہیں کچھ دے دیا جائے تو خوش ہوجائیں، اور نہ دیا جائے تو بگڑنے لگتے ہیں۔[57]{۵۸} کیا اچھا ہوتا کہ اللہ اور رسول ؐنے جو کچھ بھی انہیں دیا تھا اس پروہ راضی[58] رہتے اور کہتے کہ ’’ اللہ ہمارے لئے کافی ہے ، وہ اپنے فضل سے ہمیں اور بہت کچھ دے گا اور اس کے رسُول ؐ بھی ہم پر عنایت فرمائیں گے،[59] ہم اللہ ہی کی طرف نظر جمائے ہوئے ہیں ‘‘[60] {۵۹} یہ صدقات تو دراصل فقیر وں[61] اور مسکینوں [62]کے لیے ہیں اور ان لوگوں کے لیے جو صدقات کے کام پر مامور ہوں[63]، اور اُن کے لیے جن کی تالیف قلب مطلوب ہو۔[64] نیز یہ گردنوں کے چھڑانے [65] اور قرضداروں کی مدد [66] کرنے میں اور راللہ کی راہ میں[67] اور مسافر نوازی [68]میں استعمال کرنے کے لیے ہیں۔ ایک فریضہ ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا وبینا ہے۔{ ۶۰} ان میں سے کچھ لوگ ہیں جو اپنی باتوں سے نبی ؐ کو دُکھ دیتے ہیں اور کہتے ہیں کہ یہ شخص کانوں کا کچا [69]ہے۔ کہو ،’’ وہ تمہاری بھلائی کے لیے ایسا [70]ہے۔ اللہ پر ایمان رکھتا ہے اور اہل ایمان پر اعتماد کرتا[71] ہے اور سراسر رحمت ہے اُن لوگوں کے لیے جو تم میں سے ایمان دار ہیں۔ اور جو لوگ اللہ کے رسُول ؐ کو دکھ دیتے ہیں ان کے لیے درد ناک سزا ہے‘‘۔{۶۱} یہ لوگ تمہارے سامنے اللہ کی قسمیں کھاتے ہیں تا کہ تمہیں راضی کریں ، حالانکہ اگر یہ مومن ہیں تو اللہ اور رسُول ؐ اس کے زیادہ حق دار ہیں کہ یہ ان کو راضی کرنے کی فکر کریں۔ { ۶۲} کیا انہیں معلوم نہیں ہے کہ جو اللہ اور اس کے رسُول ؐ کا مقابلہ کرتا ہے ، اس کے لیے دوزخ کی آگ ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ؟ یہ بہت بڑی رسوائی ہے۔ { ۶۳} یہ منافق ڈر رہے ہیں کہ کہیں مسلمانوں پر کوئی ایسی سورت نازل نہ ہوجائے جو ان کے دلوں کے بھید کھول کر رکھ دے ۔ [72] (اے نبی ؐ! )ان سے کہو ،’’ اور مذاق اڑا ؤ ،اللہ اُس چیز کو کھول دینے والا ہے جس کے کُھل جانے سے تم ڈرتے ہو‘‘ {۶۴} اگر ان سے پوچھو کہ تم کیا باتیں کررہے تھے، تو جھٹ کہہ دیں گے کہ ہم تو ہنسی مذاق اور دل لگی کررہے تھے۔ [73]ان سے کہو ’’ کیا تمہاری ہنسی دل لگی اللہ اور اس کی آیات اور اس کے رسُول ؐ ہی کے ساتھ تھی ؟{۶۵} اب عذُرات نہ تراشو ۔ تم نے ایمان لانے کے بعد کفر کیا ہے۔اگر ہم نے تم میں سے ایک گروہ کو معاف کربھی دیا تو دُوسرے گروہ کو تو ہم ضرور سزادیں گے کیونکہ وہ مجرم ہے۔‘‘[74]{۶۶} منافق مرد اور منافق عورتیں سب ایک دوسرے کے ہم رنگ ہیں ۔ برائی کا حکم دیتے ہیں اور بھلائی سے منع کرتے ہیں اور اپنے ہاتھ خیر سے روکے رکھتے ہیں ۔[75] یہ اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے بھی انہیں بھلا دیا۔ یقینا یہ منافق ہی فاسق ہیں۔{۶۷} ان منافق مردوں اور عورتوں اور کافروں کے لیے اللہ نے آتش دوزخ کا وعدہ کیا ہے جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ، وہی ان کے لیے موزوں ہے۔ ان پر اللہ کی پھٹکار ہے اور ان کے لیے قائم رہنے والا عذاب ہے۔ {۶۸} تم لوگوں [76]کے رنگ ڈھنگ وہی ہیں جو تمہارے پیش رَوؤں کے تھے ۔وہ تم سے زیادہ زور آوراور تم سے بڑھ کرمال اور اولاد و الے تھے۔ پھراُنہوں نے دنیا میں اپنے حصے کے مزے لُوٹ لئے اور تم نے بھی اپنے حصے کے مزے اُسی طرح لُوٹے جیسے انہوں نے لوٹے تھے، اور ویسی ہی بحثوں میں تم بھی پڑے جیسی بحثوں میں وہ پڑے تھے ، سواُن کا انجام یہ ہُوا کہ دنیا اور آخرت میں اُن کا سب کیا دھرا ضائع ہوگیا اور وہی خسارے میں ہیں۔ {۶۹} کیا [77]ان لوگوں کو اپنے پیش رَوؤں کی تاریخ نہیں پہنچی ؟ نوح ؑکی قوم، عاد، ثمود، ابراہیم ؑ کی قوم ،مَدْیَنْ کے لوگ اور وہ بستیاں جنہیں اُلٹ [78]دیا گیا۔ اُن کے رسُولؑ اُن کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے ، پھر یہ اللہ کا کام نہ تھا کہ ان پر ظلم کرتا مگر وہ آپ ہی اپنے اوپر ظلم کرنے والے تھے۔[79]{۷۰} مومن مرد اور مومن عورتیں ، یہ سب ایک دوسرے کے رفیق ہیں، بھلائی کا حکم دیتے اور بُرائی سے روکتے ہیں ، نماز قائم کرتے ہیں، زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسُول ؐ کی اطاعت کرتے ہیں۔[80] یہ وہ لوگ ہیں جن پر اللہ کی رحمت نازل ہو کر رہے گی، یقینا اللہ سب پرغالب اور حکیم و دانا ہے۔{۷۱} ان مومن مردوں اور عورتوں سے اللہ کا وعدہ ہے کہ انہیں ایسے باغ دے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔اُن سدا بہار باغوں میں اُن کے لیے پاکیزہ قیام گاہیں ہوں گی ، اور سب سے بڑھ کریہ کہ اللہ کی خوشنودی اُنہیں حاصل ہوگی۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔{۷۲} اے نبی ؐ ! [81] کفار اور منافقین دونوں کا پوری قوت سے مقابلہ کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آ ؤ۔ [82]آخر کار ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بدترین جائے قرار ہے۔{ ۷۳} یہ لوگ اللہ کی قسم کھا کھا کر کہتے ہیں کہ ہم نے وہ بات نہیں کہی ، حالانکہ انہوں نے ضرور وہ کافرانہ بات کہی ہے۔[83] وہ اسلام لانے کے بعد کفر کے مرتکب ہوئے اورانہوں نے وہ کچھ کرنے کاارادہ کیا جسے کرنہ سکے۔[84] یہ ان کا ساراغصہ اسی بات پر ہے ناکہ اللہ اور اس کے رسُول ؐ نے اپنے فضل سے ان کو غنی کردیاہے۔[85] اب اگر یہ اپنی اس روش سے بازآئیں تو انہی کے لیے بہتر ہے، اور اگر یہ بازنہ آئے تو اللہ ان کو نہایت دردناک سزادے گا، دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی ،اور زمین میں کوئی نہیں جو ان کا حمایتی اور مددگار ہو۔{ ۷۴} اُن میں سے بعض ایسے بھی ہیں جنہوں نے اللہ سے عہد کیا تھا کہ اگر اس نے اپنے فضل سے ہم کو نوازا تو ہم خیرات کریں گے اور صالح بن کررہیں گے۔ {۷۵} مگر جب اللہ نے اپنے فضل سے ان کو دولتمند کردیا تو وہ بخل پراترآئے اور اپنے عہد سے ایسے پھر ے کہ انہیں اس کی پرواہ تک نہیں ہے۔ [86]{۷۶} نتیجہ یہ نکلاکہ ان کی اس بدعہدی کی وجہ سے جو انہوں نے اللہ کے ساتھ کی، اور اُس جھوٹ کی وجہ سے جو وہ بولتے رہے، اللہ نے ان کے دلوں میںنفاق بٹھادیا جو اس کے حضوراُن کی پیشی کے دن تک ان کا پیچھانہ چھوڑے گا۔ {۷۷} کیا یہ لوگ جانتے نہیں ہیں کہ اللہ کو ان کے مخفی راز اور ان کی پوشیدہ سرگوشیاں تک معلوم ہیں اور وہ تمام غیب کی باتوں سے پوری طرح باخبر ہے ؟ {۷۸} ( وہ خوب جانتا ہے ان کنجوس دولت مندوں کو) جو بہ رضاورغبت دینے والے اہل ایمان کی مالی قربانیوں پر باتیں چھانٹتے ہیں اوراُن لوگوں کا مذاق اڑاتے ہیں جن کے پاس ( اللہ کی راہ میں دینے کے لیے ) اُسکے سوا کچھ نہیں ہے جو وہ اپنے اوپر مشقت برداشت کرکے دیتے ہیں ۔[87] اللہ اِن مذاق اڑانے والوں کا مذاق اڑاتا ہے اور ان کے لیے درد ناک سزا ہے۔ {۷۹} (اے نبی ؐ! ) تم خواہ ایسے لوگوں کے لیے معافی کی درخواست کرویا نہ کرو، اگر تم سترّ مرتبہ بھی انہیں معاف کردینے کی درخواست کرو گے تو اللہ انہیں ہر گز معاف نہ کرے گا ۔ اس لیے کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسُول ؐ کے ساتھ کفر کیا ہے ، اور اللہ فاسق لوگوں کو راہ نجات نہیں دکھا تا۔{۸۰} جن لوگوں کو پیچھے رہ جانے کی اجازت دے دی گئی تھی وہ اللہ کے رسُول ؐ کا ساتھ نہ دینے اور گھر بیٹھے رہنے پر خوش ہوئے اور انہیں گوارانہ ہو اکہ اللہ کی راہ میں جان ومال سے جہاد کریں ۔ انہوں نے لوگوں سے کہا کہ ’’اِس سخت گرمی میں نہ نکلو‘‘ ان سے کہو کہ جہنم کی آگ اس سے زیادہ گرم ہے ، کاش انہیں اس کا شعور ہوتا۔{۸۱} اب چاہیے کہ یہ لوگ ہنسنا کم کریں اور روئیں زیادہ ، اس لیے کہ جو بدی یہ کماتے رہے ہیں اس کی جزا ایسی ہی ہے (کہ انہیں اس پر رونا چاہیے ){ ۸۲} اگر اللہ ان کے درمیان تمہیں واپس لے جائے اور آئندہ ان میں سے کوئی گروہ جہاد کے لیے نکلنے کی تم سے اجازت مانگے تو صاف کہہ دینا ’’ اب تم میرے ساتھ ہرگز نہیں چل سکتے اور نہ میری معیت میں کسی دشمن سے لڑسکتے ہو ، تم نے پہلے بیٹھ رہنے کو پسند کیا تھا تو اب گھر بیٹھنے والوں ہی کے ساتھ بیٹھے رہو‘‘{۸۳} اور آئندہ ان میں سے جو کوئی مرے اس کی نماز جنازہ بھی تم ہرگز نہ پڑھنا اور نہ کبھی اس کی قبر پر کھڑے ہونا ، کیوں کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ؐکے ساتھ کفر کیا ہے اور وہ مرے ہیں اس حال میں کہ وہ فاسق تھے۔[88]{ ۸۴} ان کی مالداری اور ان کی کثرت اولاد تم کودھوکے میں نہ ڈالے۔ اللہ نے توارادہ کرلیا ہے کہ اس مال و اولاد کے ذریعہ سے ان کو اسی دنیا میں سزادے اور ان کی جانیں اس حال میں نکلیں کہ وہ کافرہوں۔ {۸۵} جب کبھی کوئی سورت اس مضمون کی نازل ہوئی کہ اللہ کو مانو اور اس کے رسول ؐکے ساتھ مل کر جہاد کرو تو تم نے دیکھا کہ جو لوگ ان میں سے صاحب مقدرت تھے وہی تم سے درخواست کرنے لگے کہ انہیں جہاد کی شرکت سے معاف رکھا جائے اور انہوں نے کہا کہ ہمیں چھوڑ دیجئے کہ ہم بیٹھنے والوں کے ساتھ رہیں۔{۸۶} ان لوگوں نے گھر بیٹھنے والیوں میں شامل ہونا پسند کیا اور اُن کے دلوں پر ٹھپہّ لگادیا گیا ، اس لیے ان کی سمجھ میں اب کچھ نہیں آتا ۔[89]{۸۷} بخلاف اس کے رسول ؐنے اور اُن لوگوں نے جو رسُول ؐ کے ساتھ ایمان لائے تھے اپنی جان و مال سے جہاد کیا اور اب ساری بھلائیاں انہی کے لیے ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں۔{۸۸} اللہ نے ان کے لیے ایسے باغ تیار کررکھے ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ ہے عظیم الشان کامیابی ۔ {۸۹} بدوی عربوں میں سے بھی بہت سے لوگ آئے [90]جنہوں نے عُذر کئے تا کہ انہیں بھی پیچھے رہ جانے کی اجازت دی جائے۔ اس طرح بیٹھ رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ اور اس کے رسُول ؐ سے ایمان کا جھوٹا عہد کیاتھا۔ اِن بدویوں میں سے جن جن لوگوں نے کفر کا طریقہ اختیار کیا ہے[91] عنقریب وہ درد ناک سزا سے دوچارہوں گے{ ۹۰} ضعیف اور بیمار لوگ اور وہ لوگ جو شرکت جہاد کے لیے زادِ راہ نہیں پاتے، اگر پیچھے رہ جائیں تو کوئی حرج نہیں جب کہ وہ خلوص دل کے ساتھ اللہ اور اس کے رسول ؐکے وفادار ہوں[92] ایسے محسنین پر اعتراض کی کوئی گنجایش نہیں ہے اور اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے{۹۱} اسی طرح اُن لوگوں پر بھی کوئی اعتراض کا موقع نہیں ہے جنہوں نے خود آکر تم سے درخواست کی تھی کہ ہمارے لئے سواریاں بہم پہنچائی جائیں اور جب تم نے کہا کہ میں تمہارے لئے سواریوں کا انتظام نہیں کرسکتا تو وہ مجبور ًاواپس گئے اور حال یہ تھا کہ اُن کی آنکھوں سے آنسو جاری تھے اور انہیں اس بات کا بڑا رنج تھا کہ وہ اپنے خرچ پر شریک جہاد ہونے کی مقدرت نہیں رکھتے۔ [93]{۹۲}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)