سورۃ الاعلٰی   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 87 : 1-19 / 19( اے نبی ؐ!) آپ اپنے ربّ ِاعلیٰ کے نام کی تسبیح کرو[1] {۱} جس نے پیدا کیا اور تناسُب قائم کیا [2]{۲} اور جس نے تقدیر بنائی [3]پھر راہ دکھائی[4] {۳} اور وہ ذات جس نے(زمین سے چارا) نباتا ت اُگائیں[5] {۴} پھر اُن کو سیاہ کوڑاکرکٹ بنادیا ۔[6]{۵} ہم تمہیں پڑھوادیں گے ،پھر تم نہیں بھولوگے[7]{۶} سوائے اُس کے جو اللہ چاہے [8] بیشک وہ ظاہر کو بھی جانتا ہے اور جوکچھ پوشیدہ ہے اُس کو بھی۔ [9]{۷} اور ہم تمہیں آسان طریقے کی سہولت دیتے ہیں {۸} لہٰذا تم نصیحت کرو اگر نصیحت نافع ہو۔ [10]{۹} جو شخص ڈرتا ہے وہ ضرور نصیحت قبول کرلے گا[11] {۱۰} اور اُس سے گریز کرے گا وہ انتہائی بد بخت {۱۱} جو بڑی آگ میں جائے گا { ۱۲} پھر نہ اس میں مرے گا نہ جیے گا۔ [12]{ ۱۳} یقینا فلاح پاگیا وہ جس نے پاکیز گی اختیار کی[13] { ۱۴} اور اپنے رب کا نام یاد کیا [14]پھر نماز پڑھی۔[15]{۱۵} مگر تم لوگ دنیا کی زندگی کو ترجیح دیتے ہو[16] {۱۶} حالانکہ آخرت بہتر ہے اور باقی رہنے والی ہے۔[17]{۱۷} بلا شبہ یہی بات پہلے آئے ہوئے صحیفوں میں[18] بھی کہی گئی تھی {۱۸} ابراہیم ؑ اور موسیٰ ؑ کے صحیفوں میں۔ {۱۹}
سورۃ الغا شیۃ   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 88 : 1-26 / 26کیا تمہیں اُس چھاجانے والی آفت ( یعنی قیامت)کی خبر پہنچی ہے ؟[1]{۱} کچھ چہرے [2] اُس روز خوفزدہ ہوں گے { ۲} سخت مشقت کررہے ہوں گے، تھکے جاتے ہوں گے { ۳} شدید آگ میں جھلس رہے ہوں گے{ ۴} کھولتے ہوئے چشمے کا پانی انہیں پینے کو دیا جائے گا {۵} خاردار سو کھی گھاس کے سوا کوئی کھانا ان کے لیے نہ ہوگا [3]{۶} جو نہ موٹا کرے نہ بھوک مٹائے۔ {۷} کچھ چہرے اُس روز بارونق ہوں گے {۸} اپنی سعی وکارگزاری پر خوش ہوں گے [4]{۹} عالی مقام جنّت میں ہوں گے {۱۰} کوئی بیہودہ بات وہ وہاں نہ سنیں گے [5]{۱۱} اُس میں چشمے رواں ہوں گے{ ۱۲} اُس کے اندر اونچی مسندیں ہوں گی { ۱۳} اور ساغر رکھے ہوئے ہوں گے[6]{ ۱۴} اور گا ؤ تکیوں کی قطاریں لگی ہوں گی {۱۵} اور نفیس فرش بچھے ہوئے ہوں گے {۱۶} ( یہ لوگ نہیں مانتے) تو کیا یہ اونٹوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بنائے گئے ؟ {۱۷} اور آسمان کو نہیں دیکھتے کہ کیسے اٹھایا گیا ؟{۱۸} اور پہاڑوں کو نہیں دیکھتے کہ کیسے جمائے گئے ؟ {۱۹} اور زمین کو نہیں دیکھتے کہ کیسے بچھائی گئی ؟[7] {۲۰} اچھا تو( اے نبی ؐ) نصیحت کئے جا ؤ ،تم بس نصیحت ہی کرنے والے ہو {۲۱} کچھ ان پر جبر کرنے والے نہیں ہو۔ [8]{ ۲۲} البتہ جو شخص منہ موڑے گا اور انکار کرے گا {۲۳} تو اللہ اُس کو بھاری سزادے گا۔{۲۴} یقینا ان لوگوں کو پلٹنا ہماری طرف ہی ہے {۲۵} پھریقینا ان کا حساب لینا ہمارے ہی ذمہّ ہے۔ {۲۶}
سورۃ الفجر   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 89 : 1-30 / 30قسم ہے فجر کی {۱} اور د س راتوں کی { ۲} اور جُفت اورطاق کی { ۳} اور رات کی جب کہ وہ رخصت ہو رہی ہو۔{ ۴} کیا اس میں کسی صاحب عقل کے لیے کوئی قسم ہے؟ [1]{۵} تم[2] نے دیکھا نہیں، کہ تمہارے رَبّ نے کیا برتا ؤ کیا عاد کیساتھ؟ { ۶} اُو نچے سُتونوں والے اِرم کیساتھ [3]{۷} جن کے مانند کوئی قوم دنیا کے ملکوں میں پیدا نہیں کی گئی تھی؟ [4]{۸} اور ثمود کیساتھ جنہوں نے وادی میں چٹانیں تراشی تھیں؟[5] {۹} اور میخوں والے فرعون [6]کے ساتھ ؟ {۱۰} یہ وہ لوگ تھے جنہو ں نے دنیا کے ملکوں میں بڑی سرکشی کی تھی {۱۱} اور اُن میں بہت فساد پھیلایا تھا۔{۱۲} آخر کار تمہارے رَبّ نے اُن پر عذاب کاکوڑا برسادیا ۔{۱۳} حقیقت یہ ہے کہ تمہارارَبّ گھات لگائے ہوئے ہے۔[7]{۱۴} مگر[8] انسان کا حال یہ ہے اس کا رَبّ جب اُس کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور اُسے عزّت اور نعمت دیتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میرے رَبّ نے مجھے عزّت دار بنادیا {۱۵} اور جب اُس کو آزمائش میں ڈالتا ہے اور اُس کا رزق اُس پر تنگ کردیتا ہے تو وہ کہتا ہے میرے رَبّ نے مجھے ذلیل کردیا۔[9] {۱۶} ہرگز نہیں[10] ، بلکہ تم یتیم سے عزت کا سلوک نہیں کرتے [11]{۱۷} اور مسکین کو کھانا کھلانے پر ایک دوسرے کو نہیں اُکساتے [12]{۱۸} اور میراث کا سارا مال سمیٹ کر کھا جاتے ہو ،[13]{۱۹} اور مال کی محبت میں بُری طرح گرفتار ہو۔[14] {۲۰} ہر گز نہیں، [15]جب زمین پے درپے کوٹ کوٹ کر ریگ زار بنادی جائے گی {۲۱} اورتمہارا رَبّ جلوہ فرما ہوگا [16]اس حال میں کہ فرشتے صف درصف کھڑے ہوں گے، {۲۲} اور جہنم اُس روز سامنے لے آئی جائے گی ، اُس دن انسان کو سمجھ آئے گی اور اُس وقت اُس کے سمجھنے کا کیا حاصل ؟[17] {۲۳} وہ کہے گا کہ کاش! میں نے اپنی اس زندگی کے لیے کچھ پیشگی سامان کیا ہوتا ! {۲۴} پھر اُس دن اللہ جو عذاب دے گا ویسا عذاب دینے والا کوئی نہیں {۲۵} اور اللہ جیسا باندھے گا ویسا باندھنے والا کوئی نہیں۔ {۲۶} ( دوسری طرف اِرشاد ہوگا ) اے نفس مطمئن ! [18]{۲۷} چل اپنے رَبّ کی طرف،[19] اس حال میں کہ تو (اپنے انجامِ نیک سے ) خوش ( اور اپنے رَب ّکے نزدیک ) پسندیدہ ہے۔ {۲۸} آ ! شامل ہوجا میرے ( نیک ) بندوں میں {۲۹} اور داخل ہوجا میری جنت میں۔ {۳۰}
سورۃ البلد   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 90 : 1-20 / 20نہیں،[1] میں قسم کھا تا ہوں اِس شہر(مکہ ) [2] کی {۱} اور حال یہ ہے کہ ( اے نبی ؐ!) اس شہر میں تم کو حلال کر لیا گیا ہے[3] { ۲} اور قسم کھاتا ہوں باپ ( آدم ؑ) کی اور اُس اولاد کی جو اُس سے پیدا ہوئی[4] {۳} درحقیقت ہم نے انسان کو مشقت میں پیدا کیا ہے۔[5] {۴} کیا اُس نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ اُس پر کوئی قابو نہ پا سکے گا ؟[6]{۵} کہتا ہے کہ میں نے ڈھیروں مال اُڑادیا۔[7] {۶} کیا وہ سمجھتا ہے کہ کسی نے اس کو نہیں دیکھا؟ [8] {۷} کیا ہم نے اُسے دو آنکھیں نہیں دیے؟ {۸} اور ایک زبان اور دو ہونٹ( نہیں دیے)؟ [9]{۹} اورہم نے ( نیکی اور بدی کے ) دونوں نمایاں راستے اسے (کیا نہیں) دکھادیے ؟ [10]{۱۰} مگر اس نے دشوار گزار گھاٹی سے گزرنے کی ہمت نہ کی۔ [11]{۱۱} اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دشوار گزار گھاٹی ؟{۱۲} کسی گردن کو غلامی سے چھڑانا {۱۳} یا فاقے کے دن کسی کو کھانا کھلانا {۱۴} قریبی یتیم رشتہ دار کو{۱۵} یا خاک نشین مسکین کو (کھانا کھلانایا مدد کرنا) [12] {۱۶} پھر ( اس کے ساتھ یہ کہ ) آدمی اُن لوگوں میں شامل ہو جو ایمان لائے[13] اور جنہوں نے ایک دوسرے کو صبر اور (مخلوق پر) رحم کی تلقین کی ۔[14]{۱۷} یہ لوگ ہیں دائیں بازو والے {۱۸} اور جنہوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کیا وہ بائیں بازو والے ہیں[15] {۱۹} اُن پر آگ چھائی ہوئی ہوگی ۔[16]{۲۰}
سورۃ الشمس   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 91 : 1-15 / 15سُورج اور اُس کی دھوپ [1]کی قسم {۱} اور چاند کی قسم جب کہ وہ اُس کے پیچھے آتا ہے { ۲} اور دن کی قسم جب کہ وہ ( سُورج کو ) نمایاں کردیتا ہے { ۳} اور رات کی قسم جب کہ وہ ( سُورج کو ) ڈھانک لیتی ہے[2] { ۴} اور آسمان کی اور اس ذات کی قسم جس نے اُسے قائم کیا [3]{۵} اور زمین کی اور اُس ذات کی قسم جس نے اُسے بچھایا {۶} اور نفسِ انسانی کی اور اُس ذات کی قسم جس نے اسے ہموار کیا [4]{۷} پھر اُس کی بدی اور اُس کی پرہیزگاری اُس پر الہام کردی [5]{۸} یقینا فلاح پاگیاوہ جس نے نفس کا تزکیہ کیا {۹} اور نامراد ہوا وہ جس نے اُس کو دبا دیا ۔ [6]{۱۰} ثمود [7]نے اپنی سرکشی کی بناپر جھٹلایا۔ [8]{۱۱} جب اُس قوم کا سب سے زیادہ شقی آدمی بپھر کر اُٹھا {۱۲} تو اللہ کے رسول نے اُن لوگوں سے کہا کہ خبردار ،اللہ کی اونٹنی کو (ہاتھ نہ لگانا) اور اس کے پانی پینے ( میں مانع نہ ہونا ) [9] {۱۳} مگر اُنہوں نے اس (اللہ کے رسول ) کی بات کو جھوٹا قرار دیا اور اونٹنی کو مار ڈالا۔ [10]آخر کار اُن کے گناہ کی پاداش میں اُن کے رَب ّنے اُن پر ایسی آفت توڑی کہ ایک ساتھ سب کو پیوند خاک کردیا {۱۴} اور اُسے ( اپنے اِس فعل کے) کسی بُرے نتیجے کا کوئی خوف نہیں ہے۔ [11]{۱۵}
سورۃ اللیل   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 92 : 1-21 / 21قسم ہے رات کی جب کہ وہ چھاجائے {۱} اور دن کی جبکہ وہ روشن ہو { ۲} اور اُس ذات کی جس نے نراور مادہ کو پیدا کیا {۳} درحقیقت تم لوگوں کی کوششیں مختلف قسم کی ہیں۔[1] {۴} تو جس نے (اللہ کی راہ میں ) مال دیا اور (اللہ کی نافرمانی سے ) پرہیز کیا {۵} اور بھلائی کو سچ مانا [2] {۶} اس کو ہم آسان راستے کے لیے سہولت دیں گے۔ [3]{۷} اور جس نے بُخل کیا اور ( اپنے معبود سے ) بے نیازی برتی {۸} اور بھلائی کو جھٹلایا [4]{۹} اُس کو ہم سخت راستے کے لیے سہولت دیں گے۔[5]{۱۰} اور اس کا مال آخر اُس کے کس کام آئے گا جبکہ وہ ہلاک ہوجائے ؟[6] {۱۱} بے شک راستہ بتانا ہمارے ذمہ ہے[7] { ۱۲} اور درحقیقت آخرت اور دنیا،دونوں کے ہم ہی مالک ہیں۔ [8]{ ۱۳} پس میں نے تم کو خبردار کردیا ہے بھڑکتی ہوئی آگ سے۔ {۱۴} اُس میں نہیں جُھلسے گا مگر وہ انتہائی بدبخت {۱۵} جس نے جھٹلایا اور مُنہ پھیرا۔ {۱۶} اور اس سے دور رکھا جائے گا وہ نہایت پرہیزگار{۱۷} جو پاکیزہ ہونے کی خاطر اپنا مال دیتا ہے۔ [9]{۱۸} جب کہ اُس پر کسی کا کوئی احسان نہیں ہے جس کا بدلہ اُسے دینا ہو۔ {۱۹} وہ تو صرف اپنے ربّ ِاعلیٰ و برتر کی رضا جوئی کے لیے یہ(مال خرچ کرنے کا ) کام کرتا ہے۔ [10]{ ۲۰} اور ضرور وہ (اُس سے ) خوش ہوگا ۔[11]{۲۱}
سورۃ الضحٰی   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 93 : 1-11 / 11قسم ہے روز روشن کی[1] {۱} اور رات کی جبکہ وہ سکون کے ساتھ طاری ہوجائے [2]{ ۲} (اے نبی ؐ!) تمہارے ربّ نے تم کو ہرگز نہیں چھوڑا اور نہ وہ ناراض ہوا۔[3] {۳} اور یقینا تمہارے لئے بعد کا دَور پہلے دَورسے بہتر ہے [4]{ ۴} اور عنقریب تمہارا ربّ تم کو اتنا دے گا کہ تم خوش ہوجا ؤ گے[5] { ۵} کیا اُس نے تم کو یتیم نہیں پایااور پھر ٹھکانا فراہم کیا؟[6] {۶} اور تمہیں ناواقفِ راہ(ہدایت کا متلاشی) پایا اور پھر ہدایت بخشی ۔[7]{۷} اور تمہیں نادار پایا او رپھر مالدارواور غنی کردیا [8]{۸} لہٰذا یتیم پر سختی نہ کرو[9]{۹} اور سائل کو نہ جھڑ کو [10]{۱۰} اور اپنے رب کی نعمت کا اظہار کرو۔[11]{۱۱}
سورۃ الشرح   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 94 : 1-8 / 8(اے نبی ؐ!) کیا ہم نے تمہارا سینہ تمہارے لئے کھول نہیں دیا؟[1] {۱} اور تم پر سے وہ بھاری بوجھ ہم نے اُتار دیا {۲} جوتمہاری کمرتوڑے ڈال رہا تھا۔ [2]{۳} اور تمہاری خاطر تمہارے ذکر کا آوازہ ہم نے بلند کردیا۔ [3]{۴} پس حقیقت یہ ہے کہ تنگی (مشکل) کے ساتھ فراخی (راحت)بھی ہے[4] {۵} بے شک تنگی (سختی) کے ساتھ فراخی (آسانی) بھی ہے {۶} لہٰذا جب تم فارغ ہوتوعبادت (منصب نبوت کے فرائض )کی مشقت میں لگ جاؤ {۷} اور(دل کی گہرائیوں سے ) اپنے رَبّ ہی کی طرف راغب ہوجاؤ[5]{۸}
سورۃ التین   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 95 : 1-8 / 8قسم ہے انجیر اور زیتون کی [1]{۱} اور طورِ سیناکی [2]{۲} اور اس پُر امن شہر (مکہّ) کی{ ۳} یقیناہم نے انسان کو بہترین ساخت پر پیدا کیا [3]{۴} پھر اُسے اُلٹاپھیر کر ہم نے سب نیچوں سے نیچ کردیا [4]{۵} سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرتے رہے کہ اُن کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا اَجر ہے ۔[5]{۶} پس (اَے نبی نبی ؐ!) اِس کے بعد کون جزاو سزاکے معاملے میں تم کو جھٹلاسکتا ہے ؟ [6]{۷} کیااللہ سب حاکموں سے بڑا حاکم نہیں ہے؟ [7]{۸}
سورۃ العلق   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 96 : 1-19 / 19پڑھو [1] ( اے نبی ؐ!) اپنے ربّ کے نام کے ساتھ [2]جس نے پیدا کیا[3]{۱} جمے ہوئے خون کے ایک لوتھڑے سے انسان کی تخلیق کی۔[4] { ۲} پڑھو ، اور تمہارا ربّ بڑا کریم ہے { ۳} جس نے قلم کے ذریعہ سے علم سکھایا [5]{۴} انسان کو وہ علم دیا جسے وہ نہ جانتا تھا ۔ [6]{۵} ہرگز نہیں،[7] انسان سرکشی کرتا ہے {۶} اِس بناپر کہ وہ اپنے آپ کو بے نیاز دیکھتا ہے[8] {۷} (حالانکہ ) پلٹنا یقینا تیرے رب ہی کی طرف ہے ۔[9]{۸} تم نے دیکھا اُس شخص کو جو منع کرتا ہے{۹} ایک بندے کوجبکہ وہ نماز پڑھتا ہو؟ [10]{۱۰} تمہارا کیا خیال ہے اگر ( وہ بندہ) راہِ راست پر ہو {۱۱} یا پرہیز گاری کی تلقین کرتا ہو ؟{ ۱۲} تمہارا کیا خیال ہے اگر ( یہ منع کرنے والا شخص حق کو) جھٹلاتا اور منہ موڑتا ہو؟{ ۱۳} کیا وہ نہیں جانتا کہ اللہ دیکھ رہا ہے؟[11]{۱۴} ہر گز نہیں[12] ، اگر وہ باز نہ آیا تو ضرور ہم اس کی پیشانی کے بال پکڑ کر کھینچیں گے {۱۵} اُس پیشانی کو جو جھوٹی اور سخت خطا کارہے۔ [13]{۱۶} وہ بُلالے اپنے حامیوں کی ٹولی کو [14]{۱۷} ہم بھی عذاب کے فرشتوں کو بلالیں گے۔[15] {۱۸} ہرگز نہیں ، اُس کی با ت نہ مانو اور سجدہ کرو اور ( اپنے ربّ کا) قرب حاصل کرو۔ [16]{۱۹}
سورۃ القدر   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 97 : 1-5 / 5بیشک ہم نے اِس (قرآن ) کو شب قدر میں نازل کیاہے [1]{ ۱} اور تم کیا جانو کہ شبِ قدر کیا ہے؟ {۲} شبِ قدر ہزار مہینوں سے زیادہ بہتر ہے۔ [2]{ ۳} فرشتے اور رُوح[3] اُس میں اپنے رَبّ کے اِذن سے ہر حکم لے کر اُترتے ہیں۔ [4]{ ۴} وہ رات سراسر سلامتی ہے طلوع فجر تک[5] {۵}
سورۃ البیّنۃ   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 98 : 1-8 / 8اہل کتاب اور مشرکین[1] میں سے جو لوگ کافر تھے ،[2] ( وہ اپنے کفر سے ) باز آنے والے نہ تھے جب تک کہ اُن کے پاس دلیل روشن نہ آجائے [3] {۱} ( یعنی) اللہ کی طرف سے ایک رسول [4]جو پاک صحیفے پڑھ کر سنائے [5] {۲} جن میں بالکل راست اور درست تحریریں لکھی ہوئی ہو ں۔ {۳} پہلے جن لوگوں کو کتاب دی گئی تھی اُن میں تفرقہ برپانہیں ہوا مگر اِس کے بعد کہ اُن کے پاس ( راہ ِراست کا) بیان واضح آچکا تھا ۔ [6]{۴} اور اُن کو اِس کے سوا کوئی حکم نہیں دیا گیا تھا کہ اللہ کی بندگی کریں،اپنے دین کو اُس کے لیے خالص کرکے ، بالکل یک سُوہو کر اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اوریہی نہایت صحیح و درست دین ہے۔[7]{۵} اہل کتاب اور مشرکین میں سے جن لوگوں نے کفر کیا ہے[8] وہ یقینا جہنم کی آگ میں جائیں گے اور ہمیشہ اس میں رہیں گے ،یہ لوگ بدترین خلائق ہیں۔[9]{۶} جو لوگ ایمان لے آئے اور جنہوں نے نیک عمل کئے ، وہ یقینا بہترین خلائق ہیں۔ [10]{۷} اُن کی جزا اُن کے ربّ کے ہاں دائمی قیام کی جنتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی وہ ان میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ اللہ ان سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ یہ (جنّت اور رضا) ہے اُس شخص کے لیے جس نے اپنے رَبّ کا خوف کیا ہو۔ [11]{۸}
سورۃ الزلزال   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 99 : 1-8 / 8جب زمین اپنی پوری شدّت کے ساتھ(زلزلوں سے) ہلا ڈالی جائے گی[1] {۱} اور زمین اپنے اندر کے سارے بوجھ نکال کر باہر ڈال دے گی[2]{ ۲} اور انسان کہے گاکہ یہ اس کو کیا ہورہا ہے ؟[3] {۳} اس روز وہ اپنے ( اوپر گزرے ہوئے) حالات بیان کرے گی[4]{۴} کیوں کہ تیرے رَب ّنے اسے ( ایسا کرنے کا ) حکم دیاہوگا۔ {۵} اُس روز لوگ متفرق حالت میں پلٹیں گے [5]تاکہ اُن کے اعمال اُن کو دکھائے جائیں۔ [6]{۶} پھر جس نے ذرّہ برابر نیکی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔ {۷} اور جس نے ذرہ برابر بدی کی ہوگی وہ اس کو دیکھ لے گا۔ [7]{۸}
سورۃ العٰد یت   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 100 : 1-11 / 11قسم ہے اُن ( گھوڑوں ) کی جو پھنکارے مارتے ہوئے دوڑتے ہیں[1]{۱} پھر ( اپنی ٹاپوں سے ) چنگاریاں جھاڑتے ہیں[2]{ ۲} پھر صبح سویرے چھاپہ مارتے ہیں[3]{ ۳} پھراُس موقع پر گردو غباراُڑاتے ہیں {۴} پھر اسی حالت میں کسی مجمع کے اندر جاگھستے ہیں {۵} حقیقت یہ ہے کہ انسان اپنے رَبّ کا بڑا ناشکرا ہے [4]{۶} اور وہ خود اس پر گواہ ہے [5]{۷} اور وہ مال و دولت کی محبت میں بُری طرح مبتلاہے۔[6]{۸} تو کیاوہ اُس وقت کو نہیں جانتا جب قبروں میں جو کچھ (مدفون) ہے اُسے نکال لیا جائے گا[7]{۹} اور سینوں میں جو کچھ ( مخفی) ہے اُسے بر آمد کرکے اُس کی جانچ پڑتال کی جائے گی؟[8] {۱۰} یقینا اُن کا رَبّ اُس روز اُن سے خوب باخبر ہوگا۔ [9]{۱۱}
سورۃ القارعۃ   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 101 : 1-11 / 11(کھڑکھڑانے اور کھٹکھٹانے والا ہولناک) وہ عظیم حادثہ! [1] {۱} کیا ہے وہ عظیم حادثہ ؟ {۲} اورتم کیا جانو کہ وہ عظیم حادثہ کیا ہے ؟ {۳} وہ دن جب لوگ بِکھرے ہوئے پروانوں کی طرح ہوں گے { ۴} اور پہاڑ رنگ برنگ کے دُھنکے ہوئے اُون کی طرح ہوں گے [2]{۵} پھر [3]جس کے پلڑے بھاری ہوں گے{۶} وہ دل پسند عیش میں ہوگا {۷} اور جس کے پلڑے ہلکے ہوں گے[4] {۸} اُس کی جائے قرار (ھاویہ)گہری کھائی ہوگی۔[5] {۹} اور تمہیں کیا خبر کہ وہ (ھاویہ)کیا چیز ہے ؟ {۱۰} بھڑکتی ہوئی آگ ۔[6]{۱۱}
سورۃ اتکاثر   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 102 : 1-8 / 8تم لوگوں کو زیادہ سے زیادہ اور ایک دوسرے سے بڑھ کردنیا حاصل کرنے کی دُھن نے غفلت میں ڈال رکھا ہے[1] { ۱} یہاں تک کہ( اسی فکر میں ) تم لب گور(قبروں کے کنارے )تک پہنچ جاتے ہو۔[2] {۲} ہر گز نہیں ، عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا [3]{۳} پھر(سُن لوکہ ) ہرگز نہیں، عنقریب تم کو معلوم ہوجائے گا {۴} ہرگز نہیں ، اگر تم یقینی علم کی حیثیت سے ( اس روش کے انجام کو ) جانتے ہوتے ( تو تمہارا یہ طرز عمل نہ ہوتا )۔ {۵} ضرور تم دوزخ(جہّنم) دیکھ کر رہوگے {۶} پھر (سُن لوکہ ) تم بالکل یقین کے ساتھ ضرور اُسے دیکھ لوگے ۔{۷} پھر ضرور اُس روز تم سے اِن نعمتوں کے بارے میں جواب طلبی کی جائے گی۔ [4]{۸}
سورۃ العصر   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 103 : 1-3 / 3زمانے کی قسم {۱} انسان درحقیقت خسارے میں ہے { ۲} سوائے اُن لوگوں کے جو ایمان لائے، اور نیک اعمال کرتے رہے، اور ایک دوسرے کو حق کی نصیحت کرتے رہے ، اور صبر کی تلقین کرتے رہے۔ [1]{ ۳}
سورۃ الھُمزۃ   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 104 : 1-9 / 9 تباہی ہے ہر اُس شخص کے لیے جو ( منُہ درمنُہ ) لوگوں پر طعن اور ( پیٹھ پیچھے ) برائیاں کرنے کا خوگر ہے۔ [1]{۱} جس نے مال جمع کیا اور اُسے گِن گِن کررکھا۔[2] {۲} وہ سمجھتا ہے کہ اس کا مال ہمیشہ اس کے پاس رہے گا ۔[3] {۳} ہر گز نہیں ، وہ شخص توچکنا چور کردینے والی[4]جگہ میں پھینک دیا جائے گا ۔[5]{۴} اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ چکنا چُور کردینے والی جگہ؟ {۵} اللہ کی آگ ،[6]خوب بھڑکائی ہوئی {۶} جودلوں تک پہنچے گی۔ [7]{۷} بیشک وہ( آگ) اُن پر ڈھانک کربند کردی جائے گی[8]{۸} (اس حالت میں کہ وہ ) اُونچے اُونچے ستونوں میں (گھرے ہوئے ہوں گے)۔ [9] {۹}
سورۃ الفیل   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 105 : 1-5 / 5کیا تم نے دیکھا نہیں [1]کہ تمہارے رَبّ نے ہاتھی والوں کے ساتھ کیا کیا ؟[2]{۱} کیا اُس نے اُن کی تدبیر[3] کو اکارت نہیں کردیا؟ [4]{۲} اوراُن پر پرندوں کے جُھنڈکے جُھنڈ بھیج دیے[5]{ ۳} جو اُن کے اوپر پکی ہوئی مٹی کے کنکر پتھر پھینک رہے تھے[6]{ ۴} پھراُس نے اُن کا یہ حال کردیا جیسے (جانوروں کا ) کھایا ہوا بھوسا ۔ [7]{۵}
سورۃ قریش   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 106 : 1-4 / 4چوں کہ قریش مانوس ہوئے[1] {۱} (یعنی) جاڑے اور گرمی کے سفروں سے مانوس [2] { ۲} لہٰذا اُن کو چاہیے کہ اس گھر کے رَبّ کی عبادت کریں [3]{ ۳} جس نے اِنہیں بھوک سے بچا کر کھانے کو دیا [4]اور خوف سے بچا کرامن عطا کیا۔[5]{۴}
سورۃ الماعون   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 107 : 1-7 / 7کیا تم نے [1]دیکھا اُس شخص کو جو آخرت کی جزاو سزا [2]کوجھٹلاتا ہے ؟[3]{۱} وہی تو ہے[4] جو یتیم کو دھکّے دیتا ہے[5] { ۲} اور مسکین کوکھانا [6]دینے پر نہیں اُکساتا ۔[7] {۳} پھر تباہی ہے اُن نماز پڑھنے والوں کے لیے[8]{ ۴} جو اپنی نماز سے غفلت برتتے ہیں[9] {۵} جو ریاکاری کرتے ہیں۔[10] {۶} اور معمولی ضرورت کی چیز یں[11] ( لوگوں کو) دینے سے گریز کرتے ہیں۔ {۷}
سورۃ الکوثر   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 108 : 1-3 / 3( اے نبی ؐ!) یقینا ہم نے تمہیں کوثر عطا کردیا [1]{۱} پس تم اپنے رَبّ ہی کے لیے نماز پڑھو اور قربانی کرو [2]{۲} بلا شبہ تمہارا دشمن[3] ہی جڑکٹاہے [4] (بے نام و نشان رہے گا) ۔ { ۳}
سورۃ الکافرون   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 109 : 1-6 / 6کہہ دو،کہ اے کافرو ! [1] {۱} میں اُن کی عبادت نہیں کرتا جن کی عبادت تم کرتے ہو[2]{۲} اور نہ تم اُس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں۔ [3]{۳} اور نہ میں اُن کی عبادت کرنے والا ہوں جن کی عبادت تم نے کی ہے {۴} اور نہ تم اُس کی عبادت کرنے والے ہو جس کی عبادت میں کرتا ہوں ۔[4]{۵} تمہارے لئے تمہارا دین ہے اور میرے لئے میرادین ۔ [5]{۶}
سورۃ النصر   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 110 : 1-3 / 3جب اللہ کی مدد آجائے اور فتح نصیب ہوجائے[1]{۱} اور ( اے نبی ؐ!) تم دیکھ لو کہ لوگ فوج درفوج اللہ کے دین میں داخل ہورہے ہیں [2]{ ۲} تو اپنے ربّ کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو ،[3] اور اُس سے مغفرت کی دعا مانگو ،[4] بے شک وہ بڑا توبہ قبول کرنے والا ہے ۔{ ۳}
سورۃ اللھب   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 111 : 1-5 / 5ٹوٹ گئے ابولہب کے ہاتھ اور نامُراد ہوگیا وہ ۔[1]{۱} اُس کا مال اور جو کچھ اُس نے کمایا وہ اُسکے کسی کام نہ آیا ۔[2]{۲} ضرور وہ شعلہ زن آگ میں ڈالا جائے گا {۳} اور ( اُسکے ساتھ) اُس کی جو رو (بیوی)بھی [3] (آگ میں ڈالی جائے گی) جو لگائی بجھائی کرنے والی[4] ہے { ۴} اسکی گردن میں مو نجھ کی ( مضبوط بٹی ہوئی) رسّی ہوگی ۔[5] {۵}
سورۃ الاخلاص   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 112 : 1-4 / 4کہو،[1] وہ اللہ ہے،[2] یکتا۔[3] {۱} اللہ سب سے بے نیازہے اور سب اُس کے محتاج ہیں ۔[4]{ ۲} نہ اس کی کوئی اولاد ہے اور نہ وہ کسی کی اولاد ۔[5]{ ۳} اور کوئی اس کا ہمسر نہیں ہے ۔[6]{ ۴}
سورۃ الفلق   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 113 : 1-5 / 5کہو ،[1]میں پناہ مانگتا ہوں[2] صبح کے رَبّ [3]کی {۱} ہر اُس چیز کے شرسے جو اس نے پیدا کی ہے[4]{ ۲} اور رات کی تاریکی کے شر سے جب کہ وہ چھا جائے[5]{۳} اور گرہوں میں پھونکنے والوں ( یاوالیوں ) کے شرسے[6] {۴} اور حاسد کے شر سے جب کہ وہ حسد کرے ۔[7]{۵}
سورۃ الناس   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 114 : 1-6 / 6کہو ، میں پنا ہ مانگتا ہوں انسانوں کے رَبّ کی {۱} انسانوں کے بادشا ہ کی{ ۲} انسانوں کے حقیقی معبود کی[1] { ۳} اُس وسوسہ ڈالنے والے کے شرسے جو بار بار پلٹ کر آتا ہے[2] { ۴} جو لوگوں کے دلوں میں وسوسے ڈالتا ہے {۵} خواہ وہ جِنّوں میں سے ہو یا انسانوں میں سے۔[3] {۶}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)