سورۃالانفال   -  8 : 41-75 / 75اور تمہیں معلوم ہوکہ جو کچھ مال غنیمت تم نے حاصل کیا ہے اس کا پانچواں حصہ اللہ اور اس کے رسُول ؐ اور ر شتہ داروں اور یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں کے لیے ہے۔ [32]اگر تم ایمان لائے ہو اللہ پر اور اُس چیز پر جو فیصلے کے روز یعنی دونوں فوجوں کی مڈبھیڑکے دن ہم نے اپنے بندے پر نازل کی تھی،[33] ( تو یہ حصہ بخوشی ادا کرو) اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ {۴۱} یاد کرو وہ وقت جب کہ تم وادی کے اس جانب تھے اور وہ دوسری جانب پڑا ؤ ڈالے ہوئے تھے اور قافلہ تم سے نیچے (ساحل ) کی طرف تھا۔اگر کہیں پہلے سے تمہارے اور ان کے درمیان مقابلے کی قرار داد ہوچکی ہوتی تو تم ضرور اس موقع پر پہلو تہی کرجاتے ، لیکن جو کچھ پیش آیا وہ اس لیے تھا کہ جس بات کا فیصلہ اللہ کرچکا تھا اُسے ظہور میں لے آئے تا کہ جسے ہلاک ہونا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ ہلاک ہو اور جسے زندہ رہنا ہے وہ دلیل روشن کے ساتھ زندہ [34]رہے ،یقینااللہ سننے اور جاننے والا ہے۔ [35]{۴۲} (اور یاد کرو وہ وقت) جب کہ اے نبی ؐ!اللہ اُن کو تمہارے خواب میں تھوڑا دکھا رہا [36]تھا اگر کہیں وہ تمہیں ان کی تعداد زیادہ دکھا دیتا تو ضرور تم لوگ ہمت ہار جاتے اور لڑائی کے معاملے میں جھگڑا شروع کردیتے، لیکن اللہ ہی نے اِس سے تمہیں بچایا ، یقینا وہ سینوں کا حال تک جانتا ہے۔{ ۴۳} اور یادکرو جب کہ مقابلے کے وقت اللہ نے تم لوگوں کی نگاہوں میں دشمنوں کو تھوڑا دکھایا اور ان کی نگاہوں میں تمہیں کم کرکے پیش کیا، تاکہ جو بات ہونی تھی اسے اللہ ظہور میں لے آئے ، اور آخر کار سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔{ ۴۴} اے لوگو جوایمان لائے ہو!جب کسی گروہ سے تمہارا مقابلہ ہو تو ثابت قدم رہو اور اللہ کو کثرت سے یاد کرو ، توقع ہے کہ تمہیں کامیابی نصیب ہوگی۔{ ۴۵} اور اللہ اور اُس کے رسول ؐکی اطاعت کرو اور آپس میں جھگڑو نہیں ورنہ تمہارے اندر کمزوری پیدا ہو جائے گی اور تمہار ی ہوا اُکھڑ جائے گی ۔ صبر سے کام لو،[37] یقینا اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے۔ {۴۶} اور اُن لوگوں کے سے رنگ ڈھنگ نہ اختیار کرو جو اپنے گھروں سے اِتراتے اور لوگوں کو اپنی شان دکھاتے ہوئے نکلے اور جن کی روش یہ ہے کہ اللہ کے راستے سے روکتے ہیں ،[38] جو کچھ وہ کررہے ہیں وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے۔ {۴۷} ذراخیال کرو اُس وقت کا جب کہ شیطان نے ان لوگوں کے کرتُوت ان کی نگاہوں میں خوشنما بناکر دکھائے تھے اور ان سے کہا تھا کہ آج کوئی تم پر غالب نہیں آسکتا اور یہ کہ میں تمہارے ساتھ ہوں۔ مگر جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہو اتو وہ الٹے پا ؤں پھر گیا اور کہنے لگا کہ میرا تمہارا ساتھ نہیں ہے، میں وہ کچھ دیکھ رہاہوں جو تم لوگ نہیں دیکھتے ،مجھے اللہ سے ڈرلگتاہے اور اللہ بڑی سخت سز ادینے والا ہے۔ {۴۸} جب کہ منافقین اور وہ سب لوگ جن کے دلوں کو روگ لگا ہوا ہے ، کہہ رہے تھے کہ ِان لوگوں کو تواِن کے دین نے خبط میں مبتلا کررکھا ہے۔[39] حالانکہ اگر کوئی اللہ پر بھروسہ کرے تویقینا اللہ بڑا زبردست اور دانا ہے۔{۴۹} کاش تم اُس حالت کو دیکھ سکتے جب کہ فرشتے مقتول کافروں کی روحیں قبض کررہے تھے۔ وہ اُن کے چہروں ، اور اُن کے کو لھوں پر ضربیں لگاتے جاتے تھے اور کہتے جاتے تھے ’’ لواب جلنے کی سزا بھگتو {۵۰} یہ وہ جزا ہے جس کا سامان تمہارے اپنے ہاتھوں نے پیشگی مہیا کررکھا تھا ، ورنہ اللہ تو اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔ ‘‘{۵۱} یہ معاملہ ان کے ساتھ اُسی طرح پیش آیا جس طرح آل فرعون اور اس سے پہلے کے دوسرے لوگوں کے ساتھ پیش آتا رہا ہے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑلیا۔ اللہ قوت رکھتا ہے اور سخت سزادینے والا ہے ۔{ ۵۲} یہ اللہ کی اس سنت کے مطابق ہوا کہ وہ کسی نعمت کو جو اس نے کسی قوم کو عطا کی ہو اُس وقت تک نہیں بدلتا جب تک کہ وہ قوم خود اپنے طرز عمل کو نہیں بدل دیتی۔[40] اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔ { ۵۳} آلِ فرعون اور ان سے پہلے کی قوموں کے ساتھ جو کچھ پیش آیا وہ اسی ضابطے کے مطابق تھا۔ انہوں نے اپنے رَبّ کی آیات کو جھٹلایا تب ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں انہیں ہلاک کیا اور آل فرعون کو غرق کردیا ۔ یہ سب ظالم لوگ تھے۔{ ۵۴} یقینا اللہ کے نزدیک زمین پر چلنے والی مخلوق میں سب سے بدتر وہ لوگ ہیں۔ جنہوں نے حق کو ماننے سے انکار کردیا پھر کسی طرح وہ اسے قبول کرنے پر تیار نہیں ہیں۔ {۵۵} (خصوصاً) ان میں سے وہ لوگ جن کے ساتھ تونے معاہدہ کیا پھر وہ ہر موقع پر اس کو توڑتے ہیں اور ذرا اللہ کا خوف نہیں کرتے[41]{۵۶} پس اگر یہ لوگ تمہیں لڑائی میں مل جائیں تو ان کی ایسی خبرلو کہ ان کے بعد دوسرے جو لوگ ایسی روش اختیار کرنے والے ہوں ان کے حواس باختہ ہوجائیں۔[42] توقع ہے کہ بد عہدوں کے اس انجام سے وہ سبق لیں گے۔{۵۷} اور اگر کبھی تمہیں کسی قوم سے خیانت کا اندیشہ ہوتو اس کے معاہدے کو علانیہ اس کے آگے پھینک[43] دو۔ یقینا اللہ خائنوں کو پسند نہیں کرتا۔ {۵۸} منکرین حق اس غلط فہمی میں نہ رہیں کہ وہ بازی لے گئے ، یقینا وہ ہم کو ہرا نہیں سکتے۔ {۵۹} اور تم لوگ جہاں تک تمہارا بس چلے ، زیادہ سے زیادہ طاقت اور تیار بندھے رہنے والے گھوڑے اُن کے مقابلہ کے لیے مہیا رکھو[44]تا کہ اس کے ذریعہ سے اللہ کے اور اپنے دشمنوں کو اور اُن دوسرے اعداء کو خوف زدہ کردو جنہیں تم نہیں جانتے مگر اللہ جانتا ہے۔ اللہ کی راہ میں جو کچھ تم خرچ کرو گے اس کا پورا پورا بدل تمہاری طرف پلٹایا جائے گا اور تمہارے ساتھ ہر گز ظلم نہ ہوگا۔{۶۰} اور( اے نبی ؐ !) اگر دشمن صلح و سلامتی کی طرف مائل ہوں تو تم بھی اس کے لیے آمادہ ہوجا ؤ اور اللہ پر بھروسہ کرو ، یقینا وہی سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے {۶۱} اور اگر وہ دھوکے کی نیت رکھتے ہوں تو تمہارے لئے اللہ کافی ہے۔ [45]وہی تو ہے جس نے اپنی مدد سے اور مومنوں کے ذریعے سے تمہاری تائید کی{ ۶۲} اور مومنوں کے دل ایک دوسرے کے ساتھ جوڑ دیے۔ تم روئے زمین کی ساری دولت بھی خرچ کر ڈالتے تو ان لوگوں کے دل نہ جوڑسکتے تھے مگر وہ اللہ ہے جس نے ان لوگوں کے دل جوڑے ،[46] یقینا وہ بڑا زبردست اور دانا ہے۔ { ۶۳} اے نبی ؐ ! تمہارے لئے اور تمہارے پیرو اہل ایمان کے لیے تو بس اللہ کافی ہے۔{ ۶۴} ( اے نبی ؐ !)مومنوں کو جنگ پر ابھارو۔ اگر تم میں سے بیس آدمی صابر ہوں تو وہ دوسو پر غالب آئیں گے اور اگر سو آدمی ایسے ہوں تو منکرین حق میں سے ہزار آدمیوں پر بھاری رہیں گے کیونکہ وہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ نہیں رکھتے۔[47] {۶۵} اچھا ، اب اللہ نے تمہارا بوجھ ہلکا کیا اور اسے معلوم ہوا کہ ابھی تم میں کمزوری ہے ، پس اگر تم میں سے سو آدمی صابرہوں تو وہ دوسو پر اور ہزار آدمی ایسے ہوں تو دوہزار پر اللہ کے حکم سے غالب آئیں [48]گے، اور اللہ اُن لوگوں کے ساتھ ہے جو صبر کرنے والے ہیں۔{۶۶} کسی نبی کے لیے یہ زیبا نہیں ہے کہ اس کے پاس قیدی ہوں جب تک کہ وہ زمین میں دشمنوں کو اچھی طرح کچل نہ دے ۔ تم لوگ دنیا کے فائدے چاہتے ہو حالانکہ اللہ کے پیش نظر آخرت ہے،اور اللہ غالب اور حکیم ہے۔ {۶۷} اگر اللہ کا نوشتہ پہلے نہ لکھا جاچکا ہوتا تو جو کچھ تم لوگوں نے لیا ہے اس کی پاداش میں تم کو بڑی سزادی جاتی۔ {۶۸} پس جو کچھ تم نے مال حاصل کیا ہے اُسے کھا ؤ کہ وہ حلال اور پاک ہے اور اللہ سے ڈرتے رہو۔[49] یقینا اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔{۶۹} اے نبی ؐ! تم لوگوں کے قبضے میں جو قیدی ہیں اُن سے کہو اگر اللہ کو معلوم ہوا کہ تمہارے دلوں میں کچھ خیر ہے تو وہ تمہیں اس سے بڑھ چڑ ھ کردے گا جو تم سے لیا گیا ہے اور تمہاری خطائیں معاف کرے گا، اللہ درگزر کرنے والا ہے اور رحم فرمانے والا ہے۔ { ۷۰} لیکن اگر وہ تیرے ساتھ خیانت کا ارادہ رکھتے ہیں تو اس سے پہلے وہ اللہ کے ساتھ خیانت کرچکے ہیں ، چنانچہ اسی کی سزا اللہ نے انہیں دی کہ وہ تیرے قابو میں آگئے ، اللہ سب کچھ جانتا اور حکیم ہے۔{۷۱} جن لوگوں نے ایمان قبول کیا اور ہجرت کی اور اللہ کی راہ میں اپنی جانیں لڑائیں اور اپنے مال کھپائے ، اور جن لوگوں نے ہجرت کرنے والوں کو جگہ دی اور ان کی مدد کی ، وہی دراصل ایک دوسرے کے ولی ہیں۔ رہے وہ لوگ جو ایمان تو لے آئے مگر ہجرت کرکے (دارالاسلام میں) آنہیں گئے تو ان سے تمہارا ولایت کا کوئی تعلق نہیں ہے جب تک کہ وہ ہجرت کرکے نہ آجائیں ۔[50]ہاں اگر وہ دین کے معاملے میں تم سے مدد مانگیں تو ان کی مدد کرنا تم پر فرض ہے، لیکن کسی ایسی قوم کے خلاف نہیں جس سے تمہارا معاہدہ [51]ہو۔ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے دیکھتا ہے۔{ ۷۲} جو لوگ منکرِ حق ہیں وہ ایک دوسرے کی حمایت کرتے ہیں۔ اگر تم یہ نہ کرو گے تو زمین میں فتنہ اور بڑا فساد برپا ہوگا۔{ ۷۳} جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں گھر بار چھوڑے اور جدوجہد کی اور جنہوں نے پناہ دی اور مدد کی وہی سچے مومن ہیں۔ ان کے لیے خطا ؤں سے درگزر ہے اور بہترین رزق ہے{ ۷۴} اور جو لوگ بعد میں ایمان لائے اور ہجرت کرکے آگئے اور تمہارے ساتھ مل کر جدوجہد کرنے لگے وہ بھی تم ہی میں شامل ہیں، مگر اللہ کی کتاب میں خون کے رشتے دار ایک دوسرے کے زیادہ حقدار ہیں[52]، یقینا اللہ ہر چیز کو جانتا ہے۔{۷۵}
سورۃالتوبۃ   -  9 : 1-33 / 129اعلان [1]برأت ہے اللہ اور اُس کے رسول ؐکی طرف سے ان مشرکین کو جن سے تم نے معاہدے کئے تھے۔[2] {۱} پس تم لوگ ملک میں چار مہینے اور چل پھر لو [3]اور جان رکھو کہ تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو، اور یہ کہ اللہ منکرین حق کو رسوا کرنے والا ہے { ۲} اطلاع عام ہے اللہ اور اس کے رسُول ؐ کی طرف سے حج اکبر[4] کے دن تمام لوگوں کے لیے کہ اللہ مشرکین سے بری الذمہّ ہے اور اس کا رسُول ؐ بھی۔ اب اگر تم لوگ توبہ کرلو تو تمہارے ہی لئے بہتر ہے اور جو منھ پھیرتے ہو تو خوب سمجھ لو کہ تم اللہ کو عاجز کرنے والے نہیں ہو۔ اور اے نبی ؐ! انکار کرنے والوں کو سخت عذاب کی خوش خبری سنادو ۔ { ۳} بجز اُن مشرکین کے جن سے تم نے معاہدے کئے پھر انہوں نے اپنے عہد کو پورا کرنے میں تمہارے ساتھ کوئی کمی نہیں کی اور نہ تمہارے خلاف کسی کی مدد کی ، تو ایسے لوگوں کے ساتھ تم بھی مدّت معاہدہ تک وفا کر و کیونکہ اللہ متقیوں ہی کو پسند کرتا ہے۔[5]{ ۴} پس جب حرام مہینے گزرجائیں[6] تو مشرکین کو قتل کرو جہاں پا ؤ اور انہیں پکڑو اور گھیرو اور ہر گھات میں اُن کی خبر لینے کے لیے بیٹھو ۔ پھر اگر وہ توبہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو انہیں چھوڑ دو۔[7] اللہ درگزر فرمانے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔{۵} اور اگر مشرکین میں سے کوئی شخص پناہ مانگ کر تمہارے پاس آنا چاہے ( تاکہ اللہ کا کلام سنے ) تو اسے پناہ دے دو یہاں تک کہ وہ اللہ کا کلام سن لے۔ پھر اسے اس کے مامن تک پہنچادو۔ یہ اس لیے کرنا چاہئے کہ یہ لوگ علم نہیں رکھتے۔[8]{۶} ان مشرکین کے لیے اللہ اور اس کے رسول ؐکے نزدیک کوئی عہد آخر کیسے ہوسکتا ہے؟ بجز اُن لوگوں کے جن سے تم نے مسجد حرام کے پاس معاہدہ کیا تھا،[9] تو جب تک وہ تمہارے ساتھ سیدھے رہیں تم بھی ان کے ساتھ سیدھے رہو کیوں کہ اللہ متقیوں کوپسند کرتا ہے۔{۷} مگر اُن کے سوا دوسرے مشرکین کے ساتھ کوئی عہد کیسے ہوسکتا ہے جب کہ اُن کا حال یہ ہے کہ تم پر قابو پاجائیں تو نہ تمہارے معاملہ میں کسی قرابت کا لحاظ کریں نہ کسی معاہدہ کی ذمہ داری کا ۔وہ اپنی زبانوں سے تم کو راضی کرنے کی کوشش کرتے ہیں مگر دل اُن کے انکار کرتے ہیں[10] اور ان میں سے اکثر فاسق ہیں۔[11]{۸} انہوں نے اللہ کی آیات کے بدلے تھوڑی سی قیمت قبول کرلی [12]پھر اللہ کے راستے میں سدِّراہ بن کر کھڑے ہوگئے۔[13] بہت بُرے کر توت تھے جو یہ کرتے رہے{۹} کسی مومن کے معاملے میں نہ یہ قرابت کا لحاظ کرتے ہیں اور نہ کسی عہد کی ذمہ داری کا اور زیادتی ہمیشہ اِنہی کی طرف سے ہوئی ہے۔{۱۰} پس اگر یہ تو بہ کرلیں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں تو تمہارے دینی بھائی ہیں۔ اور جاننے والوں کے لیے ہم اپنے احکام واضح کئے دیتے ہیں۔[14]{۱۱} اور اگر عہد کرنے کے بعد یہ پھر اپنی قسموں کو توڑڈالیں اور تمہارے دین پر حملے کرنے شروع کردیں تو کفر کے علمبرداروں سے جنگ کر وکیونکہ ان کی قسموں کا کوئی اعتبار نہیں۔ شاید کہ (پھر تلوارہی کے زور سے )وہ باز آئیں گے۔ [15] { ۱۲} کیا تم [16]نہ لڑو گے ایسے لوگوں سے جو اپنے عہد توڑتے رہے ہیں اور جنہوں نے رسول ؐکو ملک سے نکال دینے کا قصد کیا تھا اور زیادتی کی ابتداء کرنے والے وہی تھے ؟ کیا تم اُن سے ڈرتے ہو؟ اگر تم مومن ہو تو اللہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اُس سے ڈرو۔ { ۱۳} ان سے لڑو اللہ تمہارے ہاتھوں سے ان کو سزاد لوائے گا اور انہیں ذلیل وخوار کرے گا اور ان کے مقابلے میں تمہاری مدد کریگا اور بہت سے مومنوں کے دل ٹھنڈے کرے گا۔ { ۱۴} اور ان کے قلوب کی جلن مٹادے گا ، اور جسے چاہے گا توبہ کی توفیق بھی دے گا۔[17] اللہ سب کچھ جاننے والا اور دانا ہے{۱۵} کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یونہی چھوڑدیے جا ؤگے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تودیکھا( واضح کرکے تم کو دکھایا) ہی نہیں کہ تم میں سے کون وہ لوگ ہیں جنہوں نے (اُس کی راہ میں ) جاں فشانی کی اور اللہ اور رسُول ؐ اور مومنین کے سوا کسی کو جگری دوست نہ بنایا ،[18] جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ {۱۶} مشرکین کا یہ کام نہیں ہے کہ وہ اللہ کی مسجدوں کے مجاور و خادم بنیں درآں حالیکہ اپنے اُوپر وہ خود کفر کی شہادت دے رہے ہیں۔[19] ان کے تو سارے اعمال ضائع ہوگئے [20]اور جہنم میں انہیں ہمیشہ رہنا ہے۔{۱۷} اللہ کی مسجدوں کے آباد کار ( مجاور و خادم) تو وہی لوگ ہوسکتے ہیں جو اللہ اورروزِ آخر کو مانیں ، اور نماز قائم کریں ، زکوٰۃ دیں ، اور اللہ کے سوا کسی سے نہ ڈریں۔ انہی سے یہ توقع ہے کہ سیدھی راہ چلیں گے۔{۱۸} کیا تم لوگوں نے حاجیوں کو پانی پلانے اور مسجد حرام کی مجاوری کرنے کو اس شخص کے کام کے برابر ٹھہرالیا ہے جو ایمان لایا اللہ پر اور روز آخر پر اور جس نے جانفشانی کی اللہ کی راہ میں؟[21] اللہ کے نزدیک تو یہ دونوں برابر نہیں ہیں اور اللہ ظالموں کی رہنمائی نہیں کرتا۔ {۱۹} اللہ کے ہاں تو انہی لوگوں کا درجہ بڑا ہے۔ جو ایمان لائے اور جنہوں نے اس کی راہ میں گھر بار چھوڑے اور جان ومال سے جہاد کیا۔وہی کامیاب ہیں۔{ ۲۰} اُن کارَبّ انہیں اپنی رحمت اور خوشنودی اور ایسی جنتوں کی بشارت دیتا ہے جہاں ان کے لیے پائیدار عیش کے سامان ہیں۔{۲۱} ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔یقینا اللہ کے پاس خدمات کا صلہ دینے کو بہت کچھ ہے۔{۲۲} اے لوگو جو ایمان لائے ہو!اپنے باپوں اوربھائیوں کو بھی اپنا رفیق نہ بنا ؤ اگر وہ ایمان پر کفر کو ترجیح دیں ۔ تم میں سے جو اُن کو رفیق بنائیں گے وہی ظالم ہوں گے۔ {۲۳} (اے نبی ؐ!) کہدو کہ اگر تمہارے باپ، اور تمہارے بیٹے، اور تمہارے بھائی، اور تمہاری بیویاں، اور تمہارے عزیز واقارب، اور تمہارے وہ مال جو تم نے کمائے ہیں ،اور تمہارے وہ کاروبار جن کے ماندپڑجانے کا تم کو خوف ہے، اور تمہارے وہ گھر جو تم کو پسند ہیں ، تم کو اللہ اور اس کے رسُول ؐ اور اس کی راہ میں جہاد سے عزیز تر ہیں تو انتظار کرویہاں تک کہ اللہ اپنا فیصلہ تمہارے سامنے لے آئے[22] ، اور اللہ فاسق لوگوں کی رہنمائی نہیں کیا کرتا۔ { ۲۴} اللہ اس سے پہلے بہت سے مواقع پر تمہاری مددکرچکا ہے۔ ابھی غزوۂ حُنین کے روز (اس کی دستگیری کی شان تم دیکھ چکے[23] ہو۔ )اُس روز تمہیں اپنی کثرت تعداد کا غَرّہ تھا ، مگر وہ تمہارے کچھ کام نہ آئی اورز مین اپنی وسعت کے باوجود تم پر تنگ ہوگئی اور تم پیٹھ پھیر کر بھاگ نکلے۔{۲۵} پھر اللہ نے اپنی سکِینت اپنے رسُول ؐ پر اور مومنین پر نازل فرمائی اور وہ لشکر اُتارے جو تم کو نظر نہ آتے تھے اور منکرینِ حق کو سزادی کہ یہی بَدلہ ہے اُن لوگوں کے لیے جو حق کا انکار کریں ۔{۲۶} پھر (تم یہ بھی دیکھ چکے ہو کہ ) اس طرح سزادینے کے بعد اللہ جس کو چاہتا ہے توبہ کی توفیق بھی بخش دیتا ہے۔[24] اللہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔{۲۷} اے لوگوجو ایمان لائے ہو!مشرکین نا پاک ہیں ، لہٰذا اس سال کے بعد یہ مسجد حرام کے قریب نہ پھٹکنے پائیں۔[25] اور اگر تمہیں تنگ دستی کا خوف ہے تو بعید نہیں کہ اللہ چاہے تو تمہیں اپنے فضل سے غنی کردے ، اللہ علیم و حکیم ہے۔{۲۸} جنگ کرو اہل کتاب میں سے ان لوگوں کے خلاف جو اللہ اور روزِ آخر پر ایمان نہیں[26] لاتے اور جو کچھ اللہ اور اس کے رسول ؐنے حرام قرار دیا ہے اسے حرام نہیں کرتے[27] اور دین حق کو اپنا دین نہیں بناتے۔ (اُن سے لڑو) یہاں تک کہ وہ اپنے ہاتھ سے جزیہ دیں اور چھوٹے بن کررہیں۔ [28]{۲۹} یہودی کہتے ہیں کہ عُزَیر ؑ اللہ کا بیٹا ہے [29]، اور عیسائی کہتے ہیں کہ مسیح ؑاللہ کا بیٹا ہے یہ بے حقیقت باتیں ہیں جو وہ اپنی زبانوں سے نکالتے ہیں ان لوگوں کی دیکھا دیکھی جو ان سے پہلے کفر میں مبتلا ہوئے تھے۔[30] اللہ کی ماران پر ، یہ کہاں سے دھوکا کھارہے ہیں۔{۳۰} انہو ں نے اپنے علماء اور درویشوں کو اللہ کے سوا اپنا رَبّ بنالیا ہے[31] اور اسی طرح مسیح ؑ ابن مریم کو بھی ۔ حالانکہ ان کو ایک معبود کے سواکسی کی بندگی کرنے کا حکم نہیں دیا گیا تھا ، وہ جس کے سوا کوئی مستحقِ عبادت نہیں، پاک ہے وہ اُن مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔{۳۱} یہ لوگ چاہتے ہیں کہ اللہ کی روشنی کو اپنی پھونکوں سے بجھادیں ۔ مگر اللہ اپنی روشنی کو مکمل کئے بغیر ماننے والا نہیں ہے خواہ کافروں کو یہ کتنا ہی ناگوار ہو۔{۳۲} وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسُول ؐ کو ہدایت اور دینِ حق کے ساتھ بھیجا ہے تا کہ اسے پوری جنس دین پر غالب کردے[32] خواہ مشرکوں کو یہ کتنا ہی ناگوارہو{ ۳۳}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)