سورۃ النبا   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 78 : 1-40 / 40یہ لوگ کس چیز کے بارے میں پوچھ گچھ کررہے ہیں ؟{۱} کیا اُس بڑی خبر کے بارے میں{ ۲} جس کے متعلق یہ مختلف چہ مگوئیاں کرنے میں لگے ہوئے ہیں ؟[1]{۳} ہر گز نہیں [2] عنقریب انہیں معلوم ہو جائے گا { ۴} ہاں، ہر گز نہیں ، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا[3]{۵} کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے زمین کو فرش بنایا؟[4]{۶} اور پہاڑوں کو میخوں کی طرح گاڑدیا[5] {۷} اورہم نے تمہیں ( مَردوں اور عورتوں کے ) جوڑوں کی شکل میں پیدا کیا [6]{۸} اور(ہم ہی نے) تمہاری نیند کو باعث سکون بنایا [7]{۹} اور(ہم نے) رات کو پردہ پوش بنایا{۱۰} اور(ہم ہی نے) دن کو معاش کا وقت بنایا [8]{۱۱} اور تمہارے اوپر سات مضبوط آسمان ہم نے قائم کئے [9]{ ۱۲} اور ایک نہایت روشن اور گرم چراغ (ہم نے )پیدا کیا [10]{۱۳} اور بادلوں سے لگاتا ر بارش (ہم نے) برسائی{۱۴} تا کہ اُگائیں(ہم نکالیں) اس کے ذریعہ سے غلّہ اور سبزی {۱۵} اور گھنے باغ ۔[11]{۱۶} بے شک فیصلے کا دن ایک مقرر وقت ہے {۱۷} جس روز صُور میں پھُونک ماردی جائیگی ،تم فوج درفوج نکل آ ؤ گے۔ [12]{۱۸} اور آسمان کھول دیا جائے گا حتیٰ کہ وہ دروازے ہی دروازے بن کررہ جائے گا{۱۹} اور پہاڑ چلائے جائیں گے یہاں تک کہ وہ سراب ہوجائیں گے۔[13] {۲۰} درحقیقت جہنم ایک گھات ہے [14]{۲۱} سرکشوں کا ٹھکانا {۲۲} جس میں وہ مدتوں پڑے رہیں گے۔[15]{ ۲۳} اس کے اندر کسی ٹھنڈک اور پینے کے قابل کسی چیز کا مزہ نہ چکھیں گے { ۲۴} کچھ ملے گا تو بس گرم پانی اور زخموں کا دھوون[16]{۲۵} ( اُن کے کرتُوتوں) کا بھرپور بدلہ {۲۶} وہ کسی حساب کی توقع نہ رکھتے تھے {۲۷} اور ہماری آیات کو انہوں نے بالکل جُھٹلادیا تھا[17]{۲۸} اور حال یہ تھا کہ ہم نے ہر چیز گِن گِن کر لکھ رکھی تھی ۔[18]{۲۹} اب چکھو مزہ ،ہم تمہارے لئے عذاب کے سوا کسی چیز میں ہر گز اضافہ نہ کریں گے۔ {۳۰} یقینا متقیوں[19] کے لیے کامرانی کا ایک مقام ہے {۳۱} باغات اور انگور ہوں گے۔{ ۳۲} اور نوخیز ہم سن لڑکیاں[20] {۳۳} اور چھلکتے ہوئے جام { ۳۴} وہاں کوئی لغو اورجُھوٹی بات وہ نہ سنیں گے۔ [21]{ ۳۵} جزاء اور کافی انعام[22] تمہارے رَبّ کی طرف سے {۳۶} اُس نہایت مہربان رَبّ کی طرف سے جو زمین اور آسمانوں کا اور ان کے درمیان کی ہر چیز کا مالک ہے ،جس کے سامنے کسی کو بولنے کا یارا نہیں،[23] {۳۷} جس روز [24]روح اور ملائکہ صف بستہ کھڑے ہوں گے ،کوئی نہ بولے گا سوائے اُس کے جسے رحمان اجازت دے اور جو ٹھیک بات کہے۔[25]{۳۸} وہ دن برحق ہے، اب جس کا جی چاہے اپنے ربّ کی طرف پلٹنے کا راستہ اختیار کرلے ۔{۳۹} ہم نے تم لوگوں کو اُس عذاب سے ڈرا دیا ہے جو قریب آلگا ہے،[26] جس روز آدمی وہ سب کچھ دیکھ لے گا جو اُس کے ہاتھو ں نے آگے بھیجا ہے، اور کافر پکاراُٹھے گا کہ کاش میں خاک ہوتا۔[27]{۴۰}
سورۃ النازعات   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 79 : 1-46 / 46قسم ہے اُن ( روح نکالنے والے فرشتوں ) کی جو ڈوب کر کھینچتے ہیں {۱} اور آہستگی سے(روح) نکال لے جاتے ہیں {۲} اور (اُن فرشتوں کی جو کائنا ت میں ) تیزی سے تیرتے پھرتے ہیں {۳} پھر (حکم بجالانے میں ) سبقت کرتے ہیں {۴} پھر (احکام الہٰی کے مطابق ) معاملات کا انتظام چلاتے ہیں۔ [1]{۵} جس روز ہلامارے گا،زلزلے کا جھٹکا {۶} اور اس کے پیچھے ایک اور جھٹکا پڑے گا[2]{۷} کچھ دل ہوں گے جو اُس روز خوف سے کانپ رہے ہوں گے[3] {۸} نگاہیں اُن کی سہمی ہوئی ہوں گی۔{۹} یہ لوگ کہتے ہیں ’’ کیا واقعی ہم پلٹا کر پھر واپس لائے جائیں گے ؟ {۱۰} کیا جب ہم کھوکھلی بوسیدہ ہڈیاں بن چکے ہوں گے ؟‘‘{۱۱} کہنے لگے ’’ یہ واپسی تو پھر بڑے گھاٹے کی ہوگی‘‘۔[4]{ ۱۲} حالاں کہ یہ بس اتنا کام ہے کہ ایک زور کی ڈانٹ پڑے گی {۱۳} اور یکایک یہ کھلے میدان میں موجود ہوں گے۔[5]{ ۱۴} کیا [5]تمہیں موسیٰ ؑ کے قصے کی خبر پہنچی ہے ؟{۱۵} جب اس کے ربّ نے اُسے طُویٰ کی مقدس وادی [7]میں پکارا تھا { ۱۶} کہ’’ فرعون کے پاس جا، وہ سرکش ہوگیا ہے {۱۷} اور اس سے کہہ کیا تو اس کے لیے تیار ہے کہ پاکیز گی اختیار کرے؟ ‘‘{۱۸} اور میں تیرے ربّ کی طرف تیری رہنمائی کرو ں تو (اُس کا ) خوف تیرے اندر پیدا ہو ؟[8]{۱۹} پھر موسیٰ ؑ نے ( فرعون کے پاس جاکر )اُس کو بڑی نشانی [9]دکھائی {۲۰} مگر اُس نے جھٹلا دیا اور نہ مانا{۲۱} پھر چالبازیاں کرنے کے لیے پلٹا[10]{۲۲} اور لوگوں کو جمع کرکے اس نے پکارا {۲۳} اور کہا ’’ میں تمہارا سب سے بڑا رَبّ ہوں ‘‘[11]{۲۴} آخر کار اللہ نے اسے آخرت اور دنیا کے عذاب میں پکڑلیا[12]{۲۵} درحقیقت اِس میں بڑی عبرت ہے ہراُس شخص کے لیے جو ڈرے۔ {۲۶} کیا [13]تم لوگوں کی تخلیق زیادہ سخت کام ہے یا آسمان کی[14] ؟اللہ نے اُس کو بنایا {۲۷} اُس کی چھت خوب اونچی اٹھائی پھراُس کا توازن قائم کیا {۲۸} اوراُس کی رات ڈھانکی اور اُس کا دن نکالا۔[15]{۲۹} اس کے بعد زمین کو اس نے بچھایا[16]{۳۰} اُس کے اندر سے اُسکا پانی اور چارہ نکالا[17] {۳۱} اور پہاڑ اس میں گاڑدیے {۳۲} سامانِ زیست کے طور پر تمہارے لئے اور تمہارے مویشیوں کے لیے۔[18] {۳۳} پھر جب وہ ہنگامۂ عظیم برپا ہوگا [19]{۳۴} جس روز انسان اپنا سب کیا دھرایادکرے گا[20]{۳۵} اور ہر دیکھنے والے کے سامنے دوزخ کھول کررکھ دی جائے گی{۳۶} تو جس نے سرکشی کی تھی {۳۷} اور دنیا کی زندگی کو ترجیح دی تھی{۳۸} دوزخ ہی اس کا ٹھکانا ہوگی {۳۹} اور جس نے اپنے رَبّ کے سامنے کھڑے ہونے کا خوف کیا تھا اور نفس کو بُری خواہشات سے باز رکھا تھا{۴۰} پس یقینا جنت اُس کا ٹھکانا ہوگی۔[21]{۴۱} یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ ’’ آخر وہ گھڑی کب آکر ٹھہرے گی ؟‘‘[22] {۴۲} تمہارا کیا کام کہ اُس کا وقت بتا ؤ ۔{۴۳} اس کا علم تو اللہپر ختم ہے، { ۴۴} تم صرف خبردار کرنے والے ہو ہر اُس شخص کو جو اُس کا خوف کرے۔[23]{۴۵} جس روز یہ لوگ اسے دیکھ لیں گے تو اِنہیں یوں محسوس ہوگا کہ ( دنیا میں یا حالت ِموت میں ) یہ بس ایک دن کے پچھلے پہر یا اگلے پہر تک ٹھہرے ہیں۔[24]{۴۶}
سورۃ عبس   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 80 : 1-42 / 42تُرش رُو ہوا اور بے رُخی برتی {۱} اِس بات پر کہ وہ اندھا اُس کے پاس آگیا [1]{ ۲} اور تمہیں کیا خبر ، شاید وہ سدھر جائے { ۳} یا نصیحت پر دھیان دے اور نصیحت کرنا اس کے لیے نافع ہو؟ {۴} جو شخص بے پروائی برتتا ہے{۵} اس کی طرف تو تم توجہ کرتے ہو{۶} حالانکہ اگر وہ نہ سُدھرے تو تم پر اس کی کیا ذمہ دار ی ہے ؟ {۷} اور جو خود تمہارے پاس دوڑ اآتا ہے{۸} اور ڈررہا ہوتا ہے{۹} اُس سے تم بے رُخی برتتے ہو ۔[2]{۱۰} ہرگز نہیں[3]۔ یہ تو ایک نصیحت ہے[4] {۱۱} جس کا جی چاہے اِسے قبول کرے۔{ ۱۲} یہ ایسے صحیفوں میں درج ہے جو مکرَّم ہیں { ۱۳} بلند مرتبہ ہیں،پاکیزہ ہیں[5] {۱۴} (ایسے) کاتبوں[6] کے ہاتھوں میں رہتے ہیں [7]{۱۵} جو معزز اور نیک ہیں۔ {۱۶} لعنت ہو[8] انسان[9] پر ،کیساسخت منکرحق ہے [10]یہ ۔{۱۷} کس چیز سے اللہ نے اسے پیدا کیا ہے؟ {۱۸} نطفہ کی ایک بوند سے[11]۔ اللہ نے اسے پیدا کیا ،پھر اِس کی تقدیر مقرر کی [12]{۱۹} پھر اس کے لیے زندگی کی راہ آسان کی[13]{۲۰} پھر اِسے موت دی اور قبر میں پہنچایا۔[14]{۲۱} پھر جب چاہے وہ اسے دوبارہ اُٹھا کھڑا کردے ۔[15]{ ۲۲} ہرگز نہیں ، اس نے وہ فرض ادا نہیں کیا جسکا اللہ نے اِسے حکم دیا تھا [16]{۲۳} پھر ذرا انسان اپنی خور اک کو دیکھے[17] {۲۴} ہم نے خوب پانی لُنڈھایا [18]{۲۵} پھر زمین کو عجیب طرح پھاڑا [19]{۲۶} پھراُس کے اندر اُگائے غلّے {۲۷} اور انگور اور ترکاریاں{۲۸} اور زیتون اور کھجوریں {۲۹} اور گھنے باغ {۳۰} اور طرح طرح کے پھل اور چارے {۳۱} تمہارے لئے اور تمہارے مویشیوں کے لیے سامان ِزیست کے طور پر۔[20]{۳۲} آخر کار جب وہ کان بہرے کردینے والی آواز [21]بلند ہوگی۔ { ۳۳} اُس روز آدمی اپنے بھائی سے بھاگے گا {۳۴} اور اپنی ماں اور اپنے باپ سے{۳۵}` اور اپنی بیوی اور اپنی اولاد سے (بھاگے گا)۔ [22] {۳۶} ان میں سے ہر شخص پر اُس دن ایسا وقت آپڑے گا کہ اُسے اپنے سواکسی کا ہوش نہ ہوگا[23]{۳۷} کچھ چہرے اُس روز دمک رہے ہوں گے {۳۸} ہشَاش بشاش اور خوش و خرم ہوں گے ۔{۳۹} اور کچھ چہروں پر اس روز خاک اڑ رہی ہوگی۔{۴۰} اور کلونس (سیاہی)چھائی ہوئی ہوگی{۴۱} یہی کافرو فاجر لوگ ہوں گے۔ {۴۲}
سورۃ التکویر   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 81 : 1-29 / 29جب سورج لپیٹ دیا جائے گا [1]{۱} اور جب تارے بکھرجائیں گے[2]{ ۲} اور جب پہاڑ چلائے جائیں گے[3]{ ۳} اور جب دس مہینے کی حاملہ اونٹنیاں اپنے حال پر چھوڑ دی جائیں گی [4]{۴} اور جب جنگلی جانور سمیٹ کر اکٹھے کردیے جائیں گے[5]{ ۵} اور جب سمندر بھڑ کا دیے جائیں گے[6] {۶} اور جب [7]جانیں (جسموں سے ) جوڑدی جائیں گی۔ [8]{۷} اور جب زندہ گاڑی ہوئی لڑکی سے پوچھا جائے گا {۸} کہ وہ کس قصور میں ماری گئی ؟[9] {۹} اور جب اعمال نامے کھولے جائیں گے{۱۰} اور جب آسمان کا پردہ ہٹادیا جائے گا [10]{۱۱} اور جب جہنم دہکائی جائے گی { ۱۲} اور جب جنّت قریب لے آئی جائے گی [11]{۱۳} اُس وقت ہر شخص کو معلوم ہوجائے گا کہ وہ کیا لے کر آیا ہے۔{ ۱۴} پس نہیں،[12] میں قسم کھاتا ہوں پلٹنے والے کی {۱۵} اور چُھپ جانیوالے تاروںکی{۱۶} اور رات کی جب کہ وہ رخصت ہوئی{۱۷} اور صبح کی جب کہ اُس نے سانس لیا[13]{۱۸} یہ فی الواقع ایک بزرگ پیغامبرکاقول ہے[14] {۱۹} جو بڑی توانائی رکھتا ہے ،[15] عرش والے کے ہاں بلند مرتبہ ہے {۲۰} وہاں اس کا حکم مانا جاتا ہے[16] وہ بااعتماد ہے ۔[17]{۲۱} اور ( اے اہل مکہّ ) تمہارا رفیق [18]مجنون نہیں ہے {۲۲} اُس نے اُس پیغام بر کوروشن اُفق پر دیکھا ہے۔ [19]{ ۲۳} اور وہ غیب (کے اِس علم کو لوگوں تک پہنچانے ) کے معاملہ میں بخیل نہیں ہے۔[20]{ ۲۴} اور یہ کسی شیطان مردود کا قول نہیں ہے۔[21]{۲۵} پھر تم لوگ کدھر چلے جارہے ہو ؟ {۲۶} یہ توسارے جہان والوں کے لیے ایک نصیحت ہے {۲۷} تم میں سے ہر اُس شخص کے لیے جو راہ ِراست پر چلنا چاہتا ہو۔ [22]{۲۸} اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ رب العالمین نہ چاہے [23]{۲۹}
سورۃ الانفطار   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 82 : 1-19 / 19جب آسمان پھٹ جائے گا {۱} اور جب تارے بکھر جائیں گے{ ۲} اور جب سمندر پھاڑ دیے جائیں گے [1]{ ۳} اور جب قبریں کھول دی جائیں گی[2] {۴} اس وقت ہر شخص کو اس کا اگلا پچھلا سب کیا دھرا معلوم ہوجائے گا[3]{۵} اے انسان ! کس چیز نے تجھے اپنے اُس ربّ کریم کی طرف سے دھوکے میں ڈال دیا {۶} جس نے تجھے پیدا کیا،تجھے نِک سُک سے درست کیا ،پھر تجھے متناسب بنایا {۷} اور جس صورت میں چاہاتجھ کو جوڑ کرتیار کیا ؟[4]{۸} ہر گز نہیں ،[5] بلکہ ( اصل بات یہ ہے کہ ) تم لوگ جزا وسزا کو جھٹلاتے ہو [6]{۹} حالانکہ تم پر نگراں مقرر ہیں{۱۰} ایسے معزز کاتب(کراماً کاتبین ) {۱۱} جو تمہارے ہر فعل کو جانتے ہیں ۔[7]{۱۲} یقینا نیک لوگ مزے میں ہوں گے{ ۱۳} اور بے شک بدکار لوگ جہنم میں جائیں گے۔ { ۱۴} جزا کے دن وہ اس میں داخل ہوں گے { ۱۵} اور اُس سے ہرگز غائب نہ ہو سکیں گے {۱۶} اورتم کیا جانتے ہو کہ وہ جزا کادن کیا ہے ؟{۱۷} ہاں،تمہیں کیا خبر کہ وہ جزا کا دن کیا ہے ؟{۱۸} یہ وہ دن ہے جب کسی شخص کے لیے کچھ کرنا کسی کے بس میں نہ ہوگا ،[8]اورفیصلہ اُس دن بالکل اللہ کے اختیار میں ہوگا۔{۱۹}
سورۃ المطفّفین   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 83 : 1-36 / 36تباہی ہے ڈنڈی مارنے والوں کے لیے[1]{۱} جن کا حال یہ ہے کہ جب لوگوں سے لیتے ہیں تو پورا پورا لیتے ہیں { ۲} اور جب ان کو ناپ کریاتول کردیتے ہیں تو اِنہیں گھاٹا دیتے ہیں۔[2]{ ۳} کیا یہ لوگ نہیں سمجھتے کہ (بلا شبہ وہ قبروں سے) اُٹھا کر لائے جانے والے ہیں؟{ ۴} ایک عظیم بڑے دن [3] {۵} اُس دن جب کہ سب لوگ ربّ العالمین کے سامنے کھڑے ہوں گے۔ {۶} ہرگز نہیں[4] یقینا بدکاروں کا نامہ ٔ اعمال قید خانے کے دفتر میں ہے ۔[5]{۷} اور تمہیں کیا معلوم کہ کیا ہے وہ قید خانے کا دفتر ؟ {۸} وہ ایک کتاب ہے لکھی ہوئی {۹} تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے {۱۰} (یہ وہ لوگ ہیں )جو روزِ جزا کو جھٹلاتے ہیں{۱۱} اور اُسے(روز جزا و سزا کو) نہیں جھٹلاتا مگر ہر وہ شخص جو حد سے گزر جانے والا بد عمل ہے ۔{ ۱۲} اُسے جب ہماری آیات( پڑھ کر )سنائی جاتی ہیں[6] تو کہتا ہے ’’ یہ تو اگلے وقتوں کی کہانیاں ہیں‘‘ ۔{۱۳} ہر گز نہیں، بلکہ دراصل ان لوگوں کے دلوں پر ان کے بُرے اعمال کا زنگ چڑھ گیا ہے۔ [7]{۱۴} ہرگز نہیں، بالیقین اُس روزیہ اپنے رَبّ کی دید سے محروم رکھے جائیں گے[8]{۱۵} پھر یہ جہنم میں جاپڑیں گے{۱۶} پھر ان سے کہا جائے گا کہ یہ وہی چیز ہے جسے تم جھٹلایا کرتے تھے۔{۱۷} ہر گز نہیں، [9]بے شک نیک آدمیوں کا نامۂ اعمال بلند پا یہ لوگوں کے دفتر میں ہے۔ {۱۸} اور تمہیں کیا خبر کہ کیا ہے وہ بلند پایہ لوگوں کا دفتر ؟{۱۹} ایک لکھی ہوئی کتاب {۲۰} جس کی نگہداشت مقرب فرشتے کرتے ہیں۔{۲۱} بے شک نیک لوگ بڑے مزے میں ہوں گے{ ۲۲} اونچی مسندوں پر بیٹھے نظارے کررہے ہوں گے { ۲۳} ان کے چہروں پر تم خوشحالی کی رونق محسوس کرو گے۔{ ۲۴} ان کو نفیس ترین سربند شراب پلائی جائے گی {۲۵} جس پر مُشک کی مُہر لگی ہوگی۔[10] جو لوگ دوسرو ں پر بازی لے جانا چاہتے ہوں وہ اس چیز کو حاصل کرنے میں بازی لے جانے کی کوشش کریں ۔{۲۶} اُس شراب میں تسنیم کی آمیزش ہوگی [11]{۲۷} یہ ایک چشمہ ہے جس کے پانی کے ساتھ(اللہ کے ) مقرب لوگ شراب پئیں گے{۲۸} مجرم لوگ دنیا میں ایمان لانے والوں کا مذاق اُڑاتے تھے ۔{۲۹} جب اُن کے پاس سے گزرتے تو آنکھیں مارمار کر ان کی طرف اشارے کرتے تھے،{۳۰} اپنے گھروالوں کی طرف پلٹتے تو مزے لیتے ہوئے پلٹتے تھے[12]{۳۱} اور جب انہیں دیکھتے تو کہتے تھے ،یہ بہکے ہوئے لوگ ہیں [13]{۳۲} حالانکہ وہ ان پر نگراں بناکر نہیں بھیجے گئے تھے۔[14]{ ۳۳} آج ایمان لانے والے کفّار پر ہنس رہے ہیں{ ۳۴} مسندوں پر بیٹھے ہوئے اُنکا حال دیکھ رہے ہیں {۳۵} مل گیا ناکافروں کو اُن حرکتوں کا ثواب(پورا پورابدلہ) جووہ کیا کرتے تھے؟ [15] {۳۶}
سورۃ الانشقاق   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 84 : 1-25 / 25جب آسمان پھٹ جائے گا {۱} اور(وہ کان لگائے ہوئے ) اپنے رَبّ کے فرمان کی تعمیل کریگا [1]اور اس کے لیے حق یہی ہے ( کہ اپنے رَبّ کا حکم مانے )۔{۲} اور جب زمین پھیلادی جائے گی[2]{ ۳} اور جو کچھ اس کے اندر ہے اُسے باہر پھینک کر خالی ہوجائے گی [3]{۴} اور(وہ کان لگائے ہوئے ) اپنے رَبّ کے حکم کی تعمیل کرے گی اور اس کے لیے حق یہی ہے ( کہ اُس کی تعمیل کرے)۔ [4]{۵} اے انسان!تو کشاں کشاں اپنے رَبّ کی طرف چلا جارہا ہے[5] اورتو( یقینا)اُس سے ملنے والا ہے۔ {۶} پھر جس کا نامۂ اعمال اس کے سیدھے ہاتھ میں دیا گیا {۷} اُس سے ہلکا حساب لیا جائے گا [6] {۸} اور وہ اپنے لوگوں کی طرف خوش خوش پلٹے گا ۔[7]{۹} رہا وہ شخص جس کا نامۂ اعمال اس کی پیٹھ کے پیچھے دیا جائے گا [8]{۱۰} تو وہ موت کو پکارے گا {۱۱} اور بھڑکتی ہوئی آگ میں جاپڑے گا۔ {۱۲} وہ اپنے گھروالوں میں مگن تھا۔[9]{۱۳} اُس نے سمجھا تھا کہ اسے کبھی پلٹنا نہیں ہے۔{ ۱۴} پلٹنا کیسے نہ تھا ،اُس کا رب اُس کے کرتوت دیکھ رہا تھا۔[10]{۱۵} پس نہیں ، میں قسم کھاتا ہوں شفق کی{۱۶} اور رات کی اور جو کچھ وہ سمیٹ لیتی ہے{۱۷} اور چاند کی جب کہ وہ ماہ کامل ہوجاتا ہے{۱۸} تم کو ضرور درجہ بدرجہ ایک حالت سے دوسری حالت کی طرف گزرتے چلے جاناہے۔[11] {۱۹} پھر ان لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ ایمان نہیں لاتے[12] {۲۰} اور جب قرآن ان کے سامنے پڑھا جاتا ہے تو سجدہ نہیں کرتے ؟{۲۱} بلکہ یہ منکرین تو الٹا جھٹلاتے ہیں{ ۲۲} حالانکہ جو کچھ یہ (نامۂ اعمال میں) جمع کررہے ہیں اللہ اُسے خوب جانتا ہے [13] { ۲۳} لہٰذا ان کو درد ناک عذاب کی بشارت دے دو { ۲۴} البتہ جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں ان کے لیے کبھی ختم نہ ہونے والا اجر ہے۔{ ۲۵}
سورۃ البروج   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 85 : 1-22 / 22قسم ہے مضبوط قلعوں والے آسمان کی[1] {۱} اور اُس دن کی جس کا وعدہ کیا گیا ہے[2] (یعنی قیامت ) {۲} اور دیکھنے والے کی اور دیکھی جانیو الی چیز کی [3]{ ۳} کہ مار ے گئے گڑھے والے { ۴} ( اس گڑھے والے) جس میں خوب بھڑکتے ہوئے ایندھن کی آگ تھی ۔{۵} جب کہ وہ اس گڑھے کے کنارے پر بیٹھے ہوئے تھے {۶} اور جو کچھ وہ ایمان لانے والوں کے ساتھ کررہے تھے اسے دیکھ رہے تھے۔[4] {۷} اور ان اہلِ ایمان سے ان کی دشمنی اس کے سوا کسی وجہ سے نہ تھی کہ وہ اُس اللہ پر ایمان لے آئے تھے جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے{۸} جو آسمانوں اور زمین کی سلطنت کا مالک ہے ،اوراللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے ۔[5]{۹} جن لوگوں نے مومن مردوں اور عورتوں پرستم توڑا اور پھر اس سے تائب نہ ہوئے یقینا ان کے لیے جہنم کا عذاب ہے اوراُن کے لیے جلائے جانے کی سزا ہے ۔[6]{ ۱۰} جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے یقینا اُن کے لیے جنّت کے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ، یہ ہے بڑی کامیابی {۱۱} درحقیقت تمہارے رَبّ کی پکڑ بڑی سخت ہے۔ { ۱۲} وہی پہلی بار پیدا کرتا ہے اور وہی دوبارہ پیدا کرے گا۔ { ۱۳} اور وہ بخشنے والا ہے ، محبت کرنے والا ہے{ ۱۴} عرش کا مالک ہے ،بزرگ و برتر ہے {۱۵} اور جو کچھ چاہے کر ڈالنے والا ہے۔ [7]{۱۶} کیا تمہیں لشکروں کی خبر پہنچی ہے ؟ {۱۷} فرعون اور ثمود ( کے لشکروں ) کی؟[8]{۱۸} مگر جنہوں نے کفر کیا ہے وہ جھٹلانے میں لگے ہوئے ہیں {۱۹} حالاں کہ اللہ نے ان کو گھیرے میں لے رکھا ہے۔ {۲۰} (ان کے جھٹلانے سے اِس قرآ ن کا کچھ نہیں بگڑتا ) بلکہ یہ قرآن بلند پایہ ہے {۲۱} اُس لُوح میں ( نقش ہے) جو محفوظ ہے۔[9] { ۲۲}
سورۃ الطارق   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 86 : 1-17 / 17قسم ہے آسمان کی اور رات کو نمودار ہونے والے کی۔ {۱} اور تم کیا جانو کہ وہ رات کو نمودار ہونے والا کیا ہے ؟ {۲} (النجم الثاقب)چمکتا ہوا تارا {۳} کوئی جان ایسی نہیں ہے جس کے اوپر کوئی نگہبان نہ ہو۔ [1]{۴} پھر ذرا انسان یہی دیکھ لے کہ وہ کس چیز سے پیدا کیا گیا ہے ۔[2]{۵} ایک اُچھلنے والے پانی سے پیدا کیا گیا ہے {۶} جو پیٹھ اور سینے کی ہڈیوں کے درمیان سے نکلتا ہے [3]{۷} یقینا وہ ( خالق ) اُسے دوبارہ پیدا کرنے پر قادر ہے ۔[4]{۸} جس روز پوشیدہ اسرار کی جانچ پڑتال ہوگی[5]{۹} اُس وقت انسان کے پاس نہ خود اپنا کوئی زور ہوگا اور نہ کوئی اس کی مدد کرنے والا ہوگا ۔{۱۰} قسم ہے بارش برسانے والے آسمان کی[6] {۱۱} اور (نباتات اُگتے وقت ) پھٹ جانے والی زمین کی { ۱۲} یہ ایک جچی تُلی بات ہے { ۱۳} ہنسی مذاق نہیں ہے۔ [7]{۱۴} یہ لوگ ( یعنی کفّار مکہّ ) کچھ چالیں چل رہے ہیں [8]{۱۵} اور میں بھی ایک چال چل رہا ہوں[9]{۱۶} پس چھوڑ دو(اے نبی ؐ!) اِن کافروں کو ایک ذراکی ذرا اِن کے حال پر چھوڑ دو۔[10]{۱۷}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)