سورۃ الجن   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 72 : 1-28 / 28اَے نبی ؐ!کہو ، میری طرف وحی بھیجی گئی ہے کہ جنوں کے ایک گروہ نے غور سے سنا [1]پھر (جاکر اپنی قوم کے لوگوں سے ) کہا ’’ ہم نے ایک بڑا عجیب قرآن سنا ہے[2] {۱ } جو راہِ راست کی طرف رہنمائی کرتا ہے اس لیے ہم اُس پر ایمان لئے آئے ہیں اور اب ہم ہر گز اپنے رَبّ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کریں گے‘‘ ۔[3]{۲} اور یہ کہ ’’ ہمارے رَبّ کی شان بہت اعلیٰ وار فع ہے ، اُس نے کسی کو بیوی یابیٹا نہیں بنایا ہے ‘‘۔[4]{۳} اور یہ کہ ’’ہمارے نادان لوگ[5] اللہ کے بارے میں بہت خلاف ِحق باتیں کہتے رہے ہیں‘‘۔ {۴} اور یہ کہ ’’ہم نے سمجھا تھا کہ انسان اور جِنّ کبھی اللہ کے بارے میں جھوٹ نہیں بول سکتے ‘‘۔[6] {۵} اور یہ کہ ’’انسانوں میں سے کچھ لوگ جُنّوں میں سے کچھ لوگوں کی پناہ مانگا کرتے تھے ، اِس طرح انہوں نے جنوں کا غرور اور زیادہ بڑھا دیا‘‘۔[7]{۶} اور یہ کہ ’’ انسانوں نے بھی وہی گمان کیا جیسا تمہارا گمان تھا کہ اللہ کسی کو رسول بناکر نہ بھیجے گا‘‘ ۔[8]{۷} اور یہ کہ ’’ہم نے آسمان کو ٹٹولا تو دیکھا کہ وہ پہر ے داروں سے پٹا پڑا ہے اور شہابوں کی بارش ہورہی ہے ‘‘۔{۸} اور یہ کہ ’’ پہلے ہم سُن گُن لینے کے لیے آسمان میں بیٹھنے کی جگہ پالیتے تھے ، مگر اب جو چوری چُھپے سننے کی کوشش کرتا ہے وہ اپنے لئے گھات میں ایک شہاب ثاقب لگاہوا پاتا ہے ‘‘۔[9]{۹} اور یہ کہ ’’ ہماری سمجھ میں نہ آتا تھا کہ آیازمین والوں کے ساتھ کوئی بُرامعاملہ کرنے کا ارادہ کیا گیا ہے یا اُن کا رَبّ اُنہیں راہ ِراست دکھانا چاہتا ہے‘‘۔[10] {۱۰} اور یہ کہ ’’ ہم میں سے کچھ لوگ صالح ہیں اور کچھ اس سے فروتر ہیں ، ہم مختلف طریقوں میں بٹے ہوئے ہیں‘‘ ۔ [11]{۱۱} اور یہ کہ ’’ ہم سمجھتے تھے کہ نہ زمین میں ہم اللہ کو عاجز کرسکتے ہیں اور نہ بھاگ کراُسے ہر اسکتے ہیں ‘‘۔[12]{۱۲} اور یہ کہ ’’ ہم نے جب ہدایت کی تعلیم سنی تو ہم اس پر ایمان لے آئے ۔ اب جو کوئی بھی اپنے رَبّ پر ایمان لے آئے گا اُسے کسی حق تلفی یا ظلم کا خوف نہ ہوگا‘‘۔[13]{۱۳} اور یہ کہ ’’ہم میں سے کچھ مسلم ( اللہ کے اطاعت گزار ) ہیں اور کچھ حق سے منحرف ۔تو جنہوں نے اسلام (اطاعت کا راستہ ) اختیار کرلیا اُنہوں نے نجات کی راہ ڈھونڈلی{۱۴} اور جو حق سے منحرف ہیں وہ جہنم کا ایندھن بننے والے ہیں‘‘ ۔ [14]{۱۵} اور [15] ( اے نبی ؐ! کہو ، مجھ پر یہ وحی بھی کی گئی ہے کہ ) لوگ اگرراہِ راست پر ثابت قدمی سے چلتے تو ہم انہیں خوب سیراب کرتے[16]{۱۶} تا کہ ِاس نعمت سے اُن کی آزمائش کریں[17] اور جو اپنے رَبّ کے ذکر سے منہ موڑے گا [18]اُس کار ب اسے سخت عذاب میں مبتلا کردے گا۔{۱۷} اور یہ کہ مسجدیں اللہ کے لیے ہیں ، لہٰذا اُن میں اللہ کے ساتھ کسی اور کو نہ پکارو۔[19] {۱۸} اور یہ کہ جب اللہ کا بندہ[20] اُس کو پکارنے کے لیے کھڑا ہو ا تو لوگ اُس پر ٹوٹ پڑنے کے لیے تیار ہوگئے۔{۱۹} اے نبی ؐ! [21]کہو کہ ’’ میں تو اپنے رَبّ کو پُکارتا ہوں اور اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا ‘‘{۲۰} کہو ، ’’میں تم لوگوں کے لیے نہ کسی نقصان کا اختیار رکھتا ہوں نہ کسی بھلائی کا {۲۱} کہو، مجھے اللہ کی گرفت سے کوئی بچانہیں سکتا اور نہ میں اُس کے دامن کے سوا کوئی جائے پنا ہ پاسکتا ہوں۔ {۲۲} میرا کام اِس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ اللہ کی بات اور اس کے پیغامات پہنچا دوں۔[22] اب جو بھی اللہ اور اس کے رسُول ؐ کی بات نہ مانے گا اس کے لیے جہنم کی آگ ہے اور ایسے لوگ اس میں ہمیشہ رہیں گے ‘‘۔[23]{۲۳} ( یہ لوگ اپنی اس روش سے باز نہ آئیں گے ) یہاں تک کہ جب اُس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے تو انہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس کے مدد گار کمزور ہیں اور کس کا جتھا تعداد میں کم ہے۔[24]{ ۲۴} کہو ، ’’میں نہیں جانتا کہ جس چیز کا وعدہ تم سے کیا جارہا ہے ۔ وہ قریب ہے یا میرا رَبّ اس کے لیے کوئی لمبی مدّت مقرر فرماتا ہے ۔[25]{۲۵} وہ عالم الغیب ہے ، اپنے غیب پر کسی کو مطلع نہیں کرتا[26]{۲۶} سوائے اُس رسول کے جسے اُس نے (غیب کا علم دینے کے لیے ) پسند کرلیا ہو[27] تو اُس کے آگے اور پیچھے وہ محافظ لگادیتا ہے[28] {۲۷} تا کہ وہ جان لے کہ انہوں نے اپنے رَبّ کے پیغامات پہنچا دیے،[29] اور وہ اُن کے پُورے ماحول کا احاطہ کیے ہوئے ہے اور ایک ایک چیز کو اس نے گِن رکھا ہے۔[30]{۲۸}
سورۃ المزمل   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 73 : 1-20 / 20اے اوڑھ لپٹ کر سونے والے! [1]{۱} رات کو نماز میں کھڑے رہا کرو مگر کم[2]{۲} آدھی رات ، یا اس سے کچھ کم کرلو { ۳} یا اس سے کچھ زیادہ بڑھا دو ،[3] اور قرآن کو خوب ٹھہرٹھہر کر پڑھو۔ [4]{ ۴} ہم تم پر ایک بھاری کلام نازِل کرنے والے ہیں۔[5]{۵} درحقیقت رات کا اٹھنا[6] نفس پر قابو پانے کے لیے بہت کارگر[7] اور (قرآن) ٹھیک پڑھنے کے لیے زیادہ موزوں ہے۔[8]{۶} دن کے اوقات میں تو تمہارے لئے بہت مصروفیات ہیں۔ {۷} اپنے رَبّ کے نام کا ذکر کیا کرو [9]اور سب سے کٹ کر اُسی کے ہو رہو ۔{۸} وہ مشرق و مغرب کا مالک ہے ، اُس کے سوا کوئی الٰہ ( معبُود ) نہیں ہے ، لہٰذا اُسی کو اپنا وکیل بنالو[10] {۹} اور جو باتیں لوگ بنارہے ہیں ان پر صبر کرو اور شرافت کے ساتھ اُن سے الگ ہوجا ؤ ۔[11]{۱۰} ان جھٹلانے والے خوشحال لوگوں سے نمٹنے کا کام تم مجھ پر چھوڑ دو[12] اور انہیں ذرا کچھ دیر اِسی حالت پر رہنے دو{۱۱} ہمارے پاس(ان کے لیے ) بھاری بیڑ یاں ہیں [13]اور بھڑکتی ہوئی آگ{۱۲} اور حلق میں پھنسنے والا کھانا اور درد ناک عذاب۔ {۱۳} یہ اُس دن ہوگا جب زمین اور پہاڑ لرز اٹھیں گے اور پہاڑوں کا حال ایسا ہوجائے گا جیسے ریت کے ڈھیر ہیں جو بکھرے جارہے ہیں۔ [14]{۱۴} تم [15]لوگوں کے پاس ہم نے اُسی طرح ایک رسُول ؐ تم پر گواہ بنا کر بھیجا[16] ہے جس طرح ہم نے فرعون کی طرف ایک رسول بھیجا تھا۔{۱۵} ( پھر دیکھ لو جب ) فرعون نے اُس رسول کی بات نہ مانی تو ہم نے اُس کو بڑی سختی کے ساتھ پکڑلیا۔{۱۶} اگر تم ماننے سے انکا ر کرو گے تو اُس دن کیسے بچ جا ؤ گے جو بچوں کو بوڑھا کر دے گا[17] {۱۷} اور جس کی سختی سے آسمان پھٹا جارہا ہوگا ؟ اللہ کا وعدہ تو پورا ہو کرہی رہنا ہے۔ {۱۸} یہ ایک نصیحت ہے ، اب جس کاجی چاہے اپنے رَبّ کی طرف جانے کا راستہ اختیار کرلے۔ {۱۹} اے نبی ؐ ! [18] تمہارا رَبّ جانتا ہے کہ تم کبھی دوتہائی رات کے قریب اور کبھی آدھی رات اور کبھی ایک تہائی رات عبادت میں کھڑے رہتے ہو ،[19] اور تمہارے ساتھیوں میں سے بھی ایک گروہ یہ عمل کرتاہے۔[20] اللہ ہی رات اور دن کے اوقات کا حساب رکھتا ہے ، اُسے معلوم ہے کہ تم لوگ اوقات کا ٹھیک شمار نہیں کرسکتے ، لہٰذا اس نے تم پر مہربانی فرمائی ، اب جتنا قرآن آسانی سے پڑھ سکتے ہو پڑھ لیا کرو[21] اُسے معلوم ہے کہ تم میں کچھ مریض ہوں گے ، کچھ دوسرے لوگ اللہ کے فضل کی تلاش میں سفر کرتے ہیں،[22] اور کچھ اور لوگ اللہ کی راہ میں جنگ کرتے ہیں ۔ [23]پس جتنا قرآن بآسانی پڑھا جاسکے پڑھ لیا کرو ، نماز قائم کرو ، زکوٰۃ[24] دو اور اللہ کو اچھا قرض دیتے رہو۔[25] جو کچھ بھلائی تم اپنے لئے آگے بھیجو گے اسے اللہ کے ہاں موجود پا ؤ گے ، وہی زیادہ بہتر ہے اور اس کا اجر بہت بڑا ہے ۔[26] اللہ سے مغفرت مانگتے رہو ، بے شک اللہ بڑا غفور ورحیم ہے۔{۲۰}
سورۃ المدثر   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 74 : 1-56 / 56اے اوڑھ لپیٹ کرلیٹنے والے[1]{۱} اٹھو اور خبردار کرو۔[2]{۲} اور اپنے رَبّ کی بڑائی کا اعلان کرو۔[3] {۳} اور اپنے کپڑے پاک رکھو [4]{ ۴} اور گندگی سے دُور رہو۔[5]{ ۵} اور احسان نہ کرو زیادہ حاصل کرنے کے لیے [6]{۶} اور اپنے رَبّ کی خاطر صبر کرو۔[7]{۷} اچھا! جب صور میں پھونک ماری جائے گی{۸} وہ دن بڑاہی سخت دن ہوگا [8]{۹} کافروں کے لیے ہلکانہ ہوگا۔ [9]{۱۰} چھوڑ دو مجھے اوراُس شخص [10]کو جسے میں نے اکیلا پیداکیا [11]{۱۱} بہت سامال اُس کو دیا ۔ {۱۲} اُس کے ساتھ حاضر رہنے والے بیٹے دیے[12] {۱۳} اور اس کے لیے ریاست کی راہ ہموار کی {۱۴} پھر وہ طمع رکھتا ہے کہ میں اسے اور زیادہ دوں۔[13] {۱۵} ہرگز نہیں وہ ہماری آیات سے عنادرکھتا ہے۔ {۱۶} میں تواسے عنقریب ایک کٹھن چڑھائی چڑھوا ؤں گا ۔{۱۷} اُس نے سوچا اور کچھ بات بنانے کی کوشش کی۔{۱۸} تو اللہ کی مار اُس پر،کیسی بات بنانے کی کوشش کی۔{۱۹} ہاں! اللہ کی مار اُس پر ، کیسی بات بنانے کی کوشش کی{۲۰} پھر ( لوگوں کی طرف) دیکھا۔ {۲۱} پھر پیشانی سکیڑی اور منہ بنایا ۔ {۲۲} پھر پلٹا اور تکبّر میں پڑگیا{۲۳} آخر کار بولا کہ یہ کچھ نہیں ہے مگر ایک جادو جو پہلے سے چلا آرہا ہے {۲۴} یہ توایک انسانی کلام ہے ۔[14]{۲۵} عنقریب میں اسے دوزخ میں جھونک دو نگا {۲۶} اور تم کیا جانو کہ کیا ہے وہ دوزخ ؟{۲۷} نہ باقی رکھے نہ چھوڑے۔ [15]{۲۸} (آدمی کی)کھال جھلس دینے والی [16]{۲۹} انیس کارکن اس پر مقرر ہیں۔ {۳۰} ہم [17]نے دوزخ کے یہ کارکن فرشتے بنائے ہیں[18]اور ان کی تعداد کو کافروں کے لیے فتنہ بنادیا ہے ،[19] تا کہ اہلِ کتاب کو یقین آجائے [20]اور ایمان لانے والوں کا ایمان بڑھے ،[21] اور اہلِ کتاب اور مومنین کسی شک میں نہ رہیں اور دل کے بیمار [22]اور کفّار یہ کہیں کہ بھلا اللہ کا اِس عجیب بات سے کیا مطلب ہوسکتا ہے۔[23] اس طرح اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت بخش دیتا ہے۔[24] اور تیرے رَبّ کے لشکروں کو خوداس کے سوا کوئی نہیں[25] جانتا۔ اور اس دوزخ کا ذکر اِس کے سوا کسی غرض کے لیے نہیں کیا گیا ہے کہ لوگوں کو اس سے نصیحت ہو۔[26]{۳۱} ہرگز نہیں[27] قسم ہے چاند کی{۳۲} اور رات کی جبکہ وہ پلٹتی ہے {۳۳} اور صبح کی جبکہ وہ روشن ہوتی ہے{ ۳۴} یہ دوزخ بھی بڑی چیزوں میں سے ایک ہے، [28]{۳۵} انسانوں کے لیے ڈراوا {۳۶} تم میں سے ہراُس شخص کے لیے (ڈراوا) جو آگے بڑھنا چاہے یا پیچھے رہ جانا چاہے۔[29]{۳۷} ہر شخص اپنے کسب کے بدلے رہن ہے[30] {۳۸} دائیں بازو والوں کے سوا [31]{۳۹} جو جنتوں میں ہوں گے۔ وہ پوچھیں گے[32] {۴۰} مجرموں سے {۴۱} ‘‘ تمہیں کیا چیز دوزخ میں لے گئی ’’؟ {۴۲} وہ کہیں گے ’’ہم نماز پڑھنے والوں میں سے نہ تھے[33]{۴۳} اور مسکین کو کھانا نہیں کھلاتے تھے ،[34]{۴۴} اور حق کے خلاف باتیں بنانے والوں کے ساتھ مل کرہم بھی باتیں بنانے لگتے تھے {۴۵} اور روز جزاکو جھوٹ قرار دیتے تھے{۴۶} یہاں تک کہ ہمیں اُس یقینی چیز سے سابقہ پیش آگیا ‘‘۔[35]{۴۷} اُس وقت سفارش کرنے والوں کی کوئی سفارش ان کے کسی کام نہ آئے گی۔[36]{۴۸} آخر اِن لوگوں کو کیا ہوگیا ہے کہ یہ اِس نصیحت سے منہ موڑرہے ہیں{۴۹} گویا یہ جنگلی گدھے ہیں{۵۰} جو شیر سے ڈرکر بھاگ پڑے ہیں[37]{۵۱} بلکہ ان میں سے تو ہر ایک یہ چاہتا ہے کہ اُس کے نام کھلے خط بھیجے جائیں۔ [38]{۵۲} ہرگز نہیں، اصل بات یہ ہے کہ یہ آخرت کا خوف نہیں رکھتے۔[39]{۵۳} ہرگز نہیں ،[40] یہ تو ایک نصیحت ہے{ ۵۴} اب جس کاجی چاہے اس سے سبق حاصل کرلے {۵۵} اور یہ کوئی سبق حاصل نہ کریں گے اِ لاّ یہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے ۔[41] وہ اس کا حق دار ہے کہ اُس سے تقویٰ کیا جائے [42]اور وہ اس کا اہل ہے کہ ( تقویٰ کرنے والوں کو ) بخش دے۔[43]{۵۶}
سورۃ القیٰمۃ   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 75 : 1-40 / 40نہیں، [1] میں قسم کھاتا ہو ں قیامت کے دن کی {۱} اور نہیں ، میں قسم کھاتا ہوں ملامت کرنے والے نفس کی[2] {۲} کیا انسان یہ سمجھ رہا ہے کہ ہم اُس کی ہڈیوں کو جمع نہ کرسکیں گے ؟[3]{۳} کیوں نہیں ؟ ہم تو اس کی اُنگلیوں کی پور پور تک ٹھیک بنادینے پر قادر ہیں۔[4]{۴} مگر انسان چاہتا یہ ہے کہ آگے بھی بداعمالیاں کرتارہے۔[5] {۵} پوچھتا ہے ’’ آخر کب آنا ہے وہ قیامت کا دن ؟‘‘[6]{۶} پھر جب دیدے پتھر ا جائیں گے[7]{۷} اور چاند بے نور ہوجائے گا {۸} اور چاند سُورج ملا کر ایک کردئے جائیں گے[8]{۹} اُس وقت یہی انسان کہے گا ’’ کہاں بھاگ کر جا ؤں ؟‘‘{۱۰} ہر گز نہیں ، وہاں کوئی جائے پناہ نہ ہوگی {۱۱} اُس روز تیرے رَبّ ہی کے سامنے جاکر ٹھہرنا ہوگا۔{ ۱۲} اُس روز انسان کو اس کا سب اگلا پچھلا کیا کرایا بتادیا جائے گا [9]{۱۳} بلکہ انسان خود ہی اپنے آپ کو خوب جانتا ہے{۱۴} چاہے وہ کتنی ہی معذرتیں پیش کرے[10] {۱۵} ( اے نبی ؐ! [11])اس وحی کو جلدی جلدی یاد کرنے کے لیے اپنی زبان کو حرکت نہ دو {۱۶} اس کو یاد کرا دینا اور پڑھو ادینا ہمارے ذمّہ ہے {۱۷} لہٰذا جب ہم اِسے پڑھ رہے ہوں[12] اُس وقت تم اِس کی قرأت کو غور سے سُنتے رہو {۱۸} پھر اس کا مطلب سمجھا دینا بھی ہمارے ہی ذمّہ ہے۔[13] {۱۹} ہرگز نہیں، [14] اصل بات یہ ہے کہ تم لوگ جلدی حاصل ہونے والی چیز( یعنی دنیا) سے محبت رکھتے ہو {۲۰} اور آخرت کو چھوڑ دیتے ہو[15]{۲۱} اُس روز کچھ چہرے تروتازہ ہوں گے[16]{ ۲۲} اپنے رَبّ کی طرف دیکھ رہے ہوں گے۔[17]{۲۳} اور کچھ چہرے اُداس ہوں گے{ ۲۴} اور سمجھ رہے ہوں گے کہ اُن کے ساتھ کمر توڑ برتا ؤ ہونے والا ہے۔{۲۵} ہر گز نہیں،[18] جب جان حلق تک پہنچ جائے گی {۲۶} اور کہا جائے گا کہ ہے کوئی جھاڑ پھونک کرنے والا[19]{۲۷} اور آدمی سمجھ لے گا کہ یہ دنیا سے جدائی کا وقت ہے {۲۸} اور پنڈلی سے پنڈلی جڑجائے گی[20]{۲۹} وہ دن ہوگا تیرے رَبّ کی طرف روانگی کا ۔{۳۰} مگر اس نے نہ سچ مانا اور نہ نماز پڑھی {۳۱} بلکہ جھٹلایا اور پلٹ گیا {۳۲} پھر اکڑتا ہو ا اپنے گھروالوں کی طرف چل دیا ۔[21]{۳۳} یہ روش تیرے ہی لئے سزاوار ہے اور تجھی کو زیب دیتی ہے۔[22] {۳۴} ہاں یہ روش تیرے ہی لئے سزاوار ہے اور تجھی کو زیب دیتی ہے ۔{۳۵} کیا[23] انسان نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ یو نہی مہمل چھوڑ دیا جائیگا؟ [24]{۳۶} کیا وہ ایک حقیر پانی کا نطفہ نہ تھا جو ( رحمِ مادر میں ) ٹپکا یا جاتا ہے ؟ {۳۷} پھر وہ ایک لوتھڑابنا ، پھر اللہ نے اس کا جسم بنایا اور ا سکے اعضادرست کئے{۳۸} پھر اس سے مرد اور عورت کی دوقسمیں بنائیں{۳۹} کیا وہ اس پر قادر نہیں ہے کہ مرنے والوں کو پھر سے زندہ کردے ؟[25]{۴۰}
سورۃالدھر   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 76 : 1-31 / 31کیا انسان پر لامُتنَاہی زمانے کا ایک وقت ایسا بھی گزراہے جب وہ کوئی قابل ذکر چیز نہ تھا؟[1]{۱} ہم نے انسان کو ایک مخلوط نطفے سے پیدا کیا[2] تا کہ اس کا امتحان لیں [3]اور اِس غرض کے لیے ہم نے اُسے سننے اور دیکھنے والا بنایا ۔[4]{۲} ہم نے اسے راستہ دکھا دیا ، خواہ شکر کرنے والا بنے یا کفر کرنے والا [5]{۳} کفر کرنے والوں کے لیے ہم نے زنجیریں اور طوق اور بھڑکتی ہوئی آگ مہیّاکررکھی ہے۔ { ۴} نیک لوگ [6] ( جنّت میں ) شراب کے ایسے ساغر پییں گے جن میں آبِ کا فور کی آمیزش ہوگی{۵} یہ ایک بہتا چشمہ[7] ہوگا جس کے پانی کے ساتھ اللہ کے بندے[8] شراب پییں گے اور جہاں چاہیں گے بسہولت اس کی شاخیں نکال لیں گے۔[9]{۶} یہ وہ لوگ ہوں گے جو ( دنیا میں) نذرپوری کرتے ہیں ،[10] اور اس دن سے ڈرتے ہیں جس کی آفت ہر طرف پھیلی ہوئی ہوگی {۷} اور اللہ کی محبت[11] میں مسکین اور یتیم او ر قیدی[12] کو کھانا کھلاتے ہیں[13]{۸} (اور اُن سے کہتے ہیں کہ ) ’’ ہم تمہیں صرف اللہ کی خاطر کھلارہے ہیں ، ہم تم سے نہ کوئی بدلہ چاہتے ہیں نہ شکریہ[14]{۹} ہمیں تو اپنے رَبّ سے اُس دن کے عذاب کا خوف لاحق ہے جو سخت مصیبت کا انتہائی طویل دن ہوگا‘‘ ۔{۱۰} پس اللہ تعالیٰ انہیں اُس دن کے شر سے بچالے گا اور انہیں تازگی اور سرور بخشے گا [15]{۱۱} اوراُن کے صبر کے بدلے میں[16] انہیں جنّت اور ریشمی لباس عطا کرے گا{۱۲} وہاں وہ اونچی مسندوں پر تکئے لگائے بیٹھے ہوں گے ۔ نہ اُنہیں دھوپ کی گرمی ستائے گی نہ جاڑے کی ٹِھر{ ۱۳} جنّت کی چھا ؤں ان پر جھکی ہوئی سایہ کررہی ہوگی اور اس کے پھل ہر وقت اُن کے بس میں ہوں گے ( کہ جس طرح چاہیں انہیں توڑلیں)۔{ ۱۴} اُن کے آگے چاندی کے برتن[17] اور شیشے کے پیالے گردش کرائے جارہے ہوں گے{۱۵} شیشے بھی وہ جو چاندی کی قسم کے ہوں گے،[18] اور ان کو ( منتظمین جنّت نے) ٹھیک اندازے کے مطابق بھرا ہوگا ۔[19]{۱۶} ان کو وہاں ایسی شراب کے جام پلائے جائیں گے جس میں سونٹھ کی آمیزش ہوگی{۱۷} یہ جنّت کا ایک چشمہ ہوگا جسے سلسبیل کہا جاتا ہے۔[20]{۱۸} ان کی خدمت کے لیے ایسے لڑکے دوڑتے پھر رہے ہوں گے جو ہمیشہ لڑکے ہی رہیں گے ۔ تم اُنہیں دیکھو تو سمجھو کہ موتی ہیں جو بکھیر دیے گئے ہیں۔ [21]{۱۹} وہاں جدھر بھی تم نگاہ ڈالو گے نعمتیں ہی نعمتیں اور ایک بڑی سلطنت کا سروسامان تمہیں نظر آئے گا۔[22]{۲۰} اُن کے اوپر باریک ریشم کے سبزلباس اور اطلس و دیبا کے کپڑے ہوں گے ،[23] ان کو چاندی کے کنگن پہنائے جائیں گے[24] اور ان کا رَبّ ان کو نہایت پاکیزہ شراب پلائے گا ۔[25]{۲۱} یہ ہے تمہاری جزا اور تمہاری کار گزاری قابل قدر ٹھہری ہے۔ [26]{ ۲۲} اے نبی ؐ! ہم نے ہی تم پر یہ قرآن تھوڑا تھوڑا کر کے نازل کیا ہے [27] {۲۳} لہٰذا تم اپنے رَبّ کے حکم پر صبر کرو ،[28] اور اِن میں سے کسی بدعمل یا منکر حق کی بات نہ مانو۔[29]{ ۲۴} اپنے رَبّ کا نام صبح و شام یاد کرو{۲۵} رات کو بھی اس کے حضور سجدہ ریز ہو ، اور رات کے طویل اوقات میں اس کی تسبیح کرتے رہو۔[30]{۲۶} یہ لوگ تو جلدی حاصل کرنے والی چیز ( دنیا ) سے محبت رکھتے ہیں اور آگے جو بھاری دن آنے والا ہے اسے نظر انداز کردیتے ہیں۔[31]{۲۷} ہم نے ہی اِن کو پیدا کیا ہے اور اِن کے جوڑبند مضبوط کئے ہیں اور ہم جب چاہیں ان کی شکلوں کو بدل کررکھ دیں۔[32] {۲۸} یہ ایک نصیحت ہے ، اب جس کاجی چاہے اپنے رَبّ کی طرف جانے کا راستہ اختیار کرلے۔ {۲۹} اور تمہارے چاہنے سے کچھ نہیں ہوتا جب تک اللہ نہ چاہے ۔[33] یقینا اللہ بڑا علیم وحکیم ہے {۳۰} اپنی رحمت میں جس کو چاہتا ہے داخل کرتا ہے ، اور ظالموں کے لیے اس نے درد ناک عذاب تیار کررکھا ہے۔[34]{۳۱}
سورۃ المرسلات   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 77 : 1-50 / 50قسم ہے اُن ( ہوا ؤں )کی جو پے درپے بھیجی جاتی ہیں{۱} پھر طوفانی رفتار سے چلتی ہیں{ ۲} اور (بادلوں کو ) اٹھا کر پھیلاتی ہیں{۳} پھر ( اُن کو ) پھاڑکر جدا کرتی ہیں { ۴} پھر ( دلوں میں اللہ کی) یاد ڈالتی ہیں{۵} عذر کے طور پر یاڈراوے کے طور پر[1]{۶} جس چیز کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے [2]وہ ضرور واقع ہونے والی ہے۔[3] {۷} پھر جب ستارے ماندپڑ جائیں گے[4]{۸} اور آسمان پھاڑ دیا جائیگا[5]{۹} اور پہاڑ دُھنک ڈالے جائیں گے{۱۰} اور رسولول کی حاضری کا وقت آپہنچے گا [6]{۱۱} ( اس روز وہ چیز واقع ہوجائے گی) کس روز کے لیے یہ کام اٹھارکھا گیا ہے ؟{۱۲} فیصلے کے روز کے لیے{۱۳} اور تمہیں کیا خبر کہ وہ فیصلے کا دن کیا ہے ؟ {۱۴} تباہی ہے اُس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔[7] {۱۵} کیا ہم نے اگلوں کو ہلاک نہیں کیا ؟[8] {۱۶} پھر اُنہی کے پیچھے ہم بعد والوں کو چلتا کریں گے۔[9] {۱۷} مجرموں کے ساتھ ہم یہی کچھ کیا کرتے ہیں۔{۱۸} تباہی ہے اُس دن جھٹلانے والو ں کے لیے ۔[10]{۱۹} کیا ہم نے ایک حقیر پانی سے تمہیں پیدانہیں کیا {۲۰} اور اُسے ایک محفوظ جگہ ٹھہرائے رکھا۔ [12]{۲۱} ایک مقررہ مدّت تک[11]{۲۲} تو دیکھو ، ہم اس پر قادر تھے پس ہم بہت اچھی قدرت رکھنے والے ہیں۔[13]{۲۳} تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے [14]{۲۴} کیا ہم نے زمین کو سمیٹ کر رکھنے والی نہیں بنایا {۲۵} زندوں کے لیے بھی اور مُردوں کے لیے بھی {۲۶} اور اس میں بلندو بالا پہاڑ جمائے ، اورتمہیں میٹھا پانی پلایا؟[15] {۲۷} تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے[16] {۲۸} چلو[17] اب اُسی چیز کی طرف جسے تم جھٹلایا کرتے تھے {۲۹} چلو اس سائے کی طرف جو تین شاخوں والا ہے۔[18] {۳۰} نہ ٹھنڈک پہنچانے والا اور نہ آگ کی لپٹ سے بچانے والا {۳۱} وہ آگ محل جیسی بڑی بڑی چنگاریاں پھینکے گی{۳۲} ( جو اُچھلتی ہوئی یوں محسوس ہوں گی) گویا کہ وہ زرد اُونٹ ہیں[19]{۳۳} تباہی ہے اُ س روز جھٹلانے والوں کے لیے {۳۴} یہ وہ دن ہے جس میں وہ نہ کچھ بولیں گے {۳۵} اور نہ انہیں موقع دیاجاے گا کہ کوئی عذر پیش کریں۔[20] {۳۶} تباہی ہے اُس دن جھٹلانے والوں کے لیے ۔{۳۷} یہ فیصلے کا دن ہے۔ ہم نے تمہیں اور تم سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو جمع کردیا ہے۔{۳۸} اب اگر کوئی چال تم چل سکتے ہو تو میرے مقابلے میں چل دیکھو۔[21]{۳۹} تباہی ہے اُس دن جھٹلانے والوں کے لیے۔ {۴۰} متقی[22] لوگ آج سایوں اور چشموں میں ہیں{۴۱} اور جو پھل وہ چاہیں ( اُن کے لیے حاضر ہیں) {۴۲} کھا ؤ اور پیو مزے سے اپنے اُن اعمال کے صلے میں جو تم کرتے رہے ہو۔{ ۴۳} ہم نیک لوگوں کو ایسی ہی جزا دیتے ہیں۔{ ۴۴} تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے۔ [33]{۴۵} کھالو [34] اور مزے کر لو تھوڑے دن ،[35]حقیقت میں تم لوگ مجرم ہو۔{۴۶} تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے۔{۴۷} جب ان سے کہاجاتا ہے کہ ( اللہ کے آگے ) جھکو تو نہیں جھکتے ۔[36]{۴۸} تباہی ہے اُس روز جھٹلانے والوں کے لیے۔ {۴۹} اب اِس (قرآن) کے بعد اور کون سا کلام ایسا ہوسکتا ہے جس پر یہ ایمان لائیں ؟[37]{۵۰}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)