سورۃالاعراف   -  7 : 88-170 / 206اُس کی قوم کے سرداروں نے ، جو اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں مبتلا تھے ، اس سے کہا کہ’’ اے شعیب ؑ ! ہم تجھے اور اُن لوگوں کو جو تیرے ساتھ ایمان لائے ہیں اپنی بستی سے نکال دیں گے ورنہ تم لوگوں کو ہماری مِلّت میں واپس آنا ہوگا ‘‘۔ شعیبؑ نے جواب دیا’’ کیا زبردستی ہمیں پھیراجائے گا خواہ ہم راضی نہ ہوں ؟{۸۸} ہم اللہ پر جھوٹ گھڑنے والے ہوں گے اگر تمہاری مِلّت میں پلٹ آئیں جب کہ اللہ ہمیں اس سے نجات دے چکا ہے ، ہمارے لئے تو اس کی طرف پلٹنا اب کسی طرح ممکن نہیں اِلاّ یہ کہ اللہ ہمارا رَبّ ہی ایسا چاہے ۔[73] ہمارے رَبّ کا علم ہر چیز پر حاوی ہے ، اُسی پر ہم نے اعتماد کرلیا۔ اے رَبّ! ہمارے اور ہماری قوم کے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردے اور تُو بہترین فیصلہ کرنے والا ہے‘‘ {۸۹} اس کی قوم کے سرداروں نے ، جو اس کی بات ماننے سے انکار کرچکے تھے آپس میں کہا ’’ اگر تم نے شعیب ؑ کی پیروی قبول کرلی تو برباد ہوجا ؤ گے‘‘۔[74]{۹۰} مگر ہوا یہ کہ ایک دہلا دینے والی آفت نے ان کو آلیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے۔{۹۱} جن لوگوں نے شعیب ؑ کو جھٹلایا وہ ایسے مٹے کہ گویا کبھی ان گھروں میں بسے ہی نہ تھے۔ شعیب ؑ کے جھٹلانے والے ہی آخر کار برباد ہو کررہے۔[75]{ ۹۲} اور شعیب ؑ یہ کہہ کر ان کی بستیوں سے نکل گیا کہ ’’ اے برادران قوم ! میں نے اپنے رَبّ کے پیغامات تمہیں پہنچادیے اور تمہاری خیر خواہی کا حق ادا کردیا، اب میں اُس قوم پر کیسے افسوس کروں جو قبول حق سے انکار کرتی ہے۔‘‘[76]{۹۳} کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے کسی بستی میں نبی بھیجا ہواور اس بستی کے لوگوں کو پہلے تنگی اور سختی میں مبتلا نہ کیا ہو ،اس خیال سے کہ شاید وہ عاجزی پر اُتر آئیں۔ { ۹۴} پھر ہم نے ان کی بدحالی کو خوش حالی سے بدل دیا یہاں تک کہ وہ خوب پھلے پھولے اور کہنے لگے کہ ’’ہمارے اسلاف پر بھی اچھے اور برے دن آتے ہی رہے ہیں۔‘‘ آخر کار ہم نے انہیں اچانک پکڑلیا اور انہیں خبرتک نہ ہوئی۔[77] {۹۵} اگر بستیوں کے لوگ ایمان لاتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم ان پر آسمان اور زمین سے برکتوں کے دروازے کھول دیتے ، مگر انہوں نے تو جھٹلایا ، لہٰذا ہم نے اس بُری کمائی کے حساب میں انہیں پکڑلیا جو وہ سمیٹ رہے تھے۔ {۹۶} پھر کیا بستیوں کے لوگ اب اس سے بے خوف ہوگئے ہیں کہ ہماری گرفت کبھی اچانک ان پر رات کے وقت نہ آجائے گی جب کہ وہ سوئے پڑے ہوں ؟{۹۷} یا انہیں اطمینان ہوگیا ہے کہ ہمارا مضبوط ہاتھ کبھی یکایک ان پردن کے وقت نہ پڑے گا جب کہ وہ کھیل رہے ہوں ؟{۹۸} کیا یہ لوگ اللہ کی چال سے بے خوف ہیں؟ [78]حالانکہ اللہ کی چال سے وہی قوم بے خوف ہوتی ہے،جوتباہ ہونے والی ہو۔ {۹۹} اور کیا اُن لوگوںکو جو سابق اہل زمین کے بعد زمین کے وارث ہوتے ہیں ، اس امرواقعی نے کچھ سبق نہیں دیا کہ اگر ہم چاہیں تو ان کے قصوروں پر انہیں پکڑسکتے ہیں ؟[79] ( مگر وہ سبق آموز حقائق سے تغافل برتتے ہیں) اور ہم ان کے دلوں پر مہر لگادیتے ہیں ، پھر وہ کچھ نہیں سنتے۔[80]{۱۰۰} یہ قومیں جن کے قصّے ہم تمہیں سنارہے ہیں (تمہارے سامنے مثال میں موجودہیں) ان کے رسول ؑ ان کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے ۔مگر جس چیز کو وہ ایک دفعہ جھٹلا چکے تھے پھر اسے وہ ماننے والے نہ تھے ۔ دیکھو اس طرح ہم منکرینِ حق کے دلوں پر مُہر لگادیتے ہیں۔ [81]{۱۰۱} ہم نے ان میں سے اکثر میں کوئی پاس ِعہد نہ پایا ،بلکہ اکثر کو فاسق ہی پایا [82]{۱۰۲} پھراُن قوموں کے بعد ( جن کا ذکر اوپر کیا گیا ) ہم نے موسیٰ ؑ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کی قوم کے سرداروں کے پاس بھیجا ۔[83] مگر انہوں نے بھی ہماری نشانیوں کے ساتھ ظلم کیا ،[84] پس دیکھو کہ ان مفسدوں کا کیا انجام ہوا۔{۱۰۳} موسیٰ ؑنے کہا ’’اے فرعون ! [85]میں کائنات کے مالک کی طرف سے بھیجاہوا آیا ہوں[86] { ۱۰۴} میرا منصب یہی ہے کہ اللہ کا نام لے کر کوئی بات حق کے سوا نہ کہوں ، میں تم لوگوں کے پاس تمہارے رَبّ کی طرف سے صریح دلیلِ ماموریت لے کر آیا ہوں ، لہٰذا تو بنی اسرائیل کو میرے ساتھ بھیج دے ۔‘‘ {۱۰۵} فرعون نے کہا ’’ اگر تو کوئی نشانی لایا ہے اور اپنے دعوے میں سچاہے تو اُسے پیش کر‘‘{۱۰۶} موسیٰ ؑنے اپنا عصا پھینکا اور یکا یک وہ ایک جیتا جاگتا اژدھا تھا۔{۱۰۷} اس نے اپنی جیب سے ہاتھ نکالا اور سب دیکھنے والوں کے سامنے وہ چمک رہاتھا۔[87]{۱۰۸} اس پر فرعون کی قوم کے سرداروں نے آپس میں کہا کہ ’’یقینا یہ شخص بڑا ماہر جادوگر ہے{۱۰۹} تمہیں تمہاری زمین سے بے دخل کرنا چاہتا ہے،[88] اب کہو کیا کہتے ہو؟‘‘ {۱۱۰} پھر ان سب نے فرعون کو مشورہ دیا کہ اسے اور اس کے بھائی کو انتظار میں رکھئے اور تمام شہروں میں ہر کارے بھیج دیجئے {۱۱۱} کہ ہرماہر فن جادوگر کو آٖ پ کے پاس لے آئیں۔[89]{ ۱۱۲} چنانچہ جادوگر فرعون کے پاس آگئے ۔ انہوں نے کہا ’’اگر ہم غالب رہے تو ہمیں اس کا صلہ تو ضرور ملے گا ؟‘‘{۱۱۳} فرعون نے جواب دیا’’ہاں ، اور تم مقربّ بارگاہ ہوگے۔‘‘{۱۱۴} پھر انہوں نے موسیٰ ؑسے کہا۔ ’’تم پھینکتے ہویا ہم پھینکیں ؟‘‘{۱۱۵} موسیٰ ؑ نے جواب دیا ’’تم ہی پھینکو ‘‘۔ انہوں نے جو اپنے انچھر پھینکے تو نگاہوں کو مسحوراور دلوں کو خوف زدہ کردیا اور بڑا ہی زبردست جادو بنالائے۔ {۱۱۶} ہم نے موسیٰ ؑ کو اشارہ کیا کہ پھینک اپنا عصا۔ اس کا پھینکنا تھا کہ آن کی آن میں وہ ان کے اس جھوٹے طِلسم کو نگلتا چلا گیا۔[90]{۱۱۷} اس طرح جو حق تھا وہ حق ثابت ہوا اور جوکچھ انہوں نے بنارکھا تھا وہ باطل ہوکررہ گیا ۔{۱۱۸} فرعون اور اس کے ساتھی میدان مقابلہ میں مغلوب ہوئے اور ( فتح مند ہونے کے بجائے) اُلٹے ذلیل ہوگئے۔{۱۱۹} اور جادوگروں کا حال یہ ہوا کہ گویا کسی چیز نے اندر سے انہیں سجدے میں گرادیا۔{۱۲۰} کہنے لگے ’’ ہم نے مان لیا ربّ العالمین کو ،{۱۲۱} اُس رَبّ کو جسے موسیٰ ؑ اور ہارون مانتے ہیں‘‘[91] {۱۲۲} فرعون نے کہا ’’ تم اس پر ایمان لے آئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دوں ؟ یقینا یہ کوئی خفیہ سازش تھی جو تم لوگوں نے اِس دارالسلطنت میں کی تا کہ اس کے مالکوں کو اقتدار سے بے دخل کردو ۔ اچھا تو اس کا نتیجہ اب تمہیں معلوم ہوا جاتا ہے۔ {۱۲۳} میں تمہارے ہاتھ پا ؤں مخالف سمتوں سے کٹوادوں گا اور اُس کے بعد تم سب کو سُولی پر چڑھا ؤں گا۔ ‘‘{۱۲۴} انہوں نے جواب دیا ’’ بہرحال ہمیں پلٹنا اپنے رَبّ ہی کی طرف ہے {۱۲۵} تُو جس بات پر ہم سے انتقام لینا چاہتا ہے وہ اس کے سوا کچھ نہیں کہ ہمارے رَبّ کی نشانیاں جب ہمارے سامنے آگئیں تو ہم نے انہیں مان لیا۔ اے ہمارے رَبّ ! ہم پر صبر کا فیضان کر اور ہمیں دنیا سے اٹھا تو اس حال میں کہ ہم تیرے فرماں بردار ہوں‘‘ ۔[92] {۱۲۶} فرعون سے اسکی قوم کے سرداروں نے کہا ’’ کیا تو موسیٰ ؑ اور اس کی قوم کو یوں ہی چھوڑدے گا کہ ملک میں فساد پھیلائیں اور وہ تیری اور تیرے معبودوں کی بندگی چھوڑ بیٹھے‘‘ ؟ فرعون نے جواب دیا ’’میں ان کے بیٹوں کو قتل کرا ؤں گا اور ان کی عورتوں کو جیتا رہنے دوں گا،[93] ہمارے اقتدار کی گرفت ان پر مضبوط ہے‘‘ {۱۲۷} موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے کہا ’’ اللہ سے مدد مانگو اور صبر کرو، زمین اللہ کی ہے ، اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اس کا وارث بنا دیتا ہے، اور آخری کامیابی اُنہی کے لیے ہے جو اس سے ڈرتے ہوئے کام کریں ‘‘ {۱۲۸} اس کی قوم کے لوگوں نے کہا ’’ تیرے آنے سے پہلے بھی ہم ستائے جاتے تھے اور اب تیرے آنے پر بھی ستائے جارہے ہیں ۔‘‘ اس نے جواب دیا ’’ قریب ہے وہ وقت کہ تمہارا رَبّ تمہارے دشمن کو ہلاک کردے اور تم کو زمین میں خلیفہ بنائے ، پھر دیکھے کہ تم کیسے عمل کرتے ہو‘‘۔{۱۲۹} ہم نے فرعون کے لوگوں کو کئی سال تک قحط اور پیداوار کی کمی میں مبتلا رکھا کہ شاید ان کو ہوش آئے۔{۱۳۰} مگر اُن کا حال یہ تھا کہ جب اچھا زمانہ آتا تو کہتے کہ ہم اسی کے مستحق ہیں، اور جب برازمانہ آتا تو موسیٰ ؑ اور اس کے ساتھیوں کو اپنے لئے فال بدٹھہراتے ، حالانکہ درحقیقت اُن کی فالِ بدتو اللہ کے پاس تھی۔ مگر ان میں سے اکثر بے علم تھے۔ {۱۳۱} انہوں نے موسیٰ ؑ سے کہا کہ ’’ تو ہمیں مسحور کرنے کے لیے خواہ کوئی نشانی لے آئے ، ہم تو تیری بات ماننے والے نہیں ہیں۔ ‘‘[94] {۱۳۲} آخر کار ہم نے ان پر طوفان بھیجا ،[95] ٹڈی دل چھوڑے ، سُر ُسر یاں پھیلائیں ،[96] مینڈک نکالے ، اور خون برسایا۔ یہ سب نشانیاں الگ الگ کرکے دکھائیں۔ مگر وہ سرکشی کئے چلے گئے اور وہ بڑے ہی مجرم لوگ تھے۔ { ۱۳۳} جب کبھی اُن پر بلانازل ہوجاتی تو کہتے ’’ اے موسیٰ ؑ! تجھے اپنے رَبّ کی طرف سے جو منصب حاصل ہے اس کی بنا پر ہمارے حق میں دعا کر ، اگر اب کے تو ہم پر سے یہ بلا ٹلوادے تو ہم تیری بات مان لیں گے اور بنی اسرائیل کو تیرے ساتھ بھیج دیں گے۔ ‘‘ {۱۳۴} مگر جب ہم اُن پر سے اپنا عذاب ایک وقت ِمقرر تک کے لیے ، جس کو وہ بہرحال پہنچنے والے تھے ، ہٹالیتے تو وہ یکلخت اپنے عہد سے پھر جاتے۔ {۱۳۵} تب ہم نے ان سے انتقام لیا اور انہیں سمندر میں غرق کردیا کیوں کہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا تھا اور اُن سے بے پرواہو گئے تھے۔{۱۳۶} اور ان کی جگہ ہم نے ان لوگوں کو جو کمزور بنا کر رکھے گئے تھے، اس سرزمین کے مشرق و مغرب کا وارث بنادیا جسے ہم نے برکتوں سے مالا مال کیا تھا ۔[97] اس طرح بنی اسرائیل کے حق میں تیرے رَبّ کا وعدہ ٔخیرپورا ہوا کیونکہ انہوں نے صبر سے کام لیا تھا اور ہم نے فرعون اور اس کی قوم کا وہ سب کچھ برباد کردیا جو وہ بناتے اور چڑھاتے تھے۔{۱۳۷} بنی اسرائیل کو ہم نے سمندر سے گزار دیا، پھر وہ چلے اور راستے میں ایک ایسی قوم پر اُن کا گزر ہوا جو اپنے چندبتوں کی گِرویدہ بنی ہوئی تھی۔ کہنے لگے ، ’’ اے موسیٰ ؑ! ہمارے لئے بھی کوئی ایسا معبود بنادے جیسے ان لوگوں کے معبود ہیں ۔‘‘ [98]موسیٰ ؑ نے کہا ’’ تم لوگ بڑی نادانی کی باتیں کرتے ہو{۱۳۸} یہ لوگ جس طریقہ کی پیروی کررہے ہیں وہ توبرباد ہونے والا ہے اور جو عمل وہ کررہے ہیں وہ سراسر باطل ہے‘‘ {۱۳۹} پھر موسیٰ ؑ نے کہا ’’کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور معبود تمہارے لئے تلاش کروں ؟ حالانکہ وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں دنیا بھر کی قوموں پر فضیلت بخشی ہے{ ۱۴۰} اور (اللہ فرماتا ہے) وہ وقت یاد کرو جب ہم نے فرعون والوں سے تمہیں نجات دی، جن کا حال یہ تھا کہ تمہیں سخت عذاب میں مبتلا رکھتے تھے ، تمہارے بیٹوں کو قتل کرتے اور تمہاری عورتوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس میں تمہارے رَبّ کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی ‘‘{۱۴۱} ہم نے موسیٰ ؑکو تیس شب وروز کے لیے ( کوہ سینا پر ) طلب کیا اور بعد میں دس دن کا اور اضافہ کردیا،اس طرح اس کے رَبّ کی مقرر کردہ مدت پورے چالیس دن ہوگئی ۔[99] موسیٰ ؑنے چلتے ہوئے اپنے بھائی ہارون سے کہا کہ ’’ میرے پیچھے تم میری قوم میں میری جانشینی کرنا اور ٹھیک کام کرتے رہنا اور بگاڑ پیدا کرنے والوں کے طریقہ پر نہ چلنا ‘‘[100] {۱۴۲} جب وہ ہمارے مقرر کئے ہوئے وقت پر پہنچا اور اس کے رَبّ نے اس سے کلام کیا تو اس نے التجا کی کہ ’’ اے میرے رَبّ!مجھے یارائے نظر دے کہ میں تجھے دیکھوں ۔‘‘ فرمایا’’ تو مجھے نہیں دیکھ سکتا ۔ ہاں ذرا سامنے کے پہاڑ کی طرف دیکھ ،اگر وہ اپنی جگہ قائم رہ جائے تو البتہ تو مجھے دیکھ سکے گا۔‘‘ چنانچہ اس کے رَبّ نے جب پہاڑ پر تجلی کی تو اسے ریزہ ریزہ کردیا اور موسیٰ ؑ غش کھا کر گرپڑا ،جب ہوش آیا تو بولا’’ پاک ہے تیری ذات ، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور سب سے پہلا ایمان لانے والا میں ہوں‘‘{۱۴۳} فرمایا، ’’ اے موسیٰؑ ! میں نے تمام لوگوں پر ترجیح دے کر تجھے منتخب کیا کہ میری پیغمبری کرے اور مجھ سے ہم کلام ہو۔ پس جو کچھ میں تجھے دوں اسے لے اور شکر بجالا‘‘۔{ ۱۴۴} اس کے بعد ہم نے موسیٰ ؑکو ہر شعبۂ زندگی کے متعلق نصیحت اور ہر پہلو ، کے متعلق واضح ہدایت تختیوں پر لکھ کردے دی[101] اور اس سے کہا :’’ ان ہدایات کو مضبوط ہاتھوں سے سنبھال اور اپنی قوم کو حکم دے کہ ان کے بہتر مفہوم کی پیروی کریں ، [102]عنقریب میں تمہیں فاسقوں کے گھر دکھا ؤں گا۔[103]{۱۴۵} میں اپنی نشانیوں سے اُن لوگوں کی نگاہیں پھیردوں گا جو بغیر کسی حق کے زمین میں بڑے بنتے ہیں، [104]وہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں کبھی اس پر ایمان نہ لائیں گے ، اگر سیدھا راستہ اُن کے سامنے آئے تو اسے اختیار نہ کریں گے اور اگر ٹیڑھا راستہ نظر آئے تو اس پر چل پڑیں گے ، اس لیے کہ انہوں نے ہماری نشانیوں کو جھٹلایا اور ان سے بے پروائی کرتے رہے{۱۴۶} ہماری نشانیوں کو جس کسی نے جھٹلایا اور آخرت کی پیشی کا انکار کیا اس کے سارے اعمال ضائع ہوگئے۔[105] کیا لوگ اس کے سوا کچھ اور جزاپاسکتے ہیں کہ جیسا کریں ویسا بھریں؟{۱۴۷} موسیٰ ؑ کے پیچھے [106]اس کی قوم کے لوگوں نے اپنے زیوروں سے ایک بچھڑے کا پتلا بنایا ،جس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ کیا انہیں نظر نہ آتا تھا کہ وہ نہ ان سے بولتا ہے نہ کسی معاملے میں ان کی رہنمائی کرتا ہے ؟ مگر پھر بھی انہوں نے اسے معبود بنالیا اور وہ سخت ظالم تھے۔[107] {۱۴۸} پھر جب ان کی فریب خوردگی کا طلسم ٹوٹ گیا اور انہوں نے دیکھ لیا کہ درحقیقت وہ گمراہ ہوگئے ہیں تو کہنے لگے کہ ’’ اگر ہمارے رَبّ نے ہم پر رحم نہ فرمایا اور ہم سے درگزر نہ کیا تو ہم برباد ہوجائیں گے۔‘‘ {۱۴۹} اُدھر سے موسیٰ ؑغصے اور رنج میں بھر ا ہوا اپنی قوم کی طرف پلٹا ۔ آتے ہی اس نے کہا ’’بہت بُری جانشینی کی تم لوگوں نے میرے بعد ! کیا تم سے اتنا صبر نہ ہوا کہ اپنے رَبّ کے حکم کا انتظار کرلیتے ؟‘‘ اور تختیاں پھینک دیں اور اپنے بھائی ( ہارون ) کے سرکے بال پکڑکر اسے کھینچا ۔ ہارون نے کہا ’’ اے میری ماں کے بیٹے ، ان لوگوں نے مجھے دبالیا اور قریب تھا کہ مجھے مارڈا لتے ۔ پس تو دشمنوں کو مجھ پر ہنسنے کا موقع نہ دے اور اس ظالم گروہ کے ساتھ مجھے نہ شامل کر ‘‘[108]{۱۵۰} تب موسیٰ ؑنے کہا ’’ اے رَبّ !مجھے اور میرے بھائی کو معاف کر اور ہمیں اپنی رحمت میں داخل فرما، تو سب سے بڑھ کر رحیم ہے ‘‘ {۱۵۱} ( جواب میں ارشاد ہوا کہ ) ’’ جن لوگوں نے بچھڑے کو معبود بنایا وہ ضرور اپنے رَبّ کے غضب میں گرفتار ہو کر رہیں گے اور دنیا کی زندگی میں ذلیل ہوں گے جھوٹ گھڑنے والوں کو ہم ایسی ہی سزادیتے ہیں {۱۵۲} اور جو لوگ بُرے عمل کریں پھر تو بہ کرلیں اور ایمان لے آئیں تو یقینا اس توبہ و ایمان کے بعد تیرارَبّ درگزر اور رحم فرمانے والا ہے ‘‘ {۱۵۳} پھر جب موسیٰ ؑ کا غصہ ٹھنڈا ہوا تو اس نے وہ تختیاں اٹھالیں جن کی تحریرمیں ہدایت اور رحمت تھی اُن لوگوں کے لیے جو اپنے رَبّ سے ڈرتے ہیں{۱۵۴} اور اس نے اپنی قوم کے ستر آدمیوں کو منتخب کیا تا کہ وہ (اُس کے ساتھ ) ہمارے مقرر کئے ہوئے وقت پر حاضر ہوں[109] جب ان لوگوں کو ایک سخت زلزلے نے آپکڑا تو موسیٰ ؑ نے عرض کیا ’’ اے میرے سرکار! آپ چاہتے تو پہلے ہی ان کو اور مجھے ہلاک کرسکتے تھے۔ کیا آپ اُس قصور میں جو ہم میں سے چند نادانوں نے کیا تھا ہم سب کو ہلاک کردیں گے؟ یہ تو آپ کی ڈالی ہوئی ایک آزمائش تھی جس کے ذریعہ سے آ پ جسے چاہتے ہیں گمراہی میں مبتلا کردیتے ہیں اور جسے چاہتے ہیں ہدایت بخش دیتے ہیں۔[110] ہمارے سرپرست تو آپ ہی ہیں۔ پس ہمیں معاف کردیجئے اور ہم پر رحم فرمائیے آپ سب سے بڑھ کر معاف فرمانے والے ہیں۔{۱۵۵} اور ہمارے لئے اس دنیا کی بھلائی بھی لکھ دیجئے اور آخرت کی بھی ، ہم نے آپ کی طرف رجوع کرلیا۔ ‘‘ جواب میں ارشاد ہوا ،’’ سزاتو میں جسے چاہتا ہوں دیتا ہوں ، مگر میری رحمت ہر چیز پر چھائی ہوئی ہے[111] اور اسے میں ان لوگوں کے حق میں لکھوں گا جو نافرمانی سے پرہیز کریں گے ۔ زکوٰۃ دیں گے اور میری آیات پر ایمان لائیں گے ‘‘{۱۵۶} (پس آج یہ رحمت اُن لوگوں کا حصہ ہے ) جو اس پیغمبر، نبی اُمّی(صلے اللہ علیہ وسلم) کی پیروی اختیار کریں [112]جس کا ذکر انہیں اپنے ہاں تو رات اور انجیل میں لکھا ہوا ملتا ہے۔ [113]وہ انہیں نیکی کا حکم دیتا ہے،بدی سے روکتا ہے ، ان کے لیے پاک چیزیں حلال اور ناپاک چیزیں حرام کرتا ہے [114]، اور ان پر سے وہ بوجھ اتارتا ہے جو ان پرلدے ہوئے تھے اور وہ بندشیں کھولتا ہے جن میں وہ جکڑے ہوئے تھے۔[115] لہٰذا جو لوگ اس پر ایمان لائیں اور اس کی حمایت اور نصرت کریں اور اس روشنی کی پیروی اختیار کریں جو اس کے ساتھ نازل کی گئی ہے ، وہی فلاح پانے والے ہیں۔{۱۵۷} ( اے نبی ؐ !) کہو کہ : ’’ اے انسانو! میں تم سب کی طرف اس اِلٰہ واحد کا پیغمبر ہوں جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے ، اس کے سوا کوئی الِٰہ نہیں ہے ، وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے، پس ایمان لا ؤ اللہ پر اور اس کے بھیجے ہوئے نبی ؐ ُامیّ پر جو اللہ اور اس کے ارشادات کو مانتا ہے ، اور پیروی اختیار کرو اس کی ، امید ہے کہ تم راہ راست پالو گے‘‘{۱۵۸} موسیٰ [116]ؑکی قوم میں ایک گروہ ایسا بھی تھا جو حق کے مطابق ہدایت کرتا اور حق ہی کے مطابق انصاف کرتا تھا۔[117] {۱۵۹} اور ہم نے اس قوم کو بارہ گھرانوں میں تقسیم کرکے انہیں مستقل گروہوں کی شکل دے دی تھی۔[118] اور جب موسیٰ ؑسے اس کی قوم نے پانی مانگا تو ہم نے اس کو اشارہ کیا کہ فلاں چٹان پر اپنی لاٹھی مارو، چنانچہ اس چٹان سے یکا یک بارہ چشمے پھوٹ نکلے اور ہرگروہ نے اپنے پانی لینے کی جگہ متعین کرلی۔(نیز) ہم نے ان پر بادل کا سایہ کیا اور اُن پر منّ وسلویٰ اتارا۔[119]’’کھا ؤ وہ پاک چیزیں جو ہم نے تم کو بخشی ہیں۔‘‘ مگر اس کے بعد انہوں نے جو کچھ کیا تو ہم پر ظلم نہیں کیا ،بلکہ آپ اپنے اوپر ظلم کرتے رہے{۱۶۰} یاد[120]کرو وہ وقت جب ان سے کہا گیا تھا کہ ’’ اِس بستی میں جاکر بس جا ؤ اور اس کی پیداوار سے اپنے حسب ِمنشاروزی حاصل کرو اور ’’حِطَّۃٌ حِطَّۃ ٌ، ،کہتے جا ؤ اور شہر کے دروازے میں سجدہ ریز ہوتے ہوئے داخل ہو ، ہم تمہاری خطائیں معاف کریں گے اور نیک رویہ رکھنے والوں کو مزید فضل سے نوازیں گے‘‘۔ {۱۶۱} مگر جو لوگ ان میں سے ظالم تھے انہوں نے اُس بات کو جواِن سے کہی گئی تھی بدل ڈالا ، اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے ان کے ظلم کی پاداش میں ان پر آسمان سے عذاب بھیج دیا۔[121]{۱۶۲} اور ذرا اِن سے اُس بستی کا حال بھی پوچھو جو سمندر کے کنارے واقع تھی۔[122] انہیں یاد دلا ؤ وہ واقعہ کہ وہاں کے لوگ سبت (ہفتہ) کے دن احکام الٰہی کی خلاف ورزی کرتے تھے اور یہ کہ مچھلیاں سبت ہی کے دن اُبھر اُبھر کرسطح پر ان کے سامنے آتی تھیں[123] اور سبت کے سوا باقی دنوں میں نہیں آتی تھیں ۔یہ اس لیے ہوتا تھا کہ ہم ان کی نافرمانیوں کی وجہ سے ان کو آزمائش میں ڈال رہے[124]تھے۔ { ۱۶۳} اور اُنہیں یہ بھی یاد دلا ؤ کہ جب ان میں سے ایک گروہ نے دوسرے گروہ سے کہا تھا کہ ’’تم ایسے لوگوں کو کیوں نصیحت کرتے ہو جنہیں اللہ ہلاک کرنے والا یا سخت سزادینے والا ہے‘‘ تو انہوں نے جواب دیا تھا کہ ’’ ہم یہ سب کچھ تمہارے رَبّ کے حضور اپنی معذرت پیش کرنے کے لیے کرتے ہیں اور اس اُمید پر کرتے ہیں کہ شاید یہ لو گ اس کی نافرمانی سے پرہیز کرنے لگیں ‘‘۔{۱۶۴} آخر کا رجب وہ اُن ہدایات کو بالکل ہی فراموش کرگئے جو انہیں یاد کرائی گئی تھیں تو ہم نے اُن لوگوں کو بچا لیا جو برائی سے روکتے تھے، اور باقی سب لوگوں کو جو ظالم تھے ان کی نافرمانیوں پر سخت عذاب میں پکڑلیا[125] {۱۶۵} پھر جب وہ پوری سرکشی کے ساتھ وہی کام کئے چلے گئے جس سے انہیں روکا گیا تھا ، تو ہم نے کہا بندر ہوجا ؤ۔ ؔذلیل اور خوار ۔ [126]{۱۶۶} اور یاد کرو جب کہ تمہارے رَبّ نے اعلان کردیا[127] کہ ’’ وہ قیامت تک برابرایسے لوگ بنی اسرائیل پر مسلط کرتا رہے گا جو ان کو بدترین عذاب دیں گے‘‘۔[128] یقینا تمہارارَبّ سزادینے میں تیز دست ہے اور یقینا وہ درگزر اور رحم سے بھی کام لینے والا ہے{۱۶۷} ہم نے ان کو زمین میں ٹکڑے ٹکڑے کرکے بہت سی قوموں میں تقسیم کردیا۔ کچھ لوگ ان میں نیک تھے اور کچھ اس سے مختلف ۔اور ہم ان کو اچھے اور بُرے حالات سے آزمائش میں مبتلا کرتے رہے کہ شاید یہ پلٹ آئیں۔{۱۶۸} پھر اگلی نسلوں کے بعد ایسے ناخلف ان کے جانشین ہوئے جو کتاب ِالہٰی کے وارث ہو کر اسی دنیائے دَنی کے فائدے سمیٹتے ہیں اور کہہ دیتے ہیں کہ توقع ہے ہمیں معاف کردیا جائے گا، اور اگر وہی متاعِ دنیا سامنے آتی ہے تو پھر لپک کر اسے لے لیتے ہیں [129]کیا، ان سے کتاب کا عہد نہیں لیا جاچکا ہے کہ اللہ کے نام پر وہی بات کہیں جو حق ہو ؟ اور یہ خود پڑھ چکے ہیں جو کتاب میں لکھا ہے۔[130] آخرت کی قیام گاہ تو متقی لوگوں کے لیے ہی بہتر ہے ۔[131] کیا تم اتنی سی بات نہیں سمجھتے ؟{۱۶۹} جو لوگ کتا ب کی پابندی کرتے ہیں اور جنہوں نے نماز قائم کررکھی ہے ، یقینا ایسے نیک کردار لوگوں کا اجر ہم ضائع نہیں کریں گے۔{۱۷۰}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)