سورۃالاعراف   -  7 : 171-206 / 206انہیں وہ وقت بھی کچھ یاد ہے جب کہ ہم نے پہاڑ کو ہلا کر ان پر اس طرح چھادیا تھا کہ گویا وہ چھتری ہے اور یہ گمان کررہے تھے کہ وہ ان پر آپڑے گا اور اس وقت ہم نے ان سے کہا تھا کہ جو کتاب ہم تمہیں دے رہے ہیں اسے مضبوطی کے ساتھ تھا مواور جو کچھ اس میں لکھا ہے اسے یاد رکھو ، توقع ہے کہ تم غلط روی سے بچے رہوگے۔[132]{۱۷۱} اور [133]اے نبی ؐ! لوگوں کو یاددلا ؤ وہ وقت جب کہ تمہارے رَبّ نے بنی آدم کی پشتوں سے ان کی نسل کو نکالا تھا اور انہیں خود ان کے اوپر گواہ بناتے ہوئے پوچھا تھا’’ کیا میں تمہارا رَبّ نہیں ہوں ‘‘؟ انہوں نے کہا ’’ضرور آپ ہی ہمارے رَبّ ہیں ، ہم اس پر گواہی دیتے ہیں ‘‘[134]۔ یہ ہم نے اُس لئے کیا کہ کہیں تم قیامت کے روزیہ نہ کہہ دو کہ ’’ ہم تو اس بات سے بے خبر تھے‘‘{۱۷۲} یا یہ نہ کہنے لگو کہ ’’ شرک کی ابتدا تو ہمارے باپ دادا نے ہم سے پہلے کی تھی اور ہم بعد کو ان کی نسل سے پیدا ہوئے ، پھر کیا آپ ہمیں اُس قصور میں پکڑتے ہیں جو غلط کارلوگوں نے کیا تھا ؟‘‘ [135]{۱۷۳} دیکھو ، اس طرح ہم نشانیاں واضح طور پر پیش کرتے ہیں۔[136]اور اس لیے کرتے ہیں کہ یہ لوگ پلٹ آئیں۔[137]{ ۱۷۴} اور اے نبی ؐ !ان کے سامنے اُس شخص کا حال بیان کرو جس کو ہم نے اپنی آیات کا علم عطا کیا تھا۔[138] مگر وہ ان کی پابندی سے نِکل بھاگا۔ آخرکارشیطان اس کے پیچھے پڑگیا یہاں تک کہ وہ بھٹکنے والوں میں شامل ہوکر رہا۔{۱۷۵} اگر ہم چاہتے تو اسے اُن آیتوں کے ذریعہ سے بلندی عطا کرتے،مگر وہ تو زمین ہی کی طرف جھک کررہ گیا اور اپنی خواہش نفس ہی کے پیچھے پڑا رہا ، لہٰذا اس کی حالت کُتے کی سی ہوگئی کہ تم اس پرحملہ کروتب بھی زبان لٹکائے رہے اوراُسے چھوڑ دوتب بھی زبان لٹکائے رہے۔[139] یہی مثال ہے ان لوگوں کی جو ہماری آیات کو جھٹلاتے ہیں۔ تم یہ حکایات ان کو سُناتے رہو ، شاید کہ یہ کچھ غور وفکر کریں۔{۱۷۶} بڑی ہی بُری مثال ہے ایسے لوگوں کی جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا، اور وہ آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرتے رہے ہیں ۔{۱۷۷} جسے اللہ ہدایت بخشے بس وہی راہِ راست پاتا ہے اور جس کو اللہ اپنی رہنمائی سے محروم کردے وہی ناکام ونامراد ہوکررہتا ہے۔{۱۷۸} اور یہ حقیقت ہے کہ بہت سے جن اور انسان ایسے ہیں جن کو ہم نے جہنم ہی کے لیے پیدا کیا ہے۔[140] ان کے پاس دل ہیں مگروہ ان سے سوچتے نہیں، ان کے پاس آنکھیں ہیں مگروہ ان سے دیکھتے نہیں۔ ان کے پاس کان ہیں مگر وہ ان سے سنتے نہیں ۔ وہ جانوروں کی طرح ہیں بلکہ ان سے بھی زیادہ گئے گزرے ، یہ وہ لوگ ہیں جو غفلت میں کھوئے گئے ہیں ۔ {۱۷۹} اللہ[141] اچھے ناموں کا مستحق ہے ، اس کو اچھے ہی ناموں سے پکارو اور ان لوگوں کو چھوڑ دو جو اس کے نام رکھنے میں راستی سے منحرف ہوجاتے ہیں ۔ جو کچھ وہ کرتے ہیں اس کا بدلہ وہ پاکر رہیں گے۔[142]{۱۸۰} ہماری مخلوق میں ایک گروہ ایسا بھی ہے جو ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق ہدایت اور حق کے مطابق انصاف کرتا ہے۔ {۱۸۱} رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلادیا ہے ، تو انہیں ہم تبدریج ایسے طریقے سے تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ انہیں خبر تک نہ ہوگی ۔{ ۱۸۲} میں ان کو ڈھیل دے رہاہوں ، میری چال کا کوئی توڑ نہیں ہے۔{ ۱۸۳} اور کیا ان لوگوں نے کبھی سوچا نہیں ؟ ان کے رفیق پر جنون کا کوئی اثر نہیں ہے۔وہ تو ایک خبردار کرنے والا ہے۔جو ( بُرا انجام سامنے آنے سے پہلے) صاف صاف متنبہ کررہا ہے ۔{ ۱۸۴} کیا ان لوگوں نے آسمان و زمین کے انتظام پر کبھی غور نہیں کیا اور کسی چیز کو بھی ،جو اللہ نے پیدا کی ہے آنکھیں کھول کر نہیں دیکھا ؟[143] اور کیا یہ بھی انہوں نے نہیں سوچا کہ شایدان کی مہلت زندگی پوری ہونے کا وقت قریب آلگاہو ؟[144] پھر آخر پیغمبر ؐ ! کی اس تنبیہ کے بعد اور کونسی بات ایسی ہوسکتی ہے جس پر یہ ایمان لائیں ؟ {۱۸۵} جس کو اللہ رہنمائی سے محروم کردے اس کے لیے پھر کوئی رہنما نہیں ہے ،اور اللہ انہیں ان کی سرکشی ہی میں بھٹکتا ہوا چھوڑے دیتا ہے۔ {۱۸۶} یہ لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ آخروہ قیامت کی گھڑی کب نازل ہوگی ؟ کہو’’ اس کا علم میرے رَبّ ہی کے پا س ہے ۔ اسے اپنے وقت پر وہی ظاہر کرے گا۔ آسمانوں اور زمین میں وہ بڑا سخت وقت ہوگا۔ وہ تم پر اچانک آجائے گا۔‘‘ یہ لوگ اس کے متعلق تم سے اس طرح پوچھتے ہیں گویا کہ تم اس کی کھوج میں لگے ہوئے ہو ۔ کہو ’’ اس کا علم تو صرف اللہ کو ہے مگر اکثر لوگ اس حقیقت سے ناواقف ہیں‘‘۔ {۱۸۷} اے نبی ؐ! ان سے کہو کہ ’’ میں اپنی ذات کے لیے کسی نفع اور نقصان کا اختیار نہیں رکھتا ، اللہ ہی جو کچھ چاہتا ہے وہ ہوتا ہے اور اگر مجھے غیب کا علم ہوتا تو میں بہت سے فائدے اپنے لئے حاصل کرلیتا اور مجھے کبھی کوئی نقصان نہ پہنچتا ۔[145] میں تو محض ایک خبردار کرنے والا اور خوشنجری سنانے والا ہوں اُن لوگوں کے لیے جو میری بات مانیں ‘‘ ۔{۱۸۸} وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہیں ایک جان سے پیدا کیا اور اسی کی جنس سے اس کا جوڑا بنایا تا کہ اس کے پاس سکون حاصل کرے ۔پھر جب مرد نے عورت کو ڈھانک لیا تو اسے ایک خفیف ساحمل رہ گیا جسے لئے لئے وہ چلتی پھرتی رہی۔ پھر جب وہ بوجھل ہوگئی تو دونوں نے مل کر اللہ ، اپنے رَبّ سے دعا کی کہ اگر تونے ہم کو اچھا سابچہ دیا تو ہم تیرے شکر گزارہوں گے۔ {۱۸۹} مگر جب اللہ نے ان کو ایک صحیح و سالم بچہ دے دیا تو وہ اس کی بخشش و عنایت میں دوسروں کو اس کا شریک ٹھہرانے لگے اللہ بہت بلند و برترہے اُن مشرکانہ باتوں سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔[146] {۱۹۰} کیسے نادان ہیں یہ لوگ کہ اُن کو اللہ کا شریک ٹھہراتے ہیں جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے ، بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں {۱۹۱} جو نہ ان کی مدد کرسکتے ہیں اور نہ آپ اپنی مدد ہی پر قادر ہیں۔{ ۱۹۲} اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کی دعوت دو تو وہ تمہارے پیچھے نہ آئیں۔ تم خواہ انہیں پکارو یا خاموش رہو، دونوں صورتوں میں تمہارے لئے یکساں ہی رہے۔ [147]{ ۱۹۳} تم لوگ اللہ کو چھوڑ کر جنہیں پکارتے ہو وہ تو محض بندے ہیں جیسے تم بندے ہو ۔ ان سے دعائیں مانگ دیکھو ، یہ تمہاری دعاؤں کا جواب دیں اگر ان کے بارے میں تمہارے خیالات صحیح ہیں۔{ ۱۹۴} کیا یہ پاؤں رکھتے ہیں کہ اُن سے چلیں؟ کیا یہ ہاتھ رکھتے ہیں کہ اُن سے پکڑیں ؟ کیا یہ آنکھیں رکھتے ہیں کہ اُن سے دیکھیں ؟ کیا یہ کان رکھتے ہیںکہ اُن سے سنیں ؟[148] اے نبی ؐ !ان سے کہو کہ ’’بلالو اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو پھر تم سب مل کر میرے خلاف تدبیریں کرو اور مجھے ہر گز مہلت نہ دو۔ {۱۹۵} میرا حامی و ناصروہ اللہ ہے جس نے یہ کتاب نازل کی ہے اور وہ نیک آدمیوں کی حمایت کرتا ہے۔[149] {۱۹۶} بخلاف اس کے تم جنہیں اللہ کو چھوڑ کرپکارتے ہو وہ نہ تمہاری مدد کرسکتے ہیں اور نہ خود اپنی مددہی کرنے کے قابل ہیں {۱۹۷} بلکہ اگر تم انہیں سیدھی راہ پر آنے کے لیے کہو تو وہ تمہاری بات سُن بھی نہیں سکتے ۔ بظاہر تم کو ایسا نظر آتا ہے کہ وہ تمہاری طرف دیکھ رہے ہیں مگر فی الواقع وہ کچھ بھی نہیں دیکھتے ‘‘ ۔{۱۹۸} اے نبی ؐ! نرمی ودرگزر کا طریقہ اختیار کرو ، معروف کی تلقین کئے جا ؤ ، اور جاہلوں سے نہ اُلجھو۔{۱۹۹} اگر کبھی شیطان تمہیں اُکسائے تو اللہ کی پناہ مانگو ، وہ سب کچھ سننے والا اور جاننے والا ہے۔{۲۰۰} حقیقت میں جو لوگ متقی ہیں ان کا حال تو یہ ہوتا ہے کہ کبھی شیطان کے اثر سے کوئی براخیال اگر انہیں چھوبھی جاتا ہے تو فوراً چوکنّے ہوجاتے ہیں اور پھر انہیں صاف نظر آنے لگتا ہے کہ ان کے لیے صحیح طریق کارکیا ہے {۲۰۱} رہے ان کے (یعنی شیاطین کے ) بھائی بند ، تو وہ انہیں ان کی کج روی میں کھینچے لئے چلے جاتے ہیں اوراُنہیں بھٹکانے میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھتے۔[150] {۲۰۲} اے نبی ؐ!جب تم اِن لوگوں کے سامنے کوئی نشانی ( یعنی معجزہ ) پیش نہیں کرتے تو یہ کہتے ہیں کہ تم نے اپنے لئے کوئی نشانی کیوں نہ انتخاب کرلی ؟[151] ان سے کہو :’’میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہو ں جو میرے رَبّ نے میری طرف بھیجی ہے۔ یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں تمہارے رَبّ کی طرف سے اور ہدایت اور رحمت ہے ان لوگوں کے لیے جو اسے قبول کریں ۔[152]{۲۰۳} جب قرآن تمہارے سامنے پڑھاجائے تو اسے توجہ سے سنو اور خاموش رہو ، شاید کہ تم پر بھی رحمت ہوجائے ‘‘[153]{۲۰۴} اے نبی ؐ! اپنے رَبّ کو صبح وشام یاد کیا کرو دل ہی دل میں عاجزی اور خوف کے ساتھ اور زبان سے بھی ہلکی آواز کے ساتھ۔ تم ان لوگوں میں سے نہ ہوجا ؤ جو غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔[154] {۲۰۵} جو فرشتے تمہارے رَبّ کے حضور تقرب کا مقام رکھتے ہیں وہ کبھی اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں آکر اس کی عبادت سے منھ نہیں موڑتے،[155] اور اس کی تسبیح کرتے ہیں[156] اور اس کے آگے جھکے رہتے ہیں- [157]{۲۰۶}
سورۃالانفال   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 8 : 1-40 / 75تم سے انفال کے متعلق پوچھتے ہیں کہو ’’یہ انفال تو اللہ اور اُس کے رسُول ؐکے ہیں ، پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور اپنے آپس کے تعلقات درست کرو اور اللہ اور اس کے رسول ؐکی اطاعت کرو اگر تم مومن ہو۔‘‘[1] {۱} سچے اہل ایمان تو وہ لوگ ہیں جن کے دل اللہ کا ذکر سن کر لرزجاتے ہیں اور جب اللہ کی آیات ان کے سامنے پڑھی جاتی ہیں تو ان کا ایمان بڑھ جاتا ہے،[2] اور وہ اپنے رَبّ پر اعتماد رکھتے ہیں۔ { ۲} جو نماز قائم کرتے ہیں اور جو کچھ ہم نے ان کودیا ہے اس میں سے ( ہماری راہ میں) خرچ کرتے ہیں {۳} ایسے ہی لوگ حقیقی مومن ہیں۔ ان کے لیے ان کے رَبّ کے پاس بڑے درجے ہیں، قصوروں سے درگزرہے[3] اور بہترین رز ق ہے۔{ ۴} (اس مال غنیمت کے معاملے میں بھی ویسی ہی صورت پیش آرہی ہے جیسی اُس وقت پیش آئی تھی جبکہ ) تیرا ر ب تجھے حق کے ساتھ تیرے گھر سے نکال لایا تھا اور مومنوں میں سے ایک گروہ کو یہ ناگوار تھا۔ {۵} وہ اس حق کے معاملے میں تجھ سے جھگڑرہے تھے درآں حالیکہ وہ صاف صاف نمایاں ہوچکا تھا۔ اُن کا حال یہ تھا کہ گویا وہ آنکھوں دیکھتے موت کی طرف ہانکے جارہے ہیں۔[4]{۶} یاد کرو وہ موقع جب کہ اللہ تم سے وعدہ کررہا تھا کہ دونوں گروہوں میں سے ایک تمہیں مل جائے گا۔ [5]تم چاہتے تھے کہ کمزور گروہ تمہیں ملے۔ [6]مگر اللہ کاارادہ یہ تھا کہ اپنے ارشادات سے حق کو حق کر دکھائے اور کافروں کی جڑکاٹ دے{۷} تاکہ حق حق ہو کر رہے اور باطل باطل ہوکررہ جائے خواہ مجرموں کو یہ کتنا ہی ناگوارہو۔[7]{۸} اور وہ موقع جب کہ تم اپنے رَبّ سے فریاد کررہے تھے ۔ جواب میں اس نے فرمایا کہ میں تمہاری مدد کے لیے پے درپے ایک ہزار فرشتے بھیج رہا ہوں۔{۹} یہ بات اللہ نے تمہیں صرف اس لیے بتادی کہ تمہیں خوشنجری ہو اور تمہارے دل اس سے مطمئن ہو جائیں ، ورنہ مدد توجب بھی ہوتی ہے اللہ ہی کی طرف سے ہوتی ہے یقینا اللہ زبردست اور دانا ہے ۔{ ۱۰} اور وہ وقت جب کہ اللہ اپنی طرف سے غنودگی کی شکل میں تم پر اطمینان وبے خوفی کی کیفیت طاری کررہا تھا،[8] اور آسمان سے تمہارے اوپر پانی برسارہا تھا تاکہ تمہیں پاک کرے اور تم سے شیطان کی ڈالی ہوئی نجاست دور کرے اور تمہاری ہمت بندھائے اور اس کے ذریعے سے تمہارے قدم جمادے۔[9] {۱۱} اور وہ وقت جب کہ تمہارا رَبّ فرشتوں کو اشارہ کررہا تھا کہ ’’میں تمہارے ساتھ ہو ں، تم اہل ایمان کو ثابت قدم رکھو ، میں ابھی ان کافرو ں کے دلوں میں رعب ڈالے دیتا ہوں ، پس تم اُن کی گردنوں پر ضرب اور جوڑ جوڑ پر چوٹ لگا ؤ ‘‘۔[10]{۱۲} یہ اس لیے کہ ان لوگوں نے اللہ اوراُس کے رسُول ؐ کا مقابلہ کیا اور جو اللہ اور اس کے رسُول ؐ کا مقابلہ کرے اللہ اس کے لیے نہایت سخت گیر ہے۔[11]{ ۱۳} یہ [12]ہے تم لوگوں کی سزا، اب اس کا مزہ چکھو ، اور تمہیں معلوم ہوکہ حق کا انکار کرنے والوں کے لیے دوزخ کا عذاب ہے۔{ ۱۴} اے لوگو جو ایمان لائے ہو!جب تم ایک لشکر کی صورت میں کفار سے دوچار ہو تو ان کے مقابلہ میں پیٹھ نہ پھیرو ۔{۱۵} جس نے ایسے موقع پر پیٹھ پھیری ، اِلاّیہ کہ جنگی چال کے طور پر ایسا کرے یا کسی دوسری فوج سے جاملنے کے لیے، تو وہ اللہ کے غضب میں گھرِ جائے گا۔ اس کا ٹھکانا جہنم ہوگا اور وہ بہت بُری جائے بازگشت (لوٹنے کی جگہ) ہے۔[13]{۱۶} پس حقیقت یہ ہے کہ تم نے انہیں قتل نہیں کیا ، بلکہ اللہ نے ان کو قتل کیا اور اے نبی ؐ تم نے نہیں پھینکا بلکہ اللہ نے پھینکا[14] ( اورمومنوں کے ہاتھ جو اس کام میں استعمال کئے گئے) تو یہ اس لیے تھا کہ اللہ مومنوں کو ایک بہترین آزمائش سے کامیابی کے ساتھ گزار دے ، یقینا اللہ سننے اور جاننے والا ہے{۱۷} یہ معاملہ تو تمہارے ساتھ ہے اور کافروں کے ساتھ معاملہ یہ ہے کہ اللہ ان کی چالوں کو کمزور کرنے والا ہے۔ {۱۸} (ان کافروں سے کہہ دو ) ’’اگر تم فیصلہ چاہتے تھے تو لو ، فیصلہ تمہارے سامنے آگیا۔[15] اب باز آجا ؤ ، تمہارے ہی لئے بہتر ہے ورنہ پھر پلٹ کر اسی حماقت کا اعادہ کروگے تو ہم بھی اسی سزا کا اعادہ کریں گے اور تمہاری جمعیت ، خواہ وہ کتنی ہی زیادہ ہو، تمہارے کچھ کام نہ آسکے گی۔ اللہ مومنوں کے ساتھ ہے ‘‘۔{۱۹} اے لو گو جو ایمان لائے ہو! اللہ اور اس کے رسول ؐکی اطاعت کرو اور حکم سُننے کے بعد اس سے سرتابی نہ کرو۔{۲۰} ان لوگوں کی طرح نہ ہوجا ؤ جنہو ں نے کہا کہ ہم نے سنا حالانکہ وہ نہیں سُنتے۔[16]{۲۱} یقینا اللہ کے نزدیک بدترین قسم کے جانور وہ بہرے گونگے لوگ ہیں[17] جو عقل سے کام نہیں لیتے۔ {۲۲} اگر اللہ کو معلوم ہوتا کہ ان میں کچھ بھی بھلائی ہے تو وہ ضرور انہیں سننے کی توفیق دیتا ( لیکن بھلائی کے بغیر ) اگر وہ ان کو سُنواتا تو وہ بے رخی کے ساتھ منھ پھیر جاتے۔[18]{۲۳} اے لوگوجو ایمان لائے ہو! اللہ اور اس کے رسول ؐکی پکار پر لبیک کہو جب کہ رسُول ؐ تمہیں اس چیز کی طرف بلائے جو تمہیں زندگی بخشنے والی ہے، اور جان رکھو کہ اللہ آدمی اور اس کے دل کے درمیان حائل ہے اور اسی کی طرف تم سمیٹے جا ؤ گے۔[19]{ ۲۴} اور بچو اس فتنے سے جس کی شامت مخصوص طور پر صرف انہی لوگوں تک محدود نہ رہے گی جنہوں نے تم میں سے گناہ کیا ہو[20] اور جان رکھو کہ اللہ سخت سزادینے والا ہے۔{۲۵} یاد کروہ وقت جب کہ تم تھوڑے تھے ، زمین میں تم کو بے زور سمجھا جاتا تھا ، تم ڈرتے رہتے تھے کہ کہیں لوگ تمہیں مٹانہ دیں ۔پھر اللہ نے تم کو جائے پناہ مہیا کردی، اپنی مددسے تمہارے ہاتھ مضبوط کئے اور تمہیں اچھا رزق پہنچایا، شاید کہ تم شکر گزار بنو۔[21]{۲۶} اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جانتے بوجھتے اللہ اور اس کے رسُول ؐ کے ساتھ خیانت نہ کرو ، اپنی امانتو ں میں [22]غداری کے مرتکب نہ ہو {۲۷} اور جان رکھو کہ تمہارے مال اور تمہاری اولاد حقیقت میں سامان آزمائش ہیں [23]اور اللہ کے پاس اجر دینے کے لیے بہت کچھ ہے۔{۲۸} اے لوگو جو ایمان لائے ہو!اگر تم اللہ کا تقویٰ اختیار کرو گے تو اللہ تمہارے لئے کسوٹی بہم پہنچادے گا [24]اور تمہاری برائیوں کو تم سے دور کرے گا اور تمہارے قصور معاف کرے گا ۔ اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے {۲۹} وہ وقت بھی یاد کرنے کے قابل ہے جب کہ منکرین حق تیرے خلاف تدبیریں سوچ رہے تھے کہ تجھے قید کردیں یاقتل کرڈالیں یا جلاو طن کردیں۔ [25] وہ اپنی چالیں چل رہے تھے اور اللہ اپنی چال چل (مستحکم و خفیہ تدبیر کر)رہا تھا اور اللہ سب سے بہتر چال چلنے (تدبیر کرنے)والا ہے۔ {۳۰} جب ان کو ہماری آیات سنائی جاتی تھیں تو کہتے تھے کہ ’’ہاں سن لیا ہم نے۔ ہم چاہیں تو ایسی ہی باتیں ہم بھی بناسکتے ہیں ، یہ تو وہی پرانی کہانیاں ہیں جو پہلے سے لوگ کہتے چلے آرہے ہیں ‘‘۔{۳۱} اور وہ بات بھی یاد ہے جو انہوں (کفار مکہ) نے کہی تھی کہ ’’ اے اللہ !اگر یہ(نبی ؐ کی دعوت) واقعی حق ہے تیری طرف سے تو ہم پر آسمان سے پتھر برسادے یا کوئی دردناک عذاب ہم پر لے آ‘‘ [26]{۳۲} اُس وقت تو اللہ اُن پر عذاب نازل کرنے والا نہ تھا جب کہ آپ ؐ ان کے درمیان موجود ہوں اور نہ اللہ کا یہ قاعدہ ہے کہ لوگ استغفار کررہے ہوں اور وہ ان کو عذاب دے دے۔ [27]{۳۳} لیکن اب کیوں نہ وہ اُن پر عذاب نازل کرے جب کہ وہ مسجد حرام کا راستہ روک رہے ہیں، حالاں کہ وہ اس مسجد کے جائز متولّی نہیں ہیں۔ اس کے جائز متولّی تو صرف اہلِ تقویٰ ہی ہوسکتے ہیں ، مگر اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے ۔{ ۳۴} بیت ُاللہ کے پاس اُن لوگو ںکی نماز کیا ہوتی ہے ؟ بس سیٹیاں بجاتے اور تالیاں پیٹتے ہیں ۔[28] پس اب لو ، اس عذاب کا مزہ چکھو اپنے اُس انکار حق کی پاداش میں جو تم کرتے رہے ہو۔ [29]{۳۵} جن لوگوں نے حق کو ماننے سے انکار کیا ہے وہ اپنے مال اللہ کے راستے سے روکنے کے لیے صرف کررہے ہیں اور ابھی اور خرچ کرتے رہیں گے ،مگر آخر کا ریہی کوششیں ان کے لیے پچھتاوے کا سبب بنیں گی ، پھرو ہ مغلوب ہوں گے ، پھر یہ کافر جہنم کی طرف گھیر لائے جائیں گے {۳۶} تا کہ اللہ گندگی کو پاکیزگی سے چھانٹ کر الگ کرے اور ہر قسم کی گندگی کو ملا کر اکٹھا کرے پھر اس پلندے کو جہنّم میں جھونک دے ۔یہی لوگ اصلی دِیوالیے ہیں۔[30]{۳۷} اے نبی ؐ!ان کافروں سے کہو کہ اگراب بھی باز آجائیں تو جو کچھ پہلے ہوچکا ہے اس سے دَرگزر کرلیا جائے گا ، لیکن اگر یہ اُسی پچھلی رَوِش کا اعادہ کریں گے تو گزشتہ قوموں کے ساتھ جو کچھ ہوچکا ہے وہ سب کو معلوم ہے۔{۳۸} (اے لوگو جو ایمان لائے ہو!) ان کافروں سے جنگ کرو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین پورا کا پور ا اللہ کے لیے ہو جائے۔ [31]پھر اگر وہ فتنہ سے رُک جائیں تو اُن کے اعمال کا دیکھنے والا اللہ ہے،{۳۹} اور اگر وہ نہ مانیں تو جان رکھو کہ اللہ تمہارا سرپرست ہے اور وہ بہترین حامی ومددگار ہے۔{۴۰}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)