سورۃالاعراف   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 7 : 1-87 / 206الٓ مّٓٓـصٓ۔{۱} یہ ایک کتاب ہے جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے [1]، پس اے نبی ؐ ! تمہارے دل میں اس سے کوئی جھجک نہ ہو۔[2] اس کے اتار نے کی غرض یہ ہے کہ تم اس کے ذریعہ سے ( منکرین کو) ڈرا ؤ اور ایمان لانے والے لوگوں کو نصیحت ہو۔[3]{ ۲} لوگو! جو کچھ تمہارے رَبّ کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے اس کی پیروی کرو اور اپنے رَبّ کو چھوڑ کر دوسرے سرپرستوں کی پیروی نہ کرو۔[4]مگر تم نصیحت کم ہی مانتے ہو۔ {۳} کتنی ہی بستیاں ہیں جنہیں ہم نے ہلاک کردیا۔ ان پر ہمارا عذاب اچانک رات کے وقت ٹوٹ پڑا، یادن دہاڑے ایسے وقت آیا جب کہ وہ آرام کررہے تھے { ۴} اور جب ہمارا عذاب اُن پر آگیا تو ان کی زبان پر اس کے سوا کوئی صدا نہ تھی کہ واقعی ہم ظالم تھے۔[5]{ ۵} پس یہ ضرور ہوکر رہنا ہے کہ ہم اُن لوگوں سے باز پرس کریں [6]جن کی طرف ہم نے پیغمبر بھیجے ہیں اور پیغمبروں سے بھی پوچھیں (کہ انہوں نے پیغام رسانی کا فرض کہاں تک انجام دیا اور انہیں اس کا کیا جواب ملا) [7] {۶} پھر ہم خود پورے علم کے ساتھ ساری سرگزشت ان کے آگے پیش کردیں گے، آخر ہم کہیں غائب تو نہیں تھے{۷} اور وزن اس روزعین حق[8] ہوگا۔ جن کے پلڑے بھاری ہوں گے وہی فلاح پانے والے ہوں گے {۸} اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے وہی اپنے آپ کو خسارے میں مبتلا کرنے والے ہوں گے[9] کیونکہ وہ ہماری آیات کے ساتھ ظالمانہ برتا ؤ کرتے رہے تھے۔{۹} ہم نے تمہیں زمین میں اختیارات کے ساتھ بسایا اور تمہارے لئے یہاں سامانِ زیست فراہم کیا، مگر تم لوگ کم ہی شکر گزارہوتے ہو۔{ ۱۰} ہم نے تمہاری تخلیق کی ابتدا کی ، پھر تمہاری صورت بنائی ، پھر فرشتوں سے کہا آدم ؑکو سجدہ کرو۔[10] اس حکم پرسب نے سجدہ کیا مگر ابلیس سجدہ کرنے والوں میں شامل نہ ہوا۔{۱۱} پوچھا:’’ تجھے کس چیز نے سجدہ کرنے سے روکا جب کہ میں نے تجھ کو حکم دیا تھا ؟‘‘ بولا ، میں اس سے بہتر ہوں ، تو نے مجھے آگ سے پیدا کیا ہے اور اُسے مٹی سے۔{ ۱۲} فرمایا:’’اچھا تو یہاں سے نیچے اُتر‘‘ تجھے حق نہیں ہے کہ یہاں بڑائی کا گھمنڈ کرے ۔ نکل جاکہ درحقیقت تُو اُن لوگوں میں سے ہے جو خود اپنی ذِلّت چاہتے ہیں‘‘[11]{ ۱۳} بولا ’’ مجھے اس دن تک مہلت دے جب کہ یہ سب دو بارہ اٹھائے جائیں گے‘‘ {۱۴} فرمایا ’’تجھے مہلت ہے ‘‘ {۱۵} بولا ، ’’ اچھاتو جس طرح تو نے مجھے گمراہی میں مبتلا کیا ہے میں بھی اب تیری سیدھی راہ پر ان انسانوں کی گھات میں لگارہوں گا{۱۶} آگے اور پیچھے ، دائیں اور بائیں ، ہر طرف سے ان کو گھیروں گا اورتُو ان میں سے اکثر کو شکر گزار نہ پائے گا۔‘‘[12]{۱۷} فرمایا: ’’نکل جا یہاں سے ذلیل اور ٹھکرایا ہوا ۔ یقین رکھ کہ ان میں سے جو تیری پیروی کریں گے، تجھ سمیت اُن سب سے جہنم کو بھردوں گا۔{۱۸} اور اے آدم! تو اور تیری بیوی ، دونوں اس جنّت میں رہو ، جہاں جس چیز کو تمہارا جی چاہے کھا ؤ ، مگر اس درخت کے پاس نہ پھٹکنا ورنہ ظالموں میں سے ہوجاو گے‘‘۔{۱۹} پھر شیطان نے ان کو بہکایا تا کہ اُن کی شرمگا ہیں جو ایک دُوسرے سے چھپائی گئی تھیں ان کے سامنے کھول دے ۔ اس نے اُن سے کہا ’’تمہارے رَبّ نے تمہیں جو اس درخت سے روکا ہے اس کی وجہ اس کے سوا کچھ نہیں ہے کہ کہیں تم فرشتے نہ بن جا ؤ ، یا تمہیں ہمیشگی کی زندگی حاصل نہ ہوجائے ‘‘ {۲۰} اور اس نے قسم کھاکر ان سے کہا کہ میں تمہارا سچّا خیر خواہ ہوں{۲۱} اس طرح دھوکا دے کر وہ ان دونوں کو رفتہ رفتہ اپنے ڈھب پرلے آیا۔ آخر کار جب انہوں نے اس درخت کا مزہ چکھا تو ان کے سترایک دوسرے کے سامنے کھل گئے اور وہ اپنے جسموں کو جنّت کے پتوں سے ڈھانکنے لگے ۔ تب ان کے رَبّ نے انہیں پکارا ’’کیا میں نے تمہیں اس درخت سے نہ روکا تھا اور نہ کہا تھا کہ شیطان تمہارا کھلا دشمن ہے ؟‘‘ {۲۲} دونوں بول اٹھے ’’ اے ہمارے رَبّ ! ہم نے اپنے اوپر ستم کیا، اب اگر تو نے ہم سے درگزر نہ فرمایا اور رحم نہ کیا تو یقینا ہم تباہ ہوجائیں گے‘‘[13] { ۲۳} فرمایا ،’’ اُتر جا ؤ ،[14] تم ایک دوسرے کے دشمن ہو ، اور تمہارے لئے ایک خاص مدت تک زمین ہی میں جائے قرار اور سامانِ زیست ہے۔ ‘‘{۲۴} اور فرمایا ’’ وہیں تم کو جینا اور وہیں مرنا ہے اور اسی میں سے تم کو آخر کار نکالا جائے گا‘‘{۲۵} اے اولاد آدم ! [15]ہم نے تم پر لباس نازل کیا ہے کہ تمہارے جسم کے قابل شرم حصوں کو ڈھانکے اور تمہارے لئے جسم کی حفاظت اور زینت کا ذریعہ بھی ہو ، اور بہترین لباس تقویٰ کا لباس ہے ۔ یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک نشانی ہے ، شاید کہ لوگ اس سے سبق لیں ۔{۲۶} اے بنی آدم ! ایسا نہ ہو کہ شیطان تمہیں پھر اسی طرح فتنے میںمبتلا کردے جس طرح اس نے تمہارے والدین کو جنّتسے نکلوایا تھا اور اُن کے لباس اُن پر سے اترو ادیے تھے تا کہ ان کی شرمگاہیں ایک دوسرے کے سامنے کھولے۔ وہ اور اس کے ساتھی تمہیں ایسی جگہ سے دیکھتے ہیں جہاں سے تم انہیں نہیں دیکھ سکتے ۔ اِن شیاطین کو ہم نے اُن لوگوں کا سرپرست بنادیا ہے جو ایمان نہیں لاتے۔[16] {۲۷} یہ لوگ جب کوئی شرمناک کام کرتے ہیں تو کہتے ہیں ہم نے اپنے باپ دادا کو اسی طریقہ پر پایا ہے اور اللہ ہی نے ہمیں ایسا کرنے کا حکم دیا ہے۔[17] ان سے کہو اللہ بے حیائی کا حکم کبھی نہیں دیا کرتا ۔[18] کیا تم اللہ کا نام لے کروہ باتیں کہتے ہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ وہ اللہ کی طرف سے ہیں ؟ {۲۸} اے نبی ؐ ! ان سے کہو ، میرے رَبّ نے تو راستی وانصاف کا حکم دیا ہے اور اس کا حکم تو یہ ہے کہ ہر عبادت میں اپنا رُخ ٹھیک رکھو اور اسی کو پکارو اپنے دین کو اُس کے لیے خالص رکھ کر۔ جس طرح اس نے تمہیں اب پیدا کیا ہے اسی طرح تم پھر پیدا کئے جا ؤ گے۔[19] {۲۹} ایک گروہ کو تو اس نے سیدھا راستہ دکھا دیا ہے مگر دوسرے گروہ پر گمراہی چسپاں ہوکررہ گئی ہے کیونکہ انہوں نے اللہ کے بجائے شیطان کو اپنا سرپرست بنالیا ہے اور وہ سمجھ رہے ہیں کہ ہم سیدھی راہ پر ہیں۔ {۳۰} اے بنی آدم ! ہر عبادت کے موقع پر اپنی زینت سے آراستہ رہو[20] اور کھا ؤ پیو اور حد سے تجاوز نہ کرو، اللہ حد سے بڑھنے والوں کو پسند نہیں کرتا ۔[21]{۳۱} اے نبی ؐ! ان سے کہو کس نے اللہ کی اُس زینت کو حرام کردیا جسے اللہ نے اپنے بندوں کے لیے نکالا تھا اور کس نے اللہ کی بخشی ہوئی پاک چیزیں ممنوع کردیں ؟[22] کہو ، یہ ساری چیزیں دنیا کی زندگی میں بھی ایمان لانے والوں کے لیے ہیں اور قیامت کے روز تو خالصتہً انہی کے لیے ہوں گی۔[23] اس طرح ہم اپنی باتیں صاف صاف بیان کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھنے والے ہیں۔{ ۳۲} اے نبی ؐ !ان سے کہو کہ میرے رَبّ نے جو چیزیں حرام کی ہیں وہ تو یہ ہیں :بے شرمی کے کام،خواہ کھلے ہوں یا چھپے ۔[24]اور گناہ [25]اور حق کے خلاف زیادتی [26]اور یہ کہ اللہ کے ساتھ تم کسی ایسے کو شریک کرو جس کے لیے اُس نے کوئی سند نازل نہیں کی ، اور یہ کہ اللہ کے نام پر کوئی ایسی بات کہو جس کے متعلق تمہیں علم نہ ہو (کہ وہ حقیقت میں اُسی نے فرمائی ہے)۔ {۳۳} ہر قوم کے لیے مہلت کی ایک مدت مقرر ہے پھر جب کسی قوم کی مدت آن پوری ہوتی ہے تو ایک گھڑی بھر کی تاخیروتقدیم بھی نہیں ہوتی۔[27]{ ۳۴} (اور یہ بات اللہ نے آغاز تخلیق ہی میں صاف فرمادی تھی کہ ) اے بنی آدم، یادرکھو ، اگر تمہارے پاس خود تم ہی میں سے ایسے رسول آئیں جو تمہیں میری آیات سنارہے ہوں ، تو جو کوئی نافرمانی سے بچے گا اور اپنے رویہ کی اصلاح کرلے گا اس کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے۔ {۳۵} اور جو لوگ ہماری آیات کو جھٹلائیں گے اور انکے مقابلے میں سرکشی برتیں گے وہی اہل دوزخ ہونگے جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔[28]{۳۶} آخر اُس سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جو بالکل جھوٹی باتیں گھڑکر اللہ کی طرف منسوب کرے یا اللہ کی سچی آیات کو جھٹلائے ؟ ایسے لوگ اپنے نوشتۂتقدیر کے مطابق اپنا حصّہ پاتے رہیں گے۔[29]یہاں تک کہ وہ گھڑی آجائے گی جب ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اُن کی روحیں قبض کرنیکے لیے پہنچیں گے ۔ اُس وقت وہ اُن سے پوچھیں گے کہ’’ بتا ؤ ، اب کہاں ہیں تمہارے معبود جن کو تم اللہ کے بجائے پکارتے تھے ؟‘‘ وہ کہیں گے کہ ’’سب ہم سے گم ہوگئے ‘‘ اور وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ ہم واقعی منکر حق تھے۔{۳۷} اللہ فرمائے گا جا ؤ ، تم بھی اُسی جہنم میں چلے جا ؤ جس میں تم سے پہلے گزرے ہوئے گروہ جن وانس جاچکے ہیں۔ ہر گر وہ جب جہنم میں داخل ہوگا تو اپنے پیش رو گروہ پر لعنت کرتا ہوا داخل ہوگا، حتی کہ جب سب وہاں جمع ہوجائیں گے تو ہر بعد والا گروہ پہلے گروہ کے حق میں کہے گا کہ اے ہمارے رَبّ ! یہ لوگ تھے جنہوں نے ہم کو گمراہ کیا، لہٰذا انہیں آگ کا دوہرا عذا ب دے، جواب میں ارشاد ہوگا، ہر ایک کے لیے دوہرا عذاب ہی ہے مگر تم جانتے نہیں ہو۔[30] {۳۸} اور پہلا گروہ دوسرے گروہ سے کہے گا کہ ( اگر ہم قابل الزام تھے ) تو تم ہی کو ہم پر کون سی فضیلت حاصل تھی، اب اپنی کمائی کے نتیجہ میں عذاب کا مزا چکھو۔[31] {۳۹} یقین جانو ، جن لوگوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا ہے اور ان کے مقابلے میں سرکشی کی ہے ان کے لیے آسمان کے دروازے ہرگز نہ کھولے جائیں گے ۔ ان کا جنّت میںجانا اتنا ہی ناممکن ہے جتنا سوئی کے ناکے سے اونٹ کاگزرنا۔مجرموں کو ہمارے یہاں ایسا ہی بدلہ ملا کرتاہے ۔ {۴۰} ان کے لیے جہنم کا بچھوناہوگا اور جہنم کا اوڑھنا ۔ یہ ہے وہ جزا جو ہم ظالموں کو دیا کرتے ہیں۔{۴۱} بخلاف اس کے جن لوگوں نے ہماری آیات کو مان لیا ہے اور اچھے کام کئے ہیں۔ اور اس باب میں ہم ہر ایک کواس کی استطاعت ہی کے مطابق ذمہّ دار ٹھیراتے ہیں ،وہ اہل جنّت ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔{ ۴۲} ان کے دلوں میں ایک دوسرے کے خلاف جو کچھ کدورت ہوگی اسے ہم نکال دیں گے۔[32] ان کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ۔ اور وہ کہیں گے کہ ’’تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جس نے ہمیں یہ راستہ دکھایا، ہم خود راہ نہ پاسکتے تھے اگر اللہ ہماری رہنمائی نہ کرتا ، ہمارے رَبّ کے بھیجے ہوئے رسول واقعی حق ہی لے کر آئے تھے۔‘‘ اُس وقت ندا آئے گی کہ ’’ یہ جنّت جس کے تم وارث بنائے گے ہو تمہیں اُن اعمال کے بدلے میں ملی ہے جو تم کرتے رہے تھے‘‘۔[33]{۴۳} پھر یہ جنّت کے لوگ دوزخ والوں سے پکار کر کہیں گے۔ ’’ہم نے اُن سارے وعدوں کو ٹھیک پایا جو ہمارے رَبّ نے ہم سے کئے تھے ، کیا تم نے بھی اُن وعدوں کو ٹھیک پایا جو تمہارے رَبّ نے کئے تھے ‘‘ ؟ وہ جواب دیں گے ’’ہاں ‘‘ تب ایک پکار نے والا ان کے درمیان پکارے گا کہ ’’ اللہ کی لعنت ان ظالموں پر {۴۴} جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکتے اور اسے ٹیڑھا کرنا چاہتے تھے اور آخرت کے منکر تھے‘‘۔{۴۵} ان دونوں گروہوں کے درمیان ایک اوٹ حائل ہوگی جس کی بلندیوں (اعراف ) پر کچھ اور لوگ ہوں گے ۔ یہ ہر ایک کو اس کے قیافہ سے پہچانیں گے اور جنّت والوں سے پکار کر کہیں گے کہ ’’ سلامتی ہو تم پر‘‘ یہ لوگجنّت میں داخل تو نہیں ہوئے مگر اس کے امیدوار ہوں گے۔ [34]{۴۶} اور جب اُن کی نگاہیں دوزخ والوں کی طرف پھریں گی تو کہیں گے ’’ اے ہمارے رَبّ! ہمیں ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجیو‘‘{۴۷} پھر یہ اعراف کے لوگ دوزخ کی چند بڑی بڑی شخصیتوں کو ان کی علامتوں سے پہچان کر پکاریں گے کہ ’’ دیکھ لیا تم نے، آج نہ تمہارے جتھے تمہارے کسی کام آئے اور نہ وہ سازو سامان جن کو تم بڑی چیز سمجھتے تھے۔ {۴۸} اور کیا یہ اہل جنّت وہی لوگ نہیں ہیں جن کے متعلق تم قسمیں کھا کھا کرکہتے تھے کہ ان کو تو اللہ اپنی رحمت میں سے کچھ نہ دے گا ؟ آج انہی سے کہا گیا کہ داخل ہوجا ؤ جنّت میں ،تمہارے لئے نہ خوف ہے نہ رنج ۔‘‘ {۴۹} اور دوزخ کے لوگ جنّت والوں کو پکاریں گے کہ کچھ تھوڑا ساپانی ہم پر ڈال دو یا جو رزق اللہ نے تمہیں دیا ہے اسی میں سے کچھ پھینک دو ۔ وہ جواب دیں گے کہ ’’ اللہ نے یہ دونوں چیزیں اُن منکرین حق پر حرام کردی ہیں{۵۰} جنہو ں نے اپنے دین کو کھیل اور تفریح بنالیا تھا اور جنہیں دنیا کی زندگی نے فریب میں مبتلا کر رکھا تھا اللہ فرماتا ہے کہ آج ہم بھی اِنہیں اِسی طرح بُھلادیں گے جس طرح وہ اس دن کی ملاقات کو بھولے رہے اور ہماری آیتوں کا انکار کرتے رہے‘‘۔[35]{۵۱} ہم اِن لوگوں کے پاس ایک ایسی کتاب لے آئے ہیں جس کو ہم نے علم کی بناء پر مفصّل بنایا ہے[36] اور جو ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت ہے [37]{۵۲} اب کیا یہ لوگ اِس کے سِوا کسی اور بات کے منتظر ہیں کہ وہ انجام سامنے آجائے جس کی یہ کتاب خبردے رہی ہے ؟[38] جس روز وہ انجام سامنے آگیا تو وہی لوگ جنہوں نے پہلے اسے نظر انداز کردیا تھا کہیں گے کہ ’’واقعی ہمارے رَبّ کے رسول حق لے کر آئے تھے،پھر کیا اب ہمیں کچھ سفارشی ملیں گے جو ہمارے حق میں سفارش کریں ؟ یا ہمیں دوبارہ واپس ہی بھیج دیا جائے تا کہ جو کچھ ہم پہلے کرتے تھے اس کے بجائے اب دوسرے طریقے پر کام کرکے دکھائیں ‘‘۔[39]انہوں نے اپنے آپ کو خسارے میں ڈال دیا اور وہ سارے جھوٹ جو انہوں نے تصنیف کررکھے تھے ، آج اُن سے گُم ہوگئے۔ { ۵۳} درحقیقت تمہارا رَبّ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا،[40] پھر اپنے تخت سلطنت پر جلوہ فرماہوا۔ [41]جو رات کو دن پرڈھانک دیتا ہے اور پھر دن رات کے پیچھے دوڑ ا چلاآتا ہے جس نے سورج اور چاند اور تارے پیدا کئے سب اسکے فرمان کے تابع ہیں۔ خبردارر ہو ! اُسی کی خلق ہے اوراُسی کاامر ہے۔[42] بڑا بابرکت ہے اللہ ،[43]سارے جہانوں کا مالک وپروردگار{ ۵۴} اپنے رَبّ کو پکارو گڑگڑاتے ہوئے اور چپکے چپکے ، یقینا وہ حد سے گزر نے والوں کو پسند نہیں کرتا۔{۵۵} زمین میں فساد برپانہ کرو جب کہ اس کی اصلاح ہوچکی ہے[44] اور اللہ ہی کو پکار وخوف کے ساتھ اور طمع کے ساتھ ،[45] یقینا اللہ کی رحمت نیک کردار لوگوں سے قریب ہے۔{۵۶} اور وہ اللہ ہی ہے جو ہوا ؤں کو اپنی رحمت کے آگے آگے خوشنجری لئے ہوئے بھیجتا ہے ، پھر جب وہ پانی سے لدے ہوئے بادل اٹھالیتی ہیں تو انہیں کسی مردہ سرزمین کی طرف حرکت دیتا ہے اور وہاں مینہ برساکر (اسی مری ہوئی زمین سے) طرح طرح کے پھل نکال لاتا ہے۔ دیکھو ، اس طرح ہم مُردوں کو حالتِ موت سے نکالتے ہیں، شاید کہ تم اس مشاہدے سے سبق لو۔{۵۷} جو زمین اچھی ہوتی ہے وہ اپنے رَبّ کے حکم سے خوب پھل پھول لاتی ہے اور جو زمین خراب ہوتی ہے اس سے ناقص پیداوار کے سوا کچھ نہیں نکلتا ۔[46]اسی طرح ہم نشانیوں کو باربار پیش کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو شکر گزار ہونے والے ہیں{۵۸} ہم نے نوح ؑ کو اس کی قوم کی طرف بھیجا ۔[47] اس نے کہا ’’ اے برادران قوم !اللہ کی بندگی کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی اِلٰہ نہیں ہے ۔[48] میں تمہارے حق میں ایک ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں ۔‘‘ {۵۹} اس کی قوم کے سرداروں نے جواب دیا ’’ ہم کو تویہ نظر آتا ہے کہ تم صریح گمراہی میں مبتلا ہو‘‘ {۶۰} نوح ؑنے کہا: ’’ اے برادران قوم !میں کسی گمراہی میں نہیں پڑاہوں ، بلکہ میں ربّ العٰلمین کا رسُو ل ہوں {۶۱} تمہیں اپنے ر ب کے پیغامات پہنچاتا ہوں ، تمہارا خیر خواہ ہوں اور مجھے اللہ کی طرف سے وہ کچھ معلوم ہے جو تمہیں معلوم نہیں ہے۔{ ۶۲} کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعہ سے تمہارے رَبّ کی یاد دہانی آئی تا کہ تمہیں خبردار کرے اور تم غلط روی سے بچ جا ؤ اور تم پر رحم کیا جائے ؟‘‘[49]{۶۳} مگراُنہوں نے اس کو جھٹلادیا۔ آخر کارہم نے اسے اور اس کے ساتھیوں کو ایک کشتی میں نجات دی اور ان لوگوں کو ڈبودیا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا ،[50] یقینا وہ اندھے لوگ تھے۔{ ۶۴} اور عاد[51] کی طرف ہم نے ان کے بھائی ہو دؑ کو بھیجا۔ اس نے کہا ’’ اے برادران قوم ! اللہ کی بندگی کرو، اس کے سوا تمہارا کوئی اِلہٰ نہیں ہے ۔ پھر کیا تم غلط روی سے پرہیز نہ کرو گے؟‘‘ {۶۵} اس کی قوم کے سرداروں نے ، جو اس کی بات ماننے سے انکار کررہے تھے ، جواب میں کہا ’’ ہم تو تمہیں بے عقلی میں مبتلا سمجھتے ہیں اور ہمیں گمان ہے تم جُھوٹے ہو ‘‘۔{۶۶} اس نے کہا ’’ اے برارانِ قوم !میں بے عقلی میں مبتلا نہیں ہوں بلکہ میں رَبّ العٰلمین کا رسول ہوں۔{۶۷} تم کو اپنے رَبّ کے پیغامات پہنچاتاہوں ، اور تمہارا ایسا خیر خواہ ہوں جس پربھروسہ کیا جاسکتا ہے {۶۸} ’’کیا تمہیں اس بات پر تعجب ہوا کہ تمہارے پاس خود تمہاری اپنی قوم کے ایک آدمی کے ذریعہ سے تمہارے ر ب کی یاد دہانی آئی تا کہ وہ تمہیں خبردار کرے ؟ بھول نہ جا ؤ کہ تمہارے رَبّ نے نوحؑ کی قوم کے بعد تم کو اس کا جانشین بنایا اور تمہیں خوب تنومند کیا ، پس اللہ کی قدرت کے کرشموں کو یاد رکھو،[52] امید ہے کہ فلاح پا ؤ گے۔‘‘ {۶۹} انہوں نے جواب دیا ’’ کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ ہم اکیلے اللہ ہی کی عبادت کریں اور اُنہیں چھوڑ دیں جن کی عبادت ہمارے باپ دادا کرتے آئے ہیں؟[53] اچھا تو لے آوہ عذاب جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تو سچّا ہے ‘‘{۷۰} اس نے کہا ’’تمہارے رَبّ کی پھٹکار تم پر پڑگئی اور اس کا غضب ٹوٹ پڑا کیا تم مجھ سے ان ناموں پر جھگڑتے ہو جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں۔[54] جن کے لیے اللہ نے کوئی سندنازل نہیں کی ہے ؟[55] اچھا تو تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہوں ‘‘ {۷۱} آخرکار ہم نے اپنی مہربانی سے ہودؑ اور اس کے ساتھیوں کو بچالیا اور ان لوگوں کی جڑکاٹ دی جوہماری آیات کو جھٹلا چکے تھے اور ایمان لانے والے نہ تھے[56]{ ۷۲} او رثمود[57]کی طرف ہم نے ان کے بھائی صالح ؑکو بھیجا اس نے کہا:’’ اے برادران قوم ! اللہ کی بندگی کرو ،اس کے سوا تمہارا کوئی اِلٰہ نہیں ہے ۔ تمہارے پاس تمہارے رَبّ کی کھلی دلیل آگئی ہے۔‘‘ یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لئے ایک نشانی کے طور پر ہے [58]، لہٰذا اسے چھوڑ دو کہ اللہ کی زمین میں چرتی پھرے ۔ اس کو کسی بُرے ارادے سے ہاتھ نہ لگانا، ورنہ ایک درد ناک عذاب تمہیں آلے گا۔{ ۷۳} یاد کرووہ وقت جب اللہ نے قومِ عاد کے بعد تمہیں اس کا جانشین بنایا اور تم کو زمین میں یہ منزلت بخشی کہ آج تم اس کے ہموار میدانوں میں عالی شان محل بناتے اور اس کے پہاڑوں کو مکانات کی شکل میں تراشتے ہو۔[59] پس اس کی قدرت کے کرشموں سے غافل نہ ہوجا ؤ اور زمین میں فساد برپانہ کرو‘‘[60]{۷۴} اس کی قوم کے سرداروں نے جوبڑے بنے ہوئے تھے ، کمزور طبقہ کے اُ ن لوگوں سے جو ایمان لے آئے تھے ، کہا ’’ کیا تم واقعی یہ جانتے ہو کہ صا لح ؑ اپنے رَبّ کا پیغمبر ہے ؟ ‘‘ انہوں نے جواب دیا ’’بے شک جس پیغام کے ساتھ وہ بھیجا گیا ہے اسے ہم مانتے ہیں ‘‘{۷۵} اُن بڑائی کے مدعیوں نے کہا ’’جس چیز کو تم نے مانا ہے ہم اس کے منکر ہیں‘‘{۷۶} پھر انہوں نے اس اونٹنی کو مار ڈالا [61]اور پورے تمرُّد(غرور)کے ساتھ اپنے رَبّ کے حکم کی خلاف ورزی کر گزرے ، اور صالح ؑسے کہہ دیا کہ ’’ لے آوہ عذاب جس کی تو ہمیں دھمکی دیتا ہے اگر تو واقعی پیغمبروں میں سے ہے۔‘‘ {۷۷} آخر کار ایک دہلا دینے والی آفت [62]نے انہیں آلیا اور وہ اپنے گھروں میں اوندھے پڑے کے پڑے رہ گئے۔ {۷۸} اور صالح ؑ یہ کہتا ہو ا ان کی بستیوں سے نکل گیا کہ ’’ اے میری قوم! میں نے اپنے رَبّ کا پیغام تجھے پہنچا دیا اور میں نے تیری بہت خیر خواہی کی ،مگر میں کیا کروں کہ تجھے اپنے خیر خواہ پسند ہی نہیں ہیں‘‘{۷۹} اور لوط ؑ کو ہم نے پیغمبر بناکر بھیجا ، پھر یاد کر وجب اس نے اپنی قوم سے کہا[63] ’’ کیا تم ایسے بے حیا ہوگئے ہو کہ وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا میں کسی نے نہیں کیا؟{۸۰} تم عورتوں کو چھوڑ کر مردوں سے اپنی خواہش پوری کرتے۔[64] ہو حقیقت یہ ہے کہ تم بالکل ہی حد سے گزر جانے والے لوگ ہو۔‘‘ {۸۱} مگر اس کی قوم کا جواب اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ’’ نکالو اِن لوگوں کو اپنی بستیوں سے ، بڑے پاک باز بنتے ہیں یہ‘‘[65]{۸۲} آخر کار ہم نے لوط ؑاور اس کے گھروالوں کو، بجز اُس کی بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی، [66]بچاکر نکال دیا {۸۳} اور اس قوم پر برسائی ایک بارش ،[67] پھر دیکھو کہ اُن مجرموں کا کیا انجام ہوا۔[68]{ ۸۴} اور مَدْیَنْ [69]والوں کی طرف ہم نے ان کے بھائی شعیب ؑ کو بھیجا۔ اس نے کہا ’’ اے برادران قوم ! ا للہ کی بندگی کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی الٰہ نہیں ہے ۔ تمہارے پاس تمہارے رَبّ کی صاف رہنمائی آگئی ہے ، لہٰذا وزن اور پیمانے پورے کرو ، لوگوں کو ان کی چیزوں میں گھاٹا نہ دو ،[70] اور زمین میں فساد برپا نہ کرو جب کہ اس کی اصلاح ہوچکی ہے،[71]اسی میں تمہاری بھلائی ہے اگر تم واقعی مومن ہو۔[72] {۸۵} اور (زندگی کے ) ہر راستے پر رہزن بن کرنہ بیٹھ جا ؤ کہ لوگوں کو خوف زدہ کرنے اور ایمان لانے والوں کو اللہ کے راستے سے روکنے لگو اور سیدھی راہ کو ٹیڑھا کرنے کے درپے ہوجا ؤ۔ یاد کرو وہ زمانہ جب کہ تم تھوڑے تھے پھر اللہ نے تمہیں بہت کردیا، اور آنکھیں کھول کر دیکھو کہ دنیا میں مفسدوں کا کیا انجام ہوا ہے۔{۸۶} اگر تم میں سے ایک گروہ اُس تعلیم پر جس کے ساتھ میں بھیجا گیا ہوں ، ایمان لاتا ہے اور دوسرا ایمان نہیں لاتا تو صبر کے ساتھ دیکھتے رہو یہاں تک کہ اللہ ہمارے درمیان فیصلہ کردے ، اور وہی سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے‘‘ ۔{۸۷}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)