سورۃ الملک   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 67 : 1-30 / 30نہایت بزرگ وبرتر ہے[1] وہ جس کے ہاتھ میں (کائنات کی) سلطنت ہے ،[2] اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔[3] {۱} جس نے موت اور زندگی کو ایجاد کیا تا کہ تم لوگوں کو آزماکردیکھے تم میں سے کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔[4] اور وہ زبردست بھی ہے اور درگزر فرمانے والا بھی۔[5] {۲} جس نے تہ برتہ سات آسمان بنائے ۔[6] تم رحمن کی تخلیق میں کسی قسم کی بے ربطی نہ پا ؤ گے [7] پھر پلٹ کر دیکھو،کہیں تمہیں کوئی خلل نظر آتا ہے؟ [8]{۳} بار بار نگاہ دوڑا ؤ ۔ تمہاری نگاہ تھک کرنا مراد پلٹ آئے گی۔{۴} ہم نے تمہارے قریب کے آسمان [9]کو عظیم الشان چراغوں سے آراستہ کیا ہے[10] اور اُنہیں شیاطین کو ماربھگانے کا ذریعہ بنادیا ہے۔[11] اِن شیطانوں کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ ہم نے مہیّا کررکھی ہے۔ {۵} جن لوگوں نے اپنے رَبّ سے کفر کیا ہے[12] اُن کے لیے جہنم کا عذاب ہے اور وہ بہت ہی بُراٹھکانا ہے۔{۶} جب وہ اُس میں پھینکے جائیں گے تو اس کے دہاڑ نے کی ہولناک آوازسنیں گے[13] اور وہ جوش کھارہی ہوگی۔ {۷} شدّتِ غضب سے پھٹی جاتی ہوگی۔ ہر بار جب کوئی انبوہ اس میں ڈالا جائے گا ، اُس کے کارندے اُن لوگوں سے پوچھیں گے ’’ کیا تمہارے پاس کوئی خبردار کرنے والا نہیں آیا تھا؟ ‘‘[14]{۸} وہ جواب دیں گے ’’ ہاں خبردار کرنے والا ہمارے پاس آیا تھا مگر ہم نے اسے جھٹلادیااور کہا اللہ نے کچھ بھی نازل نہیں کیا ہے ، تم بڑی گمراہی میں پڑے ہوئے ہو ‘‘۔[15]{۹} اور وہ کہیں گے’’ کاش ہم سنتے یا سمجھتے[16] تو آج اِس بھڑکتی ہوئی آگ کے سزاواروں میں نہ شامل ہوتے ۔‘‘ {۱۰} اس طرح وہ اپنے قصور کا [17]خود اعتراف کرلیں گے ،لعنت ہے اِن دوزخیوں پر۔ {۱۱} جو لوگ بے دیکھے اپنے رَبّ سے ڈرتے ہیں ،[18] یقینا اُن کے لیے مغفرت ہے اور بڑا اجر۔[19] {۱۲} تم خواہ چپکے سے بات کرو یا اونچی آواز سے ( اللہ کے لیے یکساں ہے ) وہ تو دلوں کا حال تک جانتا ہے۔[20] {۱۳} کیا وہی نہ جانے گا جس نے پیدا کیا ہے؟ [21]حالاں کہ وہ باریک بیں[22] اور باخبر ہے۔{۱۴} وہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو تابع کررکھا ہے ، چلو اُس کی چھاتی پر اور کھا ؤ اللہ کا رزق،[23] اُسی کے حضور تمہیں دوبارہ زندہ ہو کرجانا ہے۔[24]{۱۵} کیا تم اِس سے بے خوف ہو کہ وہ جو آسمان میں ہے [25] تمہیں زمین میں دھنسادے اور یکایک یہ زمین جھکو لے کھانے لگے ؟{۱۶} کیا تم اِس سے بے خوف ہوکہ وہ جو آسمان میں ہے تم پر پتھرا ؤ کرنے والی ہوا بھیج دے؟[26] پھر تمہیں معلوم ہوجائے گا میری تنبیہ کیسی ہوتی ہے۔[27]{۱۷} ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ جھٹلا چکے ہیں۔ پھر دیکھ لو کہ میری گرفت کیسی سخت تھی۔[28] {۱۸} کیا یہ لوگ اپنے اوپر اُڑنے والے پرندوں کو پر پھیلائے اور سکیڑتے نہیں دیکھتے ؟ رحمن کے سوا کوئی نہیں جو انہیں تھامے ہوئے ہو ؟ [29]وہی ہر چیز کا نگہبان ہے۔[30]{۱۹} بتا ؤ ، آخر وہ کونسا لشکر تمہارے پاس ہے جو رحمن کے مقابلے میں تمہاری مددکرسکتا ہے ؟[31] حقیقت یہ ہے کہ یہ منکرین دھوکے میں پڑے ہوئے ہیں۔{۲۰} یا پھر بتا ؤ ، کون ہے جو تمہیں رزق دے سکتا ہے اگر رحمن اپنا رزق روک لے ؟ دراصل یہ لوگ سرکشی اور حق سے گریز پراڑے ہوئے ہیں۔{۲۱} بھلاسو چو، جو شخص منہ اَوندھائے چل رہا ہو[32] وہ زیادہ صحیح راہ پانے والا ہے یاوہ جو سراٹھائے سیدھا ایک ہموار سڑک پر چل رہا ہو ؟ {۲۲} اِن سے کہو اللہ ہی ہے جس نے تمہیں پیدا کیا ، تم کوسننے اور دیکھنے کی طاقتیں دیں اور سوچنے ، سمجھنے والے دل دیے ، مگر تم کم ہی شکر ادا کرتے ہو۔ [33]{۲۳} اِن سے کہو ، اللہ ہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلا یا ہے اور اسی کی طرف تم سمیٹے جا ؤ گے ۔[34]{۲۴} یہ کہتے ہیں ’’ اگر تم سچّے ہوتو بتا ؤ یہ وعدہ کب پورا ہوگا؟‘‘[35]{۲۵} کہو :’’اس کا علم تو اللہ کے پاس ہے ، میں تو بس صاف صاف خبردار کردینے والا ہوں‘‘۔[36] {۲۶} پھر جب یہ اُس چیز کو قریب دیکھ لیں گے تو ان سب لوگوں کے چہرے بگڑ جائیں گے جنہوں نے انکار کیا ہے[37] اور اُس وقت ان سے کہا جائے گا کہ یہی ہے وہ چیز جس کے لیے تم تقاضے کررہے تھے ۔{۲۷} اِن سے کہو ، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اللہ خواہ مجھے اور میرے ساتھیوں کو ہلاک کردے یا ہم پر رحم کرے ، کافروں کو درد ناک عذاب سے کون بچالے گا ؟ [38]{۲۸} اِن سے کہو ، وہ بڑا رحیم ہے ، اُسی پر ہم ایمان لائے ہیں ، اور اُسی پر ہمارا بھروسہ ہے ، [39]عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ صریح گمراہی میں پڑا ہوا کون ہے۔ {۲۹} اِن سے کہو ، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر تمہارے کنو ؤں کا پانی زمین میں اتر جائے تو کون ہے جو اِس پانی کی بہتی ہوئی سوتیں تمہیں نکال کرلادے گا؟[40]{۳۰}
سورۃ القلم   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 68 : 1-52 / 52نٓ ۔ قسم ہے قلم کی اور اُس چیز کی جسے لکھنے والے لکھ رہے ہیں[1] {۱} تم اپنے رَبّ کے فضل سے مجنون نہیں ہو[2] {۲} اور یقینا تمہارے لئے ایسا اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی ختم ہونے والا نہیں۔[3] {۳} اور بے شک تم اخلاق کے بڑے مرتبے پر ہو [4]{۴} عنقریب تم بھی دیکھ لوگے اور وہ بھی دیکھ لیں گے{۵} کہ تم میں سے کون جنون میں مبتلاہے ۔{۶} تمہارا رَبّ اُن لوگوں کو بھی خوب جانتا ہے جو اس کے راہ سے بھٹکے ہوئے ہیں اور وہی ان کو بھی اچھی طرح جانتا ہے جو راہ ِراست پر ہیں۔{۷} لہٰذا تم ان جھٹلانے والوں کے دبا ؤ میں ہر گز نہ آ ؤ۔{۸} یہ تو چاہتے ہیں کہ کچھ تم مداہنت کرو تو یہ بھی مداہنت کریں۔ [5] {۹} ہرگز نہ دبوکسی ایسے شخص سے جوبہت قسمیں کھانے والا بے وقعت آدمی ہے [6]{۱۰} طعنے دیتا ہے ، چغلیاں کھاتا پھرتا ہے {۱۱} بھلائی سے روکتا ہے ،[7] ظلم وزیادتی میں حد سے گزر جانے والا ہے ، سخت بداعمال ہے { ۱۲} جفاکار ہے ،[8] اور ان سب عیوب کے ساتھ بداصل ہے۔[9] {۱۳} اس بناپر کہ وہ بہت مال اور اولاد رکھتا ہے ۔[10]{۱۴} جب ہماری آیات اُس کو سنائی جاتی ہیں تو کہتا ہے یہ تو اگلے وقتوں کے افسانے ہیں۔{۱۵} عنقریب ہم اس کی سُونڈپر داغ لگائیں گے۔[11]{۱۶} ہم نے اِن ( اہلِ مکہّ ) کو اُسی طرح آزمائش میں ڈالا ہے جس طرح ایک باغ کے مالکوں کو آزمائش میں ڈالا تھا ،[12] جب انہوں نے قسم کھائی کہ صبح سویرے ضرور اپنے باغ کے پھل توڑیں گے{۱۷} اور وہ کوئی استثناء نہیں کررہے تھے۔ [13]{۱۸} رات کو وہ سوئے پڑے تھے کہ تمہارے رَبّ کی طرف سے ایک بَلا اُس باغ پر پھر گئی {۱۹} اور اُس کا ایسا حال ہو گیا جیسے کٹی ہوئی فصل ہو۔ {۲۰} صبح اُن لوگوں نے ایک دوسرے کو پکارا {۲۱} کہ اگر پھل توڑنے ہیں تو سویرے سویرے اپنی کھیتی کی طرف نکل چلو۔ [14]{۲۲} چنانچہ وہ چل پڑے اور آپس میں چپکے چپکے کہتے جاتے تھے{۲۳} کہ آج کوئی مسکین تمہارے پاس باغ میں نہ آنے پائے۔ {۲۴} وہ کچھ نہ دینے کا فیصلہ کئے ہوئے صبح سویرے جلدی جلدی[15] اِس طرح وہاں گئے جیسے کہ وہ ( پھل توڑنے پر) قادر ہیں{۲۵} مگر جب باغ کو دیکھا تو کہنے لگے ’’ ہم راستہ بھول گئے ہیں{۲۶} نہیں ، بلکہ ہم محروم رہ گئے ‘‘ ۔[16]{۲۷} اُن میں جو سب سے بہتر آدمی تھا اس نے کہا ’’ میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم تسبیح کیوں نہیں کرتے‘‘ ؟[17]{۲۸} وہ پکاراُ ٹھے ’’ پاک ہے ہمارا رَبّ واقعی ہم گناہ گار تھے ‘‘۔{۲۹} پھر اُن میں سے ہر ایک دوسرے کو ملامت کرنے لگا۔[18]{۳۰} آخر کو اُنہوں نے کہا: افسوس ہمارے حال پر ، بے شک ہم سرکش ہوگئے تھے {۳۱} بعید نہیں کہ ہمارا ربّ ہمیں بدلے میں اِس سے بہتر باغ عطا فرمائے ، ہم اپنے رَبّ کی طرف رجوع کرتے ہیں۔‘‘ {۳۲} ایسا ہوتا ہے عذاب اور آخرت کا عذاب اس سے بھی بڑا ہے ، کاش یہ لوگ اس کو جانتے ۔[19]{۳۳} یقینا متّقی لوگوں کے لیے اُن کے رَبّ کے ہاں نعمت بھری جنتیں ہیں{۳۴} کیا ہم فرمانبرداروں کا حال مجرموں کا ساکردیں ؟{۳۵} تم لوگوں کو کیا ہوگیا ہے ، تم کیسے حکم لگاتے ہو ؟[20]{۳۶} کیا تمہارے پاس کوئی کتاب ہے[21] جس میں تم یہ پڑھتے ہو{۳۷} کہ تمہارے لئے ضرور وہاں وہی کچھ ہے جو تم اپنے لئے پسند کرتے ہو ؟{۳۸} یا پھر کیا تمہارے لئے روز قیامت تک ہم پر کچھ عہد وپیمان ثابت ہیں کہ تمہیں وہی کچھ ملے گا جس کا تم حکم لگا ؤ ؟{۳۹} ان سے پوچھو تم میں سے کون اس کا ضامن ہے ؟[22] {۴۰} یا پھر ان کے ٹھہرائے ہوئے کچھ شریک ہیں ( جنہوں نے اس کا ذمہ لیا ہو ) ؟ یہ بات ہے تو لائیں اپنے ان شریکوں کو اگر یہ سچّے ہیں[23]{۴۱} جس روز سخت وقت آپڑے گا [24]اور لوگوں کو سجدہ کرنے کے لیے بلایا جائے گا تو یہ لوگ سجدہ نہ کرسکیں گے{ ۴۲} ان کی نگاہیں نیچی ہوں گی، ذِلّت ان پر چھارہی ہوگی۔ یہ جب صحیح و سالم تھے اُس وقت اِنہیں سجدے کے لیے بلایا جاتا تھا ( اور یہ انکار کرتے تھے) [25]{۴۳} پس اے نبی ؐ! تم اِس کلام کے جھٹلانے والوں کا معاملہ مجھ پر چھوڑ دو ۔ [26]ہم ایسے طریقہ سے ان کو بتدریج تباہی کی طرف لے جائیں گے کہ ان کو خبر بھی نہ ہوگی[27]{۴۴} میں اِن کی رسی دراز کررہا ہوں ، میری چال[28] بڑی زبردست ہے{۴۵} کیا تم اِن سے کوئی اجر طلب کررہے ہو کہ یہ اس چٹّی (تاوان)کے بوجھ تلے دبے جارہے ہوں؟[29]{۴۶} کیا ان کے پاس غیب کا علم ہے جسے یہ لکھ رہے ہوں ؟[30]{۴۷} اچھا ! اپنے رَبّ کا فیصلہ صادر ہونے تک صبر کرو[31] اور مچھلی والے (یونس علیہ السلام ) کی طرح نہ ہوجا ؤ[32] جب اُس نے پُکار اتھا اور وہ غم سے بھرا ہوا تھا۔[33]{۴۸} اگر اُس کے رَبّ کی مہربانی اس کے شاملِ حال نہ ہوجاتی تو وہ مذموم ہوکر چٹیل میدان میں پھینک دیا جاتا ۔[34]{۴۹} آخر کار اُس کے رَبّ نے اسے برگزیدہ فرمالیا اور اسے صالح بندوں میں شامل کردیا۔ {۵۰} جب یہ کافر لوگ کلامِ نصیحت ( قرآن ) سنتے ہیں تو تمہیں ایسی نظروں سے دیکھتے ہیں کہ گویا تمہارے قدم اکھاڑدیں گے ،[35] اور کہتے ہیں کہ یہ ضرور دیوانہ ہے {۵۱} حالانکہ یہ توسارے جہان والوں کے لیے ایک نصیحت ہے ۔{ ۵۲}
سورۃ الحاقۃ   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 69 : 1-52 / 52 ہونی شُدنی! [1] {۱} کیا ہے وہ ہونی شُدنی ؟ {۲} اور تم کیا جانو کہ وہ کیا ہے ہونی شُدنی ۔[2]{۳} ثمود [3]او ر عاد نے اُس اچانک ٹوٹ پڑنے والی آفت [4]کو جھٹلایا ۔{۴} تو ثمود ایک سخت حادثہ[5] سے ہلاک کئے گئے۔ {۵} اور عاد ایک بڑی شدید طوفانی آندھی سے تباہ کردیے گئے۔{۶} اللہ تعالیٰ نے اُس کو مسلسل سات رات اور آٹھ دن اُن پر مسلّط رکھا ۔( تم وہاں ہوتے تو )دیکھتے کہ وہ وہاں اس طرح پچھڑے پڑے ہیں جیسے وہ کھجور کے بوسیدہ تنے ہوں۔{۷} اب کیا اُن میں سے کوئی تمہیں باقی بچانظر آتا ہے ؟{۸} اور اِسی خطائے عظیم کا ارتکاب فرعون اور اُس سے پہلے کے لوگوں نے اور تَل پَٹ ہوجانے والی بستیوں نے کیا۔[6] {۹} اِن سب نے اپنے رَبّ کے رسو ل کی بات نہ مانی تو اُس نے ان کو بڑی سختی کے ساتھ پکڑا۔{۱۰} جب پانی کا طوفان حد سے گزر گیا[7] تو ہم نے تم کو کشتی میں سوار کردیا تھا [8]{۱۱} تا کہ اس واقعہ کو تمہارے لئے ایک سبق آموزیاد گار بنادیں اور یادرکھنے والے کان اس کی یاد محفوظ رکھیں۔[9]{ ۱۲} پھر [10]جب ایک دفعہ صور میں پھونک مار دی جائیگی { ۱۳} اور زمین اور پہاڑوں کو اٹھا کر ایک ہی چوٹ میں ریزہ ریزہ کردیا جائے گا {۱۴} اُس روز وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا۔ {۱۵} اُس دن آسمان پھٹے گا اور اس کی بندش ڈھیلی پڑجائے گی ۔{۱۶} فرشتے اس کے اطراف و جوانب میں ہوں گے اور آٹھ فرشتے اُس روز تیرے رَبّ کا عرش اپنے اوپر اٹھائے ہوئے ہوں گے۔[11] {۱۷} وہ دن ہوگا جب تم لوگ پیش کئے جا ؤ گے ، تمہارا کوئی راز بھی چھپانہ رہ جائے گا۔ {۱۸} اُس وقت جس کا نامۂ ا عمال اُس کے سیدھے ہاتھ میں دیا جائے گا[12] وہ کہے گا ’’ لو دیکھو ، پڑھو میرا نامۂ اعمال [13]{۱۹} میں سمجھتا تھا کہ مجھے ضرور اپنا حساب ملنے والا ہے‘‘۔[14]{۲۰} پس وہ دل پسند عیش میں ہوگا۔{۲۱} عالی مقام جنّت میں { ۲۲} جس کے پھلوں کے گچھے جھکے پڑرہے ہوں گے۔ { ۲۳} (ایسے لوگوں سے کہا جائے گا ) مزے سے کھا ؤ اور پیو اپنے اُن اعمال کے بدلے جو تم نے گزرے ہوئے دنوں میں کئے ہیں۔ { ۲۴} اور جس کا نامۂ اعمال اُس کے بائیں ہاتھ میں دیا جائے گا[15] وہ کہے گا ’’کاش میرا اعمال نامہ مجھے نہ دیا گیا ہوتا[16] {۲۵} اور میں نہ جانتا کہ میرا حساب کیا ہے۔ [17]{۲۶} کاش میری وہی موت ( جو دنیا میں آئی تھی) فیصلہ کُن ہوتی ۔ [18]{۲۷} آج میرا مال میرے کچھ کام نہ آیا۔{۲۸} میرا سارا اقتدار ختم ہوگیا ‘‘۔[19]{۲۹} (حکم ہوگا) پکڑو اسے اور اس کی گردن میں طوق ڈال دو{۳۰} پھر اسے جہنم میں جھونک دو{۳۱} پھر اس کو ستّرہاتھ لمبی زنجیر میں جکڑ دو۔ {۳۲} یہ نہ اللہ بزرگ و برتر پر ایمان لاتا تھا {۳۳} اور نہ مسکین کو کھانا کھلانے کی ترغیب دیتا تھا۔[20]{۳۴} لہٰذا آج نہ یہاں اس کا کوئی یا رغم خوار ہے۔{۳۵} اور نہ زخموں کے دھووَن کے سوا اس کے لیے کوئی کھانا {۳۶} جسے خطاکاروں کے سوا کوئی نہیں کھاتا ۔{۳۷} پس نہیں،[21]میں قسم کھاتاہوں اُن چیزوں کی بھی جو تم دیکھتے ہو {۳۸} اور اُن کی بھی جنہیں تم نہیں دیکھتے ،{۳۹} یہ ایک رسول ِکریم اکا قول ہے[22]{۴۰} کسی شاعر کا قول نہیں ہے ، تم لوگ کم ہی ایمان لاتے ہو۔[23]{۴۱} اور نہ یہ کسی کاہن کا قول ہے ، تم لوگ کم ہی غور کرتے ہو۔{ ۴۲} یہ رَبّ العٰلمین کی طرف سے نازل ہوا ہے۔[24]{ ۴۳} اور اگر اِس ( نبی ؐ) نے خود گھڑ کر کوئی بات ہماری طرف منسوب کی ہوتی{۴۴} تو ہم اِس کا دایاں ہاتھ پکڑلیتے {۴۵} اور اِس کی رگِ گردن کاٹ ڈالتے{۴۶} پھر تم میں سے کوئی (ہمیں) اِ س کام سے روکنے والا نہ ہوتا۔[25] {۴۷} درحقیقت یہ پرہیز گار لوگوں کے لیے ایک نصیحت ہے[26] {۴۸} او رہم جانتے ہیں کہ تم میں سے کچھ لوگ جھٹلانے والے ہیں۔ {۴۹} ایسے کافروں کے لیے یقینا یہ موجب ِحسرت ہے۔[27]{۵۰} اور یہ بالکل یقینی حق ہے۔ {۵۱} پس اے نبی ؐ!اپنے ربِّ عظیم کے نام کی تسبیح کرو۔ {۵۲}
سورۃ المعارج   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 70 : 1-44 / 44مانگنے والے نے عذاب مانگا ہے ،[1] ( وہ عذاب ) جو ضرور واقع ہونے والا ہے{۱} کافروں کے لیے ہے ، کوئی اُسے دفع کرنے والا نہیں { ۲} اُس اللہ کی طرف سے ہے جو عروج کے زینوں کا مالک ہے۔[2]{ ۳} ملائکہ اور روح[3] اس کے حضور چڑھ کر جاتے ہیں[4] ایک ایسے دن میں جس کی مقدار پچاس ہزار سال ہے۔[5] {۴} پس اے نبی ؐ! صبر کرو ، شائستہ صبر [6]{۵} یہ لوگ اُسے دور سمجھتے ہیں{۶} اور ہم اسے قریب دیکھ رہے ہیں۔[7]{۷} (وہ عذاب اُس روز ہوگا ) جس[8] روز آسمان پگھلی ہوئی چاندی کی طرح ہوجائے گا[9] {۸} اور پہاڑ رنگ برنگ کے دھنکے ہوئے اُون جیسے ہوجائیں گے۔[10]{۹} اور کوئی جگری دوست اپنے جگری دوست کو نہ پوچھے گا{۱۰} حالانکہ وہ ایک دوسرے کو دکھائے جائیں گے ۔ [11]مجرم چاہے گا کہ اُس دن کے عذاب سے بچنے کے لیے اپنی اولاد کو فدیہ میں دے دے{۱۱} اپنی بیوی کو اور اپنے بھائی کو{۱۲} اوراپنے قریب ترین خاندان کو، جو اُسے پناہ دینے والا تھا{۱۳} اور روئے زمین کے سب لوگوں کو۔ اور یہ تدبیر اُسے نجات دلا دے۔ { ۱۴} ہر گز نہیں ۔ وہ تو بھڑکتی ہوئی آگ کی لپٹ ہوگی {۱۵} جو گوشت پوست کو چاٹ جائے گی {۱۶} پکار پکار کر اپنی طرف بلائے گی ہر اُس شخص کو جس نے حق سے منہ موڑا اور پیٹھ پھیری {۱۷} اور مال جمع کیا اور سینت سینت کررکھا ۔[12]{۱۸} انسان تُھڑ دِلا پیدا کیا گیا ہے[13]{۱۹} جب اس پر مصیبت آتی ہے تو گھبرا اُٹھتا ہے{۲۰} اور جب اسے خوشحالی نصیب ہوتی ہے تو بخل کرنے لگتا ہے۔{۲۱} مگر وہ لوگ (اِس عیب سے بچے ہوئے ہیں) جو نماز پڑھنے والے ہیں[14]{ ۲۲} جو اپنی نماز کی ہمیشہ پابندی کرتے ہیں[15] {۲۳} جن کے مالوں میں ایک مقرر حق ہے[16] {۲۴} سائل اور محروم کا{۲۵} جو روز ِجزا کو برحق مانتے ہیں[17]{۲۶} جو اپنے رَبّ کے عذاب سے ڈرتے ہیں[18]{۲۷} کیونکہ اُن کے رَبّ کا عذاب ایسی چیز نہیں ہے، جس سے کوئی بے خوف ہو{۲۸} جو اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں[19]{۲۹} بجز اپنی بیویوں یا اپنی مملو کہ عورتوں کے جن سے محفوظ نہ رکھنے میں ان پر کوئی ملامت نہیں{۳۰} البتہ جو اس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی حد سے تجاوز کرنے والے ہیں۔ [20]{۳۱} جو اپنی امانتوں کی حفاظت اور اپنے عہد کا پاس کرتے ہیں[21]{۳۲} جو اپنی گواہیوں میں راست بازی پر قائم رہتے ہیں [22]{۳۳} اور جو اپنی نماز کی حفاظت کرتے ہیں [23]{۳۴} یہ لوگ عزت کے ساتھ جنّت کے باغوں میں رہیں گے۔{۳۵} پس اے نبی ؐ ! کیا بات ہے کہ یہ منکرین تمہاری طرف دوڑے چلے آرہے ہیں [24]{۳۶} دائیں اور بائیں گروہ در گروہ ؟{۳۷} کیا اِن میں سے ہر ایک یہ لالچ رکھتا ہے کہ وہ نعمت بھری جنّت میں داخل کردیا جائیگا؟[25] {۳۸} ہر گز نہیں ،ہم نے جس چیز سے ان کو پیدا کیا ہے اُسے یہ خود جانتے ہیں۔[26]{۳۹} پس نہیں ،[27] میں قسم کھاتا ہوں مشرقوں اور مغربوں کے مالک کی ،[28] ہم اس پر قادرہیں {۴۰} کہ اِن کی جگہ ان سے بہتر لوگ لے آئیں اور کوئی ہم سے بازی لے جانے والا نہیں ہے۔[29]{۴۱} لہٰذا انہیں اپنی بیہودہ باتوں اور اپنے کھیل میں پڑا رہنے دویہاں تک کہ یہ اپنے اُس دن کو پہنچ جائیں جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے ، {۴۲} جب یہ اپنی قبروں سے نکل کر اس طرح دوڑے جارہے ہوں گے جیسے اپنے بتوں کے استھانوں کی طرف دوڑ رہے ہوں[30] {۴۳} ان کی نگاہیں جھکی ہوئی ہوں گی ، ذِلّت ان پرچھا رہی ہوگی ۔ وہ دن ہے جس کا ان سے وعدہ کیا جارہا ہے۔{ ۴۴}
سورۃ نوح   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 71 : 1-28 / 28ہم نے نوحؑ کو اُس کی قوم کی طرف بھیجا ( اِس ہدایت کے ساتھ ) کہ اپنی قوم کے لوگوں کو خبردار کردے قبل اِس کے کہ اُن پر ایک درد ناک عذاب آئے۔[1]{۱} اُس نے کہا :’’ اے میری قوم کے لوگو!میں تمہارے لئے ایک صاف صاف خبردار کردینے والا ( پیغمبر) ہوں۔ { ۲} ( تم کو آگاہ کرتا ہوں) کہ اللہ کی بندگی کرو اور اس سے ڈرو اور میری اطاعت کرو[2] {۳} اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا[3] اور تمہیں ایک وقت ِمقرر تک باقی رکھے گا۔ [4]حقیقت یہ ہے کہ اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت جب آجاتا ہے تو پھر ٹالا نہیں جاتا، [5] کاش تمہیں اس کا علم ہو۔‘‘[6]{۴} اس[7] نے عرض کیا :’’ اے میرے رَبّ !میں نے اپنی قوم کے لوگوں کو شب وروز پکارا {۵} مگر میری پکار نے اُن کے فرارہی میں اضافہ کیا۔[8]{۶} اور جب بھی میں نے اُن کو بُلایا تا کہ تو اُنہیں معاف کردے ،[9] انہوں نے کانوں میں انگلیاں ٹھونس لیں اور اپنے کپڑوں سے منہ ڈھانک لئے [10] اور اپنی روش پر اڑگئے اور بڑا تکبر کیا۔[11]{۷} پھر میں نے ان کو ہانکے پکارے دعوت دی۔{۸} پھر میں نے علانیہ بھی ان کو تبلیغ کی اور چپکے چپکے بھی سمجھایا۔{۹} میں نے کہا ’’ اپنے رَبّ سے معافی مانگو ، بے شک وہ بڑا معاف کرنے والا ہے ۔{۱۰} وہ تم پر آسمان سے خوب بارشیں برسائے گا{۱۱} تمہیں مال اور اولاد سے نوازے گا، تمہارے لئے باغ پیدا کرے گا اور تمہارے لئے نہریں جاری کردے گا۔ [12]{۱۲} تمہیں کیا ہوگیاہے کہ اللہ کے لیے تم کسی وقار کی توقع نہیں رکھتے ؟ [13]{۱۳} حالانکہ اُس نے طرح طرح سے تمہیں بنایا ہے۔ [14]{۱۴} کیا دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کس طرح سات آسمان تہ بہ تہ بنائے۔{۱۵} اور اُن میں چاند کو نور اور سورج کو چراغ بنایا ؟ {۱۶} اور اللہ نے تم کو زمین سے عجیب طرح اُگایا [15]{۱۷} پھر وہ تمہیں اِسی زمین میں واپس لے جائے گا اور اس سے یکایک تم کو نکال کھڑا کرے گا۔ {۱۸} اور اللہ نے زمین کو تمہارے لئے فرش کی طرح بچھادیا {۱۹} تا کہ تم اس کے اندر کھلے راستوں میں چلو‘‘۔{۲۰} نوحؑ نے کہا :’’ میرے رَبّ! اُنہوں نے میری بات رد کردی اور اُن ( رئیسوں )کی پیروی کی جو مال اور اولاد پاکر اور زیادہ نا مُراد ہوگئے ہیں۔{۲۱} ان لوگوں نے بڑا بھاری مکر کا جال پھیلارکھا ہے۔[16]{ ۲۲} اِنہوں نے کہا ہر گز نہ چھوڑ و اپنے معبُودوں کو ، اور نہ چھوڑو وَدّ اور سُواع کو ، اور نہ یَغُوث اور یَعُوق اور نَسر کو۔ [17]{۲۳} انہوں نے بہت لوگوں کو گمراہ کیا ہے ، اور توبھی اِن ظالموں کو گمراہی کے سوا کسی چیز میں ترقی نہ دے‘‘۔[18]{۲۴} اپنی خطا ؤں کی بنا پر ہی وہ غرق کئے گئے اور آگ میں جھونک دیے گئے [19]پھر انہوں نے اپنے لئے اللہ سے بچانے والا کوئی مددگار نہ پایا۔[20]{۲۵} اور نوحؑ نے کہا :’’ میرے رَبّ! ان کافروں میں سے کوئی زمین پر بسنے والا نہ چھوڑ۔{۲۶} اگر تُو نے اِن کو چھوڑ دیا تو یہ تیرے بندوں کو گمراہ کریں گے اور ان کی نسل سے جوبھی پیدا ہوگا بدکار اور سخت کا فرہی ہوگا،{۲۷} میرے رَبّ !مجھے اور میرے والدین کو ، اور ہراُس شخص کو جو میرے گھر میں مومن کی حیثیت سے داخل ہوا ہے ، اور سب مومن مردوں اور عورتوں کو معاف فرمادے ، اور ظالموں کے لیے ہلاکت کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کر ‘‘۔{۲۸}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)